Ayah 4:75وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَاۗءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُھَا ۚ وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّـۢا ڌ وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا۔
وما لکم (تمہیں کیا ہوا ہے) کا اسلوب کسی کام پر ابھارنے اور شوق دلانے کے لیے ہے۔ مستغعف سے مراد مظلوم، مجبور اور بےبس کے ہیں۔ مستضعین کا عطف فی سبیل اللہ پر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جو لوگ دین کی وجہ سے ستائے جا رہے ہوں ان کی آزادی کے لیے جنگ، قتال فی سبیل اللہ میں سب سے اول درجہ رکھتی ہے۔ ہم بقرہ کی تفسیر میں واضح کرچکے ہیں کہ اسلامی جہاد کا اصلی مقصد دنیا سے فننہ کو مٹانا ہے۔ " قریہ " کو یہاں صرف مکہ کے لیے خاص کردینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ان آیات کے نزول کے زمانے میں مکہ کے علاوہ اور بھی بستیاں تھیں جن میں بہت سے مرد، عورتیں اور بچے مسلمان ہوچکے تھے اور وہ اپنے کافر سرپرستوں یا اپنے قبیلے کے کافر زبردستوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ من لدنک کا موقع استعمال اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ظاہر حالات تو بالکل خلاف ہیں، کسی طرف سے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی لیکن اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور اپنی عنایت سے کوئی راہ کھول دے تو کچھ بعید نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم ان مردوں، عورتوں اور بچوں کو کفار کے ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لیے کیوں نہیں اٹھتے جو کفار کے اندر بےبسی کی حالت میں گھرے ہوئے اور ان سے چھوٹ کر مسلمانوں سے آ ملنے کی کوئی راہ نہیں پا رہے ہیں، جن کا حال یہ ہے کہ رات دن نہایت بےقراری کے ساتھ یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے پروردگار ہمیں ان ظالم باشندوں کی بستی سے نکال اور غیب سے ہمارے ہم درد پیدا کر اور غیب سے ہارے مددگار کھڑے کر۔
آیت 75 کے اشارات : اس آیت سے کئی باتیں ظاہر ہو رہی ہیں۔ ایک یہ کہ ظالم نے کفار نے کمزور مسلمانوں پر خود ان کے وطن کی زمین اس طرح تنگ کردی تھی کہ وہ وطن ان کو کاٹے کھا رہا تھا اور باوجودیکہ وطن کی محبت ایک فطری چیز ہے لیکن وہ اس سے اس قدر بیزار تھے کہ اس کو ظالم باشندوں کی بستی کہتے ہیں اس کی طرف کسی قسم کا انتساب اپنے لیے گوارا کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ دوسری یہ کہ کوئی وطن اسی وقت تک اہل ایمان کے لیے وطن کی حیثیت رکھتا ہے جب تک اس کے اندر ان کے دین و ایمان کے لیے امن ہو۔ اگر دین و ایمان کو اس میں امن حاصل نہ ہو تو وہ وطن نہیں بلکہ وہ خونخوار درندوں کا بھٹ، سانپوں اور اژدہوں کا مسکن اور شیطانوں کا مرکز ہے۔ تیسری یہ کہ اس زمانے میں حالات اس قدر مایوس کن تھے کہ مظلوم مسلمانوں کو ظاہر میں نجات کی کوئی راہ بھی سجھائی نہیں دے رہی تھی۔ سارا بھروسہ بس اللہ کی مدد پر تھا کہ وہی غیب سے ان کے لیے کوئی راہ کھولے تو کھولے۔ اس کے باوجود یہ مسلمان اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ اللہ اکبر ! کیا شان تھی ان کی استقامت کی ! پہاڑ بھی اس استقامت کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ چوتھی یہ کہ اگر کہیں مسلمان اس طرح کی مظلومیت کی حالت میں گھر جائیں تو ان تمام مسلمانوں پر جو ان کی مدد کرنے کی پوزیشن میں ہوں جہاد فرض ہوجاتا ہے۔ اگر وہ ان کی مدد کے لیے نہ اٹھیں تو یہ صریح نفاق ہے۔
Ayah 4:76اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْٓا اَوْلِيَاۗءَ الشَّيْطٰنِ ۚ اِنَّ كَيْدَ الشَّيْطٰنِ كَانَ ضَعِيْفًا۔
طاغوت کے لفظ پر بحث بقرہ اور آل عمران دونوں کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہاں قرآن نے فقاتلوا اولیاء الشیطان کہہ کر خود واضح فرمادیا کہ طاغوت سے مراد شیطان ہے۔
یہ آیت اہل ایمان کی حوصلہ افزائی کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کی جنگ خدا کی راہ میں ہوتی ہے اور خدا ان کے سر پر ہوتا ہے۔ برعکس اس کے اہل کفر کی جنگ شیطان کی راہ میں ہوتی اور شیطان ان کے سر پر ہوتا ہے۔ گویا مقابلہ اصلاً رحمان اور شیطان کے درمیان ہوتا ہے۔ چونکہ خدا نے شیطان کو بھی ایک محدود دائرے کے اندر مہلت دی ہے اس وجہ سے وہ اپنے حامیوں کو کچھ چالیں بتاتا اور سکھاتا ہے لیکن اخرت خدا کے کید متین کا مقابلہ اور اس کے اولیا کیا کرسکتے ہیں ؟ اس وجہ سے اہل ایمان کو ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ اگر انہوں نے خدا کی وفاداری میں کوئی کمزور نہیں دکھائی تو بہرحال کامیابی انہی کی ہے۔ شیطان کی چالوں میں کمزور کے جو فطری اسباب مضمر ہیں ان پر گفتگو کے لیے موزوں مقام دوسرا ہے۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ کسی کام کی کوئی مضبوط بنیاد اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک وہ بنیاد حق پر نہ ہو۔ شیطان کے ہر کام کی بنیاد چونکہ باطل پر ہوتی ہے اس وجہ سے اس کے مستحکم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
Ayah 4:77آگے کا مضمون آیات 77 تا 85: آگے انہیں منافقین کی مزید کمزوریاں اور شرارتیں واضح کی جا رہی ہیں تاکہ مسلمان ان کے فتنوں سے آگاہ ہوجائیں اور ان کی وسوسہ اندازیوں سے مسلمانوں کے اندر جو غلط اور منافی توحید و اسلام رجحانات ابھر سکتے ہیں ان کا اچھی طرح ازالہ ہوجائے۔ پہلے ان منافقین کے اس عجیب و غریب رویے پر توجہ دلائی کہ اب تک تو یہ اپنے ایمان و اخلاص کی دھونس جمانے کے لیے بہت بڑھ بڑھ کر جہاد کے لیے مطالبہ کر رہے تھے، معلوم ہوتا تھا کہ ان میں سے ایک ایک شخص جہاد کے عشق سے سرشار ہے لیکن پیغمبر کی طرف سے ان کو صبر و انتظار کی ہدایت کی جاتی تھی کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا ہے، ابھی نماز اور زکوۃ کے اہتمام کے ذریعے سے اپنے آپ کو مضبوط اور منظم کرو تاکہ وقت آنے پر پوری مومنانہ شان استقامت کے ساتھ خدا کی راہ میں لڑ سکو۔ لیکن اب جب کہ جنگ کا حکم دے دیا گیا ہے تو چھپتے پھرتے ہیں اور خدا سے زیادہ انسانوں سے ڈرتے ہیں اور شاکی ہیں کہ اتنی جلدی جہاد کا حکم کیوں دے دیا گیا ہے۔ اس کے بعد ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ فرائض سے فرار موت سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ موت اپنے وقت ہی پر آئے گی اور جب اس کا وقت آجائے گا تو وہ ہر شخص کو ڈھونڈ نکالے گی۔ خواہ وہ کتنے ہی مضبوط قلعوں کے اندر چھپا بیٹھا ہو۔ پھر منافقین کے ایک خاص ذہنی الجھاؤ سے پردہ اٹھایا ہے کہ ان لوگوں کا عقیدہ یہ نہیں ہے کہ پیغمبر جو کچھ بھی کرتے ہیں خدا ہی کے حکم اور خدا ہی کی رہنمائی میں کرتے ہیں۔ اس وجہ سے اگر انہیں کامیابی حاصل ہو تو اس کو تو یہ خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اگر کوئی افتاد پیش آجائے تو اس کو پیغمبر کی بےتدبیری کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ محض ان کی ناسمجھی ہے۔ خیر ہو یا شر سب خدا ہی کی مشیت سے ظہور میں آتا ہے۔ اس کارخانہ کائنات میں دو مشیتیں کارفرما نہیں ہیں، صرف ایک ہی مشیت کارفرما ہے۔ البتہ یہ بات ہے کہ شر جب ظہور میں آتا ہے تو وہ انسان کے اپنے اعمال پر مترتب ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ اگر ان کو تمہاری رسالت کے باب میں تردد ہے تو ہوا کرے۔ بہرحال تم اللہ کے رسول ہو اور تمہاری رسالت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔ اب اللہ کی طاعت کی راہ یہی ہے کہ لوگ تمہاری اطاعت کریں، جو تمہاری اطاعت گریز کرنا چاہتا ہے وہ جہاں چاہے بھٹکتا پھرے، تمہارے اوپر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کے دو رخے پن کا یہ حال ہے کہ جب تمہارے پاس ہوتے ہیں اور تم اللہ کی آیات اور اس کے احکام ان کو سناتے ہو تو ہر بات پر سرتسلیم خم کرتے ہیں لیکن جب تمہارے پاس سے ہٹتے ہیں تو قرآن کے خلاف آپس میں طرح طرح کی سرگوشیاں کرتے اور باتیں بناتے ہیں اس کی جو باتیں اپنے اغراض و خواہشات کے خلاف پاتے ہیں انہیں اپنی نجی مجلسوں میں نکتہ چینیوں اور اعتراضات کا ہدف بناتے ہیں، ایک طرف قرآن کو اللہ کی کتاب بھی مانتے ہیں اور اس کے آگے سرتسلیم خم کرنے کا ظہار بھی کرتے، دوسری طرف اس کی بہت سی باتوں کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔ گویا انہوں نے قرآن کو بیک وقت دو ارادوں کا ملغوبہ سمجھ رکھا ہے، جس میں کچھ حصہ تو اللہ کی طرف سے ہے جسے یہ مانتے ہیں اور کچھ حصہ غیر اللہ کی طرف سے ہے جس کی یہ مخالفت کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کی وحدت اور اس کی ہم رنگ و ہم آہنگی اس بات کی نہایت قطعی شہادت ہے کہ مختلف ارادوں کی کارفرمائی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ہی خدائے علم و حکیم کا اتارا ہوا ہے۔ اگر اس میں اللہ کے سوا غیر اللہ کی بھی کوئی مداخلت ہوتی تو اس میں قدم قدم پر تناقض ہوتا اس لیے کہ دو مختلف ارادوں اور دماغوں کی لکھی ہوئی چیز میں اختلاف و نتاقض کا پایا جانا لازمی ہے۔ اس کے بعد منافقین کی ایک شرارت کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ مسلمانوں سے متعلق امن یا خطرے کی کوئی بات سنتے ہیں تو اس کو لے اڑتے ہیں اور لوگوں کے اندر سنسنی پیدا کرنے کے لیے اس کو پھیلا دیتے ہیں، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ملت کے بدخواہ اور اس کے اندر انتشار کے خواہاں ہیں اگر یہ خیر خواہ ہوتے تو اس طرح کی کوئی بات اگر ان کے علم میں آتی تو پہلے اس کو رسول اور امت کے ارباب حل و عقد کے سامنے لاتے تاکہ وہ اس کے تمام پہلوؤں پر غور کر کے فیصلہ کرسکتے کہ اس صورت میں کیا قدم اٹھانا چاہیے۔ آخر میں فرمایا کہ جنگ کا جو حکم تمہیں دیا جارہا ہے اس میں تم پر اصل ذمہ داری تمہارے اپنے ہی نفس کی ہے، تم خود اٹھو اور مومنین مخلصین کو اٹھنے کی ترغیب دو۔ اللہ چاہے گا تو تمہارے ہی ذریعہ سے وہ ان کفار کا زور توڑ دے گا۔ اللہ بڑی زبردست طاقت والا ہے۔ رہے یہ منافقین تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ جو کسی کارخیر میں تعاون کرتا اور اس کے حق میں لوگوں کو ابھارتا ہے وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو کسی کار خیر سے خود رکتا ہے اور دوسروں کو روکنے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے اس عمل سے حصہ پائے گا۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے :
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَھُمْ كُفُّوْٓا اَيْدِيَكُمْ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً ۚ وَقَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ ۚ لَوْلَآ اَخَّرْتَنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ ۭ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ ۚ وَالْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى ۣ وَلَا تُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا۔
گفتار کے غازی عمل کے بودے : اس دور میں کفار کے علاوں میں مسلمانوں کی مظلومیت اور بےبسی کا جو حال تھا اس کا ذکر اوپر کی آیات میں گزر چکا ہے۔ ان حالات سے مدینہ کے مسلمانوں کے اندر جنگ کا احساس پیدا ہونا ناگزیر تھا۔ مسلمان اپنے اس احساس کا ذکر نبی ﷺ سے کرتے تو منافقین بھی پورے جوش و خروش سے جذبہ جنگ کا اظہا کرتے بلکہ اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کچھ زیادہ ہی جوش و خروش کا اظہار کرتے۔ قاعدہ ہے کہ جس کا عمل کمزور ہو وہ ایک قسم کے احساس کمتری میں مبتلا ہوجاتا ہے جس کے سبب سے اسے لاف زنی کا سہارا لینا پڑتا ہے تاکہ اس کی بزدلی کا راز دوسروں پر کھلنے نہ پائے۔ چناچہ منافقین بھی زبان سے بڑے ولولے کا اظہار کرتے لیکن نبی ﷺ انہیں روکتے کہ ابھی انتظار کرو اور نماز کے اہتمام اور زکوۃ کے ذریعے سے اپنے تعلق باللہ، اپنی تنظیم اور اپنے جذبہ انفاق کو ترقی دو۔ لیکن جب اس کا وقت آگیا اور جنگ کا حکم دیا گیا تو زبان کے ان غازیوں کا سارا جوش سرد پڑگیا، اب یہ چھپنے کی کوشش کرتے اور دل میں جو رعب اور خشیت خدا کے لیے ہونی چاہیے اس سے زیادہ دہشت ان کے دلوں پر انسانوں کے لیے طاری تھی۔ یہ دل ہی دل میں کہتے کہ اے خدا اتنی جلدی تو نے یہ جنگ کا حکم کیوں دے دیا، کچھ اور مہلت کیوں نہ دی۔ قالوا کا لفظ یہاں ان کی ذہنی حالت کی تعبیر کر رہا ہے۔ عربی زبان اور قرآن میں اس کی مثالیں بہت ہیں۔ فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ اس دنیا کی زندگی اور اس کا عیش و ارام تو چند روزہ ہے۔ اس کے لیے اتنی بےقراری کیوں ہے۔ عیشِ دوام تو آخرت میں ہے جو لوگوں سے ڈرنے والوں کے بجائے اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے۔ اس کے لیے کمر باندھیں اور اطمینان رکھیں کہ جو کریں گے اس میں سے رتی رتی کا صلہ پائیں گے۔ ذرا بھی ان کے ساتھ کمی نہیں کی جائے گی۔
جہاد اور نماز و زکوۃ میں گہری مناسبت : اس آیت سے یہ بات نکلتی ہے کہ اسلامی جنگ کی روح اور نماز و زکوہ میں نہایت گہری مناسبت ہے۔ جو لوگ خدا کی راہ میں لڑنے کے لیے تیار ہو رہے ہوں ان کے لیے اسلحہ کی ٹریننگ سے زیادہ ضروری اقامت، صلوۃ اور ایتائے زکوۃ ہے۔ جہاد میں جو للہیت، اخلاص اور نظم وطاعت کی جو پابندی مطلوب ہے اس کی بہترین تربیت نماز سے ہوتی ہے اور اس کے لیے انفاق فی سبیل اللہ کا جو جذبہ درکار ہے وہ ایتائے زکوۃ کی پختہ عادت سے نشوونما پاتا ہے۔ ان صفات کے بغیر اگر کوئی روہ جنگ کے لیے اٹھ کھڑا ہو تو اس جنگ سے کوئی اصلاح وجود میں نہیں آسکتی، اس سے صرف فساد فی الارض میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہی حکمت ہے کہ اسلامی جنگ کے سخت سے سخت حالات میں بھی نماز کے اہتمام و التزام کی تاکید ہوئی۔ آگے اسی سورة میں اس مسئلے پر ہم بحث کرنے والے ہیں اس وجہ سے یہاں اشارے پر کفایت کرتے ہیں۔
Ayah 4:78اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ ۭ وَاِنْ تُصِبْھُمْ حَسَـنَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ ۭقُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭ فَمَالِ هٰٓؤُلَاۗءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا
بروج، برج کی جمع ہے۔ اپنے ابتدائی مفہوم میں تو یہ کسی نمایاں اور واضح چیز کے لیے استعمال ہوا، لیکن پھر یہ بلند عمارتوں اور قلعوں کے لیے معروف ہوگیا۔ اس کے ساتھ مشیدۃ کی صفت بلندی اور استحکام دونوں مفہوموں پر مشتمل ہے۔
اب یہ ان منافقین کے خوفِ موت کی علت بھی واضح فرمائی ہے اور اس عقیدے کو بھی بیان فرمایا ہے جو اس خوف کا واحد علاج ہے۔ فرمایا کہ موت سے کسی کے لیے مفر نہیں ہے، جس کی مت جس گھڑی، جس مقام اور جس شکل میں لکھی ہے وہ آکے رہے گی، آدمی مضبوط سے مضبوط قلعوں کے اندر چھپ کے بیٹھے وہاں بھی موت اس کو ڈھونڈھ لے گی، اس وجہ سے اس سے ڈرنا اور بھاگنا بےسود ہے۔ آدمی پر جو فرض جس وقت عاید ہوتا ہے اس کو عزم و ہمت سے ادا کرے اور موت کے مسئلے کو خدا پر چھوڑے۔ آدمی کے لیے یہ بات تو جائز نہیں ہے کہ وہ تدابیر اور احتیاطوں سے گریز اختیار کرے اس لیے کہ اس کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ خدا کو آزمائے، لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی جائز نہیں ہے کہ وہ یہ گمان رکھے کہ وہ اپنی تدابیر سے اپنے آپ کو موت سے بچا سکتا ہے۔ پھر منافقین کی ایک اور حماقت کی طرف بھی اشارہ فرمایا جس کو ان کی اس بزدلی کی پرورش میں بڑا دخل تھا وہ یہ کہ حق و باطل کی اس کشمکش کے دوران میں جو نرم و گرم حالات پیش آ رہے تھے وہ ان سب کو خدا کی طرف سے نہیں سمجھتے تھے بلکہ کامیابیوں کو تو خدا کی طرف سے سمجھتے، لیکن کوئی مشکل یا کوئی آزمائش پیش آجائے تو اسے پیغمبر کی بےتدبیری پر محمول کرتے کہ یہ مدبر لیڈر نہیں ہیں اس وجہ سے غلط اندازے اور غلط فیصلے کرتے ہیں جس کے نتائج غلط نکلتے ہیں (چنانچہ سورة آل عمران میں یہ بات گزر چکی ہے کہ منافقین نے احد کی شکست کی ساری ذمہ داری آنحضرت ﷺ پر ڈالنے کی کوشش کی کہ انہی کی بےتدبیری سے یہ شکست پیش آئی) اس سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ یہ لوگ نہ تو یہ مانتے تھے کہ کائنات میں صرف خدا ہی کی مشیت کار فرما ہے اور نہ یہ مانتے تھے کہ رسول کا ہر کام خدا کے حکم کے تحت ہوتا ہے۔ بظاہر تو آپ کی رسالت کا اقرار کرتے لیکن باطن میں ان کے یہی خیال چھپا ہوا تھا کہ آپ سارے کام اپنی رائے اور تدبیر سے کرتے ہیں۔ ان کے اس واہمے کی تردید کے لیے پیغمبر ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی کہ ان پر واضح فرما دیجیے کہ کامیابی ہو یا ناکامی، دکھ ہو یا سکھ، ان میں سے کوئی چیز بھی میری طرف سے نہیں ہے بلکہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے اس لیے بھی کہ میں کوئی کام خدا کے حکم کے بغیر نہیں کرتا اور اس لیے بھی کہ مصرف حقیقی اس کائنات کا اللہ وحدہ لاشریک لہ ہی ہے۔ اس کی مشیت کے بغیر نہ اس دنیا میں کسی کو دکھ پہنچ سکتا ہے نہ سکھ۔ لیکن ان لوگوں کو حال تو یہ ہے کہ کسی بات کو سمجھنے کے پاس ہی نہیں پھٹکتے۔
Ayahs 4:79–8079 تا 80۔ مَآ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ۡ وَمَآ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ ۭوَاَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا۔ مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ ۚ وَمَنْ تَوَلّٰى فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا۔
یہ آیتیں اوپر والی آیت ہی کے بعض اجمالات کو واضح کر رہی ہیں۔ پہلے ان لوگوں کو، جو کامیابیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف اور ناکامیوں کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر رہے تھے، مخاطب کر کے فرمایا کہ اصل حقیقت تو یہی ہے کہ خیر و شر ہر چیز کا ظہور خد ہی کی مشیت سے ہوتا ہے۔ اسکے حکم و اذن کے بغیر کوئی چیز بھی ظہور میں نہیں آسکتی۔ لیکن خیر اور شر میں یہ فرق ہے کہ خیر خدا کی رحمت کے اقتضا سے ظہور میں آتا ہے اور شر انسان کے اپنے اعمال پر مترتب ہوتا ہے۔ اس پہلو سے شر کا تعلق انسان کے اپنے نفس سے ہے۔
یہ حقیقت یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ خیر مطلق ہے۔ اس نے یہ دنیا اپنی رحمت کے لیے بنائی ہے۔ اس وجہ سے اس کی طرف کسی شرک کی نسبت اس کی پاکیزہ صفات کے منافی ہے۔ شر جتنا کچھ بھی ظہور میں آتا ہے وہ صرف انسان کے اپنے اختیار کے سوء استعمال سے ظہور میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک خاص دائرے کے اندر آزادی بخشی ہے۔ یہ آزادی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اسی پر انسان کے تمام شرف کی بنیاد ہے۔ اسی کی وجہ سے انسان آخرت میں جزا و سزا کا مستحق ٹھہرے گا۔ اگر یہ آزادی انسان کو حاصل نہ ہوتی تو حیوان اور انسان کے درمیان کوئی فرق نہ ہوتا۔ لیکن اس آزادی کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ غیر محدود اور غیر مقید نہیں ہے بلکہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ایک خاص دائرے کے اندر محدود ہے۔ پھر اس دائرے کے اندر بھی یہ خدا کی مشیت اور اس کی حکمت کے تحت ہے۔ خدا کے اذن و مشیت کے بغیر انسان اپنے کسی ارادے کو پورا نہیں کرسکتا۔ نیک ارادے بھی اس کی توفیق بخشی سے پورے ہوتے ہیں اور برے ارادے بھی اسی کے مہلت دینے سے بروئے کار آتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کے کسی برے ارادے کو بروئے کار آنے دیتا ہے تو اس پہلو سے تو وہ خدا کی طرف منسوب ہوتا ہے کہ اس کا بروئے کار آنا خدا ہے کے اذن و مشیت سے ہوا لیکن دوسرے پہلو سے وہ انسان کا فعل ہے کیونکہ اس کا ارادہ انسان نے خود کیا۔
شر کو مہلت دینے کی حکمت : پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی فرد یا جماعت کے کسی شر کو سر اٹھانے کی مہلت دیتا ہے تو اس لیے دیتا ہے کہ اس میں بحیثیت مجموعی اس کی خلق کے لیے کوئی حکمت و مصلحت مد نظر ہوتی ہے۔ بعض اوقات اس ڈھیل سے اہل حق کی آزمائش ہوتی ہے کہ اس سے ان کی کمزوریاں دور ہوں اور ان کی خوبیاں نشوونما پائیں۔ بعض اوقات اس سے اہل باطل پر حجت تمام کرنا اور ان کے پیمانے کو لبریز کرنا ہوتا ہے۔ بعض اوقات قدرت خود ایسے حالات پیدا کرتی ہے جن سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ طبائع کے اندر جو کچھ دبا ہوا ہے وہ ابھرے۔ اس سے نیکیاں بھی ابھرتی ہیں اور جن کے اندر بدیاں مضمر ہوتی ہیں ان کی بدیاں بھی ابھرتی ہیں۔
رسول کی کسی بات پر اعتراض اس کی رسالت کے انکار کو مستلزم ہے : منافقین کو مخاطب کرنے کے بعد آگے پیغمبر ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اگر یہ منافقین تمہاری رسالت کے باب میں متردد ہیں اور تمہارے ہر قول و فعل کو خدا کی طرف سے نہیں سمجھتے تو اس بات کی پروا نہ کرو۔ تمہاری رسالت ان کی گواہی کی محتاج نہیں ہے۔ اس پر خدا کی گواہی کافی ہے۔ یہ لوگ مانیں یا نہ مانیںِ اب اللہ کی اطاعت کی واحد راہ یہی ہے کہ لوگ تمہاری اطاعت کریں۔ خدا کی اطاعت رسول ہی کی اطاعت کے واسطے سے ہوتی ہے۔ جو لوگ تم سے اعراض کریں تم ان کی ہدایت کے ذمہ دار بنا کے نہیں بھیجے گئے ہو، ان کو ان کے حال پر چھوڑو، اب ذمہ داری تمہاری نہیں بلکہ خود ان کی ہے۔
اگر التباس نہ ہو تو ضمیروں کے انتشار میں کوئی قباحت نہیں : یہاں خطاب ایک ہی سیاق میں منافقین سے بھی ہوا ہے اور رسول اللہ ﷺ سے بھی۔ لیکن ایسے مواقع میں اس طرح کے خطاب میں کوئی حرج نہیں ہے جہاں التباس کا اندیشہ نہ ہو۔ چونکہ پہلی بات واضح طور پر منافقین ہی کو مخاطب کر کے کہی جاسکتی تھی اس لیے کہ یہ انہی کے شب ہے کا جواب ہے اس وجہ سے یہاں کسی التباس کا اندیشہ نہیں تھا۔ پھر دوسرے ٹکڑے میں آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے جو بات کہی گئی ہے اس میں بھی غور کیجیے تو روئے سخن در حقیقت منافقین ہی کی طرف ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے اعراض کے اظہار کے طور پر ان کو مخاطب کرنے کے بجائے اپنے رسول کو مخاطب کرلیا۔ گویا ان کی طرف سے رسول کی اس ناقدری کے بعد اب وہ اس بات کے اہل نہیں رہے کہ ان کو خطاب کر کے ان سے رسول کے باب میں کوئی بات کہی جائے۔
Ayahs 4:81–8281 تا 82: وَيَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ ۡ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَيَّتَ طَاۗىِٕفَةٌ مِّنْھُمْ غَيْرَ الَّذِيْ تَقُوْلُ ۭ وَاللّٰهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُوْنَ ۚ فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا۔ اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۭوَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا۔
مبتدا کے حذف کا فائدہ : طاعۃ خبر ہے، مبتدا اس کا محذوف ہے اور یہ بات ہم واضح کرچکے ہیں کہ جب مبتدا کو حذف کردیا جائے تو مقصود سارا زور خبر پر دینا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ پیغمبر کی مجلس میں ہوتے ہیں اور پیغمبر ان کو خدا کا کلام اور اس کے احکام سناتے ہیں تو وہ ہر بات پر کہتے ہیں کہ " سرِ تسلیم خم ہے "۔ بَیّتَ یُبَیِّتُ کے معنی اصلاً تو کوئی عمل رات میں کرنے کے آتے ہیں لیکن اپنے عام استعمال میں یہ لفظ رات کی قدی سے مجرد ہو کر چھپ کر کوئی کام، کوئی مشورہ، کوئی رائے کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ الفاظ کے اس طرح اپنے ابتدائی مفہوم سے مجرد ہوجانے کی مثالیں عربی زبان میں بہت ہیں۔ اضحیٰ اور بات بھی اپنے عام استعمال میں دن اور رات کی قید سے مجرد ہو کر استعمال ہوتے ہیں۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ نبی کی مجلس میں تو یہ ہر بات پر سر تسلیم خم کرتے ہیں لیکن جب وہاں سے ہٹتے ہیں تو اپنی مجلسوں میں ان آیات و احکام کے خلاف مشورے کرتے ہیں جن کو اپنی خواہشات اور اپنے مفاد ذاتی کے خلاف پاتے ہیں۔ ان کے اس رویے پر قرآن نے پہلے تو ان کی دھمکی دی کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی یہ ساری باتیں نوٹ ہو رہی ہیں، وہ یہ نہ سمجھیں کہ اگر وہ چھپ کر یہ سرگوشیاں کر رہے ہیں تو خدا سے بھی یہ چھپی ہوئی ہیں، ایک دن یہ سارا ریکارڈ ان کے سامنے آجائے گا۔ اس کے بعد پیغمبر ﷺ کو ہدایت فرمائی کہ آپ ان سے اعراض فرمائیے اور خدا پر بھروسہ کیجیے، خدا کا بھروسہ کافی ہے، یہ شامت زدہ لوگ ان سرگوشیوں سے دین حق کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے، جو بگاڑیں گے، اپنا ہی بگاڑیں گے۔ پھر منافقین کے اس تضاد فکر کی طرف ان کو توجہ دلائی کہ ایک طرف قرآن اور پیغمبر کی باتوں پر سرتسلیم خم کرنا اور دوسری طرف اسی قرآن اور اسی پیغمبر کی باتوں کو ہدف اعتراض بنانا آخر کیا معنی رکھتا ہے ؟ کیا ان کا خیال ہے کہ اس قرآن میں بیک وقت دو ارادوں کی کارفرمائی ہے۔ اس کی کچھ باتیں دانشمندانہ اور حکیمانہ ہیں جو سراہنے کے قابل ہیں اور کچھ باتیں خلاف حکمت و مصلحت ہیں جو اعتراض و تنقید کی سزاوار ہیں ؟ کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ اگر غور کرتے تو خود دیکھ لیتے کہ قرآن کی ہر بات اپنے اصول اور فروع میں اتنی مستحکیم اور مربوط ہے کہ ریاضی اور اقلیدس کے فارمولے بھی اتنے مستحکم و مربوط نہیں ہوسکتے۔ وہ جن عقائد کی تعلیم دیتا ہے وہ ایک دوسرے سے اس طرح وابستہ و پیوستہ ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی الگ کردیجیے تو پورا سلسلہ ہی درہم برہم ہوجائے۔ وہ جن عبادات و طاعات کا حکم دیتا ہے وہ عقائد سے اس طرح پیدا ہوتی ہیں جس طرح تنے سے شاخیں پھوٹتی ہیں، وہ جن اعمال و اخلاق کی تلقین کرتا ہے وہ اپنے اصول سے اس طرح ظہور میں آتے ہیں جس طرح ایک شے سے اس کے قدرتی اور فطری لوازم ظہور میں آتے ہیں۔ اس کی مجموعی تعلیم سے زندگی کا جو نظام بنتا ہے وہ ایک بنیان مرصوص کی شکل میں نمایاں ہوتا ہے جس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ سے اس طرح جڑی ہوئی ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی الگ کرنا بغیر اس کے ممکن نہیں کہ پوری عمارت میں خلا پیدا ہوجائے۔ جس طرح اس کائنات کے اجزائے مختلفہ کا باہمی توافق اور ان کی سازگاری اس بات کی نہایت واضح شہادت ہے کہ اس کے اندر ایک ہی خدائے حی وقیوم کا ارادہ کار فرما ہے، کوئی اور اس میں شریک نہیں ہے اسی طرح اس کتاب عزیز کے مختل اجزا کی باہمی سازگاری و ہم آہنگی اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ یہ ایک ہی خدائے علیم و حکیم کی وحی ہے، اس میں کسی اور جن یا بشر کی کوئی مداخلت نہیں ہے۔ اس کائنات میں اگر مختلف ارادے کار فرما ہوتے تو یہ درہم برہم ہو کر رہ جاتی۔ اسی طرح اس کتاب عزیز میں بھی اگر کسی اور فکر کی در اندازی ہوتی تو یہ تناقضات اور اختلافات کا ایک پراگندہ دفتر بن کے رہ جاتی۔
یہ آیت اس زمانے کے ان لوگوں کے لیے اپنے اندر بڑی تنبیہ کا سامان رکھتی ہے جو ایک طرف تو قرآن کو اللہ کی کتاب مانتے ہیں، دوسری طرف اس کی ان تمام تعلیمات کو ہدف تنقید بھی بناتے ہیں جو ان کی خواہشات یا ان کے مزعومہ مصالح کے خلاف ہیں۔ ان کا یہ طرز عمل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ بھی ان منافقین ہی کی طرح اس کتاب میں خدا کے ساتھ غیر خدا کا ہاتھ بھی شریک مانتے ہیں، ورنہ آخر اس کے کیا معنی کہ اس کو خدا کی کتاب بھی مانا جائے اور پھر اس کی بہت سی باتوں کو اعتراض، تنقید، تہتک اور استہزا کا نشانہ بھی بنایا جائے۔
Ayah 4:83وَاِذَا جَاۗءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ ۭوَلَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِي الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْھُمْ ۭ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا۔
اولو الامر پر بحث اسی سورة کی آیت 59 کے تحت گزر چکی ہے۔ " استنباط " کا اصل مفہوم کنواں کھود کر اس سے پانی نکالنا اور کسی پوشیدہ چیز کو ظاہر کرنا ہے۔ اپنے اسی مفہوم سے ترقی کر کے کسی بات کی تہ کو پہنچنے اور اس کی حقیقت کو پانے کے معنی میں یہ استعمال ہوا۔
منافقین چونکہ ملت کے خیرخواہ نہیں تھے اس وجہ سے افواہیں پھیلانے کے معاملے میں بڑے چابکدست تھے۔ امن یا خطرے کی جو بات بھی ان کو پہنچتی آن کی آن میں جنگل کی آگ کی طرح ان کے ذریعے سے لوگوں میں پھیل جاتی۔ جماعتی زندگی میں افواہیں عام حالات میں بھی بڑے خطرناک نتائج پیدا کرسکتی ہیں اور جب حالات جنگ کے ہوں، جیسے کہ اس وقت تھے، تب تو ان کی خطرناکی وہ چند ہوجاتی ہے۔ منافقین ان افواہوں سے یوں تو مختلف فائدے اٹھانے کی کوشش کرتے لیکن خاص طور پر مسلمانوں، بالخصوص کمزور مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کے یہ ان کا خاص حربہ تھا۔ بعض مرتبہ وہ اس طرح کی افواہوں سے مسلمانوں کے اندر غلط قسم کا اطمینان بھی پیدا کرنے کی کوشش کرتے اور ظاہر ہے کہ بےجا تشویش کی طرح غلط اطمینان بھی ایک خطرناک چیز ہے۔
افواہوں کے بارے میں صحیح طرز عمل : فرمایا کہ اگر یہ اللہ، رسول اور ملت کے خیرخواہ ہوتے تو ان کے لیے صحیح طریقہ یہ تھا کہ اس طرح کی جو باتیں ان کے علم میں آتیں ان کو عوام میں سنسنی پیدا کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے ان کو رسول اور امت کے ارباب حل و عقد کے سامنے پیش کرتے تاکہ ان کے اندر جو لوگ معاملات کی گہری سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ان کے موقع و محل کا تعین کرتے اور ان کے باب میں صحیح پالیسی اختیار کرتے۔ علم، کے معنی کسی شے کے موقع و محل کے تعین کے بھی آتے ہیں۔ ہم بقرہ میں قد علم کل اناس مشربہم (اور بنی اسرائیل کے ہر قبیلہ نے اپنا اپنا گھاٹ متعین کرلیا) ، کے تحت لفظ کے اس مفہوم کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ۔۔۔ الایہ سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اب بھی ان کے لیے سنبھل جانے کا موقع ہے۔ یہ اللہ کا فضل و احسان ہے کہ ابھی اس نے ان کو شیطان کے پیچھے بگ ٹٹ چل کھڑے ہونے کے لیے چھوڑ نہیں دیا ہے، ویسے ہے یہ بھی شیطان ہی کی راہ۔
اسلام میں سیاسی نظام کی اہمیت اور اولوالامر کا درجہ : اس آیت سے اسلام میں سیاسی نظام کی اہمیت و عظمت واضح ہوتی ہے کہ عوام کو اجتماعی نفع و ضرر کے معاملات میں مرجع و معتمد اپنے اولوالامر کو بنانا چاہیے۔ بطورِ خود اس طرح کی چیزوں کو عوام میں پھیلانا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اسلام میں اولوالامر کے لیے ضروری ہے کہ وہ دین اور دنیا دونوں کی ایسی سوجھ بوجھ رکھنے والوں ہوں کہ پیش آنے والے حالات و معاملات میں شریعت و مصلحت کے تقاضوں کے مطابق قدم اٹھا سکیں۔
Ayahs 4:84–8584۔ 85: فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّاَشَدُّ تَنْكِيْلًا۔ مَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنْ لَّهٗ نَصِيْبٌ مِّنْھَا ۚ وَمَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْھَا ۭ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيْتًا۔
" شفع " کے معنی ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں واضح کرچکے ہیں کہ ایک چیز کو دوسری چیز کے سداتھ جوڑنے کے ہیں۔ اسی مفہوم سے ترقی کر کے کسی بات کی تائید و حمایت یا اس کے حق میں سفارش کرنے کے معنی میں یہ استعمال ہوا۔ یہاں شفاعت حسنہ اور شفاعت سیئہ دو قسم کی شفاعتوں کا ذکر ہے۔ شفاعت حسنہ تو ظاہر ہے کہ یہ ہوگی کہ کسی مقصد حق کو اس سے تائید وتقویت حاصل ہو۔ اس کے برعکس شفاعت سیئہ یہ ہے کہ اس سے تقویت و تائید کے بجائے اس مقصد کو نقصان پہنچے۔ منافقین، قرآن کی دعوت جہاد کے لیے لوگوں کو ابھارنے کے بجائے، جیسا کہ اوپر اشارہ ہوا اور آگے تفصیل آرہی ہے۔ لوگوں کا حوصلہ پست کرنے کی کوشش کر رہے تھے اس وجہ سے قرآن نے ان کی اس کوشش کو شفاعت سیئہ سے تعبیر کیا۔
مقیت کے معنی شہید و حفیظ اور مقتدر کے ہیں۔
یاد ہوگا، اس مجموعہ آیات کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ پہلے تو منافقین بہت بڑھ بڑھ کر جنگ و جہاد کی باتیں بناتے تھے لیکن اب جب کہ جنگ کا حکم دے دیا گیا ہے تو چھپتے پھرتے ہیں اور دوسروں کا حوصلہ بھی پست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے بعد اسی سلسلہ کی دوسری باتیں زیر بحث آگئی تھیں۔ اب یہ پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ پر ذمہ داری صرف اپنے نفس کی ہے، آپ خود جنگ کے لیے اٹھیے اور مسلمانوں کو اٹھنے کے لیے ابھاریے، جس کو توفیق ہوگی وہ اٹھے گا، جو نہیں اٹھے گا اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔ اللہ کے کام دوسروں پر منحصر نہیں ہوتے، وہ خود بڑی قوت رکھنے والا ہے اور مخالفوں کو عبرت انگیز سزا دینے والا ہے۔ وہ آپ کے اور آپ کے مخلص ساتھیوں ہی کے اندر اتنی قوت پیدا کردے گا کہ اسی سے کفار کا زور ٹوٹ جائے گا۔
حق کی حمایت میں زبان سے کچھ کہنا بھی موجب اجر ہے : اس کے بعد فرمایا کہ منافقین جو ریشہ دوانیاں اور افواہ بازیاں مسلمانوں کا حوصلہ پست کرنے اور جہاد سے روکنے کے لیے کر رہے ہیں اس کی پروا نہ کیجیے۔ جو آج حق کی تائید و حمایت میں اپنی زبان کھولیں گے وہ اس کا اجر پائیں گے اور جو اس کے خلاف کہیں گے وہ اس کی سزا بھگتیں گے، خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayahs 4:86–87آگے کا مضمون۔ آیات 86 تا 100: آیت 81 میں نبی ﷺ کو منافقین سے اعراض کا جو حکم دیا گیا تھا اس کا اثر قدرتی طور پر جاں نثار صحابہ پر یہ پڑ سکتا تھا کہ جن کے باب میں ان کو شبہ بھی ہوجاتا کہ ان کا تعلق منافقین سے ہے۔ ان سے وہ ربط ضبط اور سلام و کلام ختم کردیتے اور اس طرح ایک معاشرتی بائیکاٹ کی شکل پیدا ہوجاتی جو ابھی اس مرحلے میں مطلوب نہیں تھی۔ اس وجہ سے ضروری ہوا کہ اس موقع پر مسلمانوں کو ایسی ہدایات دی جائیں جو ان کو اعتدال پر قائم رکھیں۔ وہ منافقین سے ہوشیار تو رہیں لیکن ان سے سلام و کلام بند نہ کریں۔ ابھی ان کو اصلاح حال کا اور موقع دیں۔ چناچہ سب سے پہلے مسلمانوں کو یہ ہدایت فرمائی کہ جو تمہیں سلام کرے اس کو اس کے سلام کا اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم یہ اس کے سلام کو لوٹا دو۔ پھر ان لوگوں کو خطاب کر کے جو دار الحرب کے منافقین کے لیے اپنے دل میں بڑا نرم گوشہ رکھتے تھے، اور ان کی منافی اسلام حرکات کے واضح ہونے کے باوجود یہ توقع رکھتے تھے کہ ان کے ساتھ روابط قائم رکھے جائیں گے تو یہ بالآخر اچھے مسلمان بن جائیں گے، فرمایا کہ یہ لوگ تو مسلمان بننے سے رہے البتہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم ان کے ساتھ بندھے رہے تو یہ تمہیں بھی لے ڈوبیں گے۔ پھر ان کے مخلص سمجھے جانے کے لیے یہ کسوٹی قرار دی کہ یہ اپنے ماحول سے ہجرت کر کے تمہارے ساتھ آ ملیں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو پھر ان سے تعلق رکھنے کے بجائے ان کو دشمن اور دشمنوں کا ساتھی سمجھو، ان کے ساتھ جنگ کرو۔ اس حکم عام سے صرف ان مسلمانوں کو مستثنی کیا جن کا تعلق ایسے غیر مسلم قبائل سے ہو جن کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ ہو یا معاہدہ تو نہ ہو لیکن ان قبائل کے مسلمان فی الحال اپنی غیرجانبداری باقی رکھنا چاہتے ہوں، نہ اپنی قوم کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑنے کے لیے تیار ہوں، نہ مسلمانوں کے ساتھ ہو کر اپنی قوم سے لڑنے کی جراءت کر رہے ہوں۔ فرمایا کہ اگر یہ اپنی غیرجانبداری باقی رکھیں، تم سے تعرض نہ کریں، تمہارے ساتھ ان کے تعلقات مصالحانہ رہیں تو تم بھی ان کے خلاف کوئی جارحانہ اقدام نہ کرو۔ اس کے ساتھ یہ وضاحت بھی فرمادی کہ ضروری ہے کہ یہ غیر جانبداری واقعی اور حقیقی ہو۔ بعض جماعتیں ایسی ہیں جو بظاہر تو غیرجانبداری کی مدعی ہیں لیکن جب ان پر کفار کا دباؤ پڑجاتا ہے تو یہ اسلام دشمنی کے لیے آمادہ ہوجاتی ہیں۔ ان کے بابت فرمایا کہ ان کے ساتھ دشمنوں ہی کا سا معاملہ کرو، اگر یہ تمہارے خلاف جارحانہ اقدام سے باز نہ آئیں تو تم بھی ان کو قتل کرو۔ اس کے بعد دارالحرب میں خطاً یا عمداً قتل ہوجانے والے مسلمانوں کی دیت کا حکم دبیان فرمایا اور نہایت سخت الفاظ میں وعید فرمائی کہ جو شخص عمداً کسی مسلمان کو قتل کردے گا اس کے لیے دائمی عذاب جہنم اور اس پر خدا کا غضب اور اس کی لعنت ہے۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو یہ ہدایت فرمائی کہ تم کفار کے جس علاقے پر حملہ کرو اس کے اندر کے مسلمانوں کے بارے میں پہلے اچھی طرح تحقیق کرلو تاکہ مسلمان تمہاری تلوار سے محفوظ رہیں اور اگر کوئی شخص اپنے ایمان کے اظہار کے لیے تمہیں سلام کرے تو تم محض طمع مال میں اس کو مسلمان تسلیم کرنے سے انکار نہ کرو۔ اس کے بعد تمام غیر معذور مسلمانوں کو جان و مال دونوں کے ساتھ خدا کی راہ میں جہاد پر اور تمام غیر معذور مسلمانوں کو دارالحرب اور دارالکفر سے ہجرت پر ابھارا ہے اور ان کے مراتب و مدارج بیان فرمائے ہیں۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
86۔ 87۔ وَاِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَــيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْ رُدُّوْھَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَسِيْبًا۔ اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۭ لَيَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ ۭ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيْثًا۔
" حیاہ تحیۃ " کے اصل معنی کسی کو زندگی کی دعا دینے کے ہیں۔ اسی سے دعائیہ کلمہ حیاک اللہ، ہے جس کے معنی ہیں، اللہ تمہاری عمر دراز کرے۔ سلام اور اس کے ہم معنی دوسرے دعائیہ کلمات بھی چونکہ کم و بیش یہی یا اسی سے ملتے جلتے مفہوم اپنے اندر رکھتے ہیں اس وجہ سے لفظ کے عام مفہوم میں وہ سب اس کے اندر شامل ہوجاتے ہیں۔
اسلامی معاشرہ میں سلام کی اہمیت : ہر معاشرے میں کچھ ایسے دعائیہ کلمات مروج ہوتے ہیں جو معاشرے کے افراد آپس میں ملتے جلتے وقت ابتدائی تعارف، اظہارِ محبت و اعتماد، نشانِ اخوت و مودت اور علامتِ وحدت فکر و عقیدہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں معاشرتی اتصال و ارتباط کے نقطۂ نظر سے ان کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ معاشرے کے افراد، خواہ ان کے اندر کتنی ہی دوری و بےگانگی ہو، آمنے سامنے ہوتے ہی ان کے واسطے سے اس طرح باہم ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں گویا ان کے اندر کوئی اجنبیت و بیگانگی تھی ہی نہیں۔ عربوں میں اس مقصد کے لیے بہت سے الفاظ اور فقرے معروف تھے۔ مثلا حیاک اللہ، اہلاً و سہلاً و مرحبا وغیر۔ سلام کا لفظ بھی معروف تھا۔ جب اسلامی معاشرہ ظہور میں آیا تو بجز ان کلمات کے جن میں شرک کی کوئی آلائش تھی، باقی تمام پاکیزہ کلمات باقی رہے البتہ السلام علیکم کو ایک خاص اسلامی شعار کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ یہ کلمہ گویا مومن و کافر کے درمیان ایک علامتِ فارقہ بن گیا۔ جب ایک شخص نے دوسرے کے سامنے السلام علیکم کہہ دیا اور اس نے وعلیکم السلام سے اس کا جواب دے دیا تو گویا من و تو کا فرق اٹھ گیا اور دونوں دو قالب و یک جان ہوگئے اور جواب نہ دیا تو اس کے معنی صرف یہی نہیں ہوتے تھے کہ اس نے اس کا سلام قبول نہیں کیا بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہوتے تھے کہ اس نے اس کے اسلام کو بھی تسلیم نہیں کیا۔ کلمہ تحیت کی اس اہمیت کی وجہ سے اس موقع پر جب کہ نبی ﷺ کو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، منافقین سے اعراض کی ہدایت ہوئی تو ساتھ ہی مسلمانوں کو یہ تنبیہ بھی کردی گئی کہ جب کوئی شخص تمہیں سلام و تحیت سے مخاطب کرے تو اس کا اسلامی و معاشرتی حق یہ ہے کہ اس کے سلام و تحیت کا اس کو جواب دو ، اس کا اعلی طریقہ تو یہ ہے کہ اس سے بہتر طریقہ پر جواب دو ، اگر یہ نہیں تو کم از کم اسی کے الفاظ اس کی طرف لوٹا دو۔ اس تنبیہ کی ضرورت اس لیے تھی کہ زیادہ پرجوش لوگوں کی طرف سے اس مرحلے میں منافقین کے ساتھ معاشرتی بائیکاٹ کی نوبت نہ آنے پائے۔ خاص طور پر اس کا یہ پہلو بہت نازک تھا کہ بعض حالات میں اس کی زد میں وہ لوگ بھی آسکتے تھے جو فی الحقیقت تو منافق نہ ہوتے لیکن زیادہ حساس لوگوں کو کسی سبب سے ان پر منافقت کا شبہ ہوجاتا۔
یہ پیچیدگی تو ان منافقین کے معاملے میں تھی جو دارالاسلام میں تھے۔ ان سے زیادہ پیچیدہ معاملہ ان مسلمانوں کا تھا جو دار الحرب میں تھے۔ ان مسلمانوں کے اندر بھی، جیسا کہ آگے آرہا ہے، منافق اور مخلص دونوں ہی قسم کے تھے۔ قرآن نے اگرچہ ان کے درمیان امتیاز کے لیے نہایت واضح کسوٹیاں مقرر کردیں تاہم اس کا اندیشہ باقی رہتا تھا کہ کوئی مخلص مسلمان مسلمانوں کی تلوار کی زد میں آجائے، اس لیے مسلمانوں کو اگے آیت 94 میں یہ ہدایت کی گئی کہ جس علاقے پر حملہ کرو اس کے مسلمانوں کے متعلق اچھی طرح معلومات حاصل کرلو، اگر کوئی تمہیں سلام کرے اور اس طرح تمہارے ساتھ اپنی دینی اخوت و مودت کا اظہار کرے تو بےتحقیق کیے اس کے مسلمان ہونے سے انکار نہ کرو۔
الغرض یہ سلام اور جواب سلام کا معاملہ کوئی رسمی حیثیت نہیں رکھتا تھا بلکہ اسلامی معاشرہ میں یہ وصل و فصل کی بنیاد تھا اس وجہ سے قرآن نے اہمیت کے ساتھ اس کو بیان فرمایا اور تنبیہ فرمائی کہ خدا ہر چیز کا حساب کرنے والا ہے اور قیامت کے دن سب کو اپنے اعمال و اقوال کی جواب دہی کرنی ہے۔
لیجمعنکم کے بعد، الی کا صلہ، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں اس اسلوب کی وضاحت کرچکے ہیں، اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں کوئی لفظ ہانکنے، دھکیلنے اور لے جانے کے معنی میں محذوف ہے۔
Ayahs 4:88–8988۔ 89: فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنٰفِقِيْنَ فِئَتَيْنِ وَاللّٰهُ اَرْكَسَھُمْ بِمَا كَسَبُوْا ۭ اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِيْلًا۔ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَاۗءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ اَوْلِيَاۗءَ حَتّٰي يُھَاجِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْھُمْ وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ ۠ وَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا۔
فئتین، ضمیر مجرور سے حال پڑا ہوا ہے۔ مثلاً کہیں گے، مَالَکَ قَائِماً۔ " رکس الشی " کے معنی ہیں چیز کو الٹ دیا، ارکسہ، اس کو اوندھا کردیا، ارکس الشی، چیز کو اس کی سابقہ حالت پر لوٹا دیا۔
دار الکفر کے مسلمانوں کے کفر و ایمان کے لیے کسوٹی ہجرت ہے : اب یہ ذکر ہورہا ہے ان منافقین کا جو بلا کسی عذر معقول کے، محض اپنے رشتوں اور قرابتوں یا جادئداد و املاک کی محبت میں ہجرت سے گریزاں اور مدینہ میں دار الاسلام قائم ہوجانے کے باوجود، اب تک بدستور دارالکفر یا دارالحرب میں پڑے ہوئے تھے۔ ان لوگوں کے پاس چونکہ کوئی عذر شرعی موجود نہیں تھا اس وجہ سے ان کا نفاق واضح تھا لیکن مسلمانوں میں سے کچھ لوگ، جو ان کے ساتھ رشتہ داریاں اور قرابتیں یا خانانی اور قبائلی نسبتیں رکھتے تھے، ان کے معاملے میں بہت نرم تھے۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ ان کو نہ صرف ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے بلکہ ان کے ساتھ ربط ضبط بھی قائم رکھا جائے، آہستہ آہستہ یہ لوگ سچے اور پکے مسلمان بن جائیں گے۔ قرآن نے اس خیال کے لوگوں کو تنبیہ کی کہ جو لوگ اس طرز پر سوچ رہے ہیں، غلط سوچ رہے ہیں۔ اب یہ منافقین اسلام کی طرف بڑھنے والے نہیں ہیں، انہوں نے اسلام کی طرف جو قدم بڑھایا تھا، دنیا کی محبت میں انہوں نے اپنے اٹھائے ہوئے قدم کو پھر پیچھے ہٹا لیا جس کی سزا میں اللہ نے اپنی سنت کے مطابق ان کو پھر اسی کفر میں دھکیل دیا جس میں وہ پہلے تھے۔ جو لوگ خدا کے قانون اور اس کی سنت کی زد میں آچکے ہوں وہ اب راہ راست پر نہیں آسکتے، کوئی لاکھ چاہے ان کو راہ ملنی ناممکن ہے۔ فرمایا کہ تم ان کی ہدایت کی توقع رکھتے ہو اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ تمہیں بھی اسی کفر میں واپس لے جانے کی آرزو رکھتے ہیں جس میں وہ خود ہیں اس وجہ سے جب تک وہ ہجرت نہ کریں اس وقت تک تم ان کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھو۔ یہ ہجرت ہی ان کے ایمان و اسلام کی کسوٹی ہے۔ اگر وہ اس سے گریز کرتے ہیں تو تم ان کو دشمن اور دشمنوں کا ساتھی سمجھو اور ان کو جہاں پاؤ گرفتار اور قتل کرو۔
Ayah 4:90اِلَّا الَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَھُمْ مِّيْثَاقٌ اَوْ جَاۗءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُھُمْ اَنْ يُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ يُقَاتِلُوْا قَوْمَھُمْ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَھُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ وَاَلْقَوْا اِلَيْكُمُ السَّلَمَ ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيْلًا۔
حَصِرَ حَصِراً ، کے معنی عاجز ہونا، تنگ ہونا، بےہمت ہونا، حصر الرجل ضاق صدرہ، اس کا سینہ تنگ ہوا، اس نے ہمت چھوڑ دی۔ " سلم " کے معنی انقیاد و اطاعت اور حوالگی و سپردگی کے ہیں۔ " القاء السلم " سے مراد کسی کے آگے سپر ڈال دینا، گھٹنے ٹیک دینا، سپر انداز ہونا اور اس سے صلح کی درخواست کرنا۔
اب یہ ان لوگوں کا حکم بیان ہورہا ہے جو مذکورہ بالا اخذ و قتل کے حکم سے مستثنی ہیں۔ یہ دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو کسی ایسی قوم اور قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جن کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ صلح ہے۔ ایسے لوگوں کی جان بخشی محض معاہدے کے احترام میں کی گئی۔ اس لیے کہ معاہدے کے قیام تک ان کے کسی فرد کو گرفتار یا قتل کرنا عہد شکنی ہوتی، عام اس سے کہ وہ کافر ہے یا منافق۔ دوسرے وہ لوگ جو اپنی کمزوری اور پست ہمتی کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہوں اور نہ مسلمانوں میں شامل ہو کر اپنی قوم سے جنگ کے لیے آمادہ ہوں ان کو مہلت دیے جانے کی یہ مصلحت واضح فرمائی کہ ایسے کمزور لوگوں کی طرف سے یہ غیر جانبداری کا رویہ بھی غنیمت ہے۔ آخر یہ بھی تو ہوسکتا تھا کہ ان کو جراءت دے دیتا تو یہ کھلم کھلا دشمن بن کر تم سے جنگ کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تو جب تک یہ تم سے تعرض کرنے سے کنارہ کش رہیں، تم سے جنگ نہ کریں، تمہارے ساتھ صلح جویانہ روش رکھیں تم بھی ان کے خلاف کوئی اقدام نہ کرو۔
Ayah 4:91سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِيْنَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّاْمَنُوْكُمْ وَيَاْمَنُوْا قَوْمَھُمْ ۭكُلَّمَا رُدُّوْٓا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِيْھَا ۚ فَاِنْ لَّمْ يَعْتَزِلُوْكُمْ وَيُلْقُوْٓا اِلَيْكُمُ السَّلَمَ وَيَكُفُّوْٓااَيْدِيَھُمْ فَخُذُوْھُمْ وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ ۭ وَاُولٰۗىِٕكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِيْنًا۔
" فنتۃ : کے لفظ پر ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں مفصل بحث کرچکے ہیں، یہاں اس سے مراد کفار کے وہ جارحانہ اور ظالمانہ اقدامات ہیں جو وہ مسلمانوں کو اسلام سے پھیرنے اور بزعم خویش اسلام کو مٹانے کے لیے کر رہے تھے۔ " سلطان " کا لفظ قرآن میں دلیل، حجت کے معنی میں بھی آیا ہے اور اختیار و اقتدار کے معنی میں بھی۔ اس دوسرے معنی کے لیے بھی متعدد نظیریں موجود ہیں مثلاً " ماکان لی علیکم من سلطن : مجھے تم پر کوئی اختیار حاصل نہیں تھا " (ابراہیم :22)۔ " ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لولیہ سلطانا : جو مظلومانہ قتل کیا گیا تو ہم نے اس کے وارث کے لیے قاتل پر اختیار بخشا " (اسراء :32)۔
غیر جانبداری کے جھوٹے مدیوں کا حکم : اس آیت میں ان جھوٹے غیر جانبداروں کی طرف اشارہ ہے جو اسلام کا دعوی کر کے مسلمانوں کے خطرے سے بھی اپنے آپ کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے اور اپنی قوم کے اندر شامل رہ کر اس سے بھی مامون رہنا چاہتے تھے۔ یہ لوگ بظاہر تو غیر جانبداری کے مدعی تھے لیکن یہ غیر جانبداری محض نمائشی تھی۔ جب ان پر ان کی قوم کا دباؤ پڑجاتا یہ ان شرارتوں میں شریک ہوجاتے جو وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کرنا چاہتی۔ ان لوگوں کی بابت فرمایا کہ یہ لوگ اس رعایت کے مستحق نہیں ہیں جو مذکورہ بالا جماعت کے لیے بیان ہوئی ہے۔ بلکہ یہ بھی کھلے ہوئے دشمنوں ہی کے حک میں داخل ہیں۔ اگر یہ تمہاری مخالفت نہ چھوڑیں، تمہارے ساتھ صلح جویانہ رویہ نہ اختیار کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو تم جہاں کہیں پاؤ ان کو گرفتار اور قتل کرو، ان کو گرفتار کرنے اور ان کے قتل کرنے کا خدا نے تم کو کھلا ہوا اختیار بخشا۔