4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتدبرِ قرآن

Ayahs 4:114–115

لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:114 in the Quran reader

ان کی سرگوشیوں کا زیادہ حصہ ایسا ہے جس میں کوئی خیر نہیں۔ خیر والی سرگوشی تو صرف اس کی ہے جو صدقہ کی صلاح دے یا کسی نیکی کی راہ سمجھائے یا اصلاح ذات البین کی دعوت دے جو اللہ کی رضا جوئی میں ایسا کریں گے تو ہہم ان کو اجر عظیم عطا فرمائیں گے

وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ Open ayah 4:115 in the Quran reader

اور جو کوئی راہ ہدایت واضح ہوچکنے کے بعد رسول کی مخالفت کرے گا اور مسلمانوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے گا تو ہم اس کو اسی راہ پر ڈالیں گے جس پر وہ پڑا اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے

لَا خَيْرَ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىھُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۢ بَيْنَ النَّاسِ ۭ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا۔ وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۔ نجوی کا مفہوم اور اس میں خیر و شر کا پہلو : نجوی کے معنی سرگوشی اور رازداری کے انداز میں کسی سے بات کرنے کے ہیں۔ اس میں بجائے خود کوئی برائی نہیں ہے اس لیے کہ ایسے مواقع بہت سے ہوسکتے ہیں جہاں رازداری اور سرگوشی کا طریقہ ہی قرین مصلحت ہو۔ ہر جگہ اور ہر موقع پر اذان دینا ہی ضروری نہیں ہے۔ اس میں برائی یا بھلائی بات کی نوعیت سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر بات نیکی اور تقوی کی ہے تو وہ نجوائے خیر ہے اور اگر بات شرارت اور فتنے کی ہے تو وہ نجوائے شیطانی ہے۔ قرآن نے اس حقیقت کی وضاحت سورة مجادلہ میں فرماد دی ہے۔ یا ایہا الذین امنوا اذا تنا جیتم فلا تتناجوا بالاثم والعدوان وتناجوا بالبر والتقوی (اے ایمان والو، جب تم آپس میں رازداری کے ساتھ بات کرو تو گناہ اور تعدی کی مشورت نہ کرو بلکہ نیکی اور تقوی کی بات کرو)۔ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ میں ایک مضاف محذوف ہے جس طرح ولکن البر من امن باللہ، میں ہے، جس کا ذکر بقرہ میں گزر چکا ہے۔ یعنی ان کا نجوی تو بیشتر شیطانی ہوتا ہے البتہ ان کے نجوی میں خیر ہے جو صدقہ، نیکی اور اصلاح کے لیے نجوی کریں۔ " مشاقہ " اور " الہدی " کے الفاظ پر سورة بقرہ میں بحث گزر چکی ہے۔ رسول کے ساتھ " مشاقہ " کے معنی میں رسول کے مقابل میں اپنی ایک پارٹی کھڑی کرنے کی کوشش کرنا اور " الہدی " کے معنی " ھدی اللہ " یعنی اللہ کی ہدایت کے ہیں جس طرح " الکتب " کے معنی کتاب اللہ کے۔ " سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ " میں مومنین سے مراد صحابہ رسول ہیں۔ انہوں نے زندگی کا جو طریقہ اختیار کیا وہ سرتاسر ہدایت الٰہی پر مبنی تھا اس وجہ سے اس کی اتباع ہی اللہ اور رسول کی اتباع ہے۔ اس سے ہٹ کر کوئی راہ نکالنا گمراہی ہے۔ " نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى " میں وہی اسلوب ملحوظ ہے، فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبہم، میں ہے یعنی جو لوگ اہل ایمان کے راستہ سے ہٹ کر کوئی راہ نکالنے کی کوشش کریں گے خدا ان کو اسی راہ پر موڑڑ دے گا جس پر وہ جانا چاہتے ہیں۔ حق کے ترک و اختیار کے معاملے میں خدا کے ہاں جبر نہیں ہے۔ جو خدا کی راہ پر چلنا چاہتا ہے اللہ اس کو اس کی توفیق ارازانی فرماتا ہے، جو اس سے الگ ہو کر اپنی پسند کردہ کوئی راہ اختیار کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کے لیے بھی اس کو ڈھیل دے دیتا ہے۔ منافقین کی سرگوشیوں کی نوعیت : اوپر آیت 108 میں اذ یبیتون مالا یرضی من القول، کے الفاظ سے منافقین کی جن سرگوشیوں اور سازشوں کی طرف اشارہ فرمایا تھا اب یہ اس کی وضاحت ہو رہی ہے کہ ان کی سرگوشیوں کا اکثر حصہ خیر سے بالکل خالی محض فتنہ و فساد کی باتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ بابرکت سرگوشی تو وہ ہوسکتی ہے جو صدقے کی ترغیب، نیکی کی تشویق اور اصلاح ذات البین کے مقصد سے ہو اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے درپردہ ان اعلی مقاصد کے لیے کام کریں اللہ ان کو بڑا اجر دے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ جو لوگ یہ اچھی طرح سمجھ چکنے کے بعد کہ رسول جس طریق ہدایت کے داعی ہیں یہ اللہ کی اتاری ہوئی ہدایت ہے، رسول کی مخالفت کر رہے ہیں اور اہل ایمان کے اختیار کیے ہوئے طریقے کو چھوڑ کر کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہتے ہیں اللہ ان کو ان کی اختیار کی ہوئی راہ پر جانے کے لیے چھوڑ دے گا اور یہ اس راہ سے سیدھے جہنم میں پہنچ جائیں گے جو نہایت برا ٹھکانا ہے۔ ان دونوں آیتوں پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ قرآن نے نہایت بلیغ اسلوب سے ان منافقین کے نجویٰ کی نوعیت بھی واضح کردی ہے اور اس کا مقصد بھی بےنقاب کردیا ہے۔ جب یہ فرمایا کہ ان کے نجویٰ میں کوئی خیر نہیں، نجوائے خیر تو ان کا نجوی ہے جو صدقہ پر ابھاریں، معروف پر چلنے کی ترغیب دیں اور اصلاح ذات البین کی کوشش کریں تو اس سے یہ بات آپ سے آپ نکل آئی کہ یہ لوگ جو سرگوشیاں کرتے ہیں اس میں یہ لوگوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے روکتے ہیں، معروف کے بجائے منکر کی ترغیب دیتے ہیں اور اصلاح ذات البین کے بجائے مسلمانوں میں نفاق ڈلوانے کی سازش کرتے ہیں۔ اسی طرح جب یہ فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی ہدایت اچھی طرح واضح ہوچکنے کے بعد رسول کی اور اللہ کی ہدایت کی مخالفت کر رہے ہیں اور مسلمانوں کے راستہ سے الگ اپنی ایک پگڈنڈی نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں اللہ کو ان کی پسند کردہ راہ پر جانے کے لیے چھوڑ دے گا جو ان کو سیدھے جہنم میں لے جا کے گرائے گی تو گویا یہ واضح کردیا کہ ان لوگوں کی ان تمام سازشوں اور سرگوشیوں کا مدعا درحقیقت یہ ہے کہ یہ رسول کے بالمقابل اپنی ایک الگ پارٹی بنانا، ہدی اللہ کے بالمقابل اپنی ایک علیحدہ ڈگر نکالنا اور طریقہ مومنین کے بالمقابل طریقہ جاہلیت کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ میں جب یہ آیتیں پڑھتا ہوں تو میرا ذہن بار بار اس طرف جاتا ہے کہ یہ ان لوگوں کو جواب دیا گیا ہے جو ان منافقین کی حمایت میں رسول اللہ ﷺ اور مومنین مخلصین سے بحثیں اور مناظرے کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان منافقین کی ان خفیہ مجلسوں اور درپردہ سازشوں کی اطلاعات میں جب حضور کو اور صحابہ کو پہنچتی رہی ہوں گی تو ان پر کسی نہ کسی نوعیت سے گرفت بھی ہوتی رہی ہوگی۔ اس وقت ان کے یہ حمایتی، جن کا اوپر ذکر ہوا، ان کی صفائی میں کہتے رہے ہوں گے کہ یہ لوگ تو بڑے مخلص ہیں، یہ تو ملت کے بڑے ہوا خواہ ہیں، ان کی مجلسوں میں جو باتیں ہوتی ہیں وہ اسلام اور مسلمانوں کی بہبود اور خیرخواہی کی ہوتی ہیں۔ اور اگر اس ذیل میں کوئی ایسی بات گرفت میں آتی رہی ہوگی جس کا جواب نہ بن آتا ہوگا تو اس کا الزام، جیسا کہ اوپر اشارہ گزرا، کسی ایسے بھلے مانس پر ٹھونک دیتے رہے ہوں گے جس کے حاشیہ خیال میں بھی وہ بات کبھی نہیں آئی ہوگی۔ ان لوگوں کی اس وکالت کے جواب میں قرآن نے نہایت بلیغ طریقے سے ان اندرونِ خانہ سرگوشیوں سے پردہ اٹھایا اور یہ دیکھیے کتنی خوبصورتی سے پردہ اٹھایا ہے کہ ساری بات بھی سامنے آگئی اور مخاطب کے لیے کسی بحث و تردید کی گنجائش بھی باقی نہیں رہی۔
Ayah 4:116

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:116 in the Quran reader

بیشک اللہ اس چیز کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے، اس کے نیچے جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے گا وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا

آگے کا مضمون۔ آیات 116۔ 126:۔ آگے پہلے وجہ بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ یہ منافقین جو اللہ کی ہدایت واضح ہوچکنے کے بعد رسول کی مخالفت مومنین کی راہ سے الگ اپنی راہ نکالنا چاہتے ہیں جہنم میں پڑیں گے تو کیوں پڑیں گے ؟ اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ کی ہدایت کے خلاف کوئی راہ اختیار کرنا، خدا کے رسول کے خلاف اپنی پارٹی کھڑی کرنا اور مومنین کے راستے سے الگ راہ نکالنا اپنی حقیقت کے لحاظ سے شرک ہے اور اللہ تعالیٰ کا شرک کے متعلق یہ فیصلہ ہے کہ وہ اس کو معاف فرمانے والا نہیں۔ شرک کی حقیقت : اس کے بعد شرک کے ذکر کے تعلق سے شرک کی حقیقت واضح فرمائی کہ جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ درحقیقت شیطان کے پیرو ہیں۔ اس نے ان کے لیے آرزوؤں کے جو پرفریب دام بچھائے ہیں اس میں وہ پھنس گئے ہیں اور جو کچھ وہ انہیں سجھاتا ہے بالکل اندھے بہرے ہو کر اس کی تعمیل کر رہے ہیں حالانکہ اس کے تمام وعدے بالکل فریب ہیں۔ ان لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے جس میں داخل ہونے کے بعد اس سے ان کو نکلنا نصیب نہ ہوگا۔ فوز و فلاح آخرت صرف اہل توحید کے لیے : پھر اہل توحید کی فوزوفلاح کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ بیشک خدا کی ابدی بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کے لیے اللہ کے جو وعدے ہیں وہ شیطان کے وعدوں کی طرح محض فریب نہیں ہیں بلکہ سرتاسر حقیقت ہیں اور خدا کی بات سے زیادہ سچی بات کسی کی ہوسکتی ہے ؟ خدا کے ہاں کام آنے والی چیز ایمان اور عمل صالح ہے۔ خدا کی بہشت میں وہی داخل ہوں گے جن کے پاس یہ متاع ہوگی جو اس سے محروم ہوں گے وہ اپنی برائیوں کی سزا بھگتیں گے خواہ کوئی ہوں۔ ملت ابراہیم سے بڑھ کر کوئی ملت توحید کی حامل نہیں : آخر میں فرمایا کہ اصل دین ان لوگوں ہے جو اسلام کے پیرو ہیں۔ یہی ملت ابراہیم ہے۔ ابراہیم خدائے واحد کے پرستار تھے اور ان کی اسی توحید ہی کی وجہ سے خدا نے ان کو دوست بنایا تھا۔ اس کائنات کی ہر چیز خدا ہی کی ہے اور خدا ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اب اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا۔ " دون " کا لفظ اپنے استعمالات کے لحاظ سے ورے اور پرے، نیچے اور اوپر، آگے اور پیچھے دونوں معنوں میں آتا ہے۔ قرینہ معین کرتا ہے کہ کہاں کیا مراد ہے۔ یہاں ظاہر ہے کہ ورے یا نیچے کے معنی میں ہے۔ جس طرح تمام خیر کا منبع توحید ہے یعنی خدا کی ذات، صفات اور اس کے حقوق میں کسی کو ساجھی نہ ٹھہرانا اسی طرح تمام شر کا منبع شرک ہے یعنی خدا کی ذات، صفات اور اس کے حقوق میں کسی کو شریک ٹھہرانا۔ توحید پر قائم رہتے ہوئے انسان اگر کوئی ٹھوکر کھاتا ہے تو وہ غلبہ نفس و جذبات سے اتفاقی ہوتی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی غلطی ہی کو اوڑھنا بچھونا بنالے۔ اس وجہ سے وہ گرنے کے بعد لازماً اٹھتا ہے۔ برعکس اس کے شرک کے ساتھ اگر کسی سے کوئی نیکی ہوتی ہے تو وہ اتفاقی ہوتی ہے جس کا اصل منبع خیر یعنی خدا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اس وجہ سے وہ بےبنیاد ہوتی ہے۔ مشرک خدا سے کٹ جانے کی وجہ سے لازماً اپنی باگ نفس اور شیطان کے ہاتھ میں دے دیتا ہے اس وجہ سے وہ درجہ بدرجہ صراط مستقیم سے اتنا دور ہوجاتا ہے کہ اس کے لیے خدا کی طرف لوٹنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہ جاتا تاآنکہ وہ شرک سے توبہ کرے۔ اس وجہ سے خدا کے ہاں شرک کی معافی نہیں ہے۔ البتہ توحید کے ساتھ اگر کسی سے گناہ ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے گا معاف فرما دے گا۔ خدا کی ہدایت کے برخلاف کسی طرقے کی پیروی کرنا شرک ہے : اوپر ہم نے اشارہ کیا ہے کہ یہاں یہ شرک کا ذکر ان منافقین کے تعلق سے ہوا ہے جو رسول کی ہدایت الٰہی کی اور طریقہ اہل ایمان کی مخالفت کر رہے تھے۔ خدا کی شریعت اور اس کے قانون کے ہوتے ہوئے کسی اور کے قانون و شریعت کی پیروی کی جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ جو حق خدا کا ہے اس میں دوسرے کو شریک کردیا گیا ہے۔ رسول، اللہ کی شریعت لاتا ہے، ہدی اللہ، اللہ کی شریعت ہے اور اہل ایمان کا طریقہ اسی شریعت پر قائم ہے۔ اب جو لوگ اس سے الگ کوئی راہ نکالنے کے درپے ہیں وہ راہ اللہ کی نہیں بلکہ شیطان کی ہے اور اس پر چلنے والے شیطان اور طاغوت کے پیرو ہیں اور یہ چیز اسی طرح شرک ہے جس طرح تحاکم الی الطاغوت شرک ہے جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ میں لمن یشاء کی قید بھی قابل غور ہے۔ ایمان کے ساتھ جو گناہ صادر ہوجاتے ہیں ان کی معافی کے ذکر کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے لمن یشاء (جس کے لیے چاہے گا) کی قید بھی لگائی ہے جو نہایت اہمیت رکھنے والی قید ہے۔ ہم اس کتاب میں بار بار ذکر کرچکے ہیں کہ قرآن سے یہ بات بالکل غیر مشتبہ طور پر ثابت ہے کہ خدا کی کوئی مشیت بھی اس کی حکمت سے الگ نہیں ہے اس وجہ سے یہ معافی انہی کو حاصل ہوگی جو اس کے عدل و حکمت کے تحت اس کے سزوار ٹھہریں گے۔ اس قید کے اس معاملے میں بےجا جسارت کے تمام دروازے بند کردیے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مشیت کے لیے جو قاعدے ضابطے رکھے ہیں وہ اس نے خود قرآن میں بیان فرمادیے ہیں۔
Ayahs 4:117–121

اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ Open ayah 4:117 in the Quran reader

یہ اس کے سو اپکارتے بھی ہیں تو دیویوں کو اور پکارتے بھی ہیں تو شیطان سرکش کو

لَّعَنَهُ اللّٰهُ١ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاۙ Open ayah 4:118 in the Quran reader

اس پر اللہ کی پھٹکار ہے ! اور اس نے کہہ رکھا ہے کہ میں تیرے بندوں میں سے ایک معین حصہ ہتھیا کے رہوں گا

وَّ لَاُضِلَّنَّهُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّهُمْ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 4:119 in the Quran reader

ان کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا، ان کو آرزوؤں کے جال میں پھنساؤں گا، ان کو سمجھاؤں گا و وہ چوپایوں کے کان کاٹیں گے اور ان کو سمجھاؤں گا تو وہ خدا کی بنائی ہوئی ساخت کو بگاڑیں گے اور جو اللہ کے سوا شیطان کو اپنا کارساز بنائے تو وہ کھلی ہوئی نامرادی میں پڑا

یَعِدُهُمْ وَ یُمَنِّیْهِمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 4:120 in the Quran reader

وہ ان کو وعدوں کے بہلاوے دیتا ہے، آرزوؤں میں پھنساتا ہے اور شیطان کے وعدے سرتاسر فریب ہیں

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١٘ وَ لَا یَجِدُوْنَ عَنْهَا مَحِیْصًا Open ayah 4:121 in the Quran reader

ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ اس سے گریز کی کوئی راہ نہیں پائیں گے

117۔ 121:۔ اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا۔ لَّعَنَهُ اللّٰهُ ۘوَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا۔ وَّلَاُضِلَّنَّھُمْ وَلَاُمَنِّيَنَّھُمْ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ ۭ وَمَنْ يَّتَّخِذِ الشَّيْطٰنَ وَلِيًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِيْنًا۔ يَعِدُھُمْ وَيُمَنِّيْهِمْ ۭ وَمَا يَعِدُھُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا۔ اُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۡ وَلَا يَجِدُوْنَ عَنْھَا مَحِيْصًا۔ " ان یدعون " یہاں پکارنے سے مراد وہ پکارنا ہے جو دعا، فریاد، استغاثہ، استعانت، استرحام وغیرہ کے قصد سے اس معنی میں ہو جس معنی میں معبود کو پکارا جاتا ہے۔ " اناث " سے مراد مزعومہ دیویاں ہیں : اناث، انثی کی جمع ہے۔ انثی، لغوی مفہوم میں تو نرم و ناز اور ڈھیلی ڈھالی چیز کے لیے استعمال ہوا ہے لیکن معروف استعامل اس کا عورت کے لیے ہے۔ یہاں چونکہ مشرکین کے دیویوں دیوتاؤں کے ذکر کے سیاق میں ہے اس وجہ سے اس سے مراد دیویاں ہیں۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مشرکین کی دیومالا میں، ٰخواہ وہ کسی قوم و ملک کے مشرکین ہوں، دیویوں کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ چین، ہندوستان، عرب، مصر اور بابل و نینوا وغیرہ کے مشرکانہ مذاہب کی جو تاریخ موجود ہے اس پر ایک سرسری نظر ڈال کر اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ یہ بات بھی خاص طور پر ملحوظ رکھنے کی ہے کہ زندگی کی جو اصل ضرورتین ہیں وہ بیشرت انہیں دیویوں سے متعلق سمجھی جاتی رہی ہیں۔ عرب جاہلیت میں بھی خدائی کے نظام پر بیشتر دیویوں ہی کا قبضہ تھا۔ لات، منات، عزی وغیرہ دیویں ہی کے نام ہیں۔ یہ، جیسا کہ سورة نجم کی تفسیر میں واضح ہوگا، فرشتوں کے بت تھے جن کے متعلق مشرکین کا عقیدہ تھا کہ یہ خدا کی لاڈلی چہیتی بیٹیاں ہیں جن کے بات خدا کبھی نہیں ٹالتا۔ اس وجہ سے ان کے واسطہ سے جو کچھ مانگا جائے اگر یہ راضی ہوں تو وہ مل کے رہتا ہے۔ قرآن میں ان کے اس عقیدہ کا جگہ جگہ حوالہ مثلاً وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عباد الرحمن اناثا : اور انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمان کے بندے ہیں دیویاں بنا ڈالا ہے)۔ پیچھے جبت و طاغوت کی بحث کی ضمن میں ہم یہ بات بھی واضح کرچکے ہیں کہ اہل کتاب نے بھی، جب مشرک قوموں سے ان کو سابقہ پیش آیا، ان کے بہت سے مشرکانہ طریقے اختیار کرلیے اور انہی کی طرح بہت سے دیوی دیوتا اپنے لیے بنا لیے جس کا ماتم ان کے انبیاء نے کیا ہے اور یہ ماتم خود ان کے صحیفوں میں موجود ہے۔ نصاری حضرت مریم کی نسبت جو عقیدہ رکھتے ہیں وہ بھی معلوم ہے۔ شرک کا امام شیطان ہے : " وان یدعون الا شیطانا مریدا " شیطان کے پکارنے کا ذکر اصل مرشد شرک کی حیثیت سے ہے اس لیے کہ وہی ہے جس نے آدم کو سجدہ کرنے کے معاملے میں خدا کے حکم کی رو در رو نافرمانی کی اور جب خدا نے اس کے اس تمردو سرکشی پر اس کو لعنت کی تو اس نے دھمکی دی کہ میں تیرے بندوں کو مختلف طریقوں سے توحید سے ہٹآ کر شرک میں مبتلا کروں گا۔ اس وجہ سے شرک جہاں کہیں بھی اور جس شکل میں بھی پایا جاتا ہے اس کا امام درحقیقت شیطان ہی ہے اور اس اعتبار سے ہر وہ دعا اور التجا اور ہر وہ عبادت و اطاعت جو کسی غیر اللہ سے یا کسی غیر اللہ کے لیے کی جا رہی ہے وہ بالواسطہ شرک کے اس امام ہی سے اور اسی کے لیے ہوتی ہے۔ " لعنہ اللہ " جملہ معترضۃ کے مفہوم میں : لعنہ اللہ صفت بھی ہوسکتا ہے اس لیے کہ جس وقت شیطان نے اللہ کے بندوں کو شرک میں مبتلا کرنے کی دھمکی دی تھی اسی وقت اللہ تعالیٰ نے، جیسا کہ قرآن میں مذکور ہے، اس پر لعنت بھی کردی تھی اس وجہ سے وہ اس صفت کا دائمی موصوف ہے لیکن میں نے اس کو جملہ معترضہ کے مفہوم میں لیا ہے اور اسی اعتبار سے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ اس میں بلاغت کا یہ پہلو ہے کہ گویا جوں ہی اس امام شرک کا نام آیا اللہ تعالیٰ نے عین اس کے عابدوں کے منہ پر اس پر لعنت کردی۔ یہ اظہارِ نفرت کا سب سے زیادہ موثر طریقہ ہے۔ شیطان کی دھمکی بنی آدم کو : وَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا۔ میں شیطان کی اس دھمکی کا حوالہ ہے جو اس نے اس وقت دی تھی جب اس نے آدم کو سجدہ کرنے کے معاملے میں کھلم کھلا خدا کے حکم کی نافرمانی کی اور خدا نے اس کر اندہ درگاہ قرار دیا۔ اس دھمکی کا ذکر قرآن نے متعدد مقامات میں کیا ہے۔ مثلاً " قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَنْ تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ (13) قَالَ أَنْظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ (14) قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ (15) قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لأقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ (16) ثُمَّ لآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ وَلا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ (17) قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًا مَدْحُورًا لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ أَجْمَعِينَ (18): خدا نے پوچھا کہ جب میں نے تجھے سجدے کا حکم دی اتو جھے سجدے سے کس چیز نے روکا ؟ شیطان نے جواب دیا کہ میں آدم سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے بنایا ہے۔ خدا نے فرمایا تو یہاں سے اتر، تجھے یہ حق نہیں ہے کہ تو اس میں اپنی بڑائی کا گھمنڈ کرے پس تو یہاں سے نکل، تو خوار ہونے والوں میں سے ہے۔ اس نے کہا مجھے لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک مہلت دے دے، خدا نے فرمایا تجھے مہلت دی گئی۔ شیطان نے کہا چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے اس وجہ سے میں ان کی گھات میں تیسری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا پھر میں ان کے آگے سے، ان کے پیچھے سے، ان کے دہنے سے، ان کے بائیں سے ان پر گھیرے ڈالوں گا اور تو ان میں سے اکثر کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا۔ خدا نے فرمایا تو ذلیل و خوار ہو کر یہاں سے دور ہو۔ ان میں جو تیری پیروی کریں گے تو میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا " (الاعراف) شیطان کے اس مناظرے سے اس کے جوش و سرگرمی کا بھی پورا پورا اظہار ہورہا ہے جو وہ بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اپنے اندر رکھتا ہے اور یہ بات بھی ظاہر ہو رہی ہے کہ اس کی تمام مساعی ضلالت کا خاص ہدف توحید کا عقیدہ ہے۔ چناچہ اس نے یہ جو کہا کہ میں تیری سیدھی راہ پر ان کی گھات میں بیٹھوں گا تو یہ سیدھی راہ وہی توحید کی راہ ہے جس کو قرآن نے صراط مستقیم سے تعبیر کیا ہے۔ اور یہ جو اس نے کہا کہ تو ان میں سے اکثر کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا۔ تو یہ بھی اس بات کی تعبیر ہے کہ ان کو شرک میں مبتلا کردوں گا اور یہ تیری حمد کے بجائے دوسروں کی حمد کے ترانے گائیں گے۔ امانی باطلہ : وَلَاُمَنِّيَنَّھُمْ (میں ان کو جھوٹی آرزوؤں میں پھنساؤں گا) میں اس طرح کی جھوٹی آرزوؤں کی طرف اشارہ ہے جن میں بالعموم مشرک قومیں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ مثلاً عربوں کا یہ عقیدہ کہ ہو جن دیویوں اور دیوتاؤں کو پوجتے ہیں وہ خدا سے ان کے لیے سفارش کرتے ہیں۔ انہی کی سفارش سے ان کو دنیا کی نعمتیں بھی ملتی ہیں اور اگر آخرت کوئی چیز ہے تو انہی کی سفارش سے آخرت میں بھی وہ جنت کے حقدار ٹھہریں گے۔ اسی طرح یہود اس وہم میں مبتلا ہوگئے تھے کہ وہ ابراہیم خلیل اللہ اور خدا کے برگزیدہ بندوں کی اولاد ہیں اس وجہ سے وہ خدا کے بیٹوں اور محبوبوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور جنت کے پشتینی حق دار ہیں، ان کے اعمال کچھ ہوں دوزخ کی آگ اول تو ان کو چھوئے گی ہی نہیں اور اگر چھوئے گی تو محض عارضی طور پر۔ ان کی ان باطل آرزوؤں پر ہم بقہ کی آیت 80 اور 111 کے تحت بحث کرچکے ہیں۔ علی ہذا القیاس نصاری کا یہ عقیدہ کہ خدا نے اپنے بیٹے کو ان کے تمام گناہوں کا کفارہ بنا دیا ہے، اب وہ عمل و اطاعت کی تمام ذمہ داریوں سے سبکدوش ہیں۔ مشرکانہ نذریں : فلیبتکن اذان الانعام : بتک کے معنی کاٹنے، چیرنے اور پھارنے کے ہیں۔ مشرک قوموں میں یہ مشترک روایت رہی ہے کہ وہ خاص خاص جانوروں کو ان کے کان چیر کر اپنے فرضی معبودوں کے نام پر بطور نذر چھوڑ دیتی رہی ہیں۔ یہ کان چیرنا اس مقصد کے لیے ہوتا تھا کہ دوسرے ان کو نذر سمجھ کر ان سے تعرض نہ کریں۔ تغییر خلق اللہ کا مفہوم : فلیغیرن خلق اللہ (پس وہ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو بدلیں گے) اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو بدلنے سے اصلاً مراد اس فطرت اللہ کو بدلنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام خلائق کو پیدا کیا ہے۔ مثلاً توحید دین فطرت ہے لیکن شیطان اور اس کے ایجنٹوں نے اس کو شرک سے مسخ کیا۔ سورة روم میں شرک کی تردید کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے " فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ (30) مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَلا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (31): پس تم یکسو ہو کر اپنا رخ دین حنیفی کی طرف کرو۔ یہی اللہ کی بنائی ہوئی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو بدلنا جائز نہیں۔ یہی سیدھا فطری دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اسی کی طرف توجہ کرتے ہوئے اور اسی سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں نہ بنو "۔ اس آیت میں توحید کو دین فطرت اور دین قیم سے تعبیر فرمایا ہے اور اس کی دلیل یہ دی ہے کہ اسی پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت اور ساخت کو بدلنا جائز نہیں۔ ہمارے نزدیک زیر بحث ٹکڑے میں بھی یہی مراد ہے۔ ضمناً اس کے تحت وہ ساری چیزیں آجائیں گی جو فطرت اللہ کی تبدیلی کے حکم میں ہیں۔ مثلاً عورتوں کا مرد بننا یا مردوں کا عورت بننا یا عورتوں اور مردوں کو ناقابل اولاد بنانا اور اس قبیل کی دوسری خرافات۔ لفظ امر کے مختلف مفہوم : " ولاٰمرنہم " میں شیطان کے جس امر کا ذکر ہے اس کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عربی میں امر کا لفظ حکم دینے، مشورہ دینے اور سجھانے، سب معنوں میں آتا ہے۔ شیطان ان تمام طریقوں سے توحید کی راہ مارتا ہے۔ وہ اپنے القائے شیطانی سے دلوں میں وسوسہ بھی ڈالتا ہے اور جنوں اور انسانوں میں سے جو لوگ اس کے ایجنٹ بن جاتے ہیں ان کے واسطے سے مشورے بھی دیتا ہے اور اگر اس کے ایجنٹ زور آور اور بااقتدار ہوتے ہیں تو ان کے ہاتھوں قانون بھی بنواتا ہے اور اس قانون کو نافذ بھی کرواتا ہے۔ اجزا کی تشریح کے بعد اب ان آیات کے نظام اور ان کے مفہوم پر بحیثیت مجموعی بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ اوپر کی آیت میں شرک کے ناقابل مغفرت جرم ہونے کا ذکر ہوا تو لگے ہاتھوں شرک کے بودے پن اور اس کے حسب و نسب کا بھی ذکر فرمادیا تاکہ اس کا مکروہ چہرہ اچھی طرح بےنقاب ہوجائے۔ شرک کا بودا پن اور اس کا حسب و نسب : بودے پن کا ذکر دو پہلوؤں سے فرمایا۔ ایک تو یہ کہ شرک کا یہ سارا کارخانہ دیویوں کے بل بوتے پر قائم ہے، اول تو یہی پرلے سرے کی حماقت ہے کہ خدائے واحد کے سوا کسی اور کا سہارا انسان ڈھونڈے، پھر حماقت در حماقت یہ کہ سہارا بھی فرضی عورتوں کا جن کی بےبسی اور ناتوانی خود ضرب المثل ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کی تمام تر بنیاد شیطان کی پیدا کی ہوئی جھوٹی آرزوؤں اور اس کے پرفریب وعدوں پر ہے اور شیطان کے سارے وعدے بالکل بےحقیقت ہیں۔ جب حقیقت کھلے گی تو نظر آئے گا کہ نہ ابراہیم کا حسب و نسب کچھ نافع ہے اور نہ لات و منات اور ان کی شفاعت کا کوئی وجود ہے بلکہ سارا معاملہ ایمان و عمل صالح پر منحصر ہے۔ جن کے پاس یہ متاع نہیں ہے ان کے لیے صرف جہنم ہے جس سے فرار کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اس کے حسب و نسب کا بیان اس طرح فرمایا کہ اس کا موجود اور امام ابلیس لعین ہے جس نے جوشِ حسد میں پہلے ہی روز یہ دھمکی دی تھی کہ میں تیرے بندوں میں سے اپنا حصہ بٹا کر رہوں گا، میں ان کو گمراہ کروں گا، ان کو طرح طرح کی جھوٹی آرزوؤں میں مبتلا کروں گا، وہ میرے حکم سے بتوں کو نذرانے پیش کریں گے اور میرے القا سے فطرت اللہ کو مسخ کریں گے۔ فرمایا کہ جو لوگ اس شیطان لعین و متمرد کو اپنا مرجع اور کارساز بنائیں ان سے زیادہ بدبخت اور نامراد کون ہوسکتا ہے۔ فرمایا کہ شیطان ان کو وعدوں کے سبز باغ دکھا رہا ہے اور آرزوؤں کے جال ان کے آگے بچھا رہا ہے حالانکہ شیطان کے سارے وعدے محض فریب ہیں۔ نہ شفاعت ان کے کام آنی ہے نہ بزرگوں سے نسبت۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے جس سے کوئی مفر نہ ہوگا۔
Ayahs 4:122–124

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِیْلًا Open ayah 4:122 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کیے ہم ان کو ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اللہ کا وعدہ حق ہے اور اللہ سے زیادہ وعدے کا سچا کون ہوسکتا ہے

لَیْسَ بِاَمَانِیِّكُمْ وَ لَاۤ اَمَانِیِّ اَهْلِ الْكِتٰبِ١ؕ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖ١ۙ وَ لَا یَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:123 in the Quran reader

آرزؤئیں نہ تمہاری پوری ہونی ہیں نہ اہل کتاب کی۔ جو کوئی برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا اور وہ اپنے لیے اللہ کے مقابل کوئی کارساز اور مددگار نہ پا سکے گا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا Open ayah 4:124 in the Quran reader

اور جو نیکی کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہے تو یہی لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہ ہوگی

122۔ 124:۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَآ اَبَدًا ۭ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا ۭ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيْلًا۔ لَيْسَ بِاَمَانِيِّكُمْ وَلَآ اَمَانِيِّ اَھْلِ الْكِتٰبِ ۭ مَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا يُّجْزَ بِهٖ ۙ وَلَا يَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ نَقِيْرًا۔ نجات کی راہ ایمان و عمل صالح ہے نہ کہ جھوٹی آرزوئیں : یعنی شیطان کے وعدے اور اس کی پیدا کی ہوئی آرزوئیں تو محض جھوٹ اور فریب ہیں۔ البتہ اللہ کا وعدہ یہ ہے کہ جو ایمان اور عمل صالح کی راہ اختیار کریں گے ان کو وہ جنت میں داخل کرے گا اور یہ وعدہ بالکل حق ہے اس لیے کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کے وعدے سے زیادہ سچا وعدہ کس کا ہوسکتا ہے۔ پھر فرمایا کہ نجات سے متعلق یہ جھوٹی آرزوئیں خواہ تمہاری ہوں (اشارہ منافقین کی طرف ہے) یا اہل کتاب کی، ان میں سے کوئی بھی پوری ہونے والی نہیں ہے۔ جو بھی برائی کرے گا وہ اپنے کیے کی سزا بھگتے گا اور خدا کے سوا کوئی اس کا کارساز و مددگار نہ بن سکے گا۔ اسی طرح جو عمل صالح کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، اگر وہ مومن ہے تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ذرا بھی ان کے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ منافقین اور اہل کتاب دونوں کی آرزوؤں کا ایک ساتھ ذکر کرکے قرآن نے یہ واضح کردیا کہ شرک، شفاعت اور خاندانی برگزیدگی کے بل پر جنت کے خواب دیکھنے والے سب ایک ہی جنت الحمقا کے بسنے والے اور ایک ہی دام فریب کے گرفتار ہیں اور ان سب کی نامرادی ایک ہی طرح کی ہے۔ آخرت کی بازی ان لوگوں کی ہے جو ایمان اور عمل صالح کی راہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جس کے پاس یہ دولت ہوگی، وہ فائز المرام ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اسرائیلی ہے یا اسمعیلی، عربی ہے یا عجمی۔ اس طرح کسی نسبت کی وجہ سے اس کے ساتھ کوئی کمی نہیں ہوگی۔
Ayahs 4:125–126

وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ اتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِیْمَ خَلِیْلًا Open ayah 4:125 in the Quran reader

اور باعتبارِ دین اس سے بڑھ کر کون ہوسکتا ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے حوالہ کردے درآنحالیکہ خوب کار بھی ہو اور ابراہیم کی ملت کی پیروی کرے جو بالکل یکسو تھا اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا اور اللہ ہی کا ہے

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطًا۠ Open ayah 4:126 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے

125۔ 126:۔ وَمَنْ اَحْسَنُ دِيْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَھُوَ مُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۭوَاتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِيْمَ خَلِيْلًا۔ وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيْطًا۔ ملت ابراہیم : اب یہ اس ھدی اللہ اور سبیل المومنین کی سند اور اس کا درجہ و مرتبہ واضح فرمایا جس کی مخالفت کو شرک قرار دیا ہے اور جس سے یہ اوپر والی بحث پیدا ہوئی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی مخالفت اور اس سے انحراف کے کیا معنی ؟ آخر اس کے دین سے بڑھ کر کس کا دین ہوسکتا ہے جو اپنے آپ کو یک قلم اللہ کے سپرد کردے اور ساتھ ساتھ وہ محسن بھی ہو یعنی اپنے رب کے ہر حکم کی تعمیل اس طرح کرے جس طرح اس کے کرنے کا حق ہے۔ یہی ملت ابراہیم ہے۔ جس نے یہ راہ اختیار کی اس نے ملت ابراہیم کی پیروی کی اور ابراہیم کی ذات تو وہ ہے جن کو خدا نے اپنا دوست بنایا تو ان کی ملت سے بڑھ کر کس کی ملت ہوسکتی ہے۔ آخر میں اسلم وجہہ للہ، کی علت واضح فرما دی کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ واحد ہی کا ہے اور وہ ہر چیز کا احاطہ بھی کیے ہوئے ہے تو اس کے سوا حق دار بھی کون ہے کہ اپنے آپ کو اس کے حوالہ کردیا جائے۔ حضرت ابراہیم کے خلیل اللہ ہونے کی وجہ : یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ حضرت ابراہیم کے خلیل اللہ ہونے کا ذکر تورات میں بھی بار بار ہوا ہے اور یہ چیز منجملہ ان چیزوں کے ہے جن کے سبب سے بنی اسرائیل اس آرزوئے باطل میں مبتلا ہوئے کہ چونکہ وہ اللہ کے دوست کے خاندان سے ہیں اس وجہ سے ان کی حیثیت ابناء اللہ اور احباء اللہ کی ہے اور جب ان کی حیثیت یہ ہے تو دوزخ کی آگ کیا مجال ہے وہ ان کو چھوئے۔ اس وہم کی تردید کے لیے یہاں یہ بھی واضح فرمایا کہ ابراہیم کو اللہ نے اپنا جو دوست بنایا تو اس وجہ سے بنایا کہ انہوں نے ہر طرف سے کٹ کر اور بالکل یکسو ہو کر اپنے آپ کو بالکلیہ اپنے رب کے حوالے کردیا۔ ان کی ملت اسلام اور توحید کی ملت اور وہ اس ملت توحید کے امام ہیں۔ اس وجہ سے دین حق ان کا دین ہے جو اس مام توحید کی ملت کے پیرو ہیں نہ کہ ان کا جو امام شرک ابلیس کے پیرو ہیں۔
Ayah 4:127

وَ یَسْتَفْتُوْنَكَ فِی النِّسَآءِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِیْهِنَّ١ۙ وَ مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ فِیْ یَتٰمَى النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ١ۙ وَ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰى بِالْقِسْطِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِیْمًا Open ayah 4:127 in the Quran reader

اور لوگ تم سے عورتوں کے باب میں فتوی پوچھتے ہیں، کہہ دو کہ اللہ ان کے باب میں بھی اور اس حکم کے باب میں بھی جو تمہیں کتاب میں ان عورتوں کے یتیموں کے بارے میں دیا جارہا ہے جن کو تم وہ نہیں دیتے جو ان کے لیے لکھا گیا ہے لیکن ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو اور بےسہارا بچوں کے باب میں یہ فتوی دیتا ہے کہ ان کے مہر دو اور یتیموں کے ساتھ انصاف کرو اور جو مزید بھلائی تم کروگے تو اللہ اس سے باخبر ہے

آگے کا مضمون۔ آیات 127 تا 134:۔ اسلامی معاشرہ کی تاسیس، نتظیم اور تطہیر سے متعلق جو باتیں اصولی تھیں وہ اوپر کی آیات پر تمام ہوئیں۔ اب آگے کا حصہ، سورة کے آخر تک، خاتمہ سورة کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں پہلے بعض سوالات کے جواب دیے ہیں جو اسی سورة کی آیات 2۔ 4 میں بیان کردہ احکام سے متعلق بعد میں پیدا ہوئے، اس کے بعد آخر سورة تک مسلمانوں کو، منافقین کو اور اہل کتاب کو خطاب کر آخری تنبیہ کی نوعیت کی نصیحتیں فرمائی ہیں۔ یہ سوالات بعد میں پیدا ہوئے اس وجہ سے ان کے جواب سورة کے آخری باب کے ساتھ رکھے گئے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ یہ بعد میں نازل ہوئے ہیں۔ اس سے احکام کی حکمت سمجھنے میں رہنمائی ملتی ہے۔ زیر بحث مجموعہ آیات کو سمجھنے کے لیے آیات 2۔ 4 پر ایک نظر پھر ڈال لیجیے وہاں یتامی کی مصلحت اور بہبود کے پہلوس سے ان کی ماؤں سے نکاح کرنے کی اجازت دی گئی ہے تو اس کے ساتھ چار کی قید اور ادائے مہر اور عدل کی شرط لگی ہوئی ہے۔ معلوم ہوتا ہے۔ مہر اور عدل دونوں ہی چیزوں سے متعلق لوگوں کے اندر سوالات پیدا ہوئے۔ مہر سے متعلق یہ کہ جن عورتوں سے نکاح نہی کے یتیم بچوں کی مصلحت سے کیا جائے، انہیں مہر ادا کرنے کی پابندی ایک بھاری مشقت ہے جس کو اولیا برداشت نہیں کرسکیں گے۔ اسی طرح اگر عدل کا مفہوم قلبی میلان اور ظاہری سلوک دونوں میں کامل مساوات ہے تو یہ بھی ناممکن ہے۔ ایک شخص نے اپنی ایک پسندیدہ بیوی رکھتے ہوئے اگر ایک عورت سے صرف اس خیال سے نکاح کیا ہے کہ اس کے یتیم بچوں کی تربیت اور ان کے حقوق کی نگہداشت میں سہولت ہوجائے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اپنی چہیتی بیوی اور اس دوسری بیوی دونوں سے یکساں محبت اور یکساں سلوک کرسکتے۔ قرآن نے یہاں ان دونوں سوالوں کا جواب دیا ہے۔ پہلے سوال کا یہ جواب دیا کہ اگر ایک شخص ایک عورت کو پسند نہیں کرتا تو اس سے نکاح ہی کیوں کرے، اگر پسند کرکے نکاح کرتا ہے تو پھر مہر ادا کرے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی واضح فرما دی کہ مہر کا معاملہ اصلاً عورت کا معاملہ ہے۔ وہ اگر اپنی مصلحت کے تحت اپنے شوہر سے کوئی سمجھوتہ کرلے تو اس کا اس کو اختیار ہے اور یہی بہتر ہے۔ ویسے مرد کے شایانِ شان بات یہ ہے کہ وہ دبے ہوئے کو دبانے کے بجائے احسان اور تقوی کی راہ اختیار کرے۔ دوسرے سوال کا جواب یہ دیا کہ عدل سے مراد یہ نہیں کہ قلبی میلان اور ظاہری سلوک بالکل کانٹے کی تول برابر برابر ہو۔ اس طرح کا عدل کوئی پوری نیک نیتی سے کرنا چاہے بھی تو نہیں کرسکتا۔ مطلوب جو چیز ہے وہ یہ ہے کہ ظاہری سلوک و معاملات میں روش ایسی رہے کہ دونوں کے حقوق ادا ہوتے رہیں، یہ نہ ہو کہ ایک بیوی بالکل معلقہ بن کے رہ جائے، نہ اسے دل کی محبت حاصل ہو، نہ ظاہر کا سلوک، نہ بیوی رہے نہ مطلقہ۔ اس کے بعد بانداز تنبیہ نصیحت فرمائی کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اس نے اہل کتاب کو بھی اپنے حدود کی پابندی کی ہدایت فرمائی تھی اور اسی کی ہدایت وہ تمہیں بھی کر رہا ہے اگر تم ان کی پابندی کرو گے تو اپنا بناؤ گے، اگر نافرمانی کروگے تو خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑوگے۔ خدا سب سے بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کردے اور تمہاری جگہ دوسروں کو بخش دے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو دنیا ہی کے طالب بنتے ہیں وہ دنیا میں سے جتنا مقدر ہوتا ہے اتنا پاتے ہیں اور جو آخرت کے طالب بنتے ہیں تو خدا کے پاس دنیا اور آخرت دونوں کے خزانے ہیں۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔ وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَاۗءِ ۭ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ ۙ وَمَا يُتْلٰي عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ فِيْ يَتٰمَي النِّسَاۗءِ الّٰتِيْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا كُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْھُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ ۙوَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْيَتٰمٰي بِالْقِسْطِ ۭ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِــيْمًا۔ سوال کے نقل کرنے میں اجمال ہی بلاغت ہے : وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَاءِ (وہ تم سے عورتوں کے بارے میں فتوی پوچھتے ہیں) میں اسی طرح کا اجمال ہے جس طرح کا اجمال ویسئلونک عن الاھلۃ (اور وہ تم سے اشہر حرم کے بارے میں سوال کرتے ہیں) میں ہے۔ وہاں ہم بیان کر آئے ہیں کہ قرآن میں لوگوں کے سوال بالعموم نہایت اجمال کے ساتھ بیان ہوتے ہیں اور یہی طریقہ قرین بلاغت ہے۔ جب جواب سے سوال کی نوعیت خود واضح ہوجاتی ہے تو سوال کے نقل کرنے میں طول کلام کی کیا ضرورت باقی رہی۔ " الکتاب " سے یہاں مراد اسی سورة کی آیات 3، 4 ہیں : وَمَا يُتْلٰي عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ کا عطف، فیہن کی ضمیر مجرور پر ہے اور الکتاب سے مراد قرآن ہے اور یہاں اشارہ ہے اسی سورة کی آیات 3 اور 4 کی طرف جن میں بیان کردہ حکم سے متعلق ہی سوالوں کے یہاں جواب دیے گئے ہیں۔ یعنی اللہ عورتوں سے متعلق سوال کا جواب بھی دے رہا ہے اور اس حکم سے متعلق بھی جو تمہیں اسی سورة کی ابتدائی آیات میں سنایا گیا ہے۔ یتلی حال کا صیغہ تصویرِ حال کے لیے ہے اس لیے کہ اس وقت یہ آیتیں زیر تعلیم بھی تھیں اور ہر حلقے میں زیر بحث بھی۔ نکاح میں ادائے مہر اور عدل کی شرائط کی وضاحت : فِيْ يَتٰمَي النِّسَاءِ الّٰتِيْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا كُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْھُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ ، یہ ان آیات میں بیان کردہ حکم کی طرف اجمالی اشارہ ہے۔ یعنی یہ فتوی اس حکم کے بارے میں بھی ہے جو تمہیں ان عورتوں کے یتیم بچوں کے بارے میں دیا گیا ہے۔ جن عورتوں کو تم ان کا حق تو دینے کے لیے تیار نہیں ہو لیکن ان سے نکاح کرنے کے خواہشمند ہو۔ اس سے ضمناً یہ بات بھی نکل آئی کہ، وان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی فانکحوا ما طاب لکم من النساء واتوا لنساء صدقاتہن، میں " نساء " سے مراد یتیموں کی مائیں ہیں، جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے، اور یہ اشارہ بھی نکلا کہ لوگ یتیموں کی مصلحت سے ان سے نکاح تو کرنا چاہتے تھے لیکن مہر اور عدل کی شرط ان پر شاق تھی۔ ماکتب لھن کے معنی ہیں جو ان کے لیے خدا کی طرف سے ٹھہرائی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ جس طرح ان کے معاملے میں مہر کی شرط ضروری قرار دی گئی ہے اسی طرح عدل کی شرط بھی ہے۔ اس وجہ سے یہ دونوں چیزیں اس کے مفہوم میں داخل ہوں گی۔ سوال کا جواب اور عربی زبان کا ایک اسلوب : وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْيَتٰمٰي بِالْقِسْطِ ، یہ وہ فتوی ہے جو استفتا کے جواب میں ارشاد ہوا ہے لیکن یہاں عربی زبان کا یہ اسلوب یاد رکھنا چاہیے کہ جب معطوف اس طرح آئے کہ کلام میں اس کا معطوف علیہ موجود نہ ہو تو وہاں وہ باتیں معطوف علیہ کی حیثیت سے محذوف مان لینے کی گنجائش ہوتی ہے جن پر قرینہ دلیل ہو۔ اس کی ایک سے زیادہ مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں اور آگے بھی اس کتاب میں اس کی نہایت واضح مثالیں آئیں گی۔ یہاں کلام میں کوئی ایسا لفظ موجود نہیں ہے جو " وان تقوموا " کا معطوف علیہ بن سکے۔ اس وجہ سے لازماً یہاں محذوف ماننا پڑے گا اور یہ محذوف سیاق کلام کی روشنی میں معین کیا جائے گا۔ چناچہ یہاں وان تقوموا سے پہلے یہ مضمون محذوف ہوگا کہ ان عورتوں کو ان کے مہر دو ، ان کے ساتھ عدل کا معاملہ کرو، پھر اس کے اوپر وان تقوموا للیتیمی بالقسط کا عطف موزوں ہوگا یعنی اور یتیموں کے لیے عدل کی حفاظت کرنے والے بنو۔ گویا فتوے میں یہ بات واضح کردی گئی کہ مہر اور عدل کی شرط جس طرح عام عورتوں کے معاملے میں ہے اسی طرح یتیموں کی ماؤں کے بارے میں بھی ہے اور آیات وان خفتم الا تقسطوا الایۃ میں عورتوں کے ساتھ عدل کا اور آیت واتوا النساء صدقاتہن الایۃ میں ادائے مہر کا جو حکم ہے تو وہ یتیموں کی ماؤں سے متعلق ہی ہے، جن سے تم نکاح تو کرنا چاہتے ہو لیکن مہر اور عدل کی ککھیڑ میں پڑنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ اس طرح گویا قرآن نے آیات 3۔ 4 کے اجمال کو کھول دیا اور اس فتوے کے ذریعے سے ان میں دیے ہوئے احکام کو مزید مؤکد کردیا۔ آیت 127 کا مطلب تالیفِ کلام کی روشنی میں : اس آیت کی تاویل میں چونکہ بڑا اختلاف ہے اور یہ اختلاف زیادہ تر نتیجہ ہے کلام کی تالیف نہ سمجھنے کا، اس وجہ سے ہماری توضیح کی روشنی میں کلام کی تالیف پر غور کر کے اس کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیجیے۔ اس روشنی میں آیات کا مطلب یہ ہوگا کہ لوگ عورتوں کے مہر اور مختلف بیویوں کے درمیان عدل کے بارے میں تم سے سوالات کر رہے ہیں، خاص طور پر یتیموں کی ماؤں کے مہر اور ان کے درمیان عدل کے بارے میں تم سے سوالات کر رہے ہیں خاص طور پر یتیموں کی ماؤ کے مہر اور ان کے درمیان عدل کے بارے میں کہ جب ان کے ساتھ نکاح میں اصل مصلحت انہی کے بچوں کی ہے تو کیا مہر اور عدل کی شرط ان کے معاملے میں بھی اسی طرح لازمی ہوگی جس طرح دوسری عورتوں کے بارے میں ہے ؟ فرمایا کہ ان کو بتادو کہ اللہ عام عورتوں کے بارے میں بھی اور یتامی کی ان ماؤں کے بارے میں بھی جن کا حکم آیات 3۔ 4 میں بیان ہوا ہے، جن سے تم نکاح تو کرنا چاہتے ہو لیکن ان کے لیے عدل و مہر کے حق کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے، نیز بےبس یتیموں کے باب میں یہ فتوی دیتا ہے کہ ان کے مہر دو ، ان کے ساتھ عدل کا معاملہ کرو اور یتیموں کے لیے حق و انصاف کے قائم کرنے والے بنو۔ مزید براں جو نیکی اور حسن سلوک تم کروگے اللہ اس سے باخبر ہوگا اور خدا کے ہاں اس کا صلہ پاؤگے۔
Ayah 4:128

وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًا١ؕ وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ١ؕ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ١ؕ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:128 in the Quran reader

اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بیزاری یا بےپروائی کا اندیشہ ہو تو اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ دونوں آپس میں کوئی سمجھوتا کرلیں اور سمجھوتا ہی بہتر ہے۔ طبیعتوں میں حرص رچی بسی ہوئی ہے۔ اور اگر تم حسن سلوک کروگے اور تقوی اختیار کروگے تو جو کچھ کروگے اللہ اس سے باخبر ہے

وَاِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۭ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۭوَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ۭوَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا۔ " نشوز " کے لفظ پر پیچھے بحث گزر چکی ہے۔ نشوز عورت کی طرف سے ہو تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ وہ شوہر کی قوامیت کو تسلیم نہ کرے۔ مرد کی طرف سے ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ بیوی کے حقوق تسلیم کرنے سے انکار کرے اور اس سے پیچھا چھڑانے پر آمادہ ہوجائے۔ وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ، شح کے معنی بخل کے بھی ہیں اور حرص کے بھی۔ بخل تو یہ ہے کہ آدمی ادائے حقوق میں تنگ دلی ہوتے یہ چیز ہر حال میں مذموم ہے۔ لیکن حرص اچھی چیز کی بھی ہوسکتی ہے، بری چیز کی بھی، حد کے اندر بھی ہوسکتی ہے اور حد سے باہر بھی، اس وجہ سے اس کا اچھا اور برا ہونا ایک امر اضافی ہے۔ اپنے اچھے پہلو کے اعتبار سے یہ انسانی فطرت کے اندر اپنا ایک مقام رکھتی ہے لیکن اکثر طبائع پر اس کا ایسا غلبہ ہوجاتا ہے کہ یہ ایک بیماری بن کے رہ جاتی ہے۔ وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ میں اس کے اسی پہلو کی تعبیر ہے۔ رشتۂ نکاح کو برقرار رکھنے کے لیے عورت اور مرد دونوں کو ایثار کی ترغیب : یعنی مہر اور عدل تو ہر عورت کا ایک حق شرعی ہے لیکن کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے اگر یہ اندیشہ ہو کہ ان پابندیوں کا بوجھ اگر اس پر اس نے لادے رکھا تو وہ اس کو چھوڑ دے گا یا اس سے بےپروائی برتے گا تو اس امر میں کوئی حرج نہیں کہ دونوں مل کر آپس میں کوئی سمجھوتہ کرلیں۔ یعنی عورت اپنے حق مہر، عدل اور نان نفقے کے معاملے میں ایسی رعایتیں شوہر کو دے دے کہ قطع تعلق کا اندیشہ رفع ہوجائے۔ فرمایا کہ صلح اور سمجھوتے ہی میں بہتری ہے اس لیے کہ میاں اور بیوی کا رشتہ ایک مرتبہ قائم ہوجانے کے بعد فریقین کی فلاح اسی میں ہے کہ یہ قائم ہی رہے اگرچہ اس کے لیے کتنا ہی ایثار کرنا پڑے۔ فرمایا کہ حرص، طبائع کی عام بیماری ہے جو باہمی تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کا علاج یہی ہے کہ یا تو دونوں فریق ایثار پر آمادہ ہوں اور اگر ایک فریق کا مرض لاعلاج ہے تو دوسرا قربانی پر آمادہ ہو۔ غرض رشتہ نکاح کو برقرار رکھنے کے لیے اگر عورت کو قربانی بھی دینی پڑے تو بہتری اس کے برقرار رہنے ہی میں ہے۔ اس کے بعد وان تحسنوا وتتقوا الایۃ کے الفاظ سے مرد کو ابھارا ہے کہ ایثار و قربانی اور احسان وتقوی کا میدان اصلاً اسی کے شایانِ شان ہے، وہ اپنی فتوت اور مردانگی کی لاج رکھے اور عورت سے لینے والا بننے کی بجائے اس کو دینے والا بنے۔ اللہ ہر ایک کے ہر عمل سے باخبر ہے اور ہر نیکی کا وہ بھرپور صلہ دے گا۔
Ayahs 4:129–130

وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْۤا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیْلُوْا كُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِ١ؕ وَ اِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:129 in the Quran reader

اور تم پورا پورا عدل تو بیویوں کے درمیان کر ہی نہیں سکتے اگرچہ تم اس کو چاہو بھی تو یہ تو نہ ہو کہ بالکل ایک ہی کی طرف جھک پڑو کہ دوسری کو بالکل معلقہ بنا کر رکھ دو اور اگر تم اصلاح کرتے رہوگے اور خدا سے ڈرتے رہوگے تو خدا بخشنے والا اور مہربان ہے

وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِیْمًا Open ayah 4:130 in the Quran reader

اور اگر وہ دونوں جدا ہوجائیں گے تو اللہ ان میں سے ہر ایک کو اپنی وسعت سے بےنیاز کردے گا۔ اللہ بڑی سمائی رکھنے والا اور حکیم ہے

129 تا 130:۔ وَلَنْ تَسْتَطِيْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَيْنَ النِّسَاۗءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيْلُوْا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوْھَا كَالْمُعَلَّقَةِ ۭ وَاِنْ تُصْلِحُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۔ وَاِنْ يَّتَفَرَّقَا يُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِيْمًا۔ بیویوں کے معاملے میں عدل کا معیار : اب یہ عدل کا مفہوم واضح فرمادیا کہ جس عدل کو تم ننامکن بتا رہے ہو وہ تمہارا اپنا ذہنی عدل ہے۔ تم یہ سمجھ رہے ہو کہ دل کا لگاؤ اور ظاہر کا سلوک دونوں بالکل برابر مطلوب ہیں۔ اس وجہ سے یہ بات ناممکن نظر آرہی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس معنی میں عدل کا لحاظ تمہاری طاقت سے باہر ہے۔ اگر تم اس طرح کا عدل کرنا چاہو بھی تو نہیں کرسکوگے۔ دل کا میلان آدمی کے اپنے اختیار کی چیز نہیں ہے۔ مطلوب جو چیز ہے وہ یہ ہے کہ ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جاؤ کہ دوسری بالکل ادھر میں لٹکتی رہ جائے بلکہ سلوک اور حقوق میں توازن قائم رکھنے اور اگر کوئی حق تلفی اور کوتاہی ہوجائے تو اس کی اصلاح اور تلافی کرنے کی کوشش کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ اصلاح اور تقویٰ کی اس کوشش کے باوجود اگر کوئی فروگزاشت ہوگئی تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ایثار کی حد : اس کے بعد فرمایا کہ شریعت میں مطلوب تو یہی ہے کہ ازدواجی رشتہ ٹوٹنے نہ پائے لیکن حالات اگر مجبور ہی کردیتے ہیں اور دونوں میں علیحدگی ہو ہی جاتی ہے تو بہرحال اصل رزاق اور کارساز میاں اور بیوی دونوں کا اللہ ہے۔ وہ ہر ایک کو اپنے فضل سے مستغنی کردے گا، وہ بڑی سمائی رکھنے والا اور حکیم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس رشتے کو قائم رکھنے کے لیے میاں اور بیوی دونوں سے ایثار اور کوشش تو مطلب ہے لیکن یہ غیرت اور خودداری کی حفاظت کے ساتھ مطلوب ہے۔ میاں اور بیوی میں سے کسی کے لیے جس طرح اکڑنا جائز نہیں ہے اسی طرح ایک حد خاص سے زیادہ دبنا بھی جائز نہیں ہے۔ اگرچہ الفاظ میں عمومیت ہے لیکن سیاق کلام دلیل ہے کہ اس میں عورتوں کی خاص طور پر حوصلہ افزائی ہے کہ وہ حتی الامکان نباہنے کی کوشش تو کریں اور مصالحت کے لیے ایثار بھی کریں لیکن یہ حوصلہ رکھیں کہ اگر کوشش کے باوجود نباہ کی صورت پیدا نہ ہوئی تو رزاق اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ اپنے خزانۂ جود سے ان کو مستغنی کردے گا۔
Ayahs 4:131–134

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَنِیًّا حَمِیْدًا Open ayah 4:131 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور تم سے پہلے جن کو کتاب دی گئی ہم نے انہیں بھی ہدایت کی اور تم کو بھی کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور اگر تم کفر کروگے تو یاد رکھو کہ اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ بےنیاز، ستودہ صفات ہے

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:132 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بھروسے کے لیے اللہ کافی ہے

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ اَیُّهَا النَّاسُ وَ یَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى ذٰلِكَ قَدِیْرًا Open ayah 4:133 in the Quran reader

اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کردے، اے لوگو، اور دوسروں کو لائے، اللہ اس چیز پر قادر ہے۔

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ ثَوَابَ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 4:134 in the Quran reader

جو دنیا کے صلے کا طلبگار ہے تو اللہ کے پاس دنیا اور آخرت دونوں کا صلہ موجود ہے اور اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے

131۔ 134:۔ وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭوَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَاِيَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ ۭ وَاِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ غَنِيًّا حَمِيْدًا۔ وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا۔ اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَلٰي ذٰلِكَ قَدِيْرًا۔ مَنْ كَانَ يُرِيْدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا۔ ان آیات میں دو باتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں : لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ الایۃ کی تکرار کی بلاغت : ایک تو یہ کہ " لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ " (اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے) بار بار دہرایا گیا ہے۔ دو مرتبہ تو آیت 131 ہی میں اور پھر آیت 132 میں۔ علاوہ ازیں جہاں سے یہ مضمون چلتا ہے یعنی آیت 126، وہاں بھی بعینہ یہی ٹکڑا ہے۔ اس مضمون کا بار بار اعادہ بلا سبب نہیں ہے بلکہ خاتمہ سورة کا مزاج اس کا مقتضی ہوا۔ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ اس خاتمے میں مسلمانوں کو، منافقین کو اور اہل کتاب کو آخری تنبیہ کی گئی ہے کہ جو ہدایات تمہاری رہنمائی کے لیے ضروری تھیں، وہ دلائل کی وضاحت کے ساتھ، دے دی گئیں، اب ماننا نہ ماننا تمہارا کام ہے، مانوگے تو تمہارا نفع ہے، نہ مانوگے تو خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑوگے، خدا اس پوری کائنات کا بلاشرکتِ غیرے مالک ہے، اس کی حکومت اپنے بل بوتے پر قائم ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ وہ چونکہ پوری کائنات کا مالک ہے اس وجہ سے اس نے تم سے پہلے اہل کتاب کو بھی اپنے احکام و حدود سے آگاہ کیا اور اب تمہیں بھی اس سے آگاہ کردیا کہ خدا سے ڈرتے رہو۔ اہل کتاب نے نافرمانی کی تو انہوں نے خود اپنی شامت بلائی۔ خدا کا کچھ نہیں بگاڑا۔ اسی طرح اگر تم بھی کفر کروگے تو یاد رکھو کہ خدا تمہارا محتاج نہیں بلکہ بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔ وہ تمہارے لیے کسی چیز کو پسند کرتا ہے تو اس لیے نہیں کہ اس کو اس کی احتیاج ہے بلکہ اس لیے کہ وہ حمید ہے۔ اس کی اس صفت کا تقاضا ہے کہ بےنیاز ہونے کے باوجود ساری خلق کو اپنے جودوکرم سے نوازے۔ ساری کائنات کا مالک ہونے کی وجہ سے وہی سزاوار ہے کہ اس پر بھروسہ کیا جائے اور زندگی کی باگ اس کے حوالہ کی جائے۔ نافرمانی کی صورت میں اگر وہ چاہے تو سب کو فنا کردے اور اس دنیا میں دوسری مخلوق لا بسائے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کا ہاتھ کون پکڑ سکتا ہے۔ حذف کا ایک اسلوب : دوسری قابل غور چیز آیت " من کان یرید ثواب الدنیا الایۃ " میں حذف کا اسلوب ہے ہم پیچھے کسی مقام میں اشارہ کر آئے ہیں کہ عربی میں کلام کے دو متقابل اجزا میں سے بعض اجزا کو اس طرح حذف کردیتے ہیں کہ مذکور جزو، محذوف کی طرف خود اشارہ کردیتا ہے۔ ہمارے نزدیک اس آیت کے محذوفات کھول دیے جائیں تو تالیف کلام یہ ہوگی مَنْ كَانَ يُرِيْدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الدُّنْيَا و مَنْ كَانَ يُرِيْدُ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الْاٰخِرَةِ ، پہلے میں فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الدُّنْيَا کو حذف کردیا اور دوسرے میں سے و مَنْ كَانَ يُرِيْدُ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ کو۔ اس حذف کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا کہ مذکور ٹکڑے محذوف ٹکڑوں کی نشان دہی خود کر رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو دنیا ہی کے صلے کا طالب ہوتا ہے تو دنیا کا مالک بھی خدا ہی ہے، وہ اس میں سے اس کو جتنا چاہتا ہے دیتا ہے اور جو آخرت کا طالب ہوتا ہے تو اللہ اس کو دنیا میں بھی جو چاہتا ہے دیتا ہے اور آخرت کا صلہ بھی بھرپور عطا فرمائے گا۔ یہ ان لوگوں کو تنبیہ و موعظت ہے جو اپنے دنیوی مفادات کی خاطر خدا کی شریعت سے فرار اختیار کر رہے ہوں۔ فرمایا جو صرف دنیا کا طالب بنتا ہے تو بہرحال اس میں سے وہ پاتا اتنا ہی ہے جتنا خدا کو منظور ہوتا ہے اور آخرت سے وہ بالکل محروم ہی رہتا ہے تو آخرت کا طالب کیوں نہ بنے کہ آخرت کا بھرپور صلہ بھی ملے اور دنیا میں سے جو مقدر ہو وہ بھی ملے۔ یہی مضمون بعینہ آل عمران کی آیات 145 اور 148 میں بھی گزرچکا ہے۔ اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس کے ساتھ سمیع وبصیر کی صفات کے حوالہ سے مقصود اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ خدا نہ کسی کی دعا و فریاد سے بیخبر ہے نہ کسی کی احتیاج اور حالت اس سے مخفی ہے تو آخر انسان اسی سے کیوں نہ چاہے اور مانگے، دوسروں سے کیوں آرزومند اور دادخواہ ہو۔