Ayahs 4:160–161160۔ 161:۔ فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَثِيْرًا۔ وَّاَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْهُ وَاَ كْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ۭوَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا۔
یہود پر جائز چیزوں کے حرام ہونے کی نوعیت : فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ ، میں لفظ ظلم کی تقدم سے یہ مفہوم پیدا ہوتا ہے کہ وہ یہود پر حلال چیزیں جو حرام ہوئیں تو یہ بھی خود انہی کے اپنے نفس پر ظلم کرنے کے سبب سے حرام ہوئیں، اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ جائز چیزوں کے حرام کیے جانے کی ان کے ہاں جو صورتیں پیدا ہوئیں ان پر ہم بقرہ کی تفسیر میں بھی گفتگو کرچکے ہیں اور آل عمران کی آیت 50 کے تحت بھی اس پر بحث ہوچکی ہے۔
سود کی حرمت کا حکم احبار میں : وَّاَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْهُ ، سود کی حرمت کا صریح حکم احبار باب 25۔ 35۔ 38 میں ملاحظہ ہو۔ وَاَ كْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ کے مفہوم پر اسی سورة کی آیت 29 کے تحت گفتگو ہوچکی ہے۔
یہود کے اصلی مواقع ایمان : ان باتوں کا تعلق بھی یہود کی اسی فہرست جرائم سے ہے جو اوپر گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن اور پیغمبر پر ایمان لانے میں ان کے لیے جو چیزیں مانع ہیں وہ در اصل ان کے یہ جرائم ہیں نہ یہ کہ تم ان کو آسمان سے کوئی صحیفہ اترتا ہوا نہیں دکھا رہے ہو۔ یہ ہمیشہ سے گردن کش اور نافرمان ہیں۔ انہوں نے اپنی گردن کشی ہی سے اپنے اوپر حلال چیزیں حرام کرائی، اور اپنی گردن کشی ہی کے سبب سے ہمیشہ حق کی راہ میں روڑا بنے اور یہی چیز ہے جس نے ان کو آمادہ کیا کہ انہوں نے سود کو جائز کرلیا حالانکہ تورات میں ان کو صریح الفاظ میں اس کی ممانعت کی گئی تھی اور اسی کے سبب سے انہوں نے حرام خوری کے دوسرے تمام دروازے بھی کھول لیے حالانکہ یہ ان دروازوں کو بند کرنے پر مامور کیے گئے تھے۔ جن کا کردار یہ ہو ان سے کس طرح توقع کرتے ہو کہ وہ کوئی بڑے سے بڑا معجزہ دیکھ کر بھی قرآن پر ایمان لائیں گے۔ فرمایا کہ ان میں سے جتنے بھی کفر پر جم گئے ہیں، ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 4:162لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُوْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَالْمُقِيْمِيْنَ الصَّلٰوةَ وَالْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ سَنُؤْتِيْهِمْ اَجْرًا عَظِيْمًا۔
راسخون فی العلم سے مراد اہل کتاب کے علمائے حقانی ہیں :۔ لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ، راسخون فی العلم سے مراد وہ علما ہیں جن کے قدم علم شریعت میں خوب جمے ہوئے، جو عقیدہ اور عمل ہر چیز میں راسخ اور کردار و اخلاق ہر پہلو سے جادہ مستقیم پر استوار تھے۔ یہود میں علما کم نہیں تھے، بیشمار تھے، لیکن شریعت ان کے لیے بس ایک نمائشی جامے کی حیثیت رکھتی تھی جس کو پہن کر وہ باہر بازاروں اور عوام میں نکلا کرتے۔ ان کے فکرونظر اور ان کے قلب و روح سے اس علم کو کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ علماء ان تمام جرائم میں، جو اوپر مذکور ہوئے، اپنی قوم کے نہ صرف شریک تھے بلکہ وہی ان میں ان کے مرشد تھے اس وجہ سے ان سے تو اگر کسی چیز کی توقع کی جاسکتی تھی تو صرف اسی چیز کی کہ وہ قرآن اور پیغمبر ﷺ کی مخالفت میں اپنی قوم کی پیشوائی کریں۔ البتہ ان میں جو نفوس قدسیہ حکمت دین کی لذت سے آشنا تھے ان کے قدم علم شریعت میں راسخ تھے۔ اس وجہ سے ان کو اپنی قوم کی متفقہ مخالفت کے طوفان کے مقابلے کے لیے کھڑے ہونے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق ملی۔ یہاں انہی نفوس قدسیہ کو عام علمائے یہود سے ممتاز کرنے کے لیے علما کے بجائے " راسخون فی العلم " کے لقب سے مشرف فرمایا ہے۔ یعنی یہ آندھی کے خس و خاشاک کی طرح ہوا کے رخ پر اڑنے والے نہیں ہیں بلکہ چٹانوں کی طرح اپنے موقف حق پر جمنے والے ہیں۔
" المومنون " سے مراد سلیم الفطرت اور خدا ترس افراد ہیں : المومنون سے مراد وہ سلیم الفطرت لوگ ہیں جو اگرچہ راسخون فی العلم کا درجہ تو نہیں رکھتے تھے لیکن اپنی فطرت کی سلامتی، دل کی صلاحیت اور کردار کی پاکیزگی کے اعتبار سے تمام سوسائٹی میں ممتاز تھے اور یہود کے عام بگاڑ کے باوجود وہ خدا کی ہدایت و شریعت پر قائم رہے اور جب اسلام کی دعوت ان کے کانوں میں پڑی تو وہ اس کو بھی قبول کرنے کے لیے آگے بڑھے۔ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ، یہ خبر ہے یعنی یہ راسخین فی العلم علماء اور سلیم الفطرت لوگ اس قرآن پر بھی ایمان لاتے ہیں اور اس سے پہلے کی کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اہل کتاب کا یہی گروہ ہے جس کی تعریف جگہ جگہ قرآن نے فرمائی ہے۔ آل عمران کی آیت 113 کے تحت بھی اس گروہ کا ذکر گزر چکا ہے۔
وَالْمُقِيْمِيْنَ الصَّلٰوةَ کا اسلوب اور اس کے فوائد : وَالْمُقِيْمِيْنَ الصَّلٰوةَ عطف تو ہے المومنون پر۔ لیکن یہ منصوب ہوگیا ہے فصیح عربی کے اس قاعدے کے مطابق جس کو ہمارے اہل نحو علی سبیل الاختصاص یا علی سبیل مدح کی اصطلاح سے تعبیر کرتے ہیں۔ شعرائے عرب کے کلام میں اس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ اسلوب کی اس تبدیلی کا لفظی اثر تو سامع پر یہ پڑتا ہے کہ یہ تنوع اس کو لفظ پر متوجہ کردیتا ہے اور معنوی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ محض اسلوب کی تبدیلی سے، بغیر ایک حرف کے اضافے کے، اس کے اندر اختصاص اور مدح و تعریف کا مضمون پیدا ہوجاتا ہے۔ مثلاً یہی لفظ اپنے عام اسلوب کے مطابق والمقیمون الصلوۃ ہوتا تو اس کے معنی صرف یہ ہوتے کہ " اور نماز کے قائم کرنے والے " لیکن جب اسلوب بدل کر وَالْمُقِيْمِيْنَ الصَّلٰوةَ کہہ دیا تو اس کے معنی یہ ہوگئے کہ اور خاص کر نماز کو قائم کرنے والے۔ جس سے ان موصوفین کی غیر معمولی تعریف اور ان کی خصوصیت بھی واضح ہوئی اور نما کی وہ اہمیت و عظمت بھی جو دین کے نظام میں اس کو حاصل ہے۔ اس اسلوب کی ایک نہایت عمدہ مثال سورة بقرہ میں بھی گزر چکی ہے۔ وہاں فرمایا ہے " والموفون بعدہم اذا عاھدوا والصابرین فی الباسا والضراء وحین الباس : اور اپنے عہد کو پورا کرنے والے جب کہ عہد کربیٹھیں اور خاص کر وہ لوگ جو ثابت قدم رہنے والے ہیں فقر و فاقہ، جسمانی تکالیف اور جنگ کی آزمائشوں میں " یہاں بھی دیکھ لیجیے کہ والصابرین معطوف تو ہے " والموفون " پر، اس اعتبار سے اس کو " والصابرون " ہونا تھا لیکن اسی قاعدے کے مطابق جس کا ہم نے اوپر حوالہ دیا الصابرین ہوگیا۔
شریعت میں صبر اور نماز کا درجہ : یہاں حکمت دین کے اس رمز کو سمجھنے ک کے لیے کہ شریعت میں صبر اور نماز کا کیا درجہ ہے آیت " استعینوا بالصبرا والصلوۃ الایۃ " کی تفسیر، جو بقرہ میں گزر چکی ہے، پڑھ لیجیے تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے کہ ان دونوں چیزوں کے اس اہتمام و تاکید کے ساتھ ذکر کرنے کی کیا وجہ ہے۔ جہاں تک صبر کا تعلق ہے۔ یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ جس شخص کے اندر صبر کی صفت نہ ہو اس کے دین کی عمارت تمام تر ریت پر ہے، وہ کسی بھی جھٹکے سے آسانی سے گرسکتی ہے۔ رہی نماز تو درحقیقت یہی وہ چیز ہے جو اس عہد کی برابر یاد دہانی کرتی ہے جو بندہ اپنے رب سے کرتا ہے اس وجہ سے جو شخص اس کو ضائع کردے گا وہ بالآخر پورے دین کو ضائع کربیٹھے گا۔ یہود کے متعلق قرآن میں یہ بیان ہوا ہے کہ انہوں نے نماز بالکل ضائع کردی تھی (اضاعوا الصلوۃ) جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پورے دین ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان میں سے صرف وہی لوگ دین پر قائم رہے جو نماز پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جو بالآخر اسلام کی دعوت قبول کرنے والے بھی بنے۔ اسی گروہ کا ذکر آل عمران میں اس طرح ہوا ہے۔ " لیسوا سواء من اھل الکتاب امۃ قائمۃ یتلون ایات اللہ آناء اللیل وھم یسجدون : سب اہل کتاب یکساں نہیں ہیں۔ ان میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو دین پر قائم ہیں، شب کے وقتوں میں آیات الٰہی کی تلاوت کرتے اور سجدہ کرتے ہیں "۔ وَالْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ، بالکل بقرہ کی آیت 4 " وبالآخرۃ ھم یوقنون " کی طرح ہے۔ جس طرح وہاں یومنون بالغیب اور دوسری صفات کے ذکر کے بعد بظاہر اس ٹکڑے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی لیکن یقین آخرت کو، جو تمام خیر وتقوی کا اصل محرک ہے، نمایاں کرنے کے لیے اس کا ذکر فرمایا اسی طرح یہاں بھی بظاہر، والمومنون کے بعد دوبارہ اس کے اعادے کی ضرورت نہیں تھی لیکن آخرت کی تذکیر کے لیے اس کا اعادہ فرمایا۔ اس لیے کہ دین میں تمام زندگی اور حرکت آخرت پر ایمان ہی سے ہے۔
Ayahs 4:163–164آگے کا مضمون۔ آیات 163۔ 175:۔ آگے، نبی ﷺ کو خطاب کر کے پہلے تسلی دی ہے کہ تم ان مخالفوں کی کوئی پروا نہ کرو جو آج تم پر نازل شدہ وحی کو نہیں مانتے بلکہ آسمان سے اتری ہوئی کھلی کتاب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نہ وحی دنیا میں ایسی انجانی چیز ہے جس کا تجربہ دنیا میں تمہی کو ہوا ہو اور نہ نبوت و رسالت ایسی اجنبی چیز ہے جس کا اظہار تمہی نے کیا ہو۔ وحی بھی دنیا میں تم سے پہلے آچکی ہے اور رسول بھی بیشمار آچکے ہیں، اگر ایک ایسی جانی پہچانی ہوئی چیز سے لوگ بھڑکتے ہیں اور جس کے جانچنے اور پرکھنے کے لیے اتنے معیارات اور اتنی کسوٹیاں موجود ہیں لوگ اس کو پہچاننے سے انکار کر رہے ہیں تو قصور تمہارا نہیں بلکہ خود انہی کا ہے۔ تمہارے اطمینان کے لیے تو یہ چیز بس کرتی ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتوں کی شہادت تمہارے حق میں ہے۔ رہے یہ لوگ جو کفر اور مخالفت پر اڑ گئے ہیں تو انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ہیں اور اس کے سبب سے اب یہ اس قابل نہیں رہ گئے ہیں کہ ان کے لیے ایمان و ہدایت کی راہ کھلے۔ اب تو ان کے لیے صرف جہنم کی راہ باقی رہ گئی ہے۔ اس کے بعد لوگوں کو عام طور پر اور نصاری کو خاص طور پر خطاب کر کے تنبیہ فرمائی ہے کہ اللہ نے قرآن کی شکل میں جو نور مبین خلق کی رہنمائی کے لیے اتارا ہے اس کی قدر کرو اور ضلالت کیر اہ چھوڑ کر ہدایت کی راہ پر آجاؤ ورنہ یادرکھو کہ جو لوگ اس سے اعراض و انکار کریں گے وہ بڑے ہی دردناک عذاب سے دوچار ہوں گے۔ اب آیات کی تلاوت فرمائیے۔
اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ اَوْحَيْنَآ اِلٰي نُوْحٍ وَّالنَّـبِيّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۚ وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَعِيْسٰى وَاَيُّوْبَ وَيُوْنُسَ وَهٰرُوْنَ وَسُلَيْمٰنَ ۚ وَاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا۔ وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۭ وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِــيْمًا۔
لفظ " اسباط " پر سورة بقرہ میں بحث گزر چکی ہے :
زبور : " زبور " کے نام سے ایک صحیفہ حضرت داود ؑ کی دعاؤں اور مناجاتوں پر مشتمل تورات کے مجموعہ میں شامل ہے۔ قرآن میں اس کا نام معرفہ کی شکل میں بھی آیا ہے۔ یہاں نکرہ کی صورت میں میرے نزدیک تفخیم شان کے لیے ہے جس سے زبور کی اہمیت واضح واضح ہوتی ہے۔ اگرچہ موجودہ زبور کو تورات کے دوسرے صحیفوں ہی کے درجے میں رکھنا صحیح ہے۔ اس میں ترجمہ کے نقائص بھی ہیں اور کمی و بیشی کا بھی خاص امکان ہے تاہم اس کو پڑھیے تو سینہ ایمان و توکل کے نور سے لبریز ہوجاتا ہے۔
حضرت موسیٰ ؑ سے مکالمۂ الٰہی کی نوعیت : وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِــيْمًا پر ہم دوسرے مقام میں گفتگو کرچکے ہیں۔ تورات اور قرآن دونوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے خاص خطاب و کلام سے نوازا ہے اور اس خطاب و کلام کی شان اس وحی سے مختلف تھی جس سے دوسرے انبیا مشرف ہوئے ہیں۔ اگرچہ قرآن اور تورات دونوں سے ثابت ہے کہ یہ خطاب و کلام بھی خدا سے رو در رو نہیں بلکہ من وراء حجاب، یعنی پردے کی اوٹ ہی سے تھا۔
انبیاء کے ناموں میں ترتیب کی نوعیت : یہاں حضرت انبیاء کے جو نام گنائے گئے ہیں ان کی ترتیب حضرت نوح سے لے کر حضرت یعقوب اور ان کی اولاد کے ذکر تک تو تاریخی ہے لیکن اس کے بعد ترتیب صفاتی ہوگئی ہے۔ حضرت عیسیٰ ، حضرت ایوب، حضرت یونس، حضرت ہارون اپنے خاص نوع کے ابتلا اور خاص نوع کی تائید الٰہی میں فی الجملہ اشتراک رکھتے ہیں۔ حضرت سلیمان اور حضرت داود دونوں نبی بھی ہیں اور دونوں بادشاہ بھی۔ حضرت داود ؑ کا ذکر حضرت سلیمان ؑ کے بعد لانے کی وجہ خاص اہتمام کے ساتھ زبور کی طرف توجہ دلانا ہے۔ سب سے آخر میں حضرت موسیٰ کا ذکر ہے اس لیے کہ آنحضرت ﷺ اور حضرت موسیٰ مماثل نبی ہیں۔ اس بات کا ذکر قرآن اور احادیث دونوں میں ہے۔
انبیاء کے ذکر سے مقصود : یہاں اگرچہ تمام انبیاء کا ذکر نہیں ہوا ہے لیکن ان کے اندر اشتراک کے ساتھ ساتھ باعتبار صفات جو تنوع ہے وہ بھی نمایاں ہوگیہا ہے اور باعتبار وحی و خطاب اور کلام ان میں سے اگر کسی کو کوئی اختصاص و امتیاز حاصل ہوا ہے تو وہ بھی سامنے آگیا ہے۔ اس تمام حوالے سے قرآن کا مقصود یہ ہے کہ یہ انبیاء ہیں جن کے نام اور کام تورات کے صحیفوں میں بھی بیان ہوئے ہیں اور یہ طریقہ رہا ہے جس طریقہ پر اللہ نے ان نبیوں کو اپنی وحی اور اپنے خطاب و کلام سے نوازا ہے۔ ان سب سے اہل کتاب واقف ہیں، بھلا ہے اس میں ذکر اس بات کا کہ اللہ نے کسی نبی پر اس طرح کتاب اتاری ہو کہ اس کو اترتے سب نے دیکھا ہو ؟ موسیٰ ؑ سے بیشک اللہ تعالیٰ نے کلام کیا، جس طرح کلام کیا جاتا ہے، لیکن ان یہود کا اطمینان اس سے بھی نہ ہوا، انہوں نے اس پر بھی یہ شبہ وارد کردیا کہ جب تک خدا ہم سے رو در رو ہو کر کلام نہ کرے ہم کس طرح باور کریں کہ وہ تم سے کلام کرتا ہے۔ شک کے ایسے مریضوں کا کیا علاج ؟
ان آیات میں استدلال کا پہلو : ان آیات میں استدلال کا پہلو جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ ہے کہ اگر وحی کوئی ایسی چیز ہوتی جس کا تجربہ تنہا تمہی نے پیش کیا ہوتا اور نبوت و رسالت کوئی ایسی چیز ہوتی جس کا دعوی دنیا میں اکیلے تمہی نے کیا ہوتا تب تو ایک حد تک گنجائش تھی کہ ان لوگوں کو معذور خیال کیا جائے جو تمہارے دعوے پر اضطراب کا اظہار کریں اور اس انو کے دعوے کو اس وقت تک تسلیم نہ کریں جب تک ہر پہلو سے اپنا اطمینان نہ کرلیں لیکن جب انبیاء کا ایک طویل سلسلہ موجود ہے اور ان پر جن شکلوں میں اور جن باتوں کی وحی آئی ان کے بھی دفاتر موجود ہیں تو ان لوگوں کی طرف سے تمہاری صداقت کے ثبوت کے لیے ایسے بےسروپا مطالبات کے کیا معنی جو ان تمام رسولوں اور نبیوں کے نام لیوا بھی ہیں اور ان تمام کتابوں کے حامل ہونے کے مدعی بھی جو ان انبیاء پر نازل ہوئیں۔ جس طرح ہر گروہ کی کچھ مشترک خصوصیات وصفات ہوتی ہیں اسی طرح انبیاء کے گروہ کی بھی مشترک خصوصیات وصفات ہیں یہ ایسی نمایاں ہیں کہ ان کے حامل تمام دنیا سے الگ نظر آتے ہیں۔ نہ تو یہ ممکن ہے کہ کوئی جھوٹا مدعی ان کے اندر داخل ہوسکے اور نہ اس کا امکان ہے کہ جو ان کے اندر شامل ہو اس کو ان کے زمرے سے الگ کیا جاسکے۔
Ayah 4:165رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا۔
رُسُلًا، فعل محذوف سے منصوب بھی ہوسکتا ہے اور بدل بھی ہوسکتا ہے۔ دونوں ہی شکلوں میں معنی کے لحاظ سے کوئی خاص فرق نہیں ہوگا۔
انبیاء کا مشترک مشن : اس آیت میں رسولوں کا مشترک مشن بھی بتا دیا اور وہ ضرورت بھی جو ان کے بھیجنے کی داعی ہوئی۔ ان کا مشترک مشن لوگوں کو بشارت دینا اور خطرے سے آگاہ کرنا ہے۔ بشارت اس بات کی کہ جو لوگ ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کریں گے ان کے لیے ابدی زندگی کی خوشیاں اور کامرانیاں ہیں۔ آگاہی اس بات کی کہ جو لوگ کفر اور بدعملی کی راہ اختیار کریں گے ان کے لیے دائمی عذاب نار ہے۔
انبیاء کی بعثت کی ضرورت : اس کی ضرورت یہ بتائی کہ لوگوں پر اللہ کی حجت تمام ہوجائے۔ یہ کہنے کا موقع کسی کے لیے باقی نہ رہے کہ ان کے پاس اس خطرے سے آگاہ کرنے والا کوئی نہیں آیا ورنہ وہ ہرگز کفر و بدعملی کی راہ نہ اختیار کرتے۔ اگرچہ خدا عزیز ہے وہ انبیاء کے بھیجے بغیر بھی لوگوں کو ان کی نافرمانیوں پر سزا دیتا تو کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں تھا لیکن وہ حکیم بھی ہے، اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ وہ کسی کو سزا دے تو اتمامِ حجت کے بعد ہی دے۔ یہ حجت رسولوں کے آنے کے بعد پوری ہوگئی۔ عقل و فطرت کی جو شہادت ایمان باللہ، ایمان بالآخرت اور نیکی اور عدل سے محبت، ظلم و گناہ سے نفرت کی انسان کے اندر ودیعت تھی وہ ان انبیاء نے پوری طرح آشکارا کردی۔ ان کے جو تقاضے ہوسکتے تھے وہ بھی پوری تفصیل سے بیان کردیے۔ اب اگر کوئی ٹھوکر کھاتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ دونوں آنکھیں رکھتے ہوئے پورے دن کی روشنی میں ٹھوکر کھاتا ہے۔
یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انسانی فطرت خیر و شر کے شعور سے محروم نہیں ہے اور نہ عقل حق و باطل میں امتیاز سے قاصر ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے احسن تقویم پر پیدا کیا ہے اور اس کو خیر و شر کی معرفت بخشی ہے لیکن اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ وہ عقل و فطرت کی رہنمائی کے ساتھ وحی اور انبیاء کی رہنمائی سے بھی اس کو نوازے تاکہ عقل و فطرت کے تقاضے اس کے سامنے بالکل مبرہن ہو کر آجائیں اور گمراہی کے لیے ادنی عذر بھی باقی نہ رہ جائے۔
Ayahs 4:166–169166۔ 169:۔ لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ ۚ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَشْهَدُوْنَ ۭوَكَفٰي بِاللّٰهِ شَهِيْدًا۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَظَلَمُوْا لَمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيْقًا۔ اِلَّا طَرِيْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭوَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا۔
استدراک کا پہلو : حرف " لکن " استدراک کے لیے آتا ہے۔ یہ استدراک اس بات پر ہے جو اوپر والے ٹکڑے سے نکلتی ہے۔ اوپر انبیا کے سلسلے اور ان کی طرف وحی بھیجے جانے کا تفصیل کے ساتھ جو حوالہ دیا ہے اس سے مقصود، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، اہل کتاب کے مکذبین پر یہ واضح کرنا تھا کہ جو حقیقت ایسی جانی پہچانی ہوئی ہے، جس کو پرکھنے اور جانچنے کے لیے اتنے معیارات اور اتنی کسوٹیاں موجود ہیں، اگر یہ اس کو جھٹلاتے ہیں تو بس ان کی شامت ہی آئی ہوئی ہے۔ اس کے بعد اس پر استدراک کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ جھٹلاتے ہیں تو جھٹلائیں اللہ تو اس چیز کی گواہی دیتا ہے جو اس نے تمہاری طرف اتاری ہے، یعنی اس بات کی گواہی کہ یہ من جانب اللہ ہے، اس میں نفس اور شیطان کو کوئی دخل نہیں ہے، اللہ نے اس کو اپنے علم کے ساتھ اتارا ہے، اس میں کسی وسوسہ نفسانی یا کسی دغدغۂ شیطانی کی کوئی آمیزش نہیں ہے، اس کا تعلق علم الٰہی کے پاک سرچشمہ سے ہے اور یہ آب حیات کی طرح بالکل خالص اور بےآمیز ہے۔ مزید فرمایا کہ اس کے حق میں گواہی تو اللہ ہی کی کافی ہے لیکن اللہ کے ساتھ فرشتے بھی اس کے گواہ ہیں۔
یہ کلام پیغمبر کی تسلی کے لیے ہے : یہ ارشاد، جیسا کہ واضح ہے، پیغمبر ﷺ کی تسلی کے لیے ہے کہ یہ مخالفین تمہاری وحی کو وحی نہیں مانتے تو نہ مانیں، اس کی صحت و صداقت ان کے ماننے نہ ماننے پر منحصر نہیں ہے۔ تمہارے اطمینان کے لیے یہ بس ہے کہ خدا اور فرشتے اس کے گواہ ہیں۔ تم جس بزم قدس سے وابستہ ہو تمہارے لیے سند ان کی سند ہے نہ کہ ان محروم القسمت لوگوں کی جو گہر میں امتیاز سے قاصر ہیں۔ یہ لوگ تو حق سے دور ہوتے ہوتے اتنے دور ہوچکے ہیں کہ اب ان کے لیے راہ حق کی طرف مڑنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہا ہے۔ انہوں نے اپنے کفر اور اپنی جانوں پر خود اپنے ہاتھوں ظلم سے اپنے آپ کو اس قابل ہی نہیں چھوڑا ہے کہ خدا ان کی مغفرت فرمائے یا جہنم کے راستے کے سوا کوئی اور راہ ان کو دکھائے۔ اب یہ جہنم ہی میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ اور خدا کے لیے یہ معاملہ بہت آسان ہے۔ اس نے ان پر حجت تمام کردی، اب یہ چیز ذرا بھی اس پر شاق نہیں گزرے گی کہ یہ جہنم میں پڑیں اور اس میں ہمیشہ رہی۔ كَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا کے ٹکڑے پر ہم دوسری جگہ بھی بحث کرچکے ہیں۔
نبی کی صداقت کی ایک باطنی دلیل : یہ کلام اگرچہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، تسلی کے محل میں ہے لیکن یہ وحی کی صداقت کی ایک دلیل بھی ہے جس کا تعلق پیغمبر کی ذات سے ہے۔ اوپر وحی کی صداقت کی جو دلیل بیان ہوئی ہے اس کی نوعیت تاریخی شہادت کی ہے۔ یعنی انبیاء کی تاریخ اور ان کی وحی کی کسوٹی پر جانچ کر قرآن اور پیغمبر کا درجہ متعین کیا گیا ہے۔ اب یہ ایک دوسری دلیل بیان ہوئی ہے جس کی نوعیت ایک باطنی دلیل کی ہے۔ اس کا مدعا یہ ہے کہ پیغمبر اپنے باطن میں خدا اور فرشتوں کی شہادت اس طرح سنتا سمجھتا اور پرکھتا ہے کہ اس کے لیے اپنی وحی کی صداقت پر کسی شب ہے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اس طرح کی شہادت کسی غیر نبی کو حاصل نہیں ہوتی اس وجہ سے کسی غیر نبی کے الہام اور نبی کی وحی میں آسمان و زمین کا فرق ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص اپنی جس کیفیت کو الہام سمجھ رہا ہے وہ محض ایک وسوسۂ نفسانی یا شیطانی ہو لیکن پیغمبر پر وحی جس افق سے آتی ہے، جس زور و قوت کے ساتھ آتی ہے اور اللہ اور ملائکہ کی جس تائید و شہادت کے ساتھ آتی ہے وہ بجائے خود ایک ایسی برہان ہوتی ہے جس کے بعد کسی شب ہے کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ وحی کی صداقت کا یہی پہلو ہے جس کی وجہ سے ساری خدائی بھی نبی کی تکذیب کرے تب بھی اس کے اعتماد میں کوئی فرق نہیں پیدا ہوتا۔ اس کی بزم و انجمن اس کے باطن کے اندر ہوتی ہے جہاں اس کو خدا اور روح القدس کی معیت حاصل ہوتی ہے۔ اس مسئلے پر مزید بحث انشاء اللہ ہم سورة تحریم میں کریں گے۔
Ayah 4:170يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَيْرًا لَّكُمْ ۭ وَاِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا۔
ایک عام تنبیہ جس میں روئے سخن عیسائیوں کی طرف ہے : خطاب اگرچہ عام ہے لیکن آگے والی آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ روئے سخن اہل کتاب بالخصوص نصاری کی طرف ہے۔ فرمایا کہ اے لوگو، اللہ کا رسول تمہارے پاس حق لے کر آگیا ہے۔ اللہ کے دین میں تم نے جو ملاوٹیں کردی تھیں اور جن کے سبب سے یہ معلوم کرنا ناممکن ہوگیا تھا کہ حق کیا ہے، اب ان تمام ملاوٹوں سے پاک ہو کر دین ازسرنو اپنی کامل شکل میں تمہارے پاس آگیا ہے۔ اس پر ایمان لاؤ، اس میں تمہاری ہی بہتری ہے۔ اگر تم اس کا انکار کروگے تو یاد رکھو کہ خدا کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ تمہارا ہی بگڑے گا۔ خدا تو سب سے بےنیاز ہے۔ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ سب اس کے قابو میں ہیں اور وہ ہر ایک کے اعمال سے واقف ہے، وہ ہر نفس کو اس کے اعمال کی جزا دے گا۔ اگر یہ چیز آج ٹل رہی ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جزا ہے ہی نہیں۔ بلکہ یہ اس کی حکمت کے تحت ٹل رہی ہے۔ خدا حکیم بھی ہے۔
Ayah 4:171يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ وَلَا تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ ۭاِنَّمَا الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَكَلِمَتُهٗ ۚ اَلْقٰىهَآ اِلٰي مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِّنْهُ ۡ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ڟ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ ۭاِنْتَھُوْا خَيْرًا لَّكُمْ ۭاِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭسُبْحٰنَهٗٓ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ ۘ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭوَكَفٰي بِاللّٰهِ وَكِيْلًا۔
" غلو " کا مفہوم : لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ۔ " غلا یغلو " کے معنی بڑھنے، زیادہ ہونے، متجاوز ہونے کے ہیں، جب یہ لفظ دین کے تعلق سے آئے تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ دین میں جس چیز کا جو درجہ، مرتبہ یا جو وزن و مقام ہے اس کو بڑھا کر کچھ سے کچھ کردیا جائے۔ جو چیز پاؤ سیر ہے وہ من بھر کردی جائے، جو حکم صرف استحباب و استحسان کا درجہ رکھتا ہے اس کو فرض اور واجب کا درجہ دے دیا جائے، جو شخص ایک فقیہ یا مجتہد یا صحابی ہے اس کو امام معصوم بنا دیا جائے، جس کو اللہ نے نبی اور رسول بنایا اس کو شریک خدا یا خدا بنا ڈالا جائے، جس کی صرف تعطیم مطلوب ہے اس کی عبادت شروع کردی جائے۔ یہ اور اس قبیل کی ساری باتیں غلو میں داخل ہیں اور جس طرح مذہب کے معاملات میں تفریط بہت بڑا جرم ہے، اسی طرح یہ افراط بھی بہت بڑا فتنہ ہے۔ اس سے مذہب کا وہ مزاج، جو سرتاسر اعتدال ہے، بالکل درہم برہم ہوجاتا ہے اور اس کی وہ خدائی ترکیب و تالیف جو اس کے اجزا کو حسن و جمال کا ایک دلآویز پیکر بناتی ہے بالکل مسخ ہوجاتی ہے۔ یوں تو اس غلو میں تمام اہل مذاہب مبتلا ہوئے ہیں، یہاں تک کہ ہم مسلمان بھی، جن کو عدل و قسط پر قائم رہنے کی سب سے زیادہ تاکید ہوئی ہے، اس فتنے میں مبتلا ہوگئے لیکن نصاریٰ کو تو یوں سمجھئے کہ اس فساد میں امات کا درجہ حاصل ہے۔ ان کی اصل بیماری یہی ہے کہ انہوں نے اپنے اس غلو کے سبب سے پورے دین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ حضرت عیسیٰ ؑ خدا کے بندے اور اس کے رسول تھے۔ ان کو انہوں نے خدا کا بیٹا بنایا اور پھر ان کو لے جا کر خدائی کے عرش پر بٹھا دیا، حضرت مریم حضرت عیسیٰ کی والدہ تھیں، ان کو نعوذ باللہ خدا کی ماں بنایا، حضرت جبریل خدا کے بندے اور فرشتے ہیں ان کو بھی ایک اقنوم کی حیثیت دے کر خدائی کی تثلیث میں شریک کردیا، سیدنا مسیح نے دنیا اور دنیوی زندگی کے زخارف سے بچتے رہنے کی تاکید فرمائی تو انہوں نے رہبانیت کا ایک پورا نظام کھڑا کردیا۔ غرض اس غلو کے ہاتھوں انہوں نے مذہب کی کوئی چیز بھی ایسی نہیں چھوڑی جو اپنی جگہ پر برقرار رہ گئی ہو۔ فرش کی چیز عرش پر پہنچ گئی اور عرش کی چیز فرش پر آرہی۔
غلو کے فتنہ کا راستہ : وَلَا تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ ، دین میں غلو کا فتنہ جس راہ سے پیدا ہوتا ہے اور پھر اس کی تائید وتقویت کا سازوسامان جہاں سے فراہم ہوتا ہے، یہ اس کا سدباب ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی طرف وہی بات منسوب کی جائے جو اس نے فرمائی ہے تو اس سے کسی فتنے کا دروازہ نہیں کھل سکتا۔ فتنے کا دروازہ اس وقت کھلتا ہے جب اس کی طرف وہ بات منسوب کی جائے جو اس نے نہیں فرمائی ہے۔ یہی چیز بدعت ہے اور یہیں سے شیطان کو دین میں گھسنے اور اس میں فساد برپا کرنے کی راہ کھلتی ہے۔ نصاری جہاں سے ہلاک ہوئے ہیں وہ یہی دروازہ ہے۔ انہوں نے پال کی تمام خرافات کو اپنے دین کا جزو بنا دیا اور پھر اس پر اپنے سارے علم کلام کی عمارت کھڑی کرلی۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ انجیلوں میں تحریفات کے باوجود، اس فتنے کی آرائش کے لیے کچھ زیادہ مواد موجود نہیں ہے جس میں مسیحی مبتلا ہوئے۔ بعض چیزیں تحریف کی راہ سے ان میں داخل بھی کی گئیں تو ان کی تردید کا سامان بھی، جیسا کہ ہم نے آل عمران میں واضح کیا ہے، ان میں موجود ہے۔ اصل گمراہی کا مواد پال کی تعلیمات میں ہے اور ان کا تعلق نہ خدا سے ہے نہ مسیح سے۔
مسیح کی اصل حقیقت : اِنَّمَا الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ الایۃ، اب یہ مسیح کے بارے میں وہ صحیح بات بتائی گئی ہے جو اللہ نے ان کے باب میں فرمائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں، ان کی ولادت اللہ کے کلمہ " کن " سے ہوئی جس کو اللہ تعالیٰ نے مریم کی طرف القا فرمایا، اور ان کو روح بھی خدا ہی کی جانب سے عطا ہوئی مطلب یہ ہے کہ ان کی خارق عادت ولادت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی بنا پر ان کو خدائی کا درجہ دے دیا جائے۔ ان کی ولادت اسی طرح خدا کے کلمہ " کن " سے ہوئی ہے جس طرح آدم کی ولادت کلمہ " کن " سے ہوئی اور ان کے اندر بھی خدا نے اسی طرح روح پھونکی ہے جس طرح آدم کے اندر روح پھونکی۔ اسباب تو محض ظاہر کا پردہ ہیں، وجود اور زندگی تو جس کو بھی ملتی ہے خدا ہی کے حکم اور اسی کی عطا کردہ روح سے ملتی ہے۔ آل عمران آیت 59 کے تحت بھی یہ بحث گزر چکی ہے۔
فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ڟ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ۔ یعنی اپنے چند توہمات کو بنیاد بنا کر یہ تثلیث کا گورکھ دھندا جو تم نے کھڑا کیا ہے اس سے تائب ہو کر اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ " رسولوں پر ایمان لاؤ " کے الفاظ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جب خدا کے تمام رسولوں کی تعلیم تورات و انجیل میں موجود ہے اور اس تعلیم میں مسیح سے لے کر آدم تک کہیں تثلیث کا سراغ نہیں ملتا تو آخر یہ فتنہ تم نے کہاں سے گھڑ لی۔ پس صحیح راستہ تو یہ ہے کہ یہ الگ پگڈنڈی نکالنے کے بجائے تم بھی اس صراط مستقیم پر چلو جس پر تمام نبی اور رسول چلے۔ آخر یہ کس طرح ممکن ہے کہ مسیح کی تعلیم اللہ اور اس کے رسولوں کی متفقہ تعلیم سے بالکل الگ ہو۔
تثلیث کا عقیدہ : " ثلثۃ " سے مراد نصاری کا عقیدہ تثلیث ہے جو پال کی اختراعات میں سے ہے۔ اس عقیدے کی رو سے الوہیت میں باپ، بیٹے اور روح القدس تینوں شریک ہیں۔ یہ عقیدہ یوں تو بالکل مشرکین کے سانچے میں ڈھلا ہوا ہے لیکن ساتھ ہی اس بات کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ انجیلوں میں توحید کی تعلیم جو نہایت واضح الفاظ میں دی گئی ہے، کچھ اس کی بھی لاجھ رکھی جائے۔ 1؎
1؎ ہمارے مخدوم مولانا عبدالماجد دریابادی نے اپنی تفسیر میں مسیحیوں کا یہ عقیدہ خود ان کے الفاظ میں اس طرح نقل کیا ہے۔ " باپ بیٹے اور روح القدس کی الوہیت ایک ہی ہے۔ جلال برابر، عظمت ازلی یکساں، جیسا باپ ہے ویسا ہی بیٹا اور ویسا ہی روح قدس ہے۔ باپ غیر مخلوق، بیٹآ غیر مخلوق، اور روح القدس غیر مخلوق، باپ غیر محدود، بیٹا غیر محدود اور روح القدس غیر محدود، باپ ازلی، بیٹا ازلی، اور روح القدس ازلی۔ تاہم تینوں ازلی نہیں بلکہ ایک ازلی۔ اس طرح تین غیر محدود نہیں اور تین غیر مخلوق بلکہ ایک غیر مخلوق اور ایک غیر محدود۔ یوں ہی باپ قادر مطلق، بیٹا قادر مطلق، اور روح القدس قادر مطلق۔ تو بھی تین قادر مطلق نہیں بلکہ ایک قادر مطلق۔ ویسا باپ خدا، بیٹا خدا، اور روح القدس خدا، بس یہی تین خدا نہیں بلکہ ایک خدا "۔
اِنْتَھُوْا خَيْرًا لَّكُمْ میں خیراً اسی طرح فعل محذوف سے منسوب ہے جس طرح اوپر والی آیت میں ہے۔ یہ بات یہاں دھمکی کے اسلوب میں ہے۔ یعنی یہ تین میں ایک اور ایک میں تین کے چکر سے باہر نکلو ورنہ شامت آجائے گی۔ اللہ ہی واحد الٰہ ہے۔ اس کی الوہیت میں کوئی شریک نہیں ہے۔ اس کی صفات الوہیت کے یہ بات بالکل منافی ہے کہ اس کے اولاد مانی جائے۔ وہ ازلی و ابدی اور سب سے مستغنی اور بےنیاز ہے۔ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے تو اسے بیٹوں اور بیٹیوں کی کیا ضرورت ہے ؟ وہ سب کی کارسازی سب کی مدد، اور سب کے بھروسے کے لیے کافی ہے تو اس کے ساتھ کسی دوسرے کو جوڑنے کے کیا معنی ؟ یعنی یا تو خدا اپنی ذات میں کوئی خلا رکھتا ہو تب شرک کی گنجائش پیدا ہوتی ہے یا دوسروں کی ضروریات کے اعتبار سے کوئی کمی اس کے اندر ہو تب اس کی گنجائش پیدا ہوتی ہے، اگر وہ اپنی ذات اور صفات میں بھی کام ہے اور اپنی خلق کے لیے بھی کافر و وافی ہے تو شرک کی گنجائش کدھر سے نکلی ؟
Ayahs 4:172–173172۔ 173:۔ لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ اَنْ يَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَلَا الْمَلٰۗىِٕكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ ۭوَمَنْ يَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ اِلَيْهِ جَمِيْعًا۔ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَيَزِيْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ ۚ وَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَاسْتَكْبَرُوْا فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِــيْمًا ۥۙ وَّلَا يَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا۔
" استنکاف " کے معنی ہیں کسی چیز سے غیرت، حمیت، خودداری یا استکبار کے سبب سے اعراض کرنا۔
اس آیت کا صحیح زور سمجھنے کے لیے لاتغلوا فی دینکم والی آیت نگاہ میں رکھیے۔ غلو کے فتنے میں مبتلا ہونے کا بڑا سبب درحقیقت استکبار ہے۔ جو لوگ کسی چیز یا کسی شخص کو مان لیتے ہیں، وہ اگر حدود سے واقف یا ان کو ملحوظ رکھنے والے نہ ہوں تو ان کی خواہش اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس چیز یا شخص کو سب چیزوں اور تمام اشخاص سے بڑھ کر ثابت کر دکھائیں۔ پھر وہ اپنے استکبار کے اعتبار سے اس کو بڑھانا شروع کردیتے ہیں یہاں تک کہ اس کو بڑھاتے بڑھاتے اس حد تک پہنچا دیتے ہیں جہاں پہنچ کر استکبار کو تسلی ہوجاتی ہے کہ اب برتری کے میدان میں کوئی ان کا حریف نہیں رہا اور یہاں کوئی ان کو چیلنج نہیں کرسکتا۔ عیسائیوں کو یہی فتنہ پیش آیا۔ انہوں نے جب حضرت عیسیٰ کو مانا تو صرف اتنے ہی پر قانع نہ رہ سکے کہ ان کو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول مانیں۔ انہوں نے خیال کیا کہ اللہ کے بندے اور رسول تو بہت سے ہیں اگر مسیح بھی اللہ کے بندے اور رسول ہی ہیں تو پھر ان کا اور ان کے ماننے والوں کا امتیاز کیا ہوا ؟ اس محرک نے، جو کھلا ہوا استکبار ہے، انہیں آمادہ کیا کہ وہ کھینچ تان کر ان کو شریک خدا ثابت کریں۔
قرآن نے عیسائیوں کی اسی ذہنیت کو سامنے رکھ کر فرمایا ہے کہ خدا کی بندگی کو تو مسیح نے نہ عار سمجھا، نہ سمجھیں گے، نہ روح القدس اور دوسرے مقرب فرشتے اس کو عار سمجھیں گے۔ وہ اپنے درجے اور مرتبے کو خوب جانتے ہیں۔ البتہ جن لوگوں نے خدا کی بندگی کو عار سمجھا اور اپنے استکبار کے نشے میں یہ سارا فساد برپا کیا ہے ایسے سارے لوگوں کو خدا اپنے حضور میں جمع کرے گا۔ اس دن ان لوگوں کو جنہوں نے ایمان اور عمل صالح کی راہ اختیار کی ہوگی اللہ پورا پورا اجر بھی دے گا اور ان کو اپنے فضل سے بھی نوازے گا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے خدا کی بندگی کو عار سمجھا اور غرور میں آکر بات کا بتنگڑ بنایا تو اللہ ان کو دردناک عذاب دے گا اور ان کا کوئی کارساز و مددگار نہ ہوگا جو ان کی طرف سے اللہ کے مقابل میں کھڑا ہوسکے۔
Ayahs 4:174–175174۔ 175:۔ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا۔ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَاعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَـيُدْخِلُهُمْ فِيْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ ۙ وَّيَهْدِيْهِمْ اِلَيْهِ صِرَاطًا مُّسْتَــقِيْمًا۔
" برہان " اور " نور مبین " سے مراد : " برہان " اور " نور مبین " سے مراد قرآن مجید ہے۔ " برہان " کے لفظ سے اس کے عقلی و استدلالی پہلو کو واضح فرمایا ہے کہ وہ ایک حجت قاطع ہے، اس کے اندر ہر شبہ، ہر اعتراض اور ہر سوال کا مسکت اور تشفی بخش جواب موجود ہے بشرطیکہ آدمی اس پر کھلے دل سے غور کرے۔ " نور مبین " سے اس کے عملی پہلو کو واضح فرمایا ہے کہ وہ زندگی کے تمام نشیب و فراز میں حق و باطل کو واضح کرکے صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرماتا ہے اور تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔
" ہدایت " سے مراد مطلوب و مقصود کی ہدایت : وَّيَهْدِيْهِمْ اِلَيْهِ صِرَاطًا مُّسْتَــقِيْمًا، میں ہدایت کا لفظ میرے نزدیک اس ہدایت کے لیے ہے جو اہل ایمان کو آخرت میں حاصل ہوگی۔ قرآن میں یہ لفظ اس مفہوم میں متعدد مقامات میں استعمال ہوا ہے۔ بقرہ میں ہدایت کے مختلف مدارج پر بحث گزر چکی ہے۔ آخرت کی ہدایت مقصود و مطلوب کی طرف ہدایت ہے۔ یہ بات کہ اس ہدایت کا تعلق آخرت سے ہے اس سے نکلتی ہے کہ اس کا عطف فسیدخلہم پر ہے جس کا تعلق صریحاً آخرت سے ہے اور یہ بات کہ یہ ہدایت مطلوب و مقصود کی طرف ہے، " الیہ " کے لفظ سے نکلتی ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ پر ایمان اور اس حبل اللہ کو، جو قرآن کی شکل میں ان کی طرف نازل ہوئی ہے، مضبوطی سے پکڑ لیں گے خدا ان کو اپنی رحمت اور فضل بےپایاں سے بھی نوازے گا اور براہ مستقیم اور براہ راست ان کی رہنمائی اپنے قرب کی طرف بھی فرمائے گا اور یہ آخرت کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت ہوگی اس لیے کہ تمام ہدایت و شریعت کی اصل غایت اور اہل ایمان کی تمام مساعی کا اصل مقصود و مطلوب یہی قرب الٰہی ہے۔ اس آیت کا خطاب عام ہے جس میں مسلمان، اہل کتاب اور اہل عرب سب آگئے ہیں۔
Ayah 4:176آگے کا مضمون۔ آیت 176:۔
آخری آیت بطور ضمیمہ : اوپر والی آیت پر یہ سورة تمام ہوئی۔ اب آگے ایک آیت بطور ضمیمہ لگا دی گئی ہے جو ابتدائے سورة کے بیان کردہ احکامِ وراثت کے ایک خاص مسئلے کی وضاحت کے لیے بعد میں نازل ہوئی۔ اس کے آخر میں " کذلک یبین اللہ " کے الفاظ سے اشارہ بھی فرما دیا ہے کہ یہ توضیحی آیت ہے جو بعد میں توضیح کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ اس قسم کے ضمیمے کی مثال سورة بقرہ میں بھی گزر چکی ہے۔ آیت کی تلاوت فرمائیے۔
يَسْتَـفْتُوْنَكَ ۭ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِي الْكَلٰلَةِ ۭاِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَيْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَهٗٓ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ۚ وَهُوَ يَرِثُهَآ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ ۭفَاِنْ كَانَتَا اثْنَـتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ ۭوَاِنْ كَانُوْٓا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّنِسَاۗءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَـيَيْنِ ۭ يُـبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا ۭوَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۔
کلالہ کی میراث کا حکم : کلالہ کی میراث کا حکم آیت 12 میں گزر چکا ہے۔ کلالہ سے مراد وہ مورث ہے جس کے نہ اصول میں کوئی ہو، نہ فروع میں، صرف بھائی بہن وغیرہ ہوں۔ اگر آیت 12 کے حکم کو صرف اخیافی بہن کے ساتھ مخصوص مان لیا جائے تو اس توضیحی حکم کے بعد کلالہ کی وراثت کے حکم کا ہر پہلو واضح ہوجاتا ہے۔ اس کی تفصیلات فقہ و فرائض کی کتابوں میں موجود ہیں۔
سورۂ نساء کی تفسیر کی یہ آخری سطریں ہیں جو اس گنہگار کے قلم سے حوالۂ قرطاس ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ لغزشوں کو معاف فرمائے اور صحیح باتوں کے لیے دلوں میں جگہ پیدا کرے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔