Ayah 5:1يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ڛ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ۭاِنَّ اللّٰهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيْدُ۔
لفظ عقد کا مفہوم اور اس کی وسعت : اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ، عقد کا لفظ عہد و میثاق کے الفاظ کے مقابل میں عام ہے۔ اس میں قول قرار، قسم اور کسی معاملے میں گواہی کی ذمہ داری سے لے کر اس عہد و میثاق تک، جو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان ہوا ہے، سب آگیا۔ چناچہ اس سورة میں میثاق شریعت کی پوری تاریخ بھی اس کے تمام نتائج و عواقب کے ساتھ بیان ہوئی ہے، قسم اور شہادت کی ذمہ داریاں بھی واضح کی گئی ہیں۔
" انعام " اور " بہبود " میں فرق : اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ ، " انعام " کا لفظ عربی میں بھیڑ بکری، اونٹ اور گائے بیل کے لیے معروف ہے۔ اس کی تصریح خود قرآن نے سورة انعام کی آیات 143، 144 میں فرمادی ہے۔ " بہیمہ " کا لفظ اس سے عام ہے۔ اس میں " انعام " کی نوع کے دوسرے چوپائے بھی داخل ہیں۔ انعام کی طرف اس کی اضافت سے یہ مفہوم پیدا ہوتا ہے کہ اونٹ، گائے، بکری اور اس قبیل کے سارے ہی چوپائے، خواہ گھریلو ہوں یا وحشی، تمہارے لیے جائز ٹھہرائے گئے۔ " جائز ٹھہرائے گئے " سے مطلب یہ ہے کہ وہ پابندیاں جو تم نے اپنے اوہام کی بنا پر عائد کی ہیں وہ بھی ختم اور جو پچھلے صحیفوں کی روایات کی بنا پر تھیں وہ بھی کالعدم۔
اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ۔ یہ اشارہ ہے آگے آیت 3 میں بیان کردہ حرمتوں کی طرف۔
حالت احرام میں شکار کی ممانعت اور اس کی اہمیت : غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ۔ یہ ان حرمتوں میں سب سے پہلی حرمت کا ذکر ہے۔ یعنی تمہارے لیے انعام کے قسم کے تمام چوپائے خواہ پالتو ہوں یا وحشی جائز ہیں بایں پابندی کہ حالت احرام میں شکار کو جائز کرلینے والے نہ بن جانا۔ اس کے حالیہ اسلوب بیان اور اس کے سب سے پہلے ذکر کرنے سے اس کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے جس کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے تھوڑی سی تفصیل کی ضرورت ہے۔
ہم اوپر تمہیدی گفتگو میں اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سورة میں جو احکام بیان ہوئے ہیں وہ تکمیلی واتمامی نوعیت کے بھی ہیں اور ان میں امتحان و آزمائش کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ اپنے اسی پہلو سے وہ اس سورة کے لیے، جو سورة المیثاق ہے، موزوں قرار پائے ہیں۔ ان پر عہد لینے کے معنی ایک طرف تو یہ ہیں کہ پوری شریعت کی پابندی کا عہد لیا گیا، دوسری طرف یہ کہ ان چیزوں پر عہد لے لیا گیا جو دوسری ملتوں کے لیے مزلّۂ قدم ثابت ہوچکی تھیں۔ چناچہ یہاں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ دونوں ہی پہلو ملحوظ ہیں۔
کھانے پینے کے باب میں یہاں جو حرمتیں اور حلتیں بیان ہوئی ہیں وہ بالکل آخری نوعیت کی ہیں۔ اس سے پہلے اس باب کے بہت سے احکام بقرہ میں گزر چکے ہیں بلکہ بقرہ سے بھی زیادہ تفصیل کے ساتھ سورة انعام میں بیان ہوئے ہیں جو ایک مکی سورة ہے۔ صرف کچھ جزئیات و تفصیلات باقی رہ گئی تھیں۔ جو اس سورة میں بیان ہوگئی ہیں اور ان کے بعد یہ باب گویا بالکل مکمل ہوگیا۔ یہ حقیقت آگے کی آیات سے خود اس قدر واضح ہوجائے گی کہ دلیل کی محتاج نہیں رہے گی۔
ابتلا و امتحان کے زاویہ سے دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ حالت احرام میں شکار کی ممانعت کا معاملہ بالکل اس حکم سے مشابہ ہے جو یہود کو سبت کے احترام سے متعلق دیا گیا تھا۔ ان کو سبت کے دن شکار کی ممانعت تھی لیکن وہ اس عہد کو تباہ نہ سکے بلکہ مختلف حیلے ایجاد کرکے انہوں نے اس کو جائز بنا لینا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کردی۔ سبت کے حکم سے اس کی مشابہت خود قرآن نے اسی سورة میں آگے کی آیات 93۔ 96 میں واضح کردی ہے۔
آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اے ایمان والو، اپنے رب سے اس کی شریعت کی پابندی کا جو عہد و میثاق تم نے کیا ہے وہ پورا کرنا۔ تمہارے لیے انعام کی قسم کے تام چوپائے، بجز ان کے جو آگے بیان کیے جا رہے ہیں، اس پابندی کے ساتھ حلال ٹھہرائے گئے کہ احرام کی حالت میں شکار نہ کرنا۔ آخر میں انَّ اللّٰهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيْدُ فرما کر اس حکم کے امتحانی پہلو کی طرف اشارہ فرما دیا کہ یہ حکم تمہاری وفاداری کی جانچ کے لیے ہے، اس میں میں میکھ نکالنے اور اس سے گریز و فرار کی راہیں نہ ڈھونڈنا۔ خدا جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے اور اس کے احکام کی بےچون و چرا اطاعت ہی میں اس کے بندوں کے لیے خیر و برکت ہے۔ یہ بات یہاں ملحوظ رہے کہ جو احکام امتحان کے مقصد سے ہوتے ہیں ان میں بندوں کی مصلحت کا پہلو مخفی ہوتا ہے اس وجہ سے جب تک یہ عقیدہ دل میں مضبوط نہ ہو کہ خدا کو حکم دینے کا اختیار مطلق حاصل ہے اور اس کا ہر حکم بندوں ہی کی مصلحت کے لیے ہوتا ہے اس وقت تک سچی وفاداری کے ساتھ ان کی تعمیل نہیں ہوسکتی۔
Ayah 5:2يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَاۗىِٕدَ وَلَآ اٰۗمِّيْنَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا ۭوَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا ۭوَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا ۘوَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى ۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۠وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔
شعائر کا احترام : لَا تُحِلُّوْا شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ ، بقرہ آیت 158 کے تحت " شعائر اللہ " پر تفصیل کے ساتھ بحث ہوچکی ہے۔ شعائر کسی اہم دینی و روحانی حقیقت کے مظہر اور پیکر ہیں۔ ان میں اصل مقصود کی حیثیت تو ان روحانی و معنوی حقائق کی ہے جو ان مظاہر کے اندر مضمر ہیں اس لیے کہ ان حقائق ہی کا احساس دلانے کے لیے ان کو بطور نشان اور علامت کے مقرر کیا گیا ہے لیکن یہ مقرر کردہ خدا کے ہیں اس وجہ سے ان کے ظاہر و باطن دونوں کا یکساں احترام مطلوب ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ ان کے احترام کے جو آداب و شرائط مقرر ہیں ان کی خلاف ورزی کرے یا جو چیزیں یا جو باتیں ان کے تعلق سے حرام ہیں ان کو جائز کرے۔ مثلاً چار محترم مہینوں۔ ذی قعدی، ذی الحجۃ، محرم اور رجب جو حج وعمرہ کے تعلق سے محترم مہینے قرار دیے گئے ہیں، ان میں لڑائی بھڑائی ممنوع ہے، اگر کوئی گروہ ان میں لڑائی چھیڑ دے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے ان حرام مہینوں کو اپنے لیے جائز کرلیا اور ان کی بےحرمتی کی۔
" ہَدی " اور " قلائد " کا مفہوم : " ھَدی " قربانی کے جانوروں کو کہتے ہیں ج بطور ہدیہ خدا کے حضور پیش کرنے کے لیے بیت اللہ لے جائے جاتے ہیں۔ " قلائد " قلادہ کی جمع ہے جس کے معنی پٹے کے ہیں۔ اس میں مضاف محذوف ہے یعنی ذوات القلائد، یعنی قربانی اور نذر و نیاز کے وہ جانور جن کو تخصیص کے طور پر پٹے باندھ دیے گئے ہیں کہ پہچانے جائیں، کوئی ان سے تعرض نہ کرے۔ " ہدی " کے بعد " قلائد " کا ذکر عام کے بعد خاص کے ذکر کی نوعیت رکھتا ہے اور مقصود اس سے تعرض کی سنگینی کو واضح کرنا ہے کہ جن جانوروں کے گلے میں خدا کی تخصیص کے پٹے بندھ گئے ان پر حملہ خاص خدا کے گلے پر حملہ کرنا ہے۔ اسی طرح اٰمِّيْنَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ کے ساتھ، يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا، کی صفت کا ذکر اس نہی کو مؤثر بنانے کے لیے ہے کہ جو اللہ کے بندے خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں گھر سے نکلے ہوں ان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہونا خود خدا سے تعرض کرنے کے مترادف ہے۔ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ۔۔ الیۃ، " شنئان " کے معنی بغض و عداوت کے ہیں اور " لایجرمنکم " کے معنی ہیں، تمہارے لیے سبب و محرک نہ بنے، تمہیں آمادہ نہ کرے۔ " قوم " سے مراد یہاں قریش ہیں اور " ان صدوکم عن المسجد الحرام " اس بغض و عداوت کے سبب کی تفصیل ہے۔ یعنی قریش نے تمہیں بیت اللہ سے روک کر ہرچند تمہارے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے لیکن اس چیز کا غم و غصہ بھی تمہیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم شعائر الٰہی کے معاملے میں حدود الٰہی سے تجاوز کرو۔ ان کے عازمین حج کے قافلوں کو یا ان کے نذرونیاز کے جانوروں کو کوئی گزند نہ پہنچاؤ۔
دوسروں کی انگیخت پر حدود الٰہی سے تجاوز تعاون علی الاثم ہے : وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۔۔ الایۃ، یہ اوپر والی بات ہی کی ایک دوسرے پہلو سے تاکید ہے یعنی جس گروہ کو اللہ نے دنیا میں نیکی اور تقوی قائم کرنے کے لیے پیدا کیا ہے اس کے لیے پسندیدہ روش یہ نہیں ہے کہ وہ دوسروں کی زیادتیوں سے مشتعل ہو کر خود اسی طرح کی زیادتیاں کرنے لگے۔ وہ ایسا کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے گناہ اور زیادتی کے کام میں تعاون کیا اور شریروں نے برائی کی جو نیو جمائی اس پر اس نے بھی چند ردّے رکھ دیے، حالانکہ اس کا کام نیکی اور تقوی میں تعاون کرنا تھا۔ 1 ؎
1 ؎۔ یہ ملحوظ رہے کہ یہاں جس چیز سے روکا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے کے طرز عمل سے مشتعل ہو کر کوئی کام جارحانہ طور پر خود مسلمان بھی ایسا کر گزریں جو شعائر الٰہی کے احترام کے منافی ہو۔ اگر مسلمانوں کو انے تحفظ اور دفاع کے لیے مجبوراً کوئی قودم اٹھانا پڑے تو وہ اس سے مستثنی ہے۔ دفاعی جنگ اشہر حرم بلکہ عین حرم میں بھی لڑی جاسکتی ہے۔ بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
اجزا کو سمجھ لینے کے بعد ٓیت کے مجموعی نظام پر ایک بار پھر نظر ڈال لیجیے :
اورپ والی ٓیت میں حالت احرام میں شکار کی ممانعت فرمائی تھی کہ یہ چیز احرام کے تقدس اور اس کے درویشانی مزاج کے خلاف تیر شعائر الٰہی میں سے ایک شعیرہ کی توہین ہے۔ اب اسی تعلق سے تمام شعائر الٰہی کے احترام کی پہلے بحیثیت مجموعی تاکید فرمائی پھر چند مخصوص شعائر کا حوالہ دیا۔ پھر شکار کی ممانعت سے متعلق یہ واضح فرمادیا کہ اس کا تعلق صرف حالت احرام سے ہے۔ احرام سے باہر ٓجانے کے بعد یہ ممانعت اٹھ جائے گی۔
پھر اس اشتعال انگیز سبب کا ذکر فرمایا جو اس وقت تازہ بتازہ موجود تھا۔ اندیشہ تھا کہ مسلمان اس سے مغلوب ہو کر کوئی ایسی بات کر گزریں جو احترامِ شعائر کے منافی ہو۔ قریش کے ان کو بیت اللہ کے حج و زیارت سے محروم کر رکھا تھا۔ یہ معاملہ نہایت نازک اور صبر ٓزما تھا اور اب کہ مسلمانوں نے سیاسی قوت حاصل کرلی تھی خاصا اندیشہ اس بات کا تھا کہ اس عہد کے احترام میں ان سے کوئی بےاعتدالی صادر ہوجائے۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ ان کو مزل ﷺ قدم سے ہوشیار کردے کہ دوسروں کی زیادتیاں بھی ان کے لیے کسی زیادتی کا جواز فراہم نہیں کرسکتیں۔ وہ دنیا میں شعائر الٰہی کا احترام قائم کرنے اور نیکی اور تقویٰ کے علم بردار بن کر اٹھے ہیں اس وجہ سے جب تک اپنے بچاؤ کی ضرورت مجبور نہ کردے ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی قدم نیک اور تقویٰ کے خلاف اٹھائیں۔ اس کے بعد نکتے کی بات یہ ارشاد ہوئی کہ دوسروں کے غلط رویے سے متاثر ہو کر انہی کی سی روش اختیار کرلینا درحقیقت ان کی برپا کی ہوئی بدی میں ان کے ساتھ تعاون کرنا ہے، اور یہ چیز اہل ایمان کے شایان شان نہیں ہے۔ اہل ایمان کے شایان شان بات یہ ہے کہ وہ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کریں۔ دشمن کے ہاتھوں بھی کوئی کام نیکی کا ہورہا ہو تو اس میں مزاحم ہونے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ آخر میں " شدید العقاب " کا حوالہ دینے سے مقصود مسلمانوں کو سخت الفاظ میں تنبیہ ہے کہ عہد الٰہی کی حرمت سخت سے سخت حالات میں بھی قائم رکھنی ہے۔ ورنہ یاد رکھو کہ جس خدا نے تم کو اپنے عہد و میثاق سے دنیا کی امامت کی سرفرازی بخشی ہے، اس کے ہاں نقض میثاق کی پاداش بھی بڑی ہی سخت ہے۔
Ayah 5:3حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوْذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيْحَةُ وَمَآ اَ كَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ ۣ وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ وَاَنْ تَسْـتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ۭذٰلِكُمْ فِسْقٌ ۭ اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۭ اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ۭ فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔
" میتۃ " کی تفصیل : میتۃ، دم، لحم خنزیر، اور ما اھل لغیر اللہ بہ کا ذکر سورة بقرہ آیت 173 کے تحت گزر چکا ہے۔ " منخنقہ " اس جانور کو کہتے ہیں جو گلا گھٹ کر مرجائے۔ " موقوذۃ " جو چوٹ سے مرجائے۔ مثلاً کسی جانور پر دیوار گر پڑی یا وہ کسی ٹرک کے نیچے آگیا۔ " متردیۃ " جو اوپر سے نیچے گر کر مرجائے۔ " نطیحۃ " جو کسی جانور کی سینگ سے زخمی ہو کر مرجائے۔ " ما اکل السبع " جس کو کسی درندے نے پھاڑ کھایا ہو۔
مذکورہ پانچوں چیزوں کا ذکر درحقیقت " میتۃ " کی تفصیل کے طور پر ہوا ہے اور اس تفصیل سے گویا اس حکم کی تکمیل ہوگئی جو بقرہ اور اس سے پہلے انعام میں بیان ہوچکا ہے۔ اس تفصیل کی ضرورت اس لیے تھی کہ بعض ذہنوں میں یہ شبہ پیدا ہوسکتا تھا کہ ایک مردار میں جو طبعی موت مرا ہو اور اس جانور میں جو کسی چوٹ یا کسی حادثہ کا شکار ہو کر اچانک مرگیا ہو، کچھ فرق ہونا چاہیے۔ چناچہ یہ شبہ اس زمانے میں بھی بعض لوگ پیش کرتے ہیں بلکہ بہت سے لوگ تو اسی کو بہانہ بنا کر گردن مروڑی ہوئی مرغی بھی جائز کر بیٹھے۔ قرآن کی اس تفصیل نے اس شب ہے کو صاف کردیا۔
تھان، استھان اور مزار پر قربانی کی ممانعت : وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ۔ " نصب " تھان اور استھان کو کہتے ہیں۔ عرب میں ایسے تھان اور استھان بیشمار تھے جہاں دیویوں، دیوتاؤں، بھوتوں، جنوں کی خوشنودی کے لیے قربانیاں کی جاتی تھیں۔ قرآن نے اس قسم کے ذبیح بھی حرام قرار دیے۔ قرآن کے الفاظ سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ ان کے اندر حرمت مجرد بارادۂ تقرب و خوشنودی، استھانوں پر ذبح کیے جانے ہی سے پیدا ہوجاتی ہے، اس سے بحث نہیں کہ ان پر نام اللہ کا لیا گیا ہے یا کسی غیر اللہ کا۔ اگر غیر اللہ کا نام لینے کے سب سے ان کو حرمت لاحق ہوتی تو ان کے علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، اوپر " وما اھل لغیر اللہ بہ " کا ذکر گزرچکا ہے، وہ کافی تھا۔ ہمارے نزدیک اسی حکم میں وہ قربانیاں بھی داخل ہیں جو مزاروں اور قبروں پر پیش کی جاتی ہیں۔ ان میں بھی صاحب مزار اور صاحب قبر کی خوشنودی مد نظر ہوتی ہے۔ ذبح کے وقت نام چاہے اللہ کا لیا جائے یا صاحب قبر و مزار کا، ان کی حرمت میں دخل نام کو نہیں بلکہ مقام کو حاصل ہے۔
" استقسام بالازلام، کی نوعیت : وَاَنْ تَسْـتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ۔ استقسام کے معنی ہیں حصہ یا قسمت یا تقدیر معلوم کرنا۔ ازلام، جوئے یا فال کے تیروں کو کہتے ہیں۔ عرب میں فال کے تیروں کا بھی رواج تھا جن کے ذریعے سے وہ اپنے زعم کے مطابق غیب کے فیصلے معلوم کرتے تھے اور جوئے کے تیروں کا بھی رواج تھا جنکے ذریعے سے وہ گوشت یا کسی چیز کے حصے حاصل کرتے تھے۔ ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں " خمر و میسر " کے تحت بیان کر آئے ہیں کہ عرب شراب نوشی کی مجلسیں منعقد کرتے، شراب کے نشے میں جس کا اونٹ چاہتے ذبح کردیتے، مالک کو منہ مانگے دام دے کر راضی کرلیتے پھر اس کے گوشت پر جوا کھیلتے۔ گوشت کی جو ڈھیریاں جیتتے جاتے ان کو بھونتے، کھاتے، کھلاتے اور شرابیں پیتے اور بسا اوقات اسی شغل بدمستی میں ایسے ایسے جھگڑے کھڑے کرلیتے کہ قبیلے کے قبیلے برسوں کے لیے آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے اور سینکڑوں جانیں اس کی نذر ہوجاتیں۔ مجھے خیال ہوتا ہے کہ یہاں " استقسام بالازلام " سے یہی دوسری صورت مراد ہے۔
ذٰلِكُمْ فِسْقٌ، ذلکم کا اشارہ اوپر ذکر کی ہوئی تمام چیزوں کی طرف ہے اور " فسق " کا لفظ یہاں عام فقہی مفہوم میں نہیں ہے بلکہ قرآنی مفہوم میں ہے۔ قرآن میں یہ لفظ کھلی ہوئی نافرمانی، سرکشی، کفر اور شرک سب کی تعبیر کے لیے آیا ہے۔ ابلیس کے متعلق ہے۔ ففسق عن امر ربہ۔
کفار سے معاشرتی انقطاع کا اعلان : اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ۔۔۔ الایۃ۔ " الیوم " سے مراد کوئی معین دن نہیں ہے بلکہ وہ زمانہ ہے جس میں یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں۔ ہم تمہید میں اشارہ کر آئے ہیں کہ یہ سورة تمام تر اسلام کے تکمیلی دور کے احکام وہ ہدایات پر مشتمل ہے۔ کفار کے اس دین سے مایوس ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ اب تک تو وہ اس طمع خام میں مبتلا رہے ہیں کہ وہ اس کو یا تو مغلوب کرلیں گے یا " کچھ " لو " اور کچھ دو " کے اصول پر کوئی ایسا سمجھوتہ کرلیں گے کہ دونوں کا نباہ ہوسکے۔ لیکن اب ان کی اس طمع خام کا خاتمہ ہوگیا۔ اب انہوں نے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ دونوں راہیں ایک دوسری سے اس طرح الگ الگ ہوگئی ہیں کہ اب ان کا کسی نقطۂ انتصال پر جمع ہونا بالکل ناممکن ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کے اشتراک کو معاشرتی ارتباط میں بڑا دخل ہوتا ہے۔ اگر صورت یہ پیدا ہوجائے کہ ایک کے ہاں جو چیزیں حلال و طیب ہوں دوسرے کے ہاں وہ خبیث و حرام قرار دے دی جائیں تو اسکے معنی یہ ہوئے کہ دونوں میں مکمل معاشرتی انقطاع کا اعلان ہوگیا اور اب ان دونوں کے مل بیٹھنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہی ہے۔ قدرتی طور پر اس چیز نے ان کو اسلام اور مسلمانوں سے آخری درجے میں مایوس کردیا۔ آخری مایوسی سے بعض مرتبہ آخری جھلّاہٹ بھی پیدا ہوتی ہے لیکن یہ مریض کا آخری سنبھالا ہوتی ہے جس کے بعد آخری ہچکی کے سوا کوئی اور چیز باقی نہیں رہ جاتی۔ اس وجہ سے قرآن نے فرمایا کہ اب ان سے اندیشہ ناک ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب وہ زور لگائیں بھی تو ان میں دم کیا ہے۔ اب تم صرف مجھی سے ڈرو۔ ان کی کوئی پروا نہ کرو۔
تکمیل دین اور اتمامِ نعمت : اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ۔۔۔ الایۃ۔ تکمیل دین سے مراد اصل دین کی تکمیل ہے اور اتمام نعمت سے مراد اس آخری شریعت کا اتمام ہے۔ جہاں تک اصل دین کا تعلق ہے اس کا آغاز تو حضرت ادم سے ہوا ہے۔ زمانہ کی رفتار کے ساتھ ساتھ، حالات اور حکمت الٰہی کے تقاضوں کے مطابق، مختلف انبیاء و رسل پر یہ اترتا رہا یہاں تک کہ خاتم الانبیاء محمد ﷺ پر یہ کامل ہوگیا۔ اس سے پہلے جو دین آئے وہ اسی دین کے اجزا تھے۔ ان کی حیثیت پورے دین کی نہیں تھی۔ پورے دین کی حیثیت صرف اسی دین کو حاصل ہے۔ اس حقیقت کے اشارات پچھلے آسمانی صحیفوں میں بھی موجود ہیں جن کے حوالے اس کتاب میں بھی گزرچکے ہیں۔ نبی ﷺ سلسلہ نبوت کی آخری کڑی اور اس قصر دین کے کونے کی آخری اینٹ ہیں۔
جہاں تک اس آخری امت پر اللہ کی نعمت کا تعلق ہے اس کا آغاز غار حرا کی پہلی وحی سے ہوا اور درجہ بدرجہ 23 سال کی مدت میں اللہ تعالیٰ نے اس نعمت کا اتمام فرمایا۔ چناچہ اس مرحلے میں آکر ایک طرف اللہ کا دین بھی اپنے کمال کو پہنچ گیا، دوسری طرف اس امت پر اللہ تعالیٰ کی نعمت بھی پوری ہوگئی۔ اس کا مجموعی نام اسلام ہے جو ہمیشہ سے اللہ کا دین ہے اور جو حضرت ابراہیم و حضرت اسمعیل کی وراثت کی حیثیت سے نبی امری اور ان کی امت کو منتقل ہوا، وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا میں اس دین کے لیے اللہ تعالیٰ کی اس پسندیدگی اور انتخاب کا اظہار ہے جس کے وجوہ دلائل تفصیل کے ساتھ بقرہ اور آلِ عمران میں گزر چکے ہیں۔ اس پسندیدگی کے اظہار سے بالواسطہ یہودیت اور نصرانیت کے لیے ناپسدیدگی کا اظہار بھی ہوگیا کہ وہ اللہ کے دین نہیں بلکہ دین سے انحراف کی مختلف شکلیں ہیں۔
اضطرار کی شرعی حد : فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ۔ " مخمصۃ " کے معنی بھوک کے ہیں۔ بھوک سے مضطر ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی بھوک کی ایسی مصیبت میں گرفتار ہوجائے کہ موت یا حرام میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے سوا کوئی اور راہ بظاہر کھلی ہوئی باقی ہی نہ رہ جائے۔ ایسی حالت میں اس کو اجازت ہے کہ حرام چیزوں میں سے بھی کسی چیز سے فائدہ اٹھا کر اپنی جان بچا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ " غیر متجانف " کی قید اسی مضمون کو ظاہر کررہی ہے جو دوسرے مقام میں " غیر باغ ولا عاد " سے ادا ہوا ہے۔ یعنی نہ تو دل سے چاہنے والا بنے اور نہ حدّ رمق کی حد سے آگے بڑھنے والا۔ " مخمصۃ " کی قید سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ جہاں دوسرے غذائی بدل موجود ہوں وہاں مجرد اس عذر پر کہ شرعی ذبیحہ کا گوشت میسر نہیں آتا، جیسا کہ یورپ اور امریکہ کے اکثر ملکوں کا حال ہے، ناجائز کو جائز بنالینے کا حق کسی کو نہیں ہے۔ گوشت زندگی کے بقا کے لیے ناگزیر نہیں ہے۔ دوسری غذاؤں سے نہ صرف زندگی بلکہ صحت بھی نہایت اعلی معیار پر قائم رکھی جاسکتی ہے۔ " غیر متجانف لاثم " کی قید اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ رخصت بہرحال رخصت ہے اور حرام بہر شکل حرام ہے۔ نہ کوئی حرام چیز شیر مادر بن سکتی نہ رخصت کوئی ابدی پروانہ ہے۔ اس وجہ سے یہ بات کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ رفع اظرار کی حد سے آگے بڑھے۔ اگر ان پابندیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی شخص کسی حرام سے اپنی زندگی بچالے گا تو اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اگر اس اجازت سے فائدہ اٹھا کر اپنے حظ نفس کی راہیں کھولے گا تو اس کی ذمہ داری خود اس پر ہے، یہ اجازت اس کے لیے قیامت کے دن عذر خواہ نہیں بنے گی۔
اجزاء کی وضاحت کے بعد آیت کے مجموع نظام پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہ ان حرمتوں کی تفصیل بیان ہورہی ہے جن کا پہلی آیت میں " الا مایتلی علیکم " کے الفاظ سے حوالہ دیا گیا تھا۔ اس میں پہلے ان چیزوں کا ذکر ہوا جن کی حرمت پہلے ہی بیان ہوچکی تھی، مزید تاکید اور تکمیل بحث کے طور پر ان کا یہاں بھی اعادہ کردیا گیا۔ اس کے بعد " میتۃ " کی تفصیل فرمائی کہ جس طرح طبعی موت سے مرا ہوا جانور مردار ہے اسی طرح ناگہانی اور اتفاقی حوادث سے مرے ہوئے جانور بھی مردار ہیں دونوں کا حکم ایک ہی ہے۔ اسی طرح کسی درندے کا پھاڑا ہوا جانور بھی مردار ہے الا آنکہ تم نے اس کو زندہ پایا ہو اور ذبح کرلیا ہو۔ اسی طرح کسی استھان پر پیش کی ہوئی قربانی اور جوئے کے ذریعے سے تقسیم کیا ہوا گوشت بھی حرام ہے۔ جس طرح غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے ہوئے جانور کو شرک کی آلودگی سے حرمت لاحق ہوجاتی ہے اسی طرح غیر اللہ کی خوشنودی اور جوئے کے تعلق سے ان چیزوں کو حرمت لاحق ہوجاتی ہے۔ حرمتوں کا یہ اعلان چونکہ کفار سے کامل معاشرتی انقطاع کے اعلان کے مترادف تھا، اس وجہ سے فرمایا کہ اب کفار تم سے اور تمہارے دین سے مایوس ہوچکے ہیں۔ اب ان کے اندر یہ دم خم باقی نہیں رہا کہ تمہارے دین کو مغلوب کرنے یا اس کو کچھ نرم بنانے کا حوصلہ کریں۔ اب اگر وہ کچھ کریں گے بھی تو وہ بس مایوسی کا مظاہرہ ہوگا تو تم اس کی پروا نہ کرنا۔ صرف میری ہی پروا کرنا۔ اس کے بعد مسلمانوں کو بشارت دی کہ اب اللہ کا دین بھی تکمیل کی حد کو پہنچا اور تمہاری شریعت بھی اتمام کی منزل کو پہنچی اور اسلام کو خدا نے تمہارے لیے دین کی حیثیت سے پسند فرمایا۔ آخر میں اضطرار کی حالت میں، حرام سے فائدہ اٹھا لینے کی جو رخصت ہے اس کا ذکر فرمایا۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ " الیوم اکملت لکم۔۔۔ الایۃ " حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ نازل تو اسی سلسلے میں حجۃ الوداع سے پہلے ہوئی ہے لیکن اس بشارت کا اعلان عام چونکہ حجۃ الوداع ہی کے موقع پر ہوا اس وجہ سے بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ اس کا نزول اسی موقع پر ہوا ہے۔
Ayah 5:4يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ ۭقُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ ۙوَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ ۡ فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۔
سھائے ہوئے جانوروں کے پکڑے ہوئے شکار کا حکم : يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ۔ سوال قرآن کے معروف اسلوب بیان کے مطابق اختصار کے ساتھ نقل ہوا ہے لیکن جواب بتا رہا ہے کہ سوال سدھائے اور سکھلائے ہوئے جانوروں کے پکڑے ہوئے شکار سے متعلق ہے کہ اگر وہ شکار پکڑیں اور شکار ذبح کی نوبت آنے سے پہلے ہی دم توڑ دے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہوا ہوگا کہ اوپر والی آیت میں درندے کے پھاڑے ہوئے جانور کو صرف اس صورت میں جائز بتایا ہے جب اس کو زندہ حالت میں ذبح کرلیا جائے۔
تحریم و تحلیل کے باب میں ایک کلیہ : قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ۔ یہ جواب کا صرف ایک حصہ ہے جو ایک کلیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن کا یہ بھی ایک اسلوب ہے کہ وہ کسی سوال کا جواب دیتا ہے تو اس کا آغاز بالعموم جامع بات سے کرتا ہے کہ جواب صرف سوال ہی تک محدود نہ رہ جائے بلکہ ایک وسیع دائرے میں سائل کی رہنمائی کرے۔ چناچہ پہلے فرمایا کہ تمہارے لیے " طیبات " حلال ہیں۔ " طیبات " کا لفظ " خبائث " کا ضد ہے۔ طیبات، اچھی، ستھری اور پاکیزہ چیزوں کو کہتے ہیں۔ سوال چونکہ جانوروں سے متعلق ہے اس وجہ سے اس سے مراد وہ جانور ہوں گے جو اول تو خود اپنے مزاج، اپنی سرشت اور انسان کے لیے اپنی افادیت اور اپنے اثرات کے لحاظ سے اچھے اور پاکیزہ ہوں۔ ثانیاً ان کو اللہ کے نام پر ذبح کرلیا گیا ہو۔ اس طرح اس سے وہ تمام جانور نکل جائیں گے جو اپنے مزاج اور سرشت کے اعتبار سے انسان کے صالح مزاج سے مناسبت رکھنے والے نہ ہوں۔ مثلاً خنزیر، کتے، بندر، درندے اور شکاری پرندے وغیر۔ یا مزاج سے مناسبت رکھنے والے تو ہوں لیکن کسی خارجی سبب سے ان کے اندر خبث و فساد پیدا ہوگیا ہو۔ مثلاً جانور مرگیا یا غیر اللہ کے نام پر یا کسی استھان پر اس کو ذبح کیا گیا ہو۔ یہ خبائث میں داخل ہیں۔ قرآن کے اس جواب سے یہ رہنمائی ملی کہ شکار کیے ہوئے جانوروں میں بھی حلال صرف طیبات ہیں، خبائث اس حلت سے خارج ہیں۔
وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ۔ جوارح، شکاری جانوروں کو کہتے ہیں، عام اس سے کہ وہ درندوں میں سے ہوں، مثلاً کتے، شیر، چیتے وغیرہ یا پرندوں میں سے مثلاً باز اور شکرے وغیر۔ " کلب " کتے کو کہتے ہیں۔ اسی سے " تکلیب " بنا لیا ہے جس کے معنی کتے کو شکار کی ٹریننگ دینے کے ہیں۔ ابتداءً تو یہ لفظ اسی معنی کے لیے استعمال ہوا۔ لیکن پھر اس کا استعمال شکاری جانوروں کی تربیت کے لیے عام ہوگیا۔ خواہ کتا ہو یا شکار درندوں اور پرندوں میں سے کوئی اور جانور۔ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ سے اس ترتبیت اور ٹریننگ کی نوعیت کا اظہار ہو رہا ہے کہ تم نے اس سلیقہ میں سے ان کو کچھ بتایا اور سکھایا ہو جو اللہ نے تم کو سکھایا ہے۔ ظاہر ہے کہ رہ تربیت میں مربی کے ذوق، اس کی پسند و ناپسند اور اس کے مقصد تربیت کی جھلک ہوتی ہے اور اس چیز کو جس طرح زیر تربیت انسان اپناتا ہے اسی طرح اپنی جبلی استعداد کے حد تک حیوانات بھی اپناتے ہیں۔ یہ چیز سدھائے ہوئے جانوروں کو دوسرے جانوروں سے بالکل الگ کردیتی ہے اس وجہ سے ایک عام کتے کے شکار اور ایک سدھائے ہوئے کتے کے شکار میں فرق ایک امر فطری ہے۔ بلکہ ایک مسلمان کے تربیت کردہ کتے اور ایک عیسائی کے تربیت کو وہ کتے کے میلان اور سلیقہ میں بھی فرق ہوجائے گا۔ میرے نزدیک تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ کے الفاظ سے اسی خاص سلیقہ کی طرف اشارہ ہورہا ہے جو کسی سدھائے ہوئے جانور کو اس کے مسلمان مربی سے ملتا ہے۔ اپنے اس سلیقہ کی وجہ سے یہ جانور اپنے مربی کا آلہ اور جارحہ بن جاتا ہے اور اس کا کیا ہوا شکار اس کے لیے اسی طرح طبیب بن جاتا ہے جس طرح اس کے اپنے ہاتھ ذبیحہ۔
تربیت یافتہ جانور کی علامت : فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ۔ امساک کے معنی روکنے اور تھامنے کے ہیں۔ جب اس کے ساتھ " علی " آئے جیسا کہ " امسک علیک زوجک " میں ہے تو اس کے اندر اختصاص کا مضمون بھی پیدا ہوجاتا ہے یعنی کسی شے کو کسی خاص کے لیے روک یا سینت رکھنا۔ اب یہ سوال کا اصل جواب ہے۔ فرمایا کہ اگر مذکورہ شرائط کے مطابق تربیت کیا ہوا جانور ہو تو اس کے کیے ہوئے شکاروں میں سے وہ شکار تمہارے لیے جائز ہوگا جو وہ خاص تمہارے لیے روک رکھے۔ چونکہ یہاں اختصاص کا مضمون پایا جاتا ہے اس وجہ سے میں ان لوگوں کے مذہب کو زیادہ قوی سمجھتا ہوں جو کہتے ہیں کہ شکاری جانور شکار میں سے کچھ کھالے تو وہ شکار جائز نہ ہوگا۔ یہی بات بعض احادیث سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ میرے نزدیک اس معاملے میں درندے اور پرندے کے شکار کے درمیان فرق کرنے کی بھی کوئی قوی بنیاد نہیں ہے۔ اس حد تک تربیت جس طرح درندے قبول کرلیتے ہیں، تجربہ کار بتاتے ہیں کہ باز، عقاب، شاہین بھی قبول کرلیتے ہیں۔
وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ کا مفہوم : وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ میں ضمری مجرور کے مرجع سے متعلق سلف سے تین قول منقول ہیں۔ ایک یہ کہ شکاری جانور کور چھوڑتے وقت اس پر بسم اللہ پڑھ لیا کرو، اس قول کے قائلین کے نزدیک مرجع " وما علتم " ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر شکار زندہ ہاتھ آگیا ہو تو اس کو بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرلو، اس گروہ کے نزدیک مرجع " ما امسکن " ہے۔ تیسرا یہ کہ اس شکار کو کھاتے وقت اس پر بسم اللہ پڑھ لیا کرو۔ ان لوگوں کے نزدیک اس کا تعلق " فکلوا " سے ہے۔ ان میں سے پہلے قول کی تائید میں ایک حدیث ہے جو بخاری میں عدی بن حاتم سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ میں اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑوں اور کوئی دوسرا کتا بھی اس میں شریک بن جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا ایسا شکار نہ کھاؤ کیونکہ تم نے اللہ کا نام اپنے کتے پر لیا ہے، دوسرے کتے پر نہیں لیا ہے۔
دوسرے قول میں یہ ضعف ہے کہ جب اوپر یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ درندے کا کھایا ہوا شکار اگر زندہ ہاتھ آجائے تو اس کو ذبح کرے کھا سکتے ہو تو تربیت یافتہ جانور کے شکار سے متعلق بعینہ اسی حکم کا اعادہ ایک بالکل غیر ضروری بات کا اعادہ ہے۔ تیسرے قول میں اس طرح کا کوئی ضعف یا اشکال اگرچہ نہیں ہے لیکن یہ بات عام آداب طعام سے تعلق رکھنے والی بات ہے، یہاں اس کا محل سمجھ میں نہیں آتا۔
شکار بادیہ نشین قوموں کی ایک معاشی ضرورت ہے : اس سوال اور اس کے جواب کی یہ اہمیت ملحوظ رہے کہ شکار عرب میں محض ایک شوقیہ تفریح نہیں تھا بلکہ ان کے ہاں اس کو معاش کے ایک اہم ذریعے کی حیثیت حاصل تھی۔ ان کی معاش کا انحصار تین چیزوں پر تھا۔ گلہ بانی، تجارت، سکار، اس معاشی اہمیت کے سبب سے ان کے ہاں شکاری جانوروں کی تربیت کا فن بھی کافی ترقی کر گیا تھا۔ امرء القیس جب اپنے شعروں میں اپنی کتیا کا ذکر کرتا ہے تو آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ یہ کسی کتیا کا ذکر ہے یا کسی شعلہ صفت پر فن قتالہ کا۔ اور یہ چیز کچھ عربوں ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ دنیا کی تمام بادیہ نشین قوموں کی یہ مشترک خصوصیت ہے۔ اس وجہ سے حلت و حرمت کی اس بحث میں یہ سوال پیدا اور قرآن نے اس کا جواب دیا۔ اور اس جواب سے یہ حقیقت نہایت واضح طور پر سامنے آجاتی ہے کہ حلت و حرمت اور پاکی و ناپاکی کے حدود کو ملحوظ رکھتے ہوئے شکار، فن شکار اور شکاری جانور ہر چیز کی اسلام نے عزت بڑھائی ہے۔ ایک تربیت پائے ہوئے درندے کی یہ عزت بڑھائی کہ اس کا پکڑا ہوا شکار اگر ذبح سے پہلے ہی دم توڑ دے جب بھی طیب ہے، اس فنِ تربیت کی عزت یہ بڑھائی کہ اس کو تعلیم الٰہی کا ایک جزو قرار دیا، اور یہ رہنمائی دی کہ کتوں اور درندوں کی تربیت کے معاملے میں بھی ایک مسلمان کو اپنے مخصوص اسلامی نقطہ نظر کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ گویا اسلام میں فنِ شکار بھی دوسروں کے فن شکار سے مختلف مزاج رکھتا ہے۔
آخر میں " وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ " فرما کر اللہ کے مقرر کردہ حدود اور اس کے عہدویمان کے احترام کی یاددہانی یہاں بھی فرمادی کہ شکار کی حرص و ہوس میں خدا کے حدود حلت و حرمت کو نہ بھول جانا ورنہ روز حساب بہت دور نہیں ہے۔ یہ یاددہانی اس پہلو سے بھی بہت ضروری تھی کہ جب شکار معاشی ضرورت ہو تو اس میں بےاحتیاطی کے بڑے امکانات ہیں۔
Ayah 5:5اَلْيَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ ۭ وَطَعَامُ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ ۠ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ ۡ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ وَلَا مُتَّخِذِيْٓ اَخْدَانٍ ۭوَمَنْ يَّكْفُرْ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ۡ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۔
اس آیت میں کوئی مشکل لفظ یا مشکل ترکیب نہیں ہے۔ اس کے تمام اجزا پچھلی سورتوں میں زیر بحث آچکے ہیں۔ البتہ اس کا موقع محل اچھی طرح سمجھ لینے کا ہے۔
یہ آیت اس انعام عام کا اعلان ہے جو خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے ذریعے سے تمام دنیا پر عموماً اور اہل کتاب پر خصوصاً ہونے والا تھا۔ پچھلے صحیفوں میں آنحضرت ﷺ کی بعثت سے متعلق جو پیشین گوئیاں وارد ہیں اور جن میں سے بعض کا حوالہ بقرہ اور آل عمران کی تفسیر میں ہم دے چکے ہیں، ان میں یہ تصریح موجود ہے کہ جب آخری نبی آئیں گے تو اہل کتاب کو طیبات و خبائث سے متعلق خدا کے امرونہی سے آگاہ کریں گے اور حلال و حرام کے باب میں ان تمام پابندیوں اور بیڑیوں سے ان کو آزاد کریں گے جو انہوں نے اپنے اوپر یا تو از خود عائد کر رکھی ہیں یا ان کی سرکشی کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کردی ہیں۔ قرآن مجید نے ان تمام پیشین گوئیوں کا حوالہ سورة اعراف میں ان الفاظ میں دیا ہے : " الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الأمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالإنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالأغْلالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (157): جو لوگ اس رسول، نبی امی کی پیروی کریں گے جس کو اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو جائز کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے اور ان سے ان کے اس بوجھ اور ان پابندیوں کو دور کرتا ہے جو ان پر تھیں تو جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے، اس کی تائید و نصرت کریں گے اور اس روشنی کی پیروی کریں گے جو اس کے ساتھ اتاری گئی وہی لوگ فلاح پانے والے بنیں گے "
یہ انہی باتوں کا حوالہ ہے جو آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے ظہور میں آنے والی تھیں چناچہ آپ کے وجود با جود نے ان میں سے ایک ایک بات کی عملاً تصدیق فرمادی۔ آپ نے تمام طیب اور پاکیزہ چیزیں جائز کردیں جن میں بعض یہود کے ہاں حرام تھیں، تمام خبیث چیزیں حرام ٹھہرائیں جن میں سے بعض یہود و نصاری نے جائز بنالی تھیں اور وہ تمام پابندیاں اور بیڑیاں ختم کردیں جو انہوں نے یا تو از خود اپنے اوپر لا دی تھیں یا ان کی ضد، سرکشی، کر پزی اور کٹ حجتی کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف تھی کہ اہل کتاب نے جو خبیث چیزیں بنائی ہیں محض اپنی بدعت سے جائز بنائی ہیں اور جو طیب چیزیں ان پر حرام ہیں وہ محض ان کی سرکشی کی سزا کے طور پر حرام ہیں، نبی امی کی بعثت کے بعد یہ پابندیاں ختم ہوگئیں تو مسلمانوں کو اجازت دے دی گئی کہ حرام و حلال اور خبیث و طیب کی اس وضاحت کے بعد اب تو اہل کتاب کا کھانا کھا سکتے ہو اس لیے کہ اب تمہارے لیے کسی خبیث سے آلودہ ہوجانے کا اندیشہ نہیں رہا اور ساتھ ہی اس بات کا بھی اعلان کردیا گیا کہ تمہارا کھانا اہل کتاب کے لیے جائز ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق نبی امی کی بعثت کے بعد اب وہ تمام پابندیاں ختم ہوگئیں جو ان پر عائد تھیں۔
ایک سوال اور اس کا جواب : ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہود و منتظر کب تھے کہ قرآن ان کے لیے مسلمانوں کے کھانے کے جائز ہونے کا اعلان کرے، پھر اس کا فائدہ کیا، یہ تو مفت کرم داشتن کے قسم کی بات ہوئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہود منتظر تو تھے اور منتظر ہوتے کیوں نہ جب کہ ان کے اپنے صحیفوں میں آخری نبی کی پیشین گوئی اس تصریح کے ساتھ موجود تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو تمام اصر و اغلال سے نجات دیں گے، لیکن اس نبی کی بعثت چونکہ ان کے حریفوں یعنی بنی اسمعیل کے اندر ہوئی، اس وجہ سے جان بوجھ کر، جیسا کہ بقرہ اور آل عمران میں وضاحت ہوچکی ہے، وہ اس کی مخالفت کے درپے ہوگئے اور حسد میں انہوں نے اپنے آپ کو ان تمام رحمتوں اور برکتوں سے محروم کرلیا جن کے سب سے پہلے حقدار وہی تھے اگر وہ نبی امی پر ایمان لاتے۔
پھر فرض کیجیے، بنی اسرائیل اس کے منتظر نہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ ان سے فرمایا تھا اس کو تو پورا ہونا تھا۔ ان سے جب یہ وعدہ تھا کہ کہ آخری نبی کے ذریعے سے کھانے پینے کے معاملے میں وہ تمام پابندیاں ان سے اٹھا لی جائیں گی جو ان کی سرکشی کے سبب سے عائد ہوئی ہیں تو جب اس وعدے کو پورا کرنے کا وقت آیا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا کھانا ان کے لیے جائز کر کے یہ وعدہ پورا کردیا۔ رہی یہ بات کہ انہوں نے اس کی قدر نہیں کی تو یہ ان کی اپنی محرومی و بدقسمتی ہے۔ ان کی نالائقی کی وجہ سے آخر خدا اپنے وعدے کو کیوں فراموش کرتا ؟ سورج چمکتا ہے خواہ کوئی اپنی آنکھیں بند رکھے یا کھلی رکھے۔ نسیم صبح اپنی عطر بیزیوں سے ہر مشام جان کو معطر کرنا چاہتی ہے اور اس کے فیضِ عام کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ہر ایک کو فیض یاب کرے لیکن جو محروم القسمت اپنی ناک اور اپنے منہ بند کرلیتے ہیں وہ اس سے محروم ہی رہتے ہیں۔ اسی طرح رب کریم نے جو سفرۂ نعمت اس امت کے ذریعے سے تمام دنیا کے آگے بچھانا چاہا تھا وہ بچھا دیا اور اسے متمع ہونے کی دعوت اہل کتاب کو بھی دے دی۔ انہوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا تو یہ ان کی اپنی بدقسمتی ہے۔
اہلِ کتاب کا کھانا اسلامی حدود حلت و حرمت کی پابندی کے ساتھ جائز ہے : اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مسلمانوں کو اہل کتاب کے کھانے پینے کی چیزوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت جو دی گئی ہے وہ اس وقت دی گئی ہے جب ان کو اس باب کی آخری ہدایات سے آگاہ کیا جا چکا ہے، جب حلال و حرام دونوں اچھی طرح واضح کردیے گئے ہیں، جب اہل کتاب اور مشرکین دونوں بدعات کی تفصیل ان کو سنا دی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سارے اہتمام کا مقصد مسلمانوں کو یہ بتانا تھا کہ تم دنیا کی دوسری قوموں کے ساتھ معاشرتی تعلقات رکھو لیکن حلت و حرمت کے ان حدود کی پابندی کے ساتھ جو تمہارے لیے قائم کردیے گئے ہیں۔ اس آیت میں " الیوم " کا لفظ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اب تمہیں خبیث و طیب کا پورا امتیاز حاصل ہوچکا ہے اس وجہ سے تمہیں یہ اجازت دی جا رہی ہے۔ یہ خطرہ نہیں رہا کہ تم ان کے دسترخوان پر بیٹھ کر کسی حرام یا مشتبہ میں مبتلا ہوجاؤگے۔ (اہل کتاب کے ذبیحہ کے جواز کے لیے بھی کسوٹی یہی ہے جو یہاں بیان ہوئی ہے بلکہ اصلاً تو یہ بحث، جیسا کہ سیاق کلام سے واضح ہے، ذبیحہ ہی سے متعلق ہے)
کتابیات سے جوازِ نکاح کی شرط : اس کے بعد فرمایا کہ جس طرح تمہارے لیے شریف اور پاک دامن مسلمان عورتوں سے نکاح جائز ہے اسی طرح شریف اور پاک دامن کتابیات سے بھی نکاح جائز ہے۔ یہاں لفظ " محصنات " استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ قرآن میں تین معنوں میں آیا ہے۔ اور ہم اس کے تینوں معنوں کی وضاحت دوسرے مقام میں کرچکے ہیں۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد باعزت، شریف اور اچھے اخلاق کی عورتیں ہیں۔ یعنی یہ اجازت مشروط ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ یہ عورتیں بدچلن، پیشہ ور، آوارہ اور بدقوارہ نہ ہوں۔ جس طرح تمہارے لیے ان کے دسترخوان کی صرف طیبات جائز ہیں اسی طرح ان کی عورتوں میں سے صرف محصنات جائز ہیں۔
ہمارے سلف صالحین میں سے ایک گروہ نے دارالحرب اور دارالکفر میں کتابیات سے نکاح کو مکروہ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک اس کے جواز کے لیے دارالاسلام ہونا بھی ایک شرط ہے۔ مجھے یہ قول بہت ہی قوی معلوم ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات انہوں نے فحوائے کلام سے مستنبط کی ہے۔ میں اس کے ماخذ کے لیے لفظ " الیوم " کی طرف پھر توجہ دلاتا ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اجازت میں وقت کے حالات کو بھی دخل ہے۔ اوپر " الیوم یئس الذین کفروا " اور " الیوم اکملت لکم " والی آیات بھی گزر چکی ہیں اور " فلاتخشوھم واخشون " بھی ارشاد ہوچکا ہے۔ جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس دور میں کفار کا دبدبہ ختم ہوچکا تھا اور مسلمان ایک ناقابل شکست طاقت بن چکے تھے۔ یہ اندیشہ نہیں تھا کہ ان کو کتابیات سے نکاح کی اجازت دی گئی تو وہ کسی احساس کمتری میں مبتلا ہو کر تہذیب اور معاشرت اور اعمال واخلاق میں ان سے متاثر ہوں گے۔ بلکہ توقع تھی کہ مسلمان ان سے نکاح کریں گے تو ان کو متاثر کریں گے اور اس راہ سے ان کتابیات کے عقائد و اعمال میں خوشگوار تبدیلی ہوگی اور عجب نہیں کہ ان میں بہت سی ایمان و اسلام سے مشرف ہوجائیں۔
علاوہ ازیں یہ پہلو بھی قابل لحاظ ہے کہ کتابیات سے نکاح کی اجازت بہرحال علی سبیل التنزیل دی گئی ہے۔ اس میں آدمی کے خود اپنے اور اس کے آل و اولاد اور خاندان کے دین و ایمان کے لیے جو خطرہ ہے، وہ مخفی نہیں ہے۔ چناچہ یہی وجہ ہے کہ مسلمان مردوں کو تو کتابیات سے نکاح کی اجازت دی گئی لیکن مسلمان عورت کو کسی صورت میں بھی کسی غیر مسلم سے نکاح کی اجازت نہیں دی گئی خواہ کتابی ہو یا غیر کتابی۔ یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اجازت صرف ایک اجازت ہے۔ یہ کوئی مستحسن چیز نہیں ہے۔ اگر ماحول اسلامی تہذیب و معاشرت کا ہو اور آدمی کسی نیک چال چلن کی کتابیہ سے نکاح کرلے تو اس میں مضائقہ نہیں لیکن کافرانہ ماحول میں جہاں کفر اور اہل کفر کا غلبہ ہو اس قسم کا نکاح چاہے اس آیت کے الفاظ کے خلاف نہ ہو لیکن اس کے فحویٰ ، اس کی روح اور اس کے موقع و محل کے خلاف ضرور ہے۔
یہ بات یہاں چنداں یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اسلام کے بہت سے قوانین اور دارالاسلام کی شرط کے ساتھ مشروط ہیں۔ اسی طرح بعض رخصتیں اور اجازتیں بھی خاص ماحول اور خاص حالات کے ساتھ مشروط ہیں۔ آگے اس سلسلے کی بعض اہم باتیں بیان ہوں گی۔
مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ پر ہم تفصیل کے ساتھ سورة نساء کی آیات 24۔ 25 کے تحت بحث کرچکے ہیں۔
" کفر بالایمان " کا مطلب : وَمَنْ يَّكْفُرْ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ، کفر بالایمان کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خدا اور رسول کے احکام کے صریح خلاف محض اپنی خواہشات کی اتباع میں قانون و شریعت ایجاد کرکے اس پر عمل پیرا بھی ہو۔ یہ وہی ایمان ہے جس کو قرآن نے " نومن ببعض و نکفر ببعض " سے تعبیر کیا ہے۔ کفر و ایمان دونوں کے اس ملغوبہ کی خدا کے ہاں کوئی پوچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان صرف وہ معتبر ہے جو اللہ تعالیٰ کے شرائط پر ہے۔ جو لوگ اپنے شرائط پر ایمان لاتے ہیں ان کا ایمان ان مدعیان ایمان کے منہ پر پھینک مارا جائے گا اور اس قسم کے ایمان کے تحت کیے ہوئے سارے اعمال خدا کے ہاں ڈھے جائیں گے۔ اس پر پیچے بھی بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 5:6آگے کا مضمون۔ آیات 6 تا 11:۔ اوپر طعام و نکاح کے باب کے طیبات و خبائث کا ذکر فرما کر ان کی تطہیر فرمائی۔ اب نماز کی طہارت کا بیان آرہا ہے۔ نماز کی طہارت وضو ہے اور بصورتِ جنابت غسل۔ اسی ذیل میں پانی نہ ملنے یا کسی عذر کی صورت میں تیمم کی اجازت مرحمت فرمائی جو اس امت پر اتمامِ نعمت ہے اور یہ اس باب کا تکمیلی حکم ہے۔
اس کے بعد اس سلسلے میں جو اتمام نعمت فرمایا ہے اس کی یاد دہانی کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ تم " سمعنا واطعنا " کہہ کر خدا کے ساتھ جس عہد میں شریک ہوئے ہو اس کو برابر یاد رکھنا۔ اللہ سے ڈرتے رہنا۔ خدا سے کوئی بات بھی ڈھکی چھپی رہنے والی نہیں ہے۔ وہ دلوں کے بھیدوں سے بھی اچھی طرح باخبر ہے۔ اس کے بعد قیام بالقسط اور شہادت علی الناس کے جس منصب پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مامور فرمایا ہے اس کی یاددہانی فرمادی تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ اب اس دنیا میں حق و عدل کی میزان وہی ہیں۔ اگر انہوں نے انحراف اختیار کیا تو ہر چیز ٹیڑھی ہوجائے گی۔ اس سلسلے میں انحراف کے اس سب سے بڑے محرک کا بھی حوالہ دیا جو پچھلی امتوں کے لیے مزلۂ قدم ثابت ہوچکا ہے تاکہ یہ امت اس سے اچھی طرح ہوشیار رہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح فرمادیا کہ اگر تم موافق و مخالف سب کے لیے حق و عدل پر قائم رہنے والے ثابت ہوئے تو آخر کا اجرِ عظیم بھی تمہارے لیے ہے اور دنیا میں بھی تمہی کامیاب و بامراد رہوگے، تمہارے دشمن تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ اَوْ جَاۗءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَاۗىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ ۭ مَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّلٰكِنْ يُّرِيْدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔
وضو سے طہارت حاصل کرنے کا طریقہ : اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ ، قام کے بعد جب " الی " آتا ہے تو اس کے معنی قصد کرنے کے ہوتے ہیں۔ یعنی جب تم نماز کا قصد کرو تو اس کے لیے طہارت حاصل کرلو۔ پھر اس طہارت کا طریقہ بتایا ہے جس پر ہم خود بھی پیچھے بحث کرچکے ہیں اور اس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ نبی ﷺ کی سنت سے بھی ثابت ہے اور عقل و فطرت بھی گواہی دیتی ہے کہ ایک مرتبہ کی حاصل کردہ طہارت اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک کوئی ناقص حالت پیش نہ آجائے۔ اس وجہ سے یہ ہدایت اس حالت کے لیے ہے جب آدمی کا وضو باقی نہ ہو، اگر باقی ہو تو تازہ وضو کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص نشاط خاطر حاصل کرنے کے لیے تازہ وضو کرلے تو یہ فضیلت تو ضرور ہے لیکن شریعت کا مطالبہ نہیں ہے۔ رہے یہ سوالات کہ دھونے کا طریقہ کیا ہے۔ مذکورہ اعضا ایک ایک بار دھوئے جائیں یا دو دو تین تین بار، مل مل کے دھوئے جائیں یا صرف پانی بہا لیا جائے۔ کنپٹی داڑھی اور کہنیوں کے معاملے میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے تو ان کا تعلق احکام سے نہیں بلکہ آداب سے ہے اور آداب سیکھنے کا بہترین ذریعہ نبی ﷺ کی سنت ہے۔ آپ کی سنت سے جو باتیں ثابت ہوں خواہ اس کی شکلیں مختلف ہوں، سب میں خیر و برکت ہے۔
" وامسحوا برء وسکم "۔ مسح کے معنی ہاتھ پھیرنے کے ہیں اور حرف " ب " اس طرح کے مواقع میں احاطہ کے مفہوم پر دلیل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے مجھے ان لوگوں کا مسلک قوی معلوم ہوتا ہے جو پورے سر کے مسح کے قائل ہیں۔ اگرچہ عمامہ وغیرہ کی صورت میں رفع زحمت کے پہلو سے سر کے جزوی حصے کا مسح بھی کافی ہے۔
" وارجلکم الی الکعبین " اس کا عطف ایدیکم پر ہے۔ اس وجہ سے یہ ان اعضا کے تحت داخل ہے جن کے لیے دھونے کا حکم ہے۔ وضو میں اعضا کی ترتیب واضح کرنے کے لیے اس کو مؤخر کردیا گیا ہے۔ جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ ترتیب فطری بھی ہے اور شرعی بھی۔ بعض لوگوں نے اس کو مسح کے تحت داخل کیا ہے لیکن یہ قول متواتر قراءت اور متواتر سنت کے بھی خلاف ہے اور عربیت کے بھی۔ اگر پاؤں کا مسح ہوتا تو اس کے ساتھ " الی الکعبین " کی قید بالکل غیر ضروری تھی۔ چناچہ دیکھ لیجیے، وضو میں ہاتھ دھونے کے لیے " الی المرافق " کی قید لگائی ہے لیکن تیمم میں جہاں مسح کا حکم دیا ہے، " الی المرافق " کی پابندی اڑا دی اس لیے کہ مسح میں اس قسم کی پابندی ایک بالکل غیر مفید بات تھی۔
" وان کنتم جنبا۔۔ الایۃ " یہ ٹکڑا معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ سورة نساء آیت 43 میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم تفصیل کے ساتھ بحث کرچکے ہیں۔
وضو اور تیمم کے احکام کی علت و حکمت : " مایرید اللہ لیجعلم علیکم من حرج۔۔۔ الایۃ۔ یہ اس حکم کی علت و حکمت بیان ہو رہی ہی ہے کہ اگر کچھ لوگوں نے ان پابندیوں کو سخت محسوس کیا ہو تو ان پر ان کی افادیت واضح ہوجائے۔ اس میں شبہ نہیں کہ غیر عادی طبائع پر غسل اور وضو کی یہ پابندی ہے بڑی شاق اور بڑی آزمائش کی چیز لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ پابندی بندوں کو مشقت میں ڈالنے کے لیے نہیں عائد کی ہے۔ اگر مشقت مقصود ہوتی تو بیماری اور سفر وغیرہ کی حالت میں تیمم کی اجازت کیوں مرحمت ہوتی ؟ بلکہ یہ بندوں کو پاکیزہ بنانے کے لیے عائد کی گئی ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ خدا اور اس کے قدوسیوں کا قرب حاصل کرنے کے اہل ہوسکیں۔ اصلاً تو پاکیزگی باطن کی مطلوب ہے اور نماز باطن ہی کی پاکیزگی کے لیے فرض کی گئی ہے لیکن ظاہر اور باطن میں بڑا گہرا رشتہ ہے۔ ظاہر کا اثر باطن پر اور باطن کا اثر ظاہر پر پڑتا ہے۔ اس وجہ سے اسلام نے نماز کے لیے وضو کا حکم دیا ہے اور ناپاک کی حالت ہو تو غسل کا۔ یہ چیز اس باطنی طہارت کے حصول میں معین ہے جو نماز کا اصل مقصود ہے۔
" ولیتم نعمتہ علیکم " میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نماز کے باب میں وضو اور تیمم کے ان احکام کے بعد اللہ کی نعمت تم پر تمام کی گئی۔ سورة نساء میں تیمم پر بحث کرتے ہوئے ہم اشارہ کر آئے ہیں کہ یہود کے ہاں طہارت کے معاملے میں بڑی سخت قیدیں اور پابندیاں تھیں۔ اول تو ان کی شریعت کے احکام تھے ہی سخت، پھر ان پر مزید اضافہ ان کے فقہا کے تشددات نے کردیا تھا۔ تیمم کا ان کے ہاں کوئی تصور ہی نہیں تھا اور یہ بات تو ان کے ہاں انتہائی بد دینی کی تھی کہ کوئی شخص حدث و جنابت کی حالت میں خواہ کیسی ہی معذوری و مجبوری ہو، مجرد تیمم پر اکتفا کر کے نماز پڑھ لے۔ چناچہ قرآن میں جب تیمم کی اجازت نازل ہوئی تو اس کا انہوں نے نہ صرف مذاق اڑایا بلکہ اس کو دلیل بنا کر یہاں تک کہ نے لگے کہ ان مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ تو مکہ کے مشرکین ہیں۔ یہود کے یہ تشددات بھی منجملہ ان اصرار و اغلال کے تھے جو خاتم الانبیاء ﷺ کے ذریعے سے دور ہونے والے تھے چناچہ تیمم کی اجازت نے طہارت کے باب میں اللہ کی نعمت کا اتمام فرمایا اور اس اتمامِ نعمت سے اس امت کو جو سہولتیں اور برکتیں حاصل ہوئیں ان پر ہر آن شکر واجب ہے۔
Ayah 5:7وَاذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَمِيْثَاقَهُ الَّذِيْ وَاثَقَكُمْ بِهٖٓ ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ۡ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۔
اب یہ اس اتمام نعمت کا حق بتایا ہے کہ اللہ نے اپنی آخرت اور کامل شریعت تم پر نازل کر کے جو فضل و انعام فرمایا ہے اور تم کو جو عزت و سرفرازی بخشی ہے، یہود کی طرح اس کو بھول نہ جانا بلکہ اس کو ہمیشہ یادرکھنا۔ " یاد رکھنا " اپنے حقیقی مفہوم میں ہے۔ یعنی ظاہراً و باطناً ہر پہلو سے اس کا حق ادا کرنا۔ اس کے بعد اس ذمہ داری کی نوعیت واضح فرمادی کہ یہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ایک مضبوط میثاق کی حیثیت رکھتی ہے جو خدا نے اپنے پیغمبر ﷺ کے واسطے سے تم سے لیا ہے اور تم نے پیغمبر کے سامنے " سمعنا واطعنا " کہہ کر اس میثاق کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔ خدا نے تمہارے لیے دنیا و آخر کی کامرانیوں کے جو وعدے فرمائے ہیں وہ اسی میثاق پر منحصر ہیں۔ اگر تم نے اس کو توڑا تو اس کی سزا بڑی ہی سخت ہے۔ اس لیے اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ بات یاد رکھو کہ خدا دلوں کے بھیدوں سے بھی واقف ہے۔