5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 5:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

اے ایمان والو، عدل کے علم بردار بنو، اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں س بات پر نہ ابھارے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو۔ یہی تقوی سے قریب تر ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے باخبر ہے

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَاۗءَ بِالْقِسْطِ ۡ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا ۭاِعْدِلُوْا ۣ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ۡ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔ میثاقِ شریعت کی ذمہ داری امت مسلمہ پر : كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَاۗءَ بِالْقِسْطِ ، تھوڑے سے تغیر الفاظ کے ساتھ یہ ٹکڑا سورة نساء کی آیت 35 میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔ یہ اسی میثاق کی اجتماعی ذمہ داری واضح کی گئی ہے کہ مسلمانوں پر بحیثیت امت مسلمہ یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس حق و عدل کے علم بردار بنیں جو اس آخری شریعت کی شکل میں ان کو عطا ہوا ہے۔ خود اپنے اندر اس کو قائم کریں اور اسی کی شہادت دنیا کے سامنے دیں۔ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ ، یہ ٹکڑا اسی سورة کی آیت 2 میں گزر چکا ہے۔ یہ حق و عدل کی راہ کے سب سے بڑے فتنے سے آگاہ کیا گیا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی اور اس کا غلط سے غلط رویہ بھی ہمیں اس حق و عدل سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ شیطان نے راہ حق سے گمراہ کرنے میں سب سے زیادہ جس حربے سے کام لیا وہ یہی ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کا حربہ ہے۔ یہود نے محض بنی اسمعیل اور مسلمانوں کی دشمنی میں اس تمام عہدوپیمان کو خاک میں ملا دیا جس کے وہ گواہ اور ذمہ دار بنائے گئے تھے۔ اس وجہ سے مسلمانوں نے سے یہ عہد لیا گیا کہ وہ شیطان کے اس فتنے سے بچ کے رہیں۔ دوستوں اور دشمنوں دونوں کے لیے ان کے پاس بس ایک ہی باٹ اور ایک ہی ترازو ہو۔ اِعْدِلُوْا ۣ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى، یہی عدل، تقوی سے اقرب ہے۔ یعنی تقوی جو تمام دین و شریعت کی روح اور اہل ایمان کے ہر قول و فعل کے لیے کسوٹی ہے اس سے موافقت رکھنے والا طرز عمل یہی ہے کہ دشمن کی دشمنی کے باوجود اس کے ساتھ کوئی معاملہ عدل و حق سے ہٹ کر نہ کیا جائے۔ اس سے دین میں تقویٰ کا مقام واضح ہوا کہ تمام نیکیاں درحقیقت اسی کی جڑ سے ہیں۔
Ayahs 5:9–10

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے لیے مغفرت اور اجرِ عظیم ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخ والے ہیں

9۔ 10:۔ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ۔ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ۔ یہ مذکورہ بالا میثاق پر عمل کرنے اور نہ کرنے دونوں کا نتیجہ بیان ہوا ہے کہ جو لوگ اس میثاق پر قائم رہیں گے ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے اور جو اس کو توڑیں گے ان کے لیے جہنم ہے۔ اس سے ایک تو یہ بات نکلی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہم پر اس میثاق کی ذمہ داری ڈالی ہے، اسی طرح اپنے اوپر بھی اس کے جواب میں ایک عہد کی ذمہ داری لی ہے۔ اس کا اظہار " وعد اللہ " کے الفاظ سے ہورہا ہے۔ یہ رب کریم کی کتنی بڑی بندی نوازی ہے کہ وہ اپنی ہی پیدا کی ہوئی اور اپنی ہی پروردہ مخلوق کے ساتھ ایک معاہدے میں شریک ہو اور جواب میں اپنی ذات پر بھی ایک عہد کی ذمہ داری اٹھائے۔ انسان کو یہ وہ شرف بخشا گیا ہے جس میں کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں۔ دوسری بات یہ نکلی کہ ایمان و عمل صالح کی تعبیر ایک جامع تعبیر ہے جس میں وہ سب کچھ شامل ہے جو پروردگار نے اپنی شریعت کی شکل میں ہمیں عطا فرمایا ہے اور جس کی پابندی کا ہم سے اقرار لیا ہے۔
Ayah 5:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

اے ایمان والو، اپنے اوپر اللہ کے فضل کو یاد کرو جب کہ ایک قوم نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کرے تو اللہ نے تم سے ان کے ہاتھ کو روک دیا اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ ہی پر چاہیے کہ اہل ایمان بھروسہ کریں

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ يَّبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ ا پر آیت 8 میں مسلمانوں سے ہر حالت میں حق و عدل پر قائم رہنے اور مخالفین کے علی الرغم اس کو نباہنے اور اس کی شہادت دینے کا جو عہد لیا ہے اس میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اب تمہیں مخالفوں کی مخالفت کی پروا نہیں کرنی ہے۔ اگر تم اس عہد پر جمے رہے تو خدا کی مددونصرت ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہے۔ تمہارے دشمن تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ بعینہ یہی مضمون فلا تخشوھم واخشون میں گزر چکا ہے۔ اب یہ اسی بات کی تائید میں واقعات شہادت پیش کردی ہے کہ دیکھ لو، ایک قوم نے اس راہ میں تمہاری مزاحمت کی کوشش کی لیکن وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکی۔ خدا نے اس کے ہاتھ باندھ دیے ل۔ اسی طرح اگر تم رپنے رب کے عہد و پیمان پر قائم رہے تو خدا ہر اس قوم کے مقابل میں تمہاری مدد فرمائے گا جو تمہارے مقابل میں سر اٹھائے گی۔ تم جب خدا پر ایمان لائے ہو تو تمہارے اس ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ تم اپنے رب پر بھروسہ کرو۔ اس آیت میں " قوم " سے اشارہ میرے نزدیک قریش کی طرف ہے۔ اوپر آیت 3 اور آیت 8 میں اشارہ انہی کی طرف ہے۔ لفظ کی تنکیر تحقیر شان کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہے اور اس سے یہ ظاہر کرنا بھی مقصود ہے کہ متکلم کے پیش نظر ایک حقیقت کا بیان و اظہار ہے نہ کہ کسی خاص قوم کا، تاہم اشارے کی حد تک، جیسا کہ میں نے عرض کیا، اس سے مراد قریش ہی ہیں۔ اس سورة کے مطالب سے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اس دور کی سورت ہے جب مسلمان ایک سیاسی قوت بن چکے ہیں۔ ہجرت کے چھٹے، ساتویں سال تک ایسے حالات پیدا ہوچکے تھے کہ قریش متعدد زور آزمائیاں کر کے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور ہوگئے تھے اور یہود بھی اپنی درپردہ سازشوں کی ناکامیوں کے نہایت تلخ تجربات کرکے ہمت ہار چکے تھے۔
Ayah 5:12

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ہم نے ان میں سے بارہ نقیب مامور کیے اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نماز کا اہتمام رکھو گے، زکوۃ دیتے رہوگے، میرے رسولوں پر ایمان لاؤگے ان کی مدد کرتے رہوگے اور اللہ کو قرض حسن دیتے رہوگے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کردوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ پس جو اس کے بعد بھی تم میں سے کفر کرے گا تو وہ اصل شاہراہ سے بھٹک گیا

آگے کا مضمون۔ آیات 12 تا 14:َ یہود و نصاری سے جو عہد لیا گیا تھا آگے اس کا ذکر فرمایا ہے اور اس عہد کو توڑ کر وہ جن نتائج سے دوچار ہوئے بالاجمال ان کی طرف بھی اشارہ ہے۔ مقصود اس سے مسلمانوں کو متنبہ کرنا ہے کہ اب تم سے جو عہد لیا جارہا ہے یہ بھی اسی نوعیت کا عہد ہے اور اگر تم نے اس عہد کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو یہود و نصاری نے کیا تو تمہارے سامنے بھی وہی نتیجہ آئے گا جو ان کے سامنے آیا۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔ وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا ۭوَقَالَ اللّٰهُ اِنِّىْ مَعَكُمْ ۭلَىِٕنْ اَقَمْــتُمُ الصَّلٰوةَ وَاٰتَيْتُمُ الزَّكٰوةَ وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِيْ وَعَزَّرْتُمُوْهُمْ وَاَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَـنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَلَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ۔ نقیب کا مفہوم : " نقیب " کے معنی ہیں کھوج لگانے والا، معاملات کی ٹوہ میں رہنے والا، لوگوں کے حالات کی جستجو کرنے والا۔ یہیں سے یہ قوم اور قبیلہ کے سردار، نگران، ذمہ دار افسر اور مانیٹر کے معنی میں استعمال ہوا۔ اس لیے کہ نگرانوں اور مانیٹروں کا اصلی کام لوگوں کے حالات کی نگرانی اور ان کی محافظت ہی ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے ان سے شریعت کی پابندی اور اس کی حفاظت کا عہد لینے کے بعد بنی اسرائیل کے ہر قبیلے پر ایک ایک نقیب اس مقصد سے مقرر کیا کہ وہ لوگوں کی نگرانی رکھے کہ وہ شریعت کے حدود وقیود کی پابندی کریں اور کوئی ایسی چیز ان کے اندر گھسنے نہ پائے جو ان کو اللہ کے عہد سے روگردان کرے۔ بنی اسرائیل کے قبیلے چونکہ بارہ تھے اس وجہ سے نقیب بھی بارہ مقرر ہوئے۔ ان کا تقرر حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت کیا تھا اس وجہ سے اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا۔ بنی اسرائیل سے میثاق : وَقَالَ اللّٰهُ اِنِّىْ مَعَكُمْ۔۔ الایہ۔ یہ اس عہد و میثاق کا بیان ہے جو بنی اسرائیل سے لیا گیا۔ اس میں نماز کے اہتمام، زکوۃ کیا ادائیگ، آئندہ آنے والے رسولوں پر ایمان اور ان کی تائید اور خدا کی راہ میں انفاق کا عہد لیا گیا ہے اور اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی معیت، ان کی عام لغزشوں سے درگزر اور ان کے لیے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ وَقَالَ اللّٰهُ اِنِّىْ مَعَكُمْ ایک جامع تعبیر ہے، خدا کی تائید و نصرت کے وعدے کی۔ ظاہر ہے کہ جن کے ساتھ خدا ہو ان کے ساتھ خدا کی پوری کائنات ہے۔ لَىِٕنْ اَقَمْــتُمُ الصَّلٰوةَ وَاٰتَيْتُمُ الزَّكٰوةَ ، سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح امت مسلمہ کے میثاق میں نماز و زکوۃ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اسی طرح بنی اسرائیل کے میثاق میں بھی ان کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ شریعت الٰہی میں حکمت دین کے پہلو سے ان دونوں چیزوں کا جو درجہ ابتدا ہے، اس پر پوری تفصیل کے ساتھ تفسیر سورة بقرہ کے آغاز میں ہم بحث کرچکے ہیں۔ وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِيْ میں یو تو بعد میں آنے والے تمام انبیاء کی طرف اشارہ ہے لیکن اس میں خاص اشارہ نبی خاتم ﷺ کی طرف ہے جن کا ذکر تورات میں نہایت نمایاں علامات کے ساتھ ہوا ہے۔ بقرہ میں بعض حوالے گزر چکے ہیں۔ اعراف میں اس پر مزید بحث آئے گی۔ وَاَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَـنًا میں جس انفاق کا ذکر ہے یہ زکوۃ کے مقررہ نصاب سے الگ ہے۔ اس سے مراد وہ انفاق ہے جو جہاد فی سبیل اللہ اور اس قسم کے کسی اور دینی و ملی و اجتماعی مقصد کے لیے کیا جائے اس کو قرض سے تعبیر کرنے کی وجہ اور اس کے قرض حسن ہونے کے شرائط پر پوری تفصیل کے ساتھ ہم دوسرے مقام میں بحث کرچکے ہیں۔ لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ میں سیئات سے مراد لغزشیں اور کو تاہیاں ہیں، اگر دین کی بنیادی باتوں کا اہتمام کیا جائے تو بندے سے جو چھوٹی موٹی غلطیاں صادر ہوجاتی ہیں اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دیتا ہے۔ اس مسئلہ پر بھی بحث گزرچکی ہے۔ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ الایۃ، یہ ٹکڑا بھی معاہدے کا جزو ہے یعنی اس عہد اور اس عہد کی حفاظت کے اس اہتمام کے باوجود جس کا ذکر ہوا اگر کسی نے اس معاہدے سے انحراف اختیار کیا تو وہ خدا کی شاہراہ سے بھٹک گیا۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ اس عہد سے انحراف کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔
Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

پس ان کے اپنے عہد کو توڑ دینے کے سبب سے ہم نے ان پر لعنت کردی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ وہ کلام کو اس کے موقع و محل سے ہٹاتے ہیں اور جس چیز کے ذریعے سے ان کو یاد دہانی کی گئی تھی اس کا ایک حصہ وہ بھلا بیٹھے۔ اور تم برابر ان کی کسی نہ کسی خیانت سے آگاہ ہوتے رہوگے۔ پس تھوڑے سے ان میں سے اس سے مستثنی ہیں۔ پس ان کو معاف کرو اور ان سے درگزر کرو۔ اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً ۚ يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ ۙ وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰي خَاۗىِٕنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ۔ یہود کی عہد شکنی کے نتائج : یہود پر لعنت، ان کی قسوت اور ان کی تحریفات پر تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی تفسیر میں گفتگو ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ معاہدہ کر کے اس کو جس درجے کی عزت و سرفرازی بخشتا ہے، معاہدہ توڑ دینے کی صورت میں وہ اس کو اسی درجے کی ذلت کے ساتھ دھتکار بھی دیتا ہے۔ اس دھتکارنے کے لیے جامع تعبیر لعنت ہے۔ یعنی کسی کو راندہ درگا قرار دے دینا۔ راندہ درگاہ ہونے کا پہلا اثر جو اس قوم پر پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کے اندر سے خدا کی خشیت، جو دل کی زندگی کی ضامن ہے، ختم ہوجاتی ہے اور دل پتھر ہو کر توبہ وانابت کی روئیدگی کے لیے بالکل بنجر ہوجاتا ہے۔ یہ حالت پیدا تو ہوتی ہے عہد شکن قوم کے اپنے عمل کے نتیجہ کے طور پر لیکن چونکہ واقع ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی مقررہ سنت کے مطابق اس وجہ سے اس کو منسوب اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمایا ہے۔ یہ قساوت عہد شکن قوم کے اندر جسارت پیدا کرتی ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ میثاق الٰہی کی خلاف ورزی ہی پر بس نہیں کرتی بلکہ وہ اس معاہدے کو اپنی خواہشات کے مطابق بنانے کے لیے اس کے لیے الفاظ و کلمات کی تحریف بھی کرتی ہے۔ یہ تحریف یہود نے جن جن شکلوں میں کی ہے اس کی تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم پیش کرچکے ہیں۔ وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ ، اور وہ بھلا بیٹھے اس چیز کا ایک حصہ جس کے ذریعے سے ان کو یاد دہانی کی گئی تھی۔ " جس کے ذریعے سے یاددہانی کی گئی تھی " سے مراد ہمارے نزدیک تورات ہے۔ اس لیے کہ اسی کے اندر میثاق الٰہی کا سارا ریکارڈ محفوظ کیا گیا تھا اور وہ اسی لیے محفوظ کیا گیا تھا کہ بنی اسرائیل اور ان کی آئندہ نسلوں کے لیے ایک قابل اعتماد یادداشت کا کام دے۔ لیکن جب وہ اس یادداشت ہی کا ایک حصہ بھلا بیٹھے تو اب ان کے پاس ایسی کیا چیز رہ گئی تھی جو ان کو یاد دہانی کراسکتی۔ گھر کا چراغ ہی ہوتا ہے جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے، اگر اسی کو بجھا دیا جائے یا چھپا دیا جائے تو اب دوسری کون سی چیز اجالا کرے گی۔ یہ فراموش کردینا قدرتی نتیجہ ہے تحریف اور اخفا کا۔ یہود توروات کی بعض چیزیں، جیسا کہ بقرہ کی تفسیر میں ہم واضح کرچکے ہیں عام لوگوں سے چھپاتے تھے۔ اسی طرح تورات کی جو پیشین گوئیاں ان کے منشا کے خلاف تھیں ان میں انہوں نے لفظی تحریفیں کرکے ان کا مفہوم بدل دیا۔ تاویل کے ذریعے سے بھی انہوں نے حقائق کی قلب ماہیت کی۔ پھر ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ تورات حضرت موسیٰ کے زمانے میں یہ مرتب نہیں ہوئی بلکہ ان کی وفات کے اتنے دنوں کے بعد اس کی ترتیب عمل میں آئی جب کسی کو یہ علم بھی نہیں رہا تھا کہ ان قبر کہاں ہے۔ اس کے مرتبین کا نام بھی معلوم نہیں کہ وہ کون اور کن ٖصفات کے لوگ تھے۔ استثنا باب 34 کے آخر میں ہے کہ " پر آج تک کسی آدمی کو اس کی قبر معلوم نہیں " اسی طرح یہ الفاظ بھی اس میں ہیں " اور اس وقت سے اب تک کوئی نبی موسیٰ کے مانند، جس سے خداوند نے روبرو باتیں کیں، نہیں پیدا ہوا "۔ ظاہر ہے کہ جو کتاب اپنے لانے والے کی وفات کے اتنے طویل عرصہ کے بعد مرتب ہوئی کہ لوگ اس کی قبر بھی بھول چکے تھے اس کی تعلیمات کو محفوظ رکھنا ان کے لیے کس طرح ممکن تھا چناچہ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تورات کی بہت سی باتیں بھول گئے۔ پھر جو باتیں مرتب بھی ہوئیں وہ بھی اصل الفاظ میں محفوظ نہیں رہیں بلکہ ان کے پاس اصل تورات کے بجائے صرف اس کے ترجمے رہ گئے اور یہ ترجمے بدلتے بدلتے اصل سے اتنے مختلف ہوگئے کہ یہ تمیز کرنا ناممکن ہوگیا کہ اس میں اصل بات کتنی ہے اور کتنی جامعین اور مترجمین کی حاشیہ آرائی ہے۔ اسی طرح تورات کا ایک بہت بڑا حصہ اس کے حاملین نے ضائع کردیا۔ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰي خَاۗىِٕنَةٍ مِّنْهُمْ ، خائنۃ کے معنی خیانت کے ہیں جس طرح " لائمۃ " کے معنی ملامت کے۔ خیانت، بدعہدی اور عہد شکنی کے لیے عربی میں نہایت معروف ہے۔ قرآن نے یہود کی بہت سی بد عہدیوں اور ان کی تحریفات سے پردہ اٹھایا ہے جن کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے اور آگے ان کی مزید مثالیں آرہی ہی۔ قرآن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ان کی صرف انہی تحریفات سے تعرض کیا ہے جن سے تعرض تجدید شریعت کے نقطہ نظر سے ضروری تھا، جن سے تعرض ضروری نہیں تھا ان کو نظر انداز کردیا ہے اور ان کی مقدار بھی کم نہیں ہے، بہت زیادہ ہے۔ چناچہ آگے آیت 15 میں ارشاد ہے۔ " یبین لکم کثیرا مما کنتم تخفون من الکتب و یعفوا عن کثیر " (اور وہ تمہارے لیے ظاہر کر رہا ہے بہت سی وہ چیزیں تورات کی جن کو تم چھپاتے تھے اور بہت سی چیزیں نظر انداز کررہا ہے)۔ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ سے یہود کے اس مختصر گروہ کی طرف اشارہ ہے جو نقض عہد اور اس کے مذکورہ بالا نتائج سے محفوظ رہا ہے۔ اگرچہ یہ گروہ نہ تو اپنی قوم کو فتنوں سے بچا سکا نہ تورات کو شریروں کی دستبرد سے۔ تاہم یہ لوگ اپنے علم کے حد تک اصل شریعت پر قائم اور اس کی گواہی دیتے رہے۔ صالحین کا یہی گروہ ہے جس نے اسلام کا بھی خیر مقدم کیا۔ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ میں عفو و صفح سے مراد دل سے معاف کرنا نہیں بلکہ مجرد درگزر کرنا ہے۔ عفو کے اس معنی کے لیے نظیر آیت 15 کے اس ٹکڑے میں بھی ہے جو اوپر ہم نے نقل کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ابھی ان کو نظر انداز کرو اور مہلت دو۔ ان سے نمٹنے کا زمانہ آگے آئے گا۔
Ayah 5:14

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور جو لوگ دعوی کرتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں، ہم نے ان سے بھی عہد لیا تو جس چیز کے ذریعے سے ان کو یاد دہانی کی گئی وہ اس کا ایک حصہ بھلا بیٹھے تو ہم نے قیامت تک کے لیے ان کے درمیان عداوت اور بغض کی آگ بھڑکا دی اور جو کچھ وہ کرتے رہیں ہیں عنقریب اللہ اس سے ان کو آگاہ کرے گا

وَمِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰٓى اَخَذْنَا مِيْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ ۠ فَاَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۭ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ۔ نصاری کی عہد شکنی کے نتائج : یہود کے نقض عہد کے بعد اب یہ نصاری کے نقض عہد کا ذکر ہورہا ہے اور ان کے ذکر کی تمہید ہی اس انداز سے ٹھائی ہے جس سے متشرح ہورہا ہے کہ یہ نصاری قرآن کے نزدیک نصاری نہیں بلکہ صرف نصاری ہونے کے مدعی ہیں۔ چناچہ واقعہ یہی ہے کہ پال کے متبعین کو نہ صرف یہ کہ اصل نصرانیت سے کوئی علاقہ نہیں ہے بلکہ انہوں نے تو اپنا نام بھی بدل لیا۔ بقرہ میں، نصاریٰ پر مفصل بحث گزر چکی ہے۔ مزید بحث اسی سورة کی آیات 82۔ 85 کے تحت آرہی ہے۔ فَاَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ ، یہ نتیجہ بیان ہوا ہے کتاب الٰہی میں تحریف اور اس کے ایک حصے کو ضائع کردینے کا۔ ملت کی شیرازہ بندی اللہ کے میثاق اور اس کی کتاب ہی سے ہوتی ہے۔ اگر اسی میں فساد و اختلال پیدا ہوجائے تو پھر ملت کو فساد و اختلال اور خون خرابے سے کیا چیز بچا سکتی ہے۔ یہ صورت حال عہد شکنی کا قدرتی نتیجہ بھی ہے اور اس جرم کی سزا بھی، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف سے منسوب فرمایا۔ نصاریٰ کے لیے اس سے نجات کی واحد شکل یہ تھی کہ قرآن کی رہنمائی ان تاریکیوں سے نکل کر ہدایت کی روشنی اور امن و سلامتی کی شاہراہ پر آجاتے لیکن ان کے تعصب نے ان کو یہ سیدھی راہ اختیار نہ کرنے دی۔ اب نہ کوئی کتاب آنی ہے اور نہ کوئی رسول، اس وجہ سے اس جنگ وجدل سے نکلنے کا اب ان کے لیے قیامت تک کوئی امکان ہی باقی نہیں رہا۔ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ ، یہ دھمکی ہے یعنی عنقریب وہ وقت آئے گا جب اللہ ان کی یہ تمام کارستانیاں ان کے سامنے رکھ دے گا اور وہ اپنی ان تمام شرارتوں کے نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ یہ ملحوظ رہے کہ نقض عہد کی یہ تاریخ مسلمانوں کو محض ماضی کی ایک سرگزشت کی حیثیت سے نہیں سنائی جا رہی ہے بلکہ اس لیے سنائی جا رہی ہے کہ مسلمان اس سے سبق لیں اور یاد رکھیں کہ اگر انہوں نے بھی اپنے میثاق کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو یہودونصاری نے کیا تو ان کا بھی وہی حشر ہوگا جو یہودونصاری کا ہوا۔
Ayahs 5:15–16

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے اہل کتاب، تمہارے پاس ہمارا رسول وہ بہت سی باتیں ظاہر کرتا ہوا آگیا ہے جو تم کتاب کی چھپاتے رہو ہو اور وہ بہت سی باتیں نظر انداز بھی کر رہا ہے۔ اب تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور ایک واضح کرنے والی کتاب آگئی

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

اس کے ذریعے سے اللہ ان لوگوں کو جو اس کی خوشنودی کے طالب ہیں سلامتی کی راہیں دکھا رہا ہے اور اپنی توفیق بخشی سے ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لارہا ہے اور ایک صراط مستقیم کی طرف ان کی رہنمائی کررہا ہے

آگے کا مضمون۔ آیات 15۔ 19:۔ یہود اور نصاریٰ کے لیے نجات کی راہ : آگے یہود اور نصاریٰ دونوں کو بانداز تنبیہ توجہ دلائی ہے کہ تم اللہ کے عہد کو توڑ کر اور اس کی کتابیں ضائع کرکے جس تاریکی اور جس مذہبی جنگ و جدل میں پھنس گئے ہو اس سے نکالنے اور سلامتی کی راہ پر لانے کے لیے اللہ نے تمہیں پھر روشنی دکھائی ہے اور ایک واضح کتاب بھیجی ہے۔ اب اس کتاب اور اس رسول کے بعد تمہارے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ اگر اس اتمامِ حجت کے بعد بھی تم اسی تاریکی میں پڑے رہے تو یاد رکھو، اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کی گرفت سے باہر کوئی نہیں نکل سکتا۔ آیات کی تلاوت فرمائیے : تفسیر آیات 15 تا 16: لفظ خفاء تحریف کی ایک جامع تعبیر ہے : يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ۔ تحریف خواہ تبدیلی الفاظ کی نوعیت کی ہو یا تبدیلی مدعنی کی نوعیت کی، اس کا اصل مقصد حقیقت پر پردہ ڈالنا اور خلق کی کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہوتا ہے اس وجہ سے قرآن نے اس کے لیے جامع لفظ اخفاء کا استعمال کیا ہے جس کے تحت ان کی لفظی و معنوی تحریفیں بھی آگئیں اور ان کی کتابوں کی وہ آیتیں بھی جن کو اہل کتاب کے علماء اس اندیشے سے عام لوگوں سے چھپاتے تھے کہ ان کے خلافِ شریعت اقدامات کی پردہ دری نہ ہو یا ان کی بنا پر آخری بعثت کے باب میں ان پر کوئی حجت نہ قائم ہوسکے۔ فرمایا کہ یہ رسول تمہاری بہت سی تحریفات بےنقاب کررہا ہے اور ایسی بھی بہت سی ہیں جن کو نظر انداز کر رہا ہے اس لیے کہ مقصود اصل حقیقت کو ظاہر کرنا اور شریعت الٰہی کی تجدید و تکمیل ہے نہ تمہاری تذلیل و تفضیح " نور " اور " کتاب مبین " سے مراد : قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ۔ نور سے مراد قرآن مجید ہے اور کتاب مبین کا لفظ بطور تفسیر ہے۔ قرآن مجید حکمت اور شریعت دونوں کا مجموعہ ہے۔ وہ ذہنی تاریکیوں سے بھی نکالتا ہے اور زندگی کے لیے عمل کی صحیح شاہراہ بھی متعین کرتا ہے اس وجہ سے وہ نور بھی ہے اور کتاب مبین بھی۔ اہل کتاب کو اللہ تعالیٰ نے جو روشنی عطا فرمائی تھی اس کو ضائع کر کے وہ پھر تاریکیوں میں گھر گئے تھے، اصل حقیقت گم تھی اور شاہراہ ناپید۔ اس وجہ سے ان کے درمیان جنگ و جدل کی وہ آگ بھڑک اٹھی تھی جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ہدایت کے لیے طلب و جستجو شرط ہے : يَّهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ۔۔۔ الایۃ۔ یہ اس کتاب کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ نے یہ کتاب اس لیے اتاری ہے کہ تم اس پر ایمان لائے تو یہ تم کو اس جنگ و جدل سے نجات دے کر امن و سلامتی کی راہ پر، تاریکی سے نکال کر روشنی میں، کج روی اور ضلالت کی وادیوں سے نکال کر خدا کی صراط مستقیم پر لائے گی، بشرطیکہ تمہارے اندر خدا کی خوشنودی کی طلب ہو اور تم اپنے تعصبات کی پٹیاں اپنی آنکھوں سے کھول کر اس روشنی کو دیکھو اور اس کی قدر کرو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جن کے اندر رضائے الٰہی کی جستجو نہ ہو بلکہ وہ اپنی خواہشات کے پرستار بنے رہیں، ان کے لیے توفیق کا دروازہ نہیں کھلتا۔ باذنہ کے لفظ سے اسی سنت اللہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ یعنی یہ سعادت خدا کے اذن سے حاصل ہوتی ہے اور یہ اذن ان کے لیے ہوتا ہے جن کے اندر رضائے الٰہی کی جستجو ہو۔
Ayah 5:17

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

بیشک ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا اللہ تو وہی مسیح ابن مریم ہے۔ پوچھو، کون اللہ سے کچھ اختیار رکھتا ہے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کردے مسیح ابن مریم کو، اس کی ماں کو اور جو زمین میں ہیں ان سب کو۔ اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کی بادشاہی۔ وہ پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۭ قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــًٔـا اِنْ اَرَادَ اَنْ يُّهْلِكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۭوَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ پال کے عقیدے کی اصل روح : اب یہ نصاری کے نقض عہد کی ایک مثال بیان ہوئی ہے کہ انہوں نے تمام عہدومیثاق کی جو جڑ ہے یعنی توحید، اسی پر کلہاڑا رکھ دیا اور اللہ تعالیٰ کے بجائے مسیح ابن مریم کو خدا بنا بیٹھے۔ موجودہ مسیحیت جس کا بانی پال ہے، اصلاً تو حلول و اتحاد کے عقیدے پر مبنی ہے یعنی پال کے نزدیک مسیح کی شکل میں خدا ہی نے ظہور کیا ہے لیکن بعض اعتراضات سے بچنے کے لیے، جیسا کہ ہم نے سورة نساء کی تفسیر میں اشارہ کیا ہے، اس کو اس نے اس چیستاں کی شکل میں پیش کیا ہے، جس کو تثلیث کہتے ہیں۔ گویا حلول اس عقیدے کی روح ہے اور تثلیث اس کی تعبیر، قرآن نے کہیں اس گمراہی کی روح کو واضح کیا ہے، کہیں اس کی معروف تعبیر سے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پال کا اصل مقصود مسیح کو خدا ثابت کرنا تھا۔ اس کے لیے اس نے ان کی خارق عادت ولادت اور ان کے کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہونے سے مواد فراہم کیا لیکن انجیلوں میں چونکہ باپ اور روح القدس کا بھی ذکر تھا اس وجہ سے اسے یہ محنت کرنی پڑی کہ الوہیت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی ایسی تعبیر اختیار کرے کہ ان سب کے لیے اس میں کوئی نہ کوئی جگہ نکل آئے۔ لیکن یہ سارا گورکھ دھندا تو بس چند بال کی کھال ادھیڑنے والوں کے ذہن میں یا چند چیستاں قسم کی کتابوں کے اندر بند رہتا ہے، عام ذہن تو خلاصہ پسند ہوتا ہے، وہ ان موشگافیوں میں کہاں پڑتا ہے۔ چناچہ عوام نے اس سارے افسانے میں سے صرف اتنی بات اپنے ذہن میں راسخ کرلی کہ مسیح خدا ہیں۔ یہی حال عربوں کا ہوا۔ انہوں نے بھی خدا کے ساتھ دوسروں کو جو شریک کیا تو اپنے ایک مزعومہ فلسلفے کے تحت کیا لیکن پھر صورتیں اور مورتیں خدا بن گئیں اور خدا یا تو بالکل غائب ہوگیا یا اس طرح پس منظر میں چھپا دیا گیا کہ اس کو ہونا اور نہ ہونا برابر ہوگیا۔ اس پر تفصیلی بحث انشاء اللہ مکی سورتوں میں آئے گی۔ نصاری پر اظہار غضب : فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــًٔـا کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے ارادے میں کوئی حائل و مانع نہیں ہوسکتا۔ مثلاً لاستغرن لک وما املک لک من اللہ من شیء (میں آپ کے لیے خدا سے مغفرت مانگوں گا، لیکن آپ کے معاملے میں خدا کے کسی فیصلے میں کوئی دخل نہیں رکھتا) ، یہ مسیح کو خدا بنانے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اظہارِ غضب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نادانو، یہ کس قسم کی باتیں کرتے ہو، کیسا مسیح، کیا ان کی ماں اور کیا یہ ساری مخلوق، خدا سب سے بےنیاز اور مستغنی ہے۔ سب کو وجود اسی نے بخشا ہے اور اگر وہ ان سب کو فنا کردینا چاہے تو کون ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ سکے۔ آسمان و سمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب خدا ہی کی ملکیت ہے۔ کوئی نہیں ہے جو اس میں اس کا شریک ہو۔ وہ جو چاہے، جس طرح چاہے اور جتنی مقدار میں چاہے پیدا کرتا اور پیدا کرسکتا ہے۔ کسی کا بن باپ کے پیدا ہوجانا اس بات کی دلیل نہیں ہوجاتا کہ وہ خدا بن گیا یا خدائی میں شریک ہوگیا۔ خدا کسی کو چاہے تو بن باپ کے بھی پیدا کرسکتا ہے بلکہ ماں اور باپ دونوں کے بغیر بھی پیدا کرسکتا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayah 5:18

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور یہود اور نصاری نے دعوی کیا کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ ان سے پوچھو کہ پھر وہ تمہیں تمہارے جرموں پر سزا کیوں دیتا رہا ہے ؟ بلکہ تم بھی اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں بشر ہو۔ وہ جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا۔ اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کی بادشاہی اور اسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے

وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ ۭقُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ ۭ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۭيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۡ وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ اہل کتاب کا محبوب خدا ہونے کا زعم باطل : نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ۔ اس ٹکڑے پر تفصیل کے ساتھ پچھلی سورتوں میں بحث گزر چکی ہے۔ اہل کتاب کا یہی زعم باطل تھا جس نے ان کو عہد الٰہی کی ذمہ داریوں سے سب سے زیادہ بےپروا بنایا۔ انہوں نے گمان کیا کہ وہ خدا کے محبوبوں اور برگزیدوں کی اولاد ہیں اس وجہ سے عمل و اطاعت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہیں۔ جنت ان کا پیدائشی حق ہے۔ دوزخ میں اول تو وہ ڈالے نہیں جائیں گے اور اگر ڈالے بھی گئے تو بس یونہی چند دنوں کے لیے۔ اس فتنے کے اصل بانی تو یہود ہوئے لیکن آخر نصاری ان کو جنت کا واحد اجارہ دار کیوں بننے دیتے۔ چناچہ یہاں قرآن نے اس کو دونوں ہی کے مشترک عقیدے کی حیثیت سے ذکر کیا ہے۔ زعم باطل کی تردید خود ان کی اپنی تاریخ سے : قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ۔ یہ ان کے اس زعم باطل کی تردید خود ان کی اپنی تاریخ سے کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر خدا کے محبوب اور چہیتے ہونے کے سبب سے تم خدا کے مواخذے اور عذاب سے بری ہو تو تمہاری یہ محبوبیت اور تمہارا یہ چہیتا پن اس دنیا میں تمہارے کچھ کام کیوں نہ آیا، یہاں تو تمہاری پوری تاریخ اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ جب جب تم نے خدا سے سرکشی کی ہے اس نے تمہیں نہایت عبرت انگیز سزائیں بھی دی ہیں۔ ایسی عبرت انگیز کہ دنیا کی کسی قوم کی تاریخ میں ایسی سزاؤں کی مثال نہیں مل سکتی۔ پوری قوم کی غلامی، پوری قوم کی صحرا گردی، پوری قوم کی جلاوطنی، متعدد بار پوری قوم کا قتل عام اور بیت المقدس کی عبرت انگیز تباہی، یہ سارے واقعات خود تورات میں موجود ہیں۔ اگر ابراہیم و اسحاق کی اولاد ہونے کی وجہ سے تمہیں خدا کی طرف سے کوئی براءت نامہ حاصل ہے تو اس براءت نامے نے تمہیں ان عذابوں سے کیوں نہ بچایا ؟ اصل حقیقت کا اظہار : بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ، یہ اصل حقیقت کا اظہار ہے کہ ابنٰؤا اللہ اور احباء اللہ ہونے کے خبط نکلو، جس طرح خدا کی ساری مخلوق ہے اسی طرح تم بھی اس کی مخلوق ہو اور جس طرح سب کو خدا سے نبت ایمان و عمل صالح کے توسط سے حاصل ہوتی ہے اسی طرح تمہیں بھی خدا سے کوئی نسبت حاصل ہوگی تو ایمان و عمل صالح ہی کے واسطے سے حاصل ہوگی۔ يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ ، یعنی مغفرت اور عذاب خدا ہی کے اختیار میں ہے وہ جن کو مغفرت کا مستحق پائے گا ان کی مغفرت فرمائے گا، جن کو سزا کا مستحق پائے گا ان کو سزا دے گا۔ اگر کسی نے بزرگوں سے خاندانی نسبت یا ان کی موہوم شفاعتوں پر بھروسہ کرکے خدا کے عہد ہی کو توڑ دیا ہے تو اس کو خدا کے عذاب سے بچانے والا کوئی بھی نہیں بن سکے گا۔ وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ۔۔ الایۃ، یہ اوپر والے مضمون کی تاکید ہے کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب خدا ہی کی ملک ہے، اور سب کو خدا ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ نہ اس کائنات میں کسی کی حصہ داری ہے اور نہ خدا کے سوا کسی اور کے ہاں پیشی ہونی ہے کہ اس سے کوئی امید باندھی جائے۔
Ayah 5:19

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے اہل کتاب، تمہارے پاس ہمارا رسول، رسولوں کے ایک وقفے کے بعد، تمہارے لیے دین کو واضح کرتا ہوا آگیا ہے۔ مبادا تم کہو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ہوشیار کرنے والا تو آیا ہی نہیں۔ دیکھ لو، ایک بشیر و نذیر تمہارے پاس آگیا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَاۗءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّلَا نَذِيْرٍ ۡ فَقَدْ جَاۗءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّنَذِيْرٌ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ " فترۃ " کا مفہوم : " فترۃ " اس وقفہ کو کہتے ہیں جو ایک چیز کے ظہور کے بعد اس کے دوسرے ظہور سے پہلے واقع ہوتا ہے۔ مثلاً باری کے بخار کے دو حملوں کے درمیان جو وقفہ ہوگا اس کو فترۃ کہیں گے۔ آیت میں اس سے مراد وہ وقفہ ہے جو دو نبیوں کی بعثت کے درمیان ہوتا ہے۔ اہل کتاب کو تنبیہ : یہ اہل کتاب کو تنبیہ ہے کہ اپنی کتاب کی جن چیزوں کو تم نے چھپایا یا ضائع کردیا ان سب کو واضح اور خدا کی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتا ہوا ہمارا رسول تمہارے پاس آگیا ہے۔ اب تمہارے پاس اپنی گمراہی پر جمے رہنے کے لیے یہ عذر بھی باقی نہیں رہا کہ پہلے رسولوں کی بعثت پر ایک زمانہ گزر چکا تھا اور تم ایک نذیر و بشیر کے محتاج تھے۔ تمہارے اس عذر کو بھی ختم کرنے کے لیے ہم نے نذیر و بشیر بھیج دیا۔ اب اس اتمام حجت کے بعد بھی تم نے اپنی روش نہ بدلی تو خدا کو بےبس ہستی نہ سمجھنا۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ اہل کتاب کا یہ عذر کوئی قابل لحاظ عذر نہیں تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی لحاظ فرمایا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ان پر آخری درجے میں حجت تمام کردی گئی۔
Ayahs 5:20–21

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میرے ہم قومو ! اپنے اوپر اللہ کے فضل کو یاد کرو کہ اس نے تم میں نبی اٹھائے اور تم کو بادشاہ بنایا، اور تم کو وہ کچھ بخشا جو دنیا والوں میں سے کسی کو نہیں بخشا

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

اے میرے ہم قومو ! اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اور پیٹھ پیچھے نہ پھر ورنہ نامرادوں میں سے ہو کر رہ جاؤگے

آگے کا مضمون۔ آیات 20 تا 26:۔ بنی اسرائیل کو تاریخ کے ایک اہم واقعہ کی یاد دہانی : اب آگے یہود کی ابتدائی تاریخ کے ایک اہم واقعہ کی یاد دہانی فرمائی ہے جس سے ایک طرف یہ حقیقت روشنی میں آتی ہے کہ یہ قوم ابتدء ہی سے خدا کے عہد اور اس کے حقوق و فرائض کے معاملے میں نہایت بودی اور نکمی رہی ہے۔ دوسری طرف یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ خدا نے ابتدا ہی سے اس کی بدعہدیوں اور نالائقیوں پر اس کو سزا بھی ہمیشہ نہایت عبرت انگیز دی ہے اس وجہ سے آخرت کے عذاب سے محفوظ ہے : اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 20۔ 21:۔ وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَاۗءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ڰ وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ۔ يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِيْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِيْنَ۔ یہود کی تاریخ کا ایک ورق : اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَاۗءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ڰ وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ۔ سورة نساء کی آیت 54 کے تحت ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے جو مستقبل سے متعلق ہوتے ہیں، بعض اوقات ماضی کے صیغے سے تعبیر کیے جاتے ہیں۔ یہ وعدوں کی قطعیت کے اظہار کا ایک بلیغ اسلوب ہے جو قرآن میں بہت استعمال ہوا ہے۔ گویا یہ وعدے محض وعدے نہیں بلکہ واقعات ہیں جو واقع ہوچکے۔ حضرت مسی سے پہلے اگرچہ بنی اسرائیل میں بعض انبیاء مبعوث ہوچکے تھے۔ لیکن نبوت کا غیر منقطع سلسلہ آپ کے بعد شروع ہوا جو حضرت مسیح کی بعثت تک جاری رہا۔ بادشاہوں کے سلسلے کا تعلق تمام تر حضرت موسیٰ کے بعد ہی کے دور سے ہے۔ اس سے پہلے خاندان کے بزرگوں کو ایک قسم کی سیادت اور پدرسری تو حاصل رہی لیکن اس کو بادشاہی نہیں کہہ سکتے۔ تورات میں بھی اس کو بادشاہی سے تعبیر نہیں کیا گیا ہے۔ ایک سیاسی نکتہ : یہاں اسلوب کا ایک اور فرق بھی قابل لحاظ ہے۔ سلسلہ نبوت کی تعبیر کے لیے تو فرمایا " جعل فیکم انبیاء " (تم میں انبیاء بنائے)۔ لیکن سلسلہ بادشاہی کی تفسیر کے لیے " وجعلکم ملوکا " (اور تم کو بادشاہ بنایا) کی تعبیر اختیار فرمائی۔ ان دونوں اسلوبوں کے فرق سے یہ بات نکلتی ہے کہ نبوت ایک مرتبہ اختصاص ہے جو صرف اس سے مخصوص ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ اس منصب پر فائز فرماتا ہے۔ دوسرے اس میں شریک نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس بادشاہی کا ایک منصب اجتماعی ہے جس میں بادشاہ کے ساتھ اس کی پور قوم حصہ دار ہوتی ہے۔ اگر کسی بادشاہی میں قوم شریک نہ ہو تو وہ استبداد اور مطلق العنانی ہے۔ وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ۔ سے مراد وہ منصب امامت و شہادت حق ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مامور فرمایا تھا اور جو امت مسلمہ کے ظہور میں آنے سے پہلے ان کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں ہوا۔ ارض مقدس سے مراد کنعان اور فلسطین ہیں : الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِيْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ۔ ارض مقدس " سے مراد کنعان اور فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس کو مقدس کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہی علاقہ ہے جہاں حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) نے اللہ کے دین کی دعوت کا آغاز کیا۔ یہ علاقہ اگرچہ بعد میں کافروں اور بت پرستوں کے قبضے میں آگیا تھا لیکن توحید اور خدا پرستی کی اذان چونکہ سب سے پہلے اسی علاقے میں گونجی تھی، اس وجہ سے اس کو ارض مقدس سے تعبیر فرمایا۔ مصر سے نکلنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسی علاقے کو بنی اسرائیل کی میراث قرار دیا اور تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر ان سے وعدہ کیا کہ میں نے یہ علاقہ تم کو دیا۔ ملاحظہ ہوگنتی باب 13۔ حضرت موسیٰ کی ایک تقریر : یہ حضرت موسیٰ ؑ کی اس تقریر کا حوالہ ہے جو انہوں نے دشت فاران میں اس موقع پر فرمائی جب بنی اسرائیل کو فلسطین پر حملہ کے لیے ابھارا ہے۔ تورات کی کتاب گنتی باب 13۔ 14 کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر سے نکلنے کے بعد تمام منازل سفر طے کرتے ہوئے، جب حضرت موسیٰ دشتِ فاران میں پہنچے اور فلسطین کا علاقہ قریب آیا تو چونکہ یہی علاقہ منزل مقصود تھا اس وجہ سے آپ نے 12 سرداروں کی ایک پارٹی علاقے کے حالات دریافت کرنے کے لیے بھیجی۔ یہ پارٹی اپنی مہم سے فارغ ہو کر جب واپس آئی تو اس نے علاقے کی زرخیزی و شادابی سے متعلق تو نہایت شوق انگیز رپورٹ دی لیکن ملک پر قابض باشندوں کے قدوقامت اور ان کی زور آوری سے متعلق اس نے جو بیان دیا وہ بنی اسرائیل کے نہایت حوصلہ شکن ثابت ہوا۔ چنانچیہ بیان سنتے ہی انہوں نے واویلا شروع کردیا اور جس ملک پر قبضہ کرنے کی امنگیں لیے ہوئے یہاں تک پہنچے تھے اس پر قبضہ کرنا تو درکنار، پھر مصر پلٹ جانے کی باتیں کرنے لگے۔ اور یہ بات انہیں یاد بھی نہیں رہی کہ خدا نے ان کو اس ملک کی میراث دینے کا قسم کے ساتھ وعدہ فرمایا ہے۔ تفتیشی مہم کے ارکان میں سے دو شخصوں نے جن کے نام تورات میں یوشع اور کالب بتائے گئے ہیں، ان کی ہمت بندھانے کی بڑی کوشش کی اور اللہ کے وعدوں اور عزم و ہمت کے ثمرات و برکات کا بہتیرا حوالہ دیا لیکن بنی اسرائیل فلسطین پر حملہ کرنے کی ہمت و حوصلہ کرنے کی بجائے ان دونوں حوصلہ مندوں کو سنگ سار کردینے کے درپے ہوگئے۔ یہی موقع ہے جب حضرت موسیٰ نے یہ تقریر فرمائی ہے۔ قرآن نے اگرچہ تقریر کا صرف خلاصہ دیا ہے۔ اس لیے کہ مقصود بالاجمال واقعہ کی طرف صرف اشارہ کردینا تھا، تاہم وہ سارے پہلو اس میں موجود ہیں۔ جو اس موقع پر حوصلے کو بحال کرنے اور پست حوصلگی کے انجامِ بد سے آگاہ کرنے کے لیے ضروری تھے۔ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کے ان افضال و عنایات کا حوالہ دیا جو مصر سے خروج کے وقت سے لے کر اب تک برابر سایہ کی طرح بنی اسرائیل کے ساتھ رہے، ان قطعی اور حتمی وعدوں کا حوالہ دیا جو سلسلہ نبوت کے اجرا اور ابنی اسرائیل کو ایک عظیم حکمران قوم بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمائے۔ اس میراث کا حوالہ دیا جو ایک شاداب و زرخیز علاقہ کی شکل میں ان کو ملنے والی تھی اور جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دیا تھا۔ ان تمام وعدوں اور یقین دہانیوں کے ساتھ ان کو ارض مقدس پر حملہ کدعوت دی اور ساتھ ہی بزدلی اور پست حوصلگی کے انجامِ بد سے بھی آگاہ کردیا کہ قدم پیچھے ہٹایا تو بالکل ہی نامراد ہو کر رہ جاؤگے۔ پیچھے مصر کی غلامی اور آگے کے لیے ہمت نہ کی تو یہ صحرا گردی ہے جس میں مرکھپ کر فنا ہوجاؤ گے۔
Ayah 5:22

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

وہ بولے کہ اس میں تو بڑے زور آور لوگ ہیں۔ ہم اس میں نہیں داخل ہونے کے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائی۔ اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم داخل ہوں گے

قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّ فِيْهَا قَوْمًا جَبَّارِيْنَ ڰ وَاِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰي يَخْرُجُوْا مِنْهَا ۚ فَاِنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ۔ بنی اسرائیل کی مرعوبیت : " قوماً جبارین " جبار کے معنی قدر آور، زور آور، تگڑے اور طاقت ور کے ہیں۔ عربی میں جبار کھجور کے ان درختوں کو بھی کہتے ہیں بہت اونچے ہوں۔ تورات میں ان کی تصویر ان الفاظ میں کھینچی گئی ہے۔ " وہ ملک جس کا حال دریافت کرنے کو ہم اس میں سے گزرے ایک ایسا ملک ہے جو اپنے باشندوں کو کھا جاتا ہے اور وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھے وہ سب قد آور ہیں اور ہواں ہم نے بنی عناق کو بھی دیکھا جو جبار ہیں اور جباروں کی نسل سے ہیں اور ہم تو اپنی ہی نگاہ میں ایسے تھے جیسے ٹڈے ہوتے ہیں اور ایسے ہی ان کی نگاہ میں تھے (گنتی : 13۔ 33) یہ اس رپورٹ کے الفاظ ہیں ج تفتیشی مہم کے ارکان نے فلسطین کے باشندوں سے متعلق دی۔ اس میں بنی عناق کے لیے " جبار " ہی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ معلوم ہوتا ہے یہ لفظ اسی زمانے سے چلا آرہا ہے جو بعینہ قرآن میں بھی استعمال ہوا۔ عربی اور عبرانی دونوں قریب المخرج زبانیں ہیں۔ اسوجہ سے دونوں میں بہت سے مادے اور الفاظ مشترک ہیں۔ یہ حضرت موسیٰ کی اس تقریر کا جو اوپر مذکور ہوئی، بنی اسرائیل کی طرف سے جواب ہے کہ جب اس ملک پر ایسے جبار اور قدآور لوگ قابض ہیں تو ہم تو ان کی تلواروں کا لقمہ بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ البتہ اگر قدرت کے کسی ایسے معجزے کے ذریعے سے، جیسے معجزے تم اب تک دکھاتے رہے ہو، یہ اس علاقے سے نکل جائیں تو بیشک ہم اس علاقے پر قابض ہونے کے لیے تیار ہیں۔
Ayah 5:23

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

دو شخصوں نے جو تھے تو انہی ڈرنے والوں ہی میں سے، پر خدا کا ان پر فضل تھا، للکارا کہ تم ان پر چڑھائی کر کے شہر کے پھاٹک میں گھس جاؤ۔ جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو تمہی غالب رہو گے اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَيْهِمُ الْبَابَ ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ ۥ ۚ وَعَلَي اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔ یوشع اور کالب کا مثالی کردار : رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمَا، رجلان سے مراد، جیسا کہ اوپر مذکور ہوا، یوشع اور کالب ہیں جو اس مہم کے ارکان میں تھے جو فلسطین کے حالات کی تفتیش کے لیے بھیجی گئی تھی۔ " الذین یخافون " میں عام طور پر لوگوں نے " یخافون " کے مفعول کو محذوف مانا ہے یعنی یخافون اللہ، وہ اللہ سے ڈرنے والوں میں سے تھے۔ اگرچہ میرے استاذ ؒ کا رجحان بھی اسی طرف ہے لیکن لیکن دو وجہ سے اس تاویل پر میرا دل نہیں جمتا۔ ایک تو یہ کہ یہ موقع مفعول کے اظہار کا تھا نہ کہ اس کے حذف کا، اس لیے کہ یہاں التباس پیدا ہوسکتا ہے اور التباس کے مواقع میں اظہار مستحسن ہے نہ کہ حذف۔ دوسری یہ کہ اس صورت میں ٰہ ماننا پڑے گا کہ اس وقت خدا سے ڈرنے والوں کی ایک جماعت موجود تھی۔ جن کے اندر یوشع اور کالب بھی تھے۔ اگر یہ بات ہے تو انعام الٰہی کی تخصیص انہی دو حضرات کے لیے کیوں ہوئی، پھر تو انعم اللہ علیہما کی جگہ انعم اللہ علیہم ہونا تھا۔ علاوہ ازیں تورات اور قرآن دونوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس وقت بنی عناق کے خوف سے پوری قوم کا دل بیٹھ گیا تھا، صرف یہ دو اللہ کے بندے پوری قوم میں ایسے نکلے جو خوف زدہ نہیں ہوئے بلکہ اللہ کے عہد پر استوار رہے۔ اس وجہ سے قرین صواب توایل میرے نزدیک یہ ہے کہ ہرچند یوشع اور کالب تھے تو اسی قوم میں سے جس پر خوف اور بزدلی کی موت طاری تھی لیکن اللہ کا ان پر فضل و انعام تھا کہ وہ اس وبائے عام میں مرنے پر راضی نہیں ہوئے بلکہ ایمان اور عزم پر استوار رہنے کی انہوں نے توفیق پائی۔ اس میں شبہ نہیں کہ جب پوری قوم کی قوم اس طرح ہمت ہار بیٹھے جس طرح بنی اسرائلی ہار بیٹھے تو بہادر سے باہدر آدمی کے اعصاب بھی جواب دے جاتے ہیں۔ بڑا ہی باوفا اور صداقت شعار ہوتا ہے وہ مرد حق جو ایسے نازک موقع پر بھی اپنی وفاداری اور صداقت شعاری نباہ لے جائے۔ یوشع اور کالب کے کردار کا یہی پہلو ہے جس کے سبب سے عہد و میثاق کی اس سورة میں قرآن نے ان کا ذکر کر کے ان کو زندہ جاوید بنا دیا تاکہ جو لوگ خدا کی راہ پر چلنے کا اردہ کریں وہ ان کے اس مثالی کردار سے یہ سبق لیں کہ جب سب سو جائیں تو جاگنے والے کس طرح جاگتے ہیں اور جب سب مرجاتے ہیں تو زندہ رہنے والے کسی طرح زندہ رہتے ہیں۔ قرآن نے یہاں بزلوں کے اندر کے بہادروں اور مردوں کے اندر کے زندوں کو اس لیے نمایاں کیا ہے کہ بہادروں کے اندر بہادر اور زندوں کے اندر زندہ تو بہت نظر آجائیں گے لیکن وہ زندگی بخش ہستیاں بہت کمیاب ہیں جو مردوں کو زندگی بخشتی ہیں اگرچہ اسی راہ میں انہیں خود اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونے پڑجائیں۔ یوشع اور کالب کی تاریخی تقریر : ادْخُلُوْا عَلَيْهِمُ الْبَابَ ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ۔ یہ ان دونوں مردان حق کی تقریر ہے جو انہوں نے اپنی ہمت ہاری ہوئی قوم کا حوصلہ بحال کرنے کے لیے کی۔ انہوں نے للکارا کہ شہر کے پھاٹک سے ان پر چڑھائی کرو۔ جب تم یہ اقدام کر گزروگے تو تمہی غالب رہوگے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ بندے جب اپنا فرض ادا کرنے کے لیے ان کے پاس جو طاقت ور قوت موجود ہے اس کو میدان میں ڈال دیتے ہیں تب وہ اپنی مددونصرت سے ان کو نوازتا ہے، گھروں میں بیٹھے رہنے والوں کے لیے اس کی آسمانی تائید نہیں اترا کرتی۔ تورات میں ان کی یہ تقریر ان الفاظ میں ہے۔ " اور نون کا بیٹا یشوع اور یغنہ کا بیٹا کالب، جو اس ملک کا حال دریافت کرنے والوں میں سے تھے، اپنے اپنے کپڑے پھاڑ کر بنی اسرائیل کی ساری جماعت سے کہنے لگے کہ وہ ملک جس کا حال دریافت کرنے کو ہم اس میں سے گزرے نہایت اچھا ملک ہے۔ اگر خدا ہم سے راضی رہے تو وہ ہم کو اس ملک میں پنچائے گا اور وہی ملک جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے ہم کو دے گا فقط اتنا ہو کہ تم خداوند سے بغاوت نہ کرو اور نہ اس ملک کے لوگوں سے ڈرو، وہ تو ہماری خوراک ہیں، ان کی پناہ ان کے سر پر سے جاتی رہی ہے اور ہمارے ساتھ خداوند ہے، سو ان کا خوف نہ کرو۔ تب ساری جماعت بول اٹھی کہ ان کو سنگسار کرو " (گنتی باب 13۔ 6۔ 10) وَعَلَي اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔ یعنی اگر خدا پر ایمان ہے تو خدا نے تو قسم کے ساتھ اس ملک کی میراث تم کو دینے کا وعدہ فرمایا ہے، پھر خدا پر بھروسہ رکھو، اس کے حکم کی تعمیل کا عزم کرو۔ جب تم اپنا ضرف ادا کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوگے تو وہ اپنا وعدہ ضرور پورا فرمائے گا۔
Ayah 5:24

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

وہ بولے اے موسیٰ ، ہم اس میں ہرگز نہیں داخل ہونے کے جب تک وہ اس میں موجود ہیں تو تم اور تمہارا خداوند جا کر لڑو، ہم تو یہاں بیٹھتے ہیں

قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰهُنَا قٰعِدُوْنَ۔ یہ بنی اسرائیل کی طرف سے آخری جواب تھا۔ تورات میں یہ جواب ان لفظوں میں تو موجود نہیں ہے لیکن بنی اسرائیل کے گریہ و ماتم کا ذکر ہے۔ بنی اسرائیل کا واویلا : " تب ساری جماعت زور زور سے چیخنے لگی اور وہ لوگ اس رات روتے ہیں رہے اور کل بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون کی شکایت کرنے لگے اور ساری جماعت ان سے کہنے لگی ہائے کاش ہم مصر ہی میں مرجاتے ! یا کاش اس بیابان ہی میں مرتے ! خداوند کیوں ہم کو اس ملک میں لے جا کر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے " (گنتی 14:، 1۔ 3)۔ ظاہر ہے کہ جن کی بزدلی اور دہشت زدگی کا یہ عالم ہو ان کے لیے حضرت موسیٰ اور یوشع و کالب کی یہ یقین دہانی کہ " خدا ہمارے ساتھ ہے، تم ان کا خوف نہ کرو " بالکل بےسود تھی۔ انہوں نے یقیناً اس یقین دہانی کے جواب میں یہی کہا ہوگا کہ اگر خداوند ساتھ ہے تو تم اور تمہارا خداوند جا کر لڑو، ہم تو یہیں بیٹھتے ہیں۔
Ayah 5:25

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

موسیٰ نے دعا کی اے میرے پروردگار، میرا اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر کچھ زور نہیں۔ پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان علیحدگی کردے

قَالَ رَبِّ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَاَخِيْ فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ۔ حضرت موسیٰ کی درخواست بارگاہ الٰہی میں : بنی اسرائیل کے مذکورہ بالا جواب کے بعد ان سے کسی خیر آخری امید بھی ختم ہوگئی اس وجہ سے حضرت موسیٰ نے نہایت غم اور صدمے کے ساتھ اپنے پروردگار سے دعا کی کہ اے میرے رب ! میرا اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر کوئی زور نہیں، اس وجہ سے اب تو ہمارے اور اس بدعہد قوم کے درمیان علیحدگی کردے۔ " علیحدگی کردینے " کا منشا ظاہر ہے کہ یہی ہوسکتا ہے کہ اب ان کی قیادت و اصلاح کے بار عطیم سے ان کو سبکدوش کردیا جائے۔ اتنی طویل جدوجہد، اور اتنے بیشمار خوارق و عجائب کے بعد بھی جن کی بےیقنیی کا یہ عالم ہے کہ ایک شخص بھی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے تو اب میں ان پتھروں میں کیا جونک لگا سکوں گا۔ اب تو میرے اور ان کے درمیان فیصلہ ہی فرما دے۔ حضرت ہارون چونکہ خود خدا کے مقرر کردہ وزیر تھے اور انہوں نے ہر مرحلے میں اپنی وفاداری کا شایانِ شان ثبوت دیا تھا اس وجہ سے ان پر اعتماد تو ایک امر بدیہی تھا لیکن باقی پوری قوم، اللہ کے ان دوبندوں کے سوا جن کا ذکر اوپر ہوا، بالکل مردہ نکلی۔
Ayah 5:26

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

فرمایا تو یہ سرزمین ان پر چالیس سال کے لیے حرام ٹھہری، یہ لوگ زمین میں بھٹکتے پھریں گے۔ پس تو ان نافرمان لوگوں کا غم نہ کھا۔

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ اَرْبَعِيْنَ سَـنَةً ۚ يَتِيْھُوْنَ فِي الْاَرْضِ ۭ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ۔ بنی اسرائیل کو صحراگردی کی سزا : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی علیحدگی کی درخواست تو منظور نہیں فرمائی، اس لیے کہ پیغمبر قوم کے لیے بمنزلہ روح ہوتا ہے۔ قوم سے اس کی علیحدگی، اور وہ بھی اعلان براءت کے ساتھ، پوری قوم کے لیے پیغام ہلاکت ہوتی ہے لیکن بنی اسرائیل کی اس ناقدری اور بےیقینی کی سزا ان کو یہ دی کہ چالیس سال کے لیے سرزمین مقدس کو ان کے لیے حرام کردیا اور یہ فیصلہ فرمایا کہ یہ مدت یہ اسی صحرا گردی میں گزاریں گے۔ تورات میں اس کا ذکر اس طرح ہوا ہے۔ " اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا، میں کب تک اس خبیث گروہ کی جو میری شکایت کرتی رہتی ہے برداشت کروں ؟ بنی اسرائیل جو میرے برخلاف شکایتیں کرتے رہتے ہیں میں نے وہ سب شکایتیں سنی ہیں، سو تم ان سے کہہ دو ، خداوند کہتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم ہے کہ جیسے تم نے میرے سنتے کہا ہے میں تم سے ضرور ویسا ہی کروں گا، تمہاری لاشیں اسی بیابان میں پڑی رہیں گی اور تمہاری ساری تعداد میں سے یعنی بیس برس سے لے کر اس سے اوپر اوپر کی عمر کے تم سب جتنے گنے گئے اور مجھ پر شکایت کرتے رہے ان میں سے کوئی اس ملک میں جس کی بابت میں نے قسم کھائی تھی کہ تم کو وہاں بساؤں گا، جانے نہ پائے گا۔ سوائے یغنہ کے بیٹے کالب اور نون کے بیٹے یشوع کے۔ اور تمہارے بال بچے جن کی بابت تم نے یہ کہا کہ وہ تو لوٹ کا مال ٹھہریں گے ان کو میں وہاں پہنچاؤں گا اور جس ملک کو تم نے حقیر جانا وہ اس کی حقیقت پہچانیں گے اور تمہارا یہ حال ہوگا کہ تمہاری لاشیں اس بیابان میں پڑی رہیں گی اور تمہارے لڑکے بالے چالیس برس تک بیابان میں پھرتے اور تمہاری زناکاریوں کا پھل پاتے رہیں گے " (گنتی باب 14:، 27۔ 34) (یہ بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ " زناکاری " کا لفظ تورات میں خدا کے ساتھ بدعہدی اور بےوفائی کے لیے بکثرت استعمال ہوا ہے) اجتماعیات کا ایک اہم سبق : اس صحراگردی کے دوران میں بنی اسرائیل حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کی قیادت سے بھی محروم ہوگئے اور ان کی وہ پوری نسل بھی ختم ہوگئی جس نے قبطیوں کی غلامی زیر سایہ پرورش پائی تھی البتہ وہ نسل باقی رہی جو اس صحرای کی فضا میں پلی اور جوان ہوئی۔ اسی نے بعد میں یوشع کی قیادت میں موعودہ سرزمین کو فتح کیا۔ اس سے ہمارے بعض علمائے اجتماعیات نے یہ نتیجہ نکالا ہے اور صحیح نتیجہ نکالا ہے کہ آزادی و حکمرانی کی ذمہ داریوں کے لیے خود اعتمادی اور الوالعزمی ضروری ہے۔ مصر کی غلامی نے یہ چیز بنی اسرائیل کے اندر سے ختم کردی تھی۔ قدرت نے ان کو صحرا کی بھٹی میں تپا کر از سر نو ان کے اندر یہ جوہر پیدا کیا تب وہ اس قابل ہوسکے کہ کسی ملک کو فتح اور اس پر حکومت کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لیے ضابطے اور قاعدے بنائے ہیں اور یہ ضابطے اور قاعدے بالکل بےلاگ ہیں قدرت نے اجتماعی ترقی کے لیے جو زینے ٹھہرا دیے ہیں ان کو طے کیے بغیر کوئی قوم بام ترقی پر نہیں پہنچ سکتی، اگرچہ حضرت ابراہیم جیسے جلیل القدر پیغمبر کی نسل ہی سے کیوں نہ ہو۔ تاریخ بنی اسرائیل کے اس واقعے نے ان کے اس زعم کی پوری پوری تردید کردی جس کا حوالہ اوپر گزرا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے محبوب اور چہیتے سمجھتے ہیں۔ اس وجہ سے عمل و اطاعت کی ذمہ داریوں سے اپنے کو بری خیال کیے بیٹھے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارا یہ گمان کچھ حقیقت رکھتا ہے تو موسیٰ کی موجودگی میں تو اور بھی زیادہ چہیتے تھے، پھر اس وقت ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم ڈگ ڈال دیے تھے تو خدا خود تمہیں اپنے کندھوں پر اٹھا کرلے جاتا اور فلسطین کا بادشاہ بنا دیتا۔ پھر خدا کی جنت کو تم یونہی مفت میں حاصل کرنے کے خبط میں کیوں مبتلا ہو !