5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتدبرِ قرآن

Ayahs 5:61–63

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب یہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو ایمان لائے ہوئے ہیں حالانکہ وہ کفر کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اور اسی کے ساتھ نکلتے ہیں، اور اللہ خوب واقف ہے اس چیز سے جس کو وہ چھپا رہے ہیں

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

تم ان میں سے اکثر کو دیکھو گے کہ وہ حق تلفی، زیادتی اور حرام خوری کی راہ میں گرم رو ہیں۔ کیا ہی برا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

ان کے علما اور فقہا ان کو گناہ کی بات کہنے اور ان کو حرام کھانے روکتے کیوں نہیں ؟ کتنی بری ہے یہ حرکت کو یہ کر رہے ہیں

تفسیر آیت 61 تا 63: وَاِذَا جَاۗءُوْكُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَقَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ ۭ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا يَكْتُمُوْنَ۔ وَتَرٰى كَثِيْرًا مِّنْهُمْ يُسَارِعُوْنَ فِي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ۔ یہود کا ایک مخصوص گروہ : ان آیات کے تمام مشکل الفاظ پیچھے زیر بحث آچکے ہیں۔ یہ بھی یہود ہی کا ذکر ہے لیکن یہ یہود کا وہ گروہ ہے جس کا ذکر بقرہ کی آیات 8 تا 16 میں ہوا ہے۔ وہاں ہم تفصیل کے ساتھ بتا چکے ہیں کہ یہود میں ایک گروہ ایسے لوگ کا بھی تھا جو مسلمانوں کی مجالس میں آتے تو کہتے کہ مومن تو ہم بھی ہیں، خدا اور رسول اور خدا کی کتاب پر ہمارا بھی ایمان ہے، پھر مسلمان ہمیں مومن کیوں نہیں تسلیم کرتے۔ یہ بات وہ اس ذہنی تحفظ کے ساتھ کہتے کہ اگر ہم محمد اور ان کی پیش کردہ کتاب کو نہیں مانتے تو اس سے کیا فرق پیدا ہوتا ہے۔ آخر ہمارے پیغمبر اور ہماری کتاب بھی تو خدا ہی کے بھیجے ہوئے ہیں۔ عام مسلمان ان کی اس طرح کی باتوں سے دھوکے میں پڑتے اور ان سے ایک قسم کے حسن ظن میں مبتلا ہوجاتے چناچہ اسی بنا پر قرآن نے ان کی اس بات کو " مخادعت " سے تعبیر کیا ہے۔ جب ان سے یہ کہا جاتا کہ اگر مومن ہو تو سیدھے سیدھے مسلمانوں کی طرح کیوں ایمان نہیں لاتے یعنی محمد ﷺ اور قرآن کا اقرار کیوں نہیں کرتے تو اس پر برہم ہوجاتے اور کہتے ہم بیوقوفوں کی طرح کی حرکت نہیں کرتے۔ ہم ملک میں صلح و امن چاہتے ہیں اور اس کا طریقہ یہی ہے کہ مسلمان اگر کسی کو پیغمبر ماننا چاہتے ہیں تو مانیں لیکن ہمارے لیے اس کا مانن ضروری نہ قرار دیں۔ اس کو مانے بغیر ہمارا دینی مقام و مرتبہ تسلیم کریں۔ اگر مسلمان اپنے سوا سب کو کافر قرار دیں گے تو اس سے ملک میں فساد برپا ہوگا جس میں سب کا نقصان ہے۔ بقرہ کی مذکورہ بالا آیات کے تحت ہم یہ بھی بیان کرچکے ہیں کہ اشتراک ایمان کا یہ وہی نظریہ ہے جو وحدت ادیان کے عنوان سے تقسیم ہند سے پہلے ہمارے ملک میں بھی پیش ہوچکا اور اب بھی وقتاً فوقتاً اس کی صدائے باز گشت سنائی دیتی رہتی ہے۔ زیر بحث آیات میں یہود کے اسی گروہ کا ذکر ہے۔ فرمایا کہ جب یہ تماہری مجالس میں آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی مسلمان ہیں۔ حالانکہ جس کفر کے ساتھ وہ آتے ہیں اسی کفر کے ساتھ وہ واپس جاتے ہیں، ایمان نہ داخل ہوتے وقت ان کے ساتھ ہوتا ہے نہ نکلتے وقت، بس تمہارے سامنے دعوی کرکے تمہیں دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ دلوں میں ان کے جو کچھ ہے وہ اللہ کو خوب معلوم ہے۔ بقرہ کی محولہ بالا آیات میں قرآن نے ان کے دلوں کے اس بھید کو کھول بھی دیا ہے وہ اللہ کو خوب معلوم ہے۔ بقرہ کی محولہ بالا آیات میں قرآن نے ان کے دلوں کے اس بھید کو کھول بھی دیا ہے۔ اس وجہ سے ہماری تفسیر کی روشنی میں ان آیات پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہود کے دعوائے ایمان کی پردہ دری : تری کثیرا منہم الایۃ، یہ قرآن نے ان کے دعوائے ایمان کی قلعی کھولی ہے کہ ایمان کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن حال یہ ہے کہ رات دن ان کی بھاگ دوڑ حق تلفی، تعدی اور حرام خوری کی راہ میں ہے۔ یہاں " یسارعون " کا لفظ خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کا ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ ایمان کے ساتھ کسی ظلم و زیادتی کا صادر ہوجانا یا کسی حرام سے آلودہ ہوجانا تو بعید نہیں ہے لیکن حرام خوری ہی کسی کا اوڑھنا بچھونا بن جائے اور اس کی ہر وقت کی تگ و دو ظلم و زیادتی ہی کی راہ میں ہو تو بہت ہی برا عمل ہے یہ جو ایمان کے دعوے کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس بات کو دوسرے مقام میں یوں بھی فرمایا گیا ہے کہ اگر ان کا ایمان انہی باتوں کا حکم دے رہا ہے تو بہت ہی بری باتوں کا حکم دے رہا ہے۔ یہود کے علماء اور فقہا کو سرزنش : لولا ینھٰھم الربانیون۔۔۔ الایۃ، یہ ان کے علما اور فقہا کو سرزنش ہے کہ آخر وہ ان برائیوں اور حرام خوریوں سے ان کو روکتے کیوں نہیں ؟ اس سے علماء کے فریضہ منصبی کی وضاحت بھی ہو رہی ہے اور یہود کی سوسائٹی اس وقت زوال کی جس آخری حد کو پہنچ چکی تھی اس پر بھی روشنی پڑ رہی ہے۔ جب مریض مرض کے آخری مرحلہ میں داخل ہوجائے اور طبیب موت ہی کو شفا سمجھنے لگ جائیں تو اس مریض کی ہلاکت میں کیا شبہ رہا ؟ قولہم الاثم سے مراد وہ گناہ کی باتیں بھی ہیں جن میں سے بعض کا ذکر اوپر گزرا اور بعض کا آگے آرہا ہے اور وہ جھوٹی شہادت بھی ہے جس نے یہود کے اندر ایک کاروبار کی شکل اختیار کرلی تھی، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق و عدل کے گواہ بنائے گئے تھے۔ علمائے یہود کی جس اخلاقی و ایمانی موت پر یہاں ملامت فرمائی ہے، آیت کا سیاق دلیل ہے کہ ان کے اوپر یہ موت اس وجہ سے طاری ہوئی کہ وہ خود ان افعال کے مرتکب ہوئے جن میں ان کی قوم کی اکثریت مبتلا تھی۔ ایسی حالت میں ان کی زبانیں ان برائیوں کے خلاف کس طرح کھل سکتی تھیں۔
Ayah 5:64

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ہاتھ ان کے بندھ جائیں اور ان کی اس بات کے سبب سے ان پر لعنت ہو بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں، وہ خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے۔ ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور ان کے کفر کو وہ چیز بڑھا رہی ہے جو تیرے رب کی طرف سے تیری طرف اتاری گئی ہے اور ہم نے ان کے اندر دشمنی اور کینہ قیامت تک کے لیے ڈال دیا ہے۔ جب جب یہ لڑائی کی کوئی آگ بھڑکائیں گے اللہ اس کو بجھا دے گا۔ یہ زمین میں فساد برپا کرنے میں سرگرم ہیں اور اللہ فساد برپا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ يَدُاللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ ۭغُلَّتْ اَيْدِيْهِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا ۘبَلْ يَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ ۙ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاۗءُ ۭ وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا ۭ وَاَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۭكُلَّمَآ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّـلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ ۙوَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا ۭوَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ۔ یہود کی گستاخی شان الٰہی میں : وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ يَدُاللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ۔ اوپر دین اور شعائر دین کے ساتھ ان کے مذاق کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب یہ اسی قسم کی ایک اور گستاخی (قول اثم) کا ذکر ہورہا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ خدا کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ " ہاتھ بندھے ہوئے ہیں " یعنی تنگ ہیں۔ یہ وہی بات ہے جو سورة آل عمران کی آیت 181 میں گزر چکی ہے۔ لقد سمع اللہ قول الذین قالوا ان اللہ فقیر و نحن اغنیاء (اللہ نے ان لوگوں کی بات سن رکھی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ غریب ہے اور ہم امیر ہیں)۔ وہاں ہم نے بتایا ہے کہ قرآن نے جب مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی دعوت دی اور اس دعوت کے لیے یہ مؤثر اسلوب اختیار کیا کہ کوئی ہے جو آج اللہ کو قرض حسن دے۔ تو یہود نے اسلام اور قرآن کی تحقیر اور مسلمانوں کا حوصلہ پست کرنے کے لیے اس دعوت کو مذاق بنا لیا کہ آج کل مسلمانوں کے اللہ میاں بہت غریب ہو رہے ہیں، بندوں سے قرض مانگنے کی نوبت آگئی ہے، اللہ میاں غریب اور ہم بندے امیر ہیں۔ بعینہ اسی موقع کی بات یہاں نقل ہوئی ہے۔ یہود کہتے ہیں کہ ان دنوں اللہ میاں کا ہاتھ بہت تنگ ہو رہا ہے، نوبت بندوں سے قرض مانگنے تک پہنچ گئی ہے۔ غُلَّتْ اَيْدِيْهِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا، یہ جملہ معترضہ کے طور پر، ان کی اس گستاخی پر لعنت اور پھٹکار ہے۔ اس فوری لعنت اور پھٹکار کی وجہ یہ ہے کہ یہود نہ تو اللہ اور اس کی شان سے بیخبر تھے ور نہ دعوت انفاق کے اس بلیغ انداز سے۔ وہ ہر چیز سے اچھی طرح واقف تھے لیکن قرآن اور پیغمبر کی عداوت میں ایسے اندھے بہرے ہوگئے تھے کہ تحقیر و استہزا کا جو موقع بھی مل جاتا۔ اس سے ضرور فائدہ اٹھاتے، اس امر کی مطلق پروا نہ کرتے کہ بات کہاں تک پہنچے گی۔ یہود کی شرارتوں کی اصلی علت : بَلْ يَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ۔۔۔ الایۃ، یہ ان کی بات کی تردید کے ساتھ ساتھ اس گستاخانہ رویہ کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ یہ کتاب جو تمہاری طرف اتری ہے اس کے حسد نے ان کو اس طرح بےضبط بنا دیا ہے کہ جو منہ میں آجاتا ہے وہ بک ڈالتے ہیں۔ قرآن کے سبب سے بنی اسرائیل کے اندر مسلمانوں کے خلاف بغض و حسد کے بھڑک اٹھنے پر تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ اور آل عمران میں بھی بحث ہوچکی ہے اور اس سورة میں بھی بعض نہایت اہم اشارات گزرے ہیں۔ یہود اس حقیقت سے اچھی طرح باخبر تھے کہ عربوں کو قرآن کا ملنا صرف قرآن ہی کا ملنا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ وہ امامت و سیادت بھی اب ان کی طرف منتقل ہو رہی ہے جس کے تنہا اجارہ دار اب تک وہ خود بنے بیٹھے تے۔ اس حسد نے ان کو خدا کا بھی باغی بنا دیا اور اس کے سبب سے ان کے اندر مسلمانوں کے خلاف بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عداوت اور کینہ کا بیج پڑگیا۔ مسلمانوں کو تسلی کہ یہود کی کوئی شرارت کامیاب نہیں ہوگی : كُلَّمَآ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّـلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ ، یہ مسلمانوں کو تسکین و تسلی ہے کہ اگرچہ اس عداوت اور حسد کے جوش میں یہ برابر تمہارے خلاف جنگ کی آگ بھڑکائیں گے لیکن اللہ ان کی کسی سعی فساد کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ بلکہ جب بھی یہ جنگ کی آگ بھڑکائیں گے خدا اس کو بجھا دیا کرے گا۔ یہ بات یہاں ملحوظ رہے کہ کفار نے مسلمانوں پر جب جب بھی چڑھائی کی ہے اس میں یہود کی سازش اور انگیخت کو ضرور دخل رہا ہے۔ اس بات کی طرف ہم پیچھے بھی اشارہ کرچکے ہیں اور آگے سورة انفال میں بھی انشاء اللہ ہم اس پر تفصیل سے گفتگو کریں گے۔ اس دنیا میں فساد منشائے الٰہی کے خلاف ہے : وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ۔ یہ اوپر کی بات کی وہ دلیل بیان ہوئی ہے جو صفات الٰہی کا مقتضیٰ ہے۔ بقرہ کی تفسیر میں ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ تمام فساد فی الارض کی اصل قانونِ الٰہی کی خلاف ورزی اور اس کی مخالفت ہے۔ اس سے کائنات کے تکوینی اور تشریعی نظام میں تصادم واقع ہوتا ہے جس سے اس زمین کی برکتیں اٹھ جاتی ہیں اور اس سے ان فتنوں کو راہ ملتی ہے جن کے سبب سے دنیا شیطان کی بازی گاہ بن جاتی ہے۔ خالق کائنات، جس نے یہ دنیا بنائی ہے، اس کو اس کی صلاح و فلاح مطلوب ہے اس وجہ سے وہ ان مفسدانہ کوششوں کو اسی حد تک مہلت دیتا ہے جہاں تک اس کی حکمت ابتلا کا تقاضا ہوتا ہے۔ اس حد سے آگے ان کو بڑھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کو پسند ان لوگوں کی جدوجہد ہے جو اس دنیا میں نظام حق و عدل کے علمبردار ہیں۔ یہی چیز اس کائنات کے مجموعی نظام سے ہم آہنگ اور فطرۃ اللہ کے موافق ہے۔ اس وجہ سے وہ ان کی، اگر وہ حق و عدل کی شہادت کے تقاضے پورے کرتے ہیں، مدد فرماتا ہے اور مفسدین کی مخالفتوں، ریشہ دوانیوں اور جنگ آزمائیوں کے علی الرغم ان کو برومند اور فتحیاب کرتا ہے۔
Ayahs 5:65–66

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ان سے ان کے گناہ جھاڑ دیتے اور ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر وہ تورات اور انجیل اور اس چیز کو قائم کرتے جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے اتاری گئی تو وہ اپنے اوپر سے اور اپنے قدموں کے نیچے سے خدا کا رزق و فضل پاتے۔ ان میں ایک راست رو جماعت بھی ہے لیکن زیادہ ان میں سے ایسے ہیں جن کے عمل بہت برے ہیں

تفسیر آیت 65 تا 66:۔ وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ۔ وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ۭمِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَاۗءَ مَا يَعْمَلُوْنَ۔ وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا، سیاق وسباق دلیل ہے کہ یہاں ایمان سے مراد آنحضرت ﷺ پر ایمان ہے۔ یعنی یہ اہل کتاب حسدوعناد کی اس روشن کے بجائے جو انہوں نے اختیار کر رکھی ہے، اگر ایمان وتقوی کی روش اختیار کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کے پچھلے گناہوں کو معاف فرما دیتا اور ان کو اپنی نعمت کے باغوں میں داخل کرتا۔ وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ۔۔۔ الایۃ۔ اخروی انعام کے بعد یہ اس ایمان کی دنیوی برکات کی طرف اشارہ فرمایا کہ اہل کتاب سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے یہ دعوت قبول کرلی تو وہ اس سیادت و قیادت سے جو اب تک ان کو حاصل رہی ہے۔ محروم ہوجائیں گے حالانکہ یہ محض ان کی حماقت و بلادت ہے۔ اگر یہ اس کو قبول کرتے تو ٓسمان اور زمین دونوں کی برکتوں کے دروازے ان کے لیے کھل جاتے لیکن ان میں معقول اور راست رو تھوڑے نکلے، زیادہ فاسق و بدعمل ہی ہیں۔ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ ، سے ظاہر ہے کہ قرٓن مراد ہے۔ اس کے قائم کرنے کے ساتھ ساتھ تورات اور انجیل کے قائم کرنے کے حوالے سے مقصود ایک تو یہ ظاہر کرنا ہے کہ اس چیز کا قائم کرنا صرف اسی کو قائم نہیں کرنا ہے بلکہ یہ درحقیقت تورات و انجیل کو بھی قائم کرنا ہے۔ اس لیے کہ تورات و انجیل دونوں کی اپنی پیشینگوئیوں کے مطابق اب یہی چیز ہے جو تورات و انجیل کو برباد کیا اور اب اسی دنیا کی محبت انہیں اس قرآن کے قبول کرنے سے مانع ہے حالانکہ ان چیزوں کے قبول کرنے کے معنی اس دنیا سے محروم ہونے کے نہیں تھے، اگر یہ تورات و انجیل کو قائم کرتے اور اب اللہ کی اس آخری کتاب کو قبول کرتے اور اس کو قائم کرنے کی جدوجہد میں شریک بنتے تو آسمان و زمین دونوں ان کے لیے اپنے خزانے اگلتے۔ سورة اعراف میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے " ولو ان اھل القری امنوا واتقوا لفتحنا علیہم برکات من السماء والارض : اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ " قائم کرنے " سے مراد زندگی کے معاملات سے ان کا تعلق قائم کرنا ہے۔ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی اس کے احکام و قوانین کے مطابق بسر کریں۔ اگر زندگی کتاب الٰہی سے بےتعلق ہوجائے تو خواہ زبان سے کتاب الٰہی کی مدح میں کتنی ہی قصدیہ خوانی کی جائے نہ یہ کتاب الٰہی کا قائم کرنا ہے اور نہ اس قصیدہ خوانی سے کسی کو قوامین بالقسط کا درجہ حاصل ہوسکتا ہے بلکہ یہ کھلم کھلا نقض میثاق اور شریعت الٰہی کا ہدم ہے۔ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ۔ قصد کے معنی سیدھی راہ کے ہیں، ھو علی قصد، وہ رشد و ہدایت پر ہے۔ اسی سے فلان اقتصد فی امرہ (وہ اپنے معاملہ میں راہ راست پر ہے) ، ہے۔ یہ اہل کتاب کے اس قلیل التعداد گروہ کا ذکر ہے جو حالات کے اس ہمہ گیر بگاڑ کے باوجود جس کی تفصیلات اوپر گزریں، اپنے امکان کے حد تک حق پر قائم رہا اور بالآخر اسلام سے مشرف ہوا۔
Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے رسول، تمہاری طرف جو چیز تمہارے رب کی جانب اتاری گئی ہے اس کو اچھی طرح پہنچا دو ، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا، اور اللہ ولگوں سے تمہاری حفاظت کرے گا۔ اللہ کافروں کو ہرگز راہ یاب نہیں کرے گا

آگے کا مضمون۔ آیات 67 تا 86:۔ پہلے نبی ﷺ کو مخاطب کرکے تاکید فرمائی کہ ان اہل کتاب کی تم مطلق پروا نہ کرو جو اپنی برتری اور پیشوائی کے گھمنڈ میں سرمست ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کا یہ مزعومہ مقام و مرتبہ تسلیم کرو۔ تمہاری ذمہ داری بحیثیت رسول کے بےخوف لومۃ لائم اس حق کا اظہار و اعلان ہے جو تم پر خدا کی طرف سے نازل کیا جا رہا ہے۔ یہ تمہاری اپنی بات نہیں ہے کہ کسی کی رو رعایت سے تم اس میں کوئی کمی بیشی کرسکو۔ یہ خدا کا پیغام اور تم اس پیغام ہی کو کے مخاطبوں تک پہنچانے لیے رسول بنا کر بھیجے گئے ہو۔ اگر اس میں ایک حرف کی بھی کمی بیشی ہوئی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تم نے اپنے فرض منصبی کی ادائیگی میں کوتاہی کی۔ اگر اس کے سبب سے وہ تماہرے دشمن ہوجاتے ہیں ہوجائیں تم اس کی پروا نہ کرو۔ اللہ تمہاری حفاظت فرمائے گا اور تمہارے خلاف ان کی کسی چال کو کامیاب نہ ہونے دے گا۔ اس کے بعد نہایت آشکارا الفاظ میں پیغمبر ﷺ کی زبان سے، اہل کتاب کو مخاطب کر کے اعلان کردیا ہے کہ جب تک تم تورات و انجیل اور قرآن کو قائم نہ کرو تمہاری کوئی دینی حیثیت خدا کے ہاں نہیں ہے، خدا کے ساتھ کسی کو کوئی نسبت کسی گروہ کے ساتھ نسبت کی بنا پر حاصل نہیں ہوتی بلکہ اللہ اور آخرت پر ایمان اور عمل صالح کی بنا پر حاصل ہوتی ہے۔ پھر یہود اور نصاری دونوں کے کفر اور ان کے کفریہ اعمال و عقاید کی تصریح کی ہے اور یہود پر ان کے کفر کے سبب سے حضرت داود ؑ اور حضرت عیسیٰ نے جو لعنت کی ہے اس کا حوالہ دیا ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ ان کے کفر کا مسئلہ آج نہیں پیدا ہوا ہے بلکہ یہ پرانی حکایت ہے۔ آخر میں نصاری کے اس گروہ کی نہایت شاندار الفاظ میں تحسین فرمائی ہے جو حق پر قائم رہا۔ چناچہ اس نے قرآن کی دعوت کو اپنے دل کی آواز سمجھا اور دلی جوش و خروش کے ساتھ آگے بڑھ کر اس نے اس کو لبیک کہا۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ۔ اہل کتاب کے لیے ایک اہم پیغام : يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ۔ یہ آیت تمہید ہے اس عظیم پیغام کی جو اس وقت رسول اللہ ﷺ کے سپرد کیا جا رہا ہے کہ آپ بےکم وکاست یہود و نصاری کو وہ سنا دیں۔ یہ پیغام آگے آیت 68 سے لے کر آیت 86 تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں نہایت واضح طور پر ان دونوں گروہوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ جب تک تم تورات و انجیل اور اللہ کی اس آخری کتاب قرآن کو قائم نہ کرو تمہاری کوئی دینی حیثیت نہیں ہے۔ خدا کے ساتھ کسی کو کوئی نسبت کسی گروہ سے نسبت کی بنا پر حاصل نہیں ہوتی بلکہ ایمان اور عمل صالح کی بنا پر حاصل ہوتی ہے اور اس سے تم بالکل محروم ہوچکے ہو۔ یہود نے اللہ کے میثاق کو توڑا، اس کے رسولوں کی تکذیب کی، ان کو قتل کیا اور ڈھیٹ ہو کر اندھے بہرے بن گئے۔ نصاری نے مسیح کی تعلیمات کے بالکل خلاف بت پرستوں کی پھیلائی ہوئی گمراہیوں کو اپنا دین بنا لیا اور کفر و شرک میں مبتلا ہوگئے۔ یہ پیغام بڑا اہم تھا۔ یہود و نصاری دونوں کی دینی حیثیت پر یہ آخری ضرب لگائی جا رہی تھی اور عین اس وقت لگائی جا رہی تھی جب کہ وہ پور زور اس بات کے لیے لگا رہے تھے کہ مسلمان ان کی دینی حیثیت تسلیم کرلیں، اس وجہ سے آنحضرت ﷺ کو خاص طور پر " رسول " کے لفظ سے خطاب کر کے یہ پیغام آپ کے حوالے کیا گیا جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسول خدا کا پیغامبر ہوتا ہے اس وجہ سے یہ اس کا فرض منصبی ہے کہ خدا کی طرف سے جو کچھ اس پر اتار جائے وہ بےکم وکاست اس کے مخاطبوں تک پہنچا دے، قطع نظر اس سے کہ اس پیغام سے ان کے اندر کیا ہلچل برپا ہوتی ہے اور وہ پیغام اور پیغامبر کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں۔ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ، یہ تاکید مزید ہے کہ اگر مخاطبوں کی رو رعایت یا اس کے متوقع رد عمل کے اندیشہ سے اس میں کوئی کوتاہی ہوئی تو یہ کوتاہی عین اس فریضہ منصبی کی ادائیگی میں کوتاہی ہوگی جس کی ادائیگی ہی کے لیے اللہ کسی کو اپنا رسول مقرر کرتا ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ اس تاکید مزید میں جو شدت ہے اگرچہ اس کا خطاب ظاہر میں آنحضرت ﷺ ہی سے ہے لیکن حقیقت میں اس کا رخ یہود و نصاری کی طرف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خطاب کرنا پسند نہیں فرمایا اس وجہ سے پیغمبر کو خطاب کرکے یہ واضح فرما دیا کہ اس پیغام کی اہمیت کیا ہے اور کس قطعیت اور کس حتمی فیصلہ کے ساتھ اس کا بھیجا جانا منظور ہے۔ وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ میں الناس اگرچہ عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ یہاں مراد اہل کتاب بالخصوص یہود ہیں۔ یوں تو وہ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف برابر سازشوں میں مصروف رہتے تھے لیکن آگے آنے والے اعلان کے بعد وہ کسی سمجھوتے کی توقع سے آخری درجے میں مایوس ہو کر آپنی آخری بازی بھی کھیل جانے کے لیے تیار ہوسکتے تھے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلایا کہ تم ان کی مخالفت و عداوت کی کوئی پروا نہ کرو۔ ان شیاطین کے ہر شر سے خدا تمہیں محفوظ رکھے گا۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ ، اللہ ان کی کسی چال کو بھی تمہارے خلاف بامراد نہیں ہونے دے گا۔ ھدی یہدی کا لفظ ہم دوسرے مقام میں تفصیل کے ساتھ بتا چکے ہیں کہ کسی کو اس کی کوششوں اور تدبیروں میں بامراد کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اوپر آیت کلما اوقدوا نارا للحرب اطفاھا اللہ ویسعون فی الارض فسادا، واللہ لا یحب المفسدین میں یہی مضمون دوسرے الفاظ میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 5:68–69

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

کہہ دو ، اے اہل کتاب، تمہاری کوئی بنیاد نہیں ہے جب تک تم تورا، انجیل اور اس چیز کو قائم نہ کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے لیکن وہ چیز جو تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے وہ ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور ان کے کفر میں اضافہ کرے گی تو تم اس کافر قوم پر غم نہ کرو

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

بیشک جو ایمان لائے، جو یہودی ہوئے اور صابی اور نصاری، جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے تو ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

تفسیر آیات 68۔ 69:۔ قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭوَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالصّٰبِـُٔــوْنَ وَالنَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۔ پیغام کا متن : یہ وہ پیغام ہے جو اہل کتاب کو، عام اس سے کہ وہ یہود ہیں یا نصاریٰ ، سنانے کا آنحضرت کو حکم ہوا۔ وہ یہ ہے کہ جب تک تم تورات، انجیل اور اس چیز کو، جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے، قائم نہ کرو اس وقت تک تمہاری کوئی بنیاد نہیں ہے تم اپنے آپ کو ایک برگزیدہ امت، خدا کے محبوب اور اور چہتے، برگزیدوں اور چہیتوں کی اولاد، آخرت کی سزا سے محفوظ، خداوند کا خاص گھرانا اور معلوم نہیں کیا کیا بنائے بیٹھے ہو لیکن یہ سب جھوٹی آرزوئیں اور خواب کی باتیں ہیں، جب آنکھ کھلے گی تو دیکھو گے کہ تم ہوا میں اڑتے اور خیالی محل آراستہ کرتے رہے ہو۔ تورات اور انجیل اور خدا کی اتاری ہوئی چیز کو قائم کرنے کا مطلب ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ زندگی کے معاملات و مسائل سے عملاً ان کا ربط قائم کرنا ہے۔ اس سورة میں تفصیل کے ساتھ یہ بحث گزر چکی ہے کہ یہ خدا کے عہد و میثاق کے صحیفے ہیں۔ ان میں خدا نے اپنے احکام و قوانین دیے اور یہ عہد لیا کہ انہی کے مطابق زندگی گزاری جائے اور انہی کے مطابق باہمی نزاعات کے فیصلے کیے جائیں۔ اسی ذمہ اری کے لیے ان کے حاملین کو قوامین بالقسط اور شہدء للہ کا لقب عطا ہوا۔ اگر اس عہد کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں اور زندگی سے عملاً ان کا کوئی تعلق یا تو سرے سے باقی ہی نہیں رہا ہے یا باقی ہے تو صرف اس حد تک جس حد تک اپنی خواہشوں کی سند اس سے حاصل ہوسکے تو آخر دینی یشوائی، مذہبی تقدس، اور خدا رسیدگی کے تمہارے دعوے کس بنیاد پر ہیں۔ ایسے لوگوں کو خدا سے کیا تعلق اور خدا کو ایسے لوگوں سے کیا واسطہ ؟ " وما انزل۔۔ الایۃ " سے مراد قرآن ہے : وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ ، سے مراد قرآن مجید ہے۔ قرآن مجید کے سوا کوئی اور چیز مراد لینے کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ آگے فوراً ہی اس چیز کو مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِّنْ رَّبِّكَ کے الفاظ سے تعبیر کرکے بالکل واضح بھی کردیا ہے کہ اس سے مراد قرآن ہی ہے۔ یہاں قرآن کی تعبیر وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ کے الفاظ سے کرنے میں اہل کتاب پر اتمام حجت کا ایک پہلو ہے۔ وہ یہ کہ تورات اور انجیل دونوں میں اہل کتاب سے اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لیا تھا کہ تمہارے پاس ان ان صفات کا پیغمبر، خدا کا آخری اور کامل صحیفہ لے کر آئے گا تو تم اس پر ایمان لانا، اس کی پیروی کرنا، اس کی مدد کرنا اور اس کی گواہی دینا۔ اسی پہلو کی طرف یہاں اشارہ ہے اور اس موقع پر جبکہ قرآن ان تمام صفات کے مطابق، جو سابق صحیفوں میں اس کی بیان ہوئیں نازل ہوچکا تو تورات اور انجیل کا قائم کرنا یہی ہے کہ خدا کی اتاری ہوئی اس چیز کو اہل کتاب قائم کریں۔ اس کا قائم ہونا ہی تورات اور انجیل سب کا قائم ہونا ہے۔ قرآن نے یہود کے دبے ہوئے حسد کو بھڑکا دیا : وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ۔۔۔ الایۃ، یعنی ہونا تو یہ تھا کہ یہ اس کتاب کے علمبردار بنتے اور اس طرح تورات و انجیل کے قائم کرنے والے بنتے جن کے قائم کرنے کا ان سے عہد لیا گیا تھا اور اپنے عہدومیثاق کی ذمہ داری سے سبکدوش اور عنداللہ و عندالناس سرخرو ہوتے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ اس کتاب نے ان کی سرکشی اور ان کے کفر میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ آگے یہود کی سرکشی اور نصاری کے کفر و شرک کی تفصیل آرہی ہے۔ قاعدہ ہے کہ جو حسد دبا ہوا ہوتا ہے جب اس کا اصل محرک سامنے آتا ہے تو وہ حسد پوری شدت کے ساتھ بھڑک اٹھتا ہے۔ اہل کتاب کو بنی اسمعیل پر غصہ تو پہلے سے تھا کہ آخری رسول کی بعثت ان کے اندر ہونے والی ہے لیکن یہ غصہ دبا ہوا تھا، جب انہوں نے دیکھا کہ یہ چیز واقعہ کی صورت میں ظاہر ہوگئی تو ان کے حسد کی آگ پوری طرح بھڑک اٹھی۔ حالانکہ ان کو سوچنا تھا کہ اگر وہ قرآن کو قبول کرتے اور اس کو قائم کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تو کسی دوسرے کا کام نہ کرتے بلکہ خود اپنی ہی ذمہ داری ادا کرتے اور اس کو قائم کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تو کسی دوسرے کا کام نہ کرتے بلکہ خود اپنی ہی ذمہ داری ادا کرتے، قرآن کو قائم کرنا، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، صرف قرآن ہی کو قائم کرنا نہیں بلکہ تورات و انجیل کو بھی قائم کرنا تھا اس لیے کہ یہ انہی کی پیشین گوئیوں کی تعمیل ہو رہی تھی لیکن جب کسی قوم کی مت ماری جاتی ہے تو وہ اسی طرح اندھی ہوجاتی ہے چناچہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی کہ ان لوگوں کے حال پر غم نہ کرو۔ انہوں نے اپنی ہلاکت کو خود دعوت دی ہے۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا۔۔۔۔ الایۃ۔ یہ آیت بعینہ بقرہ میں بھی گزر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو آیت 62۔ بس دونوں میں صرف یہ فرق ہے کہ وہاں صابئین ہے اور یہاں صابئون۔ وہاں نصاری کا لفظ صابئین پر مقدم ہے یہاں مؤخر۔ یہ محض اسلوب کا تنوع ہے۔ صابئون یہاں محل پر عطف ہونے کی وجہ سے حال رفع میں ہوگیا ہے۔ اس آیت کے تمام الفاظ بقرہ کی تفسیر میں زیر بحث آ چکے ہیں۔ یہ جس سیاق وسباق میں وہاں وارد ہوئی ہے اسی سیاق وسباق میں یہاں بھی ہے۔ یہ درحقیقت اوپر اہل کتاب کو مخاطب کر کے جو بات ارشاد ہوئی ہے اس کی مزید وضاحت ہوئی ہے کہ خدا کے ہاں کسی کو کوئی درجہ و مرتبہ کسی گروہ کے ساتھ نسبت کی بنا پر حاصل نہیں ہوتا، جیسا کہ یہود و نصاری نے سمجھ رکھا ہے، بلکہ ایمان باللہ، ایمان بالآخرت اور عمل صالح کی بنا پر حاصل ہوتا ہے۔ اگر یہ چیز حاصل نہ ہو تو ہرچند کوئی شخص مسلمانوں ہی کے گروہ سے وابستہ ہونے کا مدعی ہو، خدا کے ہاں اس کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اگر یہ چیز حاصل ہے تو وہ صابئین کے گروہ سے سہی اللہ کے ہاں وہ اپنے ایمان کے اعتبار سے مرتبہ پائے گا۔ مقصود اس آیت کا، جیسا کہ بقرہ کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے، محض گروہ فخر و غرور کا ابطال ہے نہ کہ اجزائے ایمان کی تفصیل۔ یہاں ان الذین امنوا سے مراد مسلمان بحیثیت گروہ کے ہیں جس سے اس حقیقت کا اظہار مقصود ہے کہ اگر مسلمان بھی ایمان باللہ، ایمان بالآخرۃ اور عمل صالح سے بےنیاز ہو کر اپنی گروہی نسبت ہی کو نجات کا ضامن سمجھ بیٹھیں تو ان کے لیے بھی یہی حکم ہے بلکہ سرفہرست ان ہی کا نام ہے۔
Ayahs 5:70–71

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل سے میثاق لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے، جب جب آیا ان کے پاس کوئی رسول ایسی بات لے کر جو ان کی خواہش کے خلاف ہوئی تو ایک گروہ کی انہوں نے تکذیب کی اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور انہوں نے گمان کیا کہ کوئی پکڑ نہیں ہوگی، پس اندھے اور بہرے بن گئے، پھر اللہ نے ان پر رحمت کی نگاہ کی، پھر ان میں سے بہت سے اندھے اندھے بہرے بن گئے اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ یہ کررہے ہیں

تفسیر آیت 70 تا 71:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالصّٰبِـُٔــوْنَ وَالنَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۔ لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَاَرْسَلْنَآ اِلَيْهِمْ رُسُلًا ۭكُلَّمَا جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰٓى اَنْفُسُهُمْ ۙ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ۔ یہود کا جرم : اب یہ اس بات کی دلیل بیان ہو رہی ہے کہ کیوں ان اہل کتاب کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی دینی حیثیت نہیں ہے ؟ فرمایا کہ ان سے جس کتاب و شریعت کی پابندی کا عہد لیا گیا تھا اور جس کی تجدید اور یاد دہانی کے لیے اللہ نے یکے بعد دیگرے اپنے بہت سے رسول اور نبی بھی بھیجے، اس عہد کو انہوں نے توڑدیا اور جو رسول اس کی تجدید اور یاد دہانی کے لیے آئے ان کی باتوں کو اپنی خواہشات کے خلاف پا کر یا تو ان کی تکذیب کردی یا ان کو قتل کردیا۔ اس قتل اور تکذیب کی تفصیل سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ خدا کی رعایت سے جسارت میں اضافہ : وَحَسِبُوْٓا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ۔۔۔ الایۃ، فتنہ کے معنی آزمائش و ابتلا کے ہیں۔ آزمائش چونکہ پکڑ کی شکل میں بھی ہوتی ہے اور یہاں موقع اسی کا ہے۔ اس وجہ سے ہم نے اس کے معنی پکڑ کے لیے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائلی نے رسولوں کی تکذیب اور ان کے قتل کے جو جرائم کیے ان پر ان کی فوری پکڑ نہیں ہوئی تو وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ اب کوئی پکڑ ہوگی ہی نہیں۔ حالانکہ اللہ کی سنت یہ نہیں ہے کہ وہ لازماً ہر جرم کی سزا فوراً ہی دے۔ بلکہ وہ مجرموں کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ توبہ و اسلاح کرلیں گر چاہیں ورنہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھرلیں۔ بنی اسرائیل نے اس ڈھیل کو اپنے لیے لیسنس سمجھ لیا اور اندھے بہرے بن گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ خدا نے ان کو پکڑا، پھر انہوں نے توبہ و اصلاح کی تو اللہ نے ان پر رحمت کی نگاہ کی۔ لیکن اس کے بعد وہ پھر اندھے بہرے بن گئے۔ لیکن وہ اندھے بہرے بن گئے ہیں تو بن جائیں خدا تو بصیر ہے وہ ان کی ساسری کرتوت دیکھ رہا ہے اور جب دیکھ رہا ہے تو لازماً وہ ان کو سزا دیے بغیر بھی نہیں رہے گا۔ اس آیت کے اشارات کو سمجھنے لیے ملاحظہ ہو لحمیاہ 9:، 24۔ 38۔ یہود پر دو بڑی تباہیاں : آیت میں بنی اسرائیل کے دو مرتبہ اندھے بہرے بن جانے اور پھر ان پر گرفت ہونے کا ذکر ہے۔ یہاں حذف کا یہ اسلوب ملحوظ رہے کہ ثم تاب اللہ علیہم سے پہلے یہ مضمون محذوف ہے کہ اللہ نے ان کو پکڑا تو انہوں نے توبہ و اصلاح کی، جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ پہلی پکڑ کے بعد تو انہوں نے توبہ و اصلاح کی لیکن دوسری پکڑ کے بعد وہ بدستور اندھے بہرے بنے ہوئے ہیں۔ قرآن نے ان کو توبہ و اصلاح کی جو دعوت دی ہے اس سے اپنی شامت اعمال کے سبب سے گریز کر رہے ہیں۔ اس مقام پر میرا ذہن بار بار اس طرف جاتا ہے کہ یہ ان کی تاریخ کی ان دو بڑی تباہیوں کی طرف اشارہ ہے جن میں وہ اپنی بداعمالیوں کے سبب سے شاہ اسور سلمنسر اور شاہ بابل بنوخذ نضر کے ہاتھوں مبتلا ہوئے۔ سورة بنی اسرائیل آیات 6۔ 8 میں ان حوادثت کی طرف اشارہ ہے۔ وہاں ہم انشاء اللہ ان کی تفصیل کریں گے اور دکھائیں گے کہ بنی اسرائیل نے قرآن کا انکار کرکے کس طرح نہ صرف خدا کی دوسری پکڑ سے نجات حاصل کرنے کا راستہ اپنے اوپر بند کرلیا بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لیے اپنے اوپر اس کی رحمت کے دروازے بند کرلیے۔
Ayah 5:72

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

بیشک ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ خدا تو یہی مسیح ابن مریم ہے اور حال یہ ہے کہ مسیح نے کہا کہ اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ جو کوئی اللہ کا شریک ٹھہرائے گا تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ان ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۭوَقَالَ الْمَسِيْحُ يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبَّكُمْ ۭاِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ ۭوَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ۔ نصاری کا جرم : یہود کے بعد اب یہ نصاریٰ کے کفروشرک کا بیان ہوا تاکہ ان کی حقیقت بھی واضح ہوجائے کہ دین کے پلڑے میں ان کا کیا وزن ہے۔ ان کا ذکر آل عمران 33۔ 62 اور نساء 171۔ 173 میں بھی ہوچکا ہے۔ وہاں بہت سی باتوں کی وضاحت ہوچکی ہے۔ نساء کی متعلقہ آیات کے تحت ہم نے واضح کیا ہے کہ نصاریٰ حلول اور تثلیث دونوں ہی کے قائل تھے اور یہ دونوں ہی باتیں کفر ہیں۔ یہاں حلول کا کفر ہونا بیان فرمایا ہے۔ آگے والی آیت میں عقیدہ تثلیث کے کفر ہونے کی تصریح ہے، اعبدوا اللہ ربی و ربکم، پر انجیلوں کے حوالے دوسرے مقام میں، نقل ہوچکے ہیں۔ انہ من یشرک باللہ الایۃ، حضرت مسیح کے کلام کا جزو نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصاری کو تنبیہ ہے۔
Ayahs 5:73–76

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

ان لوگوں نے بھی کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ تین کا تیسرا ہے۔ حالانکہ نہیں ہے کوئی معبود مگر ایک ہی معبود اور اگر یہ باز نہ آئے ان باتوں سے جو یہ کہہ رہے ہیں تو ان میں سے جنہوں نے کفر کیا ان کو ایک دردناک عذاب پکڑے گا

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

کیا یہ اللہ کی طرف رجوع اور اس سے مغفرت طلب نہیں کرتے اور اللہ مغفرت فرمانے والا اور مہربان ہے

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

مسیح ابن مریم تو بس ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرے ہیں اور ان کی ماں ایک صداقت شعار بندی تھیں۔ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو، کس طرح ہم ان کے سامنے اپنی آیتیں کھول کر بیان کررہے ہیں۔ پھر دیکھو کہ وہ کس طرح اوندھے ہوئے جا رہے ہیں

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

کہو کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی بندگی کرتے ہو جو تمہارے لیے کسی نقصان اور نفع پر اختیار نہیں رکھتی اور سننے والا اور جاننے والا تو بس اللہ ہی ہے

تفسیر آیات 73 تا 76:۔ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ۘوَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّآ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭوَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۭوَاُمُّهٗ صِدِّيْقَةٌ ۭكَانَا يَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ ۭاُنْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْاٰيٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ۔ قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا ۭوَاللّٰهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ۔ عقیدہ تثلیث کی حقیقت پر آل عمران اور نساء میں بحث گزر چکی ہے۔ اس اسلوب میں اس عقیدے کو تعبیر کرنے سے اس کا گھنونا پن واضح ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ کائنات کا خالق ومالک تو اللہ وحدہ لاشریک ہے لیکن ان ظالموں نے اس خدائی کو تین میں تقسیم کر کے اس کو تین کے تیسرے کا درجہ دے رکھا ہے۔ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ، یہاں " منہم " کے لفظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگرچہ عقیدہ تثلیث، کفر ہے اور اس کے ماننے والوں کے لیے دردناک عذاب ہے لیکن ان کے لیے توبہ و اصلاح کا دروازہ اب بھی کھلا ہوا ہے جو ان میں سے قرآن کی دعوت قبول کرکے اپنی اصلاح کرلیں گے۔ وہ اپنے آپ کو اس عذاب سے بچالیں گے لیکن جواب بھی باز نہ آئے تو وہ لازماً اس عذاب سے دوچار ہوں گے چناچہ اسی مضمون کو واضح کرنے کے لیے اس کے ساتھ اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ۔۔۔ الایۃ کا ٹکڑا ملایا ہے۔ سیدنا مسیح کی بشریت کی دلیل : مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ۔۔۔ الایۃ یعنی مسیح ابن مریم کو تم نے خدا بنا کے رکھ دیا حالانکہ وہ اللہ کے رسولوں میں سے بس ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی بیشمار رسول گزرچکے ہیں۔ جس طرح وہ خدا کے رسول تھے اسی طرح یہ بھی خدا کے رسول تھے۔ مزاج، کردار، دعوت، عبدیت، خشیت اور بشریت ہر چیز میں مشترک اور ایک دوسرے سے مشابہ۔ پھر اسی زمرے کے ایک فرد کو خدائی میں شریک کردینے کے کیا معنی ؟ وَاُمُّهٗ صِدِّيْقَةٌ، ان کی ماں جنہوں نے ان کو جنا، خدا کی نہایت وفادار اور صداقت شعار بندی تھیں، مومنہ، عابدہ، قانتہ، مزید برآں یہ کہ یہ ماں بیٹے دونوں کھانا کھاتے تھے۔ اپنی زندگی کو قائم رکھنے لیے یہ اسی طرح غذا اور پانی کے محتاج تھے جس طرح ہر انسان ان کا محتاج ہوتا ہے۔ ان تمام باتوں کی دلیل خود انجیلوں میں موجود ہے۔ آخر غذا، پانی اور تمام انسانی ضروریات کی محتاج مخلوق خدایا خدائی میں شریک کس طرح مان بیٹھے ہو ؟ یہاں یہ بات ملحوظ رکھنے کی ہے کہ غذا اور اپنی کی احتیاج یوں تو بشریت کی دلیل ہے ہی لیکن اہل کتاب بالخصوص نصاری کے ہاں تو یہ ایک مسلم دلیل بشریت ہے۔ حضرت ابراہیم کے پاس جب فرشتے بیٹے کی ولادت کی بشارت اور قوم لوط کے لیے عذاب لے کر آئے تو حضرت ابراہیم نے ان کو اول اول بشر سمجھا اور ان کی ضیافت کے لیے ان کے سامنے بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا۔ لیکن جب انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا تو حضرت ابراہیم فوراً تاڑ گئے کہ یہ بشر نہیں بلکہ خدا کے فرشتے ہیں۔ اسی طرح انجیلوں میں خود حضرت عیسیٰ کے متعلق ہے کہ جب ان کے شاگرد ان کو ایک روح سمجھ کر ان سے ڈرے تو انہوں نے بھنی ہوئی مچھلی کا ایک قتلہ ان کے سامنے کھا کر ان کو اطمینان دلایا کہ وہ کوئی روح نہیں بلکہ آدمی ہیں۔ لوقا میں ہے۔ " وہ یہ باتیں کر رہی رہے تھے کہ یسوع آپ ان کے بیچ میں آکھڑا ہوا اور ان سے کہا تمہاری سلامتی ہو مگر انہوں نے گھبرا کر اور خوف کھا کر یہ سمجھا کہ کسی روح کو دیکھتے ہیں۔ اس نے ان سے کہا تم کیوں گھبراتے ہو اور کس واسطے تمہارے دل میں شک پیدا ہوتے ہیں۔ میرے ہاتھ اور میرے پاؤں دیکھو کہ میں ہی ہوں۔ مجھے چھو کر دیکھو کیونکہ روح کے گوشت اور ہڈی نہیں ہوتی، جیسا مجھ میں دیکھتے ہو اور یہ کہہ کر اس نے اپنے ہاتھ اور پاؤں دکھائے۔ جب مارے خوشی کے ان کو یقین نہ آیا اور تعجب کرتے تھے تو اس نے ان سے کہا کیا یہاں تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے ؟ انہوں نے اسے بھنی ہوئی مچھلی کا قتلہ دیا۔ اس نے لے کر ان کے روبرو کھایا " (لوقا 24:، 36 تا 43) اُنْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْاٰيٰتِ۔۔۔ الایۃ، انظر، اظہار تعجب کے مفہوم میں ہے۔ یہاں بات چونکہ اتنی وضاحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے کہ صرف انتہائی غبی یا انتہائی ہٹ دھرم ہی اس کو سمجھنے سے قاصر رہ سکتا ہے اس لیے فرمایا کہ اس وضاحت کے باوجود ان کی کج فہمی اور ہٹ دھرمی دیکھو کہ کس طرح ان کی عقل الٹ کے رہ گئی ہے۔ قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔۔ الایۃ، مطلب یہ ہے کہ انسان کو عبادت تو صرف اس ذات کی کرنی چاہیے جو حقیقی معنوں میں نافع و ضار ہے۔ ایسی ذات صرف خدا کی ذات ہے۔ وہی نافع و ضار بھی ہے اور وہی سمیع وعلیم بھی ہے۔ دوسروں کی عبادت سے کیا حاصل جو نہ نافع و ضار ہیں نہ سمیع وعلیم۔
Ayah 5:77

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

کہہ دو ، اے اہل کتاب اپنے دین میں بےجا غلو نہ کرو اور ان لوگوں کی بدعات کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے گمراہ ہوئے اور جنہوں نے بہتوں کو گمراہ کیا اور جو راہ راست سے بھٹک گئے

قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَهْوَاۗءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ۔ نصاری کا غلو : خطاب اگرچہ ظاہر میں عام اہل کتاب سے ہے لیکن اس کا رخ نصاریٰ ہی کی طرف ہے۔ ان کے۔ غلو۔ پر سورة نساٗ کی آیت 171 کے تحت مفصل بحث ہوچکی ہے۔ جس طرح یہود کی عام بیماری دین کے معاملے میں تفریط کی رہی ہے اسی طرح نصاریٰ کی عام بیماری افراط اور غلو کی رہی ہے اور یہ افراط وتفریط دونوں ہی چیزیں دین کو برباد کرنے والی ہیں۔ اسی غلو کا کرشمہ ہے کہ نصاری نے حضرت مسیح کو رسول سے خدا بنا ڈالا۔ پھر ان کی ماں اور روح القدس کو بھی خدائی میں شریک کردیا۔ رہبانیت کا نظام جو انہوں کے کھڑا کیا، اس کے متعلق بھی قرآن نے تصریح فرمائی ہے کہ یہ ان کے غلو ہی کا کرشمہ ہے۔ نصرانیت تمام تر بت پرست قوموں کی نقالی ہے : وَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَهْوَاۗءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا كَثِيْرًا۔ اھواء سے مراد بدعات ہیں۔ بدعات جس قدر بھی ہیں سب خواہشوں سے پیدا ہوتی ہیں۔ انسان جب اپنی کسی خواہش کو دین بنانا چاہتا ہے تو اس کے لیے کوئی بدعت ایجاد کرتا ہے اور اس پر دین کا ملمع چڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ بدعات کے لیے اس لفظ کو استعمال کرکے قرآن نے ان کے اصل منبع کا پتہ دے دیا۔ " قوم " سے اشارہ یہاں پال اور اس کے ساتھیوں کی طرف ہے جنہوں نے نصرانیت کا حلیہ بگاڑا اور بت پرست قوموں کی نقالی میں تثلیث وغیرہ کا ڈھونگ رچایا۔ قد ضلوا من قبل، سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان تمام بدعات کا مواد انہوں نے اپنی سابق ضلالتوں سے لیا ہے۔ نصرانیت میں داخل ہونے سے قبل وہ جن گمراہیوں میں مبتلا رہے تھے انہی گمراہیوں پر انہوں نے نصرانیت کا ملمع چڑھانے کی کوشش کی اور اس طرح وہ خود بھی شاہراہ حق سے بھٹکے اور دوسروں کو بھی انہوں نے گمراہ کیا۔ اس اسلوبِ بیان میں درپردہ نصایٰ کے لیے یہ تلقین ہے کہ آج جس چیز کو تم نصرانیت سمجھ رہے ہو یہ تمہارے اپنے گھر کی چیز نہیں ہے بلکہ یہ تمام تر بت پرست قوموں سے برآمد کو وہ چیز ہے جو تم پر لاد دی گئی ہے۔
Ayahs 5:78–81

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے کفر کیا ان پر داود اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت ہوئی۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے آگے بڑھ جایا کرتے تھے

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

جس برائی کو اختیار کرلیتے اس سے باز نہ آتے۔ نہایت ہی بری بات تھی جو یہ کرتے تھے

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

تم ان میں سے بہتوں کو دیکھوگے کہ کفار کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ نہایت برا توشہ ہے جو انہوں نے اپنے لیے بھیجا کہ خدا کا ان پر غضب ہوا اور عذاب میں وہ ہیشہ رہنے والے بنے

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اگر یہ اللہ پر، نبی پر اور اس پر جو اس کی طرف اترا، ایمان رکھنے والے ہوتے تو ان کفار کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں سے تو اکثر نافرمان ہیں

تفیسر آیات 78 تا 81:۔ لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَلٰي لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۭذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ۔ كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ۔ تَرٰى كَثِيْرًا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭلَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِـــطَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَفِي الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ۔ وَلَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِيَاۗءَ وَلٰكِنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ۔ یہود پر انبیاء کی لعنت : لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ۔۔۔ الایۃ، یہ بنی اسرائیل کے ذکر کو پھر لے لیا کہ آج تو انہوں نے اپنی پاک دامنی اور برگزیدگی کی حکایت اتنی بڑھا رکھی ہے لیکن ان کا حال یہ رہا ہے کہ داود سے لے کر عیسیٰ ابن مریم تک ہر نبی نے ان کی حالت پر نوحہ کیا ہے۔ زبور کے مزامیر میں جگہ جگہ ایسی چیزیں ملتی ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کی بدعہدیوں سے حضرت داود کا دل نہایت زخمی تھا اور اپنی دعاؤں اور مناجاتوں میں انہوں نے بار بار ان پر لعنت کی ہے۔ ملاحظہ ہو زبور باب 12:، 1۔ 3۔ باب 28:، 3۔ 6۔ باب 40: 10۔ 17۔ باب 109، باب 140:، 6۔ 11۔ باب 59 کے متعلق بھی شارحین کی تصریح ہے کہ اس میں بنی اسرائیل ہی پر لعنت ہے۔ ان مناجاتوں کا جو انداز ہے اس کی مثال کے لیے ایک مناجات کا ایک ٹکڑا پیش کیا جاتا ہے۔ " لیکن خدا شریر سے کہتا ہے تجھے میں آئین بیان کرنے سے کیا واسطہ اور تو میرے عہد کو اپنی زبان پر کیوں لاتا ہے ؟ جب کہ تجھے تربیت سے عداوت ہے۔ اور میری باتوں کو پیٹھ پیچھے پھینک دیتا ہے تو چور کو دیکھ کر اس سے مل گیا۔ اور زانیوں کا شریک رہا ہے۔ تیرے منہ سے بدی نکلتی ہے۔ اور تیری زبان فریب گھڑتی ہے۔ تو بیٹھا بیٹھا اپنے بھائی کی غیبت کرتا ہے۔ اور اپنی ماں کے بیٹے پر تہمت لگاتا ہے۔ تونے یہ کام کیے اور میں خاموش رہا۔ تونے گمان کیا کہ میں بالکل تجھ ہی سا ہوں۔ لیکن میں تجھے ملامت کرکے ان کو تیری آنکھوں کے سامنے تربیت دوں گا۔ اب اے خدا کو بھولنے والو ! اسے سوچ لو۔ ایسا نہ ہو کہ میں تم کو پھاڑ ڈالوں اور کوئی چھڑانے والا نہ ہو " (زبور 50: 16۔ 22) سیدنا مسیح کی لعنت : اسی طرح سیدنا مسیح نے بھی ان پر بارہا لعنت کی ہے جس کی مثالیں انجیلوں میں موجود ہیں۔ ہم بخیال اختصار صرف ایک مثال پر اکتفا کرتے ہیں۔ بنی اسرائیل کو خطاب کرکے فرماتے ہیں۔ " اے ریاکار فقیہوا اور فریسیو، تم پر افسوس ! تم بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھے ہو اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو۔ کہ ایک مرید کرنے کے لیے تری اور خشکی کا دور کرتے ہو اور جب وہ مرید ہوچکتا ہے تو اپنے سے دونا جہنم کا فرزند بنا دیتے ہو۔ اے اندھے راہ بتانے والو تم پر افسوس ! جو کہتے ہو کہ اگر کوئی مقدس کی قسم کھائے تو کچھ بات نہیں لیکن اگر مقدس کے سونے کی قسم کھائے تو اس کا پابند ہوگا۔ اے احمقو اور اندھو ! کون سا بڑا ہے، سونا یا مقدس جس نے سونے کو مقدس کیا اور پھر کہتے ہو کہ اگر کوئی قربان گاہ کی قسم کھائے تو کچھ بات نہیں لیکن جو نذر اس پر چڑھی ہو اگر اس کی قسم کھائے تو اس کا پابند ہوگا۔ اے اندھو، کون سی بڑی ہے نذر یا قربان گاہ جو نذر کو مقدس کرتی ہے۔۔۔ اے ریاکار فقیہو اور فریسیو، تم پر افسوس ! کہ پودینہ اور سونف اور زیرے پر تو وہ ی کی دیتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف، رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ لازم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے۔ اے اندھے راہ بتانے والو، مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ کو نگل جاتے ہو۔ اے ریاکار فقیہو اور فریسیو، تم پر افسوس ! کہ پیالے اور رکابی کو اوپر سے صاف کرتے ہو مگر وہ اندر لوٹ اور ناپرہیزگاری سے بھرے ہیں۔ اے اندھے فریسی ! پہلے پیالے اور رکابی کو اندر سے صاف کر تاکہ اوپر سے بھی صاف ہوجائیں۔ اے ریاکار فقیہو اور فریسیو، تم پر افسوس کہ تم سفیدی پھری ہوئی قبروں کے مانند ہو جو اوپر سے تو خوب صورت دکھائی دیتی ہیں مگر اندر مردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہوئی ہیں۔ اسی طرح تم بھی ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بےدینی سے بھرے ہو۔ اے ریاکار فقیہو اور فریسیو، تم پر افسوس ! کہ نبیوں قبریں بناتے اور راست بازوں کے مقبرے آراستہ کرتے ہو اور کہتے ہو کہ اگر ہم اپنے باپ دادا کے زمانے میں ہوتے تو نبیوں کے خون میں ان کے شریک نہ ہوتے۔ اس طرح تم اپنی نسبت گواہی دیتے ہو کہ تم نبیوں کے قاتلوں کے فرزند ہو۔ غرض اپنے باپ دادا کا پیمانہ بھر دو۔ اے سانپو، اے افعی کے بچو ! تم جہنم کی سزا سے کیوں کر بچو گے ؟ اس لیے دیکھو میں نبیوں اور داناؤں اور فقہیوں کو تمہارے پاس بھیجتا ہوں، ان میں سے تم بوض کو قتل کروگے اور صلییب پر چڑھاؤ گے اور بعض کو اپنے عبادت خانوں میں کوڑے ماروگے اور شہر بہ شہر ستاتے پھروگے تاکہ سب راست بازوں کا خون جو زمین پر بہایا گیا تم پر آئے۔ راست باز ہابل کے خون سے لے کر برکیاہ کے بیٹے زکریا کے خون تک جسے تم نے مقدس اور قربان گاہ کے درمیان قتل کیا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ یہ سب کچھ اس زمانہ کے لوگوں پر آئے گا۔ اے یروشلم ! اے یروشلم ! تو جو نبیوں کو قتل کرتی اور جو تیرے پاس بھیجے گئے ان کو سنگسار کرتی ہے ! کتنی بار میں نے چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کرلیتی ہے اسی طرح میں بھی تیرے لڑکوں کو جمع کرلوں مگر تم نے نہ چاہا، دیکھو، تمہارا گھر تمہارے لیے ویران چھوڑا جاتا ہے۔ کیوں کہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے مجھے پر ہرگز نہ دیکھو گے جب تک نہ کہوگے کہ مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے " (متی 23: 14۔ 39) نبیوں کا حوالہ پوری تاریخ کا حوالہ ہے : یہ بات ملحوظ رکھنے کی ہے کہ یہاں ذکر تو صرف حضرت داود اور حضرت عیسیٰ کی لعنت کا ہے لیکن تورات کے صحیفوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی نے بنی اسرائیل پر لعنت کی ہے۔ بعض نبیوں کے الفاظ تو ان سے بھی کہیں سخت ہیں جو زبور اور انجیل سے اوپر نقل ہوئے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ یہ دو نبیوں کا ذکر صرف ابتدا اور انتہا کو واضح کرنے کے لیے ہے۔ مقصود یہ بتانا ہے کہ دود سے لے کر مسیح تک ہر نبی نے اس بدبخت قوم پر لعنت کی ہے۔ حضرت داود سے بنی اسرائیل کی سیاسی عظمت کی ابتدا ہوئی ہے، یہود کو ان پر بڑا فخر رہا ہے اور حضرت مسیح اسرائیلی سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہیں اس وجہ سے ان دونوں ناموں کے ذکر سے گویا پوری تاریخ سامنے آگئی۔ جرم اور جرم پر اصرار موجب لعنت ہے : ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ ، یہ ان کا جرم بیان ہوا ہے، بما عصوا، میں وہ تمام جرائم آگئے جو خدا اور اس کی شریعت کے حقوق سے تعلق رکھتے ہیں اور وکانوا یعتدون، میں بندوں کے تمام حقوق آگئے جو ان کے ہاتھوں پامال ہوئے۔ كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ ، یہ ٹکڑا ان جرائم کی سنگینی کو واضح کر رہا ہے کہ انہوں نے نہ صرف جرائم کیے بلکہ ان کے نبیوں اور راست بازوں نے ان جرائم سے ان کو روکنے کی کوشش کی تو ان کو بھی خاطر میں نہ لائے بلکہ ان کے دشمن بن گئے۔ کسی قوم کی اخلاقی و ایمانی تباہی کی یہی وہ حد ہے جس پر پہنچ کر وہ اللہ کی سنت کے بموجب لعنت کی مستحق بنتی ہے۔ یہود کی اخلاقی پستی کی آخری حد : تَرٰى كَثِيْرًا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔ الذین کفروا سے مراد مشرکین مکہ ہیں۔ یہود ایک طرف تو اپنی برگزیدگی پر اتنے نازاں تھے کہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ دوسری طرف ان کی ذہنی پستی کا یہ عالم تھا کہ مشرکین مکہ تک سے دوستی و اعتماد کے نہایت گہرے تعلقات رکھتے تھے اور ان کو مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ قرار دیتے۔ سورة نساء میں ان کی اس حالت پر اظہار تعجب بھی فرمایا ہے اور ان کی اس حرکت کی بنا پر ان پر لعنت بھی کی ہے۔ " الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتاب یومنون بالجبت والطاغوت ویقولون للذین کفروا ھؤلاء اھدی من الذین امنوا سبیلا۔ الئک الذین لعنہم اللہ، ومن یلعن اللہ فلن تجد لہ نصیرا : کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا جن کو کتاب الٰہی کا ایک حصہ ملا اور وہ جبت اور طاغوت پر عقیدہ رکھتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ایمان لانے والوں سے زیادہ ہدایت پر ہیں یہی ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر اللہ لعنت کردے تو ان کا تم کوئی مددگار نہیں پا سکتے "۔ ٹھیک اسی طرح یہاں بھی ان پر لعنت کے ذکر کے بعد اس لعنت کے اسباب میں سے ان کی اس کفر دوستی کا بھی ذکر فرمایا۔ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِـــطَ اللّٰهُ۔۔۔ الایۃ، ان سخط اللہ بیان ہے۔ ما قدمت لہم انفسہم، کا گویا عمل کی جگہ اس کا نتیجہ سامنے رکھ دیا کہ وہ دیکھ لیں کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کا کیا نتیجہ سامنے آنے والا ہے۔ وَلَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِيَاۗءَ۔۔ الایۃ۔ یومنون، اپنے حقیقی مفہوم میں ہے۔ نبی سے مراد حضرت موسیٰ اور ما انزل الیہم سے مراد تورات ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ اور موسیٰ اور تورات پر ایمان کا جو دعوی کرتے ہیں یہ اپنے اس دعوے میں بالکل جھوٹے ہیں۔ اگر یہ فی الواقع اللہ پر اور اپنے نبی اور اپنی کتاب پر ایمان رکھتے ہوتے تو کبھی کفار و مشرکین کو اپنا دوست نہ بناتے۔ ان میں سے اکثر نافرمان ہیں اور ان کا یہ فعل ہی ان کی نافرمانی پر سب سے بڑی شہادت ہے۔