5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 5:82

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 5:82 in the Quran reader

تم ایمان والوں کی دشمنی میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤگے، اور اہل ایمان کی دوستی سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤگے جنہوں نے کہا کہ ہم نصاری ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ ان کے اندر عالم اور راہب ہیں اور یہ تکبر نہیں کرتے

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا ۚ وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰى ۭذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ۔ " قسیس " اور " رہبان " سے مراد : " قسیس " اور " رہبان " کے الفاظ عرب کے نصاری اپنے علماء اور زاہدوں کے لیے بولتے تھے جس طرح یہود اپنے علماء اور فقہاء کے لیے " رِبی "، " ربانی " اور احبار استعمال کرتے تھے۔ یہ الفاظ اہل کتاب ہی کے واسطہ سے عربی میں آئے۔ چونکہ عرب کے یہود و نصاریٰ کی عام زبان عربی تھی، ان میں بڑے بڑے شاعر اور ادیب تھے، اس وجہ سے ان کی یہ دینی اصطلاحیں عربی ادب میں معروف و مقبول ہوگئیں۔ یہود اسلام دشمنی میں مشرکین کے ہم پلہ : اس آیت میں یہود کو اسلام دشمنی کے اعتبار سے مشرکین مکہ کا ہم پلہ قرار دیا ہے اور یہ گویا اوپر والی بات " تری کثیرا منہم یتولون الذین کفروا " کی تصریح مزید ہے۔ قرآن نے جگہ جگہ اسلام دشمنی کے معاملے میں ان دونوں گروہوں کی ہم مشربی و ہم آہنگی کو نمایاں کیا ہے اور مقصود اس سے، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہود کے زعم برتری و تقدس کی تردید ہے کہ دیکھو جن کو اپنی برتری کا یہ دعوی ہے وہ کس گڑھے میں جا کے گرے ہیں اور اسلام دشمنی کے جوش میں کن سے یارانہ انہوں نے گانٹھا ہے۔ حامل کتاب ہو کر، مکہ کے بت پرستوں سے یارانہ، وہ بھی اسلام کی دشمنی میں، ایمانی و اخلاقی انحطاط کی آخری حد ہے۔ سیدنا مسیح کے خلیفہ راشد شمعون کے پیرو نصاریٰ : ان کے مقابل میں نصاریٰ کی تعریف فرمائی ہے کہ وہ مسلمانوں سے قریب ہیں۔ یہاں قرائن دلیل ہیں کہ اس سے مراد یہ عام مسیحی نہیں ہیں جو پال کی ایجاد کردہ مسیحیت کے پیرو، تثلیث و کفارہ وغیرہ کے قائل اور اسلام دشمنی میں تمام اعدائے اسلام کے سرخیل ہیں بلکہ اس سے مراد سیدنا مسیح کے خلیفہ راشد شمعون صفا کے پیرو ہیں جو پال کی تمام بدعات سے بالکل الگ حضرت مسیح کی اصل تعلیم پر قائم رہے اور جن کے باقیات صالحات آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد آپ کی دعوت پر اسلام لائے۔ نجاشی وغیرہ اسی باایمان گروہ سے تعلق رکھنے والے تھے۔ یہاں جو قرائن ہمارے اس نظرییے کی تائید میں ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں۔ پال کے پیرو وں کی لفظ نصاری سے بیزاری : ایک یہ کہ ان کی نسبت فرمایا ہے کہ " الذین قالوا انا نصاری (جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فرقہ کو اس وقت تک نہ صرف یہ کہ اپنے اس نام کی اہمیت و معنویت کا احساس تھا بلکہ ان کو اس پر فخر بھی تھا۔ یہ فرقہ، جیسا کہ نصاری کی تاریخ سے ثابت ہے، صرف شمعون صفا کے پیروؤں کا تھا، پال کے ماننے والوں کی نسبت ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان کر آئے ہیں کہ وہ اپنے کو نصاریٰ کہلانا حقیر سمجھتے تھے چناچہ انہوں نے اس کو بدل کر " مسیحی " نام اختیار کرلیا تھا۔ ولیم بلی کی اپنی بائیبل ہسٹری میں لکھتا ہے۔ " بارنباس اور پال انطاکیہ میں ایک سال تک غیر خدا پرستوں کو نصرانی بنانے میں مصروف رہے، معلوم ہوتا ہے اسی سال (44 ء میں) پہلی بار نصرانیت اختیار کرنے والوں کو مسیح (Christian) کا نیا اور شاندار نام دیا گیا " (بائیبل ہسٹری۔ ولیم بلی کی س 397)۔ اس عبارت میں " مسیحی کا نیا اور شاندار نام " کے الفاظ نگاہ میں رہیں۔ اس سے صاف واضح ہے کہ پال اور اس کے پیرو " نصاری " کے لفظ کو اپنے لیے حقیر خیال کرتے تھے اور موجودہ مسیحیت تمام تم اسی پال کی ایجاد ہے۔ دوسرا یہ کہ اس گروہ کی صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ ان میں علماء اور زاہد ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ ظاہر ہے کہ یہ صفت موجودہ عیسائیوں پر صادق نہیں آتی۔ علماء اور زہاد کے الفاظ یہاں نہایت اچھے معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔ یہ موجودہ کلیسائی نظام کے پروہتوں کے لیے کسی طرح بھی موزوں نہیں ہیں۔ پھر ان کے باب میں فرمایا ہے کہ " وہ تکبر نہیں کرتے " مجھے بار بار خیال ہوتا ہے کہ یہ سیدنا مسیح کی اس بات کی طرف اشارہ ہے جو انجیلوں میں ہے کہ " مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں، آسمان کی بادشاہی میں وہی داخل ہوں گے " موجودہ مسیحی جن کی رعونت کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے اصلی نام کو بھی حقیر سمجھتے ہیں اور اس کی جگہ انہوں نے اپنے لیے ایک نیا نام پسند کیا ہے وہ اس صفت کے مصداق کس طرح قرار دیے جاسکتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ اس گروہ کے متعلق آگے کی آیات میں صاف تصریح ہے کہ یہ سب لوگ آنحضرت ﷺ پر دلی جوش و خروش کے ساتھ ایمان لائے اور قرآن کا انہوں نے اس طرح والہانہ خیر مقدم کیا گویا وہ مدتوں سے اس کے لیے سراپا شوق و انتظار تھے
Ayahs 5:83–86

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:83 in the Quran reader

اور جب یہ سنتے ہیں اس چیز کو جو رسول کی طرف اتاری گئی ہے تو تم دیکھو گے کہ حق کو پہچان لینے کے سبب سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے تو ہمیں اس کی گواہی دینے والوں میں لکھ

وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 5:84 in the Quran reader

اور آخر ہم اللہ پر اور اس حق پر جو ہم کو پہنچا ایمان کیوں نہ لائیں جب کہ ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں نیکوکاروں کے زمرے میں شامل کرے گا

فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:85 in the Quran reader

تو اللہ ان کے اس قول کے صلے میں ان کو ہمیشہ رہنے کے لیے ایسے باغ عطا فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور خوب کاروں کا یہی صلہ ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 5:86 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا، وہ دوزخ میں پڑنے والے ہیں

تفسیر آیات 83 تا 86:۔ وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰٓي اَعْيُنَهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَـقِّ ۚ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ۔ وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَاۗءَنَا مِنَ الْحَقِّ ۙ وَنَطْمَعُ اَنْ يُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِيْنَ۔ فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭوَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْمُحْسِنِيْنَ۔ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَــحِيْمِ۔ قرآن کے بارے میں اچھے نصاریٰ کا طرز عمل : اس گروہ نے جس والہانہ انداز میں قرآن اور پیغمبر آخر الزمان ﷺ کا خیر مقدم کیا یہ اس کی تصویر ہے۔ اس تصویر میں یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ حضرت عیسیٰ نے انجیلوں میں جس تسلی دینے والے اور جس نجات دہندہ کی بشارت دی تھی اور اس کی جو علامتیں بتائی تھیں وہ ان میں سے ایک ایک چیز کو محفوظ کیے ہوئے اس آنے والے کی راہ دیکھتے رہے تھے یہ آنے والا نہایت محبوب تھا اس لیے کہ ان کی تمام امیدیں، دنیا اور آخرت دونوں ہیں، اب اسی سے وابستہ تھیں، اس کی آمد سے ان کی، ان کے صحیفوں کی اور ان کے نبیوں کی صداقت ثابت ہونے والی تھی اس لیے کہ سب نے اس کی منادی کی تھی، ان کو اس کے ہر اول دستہ میں شامل ہونے کی سرفرازیاں حاصل ہونے والی تھیں، اس لیے کہ وہ پہلے سے دنیا کے سامنے اس کے گواہ اور اس کے تعارف کرانے والے ٹھہرائے گئے تھے۔ اس کا ظہور خدا کی زمین میں اس آسمانی بادشاہت کا ظہور تھا جس کی مسیح نے بشارت دی تھی اور جس میں اللہ کے وہ سارے بندے حصہ پانے والے تھے جن کے دل غرور اور گھمنڈ کی آلائشوں سے پاک اور خشیت الٰہی کے نور سے معمور تھے۔ چناچہ ان کا حال یہ ہے کہ جب وہ قرآن پاک کی آیات سنتے اور ان کے اندر اس حق کی کرنیں جلوہ گر دیکھتے ہیں جس کے انتظار میں بےقراری کی طویل راتیں کاٹ چکے ہیں تو جوشِ مسرت سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہوجاتی ہیں اور وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے رب ! ہم اس کتاب پر اور اس کے لانے والے پر ایمان لائے، تو ہمیں اس کی گواہی دینے والوں کے زمرے میں لکھ۔ " گواہی دینے والوں کے زمرے میں لکھ " اس قدیم عہد کا اقرار ہے جس کے وہ پچھلے نبیوں کی امانتوں اور ان کی سپرد کردہ ذمہ داریوں کے حامل ہونے کی وجہ سے پابند تھے۔ وہ عہد، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ تھا کہ جب آخری نبی کتاب کے ساتھ آئیں تو تم آگے بڑھ کر خلق کے سامنے گواہی دینا کہ یہی ہیں وہ جن کی ہمارے صحیفوں میں پیشین گوئی تھی۔ اور پھر اس پر خود بھی ایمان لانا اور دوسروں کو بھی اس پر ایمان لانے کی دعوت دینا۔ وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ۔۔ الایۃ، یہ ان کی طرف سے از خود اپنے اس اقدام کی تائید میں دلیل ہے کہ جب ہم یہ توقع لیے بیٹھے ہیں کہ خدا ہمیں زمرہ صالحین میں داخل کرے گا تو آخر اللہ اور اس حق پر، جو ہمارے پاس آیا ہے، ایمان لائے بغیر ہمیں یہ توقع کرنے کا کیا حق ہے۔ اوپر فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ اور پھر وَنَطْمَعُ اَنْ يُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِيْنَ میں ان یہود و نصاریٰ پر نہایت لطیف تعریض بھی ہے جو اپنا سارا زور تو صرف کر رہے تھے اس رسول کی مخالفت پر جس کی گواہی دینے پر مامور کیے گئے تھے لیکن توقع بلکہ دعوی یہ رکھتے تھے کہ آخرت کی کامیابیاں اور جملہ سرفرازیاں تنہا انہی کا حصہ ہیں۔
Ayahs 5:87–88

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 5:87 in the Quran reader

اے ایمان والو، ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ ٹھہراو جو خدا نے تماہرے لیے جائز کی ہیں اور نہ حدود سے تجاوز کرو۔ اللہ حدود سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 5:88 in the Quran reader

خدا نے تمہیں جو حلال و طیب چیزیں بخشی ہیں ان کو برتو اور اس سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو

آگے کا مضمون۔ آیات 87 تا 120: آگے کا حصہ، آخر سورة تک، خاتمہ سورة کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں انہی باتوں سے متعلق، جو اس سورة کے شروع میں بیان ہوئی ہیں یا ان سے تعلق رکھتی ہیں، بعد میں جو سوالات پیدا ہوئے ہیں یا پیدا ہوسکتے تھے، ان کے جوابات دیے گئے ہیں اور یہ اشارہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ یہ توضیحی آیات ہیں۔ ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی ہے کہ جو سوالات مفید تھے ان کے جوابات دے دیے گئے ہیں، رہے غیر ضروری سوالات تو اس قسم کے سولات نزول قرآن کے دوران نہ پوچھو۔ غیر ضروری سوالات پوچھ پوچھ کر یہود نے اپنے اوپر بہت سی قیدیں اور پابندیاں عائد کرا لیں، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ان کو نباہ نہ سکے اور بالآخر کفر میں مبتلا ہوئے۔ آخر میں قیام عدل و قسط اور شہادت حق کی اس عظیم ذمہ داری کے تعلق سے، جو اس سورة میں مرکزی مضمون کی حیثیت رکھتی ہے اور جس کا ذکر آیت 8 میں ہوا ہے، اس شہادت کی تفصیل بیان ہوئی ہے جو حضرات انبیاء (علیہم السلام) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور میں دیں گے کہ انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو بےکم وکاست وہ حق پہنچا دیا تھا جس کے پہنچا دینے کی ان پر ذمہ داری ڈالی گئی تھی۔ رہی یہ بات کہ ان کی امتوں نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا تو یہ ان امتوں کی ذمہ داری ہے۔ اس تفصیل سے مقصود یہود و نصاری کو عموماً اور اس امت کو خصوصاً یہ بتانا مقصود ہے کہ اسی شہادت کے مطابق اللہ تعالیٰ ہر امت پر حجت تمام کرے گا اور جس امت نے نبی کی تعلیم و شہادت کے خلاف اللہ کے دین میں کوئی ردو بدل کیا ہوگا وہ اس کی ذمہ دار ٹھہرے گی۔ یہاں اگرچہ مثال صرف حضرت عیسیٰ کی شہادت کی پیش کی گئی ہے، اور اس کے کچھ وجوہ ہیں جن کی تفصیل اپنے محل میں آئے گی، لیکن مقصود یہ بتانا ہے کہ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمام انبیاء سے شہادت لے گا۔ ہمارے نبی کریم ﷺ بھی اسی طرح شہادت دیں گے اور اسی شہادت کی بنا پر آپ کی امت پر حجت قائم ہوگی۔ یہ گویا تنبیہ ہے اس امر کے لیے کہ جو لوگ اب قوامین للہ شہداء بالقسط بنائے جا رہے ہیں اور جن سے شریعت الٰہی پر قائم رہنے اور اس کو قائم کرنے کا عہد لیا جا رہا ہے وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے آخرت کی اس شہادت کو یاد رکھیں۔ گویا سورة کے شروع میں اس امت سے جو میثاق لیا گیا ہے، سورة کے آخر میں اس کی اخروی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کردی گئی۔ یہ آگے کے مضامین کے نظم کو سمجھنے کے لیے چند نشانات کی طرف ہم نے اشارہ کردیا ہے۔ تفصیل آیات کی تفسیر کے تحت آئے گی۔ اس روشنی میں اب آیات کی تلاوت فرمائیے : تفسیر آیات 87۔ 88:۔ يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ۔ وَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا ۠وَّاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ۔ طیبات کی وضاحت : طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ ، اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں ہمارے لیے حلال ٹھہرائی ہیں اگرچہ وہ سب طیبات کے حکم میں ہیں اس وجہ سے یہاں اس لفظ کے اضافہ کی بظاہر ضرورت نہیں معلوم ہوتی لیکن اس کا ایک خاص فائدہ ہے۔ وہ یہ کہ بعض اوقات چیز تو فی الاصل جائز ہوتی ہے لیکن کسی خارجی سبب سے اس کو خباثت لاحق ہوجاتی ہے۔ مثلاً ایک جانور حلال ہے لیکن اس کو ذبح نہیں کیا گیا یا ذبح تو کیا گیا لیکن اس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا یا اس کو کسی تھان یاس استھان کی نذر کیا گیا تو ان صورتوں میں وہ جانور جائز ہونے کے باوجود طیب و پاکیزہ نہیں رہے گا۔ اس وجہ سے وہ ناجائز قرار پائے گا۔ اعتداء کا مفہوم : لا تَعْتَدُوْا یہاں لَا تُحَرِّمُوْا کا مقابل ہے یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کی جائز کرہ دہ چیزوں میں سے طیبات کو حرام ٹھہرانا جائز نہیں ہے اسی طرح اس کی حرام کردہ چیزوں کو حلال بنا لینا بھی جائز نہیں ہے۔ یہ اعتداٗ یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ساری چیزیں ہمارے لیے پیدا کی ہیں، ہمیں ان کے کھانے پینے اور برتنے کی اجازت ہے۔ گنتی کی چند چیزیں ہیں جو حرام قرار دی گئی ہیں۔ ان کی حیثیت اللہ کے حدود کی ہے اور حدود کو لانگنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص ان حدود سے آگے بڑھنے کی جسارت کرتا ہے تو وہ محارم الٰہی کے حدود میں مداخلت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ایسے گستاخوں اور بیوقوفوں کو پسند نہیں کرتا، " پسند نہیں کرتا "، یعنی ان سے نفرت کرتا ہے۔ لفظ " اعتداء " کا یہی مفہوم آگے آیت 94 میں بھی ہے۔ بعض سوالوں کے جواب : ہم اوپر تمہیدوں میں اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سورة کے شروع میں جو احکام بیان ہوئے ہیں ان سے متعلق جو سوالات بعد میں پیدا ہوئے یا پیدا ہوسکتے تھے اب آخر میں ان کی وضاحت کردی گئی ہے۔ پیچھے مڑ کر سورة کی آیات 1۔ 2 پر نظر ڈال لیجیے۔ عہد و پیمان کی پابندی کی تمہید کے بعد یہ بتایا ہے کہ تمہارے لیے تمام چوپائے جائز ٹھہرائے گئے ہیں بجز چند مستثنیات کے جو یہ یہ ہیں۔ اب ان سے متعلق کئی سوالات ہیں جو ذہن میں پیدا ہوسکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اگر اللہ کے نام پر باندھے ہوئے عہد و پیامن کی پابندی کی اہمیت دین میں اس درجہ ہے تو کوئی شخص اگر شریعتِ الٰہی کے خلاف کسی چیز کو اپنے اوپر حرام یا حلال ٹھہرانے کی قسم کھا بیٹھے تو اس کا کیا حکم ہے یا کوئی شخص اپنی کھائی ہوئی قسم کو توڑ دے تو اس کے باب میں کیا ہدایت ہے ؟ اگر شعائر الٰہی، ہدی اور قلائد وغیرہ کی حرمت کی اس درجہ تاکید ہے تو جو جانور قدیم زمانے سے مذہبی رسوم ہی کی بنا پر محترم چلے آ رہے ہیں، مثلاً بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام، ان کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟ یہ اور ان کے علاوہ دوسرے متعدد سوالات ابتدا میں بیان کردہ احکام سے متعلق پیدا ہوئے۔ اب یہ قرآن نے ان سوالوں کو لیا ہے اور آگے کی آیات میں ان کے جواب دیے ہیں۔ " تحریم " کا مفہوم : سب سے پہلے یہ جامع اور اصولی بات فرمائی کہ خدا کی شریعت نے جو چیز جائز ٹھہرائی ہے اس کو نہ تو حرام قرار دو اور نہ جن چیزوں سے روکا ہے ان کو جائز بناؤ۔ " حرام ٹھہرانے " سے مراد کسی شے کو اس حیثیت سے اپنے لیے یا دوسروں کے لیے ممنوع ٹھہرانا ہے کہ اس کے متعلق وہ یہ گمان یا دعوی کرے کہ یہ خدا کا حکم ہے، یا اس پر عذاب وثواب مترتب ہوتا ہے یا یہ نیکی اور فضیلت میں داخل ہے۔ اگر اس قسم کی کوئی بات نہ ہو بلکہ مجرد ذوق یا باقتضائے صحت یا بربنائے احتیاط و کفایت کسی چیز کا استعمال کوئی شخص ترک کردے تو یہ چیز تحریم میں داخل نہیں ہے۔ اپنے جی سے تحریم و تحلیل حدود الٰہی میں مداخلت ہے۔ یہ بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ یہ تحریم و تحلیل حاکمیت الٰہی کے حدود میں مداخلت اور نقض میثاق کا نہیات وسیع دروازہ ہے۔ یہ مداخلت جس طرح حرام کو حلال کرنے کی راہ سے ہوئی ہے اسی طرح حلال کو حرام قرار دینے کی راہ سے بھی ہوئی ہے۔ حرام کو حلال کرنے کی راہ تو زیادہ تر خواہشات نفس کی تحریک سے کھلی ہے لیکن حلال کو حرام ٹھہرانے کے معاملہ میں زیادہ دخل مشرکانہ عقائد و اوہام کو رہا ہے چناچہ مشرکین عرب نے اپنے مشرکانہ تصورات کے تحت بہت سی چیزیں اپنے اوپر حرام کرلی تھیں۔ آگے آیت 103 میں بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام کا ذکر آرہا ہے۔ مزید تفصیل سورة انعام میں یوں آئی ہے " وَقَالُوا هَذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لا يَطْعَمُهَا إِلا مَنْ نَشَاءُ بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَامٌ لا يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا افْتِرَاءً عَلَيْهِ سَيَجْزِيهِمْ بِمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ (138) وَقَالُوا مَا فِي بُطُونِ هَذِهِ الأنْعَامِ خَالِصَةٌ لِذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَى أَزْوَاجِنَا وَإِنْ يَكُنْ مَيْتَةً فَهُمْ فِيهِ شُرَكَاءُ سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ (139): اور وہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں چوپائے اور فلاں فلاں قسم کی زمینی پیداوار حرام ہے، ان کو نہیں کھا سکتے مگر وہی جن کو ہم بتائیں۔ ان کا یہ دعوی محض اٹکل پچو ہے۔ اور کچھ جانور میں جن پر سواری حرام کردی گئی ہے اور کچھ پر خدا کا نام نہیں لیتے، خدا پر جھوٹ باندھتے ہوئے، اللہ ان کے اس افترا کا ان کو جلد بدلہ دے گا اور وہ کہتے ہیں کہ جو بچے فلاں ماداؤں کے پیٹ میں ہیں وہ خاص مردوں ہی کے لیے جائز ہیں، عورتوں کے لیے وہ حرام ہیں اور اگر وہ مردہ پیدا ہوں تو مرد اور عورت دونوں ان کو کھا سکتے ہیں، اللہ ان کے اس فتوے کی ان کو جلد سزا دے گا، وہ حکیم وعلیم ہے " (انعام :138۔ 139)۔ اسی طرح یہود کے متعلق بھی قرآن میں بیان ہوا ہے کہ بہت سی چیزیں انہوں نے اپنے من گھڑت فتو وں، اپنے لا یعنی سوالات اور اپنے مشرکانہ اوہام کی بنا پر اپنے اوپر حرام کرلیں۔ قرآن نے اس قسم کی خود مختارانہ تحریم و تحلیل کو توحید اور ایمان کے منافی قرار دیا۔ فرمایا کہ تمام حلال و طیب چیزیں جو خدا نے تمہیں بخشی ہیں ان کو کھاؤ پیو اور برتو، اپنے زمانہ جاہلیت کے توہمات کی بنا پر ان سے احتراز نہ کرو، اور اس اللہ سے ڈرو جس پر ایمان لائے ہو
Ayah 5:89

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ١ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ١ؕ وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:89 in the Quran reader

تمہاری قسموں میں جو غیر ارادی ہیں ان پر تو اللہ تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن جن قسموں کو تم نے پختہ کیا ہے ان پر مواخذہ کرے گا۔ سو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ اس معیار کا جو تم عام طور پر اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑے پہنانا یا ایک غلام کو ٓزاد کرنا ہے۔ جو اس کی مقدرت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھ دے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم قسم کھا بیٹھو اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنے احکام کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم اس کے شکر گزار رہو

لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ ۚ فَكَفَّارَتُهٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِيْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ ۭ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ ۭذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ ۭ وَاحْفَظُوْٓا اَيْمَانَكُمْ ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْن۔ شریعت الٰہی میں قسم کی اہمیت : لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ ، اس ٹکڑے میں جو مضمون بیان ہوا ہے، یہی مضمون، معمولی لفظی اختلاف کے ساتھ، سورة بقرہ آیات 224۔ 225 میں گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے اس پر مفصل بحث کی ہے۔ وہاں مسئلہ ایلا کے تعلق سے اس قسم کی اہمیت کا ذکر ہوا تھا یہاں اوپر کی بیان کردہ تحریم و تحلیل کے تعلق سے اس کا ذکر ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی غیر ارادی قسموں پر تو کوئی مواخذہ نہیں کرے گا لیکن جو قسمیں دل کے عزم و ارادہ سے ظہور میں آئیں گی، جن کی غیر ارادی قسموں پر تو کوئی مواخذہ نہیں کرے گا لیکن جو قسمیں دل کے عزم و ارادہ سے ظہور میں آئیں گی، جن کے ذریعہ سے کوئی عہدوپیمان بندھے گا، جن سے حقوق و فرائض پر کوئی اثر مترتب ہوگا، جو کسی پہلو سے شریعت کی تحریم و تحلیل پر اثر انداز ہوں گی، ان پر اللہ ضرور مواخذہ فرمائے گا۔ اللہ کے نام کو، جیسا کہ بقرہ میں فرمایا ہے خلاف شرعی یا جھوٹی قسموں کا ہدف بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ قسم قول و قرقار و شہادت اور عہدوپیمان کی بنیاد ہے اور عہدوپیمان نہ صرف تمام معاشرتی، اجتماعی اور سیاسی حقوق و فرائض کی اساس ہے بلکہ، جیسا کہ ہم اس سورة کی پہلی آیت یا ایہا الذین امنوا اوفوا بالعقود الایۃ کے تحت تفصیل کے ساتھ بیان کر آئے ہیں، اس عہدومیثاق کی بھی اساس ہے جو ہم نے اپنے رب کے ساتھ باندھا ہے۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ آدمی قسم کے معاملہ میں نہایت محتاط رہے، کوئی قسم بےضرورت یا خلاف شرع نہ کھائے، جو قسم کھائے، خلاف شرع نہ ہو تو وہ پوری کرے، اگر کوئی قسم کھانے کے بعد توڑے تو اس کا کفارہ ادا کرے تاکہ وہ قسم کے معاملے میں سہل انگار، بےپروا اور بالکل غیر ثقہ اور ناقابل اعتبار آدمی بن کے نہ رہ جائے، اس لیے کہ اس قسم کا آدمی نہ معاشے کی ذمہ داریوں کا اہل ہے نہ میثاق الٰہی کی ذمہ داریوں کا۔ قسم کا کفارہ : فَكَفَّارَتُهٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيْنَ۔۔ الایۃ، اس کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو اس معیار کا کھانا کھلائے جس معیار کا کھانا وہ اپنے اہل و عیال کو کھلاتا ہے یا ان کو کپڑے پہنائے یا ایک غلام آزاد کرے اگر اس کی مقدرت نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھ دے۔ قرآن میں توضیحی آیات کا مفہوم : كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْن۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ توضیحی آیات ہیں جو بعد میں پیدا ہونے والے سوالالت کے، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، جواب میں نازل ہوئیں۔ شریعت و ہدایت تمام تر اللہ تعالیٰ کے بندوں پر فضل و احسان ہے اور اگر اس کے کسی اجمال کی وضاحت خود اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوجائے تو یہ اس کا مزید احسان ہے، پھر اس توضیح میں اگر بندوں کے لیے سہولت کے بھی بہت سے پہلو ملحوظ ہوں، جیسا کہ غیر ارادی قسموں اور کفارہ کے معاملہ میں یہاں ملحوظ ہیں تو گویا احسان کے گوناگوں پہلو جمع ہوگئے۔ اس کا فطری تقاضا یہی ہوسکتا ہے کہ بندے اپنے پروردگار کے زیادہ سے زیادہ شکر گزار نہیں۔ اگر اس ساری توضیح و تفصیل کے بعد بھی انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو یہ انتہائی کفران نعمت ہے۔
Ayahs 5:90–91

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:90 in the Quran reader

اے ایمان والاو، شراب، جوا تھان، اور پانسے کے تیر بالکل نجس شیطانی کاموں میں سے ہیں تو ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ Open ayah 5:91 in the Quran reader

شیطان تو بس یہ چہات ہے کہ تمہیں شراب اور جوئے میں لگا کر تمہارے درمیان دشمنی اور کینہ ڈالے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو بتاو کیا اب تم ان سے باز آتے ہو

تفسیر آیات 90 تا 91: يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ۔ ہر نشہ آور چیز خمر ہے خمر اور میسر، پر بقرہ 219 میں اور انصاب و ازلام، پر مائدہ 3 میں بحث گزر چکی ہے۔ شراب اور جوا، جیسا کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم بیان کر آئے ہیں، دونوں قوام بیماریاں ہیں۔ کم از کم عرب جاہلیت کی سوسائٹی میں ان کی حیثیت یہی تھی۔ خمر، کے متعلق یہ دعوی بےبیاد ہے کہ اس کا اطلاق صرف انگوری شراب ہی پر ہوتا ہے۔ کلام عرب سے اس کی تائید نہیں ہوتی اور ہو بھی تو شراب کی حرمت کی اصل علت، جیسا کہ نساء کی آیت 43 سے واضح ہے، اس کے اندر نشہ کا پایا جانا ہے۔ اس وجہ سے ہر نشہ آور چیز کا حکم یہی ہوگا، خواہ وہ انگوری ہو یا غیر انگوری۔ اور شریعت کے اس حکیمانہ اصول کے مطابق کہ جس کی مقدار کثیر حرام ہے اس کی مقدار قلیل بھی حرام ہے، اس کی ہر مقدار حرام ہوگی تاکہ فتنہ کا دروازہ کلیۃً بند ہوجائے۔ جوا اور شراب شیطانی ایجادات میں سے ہیں : رجس من عمل الشیطان : رجس اور نجس پر دوسرے مقام میں ہم بحث کرچکے ہیں۔ معناً ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ من عمل الشیطان، یعنی یہ شیطان کی ایجادات اور اس کی کارستانیوں میں سے ہیں اور یہ حربے اس نے اس لیے ایجاد کیے ہیں کہ بنی آدم کو شریعت کی صراط مستقیم سے بہکانے کا جو عہد اس نے کر رکھا ہے اس کو پورا کرسکے۔ ان کے اندر اگر کوئی پہلو نفع کا نظر آتا ہے تو یہ محض ایک نظر فریب ملمع ہے۔ ان کا ضرر ان کے نفع کے مقابل میں، جیسا کہ بقرہ کی تفسیر میں واضح ہوچکا ہے، اتنا زیادہ ہے کہ اس کے سامنے اس حقیر نفع کی کوئی قیمت نہیں۔ جوئے اور شراب کے اثرات معاشرے پر : اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ، فی الخمر وا لمیسر میں " فی " اشتغال و انہماک کے مضمون پر دلیل ہے۔ یعنی شیطان نے یہ فتنے اس لیے ایجاد کیے ہیں کہ تمہیں ان میں لگا کر تمہارے درمیان برابر دشمنی اور انتقام کی آگ بھڑکاتا رہے، چناچہ یہ حقیقت ہے کہ جس معاشرے میں یہ وبا پھیل جائے اس میں یا تو عفت، عزت، ناموس اور وفا و حیا کا احساس مٹ جائے گا، جیسا کہ مغرب زدہ سوسائٹی میں آج مشاہدہ ہورہا ہے اور یہ بجائے خود ایک عظیم حادثہ ہے اور اگر ان کی کوئی رمق باقی رہے گی تو ناگزیر ہے کہ آئے دن ان کی بدولت تلواریں کھنچی رہیں۔ عرب، عفت و عصمت، خودداری اور غیرت کے معاملے میں بڑے حساس تھے اور یہ ان کی بہت بڑی خوبی تھی لیکن ساتھی ہی شراب اور جوئے کے بھی رسیا تھے اس وجہ سے جام و سنداں کی یہ بازی ان کے لیے بڑی مہنگی پڑ رہی تھی۔ جہاں کسی نے شراب کی بدمستی میں کسی کے عزت و ناموس پر حملہ کیا، کسی کی تحقیر کی، کسی کو چھیڑا یا جوئے میں کوئی چنید کی (اور یہ چیزیں جوئے اور شراب کے لوازم میں سے ہیں) وہیں فریقین تلواریں سونت لیتے اور افراد کی یہ لڑائی چشم زدن میں قوموں اور قبیلوں کی جنگ بن جاتی اور انتقام در انتقام کا ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا کہ صرف مہینے اور سال نہیں بلکہ پوری صدی گزار کر بھی یہ آگ ٹھنڈی نہ پڑتی۔ چناچہ عرب کی تاریخ میں ایسی جنگیں موجود ہیں جن کی آگ جوئے یا شراب خانہ خراب ہی نے بھڑکائی اور پوری ایک صدی تک وہ اگ نہ بجھی۔ بہرحال یہ چیز یا تو دیوث بناتی ہے یا خانہ خراب اور ان دونوں میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جس کو کوئی سلیم الفطرت معاشرہ گوارا کرسکے۔ خدا سے غفلت زندگی کے حقائق سے غفلت ہے : وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ و عن الصلوۃ، ذکر اللہ کے بعد صلوۃ کا ذکر عام کے بعد خاص کا ذکر ہے جس سے ان دونوں کا ربط واضح ہوتا ہے۔ اسلام نے زندگی کی تمام رفعت و عظمت ذکر الٰہی کے ساتھ وابستہ کی ہے۔ جو شخص خدا سے غافل ہوا وہ خود اپنی قدروقیمت سے بالکل بیخبر ہوجاتا ہے۔ نسوا اللہ فانساہم انفسہم، میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ کی یاد کا خاصہ یہ ہے کہ وہ انسان کو زندگی کی اصل حقیقتوں سے کبھی بےپروا نہیں ہونے دیتی جس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کبھی راہ سے بےراہ نہیں ہوتا۔ اگر کبھی کوئی لغزش ہوجاتی ہے تو خدا کی یاد اس کو سنبھال لیتی ہے۔ برعکس اس کے شراب کا اصل اثر جو انسان پر پڑتا ہے وہ یہی ہے کہ وہ اس کو زندگی کی اصل حقیقتوں سے ہٹا کر ایک خیالی دنیا میں لے جا کر پھینک دیتی ہے اور اس خیالی دنیا کا وہ ایسا دیوانہ ہوجاتا ہے کہ پھر جس طرح سگ گزیدہ پانی سے ڈرتا ہے اسی طرح وہ زندگی کی اصل حقیقت سے ڈرنے لگتا ہے۔ کبھی اس سے رودر رو ہونے کی جرات نہیں کرتا اور اسی حال میں ایک دن اس کی زندگی کا قصہ تمام ہوجاتا ہے۔ اب ذرا اس انسان کی بدبختی پر غور کیجیے جو زندگی بھر خواب دیکھتا رہا اور کبھی اس کو جاگنے اور زندگی کے انجام پر غور کرنے کی نوبت نہیں آئی۔ عربی میں استفہام کے مختلف مفہوم : فھل انتم منتہون، استفہام عربی زبان میں جیسا کہ استاذ امام ؒ نے اپنی کتاب اسالیب القرآن میں وضاحت فرمائی ہے، تاکید، اقرار، تنبیہ، انکار، زجر، امر اور تحقیر کے مفہوم کے لیے آتا ہے۔ یہاں موقع دلیل ہے کہ یہ امر کے مفہوم میں ہے، جس طرح سورة ہود آیت 14 میں فھل انتم مسلمون (تو کیا اب تم مسلمان بنتے ہو) ہے۔ اس اسلوب میں امر کے ساتھ زجر، موعظت، تاکید و تنبیہ اور اتمام حجت کا مضمون بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ یہاں غور کیجیے تو اسلوب کلام اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ شراب اور جوئے کے مفاسد کی تفصیل اتنے مختلف مواقع پر اور اتنے مختلف پہلوؤں سے تمہارے سامنے آچکی ہے کہ اب اس معاملے میں کسی کے لیے بھی کسی اشتباہ کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے تو بتاؤ اب بھی اس سے باز آتے ہو یا نہیں ؟ ظاہر ہے کہ امر کے سادہ اسلوب میں یہ سارا مضمون نہیں سما سکتا تھا۔
Ayah 5:92

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 5:92 in the Quran reader

اور اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور بچتے رہو۔ اگر تم اعراض کرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے

وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا ۚ فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰي رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ۔ یہ اوپر والی تنبیہ کی مزید تاکید ہے کہ شیطان کے بچھائے ہوئے جال سے نکل کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں داخل ہوجاؤ اور نافرمانی و سرکشی سے بچو۔ اگر اس توضیح و تنبیہ کے بعد بھی تم نے اعراض کیا تو ذمہ داری تمہاری ہوگی، رسول کی ذمہ داری تو صرف خدا کے امر و نہی سے واضح طور پر آگاہ کردینا ہے اور یہ فرض رسول نے ادا کردیا جس کے بعد تم پر پر اللہ کی طرف سے حجت پوری ہوچکی۔ اس اتمام حجت کے بعد اب جو بےراہ روی اختیار کریں وہ اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہو کر کریں۔ اس لیے کہ اتمام حجت کے بعد اللہ تعالیٰ کی پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے۔
Ayah 5:93

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 5:93 in the Quran reader

ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں پر اس چیز کے باب میں کوئی گناہ نہیں جو انہوں نے کھائی جب کہ انہوں نے تقوی اختیار کیا، ایمان لائے اور عمل صالح کیا، پھر تقوی اختیار کی اور ایمان لائے، پھر تقوی اختیار کیا اور خوبی کے ساتھ اس کا حق ادا کیا اور اللہ خوب کاروں کو دوست رکھتا ہے

لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ۔ شریعت الٰہی کا مطالبہ : اوپر فھل انتم منتھون کے اسلوب میں جو زجر و توبیخ مضمر ہے اس کی طرف ہم اشارہ کرچکے ہیں اسلوب بیان کی اس شدت نے ان لوگوں کو متاثر کیا ہوگا جو شراب کے معاملے میں اس رخصت سے اب تک فائدہ اٹھاتے رہے تھے جو انہیں حاصل تھی انہوں نے یہ محسوس کیا ہوگا کہ شراب کے باب میں بالکل پہلی ہی تنبیہ پر دوسرے بہت سے محتاط اور پیش بین صحابہ کی طرح انہوں نے بھی شراب سے یک قلم توبہ کرلی ہوتی تو خوب ہوتا، مکن ہے یہ تاخیر جو ان سے ہوئی آخرت میں ان کی کوتاہی میں محسوب ہو اور اس پر کوئی گرفت ہوجائے۔ خاص طور پر اس دوران میں جو لوگ وفات پا چکے ہوں گے ان کے باب میں محتاط لوگوں کے اندر تشویش پیدا ہوئی ہوگی کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا ؟ آیت زیر بحث نے اس قسم کے سارے شبہات دور کردیے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پرسش کسی ایسی چیز کے کھانے پینے پر نہیں ہوگی جس کے بارے میں کسی صریح ممانعت کی خلاف ورزی کا ارتکاب نہیں ہوا ہے۔ شریعت الٰہی کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ جس چیز کے باب میں جو حد جب معین ہوگئی لوگ اس حد کا احترام کریں، پھر اگر اس حد میں کچھ اضافہ شریعت کی رو سے ہوجائے تو اس کو مضبوطی کے ساتھ اختیار کرلیں اور اگر اس پر مزید اضافہ ہوجائے تو اس کو بھی اختیار کرلیں اور پھر پوری خوبی، پوری احتیاط اور پورے اخلاص کے ساتھ اس کو نبا ہیں۔ شریعت میں تدریج بندوں کی سہولت کے لیے ہے : اس آیت سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ شریعت الٰہی میں احکام کا نزول بالتدریج ہوا ہے اور یہ تدریج بندوں کی سہولت کے پہلو سے اللہ تعالیٰ نے پسند فرمائی ہے۔ اس وجہ سے ان لوگوں پر وہ گرفت نہیں فرمائے گا جنہوں نے اس کی بخشی ہوئی سہولت سے فائدہ اٹھایا ہے۔ اگرچہ ان لوگوں کو سبقت الی الخیر کا درجہ ملے گا جنہوں نے کسی باب میں ہوا کا رخ پہچان کر اس کے پہلے ہی مرحلہ میں احتیاط اور تقوی کا آخری قدم اٹھا دیا۔ مثلاً شراب کی حرمت کا حکم بالتدریج نازل ہوا۔ لیکن دین کے معاملے میں جن کی حس زیادہ تیز تھی وہ پہلے ہی مرحلہ میں اس سے تائب ہوگئے۔ یہ ان کے کمال درجہ فطرت اسلام پر ہونے کی دلیل ہے لیکن اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر بھی رحم فرمائے گا جنہیں اگرچہ یہ درجہ کمال تو حاصل نہ ہوسکا لیکن انہوں نے کسی مرحلہ میں حدود الٰہی سے تجاوز نہیں کیا۔ تدریج کے مراحل : دوسری بات آیت کے الفاط سے یہ نکلتی ہے کہ اس تدریج کے تین مدارج ہیں۔ یہ بات ایک کلیہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ عومیت کے لحاظ سے ہے۔ بعض معاملات میں قطعی اور آخر حکم پہلی ہی مرتبہ میں آگیا ہے، بعض میں دوسری مرتبہ میں اور بعض میں حکم کی تکمیل تیسری بار میں ہوئی ہے۔ مثلاً کا ھنے پینے کے سلسلہ کی حرمتوں کا ذکر سورة انعام میں بھی ہوا ہے، جو ایک مکی سورة ہے، اس کے اس کی تفصیل اس سورة (مائدہ) کے آغاز میں آئی ہے جس سے انعام کے بعض اجمالات کی وضاحت ہوئی ہے پھر اس سلسلہ میں کچھ مزید سوالات پیدا ہوئے ہیں جن کی تقریب سے بعض چیزوں کی حرمت، جیسا کہ واضح ہوگا، یہاں اس سورة کے خاتمہ میں بیان ہوئی اور یہ سورة ، جیسا کہ ہم واضح کرچکے ہیں، احکام شریعت کے باب میں آخری سورة ہے۔ اس وجہ سے گویا اس تیسرے مرحلہ میں کھانے پینے سے متعلق احکام کی تکمیل ہوگئی۔ یہ آیت واضح کر رہی ہے کہ جو لوگ ان تینوں مرحلوں میں اللہ کے نازل شدہ احکا و حدود کی پیروی کرتے آئے ہیں ان سے ان چیزوں کے کھانے پر کوئی گرفت نہیں ہوگی جو انہوں نے اس وقت کھائی ہیں جب ان کی صریح حرمت نازل نہیں ہوئی تھی۔ تقوی، ایمان اور احسان : تیسری بات یہ سامنے آتی ہے کہ آیت میں تین بار تقوی کا ذکر ہوا ہے۔ پہلی بار تقوی کے ساتھ ایمان و عمل صالح کا ذکر ہے، دوسری بار ایمان کا ذکر ہے، تیسری بار احسان کا ذکر ہے۔ تقوی کا مفہوم ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ اصلاً یہ لفظ حدود الٰہی کی نگہداشت کے لیے آتا ہے۔ یہاں تین بار اس کا حوالہ احکام کے ان تدریجی مراتب کے لحاظ سے ہوا ہے جن کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا۔ رہا تقوی کے ساتھ ایمان و عمل صالح کا حوالہ تو وہ اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر صرف کسی چیز سے بچنا نہیں بلکہ وہ بچنا معتبر ہے جو ایمان و عمل صالح کے ساتھ ہو۔ اس قید کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ بہت سی چیزوں سے بچنے کے معاملے میں (بالخصوص کھانے پینے کی چیزوں کے معاملہ میں) بہت سے لوگ بڑے محتاط اور متقشف وتے ہیں حالانکہ ایمان و عمل صالح سے ان کو کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جوگیوں، سنیاسیوں اور راہبوں سے قطع نظر جو لوگ اعمال سفلیہ کے دلدادہ ہوتے ہیں وہ بھی اپنے اوپر بہت سی پابندیاں عاید کر رکھتے ہیں اور بڑی سختی کے ساتھ ان کی نگہداشت کرتے ہیں ظاہر ہے کہ اس چیز کا دین میں کوئی اعتبار نہیں۔ اعتبار صرف اس احتیاط کا ہے جو ایمان اور عمل صالح کے ساتھ ہو۔ آخر میں تقوی کے ساتھ احسان کی جو شرط ہے وہ اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ دین میں جو تقوی مطلوب و مقبول ہے وہ صرف ظاہر داری اور رسوم کی خانہ پری سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے آخری شرط احسان ہے۔ احسان کا مدعا یہ ہے کہ آدمی اللہ کے حدود کی خلاف ورزی سے اس طرح بچے جس طرح اس سے بچنے کا حق ہے، وہ ہر حکم کی تعمیل اس طرح کرے گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہے اور اس یقین سے اپنے باطن کو منور رکھے کہ اگر وہ خدا کو نہیں دیکھا رہا ہے تو خدا تو بہرحال اس کو دیکھ رہا ہے۔ یہی احسان تقوی کی اصل روح اور حدود الٰہی کا اصل پاسبان ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو انسان تقوی اور پرہیزگاری کی نمائش کرتے ہوئے حدود الٰہی کے توڑنے کے لیے ہزار چور دروازے پیدا کرسکتا ہے۔ آخر یہود نے دینداری کے مظا ہے کے ساتھ خدا کی حرام ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو جائز کرنے کی کتنی راہیں کھول لیں۔ سبت کے لیے جو حیلہ شرعی انہوں نے ایجاد کیا اس کی طرف یہاں بھی آگے اشارہ آ رہا ہے۔ یہی صورت اس امت میں بھی پیش آئی۔ یہاں تک کہ کتاب الحیل ہماری فقہ کا ایک جزو بن گئی۔ ایسے دین باز مدعیان تقوی کی خدا خدا کے ہاں کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو احسان کی صفت سے متصف ہوں۔ واللہ یحب المحسنین میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 5:94–96

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:94 in the Quran reader

اے ایمان والو، اللہ تمہاری کسی ایسے شکار سے آزمائش کرے گا جو تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں آجائے گا تاکہ اللہ دیکھے کہ کون اس سے غیب میں ڈرتا ہے اور جس نے اس کے بعد حدود سے تجاوز کیا تو اس کے لیے ایک دردناک عذاب ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 5:95 in the Quran reader

اے ایمان والو، حالت احرام میں شکار نہ کیجیو، اور جو تم میں سے اس کو قصداً مارے گا تو اس کا بدلہ اسی طرح کا جانور ہے جیسا کہ اس نے مارا ہے، جس کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر کریں گے۔ یہ نیاز کی حیثیت سے خانہ کعبہ کو پہنچایا جائے۔ یا کفارہ دینا ہوگا، مسکینوں کو کھانا یا اسی کے برابر روزے رکھنے ہوں گے تاکہ وہ اپنے کیے کا وبال چکھے۔ جو ہوچکا اللہ نے اس سے درگزر کیا۔ لیکن جو کوئی پھر کرے گا تو اللہ اس سے انتقام لے گا اور اللہ غالب اور انقام والا ہے

اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 5:96 in the Quran reader

اور تمہارے لیے دریا کا شکار اور اس کا کھانا جائز کیا گیا، تمہارے اور قافلوں کے زاد راہ کے لیے۔ اور خشکی کا شکار جب تک تم احرام میں ہو، تم پر حرام کیا۔ اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے حضور میں سب حاضر کیے جاؤگے

تفسیر آیات 94 تا 96:۔ يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَيْءٍ مِّنَ الصَّيْدِ تَـنَالُهٗٓ اَيْدِيْكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَّخَافُهٗ بِالْغَيْبِ ۚ فَمَنِ اعْتَدٰي بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيْم یاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ۭ وَمَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَــزَاۗءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْيًۢا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِيْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِيَامًا لِّيَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِهٖ ۭعَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ ۭ وَمَنْ عَادَ فَيَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ ۭ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ ذُو انْتِقَامٍ۔ اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ۔ سورة کے شروع، آیت 1 میں حالت احرام میں شکار کی جو ممانعت وارد ہوئی ہے اس سے متعلق بعض تفصیلات اور بعض سوالوں کے جواب جو بعد میں نازل ہوئے وہ یہاں بیان ہو رہے ہیں۔ پیش آنے والی آزمائشوں سے آگاہی : لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَيْءٍ مِّنَ الصَّيْدِ تَـنَالُهٗٓ اَيْدِيْكُمْ وَرِمَاحُكُمْ ، یہ اس آزمائش سے آگاہ فرمایا جا رہا ہے جو حالت احام میں دفعۃً شکار نظر آجانے کی وجہ سے پیش آسکتی ہے۔ چونکہ یہ ممانعت اصلاً کی ہی اس لیے گئی ہے کہ لوگوں کے ایمان وتقوی کو جانچا جائے اس لیے پہلے سے خبردار کردیا گیا ہے کہ ایسے مواقع پیش آئیں گے کہ تم احرام باندھے ہوئے ہوگے اور تمہیں نظر آئے گا کہ ہر نوں یا نیل گائے کی پوری ڈار کی ڈار ہے جو بالکل تمہارے نیزوں کی زد میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آزمائش کے ان مواقع پر اپنے عزم و ایمان کی حفاظت کرنا، اس طرح پھسل نہ جانا جس طرح بنی اسرائیل سبت کے معاملے میں پھسل گئے۔ اس تنبیہ کی اہمیت : اس تنبیہ کی اہمیت اچھی طرح سمجھنے کے لیے چند باتیں ذہن میں مستحضر کرلیجیے۔ ایک تو یہ کہ شکار بجائے خود بڑی رغبت کی چیز ہے بالخصوص اہل عرب کے لیے جن کی تفریح اور معاش دونوں چیزوں کا انحصار بڑی حد تک اس زمانے میں شکار ہی پر تھا۔ دوسری یہ کہ جب کسی مرغوب چیز پر کوئی پابندی عائد ہوجائے تو اس کی رغبت اور زیادہ قوی ہوجاتی ہے۔ عربی میں مثل ہے الانسان حریص علی ما منع انسان جس چیز سے روک دیا جائے اس کا بڑا حریص ہوجایا کرتا ہے۔ اس حرص کا نفسیاتی اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ جس طرح ساون کے اندھے کو ہر جگہ ہرا ہرا نظر آتا ہے، اسی طرح اس کو بھی ہر جگہ وہی چیز نظر آتی ہے جس سے وہ اپنے کو محروم پاتا ہے۔ تیسری یہ کہ یہ مناہی جب اصلاً امتحان کے لیے ہوئی ہے تو بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے مواقع پیدا فرمائے کہ اس امتحان کا مقصد پورا ہو۔ بنی اسرائی اور امت مسلمہ کے امتحان کی مماثلت : یہ بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ اس امت کے لیے یہ امتحان بنی اسرائیل کے اس امتحان سے مشابہ ہے جو ان کو سبت کے معاملے میں پیش آیا۔ قرآن میں اس کا ذکر اس طرح ہوا۔ " اذ یعدون فی السبت اذ تاتیہم حیتانہم یوم سبتہم شرعا ویوم لا یسبتون لا تاتیہم، کزلک نبلوھم بما کانوا یفسقون : اور یاد کرو جب کہ وہ سبت کے معاملے میں حدود الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے، جب کہ ان کی مچھلیاں ان کے سبت کے دن منہ اٹھائے ہوئے نمودار ہوتی تھیں اور جب سبت کا دن نہ ہوتا تو مچھلیاں نمودار نہ ہوتیں۔ اسی طرح ہم ان کو آزماشئ میں ڈالتے تھے بوجہ اس کے کہ وہ ہماری نافرمانی کرتے تھے۔ " (اعراف : 63) ان دونوں مقامات پر غور کیجیے تو دونوں کی مماثلت بالکل واضح ہوجائے گی۔ بنی اسرائیل کی آزماشئ کی نوعیت یہ تھی کہ جو دن ان کے سبت کا ہوتا اس دن مچھلیاں منہ اٹھائے ہوئے سطح آب پر نظر آتیں لیکن جو دن ان کے ست کا نہ ہوتا اس دن وہ نظر نہ آتیں۔ اس چیز نے ان کو اس فتنے میں ڈال دیا کہ انہوں نے سبت کے دن شکار کے لیے ایک حیلہ ایجاد کرلیا۔ اسی طرح اس امت کے امتحان کے بارے میں فرمایا ہے کہ حالت احرام میں بسا اوقات تمہیں ایسا نظر آئے گا کہ شکار بالکل تمہارے ہاتھوں اور تمہارے بھالون کے نیچے ہے۔ مبادا یہ چیز تمہیں اسی طرح کے کسی فتنہ میں مبتلا کردے جس طرح کے فتنہ میں بنی اسرائیل مبتلا ہوگئے۔ یہاں " بشیء " کے لفط بالخصوص اس کی تنکیر، سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ ہرچند یہ آزمائش پیش تو آئے گی لیکن یہ بہت سخت نہیں بلکہ ہلکی ہوگی۔ یہ چیز اس آخری شریعت کے مزاج کو ظاہر کرتی ہے کہ اس کے ہر پہلو میں انسانی فطرت کی پوری پوری رعایت ملحوظ ہے۔ ابتلائی احکام کا صلی پہلو : لِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَّخَافُهٗ بِالْغَيْبِ ، یہ اس آزمائش کا مقصد بیان ہوا ہے۔ علم یعلم کے معنی ہم دوسری جگہ بیان کرچکے ہیں کہ ممیز کرنے کے بھی آتے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ امتحان اللہ تعالیٰ نے اس لیے رکھا ہے کہ وہ ان لوگوں کو ممیز کرے جو غیب میں رہتے خدا ڈرتے ہیں۔ یہاں مقابل کا جملہ محذوف ہے یعنی ان لوگوں سے ممیز کرے جو غیب میں رہتے خدا سے نہیں ڈرتے۔ ابتلائی احکام سے متعلق ہم یہ حقیقت اس سورة کے آغاز میں واضح کرچکے ہیں کہ ان کا اصلی مقصود خدا کے ساتھ بندوں کی وفاداری کا امتحان ہوتا ہے۔ بظاہر وہ بندوں کے مصالح کے نقطہ نظر سے ایک عام آدمی کو بےحکمت نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں ایمان بالغیب اور خشیت بالغیب کے جانچنے کے لیے وہی اصلی کسوٹی ہوتے ہیں۔ فَمَنِ اعْتَدٰي بَعْدَ ذٰلِكَ میں بعد ذلک کا زور اس تنبیہ و تذکیر پر ہے جو یہاں کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حالت احرام میں شکار کی مناہی کے بعد یہ آگاہی بھی تمہیں سنا دی گئی ہے کہ اس راہ میں تمہیں اس طرح کی آزمائشیں بھی پیش آنی ہیں جس طرح کی تم سے پہلی امت کو پیش آئی ہیں تو جس نے اس آگاہی کے بعد بھی حدود الٰہی کی خلاف ورزی کی اس کے لیے عذاب دردناک ہے۔ حالت احرام کے عمداً شکار کا کفارہ : یاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ۭ وَمَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا۔۔۔ الایۃ، اب یہ اس سوال کا جواب دیا جا رہا ہے کہ کوئی شخص حالت احرام میں ہونے کے باوجود عمداً اس گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے تو اس کا کیا حکم ہے ارشاد ہوا کہ ایسا شخص کفارہ ادا کرے جس کی تین صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ جس طرح کا جانور اس نے شکار کیا ہے اسی قبیل کا جانور گھریلو چوپایوں میں سے کفارہ کی قربانی کے لیے خانہ کعبہ بھیجے۔ اگر یہ متعذور ہو تو اس جانور کی قیمت کی نسبت سے مسکینوں کو کھانا کھلانے، اگر یہ اس کے لیے دشوار ہو تو آخری درجے میں اتنے روزے رکھ دے جتنے مسکینوں کو کھانا کھلانا اس پر عائد ہوتا ہے۔ رہا اس امر کا فیصلہ کہ شکار کردہ جانور کا مثل اور بدل پالتو چوپایوں میں سے کوئی چوپایہ ہوسکتا ہے تو اس کا فیصلہ اور اس کے متعذر ہونے کی صورت میں اس کی قیمت یا مساکین یا روزوں کی تعداد کا فیصلہ تو یہ کام مسلمانوں میں سے دو ثقہ آدمی کریں گے تاکہ جرم کے مرتکب کے لیے اپنے نفس کی جانبداری کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔ خطا کی صورت میں حکم اور بعض متعلق مسائل : قرآن کے الفاظ سے مجھے یہی بات قوی معلوم ہوتی ہے۔ اکثر لوگ اس معاملے میں خطا اور عمد کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔ مجھے الفاظ قرآن کی روشنی میں سعید بن جبیر کا مذہب مضبوط معلوم ہوتا ہے جو خطا کی صورت میں کفارہ کے قائل نہیں۔ اس کی تائید میں ایک قول حضرت حسن کا بھی ہے۔ اسی طرح جو لوگ شکار کردہ جانور کی مثلیت کا فیصلہ بہر شکل قیمت ہی کے ذریعہ سے کرنے کے قائل ہیں۔ اس کے بعد وہ اختیار دے دیتے ہیں کہ چاہے کوئی شخص اس قیمت کے جانور کی قربانی دے، چاہے اسی نسبت سے مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا روزے رکھ دے تو یہ بات بھی کچھ زیادہ مضبوط نہیں معلوم ہوئی۔ جب واضح طور پر پالتو جانوروں میں شکار کے جانوروں کے بدل موجود ہیں مثلاً ہرن کی جگہ بکری، دنبہ مینڈھا وغیرہ، نیل گاؤ اور گور خر کی جگہ گائے وغیرہ اور مثلیت کے فیصلہ کے لیے قیمت ہی کیوں معیار قرار پائے ؟ شکار کردہ جانور کا بدل موجود نہ ہو تب تو بلاشبہ قیمت ہی اس کا بدل ہوسکتی ہے لیکن ہر حالت میں اسی کو عیار قرار دینا الفاظ قرار دینا الفاظ قرآن کے خلاف ہے۔ یہ بات بھی کچھ زیادہ مضبوط نہیں معلوم ہوتی کہ کفاہ کی مذکورہ تینوں شکلوں میں کفارہ دینے والے کو یکساں اختیار ہے، چاہے روزے رکھ دے چاہے مسکینوں کو کھانا کھلا دے، چاہے قربانے کردے بلکہ ان میں ترتیب معلوم ہوتی ہے۔ یہ بات کہ " او " تخییر کے لیے آتا ہے اگرچہ صحیح ہے لیکن قرینہ موجود ہو تو یہ ترتیب کو بھی مستلزم ہے جیسا کہ اسی سورة کی آیت 102 میں ہے۔ اس وجہ سے میں امام احمد اور زفر کے مذہب کو قوی سمجھتا ہوں جو یہاں ترتیب کے قائل ہیں۔ ایک سخت تنبیہ : " ومن عاد فینتقم اللہ منہ " اسی طرح کی تنبیہ ہے جس طرح کی تنبیہ اوپر والی آیت میں فمن اعتدی بعد ذلک فلہ عذاب الیم، کے الفاظ میں وارد ہوئی ہے۔ یہ تنبیہ بہت سخت ہے اور اس سختی کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم اوپر اشارہ کر آئے ہیں کہ اسی طرح کا امتحان ہے جس طرح کا امتحان سبت کے معاملے میں بنی اسرائیل کا ہوا اور جس میں فیل ہونے پر ان کو نہایت عبرت انگیز سزا ملی۔ یہ کفارہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ جو رکھا ہے تو یہ نافع اسی شکل میں ہے جب اس کے ساتھ مخلصانہ توبہ پائی جائے۔ اگر دل کا رجوع اس کے ساتھ شامل نہ ہو بلکہ آدمی یہ خیال کرکے نافرمانی کرتا رہے کہ گرفت ہوئی تو کفارہ دے لیں گے تو ایسے لوگ خدا کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔ اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا الایۃ : بنی اسرائیل اور امت مسلمہ کے امتحان میں فرق : مذکورہ بالا نہی ہ سے جو شکار مستثنی ہے، یہ اس کا بیان ہے۔ یہود کے لیے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، سبت کے دن دیارئی شکار بھی ممنوع تھا۔ اس امت کے لیے حالت احرام میں خشکی کا شکار ممنع ہوا لیکن دریائی شکار مباح رہا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ فرق اس بنیاد پر ہو کہ اہل عرب کے لیے زیادہ کشش خشکی کے شکار میں تھی اور یہود کے یلے، ان کے جائے وقوع کے لحاظ سے، دریائی شکار ہیں۔ یہ ایک امتحان ہے اور امتحان میں اگر یہ پہلو ملحوظ ہو تو یہ اس کے مزاج سے مناسبت رکھنے والی بات ہے۔ " صید " کا لفظ جس طرح غیر محلی الصید میں مصدری معنی میں ہے چناچہ وہاں واذا حللتم فاصطادوا کہہ کر اس کے مصدری معنی میں ہونے کو واضح بھی کردیا۔ اسی طرح ہمارے نزدیک یہاں بھی مصدری معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جہاں تک خشکی کا تعلق ہے اس کا شکار کرنا تو محرم کے لیے ممنوع ہے لیکن کسی غیر محرم کا کیا ہوا شکار کھانا، اگر کسی پہلو سے اس شکار میں اس کا کوئی دخل نہیں ہے اس کے لیے ممنوع نہیں ہے۔ رہا دریا کا شکار تو اس کا شکار کرنا اور دوسرے کا کیا ہوا شکار کھانا، اگر کسی پہلو سے اس شکار میں اس کا کوئی داخل نہیں ہے، اس کے لیے ممنوع نہیں ہے۔ رہا دریا کا شکار تو اس کا شکار کرنا اور دوسرے کا کیا ہوا شکار کھانا دونوں محرم کے لیے جائز ہے۔ یہ رخصت اللہ تعالیٰ نے اس لیے عطا فرمائی ہے کہ محرمین اور اہل قافلہ کو زاد راہ کے معاملے میں آسانی ہو۔ خشکی کے سفر میں اگر زاد راہ تھڑ جائے تو اس کے حاصل کرنے کی راہیں کھلی رہتی ہیں۔ دریائی سفر میں اگر یہ زحمت پیش آجائے تو شکار کے سوا کوئی اور راہ باقی نہیں رہ جاتی۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ یہود کو جو شکار کی ممانعت تھی وہ تو صرف ہفتہ میں ایک دن کے لیے تھی۔ اس وجہ سے کسی ناقابل حل زحمت کے پیش آنے کا کوئی اندیشہ نہ تھا۔ اس امت کو یہ ممانعت پورے دورانِ احرام کے لیے ہوئی۔ دریائی سفر کرنے والے قافلوں کو بعض حالات میں ناقابل حل مشکل پیش آسکتی تھی اس وجہ سے دریائی شکار کے معاملے میں یہ رعایت ہوئی