5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے پیغمبر، ان لوگوں کی روش تمہیں غم میں نہ ڈالے جو کفر کی راہ میں سبقت کر رہے ہیں، ان لوگوں میں سے جو زبان سے تو دعوی کرتے ہیں کہ ہم ایمان ہیں حالانکہ ان کے دلوں نے ایمان قبول نہیں کیا ہے اور ان لوگوں میں سے جنہوں نے یہودیت اختیار کی ہے۔ یہ جھوٹ کے رسیا اور دوسروں کی باتیں ماننے والے ہیں، جو خود تمہارے پاس نہیں آتے۔ وہ کلام کو اس کا موقع و محل معین ہونے کے باوجود اس کے محل سے ہٹا دیتے ہیں، کہتے ہیں اگر تمہارے معاملے کا فیصلہ یہ ہو تب تو قبول کرلینا اور اگر یہ نہ ہو تو اس سے بچ کے رہنا۔ اور جس کو اللہ فتنہ میں ڈالنا چاہے تو تم اللہ کے مقابل اس کے معاملے میں کچھ نہیں کرسکتے۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا چاہا، ان کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے

آگے کا مضمون۔ آیات 41 تا 50:۔ آگے چند آیات میں پہلے منافقین اور یہود کی اس ملی بھگت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو انہوں نے شرعی احکام و قوانین، بالخصوص تعزیرات و حدود کی گرفت سے بچنے اور ایک دوسرے کو ان سے بچانے کے لیے باہم کر رکھی تھی۔ ان آیات کے زمانہ نزول تک مدینہ اور اس کے اطراف میں اگرچہ اسلام کو سیاسی اقتدار حاصل ہوگیا تھا لیکن ابھی یہ اقتدار مکمل نہیں تھا، آس پاس یہود کی جو بستیاں تھیں وہ اپنے حدود میں قبائلی نوعیت کا اقتدار رکھتی تھیں اور ان کے حکام ان لوگوں کے معاملات و نزاعات کا فیصلہ کرتے تھے جو ان کے دائرہ اثر میں تھے یا ان کی طرف رجوع کرتے۔ لیکن یہ عدالتیں قیام عدل و انصاف کے نقطہ نظر سے بالکل بےجان اور بےمصرف ہوچکی تھیں۔ اول تو یہود نے نے خود قانون ہی کو اپنے اغراض کے تحت مسخ کر کے بالکل بےاثر کردیا تھا، دوسرے جھوٹ اور رشوت کا ان کے ہاں اتنا زور تھا کہ کسی معاملے میں نہ گواہوں کی گواہی کو کا کوئی وزن باقی رہ گیا تھا نہ عدالتوں کے انصاف کا۔ بڑی آسانی سے گواہوں اور حکام دونوں کو رشوت کے ذریعے سے خریدا اور ان کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا۔ اقتدار کی یہ دو عملی اور یہودی عدالتوں کی یہ انصاف فروشی ان لوگوں کے لیے ایک چور دروازہ فراہم کرتی تھی جو قانون کے تقاضوں سے فرار اختیار کرنا چاہتے۔ چناچہ منافقین اور یہود اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کے لیے یہ شرارت کرتے کہ جن معاملات میں ان کو توقع ہوتی کہ آنحضرت ﷺ کی عدالت سے فیصلہ ان کے حسب منشا ہوجائے گا ان کے لیے آنحضرت ﷺ کی عدالت سے فیصلہ ان کے حسب منشا ہوجائے گا ان کے لیے آنحضرت ﷺ سے رجوع کرتے لیکن جن میں اپنے حسب منشا فیصلہ ہونے کی توقع نہ ہوتی ان کے لیے یہودی عدالتوں کی طرف رجوع کرتے تاکہ جھوٹے گواہوں اور رشوت کے ذریعے سے اپنے حسب منشا فیصلے حاصل کرسکیں۔ قرآن نے ان کی اس بدبختانہ روش پر افسوس کیا ہے اور آنحضرت ﷺ کو اختیار ہے کہ آپ ان کے مقدمے لیں یا نہ لیں۔ البتہ اگر لیں تو فیصلہ اسی قانون عدل کے مطابق کریں جو اللہ نے اتارا ہے اس کے بعد یہود کی حالت پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ وہ یہ جانتے ہوئے کہ فلاں معاملے میں تورات کا حکم کیا ہے تمہیں حکم بناتے ہیں پھر تم جو فیصلہ کرتے ہو اس سے مکر جاتے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا ایمان کسی چیز پر بھی نہیں ہے۔ وہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد پہلے تورات و انجیل کا حوالہ دیا ہے کہ اللہ نے یہ صحیفے ہدایت اور روشنی بنا کر اتارے، ان کے ذریعے سے لوگوں کو اپنے احکام و قوانین سے آگاہ کیا، ان کے حاملوں کو ان کا گواہ اور امین بنایا اور ساتھ ہی انہیں اس امر سے آگاہ فرمایا کہ جو لوگ معاملات کے فیصلے ان کتابوں کے احکام کے خلاف کریں گے۔ وہ کافر، ظالم اور فاسق ٹھہریں گے۔ لیکن یہود و نصاری نے ان کتابوں کو بالائے طاق رکھ دیا اور اپنی خواہشات و بدعات کے پیرو بن گئے۔ پھر قرآن کا ذکر فرمایا کہ اب اللہ نے یہ کتاب اتاری ہے جو تمام اختلافات کے درمیان قول فیصل اور سابق صحیفوں کے لیے معیار اور کسوٹی کی حیثیت رکھتی ہے تو اب تم ہر معاملے کا فیصلہ اسی کی روشنی میں کرو، یہود و نصاری کی بدعات کی پروا نہ کرو۔ یہ یہود و نصاری حق کے طالب نہیں ہیں اس وجہ سے یہ وہی لکیر پیٹتے رہیں گے جس کو پیٹتے رہے ہیں۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ حق کی راہ حق کے طالبوں کو ملتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا سب کو ایک ہی راہ پر کردیتا لیکن اس نے لوگوں کو اختیار کی نعمت بخشی کہ ان کا امتحان کرے کہ کون حق کی راہ اختیار کرتا ہے، کون باطل کی، تو ان کے پیچھے اپنی راہ کھوٹی کرنے کے بجائے تم فلاح وسعادت کی راہ میں سبقت کرو۔ کل سب کا معاملہ خدا کی عدالت میں پیش ہوگا، وہاں سارے اختلافات کا فیصلہ ہوجائے۔ آخر میں آنحضرت ﷺ کو مزید تاکید فرمائی کہ خواہ یہود و نصاری کتنا ہی زور صرف کریں تم کسی حال میں بھی کتاب الٰہی کے بالمقابل ان کی بدعات و خواہشات کی پروا نہ کرنا۔ اگر وہ کتاب الٰہی کے انحراف کی اسی روش پر اڑے رہے تو سمجھ لو کہ وقت آچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بعض شرارتوں کی سزا ان کو اسی دنیا میں دے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے : يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ ڔ وَمِنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا ڔ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِيْنَ ۙ لَمْ يَاْتُوْكَ ۭيُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ ۚ يَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِيْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا ۭ وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَمْ يُرِدِ اللّٰهُ اَنْ يُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ ۭلَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ ښ وَّلَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔ رسول کی ذمہ داری : يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ۔ لفظ رسول سے خطاب یہاں اس حقیقت کو ظاہر کررہا ہے کہ رسول کی اصل ذمہ داری صرف اللہ کے دین کی تبلیغ اور انذار وتبشیر کے فریضہ کی ادائیگی ہے۔ اس امر کی کوئی ذمہ داری اس پر نہیں ہے کہ لوگ اس کی دعوت کے معاملے میں رویہ کیا اختیار کرتے ہیں۔ اگر رسول نے اپنا فرض رسالت ادا کردیا ہے تو وہ عنداللہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوگیا، لوگ اگر کفر کی راہ میں سبقت کرتے ہیں تو اس کی پرسش رسول سے نہیں ہونی ہے بلکہ خود لوگوں سے ہونی ہے، پھر جو بات دوسروں سے متعلق ہے اس کا غم رسول کیوں کرے ؟ یہاں چونکہ مقصود آنحضرت ﷺ کو منافقین اور یہود کی مخالفانہ اور سازشانہ روش پر تسلی دینا اور اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ جن کا فتنہ میں پڑنا سنت الٰہی کے بموجب مقدر ہوچکا ہے وہ فتنہ میں پڑ کے رہیں گے اس وجہ سے " یایہا الرسول " کے خطاب سے آپ کو مخاطب کرنا موزوں ہوا تاکہ خطاب ہی سے آپ کی ذمہ داری کی حد آپ پر واضح ہوجائے۔ آگے خطاب کی یہی مضمر حقیقت الفاظ میں یوں واضح فرما دی گئی ہے۔ من یرد اللہ فتنتہ فلن تملک لہ من اللہ شیئا، اس پر مزید بحث آیت 67 کے تحت بھی آئے گی۔ منافیق کی یہود دوستی : يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ۔ کفر میں سبقت سے اشارہ یہاں منافقین کی یہود دوستی کی طرف ہے کہ یہ لوگ خدا اور اس کی شریعت سے فرار کے لیے یہود کو ملجا و ماوی سمجھتے ہیں۔ اگرچہ زبان سے دعوی ایمان کا کرتے ہیں لیکن جب کوئی معاملہ اور قضیہ پیش آتا ہے تو ان کی انتہائی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس کو آنحضرت ﷺ کی عدالت میں پیش کرنے کے بجائے یہود کی عدالت میں لے جائیں تاکہ وہاں سے حسب منشا فیصلہ حاصل کرسکیں۔ حالانکہ اللہ و رسول کی عدالت کے ہوتے ہوئے کسی اور کی عدالت کے طرف رجوع کرنا ایمان و اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف رجوع کرنا ہے۔ منافقین کا من بھاتا کھاجا : سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ ، سمع، کے معنی جس طرح سننے کے آتے ہیں اسی طرح قبول کرنے کے بھی آتے ہیں اور " ل " یہاں اضافت کے مفہوم کو ظاہر کر رہا ہے۔ یہ منافقین کی وہ صفت بیان ہوئی جس سے ان کی سبقت الی الکفر کی توجیہہ ہو رہی ہے کہ ان کا من بھاتا کھاجا جھوٹ ہے، یہ جھوٹ کے رسیا اور جھوٹ کے گاہک ہیں، انہیں جھوٹی گواہی، جھوٹی عدالت اور جھوٹا فیصلہ چاہیے۔ اس وجہ سے یہ پیغمبر کی عدالت سے گھبراتے ہیں اور یہود کی طرف بھاگتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ جس جنس کے خریدار ہیں اس کی فراوانی اسی بازار میں ہے۔ منافقین یہود کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی : سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِيْنَ ۙ لَمْ يَاْتُوْكَ ، یہ ان منافقین کی دوسری صفت ہے اور چونکہ بعینہ پہلی صفت ہی کا پرتو ہے اس وجہ سے حرف عطف کے بغیر مذکور ہوئی۔ یعنی یہ منافقین اگر آپ کے پاس آتے ہیں تو اپنے ذوق و شوق سے اور حق و انصاف کے لیے نہیں آتے بلکہ دوسروں کے بھیجے ہوئے اور ان کے سکھائے پڑھائے ہوئے آتے ہیں۔ اشارہ یہود کے علما اور لیڈروں کی طرف ہے جن کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ وہ خود سامنے نہیں آتے بلکہ پردے کے پیچھے بیٹھے ہوئے ان کٹھ پتلیوں کو نچاتے ہیں اور یہ ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں، جو کچھ وہ کہتے ہیں یہ اسی کو مانتے ہیں اور جو کچھ ان کا ایما ہوتا ہے یہ اسی کی تعمیل کرتے ہیں۔ کلام کو اس کے واضح محمل سے ہٹانا تحریفِ دین ہے : يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ ۚ يَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِيْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا، یہ ان یہود کی پس پردہ سازشوں سے پردہ اٹھایا اور بتایا جا رہا ہے کہ یہ منافقین جن کے مرید ہیں اور جن سے یہ الہام حاصل کرتے ہیں ان کی کارستانیاں کیا ہیں اور وہ ان کو کیا سبق پڑھا کر آپ کے پاس بھیجتے ہیں۔ ان کی ایک کارستانی تو یہ بتائی کہ " یحرفون الکلم من بعد مواضعہ " اس کا ذکر آیت 13 کے تحت بھی گزر چکا ہے۔ بس یہ فرق یہ ہے کہ وہاں " یحرفون الکلم عن مواضعہ " ہے اور یہاں " من بعد مواضعہ " ہے۔ بات اگرچہ اصل حقیقت کے لحاظ سے دونوں جگہ ایک ہی ہے لیکن اس دوسرے اسلوب نے آیت کے مفہوم کو نسبتاً زیادہ واضح کردیا ہے۔ جملہ میں ایک مضاف عربیت کے عام قاعدے کے مطابق محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کے کلام اور اس کے احکام کا موقع و محل اور اس کا محمل و مصداق متعین ہوجانے کے باوجود اس کو اس کے موقع و محل سے ہٹا دیتے ہیں جس سے حکم کا مقصد بالکل فوت ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگر کسی حکم کا موقع و محل و مصداق واضح نہ ہو جس کے سبب سے قاضی و مفتی تطبیق میں غلطی کرجائیں تو ان کو معذور ٹھہرایا جاسکتا ہے، لیکن محمل و مصداق کے تعین کے باوجود اس حکم کو اس کے موقع و محل سے ہٹانا صریح تحریف دین ہے اور ہم تفسیر سورة بقرہ میں واضح کرچکے ہیں کہ یہود اپنے صحیفوں میں جس طرح تحریف لفظی کے مرتکب ہوئے ہیں اسی طرح اس انطباقی تحریف کے بھی مرتکب ہوئے خاص طور پر تعزیرات و حدود کے باب میں تو انہوں نے اس خنجر تحریف کو اس بےدردی کے ساتھ استعمال کیا کہ شریعت کی کوئی حدود تعزیر بھی اس سے سلامت نہ رہ سکی۔ اور افسوس ہے کہ تحریف کی اس قسم کے ارتکاب میں یہ امت بھی یہود سے کچھ پیچھے نہیں رہی۔ ان کی دوسری کارستانی یہ بتائی کہ یہ ان منافقین کو یہ سکھا کر آپ کے پاس بھیجتے ہیں کہ اگر تمہارے قضیے کا فیصلہ یہ ہو تب تو قبول کرلینا اور اگر یہ فیصلہ نہ ہو تو اس کو قبول نہ کرتا۔ گویا اول تو وہ خود ہی تحریف کے چور دروازے سے مجرم کے لیے فرار کی راہ نکال دیتے ہیں اور اگر اس میں کچھ زحمت محسوس ہوتی ہے تو آنحضرت ﷺ کی عدالت میں معاملہ کو بھیج دیتے ہیں لیکن اس ہدایت کے ساتھ کہ فیصلہ حسب منشا ہو تب تو قبول کرلینا ورنہ اس سے کترا جانا۔ مطلب قرآن کا اس ساری پردہ دری سے یہ ہے کہ جو لوگ اس طرح کے فتنہ کاروں کے ہتھے چڑھے ہوئے ہیں اور خود بھی فتنہ پسند ہیں ان کو ان کی قسمت پر چھوڑو، ان کی اس حالت پر غم نہ کرو۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی : وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا، یہ ہدایت و ضلالت کے باب میں اس سنت الٰہی کا بیان ہے جس کی تفصیل سورة بقرہ کے شروع اور دوسرے متعدد مقامات میں بیان ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حق و باطل اور خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت اور انسان کو اختیار کی نعمت دے کر اس کو دونوں طرح کے حالات سے آزمایا، اس کے سامنے نفس اور شیطان کی طرف سے شر و باطل بھی آتا ہے اور فطرت اور خدائے رحمان کی طرف سے خیر اور حق بھی۔ اس طرح اس کے عقل و ارادے کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ خیر اور حق کو اختیار کرتا ہے یا شر و باطل کو۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ جو لوگ جانتے بوجھتے اور دیکھتے سنتے شر کو خیر پر اور باطل کو حق پر ترجیح دیتے ہیں، نہ خدا کی تنبیہات سے سبق حاصل کرتے نہ اہل حق کی نصیحتوں سے، وہ آہستہ آہستہ اپنے ضمیر اور اپنے عقل و ارادے کو اس درجہ کند اور بےحس بنا لیتے ہیں کہ ان کے اندر حق کی طرف بڑھنے کا کوئی عزم و حوصلہ سرے سے باقی رہ ہی نہیں جاتا۔ باطل ہی ان کا اوڑھنا بچھونا بن جاتا ہے۔ ان کو کتنا ہی جھجنجھوڑئیے اور جگائیے۔ لیکن وہ یہ بستر چھوڑنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ یہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس فتنہ ہی میں اوندھے منہ پڑے چھوڑ دیتا ہے جس میں وہ پڑچکے ہوتے ہیں۔ پیغمبر اپنی دل سوزی اور محبت حق کی وجہ سے اپنا پورا زور لگاتا ہے کہ ان کو جگائے اور جب یہ نہیں جاگتے تو بعض اوقات اس کو یہ غم ہوتا ہے کہ مبادا ان کا یہ نہ جاگنا خود اس کی کسی کوتاہی کا نتیجہ ہو۔ اسی طرح کا احساس رحمت عالم ﷺ کو بھی ہوتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ کفر کی راہ میں ان لوگوں کی بھاگ دوڑ اس بات کا نتیجہ ہے کہ یہ سنت الٰہی کی زد میں آئے ہوئے ہیں اور جب یہ سنت الٰہی کی زد میں آئے ہوئے ہیں تو بھلا کس کے امکان میں ہے کہ ان کو باطل سے موڑ کر حق کی راہ پر لا سکے۔ ختم قلوب کا مرحلہ : اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَمْ يُرِدِ اللّٰهُ اَنْ يُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ۔ یہ اشارہ ہے اس سنت الٰہی کی طرف جو قرآن میں ختم قلوب یا " رین " کے الفاظ سے تعبیر ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دلوں کی تطہیر اور ان کے تزکیہ کے لیے اللہ کے ہاں ایک خاص ضابطہ ہے۔ جو لوگ نیکی اور تقوی کی راہ پر چلتے ہیں اگر اثنائے راہ میں ان کو کوئی ٹھوکر لگ جاتی ہے، وہ گر پڑتے ہیں، لیکن گرنے کے بعد پھر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور توبہ و اصلاح کے ذریعے سے دان جھاڑ کے پھر چل کھڑے ہوتے ہیں تو خواہ ہزار بار گریں اور اٹھیں لیکن ان کے دامن دل پر میل جمنے نہیں پاتا، اللہ ان کی توبہ و اصلاح کو ان کے لیے کفارہ سیئات بناتا رہتا ہے۔ لیکن جو لوگ برائی اور نافرمانی ہی کو اپنا پیشہ بنا لیتے ہیں اور گناہوں کی کیچر ہی میں لت پت رہتے ہیں ان سے راحت محسوس کرتے ہیں، آہستہ آہستہ ان کے دلوں پر اتنی سیاہی جم جاتی ہے کہ ان پر کوئی صیقل بھی کارگر نہیں ہوتا، پھر خدا انہیں جہنم کی بھٹی ہی کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ اجزائے کلام کو سمجھ لینے کے بعد نظم کے پہلو سے پھر ایک بار یہ بات ذہن میں تازہ کرلیجیے کہ میثاق الٰہی کی ان دفعات کو بیان کرنے کے بعد جو دوسری ملتوں کے لیے مزلہ قدم ہوئیں، اب یہ ان چور دروازوں کی نشان دہی کی جا رہی ہے جن سے انہوں نے پہلے بھی فرار کی راہیں اختیار کیں اور اب بھی ان کو استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ ان چور دروازوں کی نشان دہی سے مقصود، جیسا کہ فحوائے کلام سے واضح ہے، اس امت کو یہ آگاہی دینا ہے کہ تم بھی پچھلی امتوں کی طرح خدا کے میثاق سے فرار اختیار کرنے والے نہ بن جانا بلکہ ہر حالت میں اس پر قائم و استوار رہنا۔ ورنہ جس طرح ان کے لیے دنیا کی رسوائی اور آخرت کا عذاب عظیم ہے اسی طرح تم بھی اس کے مستحق ٹھہروگے۔ خدا کا قانون سب کے لیے یکساں اور بےلاگ ہے۔
Ayah 5:42

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

یہ جھوٹ کے رسیا اور پکے حرام خور ہیں۔ اگر یہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے، خواہ ان کے معاملے کا فیصلہ کرو یا ان کو ٹال دو۔ اگر تم کو ٹال دو گے تو یہ تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اگر فیصلہ کرو تو ان کے درمیان قانون عدل کے مطابق فیصلہ کرو۔ اللہ قانونِ عدل پر عمل کرنے والوں ہی کو دوست رکھتا ہے

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ ۭ فَاِنْ جَاۗءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ ۚ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا ۭوَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ ۭاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ۔ " سحت " کا مفہوم : " اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ " سحت کے معنی کسب حرام کے ہیں۔ کسب حرام کی یوں تو مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں لیکن اس لفظ کا غالب استعمال رشوت کے لیے ہے۔ اسی معنی میں یہ یہاں بی استعمال ہوا ہے اور قرآن میں جہاں کہیں بھی استعمال ہوا ہے اسی معنی میں ہوا ہے۔ جھوٹ اور رشوت نظام عدل کو ختم کردیتے ہیں : یہ اس گروہ منافقین و یہود کی، جن کی ذکر اوپر ہوا، مزید صفت بیان ہوئی کہ یہ جھوٹ کے رسیا اور پکے رشوت خور ہیں۔ یہ ملحوظ رہے کہ " سماع " اور " اکال " اول تو مبالغہ کے صیغے ہیں پھر یہ پورے گروہ کی صفت کے طور پر وارد ہوئے ہیں، اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دونوں بیماریاں یہود اور ان کے ہم مشربوں پر وبا کی طرح مسلط ہوگئی تھیں اور ان کی پوری قوم ان میں مبتلا تھی۔ جھوٹ اور رشوت یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جو کسی قوم میں پھیل جائیں تو اس کے اندر سے حق وعدل کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ حق و عدل کا قیام، جیسا کہ " کونوا قوامین للہ شہداء بالقسط " والی آیت میں بیان ہوا ہے دو چیزوں پر مبنی ہے۔ ایک اس چیز پر کہ حق کی بےلاگ شہادت دینے والے موجود ہوں، دوسری یہ کہ قانون عدل و قسط کے مطابق بےلاگ فیصلہ کرنے والے موجود ہوں۔ یہ دونوں چیزیں نظام حق و انصاف اور قیام عدل و قسط کی ریرھ کی ہڈی ہیں اور جھوٹ اور رشوت ان دونوں کا استیصال کردیتی ہیں۔ لفظ " سحت " جو یہاں رشوت کے لیے استعمال ہوا ہے عربی لغت میں اصلاً استیصار کے مفہوم کے لیے استعمال ہوتا ہے مجھے خیال ہوتا ہے کہ ممکن ہے یہ رشوت کے مفہوم کے لیے اسی لیے استعمال ہوا ہو کہ یہ چیز تمام حق و عدل کی بنیاد ہی ڈھا دیتی ہے۔ حامل شریعت امت کا اصلی فریضہ : " شہداء علی لناس " اور " قوامین بالقسط " پر سب سے بڑا خدائی فرض یہی عائد ہوتا ہے کہ وہ حق کی گواہی دینے والے، حق پر قائم رہنے والے اور حق کے مطابق بےلاگ فیصلہ کرنے والے نہیں۔ یہی اس عہد و میثاق کے قیام و استحکام کی بنیاد ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر اس امت سے لیا ہے جس کو اپنی کتاب و شریعت سے نوازا ہے لیکن اس فرض کی ادائیگی اسی وقت تک ممکن ہے جب تک جھوٹ اور رشوت کی چاٹ لوگوں کو نہ لگے۔ جب جھوٹ کی چاٹ لگ جائے، جب جھوٹی گواہی دینا بہتوں کا پیشہ بن جائے، جب گواہی کو بیچنے والے، جھوٹی گواہی کی تعلیم دینے والے، جھوٹ کو فن بنا دینے والے اور جھوٹ کی وکالت کرنے والے سوسائٹی کے ہر طبقہ میں نہ صرف یہ کہ پیدا ہوجائیں بلکہ ان کو عزت کی نگاہوں سے دیکھا اور نہایت معزز القاب سے خطاب کیا جانے لگے، نیز رشوت خوری عام ہوجائے، اختیار رکھنے والے اور معاملات کا فیصلہ کرنے والے۔ اپنے اختیار و انصاف کو خریدنی و فروختنی شے بنا دیں، جو شخص ان کو کرید سکے، خواہ ظالم ہو یا مظلوم ان کے اختیار و اقتدار اور ان کے زبان و قلم کو اپنے حق میں استعمال کرسکے تو اس کے معنی یہ ہے ہیں کہ اس قوم کے اندر حق و انصاف کا جنازہ نکل گیا اور عہد الٰہی کی اس نے دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ یہود کی ایک چال اور اس کا توڑ : فَاِنْ جَاۗءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ ۚ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا۔ فرمایا کہ یہ لوگ جو دوسروں کے بھیجے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں اور دل میں یہ ارادہ لے کر آتے ہیں کہ فیصلہ ان کے حسب منشا ہوگا تب تو قبول کریں گے ورنہ رد کردیں گے تو ایسے لوگوں کے بارے میں تمہیں اختیار ہے کہ تم ان کے مقدمے کے فیصلے کی ذمہ داری لو یا نہ لو۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اوپر قیام و عدل و قسط کی ذمہ داری اصلاً صرف انہی لوگوں سے متعلق ہے جو تمہارے دائرہ اقتدار و اطاعت کے اندر ہیں۔ جو اس سے باہر ہیں، جن کی وفاداری ابھی تقسیم ہے، جو تمہارے پاس بھی آتے ہیں اور دوسروں سے بھی ساز باز رکھتے ہیں، ان کی ذمہ داری شرعاً تم پر نہیں ہے، مصلحت دیکھو تو ان کے مقدمے لو، مصلحت نہ دیکھو تو رد کردو۔ فرمایا کہ تم ان کو رد کردو گے تو یہ تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ یہ اطمینان اس لیے دلایا گیا کہ یہود اس طرح کے معاملات و مقدمات آنحضرت ﷺ کے پاس بھیجتے یا لاتے تو اس میں ان کی کوئی نہ کوئی مفسدانہ غرض ضرور پوشیدہ ہوتی، وہ اس سے آپ کے خلاف سیاسی فائدے اٹھانے کی کوشش کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلا دیا کہ تم ان کا معاملہ تو بہرحال اس کا فیصلہ اسی قانون عدل و قسط کے مطابق کرو۔ جو اللہ نے تم پر نازل فرمایا ہے اور اگر ان کو رد کردو تو اس کا بھی تمہیں اختیار ہے، یہ تم کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے، حق پر قائم رہنے والے کی اللہ حفاظت کرتا ہے۔ امت کو ہر حال میں حق پر قائم رہنے کی ہدایت : وَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ ۭاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ۔ یہ پیغمبر ﷺ اور آپ کے واسطے سے پوری امت سے گویا عہد لیا گیا ہے کہ فیصلہ اپنوں کے کسی معاملے کا ہو یا غیروں کے، بہرحال بےلاگ لپیٹ، قانون عدل و قسط کے مطابق ہو، قوامین بالقسط " کا فریضہ منصبی یہی ہے اور اسی کی خاطر اللہ نے پچھلی امتوں کو معزول کرکے اس امت کو برپا کیا ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کی محبت کسی نسل و خاندان کے ساتھ نہیں بلکہ عدل و قسط قائم کرنے والوں کے ساتھ ہے، جو گروہ جب تک اس پر قائم رہے گا اور اس کو قائم کرے گا اللہ اس کو دوست رکھے گا اور جس کو اللہ دوست رکھے وہی دنیا اور آخرت دونوں میں برومند اور فلاح یاب ہوگا۔
Ayah 5:43

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور یہ تمہیں حکم کس طرح بناتے ہیں جب کہ تورات ان کے پاس موجود ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے، پھر حکم بنانے کے بعد برگشتہ ہوجاتے ہیں ! یہ ہرگز باایمان لوگ نہیں ہیں

شریعت سے فرار کے لیے یہود کی دہری شرارت : وَكَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ وَعِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِيْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ۭ وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ۔ یہ تعجب کا اظہار اس بات پر نہیں ہے کہ وہ تورات رکھتے ہوئے اپنے معاملات کے فیصلے کے لیے آپ کو حکم کس طرح بناتے ہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ وہ آپ کو حکم بنا کر آپ کے فیصلے سے مکرتے کس طرح ہیں جب کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کے فیصلے شریعت الٰہی کے مطابق ہوتے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اول تو احکام، بالخصوص تعزیرات و حدود، بنیادی طور پر تورات و قرآن دونوں میں یکساں ہیں۔ پھر آنحضرت ﷺ کا طریقہ یہ تھا کیہ جن امور میں قرآن کی کوئی واضح ہدایت موجود نہ ہوتی ان میں آپ فیصلہ احکام تورات کے مطابق فرماتے اور ان یہود کو اچھی طرح علم ہوتا کہ آپ کا فیصلہ تورات کے قانون کے مطابق ہے۔ ایسی حالت میں یہ کیسی بےحیائی اور ڈھٹائی کی بات تھی کہ آپ کو حکم بھی بنایا جائے اور آپ کا فیصلہ اس قانون الٰہی کے مطابق بھی ہو جس پر ایمان کا دعوی ہے لیکن پھر اس فیصلہ سے فرار اختیار کرنے کی کوشش کی جائے۔ تفسیر کی کتابوں میں زنا کے ایک مقدمے کا ذکر ہے جس میں آنحضرت ﷺ کا فیصلہ بالکل تورات کے قانون کے مطابق تھا لیکن علمائے یہود نے اس طرح کے معاملات میں امری اور غریب کے لیے چونکہ الگ الگ ضابطے بنا رکھے تھے اس وجہ سے وہ تورات کے اصل قوانین کو چھپاتے تھے۔ چناچہ اس معاملے میں بھی انہوں نے یہی کوشش کی لیکن بالآخر ان کو اصل حقیقت کا اعتراف کرنا پڑا۔ ظاہر ہے کہ یہ روش ہر پہلو سے دعوائے ایمان کے منافی ہے۔ اول تو آپ کی عدالت میں مقدمہ کو لے جانا ہی اس خواہش کے ساتھ تھا کہ تورات کے قانون سے فرار کی شاید کوئی شکل نکل آئے۔ لیکن جب وہاں سے کوئی شکل نہیں نکلی تو یہ جانتے بوجھتے کہ آپ کا فیصلہ بالکل تورات کے حکم کے مطابق ہے اس سے گریز کی کوشش کی۔ فرمایا کہ وما اولئک بالمومنین، یہ لوگ کسی چیز پر بھی ایمان نہیں رکھتے۔
Ayahs 5:44–45

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

بیشک ہم ہی نے تورات اتاری جس میں ہدایت اور روشنی ہے، اسی کے مطابق خدا کے فرمانبردار انبیا، ربانی علما اور فقہا یہود کے معاملات کے فیصلے کرتے تھے، بوجہ اس کے کہ وہ کتاب الٰہی کے امین اور اس کے گواہ ٹھہرائے گئے تھے کہ لوگوں سے نہ ڈریو، مجھی سے ڈریو اور میرے احکام کو دنیا کی متاع حقیر کے عوض نہ فروخت کیجیو اور جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کریں تو یہی لوگ کافر ہیں

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے اس میں ان پر فرض کیا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور اسی طرح دوسرے زخموں کا بھی قصاص ہے۔ سو جس نے اس کو معاف کردیا تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جو اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کریں گے تو وہی لوگ ہیں جو ظالم ٹھہریں گے

تفسیر آیات 44۔ 45۔ اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِيْنَ هَادُوْا وَالرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَكَانُوْا عَلَيْهِ شُهَدَاۗءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ ۙوَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ ۙ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ ۭ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ ۭ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔ تورات کا مرتبہ : اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ۔ یہ تورات کی قدروقیمت واضح فرمائی گئی کہ اللہ نے اس کو اتارا تھا تو بازیچہ اطفال بنانے کے لیے نہیں اتارا تھا بلکہ زندگی کے اعلی اقدار کے تحفظ کا وسیلہ، خدا اور اس کے نبیوں کے بتائے ہوئے طریقوں کی طرف رہنمائی کا ذریعہ، صراط مستقیم کی ہدایت اور خواہشات و بدعات کی تاریکیوں سے نکالنے والی روشنی بنا کر اتارا تھا۔ تورات کے بارے میں اس کے مخلص حاملین کی روش : يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِيْنَ هَادُوْا وَالرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَكَانُوْا عَلَيْهِ شُهَدَاۗءَ۔ یہ تورات کے سچے اور مخلص حاملین کی روش بیان ہوئی ہے کہ کس طرح اللہ کے فرمانبردار نبیوں اور مخلص علماء و فقہا نے خود اس کی اطاعت کی اور اس کے قوانین و احکام کے مطابق وہ یہودیوں کے معاملات و مقدمات کے فیصلے کرتے رہے اور اپنے اندر برابر اس احساس ذمہ داری کو زندہ کرھا کہ وہ خدا کی طرف سے اس کے امین و محافظ اور اس کے گواہ بنائے گئے ہیں اس وجہ سے نہ تو اس میں ان کے لیے کوئی خیانت جائز ہے اور نہ اس کے اظہار و اعلان میں کوئی کوتاہی روا ہے۔ یہ اللہ کا عہد و میثاق ہے جو بہرحال انہیں پورا کرنا ہے۔ یہ آئینہ وقت کے یہود کے سامنے اس غرض سے رکھا گیا ہے کہ وہ اس میں دیکھیں کہ تورات سے متعلق ان پر کیا ذمہ داریاں عائد تھیں، ان کے صالح اسلاف نے ان ذمہ داریوں کو کسی طرح نبھایا اور انہوں نے کس طرح اس عہد الٰہی کو بچوں کا کھیل بنا رکھا ہے۔ کتاب الٰہی کا حقیقی مقصد : " یحکم بہا النبییون " میں مضارع سے پہلے عربیت کے عام قاعدے کے مطابق " کان " کا صیغہ محذوف ہے یعنی کان یحکم بہا النبیو (انبیاء اس کے ذریعہ سے یہود کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے)۔ " حکم " کے لفظ سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ کتاب الٰہی کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ زندگی کے معاملات و نزاعات میں امر و حکم اور فیصلہ و قضا کا ذریعہ بنے اور تمام اجتماعی و سیاسی اور قانونی معاملات اسی کی ہدایات کے مطابق اور اسی کی روشنی میں انجام پائیں۔ اگر اس کی یہ حیثیت باقی نہ رہے بلکہ وہ صرف تبرک بنا کے رکھ چھوری جائے، یا اس کے الفاظ کی تلاوت کرلی جائے یا اس کو صرف مردے بخشوانے کا وسیلہ سمجھ لیا جائے، زندگی کے معاملات و مسائل سے نہ صرف یہ کہ اس کا کوئی تعلق باقی نہ رہے بلکہ صریحاً اس کے احکام کے خلاف احکام و قوانین بنائے جائیں تو یہ اللہ کی کتاب کے ساتھ مذاق ہے۔ یہود پر ایک لطیف تعریض : انبیاء کے لیے الذین اسلموا۔ کی صفت سے اس حقیقت کا اظہار ہورہا ہے کہ یہ انبیاء جو تورات کے احکام کے مطابق یہود کے معاملات کے فیصلے کرتے تھے، صرف دوسروں ہی کے لیے تورات کو واجب العمل نہیں سمجھتے تھے بلکہ خود بھی خدا کے فرمانبردار اور تورات کے احکام و قوانین کے پابند تھے۔ اس میں ایک لطیف تعریض ہے ان علمائے یہود پر جنہوں نے اول تو تورات کو زندگی کے معاملات سے بالکل بےدخل کر رکھا تھا اور اگر کسی دائرے میں اس کو جگہ دی بھی تھی تو اس کی نوعیت یہ تھی کہ دوسروں کو تو اس کا حکم دیتے تھے للیکن خود اپنے آپ کو اس کا مخاطب نہیں سمجھتے تھے۔ قرآن مجید نے اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم کے الفاظ سے ان کی اسی حالت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ یہود کو ایک یاد دہانی : ربانی، اور احبار، عربی زبان میں اہل کتاب سے آئے ہوئے الفاظ ہیں۔ ربانی سے مراد علما ہیں اور احبار کا غالب استعمال فقہا اور قضاۃ کے لیے ہے۔ یہ دونوں الفاظ یہاں اپنے حقیقی مفہوم یعنی علمائے حقانی اور دیانت دار اور راست بز فقہا و قضاۃ کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح خدا کے فرماں بردار انبیاء ٹھیک تورات کے مطابق لوگوں کے فیصلے کرتے رہے ہیں اسی طرح حق پرست علماء اور راست باز فقہا بھی اپنے فتوے اور فیصلے اس کی روشنی میں صادر کرتے رہے ہیں۔ یہاں بھی وقت کے علمائے یہود اور ان کے فقہاء کو نہایت لطیف طریقے پر توجہ دلائی ہے کہ تم جن اسلاف کے اخلاف ہو ان میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جو تمہاری طرح خدا کی کتاب کے معاملے میں چور اور بد دیانت نہیں تھے۔ عہد الہی کی پاسبان خشیت الٰہی ہے : بما استحفظوا من کتبا للہ وکانوا علیہ شہداء۔ میں اس ذمہ داری کا بیان ہے جس کے وہ حامل بنائے گئے تھے اور جس کے صحیح احساس ہی نے ان کی عناں گیری کی جس کے سبب سے ان کو کتاب اللہ کا حق ادا کرنے کی توفیق ملی۔ وہ یہ کہ اللہ نے ان کو اپنی کتاب کا محافظ اور امین اور خلق کے سامنے اس کا شاہد اور گواہ بنایا تھا اور ہر گروہ جو اللہ کی کتاب کا حامل بنایا جاتا ہے وہ درحقییقت اس کا محافظ اور گواہ ہی ہوتا ہے۔ یہ الفاظ بھی وقت کے یہود اور ان کے علماء و فقہا کو یاد دہانی کر رہے ہیں کہ وہ ذرا اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ پاسبان ہو کر انہوں نے خدا کے حرم میں کس طرح نقب لگائی ہے اور گواہ ہو کر کس طرح کتمان شریعت میں مہارت دکھائی ہے۔ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا۔ عام طور پر مفسرین نے اس ٹکڑے کو اوپر کے سیاق وسباق سے الگ کرکے وقت کے یہود سے خطاب کے مفہوم میں لیا ہے۔ اگرچہ الفاظ میں یہ مفہوم لینے کی بھی گنجائش ہے لیکن میرا رجحان اس طرف ہے کہ اس کا تعلق بھی اوپر کے ٹکڑے ہی سے ہے اور قرآن کے معروف طریقہ کے مطابق یہاں اسلوب غائب کے بجائے حاضر کا ہوگیا ہے قرآن مجید میں اس کی مثالیں بکثرت پائی جاتی ہیں کہ بات غائب کے صیغے سے کہتے کہتے اچانک اسلوب حاضر کا آجاتا ہے۔ یہ تبدیلی کلام میں تنوع بھی پیدا کردیتی ہے اور صورت حال کا نقشہ سامنے آجانے کے سبب سے قاری اور سامع پر اس کا اثر بھی پڑتا ہے۔ مثلاً سورة انعام میں ہے " ویوم یحشرھم جمیعا یا معشر الجن قد استکثرتم من الانس " (اور جس دن جن و انس سب کو اکٹھا کرے گا، اے جنوں کے گروہ تم نے تو انسان میں سے بہتوں کو اپنے دام میں پھنسا لیا)۔ پھر آگے ہے " وکذلک نولی بعض الظالمین بعضا بما کانوا یکسبون، یا معشر الجن والانس " (اور اسی طرح ہم ظالموں میں سے ایک کو دوسرے پر ان کے اعمال کی پاداش میں مسلط کردیتے ہیں، اے جنوں اور انسانوں کے گروہ۔۔۔)۔ یہی اسلوب سورة بقرہ کی آیت " واذ جعلنا البیت مثابۃ لنناس وامنا واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اس کے محل میں ہم نے اس پر تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ ہمارے نزدیک یہی اسلوب مائدہ اس آیت میں بھی ہے۔ یعنی یہ بات ان شہداء سے خطاب کر کے کہی گئی تھی جن کا ذکر پہلے گزرا لیکن اس کو غائب کے صیغہ سے بیان کرنے کے بجائے حاضر کے صیغہ میں فرمایا تاکہ کلام زیادہ مؤثر ہوجائے۔ یہ ملحوظ رہے کہ تورات میں جہاں جہاں یہود سے پابندی احکام شریعت کے عہد لینے کا ذکر آتا ہے وہاں حضرت موسیٰ کی طرف سے ان باتوں کی تاکید ضرور آتی ہے جن کی طرف قرآن کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔ یعنی خداوند خدا ہی سے ڈرنا، اس کے حکموں کے معاملے میں کسی کی پروا نہ کرنا، اس کی شریعت کو دنیا کے حقیر فوائد پر قربان نہ کرنا۔ غور کیجیے تو یہ باتیں اس امانت اور شہادت کا لازمی تقاضا ہیں جن کا " بما استحفظوا من کتاب اللہ وکانوا علیہ شہداء " میں ذکر آیا ہے۔ جو گروہ کتاب الٰہی کا گواہ بنایا گیا ہے اس کے لیے واجب ہے کہ وہ صرف خدا ہی سے ڈرے، دوسروں کا خوف و رعب اپنے سینے سے نکال دے۔ اس کے بغیر ہر طرح کے حالات میں اس کے لیے کتاب الٰہی کی شہادت کی ذم داریوں سے عہدہ برآ ہونا ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح جو جماعت کتاب الٰہی کی امین بنائی گئی ہے اس پر حرام ہے کہ وہ اپنے دنیوی مفادات و اغراض کی خاطر خدا کی اس امت میں خیانت کرے اور کتاب الٰہی پر تاویل و تحریف کی قینچی چلائے مزید غور کیجئے تو یہ حقیقت بھی واضح ہوگی کہ میثاق الٰہی کی انہی تنبیہات کو فراموش کردینے کی وجہ سے یہود " شہداء اللہ " اور ابناء اللہ ہونے کے بجائے سمعون للکذب اور اکلون للسحت بن کر رہ گئے جس کے سبب سے خدا نے ان پر لعنت کردی۔ حقیقی کافر : ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ۔۔ اس ٹکڑے کا عطف چونکہ اوپر والے ٹکڑے ہی پر ہے اس وجہ سے جو حکم اس کا ہے وہی حکم اس کا بھی ہے۔ یعنی یہ نتیجہ بھی اس تنبیہ کا ایک حصہ ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جن کو شریعت کا امین اور گواہ بنایا ہے اگر انہی کے معاملات کے فیصلے شریعت کے مطابق نہ ہوئے تو حقیقی کافر وہی ہیں۔ اس تاکید اور زور کے ساتھ ان کے کافر قرار دینے کی وجہ وہ اہتمام ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی شریعت اور کتاب کی تعلیم دینے، اس کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے اور اس راہ کے خطرات سے متنبہ کرنے کے لیے فرمایا۔ جو لوگ اس سارے اہتمام کے بعد بھی راہ حق سے بھٹک گئے انہوں نے گویا پورے دن کی روشنی میں ٹھوکر کھائی اس وجہ سے یہ تمام اندھوں سے بڑھ کر اندھے ہیں۔ یہ آیت اگرچہ ہے تو یہود سے متعلق لیکن بعینہ یہی جرم اگر مسلمانوں کے کسی گروہ سے صادر ہو کہ وہ اختیار و آزادی رکھتے ہوئے کتاب الٰہی کے مطابق معاملے کا فیصلہ نہ کریں، بلکہ علی الاعلان اس سے انحراف اختیار کریں تو ان کا حکم بھی یہی ہوگا اور یہی ہونا چاہیے آگے اس کی وضاحت آئے گی۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ۔۔۔ الایۃ۔ یہ تورات کے اس قانون کا ھوالہ ہے جو خروج 21: 23۔ 25، احبار 24:، 20، استثنا 19:، 21 میں مذکور ہے۔ یہ حوالہ اس بات کی تصدیق کے لیے دیا گیا ہے جو اوپر آیت 43 میں مذکور ہوئی ہے کہ تورات میں حدود و تعزیرات کے واضح احکام کی موجودگی میں آخر یہ یہود کس طرح تمہیں حکم بنا کر تمہارے فیصلہ سے گریز کرتے ہیں اور اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ در اصل یہ حدود ہی کے معاملات تھے جو یہود کے لیے سب سے زیادہ مزلہ قدم ثابت ہوئے۔ ول تو انہوں نے تحریف کر کے ان کا حلیہ ہی بگاڑ دیا۔ پھر جو احکام تحریف کی دستبرد سے بچ رہے ان سے بھی فرار کے لیے انہوں نے مختلف قسم کے حیلے نکال لیے۔ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ میں لہ کے مرجع کے بارے میں اصحاب تاویل کا اختلاف ہے۔ ایک گروہ کے نزدیک اس کا مرجع شخص مجروح ہے۔ یعنی اگر مجروح اپنے مجرم کو بکش دے، اس سے بدلہ نہ لے، تو اس کی یہ نیکی اس کے گناہوں کے لیے کفارہ بنے گی۔ گویا یہ ٹکڑا مجروح کے لیے ترغیب ہے کہ وہ مجرم کو معاف کردے تو یہ بہتر ہے۔ دوسرے گروہ کے نزدیک جس میں ابن عباس، مجاہد اور ابراہیم و شعبی جیسے اکابر تفسیر شامل ہیں، اس کا مرجع جارح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر مجروح (اور بصورت قتل، اولیائے مقتول) مجرم کو معاف کردے تو یہ معافی مجرم کے لیے کفارہ بن جائے گی۔ حکومت اس پر کوئی گرفت نہیں کرے گی اور اگر مجرم توبہ کرلے گا تو عنداللہ بی یہ معافی اس کے لیے کفارہ بن جائے گی۔ میرا رجحان اسی دوسری تاویل کی طرف ہے۔ قرآن کے الفاظ سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ اصلی ظالم : وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔ اوپر یہی مضمون بیان کرتے ہوئے " کافرون " کا لفظ آیا ہے۔ یہاں ظالمون کا لفظ ہے۔ لفظ ظلم ہلکے معنی میں نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ قرآن میں خدا اور بندوں کے سب سے بڑے حقوق کے تلف کرنے کے لیے بھی استعمال ہوا ہے چناچہ شرک کو ظلم سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ جو لوگ اللہ کی کتاب اور اس پر عمل کی آزادی رکھتے ہوئے اس کے قانون کو نظر انداز کرتے ہیں وہ خدا کا بھی سب سے بڑا حق تلف کرتے اور خود اپنے نفس اور اللہ کے دوسرے بندوں کا بھی سب سے بڑا حق تلف کرتے ہیں اور درحقیقت اصلی ظالم یہی لوگ ہیں۔ یہ آیت بھی اگرچہ یہود کے جرائم کے بیان کے سیاق میں ہے۔ لیکن یہی جرم مسلمانوں سے صادر ہو (جس کی شہادت ہر مسلمان ملک میں موجود ہے) تو میں نہیں سمجھتا کہ اس کا حکم اس سے الگ کس بنیاد پر ہوگا۔ خدا کا قانون تو سب کے لیے ایک ہی ہے ؟ آیت 45 محکم ہے یا منسوخ : یہ آیت قصاص جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، تورات کے ایک حک کے حوالہ کے طور پر وارد ہوئی ہے لیکن کوئی اشارہ چونکہ اس کے منسوخ ہونے کا موجود نہیں ہے بلکہ انداز بیان اس کے محکم ہونے پر دلیل ہے اس وجہ سے یہی قانون اس امت کے لیے بھی ہے۔ نبی ﷺ اور صحابہ کے عمل سے اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ سورة بقرہ کی تفسیر میں لفظ قصاص پر بحث کرتے ہوئے ہم لکھ چکے ہیں کہ اپنے عام استعمال میں۔ لفظ قصاص جانی و مالی دونوں پر بولا جاتا ہے اس وجہ سے اگر دیت پر راضی نامہ ہوجائے یا دیت ہی تقاضائے انصاف قرار پائے تو دیت ہی قصاص سمجھی جائے گی۔ تفصیلات اس کی فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں۔
Ayahs 5:46–47

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے پیچھے، انہی کے نقش قدم پر عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا مصداق پیشتر سے موجود تورات کے اور ہم نے اس کو عطا کی انجیل، ہدایت اور روشنی پر مشتمل۔ مصداق اپنے سے پیشتر موجود تورات کی اور ہدایت و نصیحت خدا ترسوں کے لیے

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور واجب ہے کہ اہل انجیل بھی فیصلہ کریں اس کے مطابق جو اللہ نے اس میں اتارا اور جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ نافرمان ہیں

تفسیر آیت 46 تا 47:۔ وَقَفَّيْنَا عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ ۠ وَاٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ فِيْهِ هُدًى وَّنُوْرٌ ۙ وَّمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَهُدًى وَّمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ۔ وَلْيَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِيْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِيْهِ ۭ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ۔ انبیاء کی باہمی مماثلت ایک علامتِ شناخت ہے : وَقَفَّيْنَا عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ۔ قیت علی اثرہ بفلان کے معنی ہوں گے، میں نے اس کو اس کے پیچھ بھیجا۔ مطلب یہ ہے کہ انہی انبیاء کے نقش قدم پر جن کا ذکر اوپر گزرا، ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو بعینہ اسی مقصد کے ساتھ آئے جس مقصد کے لیے ان کے پیشرو انبیاء آئے تھے۔ علی اثارہم کے لفظ سے انبیاء کی دعوت، ان کے مقصد، ان کے مزاج و کردار اور طریق کار کی یکسانی اور ان کی باہمی مشابہت کا اظہار ہورہا ہے۔ یہ چیز منجملہ علامت نبوت کے ہے۔ جس طرح یک ہی شجرہ طیبہ کے برگ و بار میں مماثلت ہوتی ہے کہ جو ان میں سے ایک کو پہچان گیا وہ گویا سب کو پہچان گیا۔ ان کی شناکت کے معاملے میں التباس انہی کو پیش آتا ہے جو یا تو اندھے ہوتے ہیں یا اندھے بن جاتے ہیں۔ جن کے اندر بصیرت ہوتی ہے۔ وہ کبھی دھوکا نہیں کھاتے۔ نبی اپنی دعوت سے کوئی الگ چیز نہیں : وَاٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ فِيْهِ هُدًى وَّنُوْرٌ ۙ وَّمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ۔ فیہ ھدی ونور کا جملہ چونکہ حال واقع ہوا ہے اس وجہ سے مصدقا کا عطف اسی پر موزوں ہوا۔ یہاں حضرت مسیح اور انجیل دونوں کی شان میں فرمایا ہے کہ مصدقا لما بین یدیہ من التوراۃ، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ نبی اپنی دعوت و رسالت سے کوئی الگ چیز نہیں ہوتا، دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیشینگوئی ان کے پیشو انبیا کے صحیفوں میں موجود تھی جس کی آپ کی بعثت سے تصدیق ہوئی تھی اور یہ چیز منجملہ آپ کے دلائل نبوت کے تھی۔ تیسری یہ کہ انجیل نے جہاں تک شریعت کا تعلق ہے، کوئی نئی شریعت نہیں دی ہے بلکہ یہود کی بعض بدعات کی اصلاح کے ساتھ پوری سابق شریعت کی تصدیق کردی ہے۔ انجیل دیتے وقت اہل انجیل کو ہدایت : وَلْيَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِيْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ، اوپر ہم نے جو محمل فلا تخشوا لناس واخوشان والے جملہ کا قرار دیا ہے وہی محل ہمارے نزدیک یہاں اس جلے کا ہے یعنی اہل انجیل کو انجیل دیتے وقت یہ ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے معاملات کے فیصلے کتاب اللہ کے مطابق کریں گے ورنہ وہ فاسق ٹھہرین گے۔ مقصود اس کا، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ واضھ کرنا ہے کہ خدا نے اپنی جو کتاب بھی اتاری اسی مقصد سے اتاری کہ زندگی کے معاملات و نزاعات میں لوگ اس کو حکم بنائیں۔ نہ اس لیے کہ جزودان میں لپیٹ کر بالائے طاق رکھ دیں آپس میں جو قضیے پیدا ہوں ان کو طاغوت کے پاس لے جائیں یا ان کو طے کرنے کے لیے من مانے طریقے ایجاد کریں۔ بعض لوگوں نے ولیحکم کو لیحکم بھی پڑھا ہے۔ ہمارے نزدیک قرات کے اس قس کے سارے اختلافات تاویل کے اختلاف کی ھیثیت رکھتے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنی اس قراءت سے بھی یہی بات سمجھانی چاہی ہے کہ اہل انجیل کو بھی انجیل اس لیے دی گئی تھی کہ یہ اس کی روشنی میں اپنے معاملات کے فیصلے کریں۔ اصلی فاسق : فاسق کا لفظ یہاں فقہی مفہوم میں نہیں ہے بلکہ جیسا کہ ہم مختلف مقامات میں واضح کرتے آئے ہیں، خدا سے غداری، عہد شکنی اور سرکشی کے مفہوم میں ہے۔ گویا جو لوگ جانتے بوجھتے اور آزادی و اختیار رکھتے ہوئے اللہ کے احکام و قوانین کے خلاف فیصلے کرتے اور کراتے ہیں وہ کافر، ظالم اور فاسق ٹھہریں گے۔ یہ تنبیہ اس میثاق الٰہی کا ہمیشہ سے ایک جزو لاینفک رہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے ان کو کتاب حوالہ کرتے وقت باندھا۔