Ayahs 5:97–100تفسیر آیات 97۔ 100:۔ جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِــيٰمًا لِّلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْهَدْيَ وَالْقَلَاۗىِٕدَ ۭذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۔ اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ مَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ ۭوَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَكْتُمُوْنَ۔ قُلْ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيْثِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔
تمام شعائر کے احترام کی تاکید : اوپر والی بات اصلاً شعائر الٰہی کے احترام سے تعلق رکھنے والی بات ہے اس وجہ سے اس کے بعد دوسرے معروف شعائر، بیت اللہ، شہر حرام اور ہدی اور قلائد کی بھی یاد دہانی فرمادی کہ ان کے احترام سے متعلق بھی جو ہدایات دی گئی ہیں ان کو بھی حرز جاں بناؤ۔ کسی پہلو سے ان کی حرمت میں کوئی فرق نہ آئے۔ کعبہ کی وضاحت بیت الحرام کے لفظ سے یہاں اسی پہلو کی طرف توجہ دلانے کے لیے کی گئی ہے کہ یہ خدا کا حترم ٹھہرایا ہوا گھر ہے، اس کے احترام کے حدود وقیود مقرر ہیں، ان حدود وقیود کی ہر حال میں نگہداشت رہے۔ قیاما للناس پر سورة بقرہ کی تفسیر میں مثابۃ للناس وامنا کے تحت ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں کہ ذریت ابراہیم کی تمام دینی، سیاسی اور معاشی شیرازہ بندی اسی گھر کی بدولت تھی اور بعثت نبوی کے بعد یہی گھر ہے جو تمام امت کا قبلہ اور مرکز ہے۔ " الشہر الحرام " سے مراد یہاں کوئی مخصوص مہینہ نہیں بلکہ تمام اشہر حرم کے لیے یہ بطور اسم جنس کے استعمال ہوا ہے۔ ان مہینوں کی دینی و دنیوی برکات پر ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں گفتگو کرچکے ہیں ہدی اور قلائد کی وضاحت اسی سورة کے آغاز میں ہوچکی ہے۔ ہمارے نزدیک تقدیر کلام یوں ہے۔ جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیاما للناس وا الشہر الحرام والھدی والقلائد شعائر، یعنی اللہ نے کعبہ بیت محترم کو لوگوں کے لیے مرکز اور شہر حرم، ہدی اور قلائد کو شعائر کا درجہ دیا۔ چونکہ یہ بات سایاق کلام سے بالکل واضح تھی اس وجہ سے لفظ شعائر کو حذف کردیا۔
شعائر کی حکمت : ذلک لتعلموا ان اللہ یعلم۔۔۔۔ الایۃ۔ ذلک کا اشارہ مذکورہ بالا شعائر کی طرف ہے اور یہ حکمت بیان ہوئی ہے ان شعائر کے مقرر کیے جانے کی کہ اللہ نے یہ اس لیے مقرر فرمائے ہیں کہ تمہارے اندر خدا کے فعلاً و صفتا علیم وخبیر ہونے کا عقیدہ پوری طرح راسخ ہوجائے۔ ہم اوپر آیت 94 میں لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب کے تحت اشارہ کرچکے ہیں کہ شعائر درحقیقت ابتلاء و امتحان کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ سے امتحان کرتا ہے کہ کون اس سے غیب میں رہتے ڈرتے ہیں، کون نہیں ڈرتے۔ ظاہر ہے اس امتحان میں پورے وہی اترتے ہیں اور وہی اتر سکتے ہیں جن کے اندر یہ علم راسخ ہوتا ہے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب کو خدا جانتا ہے۔ جن کے اندر یہ عقیدہ پختہ ہوتا ہے وہی ہیں جو غیب میں رہتے اور خدا سے ڈرتے ہیں اور یہی غیب میں رہتے خدا سے ڈرنا تمام خشیت وتقوی اور سارے اسلام و ایمان کی روح ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو فعلاً بھی بیان کیا ہے اور صفۃً بھی اس لیے کہ خدا کا علم ماضی، حاضر، مستقبل، ظاہر، باطن، غائب، موجود، مضمر سب پر محیط ہے اور انسان کا خدا کے علم کے متعلق یہی عقیدہ ہے جو اس کے اندر خشیت بالغیب پیدا کرتا ہے۔
تنبیہ اور بشارت : اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ یہ تنبیہ اور بشارت دونوں ساتھ ساتھ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا سے بےخوف ہو کر اس کے شعائر کی بےحرمتی کریں گے اللہ ان کو سخت سزا دے گا اور جو لوگ غیب میں رہتے اس سے ڈرتے رہیں گے اور اس کے شعائر کا کما حقہ، احترام کریں گے ان کے لیے وہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ مَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ۔۔۔ الایۃ، یہ دوسری تنبیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے رسول پر ذمہ داری صرف واضح طور پر ہماری ہدایات کو پہنچا دینے کی ہے۔ یہ فرض رسول نے ادا کردیا۔ اب آگے ذمہ داری تمہاری ہے۔ تم مانو یا نہ مانو۔ مانوگے تو اس میں تمہاری ہی بھلائی ہے، نہ مانوگے تو اس کا انجام خود دیکھوگے۔ یاد رکھو کہ جو تم ظاہر کرتے ہو خدا اس کو بھی جانتا ہے اور جو چھپاتے ہو اس سے بھی باخبر ہے۔
کسی برائی کی کثرت اس کے جواز کی دلیل نہیں ہے : قُلْ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيْثِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔
یہ بھی اسی سلسلے کی ایک تنبیہ ہے اور بہت بڑی تنبیہ ہے۔ خبیث اور طیب پر ہم دوسرے مقام میں بحث کرکے بتا چکے ہیں کہ ان کا اطلاق بری اور اچھی اشیا پر بھی ہوتا ہے اور برے اور اچھے اشخاص پر بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح ان اشیا پر بھی ہوتا ہے، جو مادی اعتبار سے بری اور اچھی ہوتی ہیں اور ان اشیا پر بھی جو عقلی اور اخلاقی اعتبار سے اچھی یا بری ہوتی ہیں۔ یہاں پیش نظر اشیا اور اشخاص دونوں ہیں لیکن جہاں تک اچھائی اور برائی کا تعلق ہے وہ صرف اخلاقی پہلو سے زیر بحث ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کے نزدیک خیر و شر، نیکی اور بدی، فسق اور تقوی، نیکوکار اور بدکار دونوں یکساں نہیں ہیں۔ خدا خیر مطلق اور سراپا حق و عدل ہے۔ اس وجہ سے وہ صرف خیر کو پسند کرتا ہے، شر کو پسند نہیں کرتا، وہ صرف طیب کو قبول فرمائے گا، خبیث کے لیے اس کے ہاں جہنم کی آگ کے سواکچھ بھی نہیں ہے۔ جو لوگ خدا کی نافرمانی اور اس کے شعائر کی توہین کرکے اپنے آپ کو خبیث بنا لیں گے، یاد رکھیں کہ خدا ان کو دوزخ میں جھونک دے گا، فوز فلاح صرف ان کو حاصل ہوگی جو خدا سے ڈرتے رہیں گے۔ اس کے احکام و شعائر کا احترام کریں گے اور اپنے آپ کو طیب و پاکیزہ نائیں گے۔ گویا یہ اوپر والے مضمون ان اللہ شدید العقاب وان اللہ غفور رحیم کی تکمیل ہے۔ اس کے بعد ولو اعجبک کثرۃ الخبیث کہہ کر اس راہ کے سب سے بڑے فتنہ سے آگاہ فرما دیا۔ وہ یہ کہ بہت سے نادانوں کے لیے کسی برائی کی کثرت نہ صرف اس کی تقلید کے لیے محرک بلکہ اس کے جواز و استحسان کی ایک دلیل بن جاتی ہے۔ جو فتنہ عام ہوجاتا ہے اور جو بدی فیشن میں داخل ہوجاتی ہے وہ اپنے دروازے بھی اس کے لیے چوپٹ کھول دیتے ہیں۔ اول تو ان کا ضمیر اسے کوئی انقباض محسوس ہی نہیں کرتا اور اگر شروع شروع میں کچھ محسوس کرتا بھی ہے تو وہ اس کو اس طفل تسلی سے مطمئن کرلیتے ہیں کہ بھلا اس زمانے میں کوئی اپنے آپ کو اس چیز سے کس طرح الگ رکھ سکتا ہے ؟ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کو حمام میں ننگا دیکھ کر وہ خود بھی ننگے ہوجاتے ہیں۔ اس طرح آہستہ آہستہ پورا معاشرہ ننگوں کا معاشرہ بن جاتا ہے اور پھر حالت یہ ہوجاتی ہے کہ شریف اور مہذب وہ نہیں کہلاتا جو کپڑے پہن کر نکلتا ہے بلکہ وہ کہلاتے ہیں جو اپنی عریانی کی نمائش کرتے یا کرتی ہیں۔ اگر ان سے ان کے اس رویہ کے جواز کی دلیل پوچھیے تو وہ اس کے حق میں جو سخن سازی بھی کریں اس کی تہہ میں صرف یہ چیز نکلے گی کہ کیا کیا جائے، یہی زمانہ کا چلن اور یہی وقت کا فتوی ہے۔ یعنی اکثریت کا عمل ان کے لیے دلیل راہ بن جاتا ہے اور دانش فروشی کی تمام لن ترانیوں کے ساتھ جس ڈگر پر سارا گلہ چل رہا ہوتا ہے وہ بھی اس پر چل پڑتے ہیں۔ قرآن کے الفاظ سے یہاں یہ بات صاف نکلتی ہے کہ اگرچہ کسی برائی کا غلبہ اور خبیث کی کثرت اپنے اندر کشش تو رکھتی ہے لیکن اس کشش سے مغلوب ہو کر جو اپنے آپ کو اس کے حوالے کردیتے ہیں وہ سب سفہا اور حمقا میں داخل ہیں، اولو الالباب اور اہل عقل وہ ہیں جو اس وبائے عام میں بھی اس کے اثرات سے محفوظ اور تقوی کی راہ پر گامزن رہتے ہیں یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں اس لیے کہ خدا کے ہاں نہ خبیث و طیب دونوں یکساں ہوں گے اور نہ خبیث اس لیے طیب بن جائے گا کہ اس کی مقدار بہت زیادہ ہے۔
Ayahs 5:101–102تفیسر آیات 101 تا 102: يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاۗءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ ۚ وَاِنْ تَسْــــَٔـلُوْا عَنْهَا حِيْنَ يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ ۭعَفَا اللّٰهُ عَنْهَا ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ۔ قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِيْنَ۔
غیر ضروری سوالوں کی ممانعت : یہ بھی برسر موقع ایک تنبیہ ہے۔ ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ اوپر ان سوالوں کے جواب دیے گئے ہیں جو ابتدائے سورة میں بیان کردہ احکام سے متعلق پیدا ہوئے یا پیدا ہوسکتے تھے۔ اب یہ تنبیہ فرمائی کہ مفید سوال تھے ان کے جواب دے دیے گئے لیکن ایسے سوال نہ کرو جن کے جواب اگر دے دیے جائیں تو تہارے مزاج اور تمہاری خواہش کے خلاف پڑنے کے سبب سے وہ تمہیں برے لگیں گے۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح فرمادی کہ یہ زمانہ نزول قرآن کا زمانہ ہے۔ یہ زمانہ بارش کے ایام سے مشابہ ہے۔ بارش کے زمانہ میں جس طرح ہر بیج اگ پڑتا ہے اسی طرح اس زمانے میں جو سول بھی کروگے اس کا جواب نازل ہوسکتا ہے۔ اس وجہ سے سوچ سمجھ کر وہی سوالات کرو جو دنیا اور آخرت میں تمہارے لیے نافع اور علم شریعت میں اضافہ کے موجب ہوں۔ غیر ضروری سوالات اٹھا کر اپنی پابندیوں میں اضافہ کی راہ نہ کھولو، خدا بخشنے والا اور بربار ہے۔ اس وجہ سے اس نے تمہارے لیے ضرورت سوالات نظر انداز کردیے ہیں۔ اگر انکے بھی جواب دے دیے جاتے تو ہوسکتا ہے کہ تم ان کو نباہ نہ پاتے اور اس طرھ اپنے ہی ہاتھوں اپنی راہ میں کانٹے بونے والے اور خدا کے غضب کو دعوت دینے والے بنتے۔
اس کے بعد بطور مثال ایک قوم کا حوالہ دیا ہے۔ مراد تو اس سے بالبداہت یہود ہیں لیکن ان کا نام نہیں لیا ہے بلکہ ان کا ذکر نکرہ کے ساتھ کیا ہے جس سے فی الجملہ اعراض اور نفرت کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ انہوں نے بھی اپنے نبی سے اسی طرح کے سوالات و مطالبات کیے لیکن جب ان کو جواب دے دیے گئے تو وہ ان کے منکر بن بیٹھے۔ ان کے سوالوں کی نوعیت سورة بقرہ میں گائے کے قصہ سے واضح ہوچکی ہے اور پچھلی سورتوں میں یہ بات بھی ہم تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں کہ درحقیقت ان کے اسی طرح کے سوالات تھے جن سے انہوں نے اپنی ان قیدوں اور پابندیوں میں اضافہ کرایا جن کو قرآن نے اصر و اغلال سے تعبیر فرمایا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اس نے غیر ضروری سوالوں کو نظر انداز فرما کر ہمیں اصر و اغلال سے بچایا ہے اور ان معاملات کو ہمارے عقل و اجتہاد پر چھوڑ دیا جن میں ہماری عقل و فطرت میں ہماری رہنمائی کے لیے کافی ہے۔ اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ یہ شریعت آخری اور کامل شریعت ہے، اس میں کوئی بات بھی معیار، سے مختلف نہیں ہوسکتی، اس لیے کہ خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں تھا جو اس کو معیار پر لاتا۔ اس کے برخلاف یہود کی شریعت میں ایک وقت شریعت تھی، اس میں اگر اصر و اغلال تھے تو وہ جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، آخری پیغمبر کے زریعہ سے دور ہوگئے۔ " قد سالہا " میں ضمیر کا مرجع مذکورہ سوال ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انہوں نے بعینہ وہی سوالات کیے جن کی طرف اوپر اشارہ ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ اس نوعیت کے سوالات کیے۔ عربی میں ضمیروں کا استعمال اس طرح بھی ہوتا ہے۔ قرآن میں اس کی نظیریں موجود ہیں۔ ہم مناسب محل میں اس پر مفصل گفتگو کریں گے۔
Ayahs 5:103–105تفسیر آیات 103 تا 105:۔ مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَاۗىِٕبَةٍ وَّلَا وَصِيْلَةٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰكِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ ۭ وَاَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ۔ وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَاۗءَنَا ۭ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يَهْتَدُوْنَ۔ يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚلَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔
غیر مشروع شعائر سے اجتناب کی ہدایت : اوپر آیت 97 میں ان چیزوں کا ذکر ہوا ہے جن کو اللہ نے شعائر کا درجہ دے کر محترم قرار دیا ہے۔ اس کے بعد چند مناسب موقع تنبیہات آگئیں۔ اب یہ ان مشرکانہ چیزوں کا ذکر ہورہا ہے جن کو مشرکین نے شعائر کا درجہ دے کر مذہبی تقدس کا جامہ پہنا رکھا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں میں سے کسی چیز کو بھی مشروع نہیں کیا تھا۔ مشرکین نے محض من گھڑت طور پر ان کو ایجاد کیا، ان کے احترام کی روایت قائم کی اور پھر اپنی ان بدعات کو اللہ کی طرف منسوب کردیا کہ اس نے ان کے احترام کا حکم دیا ہے۔ گویا مشروع کے بیان کے بعد اس کے مقابل کی غیر مشروع چیزوں کا بھی ذکر فرما دیا تاکہ مسلمان ان سے اجتناب کریں۔
" ماجعل اللہ " جعل یہاں مشروع کرنے کے معنی میں ہے۔ یعنی اللہ نے یہ چیزیں مشروع نہیں فرمائی ہیں۔ " بحیرہ " اس اونٹنی کو کہتے جس سے پانچ بچے پیدا ہوچکے ہوتے اور ان میں آخری نہ ہوتا۔ ایسی اونٹنی کے کان چیر کر اس کو آزاد چھوڑ دیتے، نہ اس پر سواری کرتے نہ اس کا دودھ دوہتے۔ " سائبۃ " اس اونٹنی کو کہتے جس کے متعلق اس کا مالک اپنی کسی بیماری میں یہ منت مانتا کہ اگر اس کو شفا ہوگئی تو وہ اس کو آزاد چھوڑ دے گا، نہ اس پر سواری کرے گا نہ اس کا دودھ دوہے گا۔ " وصیلۃ " بکری اگر مادہ جنتی تو اس کو اپنا حصہ سمجھتے، نر جنتی تو اس کو اپنے معبودوں کا حصہ سمجھتے اور اگر نر و مادہ دونوں دونوں ایک ساتھ جنتی تو اس کو وصیلہ کہتے اور ایسے نر کو بتوں کی نذر کے قابل نہ سمجھتے۔ " حام " اس سانڈ اونٹ کو کہتے جس کی صلب سے کئی پشتیں پیدای ہوچکی ہوتیں۔ ایسے سانڈ کو بھی آزاد چھوڑ دیتے۔ نہ اس پر سواری کرتے، نہ بوجھ لادتے۔
یہ سب عرب جاہلیت کی نذریں اور منتیں تھیں۔ اس قسم کے جانور آزاد چھوٹے پھرتے، جس گھاٹ سے چاہتے پانی پیتے اور جس کی چراگاہ میں چاہتے پھرتے۔ نہ ان کو مذہبی تقدس کا ایسا درجہ حاصل تھا کہ ہر شخص ان کے چھیڑنے کے وبال سے لرزہ براندام رہتا۔ قرآن نے واضح فرما دیا کہ ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ شرعی حیثیت صرف ہدی اور قلائد کی ہے۔ یہ چیزیں صرف اوہام کی ایجاد ہیں جن کو شریعت کی طرف منسوب کرنا اللہ اور اس کی شریعت پر صریح اتہام ہے۔ جو لوگ عقل سے عاری ہیں انہوں نے ان احمقانہ چیزوں کو اللہ سے نسبت دے رکھی ہے۔
وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ۔۔۔ الایۃ۔ اوپر والی آیت میں یہ جو فرمایا ہے کہ واکثرہم لایعقلون (ان میں سے اکثر ناسمجھ ہیں) یہ اس کی دلیل بیان ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ ان لا یعنی باتوں کو چھوڑ کر اللہ کی اتاری ہوئی کتاب اور رسول کے بتائے ہوئے طریقہ کی طرف آؤ تو بڑے غرے سے جواب دیتے ہیں کہ حسبنا ماوجدنا علیہ اباءنا، ہم نے اپنے باپ دادا کو جس طریقے پر پایا ہے ہمارے لیے وہی کافی ہے۔ فرمایا کہ کیا اس صورت میں بھی وہ باپ داد ہی کی روایت کو حجت بنائیں گے جب کہ ان کے باپ دادا کو نہ تو کچھ علم رہا ہو اور نہ وہ ہدایت کی راہ پر رہے ہوں ؟ یعنی کسی طرقہ کی صحت کی دلیل مجر یہ چیز تو نہیں بن سکتی کہ وہ باپ دادا سے چلا آرہا ہے، اس کے متعلق یہ معلوم کرنا بھی تو ضروری ہے کہ باپ دادا نے اس کو کسی علم اور کسی دلیل پر اختیار کیا تھا یا یونہی اختیار کرلیا تھا۔ اگر یہ تمیز غیر ضروری ہوجائے تو پھر تو یہ عقل، جو انسانیت کا وصف امتیازی ہے، بالکل فالتہ چیز بن کے رہ جائے۔
سلمانوں کو تسلی کہ تمہاری ذمہ داری صرف حق پہنچا دینے کی ہے : يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚلَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ اوپر آیات 99 میں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ کو تسلی دی تھی کہ رسول کی ذمہ داری صرف واضح طور پر حق پہنچا دینے کی ہے، اس کو قبول کرنا یا نہ کرنا لوگوں کی اپنی ذمہ داری ہے۔ جو لوگ قبول نہ کریں گے اس کی پرسش خود ان سے ہونی ہے نہ کہ رسول سے۔ اسی طرح اس آیت میں مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ جو لوگ اپنی عقل بیچ کر باپ دادا کی اندھی تقلید پر اڑ گئے ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑو، تم نے کلمہ حق پہنچا دیا، اگر وہ نہیں مانتے تو اپنا بگاڑیں گے، تہارا کچھ نہیں بگاڑیں گے، جو گمراہی کی راہ اختیار کرتا ہے وہ خود اپنی ہرزہ گردی کا انجام دیکھتا ہے۔ اس سے صحیح راہ بتانے والے کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ تم نے ان کو سنبھالنے کی کوشش کردی، اگر وہ نہیں سنبھلتے تو تم اپنی فکر کرو، ان کے غم میں پریشان نہ ہو۔ یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے۔ انعام کی آیات 15، 48، 51، 52، 69 کے تحت ہم اس پر مزید بحث کریں گے۔ بعض لوگوں کو اس سے یہ شبہ ہوا کہ مسلمانوں کو دوسروں کی ہدایت و ضلالت سے کوئی سروکار نہیں ہے، انہین بس اپنے نفس کی فکر کرنی چاہیے۔ لیکن یہ خیال قطع نظر اس سے کہ مسلمانوں کے فریضہ منصبی۔ شہادت علی الناس کے خلاف ہے۔ خود اس آیت سے بھی بالکل بےجوڑ ہے۔ اس آیت سے جو بات نکلتی ہے وہ تو یہ ہے کہ نبی ﷺ کی طرف آپ کے صحابہ بھی کفار کی حق بیاری دیکھ کر کبھی کبھی یہ خیال فرمانے لگتے کہ کہیں یہ چیز اس اور کا نتیجہ نہ ہو کہ جو فرض ابلاغ ان پر عائد ہوتا ہے اس میں کوئی کوتاہی ہو رہی ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے جس طرح پیغمبر ﷺ کو تسلی دی ہے اسی طرح صحابہ کو بھی تسلی دی کہ اس میں قصور تمہارا نہیں بلکہ یہ ان کے اپنے مزاج کا فساد ہے، تم نے اپنا فرض بخوبی انجام دے دیا، اب ان کے کفر و ایمان کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے۔ اس باب میں کوئی پرسش تم سے نہیں ہونی ہے۔
Ayah 5:106يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةُ الْمَوْتِ ۭ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَيُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِيْ بِهٖ ثَـمَنًا وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۙ وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ ۙاللّٰهِ اِنَّآ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِيْنَ۔
تمام ابواب شہادت پر میثاق : یہ بھی ایک تکیلی و اتمامی حکم ہے جس کی نوعیت ابتدائے سورة میں بیان کردہ بعض احکام کی وضاحت کی ہے۔ سورة کے شروع، آیت 8 میں مسلمانوں کو یہ ہدایت ہوئی ہے یا ایہا الذین امنوا کو نو قوامین للہ شہداء بالقسط ولا یجرمنکم شنان قوم علی ان لا تعدلو، اعدلوا ھو اقرب للتقوی واتقوا اللہ ان اللہ خبیر بما تعملون۔ وہاں، جیسا کہ ہم اس آیت کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں اس عمومی شہادت کا بیان ہے جس کی ذمہ داری اس امت پر تمام خلق سے متعلق ڈالی گئی ہے۔ اب یہ اس شہادت کا عمل مسلمانوں کے آپس کے ایک جزوی معاملہ میں بیان کر کے اس باب کی گویا تکمیل فرمائی ہے اور اس آیت کو اس شہادت کبری کے بیان کے ساتھ جوڑ دیا ہے جس کا ذکر آیت 109 سے آ رہا ہے اور جو اس عظیم سورة کا آخری مضمون ہے جس پر یہ سورة ختم ہوئی ہے۔ اس آیت کا اس مقام میں جگہ پانا ایک تو اس حقیقت کو ظاہر کررہا ہے کہ جب اس تکمیلی حکم پر میثاق لے لیا گیا تو گویا تمام ابواب شہادت پر میثاق لے لیا گیا، دوسرے اس امر کو ظاہر کر رہا ہے کہ ہرچند یہ حکم ایک جزوی حکم ہے لیکن باعتبار اپنی اصل کے یہ بھی اسی شہادت کبری کا ایک جزو ہے، جس پر انبیاء ؑ مامور ہوئے اور جس کو انہوں نے اس دنیا میں بھی انجام دیا اور جس کے لیے اللہ تعالیٰ انہیں آخرت میں بھی کھڑا کرے گا۔
شہادت وصیت سے متعلق ہدایات : يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ ، اذا حضرت احدکم الموت اور حین الوصیۃ، یہ دونون ظرف شہادۃ بینکم سے تعلق رکھتے ہیں اور اثنان ذوا عدل منکم اسی طرح کی ترکیب ہے جس طرح ولکن البر من امن باللہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کی موت کا وقت آجائے اور اسے اپنے مال سے متعلق کوئی وصیت بھی کرنی ہے تو اس کے لیے وہ مسلمانوں میں سے دو ثقہ آدمیوں کو گواہ بنا لے۔ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةُ الْمَوْتِ ، اگر کوئی شخص سفر میں ہے اور سفر ہی میں اس کو موت کا مرحلہ پیش آجاتا ہے اور گواہ بنانے کے لیے اسے دو مسلمان نہیں مل رہے ہیں تو بدرجہ مجبوری غیر مسلموں ہی میں سے دو آدمیوں کو گواہ بنا سکتا ہے۔ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَيُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِيْ بِهٖ ثَـمَنًا وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۙ وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ ۙاللّٰهِ اِنَّآ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِيْنَ ، یہ ہدایت اصلی حکم اثنان ذوا عدل منکم سے متعلق ہے۔ یعنی اپنوں میں سے جن دو معتبر گواہوں کو گواہی کے لیے منتخب کرو، اگر اندیشہ ہو کہ وہ اپنی گواہی کسی کی جانب داری میں رکھیں بدل نہ دیں تو اس کو موکد کرنے کے لیے یہ تدبیر کرسکتے ہو کہ کسی نماز کے بعد مسجد میں انہیں روک لوگ اور ان سے اللہ کے نام پر قسم لے کہ وہ اپنی گواہی کسی نفع دنیوی کی خاطر اور کسی کی جانبداری میں، خواہ وہ ان کا عزیز ہی کیوں نہ ہو بدلیں گے نہیں اور اگر وہ اس کو بدلیں تو وہ گنہگار ٹھہریں۔ من بعد الصلوۃ میں صلوۃ سے مراد کوئی مخصوص نماز نہیں بلکہ یہ لفظ اسم جنس کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ جس نماز کے بعد بھی وصیت کرنے والے کو موقع میسر آجائے، یہ کام کرسکتا ہے۔ نماز کی قید کا فائدہ یہ ہے کہ جو قول وقرار اور جو شہادت و قسم نماز کے بعد اور مسجد میں نمازیوں کی موجودگی میں انجام پائے، ایک صاحب ایمان سے توقع یہی کی جاتی ہے کہ وہ اس پر مضبوطی سے قائم رہے گا کسی ترغیب و تحریص سے اس کو بدلے گا نہیں۔ چناچہ قسموں اور معاہدوں کے باب میں زمانہ قدیم سے یہ رواج رہا ہے کہ ان کی تکمیل بالعموم معبدوں کے سامنے ہوتی۔ چونکہ اس چیز کی اثر انگیزی ایک فطری چیز ہے اس وجہ سے اسلام نے بھی اس کو اہمیت دی ہے۔ یہاں ایک شرط بھی مذکور ہے، وہ یہ کہ اگر گواہوں کے بارے میں کوئی شک ہو، تب یہ قسم لی جائے۔ اگر کوئی اندیشہ نہ ہو، گواہ ثقاہت و عدالت کے اعتبار سے ایسے مرتبہ کے ہوں کہ ان کے بارے میں کسی سوء ظن کا احتمال نہیں ہے تو خواہ مخواہ ان سے قسم لینے کی ضروت نہیں ہے۔ لانکتم شہادۃ اللہ، میں اس گواہی کو شہادۃ اللہ سے تعبیر کر کے اس کی عظمت واضح فرمائی ہے اس لیے کہ مومن کی ہر گواہی چھوٹی ہو یا بڑی کونوا قوامین للہ شہداء بالقسط کی رو سے اس عظیم فریضہ منصبی کا ایک جزو ہے جس پر اللہ نے اس کو مامور فرمایا ہے، اس میں ادنی خیانت بھی اس سے صادر ہو تو وہ صرف بندوں ہی کا خائن نہیں بنتا ہے بلکہ اپنے رب کا بھی خائن بند جاتا ہے۔
ہم نے اس قسم کو اصل حکم یعنی اس صورت سے متعلق مانا ہے جب گواہ اپنوں، مسلمانوں، میں سے ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر مسلموں کے لیے نماز، مسجد، اللہ کے نام پر قسم اور وہ بھی ان الفاظ میں کہ لانکتم شہادۃ اللہ انا اذا لمن الاثمین (ہم اس شہادت الٰہی کو چھپائیں گے نہیں، اگر ہم ایسا کریں تو ہم گنہگاروں میں سے ٹھہریں) بالکل غیر موثر چیزیں ہیں۔ اول تو وہ اپنے مذہبی جذبات کے خلاف ان باتوں کو گوارا کیوں کریں گے اور کر بھی لیں تو اس کا اثر ان پر کیا ہوگا ؟ ان کی گواہی تو ایک مجبوری کی صورت میں گوارا کی گئی ہے اور ایک شاذ حالت سے متعلق ہے۔ اس وجہ سے ان کی گواہی کی حفاظت کے لیے یہ اہتمام ایک بالکل بےجوڑ سی چیز ہے۔
Ayah 5:107فَاِنْ عُثِرَ عَلٰٓي اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّآ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ يَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِيْنَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْاَوْلَيٰنِ فَيُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَآ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَآ ڮ اِنَّآ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ۔
عثر عثرا و عثورا علی السر کے معنی ہیں وہ راز سے آگاہ ہوا۔ اولیان، ادنی کا مثنی ہے جس کے معنی احق کے ہیں، ان الی الناس بابراہیم الاولیان، یعنی الاولیا بالشہادۃ، شہادت کے زیادہ حق دار، ان سے مراد مردا وہ دونوں گواہ ہیں جو وصیت کے ابتدائی گواہ بنائے گئے۔ چونکہ اپنے منصب کے اعتبار سے گواہی کے اصل حق دار وہی ہیں۔ اس وجہ سے ان کو اولیان کے لفظ سے تعبیر فرمایا۔ یہاں اس میں اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ جب وہ اولی بالشہادۃ ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنے اس منصب کی لاج رکھیں اور کسی ایسی بدعنوانی کے مرتکب نہ ہوں کہ اولی بالشہادۃ ہوتے ہوئے بھی ان کی شہادت دوسروں کی قسم سے باطل ہوجائے۔
یہ ان گواہوں پر ایک مزید احتساب اور چیک ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ بات علم میں آئے کہ انہوں نے وصیت کرنے والے کی وصیت کے خلاف کسی کی جانب داری یا کسی کی حق تلفی کی ہے تو جن کی حق تلفی ہوئی ہے ان میں سے دو آدمی اٹھ کر قس کھائیں گے کہ ہماری گواہی ان دونوں الی بالشہادت گواہوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے۔ ہم نے ذرا بھی حق سے تجاوز نہیں کیا ہے، اگر ہم نے ایسا کیا ہو تو ہم ظالموں میں سے ٹھہریں۔
Ayah 5:108ذٰلِكَ اَدْنٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰي وَجْهِهَآ اَوْ يَخَافُوْٓا اَنْ تُرَدَّ اَيْمَانٌۢ بَعْدَ اَيْمَانِهِمْ ۭوَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاسْمَعُوْا ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۔ یہ اس احتساب کا فائدہ بتایا ہے کہ اقرب ہے کہ اس احتساب کے خیال سے وہ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں ورنہ انہیں ڈر ہوگا کہ اگر ان سے کوئی بدعنوانی صادر ہوئی تو ان کی قسمیں دوسروں کی قسموں سے باطل ہوجائیں گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن کی حق تلفی ہوئی ہے اگر وہ مذکورہ قسم کھا لیں گے تو وصیت کے اصل گواہوں کی گواہی ان کے اولی بالشہادت ہونے کے باوجود رد ہوجائے گی۔ ترد ایمان بعد ایمانکم، میں ایمان کی تنکیر اسی طرح کی ہے جس طرح نفس وجوھا میں ہے پر گفتگو ہوچکی۔ ۭوَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاسْمَعُوْا ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۔ یعنی اللہ سے ڈرو، پیغمبر کی بات مانو، جو اللہ سے نہیں ڈرتے، اور پیغمبر کی بات نہیں سنتے وہ نافرمان ہیں اور اللہ ایسے نافرمانوں کو راہ یاب نہیں کرے گا، وہ دنیا میں بھٹکتے رہیں گے اور آخرت میں اپنے انجام بد سے دوچار ہوں گے۔
Ayah 5:109يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ ۭ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا ۭاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ۔
میثاق الٰہی کی ذمہ داری دنیا اور آخرت دونوں میں : یہاں سے اس سورة کا بالکل آخری ٹکڑا شروع ہورہا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام انبیاء کو جمع کرکے ان سے پوچھے گا کہ انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو کیا تعلیم دی تھی اور ان کی امتوں نے است عملیم کے باب میں کیا رویہ اختیار کیا ؟ یہ سورة کے آخر میں گویا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ میثاق الٰہی کی ذمہ داری نبی اور امت دونوں پر عائد ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے بارے میں دونوں سے سوال ہوگا۔ آگے ذکر اگرچہ صرف سیدنا مسیح سے سوال و جواب کا ہے لیکن آنجناب کا ذکر بطور مثال ہے۔ اس مثال سے یہ واضح کردیا گیا ہے کہ اسی طرح کے سوال و جواب ہر نبی سے اس کی امت کے بارے میں ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ہر امت پر اس کے نبی کی موجودگی میں واضح فرما دے گا کہ اس نے اللہ کے عہد کے معاملے میں اپنے نبی کی تعلیم کی کیا کیا خلاف ورزیاں کی ہیں۔ مثال کے طور پر سیدنا مسیح کے انتخاب کی حکمت یہ ہے کہ وہ اسرائیلی سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہیں۔ ان کی شہادت یہود و نصاری کے لیے بھی سبق آموز ہوسکتی تھی اور اس امت کے لی بھی۔ آنحضرت کی شہادت اس مرحلہ میں اس لیے ذکر نہیں کی گئی کہ آپ کی امت ابھی دور تشکیل میں تھی۔ اس کا پورا کردار ابھی سامنے نہیں آیا تھا۔
انبیاء سے سوال ان کی امتوں کے رویہ سے متعلق : انبیاء سے سوال ان کی امتوں کے رویہ سے متعلق : ماذا اجبتم : کے سوال کا صحیح مفہوم موقع و محل سے واضح ہوتا ہے۔ انبیاء سے یہ سوال جو بیان مذکور ہے ان کے منکروں سے متعلق نہیں کیا جائے گا بلکہ، جیسا کہ واضح ہوا، ان کی امتوں سے متعلق کیا جائے گا کہ جن لوگوں کو تم نے اللہ کے عہد و میثاق میں داخل کیا ان کا رویہ اور رد عمل کیا رہا ؟ انبیاء (علیہم السلام) پر سوال کی یہ حقیقت چونکہ واضح ہوگی اس وجہ سے وہ اپنی لاعلمی کا اظہار کریں گے کیونکہ ان کا علم صرف دنیا میں اپنی موجودگی کے زمانے تک ہی محدود ہوگا اور اس سوال کے صحیح جواب کا انحصار اس امر پر ہے کہ انہیں اپنی امتوں کی بعد کی تبدیلیوں کا بھی علم ہو۔ چونکہ بعد کی تبدیلیوں کا انہیں علم نہیں ہوگا اس وجہ سے وہ اس جواب کے معاملے کو خدا ہی کی طرف تفویض کریں گے۔ آگے حضرت عیسیٰ کا ارشاد مذکور ہے۔ کنت علیہم شہیدا ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم وان تعلی کل شیء شہید (میں جب تک ان میں رہا ان پر گواہ رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ان پر نگران رہا اور تو ہر چیز پر نگران ہے)
Ayah 5:110اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِيْ عَلَيْكَ وَعَلٰي وَالِدَتِكَ ۘ اِذْ اَيَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۣ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا ۚ وَاِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ ۚ وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِاِذْنِيْ فَتَنْفُخُ فِيْهَا فَتَكُوْنُ طَيْرًۢا بِاِذْنِيْ وَتُبْرِئُ الْاَكْـمَهَ وَالْاَبْرَصَ بِاِذْنِيْ ۚ وَاِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِيْ ۚ وَاِذْ كَفَفْتُ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْن۔
یہاں حضرت عیسیٰ کے جو معجزات مذکور ہیں یہ سب اس سورة آل عمران میں بھی بیان ہوچکے ہیں، وہاں ہم ان کی وضاحت کرچکے ہیں۔ وَاِذْ كَفَفْتُ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَنْكَ ، اشارہ بنی ارائیل کی ان سازشوں کی طرف ہے جو انہوں نے سیدنا مسیح کے قتل اور سولی کے لیے کیں۔
سوالات نصاری کی فضیحت کے لیے : یہ تمام باتیں قیامت کے دن حضرت عیسیٰ کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نصاری پر حجت تمام کرنے کے لیے فرمائے گا۔ گویا حضرت عیسیٰ کی موجودگی میں نصاری پر یہ حقیقت واضح کردی جائے گی کہ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ پر جو انعام بھی ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا، انہوں نے جو معجزے بھی دکھائے سب اللہ کے اذن و حکم سے دکھائے اور یہودیوں نے ان کو جن خطرات میں ڈالا، ان سے ان کو اللہ تعالیٰ ہی نے نکالا۔ پھر جب یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے کیا اور اس کے سب سے بڑے گواہ خود عیسیٰ ہیں تو نصاریٰ بتائیں کہ انہوں نے کس کے کہنے سے ان کو خدا بنا ڈالا۔ یہاں باذنی (میرے حکم سے) کی تکرار نہایت بلیغ ہے۔ ایک ایک بات پر اللہ تعالیٰ اس کو دہرائے اور ان میں سے ہر بات پر سیدنا مسیح امنا و صدقنا ہی کہیں گے تو ظاہر ہے کہ جن معجزات کے بل پر نصاری نے حضرت عیسیٰ کو خدا بنایا جب وہ سب خدا کے اذن سے ہوئے اور اس کا اعتراف خود معجزات کا دکھانے والا ہی کرے گا تو نصاری کے حصے میں فضیحت اور رسوائی کے سوا اور کیا باقی رہ جائے گا۔
Ayahs 5:111–115تفسیر آیات 111 تا 115:۔ وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِيْ وَبِرَسُوْلِيْ ۚ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ۔ اِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ ۭ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔ قَالُوْا نُرِيْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَىِٕنَّ قُلُوْبُنَا وَنَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُوْنَ عَلَيْهَا مِنَ الشّٰهِدِيْنَ۔ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ تَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّنْكَ ۚ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ۔ قَالَ اللّٰهُ اِنِّىْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّىْٓ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُهٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ۔
حواریین کو زیر بحث لانے کی حکت : " وحی " کا لفظ یہاں اصطلاح معنی میں نہیں، بلکہ لغوی معنی میں ہے۔ یعنی دل میں کوئی ارادہ ڈالنا۔ " حواری " کے لفظ پر دوسرے مقام میں بحث ہوچکی ہے۔ یہی حواریین ہیں جو پوری قوم کے اندر سے حضرت عیسیٰ پر ایمان لائے، انہی نے دعوت کے کام میں آپ کی مدد کی اور انہی کو آنجناب کے خلفا کی حیثیت حاصل ہوئی۔ ان کی اس اہمیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے سامنے بھی وہ حقائق پیش کرے گا جن سے نصاری پر حجت پوری ہوگی۔ اس اتمام حجت کے چند پہلو یہاں ذکر کیے جاتے ہیں۔
ایک یہ کہ حواریین نے جس دین کو قبول کیا وہ نصرانیت و مجوسیت نہیں بلکہ اسلام ہے۔ دوسرا یہ حواریین حضرت عیسیٰ کو عیسیٰ بن مریم کہتے تھے، ان کی الوہیت کا کوئی تصور ان کے ذہن میں نہیں تھا۔ وہا للہ تعالیٰ ہی کو حضرت عیسیٰ اور تمام کائنات کا رب مانتے تھے۔
نزول مائدہ کی دعا کا مقصد : تیسرا یہ کہ وہ حضرت عیسیٰ کو بالذات معجزات کا دکھانے والا نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کو صرف ان کے ظہور کا ایک ذریعہ سمجھتے تھے، چناچہ انہوں نے مائدہ کے اتارے جانے کے لیے جو درخواست کی وہ حضرت عیسیٰ سے نہیں کی کہ آپ ہمارے لیے مائدہ اتاریں بلکہ یہ درخواست کی کہ اگر یہ بات آپ کے خداوند کی حکت کے خلاف نہ ہو تو آپ اس سے درخواست کیجیے کہ وہ ہمارے لیے مائد اتارے تاکہ اس سے ہمارے دلوں کو طمانیت حاصل ہو۔
جب یہ ساری باتیں سیدنا مسیح، حواریین اور نصاری کی موجودگی میں سامنے آئیں گی تو اس وقت وہ سارے جھوٹ آشکارا ہوجائیں گے جو مسیحیوں نے حضرت مسیح یا حواریین پر باندھے ہیں اور جن کے ذریعہ سے اپنی بدعات میں ان کو ملوث کیا ہے۔
سوال خدا کی قدرت سے متعلق نہیں اس کی حکمت سے متعلق ہے : ھل یستطیع ربک کے سوال کے باب میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حواریین کا سوال خدا کی قدرت سے متعلق نہیں بلکہ اس کی حکمت سے متعلق تھا کہ اس قسم کی کھلی ہوئی نشانی دکھانا اس کی حکمت کے مطابق بھی ہوگا یا نہیں ؟ حواریین با ایمان لوگ تھے، وہ اس حقیقت سے بیخبر نہیں ہوسکتے تھے کہ ان کی یہ درخواست مشابہ ہے اس مطابہ سے جو بنی اسرائیل نے خدا کو دیکھنے کے لیے کیا تھا جس کے نتیجہ میں ان کو کڑک نے آدبوچا تھا۔ معجزات ہرچند خارق عادت ہوتے ہیں تاہم وہ اسباب کے پردے ہی میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ تمام پردے اٹھا دیے جائیں۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے مطالبات کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں فرمائی جن میں خواہش ان حدود سے متجاوز ہوجائے جو معجزات کے ظہور کے لیے سنت اللہ میں مقرر ہیں۔ چناچہ حضرت مسیح نے بھی اس سے روکا اور جب حواریین کی دوبارہ درخواست پر اس کے لیے درخواست فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے اس درخواست کو پسند نہیں فرمایا بلکہ ارشاد ہوا کہ اتارنے کو تو میں مائدہ اتار دوں گا لیکن یاد رکھو کہ جو لوگ اتنی کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد کفر میں مبتلا ہوں گے ان کو سزا بھی وہ دوں گا جو کسی اور کو نہ دوں گا۔ معلوم ہوتا ہے اس کے بعد حواریین اپنی اس درخواست سے باز آگئے۔ اہل تاویل میں سے بھی ایک گروہ کا یہی خیال ہے کہ اس کا نزول نہیں ہوا۔ انجیلوں میں بھی اس کا ذکر نہیں ہے۔
Ayahs 5:116–118تفسیر آیات 116 تا 118:۔ وَاِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰــهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ ۤ بِحَقٍّ ڲ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ ۭ تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِكَ ۭاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ۔ مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِيْ بِهٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ ۭواَنْتَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ۔ اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔
نصاری کی رسوائی آخرت میں : وَاِذْ قَالَ اللّٰهُ۔۔۔ الایۃ اوپر جو باتیں مذکور ہوئی ہیں مقصود ان کے ذکر سے بھی اگرچہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، نصاری کی تفضیح ہے لیکن وہ تفضیح بالواسطہ ہے۔ اب یہ اس سوال کا ذکر آ رہا ہے جو اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ سے نصاری کی اصل گمراہی کے بارے میں پوچھے گا کہ کیا تم نے نصاری کو یہ تعلیم دی تھی کہ اللہ کے سوا مجھ کو اور میری ماں کو بھی معبود بناؤ۔ حضرت عیسیٰ جواب میں فرمائیں گے کہ بھلا میں ایسی بات زبان سے کس طرح نکال سکتا تھا جس کا مجھے کوئی حق نہیں تھا، نہ تو تو نے یہ کہنے کا مجھے مجاز کیا تھا، نہ دنیا کی خلق و تدبیر میں میری کوئی حصہ داری تھی کہ میں اس کا مدعی نتا۔ مقصود اس سوال و جواب سے یہ ہوگا کہ نصاری جنہوں نے حضرت مسیح اور ان کی والدہ کو خدا شریک بنایا، بھرے مجمع میں پوری طرح رسوا ہوں۔ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبَّكُمْ ، کے ٹکڑے پر آل عمران کی تفسیر میں ہم گفتگو کرچکے ہیں کہ یہ در اصل صحیح تعبیر ہے سیدنا مسیح کے ارشاد " میرا باپ اور تمہارا باپ " کی اس کو وہاں دیکھیے۔ ۚ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ، شہید یہاں نگران کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں جب تک ان میں موجود رہا، اس وقت تک تو میں دیکھتا رہا کہ وہ کیا بنا رہے ہیں لیکن جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو مجھے کچھ پتہ نہیں کہ انہوں نے کیا بنایا اور کی بگاڑا۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ ماذا اجبتم کے سوال کا یہی پہلو جس کی بنا پر انبیاء (علیہم السلام) اپنی لا علمی کا اظہار فرمائے گے۔
نصاری کی شفاعت سے سیدنا مسیح کی براءت : اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ۔۔۔ الایۃ۔ سیدنا مسیح کے اس فقرے کی بلاغت کی تعبیر نہیں ہوسکتی۔ بظاہر دل چاہتا ہے کہ فقرہ یوں ہوتا ان تغفر لہم فانہم عباد وان تعذبہم فانک انت العزیز الحکیم : لیکن اگر یوں ہوتا تو نہایت واضح الفاظ میں نصاری کے لیے شفاعت بن جاتا اور انبیاء علیہم السلا کے متعلق یہ معلوم ہے کہ وہ مشرکین کے لیے سفارش نہیں فرمائیں گے۔ اس وجہ سے سیدنا مسیح بات ایسے اسلوب میں فرمائیں گے کہ بات سچی بھی ہو، دربار الٰہی کے شایان شان بھی ہو، دربار الٰہی کے شایان شان بھی ہو، دردمندانہ بھی ہو، اور ان پر اس سے مشرکین و محرفین دین کی سفارش کی کوئی ذمہ داری بھی عائد نہ ہو۔ چناچہ اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔ کے الفاظ پر غور فرمائیے تو معلوم ہوگا کہ اس فقرے میں وہ تمام خوبیاں بھی موجود ہیں جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا اور ساتھ ہی یہ پہلو بھی موجود ہے کہ سیدنا مسیح اپنے آپ کو ان کی شفاعت کی ذمہ داری سے بری کرلیں گے۔
Ayahs 5:119–120تفسیر آیات 119 تا 120:۔ قَالَ اللّٰهُ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ ۭ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ۭ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۔ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا فِيْهِنَّ ۭ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ
" صدق " کے لفظ پر ہم آل عمران آیات 17 کی تفسیر میں بحث کرچکے ہیں۔ یہاں " صادقین " سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے اپنے قول وقرار اور عہد و میثاق میں پورے راست باز ثابت ہوئے، اس میں انہوں نے کوئی تبدیلی اور تحریف نہیں کی، زندگی کے تمام نشیب و فراز میں عزم و جزم کے ساتھ اللہ کی شریعت پر قائم رہے۔ من المومنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ (اور مومنین میں وہ مردانِ کار بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے باندھے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا)۔
راست بازوں کی کامرانیوں کا دن : مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ آج کا دن تو راست بازوں کی فتح مندیوں اور کامرانیوں کے ظہور کا دن ہے۔ بد عہدوں، خائنوں، اور جھوٹی آرازوؤں میں زنگی گزارنے والوں کے لیے آج حسرت و نامرادی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ جنہوں نے اللہ کے ساتھ اپنے عہد اخلاص و سچائی کے ساتھ پورے کیے ہیں ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یعنی ان کے رب نے جو کچھ ان سے چاہا انہوں نے اس کی رضا کے مطابق وہ پورا کر دکھایا اور انہوں نے اپنے رب سے جو امیدیں کیں ان کی توقعات اور ان کے تصورات سے ہزاروں لاکھوں درجہ اوپر وہ پوری ہوگئیں۔ فرمایا کہ اصلی بڑی کامیابی یہی ہے۔ آسمانوں اور زمین جو کچھ ان کے اندر ہے سب کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
یہ اس سورة کی تفسیر کی آخری سطریں ہیں جو سپرد قرطاس ہوئیں۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔