Ayah 5:27آگے کا مضمون۔ آیات 27 تا 31:۔ آگے آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بیان ہوا ہے۔ یہ قصہ یوں مذکور تو تورات میں بھی ہے لیکن تورات کے عام انداز کے مطابق، اس کی نوعیت بس نسل آدم کی ابتدائی تاریخ کے ایک قصے کی ہے۔ اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس کے اندر وہ کیا حکمت و موعظت ہے جس کے لیے یہ قصہ بیان ہوا ہے۔ قرآن نے اس کو اس کی حکمت و موعظت کے ساتھ بیان فرمایا اور اس کے ان حصوں کو بھی واضح کیا جو تورات کے راویوں نے ضائع کردیے تھے حالانکہ وہ سبق آموزی کے لیے نہایت ضروری تھے۔ یہ قصہ یہاں قرآن میں جن حقائق کو واضح کرنے کے لیے بیان ہوا ہے ان کی تفصیل تو آیات کی تفسیر کے ضمن میں آئے گی۔ لیکن چند اصولی باتوں کی طرف ہم یہاں بھی اشارہ کیے دیتے ہیں تاکہ سلسلہ کلام سمجھ میں آجائے۔
سب سے پہلے تو یہ حقیقت اس سے واضح ہوتی ہے کہ عہد الٰہی پر قائم رہنے کے لیے مقدم شے یہ ہے کہ آدمی کے اندر خدا کا ایسا خوف ہو جو سخت سے سخت آزمائش کے موقع پر بھی اس کے قدم راہ حق پر استوار رکھے۔ دوسری یہ کہ نقض عہد کا باعث وہ فاسد جذبات ہیں جو شیطان کی انگیخت سے پیدا ہوتے ہیں اور بالآخر وہ انسان کو ایسے جرائم پر آمادہ کردیتے ہیں جو عہد الٰہی کے بالکل منافی ہوتے ہیں۔ تیسری یہ کہ جس طرح اللہ کے نیک بندے، یوشع اور کالب، عام فساد اخلاق و کردار کے باوجود اللہ کے عہد پر استوار رہے، انہوں نے اپنی جان کی پروا نہیں کی، اسی طرح اللہ کے نیک بندے۔ ہابیل۔ نے اپنے بھائی قابیل کے ظلم وتعدی کے مقابل میں اپنے آپ کو حق و وعدل پر استوار رکھا اور قابیل کی دشمنی اس کو حق و عدل سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ یہاں تک کہ اسی حق و عدل کی حفاظت میں انہوں نے اپنی جان قربان کردی۔ ، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ لایجرمنکم شنا قوم علی ان لا تعدلوا اعدلوا ھو اقرب للتقوی اور کو ناقوامین للہ شہداء بالقسط کے علمبرداروں کی تاریخ نہایت قدیم ہے۔ اس راہ کا سب سے پہلا شہید آدم کا بیٹا ہابیل ہے جس نے اپنے عمل سے بعد کی نسلوں کے لیے یہ زندہ جاوید مثال قائم کی کہ حق پر مرجانا باطل پر زندہ رہنے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ چوتھی یہ کہ خدا پر ایمان، خد ا کی عبادت، عبادت کے لیے اخلاص وتقوی کی شرط، عدل کا تصور قتل نفس کا جرم ہونا، جنت اور دوزخ کا عقیدہ، یہ سب چیزیں انسان کی ابتدائے آفرینش ہی سے اس کو تعلیم ہوئی ہیں۔ ان کا عہد جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر نبی اور اس کی امت سے لیا ہے اسی طرح آدم اور ان کی ذریت سے بھی لیا تھا۔ اس سے ان لوگوں کے خیال کی پوری پوری تردید ہورہی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ابتدائی انسان حق و عدل کے ان تصورات سے بالکل خالی تھا جو اب اس کے اندر پائے جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان ایک طویل فکر و اخلاق سفر ارتقا کے بعد ان تصورات تک پہنچا ہے، پہلے وہ ان چیزوں سے بالکل محروم تھا۔ ہم اس خیال کے باطل ہونے پر دوسرے مقام میں تفصیل کے ساتھ بحث کرچکے ہیں۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے :
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ ۘاِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ ۭ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ ۭ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ۔
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ ، علیہم میں ضمیر کا مرجع اہل کتاب بالخصوص یہود ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے۔ اگرچہ واقعے میں جو موعظت و نصیحت ہے وہ عام ہے، وہ جس طرح یہود کے لیے سبق آموز ہے اسی طرح اس امت کے لیے بھی ہے، چناچہ ایک حدیث میں ہے بھی کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ آدم کے دونوں بیٹوں کا واقعہ اس امت کے لیے بطور مثال بیان ہوا ہے تو ان میں سے اچھے کی مثال کی پیروی کرو۔ تاہم اس کا براہ راست خطاب یہود ہی سے کیونکہ یہود نے اس امت کے معاملے میں بالکل وہی روش اختیار کی جو قابیل نے ہابیل کے معاملے میں اختیار کی۔ جس طرح ہابیل کی عنداللہ مقبولیت سے قابیل پر حسد کا بخار جو چڑھا تو وہ حق و عدل کا خون کر کے اترا، اسی طرح یہود نے جب اس امت پر رب کی نوازش دیکھی تو وہ حسد کے جنون میں ایسے بوکھلائے کہ بدبختی و شقاوت کی آخری حد کو پہنچ گئے۔ " نبا " کسی اہم حادثے اور واقعے کی خبر کو کہتے ہیں۔ چونکہ یہ واقعہ اس آسمان کے نیچے، عدل و ظلم، وفاداری و عہدشکنی، خدا خوفی اور تعدی کی کشمکش کا سب سے پہلا واقعہ ہے اور بالکل پہلی بار خدا کی اس زمین پر حق کی راہ میں ایک حق پرست کا خون ناحق بہا، اسی وجہ سے قرآن نے اس کو " نبا " سے تعبیر فرمایا تاکہ اس کی اہمیت واضح ہوسکے۔ " بالحق " سے مقصود جیسا کہ دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، ٹھیک ٹھیک اور حکمت و موعظت کے پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے سنان ہے۔ واقعات اگر محض داستان سرائی کے لیے بیان کیے جائیں تو یہ ایک کار عبث ہے۔ ان کے بیان کا نفع صرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب وہ اس حکمت و موعظت کے ساتھ بیان کیے جائیں جو ان کے اندر مضمر ہے اور ٹھیک ٹھیک بیان کیے جائیں۔ تورات میں یہ مصیبت ہے کہ نہ تو واقعات ٹھیک ٹھیک بیان ہوئے ہیں اور ان سے وہ حکمت و نصیحت ہی واضح ہوتی ہے جو واضح ہونی چاہیے۔ یہی حال ہماری بیشتر تاریخ کی کتابوں کا ہے جس کے سبب سے تاریخ کا فن ایک بالکل بیکار فن بن کے رہ گیا ہے۔ ہم مذکورہ واقعہ یہاں تورات سے نقل کرتے ہیں۔ اس کو پڑھیے اور پھر قرآن کے بیان سے مقابلہ کر کے دیکھیے تو اس سے خود اندازہ ہوجائے گا کہ بالحق بیان کرنے کا مقصد کیا ہے۔ تورات میں یہ واقعہ یوں بیان ہوا ہے۔
ہابیل اور قابیل کا قصہ تورات میں : " اور آدم اپنی بیوی حوّا کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی اور اس کے قائین پیدا ہوا۔ تب اس نے کہا مجھے خداوند سے ایک مرد ملا۔ پھر قائین کا بھائی ہابل پیدا ہوا۔ اور ہابل بھیڑ بکریوں کا چرواہا اور قائین کسان تھا۔ چند روز کے بعد یوں ہوا کہ قائین اپنے کھیت کے پھل کا ہدیہ خداوند کے واسطے لایا اور ہابل بھی اپنی بھیڑ بکریوں کے کچھ پہلوٹھے بچوں کا اور کچھ ان کی چربی کا ہدیہ لایا اور خداوند نے ہابل اور اس کے ہدیے کو منظور کیا۔ پر قائین کو اور اس کے ہدیے کو منظور نہ کیا۔ اس لیے قائین نہایت غضب ناک ہوا اور اس کا منہ بگڑا اور خداوند نے قائین سے کہا تو کیوں غضب ناک ہوا ؟ اور تیرا منہ کیوں بگڑا ہوا ہے ؟ اگر تو بھلا کرے تو کیا تو مقبول نہ ہوگا ؟ اور اگر تو بھلا نہ کرے تو گناہ دروازے پر دبکا بیٹھا ہے اور تیرا مشتاق ہے پر تو اس پر غالب آ۔ اور قائین نے اپنے بھائی ہابل کو کچھ کہا اور جب وہ دونوں کھیت میں تھے تو یوں ہوا کہ قائین نے اپنے بھائی ہابل پر حملہ کیا اور اسے قتل کرڈالا۔ تب خداوند نے قائین سے کہا کہ تیرا بھائی ہابل کہاں ہے ؟ اس نے کہا مجھے معلومن نہیں، کیا میں اپنے بھائی کا محافظ ہوں ؟ پرھ اس نے کہ تو نے یہ کیا کیا ؟ تیرے بھائی کا خون زمین سے مجھ کو پکارتا ہے۔ اور اب تو زمین کی طرف سے لعنتی ہوا جس نے اپنا منہ پسارا کہ تیرے ہاتھ سے تیرے بھائی کا خون لے۔ جب تو زمین کو جوتے گا تو اب وہ تجھے اپنی پیداوار نہ دے گی اور زمین پر تو خانہ خراب اور آوارہ ہوگا " (کتاب پیدائش باب 4۔ 1۔ 12)
قرآن اور تورات کے بیان میں واضح فرق : یہ بیان قرآن کے بیان سے یوں تو کئی پہلوؤں سے مختلف ہے۔ اگر ہمیں اپنے دائرہ بحث سے ہٹ جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم ان کی طرف اشارہ کرتے لیکن ایک چیز تو ایسی واضح ہے کہ بالکل پہلی ہی نظر میں سامنے آتی ہے۔ تورات میں ہابیل کے کردار کے وہ سارے پہلو غائب ہیں جو اس سرگزشت کی جان اور تمام عالم انسانی کے لیے نمونہ اور مثال ہیں۔ قرآن نے چونکہ اس سرگزشت کو " بالح " پیش کیا ہے۔ اس وجہ سے ان پہلوؤں کو اس نے اچھی طرح نمایاں کیا ہے اور ہر انصاف پسند اعتراف کرے گا کہ ان کے نمایاں ہونے سے ہابیل کی سرگزشت نے قائمین بالقسط کے سلسلۃ الذہب کی بالکل پہلی کڑی کی حیثیت حاصل کرلی۔ قابیل کا کردار بھی تورات میں بالکل ادھورا پیش کیا گیا ہے۔ آگے آپ دیکھیں گے کہ قرآن نے اس کے کردار کے بعض ایسے گوشے بےنقاب کیے ہیں جو شریعت الٰہی کے بعض احکام کی حکمت و مصلحت سمجھنے کے لیے ضروری ہیں۔ اس نظر سے دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ وہی باتیں تورات کے ذخیرے میں بالکل خزف ریزوں کی شکل میں ہیں قرآن میں آکر جواہرات کی طرح چمک اٹھی ہیں۔
قابیل کی قربانی کی عدم قبولیت : اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ۔ " قربان " کا لفظ صدقہ اور قربانی دونوں کے لیے آتا ہے۔ جو چیز بھی اللہ کے حضور بقصد قرب الٰہی پیش کی جائے وہ قربان ہے۔ یہاں قرآن نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ ہابیل اور قابیل کو قبولیت اور عدم قبولیت کا پتہ کس طرح چلا اس لیے کہ یہ وضاحت قرآن کے پیش نظر مقصد کے لحاظ سے غیر ضروری تھی۔ لیکن تورات کے مذکور بالا بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی خبر خداوند نے دی تھی۔ خدوند کی بات سننے اور جاننے کا ایک ذریعہ ہاتف غیب بھی ہے۔ تورات میں اس کا ذکر بہت سے مقامات میں آیا ہے۔
قابیل پر حسد کا دورہ : قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ : قابیل کو یہ جان کو کہ اس کی قربانی قبول نہیں ہوئی بجائے اس کے کہ اپنی نیت کے کھوٹ کی طرف توجہ ہوتی، غصہ ہابیل پر آیا کہ اس کی قربانی کیوں قبول ہوئی۔ حالانکہ اس کی قربانی قبول نہ ہونے میں ہابیل کا کوئی دخل نہیں تھا بلکہ اس میں سارا قصور خود اس کا اپنا تھا لیکن جب آدمی پر حسد کا دورہ پڑتا ہے تو اس کو اپنی نالائقیاں نظر نہیں آتیں بلکہ وہ اپنی تمام ناکامیوں کے اسباب دوسروں کے اندر ڈھونڈتا ہے اور اس غصے میں ان کے درپئے انتقام و آزار ہوجاتا ہے۔ افراد میں اس بدبختانہ کردار کی سب سے پہلے مثال قابیل نے پیش کی ہے اور اقوام میں ٰہود نے، اسی وجہ سے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ سرگزشت یہود کو سنائی گئی ہے کہ اس آئینے میں وہ ذرا اپنے منہ دیکھ لیں کہ آج بھی ہابیل و قابیل کا وہی قصہ دہرایا جا رہا ہے جو بہت پہلے پیش آچکا ہے اور جس کی روایت بھی دنیا کو یہود ہی کے واسطے سے پہنچی ہے۔
ہابیل کی زبان سے فلسفہ قرآنی کا بیان : اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ۔ یہ ہابیل کی زبان سے وہی حکمت بیان ہوئی ہے جو قرآن میں " لن ینال اللہ لحومہا ولا دماء ہا ولکن ینالہ التقوی منکم، کے الفاظ سے بیان ہوئی ہے۔ یہ بات ہابیل نے قابیل کو اصل حقیقت کی طرف توجہ دلانے کے لیے کہی۔ مطلب یہ ہے کہ تم اس غصے میں کہ تمہاری قربانی قبول نہیں ہوئی میرے قتل کے درپے ہوگئے ہو حالانکہ اس میں نہ قصور میرا ہے، نہ خداوند کا ہے بلکہ سراسر قصور تمہارا اور تمہاری قربانی کا ہے۔ خداوند کے ہاں قربانی درخور قبول وہ ٹھہرتی ہے جو خدا سے ڈرنے والے بندے قربانی کے آداب و شرائط کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ یہ ضابطہ جس طرح تمہارے لیے ہے اسی طرح میرے لیے بھی ہے تو قربانی رد ہونے کا غم و غصہ ہے تو فکر تقوی کی کرو، نہ کہ میرے قتل کرنے کی میرے قتل کرنے سے تمہاری قربانی کی قبولیت کی راہ کس طرح کھلے گی۔
Ayah 5:28لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِيْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ ۚ اِنِّىْٓ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ۔
قابیل کے ارادہ قتل کے مقابل میں ہابیل کا مومنانہ رویہ : بسط ید کے معنی ہاتھ بڑھانے اور دست درازی کرنے کے ہیں۔ یہاں بارادۂ قتل ہاتھ بڑھانے کا ذکر ہے اس وجہ سے اس کے معنی اقدامِ قتل کے ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم، جیسا کہ دھمکی دے رہے ہو، میرے قتل کے لیے اقدام کرنا چاہتے ہو تو میں یہ فرض کر کے کہ تم میرے قتل کے درپے ہو، تمہارے قتل کے لیے پہل کرنے والا نہیں ہوں۔ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں جس نے مجھ کو اور تم کو دونوں کو پیدا کیا ہے، اور جس نے ایک دوسرے کے جان و مال کے احترام کی ہدایت فرمائی ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ یہاں کھلے ہوئے دینی دشمن کے ساتھ میدانِ جنگ میں مقابلے کی صورت نہیں بلکہ بھائی اور بھائی کا معاملہ ہے۔ ایک بھائی دوسرے بھائی کو قتل کی دھمکی دے رہا ہے۔ اس صورت میں صحیح مومنانہ رویہ یہی ہے کہ آدمی یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا کوئی بھائی اس کے قتل کے درپے ہے اس کے قتل کے لیے پہل نہ کرے۔ لیکن پہل نہ کرے، یہ نہیں کہ اپنا بچاؤ بھی نہ کرے۔ ہابیل نے پہل کرنے کی نفی کے ہے، بچاؤ کی نفی نہیں کی ہے۔ اپنی جان یا اپنے مال کی مدافعت کرنا خوفِ خدا کے منافی بات نہیں ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ ایک شخص اگر مجھ سے میرا مال چھیننا چاہتا ہے تو میں اس کے ساتھ کیا معاملہ کروں ؟ ارشاد ہوا اس کو خدا کا خوف دلاؤ، سائل نے کہا، اگر وہ خدا کا خوف نہ مانے، ارشاد ہوا اپنے گردوپیش کے مسلمانوں سے اس کے مقابلے کے لیے مدد چاہو، سائل نے کہا اگر حکومت کے ذمہ اور بھی دور ہوں۔ ارشاد ہوا اپنے مال کی حفاظت کے لیے لڑو تاآنکہ اپنے مال کو بچالو یا شہید ہوجاؤ۔
Ayah 5:29اِنِّىْٓ اُرِيْدُ اَنْ تَبُوْۗاَ بِاِثْمِيْ وَاِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ۚ وَذٰلِكَ جَزٰۗؤُا الظّٰلِمِيْنَ۔
" باثمی " و " اثمک " کا مفہوم : " باثمی و اثمک " دونوں میں مضاف محذوف ہے یعنی میں تمہارے قتل میں پہل اس لیے نہیں کرنا چاہتا کہ میں کوئی بارِ گناہ اپنے سر لیے ہوئے اپنے رب کی طرف پلٹنا نہیں چاہتا۔ اگر تم اس جرم کے لیے پہل کرنا چاہتے ہو تو کرو۔ اگر تم مجھے قتل کردوگے تو میرے قتل کا بار گناہ بھی تمہارے سر ہوگا اور میری طرف سے مدافعت کے نتیجے میں اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچ گیا یا تم قتل ہوگئے تو اس کا بار گناہ بھی تمہارے ہی سر ہوگا، اس لیے کہ اس کا سبب میں نہیں بلکہ تمہی ہوگے۔ یہ اس اصول عدل کی طرف اشارہ ہے جو ایک حدیث میں " فعلی البادی مالم یعد الظلوم " کے الفاظ سے بیان ہوا ہے یعنی اگر مظلوم نے کوئی زیادتی نہیں کی ہے تو جو کچھ اسے اپنی عزت کی حفاظت کے لیے کرنا پڑے اس کا بار گناہ پہل کرنے والے پر ہے۔ " باثمی " کے ساتھ " باثمک " مماثلت کے اس اصول پر فرمایا ہے جو عربی زبان میں نہایت معروف ہے۔ مثلاً دناھم کما دانوا، یا جزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا۔
قتلِ مومن کی سزا جہنم : فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ وَذٰلِكَ جَزٰؤُا الظّٰلِمِيْن، قتل مومن، جب کہ عمداً ہو، کی سزا جہنم ہے۔ اس مسئلے پر سورة نساء کی آیت 82 کے تحت تفصیل سے ہم لکھ چکے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جرم کی سزا ابتدا سے شریعت الٰہی میں یہی معروف ہے۔
Ayahs 5:30–3130۔ 31:۔ فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِيْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۔ فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبْحَثُ فِي الْاَرْضِ لِيُرِيَهٗ كَيْفَ يُوَارِيْ سَوْءَةَ اَخِيْهِ ۭ قَالَ يٰوَيْلَتٰٓى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِيَ سَوْءَةَ اَخِيْ ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِيْنَ۔
قابیل کی نامرادی : فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِيْهِ ، کے معنی ہوں گے اس کے نفس نے اس کو بالآخر اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر ہی لیا۔ اس اسلوب بیان سے اس اندرونی کشمکش کا اظہار ہورہا ہے جو اول اول اس ارادۂ قتل سے اس کے اندر پیدا ہوئی۔ انسان کے اندر قدرت نے ایک نفس لوّامہ ودیعت فرمایا ہے جو اس وقت تک کسی ارادۂ جرم کے خلاف احتجاج کرتا ہے جب تک مختلف تاویلوں اور بہانوں سے آدمی اس کی زبان بند نہ کردے۔ قابیل کو بھی اس مرحلے سے گزرنا پڑا لیکن بالآخر اس کے حسد نے اس کو اس ہولناک جرم پر آمادہ کر ہی لیا۔ ابتداء ہر مجرم کو یہ جھجک پیش آتی ہے لیکن جب وہ جرم پر جرم کیے چلا جاتا ہے تو اس کا نفس لوّامہ یا بالفاظ دیگر اس کا ضمیر بالکل مردہ ہوجاتا ہے اور وہ جرائم کے لیے بالکل بےباک ہوجاتا ہے۔ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ، میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح کی ہر کشمکش انسان کے سامنے آزمائش کا ایک میدان کھولتی ہے جس میں اس کے لیے نامرادی اور فتحمندی دونوں کا امکان موجود ہوتا ہے۔ اگر انسان اس کشمکش میں اپنے نفس کو زیر کرلے تو وہ فتحمند رہتا ہے اور اس کا نفس شکست کھا جاتا ہے اور اگر نفس اس کو زیر کرلے تو اس کا نفس فتحمند رہتا ہے اور وہ خود نامراد ہوجاتا ہے۔ قابیل پر اس کا نفس غالب آگیا اس وجہ سے وہ نامراد ہوا۔
شیطان کوّے کے بھیس میں : فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا۔۔۔ الایۃ : قتل کے بعد قابیل نے، معلوم ہوتا ہے، اپنے بھائی کی لاش یوں پڑی چھوڑ دی تھی، اس کو چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ اتنے میں ایک کوّا نمودار ہوا۔ کوّا بڑا سیانا ہوتا ہے۔ اس کی عادت ہے کہ جب وہ کوئی کھانے کی چیز اچکتا ہے اور بروقت اس کو کھانا نہیں چاہتا تو زمین کرید کر یا کسی چیز کے نیچے اس کو ضرورت کے وقت کے لیے چھپا رکھتا ہے۔ اس کوے نے بھی قابیل کے سامنے یہی نمائز کی اور اس طرح گویا اس کو رہنمائی دی کہ وہ بھی اسی طرح اپنے بھائی کی لاش چھپا دے کہ دوسروں کی نظر نہ پڑے اور اس کا جرم افشا نہ ہو۔ کوّکے اس سیانے پن کو دیکھ کر قابیل نے اپنا سر پیٹ لیا کہ اہئے میری بدبختی کہ میں کوّوے بھی گیا گزرا ثابت ہوا کہ یہ تدبیر مجھے نہ سوجھی کہ میں بھی اسی طرح بھائی کی لاش کو ڈھانک دیتا۔ چناچہ انی اس بےوقوفی پر اس کو بڑی ندامت ہوئی۔
قرآن نے اس ٹکڑے سے یہ نمایاں کیا ہے کہ جو خدا سے نہیں ڈرتے وہ خلق سے ڈرتے اور جو خدا کے حکم اور ضمیر کی آواز کی پروا نہیں کرتے وہ کوّے سے الہام حاصل کرتے اور جرم کرنے کے بعد اعتراف اور ندامت کے بجائے اس کو چپھانے کی تدبیریں کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ کوا شیطان کی مثال ہے۔ شیطان نے پہلے تو قابیل کے نفس کے اندر وسوسہ اندازی کر کے اس کو بھائی کے قتل پر آمادہ کیا اور جب وہ یہ جرم کر گزرا تو کوّے کے واسطے سے اس کو جرم کے چھپانے کی تدبیر سجھائی اور اس طرح اولادِ آدم کو گمراہ کرنے کی جو قسم اس نے کھائی تھی اس کی تکمیل کی راہ میں ایک نہایت کامیاب قدم اس نے اٹھایا۔
ایک سنت الٰہی : یہاں کوّے کو بھیجنے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف جو فرمائی ہے یہ درحقیقت اس سنت اللہ کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے جس کے تحت یہ فعل ظہور میں آیا۔ اس کی متعدد مثالیں پچھلے صفحات میں بیان ہوچکی ہیں۔ وہ سنت اللہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کی آیات، اس کے احکام اور اس کی تنبیہات سے اپنے کان اور اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک شیطان مسلط کردیتا ہے جو اس کا ساتھی بن کر اس کو اس کی خواہشات کی وادیوں میں ٹھوکر کھلاتا پھرتا ہے۔ سورة زخر میں اس سنت اللہ کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے۔ " ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطانا فھو لہ قرین : جو خدائے رحمان کے ذکر سے غافل ہوجاتا ہے، ہم اس کے لیے ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں جو اس کا شب و روز کا ساتھی بن جاتا ہے) سورة فصلت میں ہے، وقیضنا لہم قرناء فزینوا لہم ما بین ایدیہم وما خلفہم (پس ہم نے ان کے لیے برے ساتھی مقرر کردیے جنہوں نے ان کے پیش و عقب کو خوب مزین کرکے دکھایا) اوپر گزرچکا ہے کہ ہابیل نے قابیل کو بڑی موثر اور دل نشین نصیحتیں بھی کیں اور اپنے قول کیی صداقت روز روشن کی طرح ثابت بھی کردی لیکن اس کا دل ذرا نہ پسیجا۔ ایک ایسے سنگدل کا خدا کی مذکورہ سنت کی زد میں آجانا ایک امر بدیہی ہے۔
عام طور پر مفسرین نے یہ سمجھا ہے کہ کوّا قابیل کو یہ بتانے کے لیے آیا تھا کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کس طرح دفن کرے۔ وہ مدتوں اپنے بھائی کی لاش اپنی کمر پر لادے لادے پھرا، لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ وہ اس کو کیا کرے۔ بالآخر جب لاش سڑ گئی تب خدا نے ایک کوّے کو بھیجا جس نے ایک دوسرے کوّے کو قتل کر کے زمین میں دفنایا تب قابیل کو بھائی کی لاش ٹھکانے لگانے کا طریقہ معلوم ہوا۔ ہمارا خیال ہے کہ ہم نے اوپر جو کچھ عرض کیا ہے اس کے بعد اس عجیب و غریب بات کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
Ayah 5:32آگے کا مضمون۔ آیات 32۔ 34: قانون قصاص کی بنیاد : آگے فرمایا کہ چونکہ انسان اپنی سرشت کے لحاظ سے ایک ایسی مخلوق ہے جس کے اندر ہابیل جیسے خدا ترس اور حق و عدل پر قائم رہنے والے بھی ہیں اور قابیل جیسے سنگ دل اور خونی بھی۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی شریعت میں قصاص کو ایک جماعتی فرض قرار دیا کہ ایک کا قاتل سب کا قاتل اور ایک کا بچانے والا سب کا بچانے والا ٹھہرے گا۔ پھر اس قانون کی تجدید یاد دہانی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر اپنے نبی و رسول بھی بھیجے لیکن اس سارے اہتمام کی بنی اسرائیل نے کوئی پروا نہ کی بلکہ وہ برابر قابیل کی سنت بد کی پیروی میں خدا کی زمین میں فساد و خوں ریزی برپا کیے جا رہے ہیں۔
اس کے بعد ان لوگوں کی سزا بیان کی ہے جو ایک اسلامی حکومت عادلہ کے اندر رہتے ہوئے اس کے قانون عدل و قسط کو درہم برہم کرنے اور ملک میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، عام اس سے کہ یہ کوشش نام کے مسلمانوں کی طرف سے ہو یا غیر مسلموں کی طرف سے، علانیہ ہو یا درپردہ سازشوں کی شکل میں، جتھہ بندی کر کے ہو، یا گنڈا گردی کی شکل میں۔ جو مفسدانہ سرگرمی بھی ملک کے سیاسی، اجتماعی اور معاشرتی نظام کے لیے خطرہ بن جائے اور اس سے قانون اور نظم کا مسئلہ پیدا ہوجائے اس کے استیصال اور اس کے مجرموں کی سرکوبی کے لیے حکومت کے ارباب حل و عقد کو وسیع اختیارات دیے گئے ہیں تاکہ قیام عدل کا جو فریضہ ان پر عاید ہوتا ہے وہ اس سے عہد برآ ہوسکیں۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے :
مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ ۃ كَتَبْنَا عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢابِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا ۭوَمَنْ اَحْيَاهَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا ۭوَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنٰتِ ۡ ثُمَّ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِي الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ
" من اجل ذالک " کا مفہوم : " من اجل ذلک " کا مطلب یہ نہیں کہ بعینہ یہ واقعہ حکم قصاص کی فرضیت کا باعث ہوا۔ یہ واقعہ تو، جیسا کہ واضح ہوا، بنی اسرائیل کی تاریخ سے بہت پہلے کا ہے۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ جان کے بدلے جان کا قانون، کچھ بنی اسرائیل کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ یہ قانون ہر ملت میں ابتداء سے موجود رہا ہے۔ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی ملت میں بھی یہ قانون موجود تھا۔ حضرت نوح اور ان کی ذریت کو اس باب میں جو ہدایت ہوئی تھی وہ تورات میں یوں مذکور ہے۔ " آدمی کی جان کا بدلہ آدمی سے اور اس کے بھائی بند سے لوں گا۔ جو آدمی کا خون کرے گا اس کا خون آدمی سے ہوگا کیونکہ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا ہے " (پیدائش باب 9: 5۔ 6)۔ اس وجہ سے یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ بعینہ یہ واقعہ بنی اسرائیل پر حکم قصاص کے وجوب کا باعث ہوا۔ یہ بات ملحوظ رکھنے کی ہے کہ یہہاں مقصود حکم قصاص کی تاریخ بیان کرنا نہیں ہے بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ بنی اسرائیل اللہ کے میثاق کے معاملے میں اتنے جری اور بےباک ہیں کہ یہ جاننے کے باوجود کہ ایک کا قاتل سب کا قاتل اور ایک کی حفاظت سب کی حفاظت ہے، برابر خدا کی زمین میں فساد برپا کیے چلے جا رہے ہیں۔ یہی روش ان کی پہلے بھی رہی اور یہی روش ان کی آج بھی ہے۔
اس روشنی میں " من اجل ذلک " کا اشارہ نفس واقعہ کی طرف نہیں بلکہ شروفساد کی اس ذہنیت کی طرف ہوگا جس کا قابیل نے اظہار کیا اور جس کا اظہار ان لوگوں کی طرف سے برابر ہوتا رہتا ہے جو اس کی سنت بد کی پیروی کروتے ہیں۔ یعنی کمینہ جذبات اور شیطانی محرکات کے تحت اللہ کے بندوں کا خون بہاتے ہیں اور پھر اعتراف و اقرار اور توبہ و ندامت کے بجائے اپنی ساری ذہانت اس جرم کو چھپانے میں صرف کرتے ہیں ان کو اپنے جرم پر افسوس بھی ہوتا ہے تو اس پہلو سے نہیں ہوتا کہ ان کے ہاتھوں خدا کے بندوں کا سب سے بڑا حق تلف ہوا بلکہ جرم پوشی کی تدبیر میں اگر ان سے کوئی کوتاہی ہوجاتی ہے تو اس پر انہیں افسوس ہوتا ہے۔
قانون قصاص کی حکمت و عظمت : اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢابِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا ۭوَمَنْ اَحْيَاهَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا۔ یہ اس اصل حکم کا بیان نہیں ہے جو قصاص کے باب میں یہود کو دیا گیا۔ بلکہ اس کی دلیل اور اس کی حکمت و عظمت بیان ہوئی ہے۔ " جان کے بدلے جان " کا قانون تورات میں بھی ہے اور اس کا حوالہ اس سورة میں بھی آگے آرہا ہے۔ یہاں چونکہ مقصود یہود کی شرارت و شقاوت کو نمایاں کرنا ہے اس وجہ سے قانون قصاص کا اصل فلسفہ بیان فرمایا کہ یہود پر قتل نفس کی سنگینی واضح کرنے کے لیے ان کو یہ حکم اس تصریح کے ساتھ دیا گیا تھا کہ ایک کا قاتل سب کا قاتل اور ایک کا بچانے والا سب کا بچانے والا ٹھہرے گا لیکن پھر بھی وہ قتل اور فساد فی الارض کے معاملے میں بالکل بےباک ہوگئے۔
قانونِ قصاص کی ذمہ داریاں ہر فردِ ملت پر : جو ملت قانون قصاص کی حامل اس فلسفہ کے ساتھ بنائی گئی ہو جس کا ذکر اوپر ہوا، اس پر چند ذمہ داریاں لازماً عاید ہوتی ہیں جس کی طرف ہم یہاں اشارہ کریں گے۔
ایک یہ ہر حادثۂ قتل پوری قوم میں ایک ہلچل پیدا کردے۔ جب تک اس کا قصاص نہ لے لیا جائے ہر شخص یہ محسوس کرے کہ وہ اس تحفظ سے محروم ہوگیا ہے جو اس کو اب تک حاصل تھا۔ قانون ہی سب کا محافظ ہوتا ہے۔ اگر قانون ہدم ہوگیا تو صرف مقتول ہی قتل نہیں ہوا بلکہ ہر شخص قتل کی زد میں ہے۔ دوسری یہ کہ قاتل کا کھوج لگانا صرف مقتول کے وارثوں ہی کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ پوری جماعت کی ذمہ داری ہے، اس لیے کہ قاتل نے صرف مقتول ہی کو قتل نہیں کیا بلکہ سب کو قتل کیا ہے۔ تیسری یہ کہ کوئی شخص اگر کسی کو خطرے میں دیکھے تو اس کو پرایا جھگڑا سمجھ کر نظر انداز کرنا اس کے لیے جائز نہیں ہے بلکہ اس کی حفاظت و حمایت تا بہ مقدور اس کے لیے ضروری ہے۔ اگرچہ اس کے لیے اسے خود جوکھم برداشت کرنی پڑے۔ اس لیے کہ جو شخص کسی مظلوم کی حمایت و مدافعت میں سینہ سپر ہوتا ہے وہ صرف مظلوم ہی کی حمایت میں سینہ سپر نہیں ہوتا بلکہ تمام خلق کی حمایت میں سینہ سپر ہوتا ہے جس میں وہ خود بھی شامل ہے۔ چوتھی یہ کہ اگر کوئی شخص کسی قتل کو چھاپتا ہے یا قاتل کے حق میں جھوٹی گواہی دیتا ہے یا قاتل کا ضامن بنتا ہے، یا قاتل کو پناہ دیتا ہے، یا قاتل کی دانست وکالت کرتا ہے یا دانستہ اس کو جرم سے بری کرتا ہے وہ گویا خود اپنے اور اپنے باپ، بھائی، بیٹے کے قاتل کے لیے یہ سب کچھ کرتا ہے کیونکہ ایک کا قاتل سب کا قاتل ہے۔ پانچویں یہ کہ کسی مقتول کے قصاص کے معاملے میں مقتول کے وارثوں یا حکام کی مدد کرنا بھی درحقیقت مقتول کو زندگی بخشتا ہے اس لیے کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ قصاص میں زندگی ہے۔
ہم نے یہ اس اصول سے برآمد ہونے والی چند موٹی موٹی باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مزید غور کیجیے تو اس کی مزید حکمتیں واضح ہوں گی۔ پھر کس قدر قابل ماتم ہے اس قوم کا حال جو اس صول سے باخبر ہوتے ہوئے قتل و خوں ریزی اور فساد فی الارض میں بالکل بےباک ہوگئی۔
قانون کے ساتھ قانون کی یاد دہانی کا اہتمام : وَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنٰتِ ۡ ثُمَّ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِي الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کو یہ فرض بتا دینے ہی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ اتمام حجت کے لیے برابر ان کے اندر خدا کے رسول بھی آتے رہے جو نہایت واضح احکام و ہدایات اور نہایت بلیغ اور پرزور تعلیمات و تنبیہات کے ذریعے سے ان کو جگاتے اور جھنجھوڑتے رہے کہ اللہ کے عہدومیثاق کی ذمہ داریوں سے یہ غافل نہ ہوجائیں لیکن اس سارے اہتمام کے باوجود یہ برابر خدا کی زمین میں مختلف قسم کی زیادتیوں کے مرتکب ہوتے رہے۔
فساد اور اسراف کا مفہوم : " افساد فی الارض " اور " اسراف فی الارض " دونوں میں مفہوم کے اعتبار سے کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ زمین کا امن اور نظم اس قانون وعدل و قسط پر منحصر ہے جو خدا نے اس کے لیے اتارا ہے۔ جس طرح کائنات کے نظام تکوینی میں کوئی خلل پیدا ہوجائے تو سارا نظام کائنات درہم برہم ہوجائے، اسی طرح اگر اس نظام تشریعی میں، جو اس کے خالق نے اس کے لیے پسند فرمایا ہے، کوئی خلل پیدا کردیا جائے تو اس کا اجتماعی و معاشرتی اور سیاسی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے، پھر نہ تو نظام تکوینی کے ساتھ اس کے نظام سیاسی کی ہم آہنگی ہی باقی رہ جاتی ہے اور نہ اس کے نظام اجتماعی و سیاسی میں ہی کوئی ربط قائم رہ جاتا ہے۔ اسی صورت حال کو یہاں افساد اور اسراف سے تعبیر فرمایا ہے۔
اس اصولی حقیقت کے ساتھ ساتھ اس تاریخی حقیقت کو یاد رکھنا بھی یہاں ضروری ہے جس کا تجربہ ان آیات کے نزول کے زمانے میں، مسلسل مسلمانوں کو یہود کی طرف سے ہورہا تھا۔ یہود کے متعدد قبائل مثلاً بنو نضیر، بنو قریظہ، بنوقینقاع مدینہ کے حوالی میں آباد تھے۔ انہوں نے یوں تو مسلمانوں کے ساتھ امن و صلح اور باہمی حمایت و مدافعت کے معاہدے کر رکھے تھے لیکن ایک دن بھی انہوں نے ان معاہدوں کا کوئی احترام نہیں کیا بلکہ ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور مدینہ سے ان کے قدم اکھاڑ دینے کی سازشیں کرتے رہے۔ قریش نے مسلمانوں پر جتنے بھی حملے کیے سب میں در پردہ یہود شریک رہے۔ انصار اور مہاجرین کے درمیان پھوٹ ڈلوانے کی بھی انہوں نے بارہا کوشش کی۔ صحابہ بلکہ خود نبی ﷺ کے قتل کی بھی انہوں نے بارہا تدبیریں کی۔ اگرچہ ان کی یہ چالیں بیشتر ناکام رہیں لیکن متعدد نہایت اندوہناک واقعات پیش بھی آئے۔ عورتوں اور بچوں کے اغوا اور قتل میں بھی یہ نہایت شاطر اور سنگ دل تھے۔ مسلمانوں کو ہر وقت یہود کی طرف سے اپنی جان اور عزت کے معاملے میں کھٹکا لگا رہتا تھا۔ حد یہ ہے کہ جن مسلمانوں کو وہ کسی قضیے کے طے کرانے اور کسی معاملے پر گفتگو کرنے کے لیے بلاتے تھے ان کو بھی ہلاک کرنے کی سازش پہلے سے تیار کر رکھتے۔ ثُمَّ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِي الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ میں اس ساری صورت حال کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 5:33–3433۔ 34:۔ اِنَّمَا جَزٰۗؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوْٓا اَوْ يُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُـقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ۭ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَاوَلَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔
" محاربہ " کا مفہوم : يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا، اللہ اور رسول سے محاربہ یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ یا جتھہ جراءت و جسارت، ڈھٹآئی اور بیباکی کے ساتھ اس نظام حق و عدل کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرے جو اللہ اور رسول نے قائم فرمایا ہے۔ اس طرح کی کوشش اگر بیرونی دشمنوں کی طرف سے ہو تو اس کے مقابلے کے لیے جنگ و جہاد کے احکام تفصیل کے ساتھ الگ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں بیرنی دشمنوں کے بجائے اسلامی حکومت کے ان اندرونی دشمنوں کی سرکوبی کے لیے تعزیرات کا ضابطہ بیان ہورہا ہے جو اسلامی حکومت کی رعایا ہوتے ہوئے، عام اس سے کہ وہ مسلم ہیں یا غیر مسلم، اس کے قانون اور نظم کو چیلنج کریں۔ قانون کی خلاف ورزی کی ایک شکل تو یہ ہے کہ کسی شخص سے کوئی جرم صادر ہوجائے۔ اس صورت میں اس کے اتھ شریعت کے عام ضابطہ حدود و تعزیرات کے تحت کارروائی کی جائے گی، دوسری صورت یہ ہے کوئی شخص یا گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لینے کی کوشش کرے۔ اپنے شر و فساد سے علاقے کے امن و نظم کو درہم برہم کردے، لوگ اس کے ہاتھوں اپنی جان، مال عزت، آبرو کی طرف سے ہر وقت خطرے میں مبتلا رہیں۔ قتل ڈکیتی، رہزنی، آتش زنی، اغوا، زنا، تخریب تہریب اور اس نوع کے سنگین جرائم حکومت کے لیے لا اور آرڈر کا مسئلہ پیدا کردیں۔ ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے عام ضابطہ حدود و تعزیرات کے بجائے اسلامی حکومت مندرجہ ذیل اقدامات کرنے کی مجاز ہے۔ اَنْ يُّقَتَّلُوْٓا، یہ کہ فساد فی الارض کے یہ مجرمین قتل کردیے جائیں۔ یہاں لفظ قتل کے بجائے " تقتیل " باب تفعیل سے استعمال ہوا ہے۔ باب تفعیل معنی کی شدت اور کثرت پر دلیل ہوتا ہے اس وجہ سے تقتیل شر تقتیل کے معنی پر دلیل ہوگا۔ اس سے اشارہ نکلتا ہے کہ ان کو عبرت انگیز اور سبق آموز طریقہ پر قتل کیا جائے جس سے دوسروں کو سبق ملے۔ صرف وہ طریقہ قتل اس سے مستچنی ہوگا جو شریعت میں ممنوع ہے۔ مثلاً آگ میں جلانا، اس کے ماسوا دوسرے طریقے جو گنڈوں اور بدمعاشوں کو عبرت دلانے، ان کو دہشت زدہ کرنے اور لوگوں کے اندر قانون و نظم کا احترام پیدا کرنے کے لیے ضروری سمجھے جائیں، حکومت ان سب کو اختیار کرسکتی ہے۔ رجم یعنی سنگسار کرنا بھی ہمارے نزدیک " تقتیل " کے تحت دا ؒ ہے۔ اس وجہ سے وہ گنڈے اور بدمعاش جو شریفوں کے عزت و ناموس کے لیے خطرہ بن جائیں، جو اغوا اور زنا کو پیشہ بنا لیں، جو دل دہارے لوگوں کی عزت و آبرو پر ڈاکے ڈالیں اور کھلم کھلا زنا بالجبر کے مرتکب ہوں ان کے لیے رجم کی سزا اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہے۔ رجم کے باب میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کے درمیان ہماری فقہ میں جو فرق کیا گیا ہے۔ اس پر انشاء اللہ ہم سورة نور کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے۔ اَوْ يُصَلَّبُوْٓا، یہ کہ ایسے لوگوں کو سولی دے دی جائے۔ سولی دینے کے لیے یہاں صلب کے بجائے تصلیب کا لفظ استعمال ہوا ہے جس سے یہ اشرہ نکلتا ہے کہ سولی اور پھانیس کے وہ طریقے بھی اختیار کیے جاسکتے جو زیادہ دردناک اور زیادہ عبرت انگیز ہوں۔ اس زمانے میں بعض طریقے جو ایجاد ہوئے ہیں ہمارے نزدیک وہ بھی اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اَوْ تُـقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ ، یہ کہ ان کے ہاتھ پاؤں بےترتیب کاٹ دیے جائیں۔ یہ بےترتیب کاٹنے کی ہدایت بھی عبرت انگیزی اور درد انگیزی ہی کے نقطہ نظر سے ہے۔ مقصود یہ ہے کہ اگر اس قسم کے کسی شریر کی جان بخشی بھی جائے تو اس طرح کہ اس کی شرانگیزی اور افساد کے تمام اسلحہ بےکار کردیے جائیں۔ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ، یہ کہ ان کو ملک سے جلا وطن کردیا جائے۔ نفی کا لغوی مفہوم جلا وطن کرنا ہے۔ حبس اور قید اس کا لغوی مفہوم نہیں ہے البتہ اس کے مفہوم میں شامل ضرور ہے۔ اگر ایسے مجرموں کی جلا وطنی دشوار یا دینی و سیاسی نقطہ نظر سے خلاف مصلحت ہو تو ان کو محبوس یا کسی خاص علاقہ میں پابند اور نظر بند کیا جاسکتا ہے۔ یہ چیز اس لفظ کے مفہوم کے خلاف نہیں ہوگی۔
حالات کی نوعیت کے لحاظ سے حکومت کو مناسب اقدام کا اختیار : قرآن کے الفاظ صاف اس بات پر دلیل ہیں کہ حالات کی نوعیت اور بدامنی اور قانون شکنی کے موجود اور متوقع اثرات کے لحاظ سے حکومت ان میں سے جو اقدام بھی مناسب سمجھے، کرسکتی ہے۔ عربی زبان میں " او " کا استعمال اسی مفہوم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس وجہ سے مجھے ان لوگوں کی رائے صائب معلوم ہوتی ہے جو حکومت کو اختیار دیتے ہیں کہ قیام امن و قانون اور استیصال فتنہ کے نقطہ نظر سے ان میں سے جو شکل بھی اس کو مفید و موثر اور مطابق مصلحت نظر آئے اس کو اختیار کرسکتی ہے۔ اس طرح کے حالات میں صرف اسی امر کو ملحوظ نہیں رکھنا پڑتا ہے کہ جرم کرنے والے جتھہ نے صرف مال کو نقصان پہنچایا بلکہ اس سے بڑھ کر زمانہ مقام اور جتھہ بندی کرنے والے مجرموں کے عزائم اور ان کے اثرات پر نگاہ رکھنی پڑتی ہے۔ مثلاً زمانہ جنگ یا بدامنی کا ہو تو اس میں لازماً سخت اقدام کی ضرورت ہوگی، اسی طرح مقام سرحدی یا دشمن کی سازشوں کا آماجگاہ ہو تب بھی موثر کارروائی ضروری ہوگی۔ اگر شرارت کا سرغنہ کوئی بڑا خطرناک آدمی ہو اور اندیشہ ہو کہ اس کو ڈھیل ملی تو بہتوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کو خطرہ پیش آجائے گا، تب بھی حالات کے لحاظ سے موثر قدم اٹھانا پڑے گا۔ غرض اس میں اصلی اہمیت جزوی واقعات کی نہیں بلکہ بغاوت کے مجموعی اثر اور ملک و ملت کے مصالح کی ہے۔
سزا جماعتی حیثیت سے دی جائے گی : اس طرح کے حالات میں سزا بھی انفرادی حیثیت سے نہیں بلکہ گروہی حیثیت سے دی جائے گی۔ اگر قتل، اغوا، زنا، آتش زنی، تخریب کے واقعات پیش آئے ہیں تو یہ جستجو نہیں کی جائے کہ متعین طور پر ان جرائم کا ارتکاب کن ہاتھوں سے ہوا ہے بلکہ ان کی زمہ داری میں باغی گروہ کا ہر فرد شریک سمجھا جائے گا اور اسی حیثیت سے ان کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا۔ اس لیے کہ ہر جرم کے ارتکاب میں سب کے مجموعی اثر نے کام کیا ہے۔
اس قانون کے استعمال کی بعض مثالیں : عکل اور عرینہ والوں کو نبی ﷺ نے بیت المال کے اونٹوں کو ہنکا لے جانے اور ان کے چرواہوں کو قتل کرنے کے جرم میں جو عبرت انگیز سزا دی، امام بخاری ؒ نے اس کو اسی آیت کے تحت لیا ہے۔ بنو نضیر، بنو قریظہ، بنو قینقاع کے ساتھ جو معاملہ حضور نے کیا، ہمارے نزدیک وہ بھی اسی حکم الٰہی کے تحت کیا۔ سیدنا ابوبکر نے مانعین زکوۃ کی جو سرکوبی کی وہ بھی ہمارے نزدیک اسی حکمت کے تحت کی۔ مسیلمہ کذاب کا فتنہ بھی اسی محاربہ اللہ و رسول کے تحت آتا ہے اور اس کی سرکوبی بھی اسی قانونِ الٰہی کے تحت ہوئی۔ حضرت عمر نے اپنے دور خلافت میں یہود کو عرب سے جو آخر بار نکالا وہ بھی اسی حکم خداوندی کی تعمیل تھی۔
جرم اور مجرمین کے جدید فلسفہ پر بحث : ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا۔۔۔ الایۃ۔ (یہ ان کے لیے اس دنیا میں رسوائی ہے) یہ اس بہے کا ازالہ ہے جو مذکورہ بالا سزاؤں سے متعلق ان لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوتا یا پیدا ہوسکتا ہے جو اللہ اور رسول کو چیلنج کرنے کے جرم کی سنگینی کا صحیح اندازہ نہیں کرپاتے۔ اس کائنات میں حقیقی عزت اللہ اور رسول کے لیے ہے۔ وللہ العزۃ ولرسولہ، اس وجہ سے جو لوگ خدا اور رسول کے مقابل میں جراءت و جسارت کا اظہار اور بغاوت کا اعلان کریں وہ مستحق ہیں کہ اس دنیا میں بھی رسوا ہوں اور آخرت میں بھی وہ دردناک عذاب سے دوچار ہوں دنیا میں ان کی یہ رسوائی دوسروں کے لیے ذریعہ عبرت و بصیرت ہوگی اور اس کے اثر سے ان لوگوں کے اندر بھی قانون کا ڈر اور احترام پیدا ہوگا جو یہ صلاحیت نہیں رکھتے کہ مجرد قانون کی افادیت و عظمت کی بنا پر اس کا احترام کریں۔ موجودہ زمانے میں جرم اور مجرمین کے لیے فلسفہ کے نام سے جو ہمدردانہ اور رحم دلانہ نظریات پیدا ہوگئے ہیں یہ انہی کی برکت ہے کہ انسان بظاہر جتنا ہی ترقی کرتا جاتا ہے دنیا اتنی ہی جہنم بنتی جا رہی ہے۔ اسلام اس قسم کے مہمل نظریات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ اس کا قانون ہوائی نظریات پر نہیں بلکہ انسان کی فطرت پر مبنی ہے۔
مغلوب ہونے سے پہلے اصلاح کرلینے والوں کا حکم : اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهِمْ۔ یعنی یہ خاص اختیارات صرف ان باغیوں کے خلاف استعمال کیے جائیں گے جو حکومت کے حالات پر قابو پانے سے پہلے تک اپنی بغاوت پر اڑے رہے ہوں۔ اور حکومت نے اپنی طاقت سے ان کو مغلوب و مقہور کیا ہو۔ جو لوگ حکومت کے ایکشن سے پہلے توبہ کرکے اپنے رویہ کی اصلاح کرچکے ہوں ان کے خلاف ان کے سابق رویہ کی بنا پر اس قسم کا کوئی اقدام جائز نہیں ہوگا بلکہ اب ان کے ساتھ عام قانون کے تحت معاملہ ہوگا۔ اگر ان کے ہاتھوں عام شہریوں کے حقوق تلف ہوئے ہیں تو حتی الامکان ان کی تلافی کرادی جائے گی ؟
آیت میں " فاعلموا " کے لفظ کے زور کو اگر ذہن میں رکھیے تو یہ بات صاف نکلتی ہے کہ قابو میں آنے سے پہلے توبہ و اصلاح کرلینے والوں کے کے معاملے میں حکومت کے لیے کوئی انتقامی کارروائی جائز نہیں ہے۔ خدا غفور اور رحیم ہے۔ جب وہ پکڑ سے پہلے توبہ و اصلاح کرلینے والوں کو معاف کردیتا ہے تو اس کے بندوں کا رویہ اس سے الگ کیوں ہو ؟
Ayah 5:35اے ایمان والو، اللہ سے ڈرتے رہو اور اسی کے تقرب کے طالب بنو اور اس کی راہ میں برابر سرگرم کار رہو تاکہ فلاح پاؤ
Ayahs 5:36–3736۔ 37:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا وَّمِثْلَهٗ مَعَهٗ لِيَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا ۡ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ۔
خدا کے سوا دوسرے وسائل پر اعتماد کرنے والوں کا انجام : اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا، سیاق وسباق دلیل ہے کہ یہاں " ان الذین کفروا " سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے فلاح کی اس راہ سے الگ راہ اختیار کی جو اوپر والی آیت میں بیان ہوئی ہے۔ یعنی انہوں نے خدا ہی سے ڈرنے، خدا ہی کا قرب تلاش کرنے اور اسی کی راہ میں سرگرم رہنے کے بجائے بےبنیاد سہاروں اور خیالی سفارشوں کے اعتماد پر زندگی گزاری اور یہ توقع کیے بیٹھے رہے کہ آخرت کی تمام کامرانیاں انہی کا حصہ ہیں۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ زمین کے تمام خزانے اور اس کے ساتھ انہی کے برابر مزید خزانوں کے مالک بن جائیں اور ان سب کو عذاب آخرت سے چھوٹنے کے لیے فدیہ میں دیں جب بھی ان کا فدیہ قبول نہیں ہوگا، وہ دوزخ سے نکلنے کے لیے کتنا ہی ہاتھ پاؤں ماریں گے لیکن وہ اس سے نکل نہیں پائیں گے، ان کے لیے ابدی اور دائمی عذاب ہوگا۔
Ayahs 5:38–3938۔ 39:۔ وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَهُمَا جَزَاۗءًۢ بِمَا كَسَـبَا نَكَالًا۔ فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوْبُ عَلَيْهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ
چری کی سزا : وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ کا عطف محاربین پر ہے جن کا ذکر اوپر گزرا، بیچ میں جو دو آیتیں آگئی ہیں یہ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، تعزیرات و حدود کے بیان کے سلسلے میں بطور تنبیہ و تذکری ہیں۔ سارق اور سارہ چونکہ صفت کے صیغے ہیں اس وجہ سے ان سے اشارہ نکلتا ہے کہ ارتکابِ فعل کی نوعیت ایسی ہو کہ اس کے ارتکاب پر چوری اور اس کے مرتکب پر چور کا اطلاق ہوسکے۔ اگر کوئی ناتربیت یافتہ شخص راہ چلتے کسی کے درخت سے چند پھل توڑ لیتا ہے یا کسی کے کھیت سے کچھ سبزیاں لے لیتا ہے یا کسی کی ٹال سے چند لکڑیاں اٹھا لیتا ہے، یا کسی کے باورچی خانے سے کوئی کھانے پینے کی چیز لے لیتا ہے تو گو یہ افعال ناشائستہ ہیں اور ان پر وہ تنبیہ و تادیب کا بھی سزوار ہے لیکن یہ وہ چوری نہیں ہے جس پر اس کو قطع ید کی سزا دی جائے۔ اس وجہ سے ہمارے فقہا نے اس جرم کے تعین اور اس کی سزا کے نفاذ پر چند شرطیں عائد کی ہیں جن کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں موجود ہے۔ ہمارے لیے یہاں ان تفصیلات میں جانے کی گنجائش نہیں ہے تاہم چند باتوں کی طرف ہم اشارہ کریں گے تاکہ مسئلے کی نوعیت کا اندازہ ہوسکے۔
قطع ید کی سزا کے لیے شرطیں : فقہا نے چوری پر قطع ید کی سزا نافذ کرنے کے لیے مندرجہ ذیل قیدیں عائد کی ہیں۔
1۔ چوری کسی قدروقیمت رکھنے والی چیز کی کی گئی ہو، بےقیمت یا کسی چھوٹی موٹی چیز کی چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں دی جائے گی۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں کسی کو معمولی چیزوں کی چوری پر یہ سزا نہیں دی گئی۔ قدروقیمت کے اندازے کے باب میں فقہا کا اختلاف ہے اور یہ اختلاف اس بات کا ثبوت ہے کہ اس میں اختلاف کی گنجائش ہے۔ حنفیہ کے نزدیک ایک دینار سے کم قیمت کی چیز پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں دی جائے گی۔
2۔ چوری محفوظ کیے ہوئے مال کی کی گئی ہو۔ اگر کسی نے اپنا مال یوں ہی کہیں ڈال دیا یا اپنے مویشی یوں ہی جنگل میں آوار چھوڑ دیے تو ان کی چوری اس قانون کے تحت نہیں آئے گی۔
3۔ جس مال میں چوری کرنے والے کا اشتراک ہو یا وہ مال اس کی حفاظت یا امانت میں ہو اس کی چوری بھی اس قانون کے درائرہ سے باہر ہے۔
4۔ مجنون اور نابالغ کی چوری پر بھی اس قانون کا اطلاق نہیں ہوگا۔
5۔ کسی کے بیوی بچے اور اس کے گھریلوں ملازم اگر اس کے مال میں سے کچھ چوری کرلیں تو یہ چیز بھی اس قانون کے دائرے سے الگ ہے۔
6۔ اضطرار کا شائبہ ہو جب بھی یہ سزا نافذ نہیں کی جائے گی۔ مشہور ہے کہ حضرت عمر ؓ نے عام الرمادہ کے قحط کے موقع پر قطع ید کی سزا روک دی تھی۔
7۔ اس سزا کے نفاذ کے لیے دار الاسلام ہونا بھی شرط ہے۔ حدود و تعزیرات کا تعلق اول تو باختیار حکومت سے ہے، ثانیاً ان کا تعلق دار الکفر یا دارالحرب سے نہیں بلکہ دارالاسلام سے ہے اس لیے کہ یہ احکام وحدود ایک مجموعی نظام کا جزو ہیں، اس نظام سے الگ کرکے ان کو نافذ کرنا ایسا ہی ہے جیسے گول خانے میں ایک چوکھٹی چیز۔ ان احکام کا زمانہ نزول خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے نفاذ کے لیے دارالاسلام شرط ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ احکام نازل ہی اس وقت فرمائے جب دارالاسلام عملاً قائم ہوچکا۔
قطع ید کی حکمتیں : فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَهُمَا جَزَاۗءًۢ بِمَا كَسَـبَا نَكَالًا من اللہ۔ میں قطع ید کے دو سب بیان ہوئے ہیں۔ ایک یہ مجرم کے جرم کی سزا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ " نکال " ہے۔ نکال کے معنی کسی کو ایسی سزا دینے کے ہیں۔ جس سے دوسرے عبرت پکڑیں۔ ان دونوں کے درمیان حرفِ عطف کا نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دونوں باتیں اس سزا میں بیک وقت مطلوب ہیں۔ یعنی یہ پاداش عمل بھی بھی ہے اور دوسرے لیے سامانِ عبرت بھی۔ جو لوگ اس کے ان دونوں ہی پہلووں پر بیک وقت نظر نہیں ڈالتے وہ بسا اوقات اس خلجان میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ جرم کے اعتبار سے سزا زیادہ سخت ہے حالانکہ اس سزا میں متعین اس جرم ہی کی سزا نہیں ہے جو مجرم سے واقع ہوا بلکہ ان بہت سے جرام کی روک تھام بھی اس میں شامل ہے جن کا وہ اپنے فعل سے محرک بن سکتا ہے اگر اس کو ایسی سزا نہ دی جائے جو دوسرے کے حوصلے پست کردے۔ جنس کی طرح مال کی بھوک بھی انسان کے اندر بڑی ہی شدید ہے۔ اگر اس حرص کو ذرا ڈھیل مل جائے تو پھر اس کے نتائج کی اکچھ نکل سکتے ہیں، اس کا انداز کرنے کے لیے موجودہ زمانہ کے حالات میں کافی سامان بصیرت موجود ہے بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھیں موجود ہوں۔ اس زمانے کے کسی متمدن سے متمدن ملک کے صرف ایک سال کے وہ ہولناک جرائم جمع کرلیے جائیں جو محض چوری کی وجہ سے پیش آئے تو وہ آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔ لیکن تہذیب جدید کے مارے ہوئے انسان کی پیشانی یہ سن کر تو عرق آلود ہوجاتی ہے کہ چوری پر کسی کا ہاتھ کٹ جائے لیکن ان ہزاروں دل ہلا دینے والے واقعات سے اس کا دل نہیں پسیجتا جو بالواسطہ یا بلا واسطہ چوری کی راہ سے ظہور میں آتے ہیں۔ چوری کوئی مفرد جرم نہیں ہے بلکہ یہ مجموعہ جرائم ہے جس سے طرح طرح کے ہولناک جرائم ظہور میں آتے ہیں۔ اگر چوری کی راہ مسدود ہوجائے تو یہ یا تو بالکل ہی ناپید ہوجائیں گے یا کم از کم یہ کہ انتہائی حد تککم ہوگئے بکہ دوسرے جرائم میں بھی انتہائی کم ہوئی۔ پھر اگر چند ہاتھ کٹ جانے سے ہزارو سر، ہزاروں گھر، ہزاروں آبروئیں محفوظ ہوجائیں، ظلم و شقاوت اور حرث و نسل کی بربادی کے بہت سے ابواب کا خاتمہ ہوجائے تق عقل سلیم تو یہی کہتی ہے کہ یہ مہنگا سودا نہیں ۃ ے بلکہ نہایت بابرکت سودا ہے، لیکن موجودہ زمانے کے دانش فروشوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی۔ واللہ عزیز حکیم، یہ اس قانونِ الٰہی کی قوت اور حکمت دونوں ہی پہلوؤں کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے تمام قوانین و احکام اس کی صفات کا عکس ہیں۔ وہ عزیز اور غالب ہے اس وجہ سے اس کو حق ہے کہ وہ جو چاہے حکم دے اور حکیم ہے اس وجہ سے اس کا ہر حکم حکمت و مصلحت پر مبنی ہے، اس کے بندوں کے لیے نہ تو اس کے حکم سے سرتابی جائز ہے اور نہ ان کے لیے یہ زیبا ہے کہ وہ اس کے کسی حکم کو خلاف حکمت و مصلحت قرار دیں۔
فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهٖ۔۔۔ الایۃ۔ من بعد ظلمہ، میں لفظ ظلم اپنے فاعل کی طرف بھی مضاف ہوسکتا ہے اور اپنے مفعول کی طرف بھی۔ مفعول کی طرف مضاف ہونے کی صورت میں اس کے معنی ہوں گے، اپنے اس ظلم کے بعد جس کا اس نے ارتکاب کیا، اگرچہ قرآن میں نظایر پہلے مفہوم کے لیے بھی موجود ہیں اور یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ کسی انسان کا، جب کہ وہ مسلمان بھی ہو، چوری جیسے ذلیل جرم کا مرتکب ہونا خود اپنے نفس پر بہت بڑا ظلم ہے، اس فعل کے ارتکاب سے جتنی حق تلفی وہ دوسروں کی کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ خود اپنے نفس کی کرتا ہے، لیکن میں دوسرے معنی کو ترجیح دیت اہوں اس لیے کہ اس میں وہ ظلم بھی آجاتا ہے جو ایک چوری کرنے والا پنے نفس پر کرتا ہے اور وہ ظلم بھی آجاتا ہے جو وہ اس پر کرتا ہے جس کا مال چراتا ہے۔
توبہ کے ساتھ اصلاح کی شرط : توبہ کے ساتھ اصلاح کا ذکر درحقیقت توبہ کی ایک لازمی شرط کی حیثیت سے ہے۔ بندہ جب کوئی اس طرح کا جرم کرتا ہے تو ایک تو وہ خدا کی نافرمانی کرتا ہے، دوسرے وہ اپنے نفس کی یا دوسروں کی حق تلفی کرتا ہے۔ خدا سے معاملہ درست کرنے کے لیے تاحد امکان اپنے رویہ کی اصلح اور اپنے ظلم کی تلافی ناگزیر ہے۔ بغیر اس دو طرفہ عمل کے تو یہ بالکل بےمعنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ توبہ اور اصلاح سے بندے کا آخرت کا معاملہ صاف ہوجاتا ہے لیکن قانون کی گرفت میں آچکنے کے بعد توبہ کے سبب سے شریعت کی کوئی حد ساقط نہیں ہوسکتی۔ وہ بہرحال نافذ ہوگی۔
Ayah 5:40اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔
ایک تنبیہ : اَلَمْ تَعْلَمْ کا خطاب عام ہے۔ یہ عام خطاب کے ساتھ تنبیہ ہے کہ آسمان و زمین میں سارا اختیار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے، وہی جس کو چاہے سزا دے گا جس کو چاہے بخشے گا، کسی دوسرے کے لیے اس میں کسی چون و چرا اور کسی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ اس وجہ سے ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے قانون کے تابع اور اس کے حوالے کرے نہ کوئی اس سے بھاگنے کی کوشش کرے، نہ کوئی اس سے دوسروں کو بچانے کی تدبیریں سوچے اور نہ کسی کے زور و اثر اور کسی کی سعی و سفارش پر بھروسہ کرکے خدا اور اس کی شریعت سے بےپروا ہو۔ یہ تنبیہ اس وجہ سے ضروری تھی کہ درحقیقت یہ سارے احکام جو قتل، قصاص، رہزنی اور چوری وغیرہ سے متعلق اس سورة میں بیان ہورہے ہیں، یہ سب دوسری امتوں کے لیے مزلۂ قدم ثابت ہوئے۔ انہوں نے ان سے بچنے کے لیے بہت سے چور دروازے نکال لیے، یہاں تک کہ یہ تمام قوانین بالکل بےاثر ہو کر رہ گئے۔ اگر اس کی علت کا سراغ لگایا جائے تو یہ بات صاف نظر آئے گی کہ ان قوموں نے توحید کی وہ حقیقت مستحضر نہیں رکھی جس کی اس آیت میں یاد دہانی کی گئی ہے