6. Surah Al-An'aam
الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتدبرِ قرآن
تعارف
تعارف
سورة انعام کا تعارف اور مضامین الف۔ سورتوں کے دوسرے گروپ پر ایک اجمالی نظر : سورة مائدہ پر، جیسا کہ ہم مقدمے میں واضح کرچکے ہیں، سورتوں کا پہلا گروپ تمام ہوا۔ اب یہ انعام سے۔ دوسرا گروپ شروع ہورہا ہے۔ اس میں چار سورتیں ہیں۔ انعام، اعراف، انفال، براءت۔ انعام اور اعراف مکی ہیں، انفال اور براءت مدنی۔ انعام و اعراف دونوں میں خطاب اہل مکہ سے ہے۔ انعام میں توحید، معاد اور رسالت کے بنیادی مسائل زیر بحث آئے ہیں اور اصل دین ابراہیم کی وضاحت کی گئی ہے۔ بنائے استدلال تمام تر عقل و فطرت اور آفاق وانفس کے شواہد پر ہے یا پھر ان مسلمات پر جن کو اہل عرب تسلیم بھی کرتے تھے اور جو صحیح بھی تھے۔ اعراف میں انذار کا پہلو غالب ہے۔ اس میں قریش پر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ کسی قوم کے اندر ایک رسول کی بعثت کے مقتضیات و تضمنات کیا ہوتے ہیں، اس باب میں اللہ تعالیٰ کے قاعدے اور ضابطے کیا ہیں، اگر کوئی قوم اپنے رسول کی تکذیب پر جم جاتی ہے تو اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں، اس معاملے میں تاریخ کی شہادت کیا ہے اور اگر وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی اس روش سے باز نہ آئے تو اسے اپنے لیے کس روز بد کا انتظار کرنا چاہیے۔ انفال میں مسلمانوں کو اپنی کمزوریاں دور کر کے اللہ اور رسول کی اطاعت پر مجتمع ہونے اور کفارِ قریش سے جہاد پر ابھارا ہے۔ قریش کے متعلق صاف صاف یہ اعلان فرمایا ہے کہ ان کو بیت اللہ پر قابض رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس وراثتِ ابراہیمی کے حق دار مسلمان ہیں نہ کہ قریش۔ مسلمانوں کو ہدایت دی ہے کہ تم ان سے مرعوب نہ ہو، اب ان کے لیے ذلت اور عذاب کا وقت آچکا ہے۔ اگر یہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو منہ کی کھائیں گے اور دنیا و آخرت دونوں میں کوئی بھی ان کو پناہ دینے والا نہیں ہوگا سورة براءت میں کھلم کھلا قریش کو الٹی میٹم ہے۔ ان کے لیے صرف دو راہیں کھلی چھوڑی گئی ہیں۔ اسلام یا تلوار۔ مسلمانوں کو ان سے ہر قسم کے روابط قطع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جو مسلمان رشتہ و قرابت کی بنا پر ان سے در پردہ تعلق رکھتے تھے ان کو سخت سرزنش کی گئی ہے اور ان کے سامنے بھی واضح طور پر دو شکلیں رکھ دی گئی ہیں، یا تو اپنے آپ کو نفاق کی تمام آلائشوں سے پاک کر کے سچے اور پکے مسلمان بن جائیں یا پھر اسی انجام سے دو چار ہونے کے لیے تیار ہوجائیں جو اللہ و رسول کے ان دشمنوں کا ہونے والا ہے۔ اس روشنی میں اگر تدبر کے ساتھ آپ اس گروپ کی تلاوت کریں گے تو معلوم ہوگا کہ ان چاروں سورتوں میں نہایت گہری حکیمانہ ترتیب ہے۔ انعام میں قریش پر اتمامِ حجت ہے، اعراف میں ان کو انذار ہے، انفال میں مسلمانوں کو جہاد کی تیاری کی ہدایت اور بیت اللہ کی تولیت سے قریش کی معزولی کا فیصلہ ہے۔ براءت میں قریش کو الٹی میٹم اور منافقین کو آخری تہدید ہے۔ پہلے گروپ میں اصل بحث اہل کتاب سے تھی، قریش سے اگر کہیں خطاب ہوا تھا تو ضمناً ۔ برعکس اس کے اس گروپ میں اصل خطاب قریش سے ہے۔ اہل کتاب کا اس میں ذکر آیا ہے تو ضمناً ۔ مواد استدلال میں بھی مخاطب کے اختلاف کے لحاظ سے بنیادی فرق ہے۔ اس گروپ میں بیشتر استدلال عقل و فطرت اور آفاق وانفس کے شواہد سے ہے اور پہلے گروپ میں اہل کتاب کے تعلق سے وہ ساری چیزیں استدلال کے طور پر استعمال ہوئی ہیں جن کو اہل کتاب مانتے تھے۔ پہلے گروپ میں اہل کتاب کو امامت کے منصبت سے معزول کیا گیا ہے اور ان کی جگہ مسلمانوں کو دی گئی ہے۔ اس گروپ میں قریش کو بیت اللہ کی تولیت سے معزول کیا گیا ہے اور اس کی خدمت امت مسلمہ کے سپرد کی گئی ہے۔ یہ پورے گروپ پر ایک اجمالی تبصرہ ہوا۔ اب ہم اس کی ایک ایک سورة کو الگ الگ لے کر اس کی تفسیر کریں گے۔ گروپ کی پہلی سورة انعام ہے۔ اب ہم اللہ کا نام لے کر اس کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔ وبید اللہ التوفیق۔ ب۔ سورة کا عمود : سورة انعام میں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مخاطب قریش ہیں۔ ان کے سامنے توحید، معاد اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے دلائل واضح کرتے ہوئے ان کو ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے اور ساتھ ہی یہ تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نے یہ دعوت قبول نہ کی تو اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے ان کو تیار رہنا چاہیے جس سے رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کو دوچار ہونا پڑا۔ اہل عرب چونکہ حضرت ابراہیم کی اولاد تھے اور ان کا دعوی یہ تھا کہ جس مذہب پر وہ ہیں یہ ان کو حضرت ابراہیم ہی سے وراثت میں ملا ہے اس وجہ سے اس سورة میں اس حجت کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے جو حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی تاکہ قریش پر یہ واضح ہوجائے کہ اصل ملت ابراہیم کیا ہے اور اس کے حقیقی پیرو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ ہیں یا قریش۔ سورة کے اس عمود کو پیش نظر رکھتے ہوئے اب ایک اجمالی نظر سورة کے مطالب پر ڈالیے۔ ج۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ : (1-5) ۔ توحید اور معاد کے بعض واضح دلائل کی طرف اشارہ۔ بالکل بدیہی حقائق سے اعراض پر اظہارِ تعجب۔ قرآن کی تکذیب ایک امر حق کی تکذیب ہے جس کا خمیازہ یہ بھگتیں گے۔ قرآن انہیں جن نتائج کی خبر دے رہا ہے وہ سب پیش آ کے رہیں گے۔ (6 - 7) رسولوں کی تکذیب کرنے والے عذاب الٰہی میں پکڑے گئے۔ عرب کی پچھلی تاریخ کی طرف اشارہ۔ (8- 11) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان جھٹلانے والوں کو قائل نہیں کرسکتا۔ جو معجزہ یہ مانگتے ہیں وہ بھی ان کو دکھا دو گے جب بھی یہ اپنے انکار سے باز نہیں آئیں گے۔ تم سے پہلے جو رسول آئے اس قماش کے لوگوں نے ان کا بھی مذاق اڑایا۔ بالآخر وہ اس عذاب میں مبتلا ہو کے رہے جس کا انہوں نے مذاق اڑایا۔ ان کو ان کے ملک کی تاریخ کی طرف توجہ دلاؤ۔ (12- 13) آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کی ملکیت ہے۔ اس نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے اس وجہ سے لازم ہے کہ وہ جزا اور سزا کا دن لائے۔ (14 - 18) شرک سے اظہار براءت۔ خیر و شر سب خدا ہی کے ہاتھ میں ہے۔ سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں وہ حکیم وخبیر ہے۔ (19 - 24) توحید اور شرک کے باب میں فیصلہ کن شہادت اللہ کی ہے اور اللہ کی شہادت توحید کے حق میں ہے۔ یہ قرآن اسی شہادت کے ساتھ اترا ہے۔ سچے اہل کتاب بھی اس سے آشنا ہیں، صرف بدبخت ہی ہیں جو اس پر ایمان لانے سے محروم رہیں گے۔ جو لوگ شرک کے مدعی ہیں وہ خدا پر جھوٹ افترا کر رہے ہیں۔ ایسے ظالم فلاح نہیں پائیں گے۔ قیامت کے دن جب ان سے سوال ہوگا کہ تمہارے شرکاء کہاں ہیں تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔ (33 - 39) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ نشانیٔ عذاب کا مطالبہ پورا نہ کیے جانے پر یہ جو تمہارا مذاق اڑا رہے ہیں، یہ چیز تمہارے لیے غم کا باعث نہ بنے۔ یہ تمہارا مذاق نہیں بلکہ خدا کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اس وجہ سے اس معاملے کو خدا پر چھوڑو۔ تم سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں ان کو بھی اسی طرح کے حالات سے سابقہ پیش آیا تو انہوں نے صبر کیا۔ اس کے بعد اللہ کی نصرت ظاہر ہوئی۔ یہی سنت اللہ ہے اور سنت اللہ میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ تمہیں اس معاملے میں پریشان نہیں ہونا چاہیے ایمان تو وہی لائیں گے جن کے اندر کچھ صلاحیت ہے، جن کے دل بالکل مردہ ہوچکے ہیں وہ بڑی سے بڑی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ خدا کے آسمان و زمین نشانیوں سے بھرے پڑے ہیں لیکن جو اندھے ہوچکے ہیں ان کو ان نشانیوں سے کیا فائدہ ؟ (40 - 50) یہ عذاب کی نشانی مانگتے ہیں، ان سے پوچھو کہ اگر خدا کا عذاب آیا تو اس سے بچاؤ کا کیا سامان انہوں نے کر رکھا ہے ؟ پچھلی قوموں کا حوالہ کہ انہوں نے بھی اپنے رسولوں سے نشانیاں مانگیں تو اللہ نے ان کو مختلف مصیبتوں میں مبتلا کیا لیکن خدا کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے ان کے دل اور سخت ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خدا نے ان کی جڑ ہی کاٹ دی۔ پیغمبر کی طرف سے یہ اظہار و اعلان کہ میں خدا کے خزانوں کا مالک اور غیب کا عالم ہونے کا مدعی نہیں ہوں۔ میں تو بس وحی الٰہی کا پیرو ہوں۔ (51 - 55) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ جن کے اندر خدا و آخرت کا خوف موجود ہے وہی اس قرآن سے فائدہ اٹھائیں گے۔ سو ان کو اس ذریعہ سے جگاؤ۔ رہے وہ جو معجزات کے طالب ہیں تو ان کو نظر انداز کرو۔ جو غریب لوگ اللہ کی خوشنودی کے طالب اور تمہاری باتوں کے سننے والے ہیں ان کو ان متکبرین کے مطالبہ پر اپنے سے دور نہ کرو۔ اگر یہ متکبرین اس وجہ سے تمہارے پاس نہیں آتے کہ تمہاری مجلس میں غربا ہوتے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو، تم ان کے ایمان و اسلام کے ذمہ دار نہیں ہو۔ ان کے لیے غریبوں کی غریبی اور ان کی اپنی امیری فتنہ بن گئی ہے۔ تم ان غربائے مسلمین کا بہرحال خیر مقدم کرو اور ان کو بشارت دو ۔ (56 - 67) شرک سے اعلانِ بیزاری کی ہدایت اس لیے کہ اس کی کوئی دلیل نہیں۔ پیغمبر ایک واضح شہادت اپنے پاس رکھتا ہے اور یہ مکذبین اس شہادت کو تو جھٹلاتے ہیں اور نشانی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عذاب کا لانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں، خدا کے اختیار میں ہے۔ ہر جان خا کی مٹھی میں ہے۔ اللہ جب چاہے اور جہاں سے چاہے عذاب بھیج سکتا ہے۔ ہر بات کا ایک وقت مقرر ہے۔ یہ جھٹلانے والے عنقریب جان لیں گے۔ (68 - 70) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ جب دیکھو کہ ان مکذبین کو اعتراض و مخالفت کا بخار چرھ گیا ہے تو ان سے بحث میں نہ الجھو، بلکہ کنارہ کش ہوجاؤ۔ تمہارا کام تذکیر و موعظت ہے، جب دیکھو کہ وہ سننا نہیں چاہتے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ، یہ خود بھگتیں گے، تم ان کے ایمان و اسلام کے ذمہ دار نہیں ہو۔ (71 - 73) ان سے کہہ دو کہ حق واضح ہوجانے اور اللہ کی ہدایت آجانے کے بعد کیا ہماری مت ماری ہوئی کہ ہم صحرا میں گم کردہ راہ قافلے کی طرح بھٹکتے پھریں ؟ ہم تو اب اسی راہ پر چلیں گے جو خدا نے ہمارے لیے کھولی ہے۔ (74- 83) توحید کے ثبوت میں حضرت ابراہیم نے جو دلیل اپنی قوم پر قائم کی اس کا بیان۔ (84 - 90) حضرت ابراہیم سے پہلے اور ان کے بعد ان کی ذریت میں جو انبیا و رسل اس دین توحید کے حامل اٹھے ان کی طرف ایک سرسری اشارہ اور اس بات کی تاکید کہ اصل ہدایت کی راہ یہی ہے جو ان پیغمبروں نے بتائی ہے تو اس پر مضبوطی سے استوار رہو۔ اگر کفار قریش اس کا انکار کرنا چاہتے ہیں تو ان کی پروا نہ کرو۔ اللہ دوسروں کو اس کی تائید و حمایت میں کھڑا کردے گا۔ (91 - 92) یہود کا القا کیا ہوا ایک اعتراض اور اس کا جواب۔ (93 - 94) ان بد دماغوں کی تردید جو دعوی کرتے تھے کہ اگر وہ چاہیں تو وہ بھی اسی طرح کا کلام پیش کرسکتے ہیں جس قسم کا کلام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کی طرف منسوب کر کے پیش کرتے ہیں، انہیں بھی وحی کا تجربہ ہوتا ہے۔ (95- 99) توحید کے آفاقی دلائل۔ (100- 105) شرک کی تردید اور یہ تنبیہ کہ ہدایت تمہارے پاس آچکی، اب جو گمراہی اختیار کرے گا تو ذمہ داری خود اس پر ہے۔ (106- 108) پیغمبر کو مضبوطی سے وحی الٰہی کے اتباع پر جمے رہنے اور مشرکین سے اعراض کی ہدایت اور مسلمانوں کو یہ نصیحت کہ مشرکین کے بتوں اور معبودوں کی بےضرورت تحقیر و تذلیل نہ کی جائے کہ وہ مشتعل ہو کر تمہارے خدا کو برا بھلا کہنے لگیں۔ (109- 111) کفار کی اس قسم کی تردید کہ اگر ان کی طلب کے مطابق ان کو معجزہ دکھا دیا جائے تو وہ ضرور ایمان لائیں گے۔ فرمایا کہ اگر ان کو دنیا جہان کے معجزے دکھا دیے جائیں جب بھی جو ایمان لانے والے نہیں ہیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (112 - 117) اس سنت اللہ کا بیان کہ جب نبی کی دعوت بلند ہوتی ہے تو شیاطین جن و انس کو بھی یہ مہلت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے باطل کو ملمع کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرلیں تاکہ جن کو ان کی راہ اختیار کرنی ہے وہ ان کی راہ اختیار کریں۔ پیغمبر کو یہ ہدایت کہ تم ان الجھنے والوں کو بتا دو کہ جب میرے پاس خدا کی کتاب آچکی ہے تو میں اس کو چھوڑ کر کسی دوسری چیز کی پیروی کس طرح کرسکتا ہوں۔ (118 - 123) مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ تم ورغلانے والوں کی باتوں سے ہوشیار رہو۔ انہوں نے اپنے مشرکانہ عقائد کے تحت جو چیزیں حرام کر رکھی ہیں ان کے باب میں تم ان کی بدعات کی پروا نہ کرو بلکہ وہ چیزیں کھاؤ جن کی حرمت کی کوئی دلیل نہ ملت ابراہیم میں موجود ہے۔ نہ قرآن نے ان کے حرام ہونے کی خبر دی ہے۔ اب خدا نے تمہیں تاریکی سے روشنی میں لا کھڑا کیا ہے تو تم ان لوگوں کی بدعا اور کج بحثیوں کی پروا نہ کرو جو کفر و شرک کے اندھیرے میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ (124 - 127) ان مغروروں کی تردید جو قرآن پر ایمان لانے کی شرط یہ ٹھہراتے تھے کہ جب تک ان پر بھی اسی طرح وحی نہ آئے جس طرح پیغمبر پر آتی ہے اس وقت تک وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ فرمایا کہ نبوت کے مرتبہ بلند کا سزاوار ہر شخص نہیں ہوتا۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ کون اس کا اہل ہے، کون نہیں۔ جو لوگ کبر نفس میں مبتلا ہو کر دنیا اور آخرت دونوں کی سرفرازیوں کا اجارہ دار صرف اپنے کو سمجھتے ہیں وہ اپنے اس غرور کی سزا پائیں گے۔ رہا ایمان لانے اور نہ لانے کا معاملہ تو یہ اللہ کی توفیق پر منحصر ہے اور اس توفیق کے لیے ایک مخصوص سنت الٰہی ہے۔ (128 - 135) آخرت میں جنوں اور انسانوں کے گمراہ لوگ اعتراف کریں گے کہ وہ اتمام حجت کے باوجود محض اپنی شامت اعمال سے اس انجام کو پہنچے۔ قریش کو دھمکی کہ سنبھلنا چاہتے ہو تو اب بھی سنبھل جاؤ ورنہ جس عذاب کی دھمکی تمہیں سنائی جا رہی ہے وہ آ کے رہے گا اور کوئی اس سے بچ نہ سکے گا۔ (136 - 144) مشرکین نے اپنے مشرکانہ عقائد کے تحت کھیتی اور چوپایوں میں سے جن چیزوں کو حرام ٹھہرا لیا تھا یا اپنے دویتاؤں کو راضی کرنے کے لیے انسانی جانوں کی جو قربانیاں پیش کرتے تھے ان کی تردید و مذمت کہ یہ سب باتیں بےسروپا اوہام پر مبنی ہیں۔ عقل، فطرت اور ملت ابراہیم میں ان کی کوئی اصل نہیں ہے۔ (145- 154) اس قرآن کے ذریعہ سے جو اتمام حجت ہوا ہے اس کا بیان۔ اب اس کے بعد بھی اگر لوگ کسی نشانی کے ظہور کے منتطر ہیں تو وہ انتظار کریں، اس قسم کی نشانی دکھانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہے۔ پیغمبر کی طرف سے یہ اعلان کہ خدا نے مجھے ملت ابراہیم کی ہدایت بخشی ہے اور میں اس پر چل کھڑا ہوا ہوں۔ اب جس کا جی چاہے اس صراط مستقیم پر آئے اور جس کا جی چاہے بھٹکتا پھرے۔ اللہ کے ہاں ہر ایک اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader
شکر کا سزاوار اللہ ہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور بنایا تاریکیوں اور روشنی کو، پھر تعجب ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ اپنے رب کے ہم سر ٹھہراتے ہیں۔
هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader
وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک مدت ٹھہرائی اور مدت مقررہ اسی کے علم میں ہے، پھر تعجب ہے کہ تم کج بحثیاں کرتے ہو !
وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader
اور وہی اللہ آسمانوں میں بھی ہے اور وہی زمین میں بھی۔ وہ تمہارے خفیہ اور علانیہ کو جانتا ہے اور جو کمائی تم کر رہے ہو اسے بھی جانتا ہے۔
وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader
اور نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی مگر یہ اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں۔
فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader
سو انہوں نے واضح حق کو بھی جھٹلا دیا جب کہ وہ ان کے پاس آیا تو عنقریب اس چیز کی خبریں ان کے پاس آئیں گی جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے۔
اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا جن کو ہم نے ملک میں وہ قوت و سطوت دے رکھی تھی جو تم کو نہیں دی اور ہم نے ان پر خوب مینہ برسائے اور نہریں جاری کیں جو ان کے نیچے بہتی تھیں، پھر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کردیا اور ان کے بعد ہم نے دوسری قومیں اٹھا کھڑی کیں۔
وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader
اور اگر ہم تم پر کوئی ایسی کتاب اتارتے جو کاغذ میں لکھی ہوئی ہوتی اور یہ اس کو اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے جب بھی یہ کفر کرنے والے یہی کہتے کہ یہ تو بس ایک کھلا ہوا جادو ہے۔
وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader
اور یہ کہتے ہیں کہ اس پر علانیہ کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو بس معاملے کا فیصلہ ہی ہوجاتا۔ پھر ان کو ذرا مہلت نہ ملتی۔
وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader
اور اگر ہم اس کو کوئی فرشتہ بناتے جب بھی آدمی ہی کی شکل میں بناتے تو جو گھپلا وہ پیدا کر رہے ہیں ہم اسی میں ان کو ڈال دیتے۔
وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader
اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو جن لوگوں نے ان میں سے مذاق اڑایا ان کو اس چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader
کہو، ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔
قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader
ان سے پوچھو، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ کہہ دو اللہ ہی کا ہے۔ اس نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے۔ وہ تم کو جمع کر کے ضرور لے جائے گا قیامت کے دن کی طرف جس میں ذرا شبہ نہیں۔ جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا وہی ہیں جو اس پر ایمان نہیں لاتے۔
وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader
اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے جو چیز شب میں ساکن ہوتی ہے اور جو دن میں متحرک ہوتی ہے اور وہ سمیع وعلیم ہے۔
قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader
کہو کیا میں اللہ کے سوا، جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے، کسی اور کو اپنا کارساز بناؤں اور وہ کھلاتا ہے کھاتا نہیں، کہہ دو مجھے تو حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں اور تم ہرگز مشرکوں میں سے نہ بنو۔
قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader
کہہ دو کہ اگر میں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی تو میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader
جو شخص اس دن اس سے دور رکھا گیا در حقیقت وہی ہے جس پر خدا نے رحم فرمایا اور یہی کھلی کامیابی ہے۔
وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader
اور اگر اللہ تجھ کو کسی دکھ میں مبتلا کرے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو اس کا دور کرنے والا بن سکے اور اگر کسی خیر سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader
اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے۔
قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader
پوچھو شہادت کے لیے سب سے بڑا کون ہے ؟ کہو، اللہ، وہ یرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے کہ میں بھی اس کے ذریعہ سے تم کو ڈراؤں اور وہ بھی جن کو یہ پہنچے۔ کیا تم اس بات کے گواہ بنتے ہو کہ خدا کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہیں ؟ کہہ دو میں اس کی گواہی نہیں دیتا، کہہ دو وہ تو بس ایک ہی معبود ہے اور میں ان سے بری ہوں جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو۔
اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader
جن کو ہم نے کتاب عطا کی وہ اس کو پہچانتے ہیں جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا وہی ہیں جو اس پر ایمان نہیں لاتے۔
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیات کی تکذیب کی۔ یشک یہ ظالم فلاح پانے والے نہیں۔
وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader
یاد کرو اس دن کو جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے پھر پوچھیں گے ان شریک ٹھہرانے والوں سے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم ہمارا شریک گمان کرتے تھے ؟
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader
پھر ان کے فریب کا پردہ چاک ہوجائے گا مگر یہ کہ وہ کہیں گے کہ اللہ اپنے رب کی قسم ! ہم مشرک نہیں تھے۔
اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader
دیکھو، یہ کس طرح اپنے آپ پر جھوٹ بولے اور ان کا سارا افترا ہوا ہوگیا۔
وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader
اور ان میں ایسے بھی ہیں جو تمہاری بات پر کان لگاتے ہیں لیکن ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ ان کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں بہرا پن پیدا کردیا ہے کہ اس کو نہ سن سکیں اور اگر وہ ہر قسم کی نشانیاں دیکھ لیں گے تو بھی ان پر ایمان نہیں لائیں گے۔ یہاں تک کہ جب یہ تمہارے پاس حجت کرتے آئیں گے تو یہ کافر کہیں گے کہ یہ تو بس اگلوں کا فسانہ ہے۔
وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader
اور یہ اس سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی گریز کرتے ہیں اور یہ درحقیقت اپنے ہی کو تباہ کر رہے ہیں لیکن احساس نہیں کر رہے ہیں۔
وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader
اور اگر تم اس وقت کو دیکھ پاتے جب یہ دوزخ کے کنارے پر کھڑے کیے جائیں گے، پس کہیں گے کہ کاش ہم پھر واپس کیے جائیں کہ مانیں اور اپنے رب کی آیات کی تکذیب نہ کریں اور ایمان والوں میں سے بنیں۔
بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader
بلکہ یہ تو ان پر وہی حقیقت ظاہر ہوئی ہے جو اس سے پہلے اپنے دل میں چھپاتے تھے۔ اور اگر یہ لوٹائے جائیں تو وہی کریں گے جس سے روکے گئے۔ یہ بالکل جھوٹے ہیں۔