6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة انعام کا تعارف اور مضامین الف۔ سورتوں کے دوسرے گروپ پر ایک اجمالی نظر : سورة مائدہ پر، جیسا کہ ہم مقدمے میں واضح کرچکے ہیں، سورتوں کا پہلا گروپ تمام ہوا۔ اب یہ انعام سے۔ دوسرا گروپ شروع ہورہا ہے۔ اس میں چار سورتیں ہیں۔ انعام، اعراف، انفال، براءت۔ انعام اور اعراف مکی ہیں، انفال اور براءت مدنی۔ انعام و اعراف دونوں میں خطاب اہل مکہ سے ہے۔ انعام میں توحید، معاد اور رسالت کے بنیادی مسائل زیر بحث آئے ہیں اور اصل دین ابراہیم کی وضاحت کی گئی ہے۔ بنائے استدلال تمام تر عقل و فطرت اور آفاق وانفس کے شواہد پر ہے یا پھر ان مسلمات پر جن کو اہل عرب تسلیم بھی کرتے تھے اور جو صحیح بھی تھے۔ اعراف میں انذار کا پہلو غالب ہے۔ اس میں قریش پر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ کسی قوم کے اندر ایک رسول کی بعثت کے مقتضیات و تضمنات کیا ہوتے ہیں، اس باب میں اللہ تعالیٰ کے قاعدے اور ضابطے کیا ہیں، اگر کوئی قوم اپنے رسول کی تکذیب پر جم جاتی ہے تو اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں، اس معاملے میں تاریخ کی شہادت کیا ہے اور اگر وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی اس روش سے باز نہ آئے تو اسے اپنے لیے کس روز بد کا انتظار کرنا چاہیے۔ انفال میں مسلمانوں کو اپنی کمزوریاں دور کر کے اللہ اور رسول کی اطاعت پر مجتمع ہونے اور کفارِ قریش سے جہاد پر ابھارا ہے۔ قریش کے متعلق صاف صاف یہ اعلان فرمایا ہے کہ ان کو بیت اللہ پر قابض رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس وراثتِ ابراہیمی کے حق دار مسلمان ہیں نہ کہ قریش۔ مسلمانوں کو ہدایت دی ہے کہ تم ان سے مرعوب نہ ہو، اب ان کے لیے ذلت اور عذاب کا وقت آچکا ہے۔ اگر یہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو منہ کی کھائیں گے اور دنیا و آخرت دونوں میں کوئی بھی ان کو پناہ دینے والا نہیں ہوگا سورة براءت میں کھلم کھلا قریش کو الٹی میٹم ہے۔ ان کے لیے صرف دو راہیں کھلی چھوڑی گئی ہیں۔ اسلام یا تلوار۔ مسلمانوں کو ان سے ہر قسم کے روابط قطع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جو مسلمان رشتہ و قرابت کی بنا پر ان سے در پردہ تعلق رکھتے تھے ان کو سخت سرزنش کی گئی ہے اور ان کے سامنے بھی واضح طور پر دو شکلیں رکھ دی گئی ہیں، یا تو اپنے آپ کو نفاق کی تمام آلائشوں سے پاک کر کے سچے اور پکے مسلمان بن جائیں یا پھر اسی انجام سے دو چار ہونے کے لیے تیار ہوجائیں جو اللہ و رسول کے ان دشمنوں کا ہونے والا ہے۔ اس روشنی میں اگر تدبر کے ساتھ آپ اس گروپ کی تلاوت کریں گے تو معلوم ہوگا کہ ان چاروں سورتوں میں نہایت گہری حکیمانہ ترتیب ہے۔ انعام میں قریش پر اتمامِ حجت ہے، اعراف میں ان کو انذار ہے، انفال میں مسلمانوں کو جہاد کی تیاری کی ہدایت اور بیت اللہ کی تولیت سے قریش کی معزولی کا فیصلہ ہے۔ براءت میں قریش کو الٹی میٹم اور منافقین کو آخری تہدید ہے۔ پہلے گروپ میں اصل بحث اہل کتاب سے تھی، قریش سے اگر کہیں خطاب ہوا تھا تو ضمناً ۔ برعکس اس کے اس گروپ میں اصل خطاب قریش سے ہے۔ اہل کتاب کا اس میں ذکر آیا ہے تو ضمناً ۔ مواد استدلال میں بھی مخاطب کے اختلاف کے لحاظ سے بنیادی فرق ہے۔ اس گروپ میں بیشتر استدلال عقل و فطرت اور آفاق وانفس کے شواہد سے ہے اور پہلے گروپ میں اہل کتاب کے تعلق سے وہ ساری چیزیں استدلال کے طور پر استعمال ہوئی ہیں جن کو اہل کتاب مانتے تھے۔ پہلے گروپ میں اہل کتاب کو امامت کے منصبت سے معزول کیا گیا ہے اور ان کی جگہ مسلمانوں کو دی گئی ہے۔ اس گروپ میں قریش کو بیت اللہ کی تولیت سے معزول کیا گیا ہے اور اس کی خدمت امت مسلمہ کے سپرد کی گئی ہے۔ یہ پورے گروپ پر ایک اجمالی تبصرہ ہوا۔ اب ہم اس کی ایک ایک سورة کو الگ الگ لے کر اس کی تفسیر کریں گے۔ گروپ کی پہلی سورة انعام ہے۔ اب ہم اللہ کا نام لے کر اس کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔ وبید اللہ التوفیق۔ ب۔ سورة کا عمود : سورة انعام میں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مخاطب قریش ہیں۔ ان کے سامنے توحید، معاد اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے دلائل واضح کرتے ہوئے ان کو ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے اور ساتھ ہی یہ تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نے یہ دعوت قبول نہ کی تو اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے ان کو تیار رہنا چاہیے جس سے رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کو دوچار ہونا پڑا۔ اہل عرب چونکہ حضرت ابراہیم کی اولاد تھے اور ان کا دعوی یہ تھا کہ جس مذہب پر وہ ہیں یہ ان کو حضرت ابراہیم ہی سے وراثت میں ملا ہے اس وجہ سے اس سورة میں اس حجت کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے جو حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی تاکہ قریش پر یہ واضح ہوجائے کہ اصل ملت ابراہیم کیا ہے اور اس کے حقیقی پیرو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ ہیں یا قریش۔ سورة کے اس عمود کو پیش نظر رکھتے ہوئے اب ایک اجمالی نظر سورة کے مطالب پر ڈالیے۔ ج۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ : (1-5) ۔ توحید اور معاد کے بعض واضح دلائل کی طرف اشارہ۔ بالکل بدیہی حقائق سے اعراض پر اظہارِ تعجب۔ قرآن کی تکذیب ایک امر حق کی تکذیب ہے جس کا خمیازہ یہ بھگتیں گے۔ قرآن انہیں جن نتائج کی خبر دے رہا ہے وہ سب پیش آ کے رہیں گے۔ (6 - 7) رسولوں کی تکذیب کرنے والے عذاب الٰہی میں پکڑے گئے۔ عرب کی پچھلی تاریخ کی طرف اشارہ۔ (8- 11) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان جھٹلانے والوں کو قائل نہیں کرسکتا۔ جو معجزہ یہ مانگتے ہیں وہ بھی ان کو دکھا دو گے جب بھی یہ اپنے انکار سے باز نہیں آئیں گے۔ تم سے پہلے جو رسول آئے اس قماش کے لوگوں نے ان کا بھی مذاق اڑایا۔ بالآخر وہ اس عذاب میں مبتلا ہو کے رہے جس کا انہوں نے مذاق اڑایا۔ ان کو ان کے ملک کی تاریخ کی طرف توجہ دلاؤ۔ (12- 13) آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کی ملکیت ہے۔ اس نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے اس وجہ سے لازم ہے کہ وہ جزا اور سزا کا دن لائے۔ (14 - 18) شرک سے اظہار براءت۔ خیر و شر سب خدا ہی کے ہاتھ میں ہے۔ سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں وہ حکیم وخبیر ہے۔ (19 - 24) توحید اور شرک کے باب میں فیصلہ کن شہادت اللہ کی ہے اور اللہ کی شہادت توحید کے حق میں ہے۔ یہ قرآن اسی شہادت کے ساتھ اترا ہے۔ سچے اہل کتاب بھی اس سے آشنا ہیں، صرف بدبخت ہی ہیں جو اس پر ایمان لانے سے محروم رہیں گے۔ جو لوگ شرک کے مدعی ہیں وہ خدا پر جھوٹ افترا کر رہے ہیں۔ ایسے ظالم فلاح نہیں پائیں گے۔ قیامت کے دن جب ان سے سوال ہوگا کہ تمہارے شرکاء کہاں ہیں تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔ (33 - 39) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ نشانیٔ عذاب کا مطالبہ پورا نہ کیے جانے پر یہ جو تمہارا مذاق اڑا رہے ہیں، یہ چیز تمہارے لیے غم کا باعث نہ بنے۔ یہ تمہارا مذاق نہیں بلکہ خدا کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اس وجہ سے اس معاملے کو خدا پر چھوڑو۔ تم سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں ان کو بھی اسی طرح کے حالات سے سابقہ پیش آیا تو انہوں نے صبر کیا۔ اس کے بعد اللہ کی نصرت ظاہر ہوئی۔ یہی سنت اللہ ہے اور سنت اللہ میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ تمہیں اس معاملے میں پریشان نہیں ہونا چاہیے ایمان تو وہی لائیں گے جن کے اندر کچھ صلاحیت ہے، جن کے دل بالکل مردہ ہوچکے ہیں وہ بڑی سے بڑی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ خدا کے آسمان و زمین نشانیوں سے بھرے پڑے ہیں لیکن جو اندھے ہوچکے ہیں ان کو ان نشانیوں سے کیا فائدہ ؟ (40 - 50) یہ عذاب کی نشانی مانگتے ہیں، ان سے پوچھو کہ اگر خدا کا عذاب آیا تو اس سے بچاؤ کا کیا سامان انہوں نے کر رکھا ہے ؟ پچھلی قوموں کا حوالہ کہ انہوں نے بھی اپنے رسولوں سے نشانیاں مانگیں تو اللہ نے ان کو مختلف مصیبتوں میں مبتلا کیا لیکن خدا کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے ان کے دل اور سخت ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خدا نے ان کی جڑ ہی کاٹ دی۔ پیغمبر کی طرف سے یہ اظہار و اعلان کہ میں خدا کے خزانوں کا مالک اور غیب کا عالم ہونے کا مدعی نہیں ہوں۔ میں تو بس وحی الٰہی کا پیرو ہوں۔ (51 - 55) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ جن کے اندر خدا و آخرت کا خوف موجود ہے وہی اس قرآن سے فائدہ اٹھائیں گے۔ سو ان کو اس ذریعہ سے جگاؤ۔ رہے وہ جو معجزات کے طالب ہیں تو ان کو نظر انداز کرو۔ جو غریب لوگ اللہ کی خوشنودی کے طالب اور تمہاری باتوں کے سننے والے ہیں ان کو ان متکبرین کے مطالبہ پر اپنے سے دور نہ کرو۔ اگر یہ متکبرین اس وجہ سے تمہارے پاس نہیں آتے کہ تمہاری مجلس میں غربا ہوتے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو، تم ان کے ایمان و اسلام کے ذمہ دار نہیں ہو۔ ان کے لیے غریبوں کی غریبی اور ان کی اپنی امیری فتنہ بن گئی ہے۔ تم ان غربائے مسلمین کا بہرحال خیر مقدم کرو اور ان کو بشارت دو ۔ (56 - 67) شرک سے اعلانِ بیزاری کی ہدایت اس لیے کہ اس کی کوئی دلیل نہیں۔ پیغمبر ایک واضح شہادت اپنے پاس رکھتا ہے اور یہ مکذبین اس شہادت کو تو جھٹلاتے ہیں اور نشانی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عذاب کا لانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں، خدا کے اختیار میں ہے۔ ہر جان خا کی مٹھی میں ہے۔ اللہ جب چاہے اور جہاں سے چاہے عذاب بھیج سکتا ہے۔ ہر بات کا ایک وقت مقرر ہے۔ یہ جھٹلانے والے عنقریب جان لیں گے۔ (68 - 70) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ جب دیکھو کہ ان مکذبین کو اعتراض و مخالفت کا بخار چرھ گیا ہے تو ان سے بحث میں نہ الجھو، بلکہ کنارہ کش ہوجاؤ۔ تمہارا کام تذکیر و موعظت ہے، جب دیکھو کہ وہ سننا نہیں چاہتے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ، یہ خود بھگتیں گے، تم ان کے ایمان و اسلام کے ذمہ دار نہیں ہو۔ (71 - 73) ان سے کہہ دو کہ حق واضح ہوجانے اور اللہ کی ہدایت آجانے کے بعد کیا ہماری مت ماری ہوئی کہ ہم صحرا میں گم کردہ راہ قافلے کی طرح بھٹکتے پھریں ؟ ہم تو اب اسی راہ پر چلیں گے جو خدا نے ہمارے لیے کھولی ہے۔ (74- 83) توحید کے ثبوت میں حضرت ابراہیم نے جو دلیل اپنی قوم پر قائم کی اس کا بیان۔ (84 - 90) حضرت ابراہیم سے پہلے اور ان کے بعد ان کی ذریت میں جو انبیا و رسل اس دین توحید کے حامل اٹھے ان کی طرف ایک سرسری اشارہ اور اس بات کی تاکید کہ اصل ہدایت کی راہ یہی ہے جو ان پیغمبروں نے بتائی ہے تو اس پر مضبوطی سے استوار رہو۔ اگر کفار قریش اس کا انکار کرنا چاہتے ہیں تو ان کی پروا نہ کرو۔ اللہ دوسروں کو اس کی تائید و حمایت میں کھڑا کردے گا۔ (91 - 92) یہود کا القا کیا ہوا ایک اعتراض اور اس کا جواب۔ (93 - 94) ان بد دماغوں کی تردید جو دعوی کرتے تھے کہ اگر وہ چاہیں تو وہ بھی اسی طرح کا کلام پیش کرسکتے ہیں جس قسم کا کلام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کی طرف منسوب کر کے پیش کرتے ہیں، انہیں بھی وحی کا تجربہ ہوتا ہے۔ (95- 99) توحید کے آفاقی دلائل۔ (100- 105) شرک کی تردید اور یہ تنبیہ کہ ہدایت تمہارے پاس آچکی، اب جو گمراہی اختیار کرے گا تو ذمہ داری خود اس پر ہے۔ (106- 108) پیغمبر کو مضبوطی سے وحی الٰہی کے اتباع پر جمے رہنے اور مشرکین سے اعراض کی ہدایت اور مسلمانوں کو یہ نصیحت کہ مشرکین کے بتوں اور معبودوں کی بےضرورت تحقیر و تذلیل نہ کی جائے کہ وہ مشتعل ہو کر تمہارے خدا کو برا بھلا کہنے لگیں۔ (109- 111) کفار کی اس قسم کی تردید کہ اگر ان کی طلب کے مطابق ان کو معجزہ دکھا دیا جائے تو وہ ضرور ایمان لائیں گے۔ فرمایا کہ اگر ان کو دنیا جہان کے معجزے دکھا دیے جائیں جب بھی جو ایمان لانے والے نہیں ہیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (112 - 117) اس سنت اللہ کا بیان کہ جب نبی کی دعوت بلند ہوتی ہے تو شیاطین جن و انس کو بھی یہ مہلت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے باطل کو ملمع کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرلیں تاکہ جن کو ان کی راہ اختیار کرنی ہے وہ ان کی راہ اختیار کریں۔ پیغمبر کو یہ ہدایت کہ تم ان الجھنے والوں کو بتا دو کہ جب میرے پاس خدا کی کتاب آچکی ہے تو میں اس کو چھوڑ کر کسی دوسری چیز کی پیروی کس طرح کرسکتا ہوں۔ (118 - 123) مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ تم ورغلانے والوں کی باتوں سے ہوشیار رہو۔ انہوں نے اپنے مشرکانہ عقائد کے تحت جو چیزیں حرام کر رکھی ہیں ان کے باب میں تم ان کی بدعات کی پروا نہ کرو بلکہ وہ چیزیں کھاؤ جن کی حرمت کی کوئی دلیل نہ ملت ابراہیم میں موجود ہے۔ نہ قرآن نے ان کے حرام ہونے کی خبر دی ہے۔ اب خدا نے تمہیں تاریکی سے روشنی میں لا کھڑا کیا ہے تو تم ان لوگوں کی بدعا اور کج بحثیوں کی پروا نہ کرو جو کفر و شرک کے اندھیرے میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ (124 - 127) ان مغروروں کی تردید جو قرآن پر ایمان لانے کی شرط یہ ٹھہراتے تھے کہ جب تک ان پر بھی اسی طرح وحی نہ آئے جس طرح پیغمبر پر آتی ہے اس وقت تک وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ فرمایا کہ نبوت کے مرتبہ بلند کا سزاوار ہر شخص نہیں ہوتا۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ کون اس کا اہل ہے، کون نہیں۔ جو لوگ کبر نفس میں مبتلا ہو کر دنیا اور آخرت دونوں کی سرفرازیوں کا اجارہ دار صرف اپنے کو سمجھتے ہیں وہ اپنے اس غرور کی سزا پائیں گے۔ رہا ایمان لانے اور نہ لانے کا معاملہ تو یہ اللہ کی توفیق پر منحصر ہے اور اس توفیق کے لیے ایک مخصوص سنت الٰہی ہے۔ (128 - 135) آخرت میں جنوں اور انسانوں کے گمراہ لوگ اعتراف کریں گے کہ وہ اتمام حجت کے باوجود محض اپنی شامت اعمال سے اس انجام کو پہنچے۔ قریش کو دھمکی کہ سنبھلنا چاہتے ہو تو اب بھی سنبھل جاؤ ورنہ جس عذاب کی دھمکی تمہیں سنائی جا رہی ہے وہ آ کے رہے گا اور کوئی اس سے بچ نہ سکے گا۔ (136 - 144) مشرکین نے اپنے مشرکانہ عقائد کے تحت کھیتی اور چوپایوں میں سے جن چیزوں کو حرام ٹھہرا لیا تھا یا اپنے دویتاؤں کو راضی کرنے کے لیے انسانی جانوں کی جو قربانیاں پیش کرتے تھے ان کی تردید و مذمت کہ یہ سب باتیں بےسروپا اوہام پر مبنی ہیں۔ عقل، فطرت اور ملت ابراہیم میں ان کی کوئی اصل نہیں ہے۔ (145- 154) اس قرآن کے ذریعہ سے جو اتمام حجت ہوا ہے اس کا بیان۔ اب اس کے بعد بھی اگر لوگ کسی نشانی کے ظہور کے منتطر ہیں تو وہ انتظار کریں، اس قسم کی نشانی دکھانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہے۔ پیغمبر کی طرف سے یہ اعلان کہ خدا نے مجھے ملت ابراہیم کی ہدایت بخشی ہے اور میں اس پر چل کھڑا ہوا ہوں۔ اب جس کا جی چاہے اس صراط مستقیم پر آئے اور جس کا جی چاہے بھٹکتا پھرے۔ اللہ کے ہاں ہر ایک اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

شکر کا سزاوار اللہ ہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور بنایا تاریکیوں اور روشنی کو، پھر تعجب ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ اپنے رب کے ہم سر ٹھہراتے ہیں۔

توحید کی دلیل عرب کے مسلمات سے : لفظ ‘ حمد ’ کی تحقیق تفسیر سورة فاتحہ میں گزر چکی ہے اور یہ بات بھی اس کتاب میں بار بار بیان ہوچکی ہے کہ مشرکین عرب آسمان و زمین اور نور و ظلمت سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ یہاں قرآن نے ان کے اسی مسلمہ پر توحید کی دلیل قائم کی ہے کہ جب یہ تسلیم ہے کہ آسمانوں اور زمین اور نور و ظلمت سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ یہاں قرآن نے ان کے اسی مسلمہ پر توحید کی دلیل قائم کی ہے کہ جب یہ تسلیم ہے کہ آسمانوں اور زمین اور نور و ظلمت کا خالق اللہ ہی ہے تو پھر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ یہ کفار دوسروں کو خدا کا ہم سر اور شریک ٹھہراتے ہیں۔ ‘ ثُمَّ ’ کا اظہارِ تعجب کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں اور آگے والی آیت میں بھی اظہار تعجب ہی کے مفہوم میں ہے۔ شرک پر اظہار تعجب کا ایک پہلو تو یہی ہے کہ جب ساری چیزوں کا خالق خدا ہی ہے تو پھر شرک کی گنجائش کہاں سے نکلی ؟ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کائنت کی چیزوں میں بظاہر جو تضاد نظر آتا ہے مثلا زمین اور آسمان، روشنی اور تاریکی، سردی اور گرمی، تو اس تضاد کے اندر اس کائنات کے مجموعی مقصد کے لیے ایسی حیرت انگیز ساز گاری بھی ہے کہ کوئی عاقل تصور بھی نہیں کرسکتا کہ ان میں سے ہر ایک کے خالق ومالک الگ الگ ہیں۔ بلکہ ہر صاحب نظریہ ماننے پر مجبور ہے کہ پوری کائنات ایک ہی کار فرما کے ارادے اور مشیت کے تحت حرکت کر رہی ہے۔
Ayah 6:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک مدت ٹھہرائی اور مدت مقررہ اسی کے علم میں ہے، پھر تعجب ہے کہ تم کج بحثیاں کرتے ہو !

خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ سے مقصود انسان کی ابتدائی خلقت کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ فرمایا“ وبدا خلق الانسان من طین : اور انسان کی خلقت کا آغاز مٹی سے کیا ”(سجدہ :7) تمام ارضی مخلوقات کی زندگی کا آغاز مٹی ہی سے ہوا ہے۔ اس مضمون کو قرآن نے بار بار مختلف شکلوں سے بیان کیا ہے اور اس سے عام طور پر دو حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی ہے، ایک تو انسان کے بےحقیقتی کی طرف کہ مٹی سے پیدا ہونے والی مخلوق کو اپنی ہستی پر زیادہ مغرور نہیں ہونا چاہیے، دوسرے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کیے جانے پر کہ جب انسان کو خدا نے مٹی سے پیدا کیا اور اس پیدا کرنے میں اس کو کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو اب دوبارہ اس کے پیدا کرنے سے وہ کیوں عاجز رہے گا۔ یہاں اسی دوسری حقیقت کو واضح کرنے کے لیے اس کا ذکر ہوا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا ہے وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ أَئِذَا كُنَّا تُرَابًا أَئِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ الأغْلالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ : اور اگر تم تعجب کرنا چاہو تو نہایت ہی عجیب ہے ان کی یہ بات کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو کیا دوبارہ نئی خلقت میں آئیں گے (الرعد :5)۔ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ : جس طرح ہم نے پہلی بار مٹی سے بنایا ہے اسی طرح مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ اس کو پیدا کردیں گے، یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے، یہ ہم کر کے رہیں گے (انبیا :104)۔ وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ : روم اور وہی ہے جو خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اعادہ اس کے لیے سہل ہے (روم :27)۔ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا۔ اجل کے مختلف مفہوم : اجل کے معنی مدت مقررہ کے ہیں۔ اجل یا اجل مسمعی کا لفظ فرد یا اقوام کے تعلق سے مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایک تو اس مدت حیات کے لیے جو ہر فرد کو تقدیر کی طرف سے ملی ہے، دوسرے اس روز بعث کے لیے استعمال ہوا ہے جو خلق کے اٹھائے جانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے۔ تیسرے اس مقررہ پیمانہ کے لیے استعمال ہوا ہے جو کسی قوم کی ہلاکت کے لیے مقرر ہے۔ پہلے معنی کے لیے نظیر آیت زیر بحث میں بھی ہے اور اسی سورة کی آیت 60 میں بھی۔ فرمایا ہے“ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَى أَجَلٌ مُسَمًّى ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ : اور وہی خدا ہے جو تمہیں وفات دیتا ہے شب میں اور وہ جانتا ہوتا ہے جو کچھ تم نے دن میں کیا ہوتا ہے، پھر وہ تم کو دوسرے دن میں اٹھاتا ہے تاکہ تمہاری مقررہ مدت پوری کی جائے، پھر اسی کی طرف تمہارا لوٹنا ہوگا، پھر وہ تم کو آگاہ کرے گا ان سارے کاموں سے جو تم کرتے رہے ہو ”۔ دوسرے معنی کے لیے نظیر آیت زیر بحث میں ہے۔ اس میں ‘ اجل ’ کا ذکر دو مرتبہ ہے۔ ایک اجل تو ظاہر ہے کہ وہی ہے جو ہر فرد کی مدت حیات کے طور پر مقرر ہے، دوسری ‘ اجل ’ جس کے ساتھ ‘ مسمی ’ کی صفت لگی ہوئی ہے۔ قرینہ دلیل ہے کہ اس سے وہ مدت مقررہ مراد ہے جو خلق کے اٹھائے جانے کے لیے مقرر ہے۔ تیسرے معنی کے لیے نظیر آیت وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلا يَسْتَقْدِمُونَ (اعراف :34) ، اور اس مضمون کی دوسری آیات میں ہے، اس ‘ اجل ’ سے، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، وہ مقررہ پیمانہ مراد ہے جو کسی قوم کے اخلاقی زوال کی اس آخری حد کی خبر دیتا ہے جب قانونِ الٰہی اس کو تباہ کردیتا ہے۔ یہ پیمانہ افراد کی مدت حیات کی طرح نہیں ہے کہ کوئی نیک ہو یا بد، جو مدت حیات اس کے لیے مقرر ہے اس کے ختم ہوجانے پر وہ لازماً مر جاتا ہے بلکہ یہ اخلاقی قوانین کے تابع ہے، جب تک کوئی قوم اپنے ایمان و کردار کو محفوظ رکھے گی خدا اس کو قائم رکھے گا، یہاں تک کہ وہ اجل مسمی آجائے جو اس پوری کائنات کے لیے خدا کی طرف سے مقرر ہے۔ اس پیمانہ کے اخلاقی ہونے کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ ایک قوم کا پیمانہ لبریز ہونے کی آخری حد پر پہنچ رہا ہو اور اس کی اجل مسمی آئی کھڑی ہو لیکن سوئی کے آخری نقطہ پر پہنچنے سے پہلے ہی وہ قوم توبہ اور اصلاح کے ذریعہ سے اپنے زندہ رہنے کا حق پھر بحال کرلے۔ یہاں ہم اشارے پر کفایت کرتے ہیں۔ انشاء اللہ سورة نوح کی تفسیر میں اس نکتہ پر تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے۔ ‘ امتراء ’‘ مری ’ سے ہے جس کے معنی متھنے، مسلنے، نچوڑنے کے ہیں ‘ امتری اللبن ’ کے معنی ہوں گے اس نے تھن سے دودھ نچوڑا۔ یہیں سے یہ لفظ اس بحث وجدال کے لیے استعمال ہوا جس میں کوئی کٹ حجتی کرنے والا مناظر اس اس بات میں سے بھی شک و اعتراض کا کوئی پہلو نکال ہی لے جس میں اعتراض و بحث کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہی خدا ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے تمہیں بھی انکار نہیں۔ پھر ہر ایک کے لیے اس نے زندگی کی ایک مدت ٹھہرا دی۔ یہ نہیں ہے کہ جو پیدا ہوتا ہے وہ غیر فانی ہو کر پیدا ہوتا ہو، پھر اس میں کیا شک کی گنجائش ہے کہ جس خدا نے تمہیں مٹی سے بنایا وہ تمہیں دوبارہ اسی مٹی سے اٹھا کھڑا کرے گا۔ اس کے لیے اس نے ایک مدت مقرر کر رکھی ہے جس کا علم صرف اسی کو ہے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے جس میں کسی بحث وجدال کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن تم ہر بات میں کٹ حجتی کی کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے ہو۔
Ayah 6:3

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور وہی اللہ آسمانوں میں بھی ہے اور وہی زمین میں بھی۔ وہ تمہارے خفیہ اور علانیہ کو جانتا ہے اور جو کمائی تم کر رہے ہو اسے بھی جانتا ہے۔

یعنی زمین و آسمان میں الگ الگ الٰہ نہیں ہیں بلکہ وہی اللہ آسمان و زمین دونوں کا مالک ہے اور دونوں میں اسی کا حکم چل رہا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا ہے“ وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَهٌ وَفِي الأرْضِ إِلَهٌ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ : وہی ہے جو آسمان کا بھی معبود ہے اور وہی زمین کا بھی معبود نہیں ہے اور وہ علیم و حکیم ہے ”(زخرف :84)۔ آسمان و زمین دونوں کا قیام و بقا ہی اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ ان دونوں کے اندر ایک ہی خدا کا ارادہ کار فرما ہے۔ اگر ان کے اندر الگ الگ ارادے کار فرما ہوتے تو جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے، دونوں درہم برہم ہوجاتے۔ یہ مشرکین کے اس خیال کی تردید ہے کہ آسمان و زمین کا خالق تو خدا ہی ہے لیکن چونکہ زمین اس کی مملکت کا دور دراز حصہ ہے اس وجہ سے اس نے اس کا انتظام و انصرام اپنے دوسرے کارندوں کے سپرد کر رکھا ہے۔ فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے۔ آسمان و زمین سب براہ راست اسی کے کنٹرول میں ہیں اور اس کا علم تمہارے ظاہر و باطن اور تمہارے قول و فعل ہر چیز پر محیط ہے اس وجہ سے اس کو اپنی اس مملکت میں کسی مددگار کی احتیاج بھی نہیں ہے۔ توحید اور معاد کا باہمی تعلق : توحید کا یہ مضمون اوپر قیامت والے مضمون کی تاکید ہے۔ یہ حقیقت قرآن میں بار بار واضح کی گئی ہے کہ قیامت کا ماننا اس لیے ضروری ہے کہ قیامت کو مانے بغیر یہ سارا کارخانہ ایک کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتا ہے اور یہی بات اس صورت میں بھی لازم آتی ہے جب قیامت کے ساتھ شرک اور شفاعت باطل کی گنجائش تسلیم کرلی جائے۔ اس لیے کہ جب شرکا اپنے پرستاروں کو بہرصورت بخشوا لیں گے، جیسا کہ مشرکین کا دعوی ہے، خواہ ان کے اعمال کچھ ہی ہوں تو پھر قیامت کا آنا نہ آنا دونوں یکساں ہی رہا۔
Ayahs 6:4–5

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی مگر یہ اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں۔

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

سو انہوں نے واضح حق کو بھی جھٹلا دیا جب کہ وہ ان کے پاس آیا تو عنقریب اس چیز کی خبریں ان کے پاس آئیں گی جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے۔

4 - 5: تکذیب حق کا انجام اور تاریخ کی شہادت : یعنی توحید اور قیامت کی ان باتوں کی تکذیب کی کوئی گنجائش تو نہیں ہے لیکن یہ لوگ اللہ کی آیات سے اعراض کر رہے ہیں اور اس طرح انہوں نے اس حق کو جھٹلایا ہے جو اللہ کی طرف سے ان کے پاس آیا ہے، تو عنقریب اس چیز کی خبریں ان کے پاس آئیں گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ یہاں ‘ حق ’ سے مراد قرآن مجید ہے۔ قرآن، پیغمبر کی تکذیب کی صورت میں جس عذاب سے ڈرا رہا تھا لوگ اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ فرمایا کہ جس عذاب کا مذاق اڑا رہے ہیں اس کے آثار کے ظہور میں زیادہ دیر نہیں ہے۔
Ayah 6:6

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا جن کو ہم نے ملک میں وہ قوت و سطوت دے رکھی تھی جو تم کو نہیں دی اور ہم نے ان پر خوب مینہ برسائے اور نہریں جاری کیں جو ان کے نیچے بہتی تھیں، پھر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کردیا اور ان کے بعد ہم نے دوسری قومیں اٹھا کھڑی کیں۔

یہ تاریخ کی شہادت پیش کی گئی ہے اوپر والے دعوے پر۔ مطلب یہ ہے کہ قریش کو یہ غرہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان کو بڑی قوت و شوکت حاصل ہے، ان کو ہلایا نہیں جاسکتا۔ ان سے پہلے کتنی قومیں گزری ہیں جن کو ان سے زیادہ اقتدار حاصل ہوا، ان کو رزق و فضل میں سے بھی ان سے کہیں زیادہ حصہ ملا لیکن جب انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تو خدا نے ان کو ہلاک کردیا اور ان کے بعد ان کی جگہ دوسری قومیں اٹھا کھڑی کیں۔ یہاں تاریخ کا یہ حوالہ اجمال کے ساتھ آیا ہے۔ اس کی پوری تفصیل اعراف میں آئے گی جو اس سورة کے مثنی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ ‘ سما ’ کا لفظ بادلوں کے لیے بھی آتا ہے۔ ‘ مدراراً ’ کے اندر مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے اور بارش کی کثرت رزق و فضل کی کثرت کی تعبیر ہے۔ ملاحظہ سورة ہود آیت 52 اور سورة نوح آیت 11۔
Ayahs 6:7–8

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اور اگر ہم تم پر کوئی ایسی کتاب اتارتے جو کاغذ میں لکھی ہوئی ہوتی اور یہ اس کو اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے جب بھی یہ کفر کرنے والے یہی کہتے کہ یہ تو بس ایک کھلا ہوا جادو ہے۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ اس پر علانیہ کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو بس معاملے کا فیصلہ ہی ہوجاتا۔ پھر ان کو ذرا مہلت نہ ملتی۔

7 - 8: خوئے بد را بہانہ بسیار : اوپر آیت 4 میں قرآن سے ان کے اعراض کا جو ذکر فرمایا تو یہ ان کے ان مطالبات و اعراضات کا جواب بھی دے دیا جو وہ اس اعراض کے لیے بطور بہانہ کے پیش کرتے تھے۔ مقصود اس سے پیغمبر ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ یہ نہ خیال کرو کہ ان کے اعراض کے لیے فی الواقع کوئی عذر ہے، جو دور ہوجائے تو یہ قرآن کو مان لیں گے۔ نہیں، بات وہیں رہے گی جہاں اب ہے۔ یہ کوئی نہ کوئی نیا بہانہ تراش لیں گے اس لیے کہ نہ ماننے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہیں معجزے نہیں دکھائے گئے بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ اپنی خواہشوں کے خلاف کوئی بات ماننے کے لیے یہ تیار نہیں ہیں۔ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِيْ قِرْطَاسٍ الایہ۔ یہ ان کا ایک دوسرا مطالبہ اور اس کا جواب ہے۔ یہ مطالبہ بھی قرآن میں دوسری جگہ نقل ہوا ہے۔ یہ مطالبہ یہ تھا کہ اگر محمد ﷺ پر فرشتہ آتا ہے، جیسا کہ ان کا دعوی ہے تو وہ فرشتہ یوں کیوں آتا ہے کہ صرف انہی کو نظر آتا ہے، کھلم کھلا ان کی نبوت کی منادی کرتا ہوا کیوں نظر نہیں آتا کہ سب دیکھیں اس سب سنیں۔ اس کا جواب یہ دیا کہ جب بات یہاں تک پہنچ جائے گی کہ فرشتے علانیہ اترنے لگیں تو پھر اللہ کا عذاب آدھمکے گا۔ پھر ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ یہ اس سنت اللہ کی طرف اشارہ ہے جو قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ ایمان وہ معتبر ہے جو غیب میں رہتے، آفاق وانفس اور عقل و فطرت کے ان دلائل کی بنیاد پر لایا جائے، جن کی انبیاء دعوت دیتے ہی نہ کہ وہ جو کشف حجاب اور حقائق بچشم سر مشاہدہ کرلینے کے بعد لا یا جائے۔
Ayah 6:9

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو کوئی فرشتہ بناتے جب بھی آدمی ہی کی شکل میں بناتے تو جو گھپلا وہ پیدا کر رہے ہیں ہم اسی میں ان کو ڈال دیتے۔

فرشتوں کو رسول بنا کر نہ بھیجنے کی مصالحت : وَلَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا الایہ، یہ ایک تیسرے مطالبے کا جواب ہے اور یہ بھی قرآن میں دوسری جگہ نقل ہوا ہے۔ مثلاً“ وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَى إِلا أَنْ قَالُوا أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَسُولا : اور ہدایت الٰہی کے آجانے کے بعد لوگوں کو ایمان سے نہیں روکا مگر اس چیز نے کہ انہوں نے اعتراض کیا کہ کیا اللہ نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا ”(اسراء :94)۔“ فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا فَكَفَرُوا وَتَوَلَّوْا وَاسْتَغْنَى اللَّهُ : پس وہ بولے کہ کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے، پس انہوں نے انکار کردیا اور پیٹھ پھیرلی اور اللہ بھی ان سے بےنیاز ہوگیا ”(تغابن :6)۔ اس کا جواب یہ دیا کہ اگر رسول بالفرض فرشتہ ہی بھیجا جاتا جب بھی لازماً وہ آدمی ہی کی شکل و صورت میں ہوتا تو پھر وہی گھپلا پیش آجاتا جو اب پیش آیا ہے مطلب یہ ہے کہ کسی فرشتے کو رسول بنا کر نہ بھیجنا اس بنا پر نہیں ہے کہ خدا کے لیے یہ ناممکن تھا بلکہ اس بنا پر ہے کہ انسان فرشتوں کو فرشتوں کی شکل میں نہیں بلکہ انسانوں کی شکل میں دیکھ سکتے اور اسی صورت میں ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو جب وہ انسان ہی کے روپ میں آتا تو یہ پھر وہی اعتراض اٹھاتے جو اب اٹھا رہے ہیں۔ مَّا يَلْبِسُوْنَ سے یہاں یہ اشارہ نکلتا ہے کہ یہ بات نہیں ہے کہ فی الواقع یہ شبہ پیدا ہوتا ہے بلکہ یہ لوگ یہ شبہ پیدا کر رہے ہیں تاکہ اس طرح اپنے سادہ لوح پیرو وں کو گھپلے میں ڈالیں۔ لَبَسْنَا میں فعل کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف جو منسوب فرمایا ہے تو یہ نسبت اسی طرح کی ہے جس طرح کی نسبت فلما زاغوا ازاغ اللہ میں ہے۔
Ayah 6:10

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو جن لوگوں نے ان میں سے مذاق اڑایا ان کو اس چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

‘ حَاقَ یَحِیقُ حِیْقاً بہ ’ کے معنی ہیں احاطہ کرلینا، گھیر لینا اور چھا جانا۔ اوپر آیت 5 میں قریش کو یہ دھمکی جو دی ہے کہ وہ ایک امر حق کا مذاق اڑا رہے ہیں جو شدنی اور اٹل ہے، وہ عنقریب اس عزاب کے آثار دیکھ لیں گے جس کی ہنسی اڑا رہے ہیں۔ اب یہ اس امر واقعی کی ان شہادتوں اور مثالوں کی طرف اشارہ فرمایا جو خود ان کی تاریخ اور ان کے ملک کے آثار میں موجود ہیں کہ تم سے پہلے جو رسول آئے انہوں نے بھی اپنی اپنی قوموں کو عذاب الٰہی سے ڈرایا تو ان کا بھی اسی طرح مذاق اڑایا گیا۔ بالآخر اس عذاب نے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور وہ تباہ ہوگئیں۔
Ayah 6:11

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

کہو، ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔

قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ الایہ۔ یہ اشارہ ہے خود ملک عرب کی طرف کہ اگر اس نگاہ سے اپنے ملک کے حالات و آثار کا مشاہدہ کرو تو تمہیں اس میں رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کی تباہی کے بہت سے آثار ملیں گے۔ یہاں صرف اجمالی اشارہ فرمایا ہے۔ بعد والی سورة میں اس اجمال کی تفصیل آئے گی۔ وہاں قوم نوح، عاد، ثمود، مدین، قوم لوط وغیرہ کی سرگزشتیں سنائی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان قوموں نے بھی اپنے اپنے رسولوں کے انذار کا مذاق اڑایا اور اس عذاب کو انہوں نے محض خالی خولی دھمکی سمجھا جس کی رسول نے خبر دی۔ بالآخر وہ نمودار ہوگیا اور مذاق اڑانے والوں کا بیڑا غرق ہوگیا۔ اگلی آیات 12 تا 32 کا مضمون : آگے توحید، معاد اور رسالت کے وہی مطالب جو اوپر گزرے اپنے بعض نئے پہلوؤں اور نئے اسلوب سے آ رہے ہیں۔ ارشاد ہے۔
Ayahs 6:12–13

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

ان سے پوچھو، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ کہہ دو اللہ ہی کا ہے۔ اس نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے۔ وہ تم کو جمع کر کے ضرور لے جائے گا قیامت کے دن کی طرف جس میں ذرا شبہ نہیں۔ جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا وہی ہیں جو اس پر ایمان نہیں لاتے۔

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے جو چیز شب میں ساکن ہوتی ہے اور جو دن میں متحرک ہوتی ہے اور وہ سمیع وعلیم ہے۔

تفیسر آیت 12-13 سوال و جواب کا ایک خاص اسلوب : قرآن میں جہاں جہاں سوال کر کے مخاطب کے جواب کا انتظار کیے بغیر خود اس کا جواب دیا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مواقع میں اصل جواب سے مخاطب کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر اس کا کوئی عقیدہ یا عمل اس کے خلاف ہے تو وہ خود اس کے اپنے مسلمہ کے خلاف ہے۔ جواب میں سبقت سے اس امر کا بھی اظہار ہوجاتا ہے کہ بہرحال اصل حقیقت کا اظہار کردیا جائے قطع نظر اس سے کہ مخاطب اس کے جواب میں کیا ہٹ دھرمی اختیار کرتا ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اہل عرب مشرک ہونے کے باوجود آسمان و زمین کا خالق ومالک خدا ہی کو مانتے تھے۔ اس کی وضاحت دلائل کے ساتھ ہم دوسرے مقام میں کرچکے ہیں۔ قیامت خدا کی صفتِ رحمت کا لازمی تقاضا ہے : كَتَبَ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ، یہ اللہ تعالیٰ کے صفت رحمت سے کمال درجہ متصف ہونے کی تعبیر بھی ہے اور اس امر کا اظہار بھی کہ ہر وہ بات جو اس صفت کا مقتضی ہے اس کا ظہور میں آنا قطعی اور اٹل ہے، کوئی چیز اس کی راہ میں مزاحم نہیں ہوسکے گی۔ لَيَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ میں عربیت کا جو اسلوب ہے اس پر سورة نساء کی آیت 87 کے تحت بحث گزر چکی ہے۔ یہاں جو بات نگاہ میں رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ قیامت کا آنا خدا کی صفت رحمت کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر قیامت نہ آئے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کائنات کا خالق رحمان و رحیم نہیں ہے۔ اس کے نزدیک نعوذ باللہ عدل و ظلم، نیکی اور بدی، خیر اور شر دونوں یکساں ہیں، یہ ایک کھلنڈرے کا کھیل اور ایک اندھیر نگری ہے۔ یہ باتیں چونکہ بالبداہت باطل ہیں، رحمان و رحیم خدا کی شان کے بالکل منافی ہے کہ وہ کوئی بےغایت و بےمقصد کام کرے، اس وجہ سے لازمی ہے کہ ایک ایسا دن وہ لائے جس میں اس کی رحمت کامل کا ظہور ہو، اپنے نیک بندوں کو وہ اپنی بےپایاں رحمتوں سے نوازے اور جو بدکار و نابکار ہیں وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچیں۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ قیامت کا اصل مقصود مجرموں کو سزا دینا نہیں بلکہ نیکو کاروں کو جزا دینا ہے۔ مجرموں کی سزا در حقیقت نیکو کاروں کی جزا کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔ آگے آیت 53 کے تحت اس کی مزید وضاحت آئے گی۔ اَلَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ کے مضمون کی وضاحت آگے آیت 31 میں فرما دی ہے۔ قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاۗءِ اللّٰهِ ۭ حَتّٰى اِذَا جَاۗءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا يٰحَسْرَتَنَا عَلٰي مَا فَرَّطْنَا فِيْهَا ۙ وَهُمْ يَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰي ظُهُوْرِهِمْ ۭ اَلَا سَاۗءَ مَا يَزِرُوْنَ (گھاٹے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا، یہاں تک کہ جب وہ گھرڑی اچانک آدھمکے گی تو کہیں گے ہائے افسوس ہماری اس کوتاہی پر جو ہم سے اس بارے میں ہوئی اور وہ اس دن اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے اور آگاہ، نہایت برا بوجھ ہوگا جو وہ اٹھائے ہوئے ہوں گے)۔ وَلَهٗ مَا سَكَنَ فِي الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، یہاں لیل و نہار دونوں کے ذکر کا تقاضا یہ ہے کہ ‘ سکن ’ کے بالمقابل کوئی ایسا فعل محذوف مانا جائے جو لفظ ‘ نہار ’ کے ساتھ مناسبت رکھنے والا ہو۔ چناچہ ہم نے ‘ تحرک ’ محذوف مانا ہے اور ترجمہ میں اس کو کھول دیا ہے۔ اس اسلوب کی وضاحت دوسرے مقامات میں ہوچکی ہے اور آگے اسی سورة میں اس کی نہایت عمدہ مثالیں آرہی ہیں۔ آیات کا مطلب یہ ہوا کہ اگر یہ اپنی موجودہ دنیوی کامیابیوں کے غرے میں آخرت اور جز و سزا کو جھٹلا رہے اور تمہارا قرآن کا مذاق اڑا رہے ہیں تو ان سے پوچھو کہ یہ آسمان و زمین کس کے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ خدا ہی کے ہیں اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انہیں بھی مجال انکار نہیں۔ پھر انہیں بتاؤ کہ خدا نے اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے جس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ تمہیں پیدا کر کے اور پرورش کے تمام اسباب فراہم کر کے یونہی شتر بےمہار بنا کے نہ چھوڑ دے بلکہ ضروری ہے کہ وہ تم سب کو کشاں کشاں روز قیامت کی طرف لے جائے جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہے تو آج جو لوگ اکڑتے اور اس کا مذاق اڑاتے اور اپنی دنیوی خود فراموشیوں میں مگن ہیں اس دن اپنی بدبختی پر اپنے سر پیٹیں گے کہ ہائے ہم نے چند روزہ عیش دنیا کی خاطر اس زندگی کو فراموش رکھا اور اپنے لیے ابدی نامراد کا سامان کیا۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ یاد رکھیں کہ شب کی تاریکیوں میں جو چیز ساکن ہوتی ہے اور دن کی روشنی میں جو چیز بھی متحرک ہوتی ہے سب خدا ہی کے اختیار، اسی کے قبضہ قدرت اور اسی کے کنٹرول میں ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوسکے اور اس کے اذن کے بغیر اپنی جگہ سے سرک سکے۔ رات کی تاریکی اور دن کی روشنی دونوں اس کے لیے یکساں ہے اور وہ ہر جگہ سے سب کو اکٹھھا کرلے گا اور جس طرح اس کی قدرت سب کو محیط ہے اسی طرح اس کا علم بھی ہر چیز پر حاوی ہے اس لیے کہ وہ سمیع وعلیم ہے۔ آگے یہی مضمون بڑی تفصیل کے ساتھ آیات 59۔ 62 میں آ رہا ہے۔
Ayah 6:14

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

کہو کیا میں اللہ کے سوا، جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے، کسی اور کو اپنا کارساز بناؤں اور وہ کھلاتا ہے کھاتا نہیں، کہہ دو مجھے تو حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں اور تم ہرگز مشرکوں میں سے نہ بنو۔

قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ، یہ اس مسلمہ حقیقت کا، جو اوپر مذکور ہوئی، دوسرا لازمی نتیجہ بیان کیا جا رہا ہے کہ جب سب کچھ خدا ہی کا ہے، آسمان و زمین سب کا خالق وہی ہے تو تم خواہ کتنا ہی زور لگاؤ، لیکن میرے لیے کس طرح روا ہے کہ خدائے فاطر السموات والارض کے سوا کسی اور کو اپنا مولی و مرجع بناؤں۔ هُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ ، یہ خدا کی ربوبیت اور پر ودگاری کی طرف اشارہ بھی ہے اور مشرکین کے بتوں پر ایک نہایت لطیف تعریض بھی۔ مطلب یہ ہے کہ مولیٰ و مرجع بنائے جانے کا سزوار تو وہ ہے جو آسمان و زمین کا عدم سے وجود میں لانے والا بھی ہے اور جس کے فضل و کرم سے سب کو روزی بھی مل رہی ہے نہ کہ تمہارے وہ اصنام خیالی جن کے متعلق تمہیں خود یہ تسلیم ہے کہ وہ خالق و موجد کسی چیز کے بھی نہیں، رہی ان کی پروردگاری تو اس کا بھانڈا پھوڑ دینے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ ان کے آگے حلوے مانڈے تم پیش کرتے ہو تب وہ راضی و آسودہ ہوتے ہیں۔ یہاں یہ امر پیش نظر رہے کہ مشرکین اپنے بتوں کے آگے جو کچھ پیش کرتے ہیں اس تصور کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ یہ ان کی پسندیدہ اور مرغوب غذائیں ہیں جن کو وہ نوش کرتے اور جن کی خوشبو سے محظوظ ہوتے ہیں۔ برعکس اس کے ایک خدا پرست خدا کے نام پر جو کچھ پیش کرتا ہے اس کا کوئی حصہ، جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، خدا کو نہیں پہنچتا بلکہ سب کا سب خدا کے حقدار بنوں کو پہنچتا ہے۔ قُلْ اِنِّىْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ ، یعنی اگر تم مدعی ہو کہ خدا نے تمہارے ان مزعومہ بتوں کو اپنی خدائی میں شریک بنایا ہے اور تمہیں ان کی عبادت کا حکم دیا ہے تو تم جانو، مجھے تو جو حکم ملا ہے وہ یہ ہے کہ میں سب سے پہلا اسلام لانے والا اور اپنے آپ کو بلکلیہ اپنے رب کے حوالے کردینے والا بنوں۔ سو میں تو اسی حکم کی تعمیل کرنے والا ہوں، تم میں سے کوئی میرا ساتھ دے یا نہ دے۔ اس اسلوب بیان سے، جیسا کہ ہم دوسری جگہ تصریح کرچکے ہیں، جہاں یہ بات نکلتی ہے کہ نبی جس بات کی تعلیم دنیا کو دیتا ہے اس پر پہلا عمل کرنے والا وہ خود بنتا ہے، وہیں یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس امر سے اس کی اس یکسوئی اور اس کے عزم میں کوئی فرق نہیں پیدا ہوتا کہ جن کو اس نے پکارا ان میں سے کسی نے اس کا ساتھ دیا یا نہیں دیا۔ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ کا عطف ان اکون اول من اسلم، پر نہیں ہے، بلکہ یہ مستقل بات ہے یعنی تم ان کو بتا دو کہ مجھے یہ حکم ملا ہے اور تم مشرکین میں سے نہ بنو۔ اس طرح کی نہی میں اگرچہ ظاہر خطاب آنحضرت ﷺ سے ہوتا ہے لیکن اس میں زجر کا جو پہلو نکلتا ہے اس کا رخ ان لوگوں کی طرف ہوتا ہے جن کا رویہ زیر بحث ہوتا ہے۔
Ayah 6:15

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر میں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی تو میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

قُلْ اِنِّىْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ الایہ : یعنی جب مجھے حکم یہ ملا ہے کہ میں سب سے پہلا اسلام لانے والا بنوں تو میرے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ میں اپنے رب کے اس حکم کی نافرمانی کروں ؟ اگر میں نافرمانی کروں تو میں اس ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں جس سے ہر نافرمانی کرنے والے کو سابقہ پیش آنا ہے۔
Ayah 6:16

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

جو شخص اس دن اس سے دور رکھا گیا در حقیقت وہی ہے جس پر خدا نے رحم فرمایا اور یہی کھلی کامیابی ہے۔

مَنْ يُّصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَىِٕذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ ، یعنی ڈرنے کی اصل چیز یہ خوفناک دن اور اس کا عذاب ہی ہے، جو اس سے محفوظ رہا، درحقیقت وہی ہے جس پر خدا کا رحم ہوا اور چاہے کی اصل چیز اس دن کی رحمت ہی ہے اس لیے کہ جو اس رحمت کا سزاوار قرار پایا درحقیقت وہی ہے جس نے اصل کامیابی حاصل کی۔ اس میں اس بات کی طرف لطیف اشارہ بھی ہے کہ جو لوگ اس دنیا کی کامیابیوں ہی کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور ان کے پیچھے آخرت کی فوز مبین کو بھول بیٹھے ہیں انہیں اپنی بدبختی اور محرومی کا اندازہ کل ہوگا۔
Ayah 6:17

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور اگر اللہ تجھ کو کسی دکھ میں مبتلا کرے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو اس کا دور کرنے والا بن سکے اور اگر کسی خیر سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ میں خطاب اگرچہ لفظاً بصیغہ واحد ہے لیکن مراد عام ہے اور یہ بات اوپر والی بات ہی کی توضیح مزید کی حیثیت رکھتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نفع و ضرر دونوں خدا ہی کے اختیار میں ہیں۔ اگر وہ کسی کو کسی دکھ میں مبتلا کرے تو کوئی نہیں ہے جو اس کو دور کرسکے۔ اسی طرح اگر وہ کسی کو کسی خیر سے بہرہ مند کرے تو جس خیر سے چاہے بہرہ مند کردے، کسی کی طاقت نہیں ہے کہ اس کے ارادے میں مزاحم ہوسکے۔ پھر کسی اور کو مولی و مرجع بنانے اور کسی اور سے دعا و استرحام کی ضرورت کیا باقی رہی ؟
Ayah 6:18

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے۔

وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ ، قہر، کا لفظ عربی میں اس معنی میں بالکل نہیں آتا جس معنی میں اردو میں آتا ہے بلکہ اس کے معنی اختیار اور قابو، حکومت اور تسلط میں رکھنے کے آتے ہیں۔ انگریزی میں لفظ Control کا جو مفہوم ہے وہی مفہوم عربی میں اس لفظ کا ہے۔ اسی سے لفظ ‘ قہار ’ مبالغہ کا صیغہ ہے جو اسمائے حسنی میں سے ہے جس کے معنی Contrller کے ہیں۔ یعنی تمام جہان اور اس کے تمام بندے ہر آن اس کی مٹھی اور اس کے قابو میں ہیں۔ وہ ان کو قابو میں رکھنے کے لیے نہ کسی مددگار کا محتاج ہے اور نہ اس امر کا اندیشہ ہے کہ جب وہ ان کو پکڑنا چاہے یا اکٹھا کرنا چاہے تو کوئی اس کی گرفت سے باہر نکل سکے۔ آگے اس مضمون کی وضاحت بھی ہوگئی ہے وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً ۭﱑ اِذَا جَاۗءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ : اور وہ اپنے تمام بندوں پر اپنا قابو جمائے ہوئے ہے اور وہ تم پر اپنے نگران بھیجتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو اس کو ہمارے فرستادے ہی قبض کرتے ہیں اور وہ اس کام میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے (انعام :61)۔ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ ، خدا کا حکیم وخبیر ہونا ہم دوسرے مقامات میں واضح کرچکے ہیں کہ کئی باتوں کو مستلزم ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ ایک روز جزا و سزا کو لائے اس لیے کہ اس کے بغیر یہ دنیا بالکل بےمقصد ہو کے رہ جاتی ہے۔ اس کے ہاں کسی ایسی شفاعت کی گنجائش نہ ہو جو حق کو باطل اور باطل کو حق بنا سکے اس لیے کہ یہ اس کی حکمت کے بھی منافی ہے اور اس کے خبیر ہونے کے بھی۔
Ayah 6:19

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

پوچھو شہادت کے لیے سب سے بڑا کون ہے ؟ کہو، اللہ، وہ یرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے کہ میں بھی اس کے ذریعہ سے تم کو ڈراؤں اور وہ بھی جن کو یہ پہنچے۔ کیا تم اس بات کے گواہ بنتے ہو کہ خدا کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہیں ؟ کہہ دو میں اس کی گواہی نہیں دیتا، کہہ دو وہ تو بس ایک ہی معبود ہے اور میں ان سے بری ہوں جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو۔

لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ ، عام طور پر مفسرین نے وَمَنْۢ بَلَغَ کو ضمیر منصوب پر معطوف مانا ہے یعنی یہ قرآن اس لیے مجھ پر وحی کیا گیا ہے کہ میں اس کے ذریعے سے تم کو اور ان سب کو بیدار و ہوشیار کروں جن تک یہ پہنچے۔ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ میں اس کے ذریعے سے تم کو اور ان سب کو بیدار و ہوشیار کروں جن تک یہ پہنچے۔ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ ضمیر متکلم پر معطوف ہے یعنی میں اس کے ذریعے سے تم کو خبردار کروں اور جن کو یہ پہنچے وہ بھی اپنی اپنی جگہ پر دوسروں کو اس کے ذریعے سے خبردار کریں۔ یہ گویا اس ذمہ داری کی یاد دہانی ہے جس کا ذکر دوسرے مقام میں یوں ہوا ہے فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ : پس ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت دین کا علم حاصل کرنے کے لیے اٹھتی اور تاکہ وہ اپنی قوم کو خبردار جبکہ ان کی طرف واپس آتی (توبہ :122)۔ یہی حقیقت احادیث میں بھی واضح کی گئی ہے۔ چناچہ نبی ﷺ نے اپنے تمام صحابہ پر انذار و تبلیغ کی ذمہ داری ڈالی اور فرمایا فلیبلغ الشاھد الغائب۔ پس چاہیے کہ جو لوگ موجود ہیں وہ ان لوگوں کو پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں۔ تکونوا شہداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شہیدا میں اس امت کا جو فریضہ منصبی بیان ہوا ہے اور جس کی وضاحت ہم اس کے مقام میں کرچکے ہیں، اس سے بھی اسی مفہوم کی تائید نکلتی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔ توحید اور شرک کے معاملے میں فیصلہ کن گواہی خدا کی ہے : آیت کا مطلب یہ ہوا کہ خدا کا کوئی شریک ہے یا نہیں، اس معاملے میں فیصلہ کن گواہی خود خدا ہی کی ہوسکتی ہے۔ وہی بتا سکتا ہے کہ اس نے اپنی خدائی میں کسی کو شریک بنایا ہے یا نہیں اور بنایا ہے تو وہ کون کون ہیں اور وہ کس نوعیت کے شریک ہیں۔ اگر اس نے کسی کا شریک ہونا تسلیم نہیں کیا ہے تو تم کو یا کسی کو کیا حق ہے کہ کسی کو اس کی خدائی میں حصہ دار بنائے۔ اب آؤ، میں اس نزاع کے فیصلے کے لیے اپنے اور تمہارے درمیان خدا ہی کو گواہ مانتا ہوں۔ اس نے میرے اوپر یہ قرآن اسی گواہی کے لیے نازل کیا کہ میں تم کو خبردار کردوں کہ کوئی اس کا شریک نہیں ہے اور جن جن کو یہ پہنچے وہ بھی دوسروں کو خبردار کریں کہ وہ وحدہ لا شریک ہے کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں ہے۔ اب اس کے بعد بھی اگر تم مدعی ہو کہ دوسرے معبود خدا کے شریک ہیں تو میں اس بےدلیل گواہی کے لیے تیار نہیں۔ مجھے خدا کا حکم یہی ہے کہ میں اعلان کروں کہ وہ ایک ہی معبود ہے اور میں ان تمام چیزوں سے اپنی براءت کا اعلان کرتا ہوں جن کو تم خدا کا شریک گردانتے ہو۔
Ayahs 6:20–21

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن کو ہم نے کتاب عطا کی وہ اس کو پہچانتے ہیں جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا وہی ہیں جو اس پر ایمان نہیں لاتے۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیات کی تکذیب کی۔ یشک یہ ظالم فلاح پانے والے نہیں۔

20 تا 21: اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَهُمْ ، اس ٹکڑے پر تفصیلی بحث بقرہ کی تفسیر میں آیت 146 کے تحت گزر چکی ہے۔ وہاں ہم نے بتایا ہے کہ اس سے مراد صالحین اہل کتاب ہیں۔ قرآن میں اچھے اہل کتاب کا ذکر بالعموم بصیغہ معروف ہی ہوا ہے۔ یعرفونہ میں ضمیر منصوب کا مرجع قرآن ہے جس کا ذکر اوپر واوحی الی ھذا القرآن میں گزر چکا ہے۔ اس سے نبی ﷺ کو بھی مراد لیا گیا ہے لیکن چونکہ یہاں سیاق کلام نبی ﷺ سے خطاب کا ہے اس وجہ سے آپ کے لیے ضمیر غائب موزوں نہیں ہے۔ ویسے باعتبار مدعا کوئی فرق واقع نہیں ہوگا اس لیے کہ نبی اور قرآن دونوں لازم و ملوم ہیں اور ایسے لازم و ملزوم کہ قرآن میں، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کریں گے، ایک دوسرے سے بدل پڑے ہوئے ہیںَ بقرہ میں ہم ابناءہم کی تشبیہ پر بھی بحث کرچکے ہیں کہ جس طرح ایک مہجور باپ کو اپنے موعود و منتطر بیٹے کا انتظار ہوتا ہے اور جب وہ آتا ہے تو دور سے اس کے پیراہن کی خوشبو اس کے لیے نوید مسرت لاتی ہے اسی طرح صالحین اہل کتاب کو قرآن اور پیغمبر کا انتظار تھا اور اسی جذبے کے ساتھ، جسیا کہ وا سمعوا ما انزل الی الرسول الایۃ کے تحت گزر چکا ہے، انہوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔ صالحین اہل کتاب کی گواہی : اب یہ قرآن کی گواہی کو مزید موثق کرنے کے لیے فرمایا کہ یہ کوئی غیر معروف گواہی نہیں ہے بلکہ جانی پہچانی ہوئی گواہی ہے۔ اس کا ذکر پچھلے آسمانی صحیفوں میں بھی موجود ہے۔ تم سے پہلے جن کو کتاب عطا ہوئی وہ اس کو پہچانتے ہیں اور جو ان میں اہل ایمان ہیں وہ اس کے منتظر و مشتاق رہے ہیں۔ اس پر ایمان لانے سے محروم تو صرف وہ رہیں گے جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا۔ فرمایا جب خدا کی گواہی یہ ہے تو ان سے بڑھ کر بدقسمت ظالم اور نامراد کون ہوسکتا ہے جو اس گواہی کے خلاف خدا پر یہ جھوٹ باندھیں کہ اس نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک بنایا یا اس کی آیات کی تکذیب کریں جب کہ وہ توحید کی واضح تعلیم کے ساتھ ان کے پاس آگئی۔ ایسے ظالم کبھی فلاح پانے والے نہیں بن سکتے۔ یہ سورة اگرچہ مکی ہے لیکن یہ اس دور کی سورة ہے جب مدینہ کے اہل کتاب اس دعوت سے غیر متعلق نہیں رہے تھے بلکہ ان کے اشرار اس کی مخالفت کو شہ دے رہے تھے اور جو اچھے لوگ تھے وہ اس کو سابق صحیفوں کی پیشین گوئیوں کی تصدیق سمجھتے تھے۔ اس وجہ سے قرآن کا یہ اشارہ یہاں بڑا معنی خیز ہے۔ اس سے اخیار کی حوصلہ افزائی بھی ہوئی اور ساتھ ہی ان لوگوں پر ایک چوٹ بھی لگا دی گئی جو جان کر انجان بن رہے تھے۔ اس مضمون کی مزید تفصیل اسی سورة میں آگے آیت 114 کے تحت آئے گی۔
Ayah 6:22

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

یاد کرو اس دن کو جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے پھر پوچھیں گے ان شریک ٹھہرانے والوں سے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم ہمارا شریک گمان کرتے تھے ؟

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا میں جمیعاً کی تاکید نے ان تمام گروہوں کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے جن کا ذکر اوپر کی آیات میں ہوا۔ یعنی ان کو بھی جنہوں نے خدا پر جھوٹ گھڑ کے اس کے لیے شرکاء ایجاد کیے، ان کو بھی جنہوں نے مرنے کے بعد اٹھائے جانے اور جزا و سزا کا انکار کیا اور ان کو بھی جنہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی۔ اگر یہ تمام جرائم ان تمام مشرکین کے مشترک جرائم تھے تاہم ان کے ذوقی رجحانات کچھ الگ الگ بھی تھے اس وجہ سے آگے کی آیات میں ان کا الگ الگ بھی ذکر ہوا اور ان سب پر ان کے جرائم کی مخصوس نوعیت کے اعتبار سے ضرب لگائی گئی ہے۔
Ayah 6:23

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

پھر ان کے فریب کا پردہ چاک ہوجائے گا مگر یہ کہ وہ کہیں گے کہ اللہ اپنے رب کی قسم ! ہم مشرک نہیں تھے۔

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ : لفظ فتنہ کی تحقیق دوسرے مقام میں گزر چکی ہے۔ اگر اس کو اس معنی میں لیا جائے جس معنی میں مال و اولاد، دنیا اور زخارف دنیا کو قرآن میں فتنہ کہا گیا ہے تب تو یہ اپنے مفول کی طرف مضاف ہوگا اور مطلب یہ ہوگا کہ جس فتنہ شرک اور جن جھوٹی اور موہوم آرزوؤں میں آج یہ مبتلا ہیں اس کے پردے اٹھ جائیں گے اور ان کو نظر آجائے گا کہ جن سہاروں پر وہ جی رہے ہیں وہ محض فریب تھے۔ اس وقت ان کو اس کے سوا کوئی چاہ کار نظر نہیں آئے گا کہ جس طرح آج خدا پر جھوٹ باندھ رہے ہیں اسی طرح اپنے اوپر جھوٹ بولیں۔ اور اگر اس لفظ کو ظلم و تشدد سے دین سے پھیرنے کے معنی میں لیا جائے تو یہ اپنے فاعل کی طرف مضاف ہوگا اور مطلب یہ ہوگا کہ آج جس فتنہ میں یہ کمزور مسلمانوں کو بجرم انکارِ شرک، مبتلا کر رہے ہیں وہ ختم ہوجائے گا، اور وہ خود ایسی آفتوں میں مبتلا ہوجائیں گے کہ آج جس شرک کی حمایت میں وہ مسلمانوں کو مظالم کا ہدف بنائے ہوئے ہیں، خدا کی پکڑ میں آتے ہیں اس سے براءت کا اعلان کریں گے اور جھوٹ بولیں گے۔ ان دونوں میں سے جو مفہوم بھی لیا جائے دونوں ہی صورتوں میں انداز کلام طنزیہ ہوگا اور استثنا منقطع، میرا غالب رجحان پہلے مفہوم کی طرف ہے اور ترجمہ میں اسی کا میں نے لحاظ رکھا ہے۔
Ayah 6:24

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

دیکھو، یہ کس طرح اپنے آپ پر جھوٹ بولے اور ان کا سارا افترا ہوا ہوگیا۔

اُنْظُرْ كَيْفَ كَذَبُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ، میں انظر تصویر حال کے لیے ہے تاکہ مستقبل کا ایک ماجرا چشم تصور کے سامنے آجائے كَذَبُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ کے معنی ہیں انہوں نے اپنے اوپر جھوٹی گواہی دی، یعنی دنیا میں جس شرک کی حمایت میں لڑتے مرتے رہے آخر میں پہلے ہی قدم پر، قسم کھا کر اس کا انکار کریں گے۔ اس میں یہ لطیف تعریض بھی ہے کہ دنیا میں یہ خدا کے خلاف جھوٹی گواہی دیتے رہے، جیسا کہ آیت 19 میں مذکور ہے۔ اور آخرت میں اپنے اوپر جھوٹی گواہی دیں گے۔ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ کا ٹھیک ٹھیک مطلب یہ ہوگا کہ دنیا میں خدا پر جھوٹ باندھ کر جن کو شرکا و شفعا کا درہم دیا گیا تھا اور جن سے تمام امیدیں باندھی گئی تھیں وہ سب ہوا ہوگئے۔ ان میں سے کوئی کام نہ آیا۔ ایک سوال کا جواب : اجزا کی تشریح سے آیات کا مدعا خود بخود واضح ہوگیا ہے، مزید تفصیل کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ البتہ ایک سوال ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں پیدا ہو۔ وہ یہ کہ قرآن کے بعض مقامات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے روز مشرکین اپنے شرک کا اقرار کریں گے بلکہ اپنے شرکا کو پکاریں گے بھی، اور آیت زیر بحث میں یہ تصریح ہے کہ وہ قسم کھا کے شرک سے اپنی براءت کا اعلان کریں گے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ احوال روز قیامت کے مختلف مراحل کے بیان ہوئے ہیں۔ اس روز مشرکین کو جس حیرانی و پریشانی سے سابقہ پیش آئے گا وہ ایسی ہوگی کہ اس میں ان کو نجات کی کوئی راہ سجھائی نہیں دے گی اس وجہ سے جس مرحلے میں جو بات بنتی نظر آئے گی وہ بنانے کی کوشش کریں گے لیکن۔ ع۔ کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے۔
Ayahs 6:25–26

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور ان میں ایسے بھی ہیں جو تمہاری بات پر کان لگاتے ہیں لیکن ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ ان کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں بہرا پن پیدا کردیا ہے کہ اس کو نہ سن سکیں اور اگر وہ ہر قسم کی نشانیاں دیکھ لیں گے تو بھی ان پر ایمان نہیں لائیں گے۔ یہاں تک کہ جب یہ تمہارے پاس حجت کرتے آئیں گے تو یہ کافر کہیں گے کہ یہ تو بس اگلوں کا فسانہ ہے۔

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

اور یہ اس سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی گریز کرتے ہیں اور یہ درحقیقت اپنے ہی کو تباہ کر رہے ہیں لیکن احساس نہیں کر رہے ہیں۔

25 تا 26: وَجَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا۔ اکنۃ، کن اور کنان کی جمع ہے۔ اس کے معنی پردہ اور ڈھکنے کے ہیں۔ ‘ وقر ’ بوجھ، ثقل اور گرانی کو کہتے ہیں۔ یہاں اس سے وہ گرانی مراد ہے جو کانوں کو بہرہ کردے۔ یہ جس حجاب اور جس بہرے پن کا ذکر ہے ظاہر ہے کہ وہ معنوی اور روحانی حجاب اور گرانی ہے جو دلوں اور کانوں کو سننے اور سمجھنے کی اس صلاحیت سے محروم کردے جو انسانیت کا اصلی خاصہ ہے، جس سے محروم ہو کر انسان چوپایہ بلکہ چوپائے سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ انسان پر یہ محرومی اس کی اپنی شامت اعمال کے نتیجہ میں مسلط ہوتی ہے جس کا ایک مخصوص ضابطہ ہے۔ اس ضابطہ یا بالفاظ دیگر اس سنت اللہ کی پوری تفصیل ہم بقرہ کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں۔ چونکہ یہ بات اللہ تعالیٰ کی ٹھہرائی ہوئی ایک خاص سنت کے تحت واقع ہوتی ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کو اپنی طرف منسوب فرماتا ہے۔ بقرہ میں ختم قلوب کی بحث پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس آیت میں ان یفقھوہ کا مقابل فعل جو لفظ اذان کے ساتھ مناسبت رکھنے والا ہو، محوف ہے۔ ترجمہ میں ہم نے اس کو کھول دیا ہے۔ وَاِنْ يَّرَوْا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوْا بِهَا، یہ محض مبالغہ کا ایک اسلوب بیان نہیں بلکہ حقیقت نفس الامری کا بیان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا سبب یہ نہیں ہے کہ ان کے سامنے عجائب اور کرشمے ظاہر نہیں ہوئے۔ آخر میں یہ ساری کائنات، آسمان و زمین، سورج، چاند، دریا، پہاڑ، ابر، ہوا، رات، دن کیا ہیں ؟ کیا یہ کرشمے اور عجائب نہیں ہیں ؟ اساری کائنات کرشموں اور عجائب سے بھری پڑی ہے لیکن جن کے پاس دیکھنے والی آنکھیں ہی نہ ہوں، ان کا کیا علاج ؟ جس طرح ان سارے عجائب اور کرشموں سے ان کی آنکھیں بند ہیں، اگر اور کرشمے بھی ان کو دکھا دیے جائٰں جب بھی یہ کوئی نہ کوئی بات بنا ہی لیں گے اور اپنی ہٹ پر جمے ہی رہیں گے۔ ان کا علاج تو یہ ہے کہ یہ اپنی آنکھوں کی پٹیاں کھولیں اور گوش دل سے پیغمبر کی بایں اور قرآن کی دعوت سنیں۔ یہ وہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو معجزوں اور کرشموں سے ان کو کیا نفع پہنچے گا۔ گر نہ بیند بروز شپرہ چشم۔ چشمہ آفتاب را چہ گناہ۔ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الاولینن۔ اساطیر، سطر کے مادے سے اسطورہ اور اسطریہ کی جمع ہے۔ اس کے معنی ہیں بےسروپا داستان، بےاصل قصہ، فسانہ۔ قوموں کے عروج وزوال سے متعلق عربوں کا نظریہ اور اس کی تردید : قرا ان نے اپنی دعوت کے سلسلہ میں بعض قوموں کی تاریخ جو پیش کی ہے وہ اس پہلو سے پیش کی ہے جو تاریخ کا اصلی مفید پہلو ہے۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ قوموں کا ابھرنا اور فنا ہونا اتفاقی واقعات کے طور پر ظہور میں نہیں آتا بلکہ اس میں اصلی دخل اخلاقی عوامل کو ہوتا ہے۔ جب کوئی قوم زندگی کے اخلاقی عناصر سے خالی ہوجاتی ہے تو قدرت کا قانون اس کو فنا کردیتا ہے اور کوئی دوسری قوم اس کی جگہ اٹھا کھڑی کرتا ہے جو کہ کردار و اخلاق میں اس سے بہتر ہوتی ہے اور پھر اس کی آزمائش کرتا ہے کہ وہ اقتدار پا کر کیا رویہ اختیار کرتی ہے۔ اگر اس کا رویہ بھی بگڑ جاتا ہے تو پھر اس کو بھی فنا کردیتا ہے اور اس کی جگہ کسی دوسری قوم کو لاتا ہے۔ عروج وزوال کے اس اصول کو بنیاد قرار دے کر قرآن نے عربوں کے سامنے خود ان کے ملک اور ان کے گرد و پیش کی تاریخ رکھی کہ عاد، ثمود، مدین، سبا، قوم لوگ اور قوم فرعون وغیرہ کے فنا ہونے کے واقعات اتفاقی واقعات نہیں ہیں بلکہ یہ عروج وزوال کے اس خدائی ضابطے کے تحت ظہور میں آئے ہیں جو قوموں کی زندگی اور موت کے لیے خدا نے مقرر فرمائے ہیں۔ یہ قومیں اخلاقی و روحانی بیماریوں میں مبتلا ہوئیں تو اللہ نے ان کی اصلاح اور ان کے علاج کے لیے روحانی و اخلاقی طبیب یعنی انبیا بھیجے۔ ان انبیاء نے سر توڑ کوشش کی کہ اپنی قوم کی بیماریاں دور کریں لیکن ان کی قوموں نے ان کی باتوں پر کان نہ دھرے جس کا نتیجہ یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فنا کردیا۔ یہ تاریخ سنا کر قرآن نے عربوں کو متنبہ کیا کہ اس وقت تمہارے سامنے بھی زندگی اور موت کا یہی مرحلہ ہے تمہارے اندر بھی خدا کا رسول آگیا ہے اور اگر تم نے اس کی بات نہ سنی تو تم بھی اسی طرح فنا کردیے جاؤ گے جس طرح تمہاری پیشرو قومیں فنا کردی گئیں۔ اہل عرب کے پندار پر قرآن کے اس انذار سے سخت چوٹ پڑتی تھی۔ اول تو ان پر یہی بات شاق گزرتی تھی کہ وہ کسی اخلاقی و روحانی بیماری میں مبتلا ہیں جس کے نتیجے میں ان پر عذاب الٰہی آنے والا ہے، دوسری یہ کہ وہ اس بات کو بالکل بعید از عقل سمجھتے تھے کہ قومی عروج وزوال میں اخلاقی عوامل کو کوئی دخل ہوتا ہے۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ قومیں بھی افراد و اشیا کی طرح جیتی اور مرتی ہیں، جس طرح ایک فرد یا ایک درخت پیدا ہوتا ہے، جوان ہوتا ہے، بوڑھا ہوتا ہے پھر مرجاتا ہے یا سوکھ جاتا ہے اسی طرح قومیں بھی پیدا ہوتی، جوان ہوتی اور فنا ہوجاتی ہیں۔ اس چیز کو کردار و ایمان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اہل عرب کا یہ قول جو قرآن میں نقل ہوا ہے کہ وما یہلکنا الا الدھر، (ہمیں نہیں تباہ کرتی مگر گردش روزگار) وہ بھی قرآن اور پیغمبر کے اس انذار کے جوا میں کہتے تھے کہ یہ غلط ہے کہ قومیں اخلاق و ایمان کی بنا پر تباہ ہوتی ہیں، ایمان و اخلاق کو اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ سب گردش روزگار کے کرشمے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب ان کا نظریہ یہ تھا تو قرآن کے اس تاریخی نقطہ نظر پر ان کو غصہ آنا ہی تھا اور ان کا یہ غصہ اور بھی بڑھ جاتا تھا جب وہ یہ دیکھتے کہ بہت سے لوگ اس تاریخی حقیقت سے اثر پذیر ہو کر یہ اندیشہ بھی کرنے لگے ہیں کہ اگر انہوں نے پیغمبر اور قرآن کی بات نہ مانی تو وہ عذاب کی گرفت میں آجائیں گے۔ اس بوکھلاہٹ میں وہ کہتے کہ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ یہ قرآن ہے کیا، بس اس میں پچھلی قوموں کے کچھ بےسروپا افسانے ہیں جن کو نعوذ باللہ ایک سرپھرا سناتا پھر رہا ہے۔ اس پر نحل کی آیت 24 کے تحت مزید بحث آئے گی۔
Ayahs 6:27–28

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

اور اگر تم اس وقت کو دیکھ پاتے جب یہ دوزخ کے کنارے پر کھڑے کیے جائیں گے، پس کہیں گے کہ کاش ہم پھر واپس کیے جائیں کہ مانیں اور اپنے رب کی آیات کی تکذیب نہ کریں اور ایمان والوں میں سے بنیں۔

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

بلکہ یہ تو ان پر وہی حقیقت ظاہر ہوئی ہے جو اس سے پہلے اپنے دل میں چھپاتے تھے۔ اور اگر یہ لوٹائے جائیں تو وہی کریں گے جس سے روکے گئے۔ یہ بالکل جھوٹے ہیں۔

27 تا 28۔ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا، یہاں تمنی کا جواب فنصدق یا اس کا ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے اور ولا نکذب اسی محذوف پر معطوف ہے اس وجہ سے مضارع خفیف کی شکل میں آیا ہے۔ اس قسم کے حذف کی مثالیں اس سے پہلے بھی گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی۔ مثالیں نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، چونکہ مذکورہ بالا تمنا کے جواب میں فنصدق یا اس کے ہم معنی کسی لفظ کا آنا بالکل واضح تھا اس وجہ سے اس کو حذف کردیا اور ولا نکذب میں جو حرف عطف ہے اس کے ذریعہ سے محذوف کا پتا دے دیا۔ ‘ ولا نکذب ’ کے اظہار میں جو بلاغت ہے وہ یہ ہے کہ اس سے ان کی حسرت کا بھی اظہار ہو رہا ہے اور اعتراف جرم کا بھی۔ یعنی آج تو یہ اکڑ رہے ہیں اور قرآن کو ایک داستانِ پارینہ قرار دے رہے ہیں لیکن کل حسرت کریں گے کہ کاش ہم پھر دنیا میں جائیں کہ اپنے رب کی آیات کی تصدیق کریں اور ان کی تکذیب نہ کریں۔ اجزائے کلام کی وضاحت کے بعد ایک اجمالی نظر ان آیات پر پھر ڈال لیجیے۔ قرآن کی تکذیب کرنے والے سرہنگوں کا انجام : اوپر آیات 21- 24 میں شرک کے سرغنوں کا انجام واضح کیا گیا تھا، زیر بحث آیات میں قرآن کی تکذیب کرنے والے سرہنگوں کا انجام بیان ہورہا ہے۔ فرمایا کہ ان کے کچھ اشرار تمہاری باتیں اور تمہاری پیش کردہ کلام سنتے تو ہیں لیکن سمجھنے اور قبول کرنے کے لیے نہیں بلکہ بحث وجدال کے لیے کہ کوئی ایسی بات ہاتھ آئے جس کو بہانہ بنا کر تم سے کٹ حجتی کرسکیں۔ ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر ان کی بداعمالیوں کے سبب سے مہر ہوچکی ہے اس وجہ سے اب یہ اس کو قبول نہیں کرسکتے۔ یہ نہ خیال کرو کہ ان کی طلب کے مطابق اگر ان کو معجزہ دکھا دیا جائے تو اس کو مان لیں گے اور پھر اس قرآن پر ایمان لائیں گے۔ نہیں، اگر یہ دنیا جہان کے معجزے بھی دیکھ لیں گے جب یہ اسی طرح کٹ حجتی کریں گے اس لیے کہ ان کے انکار اور ان کی تکذیب کی اصل علت جب بھی باقی رہے گی۔ ان کے اندر بات کے سننے اور سمجھنے کا کوئی ارادہ ہی موجود نہیں ہے۔ چناچہ سب کچھ سن کر تمہارے پاس جھگڑنے کے لیے آستینیں چڑھائے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں اس قرآن میں رکھا ہی کیا ہے، اگلوں کی داستانیں اور پچھلوں کے فسانے ! ! فرمایا کہ اس طرح یہ دوسروں کو بھی اس سے روک رہے ہیں اور خود بھی اس سے متکبرانہ اعراض کر رہے ہیں لیکن اطمینان رکھو، نہ یہ خدا کا کچھ بگاڑ رہے ہیں نہ تہارا، بلکہ یہ اپنے آپ ہی کو ہلاکت کے گڑھے میں جھونک رہے ہیں لیکن ابھی چونکہ وہ انجام ان کے سامنے نہیں آیا ہے جس سے ان کو خبردار کیا جا رہا ہے ہے اس وجہ سے ان کو اس کا احساس نہیں ہے۔ اگر تم اس وقت کو دیکھ پاتے جب یہ اپنے انجام سے دوچار ہوں گے تو دیکھتے کہ جب یہ دوزخ کے کنارے پر کھڑے کیے جائیں گے تو کہیں گے، اے کاش ہم پر دنیا میں لوٹائے جائیں کہ قرآن کی تصدیق کریں اور اپنے رب کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور اہل ایمان میں سے بنیں۔ فرمایا کہ وہ اپنے اس اعتراف میں بھی جھوٹے ہیں۔ اگر وہ پھر لوٹائے جائیں تو وہی کریں گے جس سے وہ روکے گئے ہیں اس لیے کہ ان کی تکذیب کی علت یہ نہیں تھی کہ اصل حقیقت ان پر واضح نہیں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ پیغمبر سچا ہے، قرا ان حق ہے، جزا و سزا شدنی ہے لیکن حب دنیا، غرور اور حسد کے حجابات نے ان کی آنکھیں کھلنے نہ دیں، اب اگر دنیا میں جائیں گے تو جس طرح دل کی شہادت کے خلاف پہلے حق کو جھٹلاتے رہے ہیں اسی طرح پھر اس کو جھٹلائیں گے اور اس مشاہدے کو بھی زیادہ سے زیادہ ایک ڈراؤنا خواب قرار دے لیں گے۔