6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جنوں اور انسانوں کے گروہ کیا تمہارے پاس تمہیں میری آیتیں سناتے اور تمہارے اس دن کی ملاقات سے تم کو ہوشیار کرتے ہوئے تم میں سے رسول نہیں آئے۔ وہ بولیں گے ہم خود اپنے خلاف شاہد ہیں اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں رکھا اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ بیشک وہ کافر رہے۔

يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا، یہ سوال ان سے بطور قطع عذر کے ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ شامت زود، کیا تمہارے پاس تمہی میں سے میری آیتیں سناتے اور اس دن کی آمد سے ہوشیار کرتے ہوئے رسول نہیں آئے ؟ پھر تم نے آخر اپنی یہ شامت کیوں بلائی ؟ رسول نہ آئے ہوتے تو تم کوئی عذر پیش کرسکتے تھے، اب کیا عذر پیش کرسکتے ہو ؟ تم نے تو سب کچھ سن اور سمجھ کے اپنی آنکھیں اور اپنے کان بند رکھے۔ رسل منکم سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر انسانوں ہی میں سے رسول بھیجے اسی طرح جنوں کے اندر جنوں میں سے رسول بھیجے۔ انبیا و رسل کے باب میں اللہ تعالیٰ کی جو سنت ہے اور جو تفصیل سے قرآن میں بیان ہوئی ہے اس کا لازمی اقتضا بھی یہی ہے کہ جنوں کے اندر انہی کے اندر سے رسول آئیں جو ان کی بولی میں، ان کی ضروریات و حالات کے مطابق ان پر اللہ کی حجت تمام کریں، اتمام حجت انبیاء و سل کی بعثت کا اصل مقصد ہوتا ہے جو بغیر اس کے ممکن نہیں کہ ہر گروہ کے اندر ان کی فطرت کے مطابق رسول آئیں۔ انسان اور جن دو مختلف نوعیں ہیں۔ دونوں کے مسائل اگر کل نہیں تو بیشتر الگ الگ ہیں۔ اشتراک ہوسکتا ہے تو عقائد اور اخلاق کے بعض اصولوں میں ہوسکتا ہے، شریعت، قانون، معاشرت کے مسائل تو لازماً الگ الگ ہوں گے۔ پھر رسول جو اسوہ اور نمونہ بن کر آتے ہیں اگر ان کے اندر سے نہ ہوئے تو وہ ان کے اسوہ اور نمونہ کیسے بن سکتے ہیں ؟ جب ہم انسانوں کے لیے جنات میں سے کوئی رسول اسوہ نہیں بن سکتا تو انسانوں میں سے کوئی رسول جنوں کے لیے کیسے اسوہ بن سکتا ہے ؟ ہر قوم کا رسول ان کے اندر سے ہونے کا خاص پہلو، اتمام حجت کے نقطہ نظر سے یہی ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ گویا اس قوم پر خود اس کی زبان، خود اس کے ضمیر، خود اس کے ایک بھائی، اور خود اسی کے ایک فرد کامل کے ذریعے سے اس پر حجت قائم کردیتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جنات قیامت کے روز اس سوال کے جواب میں یہ عذر کرسکتے تھے کہ اے رب ہم جنات کے لیے کسی غیر جن کا قول و عمل کس طرح حجت ہوسکتا تھا۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جس طرح جنوں کے اشرار و شیاطین اور انسانوں کے اشرار و شیاطین میں حق کی مخالفت کے لیے سنگھٹن ہوجایا کرتا ہے، جیسا کہ اوپر کی آیات میں بیان ہوا۔ اسی طرح بعض مثالیں ایسی بھی ملتی ہیں کہ جنوں کے اندر جو ابرار و صالحین ہیں ان کی طرف سے اس حق کی بھی تائید ہوتی ہے جو انسانوں کے انبیاء و صالحین کے ذریعے سے ظاہر ہوا ہے اس لیے کہ حق، اصولی حیثیت سے نہ صرف انسانوں اور جنوں کے درمیان ایک متاع مشترک کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ تمام کائنات کی متاع مشترک ہے، اس مسئلے پر انشاء اللہ تفصیل کے ساتھ ہم سورة جن میں بحث کریں گے۔ یہاں اس اشارے پر کفایت کیجیے۔ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ میں ممکن ہے کسی کو یقص کا لفظ آیات سنانے کے لیے کھٹکے اس لیے کہ اس لفظ کا معروف استعمال سرگزشتیں سنانے ہی کے لیے ہے۔ ہمارے نزدیک یہاں یہ لفظ اس وجہ سے استعمال ہوا ہے کہ آیات سے یہاں مراد آیات انذار ہیں جن کا غالب حصہ مکذبین و منکرین کے انجام اور ان کی سرگزشتوں کے بیان پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہاں موقع و محل اسی کا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے جو سوال فرمائے گا اس کا مطلب یہی ہوگا کہ کیا تمہیں میرے رسولوں نے جھٹلانے والوں کے انجام اور اس دن کی آمد سے خبردار نہیں کیا تھا کہ تم نے اپنے آپ کو اس ابدی ہلاکت میں ڈالا۔ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰٓي اَنْفُسِـنَا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا وَشَهِدُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِيْنَ ، بعینہ یہی بات سورة ملک میں یوں بیان ہوئی ہے كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ (8) قَالُوا بَلَى قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ إِنْ أَنْتُمْ إِلا فِي ضَلالٍ كَبِيرٍ (9) وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ (10) فَاعْتَرَفُوا بِذَنْبِهِمْ فَسُحْقًا لأصْحَابِ السَّعِيرِ (11) (جب جب اس میں جھونکی جائے گی کوئی پارٹی، دوزخ کے داروگے اس سے سوال کریں گے، کیا تمہارے پاس کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا تھا، وہ کہیں گے، ہاں، بیشک ہمارے پاس آگاہ کردینے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے کوئی چیز نہیں اتاری ہے، تم لوگ تو ایک بڑی گمراہی میں مبتلا ہو، اور وہ کہیں گے اگر ہم سننے اور سمجھنے والے لوگ ہوتے تو دوزخ میں پڑنے والے نہ بنتے۔ پس وہ اپنے جرم کا اعتراف کرلیں گے، پس دفع ہوں یہ دوزخ والے)۔ آیت کے بیچ میں غَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا کے الفاط بطور جملہ معترضہ کے اس حقیقت کو ظاہر کر رہے ہیں کہ جس بات کا آج اس جسارت سے انکار کر رہے ہیں، کل اس بےبسی کے ساتھ اس کا اعتراف کریں گے اور اپنے خلاف خود گواہ بنیں گے کیونکہ آج ان کے انکار کی بنیاد اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اس دنیا کی ظاہر فیربی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ اس دنیا کا کارخانہ چونکہ جزا و سزا کے اصول پر نہیں چل رہا ہے بلکہ ابتلا کے اصول پر چل رہا ہے، جس میں حق کے ساتھ باطل کو بھی مہلت ملی ہوئی ہے اس وجہ سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ جزا و سزا ہے ہی نہیں اور نبی جو کچھ کہتے ہیں یہ محض ہوائی باتیں ہیں۔
Ayah 6:131

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ تیرا رب بستیوں کو ان کے ظلم کی پاداش میں اس حال میں ہلاک کرنے والا نہیں ہے کہ ان کے باشندے بیخبر ہوں

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ يَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ۔ یہ وجہ بیان فرمائی ہے اس بات کی کہ کیوں یہ اہتمام کیا گیا کہ ہر قوم کے اندر، خواہ انسان ہوں یا جن، انہی کے اندر سے رسول آئیں۔ فرمایا کہ ایسا اس لیے ہوا کہ تیرے رب کی رحمت سے یہ بات بعید تھی کہ وہ کسی قوم کو اس کے کفر و شرک پر، اس کے نتائج و عواقب سے آگاہ کیے بغیر، ان پر عذاب بھیج دے، وہ کسی کو سزا دیتا ہے تو اس سے پہلے ان کو اچھی طرح آگاہ کردیتا ہے تاکہ وہ توبہ و اصلاح کرنا چاہیں تو توبہ و اصلاح کرلیں اور اگر نہ کرنا چاہیں تو اپنی ذمہ داری پر اس کے نتائج بھگتیں۔
Ayah 6:132

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور ہر ایک کے لیے درجے ہیں انکے عمل کے اعتبار سے اور تیرا رب اس چیز سے بیخبر نہیں ہے جو وہ کرتے رہے ہیں

وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا ۭوَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ۔ لفظ ‘ کل ’ پر ہم مختلف مقامات میں لکھ چکے ہیں کہ جب یہ اس طرح آتا ہے تو اس سے مراد وہی اشخاص یا پارٹیاں ہوتی ہیں جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہوتا ہے۔ یہاں اس سے مراد جنوں اور انسانوں کے وہی گروہ ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا۔ فرمایا۔ کہ انہوں نے جو کچھ کیا، جان بوجھ کر، خدا کی طرف سے اتمام حجت کے بعد کیا، اس وجہ سے حق ہے کہ وہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں اور جن کے جس درجہ کے جرائم ہیں اسی اعتبار سے وہ دوزخ میں اپنا مقام پائیں۔ چونکہ اللہ ان کے اعمال سے جو یہ کرتے رہے ہیں یا کرتے ہیں اچھی طرح باخبر ہے اس وجہ سے اس کو ان کی درجہ بندی میں کوئی زحمت نہیں پیش آئے گی۔ وہ ہر ایک ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کا وہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سزا وار ہوگا۔
Ayah 6:133

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور تیرا رب بےنیاز، رحمت والا ہے اگر وہ چاہے تم کو فنا کردے اور تمہارے بعد تمہاری جگہ جس کو چاہے لائے جس طرح اس نے تم کو پیدا کیا دوسروں کی نسل سے

قریش کو براہ راست دھمکی : اوپر جو باتیں بیان ہوئی تھیں اگرچہ واضح طور پر ان کا رخ قریش ہی کی طرف تھا لیکن ان کی نوعیت اصولی باتوں کی تھی۔ اب یہ صاف صاف قریش کو مخاطب کر کے دھمکی دی کہ جہاں تک اتمام حجت کا تعلق ہے اس کا سامان خدا نے تمہارے لیے بھی کردیا ہے۔ اب تمہاری قسمت میں بھی میزان میں ہے۔ اگر تم نے اپنے آپ کو نہ سنبھالا تو خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے اور جب اس کی پکڑ میں آجاؤ گے تو پھر اس کے قابو سے باہر نہ نکل سکو گے۔ وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ۔ فرمایا کہ تمہارا خداوند غنی اور بےنیاز بھی ہے اور رحمت والا بھی ہے۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ صفات جب اس طرح حرف عطف کے بغیر بیان ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ صفتیں موصوف میں بیک وقت موجود ہیں۔ وہ ایک ہی وقت میں غنی بھی ہے اور رحمت والا بھی۔ اپنی صفت غنا کی وجہ سے اس کو کسی کی پروا نہیں۔ وہ سب سے بےنیاز، سب سے مستغنی اور سب سے بےپروا ہے۔ سب اس کا انکار کردیں تو اس کا کچھ نہیں بگڑتا۔ سب اس کی حمد کے ترانے گائیں تو اس کا کچھ نہیں بنتا۔ وہ اگر اپنے رسول بھیجتا ہے، کتاب اتارتا ہے، ایمان و اسلام کی دعوت دیتا ہے تو اس لیے نہیں کہ لوگوں کے ایمان و اسلام کے بغیر اس کا کوئی کام اٹکا ہوا ہے بلکہ یہ سب کچھ اس لیے کرتا ہے کہ بےنیاز ہونے کے ساتھ ساتھ وہ رحمت والا بھی ہے۔ اس کی اس رحمت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ لوگوں تک وہ لوگوں کو مہلت دیتا ہے جب تک وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر نہ لیں۔ یہ تمہید ہے اس بات کی جو آگے آرہی ہے۔ اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا يَشَاۗءُ كَمَآ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّيَّةِ قوم آخرین۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری ان تمام سرکشیوں کے باوجود جو تمہاری پکڑ نہیں ہو رہی ہے تو اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ خدا پکڑ نہیں سکتا یا تمہارے فنا ہوجانے سے اس کی دنیا اجڑ جائے گی اور پھر اس کے آباد کرنے والے نہیں ملیں گے بلکہ اس کا واحد سبب اس کی رحمت ہے۔ ورنہ اگر وہ تم کو فنا کرنا چاہے تو جب چاہے فنا کردے اور تمہاری جگہ جس چیز کو چاہے دے دے۔ اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو تمہارے قیاس سے بالا تر ہو۔ آخرت تم بھی تو اس زمین پر روز ازل سے نہیں ہو۔ تم سے پہلے اسی ملک میں دوسری قومیں آباد تھیں جن کی تاریخ تمہیں سنائی جا چکی ہے اور جن کے آثار اس ملک میں موجود ہیں۔ تمہاری ہی طرح خدا نے ان کی طرف بھی رسول بھیجے لیکن انہوں نے سرکشی کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ فنا کردیے گئے اور بالآخر تم ان کے وارث ہوئے تو جس خدا نے ان کو مٹا کر تمہیں ان کا وارث بنایا، اگر وہ تمہیں مٹا کر دوسروں کو تمہارا وارث بنادے تو کون ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ سکے، تمہاری تو اپنی ہی تاریخ تمہارے اوپر حجت ہے۔ زبان کا ایک نکتہ : اس آیت میں زبان کا ایک نکتہ بھی قابل توجہ ہے فرمایا کہ ویستخلف من بعدکم ما یشاء حالانکہ بظاہر من یشاء ہونا تھا۔ اس لیے کہ ما کا غالب استعمال بےجان چیزوں ہی کے لیے ہے۔ میرے نزدیک من کی جگہ ما کا استعمال بےجان چیزوں ہی کے لیے ہے۔ میرے نزدیک من کی جگہ ما کا استعمال اللہ نے اپنی کامل قدرت کے اظہار اور قریش کے غرور پر ضرب لگانے کے لیے فرمایا ہے مطلب یہ ہے کہ تم اپنی قوت و سطوت پر کیا اترا رہے ہو، خدا کی قدرت تو وہ ہے کہ وہ تمہارے اس صحرا کی جس چیز کو چاہے تمہاری جگہ لینے کے لیے اٹھا کھڑی کرے۔ سیدنا مسیح نے بھی ایک جگہ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ تم اس بات پر گھمنڈ نہ کرو کہ تم ابراہیم کی اولاد ہو، میرا خداوند چاہے تو ریگستان کے ذروں سے ابراہیم کے لیے اولاد کھڑی کرے، بعینہ یہی زور قرآن کے اس اسلوب میں مضمر ہے بلکہ قرآن کا اسلوب اپنی تعمیم کے پہلو سے زیادہ زور دار ہے۔
Ayah 6:134

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ رہے گی اور تم ہمارے قابو سے باہر نہیں جاسکتے۔

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ ۙ وَّمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ ، ‘ توعدون ’ ٰمیں وہ عذاب بھی داخل ہے جس کی رسول کی تکذیب کی صورت میں ان کو دھمکی سنا دی گئی تھی اور وہ یوم الحساب بھی جو اس کائنات کی ایک اٹل حقیقت ہے۔ فرمایا کہ یہ دونوں باتیں شدنی ہیں اور جب ان کا ظہور ہوگا تو تم خدا کے قابو سے کسی طرح باہر نہ نکل سکو گے۔ اعجزہ الشیئ، فاتہ و لم یقدر علیہ، اعجزہ الشیء کے معنی ہوں گے کہ فلاں چیز اس کے قبضہ سے نکل گئی اور وہ اس پر قابو نہ پا سکا۔ اس دھمکی میں یہ بات مضمر ہے کہ عذاب کے لیے جلدی نہ مچاؤ، اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو یہ چیز تو آ کے رہے گی۔
Ayah 6:135

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

کہہ دو ، اے میرے ہم قومو، تم اپنے طریقے پر چلو، میں اپنے طریقے پر چلتا ہوں، تم جلد جان لو گے کہ انجام کار کی کامیابی کس کا حصہ ہے، یقینا ظالم فلاح پانے والے نہیں ہوسکتے

قُلْ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌ۔ اس میں عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق ایک مقابل محذوف ہے۔ یعنی انی عامل علی مکانتی، مکانۃ کے معنی جگہ، منزلت اور مقام کے ہیں، قرآن میں یہ جگہ ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ولا نشاء لمسخناہم علی مکانتہم (اگر ہم چاہتے ان کی جگہ ہی پر ان کو مسخ کردیتے)۔ طریقہ کا مفہوم اس لفظ کے لوازم میں سے ہے۔ جب ہم کہیں گے تم اپنی جگ کام کرو، میں اپنی جگہ کام کرتا ہوں تو طریقہ کا مفہوم اس کے اندر آپ سے آپ پیدا ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم اپنے مقام کفر اور موقف مخالفتِ حق سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہو تو کرو جو کرنا چاہتے ہو۔ میں بھی اپنے موقف سے انچ برابر ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ عربیت کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ اعملوا، کے مقابل میں انی عامل میں زیادہ زور دیا ہے اس لیے کہ صفت اور فاعل کے صیغے فعل کے بالمقابل دوام، استمرار، استقلال اور عزم و جزم کو ظاہر کرتے ہیں۔ الفاظ کے تیور صاف بتا رہے ہیں کہ یہ پیغمبر کی طرف سے صاف صاف براءت کا اعلان اور نہایت واضح الفاظ میں دھمکی ہے۔ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ، یہ اصل دھمکی ہے۔ یعنی تم بہت جلد دیکھ لو گے کہ انجام کار کی کامیابی کن کو حاصل ہوتی ہے۔ عاقبۃ کا لفظ یوں تو انجام کے معنی میں معروف ہے ہی خواہ نیک انجام ہو یا بد لیکن بعض اوقات یہ مخصوص طور پر انجام خیر و فلاح ہی کے معنی میں آتا ہے۔ یہ گویا لفظ کا استعمال اس کے حقیق مفہوم کے اعتبار سے ہوتا ہے اس لیے کہ قابل ذکر انجام تو وہی ہے جو اس فلاح وسعادت پر منتہی ہو جو اصل غایت ہے اس کائنات کی تخلیق کی نہ کہ نامرادی و خسران کا انجام جو اس غایت سے انحراف کا لازمہ ہے۔ چناچہ یہ لفظ فلاح وسعادت کے مفہوم میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے مثلا فاصبر ان العاقبۃ للمتقین، پس ثابت قدم رہو، عاقبت کار کی کامیابی اہل تقوی ہی کے لیے ہے۔ والعاقبۃ للتقوی، اور انجام کار کامیابی تقوی کے لیے ہے۔ الدار سے مراد دار آخرت ہے۔ اس لیے کہ اصل نتائج کے ظہور کی جگہ وہی ہے۔ اہل ایمان دنیا میں جو جد و جہد کرتے ہیں وہ اسی کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں۔ اہل ایمان کو دنیا میں جو کامیابی حاصل ہوتی ہے اگرچہ کامیابی وہ بھی ہے لیکن وہ فیصلہ کن نہیں ہے، اس لیے کہ اصل گول یہ دنیا نہیں ہے۔ اصل گول آخرت ہے۔ جب تک وہ گول نہ جیتا جائے اس وقت تک یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ کس کی جیت رہی اور کون ہارا۔ اس میں یہ اشارہ بھی مضمر ہے کہ اس دنیا میں مخالفین حق کو جو دندنانے کا موقع دیا جاتا ہے یہ اترانے کی چیز نہیں ہے، یہ عارضی ڈھیل ہے۔ کل انہیں پتہ چلے گا کہ اصل کامیابی کس کو حاصل ہوئی۔ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ، اوپر والے ٹکڑے میں جو بات مبہم رہ گئی تھی وہ اس ٹکڑے میں صاف کردی گئی۔ اوپر یہ فرمایا تھا کہ تم دیکھ لو گے کہ عاقبت کار کی کامیابی کس کو حاصل ہوتی ہے۔ اب یہ بتا دیا کہ انجام کار کی کامیابی میں ان لوگوں کا کوئی حصہ نہیں ہے جو کافر و مشرک اور حق تلف و ناسپاس ہوں گے۔ یہ بات جس حقیقت پر مبنی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کائنات اپنے وجود سے شہادت دیتی ہے کہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں ہے بلکہ یہ ایک حکیم وعلیم اور عادل و رحیم کی پیدا کی ہوئی دنیا ہے پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ انجام کار کی کامیابی وہ ان لوگوں کو بخشے جو ظلم و شرک کے مرتکب ہوئے۔ یہاں یہ پہلو خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ بات بالکل اصول کے رنگ میں فرمائی، من و تو کے انداز میں نہیں فرمائی۔ یہ نہیں فرمایا کہ انجام کار کی کامیابی ہماری حصہ ہے یا آخرت میں فلاح ہم پائیں گے بلکہ صرف یہ فرمایا کہ آخرت کی فلاح میں ظالموں کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ یہ اسلوب بیان حکمت و دعوت کے نقطہ نظر سے بھی نہایت مؤثر ہے اور یہ اس خشیت و توکل پر بھی دلیل ہے جو انبیاء و صالحین کے اندر ہوتی ہے۔ جو چیز پردہ غیب میں ہے، جس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے، جس کی راہ میں ابھی معلوم نہیں کتنی دشوار گزار گھاٹیاں پار کرنی اور کتنی پر خطر وادیاں قطع کرنی ہیں اس کے باب میں جو بات کہی جاسکتی ہے وہ اسی حد تک کہی جا سکت ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر کوئی دعوی کرنا بندگی اور خشیت الٰہی کے خلاف ہے۔
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور خدا نے جو کھیتی اور چوپائے پیدا کیے اس میں انہوں نے اللہ کا ایک حصہ مقرر کیا ہے۔ پس کہتے ہیں یہ حصہ تو اللہ کا ہے، ان کے گمان کے مطابق، اور یہ حصہ ہمارے شرکاء کا ہے، تو جو حصہ ان کے شرکاء کا ہوتا ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچ سکتا اور جو حصہ اللہ کا ہوتا ہے وہ ان کے شرکاء کو پہنچ سکتا ہے۔ کیا ہی برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں

مشرکین کی بدعات کی تفصیل : اس سلسلہ بحث کا آغاز جیسا کہ آیات 118 تا 112 سے معلوم ہوا، مشرکین مکہ کی ان بدعات کی تردید سے ہوا تھا جو اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت انہوں نے تحریم و تحلیل کی نوعیت کی ایجاد کی تھیں، اس تردید کے جواب میں انہوں نے جو ہنگامہ بحث وجدال کھڑا کیا اس کے تقاضے سے بیچ میں بعض مناسب حالات ہدایات مسلمانوں کو دی گئیں اور بعض ضروری تنبیہا مشرکین کو سنائی گئیں۔ اب یہ ان بدعات کی تفصیل آرہی ہے تاکہ مسلمان اپنے آپ کو ان نجاستوں سے محفوظ رکھیں۔ وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاۗىِٕنَا، یعنی باغ، کھیتی، چوپائے سب پیدا تو کیے خدا نے لیکن ان ظالموں نے ان میں سے خدا کا جو حصہ نکالا تو اس طرح کہ دوسرے شریکوں کے ساتھ ایک حصہ خدا کے لیے بھی الگ کردیا۔ ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاۗىِٕنَا، یہ اس تقسیم کی تفصیل ہے کہ اس میں اتنا حصہ تو اللہ کا ہے اور اتنا حصہ ہمارے شریکوں اور معبودوں کا ہے۔ اس تقسیم کے متعلق فرمایا کہ بزعمہم یہ تمام تر ان کے وہم و گمان پر مبنی ہے لیکن دعوی یہ ہے کہ یہ شریعت ابراہیمی کا حکم ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ مشرکین عرب نہ صرف خدا کو مانتے تھے بلکہ ہر چیز کا خالق بھی خدا ہی کو تسلیم کرتے تھے اور اس کے نام کا ایک حصہ اپنی زمینی پیداوار سے بھی اور اپنے گلوں میں سے بھی خیر خیرات اور نذر و نیاز کے لیے الگ کرتے تھے، یہ چیز ان کے ہاں حضرت ابراہیم و حضرت اسمعیل کے زمانے سے چلی آرہی تھی، چناچہ حضرت اسمعیل کے متعلق خود قرآن میں ہے وکان یامر اھلہ بالصلوۃ والزکوۃ (اور وہ اپنے اہل و عیال کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتا تھا)۔ بعد میں جب ان کے اندر مشرکانہ بدعات پھیلیں تو جس طرح خدا کے دوسرے حقوق میں ان کے فرضی معبود شریک بن بیٹھے اسی طرح اس کے نام کی زکوۃ بھی انہوں نے اس کے فرضی شریکوں میں تقسیم کردی کہ اس میں سے اتنا حصہ فلاں کا اتنا فلاں کا۔ ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَاۗىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰي شُرَكَاۗىِٕهِمْ ۭسَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ۔ یہ ان کے ستم بالائے ستم یا ان کی حماقت در حماقت کا بیان ہے کہ اگر کوئی مجبوری یا مشکل پیش آجائے تو خدا کا حصہ تو ان کے بتوں کی طرف منتقل ہوسکتا تھا لیکن مجال نہیں تھی کہ بتوں کا حصہ کسی حال میں خدا کی طرف منتقل ہو سکے۔ گویا حق مرجح بتوں اور شریکوں ہی کا تھا۔ قرآن نے دوسری جگہ بیان فرمایا ہے کہ مشرکین اپنے معبودوں اور شریکوں سے خدا کے بالمقابل زیادہ محبت کرتے ہیں۔ یہ چیز کچھ مشرکین مکہ ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ تمام مشرک قوموں کی مشترک خصوصیت بلکہ خود شرک کی فطرت ہے۔ مشرکین جن چیزوں کو خدا کا شریک بناتے ہیں ظاہر ہے کہ اس خیال سے بناتے ہیں کہ ان کی تمام نقد ضروریات انہی سے وابستہ ہیں اور اگر خدا سے کوئی ضرورت وابستہ ہے بھی تو بہر حال وہ بھی انہی کی وساطت سے پوری ہونی ہے یہاں تک کہ اگر خدا نہ بھی پوری کرنی چاہے جب بھی اگر یہ چاہیں تو پوری کرا ہی لیتے ہیں۔ اس خیال کے ہوتے ظاہر ہے کہ خدا کی اہمیت کچھ باقی نہیں رہ جاتی۔ چناچہ ان مشرکین کے نزدیک بھی خدا کی حیثیت نعوذ باللہ گھر کے ایک بڑے بوڑھے ناکارہ وجود سے زیادہ نہیں رہ گئی تھی۔ چناچہ وہ اسی حیثیت سے اس کے ساتھ معاملہ بھی کرتے تھے۔ اس کے نام پر روایت کے تحت کچھ نکال تو دیتے لیکن اگر اتفاق سے کسی بت کے نام کی بری مر گئی یا چوری ہوگئی یا اسکے نام کا غلہ چوہے کھا گئے تو اس کی تلافی لازماً خدا کے حصے میں سے کردی جاتی اور اگر اسی قسم کی کوئی آفت خدا کے نام پر نکالے ہوئے حصہ پر آجاتی تو یہ ممکن نہ تھا کہ اس کی تلافی معبودوں کے حصے کے مال سے کرنے کی جراءت کریں۔ فرمایا کہ کتنا برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں ! اول تو سب کچھ بخشا ہوا خدا کا اور اس کے حصہ میں یہ من مانا بٹوارہ ! پھر فرضی معبودوں کی یہ ناز برداری اور معبود حقیقی سے یہ بےپروائی اور اس کی یہ ناقدری۔
Ayah 6:137

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کی نظر میں ان کے شرکاء نے ان کی اولاد کے قتل کو ایک مستحن فعل بنا دیا ہے تاکہ ان کو تباہ کریں اور تاکہ ان کے دین کو ان کے لیے بالکل گھپلا کردیں اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرپاتے تو ان کو چھوڑ اپنے اسی افترا میں پڑے رہیں

وَكَذٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيْرٍمِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَاۗؤُهُمْ۔ یعنی ان کے یہ شرکا صرف مالوں ہی میں حصہ دار نہیں ہیں بلکہ خدا کی بخشی ہوئی جانوں میں بھی حصہ دار بنا دیے گئے ہیں۔ بہت سے مشرکین ان کی خوشنودی کے لیے اپنی اولاد بھی ان کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ ہم آیت 100 کے تحت بیان کر آئے ہیں کہ یہ سنگین جرم بعض مزعومہ سرکش جن بھوتوں کو راضی رکھنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ غالباً سخت قسم کے جاہل مشرکین اس وہم کے تحت کہ فلاں وادی یا فلاں درخت کے جن کو انہوں نے اپنی کسی اولاد کی نذر دے کر راضی نہ رکھا تو وہ ان کی ساری اولاد یا ان کے سارے خدا ندان پر آفت لائے گا، یہ حرکت کرتے تھے۔ اس قسم کے اوہام تمام مشرک اور وہم پرست قوموں کے اندر پہلے بھی موجود رہے ہیں اور زمانہ کی ترقی کے باوجود اب بھی بعض قوموں کے نچلے طبقات میں پائے جاتے ہیں۔ ان اوہام کے پختہ کرنے میں شیاطین جن کے ان ایجنٹوں کو بڑا دخل ہوتا ہے جو انسانوں میں سے ان کے مرید بن جاتے ہیں۔ عرب جاہلیت میں جہاں جہاں بھوتوں کے تھان اور استھان تھے ان کے پروہت، کاہن اور مجاور اپنی طرف رجوع کرنے والے سادہ لوحوں کو ورغلاتے کہ فلاں جن پر تم بڑا غضب ناک ہے، اگر تم نے اپنے کسی بیٹے یا بیٹی کی قربانی دے کر اس کو راضی نہ کیا تو وہ تمہارے سارے خاندان کو چٹ کر جائے گا۔ بیوقوف لوگ ان کے چکمے میں آ کر یہ بیدردانہ اور سنگدلانہ جرم کر بیٹھتے اور اس طرح اپنے دین اور اپنی دنیا دونوں برباد کرتے۔ لِيُرْدُوْهُمْ وَلِيَلْبِسُوْا عَلَيْهِمْ دِيْنَهُمْ ، دینہم (ان کے دین) سے مراد وہ دین ہے جو ان کو حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل سے وراثت میں ملا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ شیاطین جن و انس نے سادہ لوحوں اور کم عقلوں کو اس جال میں پھنسا کر ان کو مادی و روحانی دونوں قسم کی ہلاکتوں میں مبتلا کیا۔ ایک طرف ان کو اولاد جیسی نعمت سے محروم کیا، دوسری طرف ابراہیم کا سکھایا ہوا سیدھا سادا فطری دین ان کے لیے ایک گورکھ دھندا بن کے رہ گیا۔ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ ، یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی ہے کہ اگر یہ اپنی ان حماقتوں اور سنگ دلانہ حرکتوں کی حمایت میں تم سے لڑتے جھگڑتے ہیں، تمہاری بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں تو ان کو ان کے من گھڑت فتنوں میں پڑے رہنے دو۔ تمہارا کام کسی کو باندھ کر راہ پر لگانا نہیں ہے۔ اللہ نے اس دنیا میں باطل کو بھی مہلت دی ہے جو باطل پر جمے رہنا چاہتے ہیں خدا ان کو ان کے باطل ہی پر چھوڑ دیتا ہے۔ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اس نے جبر کو پسند نہیں فرمایا ہے۔ اگر وہ اپنی مشیت کے زور سے لوگوں کو ہدایت پر لانا چاہتا تو یہ سب ہدایت پر ہوتے، کوئی بھی اس گمراہی پر جما نہ رہ سکتا۔ جب یہ سنت الٰہی ہے تو تم ان کی اس ہٹ دھرمی سے کیوں پریشان ہو۔
Ayah 6:138

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور کہتے ہیں فلاں فلاں چوپائے اور فلاں فلاں کھیتی ممنوع ہے، ان کو نہیں کھا سکتے مگر وہی جن کو ہم چاہیں، اپنے گمان کے مطابق، اور کچھ چوپائے ہیں جن کی پیٹھیں حرام ٹھہرائی گئی ہیں اور کچھ چوپائے ہیں جن پر خدا کا نام نہیں لیتے، محض اللہ پر افترا کے طور پر اللہ عنقریب ان کو اس افترا کا بدلہ دے گا

وَقَالُوْا هٰذِهٖٓ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ ڰ لَّا يَطْعَمُهَآ اِلَّا مَنْ نَّشَاۗءُ بِزَعْمِهِمْ۔ حجر کے معنی ممنوع کے ہیں لیکن یہ لفظ عرب جاہللیت کی ایک دینی اصطلاح ہے۔ اس سے مراد وہ چیز ہو ہوتی ہے جو کسی دینی رسم کے تحت ممنوع ہو اسلامی اصطلاح اس کے لیے حرام کی ہے۔ یہ ان کے تھانوں اور استھانوں کے پروہتوں اور مجاوروں کے من گھڑت فتوے نقل ہو رہے ہیں۔ ان کے ہاں زمینی پیداوار چوپایوں کے جو چڑھاوے پیش ہوتے ان کے کھانے کے باب میں چڑھاوے کی نوعیت کے اعتبار سے بڑی بڑی قیدیں اور پابندیاں تھیں۔ مثلاً مرد کھا سکتے ہیں، عورتیں نہیں کھا سکتیں، یا بیوہ کھا سکتی ہے سہاگن یا کنواری نہیں ہاتھ لگا سکتی، یا اس کے برعکس، اس قسم کی حماقتیں ہمارے ہاں بھی بدعتی گھرانوں میں پائی جاتی ہیں۔ یہ فتوے چونی کہ تمام تر ان پروہتوں کی خود ساختہ شریعت پر مبنی تھے اور ہی اس کے عالم بھی تھے اس وجہ سے نہ کوئی دوسرا اس میں اپنا کوئی اقول لگا سکتا تھا نہ سرِ مو اس سے انحراف اختیار کرسکتا تھا۔ ان کے اسی تحکم کو الا من نشاء بزعمہم کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ وَاَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَاَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا افْتِرَاۗءً عَلَيْهِ ۭسَيَجْزِيْهِمْ بِمَا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ ، بعض قسم کے جانوروں پر سواری کرنا ناجائز تھا۔ اس کی بعض مثالیں مائدہ آیت 103 کے تحت گزر چکی ہیں۔ بعض قسم نذروں اور چڑھاو وں پر ان کے ذبح کے وقت خدا کا نام نہیں لیتے تھے۔ یہ ملحوظ رہے کہ اہل عرب ملت ابراہیم کی روایات کے زیر اثر ذبح کے صحیح طریقے سے آشنا تھے اور ذبح کے وقت وہ خدا نام بھی لیتے تھے لیکن مشرکانہ رسوم و عقائد کے غلبہ نے ان کو اس طریقہ سے ہٹٓ کر ایک بالکل غلط راہ پر ڈال دیا۔ ازاں جملہ یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ بعض قسم کے چوپایوں پر وہ خدا کا نام لینا اپنی مشرکانہ شریعت کے خلاف سمجھتے تھے۔ ان کی یہ ساری خرافات مبنی تو تھیں ان کے مشرکانہ اوہام پر لیکن جس طرح وہ اپنی ساری ہی حماقتوں کو اللہ کی تعلیم کی طرف منسوب کرتے اسی طرح ان حماقتوں کو بھی اللہ کی طرف منسوب کرتے تھے اس وجہ سے قرآن نے اس کو افترا سے تعبیر فرمایا اور دھمکی دی کہ اللہ عنقری ان کو اس افترا کی سزا دے گا۔
Ayah 6:139

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور کہتے ہیں فلاں قسم کے چوپایوں کے پیٹ میں جو ہے وہ بس ہمارے مردوں کے لیے خاص ہے اور ہماری عورتوں کے لیے حرام ہے اور اگر وہ مردہ ہو تو اس میں سب شریک ہی۔ عنقریب اللہ ان کو ان کی اس تشخیص کی سزا دے گا۔ بیشک وہ حکیم وعلیم ہے

وَقَالُوْا مَا فِيْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلٰٓي اَزْوَاجِنَا ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مَّيْتَةً فَهُمْ فِيْهِ شُرَكَاۗءُ۔ یہ بھی انہی خانہ ساز فتو وں کے قسم کی ایک بات ہے۔ بعض چوپایوں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچوں کے متعلق مشرکانہ توہمات کے تحت ان کا فتوی یہ تھا کہ مردوں کے لیے ان کا کھانا جائز ہے، عورتوں کے لیے ناجائز۔ ہاں اگر بچہ مردہ پیدا ہو تو اس کے کھانے میں مرد عورت دونوں شریک ہوسکتے ہیں۔ فرمایا کہ سیجزیہم وصفہم انہ حکیم علیم۔ یہ جو من مانے فتوے دیے جا رہے ہیں اللہ ان کو عنقریب اس کا بدلہ دے گا۔ اس کے علم و حکمت کے یہ بات منافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو سزا نہ دے جو اس جسارت کے ساتھ اس کے نام پر شریعت سازی کارخانے کھول لیں۔ اس میں ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ ان لوگوں سے منٹنے میں جو دیر ہو رہی ہے یہ اس کے علم و حکمت پر مبنی ہے۔ خدا کے ہاں دیر ہے لیکن اندھیر نہیں۔
Ayah 6:140

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

وہ لوگ نامراد ہوئے جنہوں نے محض بےوقوفی سے، بغیر کسی علم کے اپنی اولاد کو قتل کیا، اور اللہ نے ان کو جو روزی بخشی اس کو اللہ پر افترا کر کے حرام ٹھہرایا، یہ گمراہ ہوئے اور ہدایت پانے والے نہ بنے۔

قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ قَتَلُوْٓا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّحَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَاۗءً عَلَي اللّٰهِ۔ یہ ان تمام حماقتوں پر جو اوپر مذکور ہوئیں اور ان کے مرتکبین کی بد انجامی پر اظہار افسوس ہے کہ بغیر کسی خدائی سند کے محض حماقت سے، اللہ پر افترا کر کے انہوں نے اپنی اولادوں کو قتل کیا اور اللہ کے بخشے ہوئے رزق کو اپنے اوپر حرام کیا، ان کی بدبختی و نامرادی میں کیا شبہ کی گنجائش ہے۔ یہ لوگ راہ حق سے بھٹکے اور اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعہ سے ان کو اپنی راہ دکھائی تو اپنی بدبختی کے سبب سے اس کو اختیار کرنے والے نہ بنے۔ قَدْ ضَلُّوْا وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ۔ فصل 21: اگلی آیات 141 تا 165 کا مضمون : آگے ان بدعا کی تردید فرمائی ہے جو اوپر مذکور ہوئیں۔ اس تردید کے کئی پہلو ہیں۔ اول یہ کہ زمین کی پیداوار ہو یا مال مویشی، سب خدا ہی نے پیدا کیے ہیں اور اسی کی عنایت سے تمہیں ملے ہیں تو ان سے فائدہ اٹھاؤ، خدا کا شکر ادا کرو، ان میں سے خدا کا حق ادا کرو، اور شیطان کی پیروی میں اپنے جسی سے، مشرکانہ توہمات کے تحت، حلال و حرام نہ ٹھہراؤ، شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ دوسرا یہ کہ تمام چوپایوں میں سے نر و مادہ دونوں کو لے کر ایک ایک سے متعلق سوال کیا ہے کہ بتاؤ ان میں سے نر حرام ہے یا مادہ اور مطالبہ کیا کہ کسی سند سے یہ ثابت کرو کہ ان چوپایوں میں سے کوئی ایک بھی ملت ابراہیم میں حرام تھا۔ جب ان میں سے کسی کی حرمت تم کسی دلیل سے ثابت نہیں کرسکتے تو انہی کی نسل سے پیدا شدہ جانوروں میں سے کوئی حرام اور کوئی حلال کس طرح بن جائے گا ؟ آخر ایک ہی درخت کے کچھ پھل جائز اور کچھ ناجائز ہونے کے کیا معنی ؟ تیسرا یہ کہ ملت ابراہیم کے حلال و حرام سے متعلق جو وحی مجھ پر آئی ہے اس میں تو فلاں فلاں چیزوں کے سوا اور کسی چیز کی حرمت کا ذکر نہیں ہے۔ یہود پر جو چیزیں حرام ہوئیں وہ بھی وہی ہیں جو ملت ابراہیم میں حرام تھیں بجز ان چیزوں کے جو ان کی سرکشی کے نتیجے میں ان پر حرام کی گئیں۔ اس کے بعد ملت ابراہیم کی بنیادی تعلیمات کا حوالہ دیا اور فرمایا کہ اسی صراط مستقیم کی تمہیں دعوت دی جا رہی ہے تو اس سے منحرف ہو کر گمراہی کی وادیوں میں نہ بھٹکو، اس کے ساتھ حضرت موسیٰ کو جو شریعت عطا ہوئی اس کا حوالہ دیا کہ وہ بھی ان کے لیے، جنہوں نے اس کو صحیح طریقہ پر قبول کیا، اسی راہ کی طرف رہنمائی کرنے والی تھی۔ اس کے بعد اس احسانِ عظیم کا ذکر فرمایا جو اس قرآن کو نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے اہل عرب پر کیا اور یہ تنبیہ فرمائی کہ یہ کتاب اتار کر اللہ نے تم پر حجت تمام کردی ہے، اب تمہارے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا ہے، اگر اس کو ماننے کے لیے عذاب کے منتظر ہو تو یاد رکھو کہ عذاب آجانے پر جو ایمان لایا جاتا ہے وہ نافع نہیں ہوا کرتا۔ آخر میں پیغمبر ﷺ کی زبان سے اعلان کرایا کہ خدا نے مجھے تو ملت ابراہیم کی ہدایت بخش دی، میری نماز، قربانی، زندگی اور موت سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ تم میں سے جو یہ راہ اختیار کرنی چاہے، اختیار کرے ورنہ خدا کے حضور جواب دہی کے لیے تیار رہے۔ وہاں ہر ایک کو اپنی جواب دہی خود کرنی ہے، کوئی دوسرا اس کے بوجھ کو اٹھانے والا نہ ہوگا۔ ساتھ ہی قریش کو تنبیہ فرمائی کہ تم پہلی قوم نہیں ہو جو دنیا کے اسٹیج پر نمودار ہوئی ہو۔ تم سے پہلے بھی قومیں آچکی ہیں اور اپنی سرکشیوں کے نتیجہ میں کیفر کردار کو پہنچ چکی ہیں۔ اگر ان کے جانشین ہو کر تم نے بھی وہی روش اختیار کی تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ تمہارے معاملے میں سنت الٰہی بدل جائے۔ تم بھی اسی انجام کو پہنچو گے جس کو وہ پہنچیں۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
Ayah 6:141

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے جس نے باغ پیدا کیے، کچھ ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں کچھ نہیں چڑھائے جاتے۔ اور کھجور اور کھیتی پیدا کی مختلف النوع پیداوار کی۔ اور زیتون اور انار باہمدگر ملتے جلتے بھی اور ایک دوسرے سے مختلف بھی۔ ان کے پھلوں سے فائدہ اٹھاؤ جب وہ پھلیں اور اس کی کٹائی کے وقت اس کا حق ادا کرو اور اسراف نہ کرو۔ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ : یعنی کھیتی اور باغ سب پیدا کیے ہوئے تو خدا کے ہیں تو ان میں تم نے دوسرے دیویوں، دیوتاؤں کو کس حق کی بنا پر شریک بنا ڈالا، مَّعْرُوْشٰتٍ سے مراد انگور وغیرہ ہیں جن کی بیلیں ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔ وَّغَيْرَ مَعْرُوْشٰتٍ سے وہ چیزیں مراد ہیں جو ٹٹیوں کی محتاج نہیں ہوتیں۔ انگور کی بیلوں کی مناسبت سے میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ غَيْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وہ بیلیں ہیں جو زمین ہی پر پھیلتی اور پھلتی پھولتی ہیں۔ مثلاً خربوزے، تربوز، ککڑیاں، کھیرے وغیرہ۔ سورة عبس میں، عنب، اور، قضب، دو چیزوں دو چیزوں کو جمع کیا ہے، عنب، انگور کو کہتے ہیں اور قضب، ان سبزیوں کے لیے معروف ہے جو تازہ حالت میں کھائی جاتی ہیں۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں باغوں اور کھیتیوں کی گوناگونی و بوقلمونی، ان کی پیداوار کے تنوع اور ان کے انواع و اقسام کے اختلاف و تعدد کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے جس سے مقصود بعض حقائق کی طرف توجہ دلانا ہے اشیائے کائنات کی شہادت زبان حال سے : ایک یہ کہ جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے وہ بڑا ہی جواد و کریم، فیاض و مہربان، سخی اور بندہ نواز ہے۔ اس نے بندوں میں رزق کی احتیاج رکھی تو یہ نہیں کیا کہ جیسا تیسا پیٹ بھرنے کا سامان پیدا کردیا ہو بلکہ الوان نعمت کے انبار لگا دیے۔ باغ اگائے تو گوناگوں قسم کے، کھجور اور غلے پیدا کیے تو بیشمار اقسام کے زیتون، انار اور دوسرے پھل پھول عنایت کیے تو نت نئے انواع کے، آخر مجرد زندگی باقی رکھنے کے لیے تو یہ تنوعات، یہ بوقلمونیاں، شکلوں، رنگوں ذائقوں اور مزوں کی یہ رنگ آرائیاں و رعنائیاں ناگزیر نہیں تھیں لیکن اس دنیا کے خالق نے بغیر اس کے کہ اس کی کوئی ضرورت ہم سے وابستہ ہو ہمارے لیے اتنا وسیع دسترخوان بچھایا کہ ہم اس کے لذائذ کے انواع و اقسام گننا چاہیں تو گن نہیں سکتے۔ سوچنے والوں کے لیے سوچنے کی بات ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ انسان یہ جانے کہ اس کا رب، منعم و کریم اور فیاض و مہربان ہے جس نے بلا کسی استحقاق کے اس کے لیے یہ سارے سامان مہیا فرمائے ہیں اور پھر اس کا فطری اثر اس کے دل پر یہ طاری ہو کہ وہ اس کا شکر گزار بندہ بنے اور اس کا حق پہچانے۔ یہی شکر گزاری کا جذبہ اور حق شناسی کا احساس ہے جو تمام دین و شریعت کی، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، بنیاد ہے۔ دوسری یہ کہ پر ودگاری اور ربوبیت کا یہ سارا ساز و سامان، جس سے ہم بلا استحقاق فائدہ اٹھا رہے ہیں، ہمارے اوپر ایک بہت بھاری ذمہ داری عاید کرتا ہے۔ وہ یہ کہ ہم ان سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ جس نے یہ سب کچھ ہمارے لیے بنایا ہے ضرور ہے کہ وہ ایک دن ایسا بھی لائے جس میں ہم سے ایک ایک نعمت کے متعلق سوال کرے کہ جس کے خوان نعمت سے ہم نے یہ فائدے اٹھائے اس کی وفاداری کا حق ادا کیا یا نہیں اور پھر اسی کے لحاط سے وہ ہم کو جزا یا سزا دے۔ یہ اس بنیاد پر ہے کہ ہر حق اور ہر تمتع کے ساتھ ذمہ داری اور ہر priviledge کے ساتھ responsibility لازمی ہے۔ ان دونوں کا لازم و ملزوم ہونا انسانی فطرت کے بدیہیات میں سے ہے۔ ہر حساس انسان اس کو تسلیم کرتا ہے۔ صرف لئیم، کمینہ اور بلید لوگ ہی ہوسکتے ہیں جو اللہ کی نعمتوں سے فائدہ تو اٹھائیں لیکن ان کے جواب میں کوئی ذمہ داری محسوس نہ کریں۔ تیسری یہ کہ اس کائنات میں کثرت کے اندر وحدت، گوناگونی کے اندر ہم آہنگی، اختلاف کے اندر ساز گاری، ہر گوشے میں نمایاں ہے، مٹی، پانی، ہوا ایک ہی لیکن اشیا گوناگوں قسم کی، رنگ مختلف قسم کے۔ مزے، خوشبو، قد و قامت الگ الگ۔ پھر یہ سب انسان کے لیے نعمت و برکت، غذا اور لذت ہیں۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس خالق نے ہمارے جسم کے اندر گلو کوز اور فولاد کا تقاضا ودیعت کیا اسی نے انار اور انگور کے دانوں کے اندر رس بھرے۔ جس نے ہماری زبان کے اندر مختلف ذائقے ودیعت کیے اسی نے ان اشیا کے اندر مختلف مزے پیدا کیے۔ جس نے ہماری نگاہوں کو حسن و جمال کا ذوق بخشا اسی نے ہر چیز کو حسن و رعنائی، دلکشی و دلربائی کا پیکر بنا دیا۔ قرآن نے یہاں اشیا کے ظاہری تضاد و اختلاف کے اندر اسی وحدت مقصد کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ یہ چیز اس کائنات کے خالق اور اس کے مصرف کی توحید کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ پیچھے آیات 99 تا 101 کے تحت بھی بعض اشارے گزر چکے ہیں۔ مزید تفصیل کے طالب ہماری کتابیں، حقیقت شرک، اور حقیقتِ توحید، پڑھیں، ان میں ہم نے ان مسائل پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ وَاٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ ، یہ تعلیم تمام نعمتیں اپنی زبان حال سے بھی دے رہی ہیں اور یہی تعلیم خدا اور اس کے نبیوں اور رسولوں نے بھی دی ہے اور یہی ان نعمتوں کا وہ حق بھی ہے جس کی شہادت خود ہماری فطرت دیتی ہے بشرطیکہ وہ مسخ نہ ہوگئی ہو۔ یعنی اللہ کی بخشی ہوئی ان کھیتوں اور ان باغوں سے خود فائدہ اٹھاؤ اور جب فصلوں کے کاٹنے اور پھلوں کے تورنے کا وقت آئے تو ان کا حق ادا کرو، حقہ، میں ضمیر کا مرجع خدا بھی ہوسکتا ہے اور ثمر بھی لیکن دونوں صورتوں میں باعتبار مفہوم کچھ زیادہ فرق نہ ہوگا۔ ہر نعمت جو اللہ تعالیٰ عنایت فرماتا ہے اس کا ایک حق واجب یہ ہے کہ جس کو یہ نعمت ملی وہ اس میں ان لوگوں کو بھی شریک کرے جو اس سے محروم ہیں۔ یہ اس نعمت کی شکر گزاری کا حق ہے۔ یہی حق ہے جس کو اللہ تعالیٰ کا حق کہا جاتا ہے۔ اس حق کا شعور انسان کی فطرت کے اندر ودیعت ہے۔ جب سے انسان پایا جاتا ہے، تمام بھلے انسانوں کے اندر اس حق کا احساس بھی پایا جاتا ہے۔ حضرت آدم کا بیٹا ہابیل اپنی بھیڑوں بکریوں کا جو نذرانہ خداوند کے لیے لایا تھا وہ اسی حق کی ادائئیگی کے لایا تھا۔ یہی حق ہے جس کی ادائیگی کے لیے اسرائیلی شریعت میں بھی اور پھر اسلام میں بھی زکوۃ کا ایک باقاعدہ نظام قائم ہوا۔ حق زکوۃ پیدا وار پر ہے : يَوْمَ حَصَادِهٖ کے لفظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس حق کی ادائیگی فصل کے درد کے وقت اس کے حاصل سے ہونی چاہئے۔ اس کی علت یہ ہے کہ یہ حق درحقیقت اس نعمت الٰہی کا شکرانہ ہے جو کسان کو حاصل ہوئی۔ اسی وجہ سے اسلام نے زکوۃ کا حق پیداوار پر رکھا ہے۔ یہی بات عقل و فطرت کے مطابق ہے۔ اس زمانے میں دوسری قوموں کی نقالی میں مسلمانوں نے بھی ایک بالکل غیر اسلامی مالیاتی نظام اختیار کرلیا ہے اس وجہ سے مسلمان حکومتیں زکوۃ کے بجائے ٹیکس وصول کرتی ہیں۔ یہ چیز اس برکت اور اس عدل سے بالکل خالی ہے جو اسلام کے نظام زکوۃ میں ہے۔ مِنْ ثَمَرِهٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ ، میں ضمیر ہرچند واحد ہے لیکن مراد وہ ساری ہی چیزیں ہیں جو مذکور ہوئیں۔ اس طرح متعدد چیزیں ذکر کرنے کے بعد جب ضمیر یا فعل واحد لاتے ہیں تو مقصود ان میں سے ہے ایک ایک چیز کا حکم فرداً فرداً بیان کرنا ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ہر پیداوار پر خدا کا حق ہے، خواہ کوئی شے بھی ہو، اس سے استثنا کسی شے کا نہیں بلکہ ایک خاص مقدار کا ہے۔ شریعت نے ایک خاص حد تک کی پیداوار، پیدا کرنے والے کی ضروریات کا لحاظ کر کے اس حق سے مستثنی کردی ہے۔ رہا یہ سوال کہ یہ مقدار کیا ہے تو اس کا تعلق فقہ سے ہے اور یہ بات تفصیل طلب ہے جس کے لیے یہاں گنجائش نہیں ہے۔ فقہاء بعض اموال کو اموال زکوۃ میں شمار نہیں کرتے، یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ اگر وہ شے نہایت محدود مقدار میں محض گھریلو استعمال کے حد تک پیدا کی جاتی ہو تب تو بیشک وہ زکوۃ سے مستثنی ہونی چاہیے لیکن اگر انہی چیزوں میں سے کوئی چیز کوئی زمیندار بڑے پیمانہ پر کاشت کرے یا وہی چیز کسی علاقہ یا ملک کی عام پیداوار کی حیثیت رکھتی ہو یا حاصل کرلے تو آخر وہ زکوۃ سے مستثنی کیوں رہے گی۔ اِذَآ اَثْمَرَ کا تعلق صرف کُلُوا سے نہیں ہے بلکہ کُلُوْا اور اتوا حقہ دونوں سے ہے۔ یعنی جس طرح پیداوار سے انتفاع منحصر ہے پیداوار حاصل ہونے پر، اسی طرح اس کے حق شرعی کی ادائیگی واجب ہے اس کے پیدا ہونے اور کھیت سے کھلیان تک پہنچنے پر۔ اس سے یہ حقیقت مزید موکد ہوگئی کہ اس حق کا اصل تعلق پیداوار سے ہے نہ کہ زمین سے، چناچہ اسی اصول پر اسلام کا نظام زکوۃ ہے۔ وَلَا تُسْرِفُوْا ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ۔ یہ ادائے حق کے ساتھ اسی طرح کی ہدایت ہے جس طرح کی ہدایت سورة بنی اسرائیل میں بعینہ اسی سیاق میں وارد ہوئی ہے۔ فرمایا ہے وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا (26)إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا (27) اور قرابت مند، مسکین اور مسافر کو اس کا حق دو اور فضول خرچی نہ کرو، فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ (بنی اسرائیل 26۔ 27)۔ اس ہدایت کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ حقوق کی ادائیگی کا انحصار اس امر پر ہے کہ آدمی اپنی جروریات و خواہشات کے معاملے میں معتدل، کفایت شعار اور میانہ رو ہو۔ جو شخص مسرف اور فضول خرچ ہو اس کے اپنے ہی شوق پورے نہیں ہوپاتے، وہ دوسروں کے حقوق کیا ادا کرے گا۔ شیطان ارباب مال پر سب سے زیادہ حملہ اسی اردہ سے کرتا ہے۔ وہ ان کو طرح طرح کی آرزوؤں اور خواہشوں میں پھنساتا ہے اور وہ ان خواہشات و تعیشات کے ایسے غلام ہوجاتے ہیں کہ ان کے نزدیک ان کا درجہ ضروریات سے بھی کچھ بڑھ کر ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگ بھلا کس طرح سوچ سکتے ہیں کہ جس مال میں ان کے یہ اللے تللے ہیں اس میں خدا کے دوسرے بندوں کے بھی حقوق ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے کتے، باز، شکرے تو آسودہ رہتے ہیں لیکن ان کے پڑوسی بھوکے سوتے ہیں۔
Ayah 6:142

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور اس نے چوپایوں چوپایوں میں بڑے قد کے بھی پیدا کیے اور چھوٹے قد کے بھی تو اللہ نے جو کچھ تمہیں بخشتا ہے ان سے فائدہ اٹھاؤ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو، بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے

وَمِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّفَرْشًا۔ حمولۃ، رکوبہ اور حلوبہ کے وزن پر ہے اور اس سے مراد وہ چوپائے ہیں جو سواری اور بار برداری کے لیے موزوں ہیں۔ مثلاً اونٹ، گھوڑے، خچر وگیرہ، الابل التی تحمل کل ماتحتمل علیہ القوم من بعیر، حمار و نحوہ الفر، اس زمین کو بھی کہتے ہیں جہاں نباتات کی کثرت ہو۔ اس کھیتی کو بھی کہتے ہیں جو ابھی اپنے ڈنٹھلوں پر کھڑی نہ ہوئی ہو اور حیوانات کے تعلق سے یہ لفظ آئے تو اس سے مراد وہ چھوٹے جانور ہوتے ہیں جو سواری یا باربرداری کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ صرف ذبح یا دوسری ضروریات ہی کے لیے موزوں ہیں مثلا بکریاں، بھیڑیں وغیرہ۔ قرینہ دلیل ہو تو اس میں چھوٹے اونٹ اور گائے بیل بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ لیکن یہاں یہاں یہ لفظ ‘ حمولۃ ’ کے مقابل میں استعمال ہوا ہے اس وجہ سے لازماً یہاں چھوٹے چوپائے ہی مراد ہوں گے۔ اوپر والی آیت میں جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّغَيْرَ مَعْرُوْشٰتٍ کا ذکر فرمایا ہے۔ اب یہ اس کے مقابل میں چوپایوں کا ذکر فرمایا تو ان کو بھی دو بڑی قسموں حمولۃ اور فرش میں تقسیم فرما دیا۔ زبان کا ذوق رکھنے والے اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہاں نہایت حسین قسم کا تقابل ہے۔ حمولۃ، معروشات کا مقابل ہے۔ فرش، غیر معروشات، کا گویا جس طرح نباتاتی کھیتیوں اور باغوں میں قدرت نے ایسی بیلیں بھی پیدا کی ہیں جو ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں اور یسی بھی جو زمین ہی پر پھیلتی ہیں، اسی طرح چوپایوں میں حمولہ میں بھی ہیں جن کو قدرت نے اونچے ڈھانچوں پر کھڑا کیا اور فرش بھی ہیں جو زمین سے لگے ہی ہوئے چرتے چگتے پروان چڑھتے ہیں اور انسان کو اپنے گوشت، کھال، اون، دودھہر چیز سے فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اس لفظ یتجانس کے ساتھ ساتھ اس معنوی تجانس پر بھی نگاہ رکھیے جو دونوں آیتوں میں یکساں موجود ہے۔ اوپر ہم نے اشارہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے یے جو نعمتیں پیدا کی ہیں ان کا ایک خاص پہلو ان کی گوناگونی اور بوقلمونی بھی ہے جس سے خدا کی ربوبیت، عنایت اور رحمت کی شہادت ملتی ہے اور یہ شہادت، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، توحید اور جزا و سزا کی نہایت اہم آفاقی و انفسی دلیل ہے۔ اسی دلیل کی طرف یہاں بھی چوپایوں کے تنوع کا حوالہ دے کر اشارہ فرما دیا ہے اور یہ اشارہ فکر انسانی کے لیے ایک مہینہ ہے بشرطیکہ انسان غور کرنا چاہے۔ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۭاِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۔ جس طرح اوپر والی آیت میں نعمتوں کے ذکر کے بعد ان کا حق یہ بیان فرمایا کہ کلوا من ثمرہ اذا اثمر اسی طرح ان چوپایوں کی نعمت کا حق یہ بیان فرمایا کہ کلوا مما رزقکم اللہ کہ اللہ نے یہ نعمتیں جو تمہیں بخشی ہیں جن جن پہلوؤں سے تمہارے لیے نافع ہیں ان کو برتو، اپنے منعم کا شکر ادا کرو اور ان کے اندر جو خدا کا حق ہے وہ ادا کرو۔ یہ باتیں چونکہ سیاق کلام سے ظاہر ہے، نیز اوپر ان کا ذکر ہوچکا تھا اس وجہ سے ان کی تصریح کی ضرورت نہیں تھی۔ البتہ شیطان کے فتنوں سے آگاہ فرما دیا کہ اسکے نقش قدم کی پیروی نہ کیجیو اس لیے کہ وہ کھلم کھلا پہلے ہی الٹی میٹم دے چکا ہے کہ وہ تم کو فتنوں میں ڈالے گا تو تم اس کے کہے پر اپنے جی سے حرام و حلال ٹھہراؤ گے اور خدا کے بخشے ہوئے چوپایوں کو بتوں کے نام پر نیاز اور قربانی کے طور پر پیش کروگے۔ چناچہ فرمایا ہے وَقَالَ لأتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا (118) وَلأضِلَّنَّهُمْ وَلأمَنِّيَنَّهُمْ وَلآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الأنْعَامِ ، اور شیطان نے کہا میں تیرے بندوں میں سے ایک متعین حصہ ہتھیا کے رہوں گا، اور میں ان کو گمراہ کروں گا، ان کو آرزوؤں کے سبز باغ دکھاؤں گا اور ان کو سجھاؤں گا تو وہ چوپایوں کے کان کاٹیں گے (نساء :118، 119)۔ اوپر والی نعمتوں کے سلسلے میں شیطان کی رہزنی اسراف و تبذیر کے پہلو سے بیان ہوئی۔ یہاں اس کی مشرکانہ وسوسہ اندازیوں کا ذکر ہوا اور شیطان کے یہ دونوں ہی حربے اولاد آدم پر بڑے کارگر ثابت ہوئے ہیں۔ اس آیت میں اکل یا رزق کے الفاظ ان محدود معنوں میں نہیں استعمال ہوئے ہیں جن معنوں میں عام طور پر ہم لیتے ہیں۔ اکل، برتنے اور فائدہ اٹھانے کے مفہوم میں ہے اور رزق ایک جامع تعبیر ہے بخشش الٰہی کی۔
Ayah 6:143

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

چوپایوں کی آٹھوں قسموں کو لو، بھیڑوں میں سے نر و مادہ دو اور بکریوں میں سے نر و مادہ اور بکریوں میں سے نر و مادہ دو ، پھر ان سے پوچھو کہ ان دونوں کے نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادینوں کو یا اس بچے کو جو ان مادینوں کے رحم میں ہے، اگر تم سچے ہو تو کسی سند کے ساتھ مجھے بتاؤ

ثَمٰنِيَةَ فعل محذوف سے منصوب ہے۔ عام طور پر لوگوں نے فعل ماضی محذوف مانا ہے لیکن ہمارے نزدیک قرینہ یہاں فعل امر کے محذوف ماننے کا ہے۔ جملہ کی وضاحت سے اس قرینے کی وضاحت ہوجائے گی۔ زوج کا لفط جس طرح جوڑے کے لیے آتا ہے اسی طرح جوڑے کے ایک فرد کے لیے بھی آتا ہے۔ عربی ادب اور قرآن دونوں میں اس کی نظیریں موجود ہیں۔ لفظ انعام کا اطلاق کئی چوپایوں پر ہوتا ہے : پالتو چوپایوں میں سے جو گوشت یا دودھ وغیرہ کے لیے عرب میں پائے جاتے تھے چار معروف تھے۔ چھوٹے چوپایوں میں بھیڑ بکری، بڑے چوپایوں میں اونٹ گائے، انعام کا لفظ انہی کے لیے بولا جاتا ہے۔ جب اس کی طرف لفظ بہیمۃ کی نسبت ہوجاتی ہے تو اس میں جیسا کہ سورة مائدہ کے شروع میں ہم اشارہ کرچکے ہیں، وہ وحشی چوپائے بھی شامل ہوجاتے ہیں جو اگرچہ پالتو نہیں لیکن شامل انعام ہی کی جنس میں ہیں۔ مثلاً ہرن، جنگلی بکرے، پاڑ ہے، نیل گاؤ، گور خر وغیرہ (بھینس چونکہ گرم اور مرطوب ملکوں کا چوپایہ ہے اس وجہ سے یہ عرب میں معروف تھی نہ ہے) یہ معروف چوپائے، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، چار تھے، بھیڑ، بکری، اونٹ اور گائے، ان کے جوڑے کے افراد نر اور مادہ دونوں کو الگ الگ گنیے تو یہ سب آٹھ ہوجائیں گے۔ فرمایا کہ ان آٹھوں کو لو اور ان میں سے ہر ایک کے نر و مادہ کو لے کر ان لال بجھکڑوں سے پوچھو کہ بتائیں، ان میں سے نر کو خدا نے حرام ٹھہرایا ہے یا مادہ کو یا مادہ کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کو ؟ مطلب یہ ہے کہ جب اصلاً یہ جانور، ان کے نر و مادہ دونوں پیٹ کے بچہ سمیت حلال ہیں، ان میں سے کسی کی حرمت کا دعوی یہ نہیں کرسکتے تو پھر انہی کے بعض اجزا پر یہ حرمت کہاں سے طاری ہوجاتی ہے کہ بعض کا کھانا ناجائز ہوجاتا ہے، بعض پر سواری حرام ہوجاتی ہے، بعض کو صرف مرد ہی کھا سکتے ہیں اور بعض کو مخصوص حالات پیدا ہوجانے کے بعد دونوں کھا سکتے ہیں عقل و فطرت کا تقاضا تو یہ ہے کہ اگر درخت مباح ہے تو اس کا پھل بھی مباح ہو۔ یہ کیا بےتکی بات ہے کہ درخت تو مباح ہے لیکن اس کی ایک شاخ کا پھل حرام ہے یا مردوں کے لیے تو یہ حلال ہے لیکن عورتوں کے لیے حرام ہے یا اتنے پھل دینے تک تو وہ حلال ہے لیکن اتنے پھل دے چکنے کے بعد اس پر حرمت طاری ہوجاتی ہے نَبِّـــــُٔـوْنِيْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ ان میں سے بعض چیزیں دین ابراہیمی میں حرام تھیں تو اس پر کوئی علمی دلیل پیش کرو، علمی دلیل دو قسم کی ہوسکتی ہے۔ ایک تو یہ کہ دین ابراہیم کی کوئی قابل اعتماد سند ہو جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ فلاں فلاں چیزیں دین ابراہیمی میں حرام تھیں یا کوئی عقلی و فطری دلیل یا قرینہ ہو جس سے ان کے دعوے کی صحت پر اعتماد کیا جاسکے۔ اگر اس طرح کی کوئی چیز موجود نہیں ہے تو مجرد واہمہ پر اچھے بھلے جانوروں کو حرام کردینے کے کیا معنی ؟ یہ واضح رہے کہ اہل عرب اپنے جن مشرکانہ توہمات و رسوم کو حضرت ابراہیم کی طرف منسوب کرتے تھے ان کے حق میں دلیل وہ صرف یہ پیش کرتے تھے کہ لوشاء اللہ ما اشرکنا ولا اباءنا ولا حرمنا من شیء (اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرسکتے نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے)۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی دلیل عقلی ہے نہ نقلی۔ اگر یہ کوئی دلیل ہے تو ہر احمق اپنی ہر حماقت کو اس دلیل سے چواب ثابت کرسکتا ہے۔ باپ دادا کا کسی رسم کو اختیار کرلینا بھی اس کی صحت یا حضرت ابراہیم کی طرف اس کی نسبت کی کوئی دلیل نہیں۔ آخر یہ کس طرح باور کرلیا جائے کہ ان کے باپ دادا نے جو رسوم اختیار کیے کسی سند کی بنا پر اختیار کیے جب کہ خود اہل عرب کی روایات شاہد ہیں کہ جس طرح دین مسیحی کو پال نے بگاڑا اسی طرح عربوں میں شرک و بت پرستی کا رواج ایک شخص عمرو بن لحی نامی کے ذریعے سے ہوا۔ قرآن نے عربوں کے ان توہمات کی تردید کے لیے عقلی و نقلی دونوں قسم کے دلائل دیے۔ ایک طرف تو اس نے حضرت ابراہیم کی زندگی کا وہ سارا تحریری ریکارڈ پیش کیا جو تورات کے صحیفوں میں موجود تھا، جس کا ایک ایک حرف شاہد ہے کہ حضرت ابراہیم کو نہ صرف یہ کہ شرک اور مشرکانہ رسوم سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ انہوں نے اپنے ایک ایک قول اور ایک ایک عمل سے شرک کے ایک ایک جرثومہ کا قلع قمع کیا ہے۔ دوسری طرف توحید خالص کے حق میں وہ عقلی و فطری دلیلیں دیں جو ناقابل تردید بھی ہیں اور جو حضرت ابراہیم ہی کی، جیسا کہ اسی سورة کے پچھلے مباحث سے واضح ہے، پیش کردہ ہیں۔ غور کیجیے کہ کہاں قرآن نے یہ سورج کی طرح روشن دلائل اور کہاں اہل عرب کی یہ بات کہ ہم نے اسی طریقہ پر اپنے باپ دادا کو پایا اس وجہ سے یہی اللہ کی شریعت اور یہی ابراہیم کی ملت ہے۔
Ayah 6:144

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اسی طرح لو اونٹوں میں سے نر و مادہ دو اور گائے بیل میں سے نر و مادہ دو ، پھر پوچھو کہ ان دونوں کے نروں کو حرام ٹھہرایا ہے یا ان کی ماداؤں کو یا اس بچے کو جو ماداؤں کے پیٹ میں ہے ؟ کیا تم اس وقت موجود تھے جب اللہ نے تمہیں اس کی ہدایت فرمائی ؟ تو ان سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے بغیر کسی علم کے۔ بیشک اللہ ظالموں کو راہ یاب نہیں کرے گا

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِھٰذَا۔ یہ اتمام حجت کا آخری قدم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جہاں تک عقل و نقل کے دلائل کا تعلق ہے ان میں سے تو کوئی چیز تمہارے ساتھ ہے نہیں پھر آخر کس بنیاد پر تم اللہ پر یہ بہتان باندھ رہے ہو کہ خدا نے فلاں فلاں چیزیں حرام ٹھہرائی ہیں، کیا جب اللہ نے ان چیزوں کی ہدایت فرمائی تم اس وقت موجود تھے ؟ پھر بتاؤ کہ ان سے بڑھ کر محروم النعمت، بدبخت اور ظالم کون ہوسکتا ہے جو بغیر کسی سند علمی و دلیل عقلی کے محض جھوٹے بہتان کو لوگوں کے گمراہ کرنے کا ذریعہ بنائیں۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ سے مراد وہی لوگ ہیں جن کی طرف اوپر فمن اظلم، میں اشارہ فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایسے ظالم ہیں کہ محض من گھڑت بہتان کو نہ صرف اپنی گمراہی کا بہانہ بنائے بیٹھے ہیں بلکہ اس کو دوسروں کو گمراہ کرنے کا بھی ذریعہ بنا رہے ہیں اللہ ایسے لوگوں کو راہ یاب نہیں کرے گا، راہ یاب نہیں کرے گا میں ایک پہلو تو یہ ہے کہ یہ لوگ خدا کی ہدایت سے بہرہ یاب نہیں ہوں گے واضح رہے کہ یہاں جو لوگ زیر بحث ہیں یہ قریش کے وہ سادات ہیں جو ان کی مذہبی پیشوائی کر رہے تھے۔ دوسرا یہ کہ خلق خدا کو گمراہ کرنے کی جو مہ یہ چلا رہے ہیں محض بےبنیاد افترا اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ اس وجہ سے یہ منہ کی کھائیں گے۔ اس میں ان کو کامیابی نہیں حاصل ہوگی۔ یہ گویا نہایت لطیف انداز میں بشار ہے دعوت اسلامی کی کامیابی کی۔