Ayah 6:145قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ الایہ۔ اب یہ نبی ﷺ کی زبان سے اعلان کرایا ہے کہ ملت ابراہیم میں انعام میں سے کیا چیزیں حرام تھیں۔ اوپر کے مباحث سے یہ بات واضح ہے کہ یہاں مشرکین عرب کے ساتھ جو بحث چل رہی ہے وہ ملت ابراہیم ہی سے متعلق ہے اور یہ بحث بھی خاص کر چوپایوں سے متعلق ہے اس لیے کہ انہی میں بعض کو انہوں نے، جیسا کہ اوپر کے بیان سے واضح ہے، اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت حرام ٹھہرا رکھا تھا۔ موقع و محل کی یہ خصوصیت مقتضی ہے کہ اس اعلان کو اس مخصوص زاویہ ہی سے دیکھا جائے۔ جن لوگوں نے اس مخصوص موقع و محل سے ہٹا کر اس کو اسلام کے عام ضابطہ حلت و حرمت کی حیثیت دے دی ہے وہ اپنی اس غلط فہی کے سبب سے خود بھی الجھن میں پڑے ہیں اور دوسروں کو بھی الجھن میں ڈالنے کا سبب بنے ہیں اس لیے کہ اسلام میں صرف وہی چیزیں حرام نہیں ہیں جو آیت میں مذکور ہیں بلکہ ان کے علاوہ چیزیں بھی ھرام ہیں۔ مثلاً درندے اور شکاری پرندے وغیرہ۔ اور اسلام ہی میں نہیں بلکہ خود ملت ابراہیم میں بھی ان کے علاوہ چیزیں حرام تھیں لیکن یہاں چونکہ زیر بحث مسئلہ جیسا کہ سیاق وسباق سے واضح ہے انعام ہی کا تھا اس وجہ سے ان کے باب میں یہ وضاحت فرما دی کہ مشرکین نے جو چیزیں حرام ٹھہرا رکھی ہیں یہ نص من گھڑت میں۔ ملت ابراہیم میں چوپایوں کی حلت و حرمت سے متعلق جو وحی مجھ پر آئی ہے اس میں ان من گھڑت حرمتوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔
عَلٰي طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٗٓ۔ (کسی کھانے والے پر جو اس کو کھائے) کے اسلوب میں جو تعمیم ہے اس سے مشرکین کے ان توہمات کی تردید ہو رہی ہے جو بعض مخصوص قربانیوں اور جانوروں سے متعلق وہ رکھتے تھے کہ ان کو خاص خاص لوگ ہی کھا سکتے تھے۔ ہر شخص ان کو ہاتھ نہیں لگا سکتا تھا۔ بعض جانوروں کے گوشت مرد ہی کھا سکتے تھے، عورتوں کے لیے ان کا کھانا حرام تھا (ملاحظہ ہوں آیات 138 تا 139)۔ قرآن کے ان الفاظ نے یہ واضح فرما دیا کہ جس طرح ان کی یہ مشرکانہ قربانیاں بےاصل و بےسند ہیں اسی طرح ان کے کھانے کے بارے میں ان کی یہ تفریق و تقسیم بھی محض ان کے واہمہ کی خلاقی ہے، ملت ابراہیم سے اس کو کوئی تعلق نہیں ہے۔
ملت ابراہیم میں اشیاء کی حلت و حرمت کی بنیاد : اس آیت میں چار چیزوں کی حرمت کا ذکر ہے۔ مردار، بہایا ہو خون، سور کا گوشت اور وہ جانور جس کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ ان میں سے سابق الذکر تین چیزوں کی حرمت ان کی ظاہری نجاست کی بنا پر ہے۔ ان کے ذکر کے بعد فرمایا ہے فانہ رجس، ہمارے نزدیک اس کا تعلق مذکورہ تینوں ہی چیزوں سے ہے۔ ضمیر جب اس طرح واحد آتی ہے تو بعض اوقات جیسا کہ ہم آیت 141 کے تحت ذکر کرچکے ہیں۔ وہ سابق الذکر ساری ہی چیزوں پر حاوی ہوجاتی ہے۔ گویا وہ ایک ایک چیز کی طرف فرداً فرداً لوٹتی ہے۔ آخری چیز کی حرمت باطنی نجاست کی بنا پر ہے۔ غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنا شرک ہے اور شرک عقائدی نجاست ہے۔ اس وجہ سے جس چیز کو شرک کی چھوت لگ جاتی ہے وہ بھی نجس ہوجاتی ہے۔ اس عقائدی نجاست کو یہاں ’ فسق ‘ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ملت ابراہیم میں اشیاء کی حلت و حرمت محض حکمی نہیں بلکہ فطری و عقلی بھی ہے۔ مذکورہ حرمتوں پر بھی اور اس کے ساتھ صورت اضطرار میں جو استثنا ہے اس پر بھی ہم ایک سے زیادہ مقامات میں بحث کرچکے ہیں اس وجہ سے یہاں زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
یہاں حلت و حرمت سے متعلق یہ بنیادی اصول ذہن میں رہے کہ ملت ابراہیم میں تمام طیبات حلال تھیں، حرام صرف خبائث تھیں، عام اس سے کہ یہ خباثت ظاہری ہو یا باطنی۔ یہی بنیادی اصول اسلام میں بھی ملحوظ ہے اس لیے کہ زسلام، جیسا کہ پچھلی سورتوں میں واضح ہوچکا ہے، یہودیت و نصرانیت کے برعکس ملت ابراہیم پر مبنی ہے۔ آگے ہم اسلام کے اصول حلت و حرمت کی وضاحت کریں گے۔
Ayah 6:146یہود پر بعض طیبات حرام ہونے کی وجہ : وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِيْ ظُفُر الایہ۔ ملت ابراہیم کے بعد اب یہ ملت یہود کا ذکر فرمایا کہ ان کے اوپر بیشک بعض طیبات حرام کردی گئی تھیں۔ مثلاً تمام ناخون والے جانور اور گائے بکری وغیرہ کی چربی۔ لیکن یہ حرام کرنا اس لیے نہیں تھا کہ فی نفسہ یہ چیزیں قابل حرمت تھیں بلکہ یہ ان کی سرکشی کی سزا کے طور پر ان پر حرام کی گئی تھیں۔ مطلب یہ ہے کہ اب ملت اسلام میں یہ حرمتیں باقی نہیں رہیں بلکہ تمام طیب چیزیں اس میں مباح کردی گئیں اور یہود پر جو قیدیں اور پابندیاں (اصر و اغلال) عائد کی گئی تھیں وہ، جیسا کہ ان سے وعدہ کیا گیا تھا، خاتم الانبیاء کی بعثت کے بعد اٹھا لی گئیں۔
یہود پر ہر ‘ ناخون والے جانور ’ اور چربی کی حرمت کا یہاں جو ذکر ہے اس کی وضاحت کے لیے ہم تورات کے بعض حوالے پیش کرتے ہیں۔ پہلے چربی کی حرمت کے مسئلہ کو لیجیے۔
“ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا بنی اسرائیل سے کہہ تم لوگ نہ تو بیل کی، نہ بھیڑ کی اور نہ بکری کی کچھ چربی کھانا جو جانور خود بخود مرگیا ہو اور جس کو درندوں نے پھاڑا ہو ان کی چربی اور کام میں لاؤ تولاؤ پر تم کسی حال میں نہ کھانا کیونکہ جو کوئی ایسے چوپائے کی چوبی کھائے جسے لوگ آتشیں قربانی کے طور پر خداوند کے حضور چڑھاتے ہیں وہ کھانے والا آدمی اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے ”(اخبار باب 7۔ 22-25)
دوسرے مقام میں چربی کی ان تمام قسموں کی تفصیل بھی ہے جو ان کے لیے حرام ٹھہرائی گئیں۔
“ جس چربی سے انتڑیاں ڈھکی رہتی ہیں اور وہ سب چربی جو انتڑیوں پر لپٹی رہتی ہے اور دونوں گردے اور ان کے اوپر کی چربی جو کمر کے پاس رہتی ہے اور جگہ پر کی جھلی گردوں سمیت ان سبھوں کو وہ الگ کرے اور کاہن ان کو مذبح پر جلائے۔ یہ اس آتشیں قربانی کی غذا ہے جو راحت انگیز خوشبو کے لیے ہوتی ہے۔ ساری چربی خداوند کی ہے۔ یہ تمہاری سب سکونت گاہوں میں نسل در نسل ایک دائمی قانون رہے گا کہ تم چربی یا خون مطلق نہ کھاؤ ”(احبار باب 3۔ 15-17)
قرآن کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو چربی گوشت کے جزو کی حیثیت رکھتی ہو، کمر یا آنتوں یا ہڈیوں میں اس طرح شامل ہو کہ اس کو بآسانی الگ نہ کیا جاسکے اس کے سوا تمام چربی بنی اسرائیل پر حرام تھی۔ یہ بات عقل کے مطابق معلوم ہوتی ہے لیکن تورات کے مذکورہ بالا بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ چربی مطلق حرام تھی۔ ہمارے نزدیک یہ تشدد یہود کے کاہنوں اور فقیہوں کی طرف سے اس تشدد پر ایک مزید اضافہ ہے جو ان کی شریعت میں پہلے بھی کچھ کم نہ تھا۔ چربی تو درکنار خون بھی آخر کچھ نہ کچھ تو گوشت کے جزو کی حیثیت سے رہ ہی جاتا ہے۔ چناچہ اسی وجہ سے اوپر خون کی جو حرمت بیان ہوئی ہے اس کے ساتھ ‘ مسفوح ’ کی قید لگی ہوئی ہے کہ پابندی اسی حد تک رہے جس حد تک دائرہ فطرت کے اندر ہے اس سے آگے نہ بڑھنے پائے۔
كُلَّ ذِيْ ظُفُرٍ سے کیا مراد ہے ؟ ظفر یوں تا ناخون کو کہتے ہیں۔ لسان میں ہے ‘ الظفر یکون للانسان ’، ظفر انسان کے ناخون کو کہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ الظفر لما لا یصید والمخلب لما یصید جو جانور شکار نہیں کرتے ان کے ناخون کو ظفر کہتے ہیں، جو شکار کرتے ہیں ان کے پنجہ کو ‘ مِخلب کہتے ہیں
تورات کے مطالعہ سے حرام و حلال کی جو تفصیل سامنے آتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے ہاں چوپایوں میں سے صرف وہ چوپائے حلال تھے جن کے پاؤں چرے ہوئے ہیں اور وہ جگالی بھی کرتے ہیں۔ جن کے اندر ان میں سے کوئی ایک شرط بھی مفقود ہو ہو ان کے ہاں حرام ہے۔ چناچہ اونٹ، سافان اور خرگوش اور وہ تمام جانور جن کے پاؤں چرے ہوئے نہیں ہیں یہود کے ہاں حرام ہیں۔ اس روشنی میں ذی ظفر کا مفہوم متعین کیا جائے تو اس سے مراد وہ جانور ہوں گے جن کے پاؤں چرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ سم کی شکل میں وہ بند اور ان کے سامنے حصہ پر ناخون ہیں۔ یہود پر اس طرح کے تمام جانور، جیسا کہ کُل کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے علی الاطلاق حرام تھے اس وجہ سے ان پر بعض وہ جانور بھی حرا ہوگئے جو ملت ابراہیم میں جائز تھے مثلاً خرگوش وغیرہ۔
ذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ بِبَغْيِهِمْ ڮ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ، یعنی ناخون والے جانوروں اور چربی کی علی الاطلاق حرمت بنی اسرائیل پر اس وجہ سے نہیں تھی کہ فی نفسہ ان چیزوں کے اندر حرمت کی کوئی علت موجود ہے بلکہ ان کی حرمت میں اصل دخل بنی اسرائیل کے فساد مزاج کو تھا، جس طرح ایک طبیب بسا اوقات کسی مریض کو ایک جائز و طیب چیز کے استعمال سے بھی روک دیتا ہے کہ اس سے اس کی صحت جسمانی کو ضرر کا اندیشہ ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اخلاقی فساد کے سبب سے، سزا کے طور پر، بہت سی جائز چیزیں بھی ان پر حرام ٹھہرا دیں۔ اس اخلاقی فساد کو قرآن نے ‘ بغی ’ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے جس کے معنی سرکشی کے ہیں۔ بنی اسرائیل کی اس سرکشی کا ذکر تورات اور انبیا کے صحیفوں میں اس کثرت سے آیا ہے کہ آدمی پڑھتے پڑھتے اکتا جاتا ہے۔ شریعت کا کوئی حکم ایسا نہیں ہے جس کو انہوں نے بخوشی قبول کیا ہو۔ جو حکم بھی ان کو دیا گیا اول تو انہوں نے اپنے سوال در سوال کی کثر ہی سے اس کو نہایت بوجھل بنا لیا، جس کی ایک مثال سورة بقرہ میں گائے کے قصے میں گزر چکی ہے پھر اس کو مانا بھی تو اس سے گریز و فرار کی اتنی راہیں ڈھونڈھ کے نکال لیں کہ عملاً وہ حکم ان کے لیے بالکل بےاثر ہو کے رہ گیا۔ ان کے اس فرار پسندانہ اور باغیانہ مزاج کا اثر قدرتی طور پر ان کی شریعت پر بھی پڑا۔ جس طرح سرکش جانور کا مالک اس کو سخت بندھنوں کے اندر رکھنے پر مجبور ہوتا ہے یا سرکش رعایا کا حکمران سخت قوانین نافذ کرتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان سرکشوں کو نہایت سخت قوانین میں باندھا جن کو قرآن میں اصر و اغلال یعنی بندھن اور طوق سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ تورات میں اسرائیلی شریعت کے احکام پڑھیے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ دوسری چیزوں سے قطع نظر صرف طہارت ہی کے احکام پڑھیے اور دیکھیے کہ حیض، نفاس، جنابت اور بعض بیماریا مثلا جریان اور برص وغیرہ لاحق ہوجانے کی صورت میں ان کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے تھے تو آدمی کا رواں رواں اس رب کا شکر گزار ہوتا ہے جس نے ہمیں ملت اسلام کی ہدایت بخشی جو ان تمام غیر فطری بندشوں اور پابندیوں سے پاک ہے۔ کھانے پینے کے باب میں بھی صرف وہی بندشیں نہیں تھی جو بیان ہوئیں۔ یہ بندشیں تو صرف چوپایوں کی حلت و حرمت کے متعلق بیان ہوئی ہیں۔ اس سے زیادہ پابندی ان پر دریائی جانوروں کے معاملے میں تھی، احبار باب 11 سے معلوم ہوتا ہے کہ دریائی جانوروں میں سے جن پر اور چھلکے ہیں وہ ان کے ہاں جائز تھے باقی سب حرام تھے۔ اسی طرح پرندوں میں سے صرف شکاری پرندے ہی حرام نہیں تھے بلکہ قازیں، بط اور بگلے وغیرہ بھی حرام تھے۔
ان چیزوں کے حرام کیے جانے کی علت، جیسا کہ واضح ہوا، یہود کی سرکشی اور گردن کشی تھی اور اللہ تعالیٰ نے، جیسا کہ سورة مائدہ میں بیان ہوچکا ہے، یہود کو یہ احکام دیتے وقت ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ جب آخری نبی آئیں گے تو اگر تم ان پر ایمان لائے تو وہ یہ پابندیاں تم پر سے اٹھا دیں گے اس لیے کہ ان کی بعثت دین فطرت، ملت ابراہیم پر ہوگی جس میں اس قسم کی کوئی ناروا پابندی نہیں ہوگی۔
وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ کے الفاظ یہاں بہت بلیغ ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے ہونے پر جو اتنا زور دیا ہے تو مقصود صرف اپنے سچے ہونے کا اظہار نہیں ہے بلکہ اس میں حریف کے جھوٹے ہونے کا اعلان بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ملت ابراہیم اور شریعت بنی اسرائیل سے متعلق یہ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے کہ ہم اس میں بالکل سچے ہیں اور جو ژاژخائی یہ قریش اور یہود کے مفسدین و اشرار کر رہے ہیں یہ بالکل جھوٹے ہیں۔
Ayah 6:147فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ۔ اب یہ قریش اور بنی اسرائیل دونوں کو دھمکی ہے۔ پیغمبر کو خطاب کر کے فرمایا کہ اس ساری وضاحت کے بعد بھی اگر یہ تم پر ایمان نہ لائیں، بدستور تمہارے جھٹلانے ہی پر اڑے رہیں تو ان کو سنا دو کہ اللہ چونکہ بڑی وسیع رحمت والا ہے، وہ سرکشوں اور ہٹ دھرموں کو بڑی دور اور بڑی دیر تک ڈھیل دیتا ہے تاکہ ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہا جائے، اس وجہ سے وہ تمہیں ڈھیل پر ڈھیل دے رہا ہے۔ اس ڈھیل سے مغرور نہ ہوجاؤ، ڈھیل بہر حال ڈھیل ہے۔ اس سے اللہ کی پکڑ کچھ پیچھے تو بیشک ہوجاتی ہے لیکن اس سے اس کی وہ سنت باطل نہیں ہوجاتی جو مجرموں کی پکڑ کے لیے اس نے ٹھہرا رکھی ہے۔ جب اس کی سنت کے ظہور کا وقت آجائے گا تو وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکے گی۔
اوپر ملت ابراہیم اور شریعت بنی اسرائیل کی جو حرمتیں بیان ہوئی ہیں اس سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوگئی کہ مشرکین نے بلا سند بہت سی چیزیں جو حرام ٹھہرا رکھی تھیں ان کی حرمت کو ملت ابراہیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح یہود بہت سی چیزوں کی حرمت کے جو مدعی تھے تو ان کی حرمت اصلاً نہیں بلکہ ان کے فسادِ مزاج کے سبب سے مصلحتاً تھی اور وعدہ الٰہی کے مطابق ان پابندیوں کو آخری بعثت کے ذریعے سے دور ہونا تھا، چناچہ وہ، جیسا کہ سورة مائدہ میں بیان ہوا، خاتم الانبیاء ﷺ کے ذریعے سے دور کردی گئیں۔ اب اس ملت میں حرام وہی چیزیں ہیں جو عقل و فطرت کی رو سے حرام ہونی چاہئیں، مشرکین کی بدعات اور یہود کے تشددات سے اس ملت کا ضابطہ حلت و حرمت پاک ہے۔
اسلام کا ضابطہ حلت و حرمت : ہم اختصار کے ساتھ یہاں اسلام کا وہ ضابطہ حلت و حرمت بھی پیش کیے دیتے ہیں جو قرآن نے بیان فرمایا ہے۔۔ قرآن نے حلت و حرمت کی فطری بنیاد یہ بتائی ہے کہ جو طیبات ہیں وہ حلال ہیں، جو خبائث ہیں وہ حرام ہیں۔ چناچہ قرآن میں آنحضرت ﷺ کی یہ تعریف بیان ہوئی ہے۔ یامرھم بالمعروف و ینھاہم عن المنکر و یحل لہم الطیبات و یحرم علیہم الخبائث ویضع عنہم اصرہم والاغلال التی کا نت علیہم : وہ ان کو حکم دیتا ہے معروف کا اور روکتا ہے منکر سے اور ان کے لیے جائز کرتا ہے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ناپاک چیزیں اور ان سے دور کرتا ہے وہ بوجھ اور وہ پابندیاں جو ان پر اب تک تھیں۔
طیبات سے مراد، ظاہر ہے کہ وہ چیزیں ہیں جو اپنے مزاج، اپنی سرشت اور انسان کے اوپر اپنے اثرات کے اعتبار سے پاکیزہ، معتدل، صحت بخش اور نافع ہیں۔ خبیثات، سے مراد اس کے برعکس وہ چیز ہیں جو اپنے مزاج، اپنی جبلت اور انسان کے مزاج و طبیعت پر اپنے اثرات کے لحاظ سے مضر، انحراف انگیز اور مفسد ہیں۔
ان دونوں چیزوں کے اندر مذکورہ صفات کے اعتبار سے تفاوتِ درجات اور فرق مراتب ہوتا ہے۔ کوئی چیز زیادہ طیب ہوتی ہے، کوئی چیز کم، اسی طرح کوئی چیز زیادہ خبیث ہوتی ہے کوئی کم۔ اس فرق مراتب کا اثر لازماً اس سے متعلق حکم پر بھی پڑتا ہے، مثلا ایک چیز حام کردی جاتی ہے، دوسری چیز کراہت کے درجے ہی میں رہتی ہے۔
اسی طرح بعض حالات میں یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک چیز کے اندر بجائے خود تو کوئی خرابی نہیں ہوتی لیکن کسی خارجی سبب سے اس کو کوئی خرابی لاحق ہوجاتی ہے اور وہ خبیث بن جاتی ہے۔ مثلاً غیر اللہ یا کسی تھان اور استھان کا ذبیحہ، جوئے کے ذریعہ سے حاصل کیا ہوا گوشت یا حالت احرام میں کیا ہوا شکار۔
یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ اشیا کے درمیان خبیث و طیب کا فرق محض ایک امر اضافی ہے۔ اس کی کوئی فطری یا عقلی و اخلاقی بنیاد نہیں ہے۔ ایک ہی چیز ایک قوم کے نزدیک حلال و طیب ہوتی ہے، وہی چیز دوسری قوم کے نزدیک خبیث و حرام قرار پاتی ہے۔ ایسا سمجھنا صریح سو فسطائیت ہے۔ یہ کہا درحقیقت دوسرے الفاظ میں یہ کہنا ہے کہ حق و باطل، عدل و ظلم اور خیر و شر بھی محض اضافی امور ہیں۔ ان کی کوئی عقلی و فطری بنیاد نہیں ہے۔ اس مغالطے پر انشاء اللہ ہم کسی موزوں مقام پر تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے۔
اسی طیب و خبیث کو معیار بنا کر اسلام نے چوپایوں میں سے وہ تمام چوپائے حلال ٹھہرائے جو انعام میں سے ہیں یا وحشی جانوروں میں سے انعام کے حکم میں داخل ہیں۔ مائدہ کے شروع میں احلت لکم بھیمۃ الانعام کے الفاظ آئے ہیں اور وہاں ہم واضح کرچکے ہیں کہ انعام کا لفظ اونٹ، گائے، بھیڑ بکری کے لیے معروف تھا۔ اس کی طرف بھیمہ کی اضافت نے اس میں وسعت پیدا کردی اور وہ سارے جانور بھی اس میں شامل ہوگئے جو انعام کی جنس سے تعلق رکھنے والے ہیں عام اس سے کہ وہ پالتو ہیں یا وحشی، مثلاً بھینس چھرے، دنبے، نیل گاؤ، ہرن، چیتل پاڑ ہے وغیرہ۔ البتہ وہ جانور اس سے نکل جائیں گے جو درندوں کے حکم میں داخل ہیں اس لیے کہ وہ بھیمۃ الانعام کے تحت نہیں آتے مثلا شیر، ریچھ بھیڑیے، کتے وغیرہ چناچہ نبی ﷺ نے درندہ جانوروں کو حرام قرار دیا۔ اسی طرح مردار، خنزیر، بہایا ہوا خون اور غیر اللہ کے نام یا تھان اور استھان کا ذبیحہ بھی حرام ہے۔ اسلیے کہ ان میں نجاست و خباثت ہے۔ بعض کے اندر ظاہری نجاست ہے بعض کے اندر عقلی۔۔ یہی ضابطہ پرندوں پر بھی لاگو ہوگا۔ ان میں سے بھی جو درندوں کی نوعیت کے ہیں۔ مثلاً چیل، باز، عقاب، شکرے وغیرہ یا ان کے اندر کوئی اس نوع کی خباثت پائی جاتی ہے جو اوپر مذکور ہوئی وہ حرام ہیں۔ یہ ضابطہ دریائی جانووں اور ہوام و حشرات پر بھی نافذ ہوگا، ان میں سے بھی خبیث و طیب کے اسی اصول کو سامنے رکھ کر فرق کیا جائے گا جو اوپر مذکور ہوا۔ اسی ضابطہ پر وہ چیزیں بھی پرکھی جائیں گی جو نباتات میں سے ہیں یا نباتات میں سے ہیں یا نباتات کی ترکیب و تحلیل سے پیدا ہوتی ہیں۔ مثلا شراب خواہ کسی چیز سے تیار کی جائے حرام ہے اس لیے کہ اس میں عقلی و اخلاقی خباثت ہے۔ اسلام میں حلت و حرمت کا اصل ضابطہ یہی ہے۔ اس ضابطہ کی روشنی میں حلال بین اور حرام بین کا متعین کرلینا کچھ مشکل نہیں ہے لیکن نہ دنیا میں چوپایوں کی کوئی حد ہے، نہ پرندوں کی اور نہ دریائی جانوروں کی۔ اس وجہ سے بہت سی چیزوں کے بارے میں اختلاف فقہ کی کتابوں میں تفصیل سے مذکور ہے۔ بعض لوگ بعض چیزوں کو درندوں میں داخل کرتے ہیں، بعض نہیں داخل کرتے۔ اسی طرح بعض چیزوں کو بعض فقہا خبیث قرار دیتے ہیں بعض ان کو خبیث نہیں قرار دیتے۔ ہمارے نزدیک اس باب میں حنفیہ کا مسلک قرآن کے بیان کردہ اصول حلت و حرمت سے زیادہ اوفق ہے لیکن اس طرح کے مسائل میں، جن کے اندر اختلاف کی گنجائش ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی ان کو متشابہات کے درجہ میں رکھے۔ یعنی ان سے احتراز کرے، اگر اس کے نزدیک احتراز کا پہلو راجح ہے، لیکن دوسرے کو مرتکب حرام قرار نہ دے۔ حدیثوں میں گوہ کے باب میں حضور ﷺ کا جو ارشاد نقل ہے وہ اس طرح کے مسائل میں بہترین رہنمائی دیتا ہے۔
البتہ ایک تنبیہ یہاں ضروری ہے، بعض صحابہ کے متعلق بعض کتابوں میں یہ جو نقل ہوا ہے کہ وہ اسلام میں صرف وہی چار چیزیں حرام مانتے تھے جو اوپر قل لا اجد فی ما اوحی الی والی آیت میں مذکور ہیں، یہ بات کسی طرح بھی صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ اس کے نقل میں راویوں سے تسامح ہوا ہے۔ صحابہ میں سے کسی کی طرف اس بات کی نسبت بعدی از عقل ہے۔ ان میں کسی نے اگر کہی ہوگی تو یہ بات کہی ہوگی کہ ملت ابراہیم میں بس یہی چار چیزیں چوپایوں میں سے حرام تھیں۔ یہ بات کہنے کا ایک محل ہے جس کی وضاحت ہم اوپر کرچکے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے اسی بات کو غلط فہمی کی بنا پر راوی نے یہ شکل دے دی کہ وہ اسلام میں بس یہی چار چیزیں حرام مانتے تھے۔
Ayah 6:148مشرکین کا آخری معارضہ : سَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَآ اَشْرَكْنَا الایہ، اب یہ مشرکین کا آخری معارضہ نقل فرمایا اور اس کا جواب دیا ہے۔ مشرکین جب ہر طرف سے بحث میں پسپا ہوجاتے تو آخری بات یہ کہتے کہ اگر ہم نے خدا کا شریک ٹھہرانے اور کسی چیز کو حرام قرار دینے کے معاملے میں خدا کی مرضی کی مخالفت کی ہے تو خدا کے اختیار میں تو سب کچھ ہے، اس نے اپنے اختیار سے ہم کو روک کیوں نہیں دیا ؟ جب اس نے اپنے اختیار کے زور سے ہم کو نہیں روکا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ ہم نے کیا اور کر رہے ہیں یہی اس کا حکم اور یہی اس کی مرضی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ معارضہ ایک بالکل ہی احمقانہ معارضہ ہے۔ انسانوں کو کسی قول یا فعل کی آزادی ملنا اسبات کی لدیل نہیں ہے کہ وہ قول یا فعل عنداللہ بھی صحیح ہے۔ اگر یہ کوئی دلیل ہے تو یہ دلیل ہر احمق اپنی حماقت کے جواز میں، ہر ظالم اپنے ظلم کی حمایت میں اور ہر بد معاش اپنی بد معاشیوں کے حق میں پیش کرسکتا ہے کہ جو کچھ اس نے کیا اور کر رہا ہے خدا کے جواز میں، ہر ظالم اپنے ظلم کی حمایت میں اور ہر بدمعاش اپنی بدمعاشیوں کے حق میں پیش کرسکتا ہے کہ جو کچھ اس نے کیا اور کر رہا خدا کے حکم کیا اور کر رہا ہے۔ فرمایا کہ یہ معارضہ محض ان کی شرارت کی ایجاد اور اپنی ضد پر اڑے رہنے کا بہانہ ہے۔ یہی روش ان کے پچھلے ہم مشربوں نے اختیار کی یہاں تک کہ وہ خدا کے عذا سے دو چار ہوئے۔ ہی انجام ان کا ہونا ہے تو تم ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔
قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا ۭاِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ ، مطلب یہ ہے کہ ان سے کہو کہ خدا کی پسند یا ناپسند معلوم کرنے کا ذریعہ تمہاری اپنی زندگی اور تمہارے اپنے اعمال میں نہیں ہیں کہ تم جو کچھ کر گزرو وہ عداللہ ثواب بن جائے۔ اس کے لیے کسی علمی سند کی ضرورت ہے۔ یا تو خدا نے تم کو اس کا حکم دیا ہو جس کا کوئی ثبوت موجود ہو یا عقل و فطرت کے اندر اس کے حق میں کوئی شہادت ہو جس کو تم پیش کرسکو۔ اس قسم کی کوئی چیز تو تمہارے پاس ہے نہیں، محض اٹکل کے تیرے تکے چلاتے اور قیاس کے گھوڑے دوڑاتے ہو۔ حالانکہ وہم و گمان علم کا بدل نہیں ہوسکتا۔
Ayah 6:149قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ فَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ۔
ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی : یہ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی جو اصل سنت ہے وہ واضح فرمائی کہ اللہ کا طریقہ یہ نہیں کہ وہ اپنی مشیت کے زور سے جس کو چاہے ہدایت پر کردے۔ اگر وہ ایسا کرنا چاہتا تو اس کی اس مشیت کو کوئی روک تو نہیں سکتا تھا۔ وہ تم سب کو بلکہ ساری خلق کو ہدایت پر کردیتا لیکن اس معاملے میں اس نے جبر کو پسند نہیں فرمایا ہے بلکہ دلیل و حجت کے ذریعہ سے وہ رہنمائی کرتا ہے اور لوگوں کو اس نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ چاہیں تو اس رہنمائی کو قبول کریں اور چاہیں تو رد کریں۔ پس اللہ نے اپنی یہ حجت بالغہ اپنے رسول کے ذریعے سے تم کو پہنچا دی۔ تمہاری پاس تو محض ظن و گمان ہے مگر اللہ نے اپنی یہ حجت بالغہ اپنے رسول کے ذریعے سے تم کو پہنچا دی۔ تمہارے پاس تو محض ظن و گمان ہے مگر اللہ کے پاس عقل و دل میں اتر جانے والی دلیلیں ہیں بشرطیکہ تم ان کے سننے اور سمجھنے کے لیے اپنے کانوں اور اپنے دلوں کو کھولو۔ ہدایت حاصل کرنے کی راہ یہی ہے۔ خدا اپنی مشیت کے زور سے کسی کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ یہ تو حجت و دلیل اور عقل و دل کا سودا ہے۔
Ayah 6:150گواہی کے لیے دو بنیادیں :۔ قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ يَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ ھٰذَا۔ مطلب یہ ہے کہ محض اٹکل کے تیر تکے نہ چلاؤ۔ ہاں اگر تمہارے پاس ایسے گواہ ہوں جو یہ گواہی دے سکیں کہ جو چیزیں تم نے حرام ٹھہرا رکھی ہیں خدا نے دو حرام ٹھہرائی ہیں تو ان گواہوں کو سامنے لاؤ یہ واضح رہے کہ معقول گواہی صرف دو بنیادوں پر ہوتی ہے، ایک تو ذاتی مشاہدہ اور شخصی علم و واقفیت پر، دوسری کسی عقل یا فطری قرینہ پر جس کی مثال سورة یوسف کی آیت 26-28 میں موجود ہے۔ یہاں قرآن نے ان دونوں ہی قسم کے گواہوں اور گواہیوں کا مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کی کوئی گواہی بھی موجود ہو تو اس کو پیش کرو، ورنہ اس حجت بالغہ کو قبول کرو جو قرآن تمہارے آگے پیش کر رہا ہے۔
جن کے پاس دلیل نہیں ؟ خواہشوں کے پیرو ہیں۔ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا الایہ، یعنی اگر گواہی کی مذکورہ شرطوں کے بغیر ہی یہ گواہی دینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں تو تمہیں ایسے لاغیوں اور ہرزہ سراؤں کی پروا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم اپنی دعوت و شہادت پر جمے رہو۔ ان لوگوں کی خواہشات و بدعات کی پیروی نہ کرو۔ یہاں ان کی بدعات کو ‘ اھواء ’ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے، اس لیے کہ جس چیز کے حق میں نہ کوئی نقلی دلیل ہو نہ عقلی، ظاہر ہے کہ وہ اس کے اختیار کرنے والوں کی خواہش ہی پر مبنی ہوسکتی ہے اور جن کی رہنما ان کی خواش ہو ان کا انجام معلوم۔ یہاں ان لوگوں کی تین صفات کا حوالہ دیا ہے۔ ایک یہ کہ یہ اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے ہیں، دوسری یہ کہ یہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، تیسری یہ کہ اپنے رب کے ہم سر ٹھہراتے ہیں۔ مقصود ان صفات کے حوالہ سے یہ ہے کہ جو لوگ اتنے بگ ٹٹ ہیں کہ خدا، آخرت اور آیات کی تکذیب کرتے ہیں، دوسری یہ کہ یہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، تیسری یہ کہ اپنے رب کے ہم سر ٹھہراتے ہیں۔ مقصود ان صفات کے حوالہ سے یہ ہے کہ جو لوگ اتنے بگ ٹٹ ہیں کہ خدا، آخرت اور آیات الٰہی میں سے کوئی چیز بھی ان کے نزدیک درخور اعتنا نہیں، ایسے عناں گسیختہ لوگوں کی خواہشیں ان کو کہاں لے جائیں گے، اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے !
Ayah 6:151اصل ملت ابراہیم کی تفصیل :۔ قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْــــًٔـا، یہ اصل ملت ابراہیمی کا فصیلی بیان ہے۔ پیغمبر ﷺ کی زبان سے کہلایا کہ تم نے تو محض اپنے ظن و گمان سے ملت ابراہیم کی بعض طیب و حلال چیزوں کو اپنے مشرکانہ توہمات کی بنا پر حرام ٹھہرا کر یہ سمجھ رکھا ہے کہ بس کل ملت ابراہیم یہی ہے اور تم نے اس کا حق ادا کردیا، حالانکہ ملت ابراہیم میں دوسری بہت سی باتیں، جو خدا اور بندوں کے حقوق و معاملات سے متعلق حرام ہیں، ان کو تم نے اختیار کر رکھا ہے۔ تو آؤ، میں تمہیں سناتا ہوں کہ تمہارے رب نے تم پر کیا کیا چیزیں حرام ٹھہرائی ہیں۔ فرمایا کہ سب سے پہلی چیز جو تم حرام کی گئی وہ شرک ہے لیکن شرک کو تم نے اپنا دین بنا رکھا ہے۔
والدین کے ساتھ احسن سلوک :۔ وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا، خدا کے بعد سب سے بڑا حق والدین کا ہے۔ اب یہ اس کا ذکر فرمایا۔ یہ ہے تو اسی اوپر والی بات ہی کے تحت لیکن اس کو منفی کے بجائے مثبت پہلو سے ذکر فرمایا۔ زیر بحث آیا میں اسلوب کی یہ ندرت قابل لحاظ ہے کہ بعض باتیں منفی پہلو سے بیان ہوئی ہیں، بعض مثبت پہلو سے، مثلاً شرک، قتلِ اولاد، فحشاء، قتل نفس اور اکل مال یتیم کا ذکر تو منفی پہلو سے ہے اور والدین کے ساتھ احسان، ایفائے کیل و میزان، قول و عمل میں اہتمام عدل اور ایفائے عہد الٰہی کا ذکر مثبت اسلوب سے ہے۔ بعینہ یہی اسلوب، بعینہ انہی امور کے بیان میں بنی اسرائیل کی آیات 22-38 میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نفی سے اثبات اور اثبات سے نفی کا استنباط ایک بدیہی چیز ہے۔ جب ایک شے کا اثباتی انداز میں حکم ہے تو اس کے لازمی معنی یہ ہیں کہ جو چیز اس کی ضد ہے اس کی لازماً ممانعت ہے۔ علی ہذا القیاس ایک چیز کی ممانعت ہے تو اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ اس کا مقابل پہلو مطلوب ہے۔ یعنی اگر شرک کی نہی ہے تو توحید مطلوب ہے۔ علی ہذا القیاس اگر والدین کے حقوق کی ادائیگی کا حکم ہے تو ان کے ساتھ بد سلوکی اور ان کی نافرمانی حرام ہے۔ اس اسلوب کی روشنی میں وہ تمام باتیں جو بیان تو ہوئی ہیں اثبات کے الفاظ میں لیکن ہیں ظاہری تالیف کلام کے اعتبار سے، حَرَّمَ ہی کے تحت ان سب کے ضد پہلو کو بھی مد نظر رکھیے۔ گویا پوری بات یوں ہے کہ ‘ نہ والدین کو اف کہو ’ نہ جھڑکو بلکہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اس اس اسلوب کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں جو پہلو زیادہ زور و قوت سے ظاہر کرنے کا ہے وہ تو الفاظ میں بیان ہوجاتا ہے اور اس کا ضد پہلو بغیر الفاظ کی مدد کے مجر فحوائے کلام اور اقتضائے نظام سے سمجھ میں آجاتا ہے۔ قرآن نے اس اسلوب کے مضمرات کہیں کہیں کھول بھی دیے ہیں۔ مثلاً سورة بنی اسرائیل میں یہی بات یوں ارشاد ہوئی ہے۔ وَقَضَى رَبُّكَ أَلا تَعْبُدُوا إِلا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاهُمَا فَلا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلا كَرِيمًا (23) وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا (24) : اور تیرے رب کا فیصلہ یہ ہے کہ تم نہ عبادت کرو مگر اسی کی اور والدین کے ساتھ احسان کرو جیسا کہ اس کا حق ہے۔ اگر تمہارے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو نہ ان سے اظہار بیزاری ہو، نہ ان کو جھڑکنا، ان سے سعادت مندانہ بات کرنا اور ان کے لیے مہر و وفا کے بازو جھکائے رکھنا اور دعا کرنا کہ اے رب تو ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں مہر کے ساتھ پالا۔
قتلِ اولاد فقر و فاقہ کے اندیشہ سے : وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ ۭنَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَاِيَّاهُمْ۔ ‘ املاق ’ کے معنی فقر و تنگ دستی کے ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں خشیۃ املاق کے الفاظ ہیں۔ یعنی اس اندیشہ سے کہ اولاد کیا کھائے گی، کہاں سے اس کی پرورش ہوگی، اس کو قتل نہ کرو۔ اہل عرب میں قتل اولاد کی ایک قسم تو وہ تھی جس کا تعلق مشرکانہ توہمات سے تھا، جس کا ذکر اسی سورة میں پیچھے گزرا ہے، دوسری صورت بعض قبائل میں لڑکیوں کو زندہ درگور کردینے کی تھی جس کا سبب غیرت کا ظالمانہ حد تک غلو تھا۔ تیسری یہ فقر و فاقہ کے اندیشے کی سورت تھی۔ بعض غریب لوگ تنگ دستی سے گھبرا کر یہ سنگ دلانہ حرکت کر بیٹھتے۔ اس قسم کی لرزہ خیز خبریں اب بھی کبھی کبھی ان ملکوں سے آجاتی ہیں جن میں غربت زیادہ ہے یا جہاں کسی ناگہانی آفت سے لوگ مصائب میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ اس ظلم کا اصل باعث انسان کی کی یہ جہالت ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنا اور اپنی اولاد اور متعلقین کا روزی رساں سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ ہر شخص کو وجود اور زق خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ انسان ان چیزوں میں واسطہ اور ذریعہ ہونے سے زیادہ دخل نہیں رکھتا۔ اگر کسی کو خدا نے اولاد بخشی ہے تو اصلاً وہ اس کی تحویل میں خدا کی امانت ہے۔ اس کا فرض یہ ہے کہ عقل و فطرت اور شریعت کی رو سے اس امانت سے متعلق اس پر جو ذمہ داریاں اور جو فرائض عائد ہوتے ہیں وہ اپنے امکان کے حد تک ادا کرے۔ لیکن ایک لمحہ کے لیے بھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ خدا نے اس کو ان کا رزاق بنایا ہے اور جس رزق سے وہ پلتے ہیں یہ وہ ان کو فراہم کرتا ہے۔ ان کا رزق تو درکنار آدمی اپنا رزق بھی خدا ہی سے پاتا ہے۔ بچہ ماں کی چھاتی سے جو دودھ پیتا ہے یہ بھی ماں کا دیا ہوا نہیں بلکہ اپنے رب کا دیا ہوا پیتا ہے تو جب بچہ اپنے رب کا دیا ہوا کھاتا پیتا ہے تو کسی دوسرے کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اس کو اس اندیشہ سے قتل کرے کہ میں اس کی پرورش کہاں سے کروں گا ؟ قرآن نے اسی حقیقت کو یوں سمجھایا ہے کہ َحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَاِيَّاهُمْ (ہم ہی تم کو بھی روزی دیتے ہیں اور ان کو بھی روزی دیتے ہیں)۔
خاندانی منصوبہ بندی : افراد کی طرح بعض اوقات حکومتیں بھی اپنے دائرہ اختیار اور اپنے فطری و شرعی حدود کار سے متجاوز ہو کر ان حدود میں مداخلت کرنے لگتی ہیں جو قدرت کے حدود ہیں۔ اس تعدی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خلق کے لیے کوئی مفید کام کرنے کی جگہ وہ اپنی صلاحیتیں نظام قدرت سے زور آزمائی میں صرف کرنا شروع کردیتی ہیں۔ ایک فرض شناس حکومت کے لیے یہ بات تو معقول ہے کہ وہ اپنے ملک کے وسائل معاش کو ترقی دینے کے لیے بر و بحر کے ایک ایک چپہ اور ایک ایک گوشے کو چھان ڈالے اور اس راہ کے کسی پتھر کو بھی الٹے بغیر نہ چھوڑے۔ یہ بات بھی اس کے فطری بلکہ شرعی فرائض میں سے ہے کہ وہ ملک کے عوام کو زندگی کے ہر شعبہ میں، خواہ وہ پبلک ہو یا پرائیویٹ، اجتماعی ہو یا خاندانی، احتیاط، اعتدال، کفایت شعاری، صحت، صفائی اور محنت کی تربیت دے لیکن یہ امر بالکل اس کے دائرہ اختیار اور حدود کار سے باہر ہے کہ وہ یہ منصوبہ بندی کرے کہ اتنی مدت میں ہم اتنا غلہ پیدا کریں گے اور اسی حساب سے اتنے بچوں کو پیدا ہونے دیں گے اور اگر کسی مزید ناخواندہ مہمان نے ہماری روٹی اور گنی بوٹی میں حصہ دار بننے کی کوشش کی تو ہم اپنی سائنسی تدبیروں سے کام لے کر اس کا گلا گھونٹ دیں گے۔
غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس معاملے میں جو غلط فہمی عرب جاہلیت کے سنگدلوں کو لاحق ہوئی تھی اسی غلط فہی کا شکار اس زمانے کی متمدن حکومتیں ہو رہی ہیں۔ انہیں بھی خدا پر غصہ تھا کہ جب وہ بھرپور روٹی نہیں دے رہا ہے تو دمبدم اولاد میں کیوں اضافہ کیے جا رہا ہے ؟ یہ غصہ وہ اولاد کو قتل کر کے نکالتے تھے۔ اس زمانے کے متمدن انسان کو یہ برہمی ہے کہ ابھی جب اپنے ہی معیار زندگی کو ہم اپنے مطلوبہ معیار پر نہ پہنچا سکے تو دوسرے کی ذمہ داری کا بوجھ اپنے کندھوں پر کس طرح اٹھا لیں ؟ اس برہمی یا گھبراہٹ میں انہوں نے خاندانی منصوبہ بندی کی اسکیم بنا ڈالی۔ شکلیں ذرا بدلی ہوئی ہیں، عرب اجڈ اور گنوار تھے اس وجہ سے انہوں نے ایک ناتراشدیدہ اور بھونڈی سی شکل اختیار کی ہے اور نام بھی اس کا اس نے پیارا سا ڈھونڈھ نکالا ہے لیکن فلسفہ دنوں جگہ ایک ہی ہے۔ انہوں نے بھی رزاق اپنے کو سمجھا اور یہ بھی رزاق اپنے کو سمجھے بیٹھے ہیں حالانہ رزاق اللہ تعالیٰ ہے۔ قرآن نے عربوں پر تو ان کی غلطی واضح کردی اور یہ بات سمجھ بھی گئے، مان بھی گئے، لیکن اس زمانے کے پر ہے لکھے جنوں کو کون سمجھائے اور کون قائل کرے ! !
وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، ‘ فواحش ’ کے معنی کھلی ہوئی بےحیائی اور بدکاری کے ہیں، جن میں اولین درجہ زنا کو حاصل ہے، چناچہ سورة بنی اسرائیل میں اسی مضمون کو یوں ادا فرمایا ہے“ ولا تقربوا الزنا انہ کان فاحشۃ و ساء سبیلا : اور زنا کے پاس بھی نہ پھتکو، یہ کھلی ہوئی بےحیائی اور نہایت ہی بری راہ ہے ”لا تقربوا کا لفظ ان برائیوں سے روکنے کے لیے قرآن میں استعمال ہوا ہے جن کا پرچھاواں بھی انسان کے لیے مہلک ہے، جو خود ہی نہیں بلکہ جن کے دواعی و محرکات بھی نہایت خطرناک ہیں، جو بہت دور سے انسانوں پر اپنی کمند پھینکتی ہیں اور پھر اس طرح اس کو گرفتار کرلیتی ہیں کہ ان سے چھوٹنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ ایسی برائیوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھنے میں آدمی کو کامیابی صرف اسی صورت میں حاصل ہوتی ہے جب وہ اپنی نگاہ، اپنی زبان، اپنے دل کی پوری پوری حفاظت کرے اور ہر اس رخنہ کو پوری ہوشیاری سے بند رکھے جس سے کوئی ترغیب اس کے اندر راہ پا سکتی ہو اور ہر ایسے مقام سے پرے پرے رہے جہاں کوئی لغزش ہوسکتی ہے۔ اسی ‘ لاتقربوا ’ کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کے لیے قرآن نے مردوں اور عورتوں دونوں پر بہت سی پابندیاں عائد کی ہیں جن کی تفصیل احزاب اور نور میں بیان ہوئی ہے۔ وہاں ہم انشاء اللہ اس کے سارے پہلو زیر بحث لائیں گے۔
نیکیوں اور بدیوں دونوں سے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کا اصل منبع انسان کا دل ہوتا ہے اس وجہ سے کوئی نیکی اس وقت فروغ نہیں پاتی جب تک دل کے اندر اس کی جڑ مضبوط نہ ہو۔ علی ہذا القیاس کوئی برائی اس وقت تک انسان کی جان نہیں چھورتی جب تک دل کے اندر سے اس کی جڑ اکھاڑ نہ دی جائے۔ اگر کوئی برائی دل کے اندر موجود رہے تو وہ کان آنکھ، زبان، فکر اور خیال کی راہ سے برابر غذا حاصل کر کے موٹی ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ روحانی سرطان کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور گو اس کو زندگی میں ایک دن بھی فعلاً بروئے کار آنے کا موقع نہ ملا ہوتا ہم انسان کے قلب و دماغ پر اس کا اس طرح تسلط ہوجاتا ہے کہ پھر تزکیہ و اصلاح کا کوئی سخت سے سخت اپریشن بھی اس پر کار گر نہیں ہوتا۔ وہ بالآخر انسان کی اخلاقی و ایمانی موت ہی پر منتہی ہوتی ہے اس وجہ سے قرآن نے ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے فحشا سے دور دور رہنے کی تاکید فرمائی۔
وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ۔ ہر جان بجائے خود محترم ہے اس وجہ سے اس کی صفت التی حرم اللہ (جس کو اللہ نے حرام ٹھہرایا) وارد ہوئی۔ اس سے مسٹچنی صرف وہ جان ہے جو کسی حق یا شرعی یا بالفاظ دیگر قانون کے تحت مباح الدم قرار دیا جائے۔ مثلاً کسی پر قصاص عائد ہو یا وہ اللہ وہ رسول کے خلاف بغاوت کے لیے اٹھ کھڑا ہو یا زنا کی اس شکل کا مرتکب ہوا ہو جس پر رجم کی سزا ہے۔ اس قسم کے حق شرعی و قانونی کے بغیر کسی کو قتل کرنا جائز نہیں۔
ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ، یہ باتیں ہیں جن کی اللہ نے ملت ابراہیم میں ہدایت فرمائی تھی۔ تم یہ باتیں تو چھوڑ بیٹھے، التبہ اپنے جی سے چند اچھے بھلے جانوروں کو حرام کر کے ملت ابراہیم کے دعویدار بنے پھر رہے ہو۔ اب میں تمہیں از سرِ نو ملت ابراہیم کے یہ احکام اس لیے سنا رہا ہوں کہ تم سوچو اور سمجھو کہ تم کہاں سے کہاں نکل گئے ہو اور دعوی یہ رکھتے ہو کہ تم ملت ابراہیم پر ہو۔ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ کا اصلی زور سمجھنے کے لیے کلام کی تمہید قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ پیش نظر رکھیے۔ مطلب یہ ہے کہ میں نے یہ تفصیل اس لیے سنائی ہے کہ تم اپنے رویہ کا جائزہ لو اور حقیقت حال کو سمجھو۔
Ayah 6:152وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ، اس کی پوری وضاحت سورة نساء کی تفسیر میں ہوچکی ہے۔ یتیم کا مال دوزخ کی آگ ہے اس وجہ سے کسی بری نیت سے کسی کو اس کے پاس بھی نہیں پھٹکنا چاہیے۔ جو بھی اس کے پاس جائے صرف اچھی ہی راہ سے جائے، یعنی اس کو سنبھالنے اور حتی الامکان ترقی دینے کے لیے، تاآنکہ یتیم بالغ ہوجائے۔ جب بالغ ہوجائے پوری احتیاط کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں اس کا مال اس کے حوالہ کرے۔
وَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ ، ناپ تول کو غھیک ٹھیک عدل کے ساتھ پورا کرو، یہ بات بھی مثبت پہلو سے ارشاد ہوئی ہے اس وجہ سے اس کے ضد پہلو کو بھی، جیسا کہ اوپر ہم نے وبالوالدین احسانا کے تحت عرض کیا، پیش نظر رکھنا ہوگا۔ یعنی ناپ تول میں کمی بیشی نہ کرو کہ اپنے لیے اور پیما نہ ہو، دوسروں کے لیے اور لینے کے لیے کوئی باٹ ہو، دینے کے لیے کو۔ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ (1) الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ (2) وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ (3) (ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی تباہی ہے کہ لوگوں سے لیں تو پورا ناپ کرلیں اور جب ان کے لیے ناپیں یا تولیں تو اس میں کمی کریں)۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ نظام کائنات، جیسا کہ سورة آل عمران میں واضح ہو، عدل و قسط پر قائم ہے اور اس کائنات کی ہر چیز شاہد ہے کہ اس کا خالق و مدبر قائم بالقسط ہے اس وجہ سے اس دنیا کی اصلاح و فلاح کے لیے بنیادی چیز یہ ہے کہ انسان اپنے دائرہ اختیار میں بھی کانٹے کی تول عدل و قسط کو قائم کرے۔ اگر اس میں ذرا رخنہ پیدا ہوا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہماری زندگی اپنے مرکز ثقل سے منحرف ہوگئی اور اب سارے نظام تہذیب و تمدن میں فساد و اختلال رونما ہو کے رہے گا۔ عدل و قسط کی اس اہمیت کی وجہ سیے حکم ہوا کہ ناپ تول کو ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ سورة بنی اسرائیل میں اس کی برکات کی طرف بھی اشارہ فرما دیا ہے وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلا (اسراء :35) اور ناپ کو پورا کرو جب ناپو، اور جب تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو، یہی نتیجہ اور مآل کار کے اعتبار سے بابرکت اور بہتر ہے۔ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلا کے الفاظ دنیا اور آخرت دونوں کے نتائج و برکات کے لحاظ سے استعمال ہوئے ہیں۔ آخرت میں اس کی برکات تو واضح ہیں ہی، دنیا میں بھی باعتبار مآل، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا یہی رویہ معاش و معیشت، کاروبار اور تجارت اور عادلانہ تمند کے فروغ کے نقطہ نظر سے بابرکت ہے، کوئی ڈنڈی مارنے والی قوم دنیا میں نہ فروگ پائی ہے، نہ پائے گی۔ یہ برائی کوئی منفرد برائی نہیں بلکہ یہ بہت سی برائیوں کے پائے جانے کی ایک علامت ہے۔ جس قوم کے اندر یہ برائی پائی جاتی ہے۔ خبر دیتی ہے کہ یہ قوم عدل و قسط کے تصور سے خالی ہے اس وجہ سے یہ کسی صالح تمدن کے قیام کی صلاحیتوں سے نہ صرف محروم ہے بلکہ یہ خدا کی زمین میں فساد کے بیج بونے والی ہے۔ چناچہ سنت الٰہی کے مطابق ایسی قوم کی جڑ کاٹ دی جاتی ہے۔ اس مسئلہ پر انشاء اللہ ہم سورة اعراف میں، قوم شعیب کے بیان میں، تفصیل سے بحث کریں گے۔
تمام اعمال کے لیے معیار :۔ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا، یہ وہ معیار ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام اعمال کے لیے مقرر فرمایا ہے کہ وہ لوگوں پر ان کی برداشت اور ان کے امکان سے زیادہ بوجھ نہیں دالتا۔ اس سے ایک تو یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ احکام جو دیے ہیں انسان کی فطرت اور اس کی صلاحیتوں کو تول کردیے ہیں، ان میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو اس کے تحمل سے باہر ہو۔ دوسری یہ کہ مطلوب جو کچھ ہے وہ یہ ہے کہ ہر شخص پوری دیانت و صداقت کے ساتھ ان احکام کی تعمیل ظاہراً و باطناً کرے، اگر بلا ارادہ اس کے کسی پہلو میں کوئی بھول چوک یا کوتاہی ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ معیار مطلوب کی اس وضاحت سے احتیاط میں شدت و غلو کی نفی بھی مقصود ہے کہ لوگ خواہ مخواہ اپنے جی سے اس سے آگے بڑھ کر گول باندھنے کی کوشش نہ کریں جو خدا نے مقرر کردیا ہے۔ البتہ اس ٹکڑے سے کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ ہماری صواب دید پر منحصر ہے کہ ہم اپنی طاقت و استطاعت کی حد خود مقرر کریں اور پھر اس مزعومہ طاقت و استطاعت کے پیمانہ سے ناپ کر اپنے لیے خدا کے احکام و شرائع میں سے انتخاب کریں کہ اتنا ہم سے ہوسکتا ہے، یہ ہم کریں گے، باقی ہماری استطاعت سے باہر ہے اس وجہ سے ہم اس کے مکلف نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت کے باب میں یہ اختیار کسی کو نہیں بخشا ہے۔
حق وعدل کا اہتمام : وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰي۔ یہ یوں تو زبان سے نکلنے والی ہر بات کے لیے ایک عام اصول ہے کہ جو بات بھی منہ سے نکلے وہ حق و عدل کی کسوٹی پر پوری اترنے والی ہو چناچہ سورة بنی اسرائیل میں ہے ولا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولا (بنی اسرائیل :36) ، اور اس بات کے درپے نہ ہو جس کے باب میں تمہیں کوئی علم نہیں۔ کان، آنکھ، دل ان میں سے ہر ایک سے متعلق پرسش ہونی ہے۔ لیکن یہاں موقع کلام دلیل ہے کہ تمہاری کوئی شہدت اور تمہارا کوئی فیصلہ حق و عدل سے ہٹا ہوا نہ ہو بلکہ جب بھی دو آدمیوں کے درمیان کوئی شہادت دو یا کوئی فیصلہ کرو تو وہ حق وعدل کے مطابق ہو، اور اس معاملے میں اپنے کسی عزیز و قریب کے ساتھ بھی کوئی رو رعایت نہ ہو۔
وَبِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا۔ اب یہ آخر میں ایک جامع بات فرما دی کہ اللہ کے ہر عہد کو پورا کرو۔ اس میں وہ تمام عہد بھی آگئے جو اللہ نے اپنے بندوں سے لیے ہیں اور وہ عہد بھی آگئے جو ہم آپس میں کسی مقصد صالح کے لیے کرتے ہیں۔ ہر عہد کی عنداللہ ذمہ داری ہے اس وجہ سے ہر عہد، عہد اللہ ہے اگر وہ خدا کے حدود کے اندر ہے۔ چناچہ سورة بنی اسرائیل میں اس کو عام ہی رکھا ہے“ واوفوا بالعہد ان العہد کان مسئولا (بنی اسرائیل :34) اور عہد کو پورا کرو، ہر عہد کی بابت پرسش ہونی ہے ”
ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۔ اس ٹکڑے کو اس شرح کی روشنی میں سمجھیے جو اوپر ہم نے ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تعقلون کی کی ہے۔ البتہ یہ بات یہاں قابل توجہ ہے کہ اوپر تعقلون فرمایا اور یہ یہاں تزکرون اور آگے والی آیت میں، بالکل اسی سیاق میں لعلکم تتقون ہے۔
تعقل، تزکر اور تقوی میں معنوی ربط : تعقل، تذکر اور تقوی میں بڑا گہرا معنوی ربط ہے۔ انسان جب اندھی تقلید کی بیڑیوں سے آزاد ہو کر سنجیدگی سے ایک بات پر غور کرنے کا عزم کرتا ہے تو یہ تعقل ہے، اس تعقل سے وہ حقائق آشکارا ہوتے ہیں جو فطرت انسانی کے اندر ودیعت ہیں لیکن انسان کی غفلت کی وجہ سے ان پر دھول کا پردہ پڑا ہوا ہوتا ہے، ان حقائق کا آشکارا ہونا، تذکر ہے۔ یہ تذکر انسان کی رہنمائی تقوی کی منزل کرتا ہے جو خلاصہ ہے تمام تعلیم و تزکیہ اور تمام قانون شریعت کا ہم آگے کسی مناسب مقام میں واضح کریں گے کہ تمام شریعت کی بنیاد انسان کی فطرت پر ہے۔ اس وجہ سے جہاں تک دین کے مبادی اور اصول کا تعلق ہے وہ خارج سے نہیں آتے بلکہ انسان کی فطرت ہی سے بر آمد ہوتے ہیں بشرطیکہ انسان خدا کی تزکیر سے بیدار ہو کر تذکر کو کرے۔ شریعت در حقیقت ہمارے ہی معدن فطرت کا برآمد شدہ خزانہ ہے جو ہماری گود میں ڈال دیا جاتا ہے بشرطیکہ ہم اس کی قدر کریں۔
Ayah 6:153وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ۔ مستقیما، یہاں صراط سے حال پڑا ہوا ہے۔ ہم پیچھے بیان کر آئے آئے ہیں کہ اسم اشارہ کے اندر فعل کے معنی پائے جاتے ہیں اس وجہ سے وہ فعل کا عمل بھی کرتا ہے۔ اب یہ سلسلہ بیان کی آخری بات ارشاد ہوئی ہے کہ یہ سیدھی راہ جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں بس اس کی پیروی کرو۔ خدا کی بتائی ہوئی راہ یہی ہے اور یہی ابراہیم کی بتائی ہوئی راہ ہے جس پر چلنے کی انہوں نے اپنی اولاد کو وصیت کی تھی۔ اس راہ سے ہٹ کر جو کج پیچ کی راہیں نکال لی گئی ہیں۔ ان سے بچو۔ وہ ساری راہیں اس صراط مستقیم سے دور اور ملت ابراہیم سے گمراہ کرنے والی ہیں۔ اسی راہ پر قائم رہنے کی، ابراہیم کے واسطے سے خدا نے تم کو ہدایت فرمائی تھی اور اب میرے واسطے سے خدا نے یہ از سرِ نو تمہارے لیے باز کی ہے تاکہ تم ہلاکت کی وادیوں میں بھٹکنے اور خدا کی پکڑ میں آنے سے بچو۔
ملت ابراہیم و ملت اسلام میں امر و نہی کی اساسات : یہاں یہ بات خاص طور پر ذہن میں رکھنے کی ہے کہ جس طرح کھانے پینے کی چیزوں میں حلال و حرام کے درمیان امتیاز کی فطری کسوٹی طیبات اور خبائث کو ٹھہرایا گیا ہے، اسی طرح حقوق و فرائض اور کردار و اخلاق کے باب میں فطری و عقلی اصول یہ ہے کہ جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے وہ تو سب عدل و احسان اور معروف کے منبع سے نکلی ہیں اور جن باتوں سے روکا گیا ہے وہ سب بغی، فحشا اور منکر کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والی ہیں۔ ملت ابراہیم اور ملت اسلام میں امر و نہی کی اساسات اللہ تعالیٰ نے انہی چیزوں کو بنایا ہے۔ اس مسئلہ پر انشاء اللہ سورة نحل کی آیت 90 کے تحت ہم تفصیل سے بحث کریں گے۔
Ayah 6:154ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَي الَّذِيْٓ اَحْسَنَ وَتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَاۗءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُوْنَ۔
ملت موسیٰ اور ملت ابراہیمی میں اشتراک :۔ ثُمَّ یہاں ترتیب کو ظاہر کرتا ہے۔ اوپر، جیسا کہ واضح ہوا، ملت ابراہیم کا بیان تھا، حضرت ابراہیم ؑ کے بعد صاحب شریعت اور صاحب کتاب رسول سیدنا موسیٰ ہی ہیں، فرمایا کہ ابراہیم کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تاکہ اپنے خوب کار بندے پر اپنی شریعت کی نعمت تمام کریں، اس میں ہر ضروری بات کی تفصیل کو دیں اور اس ہدایت و رحمت بنائیں تاکہ لوگ آخرت میں اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں۔
یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ حضرت موسیٰ کو جو کتاب دی گئی اس میں بھی بنیادی احکام وہی ہیں جو ملت ابراہیم کے باب میں بیان ہوئے ہیں۔ آپ کو سب سے پہلے جو احکام الواح میں لکھ کردیے گئے، احکامِ عشرہ کے نام سے مشہور ہیں۔ تورات میں دیکھ لیجئے، الفاظ میں فرق ہو تو ہو لیکن باتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حد یہ ہے کہ تعداد میں بھی فرق نہیں ہے۔ اوپر ملت ابراہیم کے جو احکام گنائے گئے ہیں وہ امر و نہی سب ملا کر دس بنتے ہیں۔ یہی دس احکام شریعت موسوی کی بھی بنیاد ہیں۔ ان پر اضافہ ہوا ہے تو تفصیلات کا اضافہ ہوا ہے جیسا کہ قرآن نے اشارہ کیا ہے اور بعینہ یہی احکام ابتدائی طور پر، جیسا کہ ہم سورة نحل اور سورة بنی اسرائیل میں واضح کریں گے، اس امت کو دیے گئے، گویا اصل دین بنیادی طور پر ایک ہی ہے، فرق ہے تو اجمال و تفصیل اور آغاز و تکمیل کا ہے۔ اس ملت میں دین کو اس کی اصل اساس یعنی ملت ابراہیمی پر لوٹا کر کامل اور ان قیدوں اور پابندیوں سے آزاد کردیا گیا جو یہود پر، جیسا کہ اوپر واضح ہوا، ان کی سرکشی کے سبب سے عاید ہوئی تھیں۔
تَمَامًا عَلَي الَّذِيْٓ اَحْسَنَ سے مراد لوگوں نے جماعت بھی لی ہے۔ لیکن میرے نزدیک اس سے مراد حضرت موسیٰ ہی ہیں۔ الذی کا معروف استعمال معرفہ ہی کے لیے ہے اور جب واحد ہو تو اس سے کوئی خاص ذات ہی مراد لی جاسکتی ہے۔ قرآنی تمثیلات میں کہیں کہیں اس کا ما صدق جماعت بھی ہے لیکن اس کے خاص قرائن اور خاص وجوہ ہیں جن کی تفصیل اپنے محل میں آئے گی۔ حضرت موسیٰ کے لیے یہ صفت اسی طرح استعمال ہوئی ہے جس طرح حضرت ابراہیم کے لیے سورة نجم میں الذی وفی استعمال ہوئی ہے۔ مقصود اس صفت کے اظہار سے حضرت موسیٰ کا اس اتمام نعمت کا سزا وار ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نے ان کو اس نعمت کا سزاوار اس لیے گردانا کہ وہ خوب کار تھے۔ اللہ نے ان کے ظاہر و باطن میں جو کچھ ان کو بخشا اس کا حق انہوں نے پہچانا اور ہر حق نہایت خوبی سے ادا کیا۔ ایسے ہی بندے اللہ کی نعمتوں کے سزوار بنتے ہیں اور جب وہ کسی کو اپنے منصب نبوت کے لیے انتخاب فرمایا چاہتا ہے تو کسی ایسے ہی خوب کار کو چنتا ہے اور اس پر اپنی نعمت تمام کرتا ہے۔ یہ صفت یہود کو نہایت لطیف انداز میں یاد دہانی کر رہی ہے کہ وہ ذرا اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ جس سے انہوں نے دین کی وراثت حاصل کی وہ کیا تھا اور یہ کیا ہیں ؟ اس کو اللہ نے اس لیے اس نعمت سے نوازا تھا کہ اس نے ہر نعمت کا حق پہچانا اور اس کو نہایت خوبی سے ادا کیا۔ ان کا حال یہ ہے کہ انہوں نے ہر نعمت کی ناقدری کی۔ ہر ہدایت سے اعراض کیا، ہر حکم کا حلیہ بگاڑا لیکن مدعی ہیں کہ دنیا و آخرت کی تمام سعادتیں انہی کا حصہ ہیں۔
وَتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ میں کل شیء سے مراد وہ مسائ ہیں جو دین کے دئرے میں آتے ہیں۔ دین کے اصول اور بنیادی مسائل تو وہی ہیں جو اوپر ملت ابراہیم سے متعلق، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، بیان ہوئے لیکن ان میں سے ہر چیز کے تحت تفصیلات و جزئیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو جو کتاب عطاء فرمائی اس میں یہ تمام تفصیلات و جزئیات بھی بیان فرمائیں۔ اس طرح یہ کتاب ہدایت اور رحمت کا مجموعہ بن گئی۔
ہدایت اور رحمت کے الفاظ نہایت حکیمانہ ترتیب کے ساتھ اس مقصد کو ظاہر کرتے ہیں جس کے لیے اللہ تعالیٰ بندوں پر اپنی کتاب اتارتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کتاب اس لیے اتارتا ہے کہ دنیا میں زندگی بسر کرنے کا وہ طریقہ بتائے جو آخرت میں بندوں کو اس کی رحمت کا سزاوار بنائے۔ اس پہلو سے کتاب اپنے مقصد کے اعتبار سے ہدایت اور اپنے ثمرہ اور انجام کے لحاط سے رحمت ہوتی ہے۔ پھر زندگی کی اصل غایت تو آخرت ہے، اس دنیا کی زندگی تو فانی اور عارضی ہے۔ اس وجہ سے کتاب الٰہی کا اصل مقصد یہ ہوا کہ وہ اس دنیا کی زندگو کو وہ جلوہ دے کہ لوگ اللہ کی ملاقات پر ایمان لائیں اور اسی کو نصب العین بنا کر زندگی کا سفر طے کریں۔ اسی حقیقت کی طرف لَّعَلَّهُمْ بِلِقَاۗءِ رَبِّهِمْ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔