6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 6:112

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے انسانوں اور جنوں کے اشرار کو ہر نبی کا دشمن بنایا۔ وہ ایک دوسرے کو پرفریب باتیں القا کرتے ہیں دھوکا دینے کے لیے۔ اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ یہ نہ کرپاتے۔ تو تم ان کو ان کی انہی افترا پردازیوں میں پڑے رہنے دو

وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ ، کذالک کا اشارہ اس مخالفانہ شورش کی طرف ہے جو اس دور میں آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کو زچ کرنے کے لیے قریش کے لیڈروں اور ان کے ہمنواؤں نے برپا کر رکھی تھی۔ فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ اس صورت حال سے تنہا تمہی کو سابقہ پیش آیا ہے، تم سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں ان کو بھی اپنے اپنے زمانوں کو شیاطین جن و انس کے ہاتھوں یہی دکھ جھیلنے پڑے ہیں۔ یہ اللہ کی سنت ابتلا ہے جس سے اس کے تمام نبیوں اور رسولوں کو گزرنا پڑا ہے، اسی سے راست بازوں کی راست بازی کا امتحان ہوتا ہے اور ان کے جوہر نکھرتے ہیں اور اسی سے اہل باطل کو وہ مہلت ملتی ہے جس میں ان کے اندر کا فساد ظہور میں آتا ہے اور وہ اپنے اوپر اللہ کی حجت تمام کرتے ہیں۔ اسی مضمون کو آگے اسی سورة میں یوں ادا فرمایا ہے وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِيْ كُلِّ قَرْيَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِيْهَا لِيَمْكُرُوْا فِيْهَا ۭوَمَا يَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ : اور اسی طرح ہم نے ہر بستی کے اکابر مجرمین کو مہلت دی کہ وہ جو چالیں اس میں چلنا چاہتے ہیں چل لیں، اور وہ نہیں چلتے تھے کوئی چال مگر اپنے ہی ساتھ لیکن ان کو اس کا احساس نہیں ہوا (اعراف :122)۔ اہل ایمان کی یہ آزمائش اور اہل کفر کے لیے یہ ڈھیل چونکہ اللہ تعالیٰ کے قانونِ ابتلا کے تحت ظہور میں آتی ہے اور انسان کو اس نے اختیار و ارادہ کی جو آزادی بخشی ہے۔ یہ اسی کا ایک لازمی حصہ ہے اس وجہ سے اس کو اللہ تعالیٰ نے منسوب اپنی طرف فرمایا ہے۔ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا، زخرف کے معنی ملمع کی ہوئی بات، جھوٹی اور باطل چیز جس پر حق کا رنگ چڑھانے کی کوشش کی گئی ہو، یہ صفت ہے جو اپنے موصوف کی طرف مضاف ہوگئی ہے، اس سے مراد وہ مشرکانہ بدعات ہیں جو ہر دور کے شیطین جن و انس نے باہمی گٹھ جوڑ سے ایجاد کیں، پھر ان کے اوپر شریعت الٰہی کا لیبل لگا کر ان کو رواج دیا اور جب انبیاء و مصلحین نے ان کی اصلاح کی دعوت دی تو ان کی مخالفت میں بحث وجدال کا بازار گرم کیا، چناچہ اسموقع پر بھی یہی ہوا۔ جب آنحضرت ﷺ نے توحید کی دعوت دی اور ان کے بتوں اور مشرکانہ عقائد کے تحت ان کی حرام ٹھہرائی ہوئی چیزوں کی بےحقیقتی واضح فرمائی تو شرک کے یہ ائمہ آستینیں چڑھا چڑھا کے لڑنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور جس پر ان کا زور چلا اس کو اپنے دام فریب میں پھنسانے اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ محمد ﷺ ہم کو ہمارے باپ دادا کے دین اور ابراہیم کی ملت سے ہٹا رہے ہیں یہ بات محتاج وضاحت نہیں ہے شرک اور باطل کا جتنا نظام بھی ہے وہ تمام تر، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، شیاطین جن و انس کے باہمی گٹھ جوڑ سے قائم ہے۔ یہ بات تفصیل سے اپنے مقام میں واضح ہوچکی ہے کہ شیطان کو سب سے زیادہ کد عقیدہ توحید سے ہے اس وجہ سے وہ اس پر ضرب لگانے کے لیے برابر نت نئے حربے اور نئے نئے ڈھنگ ایجاد کرتا رہتا ہے اور انسانوں میں سے جو اس کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ان کے غلط عقائد القا کر کے ان کے واسطے سے خلق خدا کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے آگے اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا ۭوَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي اَوْلِيٰۗـــِٕــهِمْ لِيُجَادِلُوْكُمْ ۚ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ : اور شیاطین اپنے ایجنٹوں کو القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگریں اور اگر تم ان کی بات مانو گے تو تم بھی مشرکوں میں سے ہوجاؤ گے۔ اس گٹھ جوڑ کی مزید وضاحت آگے کی ایک اور آیت سے بھی ہو رہی ہے۔ فرمایا وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ۚ يٰمَعْشَرَالْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ ۚ وَقَالَ اَوْلِيٰۗـؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّبَلَغْنَآ اَجَلَنَا الَّذِيْٓ اَجَّلْتَ لَنَا : اور جس دن خدا ان سب کو جمع کرے گا اور کہے گا اے جنوں کے گروہ تم نے تو انسانوں میں سے بہتوں کو ہتھیا لیا اور جو انسانوں میں سے ان کے ساتھی بنے ہوں گے وہ بولیں گے کہ ہم میں سے ہر ایک نے ایک دوسرے کو استعمال کیا یہاں تک کہ ہم پہنچ گئے اس مدت کو جو تو نے ہمارے لیے ٹھہرائی ہوئی تھی۔۔ وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ۔ مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے خدا کی مشیت اور اس کے قانون امتحان و آزمائش کے تحت ہو رہا ہے۔ اس نے انسانوں اور جنوں کو نیکی اور بدی دونوں میں سے کسی کو اختیار کرنے کی آزادی بخشی ہے۔ اگر وہ سب کو نیکی ہی کی راہ پر چلانا چاہتا تو یہ بھی کرسکتا تھا لیکن اس کی حکمت نے یہی پسند فرمایا کہ وہ اس معاملے میں جب رکے بجائے لاوگوں کو اختیار و انتخاب کی آزادی دے کر ان کا امتحان کرے اور دیکھے کہ کون خدا کی راہ اختیار کرتا ہے اور کون شیطان کی۔ اس قانون کے تحت باطل کے علمبرداروں، شیطان اور اس کے ایجنٹوں کو بھی، اس حیات چند روزہ میں مہلت ملی ہوئی ہے کہ وہ اپنی اس انتخاب کی ہوئی راہ پر چلیں۔ تو تم اپنی راہ چلو اور لوگوں کو اسی راہ کی دعوت دو اور ان لوگوں کو جو تمہاری بات سننا نہیں چاہتے ان کی من گھڑت بدعات میں پڑے رہنے دو۔ یہ اپنا انجام خود دیکھ لیں گے۔ لفظ افتراء پر ہم ایک سے زیادہ مقامات میں بحث کر کے واضح کرچکے ہیں کہ قرآن میں اس سے شرک اور مشرکانہ بدعا مراد ہوتی ہیں۔
Ayah 6:113

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

اور ایسا اس لیے ہے کہ اس کی طرف ان لوگوں کے دل جھکیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور تاکہ وہ اس کو پسند کریں اور تاکہ جو کمائی انہیں کرنی ہے وہ کرلیں

اس آیت کا عطف : اس مفہوم پر ہے جو اوپر والے جملے سے نکلتا ہے، یعنی ہم نے شیاطین جن و انس کو انبیاء و صالحین کی مخالفت اور بدعات و خرافات کے القا کی یہ مہلت جو اس دنیا میں دی ہے۔ یہ اس لیے دی ہے کہ اس سے ایک طرف حق پرستوں کی حق پرستی کا امتحان ہوتا ہے دوسری طرف باطل پرتوں کو ڈھیل ملتی ہے اور وہ ان شیاطین و اشرار کے ہاتھوں اپنا من بھاتا کھاجا پا کر اس کی طرف راغب ہوتے ہیں، اس کو پسند کرتے ہیں اور اس دنیا میں جو کمائی انہیں کرنی ہے وہ کرلیتے ہیں۔ یہ ڈھیل اس اختیار کا لازمی نتیجہ ہے جو انسان کو بخشا گیا ہے اس وجہ سے یہ سنت الٰہی کے تحت ہے۔ ان لوگوں کی صفت یہاں الذین لا یومنون بالاخرۃ بتائی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شیاطین و اشرار کی یہ دعوت انہی لوگوں کو اپیل کرتی ہے جو آخرت کے اعتقاد سے خالی ہوتے ہیں ان کو مطلوب صرف یہ دنیا اور اس کا عیش ہوتا ہے اور اس کی سند ان شیاطین کے ہاتھوں ان کو مل جاتی ہے۔ اقتراف کے معنی کمائی کرنے کے آتے ہیں۔ قرآن میں یہ اچھے اور برے دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں بری کمائی کرنے کے معنی میں ہے۔
Ayah 6:114

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور حکم ڈھونڈوں در آنحالیکہ وہی ہے جس نے تمہاری طرف کتاب اتاری مفصل اور جن کو ہم نے کتاب عطا کی وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے حق کے ساتھ تو تم شک میں پڑنے والوں میں سے نہ ہوجیو

اَفَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِيْ حَكَمًا وَّهُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ اِلَيْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا، یہ مشرکین کے مجادلہ کا پیغمبر کی طرف سے جواب ہے کہ تم مجھ سے شرک و توحید اور حلال و حرام کے بارے میں جھگڑ رہے ہو۔ سوال یہ ہے کہ اس جھگڑے میں کہ خدا کی خدائی میں کچھ اور بھی شریک ہیں یا وہی تنہا حکمران ہےَ اس نے کیا چیزیں حرام ٹھہرائی ہیں، کیا جائز رکھی ہیں، آخر حکم بننے کا حق کس کو حاصل ہے ؟ خدا ہی کو یا کسی اور کو ؟ اگر خدا ہی کو یہ حق حاصل ہے اور لاریب اسی کو حاصل ہے تو میرے لیے یہ بات کس طرح جائز ہے کہ میں اس کے سوا کسی اور کو اس معاملے میں حکم مانوں جب کہ اس نے اس جھگڑے کے چکانے کے لیے ایک کتاب بھی تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تفصیل کے ساتھ اس نے ہر چیز کا فیصلہ فرما دیا ہے۔ اب ایک طرف یہ مفصل خدائی کتاب ہے دوسری طرف تمہاری بےسند بدعات ہیں، ان میں کسی کی بات مانی جانے کے لائق ہے۔ ۭوَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ ، اس سے میرے نزدیک مراد، جیسا کہ بقرہ 146 اور انعام 20 کے تحت واضح کرچکا ہوں، صالحین اہل کتاب ہیں اور یہ بات بطور ایک شہادت حق کے نقل ہوئی ہے کہ یہ جہلا اگر اس کتاب کے مخالف ہیں تو ان کی پروا نہ کرو جس سچے اہل عم اور حق پسند حامل کتاب ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے اتری ہے اور یہ حق کے ساتھ اتری ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا ہے کہ اس کے ذریعہ سے حق و باطل کے درمیان فیصلہ فرما دے۔ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْن میں خطاب باعتبار الفاظ اگرچہ آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن ہم ایک سے زیادہ مقامات میں واضح کرچکے ہیں کہ اس طرح کے مواقع میں روئے سخن دوسروں کی طرف ہوتا ہے۔ صالحین اہل کتاب کی اس شہادت کا ذکر سورة قصص میں بھی ہے الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِهِ هُمْ بِهِ يُؤْمِنُونَ (52) وَإِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ (53): اور جن کو ہم نے اس سے پہلے کتاب عطا فرمائی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جب یہ ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، بیشک یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے، ہم پہلے سے مسلم ہیں (قصص :52-53)۔ یہ نکتہ یہاں ملحوظ رہے کہ جب کوئی حقیقت اول اول بگڑی ہوئی خلق کے سامنے پیش کی جاتی ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ سب لوگ احسنت و مرحباکہتے ہوئے اس کے خیر مقدم کے لیے اٹھ کھڑے ہوں بلکہ اس کے برعکس اکثریت اس کی مخالفت کے درپے ہوجاتی ہے۔ سوسائٹی کے لیڈر اور قوم کے اشرار تو اس لیے اس کی مخالفت کرتے ہیں کہ اس سے ان کو اپنا مفاد خطرے میں نظر آتا ہے، رہے عوام تو وہ اپنے رسوم و رواج اور اپنے طریقہ آباء کے بندے ہوتے ہیں اس وجہ سے ہر وہ بات ان کو بری لگتی ہے جو ان کی مالوفات کے خلاف ہو اگرچہ وہ کتنی ہی بڑی حقیقت ہو اور اپنی تائید و تصدیق میں اپنی پشت پر کتنی ہی واضح حجتیں رکھتی ہو۔ اکثریت کا یہ رویہ بسا اوقات ان لوگوں کو بھی اس پختہ حقیقت سے متعلق تذبذب میں ڈال دیتا ہے جو اگرچہ نیک نیت ہوتے ہیں لیکن ابھی ان کی فکر و نظر اتنی پختہ نہیں ہوئی ہوتی ہے کہ مخالفت کی آندھیوں اور اکثریت کے طوفانوں کا مقابلہ کرسکے۔ ایسے ہی لوگوں کی رہنمائی اور دلدہی کے لیے اس آیت میں اشارۃ اور آگے والی آیت میں تصریحاً یہ بات بتائی گئی ہے کہ کسی صداقت کی صداقت خود اس کی اپنی کسوٹی پر جانچی جاتی ہے اور اس کے حق میں خارجی شہادت ہی مطلوب ہو تو یہ کافی ہے کہ سنجیدہ ذی علم اور صاحب کردار لوگ اس کے حق میں شہادت دیں اگرچہ ان کی تعداد کتنی ہی کم ہو۔ سقراط کے متعلق مشہور ہے کہ اس کے بعض ناصحوں نے اس سے کہا کہ تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ سارا ایتھنز تمہارے خیالات سے برہم ہے، تم کو ان کی کچھ پروا نہیں ؟ اس نے بڑے اطمینان سے جواب دیا کہ مجھے صرف اس ایک انسان کی پروا ہے جو دانش مند ہو۔ اکثریت و اقلیت کی یہ بحث آگے آرہی ہے۔ یہاں یہ اشارہ کافی ہے۔
Ayah 6:115

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

اور تمہارے رب کی بات پوری ہوئی ٹھیک ٹھیک اور عدل کے ساتھ اور کوئی نہیں جو اس کی باتوں کو بدل سکے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔ یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ آج یہ تم تمام شیاطین جن و انس کو جو اپنی اور اپنی دعوت کی مخالفت میں متحد پا رہے ہو تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے یہ ٹھیک ٹھیک وہی صورت حال ہے جو شیطان اور آدم کے ماجرے میں بیان ہوچکی ہے۔ شیطان نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے مہلت مانگی خدا نے اس کو مہلت دی، شیطان نے دھمکی دی کہ میں ذریت آدم کی اکثریت کو شرک و بت پرستی میں مبتلا کر کے چھوڑوں گا، خدا نے فرمایا کہ اگر تو ایسا کرتے گا تو میں تجھ کو اور تیرے سارے پیرو وں کو جہنم میں بھر دوں گا۔ بقرہ کی آیت 168 کے تحت اس مضمون کی وضاحت ہوچکی ہے۔ یہاں اس کا حواہ دینے سے مقصود یہ ہے کہ ان لوگوں نے شیطان کے پھندے میں پھنس کر اپنے باب میں اس کی پیشین گوئی پوری کردی ہے اور اللہ نے ایسے لوگوں کے باب میں شیطان کو اپنا جو فیصلہ سنایا تھا وہ پورا ہوگیا اور یہ فیصلہ سچائی اور عدل دونوں معیاروں پر پورا ہے۔ خدا نے جو بات فرمائی وہ سچی بھی ہے اور مبنی بر عدل بھی، اس لیے کہ خدا نے ان پر اپنی حجت پوری کردی ہے۔ اس کے باوجود اگر یہ ہدایت الٰہی کی جگہ القائے شیطانی ہی کی پیروی پر بضد ہیں تو یہ اسی انجام کے سزاوار ہیں جس کی خدا نے ان کو خبر دی ہے۔ خدا کے فیصلے اس کی مقررہ سنت کے تحت ہوتے ہیں۔ ان کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ اللہ سمیع وعلیم ہے، نہ اس کی کوئی بات بیخبر ی پر مبنی ہوتی، نہ اس میں کسی خطا یا ناانصافی کا امکان ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہ بات مشرکین کے لیے بطور تہدید و وعید اور پیغمبر ﷺ کے لیے بطور تسلی ارشاد ہوئی ہے لَا مُبَدِّلَ لکلمات اللہ پر اسی انعام کی آیت 34 کے تحت جو کچھ لکھا گیا ہے اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے
Ayah 6:116

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور اس زمین والوں میں سے اکثر ایسے ہیں کہ اگر تم نے ان کی بات مانی تو وہ تمہیں خدا کے راستہ سے گمراہ کر کے چھوریں گے۔ یہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور اٹکل کے تیر تکے چلاتے ہیں

وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ، اوپر آیت 115 میں جس حقیقت کی طرف اشارہ ہوا تھا، یہ اس کی تصریح ہے اور خطاب اگرچہ بصیغہ واحد ہے لیکن معنا خطاب عام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس وقت جو غوغائے عام دعوت توحید کی مخالف اور مشرکانہ بدعات کی حمایت میں برپا ہے اس کی مطلق پروا نہ کرو۔ یہ کسی دلیل و سند اور کسی علم و حجت پر مبنی نہیں ہے بلکہ تمام تر ظن و گمان کی پیروی پر مبنی ہے۔ یہ محض اٹکل کے تیر تکے چلائے جا رہے ہیں۔ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ۔ یہ دعوی جو کیا جاتا ہے کہ یہ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں۔ یہ خدا کا بتایا ہوا اور ابراہیم کی وراثت ہے، محض ان کا افترا ہے۔ اللہ اور ملت ابراہیم سے اس کو کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ مغالطہ بھی کسی کو نہیں ہونا چاہیے کہ اکثریت اس فتنہ کے ساتھ ہے۔ وہ اکثریت جو علم سے عاری ہو اور محض گمان کے پیچھے بھاگ رہی ہو اس کی بات جو لوگ مانیں گے وہ خائی راہ سے بھٹک کے رہیں گے۔ اکثریت کا غوغا اس کے حق ہونے کی دلیل نہیں ہے ،
Ayah 6:117

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے ان کو جو اس کے ستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور خوب جانتا ہے ان کو جو ہدایت یاب ہیں

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ يَّضِلُّ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۚ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ۔ یہ خطاب بھی عام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس بھیڑ کو دیکھ کر کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو، یہ پتہ اللہ کو ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور کون ہدایت یاب ہیں۔ پس جن کو خدا راہ یاب بتا رہا ہے ان کی راہ اختیار کرو اور جن کو خدا گمراہ قرار دے رہا ہے ان کی روش سے بچو، یہ ہدایت یافتہ گروہ کے لیے بشارت کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے لیے تہدید بھی ہے جو گمراہی کی راہ پر چل رہے ہیں اس لیے کہ جب اللہ ان دونوں گروہوں سے اچھی طرح باخبر ہے تو ان کے ساتھ معاملہ بھی اپنے علم کے مطابق ہی کرے گا۔ ان لوگوں کے دعوے کچھ کام نہیں آئیں گے جو ہیں تو گمراہ لیکن علم بردار بنے ہوئے ہیں ہدایت کے۔ فصل نمبر 19۔ اگلی آیات 118 تا 140 کا مضمون : آگے ان مشرکانہ بدعات کی تردید آرہی ہے جو مشرکین نے اختیار تو کی تھیں شیطان کے القا سے لیکن دعوی یہ کرتے تھے کہ یہ حضرت ابراہیم سے ان کو راثت میں ملی ہیں۔ قرآن نے ان بدعات کو بےسند اور بےبنیاد قرار دے کر ان کے تحت حرام کردہ چیزیں جائز قرار دے دیں تو انہوں نے یہ ہنگامہ کھڑا کیا کہ محمد نے وہ چیزیں بھی جائز کردی ہیں جو ہمارے بزرگوں ابراہیم و اسمعیل کے زمانے سے حرام چلی آرہی تھیں۔ یہ پروپیگنڈا قدرتی طور پر کمزور طبائع پر اثر انداز ہوا۔ ہم بقرہ کی تفسیر میں آیات 168 تا 172 کے تحت تفصیل سے بیان کر آئے ہیں کہ کھانے پینے کی چیزوں کے معاملے میں اول تو طبیعتیں یوں ہی بڑی حساس ہوتی ہیں اور اگر ان کا تعلق مشرکانہ مذہبی روایات سے ہو تو یہ حس تیز سے تیز تر ہوجاتی ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے یہاں بڑی تفصیل کے ساتھ ان توہمات کی تردید بھی فرمائی اور اصل ملت ابراہیم کی وضاحت بھی فرمائی۔ یہ مضمون سورة کے آخر تک چلا جائے گا۔ بیچ بیچ میں بعض باتیں بطور التفات یا کسی ذیلی شبہ کی تردید توضیح کے طور پر بھی آئیں ہیں لیکن سب بالواسطہ یا بلا واسطہ اسی بحث سے تعلق رکھنے والی ہیں۔ ان کا موقع و محل سلسلہ بیان سے خود واضح ہوجائے گا۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
Ayah 6:118

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

پس تم کھاؤ ان چیزوں میں سے جن پر خدا کا نام لیا گیا ہو، اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھنے والے ہو

مشرکانہ توہمات کے تحت حرام سمجھے جانے والے چوپایوں کو کھانے کا حکم : ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ جب اسلام نے وہ تمام چوپائے حلال و طیب قرار دے دیے جن کو مشرکین نے اپنے مشرکانہ توہمات کے حرام قرار دے رکھا تھا تو اس کے خلاف انہوں نے بڑا ہنگامہ اٹھایا کہ یہ دیکھو، اس شخص نے اپنے پیرؤوں کے لیے وہ چیزیں بھی جائز کردی ہیں جو ہمارے بزرگوں، ابراہیم و اسماعیل کے زمانے سے حرام چلی آرہی تھیں۔ اس طرح کے معاملات میں جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، عام ذہن بڑا حساس اور ضیعف الاعتقاد ہوتا ہے اس وجہ سے مخالفانہ پروپیگنڈے کا اثر آسانی سے قبول کرلیتا ہے۔ قرآن نے یہاں اسی اثر کو دور کرنے کے لیے فرمایا کہ حرام وہی چیزیں ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں تفصیل سے بیان کردی ہیں تو ان مزرکین تحریم و تحلیل کی کوئی پروا نہ کرو۔ جو چیزیں شریعت الٰہی میں حلال ہیں ان کے باب میں اس کے سوا کوئی قید نہیں ہے کہ بوقت ذبح ان پر خدا کا نام لیا جائے اگر خدا کا نام لیا گیا ہے تو ان کو بےتکلف کھاؤ اور ان مشرکین کے پروپیگنڈے کو کوئی اہمیت نہ دو۔ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰيٰتِهٖ مُؤْمِنِيْنَ۔ (اگر تم اللہ کی آیات پر ایمان رکھنے والے ہو) تاکید اور تنبیہ بلکہ ایک قسم کی تہدید بھی ہے۔ یعنی اللہ کی آیات پر ایمان کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ خدا کے احکام کے مقابل میں مشرکوں کے بےبنیاد پروپیگنڈے کی کوئی پروا نہ کرو۔ تحریم و تحلیل کا اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے۔ اگر کسی اور کے لیے بھی یہ حق تسلیم کرلیا جائے تو یہ خدا کے حقوق میں دوسرے کو حصہ دار بنانا ہے اور یہ شرک ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ مسئلہ صرف ایک چیز کے کھانے اور نہ کھانے کا نہیں ہے بلکہ جن چیزوں کو مشرکانہ توہمات کی بنا پر حرام ٹھہرایا گیا ہے اللہ کی طرف سے ان کی حلت کے اعلان کے باوجود ان سے اجتناب کرنا گویا بالواسطہ شرک کو تسلیم کرنا ہوا اس وجہ سے یہ مسئلہ کفر و ایمان کا مسئلہ بن جاتا ہے توحید کا تقاضا، جیسا کہ آگے بیان آ رہا ہے، یہ ہے کہ آدمی شر ظاہر اور شرک باطن دونوں سے اپنے آپ کو پاک رکھے۔
Ayah 6:119

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور تم کیوں نہ کھاؤ ان چیزوں میں سے جن پر خدا کا نام لیا گیا ہو جب کہ اس نے تفصیل سے بیان کردی ہیں وہ چیزیں جو تم پر حرام ٹھہرائی ہیں اس استثنا کے ساتھ جس کے لیے تم مجبور ہوجاؤ اور بیشک بہتیرے ایسے ہی ہیں جو لوگوں کو کسی علم کے بغیر اپنی بدعات کے ذریعے سے گمراہ کر رہے ہیں تیرا رب خوب واقف ہے ان حد سے بڑھنے والوں سے

وَمَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَيْهِ۔ مطلب یہ ہے کہ جب خدا کی طرف سے وضاحت ہوچکی کہ حرام کیا کیا چیزیں ہیں تو اب خدا پر ایمان کا دعوی رکھنے والوں کے لیے اس معاملے میں تذبذب کی کہاں گنجائش رہ گئی ؟ تفصیل سے یہاں اشارہ اس تفصیل کی طرف بھی ہے جو اس سے پہلے کی سورتوں میں گزر چکی ہے، مثلا سورة نحل کی آیات 114 تا 116 میں اور اس تفصیل کی طرف بھی ہے جو خود اس سورة میں بیان ہوئی ہے۔ ہرچند یہاں زیر بحث مشرکانہ توہمات و عقائد کے تحت کسی چیز کو حرام سمجھنا ہے، نہ کہ مجرد ذوقی بنیاد پر کسی چیز سے احتراز۔ لیکن اس تاکید کے ساتھ جو جائز چیزوں کے کھانے پر زور دیا جا رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ شرک و توحید کا معاملہ دین میں اتنا اہم ہے کہ اس باب میں شریعت کسی ادنی التباس کی بھی روا دار نہیں ہے۔ اگر ذرا بھی اس میں مسامحت برتی جاتی تو یہ بہتوں کے اندر نفاق کی پرورش کے لیے ایک پردہ فراہم کردیتی۔ یہ تاکید گویا ایک مخلص و منافق کے درمیان امتیاز کی ایک کسوٹی کے طور پر تھی۔ جو لوگ اس تاکید کے بعد بھی ان چیزوں کے کھانے سے محترز رہتے جن سے اب تک محترز رہے تھے تو ان کا یہ احتراز ان کے اندر شرک و جاہلیت کے جراثیم کی موجودگی کی شہادت دیتا۔ انبیاء و مصلحین کے طریقہ کار میں اس فرق و امتیاز کی بنیادی اہمیت ہے اور عقل و فطرت کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَيْهِ ، میں اس استثناء کا بیان ہے جو حرام چیزوں کی ممانعت کے اندر اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ حرام چیزیں بھی اس حالت میں انسان کے لیے جائز ہوجاتی ہیں ج اس کو حالت اضطرار پیش آجائے۔ اس حالت اضطرار کے حدود و شرائط پر دوسرے مقام میں تفصیل سے ہم بحث کرچکے ہیں۔ یہ بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ مشرکین اللہ کی حرام ٹھہرائی ہوئی چیزیں تو بےدھڑک بغیر کسی اضطرار کے بھی کھاتے تھے لیکن اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت کے تحت جو چیزیں انہوں نے حرام قرار دے لی تھیں ان کو کسی حالت میں بھی ہاتھ نہیں لگاتے تھے، خواہ ان کی جان ہی پر کیوں نہ آ بنی ہو۔ۭوَاِنَّ كَثِيْرًا لَّيُضِلُّوْنَ بِاَهْوَاۗىِٕهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ، اھوا، کے لفظ پر ہم دوسری جگہ بحث کرچکے ہیں کہ یوں تو اس کے معنی خواہشات کے ہیں لیکن جس سیاق میں یہ یہاں ہے اس سیاق میں اس سے مراد بدعتیں ہوتی ہیں، اس لیے کہ بدعتوں کی بنیاد تمام تر ظن و گمان اور خواہشوں پر ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں کی تحریم یہ منسوب تو خدا کی طرف کرتے ہیں لیکن یہ تمام تر ان کی اپنی بدعات ہیں۔ خدا سے اس چیز کو کوئی تعلق نہیں۔ اس باب میں ان کے پاس خدا کی طرف سے کوئی ثبوت یا سند نہیں ہے، جس کو وہ پیش کرسکیں۔ كَثِيْرًا، کے لفظ میں جو پہلو ملحوظ ہے اس کی طرف اوپر آیت 116 میں اشارہ گزر چکا ہے۔ قرآن نے یہاں ان کے اس عمل کو بغیر علم جو قرار دیا ہے تو یہ ایک چیلنج بھی ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی سند یا ثبوت ہے تو اس کو پیش کریں۔ دوسری طرف یہ ان سادہ لوحوں کی غلط فہمی کا ازالہ بھی ہے جو ہمیشہ اپنے بڑوں کی غلط سے غلط بات بھی اس حسن ظن پر مانتے رہتے ہیں کہ ان پاس ضرور اس بات کی کوئی نہایت مضبوط دلیل ہوگی، اگرچہ ہم اس سے واقف نہیں ہیں۔ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِيْنَ ، اوپر آیت 117 میں فرمایا، هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِيْنَ ، یہ ٹکڑا بالکل اس کے مقابل میں ہے۔ وہ تسلی کے لیے وارد ہوا ہے، یہ تہدید کے لیے۔
Ayah 6:120

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اور چھوڑو گناہ کے ظاہر کو بھی اور اس کے باطن کو، بیشک جو لوگ گناہ کما رہے ہیں وہ عنقریب اپنی اس کمائی کا بدلہ پائیں گے۔

وَذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَبَاطِنَهٗ ، یہ اوپر والی بات ہی کی تاکید ایک اور لطیف و دقیق پہلو سے ہے۔ شرک اور مظاہر شرک دونوں کو چھوڑنے کا حکم : ہر برائی کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک اس کا باطنی پہلو، دوسرا اس کا ظاہری پہلو۔ اس بات کو دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک تو اس کی حقیقت ہوتی ہے جس کا مسکن انسان کا نفس اور اس کا دل ہوتا ہے، دوسرے اس کے وہ مظاہر و اشکال ہوتے ہیں جن میں انسانی زندگی کے اندر وہ نمایاں ہوتی ہے۔ مثلاً شرک کی ایک تو حقیقت ہے جو یہ ہے کہ خدا کی ذات یا صفات یا اس کے حقوق میں کسی کو شیک ماننا، دوسرے اس کے مظاہر و اشکال ہیں مثلاً اصنام، انصاب، ازلام، بحیرہ، سائبہ وصیلہ، حام اور اس نوع کی دوسری چیزیں جو کسی شرکیہ عقیدے یا تصور کا عملی مظہر اور نشان ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں میں بڑا گہرا ربط ہوتا ہے۔ یہ ایک دوسرے کے سہارے سے پروان چڑھتی اور غذا و قوت حاصل کرتی ہیں۔ اس وجہ سے اگر کسی برائی اکا استیصال مقصود ہو تو یہ ضروری ہوگا کہ اس برائی کی حقیقت اور اس کے مظاہر و اشکال دونوں کا استیصال کیا جائے۔ اس کے بغیر اس کا استیصال ناممکن ہے۔ اگر یہ خیال کر کے اشکال و مظاہر سے چشم پوشی برتی جائے کہ جب اصل برائی پر ضرب لگا دی گئی تو اشکال و مظاہر میں کیا رکھا ہوا ہے تو وہ برائی انہی اشکال میں پھر اپنا نشیمن بنا کر اس میں اپنے انڈوں بچوں کی پرورش شروع کردیتی ہے اور آہستہ آہستہ اس کا پورا کنبہ از سرِ نو آباد ہوجاتا ہے۔ یہاں زیر بحث آیت میں اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جس طرح شرک کو چھوڑنا ضروری ہے اسی طرح شرکیہ عقائد و تصورات کی بنا پر جن چیزوں کو مقدس مان کر حرام ٹھہرایا گیا ہے ان کے تقدس اور ان کی حرمت کو بھی ختم کرو اور عام جانوروں کی طرح ان کو بھی خدا کے نام پر ذبح کرو اور بےتکلف ان سے فائدہ اٹھاؤ۔ اگر ان کے باب میں کوئی جھجک طبیعت میں باقی رہتی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ابھی شرک کی جڑ دل کے اندر باقی ہے۔ اگر جڑ باقی نہیں ہے تو آخر یہ اس کی شاخوں کو غذا کہاں سے مل رہی ہے ؟ اس حقیقت کی طرف آگے بھی اسی سورة میں یوں توجہ دلائی ہے ولا تقربوا الفواحش ما ظھر منہا ومابطن : اور بےحیائی کی باتوں کے قریب نہ پھٹکو، خواہ ظاہری ہو یا باطنی (انعام :151)۔ اسی اصول کے تحت نبی ﷺ نے فتح مکہ کے بعد شرک کے تمام آثار و مظاہر کا یک قلم خاتمہ کردیا۔ زیر بحث آیت میں لفظ اثم اگرچہ عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ یہاں مراد شرک ہی ہے۔ خیر اور مظاہر خیر، دونوں کی نگہداشت : یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ جو حال برائیوں کا مذکور ہوا بعینہ وہی حال بھلائیوں کا بھی ہے۔ ان میں سے بھی ہر ایک کی ایک تو حقیقت ہوتی ہے اور کچھ اس کے اشکال و مظاہر ہوتے ہیں، اور جس طرح برائی کے استیصال کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ شتر کے ساتھ ساتھ بچہ شتر کا بھی خاتمہ کیا جائے ورنہ وہ برائی ختم نہیں ہوتی اسی طرح کسی بھلائی کے فروغ دینے کے لیے بھی ضروری ہے کہ اس کی حقیقت کے ساتھ اس کے مظاہر و اشکال کو بھی فروغ دیا جائے اگر مظاہر و اشکال کو فروغ نہ دیا جائے تو وہ بھلائی بھی دب دبا کر رہ جاتی ہے اس کو نشوونما نہیں حاصل ہوتی، اس مسئلے پر انشاء اللہ ہم اس کے محل میں گفتگو کریں گے۔ آگے اعرف کی آیت 23 کے تحت بھی یہ بحث آئے گی۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا يَقْتَرِفُوْنَ ، یہ ان لوگوں کو دھمکی ہے جو ان بےاصل بدعات کی حمایت میں پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں سے بحث و مجادلہ کر رہے تھے۔ فرمایا کہ تم ان تمام بدعات کے ظاہر و باطن دونوں سے اپنے کو پاک کرو، رہے یہ لوگ جو اس بس بھری فصل کی کاشت کر رہے ہیں وہ بہت جلد اس کا حاصل اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
Ayah 6:121

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور تم نہ کھاؤ ان چیزوں میں سے جن پر خدا کا نام نہ لیا گیا ہو، بیشک یہ حکم عدولی ہے اور شیاطین القا کر رہے ہیں اپنے ایجنٹوں کو تاکہ وہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہا مانوگے، تم بھی مشرک ہوجاؤ گے

ان مباح چیزوں کی تحریم جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو : اوپر والی آیت میں شرکیہ عقائد کے تحت حرام کی ہوئی چیزوں کو کھانے کا حکم دیا ہے جب کہ ان پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ اس آیت میں اہل عرب کے عقیدے کی رو سے ان مباح چیزوں کو بھی کھانے کی ممانعت فرما دی جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ مشرکین نے اوپر والی حلت کی طرح اس حرم پر بھی ہنگامہ اٹھایا اس لیے کہ ان کے ہاں کسی ذبیحہ کی حلت و طہارت کے لیے یہ چیز ضروری نہیں تھی کہ لازماً اس پر اللہ کا نام بھی لیا جائے۔ جس چیز و کو وہ حلال و طیب سمجھتے تھے اور ان کے باپ دادا بھی جس کو حلال سمجھتے تھے مسلمانوں کی طرف سے اس کی حرمت کے اعلان سے ان کے مذہبی پندار کو بڑی چوت لگی ہوگی اور انہوں نے اپنے عوام کے جذبات مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کے لیے یہ پروپیگنڈا شروع کیا ہوگا کہ یہ لو، یہ نئے دین والے تو ہم کو اور ہمارے باپ دادا سب کو حرام خور قرار دیتے ہیں اس لیے کہ ان کے ہاں وہ جانور جائز ہی نہیں جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ وَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي اَوْلِيٰۗـــِٕــهِمْ لِيُجَادِلُوْكُمْ سے ہمارے نزدیک ان کے اسی غوغا کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن قرآن نے ان کے اوپر والے غوغا کی طرح ان کے اس غوغا کی بھی کوئی پروا نہیں کی بلکہ صاف فرمایا کہ انہ لفسق، کہ جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کو کھانا فسق ہے اور مسلمانوں متنبہ کیا کہ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ اگر تم نے ان کے غوغا سے متاثر ہو کر ان کی بات مانی تو تم بھی مشرک ہو کر رہ جاؤ گے۔ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینے کی ضرورت : یہاں یہ سوال قابل غور ہے کہ کسی جانور کے ذبح کے وقت اس پر اللہ کا نام لینا اس قدر ضروری کیوں قرار دیا گیا کہ اس کے بغیر اس کا کھانا ہی حرام ہوجائے ؟ اس کے بعض وجوہ بالکل واضح ہیں جن کی طرف ہم اشارہ کرنا چاہتے ہیں۔ اول یہ کہ اللہ کے نام اور اس کی تکبیر کے بغیر جو کام بھی کیا جاتا ہے وہ، جیسا کہ ہم آیت بسم اللہ کی تفسیر میں واضح کرچکے ہیں، برکت سے خالی ہوتا ہے۔ خدا کی ہر نعمت سے، خواہ چھوٹی ہو یا بڑی، فائدہ اٹھاتے وقت ضروری ہے کہ اس پر اس کا نام لیا جائے تاکہ بندوں کی طرف سے اس کے انعام و احسان کا اعتراف و اقرار ہو۔ اس اعتراف و اقرار کے بغیر کوئی شخص کسی چیز پر تصرف کرتا ہے تو اس کا یہ تصرف غاصبانہ ہے اور غصب سے کوئی حق قائم نہیں ہوتا بلکہ یہ جسارت اور ڈھٹائی ہے جو خدا کے ہاں مستوجب سزا ہے۔ دوم یہ کہ احترامِ جان کا یہ تقاضا ہے کہ کسی جانور کو ذبح کرتے وقت اس پر خدا کا نام لیا جائے۔ جان کسی کی بھی ہو ایک محترم شے ہے۔ اگر خدا نے ہم کو اجازت نہ دی ہوتی تو ہمارے لیے کسی جانور کی بھی جان لینا جائز نہ ہوتا۔ یہ حق ہم کو صرف خدا کے اذن سے حاصل ہوا ہے اس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ جس وقت ہم ان میں سے کسی کی جان لیں صرف خدا کے نام پر لیں۔ اگر ان پر خدا کا نام نہ لیں، یا خدا کے نام کے ساتھ کسی اور کا نام لے لیں یا کسی غیر اللہ کے نام پر ان کو ذبح کردیں تو یہ ان کی جان کی بھی بےحرمتی ہے اور ساتھ ہی جان کے خالق کی بھی۔ سوم یہ کہ اس سے شرک کا ایک بہت وسیع دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ ادیان کی تاریخ پر جن لوگوں کی نظر ہے وہ جانتے ہیں کہ جانوروں کی قبرانی، ان کی نذر اور ان کے چڑھاوے کو ابتدائے تاریخ سے عبادات میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس اہمیت کے سبب سے مشرکانہ مذاہب میں بھی اس کو بڑا فروغ حاصل ہوا۔ جو قوم بھی کسی غیر اللہ کی عقیدت و نیاز مندی میں مبتلا ہوئی اس نے مختلف شکلوں سے اس غیر اللہ کو راضی کرنے کے لیے جانوروں کی بھینٹ چڑھائی۔ قرآن میں شیطان کی جو دھمکی انسانوں کو گمراہ کرنے کے باب میں مذکور ہوئی ہے اس میں بھی، جیسا کہ ہم اس کے مقام میں واضح کرچکے ہیں، اس ذریعہ ضلالت کا شیطان نے خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ اسلام نے شرک کے ان تمام راستوں کو بند کردینے کے لیے جانوروں کی جانوں پر اللہ تعالیٰ کے نام کا قفل لگا دیا جس کو خدا کے نام کی کنجی کے سوا کسی اور کنجی سے کھولنا حرام قرار دے دیا گیا، اگر اس کنجی کے بغیر کسی اور کنجی سے اس کو کھولنے یا اس کو توڑنے کی کوشش کی گئی تو یہ کام بھی ناجائز اور جس جانور پر یہ ناجائز تصرف ہو اور وہ جانور بھی حرام۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں صرف یہی چیز ناجائز نہیں کہ کسی جانور کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا بلکہ یہ بھی ناجائز ہے کہ کسی جانور کو اللہ کا نام لیے بغیر ہی ذبح کردیا جائے۔ اس سے مستثنی صرف وہ صورت ہوسکتی ہے جس میں بھول چوک کو دخل ہو، اور یہ بھول چوک بھی معاف صرف اہل ایمان کے لیے ہے اس لیے کہ ان کے دل اور ارادے میں اللہ کا ایمان اور اس کا نام موجود ہوتا ہے۔ صرف کسی وقتی غفلت سے اس کے اظہار میں سہو ہوجاتا ہے۔
Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

کیا وہ جو مردہ تھا تو ہم نے اس کو زندہ کردیا اور ہم نے اس کو ایک روشنی بخشی جس کو لے کر وہ لوگوں میں چلتا ہے اس کے مانند ہوگا جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہے، ان سے نکلنے والا نہیں ؟ اسی طرح کافروں کی نظر میں ان کے اعمال کھبا دیے گئے ہیں

اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا الایہ، یہاں ‘ موت ’ سے مراد کفر کی زندگی اور حیات سے مراد ایمان کی زندگی ہے۔ نور سے مراد وہ کتاب ہے جس کا ذکر آیت 114، 119 میں گزرا جو اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے درمیان امتیاز اور حرام و حلال کی تفصیل کے لیے اتاری، ظلمات، سے مراد وہ ظنون و اوہام اور وہ خواہشات و بدعات ہیں جن کی طرف آیات 116، 119 میں اشارہ فرمایا ہے۔ اہل ایمان اور اہل کفر کی تمثیل : یہ اہل ایمان اور ان مشرکین کی تمثیل بیان ہوئی ہے کہ اہل ایمان کو اللہ نے کفر کی موت کے بعد ایمان کی زندگی بخشی ہے اور ان کو اپنی کتاب کی شکل میں ایک نور مبین عطا فرمایا ہے جس سے وہ خود بھی روشنی حاصل کر رہے ہیں، دوسروں کو بھی راہ دکھا رہے ہیں۔ کیا یہ لوگ ان لوگوں کے مانند ہوجائیں گے جن کی تمثیل یہ ہے کہ یہ اپنے سابق اوہام اور اپنی بدعات کی تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں اور ان سے نکلنے کا نام نہیں لیتے۔ اس تمثیل کے پیش کرنے سے مقصود مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہے کہ اب تم ان شیاطین جن و انس کی غوغا آرائیوں کی پروا نہ کرو۔ تم کو خدا نے زندگی بخشی ہے تو زندگی کا پیام لے کر آگے بڑھو۔ تمہیں روشنی عطا ہوئی ہے تو اس وشنی میں خود بھی چلو اور دوسروں کو بھی روشنی دکھاؤ۔ اب تمہارے لیے یہ زیبا نہیں کہ اندھیرے میں ٹھوکریں کھانے والوں کی خرافات پر کان دھرو۔ يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِمیں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو روشنی ملے تو اس کا حق یہ ہے کہ اس سے خود بھی رہنمائی حاصل کرے اور لوگوں میں بھی اس کو لے کر نکلے تاکہ جن کے اندر صلاحیت ہو وہ بھی اس سے فائدہ اٹھائیں۔ روشنی چھپا کر رکھنے کی چیز نہیں ہوتی بلکہ اونچی جگہ سر راہ رکھنے کی چیز ہوتی ہے۔ سیدنا مسیح نے اسی حکمت کو یوں سمجھایا ہے کہ جن کے پاس چراغ ہوتا ہے وہ پیمانہ کے نیچے ڈھانپ کے نہیں رکھتا بلکہ اونچی جگہ رکھتا ہے تاکہ اس کا اپنا گھر بھی روشن ہو اور دوسرے بھی اس سے راستہ پائیں۔ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، یعنی یہ اس تاریکی ہی میں پڑے رہنے پر جو بضد ہیں اور تمہاری دکھائی ہوئی روشنی سے وحشت زدہ ہو رہے ہیں اس سے تم دل برداشتہ نہ ہو، قانونِ قدرت یہی ہے کہ جو لوگ جس چیز کو پسند کرتے ہیں ان پر وہی چیز مسلط کردی جاتی ہے۔ اس مضمون کو آگے آیت 125 میں یوں واضح فرمایا ہے كَذٰلِكَ يَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَي الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ (اسی طرح اللہ ناپاکی مسلط کردیتا ہے ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے) اس قانون الٰہی پر سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم ختم قلوب کی بحث میں تفصیل سے گفتگو کرچکے ہیں۔
Ayah 6:123

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے سرغنوں کو ڈھیل دی کہ اس میں اپنی چالیں چل لیں اور چال وہ اپنے ہی ساتھ چلتے تھے لیکن ان کو اس کا احساس نہیں تھا

وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِيْ كُلِّ قَرْيَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِيْهَا لِيَمْكُرُوْا فِيْهَا، جعلنا یہاں امہلنا کے مفہوم میں ہے اور کذالک کا اشارہ اس صورت حال کی طرف ہے جس کا ذکر اوپر آیت 121 میں فرمایا ہے۔ یہ اسی سنت اللہ کا بیان کسی قدر مختلف انداز میں ہوا ہے جو اوپر آیت 112 میں بیان ہوچکی ہے مطلب یہ ہے کہ یہ شیاطین جن و انس اس دعوت کی مخالفت میں جو ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے ہیں یہ کوئی نادر واقعہ نہیں ہے۔ کسی بستی میں جب دعوت حق بلند ہوتی ہے تو وہاں جو باطل کے علمبردار ہوتے ہیں اور جن کا اس باطل سے مفاد وابستہ ہوتا ہے اسی طرح اپنی تمام چالوں کے ساتھ اس کو دبانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق ان کو بھی ایک خاص وقت تک ڈھیل دیتا ہے تاکہ جو کمائی وہ کرنا چاہتے ہیں کرلیں۔ وَمَا يَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ ، یہاں مضارع سے پہلے فعل ناقص محذوف ہے۔ یعنی وہ تو چالیں حق کے خلاف چلتے تھے لیکن یہ چالیں انہیں کے خلاف پڑیں۔ حق کی مخالفت کرنے والے حق کو نہیں بلکہ خود اپنے کو تباہ کرتے ہیں لیکن چونکہ ان کے سامنے ان کا انجام نہیں ہوتا اسی وجہ سے ان کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔ یہی حال قریش کے اکابر مجرمین کا ہے۔ یہ بھی انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور بالآخر انہی کے انجام کو پہنچیں گے لیکن ان کو اس کا احساس نہیں ہورہا ہے۔
Ayah 6:124

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس آتی کوئی آیت تو کہتے ہم تو ماننے کے نہیں جب تک ہم کو بھی وہی کچھ نہ ملے جو اللہ کے رسولوں کو ملا، اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ اپنا منصب رسالت کس کو بخشے، جو لوگ شرارت کر رہے ہیں اللہ کے ہاں ان کو ان کی اس چالبازی کی پاداش میں ذلت اور عذاب شدید نصیب ہوگا

یہ اس چال کی ایک مثال ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ مطلب یہ ہوا کہ جب ان کے پاس اللہ کی کوئی آیت، عام اس سے کہ وہ کوئی نشانی ہو یا کوئی ہدایت و تنبیہ، آتی تو وہ یہ کہتے کہ ہم تو اس وقت تک ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں جب تک ہمیں بھی وہ رسالت نہ ملے جس کے مدعی یہ رسول لوگ ہیں، آخر ان کو کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے تھے کہ انہیں خدا نے اپنا رسول بنایا اور ہمیں نظر انداز کردیا، در آنحالیکہ پشتہا پشت سے قیادت و سیادت اور دولت و امارت ہمارا حصہ ہے ؟ ٹھیک یہی بات، جیسا کہ قرآن میں تفصیل سے بیان ہوئی، قریش کے اکابر کہتے تھے۔ ان کو بھی وہی گھمنڈ تھا جو ان کے پیشرو مستکبرین اور مکذبین انبیاء کو تھا کہ اگر خدا کسی کو رسالت ہی دینے والا تھا تو کیا اس تاج کے لیے اس کو انہی (محمد ﷺ کا سر موزوں نظر آیا، آخر مکہ یا طائف کے کسی سردار پر اس کی نظر کیوں نہ پڑی ؟ ظاہر ہے کہ یہ بات جو وہ کہتے تھے تو محض چالبازی کے طور پر کہتے تھے، اس سے مقصود ان کا محض اپنی انانیت اور خود فریبی کے لیے ایک پردہ فراہم کرنا اور اپنے عوام کو بیوقوف بنانا ہوتا تھا۔ سادہ لوح عوام دنیوی اسباب و وسائل کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ وہ جن کو دنیا میں بڑا دیکھتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ خدا کے نزدیک بھی یہی بڑے ہوں گے۔ اس ذہن کے لوگ آسانی سے اس قسم کے چکموں میں آجاتے ہیں۔ اسی وجہ سے قرآن نے اس بات کو مکر سے تعبیر کیا ہے یعنی یہ ایک سیاسی۔۔۔ تھا۔ قریش کو منہ توڑ جواب : اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ، یہ ان مستکبرین کو جواب ہے اور گو لفظاً سخت نہیں ہے لیکن معناً بہت سخت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ منصب رسالت ایسی چیز نہیں ہے جس کا اہل ہر کس و ناکس بن جائے یہ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ یہ تاج وہ کس کے سر پر رکھے۔ یہ مخمل اور زربف کی جھول نہیں ہے جو بسا اوقات گدھوں پر بھی نظر آجاتی ہے بلکہ یہ خلعت یہی اور تشریف آسمانی ہے جو انہیں کو نصیب ہوتی ہے جن کا انتخاب اللہ تعالیٰ فرمائے۔ منصب نبوت اور نبی کا مقام : اس ٹکڑے سے جہاں یہ بات نکلتی ہے کہ نبوت و رسالت ایک موہبت ربانی اور ایک عطیہ الٰہی ہے جو صرف اسی کو حاصل ہوتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ اس کے لیے انتخاب فرمائے وہیں یہ بات بھی اس سے نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے انتخاب انہی کو فرماتا ہے جو اپنی اکتسابی صلاحیتوں اور خوبیوں کے اعتبار سے نوع انسانی کے گل سرسبد نخل فطرت کے بہترین ثمر اور کمال انسانیت کے مظہر اتم ہوتے ہیں۔rnۭسَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ : اجرموا میں اگرچہ ان کے وہ تمام جرائم اور ان کی وہ ساری چال بازیاں شامل ہیں جن کے وہ مرتکب ہوئے لیکن یہاں اس سے ان کے اس استکبار کی طرف خاص اشارہ ہو رہا ہے جس کا اظہار انہوں نے لن نومنحتی نوتی مثل ما اوتی رسل اللہ میں کیا اس استکبار کے تعلق سے ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں ذلت بھی ہے اور عذاب شدید بھی۔
Ayah 6:125

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

اللہ جس کسی کو ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کے سینہ کو بالکل تنگ کردیتا ہے گویا اسے آسمان میں چڑھنا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح اللہ ناپاکی مسلط کردیتا ہے ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے۔

فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ الایۃ۔ حرج، جھاڑیوں سے بھری ہوئی تنگ جگہ کو کہتے ہیں۔ یہاں یہ ‘ ضیّق ’ کے بعد اس کی تاکید مزید کے طور پر آیا، تصعد، بہ تکلف اور بہ مشقت کسی بلندی پر چرھنے کے لیے معروف ہے۔ لفظ سما جس طرح آسمان اور بادلوں کے لیے آتا ہے اسی طرح فضا اور اس کی بلندی کے لیے بھی آتا ہے مثلاً کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ اصلہا ثابت و فرعہا فی السماء : کلمہ طیبہ کی مثال ایک بار آور درخت کی ہے جس کی جر زمین میں گہری اتری ہوئی ہو اور اس کی شاخین فضا میں پھیلی ہوئی ہوں ، ایمان سے گریز کی اصلی علت : اب یہ اصل علت بیان ہو رہی ہے ان کے ایمان نہ لانے کی، وہ یہ ہے کہ یہ اللہ کی توفیق ہدایت سے محروم ہوگئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ساری سخن سازی اور تمام چالبازیاں تو محض ظاہر کا پردہ ہیں۔ اصل چیز جو ان کے قبول اسلام میں مانع ہے کفر و شرک کی وہ نجاست ہے جس کے ردے پر ردے ان کے دلوں پر جم گئے ہیں، جس کے سبب سے ان کو اسلام کا راستہ ایک کٹھن چڑھائی معلوم ہوتا ہے، جس کے تصور سے ان کا سینہ بھنچتا اور دم اکھڑتا ہے کہ گویا ان کو ایک بلند چڑھائی چڑھنی پڑ رہی ہے، جن کے دلوں پر یہ نجاست جم جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے سینے اسلام کے لیے تنگ کردیتا ہے، جیسا کہ اوپر کذلک زین للکفرین ماکانوا یعملون کے الفاط سے اشارہ فرمایا، اسلام کے لیے سینے کھلتے ان کے ہیں جن کے سینے اس قسم کے جھاڑ جھنکاڑ سے صاف ہوتے ہیں۔ یہ چیز چونکہ بالکل سنت الٰہی کے مطابق واقع ہوتی ہے، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوب اپنی طرف فرمایا ہے۔ اس کو اس روشنی میں سمجھنا چاہیے جس روشنی میں اس کی اس کی وضاحت ہم اس کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات میں کرچکے ہیں۔
Ayah 6:126

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور یہ تیرے رب کی راہ ہے سیدھی، ہم نے اپنی آیتیں تفصیل سے بیان کردی ہیں ان لوگوں کے لیے جو یاد دہانی حاصل کریں

ھٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِـيْمًا الایہ : چونکہ اشارہ کے اندر فعل کے معنی پائے جاتے ہیں اس وجہ سے مستقیما یہاں صراط سے حال پڑا ہوا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ اسلام ہے تو خدا کی کھولی ہوئی سیدھی راہ، فطرت کی صراط مستقیم، نہ اس میں پیچ و خم ہیں، نہ چڑھائیاں اور گھاٹیاں لیکن جنہوں نے اپنے اوپر اتنی غیر فطری نجاستیں لاد رکھی ہوں ان کو یہ راہ دشوار گزار معلوم ہو رہی ہے، قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْنَ ، یعنی اس کے دین فطرت اور ملت ابراہیم ہونے کے سارے دلائل تفصیل سے ہم نے بیان کردیے ہیں لیکن دلائل کار آمد ان کے لیے ہوتے ہیں جن کے اندر یاد دہانی حاصل کرنے اور سوچنے سمجھنے کا ارادہ پایا جاتا ہے۔
Ayah 6:127

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

ان کے لیے ان کے رب کے پاس سکھ کا گھر ہے اور وہ ان کا کارساز ہے ان کے اعمال کے صلہ میں

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَهُوَ وَلِيُّهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، یہ صلہ بیان ہوا ہے ان لوگوں کا جن کے سینے اللہ تعالیٰ اسلام کے لیے کھولتا ہے۔ فرمایا کہ ان کے لیے اس اسلام کے صلہ میں دار السلام، سکھ اور چین کا گھر ہوگا اور اللہ ان کا ساتھی ہوگا جب کہ اسلام کے معاندین کے لیے ذلت اور عذاب کا گھر ہوگا اور چین کا گھر ہوگا اور اللہ ان کا ساتھی ہوگا جب کہ اسلام کے معاندین کے لیے ذلت اور عذاب کا گھر ہوگا اور ان کے ساتھ وہ شیاطین جن و انس ہوں گے جن کے القائے شیطانی کو قبول کر کے یہ گمراہ ہوئے۔ یہ ٹکڑا اوپر والے ٹکڑے سیصیب الذین اجرموا کے بالکل بالمقابل ہے۔
Ayah 6:128

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور اس دن کا دھیان کرو جس دن وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا، کہے گا اے جنوں کے گروہ تم نے تو انسانوں میں بہتوں کو اپنا لیا اور انسانوں میں سے ان کے ساتھی کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے ایک دوسرے کو استعمال کیا اور ہم پہنچ گئے اپنی اس مدت کو جو تو نے ہمارے لیے ٹھہرائی۔ فرمائے گا تمہارا ٹھکانا اب جہنم ہے ہمیشہ کے لیے اس میں رہو مگر جو اللہ چاہے، بیشک تیرا رب حکیم وعلیم ہے

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا، ھم سے مراد وہی اکابر مجرمین ہیں جن کا ذکر آیات 123 تا 124 میں گزرا اور جمیعا کی تاکید اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ شیاطین انس کے ساتھ ساتھ وہ شیاطین الجن بھی جمع کیے جائیں گے جن کے القا والہام کی انہوں نے پیروی کی، جیسا کہ اوپر آیت 112 سے ان کا ذکر چلا آ رہا ہے، ان سب کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جمع کر کے شیاطین الجن کو مخاطب کر کے فرمائے گا کہ يٰمَعْشَرَالْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ (اے جنوں کے گروہ تم نے تو انسانوں میں سے بہتوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا) ظاہر ہے کہ یہاں جنوں کے گروہ، سے مراد جنوں کی پوری امت نہیں ہے بلکہ ان کے اندر کا وہی گروہ مخاطب ہے جس نے اپنے مرشد و پیشوا ابلیس کی پیروی کی جو خود بھی، جیسا کہ قرآن سے ثابت ہے، جنوں ہی میں سے تھا اور جس نے آدم کو دھوکا دیا اور سجدے کے حکم کی تعمیل سے انکار کرتے ہوئے بڑے فخر سے دعوی کیا تھا کہ ارایتک ھذا الذی کر مت علی لئن اخرتن الی یوم القیامۃ لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا : بھلا یہ ہے وہ جس کو تو نے میرے اوپر فضیلت بخشی ہے، اگر تو نے مجھے قیامت کے لیے مہلت دی تو میں اس کی ساری ذریت کو چٹ کر جاؤں گا، صرف تھوڑے ہی مجھ سے بچ رہیں گے۔ دوسرے مقام میں ہے قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لأقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ (16) ثُمَّ لآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ وَلا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ (17) (میں تیری سیدھی راہ پر ان کی گھات میں بیٹھوں گا، پھر میں ان کے آگے سے، ان کے پیچھے سے، ان کے داہنے سے، ان کے بائیں سے ان کی راہ ماروں گا، اور تو ان میں سے اکثر کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا)۔ یہاں اصحاب ذوق آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ استکثرتم کے لفظ میں نہایت لطیف تلمیح ہے ابلیس کے قول ولا تجد اکثرہم شاکرین اور لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا۔ یعنی اللہ تعالیٰ ابلیس کے ان فرزندان معنوں کو خطاب کر کے فرمائے گا کہ تم نے تو اپنے پیشوا ابلیس کا مشن بڑی کامیابی سے پورا کیا کہ ذریت آدم میں سے بہتوں کو اپنے فتراک ضلالت کا نخچیر بنا لیا اور بڑی سعادت مند نکلی یہ اولاد آدم کہ اس سادہ لوحی کے ساتھ تمہارے دام فریب میں پھنس گئی۔ وَقَالَ اَوْلِيٰۗـؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّبَلَغْنَآ اَجَلَنَا الَّذِيْٓ اَجَّلْتَ لَنَا : انسانوں میں سے جو لوگ ان شیاطین جن کے ساتھی بنے ہوں گے، وہ اس پر بولیں گے کہ اے ہمارے پوردگار ہم نے ایک دوسرے کی معیت ورفاقت سے دنیا میں خوب حظ اٹھایا یہاں تک کہ اس یوم الحساب کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا، حظ اٹھانے سے مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے آلہ کار بنے، ہم نے ان کی پوجا کی، ان کے تھانوں پر نذریں اور قربانیاں پیش کیں اور ان کے کیے پر حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنایا، اسی طرح ہمارے کاہنوں، ساحروں اور سیانوں نے ان کو اپنے مقاصد مزعومہ کے لیے طرح طرح سے استعمال کیا یہاں تک کہ یہ دن آگیا اور ہمیں اپنے اس عمل کے انجام پر غور کرنے کی توفیق نہ ملی۔ یہ واضح رہے کہ عرب جاہلیت میں جنوں کو عربوں کی مذہبی اور سماجی زندگی میں بڑا دخل ہوگیا تھا، کہانت اور ساحری کی ساری گرم بازاری تو ان کے دم قدم سے تھی ہی، شاعری تک کے متعلق ان کا خیال یہ تھا کہ یہ جنات الہام کرتے ہیں اور ہر بڑے شاعر کے ساتھ کوئی نہ کوئی جن ضرور ہوتا ہے۔ اسی بنا پر وہ آنحضرت ﷺ کے متعلق بھی یہ کہتے تھے کہ ان کے ساتھ کوئی جن ہے۔ ہر وادی کے الگ الگ جن مانے جاتے تھے اور سفر، حضرت، جنگ، صلح اور فتح کے معاملات میں ان کے تصرفات کا بڑا دخل سمجھا جاتا تھا۔ بلاغت کا ایک نکتہ قابل لحاظ ہے۔ شیاطین انس یہ بات بطور اعتراف جرم اور بقصد اظہار ندامت کہیں گے اور یہ تمہید باندھ کر وہ اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کرنا چاہیں گے لیکن اسلوب کلام صاف شہادت دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بات تمہید پوری ہونے سے پہلے ہی کاٹ دے گا اور ان کو معذرت اور درخواست معافی کا موقع دیے بگیر ہی اپنا فیصلہ سنا دے گا کہ النار مثواکم خلدین فیہا، بس اب تمہارا ٹھکانا یہی دوزخ ہے جس میں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، اب باتیں بنانے کی کوشش نہ کرو، عذر، معافی، توبہ اور اصلاح سب کے دروازے بند ہوچکے ہیں۔ آخرت کا خلود مقید بمشیت الٰہی ہوگا : یہاں ایک اور چیز بھی قابل غور ہے وہ یہ کہ خالدین فیہا کے بعد الا ماشاء اللہ کے الفاط بھی ہیں جس سے بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ خلود مقید بمشیت الٰہی ہے۔ اسی طرح کا اسلوب سورة ہود میں بھی ہے۔ خالدین فیہا مادامت السموات والارض الا ماشاء ربک (وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان وز میں قائم رہیں، مگر جو تیرا رب چاہے) اس استثنا کے باب میں ہمارے ارباب تاویل کو تردد پیش آیا ہے اس لیے کہ اس سے بظاہر یہ بات نکلتی ہے کہ خلود اس معنی میں خلود نہیں ہے جس معنی میں ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی کوئی نہایت ہی نہیں ہے بلکہ وہ طول مدت کے مفہوم میں ہے، اگرچہ یہ مدت کتنی ہی طویل ہو، بعض لوگوں نے اس سے بچنے کے خیال سے ‘ ما ’ کو ‘ من ’ کے معنی میں لیا ہے لیکن اول تو یہ عربیت کے خلاف ہے، ثانیاً اس سے بھی وہ مقصد حاصل نہیں ہوتا جو وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اس لیے کہ یہ استثنا بہرحال انہی مستحقین خلود ہی میں سے ہوگا جن کا ذکر ہے تو پھر فرق کیا ہوا، خلود تو پھر بھی غیر منہی خلود کے معنی میں نہیں رہا، اگرچہ انہی کے حد تک سہی جن کو مشیت الہی اس سے مستثنی قرار دے ؟ میرے نزدیک ماشاء اللہ اور ماشاء ربک کی قید یہاں اس خلود کے منتہی ہونے کو ظاہر نہیں کرتی بلکہ اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ ان مجرمین کے لیے اس عذاب نار میں گرفتار ہوجانے کے بعد امید کے سارے دروازے بند ہوجائیں گے، کسی کی سعی، کسی کی سفارش کسی کا زور، کسی کی فریاد کچھ کارگر نہ ہوگی، اختیار اور ارادے کی ساری حدیں ختم ہوجائیں گی، توبہ اور اصلاح اور حسرت و ندامت کی مہلتیں گزر جائٰں گی۔ واحد چیز جو کار فرما ہوگی وہ خدا کی مشیت ہے اور اپنی مشیت کے بھیدوں کو وہی جانتا ہے۔ وہ فعال لما یرید اور حکیم وعلیم ہے۔ قرآن سے جو بات نکلتی ہے وہ تو اسی حد تک ہے۔ جن لوگوں نے اس حد سے آگے بڑھ کر اس سے کچھ اور نتائج نکالنے کی کوشش کی ہے ان کے نتائج کو ان کے دلائل کی کسوٹی پر جانچیے، قرآن پر ان کی ذمہ داری ڈالنا صحیح نہیں ہے۔ ویسے یہ امر یاد رہے کہ خلود اور ابدیت کے مسائل ایسے نہیں ہیں جن کا احاطہ انسان کا محدود علم کرسکتے۔ اگر انسان ان چیزوں کے چکر میں پڑے تو بات متشابہات کے حدود میں نکل جاتی ہے جن میں پر نے سے ہم کو روکا گیا ہے، اس وجہ سے سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ جتنی بات خدا نے بتا دی ہے اس کو مانیے اور اس کے آگے کے مراححل کو خدا کے علم کے حوالہ کیجیے۔
Ayah 6:129

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اسی طرح ہم مسطل کردیتے ہیں ظالموں کو ایک دوسرے پر بسبب ان کی کرتوتوں کے

وَكَذٰلِكَ نُوَلِّيْ بَعْضَ الظّٰلِمِيْنَ بَعْضًا الایہ، یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف جو اوپر یمعشر الجن قد اسکتثرتم من الانس کے ٹکڑے میں مذکور ہوئی اور ولی، تولیۃ فلانا الامر کے معنی ہیں فلاں کو اس پر حاکم، والی اور قابض بنا دیا اور اس پر مسلط کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جو شیاطین جن نے بیشمار انسانوں پر اپنا تسلط جما لیا تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان شیاطین کو انسانوں پر اختیار ملا ہوا تھا بلکہ اس کا سبب خود ان کے اعمال ہوئے ہیں۔ انہوں نے خدا کی ہدایت چھوڑ کر اپنی خواہشات و بدعات کی پیروی کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ شیطان کے پیرو بن گئے اور اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ ہے کہ جو لوگ شیاطین کے پیرو بن جاتے ہیں ان پر وہ شیاطین کو مسلط کردیتا ہے۔ ظالمین سے مراد یہاں کفر و شرک کی راہ اختیار کرنے والے ہیں۔ یہ مضمون پوری تفصیل سے پیچھے بھی گزر چکا ہے اور آگے بھی مختلف شکلوں میں بیان ہوگا۔