Ayah 6:90اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ الایۃ، اقتدہ، میں ‘ ہ ’ وقفہ اور سکتہ کی ہے۔ فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی ہدایت سرفراز فرمایا تو تم انہی کے نقش قدم پر چلو اور انہی کی ہدایت کی پیروی کرو۔ رہے یہ لوگ جو مدعی تو ہیں۔ ابراہیم کے وارث ہونے کے لیلکن پیروی کر رہے ہیں شیطان کی اور تمہاری بات سننے کے لیے تیار نہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو، ان سے کہہ دو کہ میں اس پر کوئی معاوضہ تو تم سے مانگ نہیں رہا ہوں کہ تم اس کا بوجھ محسوس کر رہے ہو۔ میں نے اپنے رب سے مفت پایا ہے، مفت بانٹ رہا ہوں۔ اگر قبول کروگے تو تمہارا ہی نفع ہے، رد کردوگے تو خود محروم رہوگے۔ یہ اللہ کے دین کی دعوت ہے، یہ کوئی تجارت اور دکانداری نہیں کہ تم گاہک نہ بنے تو میرا کاروبار بیٹھ جائے گا۔ میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے۔ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰي لِلْعٰلَمِيْنَ میں ‘ ھُوَ ’ کا مرجع قرآن ہے اور یہ اسی مضمون کی مزید توضیح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن تو محض لوگوں کے لیے ایک تذکیر اور ایک یاد دہانی ہے۔ پیغمبر نے اگر یہ یاد دہانی پہنچا دی تو وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوا۔ اگر لوگ اس کو قبول نہیں کرتے تو اس کا انجام وہ خود دیکھیں گے۔ پیغمبر پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ لوگ اس کو قبول ہی کرلیں۔ قرآن کے لیے ذکریٰ کے لفظ سے دو حقیقتوں کی طرف اشارہ ہو ہر ہا ہے۔ ایک تو اس حقیقت کی طرف کہ وہ جو کچھ پیش کر رہا ہے وہ کوئی اوپر اور انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ انہی حقائق کی یاد دہانی ہے جو انسانی فطرت کے اندر ودیعت ہیں لیکن لوگوں نے ان کو اپنی خواہشات و بدعات کے نیچے دبادیا ہے۔ دوسرے اس حقیقت کی طرف کہ یہ اسی ہدایت الٰہی کی یاد دہانی کرہا ہے جس کو نوح، ابراہیم اور تمام انبیا لے کر آئے لیکن ان کے ساتھ نسبت کے مدیوں نے اس ہدایت الٰہی کی جگہ مختلف ناموں سے مختلف ضلالتیں ایجاد کرلیں اور نہی ضلالتوں کو اپنے بزرگوں کا دین سمجھ بیٹھے۔ قرآن اپنی اس تذکیر سے تاریخ کے فراموش کردہ اوراق کو بھی یاد دلا رہا ہے اور فطرت کے فراموش کردہ اسباق کو بھی۔ پس جس کا جی چاہے اس سے فائدہ اٹھائے۔
Ayah 6:91فصل 113: اگلی آیات 91 تا 94: اوپر بیان ہوا کہ قرآن، توحید اور اسلام کی جو دعوت دے رہا ہے یہ تمام انبیا کی مشترک دعوت ہے۔ جو لوگ اس کی تکذیب کر رہے ہیں یہ ان کی اپنی محرومی و بدقسمتی ہے۔ اب آگے چند آیتوں میں ان تکذیب کرنے والوں کے رویہ پر تبصرہ فرمایا ہے اور ان کے اقوال کا حوالہ دے کر ان کی لغویت واضح کی ہے۔ ان تکذیب کرنے والوں میں پیش پیش تو قدرتی طور پر رؤسائے مکہ تھے لیکن ابتدا ہی سے یہود نے ان کی پیٹھ ٹھونکنی شروع کردی تھی اس لیے کہ نبی ﷺ کی دعوت کے فروغ میں اصلی خطرہ وہ اپنے ہی لیے سمجھتے تھے۔ ان لوگوں کے ذہن میں بات تو یہ بسی ہوئی تھی کہ نبوت رسالت ان کے خاندان کا اجارہ ہے، اگر کوئی نبی آنے والا ہی ہے تو ابنی اسرائیل میں آئے گا، اس خانوادہ سے باہر کیسے آسکتا ہے۔ اب جو یہ صورت حال ان کے سامنے آئی تو سخت کش مکش میں پڑگئے کہ اس خطرے کو کیسے روکیں۔ غیر جانبدار بن کے بیٹھے رہنا ممکن نہیں تھا لیکن مخالفت کریں تو کس انداز سے کریں۔ اگر یہ بات کہیں کہ نبوت و رسالت ان کے خاندان کا حصہ ہے اور تورات کی موجودگی میں اب کسی اور قرآن و کتاب کی ضروری باقی نہیں رہی تو اندیشہ تھا کہ اس سے عربوں کی حمیت بھڑکے گی اور عجب نہیں کہ اس جوش میں وہ محمد ﷺ کی حمایت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ اس اندیشے کی بنا پر انہوں نے اپنے دل کی بات تو دل میں رکھی لیکن آنحضرت ﷺ کے مخالفین کو شہ دینے کے لیے یوں کہنا شروع کردیا کہ جو بھی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس پر خدا نے کوئی کتاب اتاری ہے بالکل برخود غلط ہے۔ خدا نے کسی پر بھی کوئی چیز نہیں اتاری ہے۔ یہ بات وہ کہتے تو تھے اپنے مخصوص ذہنی تحفظ کے ساتھ ہی لیکن اس سیاسی مصلحت سے، جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا، وہ اس کو ایک عام کلیہ کے رنگ میں پیش کرتے تھے۔ قرآن نے یہاں ان کی یہ شرارت بھی بےنقاب کی اور قریش کے ان متکبرین کو بھی جواب دیا جو محض اپنے غرور سیادت میں یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ ان کے حلقے سے باہر بھی کوئی شخص ایسا ہوسکتا ہے جس کو خدا کوئی شرف و عزت بخش سکتا ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ ۭ۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ قول کہ“ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نہیں اتاری ہے ”یہود کا ہے۔ اگرچہ ان کے ذہن میں تو بات یہ رہی ہوگی کہ اب موسیٰ کی کتاب اور ان کی شریعت کے بعد کسی نئی کتاب و شریعت کی ضرورت باقی نہیں رہی لیکن یوں صاف صاف بات کہنے میں عربوں کی قومی حمیت کے بھڑکنے کا، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اندیشہ تھا اس وجہ سے انہوں نے اس پہلو کو بچاتے ہوئے کہہ دیا کہ خدا نے کسی پر بھی کچھ نہیں اتارا ہے کہ اپنا مقصد بھی حاصل ہوجائے اور کسی کو کوئی بدگمانی بھی نہ ہو، یہاں جواب میں ان کے قول کا ظاہر اور باطنی دونوں ہی پہلو ملحوظ ہے۔
پہلے ان کے قول کے ظاہر الفاظ پر گرفت فرمائی اور اس کی تمہید یوں اٹھائی کہ انہوں نے یہ بات کہہ کر خدا کی قدر دانی کا کچھ اچھا ثبوت نہیں دیا۔ اگر یہ بات امی عرب کہتے تو ان کے لیے کچھ عذر ہوسکتا تھا کہ کتاب و شریعت سے نا آشنا لوگ ہیں اس وجہ سے ایک عامیانہ بات کہہ گزرے۔ لیکن جب یہ بات ان لوگوں نے کسی جو تمام نبیوں اور رسولوں کے وارث اور تمام کتاب و شریعت کے حامل ہونے کے مدعی ہیں تو ثابت ہوا کہ خدا شناسی کے ان مدعیوں نے خدا کو بہت کم پہچانا ہے۔ ورنہ سوچنے کی بات ہے کہ جس خدا نے انسان کے اندر ودیعت کردہ ہر طلب اور ہر تقاضے کا بہتر سے بہتر جواب مہیا کیا آخر وہ اس کے سب سے قوی داعیہ، طلب ہدایت، ہی کی تسکین و تسلی کا سامان کیوں نہ کرتا ؟ اس نے ہمیں پیاس دی تو اس کی تسکین کے لیے زمین کے اندر بھی پانی سوتیں جاری کردیں اور آسمان سے بھی اپنی رحمت کی گھٹائیں برسائیں پھر اس خدا کے متعلق یہ کہنا کہ اس نے کسی پر اپنی ہدایت و شریعت نہیں اتاری، ایک ایسی بات ہے جو وہی کہہ سکتے ہیں جو نہ خدا کی صفتوں سے واقف ہوں اور نہ اس کے ان افضال و عنایات سے جن کے مور دپشتہا پشت سے وہ خود رہ چکے ہیں۔
قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاۗءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ۔ تمہید کے بعد اب یہ ان سے سوال کہ اگر خدا نے کسی بشر پر کوئی چیز نہیں اتاری تو یہ بتائیں کہ وہ کتاب کس نے اتاری جس کو موسیٰ لے کر آئے اور جو لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت بن کر نازل ہوئی۔ اس کے بعد تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَهَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا (جس کو تم ورق ورق کر کے کچھ کو ظاہر کرتے ہو اور زیادہ کو چھپاتے ہو) فرما کر ان کی اس ناقدری کا بھی اظہار فرما دیا جو انہوں نے اس کتاب کی کی اور اس سے ضمناً ان کے مذکورہ بالا قول کے باطنی پہلو کا بھی ایک جواب ہوگیا کہ اگر انہوں نے یہ بات یہ پیش نظر رکھ کر کہی ہے کہ اب موسیٰ کی کتاب کے بعد کسی اور کتاب و شریعت کی ضرورت نہیں ہے تو ان کو یہ کہنے کا بھی حق نہیں ہے اس لیے کہ انہوں نے اس کتاب کی جو قدر کی ہے وہ یہ ہے کہ اس کو ورق ورق کر رکھا ہے، اس کے کچھ حصہ کو تو یہ ظاہر کرتے ہیں اور زیادہ حصے کو چھپاتے ہی تو جو چیز روشنی اور ہدایت بن کر آئی تھی اس کے ساتھ انہوں نے جب یہ سلوک کیا تو آخر خدا اپنی مخلوق کو تاریکی میں بھٹکنے کے لیے کس طرح چھوڑے رکھتا اور وہ روشنی و ہدایت ان کے لیے کیوں نہ نازل فرماتا جو ان کو تاریکی سے نکالے اور گمراہی سے نجات دے۔
قراطیس، قرطاس کی جمع ہے ، ‘ قرطاس ’ لکھنے کے صحیفہ اور ورق کو کہتے ہیں، عام اس سے کہ وہ کسی چیز سے بھی بنایا گیا ہو۔ اس سے وہ تمام چیزیں مراد ہوں گی جو اس زمانے میں لکھنے کے کام آتی تھیں۔ یہ بات یہاں ملحوظ رہے کہ یہود نے تورات اس شکل میں جمع نہیں کی تھی جس شکل میں مسلمانوں نے قرآن کو مابین الدفتین جمع کیا بلکہ انہوں نے اس کو مختلف اجزا میں تقسیم کرلیا تھا اور ہر جزو کو الگ الگ قلمبند کیا تھا، اس طرح ان کو اس کی ان تعلیمات اور پیشین گوئیوں کے چھپانے کا آسانی سے موقع مل جاتا تھا جن کو وہ اپنی خواہشات اور مصالح کے خلاف پاتے۔ جب ایک کتاب کے اجزا الگ الگ کر اسوں کی شکل میں ہوں اور اس پر اجارہ داری بھی مخصوص ایک گروہ کی ہو تو وہ بڑی آسانی سے یہ کرسکتا ہے کہ اس کے جس جزو کو چاہے اپنے مخصوس حلقے سے باہر کے لوگوں کے علم میں نہ آنے دے۔ قرآن نے یہود پر کتاب الٰہی کے اخفا کا جو جرم عائد کیا ہے اس کی ایک نہایت سنگین شکل یہ بھی تھی اور قرآن کے اندازِ بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کتاب الٰہی کا زیادہ حصہ یہود نے چھپا لیا تھا، صرف اس کا تھوڑا حصہ وہ ظاہر کرتے تھے اس لیے کہ تُبْدُوْنَهَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا کے الفاظ سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ جو حصہ چھپایا جاتا تھا وہ زیادہ تھا، اس کے معنی لازماً یہ بھی ہوئے کہ جو حصہ ظاہر کیا جاتا تھا وہ تھوڑا تھا۔ اپنی روشنی اور ہدایت اللہ تعالیٰ اس لیے عطا فرماتا ہے کہ لوگ اس سے رہنمائی حاصل کریں نہ اس لیے کہ وہ ڈھانک کے رکھی جائے۔ حضرت مسیح اور بعض دوسرے نبیوں نے بھی یہود کے اس اخفائے کتاب پر ان کی سرزنش کی ہے کہ تم کو چراغ اس لیے دیا گیا تھا کہ اس کو طاق پر رکھو کہ پورے گھر میں روشنی پھیلے لیکن تم نے اس کو پیمانے کے نیچے ڈھاک کے رکھا ہے۔
وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلَآ اٰبَاۗؤُكُمْ ، یہ جملہ بھی معناً اوپر کے استفہایہ جملہ ہی پر عطف ہے یعنی وہ کون ہے جس نے موسیٰ کو کتاب دی جس کے ذریعہ سے تم کو وہ باتیں بتائی اور سکھائی گئیں جن کا عل نہ تم کو تھا اور نہ تمہارے باپ دادا کو تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان تمام احسانات سے واقف ہوتے ہوئے اگر کہتے ہو کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نہیں اتاری تو یہ دیدہ دلیری کی آخری حد ہے۔
قُلِ اللّٰهُ ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِيْ خَوْضِهِمْ يَلْعَبُوْنَ ، یعنی اگر یہ بھول گئے ہیں تو انہیں یہ بتا دو کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کا کیا ہوا ہے اور بتادینے کے بعد ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو کہ جس کھیل میں یہ لگے ہوئے وہ کھیل لیں تاآنکہ خدا ان کے باب میں اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔
Ayah 6:92وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، اوپر کا جواب تو، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، ان کے قول کے ظاہری پہلو کو سامنے رکھ کر تھا، اب یہ ان کے ذہن کے اندر چھپے ہوئے خیال کو سامنے رکھ کر جواب دیا جا رہا ہے کہ تورات کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب کیوں نازل فرمائی ؟ اس کے نزول سے کیا کمی پوری ہوئی ؟ اوپر والی آیت میں ضمناً یہ اشارہ ہوچکا ہے کہ تورات پر ناز کرنے والے مدعیوں نے تورات کے ساتھ کیا سلوک کیا لیکن وہ ایک ضمنی جواب تھا۔ اب یہ قرآن کی مستقل حیثیت اور مستقل ضرورت واضح فرمائی گئی ہے کہ یہ کتاب کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جو ان کے علم میں پہلی بار آئی ہو۔ یہ تو وہ کتاب مبارک ہے جس کی بشارت ابراہیم کو دی گئی اور جس کی پیشین گوئی موسیٰ اور مسیح سب نے کی ہے۔ یہ اسی بشارت ابراہیمی کا ظہور اور انہی پیشینگوئیوں کی تصدیق ہے جو پہلے سے موجود ہیں۔ یہاں قرآن کے لیے ‘ مبارک ’ اور ‘ مصدق ’ کے الفاظ اس سند کو ظاہر کر رہے ہیں جو پچھلے صحیفوں میں اس کی موجود ہے۔ ہم بقرہ اور آل عمران کی تفسیر میں حوالے نقل کر آئے ہیں۔ مبارک، کا لفظ اس عال گیر برکت کی طرف اشارہ کر رہا ہے جس کی بشارت حضرت ابراہیم ؑ کو دی گئی تھی کہ اس کا ظہور حضرت اسمعیل کی نسل سے پیدا ہونے والے نبی خاتم ﷺ کے ذریعہ سے ہوگا۔ پیدائش باب 24 میں ہے“ خداوند فرماتا ہے، اس لیے کہ تو نے ایسا کام کیا اور اپن بیٹا اپنا اکلوتا ہی بیٹا دریغ نہ رکھا میں قسم کھائی کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا، اور تیری نسل سے زمین کی ساری قومیں برکت پائیں گی کیونکہ تو نے میری بات مانی ”۔
ہم بقرہ کی تفسیر میں واضح کرچکے ہیں کہ یہاں زمین کی ساری قوموں کے لیے جس برکت کی بشارت ہے وہ آنحضرت ﷺ کی بعثت اور قرآن کے نزول سے پوری ہوئی۔ ‘ مصدق ’ کے لفظ پر ہم ایک سے زیادہ مقامات پر بحث کر کے بتا چکے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ قرآن ان پیشین گوئیوں کا مصداق ہے جو اس کے متعلق پچھلے صحیفوں میں موجود ہیں۔ چناچہ تثنیہ باب 18 کے حوالہ سے حضرت موسیٰ کی پیشین گوئی اور یوحنا باب 16 کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ کی پیشینگوئی تفسیر سورة بقرہ میں نقل ہوچکی ہے۔ ان پیشینگوئیوں سے اس کتاب کی خصوصیات پر بھی روشنی پڑتی ہے اور وہ ضرورت بھی واضح ہوتی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے اتارنے کا پہلے سے وعدہ فرمایا۔
وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا، اس کا عطف اس مفہوم پر ہے جو پہلے جملہ سے نکلتا ہے یعنی اس کو ہم نے ایک تو اس مقصد سے اتارا کہ یہ اس عالم گیر رحمت و برکت کی بشارت ہو جس کی پیشین گوئی پہلے سے آسمانی صحیفوں میں موجود ہے۔ دوسرے اس لیے کہ تم اس کے ذریعے سے ام القری اور اس کے اردگرد کے لوگوں پر اللہ کی حجت تمام اور انہیں اچھی طرح آگاہ کردو کہ انہوں نے اس کتاب کو اور تمہاری رسالت کو اگر قبول نہ کیا تو وہ اللہ کے فیصلہ کن عذاب کی زد میں آجائیں گے۔ قرآن کی یہ ضرورت قریش کے تعلق سے واضح کی گئی ہے اور یہ ضرورت بھی ایک ایسی ضرورت تھی جس کا پورا ہونا ضروری تھا، قریش بنی اسمعیل کے سربراہ تھے اور ان کی مزرکزی آبادی مکہ تھی۔ نبی اسمعیل کتاب و نبوت سے ناآشنا امی لوگ تھے۔ حضرت ابراہیم سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ اسمعیل کی نسل سے وہ ایک رسول اٹھائے گا جس سے تمام دنیا کی قومیں برکت پائیں گی۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے یہ وعدہ پورا ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جس قوم کے اندر رسول کی بعثت ہوتی ہے وہ قوم اگر اس کو قبول کرلیتی ہے تو وہ قوموں کی امامت کے منصب پر سرفراز ہوتی ہے اور اگر اس کو رد کردیتی ہے تو چونکہ اس پر اللہ کی حجت پوری ہوچکتی ہے، وہ تباہ کردی جاتی ہے۔ اس اتمام حجت کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو نبی اسمعیل کے اندر مبعوث فرمایا۔ رسولوں کے باب میں سنت اللہ یہ بھی ہے کہ وہ جس قوم کے اندر بھیجے جاتے ہیں خاندانی اعتبار سے اس کے اشراف میں سے ہوتے ہیں اور وہ اپنی دعوت و انذار میں اول مخاطب قوم کے اعیان و اکابر ہی کو بناتے ہیں اسی وجہ سے آں حضرت ﷺ کی بعثت مکہ میں ہوئی جو اہل عرب کا دینی و سیاسی مرکز اور قریش کا مستقر تھا۔ اسی اعتبار سے اس کو یہاں ام القری کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔rnۭوَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ الایۃ، یہ اشارہ صالحین اہل کتاب کی طرف سے مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہی لوگ اس کتاب پر ایمان لائیں گے رہے وہ لوگ جن کے اندر سرے سے آخرت کا کوئی خوف ہی باقی نہیں رہ گیا ہے ان سے کسی خیر نہ رکھو۔ یہ لوگ اسی طرح کی کج بحثیوں میں پڑے رہیں گے جن میں پڑے ہوئے ہیں۔ وَهُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ ، یہ خوف آخرت رکھنے والوں کی شناخت بتا دی کہ جن کے اندر آخرت کا خوف موجود ہے وہی ہیں جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ بعینہ یہی مضمون بقرہ کے شروع میں بھی گزر چکا ہے اور قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی بیان ہوا ہے۔
Ayah 6:93وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا، اہل کتاب کے مفسدین کے بعد مشرکین مکہ کے لیڈروں کی طرف توجہ فرمائی اور جو ہفوات وہ قرآن کی نسبت بکتے تھے ان کا مختصراً حوالہ دینے کے بعد ان کے انجام کی طرف ان کو توجہ دلائی۔ ان کی باتیں چونکہ بالکل لا یعنی محض ان کے کبر و غرور کا مظاہرہ تھیں اس وجہ سے ان باتوں کے جواب کے بجائے اصل ضرب ان کے کبر و غرور پر لگائی۔ ان کے ذکر کا آغاز ان کے سب سے بڑے ظلم یعنی شرک کے ذکر سے فرمایا۔ شرک کی نسبت ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ اس کا ارتکاب کر کے انسان اپنے رب کا بھی سب سے بڑا حق تلف کرتا ہے اور خود اپنے نفس کی بھی سب سے بڑی توہین کرتا ہے۔ اس وجہ سے یہ سب سے بڑا طلم ہے۔ پھر مزید یہ کہ اللہ کے اوپر یہ جھوٹا افترا ہے اس لیے کہ مشرک محض اپنے جی سے کسی چیز کو خدا کا شریک ٹھہراتا ہے اور دعوی یہ کرتا ہے کہ خدا نے اس کو اپنا شریک قرار دیا ہے حالانکہ اس دعوے کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ، اس افترا پر مزید افترا یہ کہ قریش کے بعض اکابر یہ کہتے کہ جس وحی کا محمد ﷺ دعوی کرتے ہیں اس طرح کی وحی تو ان پر بھی آتی ہے، اگر وہ چاہیں تو اسی طرح کا کلام وہ بھی پیش کرسکتے ہیں۔ اس سے ان کا مقصود محض اس اثر کو اپنے عوام کے دلوں سے زائل کرنا ہوتا جو ان پر آنحضرت صی اللہ علیہ وسلم کی اس بات پڑتا کہ جو کلام آپ پیش کر رہے ہیں وہ آپ کا اپنا کلام نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی وحی ہے جو وہ اپنے ایک فرشتے کے ذریعے سے آپ پر نازل فرماتا ہے۔ ان مفتریوں نے جواب میں یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس کا تجربہ محمد ﷺ ہی کو ہوتا ہو، اس طرح کی وحی ہم پر بھی آتی ہے۔ ہم بھی چاہیں تو اپنی وحی پیش کرسکتے ہیں لیکن ہم چونکہ اس طرح کی چیزوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اس وجہ سے کوئی دعوی لے کر نہیں اٹھے۔ دوسری جگہ ان کی یہی بات یوں نقل ہوئی ہے“ وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَذَا إِنْ هَذَا إِلا أَسَاطِيرُ الأوَّلِينَ : اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، کہتے ہیں بس کرو، سن لیا، اگر ہم چاہتے تو ہم بھی اسی طرح کا کلام پیش کردیتے، یہ ہے کیا، یہ تو بس اگلوں کا فسانہ ہے ”(اعراف :31)۔ یہ عام قاعدہ ہے کہ جب کوئی صداقت ظاہر ہوتی ہے تو جن لوگوں کے پندار پر اس کی زد پڑتی ہے اور وہ اپنے آپ کو اس کے مقابل میں بےبس محسوس کرتے ہیں تو اسی طرح کی دھونس سے وہ اپنا بھرم قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کے دام فریب میں پھنسے ہوئے عوام ان کی صلاحیتوں سے مایوس ہو کر اس صداقت کو اختیار نہ کرلیں۔ لیکن اس قسم کی نمائشی اور ادعائی شہ زوری اصل حقیقت کے مقابل میں کیا کام دے سکتی ہے اور کتنے دن کام دے سکتی ہے۔ بالآخر ان زبان کے سورماؤں کو میدان چھوڑ کے بھاگنا پڑتا ہے۔
وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ ، شرط کا جواب، اس طرح کے مواقع میں حذف ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے حذف سے اس کی ہولناکی کی جو تصویر چشم تصور کے سامنے آتی ہے وہ اس کے اظہار کی صورت میں نہیں آسکتی۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ قرآن کے متعلق یہ باتیں قریش کے متمردین کہتے تھے۔ فرمایا کہ آج یہ لوگ اللہ کی کتاب کے باب میں اس رعونت کا اظہار کر رہے ہیں لیکن وہ وقت بھی آنے والا ہے جب یہ موت کی سکرات میں گرفتار ہوں گے اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر ان سے مطالبہ کر رہے ہوں گے کہ لاؤ، اپنی جانیں حوالہ کرو، اب وقت آگیا کہ تم کو تمہارے افترا اور آیات الٰہی سے تمہارے متکبرانہ اعراض کی پاداش میں تم کو ذلت کا عذاب چکھایا جائے۔ ذلت کا عذاب اس لیے کہ انہوں نے اللہ کے رسول اور اس کی کتاب کے مقابل میں رعونت اور تکبر کا اظہار کیا، تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ، سے ان کے قول ‘ اوحی الی ’ اور ان کے شرک کی طرف اشارہ ہے ‘ کنتم عن ایتہ تستکبرون ’ میں استکبار کا لفظ اعراض کے مفہوم پر بھی مشتمل ہے اس وجہ سے یہاں اس کا صلہ ‘ عن ’ کے ساتھ آیا ہے۔ اللہ کی کتاب سے اعراض کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں۔ سب سے زیادہ مہلک اعراض وہ ہے جو غرور اور رعونت کے سبب سے ہو۔ یہاں اسی اعراض کا ذکر ہے اور یہ ابلیس کی خاص وراثت ہے۔ قریش کے لیڈروں پر یہ بات بڑی شاق تھی کہ خدا کی طرف سے کوئی نعمت یا عزت ان کے سوا اور کو حاصل ہو۔ اسی وجہ سے وہ کہتے تھے کہ اگر خدا کسی کو اپنا رسول بنانے والا ہوتا تو مکہ یا طائف کے کسی سردار کو بناتا۔ اسی غرور کا مظاہرہ ان کی ان باتوں سے بھی ہو جو اوپر نقل ہوئی ہیں۔
Ayah 6:94وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي الایۃ، یہاں غائب کو حاضر کے اسلوب میں کردیا ہے تاکہ وَلَو تَری، میں ان کے جس انجام بد کا حوالہ دیا ہے اس کی ہولناکی نگاہوں کے سامنے آجائے گویا قیامت آگئی اور ان سے خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ دیکھ لو جس طرح تم دنیا میں بےسرو سامان گئے تھے۔ اسی طرح بےسرو سامان آج ہمارے حضور میں حاضر ہوگئے، نہ تمہارے ساتھ وہ مال و متاع اور لاؤ لشکر ہے جس کے بل پر تم اتراتے تھے اور نہ وہ شرکاء و شفعاء ہی ہیں جن کو تم ہمارا ساجھی گمان کیے بیٹھے تھے اور جن سے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ ہمارے مقابل میں تمہارے کام آئیں۔ خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ، میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان جب دنیا میں آتا ہے تو ایک مضغہ گوشت اور عملاً تمام صلاحیتوں سے خالی ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کی تمام صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا ہے اور اس کو ان وسائل و ذرائع اور ان اموال و املک کا مالک بناتا ہے جو اس کے لیے مقدر ہوتے ہیں تاکہ دیکھے کہ خدا کی یہ نعمتیں پا کر وہ اس کا شکر گزار بندہ بنتا ہے یا اکڑنے والا اور اترانے والا بن جاتا ہے۔ پھر ایک دن آتا ہے کہ وہ اسی طرح خالی ہاتھ خدا کے حضور میں حاضر کیا جاتا ہے۔ ان چیزوں میں سے کوئی ایک چیز بھی اس کے اتھ نہیں جاتی جن کے بل پر وہ یہاں اکڑتا تھا۔ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ میں فاعل میرے نزدیک حذف ہے یعنی لقد تقطع الجبل بینکم وضل عنکم ما کنتم تزعمون، اس میں اشارہ شرکاء و شفعا کی طرف ہے یعنی یہ سب ہوا ہوجائیں گے
فصل 15: اگلی آیات 95 تا 108: اوپر کا مجموعہ آیات توحید کے مضمون پر ختم ہوا تھا۔ اسی مضمون کے تعلق سے آگے توحید کے دلائل کی مزید وضاحت ہوئی۔ یہ دلائل توحید کے آفاق دلائل ہیں جو بیان اس طرح ہوئے ہیں کہ ان سے معاد اور رسالت پر بھی روشنی پڑ رہی ہے۔ گویا وہ پورا مضمون ایک نئے اسلوب سے سامنے آگیا ہے جو اس سورة میں زیر بحث ہے۔ نیز کائنات کی نشانیوں پر غور کرنے کے لیے اس صحیح نقطہ نظر کی طرف بھی اس سے رہنمائی ہو رہی ہے جو اوپر حجت ابراہیمی کے سلسلہ میں واضح ہوا ہے۔ پھر اسی تعلق سے قریش کو مخاطب کر کے ان کو مناسب حال تنبیہ کی گئی ہے، آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے آپ کو تسلی دی گئی ہے، مسلمانوں کو مخاطب کر کے مقتضائے وقت کے مناسب ہدایات دی گئی ہیں۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ شروع سے سورة اسی انداز پر چل رہی ہے۔ مرکزی مضمون، توحید، معاد، رسالت، بار بار مختلف اسلوبوں سے سامنے آتا ہے اور بار بار مخاطبین کے اعتراضات اور ان کے رویے کے تعلق سے کلام تردید یا توضیح یا تسکین یا موعظت کی طرف مڑ جاتا ہے لیکن سر رشتہ کلام کہیں ہاتھ سے جانے نہیں پاتا۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
Ayah 6:95اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى۔
ایک ایک ذرہ توحید کا شاہد ہے : ‘ْحَبِّ ’ اور ‘ نوی ’ دانے اور گٹھلی کو کہتے ہیں۔ پہلے چھوٹی چیزوں سے آیات الٰہی کے بیان کا آغاز کیا ہے، پھر کائنات کی بڑی چزوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ فرمایا کہ ایک چھوٹے سے دانے اور چھوٹی سی گٹھلی پر بھی خدا کے سوا کسی اور کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ ان کو پھاڑ کر ان کے اندر سے انکھوے نکالے، پھر ان کو پودے اور درخت بنا دے۔ یہ خدا ہی کی قددرت اور اس کی حکمت ہے کہ وہ ایک ایک بیج اور ایک ایک گٹھلی کے اندر صلاحیتیں ودیعت فرماتا ہے، پھر ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے زمین، آسمان، ابر، ہوا، گرمی اور سردی، خزاں اور بہار سب کو امر فرماتا ہے کہ سب مل کر اس کی پرورش میں اپنا اپنا حصہ ادا کریں۔ گویا اس زمین میں نشوونما پانے والا ایک ایک دانہ اپنے وجود سے اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ اسی کے تصرف سے وہ وجود میں آیا ہے جس کے تصرف میں یہ پوری کائنات ہے۔ اگر اس کائنات کی خدائی مختلف خداؤں اور دیوتاؤں میں بٹی ہوئی ہوتی اور وہ سب اپنے اپنے دائروں اور علاقوں میں خود مختار ہوتے تو اس دنیا کا نظام چلنا تو الگ رہا رائی کا ایک دانہ بھی اپنی صلاحیتیں اجاگر نہیں کرسکتا تھا۔ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْـحَيِّ ، بعینہ یہی ٹکڑا، معمولی فرق کے ساتھ، آل عمران کی آیت 27 میں گزر چکا ہے۔ وہاں ہم بقدر ضرورت اس کی شرح کرچکے ہیں۔ یہ بےجان چیزوں سے زندگی کے اظہار اور پھر زندگی کے اوپر موت اور فنا کے طاری ہونے کی ایک جامع تعبیر ہے جس کا مشاہدہ ہم اس کائنات کے ہر گوشے میں برابر کر رہے ہیں۔ آم کی بےجان گٹھلی اور گیہوں کے بےجان دانہ سے ہرا بھرا درخت اور لہلہاتا ہوا پودا پیدا ہوجاتا ہے اور پھر اسی سبز و شاداب درخت اور لہلہاتے ہوئے پودے پر زردی، خشکی اور مردنی طاری ہونی شروع ہوتی ہے یہاں تک کہ ایک دن وہ ختم ہوجاتا ہے یہی مشاہدہ ہم انسانوں اور حیوانوں میں کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ قوموں اور ملتوں کے اندر بھی موت اور زندگی، عروج اور زوال کی یہی داستان برابر دہرائی جا رہی ہے۔ ایک قوم پردہ عدم سے نکلتی ہے ساری دنیا پر چھا جاتی ہے اور پھر وہی قوم ایک دن آتا ہے کہ پردہ عدم میں جا چھپتی ہے۔ موت اور زندگی کے اس قانون سے کسی کے لیے مفر نہیں۔ اگر خدا کے سوا کسی اور کا بھی اس کائنات میں مالکانہ و خود مختارانہ تصرف ہے تو کسی ایک ہی گوشہ میں وہ اس قانون کو باطل کیوں نہیں کردیتا اور اگر خدا سرے سے ہے ہی نہی بلکہ یہ سب کچھ مجرد مادے یا کسی اندھی بہری طاقت کا بروز ہے تو اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ بروز قائم و دائم رہے، نہ اس میں کبھی انقطاع ہو، نہ اس کے رخ میں کوئی تبدیلی واقع ہو، نہ اس پر کوئی تغیر طاری ہو۔
زبان کا ایک نکتہ : یہاں زبان کا ایک نکتہ بھی قابل لحاظ ہے۔ پہلے تو فرمایا يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ لیکن دوسرے ٹکڑے میں اسلوب بدل کر فرمایا مُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْـحَيِّ ، مردہ سے زندہ کو نکالنے کے لیے فعل استعمال فرمایا جو صرف تصویر حال کا فائدہ دیتا ہے لیکن زندہ سے مردہ کو برآمد کرنے کے لیے فاعل کا صیغہ استعمال فرمایا جس کے اندر عزم اور فیصلہ کا مفہوم بھی مضمر ہوتا ہے۔ اس اختلاف کی وجہ ہماری سمجھ میں یہ آئی ہے کہ زندگی حاصل ہوجانے کے بعد کوئی جاندار بھی اپنی زندگی موت کے حوالے کرنے پر راضی نہیں ہوتا لیکن قدرت کا قانون ایسا اٹل ہے کہ وہ بہرحال اس کو موت میں تبدیل کر ہی کے رہتا ہے۔ یہ نہایت واضح ثبوت ہے اس بات کا کہ خدا کے سوا اس کائنات میں کسی کا کوئی دخل نہیں۔ اگر ہے کسی کا تو وہ اپنی محبوب زندگی کو موت کے پنجہ سے کیوں نہیں بچالیتا ؟ یہی مضمون سورة واقعہ میں یوں بیان ہوا ہے، فلولا ان کنتم غیر مدینین ترجعونہا ان کنتم صدقین، اگر تم کسی کے محکوم نہیں ہو تو اپنی حلق میں آئی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لوٹا لیتے، اگر تم سچے ہو۔ عام طور پر لوگوں نے اس آیت کو انڈے اور مرغی اور مرغی اور انڈے کی حکایت تک محدود رکھا ہے لیکن اوپر کی تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ یہ تعبیر ہے قدرت کے ان قوانین کی جو اس نے بےجان چیزوں کے اندر زندگی کے اور جاندار چیزوں کے اندر موت کے ودیعت کیے ہیں، جن کو صرف قدرت ہی بروئے کار لاتی ہے اور جن کی گرفت سے کوئی آزاد نہیں ہے۔ ۭذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ آگے فرمایا ہے (وہی اللہ تمہارا رب ہے) اگر اس جملے کی تفسیر اس دوسرے جملے کی روشنی میں کی جائے تو ماننا پڑے گا کہ یہاں خبر محذوف ہے اور اگر اسی کو پورا جملہ مانا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ یہ سب اللہ ہی کا کرشمہ قدت ہے تو تم کہاں اوندھے ہوئے جاتے ہو ؟ یہ وضح رہے کہ اہل عرب اللہ کو نہ صرف مانتے تھے بلکہ ہر چیز کا خالق بھی اسی کو مانتے تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ شرک میں بھی مبتلا تھے اس لیے فرمایا کہ فکر سلیم کے لیے سیدھی راہ تو یہ ہے کہ جب یہ سارا تصرف اللہ ہی کا ہے تو بندہ صرف اسی کی عبادت و اطاعت کرے لیکن تمہاری عقل کہاں اوندھی ہوئی جاتی ہے کہ ایک قدم صحیح اٹھا کر پھر دوسرے رخ پر مڑ جاتے ہو اور پائی ہوئی حقیقت کو گم کردیتے ہو۔ یہ آیت اگرچہ واضح طور پر تو بیان توحید ہی کے سیاق میں ہے لیکن اس میں ایک لطیف اشارہ معاد کی طرف بھی ہوگیا۔ اس لیے کہ جب ہم ہر قدم پر مردہ سے زندہ کو ظاہر ہوتے دیکھتے ہیں تو اس بات پر تعجب کی کیا وجہ ہے کہ مرجانے اور گل سڑ جانے کے بعد خدا ہمیں دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا ؟ گٹھلی اور دانہ زمین میں سڑ گل کر اگر از سرِ نو زندہ ہوسکتے ہیں تو ہم زمین میں دفن ہوجانے کے بعد آخر اللہ کے حکم سے دوبارہ کیوں نہیں زندہ ہوسکتے ؟
Ayah 6:96فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ۚ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا، یعنی وہی خدا جس کی شانیں زمین کے اندر دفن ہونے والے دانہ اور گٹھلی کے اندر یوں نمایاں ہوتی ہیں ذرا نگاہ اٹھا کر اس کی شانیں آسمان میں بھی دیکھو۔ وہ جس طرح گٹھلی کو پھاڑ کر اس کے اندر سے درخت پیدا کردیتا ہے اسی طرح پردہ شب کو چاک کر کے اس کے اندر سے صبح نمودار کردیتا ہے، پھر فرمایا کہ اس نے ش کو تمہارے لیے سکون بخشنے والی اور تمہاری کلفت کو دور کرنے والی بنایا، تم اس میں دن کی ماندگی دور کرتے ہو اور تمہارے قوی اور اعصاب اس میں از سرِ نو میدانِ عمل میں اترنے کے لیے تازہ دم ہوتے ہیں۔ اس سے یہ اشارہ خود بخود نکل آیا کہ وہ رات کے بعد صبح اس لیے پیدا کرتا ہے کہ تم اس میں اپنی طلب و جستجو کی سرگرمیوں میں مصروف ہو سکو اور اپنی معاش کے لیے جد و جہد کرسکو۔ اسی مضمون کو دوسری جگہ یوں بیان فرمایا وجعلنا نومکم سباتا و جعلنا الیل لباسا، وجعلنا النہار معاشا، (سورة نبا، 11-9) (اور ہم نے تمہاری نیند کو تمہارے لیے دافع کلفت بنایا، شب کو تمہارے لیے پردہ پوش بنایا اور دن کو حصول معاش کر سرگرمیوں کے لیے بنایا)۔ مطلب یہ ہے کہ صبح اور شام، دن اور رات کی اس نوعیت پر غور کرو تمہاری عقل یہ بات باور کرتی ہے کہ صبح کا لانے والا کوئی اور ہے، شام کا لانے والا کوئی اور، دن کا پیدا کرنے والا کوئی اور ہے، رات کا پیدا کرنے والا کوئی اور، یا یہ بات قبول کرتی ہے کہ صبح اور شام، رات اور دن سب اللہ ہی کے حکم سے آتے جاتے ہیں۔ اگر دن کا خالق کوئی اور، رات کا خالق کوئی اور ہوتا تو ان دونوں میں یہ موافقت و سازگاری کون پیدا کرتا کہ رات تمہارے لیے راحت کا بستر بچھاتی اور میٹھی نیند کے لیے سکون فراہم کرتی ہے اور دن تمہارے لیے سرگرمیوں کے میدان گرم کرتا اور معاش و معیشت کی راہیں کھولتا ہے۔ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًادن اور رات کے بعد اب یہ رات اور دن کے اندر ظاہر ہونے والی دو بڑی نشانیوں سورج اور چاند کو لیا، فرمایا کہ ان کو دیکھو، ان کے لیے قدرت کا ٹھہرایا ہوا ایک ضابطہ اور ایک نظام الاوقات ہے، مجال نہیں ہے کہ سرِ مو اس سے تجاوز کرسکیں۔ انہی سے دن، مہینے، سال معین ہوتے ہیں، انہی سے موسموں کا تغیر وجود میں آتا ہے۔ پھر یہ ہیں تو آسمان میں لیکن پوری وفاداری اور پابندی کے ساتھ، بلا کسی تمنائے ستائش اور پروائے صلہ کے، رات دن خدمت میں سرگرم ہیں زمین والوں کی۔
ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ ، اوپر کی بیان کردہ نشانیوں سے جو حقیقت سامنے آتی ہے، یہ اسی کا بیان ہے اور انداز بیان ایسا ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہر اس شخص کے دل کی آواز ہے جو اس نظام کا نئنات پر عقل سلیم اور قلب سلیم سے غور کرتا ہے جس کی عقل سلیم ہے وہ جب اس نظام اور اس کی بےپایاں برکات پر غور کرتا ہے تو بےتحاشا اس کی زبان سے یہ گواہی نکلتی ہے کہ یہ ساری منصوبہ بندی خدائے عزیز وعلیم ہی کی ہے۔ اس چھوٹے سے فقرے کے اندر کئی حقیقتیں مضمر ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سورج اور چاند خدائی میں کوئی دخل نہیں رکھتے بلکہ اس کارخانہ کائنات میں ان کی حیثیت صرف کل پرزوں کی ہے جن کو ایک عزیز وعلیم نے ان کے مقام میں فٹ کیا ہے اور یہ اپنی مفوضہ خدمت پوری پابندی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ دوسری یہ کہ یہ کارخانہ متضاد قوتوں اور مختلف دیوتاؤں کی کوئی رزمگاہ نہیں ہے بلکہ اس کے اضداد کے اندر حیرت انگیز سازگاری ہے اور ان کی یہ باہمی سازگاری اس بات کی شاہد ہے کہ ایک ہی خدائے قاہر وقیوم اور ایک ہی رب عزیز وعلیم کا ارادہ اور اس کی مشیت اس پر کار فرما ہے اور اس کی ہر حرکت اور اس کا ہر سکون اسی کی مشیت کے تابع ہے۔ تیسری یہ کہ یہ کارخانہ کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشہ نہیں ہے بلکہ اس کے ہر گوشے سے اس کے صانع کی قدرت، حکمت اور اس کے علم کی شہادت مل رہی ہے جو اس بات کا ثبوت فراہم کر رہی ہے کہ اس کے پیچھے ایک عظیم غایت و مقصد ہے جس کا ظہور میں آنا لا بدی ہے۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ اس کے بعد بعد ایک روز جزا و سزا آئے جس میں اس کی حکمت واضح ہو۔ چوتھی یہ کہ دنیا کسی کباڑئیے کی دکان یا کوئی مال گودام نہیں ہے جس میں کسی چیز کا بھی کوئی قرینہ نہ ہو بلکہ اس میں نہایت حیرت انگیز پلاننگ ہے، ہر چیز کے لیے اس کی متعین جگہ ہے، ہر حرکت اور گردش کے لیے معین محور و مدار ہیں، ہر عمل کے ظہور کے لیے لگے بندھے ضابطے قاعدے ہیں، ہر آزادی اور ہر پابندی کے لیے معلوم و معروف حدود وقیود ہیں، اس سے صاف یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس جہان کے خالق کی مرضی انسانوں کے لیے بھی یہی ہے کہ وہ شتر بےمہار کی زندگی نہ گزاریں بلکہ اس کی ہدایات اور اس کے احکام کے تحت زندگی بسر کریں تاکہ ان کی زندگی اس پورے کارخانہ سے ہم آہنگ ہو۔ یہی راہ فلاح وسعادت کی راہ ہے۔ سورة رحمان میں ہم آیت والشمس و القرم بحسبان کے تحت اس نکتہ کی مزید وضاحت کریں گے۔ وہاں قرآن نے اسی آفاقی شہادت سے رسالت کی ضرورت پر استشہاد کیا ہے۔ اس آیت میں“ تقدیر ”کا لفظ وہی مفہوم رکھتا ہے جو پلاننگ کا مفہوم ہے۔ عزیز کی صفت خدا کی بےنہایت قدرت اور سب پر اس کی بالا تری کو اور ‘ علیم ’ کی صفت اس کے محیط کل علم کے ساتھ ساتھ اس کی بےنہایت حکمت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس لیے کہ علم، حکمت کو بھی مقتضی ہے۔ اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ خدا اس نظام کائنات کا کوئی جزو نہیں ہے بلکہ وہ سب سے بالا تر ہے، اس کی قدرت، اس کا علم اور اس کی حکمت سب کو اپنے احاطہ میں لیے ہوئے ہے۔
Ayah 6:97سورج اور چاند کے بعد ستاروں کی طرف متوجہ کیا کہ دیکھ لو، یہ خود اپنی خدمت گزاری سے شہادت دے رہے ہیں کہ خالق نے ان کو تمہاری خدت پر مقرر کیا ہے۔ جب تم خشکی اور تری کا سفر کرتے ہو تو سمندروں اور بیابانوں میں یہ روشنی کے میناروں اور برجیوں کی طرح تمہاری کشتیوں اور تمہارے قافلوں کو سمتیں اور راستے بتاتے ہیں۔ اب یہی کیسی بےوقوفی کی بات ہے کہ وہ خود تو اپنے عمل سے بتا رہے ہیں کہ تمہارے خالق نے ان کو تمہاری خدمت میں لگا رکھاے ہے اور تم ان کو خدا کی خدائی میں شریک مان کر ان کے بت کھڑے کر کے ان کی پرستش شروع کردو۔ پھر دیکھو کہ یہ ہیں تو آسمان میں لیکن شمع برداری کی خدمت وہ تم زمین والوں کی انجام دے رہے ہیں۔ سوچو کہ زمین کا خد الگ ہوتا اور آسمانوں کے دیوتا الگ ہوتے تو آسمان کے ستاروں کو کیا پڑی تھی کہ وہ زمین والوں کو رستہ بنانے کے لیے ساری رات دیدبانوں میں کھڑے کھڑے اپنی نیندیں خراب کرتے ؟ یہ صورت حال تو صاف شہادت رہی ہے کہ زمین و آسمان سب پر ایک ہی خدا کی حکمرانی ہے اور اسی نے ان ستاروں کو تمہاری خدمت کے لیے مسخر کیا ہے تاکہ تم اپنے رب کے شکر گذار بنو اور اس کی عبادت کرو۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ عرب شعرا اپنے بیابانی سفروں کی جو داستان بیان کرتے ہیں اس میں ستاروں کا ذکر ان کی رہنمائی کے پہلو سے بھی کرتے ہیں اور رات کے مختلف حصوں کے اوقات بتانے کے لیے بھی انہی کا حوالہ دیتے ہیں۔ گویا وہ ان سے گھڑیوں کا کام بھی لیتے تھے اور رہنما برجیوں کا بھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ بعض ستاروں کی پرستش بھی کرتے تھے۔ شعری کا حوالہ تو قرآن میں بھی آیا ہے جو موسم بہار میں طلوع ہوتا تھا، اسی طرح دوسرے ستارے بھی، جو نکھتروں سے تعلق رکھتے تھے، ان کے معبود تھے بعض سعد سمجھے جاتے تھے، بعض نحس۔ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ ، لفظ آیت کے مختلف معانی پر ہم دوسرے مقام میں بحث کرچکے ہیں۔ یہاں یہ نشانی کے معنی میں ہے اوپر چونکہ ہر نشانی اس چیز کی دلیل ہوتی ہے جس کی وہ نشانی ہوتی ہے اس وجہ سے اس کے معنی دلائل کے ہوں گے اور چونکہ یہاں زیر بحث خدا اور اس کی توحید اور ضمناً معاد و رسالت ہے اس وجہ سے یہاں مراد انہی کے دلائل ہوں گے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کی ہر نشانی اپنے اندر گوناگوں پہلو رکھتی ہے اس وجہ سے یہ تو بتا دیا ہے کہ ہم نے نشانیوں کی تفصیل کردی ہے لیکن یہ نہیں واضح فرمایا کہ کس چیز کی نشانیاں واضح فرمائی ہیں۔ یہ چیز مخاطب کے فہم پر چھور دی ہے کہ اس کے اندر علم کی طلب و جستجو ہوگی تو وہ ان میں اپنی ہر جستجو کا جواب پا جائے گا۔ یہاں لفظ ‘ آیات ’ کے استعمال میں ایک لطیف اشارہ بھی ہے۔ منکرین قریش کے متعلق اوپر بھی بیان ہوچکا ہے اور اس مجموعہ آیات کے خاتمہ پر بھی ذکر آئے گا کہ وہ قرآن پر ایمان لانے کے لیے یہ شرط ٹھہراتے کہ پیغمبر کوئی نشانی دکھائیں تو وہ ایمان لائیں گے۔ نشانی سے مراد وہ کوئی محسوس معجزہ لیتے تھے۔ ان کی اسی ذہنیت کو پیش نظر رکھ کر فرمایا کہ اگر نشانیوں کی طلب ہے تو عقل و دل کو مطمئن کرنے والی نشانیاں یہ ہم نے بیان کردی ہیں لیکن یہ کار آمد ان کے لیے ہیں جو علم کے طالب ہیں جن کے اندر علم کی طلب نہیں ہے وہ دنیا جہاں کے معجزے لیتے تھے۔ ان کی اسی ذہنیت کو پیش نظر رکھ کر فرمایا کہ اگر نشانیوں کی طلب ہے تو عقل و دل کو مطمئن کرنے والی نشانیاں یہ ہم نے بیان کردی ہیں لیکن یہ کار آمد ان کے لیے ہیں جو علم کے طالب ہیں جن کے اندر علم علم کی طلب نہیں ہے وہ دنیا جہان کے معجزے دیکھ بھی اندھے ہی بنے رہتے ہیں۔ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ ، کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کے لیے جو جاننا چاہیں۔ یہ بات واضح رہے کہ ہم اپنی زبان میں بھی جب بولتے ہیں، ان کے لیے جو مایں، ان کے لیے جو سمجھیں، ان کے لیے جو غور کریں، تو فعل ارادہ فعل ہی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
Ayah 6:98توحید کی دلیل خود انسان کی خلقت میں : خارجی عالم کی نشانیوں کی طر توجہ دلانے کے بعد اب یہ انسان کی خود اس کی خلقت اور اس کے اردگرد جو سامانِ معاش و معیشت فراہم فرمایا ہے، اس کی طرف توجہ دلائی۔ فرمایا کہ وہی خدا ہے جس نے تمہیں ایک ہی جان سے پیدا کیا اور نسل انسانی کا ایک وسیع گھرانا آباد کردیا۔ یہاں ‘ انشاء ’ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی صرف پیدا کرنے کے نہیں ہیں بلکہ اس کے اندر نشوونما بخشنے، پروان چڑھانے اور گروغ دینے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ ایک ہی جان، سے مراد آدم ہیں جن کو تمام آسمانی مذاہب میں نسل انسانی کی اصل کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے۔ اہل عرب بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے تھے۔ فرمایا کہ یہ خدا ہی ہے جس نے تمہیں ایک ہی جان سے پیدا کیا، اسکی جنس سے اس کا جوڑا بنایا، پھر مردوں اور عورتوں کی ایک دنیا پیدا کردی۔ ان میں شکلوں، صورتوں، زبانوں، لہجوں کا اگرچہ اختلاف ہے، لیکن جبلی تقاضوں اور فطری داعیات کے لحاظ سے اتفاق ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ سب کا خالق اور پروردگار ایک ہی ہے جس نے ایک ہی درخت سے یہ سارے برگ و بار پیدا کیے ہیں۔ عورت اور مرد میں بظاہر ضاد و اختلاف ہے لیکن ان دونوں کے اندر ایک دوسرے کے ساتھ ساز گاری کے جو ظاہری و باطنی محرکات و اسباب جمع ہیں وہ زبان حال سے شہادت دے رہے ہیں کہ دونوں کا خالق و مربی ایک ہی ہے جس نے ایک مشترک مقصد کے لیے ان کو وجود بخشا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ غور کرو کہ یہ ایک ہی خدا کا پیدا کیا ہوا اور ایک ہی آدم و حوا کا گھرانا ہے یا مختلف خداؤں کی پیدا کی ہوئی منتشر بھیڑ جس کے ہر گروہ کے خدا بھی الگ الگ ہیں اور ان میں سے رہ ایک کا باوا آدم بھی جدا گانہ ہے۔ قرآن نے اسی وحدت الٰہ اور وحدت آدم کے عقیدے پر انسانی معاشرے کے بنیاد رکھی ہے۔ اور ان لوگوں کو فساد فی الارض کا مجرم قرار دیا ہے جو معاشرے کی اس بنیاد کو ڈھانے کی کوشش کریں۔ اس مسئلہ پر تفصیل کے ساتھ ہم سورة نساء کی تفسیر میں بحث کر آئے ہیں۔ اس کی پہلی آیت اس عقیدے کو یوں پیش کرتی ہے“ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا : اے لوگو، تم اپنے اس خداوند سے ڈرو جس نے تم کو ایک ہی جان سے پیدا کیا، اور اسی کی جنس سے پیدا کیا اس کے جوڑے کو اور پھر ان دونوں سے پھیلا دے بیشمار مرد اور بیشمار عورتیں، اور اس اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے طالب مدد ہوتے ہو اور رحمی رشتوں کا اتحرام کرو بیشک اللہ تم پر نگران ہے ”۔
فَمُسْتَقَرٌّ وَّمُسْـتَوْدَعٌ کے معنی قرار و سکونت کی جگہ کے ہیں اور مستودع اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی چیز بطور و دیعت و امانت حفاظت سے رکھی جائے۔ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں مستقر سے مراد وہ جگہ ہے جہاں پیدا ہونے کے بعد انسان رہتا بستا ہے۔ ولکم فی الارض مستقر و متاع الی حین، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت خاص تک رہنے بسنے کی جگہ اور کھانا پینا ہے۔ مستودع سے مراد وہ جگہ ہے جہاں مرنے کے بعد وہ دفن کیا جاتا ہے۔ دنیا میں آنے کے بعد انسان یہ دونوں ہی چیزیں پاتا ہے۔ جتنی زندگی اس کے لیے مقدر ہوتی ہے اتنے دن وہ گزارتا ہے اور جو رزق اس کے لیے مقدر ہوتا ہے اس سے متمتع ہوتا ہے اور اس کا یہ جینا اور خدا کے بخشے ہوئے رزق سے متمتع ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کی نگرانی اور اس کے علم میں ہے۔ پھر جب اس دنیا میں اس کی مدت حیات ختم ہوجاتی ہے تو وہ اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کرتا ہے اور جہاں کہیں بھی دفن ہوتا ہے خدا ہی کی زمین میں دفن ہوتا ہے اور جب خدا کا حکم ہوگا زمین اس امانت کو خدا کے حوالے کردے گی۔ ج سطرح ہر شخص کا مستقر، خدا کے علم میں ہوتا ہے، اسی طرح اس کا مستودع، بھی اس کے علم میں ہوتا ہے، خدا کا علم ہر چیز کو محیط ہے، کوئی چیز بھی اس سے مخفی نہیں۔ قرآن مجید میں یہ مضمون دوسرے مقامات میں اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے مثلا وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الأرْضِ إِلا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ : اور نہیں ہے زمین میں کوئی جاندار مگر اللہ ہی اس کو روزی دیتا ہے، اور خدا دنیا میں اس کے مستقر کو بھی جانتا ہے اور مر گئے پر اس کے سپرد کیے جانے کی جگہ کو بھی، ہر چیز ایک واضح رجسٹر میں درج ہے (ھود :6)۔ مطلب یہ ہے کہ پیدا ہونے کے بعد زندگی، رزق اور اسباب و وسائل سب کچھ اسی سے حاصل ہوتا ہے تو کسی غیر کو انسان اپنی امید کو مرجع کیوں بنائے ؟ پھر مدفن کے لیے مستودع، کا لفظ استعمال کر کے ایک لطیف اشارہ مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی طرف بھی فرما دیا کہ انسان جب مرتا ہے تو یہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ ختم ہوگیا، بلکہ وہ زمین کی تحویل میں دے دیا جاتا ہے جہاں سے وہ پھر اٹھایا جائے گا تاکہ وہ اپنی شکر گزاری کا انعام پائے اگر خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کا اس نے حق پہچانا ہے اور اپنی ناشکری کی سزا بھگتے اگر اس نے خدا کی نعمتوں کی ناقدری کی ہے۔ یہ خدا کی رحمت و ربوبیت اور اس کے علم و حکمت کا لازمی تقاضا ہے۔
قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّفْقَهُوْنَ : اس میں وہی بات فرمائی گئی ہے جو اوپر گزر چکی ہے۔ اس کا اعادہ اس بات کی دلیل ہے کہ مخاطب نہایت ضدی ہیں جو بات تو سمجھنا نہیں چاہتے لیکن بہانہ یہ تراش رہے ہیں کہ ان کو کوئی معجزہ نہیں دکھایا جا رہا ہے، علم اور تفقہ میں فرق یہ ہے کہ علم عقل و شعور کا فعل ہے اور تفقہ دل کا، چناچہ قرآن میں جگہ جگہ ارشاد ہوا ہے، لھم قلب لا یفقہون بہا (ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں)۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ انسان پر خدا کی نشانیاں اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب وہ اپنی عقل اور دل کو استعمال کرتا ہے۔ جب تک وہ محسوسات کا غلام بنا رہتا ہے، اس وقت تک اس کی مثال گدھے کی ہے جو ڈنڈے کی زبان کے سوا دوسری کوئی زبان بھی نہیں سمجھتا۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ عقل اور دل بھی مشاہدہ کائنات سے خدا تک اسی صورت میں پہنچتے ہیں جب ان کے اندر محسوسات سے آگے بڑھنے کی ہمت اور حوصلہ ہو۔ اگر وہ صرف محسوسات ہی پر قانع ہوجائیں اور ان کی ساری تردود انہی چیزوں کے لیے رہ جائے جو اس حیات چند روزہ میں کام آنے والی ہیں تو بسا اوقات تل تو ان کو نظر آجاتا ہے لیکن تل کی اوٹ کا پہاڑ ان سے اوجھل ہی رہتا ہے۔ یہ حبّ عاجلہ کی بیماری ہے، جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ دیکھنے کو تو سب کچھ دیکھتے ہیں لیکن سوجھتا کچھ بھی نہیں۔