6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 6:53

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے سے آزمایا ہے کہ وہ کہیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہمارے درمیان سے اپنے فضل کے لیے چنا ؟ کیا اللہ شکر گزاروں سے اچھی طرح واقف نہیں ؟

لِّيَقُوْلُوْٓا میں حرف ‘ ل ’ لام عاقبت ہے جو علت کو نہیں بلکہ نتیجہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس دنیا میں امارت و غربت دونوں امتحان کے لیے ہیں۔ : یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک سنت بیان فرمائی ہے کہ ہم نے دنیا میں کسی کو دولت جو دی ہے تو اس بنا پر نہیں دی ہے کہ وہ اسی کا حقدار تھا۔ اسی طرح کسی کو غربت دی ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ اسی کا سزا وار تھا بلکہ ایک کو دولت اور دوسرے کو غربت دے کر دونوں کا امتحان کیا ہے۔ وہ جن کو مال و جاہ دیتا ہے تو اس لیے دیتا ہے کہ وہ دیکھے کہ وہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمت پا کر اس کے شکر گزار، متواضع اور فرمانبردار بندے بنتے ہیں یا مغرور و متکبر ہو کر اکڑنے والے، اترانے والے، غریبوں کو دھتکارنے والے اور خدائی نعمتوں کے اجارہ دار بن بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اسی طرح جن کو غربت دیتا ہے تو یہ دیکھنے کے لیے دیتا ہے کہ وہ اپنی غربت پر صابر، حاصل نعمتوں اور اپنی نان جویں پہ قانع، اپنی تقدیر پر راضی اور اپنے فقر میں خود دار رہتے ہیں یا مایوس و دل شکستہ ہو کر پست ہمت، بےحوصلہ، تقدیر سے شاکی، خدا سے برہم اور ذلیل و خوار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ فرمایا کہ اسی امتحان میں ہم نے ان کو ڈالا ہے۔ ہم نے ان کو اپنے فضل سے نوازا تاکہ یہ ہمارے شکر گزار بندے بییں۔ لیکن ان کی کج فہمی کے باعث ہماری نعمت ان کے لیے فتنہ بن گئی۔ یہ سمجھ بیٹھے کہ یہی ساری نعمتوں کے پیدائشی حق دار اور ہر عزت و جاہ کے خاندانی اجارہ دار ہیں۔ نتیجہ اس کج فہمی کا یہ نکلا کہ اب وہ یہ کہنے لگے کہ اسلام اگر کوئی فضیلت کی چیز ہوتی تو کیا اس سے سرفراز کرنے کے لیے خدا کو یہی اراذل و اجلاف اور یہی حقیر و نادار لوگ مل سکے ؟ آخر ہم اشراف و اعیان، سرادرانِ قریش اور رؤسائے طائف کہاں مر گئے تھے کہ آسمان سے یہ نعمت اتری تو ہمارا پتہ اس کو نہ مل سکا اور وہ ان پر جا کر نازل ہوگئی۔ سرداران قریش کے اس غرور کا حوالہ قرآن نے بعض دوسرے مقامات میں بھی دیا ہے مثلاً وقال الذین کفروا لوکان خیرا ما سبقونا الیہ : اور کافروں نے ایمان لانے والوں کے باب میں کہا کہ اگر یہ دین کوئی خیر والی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہیں لے جاسکتے تھے (احقاف :11)۔ دوسری جگہ ہے ولا اقوال للذین تزدری اعینکم لن یوتیہم اللہ خیرا : اور میں ان لوگوں کے بارے میں، جو تمہاری نگاہوں میں حقیر ہیں، یہ کہنے کے لیے تیار نہیں کہ خدا کبھی ان کو کوئی نعمت دے ہی نہیں سکتا۔ (ھود :31)۔ ایمان و اسلام تو درکنار نبوت کو بھی یہ لوگ اپنا اجارہ سمجھتے تھے اور علانیہ کہتے تھے کہ اگر خدا کسی کو نبی بنانے والا ہوتا تو مکہ یا طائف کے کسی رئیس کو بناتا، اس منصب کے لیے یہی (محمد ﷺ اس کو ملے تھے۔ دین کی نعمت کے اصلی کردار : قرآن نے ان کے اس تمرد کے جواب میں فرمایا کہ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِيْنَ (کیا اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو نہیں جانتا) مطلب یہ ہے کہ خدا کا دین سونا اور چاندی ریشم اور مخمل نہیں ہے جس کی کاٹھی اور جس کے جھول گدھوں اور خچروں، گھوڑوں اور اونٹوں پر بھی نظر آجاتے ہیں۔ یہ تو آسمانی نعمت اور یزدانی رحمت ہے جو صرف ان کا حصہ ہے جو ہر حال میں اپنے رب کے شکر گزار رہے، جنہوں نے خدا کی نعمتوں کی قدر کی، جنہوں نے اپنی صلاحیتوں کا حق ادا کیا، جنہوں نے اپنے کان کھلے رکھے، جنہوں نے اپنی آنکھوں پر غرور کی پٹی نہیں باندھی اور جنہوں نے اپنے دلوں کو مردہ نہیں ہونے دیا۔ رہے وہ نابکار و ناشکرے لوگ جنہوں نے خدا کی بخشی ہوئی تمام ظاہری و باطنی نعمتوں کو خدا ہی کے خلاف استعمال کیا ان کے لیے اس نعمت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ دنیا نیک و بد دونوں کو مل جاتی ہے لیکن دین کی نعمت صرف انہی کو ملتی ہے جو خدا کے شکر گزار ہوتے ہیں۔
Ayah 6:54

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور جب تمہارے پاس وہ لوگ آیا کریں جو ہماری آیات پر ایمان لائے تو تم ان کو کہو کہ تم پر سلامتی ہو۔ تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے۔ جو کوئی تم میں سے نادانی سے کوئی برائی کر بیٹھے گا پھر وہ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کرلے گا تو وہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔

سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ جس طرح ملاقات یا رخصت کا کلمہ ہے اسی طرح خیر مقدم کا کلمہ بھی ہے۔ مثلاً فرشتے توحید پر ثابت قدم رہنے والوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہیں گے سلم علیک ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون : تم پر سلامتی ہو، جنت میں داخل ہوجاؤ اپنے اعمال کے صلے میں۔ غربائے مسلمین کے خیر مقدم کی ہدایت : اب یہ پیغمبر ﷺ کو ان غربائے مسلمین کے ساتھ بالکل اس کے ضد طرز عمل اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی گئی جس کا مطالبہ سرداران قریش کرتے تھے۔ سردارانِ قریش تو، جیسا کہ بیان ہوا، یہ چاہتے تھے کہ محمد ﷺ ان لوگوں کو اپنے پاس سے دھتکار دیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے برعکس نبی ﷺ کو یہ ہدایت فرمائی کہ جب ہماری آیتوں پر ایمان انے والے ہمارے یہ بندے تمہارے پاس آیا کریں تو تم سلامتی اور رحمت کی دعا کے ساتھ ان کا خیر مقدم کیا کرو اور ہماری طرف سے ان کو بشارت دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بآیمان بندوں کے لیے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے۔ وہ تم کو اپنی رحمت سے ضرور نوازے گا۔ اگر تم میں سے کسی سے نادانی کے سبب کوئی غلطی صادر ہوجائے گی اور اس کے بعد وہ توبہ و اصلاح کرلے گا تو اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اہل ایمان کی اصلی چاہت : یہاں اللہ تعالیٰ نے وج بشارت دی ہے وہ صرف رحمت و مغفرت کی ہے۔ اس کے ساتھ کسی دنیوی مال و جاہ کا کوئی لوث نہیں ہے۔ اس سے اللہ کے ان غریب، لیکن دنیا اور سر و سا ان دنیا سے بےنیاز، بندوں کے باطن پر روشنی پڑتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ سروسامان دنیا سے محروم ہونے کے باوجود اپنے دل میں اس دنیا کا کوئی ارمان نہیں رکھتے تھے۔ ان کے دل کو اگر لگن تھی تو اس بات کی تھی کہ ان کو اپنے خالق ومالک کی رضا حاصل ہو۔ اوپر ان کی صفت بھی یہی بیان ہوئی ہے یدعون ربہم بالغداۃ والعشی یریدون وجہہ، اللہ تعالیٰ نے ان کی اس باطنی آرزو کے لحاظ سے ان کو اسی چیز کی بشارت دی جس کے وہ سب سے زیادہ طلب گار تھے۔ اس سے اشارۃ یہ بات بھی نکلی کہ دنیا کے پرستار جن چیزوں پر مرتے ہیں، اللہ کے باایمان بندوں کی نگاہوں میں ان کی قدر و قیمت بال مگس کے برابر بھی نہیں، نہ اس دنیا میں نہ آخرت میں۔
Ayah 6:55

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل کرتے ہیں تاکہ اہل ایمان کی روش بھی واضح ہوجائے اور مجرموں کا رویہ بھی بےنقاب ہوجائے۔

یہاں وَلِتَسْتَبِيْنَ کا معطوف علیہ محذوف ہے۔ اگر پوری بات کھول دی جائے تو یوں ہوگی وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ المومنین وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ۔ اس قسم کے حذف کی متعدد مثالیں گزر چکی ہیں۔ اوپر تفصیل سے بیان ہوا کہ جو لوگ ایمان نہیں لاا چاہتے ان کی روش کیا ہوتی ہے اور جو ایمان لاتے ہیں ان کا طریقہ کیا ہوتا ہے۔ آخر میں یہ اشارہ فرما دیا کہ یہ ساری تفصیل ہم نے اسی لیے سنائی ہے کہ تم پر دونوں کی روش اور دونوں کا انداز فکر واضح ہوجائے تاکہ بلا سبب کوئی چیز وجہ پریشانی نہ بنے۔ اگلی آیات 56 تا 67 کا مضمون : آگے وہی مضمون جو اوپر سے چلا آ رہا ہے نئے انداز اور نئے پہلوؤں سے بیان ہوا ہے۔ پہلے پیغمبر ﷺ کی زبان سے اعلان کرایا ہے کہ تم خدا کے شریک ٹھہراتے ہو اور اس شرک کی حمایت میں مجھ سے لڑتے ہو لیکن مجھے ان شریکوں کی عبادت سے میرے رب نے روک دیا ہے۔ اس وجہ سے میرے لیے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ میں تمہاری بدعتوں کی پیروی کروں۔ یہ بات کہ خدا نے مجھے اس بات سے روک دیا ہے۔ ایک واضح دلیل اور قطعی حجت پر مبنی ہے۔ اس باب میں میرے رب کی شہادت اس وحی کی صورت میں موجود ہے جو مجھ پر آتی ہے لیکن تم اس وحی کو جھٹلاتے ہو اور اس وقت تک اس کی تصدیق کے لیے تیار نہیں ہو جب تک تم کو خدا کا عذاب نہ دکھا دیا جائے۔ یہ چیز میرے اختیار میں نہیں ہے۔ اس کا اختیار خدا ہی کو ہے۔ اگر یہ چیز میرے اختیار میں ہوتا۔ میں اس کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتا کہ میرا رب اس جھگڑے کا فیصلہ فرمائے گا لیکن کب اور کس طرح ؟ اس کا جواب صرف اسی کے پاس ہے جو اپنی کائنات کے تمام رازوں اور بھیدوں کو جاننے والا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ بات کہ مرنے کے بعد ایک روز اٹھنا اور اٹھنے کے بعد ایک ہی خدا کے آگے حاضر ہونا ہے پھر سب کو اپنے مولائے حقیقی کے آگے جواب دہی کرنی ہے، ای ایسی حقیقت ہے جس کا ریہرسل اس دنیا کے سٹیج پر ہر روز ہو رہا ہے لیکن جو لوگ آنکھیں بند کیے ہوئے ہوں ان کا کیا علاج ! اس کے بعد انسان کی اس نفسیاتی بیماری کی طرف توجہ دلائی کہ یہ جب کسی آزمائش میں ڈالا جاتا ہے تب تو خدا خدا پکارتا ہے اور اس کے سوا سب کو بھول جاتا ہے لیکن اس آزمائش سے خدا جب اس کو نجات دے دیتا ہے تو چھوٹتے ہی اپنی پھچلی سرمستیوں اور حماقتوں میں پھر کھو جاتا ہے، گویا کوئی بات سرے سے ہوئی ہی نہیں اور یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اب وہ خدا کے قابو سے بالکل باہر ہے، مطلب یہ ہے کہ اسی بیماری میں یہ لوگ مبتلا ہیں جو آج عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان سے کہہ دو کہ ہر بات کے لیے خدا کے ہاں ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجائے گا تو دیکھ لو گے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
Ayah 6:56

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

کہہ دو کہ مجھے تو ان کی عبادت سے روکا گیا ہے جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ کہہ دو میں تمہاری خواہشوں کے پیچھے نہیں چل سکتا۔ اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہوجاؤں گا اور پھر راہ پانے والوں میں سے نہ بن سکوں گا۔

لفظ ‘ قل ’ کا عام محل استعمال : لفظ قل اس آیت میں بھی ہے اور بعد کی آیات میں بھی بار بار آیا ہے۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ سب باتیں ان شبہات، اعتراضات، سوالات اور مطالبات کے جواب میں پیغمبر ﷺ کی زبان سے کہلائی گئی ہیں جو اس وقت بحث کی گرما گرمی میں کفار کی طرف سے پیش کیے گئے۔ ان کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ان کے پس منظر کو سامنے رکھنا ضروری ہوتا ہے اس لیے کہ قرآن میں یہ وضاحت ہر جگہ موجود نہیں ہوتی کہ فلاں بات کفار کی کس بات کے جواب میں کہلائی گئی۔ شرک کی بنیاد خواہش پر ہے : اوپر آیت 14 میں ارشاد ہوا ہے کہ مجھے تو حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں اور مشرکوں میں سے نہ بنو، اس کے بعد یہ بات بیان ہوئی ہے کہ اس باب میں کہ خدا کا کوئی شریک ہے یا نہیں، سب سے بڑی شہادت تو خدا ہی کی ہوسکتی ہے اور خدا کی شہادت جو بشکل قرآن مجھ پر نازل ہوئی ہے وہ تو یہی ہے کہ وہ وحدہ لا شریک ہے۔ اس وجہ سے میں اس شہادت کے خلاف کسی کو اس کا شریک ٹھہرانے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ یہاں اسی اعلان کو منفی پہلو سے دہرایا کہ تم جن چیزوں کو اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی بندگی سے منع کیا گیا ہے۔ یہاں پکارنے سے مراد ظاہر ہے کہ وہ پکارنا ہے جو دعا اور استرحام کی نوعیت کا ہو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو پکارنا در حقیقت اس کی عبادت ہے اور یہ چیز شرک ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ تم اعلان کردو کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کرسکتا، خواہشوں سے مراد مشرکانہ بدعات ہیں اور اھوا، کے لفظ سے تعبیر کر کے قرآن نے ان کے بےبنیاد ہونے کو واضح فرمایا ہے کہ ان کے شریک خدا ہونے کی کوئی شہادت نہ تو عقل و فطت کے اندر موجود ہے نہ خدا کے کلام والہام میں، محض اپنے جی سے تم نے یہ چیزیں گھڑی ہیں اور چونکہ ان کی موہوم شفاعت کی امید نے تمہیں ایمان و عمل اور فکر آخرت کی تمام ذمہ داریوں سے فارغ کردیا ہے، اس وجہ سے یہ تمہارے نفس کو بہت پسند ہیں۔ بہرحال تمہیں پسند ہیں تو ہوں لیکن حقیقت اور خواہش میں بڑا فرق ہے۔ میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ میں حقیقت کو نظر انداز کر کے تمہاری جھوٹی آرزوؤں، باطل خواہشوں اور بےسند بدعات کی پیروی کروں۔ فرمایا کہ اگر میں ایسا کروں تو میں راہ ہدایت سے بھٹک جاؤں گا اور پھر کبھی راہ ہدایت پانے والا نہ بن سکوں گا۔ مطلب یہ ہے کہ اول تو شرک کی ضلالت ہے ہی ایسی ضلالت کہ آدمی صراط مستقیم سے ہٹ کر ایسی کج پیچ کی پگڈنڈیوں میں گم ہوجاتا ہے کہ اس کے لیے اصل راہ پر آنا ناممکن ہوجاتا ہے، دوسرے خدا کی صریح ممانعت کے بعد اگر میں نے یہ غلطی کی تو پھر کون ہے جس کی توفیق بخشی میرا سہارا بنے گی اور وہ میرا ہاتھ پکڑ کر صحیح راہ پر لائے گا ؟
Ayah 6:57

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

کہہ دو میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے، وہ چیز میرے پاس نہیں ہے جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو، اس کا فیصلہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہی حق کو واضح کرے گا اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے

بَيِّنَةٍ سے مراد قرآن ہے : قُلْ اِنِّىْ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَكَذَّبْتُمْ بِهٖ ، بینۃ سے مراد قرآن مجید ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے بطور شہادت اتارا ہے کہ اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں ہے۔ اس شہادت کا ذکر پیچھے آیت 19 میں گزر چکا ہے۔ آگے آیت 157 میں قرآن کے لیے یہی لفظ استعمال ہوا ہے۔ او تقولوا لو انا انزل علینا الکتب لکنا اھدی منہم فقد جاء کم بینۃ من ربکم و ھدی و رحمۃ (یا کہیں تم یہ کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے یادہ ہدایت یافتہ ہوتے، سو دیکھ لو تمہارے پاس بھی تمہارے رب کی جانب سے ایک واضح شہادت اور ہدایت و رحمت آگئی)۔ وَكَذَّبْتُمْ بِهٖ میں ضمیر کا مرجع بینۃ ہے، لیکن لحاظ مفہوم کا ہے اس وجہ سے ضمیر مذکر آئی ہے۔ قرآن میں یہ اسلوب بہت استعمال ہوا ہے کہ ضمیر لفظ کے ظاہر کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس کے مفہوم کے لحاظ سے استعمال ہوئی ہے۔ علامہ ابن قیم نے اپنی کتابوں میں اس اسلوب پر بڑی سیر حاصل بحث کی ہے۔ مناسب مواقع پر ہم اس کی بلاغت پر بحث کریں گے۔ یہاں قرآن کے لیے بینۃ کا لفظ استعمال کر کے اس کا ایک حجتِ قاطع اور شہادتِ واضح ہونا ظاہر کردیا ہے پھر ضمیر اس کے لیے مذکر کی استعمال کر کے یہ بھی ظاہر کردیا کہ اس سے مراد قرآن ہے۔ قرآن ایک حجت قاطع ہے : مطلب آیت کا یہ ہے کہ تم تو محض ہوا میں تیر چلا رہے ہو اور اپنی خواہشوں کی پرستش کر رہے ہو۔ تمہارے پاس اپنے ان فرضی معبودوں کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے جس سے تم یہ ثابت کرسکو کہ خدا نے ان کو اپنا شریک بنایا ہے۔ اس کے برعکس میں خدا کی طرف سے ایک حجت، ایک برہان اور ایک قطعی شہادت پر ہوں اور اسی کو تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ خدا نے یہ بینۃ خود مجھ پر اتاری ہے اور یہ ایسی واضح ہے کہ اس کی تکذیب کی گنجائش نہیں ہے لیکن تم اس کی تکذیب کرتے ہو اور بجائے اس کے کہ اس کو سمجھو اور مانو مجھ سے مطالبہ کرتے ہو کہ میں تمہیں خدا کا عذاب دکھا دوں تو تم اس کتاب کی صداقت تسلیم کرو گے
Ayah 6:58

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر وہ چیز میرے پاس ہوتی جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان جھگڑے کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور اللہ ظالموں سے خوب باخبر ہے۔

‘ ما عندی ما تستعلجلون بہ ’ سو یہ عذاب، جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو، میرے پاس نہیں ہے۔ اس معاملہ کا فیصلہ کرنا خدا ہی کے اختیار میں ہے، میں جو کچھ کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ حق کو واضح اور اس نزاع کا فیصلہ کرے گا اور نہایت بہتر طریقہ پر فیصلہ کرے گا وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ اگر وہ چیز جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے میرے اختیار میں ہوتی تو میرے اور تمہارے درمیان جھگڑے کا فیصلہ ہوجاتا۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِيْنَ میں دو پہلو ہیں۔ ایک تو ان کفار کے لیے دھمکی ہے کہ خدا ان ظالموں سے خوب باخبر ہے چناچہ وہ ان کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کے وہ مستحق ہیں۔ دوسرا پہلو اس میں تفویض کا ہے کہ خدا ان ظالموں سے خوب واقف ہے، پس ان کا معاملہ اسی کے حوالے ہے۔ یہاں ظلم سے مراد اپنی جان پر ظلم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔ خدا ان کو اپنی رحمت دے رہا ہے لیکن یہ اس کے عذاب کے طالب ہیں۔ ان کو روٹی دی جا رہی ہے لیکن یہ پتھر مانگتے ہیں۔ ان کو مچھلی عنایت ہوئی ہے مگر یہ سانپ پکڑنے کے درپے ہیں۔
Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ اس کے سوا ان کو کوئی نہیں جانتا۔ بر و بحر میں جو کچھ ہے اس سے وہ واقف ہے کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور نہ زمین کی تہوں ٰں کوئی دانہ گرتا اور نہ کوئی تر اور خشک چیز ہے مگر وہ ایک روشن کتاب میں مندرج ہے۔

مفاتح، مفتح، کی جمع ہے جس کے معنی کنجی کے ہیں۔ یعنی غیب کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، اس کے سوا ان کا علم کسی کے پاس نہیں ہے۔ یہی مضمون دوسرے الفاظ میں یوں بیان ہوا ہے لہ مقالید السموات والارض یبسط الرزق لمن یشاء و یقدر (شوری :12) ، اسی کے قبضہ میں ہیں آسمانوں اور زمین کنجیاں، وہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے، جس کے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ بر و بحر، اور رطب و یابس وگیرہ الفاط احاطہ کے مضمون کو ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی خدا کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ ظلمات الارض سے مراد زمین کی تہیں اور اس کے طبقات ہیں۔ علمِ الٰہی اور توحید و آخرت کا باہمی ربط : یہ اوپر والے مضمون کی مزید توسیع ہے۔ جب فرمایا کہ میرے اختیار میں وہ چیز نہیں ہے جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو۔ اس امر میں فیصلہ کا اختیار صرف خدا کو ہے، تو علم الٰہی کی وسعت اور اس کے احاطہ کے بیان کے لیے ایک نہایت موزوں تقریب پیدا ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کے علم کی اس وسعت کا اعتقاد ہی ہے جو اہل ایمان کے اندر کامل تفویض، کامل اعتماد اور کامل رضا بالقضا کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ اس عمولی غلط فہمی بھی شرک کی راہیں کھول دیتی ہے۔ یہی چیز آخرت پر سچے اور کے ایمان کی بنیاد ہے اور اسی کے صحیح تصور و تذکر سے انسان کے اندر وہ خشیت بھی پیدا ہوتی ہے جو زندگی میں اس کو صحیح روش اختیار کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ قرآن کے اس بیان سے ان لوگوں کی بھی پوری پوری تردید ہوگئی جو خدا کو صرف کلیات کا عالم مانتے ہیں۔ خدا صرف کلیات ہی کا نہیں بلکہ تمام جزئیات کا بھی عالم ہے۔ درخت سے جو پتا گرتا ہے، زمین کی تہوں میں جو دانہ ڈالا جاتا ہے، سب اس کے علم میں ہوتا ہے اور ہر خشک و تر اس کے رجسٹر میں درج ہے اور یہ رجسٹر ایسا نہیں ہے جس میں اس کو کوئی چیز ڈھونڈنی پڑتی ہو بلکہ اس کی ہر چیز ہر آن بالکل واضح ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے محیط کل علم کی ایک تعبیر ہے۔
Ayah 6:60

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہی ہے جو تمہیں رات میں وفات دیتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم نے دن میں کیا ہے، پھر تمہیں اس میں اٹھاتا ہے تاکہ مدت معین پوری کی جائے۔ پھر اسی طرف تمہارا لوٹنا ہے، پھر وہ تمہیں باخبر کرے گا اس چیز سے جو تم کرتے رہے ہو۔

موت، برزخ اور حشر کا تمثیلی مشاہدہ : علم الٰہی کے اس بیان نے موت کے بعد زندگی، اس زندگی کے بعد حساب کتاب اور جزا سزا کی یاد دہانی کے لیے اس طرح تقریب پیدا کردی گویا بات میں سے بات نکل آئی ہے۔ یہ بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ آخرت کے باب میں بڑا مغالطہ لوگوں کو علم الٰہی کے صحیح تصورے فقدان ہی سے پیدا ہوا ہے۔ کم فہم انسان سمجھتا ہے کہ اتنی بیشمار مخلوق کے مرنے اور جینے اور اس کے قول و فعل کے ایک ایک جزئیہ کا علم بھلا کس کو ہوسکتا ہے کہ وہ سب کو موت کے بعد دوبارہ زندہ کرے، ان کو جمع کرے اور پھر ان کا حساب کرنے بیٹھے۔ قرآن نے اسی استبعاد اور اسی مغالطہ کو یہاں دور فرمایا ہے۔ پہلے فرمایا کہ وہی خدا جو درخت سے گرنے والے ہر پتے اور زمین میں دفن ہونے والے ہر دانے کو جانتا ہے تمہیں مرنے کے بعد اٹھائے گا اور جو کچھ تم نے اس دنیا میں کیا ہوگا اس سے تمہیں آگاہ کرے گا۔ اس بات کی تمہید اس طرح اٹھائی ہے کہ یہ مرنا اور مرنے کے بعد از سر نو اٹھنا اور اپنے سارے کیے دھرے سے آگاہ کیا جانا کوئی بہت بعید از قیاس چیز نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ریہر سل ہر شب و روز تمہاری اپنی نگاہوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ ہر شب میں خدا تمہیں وفات دیتا ہے اور جب وفات دیتا ہے تو وہ سب کچھ اس کے علم میں ہوتا ہے جو دن میں تم نے کیا ہوتا ہے۔ پھر دوسرے دن میں خدا تم کو اٹھاتا ہے اور اس طرح تمہاری وہ مدت حیات اور اجل معین پوری ہوتی ہے جو خدا نے تم میں سے ہر ایک کے لیے مقرر کی ہوئی ہے۔ گویا زندگی، موت، برزخ اور موت کے بعد اٹھائے جانے کا تمثیلی مشاہدہ تم میں سے ہر شخص کو ہر روز کرایا جا رہا ہے، خدا نے یہ دنیا بنائی ہے اس طرح ہے کہ وہ اپنی رات اور دن کی گردشوں سے ان تمام حقائق کا درس دے رہی ہے جن کی تمہیں دعوت دی جا رہی ہے بشرطیکہ تمہارے پاس دیکھنے والی آنکھیں اور سمجھنے والے دل ہوں۔ قرآن نے یہاں ہر شب میں سونے کو وفات سے اور ہر صبح کے اٹھنے کو بعث سے تعبیر کر کے توجہ دلائی کہ مرنا اور اٹھنا تو ہر روز ہو رہا ہے، جس طرح تمہارا سونا اور جاگنا ہے اسی طرح تمہارا مرنا اور اٹھنا ہے اور جس طرح تم میں سے کسی سونے والے کے دن کے اعمال سے خدا لا علم نہیں ہوتا اسی طرح جب تم موت کی نیند سوؤ گے تو خدا تمہاری زندگی کے اعمال بھول نہیں جائے گا اور جس طرح تمہاری ہر شب کی نیند کے بعد صبح ہوتی ہے اور تم آنکھیں ملتے ہوئے اٹھ بیٹھتے ہو اسی طرح موت کی نیند کے بعد قیامت کی صبح آئے گی اور تم ایسا محسوس کروگے کہ یہ جو کچھ ہوا سب صبح و شام کا قصہ ہے۔
Ayah 6:61

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ تم پر اپنے نگران مقرر رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ پہنچتا ہے تو ہمارے فرستادے ہی اس کی روح قبض کرتے ہیں اور وہ اس کام میں کوتاہی نہیں کرتے۔

لفظ قہر کا مفہوم آیت 18 اور تفریط کا مفہوم آیت 38 کے تحت بپا ہوچکا ہے۔ حفظۃً ، حافظ کی جمع ہے جس کے معنی کسی شے کی نگرانی کے ذمہ دار کے ہیں۔ اس سے مراد یہاں وہ خدائی ہرہ دار ہیں جو ہر جان پر خدا کی طرف سے برابر مقرر رہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی یہ نہ خیال کرے کہ خدا اپنی مخلوق کے کسی فرد اور اپنے گلے کی کسی بھیڑ سے کبھی غافل ہوتا ہے، سب ہر وقت اسی کے کنٹرول میں ہیں۔ وہ برابر اپنے نگران فرشتوں کو ان پر مقرر رکھتا ہے جو ایک پل کے لیے بھی ان کی نگرانی سے غافل نہیں ہوتے۔ پھر جب کسی کی موت کا وقت آتا ہے تو فرمایا“ ہمارے فرستادہ فرشتے ہی اس کی روح قبض کرتے ہیں اور مجال نہیں ہے کہ وہ اس کام میں کوئی کوتاہی کریں ”نہ ان کے قابو سے کوئی باہر نکل سکتا، نہ کسی کو وہ فراموش کرسکتے، نہ کسی کی موت ایک لمحہ کے لیے بھی آگے پیچھے ہوسکتی۔
Ayah 6:62

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر وہ سب اللہ، اپنے مولائے حقیقی، ہی کی طرف لوٹ جائیں گے۔ آگاہ کہ فیصلہ کا سارا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ سب سے زیادہ تیز حساب چکانے والا ہے۔

ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ ، پھر سب اللہ ہی کی طرف، جو سب کا مولائے حقیقی ہے لوٹائے جائیں گے۔ یعنی مرنے کے بعد سابقہ ہر ایک کو خدا ہی سے پیش آنا ہے اس لیے کہ مولائے حقیق وہی ہے۔ دوسرے شرکاء و شفعا لوگوں نے گھڑ رکھے ہیں وہ کچھ کام نہیں آئیں گے۔ الا لہ الحکم اور کان کھول کر سن لو کہ فیصلہ کا سارا اختیار تنہا اسی کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس کے اذن کے بغیر کوئی اس کے سامنے زبان نہ کھول سکے گا۔ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ یعنی یہ نہ سمجھو کہ ساری خدائی کے اتنے لمبے چورے حساب میں اس کو کچھ زحمت پیش آئے گی یا اس میں زمانہ صرف ہوجائے گا۔ وہ سارا حساب ایک لمحہ میں سب کے سامنے رکھ دے گا۔ اس کی ‘ کتاب مبین ’ ہر شخص کے ہر چھوٹے بڑے عمل کا سارا ریکارڈ اس کے آگے پیش کردے گی۔
Ayahs 6:63–64

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

ان سے پوچھو، خشکی اور تری کی تاریکیوں سے تم کو کون نجات دیتا ہے جبکہ اسی کو تم پکارتے ہو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے کہ اگر اس نے ہم کو نجات دے دی اس مصیبت سے تو ہم اس کے شکر گزار بندوں میں سے بن جائیں گے ؟

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

کہہ دو اللہ ہی تم کو نجات دیتا ہے اس مصیبت سے بھی اور دوسری ہر تکلیف سے لیکن تم پھر شرک کرنے لگتے ہو۔

63 تا 64: قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، ظلمات، مصائب اور آفات کی تعبیر ہے، سمندر کی تاریکیوں کا ذکر قرآن نے سورة نور میں یوں فرمایا ہے۔ او کظلمات فی بحر لجی یغشاہ موج من فوقہ موج من فوقہ سحاب، ظلمات بعضہا فوق بعض، اذا اخرج یدہ لم یکد یراھا، یا کسی گہرے سمندر کی تاریکیاں جس میں موج کے اوپر موج اٹھ رہی ہو، اور اس کے اوپر باد چھائے ہوئے ہوں، تاریکیوں کے اوپر تاریکی، جب اپنا ہاتھ نکالے تو وہ بھی اس کو سجھائی نہ دے، اسی طرح کے طوفانوں اور مصائب سے آدمی کو خشکی میں بھی سابقہ پیش آجاتا ہے۔ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً۔ تدعون، ینجیکم کی ضمیر مفعول سے حال پڑا ہوا ہے۔ لفظ کی تحقیق آیت 44 کے تحت گزر چکی ہے۔ یہاں اس کے بالمقابل خفیۃ کا لفظ ہے جس کے معنی چپکے چپکے کے ہیں۔ اس وجہ سے تضرع کے معنی گڑگڑانے اور آہ وزاری کے ساتھ التجا و فریاد کرنے کے ہوں گے۔ لئن انجانا الایۃ، اسی دعا کا بیان ہے جو اس طرح کے حالات میں ہر شخص کے دل اور زبان پر ہوتی ہے۔ ان آیات میں انسان کی ایک نفسیاتی بیماری سے بھی پردہ اٹھایا ہے اور ساتھ ہی توحید کی ایک نفسیاتی دلیل کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے۔ سیاق کلام وہی مطالبہ عذاب کی تردید کا ہے جو اوپر سے چلا آرہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسا کا عجیب حال ہے کہ جب کسی آفت میں گرفتار ہوتا ہے تب تو گڑ گڑا کر بھی اور دل میں چپکے چپکے بھی خدا ہی کو پکاراتا ہے اور یہ عہد کرتا ہے کہ اس مصیبت سے خدا نے نجات دی تو اب اس کا شکر گزار اور فرمانبردار بندہ بن کر زندگی گزاروں گا۔ لیکن جب اس سے نجات پا جاتا ہے تو پھر ناشکری و نافرمنی کی وہی زندگی اختیار کرلیتا ہے جس میں پہلے مبتلا تھا اور یہ سمجھ بیٹھتا ہے گویا خدا کی خدائی سے باہر ہوگیا ہے اور اب کبھی خدا کی پکڑ میں آ ہی نہیں سکتا۔ یہاں تک کہ اگر خدا کی پکڑ سے اس کو ڈرایا جاتا ہے تو ڈھیٹ ہو کر عذاب کا مطالبہ کرتا ہے کہ عذاب دکھا دو تو مانوں گا۔ فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ سمندر میں یا خشکی میں جب تم کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہو تو کون تم کو اس گردابِ مصیبت سے نجات دیتا ہے جبکہ تم خدا ہی کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارتے ہو اور یہ عہد کرتے ہو کہ اگر خدا نے ہمیں آفت سے بچایا تو ہم اس کے شکر گزار بندے بن کر زندگی بسر کریں گے ؟ پھر خود ہی اس کا جواب دلوایا کہ وہ خدا ہی ہے جو تمہیں اس آفت سے بھی نجات دیتا ہے اور دوسری تمام مصیبتوں سے بھی وہی نجات دیتا ہے، خواہ چھوٹی ہوں یا بڑی اور خواہ تم ان کے لیے اس کو پکارو یا نہ پکارو، لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ اس کے بعد پھر تم شرک کرنے لگتے ہو۔ یہاں دو باتیں خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کی ہیں۔ ایک توحید کی نفسیاتی دلیل جو ضمناً بیان ہوگئی ہے وہ یہ ہے کہ جب انسان کسی سخت مصیبت میں پھسنتا ہے تو وہ خدا ہی کی طرف متوجہ ہوتا ہے، دوسرے تمام سہارے اس کے نزدیک بےحقیقت ہوجاتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کی اصل فطرت کے اندر صرف خدا ہی کا اعتماد جاگزیں ہے، دوسری چیزیں محض بناوتی ہیں جو آزمائش کی بھٹی میں پڑھنے کے بعد جھوٹے ملمع کی طرح اڑجاتی ہیں۔ یہ دلیل قرآن میں مختلف اسلوبوں سے نہایت موثر تمثیلوں میں بیان ہوئی ہے، ہم نے اس کی پوری وضاحت اپنی کتاب، حقیقت توحید، میں مستقل عنوان سے کی ہے۔ دوسری یہ کہ یہاں شکر اور شرک کو دو مقابل چیزوں کی ھیثیت سے رکھا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ شرک صرف یہی نہیں ہے کہ آدمی بتوں کو پوجے بلکہ وہ استکبار بھی شرک ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان اللہ کی نعمتوں کو اپنے استحقاق ذاتی کا ثمرہ اور اپنی تدبیر و قابلیت کا نتیجہ سجھنے لگتا ہے اور پھر فخر و غرور کے نشہ میں اکڑتا، دندناتا، اتراتا اور من مانی کرنے لگ جاتا ہے، یہ حالت شکر کی ضد ہے اور جس کے اندر یہ خناس سما جاتا ہے، وہ خود اپنے آپ کو خدائی میں شریک سجھنے لگتا ہے، قرآن نے اس زہنیت کی تصویر سورة کہف میں اس طرح کھینچی ہے۔ وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلا رَجُلَيْنِ جَعَلْنَا لأحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاهُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا (32) كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ آتَتْ أُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِنْهُ شَيْئًا وَفَجَّرْنَا خِلالَهُمَا نَهَرًا (33) وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَنَا أَكْثَرُ مِنْكَ مَالا وَأَعَزُّ نَفَرًا (34) وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَنْ تَبِيدَ هَذِهِ أَبَدًا (35) وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِنْ رُدِدْتُ إِلَى رَبِّي لأجِدَنَّ خَيْرًا مِنْهَا مُنْقَلَبًا (36) قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَكَفَرْتَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّاكَ رَجُلا (37) لَكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي وَلا أُشْرِكُ بِرَبِّي أَحَدًا (38): اور ان کے لیے دو شخصوں کی تمثیل بیان کرو۔ اسن میں سے ایک کے لیے ہم نے انگور کے دو باغ بنائے، ان کو کھجور کے درختوں سے گھیرا اور ان کے درمیان کھیتی اگائی، دونوں باغ خوب پھل لائے، کچھ کمی نہیں کی۔ ہم نے ان کے درمیان ایک نہر جاری کی، اس میں پھل آئے تو اس نے اپنے ساتھی سے کہا اور وہ اس سے مفاخرت کر رہا تھا کہ میں تم سے مال میں زیادہ اور جمعیت میں قوی ہوں اور وہ اپنے باغ میں آیا اور وہ اپنی جان پر آفت لا رہا تھا اور وہ بولا میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی برباد ہوسکے گا اور میں قیامت کے ہونے کا بھی گمان نہیں رکھتا اور اگر مجھے اپنے رب کی طرف جانا ہی ہوا تو اس سے بہتر ٹھکانا پاؤں گا۔ اس کے ساتھی نے جواب میں کہا کیا تم نے اس خدا کی ناشکری کی جس نے تم کو مٹی سے بنایا، پھر پانی کی ایک بوند سے، پھر ایک مرد بنا کر کھڑا کیا لیکن میرا رب تو وہی اللہ ہے، میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہ بناؤں گا۔
Ayah 6:65

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

کہہ دو خدا قادر ہے اس بات پر کہ تم پر تمہارے اوپر سے کوئی عذاب بھیج دے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے کوئی عذاب اٹھا دے یا تم کو گروہ در گروہ کر کے آپس ہی میں گتھم گتھا کردے اور ایک کو دوسرے کے تشدد کا مزا اچھی طرح چکھا دے، دیکھو کس کس طرح ہم اپنی آیتیں مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں۔

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ الایہ : یعنی یہ نہ سمجھو کہ آج اگر امن و اطمینان کی زندگی حاصل ہے تو پھر کبھی خدا کی پکڑ میں آ ہی نہیں سکتے، خدا جب چاہے تمہارے اوپر سے پتھر برسا دے، بجلی گرا دے، گردباد بھیج دے۔ اسی طرح جب چاہے، عین تمہارے پاؤں کے نیچے سے زلزلہ، سیلاب یا کوئی اور آفت ارضی بھیج دے۔ یہ نہیں تو تمہیں آپس ہی میں قبیلہ قبیلہ، گروہ گروہ اور قوم قوم کو باہم دگر ٹکرا دے اور ایک دوسرے کے ظلم و تشدد کا ما چکھا دے۔ ان میں سے ہر بات، ہر وقت خدا کی قدرت میں ہے، فرمایا، دیکھو کس طرح ہم اپنی قدرت کی نشانیاں اور اپنے اختیار و تصرف کی دلیلیں مختلف اسلوبوں سے بیان کرتے ہیں کہ یہ سمجھیں لیکن یہ سمجھنے کے بجائے ہمارا عذاب ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا الایۃ، لبس، کے معنی خلط، یعنی ملانے اور گڈ مڈ کرنے کے ہیں۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ تم کو گروہ در گروہ کر کے آپس میں ایک دوسرے سے گتھم گتھا کر دے۔
Ayah 6:66

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور تمہاری قوم نے اس کی تکذیب کردی حالانکہ وہ بالکل حق ہے۔ کہہ دو میں تمہارے اوپر کوئی داروغہ نہیں مقرر ہوا ہوں۔

وَكَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ ، یعنی قرآن نے ان کو جس عذاب کی دھمکی دی ہے وہ ایک امر واقعی اور شدنی ہے لیکن تمہاری قوم نے اس کی تکذیب کردی ہے۔ اب ان کا معاملہ ہم پر چھوڑو اور ان سے کہہ دو کہ لَّسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ میں تم پر کوئی داروغہ بنا کر نہیں بھیجا گیا ہوں کہ لازماً تمہیں ایمان و اسلام کیر اہ پر چلا ہی دوں ورنہ مجھ سے پرسش ہوجائے گی۔ میرے اوپر تو ذمہ داری صرف انذار و تبلیغ کی تھی وہ میں نے ادا کردی۔ میں اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوا۔ اب اگر تم عذاب کے لیے مچلے ہوئے ہو تو لکل نبا مستقر، ہر بات کے ظہور کے لیے خدا کی تقویم میں ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت مقرر آجائے گا تم خود اس کو دیکھ لو گے۔ وَكَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ ، میں ضمیر کا مرجع وہ عذاب بھی ہوسکتا ہے جس کا آیت 58 میں ذکر ہے اور قرآن بھی ہوسکتا ہے جو اس عذاب کی خبر دے رہا ہے اور جس کی طرف آیت 57 میں اشارہ ہے۔
Ayah 6:67

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر بات کے لیے ایک وقت مقرر ہے اور تم عنقریب جان لوگے۔

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْـتَقَرٌّ، نبا، کسی اہم حادثہ کی خبر کو کہتے ہیں۔ یہاں اس سے مراد اس عذاب کی خبر ہے جو قرآن دے رہا تھا۔ مستقر، موضع استقرار اور وقت استقرار دونوں مفہوم میں ہوسکتا ہے۔ نیز مصدر کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے۔ ہم نے وقت استقرار کے مفہوم میں لیا ہے۔ اگلی آیات 68 تا 73 کا مضمون : آگے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کی طرف التفات ہے کہ جو ضدی اور ہٹ دھرم لوگ بات سننا چاہتے ہی نہیں ان کے یادہ درپے ہونے کی ضرورت نہیں ہے، جب دیکھو کہ یہ لوگ کج بحثیوں اور استہزاء پر اتر آئے ہیں تو ان کو چھوڑ کر الگ ہوجاؤ، صرف اسی وقت ان کے سامنے کوئی بات پیش کرو جب وہ کچھ سننے سمجھنے کے موڈ میں نظر آئیں۔ تمہاری ذمہ داری تبلیغ و تذکیر تک محدود ہے۔ تم ان کے ایمان کے ذمہ دار تو ہو نہیں کہ ان کے دلوں میں ایمان اتار ہی دو ، ان کی نت نئی فرمائشوں کی بھی پروا نہ کرو۔ بس اسی قرآن کے ذریعہ سے حق نصیحت ادا کردو کہ جس کو سنبھلنا ہو سنبھل جائے، اپنے عمل کی پاداش میں مارا نہ جائے۔ خدا کے ہاں نہ کسی کی حمایت و سفارش کام آئی ہے اور نہ کوئی معاوضہ پیش کرنے کی گنجائش ہوگی۔ اس کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ کی زبان سے اعلان کرا دیا گیا ہے کہ ہم اللہ کی ہدایت پا جانے کے بعد شرک کی حیرانی و سرگشتگی میں پڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہمیں اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کے حوالے کرنے، اسی کی نماز پڑھنے اور اسی سے ڈرتے رہنے کی ہدایت ہوئی ہے، ہم نے اپنے آپ کو اسی کے حوالے کردیا ہے، جس کا جی چاہے یہ راہ اختیار کرے، ورنہ جہاں چاہے بھٹکتا پھرے، مطلب یہ ہے کہ اب اس معاملے میں کسی بحث وجدال کی گنجائش نہیں ہے، ہم اپنے مذہب و مسلک کا واضح طور پر اعلان کیے دیتے ہیں۔ آخر میں اس کارخانہ کائنات کے بالحق ہونے کی طرف اشارہ فرمایا جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ قیامت لازماً آئی ہے اس دن خدا ہی کے اختیار میں فیصلہ ہوگا۔ وہ حکیم وخبیر ہے۔ اس دن حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا سب پر واضح ہوجائے گا، اس وجہ سے یہ نہیں سنتے تو ان کا معاملہ اسی دن پر چھوڑو، اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
Ayah 6:68

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں میں میں میکھ نکالتے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہوجاؤ یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مصروف ہوجائیں، اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ان ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو

خوض کا مفہوم : خوض کے معنی کسی چیز میں گھس جانے کے ہیں۔ خاض الماء، وہ پانی میں گھس گیا اسی سے خوض فی الحدیث کا محاورہ نکلا ہے جس کے معنی ہیں بات میں سے بات نکالنا بال کی کھال ادھیڑنا، کسی بات میں اعتراض، نکتہ چینی اور کٹ حجتی کے نت نئے پہلو پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔ قرآن میں یہ لفظ کئی جگہ استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ اسی طرح کی سخن گستری کے لیے استعمال ہوا ہے جس کا مقصد کسی بات کو ہنسی دل لگی اور مذاق میں اڑا دینا ہو۔ مثلا ولئن سالتہم لیقولن انما کنا نخوض و نلعب (اگر تم ان سے پوچھو تو جواب دیں گے ہم تو بس ذرا سخن گستری اور ٹھٹول کر رہے تھے) یہاں بھی آگے والی آیت وذر الذین اتخذوا دینہم لعبا ولہوا، میں لفظ کی اس حقیقت کو کھول دیا ہے اس لیے کہ اس سے مراد وہی لوگ ہیں جو آیات الٰہی میں خوض کرتے ہیں۔ گویا خوض کے بعد اس کا مقصد واضح کردیا گیا ہے۔ قرآن نے سورة نساء میں اس خوض کی تفسیر بھی فرما دی ہے۔ چناچہ اسی آیت کا حوالہ دے کر، جیسا کہ ہم تفسیر سورة نساء میں واضح کرچکے ہیں، وہاں فرمایا ہے۔ وقد نزل علیکم فی الکتاب ان اذا سمعتم ایات اللہ یکفر بہا و یستہزا بہا فلا تقعدو معہم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ (نساء :140) اور وہ قرآن میں تمہیں ہدایت دے چکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا کفر کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو تم ان کے پاس نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں لگ جائیں۔ یہاں اس خوض کی وضاحت اللہ کی آیات کے کفر اور ان کا مذاق اڑانے سے کی گئی ہے۔ خطاب اگرچہ بصیغہ واحد ہے مگر عام ہے : یہاں خطاب اگرچہ واحد کے صیغہ سے ہے جس کا غالب قرینہ یہی ہے کہ خطاب آنحضرت ﷺ سے ہو لیکن یہ خطاب آنحضرت ﷺ کے واسطہ سے تمام مسلمانوں سے ہے۔ چناچہ اشارۃً آگے بتا بھی دیا ہے کہ یہ خطاب معنی عام ہی ہے۔ چناچہ بعد والی آیت میں یہ جو فرمایا کہ وما علی الذین یتقون من حسابہم من شیء کہ خدا سے ڈرنے والوں پر ان کافروں کے کفر و ایمان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، اس نے اس خطاب کے پہلو کو واضح کردیا کہ خطاب بحیثیت مجموعی تمام مسلمانوں سے ہے۔ پھر سورة نساء کی اس آیت میں، جس کا حوالہ اوپر گزرا ہے، صاف لفظوں میں بتادیا کہ یہ خطاب عام ہی ہے۔ اس لیے کہ وہاں سورة انعام کی اسی ہدایت کی بنا پر ان لوگوں پر گرفت فرمائی جنہوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی تھی۔ اس ہدایت کے دو پہلو : اس ہدایت کے دو پہلو ہیں اور دونوں نہایت اہم ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ رویہ اس حکمت دعوت کے خلاف ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی تبلیغ کے لیے پسند فرمائی ہے جس وقت کسی گروہ، کسی چیز کی مخالفت، اس کی تضحیک اور اس کی تردید کا بخار چڑھا ہوا ہو اور بخار کی شدت سے مریض کی کیفیت ہذیانی ہو رہی ہو عین اسی حالت میں اس کے سامنے اس چیز کو پیش کرنا گویا اس کے بخار اور ہذیان دونوں کا مزید بڑھا دینا ہے۔ اگر کوئی معالج مریض کی بیماری ہی میں اضافہ چاہتا ہو تو وہ تو آزاد ہے جو چاہے لیکن کوئی مہربان طبیب جو مریض کی صحت کا خواہاں ہے وہ کبھی ایسی غلطی نہیں کرے گا۔ اسی رعایت احوال کے پیش نظر یہاں مسلمانوں کو ہدایت ہوئی کہ جب تم تم دیکھو کہ یہ اسلام کے مخالفین قرآن کا مذاق اڑانے پر تلے ہوئے، طنز و تضحیک کے ترکش سنبھالنے ہوئے اور مخالفت کے لیے آستین چرھائے ہوئے ہیں تو اس وقت طرح دے جاؤ اور کسی ایسے وقت کا انتظار کرو جب یہ بحرانی کیفیت ذرا دور ہوجائے تو اس وقت ان کو سنانے اور سمجھانے کی کوشش کرو۔ دوسرا یہ کہ یہ اس غیرت حق کے منافی ہے جو اہل ایمان کے اندر ہوتی ہے یا ہونی چاہئے۔ اگر کوئی شخص یا گروہ علانیہ خدا اور رسول کے خلاف بکواس کرتا ہے تو اس سے لڑنا بھی ایک داعی کے لیے غلط، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اور خاموش رہنا بھی غلط، اس لیے کہ اس سے وہ حمیت حق مجروح ہوتی ہے جو علامتِ ایمان ہے اور جس کا ضعف بالآخر درجہ بدرجہ آدمی کو اس نفاق میں مبتلا کردیتا ہے جس میں مبتلا ہوجانے کے بعد اللہ، رسول، قرآن اور شریعت ہر چیز کی توہین و تذلیل وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور کانوں سے سنتا ہے لیکن اس کو ایسا سانپ سونگھ جاتا ہے کہ زبان کھولنے کی جرات نہیں کرسکتا۔ یہاں اس ہدایت کے اندر یہ دونوں ہی پہلو ملحوظ ہیں۔ پہلا تو سیاق کلام ہی سے واضح ہے اور دوسرے کو قرآن نے سورة نساء کی مذکورہ بالا آیت میں واضح فرما دیا اس لیے کہ اسی ہدایت کا حوالہ دے کر وہاں منافقین پر گرفت فرمائی ہے کہ یہ لوگ مخالفین اسلام کی ان مجلسوں میں شریک ہوتے ہیں جہاں اللہ کی آیت کا علانیہ مذاق اڑایا جاتا ہے حالانکہ ان کو قرآن میں اس سے روکا جا چکا ہے۔ شریعت کا مذاق اڑانے والوں کے ساتھ بیٹھنا بےغیرتی اور اس پر راضی رہنا نفاق ہے :‘ آیات ’ سے مراد یہاں ظاہر ہے کہ قرآن کی آیات میں اس لیے کہ جن لوگوں کا حال یہ بیان ہورہا ہے ان کے سامنے قرآن ہی پیش کیا جا رہا تھا اور وہ اسی کو مذاق بنا رہے تھے لیکن یہ حکم بعینہ ساری شریعت اور اس کے سارے احکام کا ہوگا۔ شریعت کا مذاق جہاں بھی اڑایا جائے وہاں بیٹھنا بےغیرتی اور اس پر راضی رہنا نفاق اور کفر ہے۔ وَاِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰي مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : یہ اوپر والی ہدایت کی تاکید مزید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کبھی شیطان اس بات سے غافل ہی کرے تو یاد آجانے کے بعد ایسے ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھو۔ اس تاکید کی ضرورت اس لیے تھی کہ بسا اوقات آدمی کسی مجلس میں جا پہنچتا ہے اور وہاں بات بڑھتے بڑھتے اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ دین و شریعت کے استہزا تک پنچ جاتی ہے۔ ایسے وقت میں آدمی محسوس تو کرتا ہے کہ اب یہ جگہ بیٹھنے کی نہیں رہی لیکن خیال کرتا ہے کہ ھری مجلس سے کس طرح اٹھ کر چلا جائے۔ یا اگر مناظر قسم کا ہوتا ہے تو یہ خیال کرتا ہے کہ اب میدان چھور کر کس طوح وہاں سے ہٹ جائے، حریف کیا کہے گا، یہ دونوں ہی خیال آدمی کے لیے فتنہ ہیں۔ اگر مجلس کا پاس ولحاظ مانع ہے تو یہ قلت غیرت کی دلیل ہے۔ آدمی سوچے کہ اگر اس کے منہ پر اس کے ماں باپ کو گالی دی جائے تو کیا وہ اس کو خاموشی سے گوارا کرلے گا تو خدا اور اس کی شریعت کا حق تو ماں باپ بلکہ تمام دنیا جہان سے بڑا ہے۔ اور اگر وہ بحث و مناظرہ کے لیے وہاں جما رہے گا تو گو اس کی نیت احقاقِ حق اور ابطالِ باطل ہی کی ہو لیکن جب ان لوگوں کے ذہن خراب ہوچکے ہیں جن کو بات سنانی ہے اور ان کو سنانا ان کو مزید اشتعال دلانے کے مترادف ہے تو اس کا ایسے لوگوں کے ساتھ الجھنا صرف مونچھ کی لڑائی بن کر رہ جائے گا۔ مقصد حق کو اس نہ صرف یہ کہ کو ئئی تقویت نہیں پہنچے گی بلکہ الٹے اس سے شدید قسم کا نقصان پہنچے گا۔ اس وجہ سے صحیح روش یہی ہے کہ آدمی اس کو شیطان کا چکمہ سمجھے اور ایسی مجلس سے کان جھاڑ کے اٹھ آئے۔ یہ بات یہاں یاد رہے کہ اماینسینک الشیطان کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ اگر کبھی شیطان کسی چکر میں ڈال کر ایسی صورت حال سے دوچار کرا ہی دے یا ایسے ظالموں سے بھڑا ہی دے تو تمہیں یہ رویہ اختیار کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ اول تو آدمی برابر چوکنا رہے کہ شیطان اس کو اس طرح کے فتنہ میں ڈالنے نہ پائے لیکن اگر وہ کہیں اللہ کی ہدایت سے غافل کر کے کسی فتنے میں ڈال ہی دے تو آدمی متنبہ ہوتے ہی ایسی مجسل کو سلام کرے اور وہاں سے چل دے۔ اس لیے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کا مذاق اڑائیں وہ اپنی جانوں پر سب سے بڑا ظل ڈھانے والے ہیں اور ان کی معیت معلوم نہیں خدا کے کس غضب میں مبتلا کردے۔
Ayah 6:69

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

جو اللہ سے ڈرتے ہیں ان پر ان لوگوں کے حساب کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، بس یاد دہانی کردینا ہے تاکہ وہ بھی ڈریں۔

یہ مسلمانوں کو تسلی اور تبلیغ دین کے معاملے میں اس نقطہ اعتدال اور طریقہ حکمت کو اختیار کرنے کی تلقین ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا، مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے اوپر ان کافروں اور ظالموں سے متعلق جو ذمہ داری ہے وہ صرف اللہ کی دعوت اور اس کے دین کو پہنچا دینے کی ہے تاکہ جس طرح وہ خدا سے ڈرنے والے ہیں اسی طرح یہ کفار بھی خدا سے ڈرنے والے بن جائیں۔ ان کے کفر و ایمان کی کوئی ذمہ داری مسلمانوں پر نہیں ہے۔ یہ اگر ایمان لائیں گے تو اس کا صلہ خود پائیں گے اور اگر کفر پر ارے رہیں گے تو قیامت کو اللہ کے حضور جواب دہ خود بنیں گے۔ مسلمانوں سے جب کہ انہوں نے خدا سے ڈرتے رہنے کا حق ادا کیا، کوئی مواخذہ ان سرکشوں کے باب میں نہیں ہوگا کہ یہ لوگ خدا سے ڈرنے والے کیوں نہ بنے ؟ خدا کے ہاں کوئی شخص کسی دوسرے کی ذمہ داریوں سے متعلق مسئول نہیں ہوگا۔ خدا سے ڈرنے والوں پر جو ذمہ داری دوسروں کے باب میں عائد ہوتی ہے وہ صرف تبلیغ و تذکیر کی ہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے یہ کافی ہے کہ اہل ایمان جب دیکھیں کہ کوئی سازگار موقع ان کے کانوں میں بھی بات ڈال دینے کا ہے تو ان کو اللہ کی بات پہنچا دیں۔ اپنے آپ کو ان کی ہدایت و ضلالت کا مسئول سمجھ کر ان کے تعاقب کی ضروت نہیں ہے۔ یہ مضمون سورة مائدہ کی آیت 105 یا ایہا الذین انوا علیکم انفسکم لایضرکم من ضل اذا اھتدیتم الایۃ کے تحت گزر چکا ہے۔ اس آیت سے کئی باتیں واضح ہوئیں جو ذہن میں رکھنے کی ہیں۔ ایک یہ کہ اوپر والی آیت میں خطاب اگرچہ بصیغہ واحد تھا لیکن کلام کا رخ مسلمانوں کی طرف تھا۔ چناچہ کلام کے تدریجی ارتقا سے یہ حقیقت خود واضح ہوگئی اور یہی قرآن کا معروف اسلوب ہے۔ دوسری یہ کہ اس سے اس جوش دعوت و تبلیغ کا اظہار ہو رہا ہے جو صحابہ ؓ کے اندر پایا جاتا تھا۔ آیت سے صاف مترشح ہو رہا ہے کہ صحابہ کو شہادت حق کی ذمہ داری کا اتنا شدید احساس تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر لوگوں نے ہدایت نہ قبول کی تو شاید آخر میں یہ ان کی کوتاہی خدمت میں محسوب ہو۔ تیسری یہ کہ اس سے دعوت و تبلیغ کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اس لیے کہ آیت سے صاف واضح ہے کہ اہل ایمان سے مواخذہ تو نہیں ہوگا کہ لوگوں نے ہدایت قبول کیوں نہیں لیکن یہ مواخذہ ان سے ہوگا کہ انہوں نے لوگوں کو تذکیر و تبلیغ کی یا نہیں۔
Ayah 6:70

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

ان لوگوں کو چھوڑو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے اور جن کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے اور اسی کے ذریعہ سے یاد دہانی کرو کہ نہ ہو کہ کوئی جان اپنے کیے کی پاداش میں ہلاکت کے حوالے کی جائے۔ اللہ کے آگے نہ اس کا کوئی کارساز ہوگا نہ سفارشی اور اگر وہ ہر معاوضہ بھی دے تو بھی اس سے قبول نہ کیا جائے گا۔ یہی لوگ ہیں جو اپنے کیے کی پاداش میں ہلاکت کے حوالے کیے جائٰں گے۔ ان کے لیے کھولتا پانی پینے کو اور ایک دردناک عذاب ہوگا ان کے کفر کی پاداش میں

وَذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ لَعِبًا وَّلَهْوًا وَّغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا۔ دین سے مراد یہاں وہ دین ہے جو اللہ نے ان کے لیے اتارا تھا جس کو نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ان لوگوں کے سامنے پیش کر رہے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایسے شامت زدہ ہیں کہ جس چیز کو اللہ نے ان کے دین کی حیثیت سے اتارا ہے اس کا مذاق اڑائیں ان سے کس خیر کی امید رکھتے ہو، ان کو چھوڑو، ان کے درپے ہونے کی ضرورت نہیں۔ بازی بازی باریش بابا ہم بازی ! جو لوگ زندگی کے معاملے میں اتنے غیر سنجیدہ، اتنے بےفکرے اور ایسے لا ابالی ہیں کہ دین کو بھی وہ اپنے مسخراپن کا موضوع بنا لیں ان کو مطمئن کرنے کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ وَّغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا۔ منکرین کا اصل مغالطہ : یہ ان کی اس ساری شرارت کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا ہے کہ اصل چیز جس نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے وہ تو اس دنیا کی، ان کے زعم کے مطابق، وہ کامیاب زندگی ہے جو ان کو حاصل ہے اور جس میں وہ مگن ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ کھا رہے ہیں، عیش کر رہے ہیں اور دندنا رہے ہیں، اور کہیں سے ان کے اطمینان میں کوئی رخنہ نہیں ہے۔ اگر ان کی زندگی غلط ہے، جیسا کہ قرآن کہہ رہا ہے، تو پھر وہ تباہ کیوں نہیں کردیے جاتے، اور جب وہ یہاں مسلمانوں سے بہتر حالت میں ہیں تو بالفرض موت کے بعد اٹھنا ہی ہوا تو آخر وہ آخرت میں کیوں اچھے نہیں رہیں گے ؟ ان کا اصلی مغالطہ یہی ہے کہ جب ہماری زندگی کامیاب ہے تو ہمارا رویہ بھی لازماً صحیح ہے۔ وہ اسی دنیا کی زندگی کو کل کی زندگی سمجھے بیٹھے ہیں اور یہ زندگی چونکہ جزا وسزا کے اصول پر نہیں چل رہے ہے بلکہ امتحان و آزمائش کے اصول پر چل رہی ہے، یہاں حق کے ساتھ خدا نے باطل کو بھی ڈھیل دے رکھی ہے، اس وجہ سے وہ اپنی خواہشوں کی پیروی میں باطل ہی کو اپنا دین بنا بیٹھے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی زندگی اور یہی صحیح ہے اور قرآن ان کو جس انجام سے خبردار کر رہا ہے وہ محض ایک موہوم ڈراوا ہے۔ وَذَ كِّرْ بِهٖٓ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ۔ بہ میں ضمیر کا مرجع قرا ان ہے جس کا اوپر آیت 68 میں کر ہے۔ ابسلہ، اسلمہ للھلکۃ، اس کو ہلاکت کے حوالہ کیا، ابسل فلانا لعملہ وبہ وکلہ الیہ، فلان کو اس کے عمل کے حوالہ کردیا، اَن سے پہلے عربی زبان کے معروف قاعدے کے مطابق مضاف لفظ مخافۃ یا اس کے ہم معنی کوئی دوسرا لفظ محذوف ہے۔ اس کے دو ترجمے ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس قرآن کے ذریعے سے تذکیر کرو، نہ ہو کہ کوئی اپنے عمل کی پاداش میں ہلاکت کے حوالہ کی جائے۔ دوسرا یہ کہ اس قرآن کے ذریعے سے یاد دہانی کرو، نہ ہو کہ کوئی جان اپنی کرتوت کے حوالہ کی جائے یا اپنی کرتوت کے بدلے رہن ہو کے رہ جائے۔ دونوں میں حقیقت کے اعتبار سے کچھ زیادہ فرق نہ ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دین کو مذاق بنائے ہوئے ہیں نہ زیادہ ان کے درپے ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ان کے نت نئے مطالبات کے لیے فکر مند ہونے کی، بس اسی قرآن کے ذریعہ سے اپنا فرض تذکیر و تبلیغ جو تم پر عائد ہوتا ہے، ادا کرتے رہو کہ کوئی جان اپنے عمل کی پاداش میں گرفتار عذاب نہ ہو۔ تمہارا فریضہ لوگوں کو اس خطرے سے آگاہ کردینا ہے کہ آگے کی منل میں ہر ایک کو اپنے عمل سے سابقہ پیش آنا ہے۔ عمل ہی ہلاک کرے گا اور عمل ہی نجات دے گا۔ نہ کوئی کسی کا حامی و مددگار ہوگا اور نہ کوئی شفیع و سفارشی اور نہ کسی کے پاس کوئی معاوضہ دینے کو ہوگا اور نہ کسی کا کوئی بڑے سے بڑا معاوضہ قبول ہوگا۔ اس خطرے سے آگاہ کردینا ضروری ہے تاکہ کوئی بیخبر ی میں اپنے ہی عمل کی گرفت میں نہ آجائے، اس آگاہی کے بعد اگر کوئی خود اپنی شامت اعمال میں گرفتار ہونا چاہتا ہے تو اس کی ذمہ داری خود اس پر ہے۔ تم اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو۔ جو لوگ اس آگاہی کی رپوا نہیں کریں گے وہ اپنی کرتوتوں کے حوالے ہوں گے اور ان کے کفر کی پاداش میں ان کے لیے کھولتا پانی پینے کو اور عذاب دردناک ہوگا۔“ کھولتے پانی ”کا ذکر یہاں بطور ‘ نزل ’ یعنی اولین سامان ضیات کے ہے، جیسا کہ جگہ اس کی تصریح ہے، اما ان کان من المکذبین الضالین، فنزل من حمیم۔ : اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہوا تو اس کے لیے اولین سامان ضیافت کھولتا ہوا پانی ہوگا (واقعہ :9)۔ یعنی وہاں اترتے ہی پہلی ضیافت تو ان کی ماء حمیم سے ہوگی پھر اس کے بعد ان کے لیے عذاب الیم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ وَاِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ کا صحیح زور سمجھنے کے لیے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قیامت کے دن مجرمین یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ اپنی اولاد، اپنی بیوی، اپنے بھائی اور اپنے خادان اور ساری دنیا کو فدیہ میں دے کر اس عذاب سے چھوٹ جائیں۔ لیکن ان کی یہ آرزو پوری نہ ہوگی۔ ملاحظہ ہوں آیات 11 تا 14 سورة معارج۔
Ayah 6:71

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

کہہ دو ، کیا ہم اللہ کے سوا ایسی چیزوں کو پکاریں جو نہ تو ہمیں نفع پہنچاتی ہیں نہ نقصان اور ہم پیٹھ پیچھے پھینک دیے جائیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں ہدایت بخشی ہے، اس شخص کے مانند جس کو شیطانوں نے بیابان میں سرگشتہ و حیران چھوڑ دیا ہو، اس کے ساتھی اسے سیدھی راہ کی طرف بلا رہے ہوں کہ ہماری طرف آجا، کہہ دو اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے اور ہمیں حکم ملا ہے کہ ہم اپنے آپ کو عالم کے رب کے حوالہ کریں۔

قُلْ اَنَدْعُوْا۔۔۔ بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ۔ خدا کی ہدایت آجانے کے بعد کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا : اب یہ پیغمبر ﷺ کی زبان سے اعلان کرایا کہ یہ لوگ جو ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ تمہیں پھر اسی گمراہی میں پھنسائی جس سے خدا نے تمہیں نکالا ہے تو تم ان کو صاف صاف سنا دو کہ کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ ہم اللہ کے سوا ایسی چیزوں کو پکاریں جن کو نہ ہمیں نفع پہنچانے پر کوئی اختیار نہ ضرر پہنچانے پر اور اس طرح ہم الٹے پاؤں پھر اسی گمراہی میں جا گریں جس سے خدا نے ہمیں نکلنے کی توفیق بخشی اور ہماری رہنمائی فرمائی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر پہلے ہم اس گمراہی میں مبتلا رہے تو اس کے لیے کچھ عذر تھا لیکن اب اگر ہم رجعت اختیار کریں گے تو ہمارے پاس کیا عذر ہوگا، مَا لَا يَنْفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا میں ان معبودوں کے لیے ‘ ما ’ کا لفظ ان کی تحقیر پر دلیل ہے اور نفع و ضرر کی نفی اصل حقیقت کے اعتبار سے ہے اس لیے کہ ان چیزوں میں سے اگر کسی چیز سے نفع و ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے حکم سے پہنچتا ہے نہ کہ ان میں سے کوئی چیز بذات خود یا باختیار خود نافع و ضار ہے۔ بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ ، مخاطبوں کے لیے نہایت موثر موعظت بھی ہے کہ اس آفتابِ ہدایت کے طلوع ہوجانے کے بعد بھی جو لوگ خود ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور دوسروں کو بھی ٹھوکریں کھلانا چاہتے ہیں وہ ذرا اپنے انجام پر غور کریں۔ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيٰطِيْنُ فِي الْاَرْضِ حَيْرَانَ ۠ لَهٗٓ اَصْحٰبٌ يَّدْعُوْنَهٗٓ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا، استھواء کے معنی کسی کی عقل گم کردینا، ہوش اڑا دینا، حیرا و درماندہ کردینا، ارض کے معنی یوں تو زمین کے ہیں لیکن یہاں گم گشتگی کی تمثیل بیان ہو رہی ہے اس وجہ سے قرینہ بتا رہا ہے کہ اس سے مراد صحرا اور بیابان ہے جہاں راہ بھٹکنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ فعل استھواء کی نسبت شیاطین کی طرف اس مفہوم کے اعتبار سے ہوتا ہے جو تمثیل میں مضمر ہے۔ یہ تمثیل ایمانی و اخلاقی گم گشتگی کی ہے جس میں زیادہ دخل شیاطین جن و انس کا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے فعل کی نسبت شیاطین کی طرف کر کے اصل حقیقت کی طرف اشارہ کردیا۔ ھدی، کے معنی تفسری سورة بقرہ کے آغاز میں ہم بتا چکے ہیں کہ سیدھی راہ کے بھی آتے ہیں۔ مخالفین اسلام کی تمثیل : وَنُرَدُّ عَلٰٓي اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ کی تمثیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہدایت الٰہی کی شاہراہ پا جانے کے بعد اگر ہم تمہارے کہے پر چلے اور مڑے اس کفر و شرک میں پھر مبتلا ہوگئے جس سے خدا نے ہمیں نکالا ہے تو ہماری مثال بالکل اس شخص کی ہوگی جس کو شیاطین نے کسی صحرا میں بھٹکا دیا ہو، وہ حیران و درماندہ ادھر ادھر پھر رہا ہو، اس کے کچھ ساتھی اس کو پکار رہے ہوں کہ راستہ ادھر ہے، ہماری طرف آجاؤ لیکن اس کی عقل ایسی گم ہو کہ اس کی سمجھ میں کچھ نہ آ رہا ہو کہ کدھر جائے۔ اس تمثیل کا اسلوب اگرچہ بظاہر ایک عمومی تمثیل کا ہے لیکن غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ فی الحقیقت یہ ان مخالفین اسلام کی تمثیل ہے جو یہاں زیر بحث ہیں۔ اس تمثیل میں ان کے سامنے یہ بات رکھی گئی ہے کہ تم صحرا میں بھٹکتے ہوئے مسافر کی مانند ہو، شیاطین اور گمراہ لیڈروں نے تمہاری مت مار دی ہے اور تمہارے کچھ راہ یاب ساتھی (اشارہ اہل ایمان کی طرف ہے) تمہیں اصل راہ کی طرف بلا رہے ہیں لیکن تم ان کی پکار نہیں سن رہے ہو۔ دیکھیے کس خوبی کے ساتھ ان کی پوری تصویر ان کے سامنے رکھ دی گئی ہے۔ حکایت بظاہر دوسروں کی لیکن بات ساری کی ساری ان کی۔ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰي، یعنی ان کو بتا دو کہ اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے تو اللہ کی ہدایت پا جانے کے بعد اب ہم کسی اور طریقے کی پیروی کس طرح کرسکتے ہیں ؟ وَاُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، یہ مشرکین کی دعوت شرک کا جواب ہے کہ تم ہمیں ان چیزوں کی پرستش کی دعوت دے رہے ہو جو نہ ہمیں نفع پہنچائیں نہ نقصان پہنچا سکیں اور حکم ہمیں اللہ رب العالمین کے آگے سرفگندگی اور حوالگی کا ہوا ہے۔ یہاں لفظ ‘ امر ’ کے ‘ ل ’ اور اس امر کے موکد ہونے کو ظاہر کر رہا ہے اور رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ کی صفت اس امر موکد کی دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی تمام عالم کا رب ہے تو اس کے سوا کون حقدار ہوسکتا ہے کہ اپنے آپ و اس کے حوالہ کیا جائے۔