6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 6:155

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور یہ کتاب ہے جو ہم نے اتاری ہے سراپا خیر و برکت، تو اس کی پیروی کرو اور ڈرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے

وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ الایہ، تورات کے بعد اب یہ قرآن کے اتارے جانے کا ذکر فرمایا اور اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے تمام خلق پر عموماً اور اہل عرب پر خصوصاً جو فضل فرمایا ہے پہلے اس کا حوالہ دیا پھر عربوں کو دھمکی سنائی کہ اس کتاب کے ذریعہ سے تم پر حجت پوری ہوچکی ہے۔ اب خدا کے سامنے تمہارے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا اس وجہ سے اگر اس کو جھٹلاتے ہو تو اس جھٹلانے کے انجام کو سوچ لو۔ قرآن کی عظیم برکت : لفظ مبارک اس بارش کے یے قرآن میں بار بار استعمال ہوا ہے جو زمین کی سیرابی، روئیدگی اور سرسبزی کا ذریعہ بنتی، اس کے خزانوں اور اس کی برکتوں کو ابھارتی اور اس کے مردہ اور بےآب وگیاہ ہوجانے کے بعد اس کو از سرِ نو حیات تازہ بکشتی ہے۔ قرآن کے لیے اس لفظ کے استعمال میں یہ استعارہ ہے کہ یہ بھی دنیا کو اس کی روحانی موت کے بعد از سر نو حیات تازہ بخشنے اور شریعت و ہدایت کے خزاں رسیدہ چمن کو پھر سے بہار کی رونقوں سے معمور کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ فرمایا کہ اس کی ناقدری نہ کرو بلکہ قبول کرو اور اس کی پیروی کرو، جس نے تم پر یہ رحمت نازل فرمائی ہے اس کے غضب سے بچو تاکہ اس کی رحمت کے سزاوار ٹھہرو
Ayah 6:156

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

مبادا تم کہو کہ کتاب بس ان دو گروہوں پر اتاری گئی جو ہم سے پہلے تھے اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے بالکل بیخبر رہے

اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ۔ ان تقولوا، یعنی کراھۃ ان تقولوا، یہ اسلوب اور یہ مضمون مائدہ آیت 19 میں بھی گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تم پر یہ رحمت اس لیے نازل فرمائی ہے کہ مبادا کل کو تم خدا کے سامنے یہ عذر کرو کہ جس طرح یہود و نصاری کو کتاب عطا ہوئی آخر ہم کو اسی طرح کتاب کیوں نہیں عطا ہوئی، ان کا علم و مطالعہ ہمارے کیا کام آسکتا تھا، ہم تو ان کے علم و مطالعہ اور ان کے درس و تدریس و تعلم سے بیخبر رہی ہے۔
Ayah 6:157

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یا کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے زیدہ ہدایت یافتہ ہوتے۔ سو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح حجت اور ہدایت و رحمت آگئی تو ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائیں اور ان سے دوسروں کو پھیریں۔ جو لوگ ہماری آیات سے اعراض اختیار کر رہے ہیں ہم ان کو اس اعراض کی پاداش میں عنقریب نہایت برا عذاب دیں گے

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّآ اَهْدٰي مِنْهُمْ۔ یا یہ عذ کرو کہ اگر ہم پر کتاب اترتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت قبول کرنے والے بنتے، پھر ہم اس نعمت سے کیوں محروم رکھے گئے ! فَقَدْ جَاۗءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ، یعنی تمہارے یہ تمام عذرات ختم کردینے کے لیے خدا نے تم پر ایک حجت قاطع اور ہدایت و رحمت اتار دی ہے، اب تم اس قسم کا کوئی عذر پیش نہیں کرسکتے۔ قرآن کے لیے یہاں بینۃ اور ہدایت و رحمت کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ہدایت و رحمت کے الفاظ پر اوپر بحث گزر چکی ہے۔ بینۃ کے معنی روشن دلیل اور حجت قاطع کے ہیں۔ قرآن کے لیے یہ لفظ دو پہلوؤں سے استعمال ہوا ہے۔ ایک یہ کہ اس نے عربوں کے ان تمام عذرات کا خاتمہ کردیا جن کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے، دوسرے یہ کہ قرآن بجائے خود حجت وبرہان ہے۔ اس کا کتاب الٰہی ہونا کسی خارجی دلیل کا محتاج نہیں ہے، دوسرے یہ کہ قرآن بجائے خود حجت وبرہان ہے۔ اس کا کتاب الٰہی ہونا کسی خارجی دلیل کا محتاج نہیں ہے، دوسرے یہ کہ قرآن بجائے خود حجت وبرہان ہے۔ اس کا کتاب الٰہی ہونا کسی خارجی دلیل کا محتاج نہیں ہے، یہ ایک ایسا معجزہ ہے جس کے چیلنج کا، جیسا کہ قرآن کے متعدد مقامات سے واضح ہے، اہل عرب کوئی جواب نہ دے سکے۔ علاوہ ازیں یہ تورات کی طرح صرف احکام وہ ہدایات کا مجموعہ ہی نہیں ہے بلکہ اپنے ہر دعوے اور ہر تعلیم کے دلائل وبراہین بھی اپنے ساتھ لے کر نازل ہوا ہے اور وہ ایسے مضبوط و مستحکم اور ایسے عقلی و فطری ہیں کہ ان کے مقابل میں کٹ حجتی تو کی جاسکتی ہے لیکن ان کی تردید ممکن نہیں ہے۔ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَصَدَفَ عَنْهَا الایہ، صدف، لازم اور متعدی دونوں آتا ہے۔ یعنی کسی چیز سے اعراض کرنے اور منہ پھیرنے کے معنی میں بھی اور کسی کو اس سے پھیرنے اور مورنے کے معنی میں بھی۔ جن لوگوں نے اس کو متعدی کے مفہوم میں لیا ہے ان کی بات قوی معلوم ہوتی ہے۔ اس سے پہلے كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ہے جس کے اندر اعراض اور کٹ حجتی کا مضمون خود آگیا۔ اس کے بعد موزوں بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس کو متعدی کے معنی میں لیا جائے۔ یعنی جنہوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور دوسروں کو ان کے سننے سمجھنے سے روکا۔ فَمَنْ اَظْلَمُ ، یعنی ان سے بڑھ کر محروم القسمت اور بدبخت کون ہوسکتا ہے جن کے پاس ایسی کتاب آئے جو ان کے تمام عذرات کا خاتمہ کردے، جو ان کے لیے حجت وبرہان ہو، جو ابر رحمت بن کر برسے، جو رہنمائی کے لیے رشنی کا مینار اور آخرت میں رحمت الٰہی کی ضامن ہو، لیکن وہ اس کو خود بھی جھٹلائیں اور دوسروں کو بھی اس سے روکیں۔
Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

وہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تیرا رب آئے یا تیرے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ظاہر ہو۔ جس دن تیرے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ظاہر ہوگی تو کسی ایسے کو ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان میں نیکی نہ کمائی ہو، کہہ دو تم انتطار کرو، ہم بھی منتظر ہی ہیں

هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ۭ يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِيْٓ اِيْمَانِهَا خَيْرًا ۭ قُلِ انْتَظِرُوْٓا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ۔ یعنی ان کے تمام عذرات ختم ہوگئے اور ہر پہلو سے ان پر حجت قائم کردی گئی لیکن یہ دلیلوں اور حجتوں سے قائل ہونے والے اسامی نہیں۔ یہ تو منتظر ہیں کہ ان پر فرشتے اتریں، یا خدا خود ان کے لیے نمودار ہو۔ یہ نہیں تو عذاب الٰہی کی نشانیوں میں سے کوئی فیصلہ کن نشانی ظاہر ہو۔ بقرہ 210 اور انعام 111 میں کفار کے مطالبات کا ذکر گزر چکا ہے۔ آگے کی سورتوں میں بھی اس کا ذکر آئے گا۔ مثلاً ھل ینظرون الا ان تاتیہم الملئکۃ او یاتی امر ربک۔ یہ نہیں منتظر ہیں مگر اس بات کے کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تیرے رب کا فیصلہ ظاہر ہوجائے۔ وقال الذین لا یرجون لقا 4 نا لولا انزل علینا الملئکۃ او نری ربنا لقد استکبروا فی انفسہم و عتو عتوا کبیرا۔ اور جو لوگ ہماری ملاقات کے متوقع نہیں ہیں کہتے ہیں آخر ہمارے اوپر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے یا ہم اپنے رب کو کیوں نہیں دیکھتے ؟ انہوں نے اپنے آپ کو بت بڑی چیز سمجھا اور بڑی اکڑ دکھائی۔ (الفرقان :21)۔ يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ، یعنی خدا اور فرشتوں کا اترنا تو الگ رہا، جس فیصلہ عذاب کے یہ منتظر ہیں وہ بھی اگر ظاہر ہوجائے تو اس کو دیکھ کر کسی کا ایمان لانا کچھ سود مند نہیں ایمان معتبر صرف وہ ہے جو آنکھ کان، دل دماغ اور عقل کی صلاحیتوں کو استعال کر کے لایا جائے نہ کہ عذاب الٰہی کا ڈنڈا دیکھ کر۔ عذاب الٰہی کے ظہور کے بعد کسی کا ایمان کچھ سود مند نہیں ہوگا، سود مدن ایمان وہی ہوگا جو اس سے پہلے لایا جائے اور اس میں کچھ عمل صالح کی کمائی کرلی جائے۔ قُلِ انْتَظِرُوْٓا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم اس کتاب پر ایمان لانے کے لیے نشانی عذاب کے منتظر ہو تو انتظار کرو، اب ہم بھی تمہارے لیے اسی کے منتظر ہیں ا سلیے کہ وہ ساری علامتیں جو کسی قوم و مستحق عذاب بناتی ہیں تم میں نمایاں ہوچکی ہیں، سنتِ الٰہی کے مطابق اب ایک ہی چیز باقی رہ گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ حق و باطل کے درمیان فیصلہ فرما دے، باطل نابود ہو اور حق کا بول بالا ہو۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ نبی اور اس کے ساتھی جب اپنا حق ادا کرچکتے ہیں لیکن ضدی اور سرکش لوگ کسی طرح ان باتوں پر کان نہیں دھرتے تو انہیں بھی فیصلہ الٰہی کا انتظار ہوتا ہے کیونکہ اسی فیصلہ کے ظہور کے ساتھ حق کا غلبہ وابستہ ہوتا ہے۔ اس انتظار میں اصلاً مخالفوں کی تباہی کی خواہش مضمر نہیں ہوتی بلکہ حق کی فتحمندی کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) دنیا میں تزکیہ و اصلاح کے مشن پر آتے ہیں، وہ اس کام میں اپنی پوری قوت نچوڑ دیتے ہیں۔ جن کے اندر خیر کی ادنی رمق بھی ہوتی ہے وہ اصلاح قبول کرلیتے ہیں۔ جو بالکل اندھے بہرے بن جاتے ہیں وہ مردوں کے حکم میں داخل ہیں جو زمین پر پڑے رہیں تو عفونت اور فساد کے سوا کچھ نہیں پھیلا سکتے اس وجہ سے ان کے فنا ہوجانے میں ہی خلق کی بہبود ہوتی ہے۔ یہاں اس اشارے پر ہم اکتفا کرتے ہیں۔ سورة نوح میں انشاء اللہ یہ مسئلہ تفصیل سے زیر بحث آئے گا۔
Ayah 6:159

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور گروہ گروہ بن گئے تمہارا ان سے کوئی سروکار نہیں۔ ان کا معاملہ بس اللہ کے حوالہ ہے، وہی ان کو جمع کرے گا پھر انہیں بتائے گا جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں

اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ۔ پیغمبر کو آخری ہدایت : اوپر آیت 153 میں فرمایا تھا کہ وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے تو اس کی پیروی کرو اور مختلف پگڈنڈیوں میں نہ بھٹکو کہ خدا کی راہ سے دور جا پڑو، یہ ہے جس کی تمہیں ہدایت فرمائی ہے تاکہ تم خدا کے غضب سے بچو) ہم نے اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ اصل ملت ابراہیم کا بیان ہے جو حضرت ابراہیم کی ذریت کی دونوں شاخوں، بنی اسرائیل اور بنی اسمعیل، کو ودیعت ہوئی لیکن ان دونوں ہی شاخوں نے اس میں بدعتیں پیدا کر کے مختلف پگ ڈنڈیاں نکال لیں۔ عربوں نے شرک و بت پرستی کی راہ اختیار کرلی، یہود و نصارا نے یہودیت و نصرانیت کے شاخسانے کھڑے کرلیے۔ اس طرح اصل شاہراہ گم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاء ﷺ کے ذریعہ سے یہ صراط مستقیم دنیا کے پھر کھولی، اور جیسا کہ اس سورة کے پچھلے مباحث سے واضح ہوا، اس کے دلائل تفصیل سے بیان فرمائے لیکن مذکورہ تمام گروہوں نے اس واضح حقیقت کی مخالفت اور اپنی اپنی ایجاد کردہ ضلالتوں ہی پر جمے رہنے کے لیے ضد کی۔ اب یہ آخر میں پیغمبر ﷺ کو ہدایت فرمائی جا رہی ہے کہ جن لوگوں نے اس دین میں، جو اللہ نے ان کو عطا فرمایا تھا، تفرقہ پیدا کیا اور مختلف گروہوں میں بٹ گئے تم کو ان سے کچھ سرورکار نہیں، تم نے اپنا فرض ادا کردیا، اب ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اب وہی ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کرتوتیں انجام دے کے آئے ہیں۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ اب پیغمبر کے لیے ان سے اعلان براءت کا وقت بہت قریب آ رہا ہے۔ چناچہ سورة براءت میں، جو اس گروپ کی آخری سورة ہے یہ اعلان جیسا کہ واضح ہوگا، آگیا۔
Ayah 6:160

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

جو نیکی لے کر آئے گا تو اس کو اس کا دس گنا بدلہ ملے گا اور جو برائی لے کر آئے گا تو اس کو بس اسی کے مثل بدلہ ملے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا

مَنْ جَاۗءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا الایہ، یہ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ کی وضاحت ہے۔ ان کے اعمال کی خبر دینے سے مقصود ظاہر ہے کہ مجرد ان کو رپورٹ سنانا نہیں ہے بلکہ اس کا لازم یعنی جزا اور سزا ہے۔ چناچہ اس آیت میں واضح فرما دیا کہ جو نیکی لے کر آئے گا وہ اس کا دس گنا صلہ پائے گا اور جو کوئی برائی لے کر آئے گا وہ ٹھیک ٹھیک اپنی برائی کے بقدر سزا پائے گا۔ نہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ کوئی کمی کی جائے گی، نہ برائی کرنے والوں کے ساتھ کوئی زیادتی۔ یہ ملحوظ رہے کہ آیت میں امثالہا اور مثلہا کے جو الفاظ ہیں ان سے مراد ان کا وہ مثل ہے جو اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ٹہرا رکھا ہے۔ وہ مثل مراد نہیں ہو جو دنیا میں سمجھا جاتا یا سمجھا جاسکتا ہے۔ نیز یہاں نیکی کے صلہ کی جو مقدار بیان ہوئی ہے وہ کم سے کم ہے۔ اس سے اس فضل کی نفی نہیں ہوتی جو دوسرے مقامات میں مذکور ہے۔
Ayah 6:161

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:161 in the Quran reader

کہہ دو ، میرے رب نے میری رہنمائی ایک سیدھے رستے کی طرف فرما دی ہے، دین قیم ابراہیم کی ملت کی طرف جو یکسو تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے۔

قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ڬ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔ دِيْنًا قِــيَمًا، صراط مستقیم، سے بدل ہے اور لحاظ اس کے موقع و محل کا ہے۔ قِیَمٌ اور قَیِّمٌ دونوں ہم معنی ہیں یعنی سیدھا اور فطری دین جس میں کوئی کجی اور انحراف نہیں ہے۔ قرآن میں یہ لفظ ملت ابراہیم اور ملت اسلام کے لیے استعمال ہوا ہے اور مقصود اس سے اس ملت کے اس پہلو کو واضح کرنا ہوتا ہے کہ یہ اس زیغ و انحراف سے بالکل پاک ہے جو مشرکین، یہود اور نصاری نے اپنے دین میں پیدا کرلیا۔ یہ وہی اوپر والی بات نبی ﷺ کی زبان سے مثبت انداز میں کہلائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہیں مشرکین اور یہود و نصاری کی پیدا کردہ بدعات و خرافات سے کوئی سر و کار نہیں۔ تم واضح الفاظ میں ان سب کو یہ اعلان سنا دو کہ مجھے تو میرے پروردگار نے صراط مستقیم۔ دین قیم، ملت ابراہیم کی ہدایت بخشی ہے جو اپنے رب کی طرف یکسو تھے، مشرکین میں سے نہ تھے۔ گویا وہ بحث جو اس سورة میں شروع سے چلی تھی اپنے آخری نتیجہ تک پہنچ گئی۔ آخر میں آنحضرت ﷺ نے اعلان فرما دیا کہ اصل ملت ابراہیم یہ ہے جس پر میں ہوں، جس کو پیروی کرنی ہو اس کی پیروی کرے۔ اس کے سوا سب کج پیچ کی راہیں ہیں جن سے مجھے کوئی تعلق نہیں، میں ان سے بری ہوں۔
Ayah 6:162

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:162 in the Quran reader

کہہ دو میری نماز اور میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے

قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ الایہ، نُسُک کے لفظ پر ہم دوسرے مقام میں گفتگو کرچکے ہیں، یہاں نسک کے معنی قربانی کے ہیں، اور نماز کے ساتھ اس کو جوڑ اس مفہوم کے لیے قرینہ فراہم کرتا ہے، سورة کوثر میں ارشاد ہے فصل لربک وانحر (پس اپنے رب ہی کی نماز پڑھ اور اسی کے لیے قربانی کر) ملت ابراہیم و ملت اسلام کی اصل روح :۔ یہ نبی ﷺ کی زبان سے ملت ابراہیم اور ملت اسلام کی اصل روح کی تعبیر کرائی گئی ہے نماز ور قربانی، زندگی اور موت دونوں میں غور کیجیے نہایت حسین تقابل ہے۔ نماز کے مقابل میں زندگی اور قربانی کے مقابل میں موت ہے۔ یہ اشارہ ہے کہ جو اس ملت پر ہے وہ جیتا ہے تو خدا کے لیے اور مرتا ہے تو خدا کے لیے۔ اس کی زندگی میں کوئی تقسیم نہیں ہے۔ یہ از ابتدا تا انتہا بالکل ہم رنگ اور ہم آہنگ ہے۔ خدا کا کوئی ساجھی نہیں۔
Ayah 6:163

لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 6:163 in the Quran reader

اس کا کوئی ساجھی نہیں اور مجھے اسی کا حکم ملا ہے اور میں پہلا مسلم ہوں

لَا شَرِيْكَ لَهٗ خدا کا کوئی ساجھی نہیں۔ اس وجہ سے بندے کی زندگی میں بھی کوئی ساجھی نہیں۔ یہ پوری کی پوری، بغیر کسی تقسیم و تجزیہ اور بغیر کسی تحفظ و استثنا کے صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لیے ہے۔ فرمایا کہ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ ، یہی میری فطرت ہے اور اسی کی مجھے اوپر سے ہدایت آئی ہے۔ اس وجہ میں نے سب سے آگے بڑھ کر اس قلادہ کو اپنی گردن میں ڈالا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں تو اس راہ پر چل پڑا ہوں اب جس میں ہمت ہو اس راہ میں میرا ساتھ دے۔ میں اپنا سفر دوسروں کے انتظار میں ملتوی نہیں کرسکتا۔
Ayah 6:164

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 6:164 in the Quran reader

پوچھو، کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو رب بناؤں جب کہ وہی ہر چیز کا رب ہے اور ہر جان جو کمائی کرتی ہے وہ اسی کے کھاتے میں پڑتی ہے اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ پھر تمہارے رب ہی کی طرف تمہارا لوٹنا ہوگا پس وہ تمہیں بتائے گا وہ چیز جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو

قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْ رَبًّا وَّهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ الایہ۔ یہ اس اسلام اور اس سرفگندگی و سپردگی کی دلیل بیان ہوئی ہے جس کا اظہار اوپر والی آیت میں ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا رب ہے تو میں آخر کس طرح اس کے سوا کسی اور کو رب بناؤ اور اپنی زندگی میں کسی اور کی شرکت تسلیم کروں ؟ ہر جان جو کمائی کرے گی اس کی ذمہ داری بہرحال اسی پر آنی ہے، کوئی دوسرا اس کے بوجھ کا اٹھانے والا نہیں بنے گا، خدا ہی کی طرف سب کا پلٹنا ہوگا، اور وہ ان سارے اختلافات کا فیصلہ سنائے گا جن میں آج تم مبتلا ہو۔
Ayah 6:165

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖ٘ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 6:165 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا اور ایک کے درجے دوسرے پر بلند کیے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تم کو آزمائے، بیشک تیرا رب جلد پاداش عمل دینے والے بھی اور وہ بخشنے والا اور مہربان بھی ہے

وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ ۭ اِنَّ رَبَّكَ سَرِيْعُ الْعِقَابِ ڮوَاِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ قریش کو آخری تنبیہ :۔ یہ قریش کو آخری تنبیہ ہے کہ اس دنیا کے اسٹیج پر نمودار ہونے والی تم پہلی قوم نہیں ہو۔ تم سے پہلے کتنی قومیں اس اسٹیج پر نمودار ہوئیں، پھر غائب ہوگئیں۔ یہاں تک کہ خدا نے ان کی جگہ تم کو دی۔ یہ خلافت خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس دنیا کے مالک نے جس باٹ اور ترازو سے ان کو تولا اسی باٹ، اسی ترازو سے وہ تم کو بھی تولے گا اور اس کی میزان میں اگر پورے نہ اترے تو جس طرح اس نے دوسروں کو پھینک دیا اسی طرح تم کو بھی اٹھا پھینکے گا، خدا کی جو سنت دوسروں کے معاملہ میں رہی ہے، کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ تمہارے معاملہ میں بدل جائے۔ یہاں یہ بات اختصار کے ساتھ فرمائی ہے۔ اس کی پوری تفصیل آگے والی سورة۔ اعراف میں آرہی ہے جو اس کی توام سورة ہے۔ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ ، یہ اس مغالطے کو رفع فرمایا ہے جو نادانوں کو بالعموم لاحق ہوتا ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی دنیا کی زندگی میں کامیاب ہیں اور دنیوی اسباب و وسائل ان کو ان لوگوں کی نسبت زیادہ ہی حاصل ہیں جو انہیں آخرت کے ڈراوے سنا رہے ہیں تو وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کو ڈراوے سنانے والے بیوقوف ہیں، اگر ان کی زندگی غلط ہوتی تو ان کو یہ کامیابیاں کہاں سے حاصل ہوتیں ؟ اس طرح وہ اپنی سرکشی میں اور زیادہ دلیر ہوجاتے ہیں۔ فرمایا کہ اس مغالطے میں پڑ کر اپنے کو تباہ نہ کرو۔ یہ جو کچھ تمہیں ملا ہے، تمہاری خوبیوں اور قابلیتوں کا ثمرہ نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف سے تمہارا امتحان ہے کہ تم شکر گزار بنتے ہو یا ناشکرے نیکیوں اور بدیوں کی جزا اور سزا کا دن آگے آنے والا ہے اور یہ نہ سمجھو کہ وہ بہت دور ہے۔ وہ جلد آنے والا ہے اور اس دن ہر شخص اپنی نیکی اور بدی دیکھ لے گا۔ جنہوں نے اپنے رب کی ناشکری کی ہوگی وہ اس ناشکری کی سزا بھگتیں گے، جنہوں نے اس کا حق پہچانا ہوگا، اللہ تعالیٰ ان کو اپنی مغفرت اور رحمت سے نوازے گا۔ یہ آخری سطریں ہیں جو اس بےمایہ اور گنہگار کے قلم سے اس سوہ کی تفسیر میں رقم ہوئیں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔