Ayah 7:1المص۔ حروف مقطعات پر تفصیلی بحث بقرہ میں الٓمٓ کے تحت گزر چکی ہے۔ یہاں الف، لام، میم پر حرف ص کا ضافہ ہے۔ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کہ جن سورتوں کے نام کچھ مشترک سے ہیں ان کے مطالب میں بھی فی الجملہ اشتراک پایا جاتا ہے۔ چناچہ اس سورة کو غور سے پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ اس کی بہت سی باتیں بقہ سے ملتی جلتی ہیں اگرچہ دونوں میں مکی و مدنی کا فرق بھی ہے اور دونوں کے مخاطب بھی الگ الگ ہیں۔
یہاں تالیف کلام کی دو صورتیں ممکن ہیں۔ المص کو بحذف مبتدا مستقل جملہ بھی قرار دے سکتے ہیں اور اس کو آگے سے ملانا چاہیں تو اس کو مبتدا اور كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ کو اس کی خبر بھی مان سکتے ہیں۔ ہم نے پہلی شکل اختیار کی ہے اور كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ میں بھی مبتدا کو محذوف مانا ہے۔ ویسے دونوں شکلوں میں باعتبار مفہوم کوئی فرق نہیں ہے۔
Ayah 7:2كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ ، حرج کے معنی تنگی، ضیق اور پریشانی کے ہیں۔
قریش کی مخالفت کے دور شباب میں آنحضرت ﷺ کو تسلی اور آپ کی ذمہ داری کی حد :
یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسکین و تسلی کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ یہ دور، جیسا کہ سورة کے مطالب کی فہرست سے واضح ہے، قریش کی مخالفت کے شباب کا دور تھا۔ وہ ہر قسم کے اوچھے سے اوچھے ہتھیار استعمال کرنے پر اتر آئے تھے۔ آپ ﷺ کو زچ کرنے کے لیے روز نت نئے مطالبے وہ پیش کرتے۔ ایک طرف مخالفت کی یہ شدت تھی دوسری طرف آنحضرت ﷺ کو اپنے فرض دعوت کا احساس تنا شدید تھا کہ سارے جتن کرنے کے باوجود آپ کو یہ فکر دامن گیر ہی رہتی کہ مبادا میری ہی کوئی کوتاہی ہو جس کے سبب سے یہ لوگ اتنی صاف اور واضح حقیقت کے قائل نہ ہو رہے ہوں۔ یہ دونوں چیزیں مل کر آپ کے دل پر ایک بھاری بوجھ بنی ہوئی تھیں۔ قرآن نے یہاں یہ دونوں بوجھ ہلکے کیے ہیں۔ قریش کی مخالفت سے بےپروا ہونے کی یوں تلقین فرمائی کہ یہ کتاب نہ تمہاری اپنی پیش کردہ ہے نہ خدا سے درخواست کر کے تم نے اپنے اوپر اتروائی ہے بلکہ یہ تمہاری طلب و تمنا کیے بغیر خدا کی طرف سے تم پر اتاری گئی ہے تو تم اس کے مخالفوں کی مخالفت سے اپنے آپ کو ضیق و پریشانی میں کیوں مبتلا کرو ؟ جس خدا نے یہ اتاری ہے وہی اس کی تائید و نصرت کے لیے کمک اور بدرقہ بھی فراہم کرے گا، نہ وہ کوئی کمزور ہستی ہے نہ حالات سے بےتعلق یا بیخبر ہے۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جو زمہ داری اس نے تم پر ڈالی ہے اس کو کما حقہ ادا کرنے کے لیے تم کن چیزوں کے محتاج ہو اور راہ کے پتھروں کو ہٹانے کے لیے تمہیں کتنی قوت درکار ہے۔ وہ یہ ساری چیزیں فراہم کرے گا تو تم خاطر جمع رکھو، اپنے آپ کو پریشانی میں مبتلا نہ کرو۔
لِتُنْذِرَ بِهٖ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ ، یہ اس کتاب سے متعلق آنحضرت ﷺ کی ذمہ اری کی حد بتا دی گئی ہے کہ آپ کا فرض صرف یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو تکذیب رسول کے نتائج اور قیامت کے احوال سے اچھی طرح ہوشیار کردیں۔ یہ مانتے ہیں یا نہیں، یہ سوال آپ سے متعلق نہیں ہے۔ آپ پر ذمہ داری صرف انذار و ابلاغ کی ہے۔ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ کا ٹکڑا معناً عطف تو لِتُنْذِرَ ہی پر ہے لیکن یہ فعل کے بجائے اسم کی شکل میں ہے اس کے اسم کی شکل میں لانے سے ایک امر واقعہ کا اظہار مقصود ہے۔ وہ یہ کہ جہاں تک انذار کا تعلق ہے وہ تو تم ان کفار کو کردو لیکن اس سے یاد دہانی کا فائدہ صرف اہل ایمان ہی اٹھائیں گے یہ مضمون جگہ جگہ، قرآن میں مختلف سورتوں میں، بیان ہوا ہے۔ ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں۔ طه (1) مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى (2)إِلا تَذْكِرَةً لِمَنْ يَخْشَى (3) تَنْزِيلا مِمَّنْ خَلَقَ الأرْضَ وَالسَّمَاوَاتِ الْعُلا (4) (ترجمہ : یہ سورة طہ ہے، ہم نے تم پر قرآن اس لیے نہیں اتارا کہ تمہاری زندگی تمہارے لیے اجیرن ہو کے رہ جائے، یہ تو بس یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈریں، یہ تو نہایت اہتمام سے اتارا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے زمین اور ان بلند آسمانوں کو پیدا کیا۔
Ayah 7:3اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ۔
کفار قریش کو عذاب کی دھمکی :۔ عام طور پر لوگوں نے اس آیت کا مخاطب مسلمانوں کو مانا ہے لیکن سیاق وسباق اور آیت کے الفاظ دلیل ہیں کہ خطاب کفار قریش سے ہے۔ آنحضرت ﷺ کو اوپر والی آیت میں تسلی دینے کے بعد اب یہ قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ یہ چیز جو تم پر تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے اس کی پیروی کرو اور خدا کے ماسوا دوسرے معبودوں اور شریکوں کی پیروی نہ کرو، یہ خیالی اولیاء و اصنام تمہارے کچھ کام آنے والی نہیں ہیں۔ اس کے بعد بانداز حسرت و افسوس فرمایا کہ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ کہ تم ایسے شامت زدہ لوگ ہو کہ شکل ہی سے یاد دہانی حاصل کرتے ہو۔
Ayah 7:4وَكَمْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَاۗءَهَا بَاْسُنَا بَيَاتًا اَوْ هُمْ قَاۗىِٕلُوْنَ۔
قریہ کا مفہوم : قریۃ کا لفظ قریہ اور اہل قریہ دونوں پر حاوی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے لیے ضمیر میں، اشارات اور فعل وغیرہ استعمال کرنے میں، کبھی لفظ کا اعتبار کرتے ہیں، کبھی مفہوم کا۔ یہ اسلوب ہر زبان میں عام ہے۔
قَاىِٕلُوْنَ ، قیلولہ سے ہے۔ قیلولہ کے معنی دوپہر منانے کے ہیں، سونا اس کے لوازم میں سے نہیں ہے۔ عرب کا ملک، گرم ملک ہے اس وجہ سے وہاں دوپہر میں لوگ مجبور ہوتے ہیں کہ اپنے اپنے مکانوں، ڈیروں، خیموں اور باغوں میں آرام کریں۔
اہل تاویل کی ایک غلط فہمی : بعض اہل تاویل کو فَجَاۗءَهَا بَاْسُنَا بَيَاتًا اَوْ هُمْ قَاۗىِٕلُوْنَ کے الفاظ سے یہ خیال ہوا ہے کہ اللہ کا عذاب اس وقت آتا ہے جب لوگ رات میں یا دن میں سوئے ہوئے ہوتے ہیں لیکن یہ بات تاریخ کے بھی خلاف ہے اور قرآن کے بیان کے بھی۔ سورة انعام میں ہے قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ بَغْتَةً أَوْ جَهْرَةً هَلْ يُهْلَكُ إِلا الْقَوْمُ الظَّالِمُونَ (47) ، کہو، بتاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک چپکے سے یا کھلم کھلا آدھمکے تو ظالموں کے سوا اور کون ہلاک ہوگا۔ اسی سورة اعراف میں معذبت قوموں کی سرگزشتیں سنانے کے بعد ان الفاظ میں تبصرہ فرمایا ہے أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ (97) أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ (98) (کیا یہ بستیوں والے مامون ہوئے اس بات سے کہ ہمارا عذاب ان پر رات میں آدھمکے جب کہ وہ لہو ولعب میں مشغول ہوں) ہمارے نزدیک فَجَاۗءَهَا بَاْسُنَا بَيَاتًا اَوْ هُمْ قَاۗىِٕلُوْنَ سے یہ ظاہر کرنا مقصود نہیں ہے کہ خدا کا عذاب اس وقت آیا کرتا ہے جب لوگ سوئے ہوتے ہیں بلکہ یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ خدا کا عذاب شب کی تاریکیوں میں چپ چپاتے بھی آیا اور ڈنکے کی چوٹ دن دھاڑے بھی۔ جس وقت بھی آیا آگیا، نہ کوئی اس کو روک سکا اور نہ کوئی اس سے اپنے آپ کو بچا سکا۔ صرف وہ لوگ اس سے بچ سکے جن کو اللہ کی امان حاصل ہوئی۔
Ayah 7:5اصل انذار :۔ یہ وہ انذر ہے جس کا لتنذر بہ میں اشارہ ہے، قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ کتنی قومیں اور بستیاں ہیں جن پر رات میں یا دن میں جب خدا نے چاہا اپنا عذاب بھیج دیا اور وہ تباہ کردی گئیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کے مقابل میں کھڑی نہ ہوسکی بلکہ ہر قوم نے اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے اپنے آپ کو عذاب الٰہی کے حوالہ کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے اس چیز کی پیروی نہ کی جو خدا نے تم پر اتاری ہے تو یہی حشر تمہارا بھی ہونا ہے۔ آج اکڑتے ہو لیکن اس وقت سارے کس بل نکالیں جائیں گے اور تم خود اپنے منہ سے اپنے جرم کا اقرار کرو گے لیکن اس وقت یہ اقرار تمہارے لیے کچھ نافع نہیں ہوگا۔
Ayah 7:6فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ۔
انذار کی تفسیل : ہم ذکر کرچکے ہیں کہ اللہ کے رسول دو چیزوں سے لوگوں کو ڈراتے ہیں۔ ایک اس عذاب سے جو رسول کی تکذیب کرنے والی قوم پر لازماً آتا ہے۔ دوسرے اس جزا و سزا سے لوگوں کو ڈراتے ہیں۔ ایک اس عذاب سے جو رسول کی تکذیب کرنے والی قوم پر لازماً آتا ہے۔ دوسرے اس جزا و سزا سے جس سے آخرت میں ہر شخص کو لازماً دو چار ہونا ہے۔ اوپر والی آیت میں پہلی چیز سے ڈرایا ہے۔ اب آگے اس دوسری چیز سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ فرمایا کہ ایک دن آنے والا ہے جب ہم ان امتوں سے بھی پرسش کریں گے جن کی طرف ہم نے اپنے رسول بھیجے اور خود رسولوں سے بھی سوال کریں گے۔
امتوں سے جو پرسش ہونی ہے اس کی تفصیل قرآن میں یوں بیان ہوئی ہے۔ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ (8) قَالُوا بَلَى قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ إِنْ أَنْتُمْ إِلا فِي ضَلالٍ كَبِيرٍ (9) وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ (10) فَاعْتَرَفُوا بِذَنْبِهِمْ فَسُحْقًا لأصْحَابِ السَّعِيرِ (11) (جب جب ان کی کوئی بھیڑ دوزخ میں جھونکی جائے گی اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمہارے پاس کوئی ہوشیار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ وہ کہیں گے، ہاں ہمارے پاس ایک ہوشیار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ وہ کہیں گے، ہاں ہمارے پاس ایک ہوشیار کرنے والا آیا تو تھا پر ہم نے اس کو جھٹلایا اور کہہ دیا کہ خدا نے کوئی چیز بھی نہیں اتاری ہے، تم لوگ ایک بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ وہ اعتراف کریں گے کہ اگر ہم سنتے سمجھتے ہوتے تو جہنم میں پڑنے والے نہ بنتے۔ پس وہ اپنے جرم کا اقرار کریں گے تو لعنت ہو ان دوزخیوں پر)
رسولوں سے جو سوال ہوگا اس کا حوالہ سورة مائدہ میں یوں دیا گیا ہے۔ يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ (جس دن اللہ تمام رسولوں کو جمع کرے گا پھر پوچھے گا تمہیں کیا جواب ملا)۔
Ayah 7:7فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ وَّمَا كُنَّا غَاۗىِٕبِيْنَ۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن ہم رسولوں اور ان کی قوموں کو ساری گزری ہوئی روداد، پورے علم و خبر کے ساتھ سنا دیں گے کہ ہمارے رسولوں نے کس طرح حق بلاغ ادا کیا اور ان کی تکذیب کرنے والوں نے کس طرح جان بوجھ کر ان کی تکذیب کی۔ فرمایا کہ ہم ایک لمحہ کے لیے بھی ان حالات و واقعات سے بےتعلق یا بیخبر نہیں رہے ہیں۔ جو کچھ ہوا ہے ہمارے سامنے ہوا ہے۔ یہ واضح رہے کہ یہ سنانا قطع عذر کے لیے ہوگا تاکہ کسی کے لیے بھی لب کشائی کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ جائے۔
Ayah 7:8وَالْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن وزن رکھنے والی شے صرف حق ہوگا۔ باطل میں میرے سے کوئی وزن ہی نہیں ہوگا۔ قیامت میں اللہ تعالیٰ جو ترازو نصب فرمائے گا وہ ہر ایک کے اعمال تول کر بتا دے گی کہ اس میں حق کا حصہ کتان ہے۔ پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے، یعنی حق کی مقدار ان کے ساتھ زیادہ ہوگی، وہ فلاح پانے والے بنیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہ خائب و خاسر ہوں گے۔ اعمال کے باوزن اور بےوزن ہونے کے باب میں قرآن نے یہ اصول بھی بیان فرمایا ہے۔“ قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالأخْسَرِينَ أَعْمَالا (103) الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا (104) أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا (105) ہم تمہیں بتائیں گے کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے کون ہوں گے ؟ وہ جن کی ساری سرگرمیاں طلب دنیا میں برباد ہوئیں اور وہ اس خوش گمانی میں رہے کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں، وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات اور ملاقات کا انکار کیا تو ان کے اعمال ڈھے گئے، تو ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن نہیں قائم کریں گے ”(کہف)۔ اس سے معلوم ہوا کہ میزان قیامت میں وزن دار اعمال وہی ہوں گے جو خدا کی رضا اور آخرت کے لیے انجام دیے جائیں۔ جو اعمال اس وصف سے خالی ہوں گے نہ وہ اعمال حق ہیں، نہ میزان الٰہی میں ان کا کوئی وزن ہوگا۔
Ayah 7:9وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَظْلِمُوْنَ :۔
زبان کا ایک اسلوب : ہم ایک سے زیادہ مقامات میں زبان کے اس اسلوب کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ جب صلہ اور فعل میں مناسبت نہ ہو تو وہاں تضمین ہوتی ہے یعنی کوئی ایسا فعل وہاں محذوف مانیں گے جو موجود خلا کو بھر سکے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ لفط کم استعمال ہوتے ہیں، لیکن معنی میں بہت وسعت ہوجاتی ہے۔ یہاں تضمین کھول دی جائے تو پوری بات یوں ہوگی بِمَا كَانُوْا یکفرون بِاٰيٰتِنَا و يَظْلِمُوْنَ انفسہم، بوجہ اس کے وہ ہماری آیات کا انکار کرتے اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔
اگلی آیات 10 تا 25 کا مضمون :۔ پہلے قریش کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا احسان جتا کر ان کو ملامت کی کہ کس طرح اللہ نے تم کو اس سرزمین محترم میں قوت و شوکت دی، تم کو خوف سے نچنت کیا اور تمہارے لیے معاش و معیشت کی راہیں کھولیں لیکن تم خدا کے شکر گزارو فرمانبردار ہونے کے بجائے ناشکرے اور اس کے نافرمان ہوگئے۔
اس کے بعد آدم و ابلیس کا وہ ماجرا جو بقرہ میں یہود کو سنایا گیا ہے بعض تفصیلات کے اضافہ کے ساتھ قریش کو سنایا کہ شیطان نے آدم اور ان کی ذریت کی ابدی دشمنی کی جو قسم کھائی تھی وہ قسم جس طرح اڈم و حوا کو دھوکا دے کر اور جنت سے نکلوا کر اس نے ان پر پوری کی، اسی طرح اس نے اپنی وہ قسم تم پر بھی پوری کرلی ہے اور تم پوری طرح اس کے جال میں پھنس چکے ہو اور اس کا جو نتیجہ تمہارے حق میں نکل سکتا ہے وہ ظاہر ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
Ayah 7:10وَلَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِي الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ ۭقَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ
ارض سے مراد سرزمین حرم ہے۔ ‘ تمکین فی الارض ’ سے مراد زمین میں اختیار و اقتدار بخشنا ہے۔ مثلاً وکذلک منکنا لیوسف فی الارض (اور اس طرح ہم نے یوسف کو ملک مصر میں اختیار و اقتدار بخشا)۔ ارض اگرچہ لفظاً عام ہے لیکن خطاب چونکہ قریش سے ہے اس وجہ سے اس سے مراد یہاں سرزمین حرم ہے جس میں قریش کو اختیار و اقتدار حاصل تھا۔ معایش سے اشارہ ان معاشی سہولتوں اور برکتوں کی طرف ہے جو ایک وادی غیر ذی زرع میں حضرت ابراہیم کی دعا اور بیت اللہ کی برکت سے اہل عرب کو عموماً اور قریش کو خصوصاً حاصل ہوئیں۔ قرا ان میں ان برکتوں اور نعمتوں کا جگہ جگہ ذکر ہوا ہے۔ اور ہم تفصیل کے ساتھ بقرہ میں ان کا حوالہ دے چکے ہیں۔ سورة قصص میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے اولم نمکن لہم حرما امنا یجبی الیہ ثمرات کل شیء (قصص :57) (کیا ہم نے ان کو ایک پر امن حرم میں اقتدار نہیں بخشا جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں)۔ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ، یہ وہ اصلی بات ارشاد ہوئی ہے جس کے کہنے ہی کے لیے اوپر والی باتیں بطور تمہید بیان ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم و اسمعیل کی دعاؤں اور بیت اللہ کے طفیل تمہیں اللہ تعالیٰ نے اس ملک میں اختیار و اقتدار کی نعمت بھی بخشی اور معاش و معیشت کی نہایت فراخ راہیں بھی کھولیں لیکن تم سخت ناشکرے نکلے کہ تم نے اپنے پروردگار کے بجائے شیطان کی، جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے، پیروی کی اور اس نے جن جن فتنوں میں تم کو مبتلا کرنا چاہا ہے تم ان سب میں مبتلا ہوگئے۔
Ayah 7:11آدم و ابلیس کا ماجرا اور اس کے مضمرات : اب یہ آدم اور ابلیس کا وہ ماجرا سنایا جا رہا ہے جس سے آدم اور ان کی ذریت کے ساتھ ابلیس اور اس کے ساتھیوں کی دشمنی کی تاریخ بھی سامنے آتی ہے، اس کا اصل سبب بھی واضح ہوتا ہے اور قیامت تک کے لیے اس کو باقی رکھنے اور اولادِ آدم سے انتقام لینے کا شیطان نے جو عہد کر رکھا ہے، اس کا بھی اظہار ہونا ہے، اس قصے کو پڑھتے ہوئے وہ مقصد نگاہ سے اوجھل نہ ہو جس کے لیے یہ سنایا گیا ہے۔
شیطان کو آدم اور ان کی ذریعت سے دشمنی اس حسد کی بنا پر ہے جو آدم کی تکریم کے حکم سے اس کو لاحق ہوا اس حکم کی تعمیل سے اس نے نہایت تکبر کے ساتھ انکار کیا جس کے نتیجہ میں وہ نہایت ذلت کے ساتھ جنت سے نکالا گیا، بالآخر اس نے اس غصہ میں اللہ تعالیٰ سے یہ درخوات کی کہ اسے اٹھائے جانے کے دن تک کے لیے یہ مہلت دی جائے کہ وہ آدم اور اولادِ آدم پر اپنے چرتر آزمائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ درخواست منظور کرلی۔ یہ درخواست منظور ہوجانے کے بعد شیطان نے اللہ تعالیٰ کو چیلنج کیا کہ میں ان کو توحید کی راہ سے برگشتہ کرنے لیے اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر ڈالوں گا اور ان کو اپنی تدبیروں، چالوں اور اپنے پروپیگنڈوں سے اس طرح بدحواس کردوں گا کہ ان کی اکثریت تیری توحید کی راہ سے ہٹ جائے گی اور یہ ثابت ہوجائے گا کہ یہ، جس کو تو نے میرے اوپر فضیت بخشی، ہرگز کسی فضیلت کا سزاوار نہیں ہے۔
اس کے بین السطور پر غور کیجیے تو چند باتیں بالکل واضح طور پر سامنے آئیں گی۔
ایک یہ کہ شیطان کو اصلی کد انسان سے یہ ہے کہ خدا نے انسان کو اس پر ترجیح کیوں دی ؟ اس نے اسی ترجیح کو غلط ثابت کرنے کے لیے خدا سے مہلت مانگی ہے۔ اب یہ انسان کی کیسی بدبختی ہے کہ وہ اس معرکے میں جو خود اسی کے خلاف شیطان نے برپا کیا ہے، شیطان کا دست وبازو بن جائے اور خود اپنے عمل سے شیطان کے حق میں گواہ بن کر یہ ثابت کرادے کہ خدا نے اس کو جس عزت کا اہل سمجھا در حقیقت وہ اس کا اہل نہیں تھا بلکہ اس کے باب میں شیطان ہی کا گمان صحیح تھا۔
دوسری یہ کہ انسان اس دنیا میں ایک کارزار امتحان میں ہے جہاں شیطان سے ہر قدم پر اس کا مقابلہ ہے، شیطان اپنے سارے داؤں، سارے فریب، سارے چرتر انسان پر استعمال کرنے کے لیے خدا سے مہلت لے چکا ہے۔ خدا نے اس کو، جہاں تک ورغلانے کا تعلق ہے، مہلت دے دی ہے اور یہ مہلت اس کو قیامت کے دن تک کے لیے حاصل ہے۔ قیامت کے دن یہ فیصلہ ہوگا کہ کون جیتا اور کون ہارا ؟ تیسری یہ کہ شیطان کی اس ساری سعی اغوا واضلال میں اصل ہدف عقیدہ توحید ہے۔ یہی وہ صراط مستقیم ہے جس پر گھات لگانے اور شبخون مارنے کا اس نے الٹی میٹم دیا ہے کہ میں اس راہ سے انسان کو ہٹا کر چھوروں گا اور انسانوں کی اکثریت اس سے میں حرف ہو کر خدا کی ناشکری کرنے والی بن جائے گی۔ اوپر قریش کو قلیلا ما تشکرون کے الفاط سے اسی امر واقعی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ شیطان نے انسان کے بارے میں جو گمان ظاہر کیا تھا تم نے اس کو اپنی نالائق سے حرف حرف سچ ثابت کر دکھایا ہے۔ اس وجہ سے تم خود اسی انجامِ بد کے مستوجب بن چکے ہو جس کی خبر شیطان کے الٹی میٹم کے جواب میں خدا نے سنا دی تھی کہ میں تجھ کو اور تیری پیروی کرنے والوں کو جہنم میں بھر دوں گا۔
نظم کلام کے واضح ہوجانے کے بعد الفاط اور اجزائے کلام کی وضاحت کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہی۔ ان میں سے اکثر چیزیں سورة بقرہ کی تفسیر میں پوری وضاحت سے زیر بحث آچکی ہیں۔ ان کے دہرانے میں طوالت ہوگی۔ البتہ جو چیزیں وہاں زیر بحث نہیں آئی ہیں ان کی وضاحت ہم کیے دیتے ہیں۔
وَلَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ الایہ، لفظ خلق کا مفہوم : خلق کا صحیح لغوی مفہوم، ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، کسی چیز کا خاکہ (DESIGN) بنانا ہے۔ یہ لفظ قرآن میں تنہا بھی استعمال ہوا ہے اور بعض جگہ اپنے دوسرے لوازم و متعلقات مثلا برء، تسویہ، ترکیب، اور تصویر کے ساتھ بھی استعمال ہوا ہے۔ جہاں یہ تنہا استعمال ہوا ہے ہاں یہ اپنے تمام لوازم و متعلقات پر مشتمل ہے۔ لیکن جہاں اپنے دوسرے متعلقات کے ساتھ آیا ہے جیسے یہاں خَلَقْنٰكُمْ کے بعد صَوَّرْنٰكُمْ بھی ہے تو ایسے مواقع میں یہ اپنے اصل لغوی مفہوم ہی میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں خلق اور تصویر کے دو لفظوں نے تخلیق کی ابتدائی اور انتہائی دونوں حدیں واضح کردیں۔ ہر مخلوق کا مرحلہ ابتدائی تو یہ ہے کہ اس کا خاکہ بنا اور اس کا آخری و تکیلی مرحلہ یہ ہے کہ اس کی صورت گری ہوئی اور اس کے ناک نقشے اور نوک پلک درست ہوئے۔
یہاں مخاطب، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، قریش ہیں، اور بیان ان کے سامنے نوع انسانی کی تخلیق اور ان آزمائشوں ا ہو رہا ہے جو انسان کے لیے مقدر کی گئی ہیں۔ حضرت آدم تمام نسل انسانی کے باپ ہیں اس وجہ سے ان کی سرگزشت تنہا انہی کی سرگزشت نہیں ہے بلکہ پوری نسل انسانی کی سرگزشت ہے۔
ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ ڰ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ۔ سجدہ کے مفہوم، اس حکم کی مصلحت، جنات کے اس حکم میں شامل ہونے کی وجہ اور اس ذیل کے دوسرے اہم مسائل پر ہم بقرہ کی تفسیر میں گفتگو کرچکے ہیں۔ وہاں ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ابلیس، اس جن کا لقب ہے جس نے باوا آدم کو دھوکا دیا۔ یہ جنات میں سے تھا اور خدا کی نافرمانی کر کے سرکش بن گیا۔ جنوں اور انسانوں میں سے جو لوگ اس کے پیرو بن جاتے ہیں وہ سب اس کی معنوی ذریت ہیں۔ ایسے ہی جنوں اور انسانوں کے لیے قرآن میں شیطان کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ شیطان، جیسا کہ بقرہ کی تفسیر میں ہم نے واضح یا، کوئی مستقل بالذات مخلوق نہیں ہے۔
Ayah 7:12عربیت کا ایک اسلوب :۔ قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ۔ قرٓان میں دوسرے مقام میں یہی بات یوں فرمائی گئی ہے قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ (ص :70) (فرمایا، اے ابلیس تجھے اس چیز کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے بنایا)۔ دونوں آیتوں پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ایک جگہ ما منعک کے بعد لا ہے دوسری جگہ نہیں ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ ما منعک میں چونکہ خود لا کا مضمون موجود ہے۔ اس وجہ سے اس کے بعد اس کا لانا ضروری نہیں ہے لیکن لائیں تو اس سے شدت نکیر کا مضمون پیدا ہوگا۔ چناچہ اس فقرے میں شیطان کے عدم سجدہ کی شناعت پوری طرح نمایاں ہے۔ یہ اسلوب ہماری اپنی زبان میں بھی ہے۔
اِذْ اَمَرْتُكَ کے لفط سے یہ بات نکلتی ہے کہ آدم بجائے خود سزوار سجدہ نہیں تھے بلکہ خدا کے حکم کی بنا پر اس کے سزاوار ہوئے تھے ور ان کو سجدہ اصلاً و حقیقۃً ان کو سجدہ نہیں تھا، بلکہ خود خدا کو سجدہ تھا اس لیے کہ یہ سجدہ اسی کے امتثال امر میں تھا۔
قَالَ اَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ ۚ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَهٗ مِنْ طِيْنٍ۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطان کی سرکشی کی بنیاد اس گھمنڈ پر تھی کہ شرف و عزت کا تعلق نسل و نسب سے ہے اور اس اعتبار سے وہ انسان سے اشرف ہے۔ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے۔ آم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں۔ قرآن نے یہاں یہ رہنمائی دی کہ شرف و عزت کو نسل و نسب سے متعلق سمجھنے کا فلسفہ ابلیس کی ایجادات میں سے ہے اور جہاں کہیں بھی یہ موجود ہے اسی کی وراثت کی حیثیت سے موجود ہے۔ اللہ کے ہاں جو چیز سبب عزت و سرخروئی ہے وہ صرف اللہ کے حکم کی اطاعت ہے اس کے سوا کوئی چیز بھی خدا کے ہاں عزت پانے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔
Ayah 7:13قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِيْهَا الایہ ،۔ تکبر شرک ہے :۔ جانتے بوجھتے خدا کے حکم سے سرکشی تکبر ہے جو اس تکبر میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو خدا سے بڑا یا اس کا ہم سر ٹھہراتا ہے جو صریحاً شرک ہے۔ کبریائی صرف خدا کے لیے زیبا ہے جو اس میں حصہ بٹانے کے مدعی بنتے ہیں ان پر خدا کی طرف سے ذلت کی مار پڑتی ہے۔ متکبر کے لیے خدا کی بہشت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ بہشت صرف خاشعین و عابدین کی جگہ ہے اس وجہ سے ابلیس کو وہاں سے نکلنے کا حکم ہوا اور اس کے تکبر کے جرم میں اس کو دائمی ذلت کی سزا دی گئی۔ آگے اسی طرح کے متکبرین کے بارے میں فرمایا ہے کہ جس طرح اونٹ سوئی کے ناکے میں نہیں جاسکتا اسی طرح متکبرین خدا کی بہشت میں نہیں جاسکتے۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَاۗءِ وَلَا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰي يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ (اعراف :40) (بےشک جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور تکبر کر کے ان سے اعراض کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہیں ہوگے جب تک اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہوجائے)۔ بعینہ یہی بات سیدنا مسیح نے فرمائی ہے کہ جس طرح اونٹ سوئی کے ناکے میں نہیں جاسکتا اسی طرح دولت مند خدا کی بہشت میں نہیں جاسکتا۔ دوسنوں تعبیروں میں صرف یہ فرق ہے کہ قرآن نے اصل جرم، استکبار کا حوالہ دیا ہے اور سیدنا مسیح نے علت جرم یعنی دولت کا، جو بالعموم استکبار کا سبب بن جاتی ہے۔ اس تفصیل سے واضح ہو کہ شیطان کا اصل جرم استکبار تھا جس کے سبب سے وہ جنت سے نکالا گیا۔ اس وجہ سے جو لوگ اس جرم میں اس کے ساتھی بنیں گے ان کے لیے خدا کی بہشت میں کوئی مقام نہیں ہے۔
Ayahs 7:14–15قَالَ اَنْظِرْنِيْٓ اِلٰي يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ۔ انسان کے لیے اصل معرکہ امتحان : ابلیس کو چونکہ ذلت کے ساتھ جنت سے نکل جانے کا حکم ہوا اس وجہ سے اس کو گمان ہوا کہ اب اس کے لیے سعی و عمل کی کوئی مہلت باقی نہیں رہی ہے۔ اس اس نے خدا سے درخواست کی کہ اسے مہلت عطا کی جائے کہ وہ ثابت کرسکے کہ انسان فی الواقع اس شرف کا سزا وار نہیں ہے جو اسے بخشا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ مہلت دے دی۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں سے انسان کی زندگی کارزار امتحان میں داخل ہوتی ہے۔ شیطان نے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، اپنا پورا زور اس بات کے لیے لگانے کا منصوبہ بنایا کہ وہ انسان کو نااہل و نالائق ثابت کردے اور انسان کی سعادت و کامرانی اس بات میں ٹھہری کہ وہ یہ ثابت کرے کہ فی الواقع وہ اس کا اہل ہے۔
کامیابی و ناکامی کا فیصلہ قیامت پر : یہ مہلت سعی و عمل چونکہ انسان کو موت ہی تک حاصل ہے اس وجہ سے شیطان کو بھی ورغلانے اور بہکانے کا موقع صرف انسان کی موت ہی تک ہے۔ مرجانے کے بعد جس طرح انسان پر سعی و عمل کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اسی طرح شیطان کے لیے اس پر زور آزمائی کی راہ بھی مسدود ہوجاتی ہے لیکن یہ فیصلہ کہ کون جیتا کون ہارا، قیامت کے دن ہی ہونا ہے اس وجہ سے ابلیس نے مہلت الی یوم یبعثون مانگی جس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے اپنی یہ درخواست منظور کرا کے انسان کے شرف و مزیت کے معاملہ کا فیصلہ قیامت پر ملتوی کرایا۔ اب وہیں یہ فیصلہ ہوگا کہ انسان اس تاج زریں کا سزا وار ہے یا نہیں ؟ اگر وہ سزا وار ٹھہرا تو اس کے لیے جنت کی ابدی نعمتیں ہیں ونہ جس طرح شیطان دوزخ میں ہوگا اسی طرح انسان بھی دوزخ میں اپنا ٹھکانا بنائے گا۔
Ayah 7:16قَالَ فَبِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْمَ۔ ابلیس کا چیلنج اللہ تعالیٰ کو :۔ اپنی درخواست منظور کر الینے کے بعد یہ چیلنج بلیس نے اللہ تعالیٰ کو دیا۔ اس نے اپنا اصل حریف اللہ تعالیٰ ہی کو سمجھا اس وجہ سے چیلنج بھی اللہ تعالیٰ ہی کو دیا۔ گویا اس کارزار میں شیطان کے نقطہ نظر سے، اصل مقابلہ شیطان اور انسان کے درمیان نہیں بلکہ خدا اور شیطان کے درمیان ہے۔ فبما اغویتنی، (بوجہ اس کے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا) کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے سجدہ نہ کرنے کے معاملہ میں اپنے رویہ کو بالکل صحیح سمجھا۔ اس کے نزدیک اس کی گمراہی خود کردہ نہیں بلکہ (نعوذ باللہ) خدا کردہ ہے۔ گویا خدا نے اس ڈالا ہی تھا ایسے امتحان میں جس سے وہ عہدہ بر آ نہیں ہوسکتا تھا اس وجہ سے وہ گمراہ ہوا تو اس گمراہی پر نعوذ باللہ خدا ہی نے اس کو مجبور کیا۔
صراطِ مستقیم سے مراد توحید کی راہ ہے۔ انسان کی فطرت اور خدا ٰں براہ راست رطب ہے۔ فطرت کی راہ میں غیر فطری کج پیچ نہ پیدا کردیے جائیں تو انسان توحید کے سوا کوئی اور راہ نہیں اختیار کرسکتا۔ اس وجہ سے توحید کو قرآن میں بھی اور دوسرے آسمانی صحیفوں میں بھی صراط مستقیم سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ جب تک انسان اس راہ پر قائم رہتا ہے اس وقت تک وہ سست رو اور آبلہ پر ہو کر بھی رو منزل رہتا ہے اس وجہ دیر سویر منزل پر پہنچ ہی جاتا ہے۔ برعکس اس کے، اگر وہ شرک کے کسی موڑ کی طرف مڑ جائے تو اصل منزل سے روگرداں ہوجاتا ہے اور پھر جتنے قدم بھی وہ آگے بڑھتا ہے اس کا سفر کسی ضلال بعید ہی کی راہ میں ہوتا ہے۔ یہ رمز ہے جس کے سبب سے شیطان کو انسان پر پوری فتح حاصل کرنے کا اس وقت تک موقع نہیں ملتا جب تک وہ اس کو توحید کی شاہراہ سے ہٹا کر شرک کی کسی پگڈنڈی پر نہ ڈال دے۔ چناچہ اس نے اپنے چیلنج میں آشکارا الفاظ میں بتا دیا کہ وہ انسان کی گھات میں توحید کی راہ پر بیٹھے گا اور اس راہ سے اس کو بےراہ کرنے کی کوشش کرے گا۔
Ayah 7:17ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ :
شیطان کے ہمہ جہت حملے کا بیان :۔ یہ بیان ہے شیطان کے حملہ کی قوت، وسعت اور ہمہ گیری کا خود اس کی زبان سے۔ وہ ہر جہت، ہر پہلو سے انسان پر حملہ کرے گا، وہ اس کے مشاہدات، احساسات، جذبات، کو اہشات ہر منفذ سے اس کے اندر گھسنے کی کوشش کرے گا۔ وہ اس کے فکر، فلسفہ، علم ادراک ہر چیز کو مسموم کرے گا۔ وہ اس کی تحقیق، تنقید، تصنیف، تالید، ادب، آرٹ، لٹریچر ہر چیز میں اپنا زہر گھولے گا، وہ اس کے تہذیب، تمدن، معیشت، معاشرت، فیشن، کلچر سیاست اور مذہب ہر چیز کے اندر فساد برپا کرے گا۔ شیطان کا یہی چلینج سورة بنی اسرائیل میں بدیں الفاط نقل ہوا ہے قَالَ أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لأحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلا قَلِيلا (62) قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا (63) وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الأمْوَالِ وَالأولادِ وَعِدْهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلا غُرُورًا (64)إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا (65) (62۔ 65) (ذرا دیکھ تو، یہی ہے وہ جس کو تو نے مجھ پر فضیلت بخشی ہے ! اگر تو نے قیامت تک کے لیے مجھے مہلت بکشی تو قدر قلیل سوا میں اس کی ساری ذریت کو چٹ کر جاؤ گا۔ خدا نے فرمایا، چل دور ہو، جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے تو تمہارا بھر پور بدلہ جہنم ہے۔ تو ان میں جن کو اپنے شور و شغب سے اکھاڑ سکے اکھاڑ لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لے اور ان کے مال و اولاد میں ساجھی بن جا اور ان کو اپنے پر فریب وعدوں کے سبز باغ دکھا، شیطان کے سارے وعدے ان سے محض دھوکے کی ٹٹی ہیں۔۔۔ بیشک تجھ کو میرے خاص بندوں پر کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا اور تیرا رب اعتماد کے لیے کافی ہے) اس آیت سے شیطان کے پروپیگنڈے کے زور اور اس کی وسعت کا بھی اظہار ہو رہا ہے اور یہ بات بھی نکلتی ہے کہ وہ اپنے منصوبے کو بروئے کار لانے کے لیے سیاسی ہتھکنڈے بھی استعمال کرے گا۔ البتہ ایک پہلو اس میں تسلی کا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو انسان پر یہ اختیار نہیں بخشا کہ وہ اس کے ارادے اور اختیار کو سلب کرسکے۔ انسان کا ارادہ و اختیار بہرحال باقی رہے گا۔ اس وجہ سے اللہ کے جو بندے صراط مستقیم پر قائم رہنے کا عزم کرلیں گے وہ شیطان کی تمام غوغا آرائیوں کے علی الرغم اس پر قائم رہیں گے، اگرچہ اس کے لیے انہیں جان کی بازی کھیلنی پڑے۔
وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ کا ٹھیک ٹھیک مطلب یہ ہے کہ تو ان کی اکثریت کو اپنا موحد نہیں پائے گا۔ اس لیے کہ توحید کی اصل حقیقت یہی ہے کہ بندہ اپنی ہر نعمت کو اللہ ہی کا عطیہ، اسی کا فضل جانے اور اسی کا شکر گزار رہے۔ اگر وہ اس کو غیر اللہ کی طرف منسوب کردے تو یہ شرک ہے، اس مسئلہ پر پیچھے بھی بحثیں گزر چکی ہیں اور آگے بھی اسی سورة میں اس کے بعض نہایت اہم پہلو سامنے آئیں گے۔ اوپر آیت 10 پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayah 7:18قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا ۭ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ الایہ :۔ خدا کا دو ٹوک فیصلہ :۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مہلت تو دے دی جو اس نے مانگی لیکن ساتھی ہی اس نے اس کو ذلیل و خوار کر کے جنت سے نکال بھی دیا اس لیے کہ جنت میں متمردین و مستکبرین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ان لوگوں کا انجام بھی واضح فرما دیا جو انسانوں اور جنوں میں سے اس کی پیروی کریں گے۔ فرمایا کہ میں ان سب کو تیرے سمیت جہنم میں بھردوں گا۔ الفاظ پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ جس طنطنہ اور زور کے ساتھ شیطان نے انسان کو گمراہ کرنے اور ان کی اکثریت کو جیت لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب بھی پوری شان بےنیازی اور جبروت کے ساتھ دیا ہے جس سے واضح ہے کہ خدا کا یہ فیصلہ دو ٹوک ہے، اس میں کسی رو رعایت کی گنجائش نہیں ہے۔
Ayah 7:19وَيٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِـئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ۔ 19۔ فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطٰنُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وٗرِيَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَيْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِيْنَ 20۔ وَقَاسَمَهُمَآ اِنِّىْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيْنَ 21ۙ فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ ۭوَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَآ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلْ لَّكُمَآ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ 22 قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 23 قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ وَلَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰي حِيْنٍ 24 قَالَ فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَفِيْهَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْهَا تُخْرَجُوْنَ 25ۧ
سرگزشتِ آدم و ابلیس کے چند مضمرات :۔ یہ اسی سرگزشت کا آگے کا حصہ بیان ہو رہا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ شیطان کو جنت سے نکالنے کے بعد آدم و حوا کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی کہ تم چین سے جنت میں رہو، اس کی تمام نعمتوں سے آزادی کے ساتھ فائدہ اٹھاؤ، بس اتنا خیال رکھنا کہ فلاں درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ تم خود اپنی جان پر ظلم ڈھاؤ گے اور اس جنت سے محروم ہوجاؤ گے۔ شیطان نے یہیں سے آدم پر حملہ کرنے کی راہ نکال لی۔ اس نے آدم و حوا کہ یہ پٹی پڑھائی کہ اس باغ میں کوئی درخت فائدہ اٹھانے کا ہے تو وہی ہے جس سے تمہیں تمہارے رب نے روک رکھا ہے۔ اس سے تمہٰیں محض اس وجہ سے روکا گیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ یا تمہاری زندگی ابدی نہ ہوجائے۔ شیطان نے قسمیں کھا کھا کے آدم و حوا کو اپنی خیر خواہی کا یقین دلادیا، بالآخر انہیں اس درخت کا پھل کھالینے پر آمادہ کرلیا، اس کا پھل چکھتے ہی وہ حد جنت سے محروم ہوگئے اور اپنے آپ کو ڈھانکنے کے لیے انہوں نے اپنے اوپر پتے سینے شروع کردیے۔ اس وقت خدا نے ان کو آواز دی کہ میں نے تو تمہیں آگاہ کردیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ وہ اپنی دشمنی کا کھلے بندوں اعلان کرچکا ہے۔ اس پر آدم و حوا کو تنبیہ ہوا۔ انہوں نے فوراً توبہ و استغفار کی جو اللہ تعالیٰ نے قبول بھی فرما لیں لیکن ساتھ ہی آدم و حوا اور ابلیس سب کو وہاں سے نکلنے کی ہدایت ہوئی کہ اب تمہارا مستقر زمین ہے، اس میں تم ایک دوسرے سے آزمائے جاؤ گے۔ پھر جو اس جنت کا اپنے آپ کو حق دار ثابت کرے گا وہ جنت پائے گا اور جو دوزخ کا سزا وار ٹھہرے گا وہ دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔
اس سرگزشت کے سنانے سے جن حقائق کا سراغ مقصود ہے ان پر تفصیل سے سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم روشنی ڈال چکے ہیں۔ البتہ جو باتیں وہاں زیر بحث نہیں آئی ہیں ان کی وضاحت ہم یہاں کریں گے۔
وَيٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ الایہ۔ شجرہ پر بقرہ کی تفسیر میں بحث گزر چکی ہے۔ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِـئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ سے یہ بات نکلتی ہے کہ پوری جنت کی ہر چیز سے آدم و حوا کو فائدہ اٹھانے کی آزدی حاصل تھی، صرف ایک درخت سے ان کو روکا گیا تھا لیکن وہی درخت ان کے لیے آزمائش بن گیا، شیطان نے اسی شجر ممنوعہ کے فوائد و برکات پر ایسی دلفریب تقریر کی کہ آدم اللہ کے عہد پر قائم نہ رہ سکے۔ شیطان کی یہی تکنیک اولادِ آدم کے ساتھ اس دنیا میں بھی ہے۔ اس دنیا کہ ہر چیز انسان کے لیے مباح ہے صرف گنتی کی چند چیزیں ہیں جو ممنوع ہیں۔ شیطان بس انہی چیزوں کو لے کر اپنی اور اپنے کارندوں کی وسوسہ اندازیوں سے لوگوں کو باور کراتا ہے کہ تمہاری ساری کامیابی و ترقی کا راز بس انہی چیزوں کے اندر مضمر ہے جن سے روک دیا گیا ہے۔
Ayah 7:20فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطٰنُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا الایہ :۔ ہرچند شیطان مردود قرار پا کر جنت سے نکالا جا چکا تھا لیکن اوپر گزر چکا ہے کہ اس نے آدم اور اولاد آدم کو ورغلانے اور بہکانے کے لیے مہلت حاصل کرلی تھی۔ اس مہلت کے سبب سے معلوم ہوتا ہے، اس کو آدم و حوا تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی چناچہ اس نے فائدہ اٹھایا اور وسوسہ اندازی کے لیے آدم کے پاس پہنچ گیا۔
لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وٗرِيَ عَنْهُمَا میں لام عاقبت کا ہے، شیطان کی کوشش تو جیسا کہ اس نے اپنے چیلنج میں ظاہر کیا ہے آدم کو کفران نعمت اور خدا کی نافرمانی میں مبتلا کرنے کی تھی لیکن اس کا انجام چونکہ اس شکل میں ظاہر ہوا کہ آدم و حوا حلّہ جنت سے مھروم ہوگئے، اس وجہ سے اس کو اس طرح فرمایا گیا ہے گویا شیطان کی کوشش تھی ہی اسی مقصد کو سامنے رکھ کر۔ حلّہ جنت سے یہ محرومی اشارہ تھی اس بات کی طرف کہ اب آدم کو اپنی ساری ضروریات اپنی سعی و محنت سے فراہم کرنی ہیں۔ اب تک ان کے لیے ہر چیز کا جو خدا ساز انتظام تھا وہ اس نافرمانی کے بعد ختم ہوگیا۔
مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَيْنِ۔ ابلیس نے آدم کو لالچ دیا کہ اس درخت کا پھل کھانے سے یا تو وہ فرشتوں کے مرتبے میں آجائیں گے یا انہیں ابدی زندگی حاصل ہوجائے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کے سجدہ سے مشرف ہونے کے باوجود آدم فرشتوں کے مرتبہ کو اپنے سے اونچا سمجھتے تھے نیز وہ یہ جانتے تھے کہ یہ زندگی جو ان کو حاصل ہوئی ہے ابدی زندگی نہیں ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو شیطان ان کو ان دونوں چیزوں کے نام پر ورغلانے کی کوشش میں کامیاب نہ ہوتا۔
Ayah 7:21وَقَاسَمَهُمَآ اِنِّىْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيْنَ۔ مقامسۃ باب مفاعلت سے ہے جو عام طور پر تو مشارکت کے مفہوم کے لیے آتا ہے لیکن کبھی کبھی یہ صرف تکثیر اور مبالغہ کے لیے بھی آتا ہے، یہاں اقسم کے بجائے قاسم کا لفظ جو استعمال ہوا ہے اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ شیطان کو اپنا اعتماد جمانے کے لیے بڑی جدوجہد کرنی پڑی، بار بار قسمیں کھا کھا کے اسے یہ یقین دلانا پڑا کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے، محض بربنائے خیر خواہی کہہ رہا ہے، اس میں کسی بدنیتی کو دخل نہیں ہے۔
Ayah 7:22فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ ۚ۔ یہ دلاء الدلو سے نکلا ہوا محاورہ ہے۔ دلی فلانا بغرور کے معنی اوقعہ فیما اراد من تعزیرہ، اس نے اس کو جس فریب میں مبتلا کرنا چاہا اس میں مبتلا کردیا، اس کو اپنے ڈھب پر لانے میں کامیاب ہوگیا، اس کو شیشہ میں اتار لیا۔
فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ : درخت چکھنے کے معنی درخت کا پھل چکھنے کے ہیں۔ عربی میں مضاف کے حذف کردینے کا اسلوب بہت معروف ہے۔ ‘ خصف ’ کے معنی گانٹھنے، گوتھنے، جوڑنے کے ہیں۔ یہ درخت، جیسا کہ اوپر گذرا، آدم ؑ پر حرام ٹھہرایا گیا تھا اس وجہ سے اس کا پھل کھا لینے کی سزا ان کو یہ ملی کہ وہ حلہ جنت سے محروم ہوگئے۔
ستر پوشی انسان کی فطرت ہے : لباس کا بنیادی مقصد چونکہ ستر ہے اور اس سے اچانک محرومی کا اولین اثر انسان پر بےپردگی کے احساس کی شکل میں بطور ایک حادثہ کے پڑتا ہے۔ اس وجہ سے صورت واقعہ کی پوری تصویر سامنے لانے کے کہ اس کو بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا کے الفاظ سے تعبیر فرمایا۔ وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ کے اسلوب بیان سے اس گھبراہٹ اور سراسیمگی کا اظہار ہو رہا ہے جو اس اچانک حادثے سے آدم و حروا پر طاری ہوئی۔ جوں ہی انہوں نے محسوس کیا کہ وہ ننگے ہو کر رہ گئے ہیں فوراً انہیں اپنی ستر کی فکر ہوئی اور جس چیز پر ہاتھ پڑگیا اسی سے ڈھانکنے کی کوشش کی، چناچہ کوئی نہیں ملی تو باغ کے پتے ہی اپنے اوپر گانٹھنے گوتھنے لگے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ستر کا احساس انسان کے اندر بالکل فطری ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ چیزیں محض عادت کی پیداوار ہیں ان کا خیال بالکل غلط ہے۔ جس طرح توحید فطرت ہے، شرک انسان مصنوعی طور پر اختیار کرتا ہے، اسی طرح حیا فطرت ہے، بےحیائی انسان مصنوعی طور پر اختیار کرتا ہے۔ اس پر تفصیلی بحث اپنے محل میں آئے گی۔rnۭوَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَآ اَلَمْ اَنْهَكُمَا الایہ، یہ اشارے ہیں ان تنبیہات کی طرف جو اوپر آیات 17، 19 میں گزر چکی ہیں۔ آدم پر شیطان کی دشمنی کی نوعیت بھی اچھی طرح واضح کردی گئی تھی، اس کا اور اس کی پیروی کرنے والوں کا انجام بھی واضح کردیا گیا تھا اور خاص اس درخت کی نشان دہی بھی تعیّن کے ساتھ کردی گئی تھی جس سے ان کو خطرہ پیش آسکتا تھا۔
Ayah 7:23قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا، یہ آدم و حوا کی وہ توبہ ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی مذکورہ بالا تنبیہ کے بعد کی۔ اس توبہ کا ذکر سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے تفصیل سے اس پر بحث کی ہے۔ اس توبہ سے آدم نے ہاری ہوئی بازی پھر جیت لی۔ ابلیس کے متعلق تو اوپر گزر چکا ہے کہ وہ خدا کی نافرمانی کر کے تنبیہ کے باوجود اکڑ گیا، لیکن آد و حوا نے اپنی غلطی پر ندامت کا اظہار کیا، خدا سے معافی مانی اور بقرہ میں تصریح گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی اور ان پر رحم فرمایا اور اس طرح آدم نے اپنے عمل سے اپنی ذریت کے لیے مثال قائم کی کہ اگر شیطان کے ورغلانے سے انسان کوئی ٹھوکر کھا جائے تو اس کے نتائج سے بچنے کی راہ توبہ ہے۔
Ayah 7:24قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوّ الایہ، اس آیت کے تمام پہلوؤں پر بقرہ کی تفسیر میں بحث گزر چکی ہے، آدم و حوّا نے اگرچہ توبہ کرلی تھی اور ان کی توبہ اللہ تعالیٰ نے منظور بھی فرما لی تاہم حکمت الٰہی کا تقاضا یہی ہوا کہ آدم و حوا جنت سے نکلیں اور اس دنیا میں رہ کر وہ اور ان کی ذریت شیطان اور اس کی ذریت سے مقابلہ کریں، پھر اس میدان میں جو شیطان سے بازی لے جائیں وہ جنت کے وارث ٹھہریں۔ گویا مقابلہ تو وہی رہا جس کا ابلیس نے چیلنج دیا تھا لیکن میدان مقابلہ جنت کے بجائے یہ دنیا بنا دی گئی اور جنت کو انعام قرار دے دیا گیا۔ اولاد آدم میں سے ان خوش بختوں کے لیے جو شیطان کے مقابل میں سرخ رو ٹھہریں۔
بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوّ کے ٹکڑے پر تفصیل سے تفسیر بقرہ میں بحث گزر چکی ہے۔ یہاں اسلوب کلام دلیل ہے کہ اس میدان میں آدم و ابلیس کو اتارا ہی دو محارب فریقوں کی حیثیت سے گیا ہے۔ شیطان کو یہ مہلت دی گئی ہے کہ وہ اولادِ آدم میں سے جن کو جیت سکتا جیت لے اور اولادِ آدم کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ جو جنت کی میراث حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ شیطان کو پچھاڑیں اور جنت جیت لیں۔
نصاریٰ کا مغالطہ : یہاں اس مغالطہ سے متنبہ رہنا ضروری ہے جو نصاریٰ کو پیش آیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انسان بھی اس دنیا میں شیطان کی طرح لعنتی ہو کر اترا ہے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے انہوں نے کفارہ کا ایک خانہ ساز عقیدہ گھڑا ہے۔ قرآن نے بقرہ میں بھی اور یہاں بھی نہایت واضح رہنمائی دی ہے کہ آدم توبہ کے بعد اپنی پچھلی غلطی کے خمیازہ سے بالکل پاک ہو کر اس دنیا میں آئے ہیں اور اس دنیا میں ان کا بھیجا جانا اس لیے ہوا کہ وہ اور ان کی ذریت شیطان کے مقابل میں اپنے عزم و ایمان سے اپنے آپ کو اس عزت کا حق دار ثابت کردیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو بخشی اور جو شیطان کے حسد کا باعث ہوئی۔
Ayah 7:25قَالَ فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَفِيْهَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْهَا تُخْرَجُوْنَ :
آدم اور اولاد آدم کے لیے امتحان کے مراحل : یہ ان مراحل کا بیان ہے جن سے اس دنیا میں آدم اور اولادِ آدم کو گزرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب ان تمام مراحل سے گزر کر تم ہمارے پاس لوٹو گے اور اس وقت ہم تمہیں بتائیں گے کہ تم نے کیا کھویا ہے، کیا پایا ہے اور اس میدانِ مقابلہ سے تم سرخرو ہو کر لوٹے ہو یا نامراد ہو کر۔