7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 7:102

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی استواری نہیں پائی۔ ان میں سے اکثر بدعہد ہی نکلے

وَمَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ ۚ وَاِنْ وَّجَدْنَآ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِيْنَ۔ یہ دلوں پر مہر لگنے کا نتیجہ اور اثر بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی گروہ کے دلوں پر مہر کردیا کرتا ہے تو ان کی مت اس طرح ماری جاتی ہے کہ کوئی نشانی بھی ان کو دکھاؤ وہ اپنی جگہ سے کھسکنے کا نام نہیں لیتے۔ بار بار قسمیں کھا کھا کے عہد کریں گے کہ اگر فلاں معجزہ دکھا دو تو ہم مان لیں گے لیکن وہ معجزہ بھی دکھا دیا جائے تو کسی نئے معجزے کا مطالبہ شروع کردیں گے اور اپنے پہلے عہد سے پھرجائیں گے۔ لفظ ‘ فاسق ’ یہاں عہد شکن کے مفہوم میں ہے۔ یہی مضمون زیادہ وضاحت سے سورة انعام میں یوں بیان ہوا ہے۔ وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ إِنَّمَا الآيَاتُ عِنْدَ اللَّهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لا يُؤْمِنُونَ (109) وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ (110): اور وہ بڑی پکی قسمیں کھا کے یقین دلاتے ہیں کہ اگر کوئی معجزہ ان کو دکھایا جائے تو وہ ضور اس پر ایمان لے آئیں گے۔ کہہ دو کہ معجزے تو اللہ ہی کے پاس ہیں۔ اور تمہی کیا پتہ کہ اگر معجزہ بھی آجائے گا جب بھی وہ ایمان لانے والے نہیں اور ہم ان کے دلوں اور ان کی بصیرتوں کو اسی طرح الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار ایمان نہیں لائے اور ان کی سرکشی میں ان کو بھٹکتا چھوڑ دیں گے)۔ آگے حضرت موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت میں بھی یہی حقیقت ان الفاظ میں واضح کی گئی ہے۔ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا يٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ ۚ لَىِٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ۔ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰٓي اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ يَنْكُثُوْنَ (جب ان پر کوئی آفت آتی وہ کہتے، اے موسیٰ ، ہمارے واسطے اپنے رب سے، اس وعدے کی بنا پر جو اس نے تم سے کر رکھا ہے، دعا کرو۔ اگر) تم نے یہ بلا ہمارے سر سے ٹال دی تو ہم تمہارے بات ضرور مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ جانے دیں گے۔ پھر جب ہم اس آفت کو کچھ دیر کے لیے، جس تک لازماً ان کو پہنچنا ہوتا، ٹٓلد یتے تو وہ دفعۃً اپنا عہد توڑ دیتے۔
Ayahs 7:103–104

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان کے پاس رسول بنا کر بھیجا تو انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم اور نشانیوں کا انکار کیا تو دیکھو ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا !

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا، اے فرعون، میں خداوند عالم کا فرستادہ ہوں۔

آیات 103 تا 171 کا مضمون : آگے حضرت موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت اور ساتھ ہی بنی اسرائیل کے دینی و سیاسی عروج وزوال کی پاوری تاریخ، اجمال مگر نہایت جامعیت کے ساتھ، سامنے رکھ دی گئی ہے۔ تاریخی نقطہ نظر سے یہ ان سرگزشتوں کا تکملہ اور تتمہ ہے جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔ اوپر کی سرگزشتیں حضرت شعیب کی سرگزشت پر تمام ہوئی تھیں۔ تاریخی ترتیب کے لحاظ سے اس کے بعد حضرت موسیٰ کی بعثت کی تاریخ شروع ہوجاتی ہے جو فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ حضرت موسیٰ کے ہاتھوں ایک طرف تو فرعون اور اس کی قوم پر اللہ کی حجت تمام ہوئی اور ان کی تکذیب کے نتیجے میں فرعون کا اور اس کی قوم کا وہی انجام ہوا جو اوپر قوم نوح سے لے کر قوم شعیب تک کا بیان ہوا۔ دوسری طرف بنی اسرائیل ایک قوم کی حیثیت سے نمایاں ہوئے اور پھر بتدریج اللہ ت عالیٰ نے ان کو مذہبی پیشوائی کا منصب بھی بخشا اور سیاسی دبدبہ اور اقتدار بھی عطا فرمایا لیکن انہوں نے اس منصب اور اقتدار کی قدر نہیں بلکہ آہستہ آہستہ ان برائیوں سے بھی زیادہ سنگین برائیوں میں مبتلا ہوئے جن میں پچھلی قومیں مبتلا ہوئیں۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد جس طرح قریش کی قسمت خدا کی میزان عدل میں آگئی، اسی طرح بنی اسرائیل کی قسمت بھی کسوٹی پر رکھ دی گئی۔ اب ان کے فیصلہ کا وقت آگیا تھا کہ اگر اللہ سے باندھے ہوئے عہد کے مطابق اس نبی امی پر یہ ایمان نہیں لاتے جس پر تورات اور تمام پچھلوں صحیفوں اور انبیاء کے ذریعہ سے ان سے اقرار لیا گیا تھا تو وہ بھی اسی انجام سے دوچار ہوں جس سے پچھلی قومیں دوچار ہوئیں۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے : ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰي بِاٰيٰتِنَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ۔ من بعدھم میں ضمیر کا مرجع وہ رسول اور ان کی قومیں ہیں جن کا ذکر اوپر آیت 59 سے آیت 92 تک گزرا۔ بِایاتنا، آیات، سے مراد وہ معجزات بھی ہیں جو حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو دکھائے اور توحید، قیامت اور رسالت کے وہ فطری اور عقلی دلائل بھی جو حضرت موسیٰ اور ہارون نے نہایت وضاحت کے ساتھ فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کیے۔ یہ دلائل قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئے ہیں۔ ہم انشاء اللہ سورة طہ کی تفسیر میں ان پر روشنی ڈالیں گے۔ حضرت موسیٰ کی دعوت دوسرے انبیاء کی دعوت کے ہم رنگ تھی : حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت اصلاً عقل و فطرت کے بینات پر مبنی ہوتی ہے۔ حسی معجزات نبوت کے لوازم میں سے نہیں بلکہ اس کے عوارض میں سے ہیں۔ ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں پر حجت تمام کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) کو حسی معجزات بھی عطا فرماتا ہے۔ آگے ہم مناسب موقع پر واضح کریں گے کہ حضرت موسیٰ ؑ چونکہ فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اس وجہ سے ان کی ذمہ داری صرف اسی قدر نہیں تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو فرعون کے پنجہ سے آزاد کرا لیں بلکہ یہ ذمہ داری بھی ان پر تھی کہ اس کو ایمان و اسلام کی دعوت دیں۔ چناچہ قرآن سے یہ ثابت ہے کہ انہوں نے یہ فریضہ رسالت انجام دیا اگرچہ فرعون اور اس کی قوم کے لوگ ایمان نہ لائے۔ صرف تھوڑے لوگ ایمان لائے اور انہوں نے حضرت موسیٰ کے ساتھ ہجرت بھی کی۔ یہاں اس اجمالی اشارہ پر قناعت کیجیے۔ تفصیلات آگے کی سورتوں میں آئیں گی۔ تورات میں، اس کے مرتبوں کی مخصوص ذہنیتوں کی وجہ سے، حضرت موسیٰ کی سرگزشت ایک قوم پرست لیڈر کی سرگزشت بن گئی ہے۔ حالانکہ حضرت موسیٰ ایک جلیل القدر نبی اور رسول تھے۔ ان کی دعوت دوسرے انبیاء کی دعوت اور ان کا طریقہ کار دوسرے رسولوں کے طریقہ کار سے بالکل مختلف کس طرح ہوسکتا ہے۔ فَظَلَمُوْا بِهَا، ظلموا کے ساتھ قرآن میں جہاں جہاں ‘ ب ’ کا صلہ آیا ہے وہاں یہ لفظ ‘ کفروا ’ اور ‘ جحدوا ’ وغیرہ کے معنی پر متضمن ہے۔ یعنی انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم اور اللہ کی آیات کا انکار کیا۔ عربیت کے اس اسلوب کی وضاحت دوسرے مقامات میں گزر چکی ہے۔ ترجمہ میں ہم نے اس اسلوب کے مضمر مضمون کو کھول دیا ہے۔ سرگزشت موسیٰ اور فرعون کی تفصیل کی حکمت : اوپر اقوام عرب کی جو سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں اب ان کی تکیل یہ حضرت موسیٰ ، قوم فرعون اور بنی اسرائیل کی سرگزشت سے کی جا رہی ہے۔ یہ سرگزشت، جیسا کہ آپ نے دیکھا۔ نسبۃً تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ یہ سرگزشت ماضی کی کوئی بھولی بسری داستان نہیں تھی بلکہ اس کا تاریخی ریکارڈ تحریف و تغیر کے ساتھ سہی، تورات میں موجود تھا اور بنی اسرائیل جو اس کے حامل ہونے کے مدعی تھے وہ بھی سامنے موجود تھے۔ دوسری یہ کہ یہ بنی اسرائیل ہی تھے جن سے خدا نے اپنے دین و شریعت کی امانت واپس لی اور یہ امانت اس امت کے حوالہ کی اس وجہ سے اس سرگزشت کا ہر حصہ اپنے اندر درس موعظت رکھتا ہے۔ اس امت کے لیے بھی اور بنی اسرائیل کے لیے بھی۔ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ۔ اس سرگزشت کے سنانے کی جو اصل غایت ہے، یہ اس کی طرف اشارہ ہے تاکہ قاری کی توجہ اصل ہدف سے ہٹنے نہ پائے۔ اس سورة کے عمود کی وضاحت کرتے ہوئے ہم بیان کرچکے ہیں کہ اس میں قریش کو، تاریخ کی روسنی میں، یہ آگاہی دی جا رہی ہے کہ تمہارے اندر ایک رسول کی بعثت نے اب تمہیں خدا کی میزانِ عدل میں لا کھڑا کیا ہے۔ اگر تم نے اس رسول کی تکذیب کردی تو تم خدا کی زمین میں فساد برپا کرنے والے ٹھہرو گے اور تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو تم سے پہلے دوسرے مفسدین کا ہوچکا ہے۔ یہ بات یہاں واضح رہنی چاہیے کہ صلاح و فلاح کا تمام منبع نبی کی دعوت ہوتی ہے۔ رسول جو نظام زندگی پیش کرتا ہے وہی نظام سب کی اصلاح کا ضامن ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کی تکذیب اور مخالفت خدا کی زمین میں فساد برپا کرنے کے ہم معنی ہے۔
Ayah 7:105

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

سزاوار اور حریص ہوں کہ اللہ کی طرف سے حق کے سوا کوئی اور بات منسوب نہ کروں۔ میں تمہارے پاس تمہارے خداوند کی جانب سے کھلی ہوئی نشانی لے کر آیا ہوں تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دو

حَقِيْقٌ عَلٰٓي اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ ۭقَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِيَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ۔ حَقِيْقٌ عَلٰٓي کا مفہوم : حقیق، حَقَّ اور حُقَّ سے فعیل کا وزن ہے اور معنی میں مفعول کے آتا ہے۔ اس کے معنی لائق، اہل اور سزاوار کے ہیں۔ مثلاً کہیں گے ھو حقیق بہ، وہ اس کا اہل اور سزاوار ہے۔ ھو حقیق ان یفعل کذا، وہ اہل ہے کہ فلاں کام سر انجام دے۔ اگر اس کے ساتھ علی آئے، جیسا کہ یہاں ہے تو، جیسا کہ صاحب اقرب الموارد نے تصریح کی ہے، اس کے معنی حریص کے ہوجائیں گے۔ میرے نزدیک اس کے ساتھ علی سے اس کے اصل مفہوم کے اندر یہ ایک اضافہ ہوجاتا ہے اور یہ اضافہ اسی قاعدہ تضمین کے تحت ہوتا ہے جس کا ذکر اوپر ظلموا بہا، میں گزرا۔ اس وضاحت کی روشنی میں حَقِيْقٌ عَلٰٓي ان لا الایہ کا ترجمہ میرے نزدیک یہ ہوگا کہ میں اہل اور حریص ہوں اس بات کا کہ خدا پر نہ لگاؤ مگر وہی بات جو حق ہے، ظاہر ہے کہ جو خدا کا رسول اور سفیر ہو وہی سب سے زیادہ اہل اس بات کا ہوسکتا ہے کہ خدا کی صحیح صحیح ترجمانی کرے، اس پر کوئی من گھڑت بات نہ لگائے اس لیے کہ اس کا علم ظن و قیاس پر نہیں بلکہ براہ راست خدا کی وحی اور خطاب پر مبنی ہوتا ہے اور اپنے منصب کی ذمہ داریوں کے لحاظ سے وہ اس بات کا نہایت حریص بھی ہوتا ہے کہ اس کی زبان سے کوئی کلمہ حق کے خلاف نہ نکلے اس لیے کہ جس پرسش کا خوف اسے ہوتا یا ہوسکتا ہے، کسی دوسرے کو نہ ہوتا ہے نہ ہوسکتا ہے۔ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ۔ بینۃ سے مراد یہاں عصا اور ید بیضا کا وہ معجزہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مسلح کر کے فرعون کے پاس بھیجا۔ معجزات کے باب میں حضرت موسیٰ کے ساتھ خاص معاملہ : تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ چونکہ فرعون کی سرکشی اور اس کے تمرد سے اچھی طرح باخبر تھے۔ اس وجہ سے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو فرعون کے پاس جانے کا حکم ہوا تو وہ اس بار گراں سے بہت مضطرب ہوئے۔ انہوں نے عرض کی کہ فرعون اور اس کے درباری میری بات سننے والے نہیں ہیں۔ وہ میری بات تب سنیں گے جب مجھے کوئی ایسی کھلی ہوئی نشانی عطا ہو جو ان کو مرعوب کرسکے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس خاص حالت کے سبب سے شروع ہی میں حضرت موسیٰ کو یہ معجزے عطا فرائے اور چونکہ حضرت موسیٰ فرعون اور اس کے درباریوں کی ذہنیت سے آگاہ تھے اس وجہ سے انہوں نے پہلی ہی ملاقات میں اپنے ان معجزات کا مظاہرہ بھی کردیا تاکہ فرعونیوں کے کبر پر کچھ ضرب لگے اور وہ ان کی بات سننے پر آمادہ ہوں۔ فَاَرْسِلْ مَعِيَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ (میرے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے) بنی اسرائیل کو لے جانے کے مطالبہ کی نوعیت : یہاں دو سوال ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ کیا حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے کوئی دعو نہیں پیش کی، بس بلا تمہید یہ مطالبہ ہی ان کے سامنے رکھ دیا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دے، دوسرا یہ کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو کہا لے جانا چاہتے تھے ؟ پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن میں انبیاء اور اقوام کی جو سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں وہ مختلف سورتوں میں سورتوں کے عمود و مضمون کے اعتبار سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے بیان ہوئی ہیں۔ ہر سورة میں سرگزشت کا صرف وہی حصہ نمایاں ہوا ہے جو سورة کے موضوع کو اجاگر کرنے والا ہے، اس کے بقیہ اجا دوسری سورتوں میں اپنے اپنے مواقع کی مناسبت سے آئے ہیں۔ چناچہ دوسری سورتوں میں خشیت اور تذکر کی اس دعوت کا بھی ذکر ہے جو حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی عام سنت کے مطابق حضرت موسیٰ نے فرعون کو دی اور توحید و معاد سے سے متعلق اس مناظرے کا بھی ذکر ہے جو فرعون اور حضرت موسیٰ کے درمیان ہوا۔ انشاء اللہ سورة طہ یا کسی اور مناسب محل میں یہ چیز زیر بحث آئیں گی۔ دوسرے سوال کے جواب میں عرض ہے کہ قرآن میں اس بات کی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو کہاں لے جانا چاہتے تھے۔ تورات کی کتاب خروج کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے ابتداء یہ مطالبہ فرعون کے سامنے اس شکل میں رکھا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ عبادت کے لیے جانے دے۔ فرعون نے اس مطالبہ کو ماننے سے صاف انکار کردیا بلکہ غصہ میں آخر بنی اسرائیل کی بیگار اور مشقت میں اس نے مزید اضافہ کرنے کے احکام جاری کردیے کہ یہ کاہل اور کام چور ہوگئے ہیں اسی وجہ سے عبادت وغیرہ کے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ پھر حضرت موسیٰ کے معجزوں سے زچ ہو کر جب وہ ذرا نرم پڑا تو اس نے دریافت کیا کہ تم کہاں عبادت کے لیے جانا چاہتے ہو، یہ عبادت اسییی شہر میں کیوں نہیں کرلیتے ؟ حضرت موسیٰ نے جواب میں فرمایا کہ ہم اس عبادت کے لیے تین دن کی راہ بیابان میں جائیں گے، یہاں ہم یہ عبادت اس لیے نہیں کرسکتے کہ ہم جس چیز کی قربانی کرنا چاہتے ہیں اس کی قربانی اگر ہم نے یہاں کی تو یہ مصری ہمیں سنگسار کردیں گے۔ یہ جھگڑا عرصہ تک حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان چلتا رہا۔ بالآخر آفتوں سے تنگ آ کر جو حضر موسیٰ کے معجزوں سے ظاہر ہوئیں، درباریوں نے فرعون کو مجبور کیا کہ وہ بنی اسرائیل کو جہاں جانا چاہتے ہیں جانے دے ورنہ موسیٰ کے ہاتھوں مصر تباہ ہوجائے گا۔ فرعون نے مجبور ہو کر اجازت تو دے دی لیکن جب حضرت موسیٰ اپنی پوری قوم کو زنو فرزند، مال مویشی اور جملہ اسباب و سامان کے ساتھ لے کر نکلے تو اس کو احساس ہوا کہ یہ اجازت دینے میں اس نے غلطی کی۔ چناچہ اس نے اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا کہ مجبور کر کے ان کو واپس لائے لیکن یہ تعاقب اس نتیجہ پر منتہی ہوا کہ فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق کردیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے اپنی پوری اسکیم واضح نہیں فرمائی تھی۔ صرف اتنا ظاہر کیا کہ وہ تین دن کی راہ بیابان میں جا کر خدا کی عبادت اور قربانی کرنا چاہتے ہیں اور قربانی بھی خاص طور پر گائے کی کرنا چاہتے ہیں جس سے قبطیوں نے بنی اسرائیل کو اسی طرح محروم کر رکھا تھا جس طرح بھارت میں ہندوؤں نے مسلمانوں کو محروم کر رکھا ہے۔ حضرت موسیٰ نے چاہا کہ مصر کے غلامانہ ماحول سے الگ لے کر بنی اسرائیل کو منظم اور ان کے اندر ان تمام دینی روایات کو از سر نو زندہ کریں جو مصر کی محکومانہ زندگی میں بالکل مردہ ہوچکی تھیں۔ ہمارا قیاس ہے کہ اس مقصد کے لیے وہ سینا کے اسی علاقے میں جانا چاہتے ہوں گے جہاں انہوں نے مدین سے واپسی کے موقع پر خدا کی تجلی دیکھی تھی اور پھر جہاں ان کو اس ہجرت کے سفر میں احکام عشرہ کی الواح عطا ہوئیں۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مطالبہ کے منوانے میں حضرت موسیٰ کے کئی سال صرف ہوگئے۔ اس مدت میں انہوں نے اپنے گوناگوں معجزات اور اپنے داعیانی دلائل سے ایک طرف تو فرعون اور مصریوں پر اللہ کی حجت تمام کردی، دوسری بنی اسرائیل کو آزائش کی مختلف بھٹیوں سے گزار کر اس قابل کیا کہ وہ از سر نو شریعت الٰہی کی امانت کے حامل بن سکیں۔ اس طرح بالآخر رسولوں کی معروف سنت کے مطابق ان کے لیے وقت آگیا کہ وہ ہجر فرمائیں۔ چناچہ انہوں نے ہجرت فرمائی اور اس ہجرت سے ان کے اور ان کے باایمان ساتھیوں کے لیے نجات و فلاح کی راہ کھلی اور ان کے دشمن عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے۔ ہجرت کے باب میں جیسا کہ ہم مختلف مقامات میں واضح کرچکے ہیں، سنتِ الٰہی یہی ہے اور یہ سنت جس طرح تمام رسولوں کے معاملے میں ظاہر ہوئی اسی طرح حضرت موسیٰ کے معاملے میں بھی ظاہر ہوئی۔ یہاں زیادہ تفصیل کا موقع نہیں ہے۔ جو لوگ مزید تفصیل کے طالب ہوں وہ ہمارے مجموعہ مضامین میں وہ مضمون پڑھیں جو ہم نے خاص اسی موضوع پر لکھا ہے۔ (ملاحظہ ہو ہماری کتاب ‘ تنقیدات ’) اس میں ہم نے دکھایا ہے کہ حضرت موسیٰ کی جدوجہد ہر پہلو سے ٹھیک ٹھیک انبیا و رسل کے معروف طریقہ کے مطابق تھی۔ جن لوگوں نے ان کو نعوز باللہ ایک قوم پرست لیڈر کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے انہوں ارسل معی بنی اسرائیل کا مطلب غلط سمجھا ہے۔
Ayahs 7:106–108

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

اس نے جواب دیا کہ اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے تو اس کو پیش کرو۔ اگر تم سچے ہو

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

تو اس نے اپنی لٹھیا ڈال دی وہ یکایک ایک سچ مچ کا اژدہا بن گئی

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو وہ دفعۃً دیکھنے والوں کے لیے چمکتا ہوا نکلا

تفسیر آیت 106 تا 108۔ قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰيَةٍ فَاْتِ بِهَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔ فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا ھِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ۔ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا ھِىَ بَيْضَاۗءُ لِلنّٰظِرِيْنَ۔ فرعون کے لیے یہ بات نہایت عجیب تھی کہ ایک شخص، وہ بھی اس کی رعیت میں سے، اس کے پاس خدا کا راسول ہو کر آئے۔ وہ خود، جیسا کہ ہم خود دوسرے مقام میں تصریح کرچکے ہیں، اپنے آپ کو سب سے بڑے دیوتا یعنی سورج کا اوتار اور لوگوں کا رب اعلی بنائے بیٹھا تھا اس وجہ سے اس نے سنتے ہی کہا، اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ تم خدا کے رسول ہو کر آئے ہو تو اپنے رسول ہونے کی کوئی نشانی دکھاؤ۔ حضرت موسیٰ نے اس کے مطالبہ پر ‘ عصا ’ اور ‘ ید بیضا ’ کے معجزے دکھائے۔ معجزات کے باب میں سنت الٰہی : معجزات کے باب میں سنت الٰہی یہ معلوم ہوتی ہے کہ قوموں کے مذاق اور رجحانات کی رعایت سے دیے جاتے ہیں تاکہ ان پر حجت ہوسکیں۔ مصر میں، تاریخوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس دور میں سحر و شعبدہ کا بڑا زور اور سوسائٹی میں ساحروں کو بڑا مقام حاصل تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو ایسے معجزے دیے جن سے ساحروں کے طلسم کو باطل کیا جاسکے۔ عربوں میں اس کے برعکس، سب سے زیادہ قدر و عظمت فصاحت و بلاغت کو حاصل تھی اور سوسائٹی پر دھاک خطیبوں اور شاعروں کی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس وجہ سے ہمارے حضور کو قرآن کا معجزہ عطا ہوا جس کی فصاحت و بلاغت نے سارے فصیحو ؓ بلیغوں کو عاجز و درماندہ کردیا۔ یہاں ‘ ثعبان ’ کے ساتھ ‘ مبین ’ کی صفت آئی ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ لٹھیا سچ مچ کا اژدہا بن گئی، ایسا کھلا اژدہا کہ کسی کے لیے ذرا شب ہے کی گنجائش باقی نہیں رہی، یہ بات نہیں تھی کہ ایک چیز محض رینگنے لگ گئی ہو یا اس کے اندر سر اور دم نمایاں ہوگئی ہو بلکہ عین میں اژدر، اپنی تمام خصوصیات وصفات کے ساتھ۔ اسی طرح بَيْضَاۗءُ لِلنّٰظِرِيْنَ میں ناظرین کے لفظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ ہاتھ میں جو چمک ظاہر ہوتی تھی وہ محض فریب نظر کی نوعیت کی نہیں تھی بلکہ غور و تامل سے دیکھنے والوں کو اس کی تابانی بالکل اصلی و حقیقی معلوم ہوتی۔ یہ ملحوظ رہے کہ ‘ نظر ’ لفظ اصلاً عربی میں غور و تامل سے دیکھنے کے لیے آتا ہے۔ معجزہ اور سحر میں امتیاز : یہاں یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ معجزہ اور سحر و شعبدہ میں امتیاز منطقی تعریف کے ذریعہ سے نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ ان کا اصلی فرق دو چیزوں سے نمایاں ہوتا ہے۔ اول تو باہمی تقابل سے جس طرح مسِ خام اور کندن کو سامنے رکھ کر دیکھیے تو دونوں کا فرق صاف نمایاں ہوجائے گا اسی طرح جب ایک شخص معجزہ اور سحر کو ایک دوسرے کے مقابل میں دیکھتا ہے تو معجزے کی سطوت و جلالت، اس کے ظہور کا انداز، باطل پر اس کا غلبہ اور اس کی قہرمانیت پکار کر شہادت دیتی ہے کہ یہ کمہاروں کی مٹی سے بنا ہوا کھلونا نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق کہی اور ہی سے ہے۔۔ جو ہر جام جم از کان جہان دگر است۔۔ دوسری چیزن پیش کرنے والے کی شخصیت اور کردار ہوتی ہے۔ سحر و شعبدے دکھانے والے ہمیشہ سوسائٹی کے اراذل و انفار ہوئے ہیں، جن کی ذلت و نکبت، جن کے اخلاق کی پستی اور طبیعت کی دناءت و رذالت ہمیشہ ضرب المثل رہی ہے۔ برعکس اس کے معجزے ان لوگوں کے ہاتھوں ظاہر ہوئے ہیں جو انسانیت کے گل سرسبد مانے گئے ہیں، جن سے دنیا نے علم و عمل اور حکمت و معرفت کے سبق سیکھے ہیں، جن کی زندگی کا ہر دور اور جن کا ہر قول و فعل اسوہ اور نمونہ قرار پایا ہے، جو زندگی کی سخت سے سخت آزمائشوں میں بھی ہمیشہ سو فی صدی کھرے پائے گئے ہیں۔ یہاں ان اشارات پر کفایت کیجیے۔ آگے مناسب مواقع سے ان کی تفصیل آئے گی۔
Ayahs 7:109–110

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

قوم فرعون کے اعیان نے کہا۔ یہ تو بڑا ماہر جادوگر ہے۔

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے تو تم کیا رائے دیتے ہو ؟

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ۔ يُّرِيْدُ اَنْ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ ۚ فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ۔ قَالَ الْمَلَاُ الایہ : یہ وہ مشورت ہے جو فرعون کے درباریوں نے حضرت موسیٰ کے معجزے دیکھ کر پہلے آپس میں کی، پھر اپنی طے شدہ رائے فرعون کی خدمت میں پیش کی۔ انہوں نے رائے یہ قائم کی کہ یہ شخص کچھ ایسا ویسا جادوگر نہیں ہے بلکہ بڑا ماہر جادوگر ہے اور اس کے پیش نظر صرف وہی نہیں ہے جو یہ ظاہر کر رہا ہے بلکہ یہ بنی اسرائیل کو منظم کر کے یہ چاہتا ہے کہ ہم کو ہمارے ملک سے بےدخل کردے۔ فرعون اور اس کے درباریوں کا سیاسی سٹنٹ : یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ فی الواقع ان کے دل میں بھی وہی بات رہی ہو جو زبان پر آئی۔ وہ حضرت موسیٰ اور ہارون سے اچھی طرح واقف تھے۔ ان کے ماضی و حاضر اور ان کے اخلاق و کردار کو سامنے رکھ کر وہ آسانی سے فیصلہ کرسکتے تھے کہ حضرت موسیٰ نہ تو کوئی جادوگر ہوسکتے اور نہ اصلاح کے سوا ان کے سامنے کوئی اور مقصد ہوسکتا لیکن ارباب اقتدار کا ہمیشہ یہ شیوہ رہا ہے کہ جب ان کے مقابل میں کوئی اصلاحی دعوت اٹھی ہے تو انہوں نے اپنے عوام کو اس سے برگشتہ کرنے کے لیے اس کے اندر کوئی نہ کوئی خطرناک سیاسی معنی و مفہوم پیدا کرنے کی ضرور کوشش کی ہے۔ یہی حرکت فرعون کے درباریوں نے کی۔ انہوں نے حضرت موسیٰ کی اس خالص اصلاح دعوت اور جد و جہد کو متہم کرنے کے یہ اشلغلا چھوڑا کہ یہ درحقیقت ارسٹوکریسی کو اس ملک سے بےدخل کرنے کی ایک سازش ہے۔ فرعون فرعون کے درباریوں کا یہ اسٹنٹ وقت کے حالات کے لحاط سے ایک موثر اور کارگر اسٹنٹ تھا۔ یہ مصر کے جس دور کی سرگزشت بیان ہو رہی ہے اس دور کی تاریخ تورات میں پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ اس زمانے میں فعون اور اس کے اعیان اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ محسوس کر رہے تھے کہ بنی اسرائیل کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے، ایسا نہ ہو کہ وہ طاقت پکڑ جائیں اور ایک دن ہمیں اس ملک سے نکال چھوریں۔ تورات کی کتاب خروج سے مندرجہ ذیل اقتباس ملاحظ ہو۔ “ اور اسرائیل کی اولاد برومند اور کثیر التعداد اور فراواں اور نہایت زور آور ہوگئی اور وہ ملک ان سے بھر گیا۔ تب مصر میں ایک نیا بادشاہ پیدا ہوا جو یوسف کو نہیں جانتا تھا اور اس نے اپنی قوم کے لوگوں کو کہا دیکھو، اسرائیلی ہم سے زیادہ اور قوی ہوگئے ہیں سو آؤ ہم ان کے ساتھ حکمت سے پیش آئیں تا نہ ہو کہ جب وہ اور زیادہ ہوجائیں اور اس وقت جنگ چھڑ جائے تو وہ ہمارے دشمنوں سے مل کر ہم سے لڑیں اور ملک سے نکلجائیں اس لیے انہوں نے پر بےگار لینے والے مقرر کیے جو ان سے سخت کام لے لے کر ان کو ستائیں۔ پر انہوں نے جتنا ان کو ستایا وہ اتنا ہی زیادہ بڑھتے اور پھیلتے گئے اس لیے وہ لوگ بنی اسرائیل کی طرف سے فکرمند ہوگئے۔ تب مصر کے بادشاہ نے عبرانی دائیوں سے کہا کہ جب عبرانی عورتوں کے تم بچہ جناؤ۔ تو اگر بیٹا ہو تو اسے مار ڈالنا اور اگر بیٹی ہو تو وہ جیتی رہے۔ اور فرعون نے اپنی قوم کے سب لوگوں کو تاکیداً کہا کہ ان میں جو بیٹا پیدا ہو تم اسے دریا میں ڈال دینا اور جو بیٹی ہو اسے جیتی نہ چھوڑنا ”(خروج باب 1، 7۔ 22) یہ طویل اقتباس ہم نے محض اس لیے پیش کیا ہے کہ اندازہ ہوسکے کہ مصر کی ارسٹوکریسی بنی اسرائیل کی تعداد اور ان کی قوت سے اس زمانے میں کس درجہ تشویش میں مبتلا تھی اسی زمانے میں حضرت موسیٰ کی دعوت بلند ہوتی ہے اور وہ بھی اس انداز سے کہ وہ تمام بنی اسرائیل کو تین دن کی راہ بیابان میں عید قربان منانے کے لیے لے جانے کا مطالبہ پیش کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں فرعون کے اعیان کے پاس اپنی قوم کو حضرت موسیٰ اور ان کی دعوت سے وحشت زدہ کرنے کے لیے اس سے زیادہ کارگر حربہ اور کیا ہوسکتا تھا کہ وہ یہ شگوفہ چھوڑیں کہ اب وہ خطرہ سامنے آگیا ہے جس کا ڈر لگا ہوا تھا یعنی یہ شخص بنی اسرائیل کو منظم کر کے اب تمہیں اس ملک سے بےدخل کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے تو تم اپنا تحفظ چاہتے ہو تو اس کے مقابلے کے لیے کمریں کس لو۔
Ayahs 7:111–112

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

بولے ابھی اس کو اور اس کے بھائی کو ٹالو اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیجو

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

جو تمام ماہر جادوگروں کو اکٹھا کر کے تمہارے پاس لائیں

قَالُوْٓا اَرْجِهْ وَاَخَاهُ۔ یہ وہ مشورہ ہے جو پورے اتفاق رائے کے ساتھ درباریوں کی طرف سے فرعون کو پیش کیا گیا۔ وہ یہ کہ موسیٰ اور ہارون کے معاملے میں کوئی عاجلانہ کاروائی مناسب نہیں ہوگی۔ تقاضائے مصلحت یہ ہے کہ ابھی ان کو ٹالیے اور مملکت کے تمام حصوں میں ہر کارے بھیج کر ملک کے تمام ماہر جادوگروں کو جمع کیجئے تاکہ وہ کسی پبلک اجتماع میں اپنے فن سے موسیٰ اور ہارون کو ایسی شکست دیں کہ ان کی ہوا اکھڑ جائے۔ اگر عام جاوگروں سے ان کا مقابلہ کدرایا گیا تو اندیشہ ہے کہ وہ اس مقابلہ میں شکست کھا جائیں گے اور الٹے ہماری ہوا خیزی ہوگی۔ اَرْجِہْ اصل میں اَرْجِئْہ ہے۔ ارجاء کے معنی ٹالنے، کسی معاملے کو کسی دوسرے وقت پر محول کرنے، کسی کو منتظر بنانے کے ہیں۔ قرآن میں اس کے مختلف صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ یہاں یہ ہمزہ کے حذف اور ہ کے سکون کے ساتھ وارد ہوا ہے۔ تلفظ کا یہ اسلوب اہل عرب کے قاعدے کے مطابق ہے۔ بعض مرتبہ وہ لفظ کو ہلکا کرنے کے لیے اس طرح کا تصرف کردیتے ہیں۔ صاحب لسان نے اس کی بعض واضح مثالیں نقل کی ہیں۔
Ayahs 7:113–114

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے۔ بولے بڑا صلہ ملے ا گا ہمیں اگر ہم ہی غالب رہے !

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

فرعون نے کہا، ہاں بےشک، اور تم ہمارے مقربین میں بھی داخل ہوگے

وَجَاۗءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْٓا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِيْنَ۔ یہاں قرآن نے اپنے معروف طریقہ کے مطابق سرگزشت کا غیر ضروری حصہ نظر انداز کردیا ہے۔ یعنی درباریوں کی اس اصلاح کے بموجب فرعون نے مملکت کے تمام شہروں کو ہر کارے دوڑائے جو ہر جگہ سے ماہر فن جادوگروں کو جمع کر کے لائے اور ان کو فرعون کے دربار میں حاضر کیا۔ چونکہ یہ بات موقع کلام سے خود واضح تھی اس وجہ سے اس کو نظر انداز کر کے آگے کی بات لے لی کہ ساحروں نے سامنے آتے ہی پیشہ وروں کے عام طریقے کے مطابق خوشامدانہ انداز میں اپنے اس ارمان اور توقع کا اظہار کیا کہ اگر ہم نے بازی جیتی تو سرکار سے بڑا انعام ملے گا۔ فرعون نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہ، انعام تو جو ملنا ہے ملے گا ہی، تم پر مزید نوازش یہ ہوگی کہ تم خاص مقربین میں شامل کیے جاؤ گے۔ ساحروں کی اخلاقی پستی ایمان لانے سے پہلے : قرآن نے ساحروں کی اس حرص و طمع کا اظہار خاص طور پر اس لیے کیا ہے کہ واضح ہوجائے کہ ساحروں اور شعبدہ بازوں کی اخلاق پستی اور دناءت کا کیا حال ہوتا ہے۔ پھر آگے چل کر انہی ساحروں کا وہ انقلاب حال نمایاں کیا ہے جو ایمان کی دولت نصیب ہوتے ہی ان کے اندر پیدا ہوا کہ مال و زر کی طمع تو درکنار ان کو اپنی جان کی بھی کوئی پروا نہیں ہے۔ انا الی ربنا منقلبون۔
Ayah 7:115

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

بولے اے موسیٰ ، یا تو پہلے تم پیش کرو، یا ہمیں پیش کرنے والے بنتے ہیں۔

قَالُوْا يٰمُوْسٰٓي اِمَّآ اَنْ تُلْقِيَ وَاِمَّآ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِيْنَ۔ قَالَ اَلْقُوْا ۚ فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُوْٓا اَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوْهُمْ وَجَاۗءُوْ بِسِحْرٍ عَظِيْمٍ۔ حضرت موسیٰ کا اعتماد اللہ پر : ساحروں نے اپنے پیشہ وارانہ اخلاق کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگرچہ پیش کش تو حضرت موسیٰ کو کی کیہ وہ چاہیں تو پہلے اپنا فن دکھائیں لیکن دبی زبان سے اپنی اس خواہش کا اظہار بھی کردیا کہ وہ پہل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ حضرت موسیٰ نے پہلے انہی کو موقع دیا کہ وہ اپنا ہنر دکھائیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت موسیٰ کو پورا اعتماد تھا کہ انہیں خدا کی تائید حاصل ہے اس وجہ سے یہ ساحر کتنا ہی بڑا جادو دکھائیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کے سحر کو باطل کر کے رہے گا۔
Ayah 7:116

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

اس نے کہا تمہی یش کرو، تو جب انہوں نے پیش کیا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور ان پر دہشت طاریکردی اور بہت بڑا کرتب دکھایا

سَحَرُوْٓا اَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوْهُمْ۔ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جادو خواہ کتنا ہی بڑا ہو لیکن اس سے کسی شے کی حقیقت و ماہیت نہیں بدلتی۔ بس دیکھنے والوں کی آنکھوں اور ان کی قوت متخیلہ پر اس کا اثر پڑتا ہے جس سے آدمی ایک شے کو اس شکل میں دیکھنے لگتا ہے جس شکل میں ساحر اس کو دکھانا چاہتا ہے۔ ‘ القا ’ کا لفظ یہاں پیش کرنے اور دکھانے کے مفہوم میں ہے۔ جس طرح پانسے اور جوئے کے تیر پھینکے جاتے ہیں اسی طرح ساحر بھی کوئی چیز ناظرین کے سامنے پھینکتے ہیں اور اس پر اپنا جادو دکھاتے ہیں۔ اس مناسبت سے اس کے لیے لفظ القاء کا استعمال موزوں ہوا۔
Ayah 7:117

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ تم اپنی لٹھیا ڈال دو ، تو دفعۃ نگلنے لگی اس کو جو وہ گھڑتے تھے

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَاِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ۔ لقف کے معنی کسی چیز کو جلدی جلدی نگلنے اور افک یافک کے معنی جھوٹی اور خلاف واقعہ بات کہنے یا کرنے کے ہیں۔ اوپر گزرا کہ سحر سے کسی شے کی حقیقت یا ماہیت میں کوئی تبدیلی نہی ہوتی بلکہ اس کا تمام تر تعلق دیکھنے والوں کی نگاہ اور ان کی قت متخیلہ کے تاثر سے ہوتا ہے اس وجہ سے سحر سے جو کرشمہ ظاہر ہوتا ہے وہ یکسر باطل، جھوٹ اور فریب نظر و تخیل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس معجزہ یکسر حقیقت ہوتا ہے۔ فرمایا کہ جب ساحروں نے اپنا سحر دکھایا اور اس کے اثر ان کی رسیاں سانپوں کی طرح رینگتی نظر آئیں تو ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ تم اپنا عصا پھینکو وہ اژدہا بن کر ان کے تمام نمائشی سانپوں سنپولیوں کو ہڑپ کر جائے گا۔
Ayah 7:118

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

تو حق ظاہر ہوگیا اور جو کچھ وہ کر رہے تھے وہ سب نابود ہوا

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ یہ بالکل ویسی ہی بات ہے کہ مہ نخشب کے مقابلہ میں خورشید جہاں تاب نکل آئے۔ ظاہر ہے کہ ہزاروں مصنوعی چاند سورج ہوں جب بھی حقیق سورج کے نکتلے ہی ان کی چمک دمک ملمع کی طرح غائب ہوجائے گی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت موسیٰ کے معجزہ کے ظاہر ہوتے ہی ساحروں کا سارا طلسم غائب ہوگیا۔ اوپر ہم ظاہر کرچکے ہیں کہ معجزہ اور سحر کا حقیقی فرق میدان مقابلہ مقابلہ میں نمایاں ہوتا ہے۔ جب دونوں کا تصادم ہوتا ہے تو حق لازماً غالب ہوتا ہے باطل لازماً شکست کھاتا ہے۔
Ayah 7:119

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

تو اس وقت وہ مغلوب ہوئے اور ذلیل ہو کر رہ گئے۔

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِيْنَ۔ یہ بات صرف ساحروں سے متعلق نہیں بلکہ فرعون اور اس کے تمام اعیان و انصار سے متعلق ارشاد ہوئی ہے کہ وہ میدان مقابلہ سے ذلیل و خوار ہو کر لوٹے۔ قرآن میں دوسری جگہ یہ بات بیان ہوئی ہے کہ یہ مقابلہ ایک خاص میلہ کے دن، کھلے میدان میں ہوا تھا اور فرعون کی طرف سے اس امر کا خاص اہتمام کیا گیا تھا کہ اپنے آدمی زیادہ سے زیادہ تعداد میں اکٹھے ہو تاکہ اپنی فتح کا ڈنکا پوری دھوم سے بجایا جائے لیکن ایسی رسوائی ہوئی کہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔
Ayah 7:120

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور ساحر سجدے میں گر پڑے

وَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ۔ ساحر حضرت موسیٰ کے معجزے کی قہرمانیت سے اتنے متاثر و مرعوب ہوئے کہ بےتحاشا سجدے میں گرپڑے۔ مجہول کا صیغہ ان کے جذبہ تعطیم وا کرام سے مغلوبیت کی تعبیر کے لیے ہے۔ تعظیم و اکرام کے لیے سجدہ کا رواج مصریوں، عربوں، اسرائیلیوں سب میں رہا ہے اگرچہ اکثر حالات میں اس کی حد وہی ہوتی تھی جو ہمارے ہاں نماز میں رکوع کی ہوتی ہے۔ ساحر سحر اور معجزے کے فرق کو سب سے زیادہ جانتا ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ سحر اور معجزے میں امتیاز کی سب سے زیادہ صلاحیت خود ساحر کے اندر ہوتی ہے بشرطیکہ اس کے اندر اعتراف حق کے لیے اخلاقی جرات ہو۔ ساحر اپنے علم کی حقیقت اور اپنے مبلغ سے اچھی طرح آشنا ہوتا ہے اس وجہ سے جب اس کو معجزہ سے سابقہ پیش آتا ہے تو وہ دیکھتے ہی تاڑ جاتا ہے کہ یہ چیز اس کے فن سے ماوراء ہے۔ چناچہ فرعون کے ان ساحروں نے بھی دیکھتے ہی اپنی بےبسی اور حضرت موسیٰ کی فاتحیت کا اعتراف کرلیا اور ان کی تعظیم میں سر جھکا دیے۔
Ayahs 7:121–122

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

بولے ہم عالم کے خداوند پر ایمان لائے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

موسیٰ اور ہارون کا خداوند

قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔ ساحروں نے حضرت موسیٰ کی تعظیم ہی پر بس نہیں کیا بلکہ صاف صاف اپنے ایمان کا اعلان بھی کردیا اور وہ بھی اس تصریح کے ساتھ کہ ہم عالم کے رب، موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائے۔ جس کے صاف معنی یہ بھی تھے کہ انہیں فرعون کی خدائی سے انکار ہے۔ کون اندازہ کرسکتا ہے کہ اس اعلان کا سارے مجمع پر کیا اثر پڑا ہوگا اور فرعون اور اس کے درباریوں کی کیسی رسوائی ہوئی ہوگی ! ساحروں کے اندر حق پسندی کی رمق موجود تھی : یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہرچند یہ لوگ جادوگر تھے اور ان کے اندر اس پیشہ کی بعض خصوصیات بھی، جیسا کہ اوپر معلوم ہوا، پیدا ہوگئی تھیں تاہم حق پسندی کی کچھ رمق ان کے اندر موجود تھی۔ چناچہ سورة طہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مقابلہ کے لیے وہ خوش دلی سے نہیں آئے تھے بلکہ مجبور کر کے لائے گئے تھے۔ خود ان کا قول نقل ہوا ہے کہ انا امنا بربنا لیغفرلنا خطایانا وما اکرھتنا علیہ من السحر (ہم اپنے رب پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطاؤں اور اس سحر کو معاف کرے جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا)۔ ہوسکتا ہے کہ وہ پہلے ہی سے اندازہ رکھتے ہوں کہ حضرت موسیٰ کوئی ساحر نہیں ہیں اور نہ انہوں نے جو چیز پیش کی ہے وہ سحر ہے۔ اس وجہ سے وہ ان کے مقابلہ سے گریز کرنا چاہتے رہے ہوں لیکن فرعون اور اس کے کارندوں کے ڈر سے انہیں مجبوراً یہ کام کرنا پڑا ہو۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے حق پسندی کی ایک روشنی دبی دبائی موجود تھی جو حضرت موسیٰ کے اس معجزے کی جلالت سے بھڑک اٹھی۔ سعادت کا کوئی شمہ بھی انسان کے اندر موجود ہو تو بتوفیق الٰہی وہ اپنا اثر دکھا ہی جاتا ہے۔
Ayahs 7:123–124

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون نے کہا تم لوگ میری اجازت کے بغیر اس پر ایمان لائے۔ یہ ایک سازش ہے جو تم نے اس شہر میں اس غرض سے کی ہے کہ اس کے باشندوں کو یہاں سے نکالو تو تم عنقریب جان لوگے

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں بےترتیب کاٹوں گا پھر تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَآ اَهْلَهَا ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ یہ بڑا ہی نازک موقع تھا۔ فرعون اور اس کے درباریوں بلکہ اس کی پوری قو کی ہوا بالکل اکھڑ چکی تھی۔ لیکن یہ فرعون بھی بڑا ہی کائیاں سیاسی تھا۔ اس نے بگڑتے ہوئے حالات سنبھالنے کے لیے فوراً یہ اشغلا چھوڑا کہ یہ ان ساحروں اور موسیٰ کی ملی بھگت ہے۔ یہ ساحر ہم کو یہاں سے بےدخل کرنے کی سازش میں موسیٰ کے ساتھ شریک ہیں۔ انہوں نے پہلے سے آپس میں یہ مشورت کر رکھی تھی کہ ہم عین موقع پر اپنی شکست مان کر اپنے ایمان کا اعلان کردیں گے جس سے موسیٰ کی دھاک سب پر بیٹھ جائے گی اور اس طرھ ہم موجودہ برسر اقتدار گروہ کا اقتدار ختم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ چناچہ اس نے ان پر سازش اور بغاوت کا الزام رکھ کر ان کے لیے اس سزا کا بھی اعلان کردیا جو ریاست کے باغیون کے لیے ملک کے قانون میں موجود تھی۔ یعنی پہلے ان کے ہاتھ پاؤں بےترتیب کاٹے جائیں پھر برسر عام سولی دی جائے۔ فرعون کے قول اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس کی حکومت میں مذہبی آزادی کی کوئی گنجائش نہیں تھی اور ہو بھی کیسے سکتی تھی جب کہ بادشاہ خود اپنے آپ کو لوگوں کا رب اعلیٰ بنائے بیٹھا تھا۔ اس صورت میں تو جو بھی اس کے سوا کسی اور کو رب مانتا وہ لازماً فرعون کا باغی قرار پاتا۔
Ayah 7:125

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

وہ بولے ہم اپنے رب ہی کی طرف تو لوٹیں گے !

قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ۔ وَمَا تَنْقِمُ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاۗءَتْنَا ۭرَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ۔ ایمان باللہ کا کرشمہ : ایمان باللہ کا کرشمہ دیکھئے۔ یہ وہی جادوگر ہیں جن کی دناءت اور پست ہمتی کا ابھی چند منٹ پہلے یہ حال تھا کہ اپنے کرتب دکھانے کے لیے فرعون کے سامنے حاضر ہوتے ہیں تو بھانڈوں، نقالوں اور مسخروں کی طرح اپنے فن کے مظاہر پر بھرپور انعام کی التجا پیش کرتے ہیں یا ایمان کی روشنی دل میں داخل ہوتے ہی ان کے باطن کا ہر گوشہ اس طرح جگمگا اٹھا ہے کہ معلوم ہوتا ہے تاریکی کی کوئی پرچھائیں ان کے دلون پر کبھی پڑی ہی نہیں تھی۔ اور یہ گوشت پوست کے بنے ہوئے انسان نہیں بلکہ یہ عزیمت او استقامت کے پہاڑ اور پاکیزگی و قدوسیت کے ملائک صفت پیکر ہیں۔ غور کیجیے، فرعون نے کتنی بڑی دھمکی ان کو دی۔ لیکن انہوں نھے اس کے جواب میں فرمایا تو یہ فرمایا کہ کچھ غم نہیں، اگر تم نے ہمارے ہاتھ پاؤں کاٹ کر سولی دے دی تو ہم کہٰ اور نہیں جائیں گے، اپنے رب ہی کے پاس جائیں گے اور جب تیرا سارا غضب ہمارے اوپر اس جرم میں ہے کہ ہم اپنے رب کی آیات پر، جب کہ وہ ہمارے پاس آئیں، ایمان لائے جو کچھ تو کرسکتا ہے وہ کر گزر، اگر اس جرم کی یہ سزا ہے تو ہم اس سزا کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
Ayah 7:126

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

تم ہمارے درپئے آزار صرف اس غصہ میں ہو رہے ہو کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر جب کہ وہ ہمارے اپس آئیں، ایمان لائے، اے ہمارے رب، ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں وفات اسلام پر دے

ایمان باللہ کے نتیجہ میں انقلاب حال : اس انقلاب حال کے سبب پر غور کیجیے تو یہ حقیقت صاف نظر آئے گی کہ اگر انسان ایمان سے خالی ہے تو اس سے زیادہ حقیر کوئی شے نہیں اور اگر وہ ایمان سے بہرہ مند ہے تو اس سے زیادہ بلند کوئی شے نہیں۔ rnۭرَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ۔ یہ آگے پیش آنے والے حالات میں صبر و استقامت کی توفیق بخشے جانے کی دعا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنے ایمان کا اعلان کردیا ہے اور فرعون نے اپنی سزاؤ کا۔ اب ہمارا سارا بھروسہ اے رب، تیرے اوپر ہے۔ تو ہمارے اوپر صبر کے دونگڑے برسا اور اتمام آزمائشوں کے علی الرغم موت ایمان واسلام پر عطا فرما۔
Ayah 7:127

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور قوم فرعون کے اعیان نے فرعون سے کہا کیا تو اسی طرح موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑے رکھے گا کہ وہ ملک میں بدامنی پھیلائیں اور تجھ کو اور تیری مورتوں کو ٹھکرائیں ؟ اس نے کہا کہ ہم ان کے ذکور کو قتل کریں گے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھیں گے اور ہم ان پر پوری طرح حاوی ہیں۔

وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ ۭقَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَاۗءَهُمْ وَنَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَهُمْ ۚ وَاِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ۔ فرعون کے درباریوں کی بوکھلاہت : اس کھلے مقابلہ میں حضرت موسیٰ کی کامیابی نے فرعون اور اس کے درباریوں کو بالکل بوکھلا دیا۔ درباریوں نے فرعون سے باصرار یہ کہنا شروع کردیا کہ اب موسیٰ اور ان کی قوم کو مزید ڈھیل دینے کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔ اگر ان کو مزید موقع دیا گیا تو یہ آپ کو اور آپ کے بتوں کو چھور بیٹھیں گے اور ملک میں بغاوت کرا دیں گے۔ فرعون نے ان کو اطمینان دلایا کہ گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہمارا اقتدار پوری طرح ان کے اوپر مستحکم ہے۔ ہم ان کے ذکور کو قتل کرتے رہیں گے، ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ہمارے قابو میں ہیں اگر ہم ان کو زور پکڑنے دینا نہ چاہیں تو یہ کیا کرسکتے ہیں۔ لڑکوں کے قتل کی سکیم : اوپر لڑکوں کے قتل اور لڑکیوں کے زندہ رکھنے کی ظالمانہ اسکیم کا ذکر گزر چکا ہے۔ یہ اسکیم اسی لیے اختیار کی گئی تھی کہ بنی اسرائیل کی تعداد ملک میں اتنی زیادہ نہ ہوجائے کہ وہ ارسٹو کریسی کے لیے خطرہ بن جائیں۔ اول اول تو یہ اسکیم دائیوں کے عدم تعاون کی وجہ سے ناکام ہوگئی لیکن فرعون اس ناکامی سے مایوس نہیں ہوا بلکہ اس نے عام لوگوں کو یہ حکم دے دیا کہ وہ بنی اسرائیل کے بچوں کو دریا میں پھینک دیا کریں۔ یہاں فرعون نے اسی چیز کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ہم بہرحال ان کو اپنے لیے خطرہ نہیں بننے دین گے۔ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ہم اسی سکیم کو مزید قوت و شدت کے ساتھ چلائیں گے دو طرفہ خطرہ : یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اگرچہ فرعونی اسرائیلیوں سے اس درجہ خائف تھے لیکن ساتھ ہی وہ اس بات کے لی کسی قیمت پر بھی تیار نہیں تھے کہ وہ مصر یک قلم نکل جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصر کی تمام رفاہیت و خوش حالی انہی غلاموں کی رہین احسان تھی۔ اوپلے تھا پنے، اینٹیں بنانے سے لے کر زراعت اور تعمیرات کے سارے کام انہی کی مشقت سے انجام پاتے تھے۔ فرعون اور اس کی قوم کے لوگوں کا کام صرف عیش کرنا اور ان اسرائیلیوں پر حکومت کرنا اور ان سے بیگار لینا تھا۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں نہ تو فرعونیوں کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ اسرائلیوں کو بڑھنے اور پنپنے کا موقع دیں، نہ یہ ممکن تھا کہ ان کو یک قلم مصر سے نکل جانے دیں۔ اس دو طرفہ خطرے سے بچنے کے لیے فرعون اور اس کے لال بجھکڑوں نے یہ پالیسی بنائی کہ ان کی نرینہ اولاد کو قتل کر کے ان کی تعداد کو قابو میں رکھا جائے۔ آدی جب اپنے حدود سے تجاوز کر کے خدائی حدود میں مداخلت شروع کردیتا ہے تو اس کی عقل اسی طرح ماری جاتی ہے۔ فرعون کے دعوائے الوہیت کی نوعیت : وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ کی تاویل میں ہمارے علما اور مفسرین کو بڑا اضطراب پیش آیا ہے۔ اس میں اشکال یہ ہے کہ الھتک کے لفظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ایسے دیوی دیوتا بھی مصر میں تھے جن کی پرستش خود فرعون بھی کرتا تھا۔ اگر یہ بات صحیح مان لی جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے رب اعلی ہونے کے دعوے کی توجیہ کیا ہوگی ؟ جو خود رب اعلی ہونے کا مدعی ہو وہ کسی دوسرے دیوی دیوتا کو ماننے والا یا ان کی پرستش کرنے والا کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ فرعون اپنے زعم کے مطابق اپنے آپ کو مصریوں کے سب سے بڑے دیوات سورج کا اوتار سمجھتا تھا۔ اس طرح اس کی حیثیت اوتار بادشاہ کی تھی۔ گویا وہ بیک وقت مصریوں کا بادشاہ بھی تھا اور ان کے سب سے بڑے دیوتا کا مظہر اور اوتار ہونے کے سبب سے ان کا رب اعلی بھی۔ اس نے اپنے بیشمار اسٹیچو اور بت بنوا کر اپنی مملکت میں جگہ جگہ نصب کر ادیے تھے اور اس کی رعایا ان کے درشن اور ان کے آگے ڈنڈوت کرتی تھی۔ اس طرح بادشاہ کو بیک وقت رعایا پر خدائی اور شاہی دونوں کے اختیارات حاصل تھے۔ یہاں الہتک کے لفظ سے انہی اسٹیچوؤں اور بتوں کی طرف اشارہ ہے جو اس کی ذات کی نمائندگی کرتے تھے۔ مصر کے قدیم مندروں کے جو آثار ملے ہیں ان سے بھی اسی بات کی تصدیق ہوتی ہے۔
Ayah 7:128

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد چاہو اور ثابت قدم رہو۔ زمین اللہ کی ہے وہ جس کو اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اس کو اس کا وارث بناتا ہے اور انجام کار کی کامیابی خدا سے ڈرنے والوں ہی کے لیے ہے

قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللّٰهِ وَاصْبِرُوْا۔ تفسیر سورة بقرہ کی فصل 32 میں ہم اقامتِ دین کی جد و جہد میں صبر اور نماز کی اہمیت پر بحث کرچکے ہیں۔ درحقیقت اس جہاد میں یہی دو چیزیں وسیلہ ظفر ہیں۔ قرآن میں مشکلات راہ کے مقابلہ کے لیے ہر جگہ انہی دو ہتھیاروں سے مدد حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ یہاں اگرچہ بظاہر لفظ اللہ وارد ہوا ہے لیکن اس سے مراد نماز ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے استعانت کا ذریعہ نماز ہی ہے۔ فعون نے اس شکست سے گھبرا کر بنی اسرائیل کو دبانے اور ان کی نسل کو تباہ کرنے کا جو عزم ظاہر کیا اس سے قدرتی طور پر بنی اسرائیل کو سخت پریشانی لاحق ہوئی۔ ان کی اس پریشان کو دور کرنے کے لیے حضرت موسیٰ نے ان کو نماز اور صبر کی تلقین کی۔ فتنوں اور آزمائشوں میں استقامت بڑا کٹھنکام ہے۔ یہ کام اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اسی حقیقت کو یوں واضح فرمایا ہے کہ وما صبرک الا باللہ (اور تمہیں صبر حاصل نہیں ہوسکتا مگر اللہ ہی کی مدد سے) اللہ کی یہ مدد حاصل کرنے کا واسطہ نماز ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ اس نماز سے مراد صرف عام نماز نہیں ہے بلکہ وہ خاص نماز بھی ہے جس کی تاکید آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کو مکی زندگے کے ابتدائی پر محن دور میں کی گئی تھی۔ اسی چیز کی تاکید حضرت موسیٰ اور ہارون کو بھی کی گئی۔ سورة یونس کی آیت 87 کے تحت انشاء اللہ ہم اس کی مزید وضاحت کریں گے۔ rnۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ۔ یہ فرون کے اس غرور کی جو، انا فوقہم قاھرون، کے الفاط سے ظاہر ہورہا ہے، تردید ہے، مطلب یہ ہے کہ اپنے منہ سے اپنے متعلق جو چاہے قاہر و مقتدر ہونے کا دعوی کرتا رہے لیکن زمین کا اصل مالک اللہ ہے، وہی اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس وارث بناتا ہے اور عاقبت کار کی کامیابی بہرحال خدا سے ڈرنے والوں ہی کے لیے ہے۔ رسولوں سے متعلق اس سنت الہی کی وضاحت ہم ایک سے زیادہ مقامات میں کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو لازماً ان کے دشمنوں پر غلبہ عطا فرماتا ہے۔ عام اس سے کہ یہ غلبہ ان کی زندگی ہی میں حاصل ہو یا ان کی زندگی کے بعد ان کے پیرو وں کو حاصل ہو اور قطع نظر اس سے کہ وہ اسی سرزمین پر قابض ہوں جس میں انہوں نے اپنی دعوت بلند کی یا اللہ تعالیٰ ان کو اس علاقے سے ہجرت کا حکم دے اور ان کی برو مندی کے لیے زمین کے کسی اور خطے کا انتخاب فرمائے۔ چناچہ حضرت موسیٰ ؑ کو دشمن پر غلبہ تو ان کی زندگی ہی میں بلکہ مذکورہ بالا واقعات کے پیش آنے کے بہت تھوڑے عرصے کے بعد ہی حاصل ہوگیا لیکن ان کی امت کو حکومت عطا ہوئی فلسطین کی سرزمین کی اور کام تکمیل کو پہنچا ان کے وفان کے بعد۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ مصر میں بھی اس عذاب کے بعد، جو فرعون اور اس کی قوم پر آیا، وہ ارسٹوکریشی بالکل تباہ ہوگئی جو مصر پر قابض تھی اور ان کی جگہ دوسرے لوگ قابض ہوگئے جو خاندان اور روایات میں بالکل مختلف تھے اور ان کے ساتھ سابق حکمرانوں کی سیاسی رقابتیں بھی تھیں اور ان کی طرف سے یہ اندیشہ بھی فرعونیوں کو تھا کہ یہ بنی اسرائیل کے ساتھ ساز باز کر کے کہیں ملک کے حکمران نہ بن بیٹھیں۔ یہ مسئلہ چونکہ تاریخ کا ہے ور براہ راست ہم سے متعلق نہیں ہے اس وجہ سے ہم صرف اشارے پر کفایت کرتے ہیں۔ تفصیل کے طالب اس عہد کی تاریخ کا مطالعہ کریں۔
Ayah 7:129

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

وہ بولے ہم تو تمہارے آنے سے پہلے بھی ستائے گئے اور تمہارے آنے کے بعد بھی۔ اس نے کہا توقع ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو پامال کرے گا اور تم کو ملک کا وارث بنائے گا کہ دیکھے تم کیا روش اختیار کرتے ہو

قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا، بنی اسرائیل پر ان کی بےیقینی اور ضعیف الاعتقادی کے سبب سے حضرت موسیٰ کی یہ تلقین بےاثر ہی رہی۔ وہ بولے کہ ہمارے دن تو سخت سے سخت ہی ہوتے جا رہے ہیں۔ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم ساتئے گئے اور اب تمہارے آنے کے بعد بھی ستائے جا رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ حالات و واقعات یہ ہیں جو پیش آئے یا پیش آ رہے ہیں تو تمہارے ان وعدوں اور تمہاری ان طفل تسلیوں پر کون جی سکتا ہے تم تو رحمت کے بجائے ہمارے لیے زحمت ہی زحمت بنتے جا رہے ہو ! اوپر تورات کے حوالے سے ہم بیان کر آئے کہ مصر پر قابض ارسٹوکریسی بنی اسرائیل کی روز افزوں تعداد سے بہت گھبرائی ہوئی تھی اور اس کی روک تھام کے لیے اس نے ان کی نسل کشی کی مہم چلا رکھی تھی۔ بعد میں جب حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کی تنظیم و اصلاح کی دعوت لے کر اٹھے تو ارباب اقتدار کی یہ گھبراہٹ اور زیادہ بڑھ گئی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کو ایک طاقتور لیڈر مل گیا ہے اور اب جلد وہ ایک منظم قوت بن کر ہمارے اقتدار کو چیلنج کردیں گے۔ اس گھبراہٹ میں فرعون نے ایک طرف تو ان کی نسل کشی کی مہم کو مزید قوت و شدت کے ساتھ چلانے کے احکام جاری کردیے، دوسرے طرف اپنے کارندوں، تحصیل داروں اور اعمال کو یہ ہدایت کی کہ بنی اسائیل سے جو بیگار لی جا رہی ہے وہ سخت سے سخت تر کردی جائے۔ اینٹیں بنانے کے لیے جو بھس ان کو دیا جاتا رہا ہے وہ بند کردیا جائے اور ان کو حکم دیا جائے کہ بھس بھی وہی بٹوریں اور اینٹیں بھی لازماً ہر شخص سے روزانہ اتنی ہی بنوائی جائیں جتنی ابن تک وہ بناتے رہے ہیں۔ اس طرح عذاب کا وہ شکنجہ جو پہلے بھی کچھ کم سخت نہ تھا حضرت موسیٰ کے بعد اور بھی سخت ہوگیا۔ بنی اسرائیل نے یہ سب کچھ حضرت موسیٰ کے کھاتے میں ڈال دیا کہ یہ سب تمہاری برکتیں ہیں۔ ! قَالَ عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ الایہ، بنی اسرائیل کی مایوسی و بددلی دور کرنے کے لیے حضرت موسیٰ نے پھر ان کو تسلی دی کہ مایوس اور ہراساں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کرے گا اور زمین میں تمہیں خلافت عطا فرمائے گا۔ یہاں زمین سے مراد مصر کی سرزمین نہیں ہے بلکہ جیسا کہ آگے آیت 137 میں اس کی وضاحت ہوئی ہے اس سے مراد فلسطین کا علاقہ ہے۔ فرمایا وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا ۭ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ڏ بِمَا صَبَرُوْا : اور جو قوم دبا کے رکھی گئی تھی ہم نے اس کو اس سرزمین کے شرق و غرب کا وارث بنا دیا جس میں ہم نے بڑی برکتیں رکھی تھیں، اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا بسبب اس کے کہ وہ ثابت قدم رہے۔ ظاہر ہے کہ بارکنا فیہا سے جس علاقہ کی طرف اشارہ ہے وہ فلسطین ہی کا علاقہ ہے اور اس آیت کے الفاظ سے واضح ہے کہ اسی علاقہ کی حکومت دے کر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے وہ وعدہ پورا کیا جو آیت زیر بحث میں حضرت موسیٰ کی زبانی مذکور ہے۔ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ۔ یہ استخلاف فی الارض کے اصل مقصد کی یاد دہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو مٹاتا اور دوسری کو عروج و اقبال بخشتا ہے تو صرف یہ دیکھنے کے لیے کرتا ہے کہ اقتدار کی وراثت پا کر یہ قوم کیا رویہ اختیار کرتی ہے۔ یہ بھی پچھلی قوم کی طرح بد مست ہو کر زمین میں فساد مچاتی ہے یا اس خلافت و وراثت کا حق پہچانتی اور اس کو ادا کرتی ہے۔ اگر یہ بھی اسی روش پر چل نکلتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی ایک خاص مدت تک مہلت دے کر فنا کردیتا ہے اور ان کی جگہ دوسروں کو دے کر ان کو آزماتا ہے۔ امتحان کا یہ سلسلہ برابر جاری ہا ہے اور جب تک یہ دنیا قائم ہے، برابر جاری رہے گا۔ اس وجہ سے کسی قوم کو یہ مغالطہ نہیں ہونا چاہیے کہ جب وہ ایک مرتبہ خدا کی محبوب بن گئی تو ہمیشہ محبوب ہی بنی رہے گی، خواہ اس کے اعمال و عقائد میں کتنی ہی خرابیاں پیدا ہوجائیں۔
Ayah 7:130

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور ہم نے آلِ فرعون کو قحط سالی اور پیداوار کی کمی میں مبتلا کیا تاکہ ان کو تنبیہ ہو

وَلَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِيْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ۔ سنین، سنۃ کی جع ہے۔ اس کے عام معنی تو سال کے ہیں لیکن یہ قحط اور مصیبت کے سال کے لیے بھی معروف ہے اور اسی مفہوم میں یہاں یہ استعمال ہوا ہے۔ سنت الٰہی کا ظہور : اوپر آیت 94-95 کے تحت ہم اللہ تعالیٰ کی اس سنت کی وضاحت کرچکے ہیں کہ جب وہ اپنا کوئی رسول بھیجتا ہے تو اس کی دعوت کے مویدات، مختلف قسم کی آزمائشوں کی شکل میں وہ آفاق وانفس میں بھی ظاہر فرماتا ہے تاکہ لوگوں کے کان رسول کی دعوت کے لیے کھلیں، وہ عبرت پکڑیں اور اللہ کی طرف رجوع ہوں۔ اسی سنت الٰہی کی طرف یہاں اشارہ فرمایا کہ ایک طرف موسیٰ نے اپنی دعوت بلند کی اور اپنے معجزات سے فرعونیوں کو جھنجھوڑا، دوسری طرف ہم نے قوم فرعون کو قحط اور پیداوار کی کمی کی آزمائشوں میں مبتلا کیا تاکہ ان کے اندر خدا کا خوف اور اس کی یاد بیدار ہو۔
Ayah 7:131

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

تو جب خوش حالی آتی، کہتے، یہ تو ہے ہمارا حصہ اور اگر ان پر کوئی آفت آتی تو اس کو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے۔ سن رکھو کہ ان کی قسمت اللہ ہی کے پاس ہے لیکن ان میں کے اکثر نہیں جانتے

فَاِذَا جَاۗءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ ۚ وَاِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوْا بِمُوْسٰي وَمَنْ مَّعَهٗ ۭاَلَآ اِنَّمَا طٰۗىِٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ طیر کا مفہوم : تطیر، طیر سے ہے، طیر، چڑیوں اور پرندوں کو کہتے چونکہ توہم پرستوں میں چڑیوں کے اڑنے سے فال لینے کا عام رواج ہے اس وجہ سے تطیر کا لفظ فال لینے کے معنی میں استعمال ہوا۔ پھر اس کا غالب استعمال فال نحس کے معنی ہوگیا۔ اسی مادے سے طائر کا لفظ بھی ہے جو اس چیز کے لیے استعمال ہوا جس سے کوئی نیک یا بد فال لی جائے اور پھر اسی مفہوم سے ترقی کر کے خط، قسمت اور نصیبہ کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ آفات پر فرعونیوں کا رد عمل : اب یہ بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جو آزمائشیں فرعونیوں کو جھنجھورنے اور جگانے کے لیے بھیجیں کہ وہ حضرت موسیٰ کی دعوت کی طرف متوجہ ہوں انہوں نے ان کو حضرت موسیٰ کی نحوست کا نتیجہ قرار دیا۔ جب حالات ساز گار ہوتے تو اس کو اپنی خوش بختی، بلند اقبالی اور اپنے استحقاق کی برکت قرار دیتے لیکن جب کسی ارضی و سماوی آفت سے دوچار ہوتے تو کہتے کہ یہ موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کی نحوست ہے۔ یہ جو بےدینی و بےعقیدی پھیلا رہے ہیں اس سے ارضی و سماوی دیوتا ناخوش ہوگئے ہیں جس کا نتیجہ ان آفتوں کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ فرمایا کہ ان کا طائر قسمت و نحوست ہے تو خدا کے پاس اور یہ پیدا ہوا ہے ان کی اپنی ہی بد اعمالیوں سے لیکن ان کی اکثریت اس حقیقت سے ناواقف ہے اس وجہ سے وہ اپنی نحوست دوسروں کے طالع میں ڈھونڈ رہے ہیں۔
Ayah 7:132

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ خواہ تم کیسی ہی نشانی ہمیں مسحور کرنے کے لیے لاؤ ہم تو تمہاری بات باور کرنے کے نہیں۔

وَقَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا۔ یہ ان کا حتمی جواب نقل ہوا ہے کہ خواہ ہم پر جادو چلانے کے لیے تم کتنی ہی نشانیاں دکھاؤ ان چیزوں سے مرعوب کر ہم تمہاری بات ماننے والے نہیں ہیں۔