Ayah 7:55اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً ۭاِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ۔
اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً۔ تضرع، ضراعت سے ہے۔ اس کے معنی عاجزی، خوشامد، لجاجت، تملق کے اظہار کے ہیں۔ یہ اظہار حرکات اور اداؤں سے بھی ہوتا ہے اور الفاظ و عبارات سے بھی۔ اس کی سب سے زیادہ موثر شکل وہ ہوتی ہے جب یہ الفاظ وحرکات دونوں میں کامل ہم آہنگی کے ساتھ نمایاں ہوں جس کی بہترین شکل اسلام میں نماز ہے۔ باوضو ہو کر مودب کھڑا ہونا، ہاتھ باندھ لینا، سر نہیوڑا دینا، گھٹنے ٹیک دینا، ناک اور پیشانی خاک پر رکھ دینا، یہ تضرع کی حرکات اور ادائیں ہیں اور ان مختلف حرکات اور اداؤں کے ساتھ جو دعائیں اور تسبیحات پڑھی جاتی ہیں یہ سب اسی تضرع کی معنوی تعبیریں ہیں۔
خُفْيَةً کے معنی چپکے ہیں، یہ تضرع کے آداب میں سے ہے جو تضرع کے اخلاص کا بھی ضامن ہے اور اس کے وقار کا بھی۔ جو کام چپکے چپکے کیا جاتا ہے وہ ریا کے فتنہ سے محفوط ہوتا ہے اور خدا چونکہ ہر چیز سنتا اور جانتا ہے اس وجہ سے اس کو سنانے اور اس سے فریاد کرنے کے لیے چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ خفیۃ کا لفظ صرف ریا اور سورء ادب کے سد باب کے لیے ہے۔ اس سے اس جہر کی نفی نہیں ہوتی جو جماعتی دعاؤں یا بعض اوقات بندہ اپنی انفرادی مناجاتوں میں اختیار کرتا ہے۔ یہ جہر کی نفی نہیں بلکہ صرف اعتدال کی تاکید ہے۔ اس مضمون کی وضاحت انشاء اللہ بنی اسرائیل کی آیت، ولا تجہر بصلاتک ولا تخافت بہا وابتغ بین ذلک سبیلا کے تحت آئے گی۔
انسان کو نظام کائنات کا درس : الفاط کی وضاحت کے بعد اب آیت کے موقع و محل اور اس کے مفہوم پر غور فرمائیے۔ اوپر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ خدا ہی آسمان و زمین کا خالق ہے، اسی کے حکم سے ستارے اور سیارے گردش کر رہے ہیں، خلق اور امر سب اسی کے اختیار میں ہے اور وہ بڑی ہی بافیض و بابرکت ہستی ہے۔ اب یہ ادعوا ربکم سے وہ حق اور فرض بیان ہو رہا ہے جو اس رب عظیم و کریم کا بندوں پر عاید ہوتا ہے۔ وہ حق و فرض یہ ہے کہ اپنے اسی رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے۔ یعنی یہ استکبار اور یہ رعونت جس کا اظہار تمہاری طرف سے ہو رہا ہے یہ روش تمہارے لیے زیبا نہیں ہے۔ اس کائنات کی ہر چیز خدا کے آگے سرفگندہ و سرنگوں اور اس کے حکم کی تعمیل میں سرگرم تگاپو ہے تو تمہاری کیا ہستی ہے کہ خدا کے آگے اکڑو اور سر اٹھاؤ۔rnۭاِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ۔ خدا ان لوگوں کو کبھی پسند نہیں کرتا جو اس کے حدود سے تجاوز کریں۔ یہ نظام کائنات شاہد ہے کہ وہ کسی چیز کو اس کے حدود سے انحراف کی اجازت نہیں دیتا اور اس دنیا کی تاریخ بھی شاہد ہے کہ اس نے کبھی اکڑنے والوں اور حدود سے تجاوز کرنے والوں کو ایک حد خاص سے زیادہ مہلت نہیں دی۔
Ayah 7:56وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۭاِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ۔ یہ اوپر والے مضمون ہی کی تاکید و توثیق منفی پہلو سے ہے۔ یعنی اپنے رب اسے انحراف اختیار کر کے اس زمین میں فساد برپا نہ کرو۔ قرآن میں مختلف پہلوؤں سے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا کچھ اور الٰہ ہوتے تو یہ درہم برہم ہو کر رہ جاتے، یہ تو قائم ہی اس بنا پر ہیں کہ ان کے اندر اللہ کے ارادے کے سوا کسی اور ارادے کی کار فرمائی نہیں ہے۔ اس تکوینی توحید کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ بندے اپنے دائرہ اختیار میں بھی صرف اسی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت و اطاعت کریں، کسی اور کو اس عبادت و اطاعت میں شریک نہ بنائیں ورنہ اس زمین کا سارا نظام عدل و شریعت درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ اس کائنات کے قیام و بقا کے لیے جس طرح تکوینی توحید ناگزیر ہے اسی طرح اس زمین کے امن و عدل کے لیے خدا کی تشریعی توحید بھی لازمی ہے۔ خدا کے ملک میں کسی اور کو الہ و معبود بنانا اس کے ملک میں فساد و بغاوت برپا کرنا ہے جس سے بڑا کوئی اور جرم نہیں۔
لا تفسدوا کے ساتھ بعد اصلاحہا کی قید اس فعل کی شناعت کے اظہار کے لیے ہے۔ یعنی ملک میں فساد پیدا کرنا بجائے خود سب سے بڑا جرم ہے لیکن یہ جرم سنگین سے سنگین تر ہوجاتا ہے جب یہ اصلاح کے بعد واقع ہو اس لیے کہ یہ بگڑی ہوئی چیز کو بگاڑنا نہیں بلکہ بنی ہوئی چیز کو بگاڑنا ہوا۔
کائنات کے صلاح و فساد کی بنیاد : یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خالق کائنات نے جب اس دنیا کو بنایا تو اس کو بنا کر یوں ہی انتشار اور بد امنی کے حال میں چھور نہیں دیا بلکہ آدم اور ان کی ذریت کو اس دنیا میں بھیجنے سے پہلے ہی ان سے توحید یعنی اپنی ہی عبادت اور اپنی ہی اطاعت کا اقرار لیا۔ اس کا ذکر اسی سورة کی آیات 172، 173 میں آگے آ رہا ہے۔ پھر ذریعت آدم سے، جیسا کہ آیت 35، 36 میں گزرا، یہ وعدہ فرمایا کہ تمہاری ہدایت کے لیے میں اپنے رسول بھیجوں گا، تم ان کی پیروی کرنا، جو ان کی پیروی کریں گے وہ فلاح پائیں گے، جو تکبر کر کے ان سے اعراض کریں گے وہ ہلاک ہوں گے۔ پھر اپنے اس وعدے کے بموجب اللہ تعالیٰ نے برابر اپنے رسول بھیجے جن کی تفصیل آگے آیت 59 سے 92 تک آرہی ہے۔ ان رسولوں کی سرگزشت میں، جیسا کہ آیت 69، 74، 85، 100، 102 سے واضح ہوگا، یہ دکھایا ہے کہ اولاد آدم کے مختلف گروہوں نے جب جب اللہ کی صراط مستقیم سے ہٹ کر اس دنیا میں فساد برپا کیا ہے خدا نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان کو انذار کیا ہے اور جب انہوں نے اس انذار کی پروا نہیں کی ہے تو خدا نے ان کی جڑ کاٹ دی ہے اور ان کی خلافت دوسروں کو سونپی ہے کہ دیکھے وہ اس خلافتکا حق کس طرح ادا کرتے ہیں۔ اس طرح یہ دنیا بار بار شیطان اور اس کی ذریات کی کوششوں سے بگڑی ہے اور بار بار انبیا و مصلحین کے ذریعہ سے اس کی اصلاح ہوئی ہے۔ اس پہلو سے معاملہ پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس دنیا میں جس قوم کو بھی اپنے پچھلوں کی خلافت ملی ہے ایک فساد کو مٹا کر اس کی اصلاح کی شکل میں ملی ہے اور اگر خلافت پانے والی قوم نے خلافت پا کر اس میں فساد برپا کیا ہے تو یہ اس نے ایک بگڑی ہوئی چیز کو نہیں بگاڑا ہے بلکہ ایک بنی ہوئی چیز کو بگاڑا ہے اور یہ چیز اس کے جرم کو سنگین سے سنگین تو بنا دیتی ہے۔
اجتماعی مصلحین کا ایک مغالطہ : جہاں تک رسولوں کا تعلق ہے ان کے اور ان کی امتوں کے باب میں مذکورہ بالا اصول بالکل اٹل ہے، ان کے ذریعہ سے حق سورج کی طرح چمکتا ہوا نمایاں ہوتا ہے اس وجہ سے ان کے ہاتھوں جو نظام مٹتا ہے وہ باطل ہوتا ہے، جو قائم ہوتا ہے وہ حق ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد رسالت کا سلسلہ ختم ہوگیا لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آج قوموں کے عروج وزوال کے معاملے میں قدرت کا قانون بدل گیا۔ آج بھی اگر کوئی قوم مٹتی ہے تو اتفاق سے نہیں مٹتی اور اگر کوئی قوم عروج پر آتی ہے تو اتفاق سے نہیں آجاتی بلکہ ایک کے زوال اور دوسرے کے عروج میں اصلاً اخلاقی عوامل ہی کام کرتے ہیں لیکن کسی قوم کا چند زندگی بخش عوامل اخلاقی کے سہارے عروج پر آجانا ایک اور چیز ہے اور کسی نظام کا حق ہونا ایک دوسری چیز کسی قوم کا عروج اس بات کی دلیل تو ضرور ہے کہ اس کے اندر مغلوب و مفتوح قوم کے مقابل میں زندگی بخش عوامل اخلاقی زیادہ ہیں لیکن یہ اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتا کہ یہ قوم اور اس کا نظام سو فی صد حق ہے۔ ہمارے بہت سے اجتماعی مصلحین کو یہ اصول سمجھنے میں سخت مغالطہپیش آیا ہے جس کے سبب سے وہ افراط وتفریط میں متبلا ہوگئے۔ جو لوگ قومی تعصب میں مبتلا رہے، انہوں نے ہمیشہ غالب قوم کے غلبہ کو اس کی چیرہ دستی اور کیا دی پر محمول کیا، وہ اپنے تعصب کے سبب سے نہ تو اس اخلاقی برتری کو دیکھ سکے جو غالب قوم کے اندر موجود تھی اور نہ اس اخلاقی ضعف پر ان کی نظر پڑی جو ان کے اپنے اندر پایا جاتا تھا۔ اسی طرح جو لوگ مرعوب ذہن کے تھے انہوں نے ہر غالب کے غلبہ کو اس کے برحق ہونے کی دلیل سمجھا اور اس کے ہاتھوں جو فساد و باطل بھی دنیا میں برپا ہوگیا اسی کو نظام حق سمجھ کر اس کے گن گانے لگے۔ اس افراط وتفریط کا اثر قوموں کی تاریخ پر یہ پڑا کہ وہ بالکل غلط طریقہ پر مرتب ہوگئی جس سے صحیح نتائج نکالنا اور ان سے اجتماعی اصلاح میں فائدہ اٹھانا ناممکن ہوگیا۔ یہاں ہم اس اشارے پر کفایت کرتے ہیں۔ انشاء اللہ سورة روم کی تفسیر میں ہم اس پر شرح و بسط سے بحث کریں گے۔
امید اور بیم دونوں میں مرجع خدا ہی ہے۔ وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۭاِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ یہ اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً کا مقابل جملہ ہے اس میں خدا کو پکارنے کی ہیئت بتائی تھی جو استکبار کی ضد ہے۔ اب یہ خدا کے پکارنے کے محرک کی وضاحت فرمائی جس سے شرک کے ہر جرثومہ کی جڑ کٹ گئی ہے۔ استکبار خدا سے بےپروا کرتا ہے۔ اگر اس کا سر کچل جائے تو انسان کے اندر فقر پیدا ہوتا ہے اور یہ فقر بندے کو خدا سے جوڑتا ہے۔ اس فقر کے دو پہلو ہیں۔ ایک خوف، دوسرا طمع، اپنے لفظوں میں ان کو امید و بیم سے تعبیر کرلیجیے۔ انسان کے اندرونی داعیات بھی انہی دو قسمیں منقسم ہیں اور اس کے خارجی عوامل و محرکات کا بھی تجزیہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ وہ بھی یا تو بیم کے تحت آتے ہیں یا امید کے تحت۔ ہم بہت سی چیزیں، مادی اور معنوی دونوں قسم کی، چاہتے ہیں ان کے ارمان رکھتے ہیں، ان کے آرزو مند ہیں، اسی طرح بہت سی چیزیں ہیں، مادی اور معنوی دونوں قسم کی، جن سے گریز کرنا چاہتے ہیں، جن سے اندیشہ رکھتے ہیں، جن کو دفع کرنا چاہتے ہیں، قرآن ان دونوں ہی حالتوں کے لیے توحید کا تقاضا یہ بتاتا ہے کہ انسان صرف اللہ ہی کو اپنا مرجع و مولی بنائے۔ جو کچھ چاہے اس کے لیے بھی خدا ہی سے رجوع کرے، جن سے اندیشہ محسوس کرے اس سے بچنے کے لیے بھی خدا ہی کی پناہ ڈھونڈے، اس لیے کہ دینے والا بھی وہی ہے، روکنے والا بھی وہی ہے، اس کے سوا نہ کوئی کسی خیر سے بہرہ مند کرسکتا، نہ کسی شر سے بچا سکتا۔ نیز خیر و شر کی معرفت کا حقیقی معیار بھی وہی ہے، امید و بیم دونوں میں اگر خدا ہی مرجع ہو اور اسی کی مرضی مطلوب ہو تو انسان کو یہ معین کرنے میں ذرا زحمت پیش نہیں آسکتی کہ کیا چیز چاہنے کی ہے اور اسے کس طرح چاہنا چاہیے اور کیا چیز بچنے کی ہے اور اس سے کس طرح بچنا چاہیے۔ ایہ امر ملحوظ رہے کہ خوف اور طمع یہ دونوں ہی گھاٹیاں بری خطرناک ہیں۔ شیطان ان دونوں ہی سے انسان پر شب خون مارتا ہے اور کسی نہ کسی شرک جلی یا خفی میں لوگوں کو مبتلا کر کے رہتا ہے۔
اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ اپنی امید و بیم دونوں کا مرجع اپنے رب کو بنا لیں وہ درحقیقت محسن یعنی خوب کار ہیں اور اللہ کی رحمت ایسے خوب کاروں سے بہت قریب ہے۔ معلوم ہوا کہ مقام احسان پر فائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان بیم و رجا دونوں حالتوں میں اپنے رب کی طرف یکسو ہو۔ اگر یہ یکسوئی حاصل نہ ہو تو وہ مقام احسان سے دور ہے اور جو مقام احسان سے دور ہے وہ خدا کی رحمت سے بھی دور ہے۔ خدا کی رحمت قریب محسنین سے ہے۔ وہ جب کسی امید یا بیم میں اس کو پکارتے ہیں وہ اپنی رحمت سے ان کو بہرہ مند فرماتا ہے۔ یہاں زبان کا یہ قاعدہ ملحوظ رہے کہ لفظ رحمت کی تانیث چونکہ غیر حقیقی ہے اس وجہ سے خبر کو مونث لانا ضروری نہیں ہوا۔ نیز فعیل کا وزن بعض حالات میں مذکر و مونث دونوں کے لیے یکساں آتا ہے۔
Ayah 7:57وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ۭ حَتّٰى اِذَآ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَاۗءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۭكَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۔
امید و بیم دونوں میں خدا ہی کو مرجع بنانے کی تمثیل بارش سے۔
وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ، رحمت سے مراد یہاں بارش ہے۔ قرآن میں بارش کے لیے یہ لفظ ایک سے زیادہ مقامات استعمال ہوا ہے۔ یہ تمثیل ہے اس بات کی کہ خوف و طمع دونوں ہی حالتوں میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے اس لیے کہ رحمت ہمیشہ اللہ ہی کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔ بارش، جس پر تمام دنیا کی زندگی کا انحصار ہے، ممکن نہیں ہے کہ کوئی ایک قطرہ اس کا اس زمین پر ٹپکا دے، یہ خدا ہی ہے جو پہلے مان سون لانے والی ہوائیں چلاتا ہے جو بوجھل بادلوں کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیتی ہیں، پھر خدا ان کو بےآب وگیاہ علاقوں کی طرف ہانک دیتا ہے اور وہاں ان سے پانی برسا دیتا ہے جس سے ہر قسم کے پھل اور ہر قسم کی فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔ دوسری جگہ فرمایا ہے وھو الذی ینزل الغیث من بعد ما قنطوا و ینزل رحمتہ (شوری :28) (اور وہی ہے جو بارش اتارتا ہے بعد اس کے کہ لوگ مایوس ہوجاتے ہیں اور وہ اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے۔ حَتّٰى اِذَآ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَاۗءَ ، اقلال، کے معنی کسی چیز کو اس طرح اٹھا لینا ہے گویا اس میں کوئی وزن ہے ہی نہیں، سحاب، سحابۃ کی جمع ہے لیکن صورۃً واحد ہے اسی وجہ سے لفظ کے لحاظ سقنہ میں ضمیر اس کے لیے واحد لائے، فانزلنا بہ میں ب میرے نزدیک ظرفیہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ دیکھو، کس طرح ہوائیں بوجھل بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں گویا وہ روئی کے گالے ہیں اور پھر یہ ہم ہی ہیں کہ جدھر چاہتے ہیں ان کو ہانک کرلے جاتے ہیں اور جس جگہ چاہتے ہیں جل تھل کردیتے ہیں، کسی کی طاقت نہیں کہ ان کو اپنے پسند کردہ رخ پر موڑ سکے۔ پس امید و بیم ہر حال میں اسی سے لو لگاؤ، اس کے سوا کوئی اور مصرف اس کائنات میں نہیں ہے۔
قیامت کی یاد دہانی بارش کی تمثیل سے : ۭكَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ، یہ اسی بارش کی تمثیل سے ایک اور حقیقت کی طرف توجہ دلا دی ہے۔ وہ یہ کہ جس طرح دیکھتے ہو کہ بارش بھیج کر ایک بالکل مردہ اور بےآب وگیاہ زمین کو ہم از سرِ نو زندہ کردیتے ہیں اسی طرح ایک دن ہم تمام مردوں کو زندہ کردیں گے۔ جس خدا کی قدرت کی یہ شانیں روز دیکھ رہے ہو، مردوں کو زندہ کردینا اس کی قدرت سے کیوں بعید سمجھتے ہو ؟ ہم نے تو یہ نشانیاں اس زمین میں نمایاں کی ہی اس لیے ہیں کہ ان آثار سے تم آخرت کے لیے یاد دہانی حاصل کرو۔ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ میں غایت بیان ہوئی ہے اس توجہ دہانی کی جو کذالک کے اشارے میں مضمر ہے۔
Ayah 7:58وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ ۚ وَالَّذِيْ خَبُثَ لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا ۭ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّشْكُرُوْنَ۔
ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ طیب اور خبیث کے الفاظ جس طرح معنوی و اخلاقی اعتبار سے خبیث و طیب کے لیے آتے ہیں اسی طرح مادی اعتبار سے خبیث و طیب کے لیے بھی آتے ہیں۔ یہاں موقع دلیل ہے کہ بلد طیب سے مراد زرخیز اور ذی صلاحیت زمین اور والذی خبث سے بنجر اور شور زمین ہے۔ پھر اس میں تقابل کے اصول پر جملہ کے پہلے حصہ میں نکد کا مقابل لفظ محذوف ہے۔ نکد کے معنی ناقص اور قلیل کے ہیں اس وجہ سے جملہ کے پہلے حصہ میں طیب اور کثیر کا مضمون محذوف ہے۔
مذکورہ تمثیل سے ایک اور حقیقت کی طرف اشارہ : اب دیکھیے اسی بارش کی تمثیل سے ایک تیسری حقیقت کی طرف توجہ دلا دی کہ خدا کا ابر کرم تو خشک و تر ہر جگہ یکساں برستا ہے لیکن فیض بقدر استعداد پہنچتا ہے۔ جس طرح دیکھتے ہو کہ بارش ہوتی ہے تو زرخیز زمین لہلہا اٹھتی ہے لیکن بنجر اور شور زمین یا تو کچھ اگاتی ہی نہیں یا اگاتی ہے تو بس یوں ہی کچھ خار و خس، اسی طرح قرآن کی صورت میں جو رحمت آسمان سے برسی ہے اس کا فیض بھی ہر شخص کو یکساں نہیں پہنچے گا بلکہ استعداد و صلاحیت کے اعتبار سے پہنچے گا۔ جن کی فطری صلاحیتیں زندہ ہیں وہ تو باغ و چمن کی طرح لہلہا اٹھیں گے لیکن جنہوں نے اپنی صلاحیتیں ضائع کردی ہیں ان سے عناد و عداوت کے خار و خس کے سوا اور کسی چیز کی توقع نہ رکھو۔ یہی حقیقت ایک حدیث میں اس طرح واضح کی گئی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو علم و ہدایت دے کر بھیجا ہے اس کی تمثیل یہ ہے کہ کسی خطہ زمین پر بارش ہو تو جو ٹکڑا زرخیز ہوتا ہے وہ پانی کو قبول کرلیتا ہے اور خوب سبزہ اور نباتات اگاتا ہے۔ اسی طرھ کوئی ٹکڑا ہوتا ہے جو پانی کو روک لیتا ہے تو اللہ اس سے لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے، لوگ اس سے پیتے ہیں، کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں اور اپنی فصلیں بوتے ہیں۔ اسی طرح کوئی ٹکڑا ہوتا ہے جو محض چتیل ہوتا ہے، نہ پانی کو روکتا نہ سبزہ اگاتا، یہ تمثیل ہے ان لوگوں کی جو دین کی سمجھ حاصل کریں اور ان کو نفع پہنچے اس چیز سے جو اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے، پس وہ سیکھیں اور سکھائیں اور ان لوگوں کی جو اس کی طرف توجہ نہ کریں اور اس ہدایت کو قبول نہ کریں جس کو لے کر میں آیا ہوں (بخاری و مسلم)
دیکھا آپ نے، ایک ہی بارش کی تمثیل سے کتنے حقائق آشکارا ہوگئے ! توحید کی دلیل بھی سامنے آگئی، امکان معاد اور وقوع قیامت کی نظیر بھی مل گئی اور ہدایت و ضلالت کے باب میں جو سنت اللہ مقرر ہے وہ بھی نمایاں ہوگئی۔ گویا سورة کے آغاز سے یہاں تک جو مسائل زیر بحث آئے تھے اصولاً وہ سب ہی بےنقاب ہوگئے۔ ہم کہیں ذکر کر آئے ہیں کہ یہ کائنات پروردگار نے بنائی ہی ایسی شکل میں ہے کہ اگر انسان دیدہ بینا رکھتا ہو تو پتا پتا، بوٹا بوٹا ان حقائق کی شہادت دے رہا ہے جن کی دعوت قرآن دے رہا ہے لیکن دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان کہاں ہیں ! !
كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّشْكُرُوْنَ ، تصریف کے معنی گردش دینے کے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ ہواؤں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ وہی لفظ یہاں قرآن نے آیات کے لیے استعمال فرمایا ہے۔ جس طرح ہواؤں کی گردش سے اس کائنات میں قدرت و حکمت اور رحمت و نقمت کے گوناگوں پہلوؤں سے نمایاں کرتا ہے تاکہ لوگ ان کو سمجھیں، پہچانیں اور ان کی قدر کریں۔ لقوم یشکرون، میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ تصریف آیات، بہت بڑا احسان ہے بشرطیکہ اس کی قدر کرنے والے لوگ ہوں۔ لفظ ‘ شکر ’ کی اصل حقیقت ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ قدر دانی ہے۔ اسی قدر دانی پر ہر نعمت کی افادیت کا انحصار ہے۔ اگر یہ قدم دانی موجود نہ ہو تو جس طرح بھینس کے آگے بین بجانا لا حاصل اسی طرح ایسے بیلوں کے آگے ایک پھول کے سو سو رنگ سے مضمون باندھنا لا حاصل !
Ayah 7:59فصل 10۔ آیات 59۔۔۔ 93:
اب آگے وہی انذار کا مضمون، جو اوپر سے چلا آ رہا ہے، تاریخی دلائل سے واضح کیا گیا ہے اور عرب کی پچھلی قوموں میں سے ایک ایک کو لے کر دکھایا ہے کہ کس طرح اللہ نے ان کو اس سرزمین میں اقتدار بخشا لیکن انہوں نے اقتدار پا کر ناشکری کی روش اختیار کی، زمین میں اصلاح کے بعد فساد برپا کیا، عدل و قسط کو درہم برہم کیا، بالاخر اللہ نے ان کے اندر اپنا رسول بھیجا جس نے ان کو توحید اور عدل و قسط کے قیا کی دعوت دی لیکن انہوں نے اپنے غرور اور گھمنڈ کے سبب سے نہ صرف یہ کہ رسول کی بات مانی نہیں بلکہ اس کے درپے آزار ہوگئے، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ایک خاص حد تک مہلت دینے کے بعد اس قوم کو تباہ کردیا۔ قریش کو یہ ساری تاریخ سنانے سے مقصود یہ ہے کہ اب ان کا معاملہ بھی اسی عدالت میں ہے جس میں ان تمام قوموں کے مقدمے پیش ہو کر فیصل ہوئے اور وہ اپنے کیفرِ کردار کو پہنچیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ اگر انہوں نے بھی وہی روش اختیار کی جو ان قوموں نے اختیار کی تو اس بےلاگ عدالت کا فیصلہ ان کے لیے کچھ مختلف ہو، خدا قانون سب کے لیے ایک ہے۔ خدا جب کسی قوم میں اپنا رسولبھیج دیتا ہے تو اس قوم کے لیے دو ہی راہیں باقی رہ جاتی ہیں یا تو وہ اصلاح قبول کرے یا ہاکت، اس کے سوا کوئی راہ باقی نہیں رہ جاتی۔
یہ واضح رہے کہ آگے جن قوموں کی سرگزشتیں آرہی ہیں اہل عرب ان سے واقف تھے لیکن یہ واقفیت دھندلی دھندلی مبہم روایات کی شکل میں تھی، خاص کر ان کا اخلاقی پہلو تو بالکل ہی مبہم تھا۔ قرآن نے یہ ابہام کا پردہ اٹھا کر تاریخ و ازسرِ نو زندہ کیا اور ان کو دعوت دی کہ کان کھول کر ان سرگزشتوں کو سنیں اور ان سے عبرت حاصل کریں، یہ دوسروں ہی کی حکایت نہیں ہے بلکہ یہ خود ان کی اپنی حکایت بھی ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
حضرت نوح ؑ اور ان کی دعوت : لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖ الایۃ، اس سورة میں چونکہ قریش کو آگاہ کیا جا رہا ہے اس وجہ سے پہلے انہی قوموں کو لیا ہے، جو عرب کے شمال یا جنوب یا شمال مغرب میں نامور ہوئیں اور جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں کیفر کردار کو پہنچیں۔ ترتیب بیان بالکل تاریخی ہے اس وجہ سے قوم نوح کو سب سے پہلے لیا، ہر قوم کی سرگزشت میں سے صرف اتنا ہی حصہ نمایاں کیا ہے جتنا انذار کے مقصد کے لحاظ سے ضروری تھا۔
انبیاء کی دعوت کی مشترک حقیقت : فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ، اوپر ہم ذکر کرچکے ہیں کہ تمام فساد فی الارض کی جڑ شرک ہے۔ کسی قوم کے شرک میں مبتلا ہوجانے کے معنی یہ ہیں کہ وہ نظریات و عقائد اور اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر اعمال و اخلاق ہر چیز میں فطرت کی صراط مستقیم سے منحرف ہوگئی اور اب زمین میں اس کا بڑھنا کسی خیر و صلاح کا بڑھنا نہیں بلکہ شر و فساد کا بڑھنا ہے اور جب تک یہ قوم باقی رہے گی اس کے ہاتھوں انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں فساد ہی کو فروغ حاصل ہوگا۔ اس وجہ سے اللہ کے رسول اپنی اصلاح کی دعوت اسی اصل نقطہ سے شروع کرتے ہیں اور یہ چیز انبیاء و رسل کی دعوت کی ایک ایسی خصوصیت ہے کہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی نبی کی دعوت بغیر اس خصوصیت کے پائی جائے۔
اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۔ یہ وہ اصل انذار ہے جو حضرت نوح نے اپنی قوم کو سنایا کہ اگر تم شرک سے تائب ہو کر خالص اللہ ہی کی عبادت و اطاعت کی راہ پر نہ آگئے تو بس سمجھ لو کہ تم پر ایک ہولناک دن کا عذاب نازل ہوا ہی چاہتا ہے۔ ہولناک دن سے مراد یہاں دنیوی عذاب کا ہولناک دن ہے۔
اللہ کے رسول دو عذابوں سے ڈراتے ہیں۔ ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں کہ اللہ کے رسول اپنی اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈراتے ہیں۔ ایک اس عذاب سے جو رسول کی تکذیب کے لازمی نتیجہ کے طور پر دنیا میں آتا ہے اور دوسرے اس عذاب سے جس سے جزا و سزا کے فیصلہ کے دن آخرت میں لازماً دو چار ہونا پڑے گا۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ عذاب دنیا کی طرف اشارہ ہے۔ اس کو ہولناک دن سے اس لیے تعبیر فرمایا کہ رسول کی تکذیب کے نتیجے کے طور پر جو عذاب آتا ہے وہ تذکیر و تنبیہ کی نوعیت کا عذاب نہیں ہوتا بلکہ عذاب اس قوم کی جڑ کاٹ دیا کرتا ہے جس کے بعد قومی حیثیت سے اس کا نشان ہی صفحہ ہستی سے مٹ جایا کرتا ہے۔ سورة شعراء میں حضرت ہود کی زبان سے نقل ہوا ہے انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم (شعراء :135) پھر ان کی قوم کا جواب اور اس جواب کی پاداش میں ان پر دنیا میں عذاب کا آنا یوں بیان ہوا ہے۔ وما نحن بمعذبین فکذبوہ فاھلکناہم ان فی ذلک لایۃ (اور ہم پر ہرگز عذاب نہیں آئے گا، تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا، پس ہم نے ان کو ہلاک کر چھوڑا اور بیشک اس میں بہت بڑی نشانی ہے)
Ayah 7:60حضرت لوط ؑ اور ان کی قوم کا سوال و جواب :
مَلَاُ کے لفظ پر ہم دوسرے مقام میں بحث کرچکے ہیں۔ اِنَّا لَنَرٰكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۔ یعنی تمہاری ان باتوں کی بنا پر ہم تم کو کھلی گمراہی میں مبتلا دیکھ رہے ہیں۔ اول تو تم نے باپ دادا کے دین کی تحقیر کی کہ جن معبودوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ان کا تم انکار کر رہے ہو، پھر ستم یہ ہے کہ ہمارے اوپر عذاب الٰہی نازل ہونے کی دھمکی بھی سنا رہے ہو در آنحالیکہ ہمارے حالات تم سے اور تمہارے نام لیواؤں کے حالات سے ہر اعتبار سے اچھے ہیں۔
Ayah 7:61قَالَ يٰقَوْمِ لَيْسَ بِيْ ضَلٰلَةٌ وَّلٰكِنِّيْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔ حضرت نوح نے جواب میں فرمایا کہ مجھے کوئی سرپھرا اور بھٹکا ہوا آدمی نہ سمجھو، میں تمام عالم کے رب کی طرف سے تمہارے پاس پیغمبر کی حیثیت سے آیا ہوں اور جو کچھ تمہیں سنا رہا ہوں وہ بےکم وکاست خدا ہی کی طرف سے سنا رہا ہوں، کوئی بات اپنی طرف سے نہیں سنا رہا ہوں۔
Ayah 7:62اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ وَاَنْصَحُ لَكُمْ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ یہ خدا کا پیغام بھی ہے اور میری طرف سے تمہارے حق میں انتہائی خیر خواہی بھی کہ تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی، ناقدری و دل آزاری، دشمنی و بیزاری کے باوجود تمہارے پیچھے پڑا ہوا ہوں اور تمہارے ہاتھوں سب کچھ جھیل رہا ہوں۔ جذبہ ہمدردی و خیر خواہی کے سوا کسی اور جذبے کا میری اس تمام تگ و دو میں کوئی شائبہ نہیں۔ بس یہ اندیشہ اور یہ غم ہے کہ تم کہیں خدا کی آخری پکڑ میں نہ آجاؤ۔ تم صرف ظاہر کو دیکھتے ہو اس وجہ سے تمہیں عذاب کا ڈراوا عجیب معلوم ہوتا ہے لیکن میں خدا طرف سے وہ بات بھی جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ تم اپنے ظاہر کی چمک دمک کے ساتھ اور اپنے ان روگوں سے بھی باخبر ہوتے جو تم نے اپنے سفید کپڑوں کے نیچے چھپا رکھے ہیں تو تمہیں اندازہ ہوتا کہ میں کتنی سچی بات کہہ رہا ہوں۔
Ayah 7:63اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَاۗءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰي رَجُلٍ مِّنْكُمْ۔ یعنی کیا میری بات ماننے میں یہ چیز تمہیں مانع ہو رہی ہے کہ اللہ نے تمہیں میں سے ایک شخص پر تمہارے لیے یاد دہانی اتاری تاکہ وہ سامنے کے خطرے سے تمہیں آگاہ کردے، تاکہ تم اللہ سے ڈرو اور اس کی رحمت کے سزوار بنو، یہاں سوال اٹھا کر بات چھوڑ دی ہے، جواب نہیں دیا ہے، اس لیے کہ انداز کلام اظہارِ حسرت و افسوس کا ہے۔ اس اسلوب بیان میں یہ بات مضمر ہے کہ اگر تم سوچتے، غرور و
لِيُنْذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوْا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کے انذار کا اصل مقصد لوگوں کے اندر خشیت وتقوی پیدا کرنا ہوتا ہے اور یہی خشیت وتقویٰ ہے جو دنیا اور آخرت میں لوگوں کو رحمت الٰہی کا سزاوار بناتی ہے۔ برعکس اس کے جو لوگ نشانی عذاب اور فرشتوں کے مشاہدے کے منتظر ہوتے ہیں وہ درحقیقت اپنے لیے عذاب الٰہی کو دعوت دیتے ہیں۔
Ayah 7:64فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَيْنٰهُ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ فِي الْفُلْكِ وَاَغْرَقْنَا الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۭاِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِيْنَ۔
یعنی بالآخر وہ بات ہو کے رہی جس سے حضرت نوح نے ڈرایا تھا۔ جب قوم نے تکذیب کردی اور حضرت نوح کی طویل جدوجہد کے بعد بھی اپنے رویے کی اصلاح پر آمادہ نہ ہوئی تو ان لوگوں کے سوا جنہوں نے حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں پناہ لی سب کو اللہ تعالیٰ نے غرق کردیا۔ اس طوفان کی نوعیت پر ہم اس مقام میں بحث کریں گے جہاں قرآن نے اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ یہاں صرف یہ بات یاد رکھیے کہ غرق صرف وہ لوگ کیے گئے جو پیغمبر اور آیات الٰہی کی تکذیب پر اڑے رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ پیغمبر کی تکذیب کے نتیجے میں جو عذاب آتا ہے وہ انہی لوگوں پر آتا ہے جن پر پیغمبر اپنی حجت پوری کردیتا ہے۔ حضرت نوح کی قوم دجلہ و فرات کے دو آبہ میں آباد تھی۔ اس علاقہ کے سوا اس زمانے میں کہیں اور انسانی آبادی تھی یا نہیں ؟ یہ سوال تاریخ کے ایک ایسے دور سے متعلق ہے جس کا تعلق حقائق سے زیادہ قیاسات اور تخینوں سے ہے۔ ہم یہاں اس سوال پر کوئی گفتگو نہیں کرتا چاہتے۔ البتہ یہ بات سنت الٰہی کی اٹل حقیقت پر مبنی ہے کہ یہ عذاب صرف انہی لوگوں پر آیا جنہوں نے حضرت نوح کی تکذیب کی۔
عذاب اور ابتلا میں فرق : یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ عذاب اور ابتلا میں فرق ہوتا ہے۔ ایک تو یہ شکل ہوتی ہے کہ کسی قوم پر کوئی مصیبت، قحط و، وبا، زلزلہ طوفان وغیرہ کے قسم کی اللہ تعالیٰ اس لیے بھیجتا ہے کہ اہل غفلت اپنی غفلت کی نیند سے بیدار ہو۔ اس قسم کے ابتلائی مصائب جب نازل ہوتے ہیں تو ان میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ان کی آفت صرف مجرموں ہی تک محدود رہے بلکہ اچھے برے سب ان کی لپیٹ میں آتے ہیں۔ دوسری شکل یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم پر اس کے اعمال کی پاداش میں، اتمام حجت کے بعد، کوئی فیصلہ کن عذاب بھیجتا ہے۔ اس صورت میں عذاب کی زد سے وہ لوگ بچا لیے جاتے ہیں جو اصلاح کرنے والے یا اصلاح رنے والوں کے پیرو ہوتے ہیں۔
عقل اور دل کے اندھوں کے ساتھ خدا کا معاملہ : اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِيْنَ۔ عمون، عمی کی جمع ہے۔ یہ لفظ آنکھ کے اندھوں کے لیے بھی آتا ہے اور عقل و دل کے اندھوں کے لیے بھی۔ یہاں یہ عقل و دل کے اندھوں کے لیے آیا ہے۔ یہ وجہ بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے اس قوم کا بیڑا غرق کردیا ؟ فرمایا کہ اس وجہ سے کہ یہ عقل و دل کے اندھے تھے۔ اللہ کا رسول اتمامِ حجت کا آخری ذریعہ ہوتا ہے۔ اس ذریعہ کے بروئے آجانے کے بعد قانونِ الٰہی میں کوئی اور چیز ایسی باقی نہیں رہ جاتی جس کا اتمام حجت کے لیے بروئے کار آنا ضروری ہو اس وجہ سے رسول کے انذار کے بعد بھی جو لوگ آنکھیں نہیں کھولتے وہ دنیا میں اپنے وجود کی خود نفی کردیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو قدرت کیوں باقی رکھے جن کے دل کی آنکھیں جپاٹ ہوچکی ہیں۔
Ayah 7:65وَاِلٰي عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ۭقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۔
قوم عاد کی سرگزشت اور حضرت ہود کی دعوت : ’ عاد ‘ عرب کی قدیم اقوام میں سے ہیں۔ ان کا تعلق سامی نسل سے ہے۔ ان کا مسکن جنوبی عرب میں احقاف کا علاقہ تھا۔ قرآن کے الفاظ وجعلکم خلفاء من بعد قوم سے مترشح ہوتا ہے کہ طوفانِ نوح کے بعد اس قوم کے پیشرو وں میں سے کچھ لوگوں نے جنوبی عرب کی طرف ہجرت کی اور وہاں رفتہ رفتہ بڑی قوت و شوکت حاصل کرلی۔ عرب کے لٹریچر میں یہ اپنی قدامت کے لیے بھی ضرب المثل ہیں اور اپنے دبدبہ اور صولت کے لیے بھی۔ ان کے اندر اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود کو مبعوث فرمایا، اخاھم، کے لفظ سے اللہ تعالیٰ نے اس احسان کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس کی طرف دوسرے مقامات میں رسول منہم کے الفاظ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ رسول کا اپنی قوم کے اندر سے ہونا اتمام حجت کے نقطہ نظر سے اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم احسان ہے۔ اس کی طرف ہم نے اوپر بھی اشارہ کیا ہے اور سورة بقرہ کی تفسیر میں بھی اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔ اگرچہ ہر احسان کی طرح قوموں نے اس احسان کی بھی ہمیشہ ناقدری ہی کی ہے۔
اَفَلَا تَتَّقُوْنَ یعنی کیا تم خدا کے غضب اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتے۔ بالکل اسی محل میں حضرت نوح نے انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم فرمایا ہے۔
Ayahs 7:66–67قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖٓ اِنَّا لَنَرٰكَ فِيْ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ۔ یعنی یہ جو تم ہم کو قہر و عذاب سے ڈراتے ہو یہ محض تمہاری خرد باختگی ہے۔ ہماری یہ ترقیاں ہمارے مستحق عذاب ہونے کی علامت ہیں، یا منظور نظر اور صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی ! وانا لنظنک من الکاذبین، یعنی یہ جو تم دعوی کر رہے ہو کہ خدا کے فرستادہ ہو اور ہمارے پاس تم کو خدا نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے، یہ محض تمہار دھونس ہے اور ہم تم کو بالکل جھوٹا آدمی سمجھتے ہیں۔
Ayah 7:68اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ وَاَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِيْنٌ۔ ناصح کے ساتھ ’ امین ‘ کی صفت یہاں اسی طرح آئی ہے جس طرح سورة شعرا میں ہے۔ انی لکم رسول امین۔ امانت، خیانت کا ضد ہے۔ رسول کی ایک بڑی نمایاں صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ امین ہوتا ہے۔ یعنی جو پیغام اس کے حوالہ کیا جاتا ہے وہ پوری امانت داری کے ساتھ اس کو پہنچاتا ہے۔ اس میں سر موُ کمی بیشی نہیں کرتا۔
Ayah 7:69وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ ، قوم نوح کے بعد عاد کو خالفت دیے جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کو بعینہ اسی علاقے میں اقتدار حاصل ہوا جس میں قوم نوح کو حاصل ہوا۔ ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں کہ قوم نوح بالکل شمال میں تھی اور عاد کا علاقہ عرب کا جنوبی علاقہ تھا۔ اس خلافت کا مطلب صرف یہ ہے کہ جس طرح قوم نوح کو اقتدار و تمکن حاصل ہوا اسی طرح ان کے بعد تم کو حاصل ہوا۔ اس یاد دہانی میں حضرت ہود نے قوم کو اللہ تعالیٰ کا احسان بھی یاد دلایا ہے اور ان کو تنبیہ بھی فرمائی ہے احسان تو واضح ہے کہ جو تمکن و اقتدار قوم نوح کو حاصل تھا وہ ان کو حاصل ہوا اور تنبیہ یہ ہے کہ جب تم قوم نوح کے اقتدار کے وارث ٹھہرائے گئے ہو تو ان کی سرگزشت اور ان کے انجام کو بھی یاد رکھو۔ اگر تم نے انہی کی روش اختیار کی تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ جس انجام سے وہ دو چار ہوئے تم اس انجام سے بچ جاؤ۔ خدا کا قانون سب کے لیے ایک ہی ہے۔
وَّزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَصْۜطَةً۔ خلق کے معنی یہاں ساخت کے ہیں۔ مثلاً ولامرنہم فلیغیرن خلق اللہ (نساء :11) (میں ان کو سجھاؤں گا پس وہ خدا کی بنائی ہوئی ساخت کو مسح کریں گے۔ ’ ساخت ‘ سے مراد ظاہر ہے کہ باطنی اور ظاہر دونوں ہی ساخت ہے اسلیے کہ شیطان کے ایما سے مشرکوں نے اپنی فطرت کو بھی مسخ کیا اور اپنے بتوں کی خوشنودی کے لیے، جیسا کہ قرآن مجید میں اشارہ ہے، چوپایوں کے کان بھی کاٹے۔ بسطۃ، اور بصطۃ دونوں ایک ہی لفظ ہے۔ اس کے معنی کشادگی، وسعت اور پھیلاؤ کے ہیں۔ ظاہری اور باطنی دونوں اعتبار سے تفوق و برتری عطا فرمائی۔ عرب کی روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قوم عاد صحت جسمانی کے اعتبار سے بھی نمایاں تھی اور اپنے عقلی کارناموں کے اعتبار سے بھی اس کی بڑی دھاک تھی۔ بقرہ میں طالوت کے متعلق فرمایا ہے۔ وزادہ بسطۃ فی العلم والجسم، وہی بات یہاں زادکم فی الخلق بصطۃ سے تعبیر ہوئی۔
فَاذْكُرُوْٓا اٰلَاۗءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ الاء، جمع ہے اِلیٰ ، اَلَی، اَلی کی۔ اس کے معنی عام طور پر اہل لغت نے نعمت کے لیے ہیں لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ اس کے معنی کرشمہ، شان، کارنامہ اور اعجوبہ کے ہیں۔ ہمارے استاد مولانا فراہی ؒ نے اپنی کتاب، مفردات القرآن، میں اس لفظ کی تحقیق بیان کی ہے۔ انہوں نے مشہور شعرائے جاہلیت کے دس شعر نقل کیے ہیں جن سے وہی معنی نکلتے ہیں جو اوپر مذکور ہوئے۔
حضرت ہود کی یہ بات بھی اپنے اندر امتنان اور تنبیہ دونوں ہی کے پہلو رکھتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا نے تمہیں جن جسمانی و عقلی قوتوں اور صلاحیتوں سے نوازا ہے ان کی قدر کرو، ان کا شکر ادا کرو، ان کے سبب سے فتنے میں نہ پڑو۔ خدا کی شانوں، عظمتوں اور قدرتوں کو یاد رکھو۔ یہی راستہ فلاح کا راستہ ہے۔ اگر تم نے اکڑ دکھائی تو یاد رکھو، خدا کی پکڑ بھی بڑی ہی سخت ہے۔
Ayah 7:70قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔
اس فقرے میں قوم کا غصہ اور طنز دونوں مضمر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم رسالت کے مدعی ہو کر اس لیے تشریف لائے ہو کہ ہم تمہاری دھونس میں آکر ان معبودوں کو چھوڑ بیٹھیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے آئے ؟ اس میں اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ تم سے توقع تو اس بات کی تھی کہ دین آبائی اور قوم کی عزت بڑھاؤ گے لیکن تم سب کے دشمن بن کر اٹھے۔
فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔ تو سن رکھو کہ تمہاری عذاب کی ان دھمکیوں سے ڈر کر ہم اپنے بزرگوں کے دین سے دستبردار ہونے والے نہیں ہیں۔ اگر اس جرم میں ہم پر عذاب آنے والا ہے تو وہ عذاب لاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔
Ayah 7:71قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّغَضَبٌ۔
قد وقع اسی طرح کا اسلوب بیان ہے جیسے اتی امر اللہ ہے، یعنی اب یہ چیز لازم ہوگئی، واجب ہوگئی تم اس کے مستحق ہوگئے، بس صرف انتظار باقی رہ گیا ہے۔ رجس کے معنی گندگی اور ناپاکی کے ہیں اور اس سے مراد یہاں کفر و شرک اور اعمال و عقائد کی گندگی و ناپاکی ہے۔ رجس اور غضب میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو تو اب اس میں دیر نہیں ہے، اس کا آیا ہی سمجھو، اس لیے کہ جس ناپاکی و گندگی سے خدا کا غضب بھڑکتا ہے اس کی بہت بڑی کھیپ تم نے اپنے اوپر لاد لی ہے۔ رجس کا اتنا بڑا انبار جمع کرلینے کے بعد اب خدا کے صاعقہ عذاب کو دور نہ سمجھو۔
اَتُجَادِلُوْنَنِيْ فِيْٓ اَسْمَاۗءٍ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ۔ یہ قوم کی اس بات کا جواب ہے کہ بھلا ہم اپنے ان معبودوں کو کس طرح چھوڑ سکتے ہیں جن کو ہم باپ دادا کے زمانے سے پوجتے آئے ہیں ؟ فرمایا کہ تمہاری یہ حجت بالکل بےبنیاد ہے۔ تم جن چیزوں کو پوجتے ہو ان کے نام تو بیشک تم نے کچھ رکھ چھوڑے ہیں لیکن ان ناموں کا کوئی مسمی موجود نہیں ہے۔ ان کے شریک خدا ہونے کی کوئی دلیل نہ عقل و فطرت کے اندر موجود ہے نہ خدا نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے کہیں یہ خبر دی ہے کہ اس نے ان کو اپنا شریک بنایا۔ پھر وہ کیا چیز ہے جس کی بنا پر تم ان کو معبود بنائے بیٹھے ہو اور ان کی حمایت میں مجھ سے لڑ رہے ہو ؟ جہاں تک خدا کا تعلق ہے اس کو تو تم مانتے ہی ہو، وہ ناعی چیز نہیں ہے، اس کی دلیل تمہارے پاس بھی موجود ہے، رہے تمہارے یہ اصنام خیالی تو ان کے حق میں کیا دلیل ہے جو تم پیش کرسکتے ہو۔
فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ۔ مطلب یہ ہے کہ اب اگر عذاب دیکھ کر ہی ماننا ہے تو عذاب کا انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ اس کا انتظار کر رہا ہوں۔ جہاں تک کہ اس کے اسباب کا تعلق ہے وہ تو تم نے سب فراہم کر چھورے ہیں اس وجہ سے اس کا آنا تو امر قطعی ہے۔ لیکن عذاب لانا میرا کام نہیں ہے، خدا کا کام ہے، تم بھی انتظار کرو، میں بھی انتظار کر رہا ہوں۔
Ayah 7:72فَاَنْجَيْنٰهُ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَمَا كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَ۔ یہ اس سنت الٰہی کا بیان ہے جو رسول کے ذریعے سے قوم پر حجت تمام کردینے کے بعد لازماً ظاہر ہوتی ہے اللہ تعالیٰ رسول اور اس کے ساتھیوں کو اپنے فضل خاص سے، اپنی حفاظت میں لے کر علاقہ و عذاب سے نکال دیتا ہے اور رسول کے تمام جھٹلانے والوں کی جڑ کاٹ دی جاتی ہے۔ یہ فیصلہ کن عذاب ہوتا ہے جو اس وقت نازل ہوتا ہے جب مخاطب قوم اپنی ہٹ اور ضد سے یہ ثابت کردیتی ہے کہ اس کے اندر صلاحیت ایمان کی کوئی رمق بھی باقی نہیں رہی ہے۔ وَمَا كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَ سے اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
Ayah 7:73وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا، ثمود، عاد کے بقایا میں سے ہے۔ ان کو عاد ثانی کہتے بھی ہیں۔ ان کا مسکن عرب کے شمال مغرب میں تھا۔ ہوسکتا ہے کہ قوم عاد کی تباہی کے وقت جو لوگ عذاب سے محفوط رہے ہوں۔ انہوں نے جنوب سے شمال مغرب کی طرف ہجرت کی ہو اور پھر حجر میں سکونت اختیار کرلی ہو۔ عاد وثمود کے اوصاف قرآن میں بھی اور عرب کی روایات میں بھی تقریباً ایک ہی سے بیان ہوئے ہیں۔ بعض شاعر تو ان دونوں قوموں کا ذکر اس طرح کرتے ہیں، گویا ان کے درمیان کوئی فرق سرے سے ہے ہی نہیں۔ دونوں کے لیڈر، قیل اور قدار، جن کے ہاتھوں ان قوموں پر تباہی آئی، عربی ادب میں ضرب المثل ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ دونوں بالکل ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے۔
قَدْ جَاۗءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭهٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِيْٓ اَرْضِ اللّٰهِ وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْۗءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ یہ حضرت صالح کی طرف سے قوم کے مطالبہ عذاب کا جواب ہے۔ حضرت صالح نے قوم کو بار بار خدا کے عذاب سے ڈرایا کہ یہ نہ سمجھو کہ آج جس عیش و آرام میں مگن ہو، جن باغوں اور چشموں میں عیش کر رہے ہو، جن کھیتوں اور فصلوں کی بہاریں لوٹ رہے ہو، جن تعمیرات اور ترقیوں میں گم ہو، یہی لیل و نہار ہمیشہ رہیں گے۔ خدا کی پکڑ سے بچو، میری بات مانو اور اپنے بےلگام اور بگٹٹ لیڈروں کی پیروی میں، جو خدا کی زمین میں فساد برپاکر رہے ہیں، اپنے آپ کو تباہی کے گڑھے میں نہ جھونکو، قوم نے اس کا جواب یہ دیا کہ تم تو ہمیں ایک سحر زدہ اور خبطی آدی معلوم ہوتے ہو۔ ہم تمہاری یہ لن ترانیاں کس طرح مان لیں جب کہ تم ہماری ہی طرح کے ایک انسان ہو۔ ہم تو تمہاری بات اس وقت باور کریں گے جب تم اس عذاب کی کوئی شنانی لاؤ جس کے تم ہمیں ڈراوے سنا رہے ہو۔ ان کے اس مطالبہ کے جواب میں حضرت صالح نے ایک اونٹنی نامزد کردی کہ یہ اللہ کی اونٹنی ہے۔ یہ تمہارے لے یہ عذاب الٰہی کی نشانی ہے، اگر تم نے اس کو کوئی گزند پہنچایا تو بس سمجھ لو کہ تم پر عذاب آدھمکے گا۔ اس کو عذاب کے بند کی دیوار سمجھو، اگر تم نے اس دیوار کو توڑا تو تم کو قہر الٰہی کے سیلاب سے کوئی چیز نہ بچا سکے گی۔
اس اونٹنی کو اللہ کی طرف منسوب کرنے سے مقصود اللہ کے لیے اس کی تخصیص کی طرف اشارہ کرنا تھا کہ یہ خدا کی نذر اور اس کے لیے نامزد ہے۔ یہ تخصیص اور نامزدگی اسی نوعیت کی تھی جس طرح تخصیص اور نامزدگی ہمارے ہاں ہدی اور قلائد کے جانوروں کی ہوتی ہے۔ جس طرح اسلام میں ہدی و قلائد پر حملہ کرنا ایک عظیم جرم ہے اسی طرح حضرت صالح نے اس اونٹنی کے بابت فرمایا کہ اس سے کوئی تعرض نہ کرے، یہ امان کی دیوار ہے، اگر تم نے اس کو کوئی گزند پہنچایا تو میں جس عذاب سے تم کو آگاہ کر رہا ہوں وہ تم پر ٹوٹ پڑے گا۔
اونٹنی کو نامزد کرنے کی مصلحت : اس اونٹنی کو حضرت صالح نے ایک احساس پیما آلہ (FEELER) کی حیثیت سے نامزد کیا تھا کہ اس تاکید و تنبیہ کے باوجود اگر انہوں نے اس کو ہلاک کردیا تو یہ اس بات کا قطعی ثبوت ہوگا کہ اب یہ ظالم لوگ ان کو بھی نعوز باللہ جھوٹا سمجھ کر قتل کرنے کی جسارت کو گزریں گے۔ سنت الٰہی کے تحت کسی قوم کی جرات و جسارت کا یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جس میں رسول کو ہجرت کا حکم ہوتا ہے اور قوم پر عذاب آتا ہے۔
قرآن کے الفاظ سے یہ بات کہیں نہیں نکلتی کہ یہ اونٹنی اپنی خلقت کی اعجوبگی کے پہلو سے کوئی نشانی تھی بلکہ ولا تمسوھا بسو فیاخذکم عذاب الیم سے صاف واضح ہے کہ وہ گزند پہنچائے جانے کے انجام اور نتیجہ کے اعتبار سے نشانی تھی۔ جہاں تک علم ہے اس اونٹنی کا کسی پہاڑ یا پہاڑ سے پیدا ہونا کسی صحیح حدیث میں بھی نہیں ہے۔ اس وجہ سے انتفسیری روایات کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ جن میں بیان ہوا ہے کہ یہ اونٹنی ایک پہاڑ سے پیدا ہوئی تھی۔ آیت کے معنی نشانی اور علامت کے ہیں۔ یہ اونٹنی قوم کے مطالبہ عذاب کے جواب میں، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، ایک نشانی عذاب کی حیثیت سے نامزد کی گئی تھی چناچہ قرآن میں تصریح ہے کہ جب ثمود کے لیڈر نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو اس کے تیسرے دن عذاب الٰہی آ دھمکا۔ یہ واقعہ قرآن میں جستہ جستہ مختلف سورتوں میں بیان ہوا ہے۔ ہم یہاں تقریب فہم کے لیے ایک مثال پیش کرتے ہیں۔
كَذَّبَتْ ثَمُودُ الْمُرْسَلِينَ (141)إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ صَالِحٌ أَلا تَتَّقُونَ (142)إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (143) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (144) وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (145) أَتُتْرَكُونَ فِي مَا هَا هُنَا آمِنِينَ (146) فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (147) وَزُرُوعٍ وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ (148) وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ (149) فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (150) وَلا تُطِيعُوا أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ (151) الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ وَلا يُصْلِحُونَ (152) قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ (153) مَا أَنْتَ إِلا بَشَرٌ مِثْلُنَا فَأْتِ بِآيَةٍ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ (154) قَالَ هَذِهِ نَاقَةٌ لَهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ (155) وَلا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ (156) فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُوا نَادِمِينَ (157) فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ (158): ثمود نے رسولوں کی تکذیب کی، جب کہ ان کے بھائی صالح نے کہا کہ کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ؟ میں تمہاری طرف خدا کا ایک رسول ہوں امانت دار تو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو۔ اور میں اس پر تم سے کسی صلے کا طالب نہیں ہوں۔ میرا صلہ تو بس عالم کے رب ہی کے ذمہ ہے کیا تم جس عیش و تنعم میں یہاں ہو اس میں چھوڑے رکھے جاؤ گے ؟ باغوں اور چشموں میں، کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے گچھے بوجھ سے ٹوٹے پڑ رہے ہیں ؟ اور تم پہاڑوں میں خوش خوش گھر تراشتے رہو گے ؟ تو اللہ سے ڈرو، اور امیری بات مانو، اور ان بےقدیوں اور مطلق العنانوں کے کہے میں نہ آؤ جو ملک میں فساد مچاتے ہیں اور کوئی اصلاح کرنے پر آمادہ نہیں۔ انہوں نے جواب دیا تم پر تو کسی نے جادو کردیا ہے، تم تو ہمارے ہی جیسے ایک آدمی ہو تو اگر تم سچے ہو تو کوئی نشانی دکھاؤ۔ اس نے کہا یہ اونٹنی ہے۔ ایک دن پانی کی باری اس کی اور ایک روز مقررہ کی باری تمہاری اور اس کی کوئی گزند نہ پہنچائیوں ورنہ ایک ہوناک دن کا عزاب تم کو آپکڑے گا۔ تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، پھر انہیں پچھتانا پڑا، ان کو عذاب نے آپکڑا۔ بیشک اس کے اندر نشانی ہے اور ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں تھی۔ (شعراء : 141۔ 158)
مطالبہ عذاب کے جواب میں عذاب کے بجائے ایک نشانی عذاب کی نامزدگی اللہ تعالیٰ کی رحمت ورافت کی دلیل تھی۔ وہ قہر میں دھیما اور رحمت میں جلدی کرنے والا ہے اس وجہ سے اس نے یہ پسند فرمایا کہ لوگوں کو مزید مہلت دے کہ اب بھی وہ متنبہ ہونا چاہیں تو متنبہ ہوجائیں لیکن انہوں نے متنبہ ہونے کے بجائے جسارت کا آخری قدم اٹھا دیا اور انٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اس کے بعد اگرچہ کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی تاہم قرآن کے دوسرے مقامات سے واضح ہوتا ہے کہ خطرے کی حدود لانگ جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو تین دن کی مہلت دی کہ اب بھی اگر وہ توبہ کرنا چاہیں تو کرلیں۔
اونٹنی سے متعلق حضرت صالح ؑ نے یہ ہدایت جو فرمائی کہ یہ پورے علاقے میں چھوٹی پھرے، کوئی اس سے تعرض نہ کرے اور چشمے پر اس کے پانی پینے کا دن بالکل الگ ہو، اس دن دوسرے لوگ اپنے جانوروں کو گھاٹ پر نہ لے جائیں، یہ ہدایت قوم کی آزمائش کے لیے تھی کہ ان کے اندر جو کھوٹ اور عناد ہے ابھر کر سامنے آجائے۔ کوئی چیز ڈھکی چھپی نہ رہ جائے۔
Ayah 7:74وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّبَوَّاَكُمْ فِي الْاَرْضِ۔ اوپر ہم ذکر کر آئے ہیں کہ یہ لوگ عاد کے بقایا میں سے تھے اور ان کا عالقہ عرب کے شمال مغرب میں حجر کا علاقہ تھا۔ ان لوگوں کو وہاں بڑا عروج و اقتدار حاصل ہوا۔ ان کی بہت سی تعمیری یادگاریں آج بھی موجود ہیں۔ قریش کے قافلے اپنے شام کے سفر میں ان کی بستیوں پر سے گزرتے تھے اس وجہ سے ان کی سرگزشت ان کے لیے شنیدہ بھی تھی اور دیدہ بھی۔ حضرت صالح نے ان کو جو عاد کی خلافت یاد دلائی اس کا مقصد جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، ان کو متنبہ کرنا تھا کہ اپنے اقتدار کے نشہ میں خدا کے اقتدار کو نہ بھولو، اس نے جو معاملہ عاد کے ساتھ کیا، وہی تماہرے ساتھ کرے گا، وہ ایک ہی ترازو سے سب کے لیے تولتا ہے۔
تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّتَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُيُوْتًا۔ سہل اور جبل دونوں مقابل الفاظ ہیں، سھل پہاڑی علاقے کے مقابل میں میدانی علاقہ کو کہتے ہیں۔ ان لوگوں نے تمدنی اور تعمیری اعتبار سے اپنے زمانے میں بڑی ترقی کی۔ میدانی علاقوں میں بھی انہوں نے عالیشان محل تعمیر کیے اور پہاڑی علاقوں میں بھی پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بنائے۔ ان کے دور کے بعض تعمیری آثار آج بھی موجود ہیں جو فن تعمیر میں ان کے کمال کی شہادت دیتے ہیں۔ حضرت صالح نے ان کے ان تمام تعمیری ولولوں پر عین ان کے دور عروج میں ماتم کیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ عالیشان اور لق و دق عمارتیں بنانا قوم کے عروج کی نہیں بلکہ تمدن کے فساد اور قوم کے زوال کی نشانی ہے۔ یہی فلک بوس عمارتیں بالآخر اس کے عروج و کمال کے مقبرے اور مدفن بنتی ہیں اور ایک دن زاغ و زغن ان میں اپنے آشیانے بناتے ہیں۔ حضرت صالھ نے ان کو یاد دلایا کہ لوگو، خدا کی شانوں اور اس کی عظیم قدرتوں کو یاد کرو اور خدا کی زمین مفسد بن کر سر نہ اٹھاؤ۔ فَاذْكُرُوْٓا اٰلَاۗءَ اللّٰهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ
Ayah 7:75قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ۔ مستضعف کے معنی ہیں زیر دست، دبائے ہوئے، بےاثر، مظلوم، انبیاء کی دعوت قبول کرنے میں ہمیشہ غریبوں اور کمزوروں ہی نے سبقت کی ہے اس لیے کہ وہ استکبار کے حجاب سے پاک ہوتے ہیں استکار ہی وہ چیز ہے جو قبول حق میں سب سے بڑا مانع ہے۔ ابلیس کی سرگزشت میں ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔
اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭقَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ۔ اہل ایمان سے مستکبرین کا یہ سوال استنکار کی نوعیت کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم لوگ اس شخص کو خدا کا رسول سمجھ بیٹھے ہو تو بڑے ہی کم عقل اور بدھو ہو۔ اہل ایمان کا جواب کہ“ ہم تو اس پیغام پر ایمان رکھتے ہیں جو وہ دے کر بھیجے گئے ہیں ”سوال کے اصل جواب سے ایک قدم آگے ہے۔ انہوں نے حضرت صالح کی صرف رسالت کے اقرار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی اصل دعوت کی صحت و صداقت پر اپنے کامل ایمان اور اس ایمان پر اپنے پختہ عزم و حزم کا اظہار بھی کیا۔ ظاہر ہے کہ مستکبرین کو اصل چڑ حضرت صالح سے نہیں بلکہ ان کی دعوت اور ان کے پیغام ہی سے تھی۔ چناچہ اہل ایمان نے کچھ لگی لپٹی رکھے بغیر ان کے اندر کے چھپے ہوئے اس خناس ہی پر ضرب لگائی اور یہ گویا اینٹ کے جواب میں پتھر تھا جس نے ثابت کردیا کہ اب تک جو لوگ دبے ہوئے یا دبائے ہوئے تھے اب وہ اس حق کے معاملے میں کسی سے دبنے والے نہیں۔
اس سے یہ بات بھی نکلی کہ رسولوں پر ایمان لانے والے اگرچہ ابتداء غریب اور کمزور لوگ ہی ہوتے ہیں لیکن جو چیز ان کو اپیل کرتے ہے وہ نبی کی دعوت کی قوت و حجت ہوتی ہے نہ کہ معجزے اور کر شتمے اور برعکس اس کے جو لوگ اپنی بڑی اور ذہانت و فطانت کے مدعی ہوتے ہیں وہ آخر تک نشانیوں اور معجزوں ہی کے چکر میں پھنسے رہ جاتے ہیں، یہاں تک کہ ان کی آنکھیں اس وقت کھلتی ہیں جب اللہ کا عذاب ان کی کمر توڑ دیتا ہے۔
Ayah 7:76قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْٓا اِنَّا بِالَّذِيْٓ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ۔ یہ مستکبرین کی طرف سے آخری جھنجھلاہٹ کا اظہار ہے کہ تم نے صالح کو مان لیا ہے تو مانو ہم تو اس شخص کو ہرگز ماننے والے نہیں ہیں، ہم اس کا صاف انکار کرتے ہیں۔