7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 7:26

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے بنی آدم ! ہم نے تم پر لباس اتارا جو تمہارے لیے ستر پوش بھی ہے اور زینت بھی۔ مزید برآں تقوی کا لباس ہے جو اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ اللہ کی آیات میں سے ہے تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں

فصل 4۔ آیات 26 تا 43 کا مضمون : ان آیات میں پہلے ان باتوں کی یاد دہانی کی گئی ہے جن سے، شیطان کی دشمنی کے پیش نظر، اولادِ آدم کو شروع ہی میں آگاہ کردیا گیا تھا اور جن کا اہتمام پیش آنے والے امتحان میں کامیاب ہونے کے ہر ابن آدم کا فرض تھا تاکہ وہ اس افتاد سے محفوظ رہیں جو ان کے دشمن ازلی کے ہاتھوں ان کے بابپ کو پیش آئی۔ اس کے بعد قریش کی طرف، جو اس سورة میں مخاطب ہیں، اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے ان ہدایات کو نظر انداز کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شیطان نے ان کو بھی ورغلا کر اسی طرح ان کے کپڑے اتروا لیے ہیں جس طرح ان کے ماں باپ، آدم و حوا، کے اتروا لیے تھے لیکن یہ اپنی حماقت سے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بےحیائی انہوں نے شیطان کی پیروی میں نہیں کی بلکہ خدا کے حکم کی تعمیل میں اختیار کی ہے اور دلیل اس کی ان پاس صرف یہ ہے کہ یہ طریقہ انہوں نے اپنے بزرگوں سے وراثت میں پایا ہے۔ اس کے بعد اس روح اور اصل الاصول کا حوالہ دیا جو تمام خدائی احکام میں لازماً ملحوظ ہے اور جو خدائی احکام اور شیطانی بدعات میں امتیاز کے لیے عقلی و فطری کسوٹی ہ۔ پھر اس کسوٹی پر پرکھ کر بتایا کہ آج جن ابلیسی بدعات کو قریش خدا کا دین بتا رہے ہے ان میں سے کسی چیز کو بھی خدا سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ یہ باتیں انہوں نے شیطان کی رہنمائی میں خود ایجاد کی ہیں اور منسوب ان کو خدا کی طرف کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ان کو دھمکی دی کہ انہوں نے یہ روش نہ بدلی تو یہ بھی اسی انجام سے دو چار ہوں گے جن سے ان کی ہم مشرب قومیں دو چار ہوچکی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدے کا حوالہ دیا جو آدم کو اس رزم گاہ امتحان میں اتارتے وقت ان کی ذریت میں انبیاء و رسل کا سلسلہ و رشد و ہدایت جاری کرنے کے لیے فرمایا تھا اور یہ آگاہی دی تھی کہ جو ان انبیاء کی پیروی کریں گے وہ شیطان کے فتنوں سے امان میں رہیں گے اور جو ان کو جھٹلائیں گے وہ اپنی مہلت حیات پوری کر کے دوزخ میں پڑیں گے۔ اس کے بعد مکذبین انبیاء اور متبعین انبیاء دونوں گروہوں کے احوال آخرت کی نہایت موثر تصویر کھینچی ہے۔ پہلے گروہ کے متعلق بتایا ہے کہ جب دوزخ میں سب اگلے پچھلے اکٹھے ہوں گے تو آپس میں جو تیں میں دال بٹے گی اور ایک دوسرے پر لعنتیں بھیجیں گے۔ اخلاف جن بڑوں کی پیروی پر آج نازاں ہیں۔ کل ان کو گالیاں دیں گے کہ انہوں نے ہماری راہ ماری، یہ نہ گمراہ کرتے تو ہم ہدایت پر ہوتے۔ اکابر اخلاف کو گالیاں دیں گے کہ یہ خود شامت زدہ تھے کہ انہوں نے ہدایت کی راہ اختیار نہ کی، اس میں ہمارا کیا قصور، دوسرے گروہ کی تصویر یوں کھینچی ہے کہ جنت میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے خوش خوش بیٹھے ہوں گے، کسی نفرت و ملامت کا کہیں نام و نشان بھی نہ ہوگا، مبارک سلامت کے تحائف کے مبادلے ہو رہے ہوں گے اور ہر گوشے میں خدا کے ترانہ حمد اور انبیاء کے احسانات کے اعتراف سے محفل گونج رہی ہوگی۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا ۭوَلِبَاسُ التَّقْوٰى ۙ ذٰلِكَ خَيْرٌ ۭذٰلِكَ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ 26۔ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا۔ ‘ ریش ’ کا لفظ چڑیوں کے پروں کے لیے بھی آتا ہے اور اس سے زیب وزینت کا لباس بھی مراد ہوتا ہے۔ لباس سے ستر پوشی اور زینت، دونوں چیزیں مقسود ہیں : لباس کا اولین مقصد تو ستر پوشی ہے لیکن زیب وزینت بھی اس کے مقاصد میں داخل ہے۔ قدرت نے وج چیز بھی بنائی ہے اس میں مختلف پہلو ملحوظ رکھے ہیں اور یہ سارے ہی پہلو ہماری فطرت کے تقاضوں کے مطابق ہیں۔ ستر پوشی کے لیے تو بھگا یا لنگوٹی بھی کافی تھی لیکن قدرت نے اتمامِ نعمت کے طور پر ہمارے لیے ایسے لباس کا انتظام فرمایا جو ستر پوش بھی ہو، سردی اور گرمی سے بھی ہماری حفاظت کرے اور اس سے ہماری شخصیت، ہمارے وقار، ہمارے حسن اور ہماری شان میں بھی اضافہ ہو۔ ان میں سے کوئی مقصد بھی بجائے خود معیوب نہیں ہے البتہ افراط یا تفریط سے جس طرح ہر چیز میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے اسی طرح اس میں بھی خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔ قرآن نے زینت کو مقاصدِ لباس میں داخل کر کے اس جوگیانہ تصور کی نفی کردی جو لباس کو ایک آلائش اور عریانی یا نیم عریانی کو مذہبی تقدس کا درجہ دیتا ہے باطنی لباس تقوی ہے : ۭوَلِبَاسُ التَّقْوٰى ۙ ذٰلِكَ خَيْرٌ، یعنی ظاہری لباس کے ساتھ ساتھ ایک باطنی لباس بھی انسان کو عطا ہوا ہے اور وہ تقوی کا لباس ہے جو اس ظاہری لباس سے کہیں بڑھ کر ہے، اس لیے کہ درحقیقت یہ تقوی کا لباس ہی ہے جو ظاہری لباس کی بھی حقیقی افادیت کو نمایاں کرتا ہے بلکہ سچ پوچھیے تو آدمی اس ظاہری لباس کو اختیار کرتا ہی ہے اپنے اسی باطنی لباس کی تحریک سے۔ اگر یہ نہ ہو تو آدمی کپڑے پہن کر بھی ننگا ہی رہتا ہے اور اس کے لباس سے اس کے وقار میں اضافہ ہونے کے بجائے یا تو اس کی رعونت میں اضافہ ہوتا ہے یا اس کی بدقوارگی میں۔ یہ لباس تقوی، حیا، خشیتِ الٰہی، اور احساس عبدیت سے بنتا ہے اور جس کے قامت پر اللہ اپنی عنایت کی یہ ردا ڈال دیتا ہے دیکھنے کے قابل وقار و جمال اسی کا ہوتا ہے۔ یہ انسانوں کے لباس میں مقدس فرشتہ ہوتا ہے، جو بھی اس کو دیکھتا ہے بےتحاشا ماھذا بشرا ان ھذا الا ملک کریم، پکار اٹھتا ہے۔ ان باتوں کی یاد دہانی جن کی ہدایت ابتدا ہی میں آدم کو کی گئی تھی :۔ ذٰلِكَ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ ، یہ اوپر والی بات جس کی یاد دہانی کی گئی ہے ان باتوں میں سے ہے جن کی ہدایت اولاد آدم کو اسی وقت کردی گئی تھی جب آدم کو اس دنیا میں بھیجا گیا تھا اور مقصود اس کے حوالہ سے یہ ہے کہ قریش متنبہ ہوں کہ شیطان نے جس فتنے میں آدم کو مبتلا کیا، اسی طرح کے فتنے میں اس نے انہیں بھی مبتلا کیا اسی طرح کے فتنے میں اس نے انہیں بھی مبتلا کردیا ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ آدم کو اس دنیا میں بساتے وقت آدم اور اولادِ آدم کو جو ہدایات اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی تھیں ان میں سے بعض کا حوالہ قرآن نے دیا ہے۔ مثلاً بقرہ میں ہے قلنا اھبطوا منہا جمیعا فاما یاتینکم منی ھدی فمن تبع ھدای فلا خوف علیہم ولا ھم یحزنون۔ ہم نے کہا یہاں سے سب اترو تو اگر آئے تمہارے پاس میری کوئی ہدایت تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے، نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی غم۔ بعینہ یہی مضمون آگے اسی سورة میں آیت 35 میں آ رہا ہے يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَـقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ (اے بنی آدم اگر تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول آئیں تمہیں میری آیات سناتے ہوئے تو جس نے تقوی اختیار کیا اور اپنی اصلاح کی، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا نہ ان کو غم لاحق ہوگا) ہمارے نزدیک یہاں بھی انہی باتوں کا حوالہ ہے جن کی ہدایت ابتدا ہی میں اولادِ آدم کو کی گئی تھی تاکہ وہ اپنی آئندہ زندگی میں اپنے آپ کو شیطان کے اس قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھ سکیں جس قسم کے فتنے میں اس نے آدم و حوا کو ڈال دیا۔ یہ انہی باتوں کی یاد دہانی اب قریش کو کی جا رہی ہے تاکہ انہیں خبردار کیا جائے کہ وہ بھی شیطان کے نرغے میں آئے ہوئے ہیں اور اس نے وہی داؤں ان پر بھی چلایا ہے جو آدم پر چلایا تھا۔ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ کے خطاب کی بلاغت :۔ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ کے خطاب کی بلاغ پر بھی یہاں نظر رہے۔ باپ کی زندگی کے حوادث و تجربات اولادِ کے لیے سب سے زیادہ سبق آموز ہوتے ہیں۔ اس کی سرگزشت کسی دوسرے کی کہانی نہیں بلکہ اپنی ہی حکایت ہوتی ہے۔ باپ کے دوستوں سے دوستی، اس کے دشمنوں سے دشمنی باوفا اولاد خاندان کی ناقابلِ فراموش روایت کی طرح محفوظ رکھتی ہے۔ اخلاف اس کو یاد رکھتے ہیں اور اپنے بعد والوں کی طرف اس کو منتقل کرتے اور برابر منتقل کرنے کی وصیت کرتے ہیں۔ اہل عرب میں تو یہ روایت اتنی محبوب رہی ہے کہ اس میں حق و باطل کا امتیاز بھی باقی نہیں رہا تھا۔ باپ دادا کا دشمن بہرحال پشتہا پشت دشمن ہی سمجھا جاتا اگرچہ اس کی دشمنی برحق ہی کیوں نہ رہی ہو۔ پھر کس قدر حیف کی بات ہے کہ آدم کی اولاد اپنے باپ کے ساتھ شیطان اور اس کی ذریت کی اس دشمنی کو بھول جائے جو سراسر کینہ اور حسد پر مبنی تھی، جو مخفی نہیں بلکہ بالکل علانیہ تھی اور جو صرف مخصوص آدم و حوا کے ساتھ ہی نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے ان کی تمام ذریت کے ساتھ تھی۔ پھر معاملہ صرف بھول جانے ہی پر ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اولاد کی ناخلفی، ناہنجاری، اور نابکاری اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ کتنے ہیں جو اس دشمن اور اس کے ساتھیوں ہی کو اپنا دوست، خیر خواہ اور معتمد بنائے بیٹھے ہیں اور اس کے کہے پر ٹھیک ٹھیک اپنے لیے انہی تباہیوں کے گڑھے کھود رہے ہیں جن میں اس نے آدم کو گرانا چاہا تھا اور وہ اس میں گرچکے تھے، اگر اللہ کی رحمت نے ان کو بچایا نہ ہوتا۔ قرآن کی بلاغت بیان کے قربان جائیے کہ صف ‘ یا بنی آدم ’ کے خطاب کے دو لفظوں کے اندر اس نے یہ سارے مضمرات محفوظ کردیے ہیں۔ آدم کا جو غیور و با وفا بیٹا اس خطاب کے ساتھ قرآن کی ان یاد دہانیوں کو سنتا ہے اس کی رگ رگ شیطان کے خلاف جوشِ حمیت و غیرت سے پھڑک اٹھتی ہے۔ صرف بےغیرت اور ناخلف ہی ہیں جو اس خطاب کے بعد بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے۔
Ayah 7:27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے بنی آدم ! شیطان تمہیں فتنہ میں ڈالنے پائے جس طرح اس نے تمہارے باپ ماں کو جنت سے نکلوا چھوڑا ان کے لباس اتروا کر کہ ان کو ان کے سامنے بےپردہ کردے، وہ اور اس کا جتھہ تم کو وہاں سے تاڑتا ہے جہاں سے تم ان کو نہیں تاڑتے۔ ہم نے شیاطین کو ان لوگوں کا رفیق بنا دیا ہے جو ایمان سے محروم ہیں

يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ كَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا، یہ بھی، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، انہی یاد دہانیوں میں سے ہے جو ابتدا ہی میں اولاد آدم کو کی گئی تھیں۔ اور اس کے اسلوب بیان سے شیطان کی اس چال کے سمجھنے میں مدد ملتی ہے جو وہ بنی آدم کے تمدن کو برباد کرنے اور بالآخر ان کو خدا کی نعمت سے محروم کر کے ہلاکت کے گڑھے میں گرانے کے لیے اختیار کرتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ اپنی وسوسہ اندازیوں سے پہلے لوگوں کو اس لباس تقوی و خشیت سے محروم کرتا ہے جو اللہ نے بنی آدم کے لیے اس ظاہری لباس کے ساتھ ایک تشریف باطنی کی حیثیت سے اتارا ہے اور جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ جب یہ باطنی جامہ اترجاتا ہے تو وہ حیا ختم ہوجاتی ہے جو اس ظاہری لباس کی اصل محرک ہے۔ پھر یہ ظاہری لباس ایک بوجھ معلوم ہونے لگتا ہے۔ بےحیائی صنفی اعضا میں، جن کا چھپانا تقاضائے فطرت ہے، عریاں ہونے کے لیے تڑپ پیدا کرتی ہے، پھر فیشن اس کو سہارا دیتا ہے اور وہ لباس کی تراش خراش میں نت نئی اختراعات سے ایسے ایسے اسلوب پیدا کرتا ہے کہ آدم کے بیٹے اور حوا کی بیٹیاں کپڑے پہن کر بھی، لباس کے بنیادی مقصد یعنی ستر پوشی کے اعتبار سے، گویا ننگے ہی رہتے ہیں۔ پھر لباس میں صرف زینت اور آرائش کا پہلو باقی رہ جاتا ہے اور اس میں بھی اصل مدعا یہ ہوتا ہے کہ بےحیائی زیادہ سے زیادہ دلکش زاویہ سے نمایاں ہو۔ پھر آہستہ آہستہ عقل اس طرح ماؤف ہوجاتی ہے کہ عریانی تہذیب کا نام پاتی اور ساتر لباس وحشت و دقیانوسیت کا۔ پھر پڑھے لکھے شیاطین اٹھتے ہیں اور تاریخ کی روشنی میں یہ فلسفہ پیدا کرتے ہیں کہ انسان کی اصل فطرت تو عریانی ہی ہے۔ لباس تو اس نے رسوم و رواج کی پابندیوں کے تحت اختیار کیا ہے۔ یہ مرحلہ ہے جب دیدوں کا پانی مار جاتا ہے اور پورا تمند شہوانیت کے زہر سے مسموم ہوجاتا ہے۔ پھر یہ بےحیا معاشرہ سزوار ہوتا ہے کہ قدرت اس کے وجود سے زمین کو پاک کر کے ان کی جگہ دوسروں کو لائے اور دیکھے کہ وہ کیسا عمل کرتے ہیں۔rnۭاِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَقَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ، یہ شیطان اور اس کے جتھے کی چالاکی، کیا دی اور فتنہ سامانی کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے حملے کے راستے اور ان کے ظہور کے بھیس اتنے بیشمار ہیں کہ تم ان سارے راستوں پر نہ پہرا بٹھا سکتے، نہ ہر بھیس میں ان کو پہچان ہی سکتے۔ اس کے لشکر میں جن بھی ہیں اور انسان بھی۔ وہ وہاں سے گھات لگائیں گے جہاں سے تم دیکھ نہیں سکو گے اور تمہارے لی وہ وہ بہروپ بھریں گے کہ تم پہچان نہ سکو گے، تم انہیں دوست، ناصح، خیر سگال، مرشد، لیڈر اور نہ جانے کیا کیا سمجھو گے اور وہ تمہارے دین و ایمان کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں گے۔ تم گمان کروگے کہ وہ تمہارے لیے تہذیب و ترقی کی راہیں کھول رہے ہیں لیکن وہ تم کو وہاں لے جا کر ماریں گے جہاں پانی بھی نہ پاؤ گے۔ ان کو تمہارے باطن کی ساری کمزور رگیں معلوم ہوں گی اور وہ اپنی اندرونی وسوسہ اندازیوں سے بھی تم کو شکار کرنے کی کوشش کریں گے اور اپنی ظاہری عشوہ گریوں سے بھی تم پر اپنے جال پھینکیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دشمن کو معمولی دشمن نہ سمجھنا، ہر وقت اس سے چوکنے نہ رہنا۔rnۭاِنَّا جَعَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ ، یہ شیطان اور اس کے جتھے کے حملوں سے محفوظ رہنے کی تدبیر بتائی ہے۔ وہ تدبیر یہ ہے کہ ایمان پر مضبوطی سے جمے رہنا۔ ایمان سے مراد اللہ اور اس کی اتاری ہوئی ہدایت پر ایمان ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر بقرہ میں گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اس دنیا میں اتارتے وقت شیطان کے حملوں سے محفوظ رہنے کی واحد تدبیر یہ بتائی تھی کہ جو میری بھیجی ہوئی ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے، قلنا اھبطوا منہا جمیعا فاما یاتینکم منی ھدی فمن تبع ھدای فلا خوف علیہم ولا ھم یحزنون (ہم نے کہا کہ یہاں سے سب اترو تو اگر آئے تماہرے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے نہ ان کے لیے کوئی خوف ہوگا، نہ کوئی غم)۔ زیر بحث ٹکڑے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شیاطین کو مسلّط ہونے کا موقع انہی پر دیتا ہے جو خدا اور اس کی ہدایت پر ایمان سے محروم ہوتے ہیں۔ ان کے دل خالی گھر کے مانند ہوتے ہیں اس وجہ سے شیطان ان میں ڈیرے جما لیتے ہیں۔ خانہ خالی را دیو مے گیرد۔ اس کے برعکس جن کے دل خدا اور اس کی ہدایت پر ایمان سے آباد ہوتے ہیں ان کے اندر شیاطین کو گھسنے کا موقع نہیں ملتا۔ یہی بات دوسری جگہ اس طرح ارشاد ہوئی۔ ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطانا فھو لہ قرین (زخرف :36) (اور جو خدائے رحمان کی یاد سے بےپروا ہوجاتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں پھر اس کا ساتھی بن جاتا ہے)۔
Ayah 7:28

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ کسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہیں، کہتے ہیں، ہم نے تو اسی طریق پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور خدا نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ کہہ دو ، اللہ کبھی بےحیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم لوگ اللہ پر وہ تہمت جوڑتے ہو جس کے باب میں تم کو کوئی علم نہیں۔

وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَيْهَآ اٰبَاۗءَنَا وَاللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا ۭقُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَاْمُرُ بِالْفَحْشَاۗءِ ۭاَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ قریش پر شیطان کا جال :۔ ان یاد دہانیوں کو سنانے کے بعد جو اولاد آدم کو کی گئی تھیں اب یہ قریش اور عربوں کا حال سنایا جا رہا ہے کہ کس طرح شیطان نے ان کو چکمہ دے کر اپنے جال میں پھنسا لیا ہے اور وہ اس کو اپنا دوست بنائے بیٹھے ہیں حالانکہ اس نے ان کے ساتھ بھی اسی طرح کا معاملہ کیا ہے جس طرح کا معاملہ ان کے باپ ماں۔ آدم و حوا۔ کے ساتھ کیا تھا۔ آدم و حوا کے کپڑے اس نے جنت میں اتوا لیے تھے، آدم کے ان بیٹوں اور حوا کی ان بیٹیوں کے کپرے اس نے حرم الٰہی میں اتروا لیے اور ستم یہ ہے کہ یہ اس کو اپنے باپ دادا کی روایت اور خدا کی ہدایت سمجھتے ہیں حالانکہ یہ خدا کی ہدایت نہیں بلکہ شیطان کا فتنہ ہے اور اس طرح اس نے یہ چاہا ہے کہ جس طرح اس نے آدم کو جنت سے نکلوایا اسی طرح ان کو ننگا کر کے اس حرم پاک سے بےدخل کرائے۔ وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَيْهَآ اٰبَاۗءَنَا وَاللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا۔ ‘ فاحشہ ’ اس کھلی ہوئی بےحیائی کو کہتے ہیں جس کو اندھوں اور احمقوں کے سوا سب بےحیائی قرار دیں۔ ہمارے مفسرین نے یہاں اس سے وہ بدعت مراد لی ہے جو خانہ کعبہ کا ننگے ہو کر طواف کرنے کی عرب جاہلیت میں رواج پا گئی تھی۔ مفسرین کا یہ خیال صحیح معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ عرب جاہلیت کی بےحیائیوں میں سے یہی بےحیائی ہے جس کو وہ جیسا کہ وَاللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا کے الفاظ سے واضح ہے، حکم شریعت کا درجہ دیتے تھے۔ اگرچہ قریش خود تو اپنے آپ کو اس سے بالاتر رکھے ہوئے تھے لیکن دوسروں کے لیے، مرد ہوں یا عورتیں، انہوں نے اس عریانی کو عبادت قرار دے رکھا تھا۔ ان کا فتوی یہ تھا کہ قریش سے باہر کے عرب اپنے کپڑوں میں خانہ کعبہ کا طواف نہ کریں۔ یا تو وہ قریش میں سے کسی سے اس کام کے لیے کپڑے مستعار لیں ورنہ ننگے طوف کریں۔ گویا دوسروں کے کپڑے آلائش دنیا اور زینت دنیا میں داخل ہیں جس سے اس عبادت کی حرمت کو بٹہ لگ جاتا ہے۔ یہ اسی طرح کی عیاشی اور نفس پروری کی ایک مکروہ شکل تھی جس کی بیشمار مثالیں مندروں اور کلساؤں کی تاریخ میں ملتی ہیں اور جو تمام تر ان کے پروہتوں اور پجاریوں کی شیطنت سے وجود میں آئیں لیکن ان کو مذہبی تقدس کا درجہ دے دیا گیا۔ مزارات کے مجاوروں نے بھی اس معاملے میں شیطان کا بہت ہاتھ بٹایا ہے۔ اس بدعت کا نتیجہ یہ ہوا کہ طواف جیسی مقدس عبادت فساق و فجار کی نظر بازیوں اور شرارتوں کی جو لاں گاہ بن گئی اور حرم کی نظر بازیوں کی لذیذ و رنگین داستانیں ان کی فاسقانہ شاعری میں بھی نمایاں ہوئیں جن کو پڑھیے تو آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ شیطان نے حرم میں گھسنے کے لیے کیسا مقدس مذہبی لبادہ اختیار کیا، کس کامیابی کے ساتھ اس نے اللہ کی سب سے بڑی عبادت کو اپنی عبادت میں تبدیل کردیا لیکن کسی کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگی کہ کیا سے کیا ہوگیا۔ یہ ہے اس حقیقت کا ایک پہلو جو اوپر انہ یراکم ھو وقبیلہ من حیث لاترونہم میں بیان ہوئی ہے۔rnۭقُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَاْمُرُ بِالْفَحْشَاۗءِ ۭاَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ یہ تردید ہے اوپر والی بات کی کہ تم اس بےحیائی اور بےشرمی کو خدا کا حکم قرار دیتے ہو، خدا کبھی بےحیائی و بےشرمی کا حکم نہیں دیتا۔ خدا کے احکام، اس کی صفات اور انسان کی فطرت کے تقاضوں کے مطابق ہیں۔ جب اس کی صفات میں کوئی صفت بھی ایسی نہیں جو اس بےحیائی کو گوارا کرسکے تو وہ اس کا حکم کس طرح دے سکتا ہے ؟ پھر جب اس نے انسان کی فطرت ایسی بنائی ہے کہ بدو شعور سے لے کر مرتے دم تک وہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ دوسروں کے سامنے عریاں ہو تو وہ اسی انسان کو یہ حکم کس طرح دے سکتا ہے کہ وہ عین اس کے حرم میں ساری خدائی کے سامنے ننگا ہوجائے اور ننگے ہو کر اس کے آگے بھیرے لگائے ! آخر خدا اور اس کی پاکیزہ صفات، انسان اور اس کی سلیم فطرت کے ساتھ اس بیہودہ حرکت کا کیا جوڑ ہے ؟ خدا پر ایسی بےہودہ تہمت کیوں لگاتے ہو ؟ مالا تعلمون، یعنی ایسی بات جو بالکل بےسند اور بےدلیل ہے۔
Ayah 7:29

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

کہہ دو ، کہ اللہ نے تو ہر معاملے میں قسط کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر مسجد کے پاس اپنا رخ اسی کی طرف کرو اور اسی کو پکارو اسی کے لیے اطاعت کو خاص کرتے ہوئے جس طرح اس نے تمہارا آغاز کیا اسی طرح تم لوٹو گے۔

قُلْ اَمَرَ رَبِّيْ بِالْقِسْطِ ، لفظ ‘ قسط ’ پر پوری تفصیل کے ساتھ، ہم سورة آل عمران کی تفسیر میں بحث کر آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ چونکہ قائم بالقسط ہے اس وجہ سے بندوں کو اس نے جو حکم بھی ہے سراسر قسط پر مبنی ہے۔ ‘ قسط ’ ایک جامع حقیقت ہے جو تمام شریعت الٰہی کی روح ہے۔ یعنی ہر چیز میں ٹھیک ٹھیک نقطہ عدل و اعتدال کا اہتمام۔ اس کا تعلق زندگی کے کسی ایک ہی پہلو سے نہیں ہے بلکہ ہر پہلو سے ہے، عقائد میں، اعمال میں، عبادات میں، اخلاق میں، معیشت میں، معاشرت میں، قانون میں، سیاست میں، غرض ہر شبعہ زندگی میں یہی وہ اصل الاصول ہے جس پر شریعت الٰہی مبنی ہے۔ موقع و محل کی تبدیلی سے اس کی تعبیریں بدل بدل جائیں گی لیکن اصل حقیقت اپنی جگہ پر قائم رہے گی۔ مثلاً دیکھیے اسی قسط پر یہاں اقیموا وجوھکم عند کل مسجد کو مبنی کیا اس لیے کہ جب خالق ومالک خدا ہے تو یہ قسط کے خلاف ہے کہ عبادت کی پیشانی کسی اور کے سجدہ سے آلودہ ہو، اسی پر کما بداکم تعودون، کو مبنی کیا اس لیے کہ یہ قسط کا تقاضا ہے کہ جب اس نے پیدا کیا، پرورشن کے اسباب و وسائل فراہم کیے، خیر و شرک امتیاز بخشاتو وہ حساب و کتاب بھی کرے اور جزا و سزا بھی دے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو یہ قسط نہیں بلکہ ظلم و جور ہوگا۔ پھ دیکھئے آگے چل کر اسی پر خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْ کو مبنی کیا۔ یعنی یہ بات قسط کے خلاف ہے کہ خدا کی عبادت کے لیے آدمی لباس کو ترک کردے یا کھانے پینے کی لذات سے دستبردار ہوجائے۔ْقسط یہ ہے کہ آدمی پنے بھی، کھائے پیے بھی، البتہ کسی چیز میں اسراف نہ کرے، اسراف قسط کے خلاف ہے، الغرض یہ قسط ایک ایسی کسوٹی ہے کہ جو شخص حکمت دین سے آشنا ہو وہ اس پر پرکھ کے جان سکتا ہے کہ کون سی بات خدا کی ہے اور کون سی بات خدا کی نہیں ہے۔rnۣوَاَقِيْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّادْعُوْهُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ۔ ‘ قسط ایک حقیقت جامعہ ہے، جیسا کہ اوپر گزرا، اور اس کا سب سے پہلا تقاضا یہ ہے کہ خدا کے حقوق میں کسی دوسرے کو شریک نہ کیا جائے۔ عبادت صرف خدا کے حقوق میں کسی دوسرے کو شریک نہ کیا جائے۔ عبادت صرف خدا کا حق ہے، کوئی اور عبادت کا سزاوار نہیں ہے اس وجہ سے نہ کسی غیر اللہ کے لیے مسجد بن سکتی ہے نہ کسی مسجد میں اللہ کے سوا کسی اور کی طرف رخ کرنے کی نیت کی جاسکتی ہے۔ سجدہ خدا ہی کے لیے زیبا ہے اس وجہ سے مسجد اپنی فطرت کے اعتبار سے خدا ہی کے لیے خاص ہوتی ہے جیسا کہ فرمایا ہے وان المساجد للہ فلا تدعوا مع اللہ احدا۔ اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لیے ہیں تو تم ان میں اللہ کے سوا کسی اور کو نہ پکارو۔ بعینہ یہی بات آیت زیر بحث میں فرمائی کہ ہر مسجد صرف اللہ ہی کے لیے ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اپنے رخ اسی کی طرف کرو۔ اقیموا وجوھکم کے بعد الی اللہ وحدہ یا اس کے ہم معنی الفاظ حذف کردیے گئے ہیں اس لیے کہ بعد کے الفاط وادعوہ مخلصین لہ الدین کے الفاظ اس محذوف کا حق بھی ادا کر رہے ہیں اور اس حقیقت کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ خدا کی عبادت صرف عبادت ہی کے خالص کی متقضی نہیں ہے بلکہ وہ اطاعت کے اخلاص کو بھی مقتضی ہے۔ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَ ، یہ توحید کے مضمون کی تاکید و توثیق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا ہی کی عبادت اور خدا ہی کی اطاعت اس لیے کرو کہ جس خدا نے تم کو پیدا کیا ہے، پھر اسی کی طرف لوٹنا ہے اور جس طرح اس دنیا میں تنہا آئے ہو اسی طرح تنہا ہی اس کی طرف لوٹو گے بھی، تمہارے مزعومہ شریکوں اور سفارشیوں میں سے کوئی بھی تمہارے ساتھ نہیں ہوگا۔ قرآن کی اس بلاغت کے قربان جائیے کہ کل دو لفظ ہیں اور دو لفظوں میں اس نے آخرت اور توحید دونوں کا تعلق بھی واضح کردیا اور آخرت کی ایک نہایت واضح دلیل بھی بیان فرما دی۔
Ayah 7:30

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

ایک گروہ کو اس نے ہدایت بخشی اور ایک گروہ پر گراہی مسلط ہوگئی انہوں نے اللہ کے ماسوا شیطان کو اپنا رفیق بنایا اور گمان یہ رکھتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں

فَرِيْقًا هَدٰي وَفَرِيْقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلٰلَةُ ۭاِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ الایہ، مطلب یہ ہے کہ اصل حقیقت تو وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی اور اللہ نے ایک گروہ کو اس حقیقت پر ایمان لانے کی توفیق بھی دی ہے لیکن ایک گروہ پر گرماہی مسلط ہوگئی۔ اس نے شیاطین کو اپنا دوست بنا رکھا ہے اور یہ شیاطین ان کو انہی گمراہیوں میں پھنسائے ہوئے ہیں جن میں ابلیس نے ان کو پھنسانے کی دھمکی دی تھی لیکن اپنی شامت اعمال سے گمان یہ کیے بیٹھے ہیں کہ وہ راہ ہدایت پر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ اپنی اس جہالت سے باز نہ آئے تو لازماً اسی انجام سے دوچار ہوں گے جو ایسے شامت زدوں کے لیے مقدر ہے۔
Ayah 7:31

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے بنی آدم ! ہر مسجد کی حاضری کے وقت اپنے لباس پہنو اور کھاؤ پیو البتہ اسراف نہ کرو، خدا اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ۔ یبنی آدم کا خطاب قریش اور عربوں ہی سے ہے۔ اس میں آدم کی طرف نسبت میں میں بلاغت وہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ اس سے آدم و شیطان کی اس سرگزشت کی یاد دہانی ہوتی ہے جو تمام نسل آدم کی مشترک سرگزشت ہے اور جو ہر ابن آدم کو یہ سبق دیتی ہے کہ شیطان ان کا ابدی دشمن ہے جس و دوست بتانا اور جس کے کہے پر چلنا اور اپنے باپ کے دشمن کو دوست بنانا ہے۔ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ ، میں زینت سے مراد لباس فاخرہ نہیں بلکہ مجرد لباس ہے۔ لباس کو زینت کے لفظ سے تعبیر کرنے کی وجہ یہاں یہ ہے کہ طواف میں عریانی اختیار کرنے کا فلسفہ یہی تراشا گیا تھا کہ لباس زیب وزینت میں داخل ہے اور زیب وزینت اس عبادت کے شایانِ شان نہیں ہے۔ حج اور حرام میں فی الجملہ زہد و درویشی تو حضرت ابراہیم کے عہد ہی سے چلی آرہی ہے اور یہ حج کی خصوصیات میں سے ہے لیکن عربوں نے دور جاہلیت میں جہاں اور بہت سی بدعات ایجاد کیں وہیں یہ بدعت بھی ایجاد کر ڈالی کہ احرام کی سادگی اور درویشی کو عورتوں مردوں سب کے لیے عریانی کے حد تک پہنچا دیا۔ قرآن نے یہ اسی بدعت کی اصلاح کی۔ فرمایا کہ یہ عریانی بےحیائی ہے۔ اپنے لباس ہر مسجد کی حاضری کے وقت پہنو۔ جس طرح کوئی مسجد غیر اللہ کے لیے نہیں ہوسکتی اسی طرح کوئی مسجد ایسی نہیں ہوسکتی جس کی حاضری کے لیے یہ شرط ٹھہرا لی جائے کہ آدمی وہاں کپڑے اتار کر حاضر ہو۔ كُلِّ مَسْجِدٍ فرما کر اس حکم کو عام کردیا کہ حرم اور غیر حرم کی تخصیص نہ رہ جائے۔ یہ س جوگ اور رہبانیت کی کل نفی ہے جو عریانی کو تقرب الٰہی اور وصول الی اللہ کا ذریعہ ٹھہراتی ہے۔rnَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ۔ جس طرح لباس تقوی اور دینداری کے خلاف نہیں ہے اسی طرح کھانا پینا اور اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا بھی دینداری کے خلاف نہیں ہے۔ دینداری اور تقوی کے خلاف جو چیز ہے وہ اسراف ہے۔ اس لیے کہ یہ چیز اس قسط کے خلاف ہے جو تمام شریعت اور تمام احکام الٰہی کی، جیسا کہ اوبر بیان ہوا، روح ہے۔ اللہ تعالیٰ قائم بالقسط ہے س وجہ سے وہ مقسطین یعنی عدل و اعتدال پر قائم رہنے والوں کو پسند کرتا ہے، مسرفین، یعنی عدل و اعتدال سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ بےاعتدالی افراط کی نوعیت کی بھی ہوسکتی ہے، تفریط کی نوعیت کی بھی، اور یہ دونوں ہی باتیں خدا کی پسند کے خلاف ہیں۔ نہ وہ یہ پسند کرتا ہے کہ آدمی کھانے پینے پہننے ہی کو مقصود بنا لے اور رات دن اسی کی سرگرمیوں میں مشغول رہے اور نہ وہ یہ ہپسند کرتا ہے کہ ان چیزوں کو راہبوں اور جوگیوں کی طرح تیاگ دے۔ تبذیر اور تفریط دونوں ہی شیطان کی نکالی ہوئی راہیں ہیں، خدا زندگی کے ہر پہلو میں عدل و اعتدال کو پسند فرماتا ہے۔ اصلی نقطہ اعتدال : یہ سوال کہ ان چیزوں میں نقطہ عدل و اعتدال کیا ہے اور حد اسراف کیا ہے انسان کی عقل سلیم اور فطرت سلیم پر چھوڑا گیا ہے اس لیے کہ اس کی کوئی قانونی حد بندی ممکن نہیں ہے۔ اشخاص اور حالات کے اعتبار سے اس میں فرق بھی ہوسکتا ہے۔ ایک غنی اور ایک فقیر دونوں کے لیے کوئی ایک معیار مقرر نہیں ہوسکتا ہے۔ تاہم ہر غنی سے اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ اس کے پاس جو مال ہے اس میں دوسروں کے بھی حقوق ہیں اس وجہ سے اس کے لیے اس کے پاس جو مال ہے اس میں دوسروں کے بھی حقوق ہیں اس وجہ سے اس کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا تو مباح ہے لیکن اسراف و تبذیر جائز نہیں ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ مسرفین کو دوست نہیں رکھتا، دوست نہیں رکھتا، کے الفاظ معمولی نہیں ہیں اس لیے کہ خدا جن کو دوست نہیں رکھتا لازماً وہ اس کے نزدیک مبغوض ہیں۔
Ayah 7:32

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

پوچھو، کس نے حرام ٹھہرایا ہے اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی اور رزق کی پاکیزہ چیزوں کو ؟ کہہ دو کہ وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والے کے لیے ہیں اور آخرت میں تو وہ خاص انہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل کر رہے ہیں ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللّٰهِ الَّتِيْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَالطَّيِّبٰتِ ، یہ سوال تردید اور انکار کی نوعیت کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے عطا کیے ہوئے لباس اور پاکیزہ رزق کو تم نے کس کے کہنے سے حرام ٹھہرایا ہے ؟ ان چیزوں کا عطا کرنے والا تو خدا ہے تو ان کو حرام ٹھہرانے کا حق کسی دوسرے کو کہاں سے حاصل ہوا۔ التی اخرج لعبادہ، یہاں بطور دلیل وارد ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں تو خود زبان حال سے شہادت دے رہی ہیں کہ عطا کرنے والے نے یہ بندوں کے برتنے کے لیے عطا فرمائی ہیں تو ان پر کوئی ناروا پاندی عاید کرنے کے کیا معنی ؟ ان پر کوئی پابندی تو ان کا عطا کرنے والا ہی عاید کرسکتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ تمہارے پاس کوئی سند یا دلیل ہو۔ قُلْ هِىَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ الایہ، اس ٹکڑے میں حذف کا وہ اسلوب ملحوظ ہے جس کی ہم ایک سے زیادہ مقامات میں وضاحت کرچکے ہیں کہ بعض مرتبہ مقابل الفاظ حذف کردیے جاتے ہیں اس لیے کہ مذکور خود محذوف پر دلیل ہوجاتا ہے۔ یہاں للذین امنوا اور خالصۃ کے مقابل الفاظ حذف ہیں۔ اس حذف کو کھول دیجیے تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتیں اس دنیا میں بھی اصلاً اہل ایمان ہی کا حق ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس میں کافروں کو بھی شریک کردیا ہے، رہا آخرت کا معاملہ تو وہاں یہ سو فی صدی اہل ایمان ہی کا حصہ ہوں گی، کافروں کا ان میں کوئی حصہ نہیں ہوگا، البتہ دنیا میں انہوں نے ان سے جو فائدہ اٹھانا ایمان اور دینداری کے منافی نہیں ہے۔ ج لوگ اللہ کی نعمتوں کو مایا کا جال سمجھتے ہیں اور ان سے دستبرداری کو تقربت الٰہی کی شرط ٹھہراتے ہیں، ان کا خیال صحیح نہیں ہے۔ صحیح یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ، اللہ کے شکر گزار رہو، اعتدال اور میانہ روی اختیار کرو اور اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرتے رہو۔rnۭكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ بطور امتنان اور لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ میں فعل ارادہ فعل کے مفہوم میں ہے۔
Ayah 7:33

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

کہہ دو ، خدا نے حرام تو بس بےحیائیوں کو ٹھہرایا ہے، خواہ کھلی ہوں خواہ پوشیدہ، اور حق تلفی، ناحق زیادتی اور اس بات کو حرام ٹھہرایا ہے کہ تم اللہ کا کسی چیز کو ساجھی ٹھہراؤ جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ پر کسی ایسی بات کا بہتان لگاؤ جس کا تم علم نہیں رکھتے۔

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ الایہ، اب یہ بتایا کہ خدا نے حرام کیا چیزیں قرار دی ہیں اور ان کے بتانے کا اسلوب ایسا اختیار فرمایا جس سے یہ بات آپ سے آپ نکلتی ہے کہ جو چیزیں خدا نے حرام ٹھہرائی ہیں وہ تو تم نے نہ صرف جائز بلکہ دین بنا رکھی ہیں اور اچھی بھلی جائز و طیب چیزوں کو حرام کر کے دینداری کا ڈھونگ رچائے ہوئے ہو۔ ان حرام چیزوں میں ‘ فواحش ہیں، عام اس سے کہ وہ ظاہری ہوں یا باطنی، ظاہری اور باطنی کی وضاحت انعام آیت 151 کے تحت ہوچکی ہے۔ اس کے بعد اثم و بغی ہے۔ ان دونوں لفظوں کی تحقیق بھی پیچھے گزر چکی ہے۔ بغی، کے معنی تعدی اور سرکشی کے ہیں یعنی خدا کے حدود و احکام سے تعدی و سرکشی، اس کے ساتھ بغیر الحق کی قید کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی ‘ بغی ’ حق بھی ہوتی ہے بلکہ یہ بغی کے گھنونے پن کو ظاہر کرتی ہے کہ ہر بغی بجائے خود ناحق ہوتی ہے۔ یہ کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ خدا سے اکڑے اور اس کے حدود پر حملہ آور ہو۔ جس طرح قتل انبیا کے جرم کے ساتھ یہ لفظ استعمال ہوا ہے اسی طرح یہاں بھی استعمال ہوا ہے۔ وَاَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا، یعنی جہاں تک خدا کو ماننے کا تعلق ہے، وہ تو عقل و فطرت کا ایک بدیہی تقاضا ہے اور مشرک بھی خدا کو مانتا ہے۔ رہی یہ بات کہ خدا کا کوئی شریک بھی ہے تو اس کے لیے دلیل کی ضرورت ہے اور دلیل بھی ایسی جو برہان یعنی ایک حجت قاطع کی حیثیت رکھتی ہو اس لیے کہ خدا کی خدائی میں یوں ہی کسی کو جوڑ دینا سارے نظام عقل و فطرت اور پورے نظام عدل و قسط کو درہم برہم کردینا ہے۔ اتنی بڑی بات بغیر اس کے مان لینے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ خدا نے اس کی کوئی نقلی یا عقلی فطری دلیل اتاری ہو۔ وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ قول علی اللہ، سے مراد افتراء علی اللہ ہے، یعنی اپنے جی سے حلال و حرام ٹھہرانا، اپنی خواہشوں کی پیروی میں بدعتیں ایجاد کرنا، من مانے طور پر شریعت تصنیف کرنا اور ان ساری چیزوں کو خدا کی طرف منسوب کرنا ناجائز ہے تو لازم ہے کہ اس کی طرف سے رسول آئیں اور ان کی پیروی کی جائے۔
Ayah 7:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر امت کے لیے ایک مقررہ مدت ہے تو جب ان کی مدت پوری ہوجائے گی تو نہ ایک گھڑی پیشھے ہٹ سکیں گے، نہ آگے بڑھ سکیں گے

وَلِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ الایہ، ہم سورة کے تمہیدی مباحث میں عرض کرچکے ہیں کہ اصلاً یہ سورة انذار کی سورة ہے۔ یہ باتیں جو اوپر بیان ہوئیں محض فرد جرم یا اتمامِ حجت کی نوعیت کی ہیں۔ اس وجہ سے کلام بار بار اپنے اصل مضمون کی طرف لوٹتا ہے۔ اوپر آیت 29 میں کما بداکم تعودون میں جس طرح آخت کی یاد دہانی کی اسی طرح یہ آیت قریش کو اللہ تعالیٰ کی اس سنت کو یاد دلا رہی ہے کہ تمہاری ان تمام شرارتوں کے باوجود اگر تمہاری پکڑ نہیں ہو رہی تو یہ نہ سمجھو کہ پکڑ ہوگی ہی نہیں۔ یہ سنت اللہ جس طرح تمام سرکش و باغی قوموں کے باب میں، جیسا کہ آیت 4-9 میں بیان ہوئی، پوری ہوئی تم پر بھی لازما پوری ہوگی۔ یہ مہلت جو تمہیں ملی ہے اس وجہ سے ملی ہے کہ اللہ نے ہر امت کی تباہی کے لیے ایک مدت مقرر کر رکھی ہے۔ جب وہ پوری ہوجائے گی تو نہ ایک گھڑی پیچھے ہوگی نہ آگے بڑھے گی۔ افراد اور اقوام کے لیے اجل کے الگ الگ پیمانے : یہاں اس مقررہ مدت کے لیے ‘ اجل ’ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ افراد اور اقوام کے معاملے میں خدا نے ‘ اجل ’ کے پیمانے الگ الگ رکھے ہیں۔ افراد کے پیمانے تو سالوں، مہینوں، دنوں اور گھنٹوں منٹوں کے حساب سے پورے ہوتے ہیں، جب وہ پورے ہوجاتے ہیں، فرد ختم ہوجاتا ہے، قوموں اور امتوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ان کا حساب ان کے ایمانی و اخلاقی زوال سے ہوتا ہے۔ اخلاقی زوال و فساد کی ایک خاص حد ہے جو کسی قوم کے پیمانہ کے بھر جانے کی نشانی ہے۔ جب قوم گرتے گرتے اس حد کو پہنچ جاتی ہے، اس کا سفینہ غرق ہوجاتا ہے۔ جس طرح افراد کی موت کا وقت اللہ کے سوا کسی کو جانتا ہے کہ کب کوئی قوم اپنے زوال اخلاقی کے اعتبار سے اس آخری حد پر پہنچ گئی کہ اب اس کا صفحہ ارض پر باقی رہنا حکمت الٰہی کے خلاف ہے۔ یہاں وہ سنت الٰہی یاد رکھنی چاہیے جس کی وضاحت ہم متعدد مقامات میں کرچکے ہیں کہ کسی قوم میں رسول کی بعثت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمام حجت کی آخری شکل ہوتی ہے اس وجہ سے قوم جب اپنے رسول کی تکذیب کردیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو لازماً فنا کردیتا ہے۔ اس مسئلہ پر تفصیلی بحث انشاء اللہ سورة یونس کی تفسیر میں آئے گی۔
Ayah 7:35

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اے بنی آدم ! اگر تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول آئیں تم کو میری آیات سناتے تو جو ڈرا اور جس نے اصلاح کرلی ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَـقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۔ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ۔ یہ اس وعدے کی یاد دہانی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم اور ان کی ذریت کے لیے اس وقت فرمایا تھا جب آدم کے جنت سے نکالے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ سورة بقرہ میں اس کا ذکر یوں ہوا ہے۔ قلنا اھبطوا منہا جمیعا فاما یاتینکم منی ھدی من تبع ھدای فلا خوف علیہم ولا ھم یحزنون۔ (ہم نے کہا، یہاں سے اترو تم سب تو اگر آئے تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان پر نہ کوئی اندیشہ طاری ہوگا، نہ ان کو کسی بات کا غم ہوگا)۔ آدم اور اولادِ آدم سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ ان کو شیطان اور اس کی ذریات کی فتنہ انگیزیوں سے بچانے کے لیے فرمایا تھا کہ اگر شیطان کے فتنوں سے محفوظ رہنا ہے تو میرے بھیجے ہوئے رسولوں کی پیروی کرنا۔ آدم و ابلیس کی جو سرگزشت اس سورة میں اوپر بیان ہوئی ہے اس پر غور کیجیے تو اس کے اندر اس انتظام کی عقلی و فطری ضرورت موجود ہے۔ بقرہ کی تفسیر میں ہم نے واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ذریت آدم کے باب میں فرشتوں کے گمان کی تردید بھی اولاد آدم میں پیدا ہونے والے انبیاء و مصلحین کے ناموں کے حوالہ ہی سے فرمائی تھی۔ یہی وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے نسل آدم میں انبیا و رسل کا سلسلہ جاری کر کے پورا فرمایا۔ اسی کی یاد دہانی یہاں قریش کی کی گئی۔ مطلب یہ ہے کہ تمہیں شیطان نے بالکل اپنے نرغے میں لے لیا ہے۔ اس کے فتنوں سے امان کی شکل وہی ہے جو شروع ہی میں بتا دی گئی تھی کہ جو رسولوں کی پیروی کریں گے وہ شیطان کے شر سے محفوظ رہیں گے تو تم اگر شیطان کے فتنوں سے امان چاہتے ہو تو اس رسول کی پیروی کرو جو تمہیں اللہ کی آیات سناتا ہوا آگیا ہے۔
Ayah 7:36

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جو میری آیات کو جھٹلائیں گے اور تکبر کر کے ان سے اعراض کریں گے وہی دوزخ والے ہیں، وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے

وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاسْتَكْبَرُوْا عَنْهَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدون۔ وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاسْتَكْبَرُوْا عَنْهَآ، استکبار کے بعد حرف عن اس بات پر دلیل ہے کہ لفظ استکبار یہاں اعراض کے مفہوم پر بھی مشتمل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے رسول آیات الٰہی سناتے آئیں گے تو جو لوگ ان کو جھٹلائیں گے اور متکبرانہ ان سے منہ موڑیں گے وہ دوزخ میں پڑیں گے۔
Ayah 7:37

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

تو ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھیں یا اس کی آیات کو جھٹلائیں۔ ان لوگوں کو ان کے نوشتہ کا حصہ پہنچے گا۔ یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے فرشتے ان کو قبض کرنے آئیں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے تھے کہاں ہیں ؟ وہ جواب دیں گے وہ تو سب ہم سے کھوئے گئے اور یہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ لاریب وہ کفر میں رہے

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ الایہ۔ اوپر کی آیات میں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یاد دہانی ہے۔ اب یہ براہ راست قریش کی نسبت ارشاد ہو رہا ہے کہ ان سے بڑھ کر ظالم اور بدقسمت کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھیں یا اس کی آیات کی تکذیب کریں اولئک ینالہم نصیبہم من الکتاب۔ اس دنیا میں زندگی کے جو دن نوشتہ تقدیر میں لکھے ہوئے ہیں وہ یہ پورے کریں گے یہاں تک کہ ہمارے فرشتے ان کو موت دیں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے رہے ہو وہ کہاں گئے، اب ان کو پکارو، یہ اس افتراء علی اللہ کی وضاحت ہوگئی جا کا ذکر اوپر گزرا۔ شرک کو افتراء علی اللہ کہنے کی وجہ ہم دوسرے مقام میں واجح کرچکے ہیں۔ فرشتوں کے لیے رسل کا لفظ قرآن میں ایک سے زیادہ مقامات میں آیا ہے۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ رسول اور ملک کے لغوی مفہوم میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ یہاں رسل کا لفظ جمع لانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لفظ ملک الموت اور ان کے تمام عملہ پر حاوی ہے۔ قالوا ضلوا عنا یہ ان کے اعتراف کی تعبیر ہے اور وہ اپنے اس اعتراف سے اپنے کفر کی شہادت خود اپنی زبان سے دے دیں گے۔ کسی اور کی گواہی کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
Ayah 7:38

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

حکم ہوگا، جاؤ، پڑو دوزخ میں ان امتوں کے ساتھ جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے گزریں۔ جب جب کوئی امت داخل ہوگی اپنی ساتھی امت پر لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب سب اس میں اکٹھے ہو لیں گے، ان کے پچھلے اگلوں کے بارے میں کہیں گے، اے ہمارے رب ! یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تو ان کو دہرا عذاب نار دیجیو۔ ارشاد ہوگا تم سب کے لیے دہرا ہے، پر تم جانتے نہیں

قَالَ ادْخُلُوْا فِيْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِي النَّارِ ۭكُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا ۭ حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38؀ قَالَ ادْخُلُوْا فِيْٓ اُمَمٍ ْ یہ وہ انجام بیان ہو رہا ہے جو ان لوگوں کے سامنے آئے گا، قال کا فاعل جب اس طرح کے مواقع میں حذف کردیا جاتا ہے تو یہ بےاعتنائی اور بےرخی پر دلیل ہوتا ہے۔ یہاں دو طرف مذکور ہوئے ہیں، فی امم، اور فی النار، پہلے سے اس امر کا اظہار مقصود ہے کہ تمہارے ساتھی کون لوگ ہوں گے ؟ فرمایا، جاؤ، ان لوگوں کے شریک حال بنو جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے شیطان کی پیروی کر کے گمراہ ہوئے، دوسرے سے مستقر و مقام کا پتا دیا ہے کہ تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہوگا۔ گویا ساتھی بھی بدترین، جگہ بھی بدترین۔ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا ۭ حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا الایہ، ادارکوا، اصل میں تدارکوا ہے، عربی میں الفاظ کی ہیئت میں بعض اوقات اس طرح کی تبدیلی ہوجاتی ہے۔ تدارک القوم، تلاحقوا ای لحق اخراہم اولہم (تدارک القوم) کے معنی ہیں قوم کے پچھلے اگلوں سے جا ملے۔ قال اخراہم لاولہم میں ل، فی کے معنی میں ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ یعنی پچھلوں اپنے اگلوں کے بارے میں کہیں گے۔ ضعف کے معنی دوگنے کے بھی ہیں اور قرینہ موجود ہو تو اس سے زیادہ کے لیے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ اہل دوزخ کی باہمی جوتی پیزار کی تعریف :۔ یہ تصویر ہے اس جوتی پیزار کی جو ان لوگوں کے اندر دوزخ کے باڑے میں اکٹھے ہوجاے کے بعد ہوگی۔ دنیا میں تو یہ ایک دوسرے کے تابع اور متبوع لیڈر اور پیرو، ساتھی اور مددگار بنے رہے۔ ایک دوسرے کے گن گاتے اور جھنڈے اٹھائے پھرتے رہے۔ سلامیاں اور ایڈرس پیش کرتے رہے۔ لیکن وہاں دوزخ میں آمنے سامنے ہوتے ہی ہر گروہ دوسرے پر لعنت کے دونگڑے برسائے گا۔ تابعین متبوعین سے کہیں گے تم پر پھٹکار ہو، تمہیں نے ہمارا بیڑا غرق کیا۔ متبوعین کہیں گے تم خود شامت زدہ تھے کہ تم ہماری راہ چلے، اس میں ہمارا کیا قصور۔ یہ صورت حال تو اس وقت کی بیان ہوئی ہے جب بالکل اول اول آمنے سامنے ہوں گے۔ اس کے بعد جب سب اکٹھے ہو لیں گے تو پچھلے اپنے اگلوں کے بارے میں خدا سے استغاثہ کریں گے کہ خداوندا ہم انہی کے ہاتھوں گمراہ ہوئے اس وجہ سے تو ان کو دونا عذاب دے۔ ارشاد ہوگا لکل ضعف ولکن لا تعلمون۔ تم میں سے ہر ایک کے لیے یعنی اگلوں اور پچھلوں دونوں ہی کے لیے دونا عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ نیکی ہو یا بدی دونوں ہی اپنی فطرت کے اعتبار سے متعدی چیزیں ہیں۔ یہ اپنے کرنے والوں ہی کی ذات تک محدود نہیں رہتی ہیں بلکہ ان کے اثرات دوسروں تک بھی منتقل ہوتے ہیں یہاں تک کہ وراثت وراثت ہو کر نیکی کا ایک ذرہ احد پہٓر کے برابر ہوسکتا ہے اور بدی کا ایک تخم فساد ایک لق و دق جنگل کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ یہی اصول اس حدیث میں بیان ہوا ہے جس میں حضور نے کوئی اچھی یا بری مثال قائم کرنے والوں کے نتائج اعمال کی وسعت و زیادت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ دنیا میں جو قتل بھی ہوتا ہے اس کے وبال کا ایک حصہ آدم کے بیٹے قابیل کے کھاتے میں جمع ہو رہا ہے جس نے ہابیل کو قتل کر کے قتل ناحق کی طرح ڈالی۔ یہاں زیر بحث ٹکڑے میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ تم میں سے اگلے اور پچھلے دونوں ہی کے لیے اپنے گناہوں کے ساتھ ساتھ ان کے گناہوں میں سے بھی حصہ ملنے والا ہے جن کے لیے تم نے ان گناہوں کی مثال قائم کی۔ تم فریاد کر رہے ہو کہ تمہارے اگلوں نے تمہارے لیے بری مثال قائم کی اس وجہ سے ان کو زیادہ عذاب ہو۔ ان کو بیشک زیادہ عذاب ملے گا لیکن آخر تم نے جو بری مثال قائم کی یا اپنے بعد والوں کے لیے چھوڑی اس کے نتائج سے کس طرح بچ جاؤ گے ؟ جو پیمانہ ان کے لیے ہے وہی پیمانہ تمہارے لیے ہے۔ اگر ان کی روش بد کے ساتھ ساتھ تم اپنی روش بد کے اثرات کا بھی علم اور اندازہ رکھتے تو تم مانتے کہ تم اور وہ دونوں یکساں مجرم ہو لیکن تمہیں اپنے بوئے ہوئے تخم فساد کی بس بھری فصل کی ہولناکیوں کا صحیح تخمینہ معلوم نہیں ہے۔ اب وہ تمہارے سامنے آئے گا۔
Ayah 7:39

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور ان کے اگلے اپنے پچھلوں سے کہیں گے، تم کو بھی تو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوئی تو تم بھی اپنے کیے کی پاداش میں عذاب چکھو

وَقَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۔ یہ اگلوں کی طرف سے پچھلوں کی مذکورہ بالا بات کا جواب ہوگا کہ اگر ہم نے تمہارے لیے بری مثال قائم کی تو تم نے دوسروں کے لیے کون سی اچھی مثال قائم کی۔ بات تو جب تھی کہ تم نے کوئی اچھی مثال قائم کی ہوتی۔ اس صورت میں بیشک تم ہمارے مقابل میں ترجیح اور فضیلت کے سزوار تھے لیکن جب تم بھی وہی کچھ کر کے آئے ہو جو وہ کر کے آئے ہیں تو ہم میں اور تم میں فرق کیا ؟ جس طرح ہم اپنے کیے کا مزا چکھیں گے تم بھی اپنے کیے کا مزا چکھو
Ayah 7:40

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

بیشک جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور تکبّر کر کے ان سے منہ موڑا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں نہیں داخل ہوں گے جب اونٹ سوئی کے ناکے میں نہ سما جائے اور ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں

اِنَّ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَاۗءِ وَلَا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰي يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِيْنَ۔ لفظ استکابر کے ساتھ ‘ عن ’ کے صلہ کا فائدہ ہم اوپر واضح کرچکے ہیں۔ لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَاۗءِ کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے لیے سماء جنت کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، دوسرا یہ کہ اہل ایمان کی طرح آسمان میں ان کا خیر مقدم نہیں ہوگا بلکہ وہ نہایت ذلت و فضیحت کے ساتھ اپنا انجام بد دیکھنے کے لیے مجرموں اور بدمعاشوں کی طرح ہنکاتے ہوئے لے جائے جائیں گے۔ قاعدہ ہے کہ جن کا اعزاز واکرم مقصود ہوتا ہے ان کے لیے نہایت اہتمام سے پھاٹک کھولے جاتے ہیں، پھاٹک پر ان کے خیر مقدم کے لیے ان کے خیر مقدم کرنے والے دو رویہ کھڑے ہوتے ہیں، وہ اہلاً و سہلاً ، احسنت، اور مرحبا، سلام اور تحیت کے نعروں سے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ برعکس اس کے حسن کی تذلیل مد نطر ہوتی ہے وہ قیدیوں کی طرح جیل کے پھاٹک کی کھڑکی سے اس کے اندر ٹھونس دیے جاتے ہیں۔ گویا لا تفتح سے مقصود نفس فعل کی نفی نہیں بلکہ اس کے لازم کی نفی ہے جس کی مثالیں کلام عرب میں بہت ملتی ہیں۔ لَا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰي يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ۔ یہ اس قسم کا اسلوب بیان ہے جس کو تعلیق بالمحال کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا محال ہے۔ اسی طرح ان مسکبرین کا جنت میں داخل ہونا محال ہے۔ تعبیر کا یہ اسلوب قدیم صھیفوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ انجیل میں ہے اور یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ دولت مند کا آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے اور پھر تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولتمند خدا کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے اور پھر تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولتمند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو (متی۔ 19 : 23، 24)۔ قرآن اور انجیل کی تعبیر میں بس یہ فرق ہے کہ سیدنا مسیح نے سبب استکبار یعنی دولت کا حوالہ دیا ہے اور قرآن نے اصل جرم یعنی استکبار کا۔ اوپر ہم آدم و ابلیس کے قصے میں استکبار کی حقیقت بھی واضح کرچکے ہیں اور یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ ابلیس کے جنت سے نکالے جانے کا اصل سبب استکبار ہوا اس وجہ سے جن کے اندر استکبار کا کوئی شائبہ ہوگا وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھیں گے۔ سیدنا مسیح کا ارشاد ہے، مباریک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں، آسمان کی بادشاہی میں وہی داخل ہوں گے۔
Ayah 7:41

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ان کے یلے دوزخ ہی کا بچھونا اور اوپر سے اسی کا اوڑھنا ہوگا اور ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ مِهَادٌ کے معنی بچھونے کے ہیں اور غواش، غاشیۃ کی جمع ہے جس کے معنی ڈھانک لینے والی کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد اوڑھنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے اوپر اور نیچے سے جہنم ہی اوڑھنا بچھونا ہوگی۔
Ayah 7:42

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کیے، ہم کسی جان پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ وہی جنت والے ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے ،

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَآ ۡ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۔ اب یہ مقابلہ کے اصول پر اہل ایمان کا حال بیان ہو رہا ہے کہ وہ جنت میں کس طرح خوش و خرم، ایک دوسرے سے راضی و مطمئن اور اللہ کی توفیق ہدایت اور رسولوں کی رہنمائی پر کس طرح سراپا شکر وسپاس ہوں گے۔ آیت میں لانکلف نفسا وسعہا کا ٹکڑا بطور جملہ معترضہ ہے جس سے یہ اطمینات دلا دیا کہ یہ ذمہ داری اللہ نے اپنے بندوں پر ان کی حد وسع سے زیادہ نہیں ڈالی ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ ایسا بوجھ ہے جو اٹھایا نہیں جاسکتا۔ یہ ذمہ داری بس اسی حد تک ہے جس حد تک بندوں کے امکان میں ہے۔