Ayah 7:155وَاخْتَارَ مُوْسٰي قَوْمَهٗ سَبْعِيْنَ رَجُلًا لِّمِيْقَاتِنَا ۚ فَلَمَّآ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِيَّايَ ۭاَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاۗءُ مِنَّا ۚ اِنْ هِىَ اِلَّا فِتْنَتُكَ ۭ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاۗءُ وَتَهْدِيْ مَنْ تَشَاۗءُ اَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الْغٰفِرِيْن۔
یہ حضرت موسیٰ کے دوبارہ کوہ سینا پر جانے کا ذکر ہے جب وہ گوسالہ پرستی کے واقعہ کے بعد توبہ کے لیے گئے ہیں۔ تورات کے راویوں نے اس واقعہ کو پہلے واقعہ کے ساتھ گڈ مڈ کردیا ہے۔ اس وجہ سے بات گھپلا ہو کر رہ گئی ہے۔ قرآن نے ان دونوں واقعات کو الگ الگ بیان کیا ہے اس لیے کہ یہ واقعہ بجائے خود بنی اسرائیل کی تاریخ میں بڑی اہمیت رکھنے والا واقعہ ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے خاص وقت مقرر کیا اور حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے ستر آدمی منتخب فرمائے تاکہ جس نوعیت کا اجمتاعی جرم صادر ہوا ہے اسی نوعیت کی اجتماعی توبہ بھی ہو۔ نیز جو کچھ پیش آئے وہ قوم کے تمام ممتاز آدمیوں کے سامنے پیش آئے کہ وہ قوم کے سامنے اس کی گواہی دیں۔
فَلَمَّآ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنا جلال ظاہر فرمایا تاکہ بنی اسرائیل کے لیڈروں کو پھر یاد دہانی ہوجائے کہ جس خداوند کے ساتھ ان کا معاملہ ہے اس کے جلال و جبروت کا ادنی کرشمہ یہ ہے۔ تورات میں اس کا ذکر یوں ہوا ہے۔“ جب تیسرا دن آیا تو صبح ہوتے ہی بادل گرجنے اور بجلی چمکنے لگی اور پہاڑ پر کالی گھٹا چھا گئی اور قرنا کی آواز بہت بلند ہوئی اور سب لوگ ڈیروں میں کا نپ گئے۔ اور کوہ سینا اوپر سے نیچے تک دھوئیں سے بھر گیا اور وہ سارا پہاڑ زور سے ہل رہا تھا“ (خروج باب 19: 18۔ 19)۔ اگرچہ تورات میں یہ ذکر اس موقع کا ہے جب بنی اسرائیل کو مشہور احکام عشرہ دی گئے ہیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہی صورت حال اس توبہ کے موقع پر بھی پیش آئی ہے جس کا ذکر قرآن نے اخذتہم الفرجۃ سے کیا ہے۔
قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ ، اب یہ حضرت موسیٰ ؑ کی گریہ وزاری اور ان کی دعا و فریاد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ جلال تیرے غضب کا مظہر ہے اور تو نے ہمارے ہلاک کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے تو یہ کام اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے ہی کردیتا لیکن اب جب کہ تو نے ہمیں باریابی کا موقع عنایت فرمایا اور ہم یہاں حاضر ہو بھی گئے تو یہ تیری رحمت سے بعید ہے کہ تو ہمیں ہلاک کرے۔
اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاۗءُ۔ مطلب یہ کہ جو کچھ ہوا جماعت کے اندر کے نادانوں کی بدبختی سے ہوا اور یہ تیری رحمت سے بعید ہے کہ تو نادانوں کے کسی جرم کی پاداش میں سب کو ہلاک کردے۔
اِنْ هِىَ اِلَّا فِتْنَتُكَ ، مطلب یہ کہ یہ تو تیری ایک آزمائش تھی اور تیری آزمائش سے عہدہ برا تو وہی ہوتے ہیں جن کو تیری توفیق حاصل ہو تو ہی جن کو توفیق بخشتا ہے تیرے امتحان میں کامیاب ہوتے اور ہدایت پاتے ہیں، اور جن کو اپنی توفیق سے محروم کردیتا ہے وہ گمراہ ہوجاتے ہیں۔ یہ ملحوظ رہے کہ یہاں حضرت موسیٰ نے اسی سنت اللہ کا حوالہ دیا ہے جو ہدایت و ضلالت کے باب میں اللہ تعالیٰ نے پسند فرمائی ہے اور جس کا ذکر بار بار قرآن میں ہوچکا ہے لیکن ساتھ ہی نہایت ہی ادب کے ساتھ اور نہایت ہی لطیف طریقہ پر اس میں معاملے کی نزاکت کی طرف اشارہ بھی ہے کہ تیرے امتحانوں میں پورا اترنا کوئی آسان بازی نہیں ہے۔ یہ تیرے فضل اور تیری توفیق بخشی ہی پر منحصر ہے۔ تو ہی ہمارا ولی اور کارساز ہے تو ہمیں بخش، ہم پر رحم فرما تو بہترین بخشنے والا ہے۔
Ayah 7:156وَاكْتُبْ لَنَا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَآ اِلَيْكَ ۭقَالَ عَذَابِيْٓ اُصِيْبُ بِهٖ مَنْ اَشَاۗءُ ۚ وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۭ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ۔
وَاكْتُبْ لَنَا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةً۔ اس دنیا میں بھی تو ہمارے لیے بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی بھلائی لکھ دے۔ آخرت کے ساتھ لفظ حسنہ کو حذف کردیا اس لیے کہ مذکور محذوف پر خود دلیل ہے۔ لفظ ھدنا پر دوسری جگہ ہم بحث کرچکے ہیں۔ اس کے معنی رجوع کرنے اور توبہ کرنے کے ہیں۔ اس لفظ میں یہود کے لیے ایک لطیف یاد دہانی بھی ہے کہ اگر ان میں کچھ حیا ہے تو اپنے نام کی لاج رکھیں۔
قَالَ عَذَابِيْٓ اُصِيْبُ بِهٖ مَنْ اَشَاۗءُ۔ حضرت موسیٰ ؑ کی دعا مطلق تھی اور قوم کے ساتھ ان کو جو محبت تھی اس کا تقاضا یہی تھا کہ وہ اسی تعمیم کے ساتھ قوم کے لیے دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی کی دعا مانگیں۔ تورات میں بھی اس موقع کی دعا اسی تعمیم کے ساتھ مذکور ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اپنے عذاب و رحمت کا اصل ضابطہ بیان فرما دیا۔ فرمایا کہ جہاں تک میرے عذاب کا تعلق ہے وہ تو میں انہی پر نازل کرتا ہوں جن پر چاہتا ہوں ، ‘ جن پر چاہتا ہوں ’ کا مطلب بار بار ہم واضح کرچکے ہیں کہ خدا کا ہر چاہنا اس کی حکمت اور اس کے عدل کے تحت ہے اس وجہ سے اس کے معنی یہ ہوئے ہیں کہ میں اپنا عذاب صرف ان پر نازل کرتا ہوں جو میرے قانون عدل کے تحت اس کے سزوار ٹھہرتے ہیں۔ رہی میری رحمت تو وہ اس دنیا میں تو ہر چیز کو عام ہے، جس کو بھی وجود کی نعمت ملی ہے میرے ہی فضل سے ملی ہے، جس کو بھی رزق پہنچ رہا ہے میرے ہی خوان کرم سے پہنچ رہا ہے، امیر و غریب، شاہ و گدا اور کافر و مومن جس کے پاس بھی جو کچھ ہے سب میرا ہی عطا کردہ ہے لیکن وہ رحمت جو آخرت سے متعلق ہے اس کو میں ان لوگوں کے لیے خاص رکھوں گا جو اس دنیا کی زندگی میں مجھ سے ڈرتے رہیں گے، زکوۃ ادا کرتے رہیں اور خاص کر ان کے لیے جو ہماری آیات پر ایمان لائیں گے۔
وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ کا ٹکڑا یہاں خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ یوں نہیں فرمایا یتقون و یوتون الزکوۃ ویومنون بایاتنا، بلکہ اسلوب بدل کر فرمایا۔ والذین ھم بایاتنا یومنون، اسلوب کی اس تدبیلی سے مبتدا پر خاص طور پر زور دینا مقصود ہے کہ خاص کر وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان لائیں گے۔ جو لوگ قرآن کے نظائر پر نگاہ رکھتے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ اس عہد و میثاق کی طرف اشارہ ہے جو بنی ارائیل سے آئندہ آنے والے انبیا پر ایمان لانے کے لیے لیا گیا تھا اور جس کی وضاحت مائدہ کی مندرجہ ذیل آیت میں ہے“ وَقَالَ اللَّهُ إِنِّي مَعَكُمْ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَآمَنْتُمْ بِرُسُلِي وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا لأكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَلأدْخِلَنَّكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ : اور اللہ نے فرمایا میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز کا اہتمام قائم رکھو گے، زکوۃ دیتے رہو گے اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی تائید کرو گے اور اللہ کو قرض حسن دیتے رہو گے۔ اگر تم یہ کرو گے تو میں تمہارے گناہ تم سے دور کردوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ پس جو اس کے بعد تم میں سے کفر کرے گا تو وہ اصل شاہراہ سے بھٹک گیا ”(مائدہ :12)۔ یہ عہد یوں تو ان تمام نبیوں اور رسولوں پر مشتمل تھا جو حضرت موسیٰ کے بعد آئے لیکن اس میں خاص اشارہ اس نبی امی کی طرف تھا جس کی بعثت کی پیشین گوئی خود سینا موسیٰ نے، جیسا کہ بقرہ میں گزر چکا ہے، بڑی تصریح کے ساتھ فرمائی تھی۔ آل عمران میں اس کا ذکر یوں ہوا ہے۔“ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ : اور یاد کرو جب کہ ہم نے تم سے نبیوں کے باب میں میثاق لیا کہ ہم نے تم کو کتاب اور حکمت سے نوازا، پھر آئے گا تمہارے پاس ایک رسول تصدیق کرتا ہوا ان پیشین گوئیوں کی جو تمہارے پاس موجود ہیں تو تم اس پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کروگے۔ پوچھا کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اس باب میں میری سونپی ہوئی ذمہ داری اٹھاتے ہو ؟ بولے ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا تو اس پر گواہ رہو، میں بھی تمہارے ساتھ اس کے گواہوں میں سے ہوں ”(ال عمران :81)
یہی عہد و میثاق ہے جس کی طرف والذین ھم بایاتنا یومنون کے الفاظ میں اشارہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ کی درخواست کے جواب میں یہ تصریح فرما دی کہ میری ابدی اخروی رحمت کے سزوار صرف وہ لوگ ٹھہریں گے جو میرے عہد شریعت پر قائم رہٰں گے، آگے آنے والے نبیوں اور رسولوں کی تائید کریں گے اور ان میں سے جن کو میرے آخری رسول کی بعثت نصیب ہوگی وہ اس پر ایمان لائیں گے اور اس کے مددگار و خدمت گزار بنیں گے۔ جب بات یہاں تک پہنچی تو قرآن نے برسبیل تضمین و تفسیر وضاحت فرما دی کہ آج اس والذین ہم بایاتنا یومنون کے مصداق کون لوگ ہوں گے۔ فرمایا (اگلی آیت)
Ayah 7:157اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ ۡ يَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۭفَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَهٗٓ ۙ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
یعنی وہ لوگ جو اس نبی امی کی پیروی کریں جس کی پیشین گوئیاں خود ان کی اپنی کتابوں، تورات و انجیل میں وجود ہیں۔ نبی امی سے مراد ظاہر ہے کہ نبی ﷺ ہیں۔ رسول، نبی، امی، یہ تینوں الفاظ یہاں آپ کی تعریف اور تعارف کے طور پر وارد ہوئے ہیں۔ نبی اور رسول کے فرق کی طرف مختلف مقامات میں ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ رسول اپنی قوم کے لیے کامل حجت اور کامل عدالت کی حیثیت سے آتا ہے۔ اس کے ذریعہ سے قوم پر اللہ کی حجت پوری کردی جاتی ہے اس وجہ سے اگر وہ قوم ایمان نہیں لاتی تو لازماً تباہ کردی جاتی ہے اور رسول اور اس کے ساتھیوں کو لازماً مخالفین پر غلبہ حاصل ہوتا ہے۔ عام اس سے کہ یہ نبی کی زندگی ہی میں ہو یا اس کی وفات کے بعد، نبی کے لیے ان خصوصیات کا حامل ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس پہلو سے ہر رسول نبی لازماً ہوتا ہے لیکن ہر نبی لازماً رسول نہیں ہوتا۔ آنحضرت ﷺ نبی اور رسول دونوں حیثیات کے جامع تھے۔
بنی اسماعیل کے لیے ‘ امیین ’ کا لقب : لفظ ‘ امی ’ پر ہم آل عمران کی آیت 20 کے تحت بحث کر آئے ہیں۔ یہ لفظ بنی اسماعیل کی طرف آنحضرت ﷺ کی نسبت کو ظاہر کرتا ہے۔ بنی اسماعیل چونکہ تعلیم و تعلم اور کتاب و شریعت سے نا آشنا لوگ تھے، اس پورے دور میں جو ان کے بزرگ خاندان حضرت اسمعیل کے بعد گزرا ان کے ہاں کسی نبی یا رسول کی بعثت نہیں ہوئی تھی جب کہ اسی دوران میں بنی اسرائیل کے اندر بیشمار نبی پیدا ہوئے جن میں سے حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح نبی اور رسول دونوں حیثیات کے جامع تھے اس وجہ سے بنی اسرائیل بنی اسماعیل کو امیین کہتے تھے۔ اگرچہ بنی اسرائیل اس لفظ کو بنی اسماعیل کے صرف ایک وصف امتیازی ہی کو پیش نظر رکھ کر نہیں استعمال کرتے تھے بلکہ اپنے مقابل میں ان کی تحقیر کا پہلو بھی ان کے ذہن میں ہوتا تھا لیکن امیت و بدویت اور کتاب و شریعت سے بیگانگی چونکہ بطور ایک امر واقعہ کے ان کے اندر موجود تھی اس وجہ سے قرآن نے، جیسا کہ سورة جمعہ میں ہم واضح کریں گے، اس لفظ کو ان کے لیے بطور ایک امتیازی لقب کے استعمال کیا اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آنحضرت ﷺ نے بھی اس لفظ کو اسی مفہوم میں استعمال کیا اور صحابہ بھی اس کو بلا کسی احساس کہتری کے استعمال کرتے تھے گویا بنی اسرائیل کے بالمقابل ان کے لیے یہ ایک امتیازی لقب تھا۔
نبی امی کی پیشنگوئیاں پچھلے صحیفوں میں : یہاں آنحضرت ﷺ سے متعلق توات و انجیل کی جن پیشین گوئیوں کا حوالہ ہے ان میں سے بعض کا، جو موجودہ تورات و انجیل میں بھی موجود ہیں، ذکر پچھلی سورتوں کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ محض بطور یاد دہانی ان کا حوالہ یہاں ہم پھر دیے دیتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ اہل کتاب، بنی اسماعیل کے اندر ایک صاحب رسالت نبی کی بعثت سے پہلے سے واقف تھے اور اس کا چرچا ان کے ہاں برابر قائم رہا ہے۔“ خداوند تیرا خدا تیرے لیے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا، تم اس کی سننا، اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں۔ میں ان کے لیے ان ہی کے بھائویں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا ”(استثنا باب 18: 15۔ 19)۔ اس سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل پر خود حضرت موسیٰ ہی نے یہ حقیقت واضح کردی تھی کہ آنے والا بنی اسماعیل یعنی امیوں میں پیدا ہوگا اس لیے کہ اس سیاق میں“ تیرے بھائیوں میں سے ”یا“ انہی کے بھائیوں میں سے ”کا مطلب اس کے سوا کچھ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ بنی اسماعیل میں سے ہوگا۔ یہ حضرت موسیٰ کی زبان مبارک سے گویا اسی بشارت کا اعادہ تھا جو سیدنا ابراہیم نے حضرت اسماعیل کی نسل ایک رسول کی بعثت کی دی تھی۔ تفصیلات اس کی بقرہ میں گزر چکی ہیں۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ وہ صرف نبی نہیں ہوگا بلکہ رسول بھی ہوگا اس لیے کہ“ میری مانند ”اور“ تیری مانند ”سے مراد حضرت موسیٰ کے مانند ہے اور حضرت موسیٰ فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کو نجات حاصل ہوئی اور فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے تباہ کردیا۔ آنحضرت ﷺ بھی اسی طرح اپنی قوم قریش اور اہل عرب کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے۔“ خدا سینا سے آیا، اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا، فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا، دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا، اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لیے تھی ”(استثنا با 23: 2)۔ آتشی شریعت سے میرے نزدیک اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے جو سیدنا مسیح نے ظاہر فرمائی ہے کہ اس کے ہاتھ میں اس کا چھاج ہوگا، وہ اپنے کھلیان کو خوب صاف کرے گا، دانے کو بھس سے الگ کرے گا، پھر دانے کو محفوظ کرے گا اور بھس کو جلا دے گا، یہ ٹھیک ٹھیک رسول کی وہ خصوصیت بیان ہوئی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ وہ اپنی قوم کے لیے عدالت بن کر آتا ہے اور حق و باطل کے درمیان اس کے ذریعے سے فیصلہ ہوجاتا ہے۔
یسعیاہ نبی کی پیشین گوئی ان الفاظ میں مذکور ہے“ دیکھو میرا بندہ جسے میں سنبھالتا، بڑا برگزیدہ جس سے میرا جی راضی ہے۔ میں نے اپنی روح اس پر رکھی، وہ قوموں کے درمیان عدالت جاری کرے گا، اس کا زوال نہ ہوگا اور نہ مسلا جائے گائے جب تک راستی کو زمین پر قائم نہ کرے گا ”(یسعیاہ باب 42: 1۔ 4)
شیدنا مسیح کی پیشنگوئی ملاحظہ ہو :“ یسوع نے ان سے کہا کہ کیا تم نے کتاب مقدس میں نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہوگیا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے۔ اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشہات تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے دی جائے گی اور جو اس پتھر پر گرے گا اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے مگر جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا ”(متی باب 21: 42۔ 44)۔“ اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تہارے ساتھ رہے ”(یوحنا باب 14، 17)۔“ اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں ”(یوحنا باب 14، 31)۔
ان پیشنگوئیوں پر غور کیجیے۔ حجرت عیسیٰ بنی اسرائیل میں آخری نبی ہیں ان کے بعد کوئی بنی اسرائیل میں نہیں آیا۔ پھر ان پیشنگوئیوں کا مصداق آنحضرت ﷺ کے سوا اور کون ہوسکتا ہے ؟ آخر وہ پتھر کون ہوسکتا ہے جس کو معماروں نے تو رد کردیا تھا لیکن بالاخر وہی کونے کے سرے کا پتھر بن گیا ؟ یہ کسی کی شان ہے کہ جو اس پر گرے گا اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے اور جس پر وہ گرے گا اس کو پیس ڈالے گا ؟ یہ کس کا مرتبہ بیان ہوا ہے کہ وہ دنیا کا سردار ہے جو ابد تک لوگوں کے ساتھ رہے گا اور وہ باتیں بتائے گا جو حضرت مسیح بتانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ ضد اور مکابرت کی بات اور ہے لیکن جو شخص بھی ان پیشنگوئیوں پر انصاف اور غیر جانبداری کے ساتھ غور کرے گا وہ پکار اٹھے گا کہ یہ اگر کسی پر راست آسکتی ہیں تو صرف نبی امی اور رسول خاتم محمد ﷺ پر ہی راست آسکتی ہیں۔ نبی امی کے سوا اور کوئی ان کا مصداق نہیں ہوسکتا۔
آنحضرت ﷺ کا تعارف : يَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ۔ ان باتوں کا حوالہ بھی آنحضرت ﷺ کی تعریف اور تعارف ہی کے طور پر دیا گیا ہے۔ یہود نے اپنے اوپر بہت سی خود ساختہ پابندیاں بھی لاد رکھی تھیں اور بعض پابندیاں ان کی سرکشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ان پر عاید کردی گئی تھیں۔ ان ساری چیزوں کے دور ہونے کا انحصار آخری رسول کی بعثت پر تھا۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کی بعثت نے ان کی یہ ساری زنجیریں کاٹ دیں لیکن انہوں نے اپنی شامت اعمال کے سبب سے اس نعمت کی قدر نہ کی۔ اس مسئلہ پر آل عمران آیت 93، مائدہ آیت 5 کے تحت بھی ہم لکھ چکے ہیں اور سورة انعام کے تفسیر میں بھی اس پر وضاحت سے بحث ہوئی ہے اس وجہ سے یہاں اشارہ پر کفایت کرتے ہیں۔rnۭفَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ ، یہ اہل کتاب کو دعوت ایمان ہے کہ جو لوگ اس رسول کے باب میں سابق ییشنگوئیوں کے امین ہیں اور جن کو اس کی بعثت سے یہ سعادت حاصل ہونے والی ہے کہ تمام غیر فطری بندھنوں اور پابندیوں سے آزاد ہوجائیں گے سب سے پہلے انہی کا حق ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں، لوگوں میں اس کا تعارف کرائیں، مخالفوں کے مقابل میں اس کی حمایت کریں اور اس روشنی یعنی قرآن کی پیروی کریں جو اللہ کی طرف سے دے کر وہ بھیجا گیا۔ فرمایا کہ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پانے والے بنیں گے باقی سب محروم و نامراد ہوں گے۔
Ayah 7:158قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۠ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۔
جب بات نبی ﷺ کے ذکر تک پہنچ گئی تو برسر موقع آپ کی زبان مبارک سے بنی اسرائیل کو ایمان لانے کی دعوت بھی دلوا دی گئی کہ اے لوگو، میں تم سب لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔ سب لوگوں کی طرف، یعنی بنی اسماعیل و بنی اسرائیل، عرب اور غیر عرب سب کی طرف۔ اوپر کی پیشنگوئیوں میں بھی تصریح ہے کہ اگرچہ آپ کی بعثت بنی اسمعیل میں ہوگی لیکن آپ کی رسالت سب کی طرف ہوگی اور دنیا کی سب قومیں آپ کی برکات میں سے حصہ پائیں گی۔ اہل عرب پر، عام اس سے کہ وہ بنی اسماعیل ہوں یا بنی اسرائیل، آپ نے اللہ کی حجت براہر راست قائم کی اور وقت کے ملوک و سلاطین کو بھی آپ نے دعوت دی اور آپ کے بعد اس دعوت و شہادت کی ذمہ داری قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت پر ڈالی جس کو شہداء اللہ فی الارض کے منصب عالی پر سرفراز فرمایا۔
الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یعنی آسمان و زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے جس کا میں رسول ہو کر آیا ہوں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ اسی کے اختیار میں قوموں کا عزل و نصب ہے تو کسی بےجا عصبیت، کسی غلط اعتماد اور کسی بےبنیاد غرور و گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اللہ اور اس کے نبی امی رسول پر جس کی پیشنگوئیوں تہاری اپنی کتابوں میں موجود ہیں ایمان لانے سے گریز نہ اختیار کرو ،
الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ ، میں اس بات کی طرف اشارہ ہے جو اوپر حضرت موسیٰ کی پیشنگوئی میں مذکور ہوئی ہے کہ میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہ وہی لوگوں سے کہے گا، مطلب یہ ہوا کہ نبی کے اس دعوائے نبوت اور اس کی اس دعوت کو کسی وہم، کسی خیال اور دوسروں پر برتری اور سیادت حاصل کرنے کی کسی خواہش پر مبنی نہ سمجھو، یہ تو وہی کچھ تمہیں سنایا جا رہا ہے جو اللہ کی طرف سے آ رہا ہے۔ پیغمبر خود اللہ پر اور اس کی ان باتوں پر ایمان رکھتا ہے اور اسی ایمان کی دعوت تمہیں دے رہا ہے۔ یہ اس کی اپنی کوئی ایجاد نہیں ہے۔ دوسرے اس میں وہ دھمکی بھی مضمر ہے جو اوپر والی پیشنگوئی میں مذکور ہے کہ چونکہ یہ خدا کی بھیجی ہوئی چیز ہے اس وجہ سے اس میں پیغمبر کی طرف سے کسی کمی بیشی، کسی حذف و اضافے کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر پیغمبر نے اس کی تبلیغ میں کوئی مداہنت برتی تو خدا اس سے اس کا مواخذہ فرمائے گا اور اگر لوگوں نے اس سارے اہتمام کے باوجود اس کا حق نہ پہچانا تو ان سے مواخذہ ہوگا۔
Ayah 7:159وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ۔
ہم پیچھے ایک سے زیادہ مقامات میں واضح کرچکے ہیں کہ قرآن نے جہاں جہاں بنی اسرائیل کو عہد شکنیوں اور بد اعمالیوں پر شدت کے ساتھ سرزنش کی ہے وہاں ان کے اندر کے اس گروہ قلیل کی تحسین بھی فرمائی ہے جو حق و عدل پر قائم رہا ہے اور جس کی بدولت بنی اسرائیل کو ان کے جرائم کے باوجود مہلت ملتی رہی ہے۔ یہاں بھی اسی گروہ کی طرف اشارہ ہے اور الفظ امۃ کی تنکیر اس کی قلت کی طرف اشارہ کر رہی ہے یھدون اور یعدولن مضارع کے صیغے استمرار کو ظاہر کر رہے ہیں اس لیے کہ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں فعل ناقص محذوف ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ جہاں موسیٰ کی قوم میں اس طرح کے نابکار و ناہنجار پیدا ہوئے ہیں، جن کا ذکر اوپر گزرا۔ وہیں ان کے اندر ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی برابر رہا ہے جو حق کے مطابق لوگوں کے معاملات کے فیصلے کرتے رہے ہیں۔ یعنی علما اور قضاۃ دونوں ہی گروہوں میں اچھے لوگ بھی پیدا ہوتے رہے ہیں۔ اسی طرح کا ایک گروہ، قلیل تعداد میں سہی، ان آیات کے نزول کے زمانے میں بھی موجود تھا اور یہی لوگ تھے جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے، ان کے یہاں ذکر سے مقصود ان کی حوصہ افزائی ہے اور اس میں اس بات کی طرف نہایت لطیف اشارہ ہے کہ پیغمبر نے یہ اہل کتاب کو جو دعوت دی ہے وہ اس طرح کے صالحیں پر اثر انداز ہوگی اور وہ نبی امی پر ایمان لائیں گے۔
اس آیت پر وہ تضمین یا تخلیص جو الذین یتبعون الرسول سے شروع ہوئی تھی ختم ہوئی اور آگے سلسلہ کلام پھر بنی اسرائیل کی اسی سرگزشت سے چڑ گیا جو بیان ہورہی تھی۔
Ayahs 7:160–162وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا ۭوَاَوْحَيْنَآ اِلٰي مُوْسٰٓي اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗٓ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۭقَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ۭوَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى ۭكُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ۭوَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ۔ وَاِذْ قِيْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْيَةَ وَكُلُوْا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيْۗـــٰٔــتِكُمْ ۭسَنَزِيْدُ الْمُحْسِنِيْنَ۔ وَاِذْ قِيْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْيَةَ وَكُلُوْا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيْۗـــٰٔــتِكُمْ ۭسَنَزِيْدُ الْمُحْسِنِيْنَ۔ فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِيْ قِيْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاۗءِ بِمَا كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ۔
معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ یہ آیتیں بقرہ میں بھی گزر چکی ہیں۔ وہاں پوری تفصیل سے ان کی تفسیر بیان ہوئی ہے۔ ملاحظہ ہوں آیات 57۔ 60 بقرہ۔ لفظ اسباط پر بھی بقرہ کی آیت 136 کے تحت گفتگو ہوچکی ہے۔ لفظ تقطیع یہاں اچھے معنوں میں اتعمال ہوا ہے۔ یعنی ایک ہی باپ کی اولاد بارہ خاندانوں کی شکل میں پھلی پھولی، اور ہم نے ہر خاندان کو امتوں اور قوموں کی شکل میں بڑھایا اور پھیلایا اور اسی اعتبار سے ان کو اپنی نعمتوں اور رحمتوں سے بھی نوازا لیکن انہوں نے ہر نعمت کی ناقدری کی۔
Ayah 7:163وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ ۘاِذْ يَعْدُوْنَ فِي السَّبْتِ اِذْ تَاْتِيْهِمْ حِيْتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّيَوْمَ لَا يَسْبِتُوْنَ ۙ لَا تَاْتِيْهِمْ ڔ كَذٰلِكَ ڔ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ۔
یہ جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس کا ذکر بقرہ آیت 65۔ 66 میں گزر چکا ہے۔ وہاں اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔ یہاں ہم صرف ان چیزوں پر روشنی ڈالیں گے جو وہاں بیان نہیں ہوئیں ہیں۔ وسئلھم کا اسلوب زجر و توبیخ کا ظاہر کر رہا ہے۔ ھم سے مراد یہود ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ اپنی تمام کرتوتوں کے باوجود جو بیان ہوئیں اپنی پاکی و برتری کے زعم سے باز نہیں آتے اور اپنے آپ کو خدا کا چہیتا اور لاڈلا بنائے بیٹے ہیں تو ذرا ان سے اس قریہ کا ماجرا پوچھو جس نے سبت کی بےحرمتی کی اور اس کی سزا میں خدا نے اس کو نمونہ عبرت بنا دیا۔ قرآن نے اس قریہ کی اس سے زیادہ تصریح نہیں فرمائی کہ یہ سمندر کے کنارے تھا۔ تورات میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں ہے لیکن قرآن کا انداز بیان ظاہر کرتا ہے کہ زمانہ نزول قرآن کے یہود اپنی تاریخ کی ایک مشہور روایت کی حیثیت سے اس کو جانتے تھے۔ چناچہ بقرہ میں اس کا ذکر اس طرح ہوا ہے۔ ولقد علمتم الذین اعتدوا نکم فی السبت (اور ان کو تو تم جانتے ہی ہو جنہوں نے تم میں سے سبت کے معاملے میں حدود الٰہی سے تجاوز کیا)۔ ظاہر ہے کہ یہود کے رو در رو اس اسلوب میں وہی بات کہی جاسکتی ہے جو ان کے درمیان شہرت رکھتی ورنہ وہ قرآن کے اس بیان کی ضرور تردید کرتے۔ بعض لوگوں نے اس کو ایلہ اور عقبہ کے پاس کا کوئی شہر بتایا ہے۔ یہ بات صحیح ہوسکتی ہے۔ سمندروں کے کنارے کے شہر، اگر جائے وقوع مناسب ہو تو تجارتی مرکز بن جاتے ہیں اور بہت ترقی کرجاتے ہیں۔ عقبہ کے علاقے کو بنی اسرائیل کی تاریخ میں قدیم زمانے سے شہرہ حاصل ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کے بحری بیڑے کا مرکز بھی یہی تھا۔ لفظ ‘ قریہ ’ پر ہم دوسری جگہ بحث کرچکے ہیں کہ عربی میں یہ لفظ صرف چھوٹی بستیوں ہی کے لیے نہیں آتا بلکہ اس کا اطلاق بڑی بڑی مرکزی آبادیوں پر بھی ہوتا ہے۔
لفظ شُرَّع کی تحقیق اور مچھلیوں کے ابھرنے کی نوعیت اور حکمت : اِذْ تَاْتِيْهِمْ حِيْتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا۔ شُرَّعً شارعۃ کی جمع ہے۔ جب یہ لفظ نایزوں کے بولا جاتا ہے تو اس سے مراد سیدھے اٹھائ ہوئے نیزے ہوتے ہیں۔ یہاں یہ لفظ مچھلیوں کے لیے آیا ہے تو اس سے منہ اٹھائے ہوئے مچھلیاں مراد ہیں۔ پلی ہوئی مچھلیوں کے تالاب کے کنارے ان کے ابھرنے کی اوقات میں، کھڑے ہوجائیے، تو یہ دلکش منظر نظر آئے گا کہ مچھلیاں اپنے سر سطح پر اس طرح ابھارے ہوئے نظر آئیں گی گویا وہ اپنے نیزے سیدھے کیے ہوئے ہیں۔ سمندروں کے کنارے جو شکار گاہیں ہوتی ہیں ان میں یہ منظر اور بھی دلفریب اور طمع انگیز ہوتا ہوگا۔ یہود کی شریعت میں ست یعنی ہفتہ کے دن کام کاج اور سیر و شکار وغیرہ کی ممانعت تھی لیکن وہ صبر نہ کرسکے۔ انہوں نے ست کے دن مچھلیوں کے شکار کے لیے مختلف قسم کے حیلے ایجاد کرلیے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ جب کوئی قوم کسی نافرمانی میں اصرار کے حد تک بڑھ جاتی ہے اور اچھوں کے سمجھانے سے بھی باز نہیں آتی تو اس معاملے میں اس کی آزمائش سخت سے سخت تر ہوجاتی ہے تاکہ وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہی صورت حال بنی اسرائیل کے لیے پیدا کردی۔ عام دنوں میں تو یہ مچھلیاں نظر نہ آتیں یا بہت ہی کم نظر آتیں لیکن سبت کے دن معلوم ہوتا کہ ان کے ہاں بارات اتری ہوئی ہے۔ یہ چیز ان کی حرص کو اور بھڑکا دیتی۔ مشہور ہے کہ ٓدمی جس چیز سے روک دیا جائے اس کی خواہش اور زیادہ بڑھ جاتی ہے اور خواہش وہ بلا ہے کہ اس کے اثر سے بسا اوقات آدمی کی نگاہ بھی بدل جاتی ہے۔ خواہش نہ ہونے کی صورت میں جو چیز چھٹانک بھر نظر آتی ہے، خواہش کے غلبہ کی حالت میں وہی سیر بھر نظر آنے لگتی ہے۔ مشہور ہے کہ حسن کا اندازہ کرنے میں حسن سے زیادہ حسن نظر کو دخل ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل اپنی شامت اعمال سے اس دہرے فتنے میں مبتلا ہوگئے اور پھر اس حد تک خراب ہوئے کہ نیکوں کی تلقین و موعظت تو درکنار خدا کے عذاب سے بھی ان کو تنبیہ نہیں ہوئی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کردی۔
سورة مائدہ آیت 94 کے تحت ہم بیان کر آئے ہیں کہ جس طرح بنی اسرائیل کو سبت کے دن شکار کی ممانعت تھی اسی طرح ہمارے لیے حالت احرام میں خشکی کے شکار کی ممانعت ہوئی اور ہم کو بھی اس طرح کی آزمائش سے بچتے رہنے کی تاکید کی گئی جس میں بنی اسرائیل مبتلا ہو کر اپنے کو تباہ کر بیٹھے۔“ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّيْدِ تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَخَافُهُ بِالْغَيْبِ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ: اے ایمان والو، اللہ تمہیں کسی ایسی شکار سے آزمائے گا کہ تم خیال کرو گے کہ تمہارے ہاتھ اور نیزے ان کو پا لیں گے تاکہ اللہ ان لوگوں کو ممیز کرے جو اس سے غیب میں ڈرتے ہیں، جو اس کے بعد حدد سے تجاوز کریں گے ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے ”۔ تَاْتِيْهِمْ حِيْتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا اور تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْکے الفاظ پر ایک دوسرے کے مقابل میں رکھ کر غور کیجیے تو دونوں کی مشابہت اچھی طرح واضح ہوجائے گی۔
Ayah 7:164وَاِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس بستی کے لوگوں نے شقاوت کی یہ راہ سجھانے بجھانے والوں کے علی الرغم اختیار کی۔ یہ نہیں تھا کہ ان کو کوئی آگاہ کرنے والا نہیں تھا، اللہ کے ایسے بندے وہاں تھے جنہوں نے ان کو نہ صرف اس جرم سے روکنے کی کوشش کی بلکہ اس حد تک کوشش کی کہ ان کے اپنے ساتھیوں میں سے ایک جماعت نے اب مزید سمجھانے کو بالکل غیر مفید سمجھا اور یہ کہا کہ ایسے لوگوں کو سمجھانے سے کیا حاصل جواب یا تو ہلاک ہونے والے ہیں یا کم از کم یہ کہ کسی شدید عذاب کی پکڑ میں آنے والے ہیں۔ لیکن اللہ کے ان بندوں نے اس نقطہ نظر کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ان کو یہ جواب دیا کہ ہمارا سمجھانے کا کام جاری رہنا چاہیے۔ اگر یہ لوگ نہ مانے تو ہم اللہ کے ہاں اپنے فض سے سبکدوش ٹھہریں گے اور کیا عجب کہ مان ہی جائیں، سو اگر مان گئے تو یہی مطلوب ہے۔
نہی عن المنکر کے بارے میں ذمہ داری کی حد : اس سے اس ذمہ داری کی حد معین ہوتی ہے جو ہر مومن پر دوسروں کو برائی سے روکنے اور بھلائی کی دعوت دینے کی عاید ہوتی ہے۔ معلوم ہوا کہ اس میں کوئی مرحلہ ایسا نہیں آتا جب داعی اور ناصح یہ فرض کرلیں کہ اب دعوت و نصیحت کا فرض ادا ہوگیا اس لیے نہ ماننے والوں کو عذاب الٰہی کے لیے چھوڑ دینا چاہیے بلکہ یہ کام زندگی کے آخری لمحے تک کرتے رہنا چاہیے اگرچہ ایک شخص بھی نصیحت کا قدر کرنے والا نہ نکلے۔ عنداللہ ایسے ہی لوگ اپنے فرض سے سبکدوش قرار پائیں گے۔ وہ لوگ اللہ کے ہاں بری نہیں ہوں گے جو خود اگرچہ برائی میں مبتلا نہ ہوں لیکن دوسرے کے خیر و شر سے بالکل بےتعلق ہو کر زندگی گزاریں۔ اس مضمون پر مفصل بحث انفال آیت 25 کے تحت آئے گی۔
Ayah 7:165فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖٓ اَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْۗءِ۔ یعنی جب وہ تنبیہا جو انہیں کی گئی تھیں وہ بھلا بیٹھے اور کسی طرح سوچنے سمجھنے پر راضی نہ ہوئے تو اللہ نے ان کی اس نافرمانی و عہد شکنی کی پاداش میں ان پر ایک سخت عذاب بھیجا جس سے صرف وہ لوگ محفوظ رہے جو لوگوں کو برائی سے روکنے والے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس طرح کی اجتماعی نافرمانیوں پر جب اللہ کا کوئی فیصلہ کن عذاب نازل ہوتا ہے تو اس کی پکڑ سے صرف وہی لوگ محفوظ رہتے ہیں جو برائی سے روکنے والے ہوتے ہیں۔
Ayah 7:166فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ الایہ، یہ اس لعنت کا ذکر ہے جو ان نافرمانوں پر ہوئی اور جس کا ذکر بقرہ 65 اور مائدہ 61 کے تحت بھی گزر چکا ہے۔
لعنت بد ترین عذاب ہے :۔ کسی قوم پر اللہ کی لعنت اس عذاب سے بھی سخت تر چیز ہے جو کسی قوم کو فنا کردیتا ہے اس لیے کہ لعنت
Ayah 7:167وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيْعُ الْعِقَابِ ښ وَاِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔
تاذن کا صحیح مفہوم کسی فیصلہ قطعی سے لوگوں کو آگاہ کردینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کی اس طرھ کی بدعہدیوں کی بنا پر ان کو ان کے نبیوں کے ذریعہ سے آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر ایسے لوگوں کو قیامت تک مسلط کرتا رہے گا جو ان کو نہایت سخت عذابوں میں مبتلا کرتے رہیں گے۔ اس طرح کی تنبیہ ان کو حضرت موسیٰ نے بار بار فرمائی اور بعد کے نبی ون نے بھی نہایت آشکارا الفاظ میں اس سے آگاہ کیا۔ احبار میں ہے۔“ اگر تم میرے سننے والے نہ بنو اور ان سب حکموں پر عمل نہ کرو۔۔ اور مجھ سے عہد شکنی کرو تو میں بھی تم سے ایسا ہی کروں گا۔۔ اور میر چہرہ تمہارے برخلاف ہوگا اور تم دشمنوں کے سامنے قتل کیے جاؤ گے اور جو تمہارا کینہ رکھتے ہیں تم پر حکومت کریں گے ”(احبار باب 26:، 14۔ 17)۔ اسی طرح کتاب استثنا میں ہے“ تیرے بیٹے اور عزیز بیٹیاں دوسری قوم کو دی جائیں گی اور تیری آنکھیں دیکھیں گی اور سارے دن ان کی راہ تکتے تکتے تھک جائیں گی اور تیرے ہاتھ میں کچھ زور نہ ہوگا ”(استثنا ابب 28:، 32)۔ اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کی عملی تصدیق تاریخ کے صفحات میں رمقوم ہے۔ اس کے لیے بنوخذ نصر اور ٹیٹس سے لے کر جرمنی کے ہٹلر تک کی تاریخ پڑھ جائیے۔ ہر دور میں آپ کو اس قوم کی ذلت و بربادی نہایت لرزہ خیز داستان مل جائے گی۔ یہ ملحوظ رہے کہ بیچ بیچ میں مہلت کا کوئی وقفہ مل جانے سے اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کی نفی نہیں ہوتی ہے۔ قرآن کا اسلوب بیان خود شاہد ہے کہ ان کو وقفے بھی ملتے رہیں گے لیکن ہر وقفہ ان کے لیے کسی تازہ مصیبت کا پیش خیمہ ثابت ہوگا آج ارض مقدس میں ان کا جو اجتماع ہو رہا ہے یہ آشیاں بندی بھی ایک نئے طوفان کی دعوت ہے جس کے بعد ان کی پوری مجتمعہ قوت انشاء اللہ یک قلم ختم ہوجائے گی۔ یہاں اشارہ پر کفایت کیجیے۔ اس کی وضاحت سورة بنی اسرائیل کی تفسیر میں آئے گی۔
اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيْعُ الْعِقَابِ ښ وَاِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ میں اس فیصلہ الٰہی کی حقیقت صفات الٰہی کے آئینہ میں دکھائی گئی ہے کہ کوئی خدا کو اس دنیا کے معاملات سے بےتعلق یا الگ تھلگ نہ خیال کرے۔ جو لوگ اس کی راہ سے بےراہ ہوتے ہیں ان کو وہ سزا بھی بڑی ہی سخت دیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتے ہیں ان کے لیے وہ بڑا بخشنے والا اور رحم فرمانے والا بھی ہے۔ عقاب کے ساتھ سریع کی صفت ان لوگوں کی بلادت پر ضرب لگانے کے لیے ہے جو خدا کی دیر کو اندھیر سمجھ بیٹھتے ہیں، مطلب یہ ہوا کہ کوئی اس کی بخشی ہوئی مہلت سے غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو۔ وہ جب پکڑتا ہے تو آناً فاناً پکڑتا ہے اور جن کو پکڑتا ہے وہ بھی یہی محسوس کرتے ہیں کہ صبح کی شام بھی نہیں ہونے پائی کہ دھر لیے گئے۔
Ayah 7:168وَقَطَّعْنٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًا ۚمِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ ۡ وَبَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ۔ وقطعناہم اوپر آیت 160 میں بھی گزر چکا ہے، وہاں جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا اچھے مفہوم میں ہے۔ یہاں یہ لفظ اس کے برعکس ان کی پراگندگی اور انتشار کے دور کے حالات کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کی جو تنظیم کی وہ اپنے پورے شباب پر حضرت داود اور حضرت سلیمان ؑ کے دور میں پہنچی۔ حضرت سلیمان ؑ کے بعد اس تنظیم میں ضعف پیدا ہونا شروع ہوا اور پھر بتدریج حالات ایسے خراب ہوتے گئے کہ یہود اپنے مرکز میں بھی محکوم ہوگئے۔ یہاں تک کہ گروہ گروہ ہو کر دنیا کے مختلف حصوں میں متشر ہوگئے۔ اگرچہ انفرادی حیثیت سے ان میں نیک بھی تھے اور بد بھی لیکن اجتماعی حیثیت سے وہ ان اوصاف سے محروم ہوچکے تھے جو ایک ملت کی حیثیت سے ان کو دنیا میں سربلند رکھنے کے لیے ضروری تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق ان کو اچھے اور برے ہر طرح کے حالات سے آزمایا تاکہ وہ اپنے رب کی طرف رجوع کریں لیکن ان کی خواہشیں اس طرح ان پر غالب آگئی تھیں کہ ان کے آگے ان کی قوت ارادی بالکل مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔ وہ یہ احساس رکھتے ہوئے بھی کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں غلط ہے وہی کام کیے جاتے اور اپنے ضمیر کو یہ دھوکا دیتے کہ ہم خدا کے چہیتوں اور محبوبوں کی اولاد ہیں، خدا ہمیں معاف ہی کردے گا۔
Ayah 7:169فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ يَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَيَقُوْلُوْنَ سَيُغْفَرُ لَنَا ۚ وَاِنْ يَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ يَاْخُذُوْهُ ۭ اَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِّيْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا يَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَدَرَسُوْا مَا فِيْهِ ۭوَالدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔
عربی میں جب لفظ خلف سکون لام کے ساتھ آتا ہے تو برے جانشینوں کے معنی میں آتا ہے۔ یہ یہود کے تدریجی زوال کی طرف اشارہ ہے کہ دن پر دن ان کے اخلاقی حالات بد سے بدتر ہی ہوتے گئے یہاں تک کہ ایسے برے لوگ کتاب (تورات) کے وارث ہوئے جو ایک طرف کتاب الٰہی کے وارث ہونے کے مدعی ہیں دوسری طرف پست ہمتی اور دناءت کا یہ عالم ہے کہ جو لقمہ احرام بھی ملتا نظر آئے اس کو چھوڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ کتاب الٰہی کے نام لیوا ہونے کے سبب سے اگر ضمیر میں کوئی خلش پیدا ہوتی بی ہے تو ان جھوٹی آرزوؤں سے اس کو بہلا لیتے ہیں جو انہوں نے بالکل بےدلیل و سند اپنے دلوں میں اپال رکھی ہیں کہ ہم برگزیدہ امت ہیں، ابراہیم، اسحاق اور یعقوب جیسے نبیوں کی اولاد ہیں، دوزخ کی آگ ہم پر حرام ہے، اپنے محبوب بندوں کے صدقے میں اللہ ہمیں معاف ہی کردے گا۔ اسی طح انہوں نے اپنے ضمیر اور ایمان کو اس طرح کند بنا دیا ہے کہ ایک حرام کے بعد اگر اسی طرح کی حرام خوری کا کوئی اور موقع نکل آئے تو اس پر بھی پھسل پڑتے ہیں۔ ان کی اسی دناءت کی وجہ سے آگے چل کر ان کی مثال کتے سے دی ہے جو ہر وقت اپنی زبان نکالے رکھتا ہے، خواہ اسے چمکاریے یا جھڑکیے۔
اَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِّيْثَاقُ الْكِتٰبِ۔ یعنی کتاب کے باب میں تو، جیسا کہ آیت 145 میں گزرا اور تورات میں بھی بارہا ذکر ہوا ہے، ان سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ جو ہدایات اس کتاب میں دی جا رہی ہیں ان کو مضبوطی سے پکڑیں، بال برابر بھی ادھر ادھر نہ ہوں، کوئی بات حق کے خلاف خدا پر نہ لگائیں، تو پھر انہوں نے حرام خوری اور حرام کاری کی یہ راہ کس طرح کھول لی اور اس کے حق میں شریعت کی سند کہاں سے فراہم کردی !
وَدَرَسُوْا مَا فِيْهِ یعنی انہوں نے اچھی طرح اس کتاب کو پڑھا بھی ہے، یہ نہیں کہ اس سے بالکل بیخبر ہوں۔ درس کے لفظ پر ہم انعام آیت 105 کے تحت بحث کر آئے ہیں کہ اس کے اصل معنی گھسنے کے ہیں۔ جب کتاب بار بار پڑھی جائے، اور وہ بھی انگلی رکھ کے تو ورق گھس جایا کرتا ہے اس وجہ سے اس کے معنی اچھی طرح پڑھنے کے آنے لگے۔ یہاں یہ لفظ یہود کے لیے بطور تعریض استعمال ہوا ہے کہ کتاب کو تو پڑھتے پڑھتے انہوں نے گھس ڈالا لیکن حال وہی رہا کہ ساری زلیخا پڑھ جانے کے بعد بھی یہ پتہ نہ چل سکا کہ زلیخا زن بود کہ مرد والدار الاخرۃ خیر للذین یتقون یعنی یہ سگان دینا جو کتاب و شریعت سب کو بالائے طاق رکھ کے اس دنیا کے پیچھے پڑگئے، انہیں آخرت کی نعمتوں اور کامرانیوں کا کوئی اندازہ نہیں، حالانکہ چاہنے کی اصل چیز وہی ہے لیکن ان بیوقوف لوگوں میں وہ عقل کہا ؟
Ayah 7:170وَالَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭاِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِيْنَ۔
مصلحین اہل کتاب کی حوصلہ افزائی : تمسیک اور تمسک دونوں کے معنی کے ایک ہی معنی ہیں یعنی کسی چیز کو مضبوطی سے پکڑنا یا تھا سنا۔ آیت کا مطلب اوپر کی آیت کی روشنی میں یہ ہے کہ یہ بدقسمت لوگ تو اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کے پیچھے چل کھڑے ہوئے حالانکہ جو لوگ اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھامتے اور نماز کا اہتمام کرتے ہیں وہ لوگ خلق کی اصلاح کرنے والے بنتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے مصلحین کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔ اقامت نماز، یہاں تمسک بالکتاب کی علامت حیثیت سے بھی مذکور ہے اور یہ چیز درحقیقت ہر عہد الٰہی کی، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں ذکر کرچکے ہیں، محافظ بھی ہے، آیت میں بقاعدہ ایجاز ایک ٹکڑا محذوف ہے۔ پوری بات گویا یوں ہے، اور جو کتاب کو مضبوطی سے تھامتے ہیں اور جنہوں نے نماز کا اہتمام کیا وہی اس آیت میں اہل کتاب کے اس قلیل التعداد گروہ کی حوصلہ افزائی بھی ہے جو قو کے عام بگاڑ کے باوجود حق پر قائم رہا اور جو بالآخر مشرف باسلام ہوا۔
Ayah 7:171وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّـةٌ وَّظَنُّوْٓا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ ۚ خُذُوْا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّاذْكُرُوْا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۔
اس آیت کی تفسیر بقرہ آیت 63 کے تحت گزر چکی ہے۔ یہ اس میثاق کی طرف اشارہ ہے جو یہود سے دامن کوہ میں کتاب پر مضبوطی سے قائم رہنے کے لیے لیا گیا تھا اور اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے جلال و جبروت کا بھی ان کو مشاہدہ کرایا تھا تاکہ وہ یاد رکھیں کہ جس خدا سے وہ عہد کر رہے ہیں وہ بےپناہ قوت وقدرت والا ہے لیکن انہوں نے اپنی خواہشات کے پیچھے ہر چیز کو بھلا دیا۔
Ayah 7:172آیات 172 تا 206 کا مضمون : آگے کا مضمون خاتمہ سورة کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم تمہید میں عرض کرچکے ہیں کہ اس سورة میں مخاطب اصلاً قریش ہیں۔ ان کو پہلے خود ان کے اپنے ملک کی ان قوموں کے حالات سنائے گئے جو ماضی میں گزر چکی تھیں پھر بنی اسرائیل کی بھی پوری تاریخ تفصیل سے سنا دی گئی جو سامنے موجود تھے۔ مقصود ان قوموں کی تاریخ سنانے سے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ ہے کہ اس کائنات کا خالق ومالک اپنی اس دنیا کے احوال و معاملات سے بےتعلق اور کنارہ کش نہیں ہے۔ وہ خلق کی اصلاح و ہدایت کے لیے ہیشہ اپنے رسول بھیجتا رہا ہے اور وہ رسول جب بھی آئے ہیں عزل و نصب کی میزان بن کر آئے ہیں۔ جن قوموں نے ان کی تکذیب کی خدا نے ان کو مٹا دیا اور جن لوگوں نے ان کی تصدیق وہ برومند ہوئے۔ یہی فیصلہ کن مرحلہ اب قریش کے سامنے ہے۔
آیت 171 پر تاریخی سرگزشتوں کا یہ سلسلہ ختم ہوا۔ اب آگے قریش کو مخاطب کر کے پہلے ان کو اس عہد فطرت کا یاد دہانی کی ہے جو تمام بنی آدم سے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید و ربوبیت کا لیا ہے اور اس کو بنیاد قرار دے کر ان پر حجت قائم کی ہے کہ کل کو خدا کے حضور میں تم یہ عذر نہیں کرسکتے کہ تم اس چیز سے بیخبر تھے۔ اس کے لیے خدا نے تم سے عہد بھی لیا ہے اور اب اس کی یاد دہانی کے لیے اپنا رسول بھی تمہارے پاس بھیج دیا ہے۔ یہ واضح رہے کہ اہل عرب کتاب و شریعت سے نا آشنا امی تھے اس وجہ سے ان سے بحث کی بنیاد یا تو ان کی جانی پہچانی ہوئی تاریخ پر قائم ہوسکتی تھی یا پھر فطرت اور عقل کی بدیہیات پر۔ چناچہ پہلے ان کے سامنے تاریخ کے واقعات صحیح زاویے سے پیش کیے، پھر عہد فطرت کی اساس پر آگے گفتگو بڑھائی۔
عہد فطرت کی یاد دہانی کے بعد ان کے سامنے بنی اسرائیل کی تثیل پیش کی ہے کہ تم اس قوم کی طرح خدا کی نعمت کے ناقدرے اور ناشکرے نہ بنو۔ اللہ نے اس قوم پر بڑا احسان کیا لیکن یہ جیسا کہ اوپر بیان ہوا، نہایت ہیز قوم نکلی۔ اللہ نے اس کو ہمیشہ بلند کرنا چاہا لیکن یہ برابر پستی ہی کی طرف جھکی رہی۔ جس طرح کتے کو پیار کرو تو زبان نکالے رہتا ہے، جھڑکو تو زبان نکالے رہتا ہے اسی طرح ان کے لیے تنبیہ اور احسان دونوں یکساں ہیں۔
اس کے بعد آنکھ کان اور دل دماغ کی نعمتوں کی قدر کرنے اور ان سے صحیح کام لینے کی دعوت دی کہ دین کے معاملے میں لکیر کے فقیر بن کر نہ چلو کہ جن کو باپ دادا پوجتے آئے بےسمجے بوجھے ت بھی انہی کو پوجتے رہو، یاد رکھو کہ جو لوگ اپنے دل و دماغ کی صلاحیتوں اور اپنے سمع و بصر کی قوتوں سے کام نہ لیں گے اور تذکری و تنبیہ کے باوجود ٹھوکریں کھاتے پھریں گے اللہ ان سب کو جہنم میں جھونک دے گا۔
اس کے بعد پیغمبر کی طرف توجہ دلائی کہ جو شخص آج تمہیں آنے والے عظیم خطرے سے آگاہ کر رہا ہے یہ کوئی دیوانہ یا خبطی نہیں ہے۔ نظامِ کائنات پر گور کروگے تو خود تمہاری عقل گواہی دے گی کہ یہ دنیا کوئی کھیل تماشا نہیں ہے۔ اس کے پیچھے عظیم حکمت وغایت ہے اس وجہ سے کچھ عجب نہیں تمہارے اس فیصلہ کا وقت قریب آ لگا ہو جس سے یہ پیغمبر تمہیں ہوشیار کر رہا ہے۔ اس امر سے اس حقیقت کے ایک اٹل حقیقت ہونے میں کوئی فرق نہیں پیدا ہوتا کہ پیغمبر تمہیں اس کا معین وقت نہیں بتا سکتا۔ پیغمبر کوئی غیب دان نہیں ہوتا، وہ صرف ایک بشیر و نذیر ہوتا ہے۔
اس کے بعد انسان کی بد قسمتی پر اظہارِ افسوس ہے کہ وہ نعمتیں تو سب خدا سے پاتا ہے لیکن گن دوسروں کے گاتا ہے اور ایسی چیزوں کو خدا کا شریک بناتا ہے جو نہ تو اس کو نفع ہپنچا سکتی ہیں نہ کوئی ضرر۔
آخر میں پیغمبر ﷺ کو مخالفوں کی بےہودہ بکواسوں اور ان کے لا یعنی اعتراضا پر صبر و استقامت کی تلقین فرمائی اور اس صبر کے حصول کے لیے جو چیز واسطہ اور وسیلہ ہے اس کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اب اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۭ قَالُوْا بَلٰي ڔ شَهِدْنَا ڔ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ
وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ ، ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ اذ کے ذریعہ سے کسی ایسے امر واقعی کی یاددہانی بھی کی جاتی ہے جو متکلم کے نزدیک ایک حقیقت ہو، قطع نظر اس سے کہ مخاطب اس کو فراموش کیے ہوئے ہوں یا اس سے منحرف ہوں۔ اسی طرح واحد کے خطاب کے متعلق بھی واضح کرچکے ہیں کہ قرینہ دلیل تو یہ جمع کے مفہوم میں بھی ہوتا ہے اور اس صورت میں گویا مخاطب گروہ کا ایک ایک شخص فردا فردا مخاطب ہوتا ہے
مِنْ ظُهُوْرِهِمْ کی قید کا فئدہ : مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ، من ظھورھم، من بنی آدم سے بدل واقع ہے اور اس بدل کے لانے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ بنی آدم سے متعلق یہاں جو حقیقت بیان ہو رہی ہے وہ کسی خاص دور ہے کے بنی آدم سے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ قیامت قیامت تک جتنے بھی بنی آدم پیدا ہونے والے ہیں سب ہی سے متعلق ہے۔
تمام بنی آدم سے خدا نے اپنے رب ہونے اقرار لیا۔
وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۭ قَالُوْا بَلٰي شَهِدْنَا، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام بنی آدم سے اپنی ربوبیت کا اقرار لیا ہے اور وہ اس طرح کہ اس نے ان سوال کیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں، اس کے جواب میں سب نے یہ اقرار لیا ہے کہ ہاں بیشک تو ہمارا رب ہے اور ہم اس کے گواہ ہیں، یہ ملحوظ رہے کہ الفاظ سے یہ بات واضح ہے کہ یہ اقرار اللہ تعالیٰ نے صرف اس بات کا نہیں لیا کہ وہ اللہ ہے بلکہ اسبات کا لیا کہ وہی رب بھی ہے۔ یہ ملحوظ رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ اہل عرب کو اللہ کے اللہ ہونے سے انکار نہیں تھا لیکن رب انہوں نے اللہ کے سوا اور بھی بنا لیے تھے حالانکہ عہد فطرت میں اقرار صرف اللہ ہی کی ربوبیت کا ہے
اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ۔ ان سے پہلے کراھۃ یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے اس وجہ سے اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ مبادا تم قیامت کے دن عذر کرو، اس سے یہ بات نکلتی ہے اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جہاں تک توحید اور بدیہیاتِ فطرت کا تعلق ہے ان کے باب میں قیامت کے دن مواخذہ ہر شخص سے مرد اس اقرار کی بنا ہوگا جو مذکور ہوا، قطع نظر اس سے کہ اس کو کسی نبی کی دعوت پہنچی یا نہیں۔ اگر کسی نبی کی دعوت اس کو پہنچی ہے تو یہ گویا ایک مزید حجت اس پر قائم ہوگئی کہ اس کی مسئولیت دو چند ہوگئی لیکن نبی کی دعوت اگر نہیں پہنچی تو یہ بدیہیات فطرت کے معاملے میں کوئی عذر نہیں بن سکے گی۔ ان پر مواخذہ کے لیے فطرت کا یہ عہد کافی ہے۔
Ayah 7:173اَوْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اَشْرَكَ اٰبَاۗؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ۔
اسی طرح لوگوں کا یہ عذر بھی کچھ کام نہ آئے گا کہ ہمارے باپ دادا مشرک تھے، ہم انہی کے ہاں پیدا ہوئے اور پھر قدرتی طور پر ہم نے انہی کے طریقے کی پیروی کی اس وجہ سے یہ جرم ہمارا نہیں بلکہ ان کا ہے، اس کی سزا ان کو ملنی چاہیے نہ کہ ہم کو۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ اقرار توحید انسان کے فطرت کے اندر ودیعت ہے اس وجہ سے اس باطنی شہادت سے انحراف کے لیے خارجی اثرات کا عذر بھی کسی کا خدا کے ہاں مسموع نہیں ہوگا۔