7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 7:174

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح اپنی آیات کی تفصیل کرتے ہیں تاکہ ان پر حجت قائم ہو اور تاکہ وہ رجوع کریں

وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ۔ اس آیت میں قرینہ دلیل ہے کہ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ کا معطوف علیہ محذوف ہے۔ اگر اس کو کھول دیا جائے تو ہمارے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے گا کہ اس طرح ہم آپنی آیات کی تفصیل اس لیے کر رہے ہیں تاکہ ہم لوگوں پر اپنی حجت اس طرح قائم کردیں کہ ان کے لیے کوئی ادنی عذر بھی باقی نہ رہ رہ جائے اور تاکہ اس وضاحت کے بعد ان میں سے جو شرک سے تائب ہو کر اپنے رب کی طرف رجوع کرنا چاہیں وہ رجوع کرلیں۔ مطلب یہ ہوا کہ انسان سے مذکورہ عہد لینے کے بعد یہ اللہ تعالیٰ کا مزید فضل و احسان ہے کہ اس نے اس عہد و میثاق کی پوری تفصیل بھی سنا دی تاکہ جو اپنی غلطی سے توبہ کرنا چاہیں وہ توبہ کرلیں اور جو اپنی ضد پر اڑے رہنا چاہیں وہ اس کے نتائج کا ذمہ دار اپنے ہی کو سمجھیں، کسی اور کی گردن پر اس کا بار الزام ڈالنے کی کوشش نہ کریں۔ عہد فطرت سے متعلق بعض سوال اور ان کے جواب : اس عہد کا ذکر قرآن نے ایک امر واقعہ کی حیثیت سے کیا ہے اور اس کی اہمیت یہ بتائی ہے کہ جہاں تک خدا کی ربوبیت کا تعلق ہے ہر شخص مجرد اسی عہد کی بنا پر عنداللہ مسئول ہوگا۔ اس کی اس اہمیت کی بنا پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالم غیب کے کسی ایسے ماجرے کی یاد داشت انسان کے ذہن میں محفوط ہے جس کا یہاں ذکر ہوا ہے ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو یہ کس طرح باور کیا جائے کہ فی الواقع انسان نے اس طرح کا کوئی اقرار کیا ہے اور اس کی بنیاد پر وہ توحید کے معاملے میں عنداللہ مسئول ہے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک اس اقرار کا تعلق ہے وہ تو ہر انسان کی فطرت کے اندر موجود ہے رہا اس کا موقع و محل اور اس کی تاریخ تو وہ گر یاد نہیں رہی تو اس سے نفس اقرار کی صحت و صداقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، زیادہ سے زیادہ کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اقرار تو مجھے یاد ہے البتہ اس کا موقع و محل یاد نہیں ہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اس کا موقع و محل بتا دیا کہ یہ اقرار انسان کے وجود میں آنے سے پہلے عالم غیب میں خدا نے اس سے لیا ہے اور یہ بات خدا ہی بتا سکتا تھا اس لیے کہ غیب کا علم صرف اسی کے پاس ہے۔ انسان پر حضرت قائم ہونے کے لیے یہ امر کافی ہے کہ اس اقرار کی یاد داشت اس کے اندر موجود ہے لیکن پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان کے اندر ابتدا ہی سے یہ اقرار موجود ہے تو اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ انسان وجود میں آنے کے بعد دین کا آغاز خالص خدا پرستی اور توحید سے کرتا لین ہمارے نئے فلسفی تو یہ بیان کرتے ہیں کہ انسان نے دین کا آغاز شرک سے کیا ہے۔ دنیا میں گوناگون حوادث کے ظہور نے اس کے اندر مختف ان دیکھی طاقتوں کا خوف پیدا کیا۔ اس خون نے اس کے اندر ان دیکھی طاقتوں کی پرستش کا خیال پیدا کیا، چناچہ اس نے اسن کی پرستش شروع کی۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے علم میں جتنی ترقی ہوتی گئی ان وہمی معبودوں سے چھوٹ کر وہ اقرار توحید کی منزل تک پہنچا۔ ہم نے نئے فلسفیوں کے اس واہمہ کی تدید سورة فاتحہ کی تفسیر میں بھی ہے اور اس سے زیادہ تفصیل اپنی کتاب حقیقت شرک میں کی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ تقریر بالکل غیر منطقی ہے۔ ہم نے مذکورہ کتابوں میں واضح کیا ہے کہ خوف نام ہے کسی ایسی چیز کے زائل ہونے یا چھن جانے کے اندیشہ کا جو انسان کو حاصل بھی ہو اور جوع عزیز و محبوب بھی ہو۔ اس سے ثابت ہوا کہ نعمت، منعم، اور اس کی شکر گزاری کا شعور اور جذبہ، خوف کے جذبہ اور اس کے عوام پر مقدم ہے اس وجہ سے انسان نے خوف سے دین کا آغاز نہیں کیا بلکہ اپنے منعم پروردگار کی شکر گزاری اور اس کی عبادت سے دین کا آغاز کیا لیکن پھر مختلف اسباب کے تحت، جن کی تفصیل ہم نے اپنی کتاب حقیقت شرک میں ہے، وہ اس جادہ مستقیم سے ہٹ کر مختلف پگڈنڈیوں پر نکل نکل گیا ہے۔ ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کی فطرت بالکل ایک لوح سادہ ہوتی ہے۔ اس پر جنتے نقوش بھی ابھرتے ہیں بعد میں ادراک و شعور پیدا ہونے کے بعد محض ماحوک کے اثر سے ابھرتے ہیں لیکن یہ خیال محض مغالطہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ماحول اپنے اندر نئے آنے والوں پر جو اثرات ڈالتا ہے وہ خود اس نے کہاں سے لیے ہیں۔ ماحول کے پاس رطب و یابس روایات کا جو اندوختہ بھی ہے وہ سب اس کی فطرت ہی کے بناؤ یا بگاڑ کا کرشمہ ہے جو باتیں اس کی فطرت کے اصل منبع سے ابھری ہیں وہ خیر، عدل اور معروف ہیں اور جن پر ان کی خواہشات کی بےاعتدالیاں غالب آگئی ہیں وہ شر اور ظلم بن گئی ہیں۔ خدا کے معاملے بھی یہی بےاعتدالی اس سے صادر ہوئی ہے۔ اس کی اصل فطرت کے اندر صرف ایک خدائے وحدہ لا شریک ہی کا اقرار مضمر ہے۔ اتنے پر دنیا کے مشرک اور موحد سب متفق ہیں اس وجہ سے یہ چیز کسی دلیل کے قیام کی محتاج نہیں ہے البتہ شرک کے مدعیوں پر یہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ اس ایک پر جو دوسرے معبودوں کا اضافہ کرتے ہیں ان کی وہ دلیل پیش کریں۔ چناچہ قرآن نے ان سے جگہ جگہ یہی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے خود ساختہ شریکوں کے حق میں کوئی دلیل لائیں۔ قرآن کا سارا فلسفہ درحقیقت انسان کی فطرت پر مبنی ہے۔ اس کا دعوی یہ ہے کہ وہ جن عقائد و اعمال اور جن اچھائیوں اور نیکیوں کی تعلیم دیتا ہے اور جن برائیوں سے روکتا ہے، ان میں سے کوئی چیز بھی اس کے خارج سے اس پر لادی نہیں جا رہی ہے بلکہ اس کو انہی باتوں کی یاد دہانی کی جارہی ہے جو اس کی اپنی فطرت کے اندر ودیعت ہیں لیکن اس نے اپنی لذات عاجلہ کے پیچھے پڑجانے کے سبب سے ان کو نظر انداز کر رکھا ہے۔ قرآن نے اس وجہ سے اپنے آپ کو ذکر اور ذکری کہا ہے جن کے معنی یاد دہانی کے ہیں اور اپنی تعلیم و دعوت کو تذکیر کے لفظ سے تعبیر کیا جس کے معنی فراموش کردہ یا نظر انداز کردہ حقائق کے یاد دلانے کے ہی۔ یہ ایک بالکل واضح حقیقت ہے لیکن اس زمانے کے نئے تعلیم یافتہ لوگوں پر مارکس اور فائڈ کا جادو چلا ہوا ہے۔ ان ظالموں کی خاکبازیوں نے لوگوں کو اس طرح اندھا بنا دیا ہے کہ اب لوگوں کو انسان کے اندر بطن اور فرج کے سوا اور کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ ان کے نزدیک انسان کا سارا فکر و فلسفہ بس انہی دو محوروں پر گھوم رہا ہے۔ اس رویایتی چوہے کی طرح جسے ہلدی کی ایک گرہ مل گئی تو اس نے پنسای کی ایک دکان کھول لی مارکس اور فرائڈ نے بطن و فرج پر سارے فکر و فلسفہ اور تمام مذہب و اخلاق کو ڈھال دیا اور اس طرح ان لوگوں کو جو پہلے ہی بطن و فرج کے غلام تھے دو ایسے مرشد بھی مل گئے جن کا وہ فخر کے ساتھ حوالہ دیتے ہیں کہ وہ بےپیرے نہیں بلکہ انہیں بھی شرف نسبت و ارادت حاصل ہے۔
Ayah 7:175

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور ان کو اس کی سرگزشت سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیات عنایت کیں تو وہ ان سے نکل بھاگا، پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا، بالآخر وہ گمراہوں میں سے ہوگیا

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ۔ علیہم میں ھم سے مراد قریش ہیں جن کو اور والی آیات میں مخاطب کر کے عہد فطرت کی یاد دہانی کی گئی ہے۔ الذی اگرچہ اصلاً معرفہ کے لیے آتا ہے لیکن تمثیلات میں لازم نہیں ہے کہ اس سے کوئی معین شخص ہی مراد ہو جو خارج میں بھی موجود ہو بلکہ متکلم جس کی تمثیل پیش کرنا چاہتا ہے اس کو نگاہ میں رکھ کر اس کا ایک ایسا سراپا آراستہ کردیتا ہے جو اس پر پوری طرح منطبق ہوجاتا ہے۔ چونکہ پیش نظر صرف واقعہ کی تصویر کشی ہوتی ہے اس وجہ سے تقاضائے بلاغت یہ ہوتا ہے کہ اس کو نکرہ کے بجائے معرفہ کے لفظوں میں ذکر کیا جائے تاکہ تمثیل ایک خاص شخص کی صورت میں متمثل ہو کر اس طرح سامع کے سامنے آجائے کہ گویا اس نے اس کی سرگزشت صرف سنی ہی نہیں بلکہ خود اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا۔ یہاں اس الذی سے مراد یہود من حیث القوم ہیں جن کی تمثیل ایک ایسے شخص سے دی گئی ہے جس کو خدا نے اپنی آیتوں سے نوازا لیکن اس نے ان کی قدر نہ کی بلکہ یہ خلعت اس نے اتار پھینکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس سنت الٰہی کے مطابق جو سورة زخرف آیت 26 میں بیان ہوئی ہے کہ ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطانا فھو لہ قرین (جو خدائے رحمان کی یاد دہانی سے منہ پھیرتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں پس وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے) شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے بن گیا۔ یہ بات کہ یہ کسی معین شخص کا ذکر نہیں بلکہ خدا کی آیات کی تکذیب کرنے والی ایک قوم کی تمثیل ہے خود قرآن کے الفاظ ہی سے واضح ہے چناچہ اس کے بعد فرمایا ذلک مثل القوم الذین کذبوا بایاتنا (یہ اس قوم کی تمثیل ہے جس نے ہماری آیات کی تکذیب کی) اس وجہ سے ہمارے نزدیک ‘ الذی ’ سے کسی بلعام بن باعور کو مراد لینے کی ضرورت نہیں۔ یہود میں کوئی ایک ہی بلعام بن باعور نہیں تھا جس کی مثال دی جائے۔ اوپر یہود کی تفصیل کے ساتھ جو سرگزشت بیان ہوئی ہے اس سے خود واضح ہے کہ یہ پوری قوم کی قوم ہی شروع سے ہی بلعام بن باعور بنی رہی ہے۔ انسلاخ کے معنی کپڑے اتار کر ننگے ہوجانے کے ہیں۔ انسلخ من ثیابہ، تجرد، یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ان کو اپنی کتاب کی تشریف و خلعت سے نوازا لیکن انہوں نے یہ اتار پھینکی اور بالکل ننگے الف بن کر رہ گئے۔
Ayah 7:176

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیات کے ذریعہ سے سربلند کرتے لیکن وہ زمین ہی کی طرف جھکا اور اپنی خواہشوں ہی کا پیرو بنا رہا۔ تو اس کی تمثیل اس کتے کی ہے اگر تم اس کو دھتکارو جب بھی زبان نکالے رکھتا ہے یا چھوڑ دو جب بھی زبان نکالے رکھتا ہے یہ تمثیل ہے اس قوم کی جس نے ہماری آیات کی تکذیب کی۔ تو ان کو سرگزشت سناؤ تاکہ وہ غور کریں

وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ۭ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ۔ اخلد الی الشء کے معنی کسی شے کی طرف اس طرح جھک جانے اور مائل ہوجانے کے ہوتے ہیں کہ آدمی بس اسی کا ہو کر رہ جائے۔ یہ اس سنت الٰہی کا بیان ہے جو اس نے ہدایت و ضلالت کے معاملے میں پسند فرمائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن کو اپنی آیات سے نوازتقو ہے اگر وہ ان کی قدر کرتے ہیں تو وہ ان کے ذریعہ سے ان کو دین و دنیا دونوں کی سرفرازی عطا فرماتا ہے، ان کی عقل کو ان سے رفعت اور ان کی روح کو ان سے معراج حاصل ہوتی ہے، لیکن جو لوگ ان آیات کے پانے کے بعد بھی اپنی خواہشوں ہی کے پیچھے اور کتے کی طرح زمین کو سونگھتے ہی ہوئے چلتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ان کی خواہشوں ہی کے حوالے کردیتا ہے اور وہ شیطان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ یہود کی تمثیل کتے سے : فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ، اب یہ ان کے برابر پستی کی طرف جھکے رہنے اور خواہشات کے پیچھے چلنے کی تمثیل بیان ہوئی ہے اور دیکھیے کیسی دلنشین اور مطابق واقعہ تمثیل ہے۔ اوپر آیات 168، 169 میں ان کا حال یہ بیان ہوا تھا کہ خدا نے اپنے انعامات اور اپنی تشبیہات دونوں سے ان کا آزمایا۔ بلوناہم بالحسنات والسیئات، لیکن یہ اپنی خواہشوں کے ہاتھوں ایسے بےبس رہے کہ نہ انعامات سے ذرا متاثر ہوئے نہ تنبیہات سے بلکہ ہر طمع نے ان کو ٹھوکر کھلائی اور ہر خواہش کے آگے انہوں نے گھٹنے ٹیک دیے یاخذون عرض ھذا الادنی ویقولون سیغفرلنا وان یاتہم عرض مثلہ یاخذوہ، ان کی اس حالت کی تمثیل کتے سے دی ہے۔ کتے کو آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہ کبھی بخط مستقیم گردن اٹھا کر نہیں چلتا بلکہ ہمیشہ زمین کو سونگھتا ہوا اور ہر پاک و ناپاک چیز کا اپنی ناک سے جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے کہ شاید کوئی چیز کھانے کی مل جائے اس کی رہنما اس کی آنکھ نہیں بلکہ ناک ہوتی ہے جو اس کی خواہشوں کی سراغ رساں ہے۔ پھر اس کی یہ بھی خصلت ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی زبان نکالے ہوئے رہتا ہے، چمکاریے، پیار کیجیے جب بھی اس کی یہی حالت رہے گی، دھتکاریے، جھڑکیے جب بھی اس کا یہی انداز رہے گا۔ یہ اس کی حرص اور دناءت ہے جو اس کی جبلت پر اس طرح غالب ہے کہ کسی حال میں بھی اس سے جدا نہیں ہوتی۔ بھوکا رہے گا جب بھی اس کو آپ اسی حال میں پائیں گے، پیٹ بھر کے کھلا دیجیے جب بھی اسی ہیئت میں دیکھیں گے صاحبوں کے کتے مخملیں جھول، ریشمی پٹوں اور چاندی کے گھنگتو وں سے آراستہ ہوتے ہیں، پیٹ بھر گوشت کھاتے اور دھودھ یتے ہیں لیکن کار کے اندر صاحب کی بغل میں بیٹھے ہوئے بھی زبان نکالے ہوئے ہوں گے اور پارک کے اندر سیر کرتے ہوئے بھی زمین میں تلاش کرتے، سونگھتے اپنی ناک کے پیچھے پیچھے چلیں گے۔ فرمایا کہ بالکل یہی حال یہود کا ہے۔ ان کو اپنے نفس پر ذرا قابو نہیں رہا ہے۔ ان کی قوت ارادہ بالکل معطل ہوچکی ہے۔ اب یہ اپنی خواہشوں کے غلام اور اپنی حرص کے بندے ہیں اور حرص و دناءت ان کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ ان کی شکلیں آدمیوں کی ہیں لیکن ان کی فطرت کتوں کی جبلت کے سانچے میں ڈھل چکی ہے۔ آیت میں، تحمل علیہ، میرے نزدیک تحمل العصا علیہ، یا تحمل الحجر علیہ کے معنی میں ہے یعنی لکڑی اٹھا یا اس پر پتھر پھینکو اس کا حال ایک ہی رہے گا۔ لھث کے معنی زبان نکالنے کے ہیں اور اس کا غالب استعمال کتے کے لیے ہے۔ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا، اس ٹکڑے سے جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں، یہ بات واضح ہوئی کہ یہ تمثیل کسی شخص کی تمثیل نہیں بلکہ اس قوم کی تمثیل ہے جس نے اللہ کی آیات کی تکزیب کی۔ اور اس سے مراد، جیسا کہ ہم نے واضح کیا، یہود ہیں۔ سورة نحل آیات 91، 92 کے تحت انشاء اللہ ہم تمثیل کے اس پہلو پر مزید بحث کریں گے۔ یہود کی یہ تمثیل، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں، قریش کو سنائی گئی ہے اور مقصود اس سے قریش کو اس نعمت کی قدر کرنے کے لیے ابھارنا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری شریعت کی شکل میں ان کو مل رہی تھی لیکن وہ اس کی قدر کرنے کے بجائے اس سے بدک رہے تھے۔ پیغمبر ﷺ کو ہدایت ہوئی کہ ان کو آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والی قوم کا حال سنا دو کہ جن کو اللہ تعالیٰ اپنی آیات سے نوازتا ہے ان کو وہ ان آیات کے ذریعہ سے زمین و آسمان دونوں کی سرفرازیاں عطا فرمانا چاہتا ہے بشرطیکہ وہ ان کی قدر کریں، ان کو اپنائی اور زندگی میں ان سے رہنمائی حاصل کریں۔ اگر وہ قدر نہیں کرتے بلکہ اپنی خواہشات ہی کے غلام بنے رہتے ہیں تو ان کا حال وہی ہوتا ہے جو یہود کا ہوا۔
Ayah 7:177

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

کیا ہی بری تمثیل ہے اس قوم کی جس نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور خود اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتی رہی

سَاۗءَ مَثَلَۨا الْقَوْمُ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاَنْفُسَهُمْ كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی آیات کی تکذیب کرنے والی قوم اپنی خواہشات کی غلامی کے سبب سے بالکل ہیز بن کے رہ جاتی ہے۔ اس کی مثال، جیسی کہ اوپر بیان ہوئی، نہایت ہی مکروہ اور گھنونی ہے۔ سو یہ راہ تم نہ اختیار کرو۔ جو لوگ یہ راہ اختیار کرتے ہیں وہ اللہ کی آیات کا کچھ نہیں بگاڑتے۔ بلکہ خود اپنا ہی بگاڑتے ہیں۔ وہ ان آیات کی ناقدری کر کے خود اپنے ہاتھوں عزت کے تاج کے بجائے اپنے لیے ذلت کا طوق اختیار کرتے ہیں۔
Ayah 7:178

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جسے اللہ ہدایت بخشے وہی ہدایت پانے والا بنتا ہے اور جنہیں وہ گمراہ کردے وہی ہیں جو نامراد ہوتے ہیں

مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِيْ ۚ وَمَنْ يُّضْلِلْ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۔ یہ نبی ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے اور قریش کے لیے تہدید و وعید بھی۔ مطلب یہ ہے کہ ہدایت وہی پائیں گے جن کو خدا ہدایت کی توفیق بخشے اور خدا کی توفیق انہی کو حاصل ہوتی ہے جو ہدایت کے طالب ہوں اور خدا کی عطا کردہ صلاحیتوں کو استعمال کریں۔ جو لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے دل و دماغ پر خواہشات کی پٹی باندھ کر زندگی گزارتے ہیں خدا انہیں گمراہی کے لیے چھوڑ دیتا ہے اور اصلی نامراد اور بدقسمت لوگ وہی ہیں۔
Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور ہم نے جنون اور انسانوں میں سے بہتون کو دوزخ کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کے آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ یہ چوپایوں کے مانند ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں یہی لوگ ہیں جو بالکل بیخبر ہیں

وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ۔ ہدایت سے محروم رہنے والے : اب یہ بتایا کہ کون لوگ ہیں جو ہدایت سے محروم رہتے ہیں اور بالآخر وہ جہنم کے ایندھن بنتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ جنوں اور انسانوں میں سے وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے دل تو دیے ہیں لیکن ان سے سجھنے کا کام نہیں لتے، ان کو آنکھیں تو بخشیں لیکن وہ ان سے دیکھنے کا کام نہیں لیتے، ان کو کان تو عنایت فرمائے لیکن وہ ان سے سننے کا کام نہیں لیتے۔ ظاہر ہے کہ یہ سمجھنا، دیکھنا اور سننا اپنے حقیقی مفہوم کے لحاظ سے ہے۔ یعنی انہوں نے اپنی ساری صلاحیتیں بس اپنی خواہشات کی تابعداری میں لگا رکھی ہیں۔ ان سے ہٹ کر کسی چیز کو سننے سمجھنے اور اس کو اختیار کرنے کا ان کے اندر دم داعیہ نہیں پایا جاتا۔ فرمایا کہ یہ لوگ چوپایوں کے مانند بلکہ ان سے بھی زیادہ بےعقل ہیں۔ چوپایوں کے مانند اس وجہ سے ہیں کہ جس طرح چوپایوں کی طلب و جستجو بس اپنے پیٹ اور تن کی مطلوبات ہی تک محدود ہوتی ہے اسی طرح ان کی تگ و دو بھی اپنی مادی ضروریات و خواہشات ہی تک محدود ہے اور چوپایوں سے زیادہ بےعقل اس وجہ سے ہیں کہ چوپائے بہرحال اپنی جبلت کی تمام صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس میں وہ کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے، لیکن انسان کی فطرت کے اندر قدرت نے جو اعلی صلاحیتیں رکھی ہیں ان سے نہ صرف یہ کہ وہ حقیقی فائدہ نہیں اٹھاتا بلکہ بسا اوقات اس سے ایسی حرکتیں صادر ہوتی ہیں جو ایک بیل یا گدھے سے کبھی صادر نہیں ہوتیں۔ مثلاً انسان، انسان ہو کر اتنا بےعقل اور کج فہم بن جاتا ہے کہ درختوں، پتھروں اور جانوروں کی پرستش شروع کردیتا ہے لیکن ایک گدھا یا بیل ایسی بےعقلی کبھی نہیں کرسکتا۔ فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جو اصلی اور حقیقی بیخبر ہیں اس لیے کہ یہ بیخبر ی چوپایوں میں بھی نہیں ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ یہ جو فرمایا ہے کہ ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیا۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کو ان کی اؤں کے پیٹ سے جہنم کے لیے پیدا کیا۔ ماؤں کے پیٹ سے تو اللہ تعالیٰ نے دل، دماغ، سمع، بصر کی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے لیکن ضابطہ یہ بنا دیا ہے کہ جو ان صلاحیتوں سے صحیح فائدہ اٹھائیں گے اللہ ان کی رہنمائی جنت کی طرف فرائے گا اور جو ان سے فائدہ نہ اٹھائیں گے ان کو جہنم میں جھونک دے گا۔ یہ ملحوظ رہے کہ یہ دھمکی قریش کے لیے ہے۔
Ayah 7:180

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور اللہ کے لیے تو صرف اچھی ہی صفتیں ہیں تو انہیں سے اس کو پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑو جو اس کی صفات کے باب میں کجروی اختیار کر رہے ہیں۔ وہ جو کچ کر رہے ہیں، عنقریب اس کا بدلہ پائیں گے

وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا ۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ یہ آیت، اوپر آیت 172 میں توحید کا عہد فطرت ہونا جو بیان ہوا ہے، اس سے متعلق ہے، بیچ میں ان لوگوں کا ذکر آگیا تھا جنہوں نے اللہ کی آیات کی قدر نہیں کی اور خدا کی طرف سے نہایت اعلی صلاحیتیں پا کر اندھے بہرے بن گئے۔ اب یہ فرمایا کہ اللہ کے لیے صرف اچھی ہی صفتیں اور اچھے ہی نام ہیں تو اس کو انہیں صفتوں سے پکارو اور ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑو، جو صفات الٰہی کے باب میں گمراہی کی روش اختیار کیے ہوئے ہیں، اس کے شریک ٹھہراتے ہیں یا اس کے بیٹے بیٹیاں مانتے ہیں۔ یہ باتیں خدا کی صفات الوہیت، اس کی شان یکتائی، اس کی قدرت، اس کی بےنیازی اور اس کے علم کی نفی کرنے والی ہیں۔ خدا کو صرف انہی صفت سے متصفت کرنا چاہیے جن کا اس کی الوہیت اور اس کی بےہمگی اور بےہمتائی کے ساتھ جوڑ ہوسکے، کوئی ایسی صفت اس کی طرف منسوب نہیں کرنی چاہیے جو خالق کو مخلوقات کی صف میں لا کر کھڑا کردے۔ الحاد کا لفظ یہاں صفات الٰہی کی بےحرمتی کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ عربی میں اگر کہیں فلان الحد فی الحرم تو اس کے معنی ہوں گے استحل حرمتہ وانتھکھا، یلحدون فی اسمائہ کے معنی ہوئے جو خدا کی صفات کی بےحرمتی و بےتوقیری کرتے ہیں یعنی اس کے ساتھ ایسی صفات کا جوڑ لگاتے ہیں جو اس کی ذات وصفات کی اہانت کرنے والی ہیں اور جن سے وہ پاک و برتر ہ۔ یہ جو فرایا کہ ‘ ان کو چھوڑو ’ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اگر نہیں مانتے تو ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو۔ سیجزون ما کانوا یعمولم یہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کی سزا عنقریب خود بھگتیں گے۔
Ayah 7:181

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور جن کو ہم نے پیدا کیا ان میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی رہا ہے جو حق کے مطابق لوگوں کی رہنمائی اور اس کے مطابق فیصلے کرتے رہے ہیں

وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ۔ یعنی خدا کی مخلوق میں سب ایک ہی طرح کے نہیں ہیں۔ اگر ایک طرف وہ اندھے بہرے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا تو کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں، حق کو پہچانتے ہیں، اسی کے مطابق لوگوں کی رہنمائی اور معاملات کے فیصلے کرتے ہیں۔ اوپر آیت 159 میں جس طرح بنی اسرائیل کے اندر کے اچھے لوگوں کا ذکر کر کے ان کی حوصلہ افزائی کی ہے اسی طرح یہاں لقد ذرانا لجہنم کے مرگ انبوہ ذکر کے بعد ان زندہ روحوں کی طرف اشارہ کردیا جن کی فطرت اس وبائے عام اور اس مرگ انبوہ کے اندر بھی زندہ رہی اور جو بالآخر اسلام کے نور سے منور ہوئے۔
Ayahs 7:182–183

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہم ان کو وہاں سے داؤں پر لے جا رہے ہیں جہاں سے انہیں علم نہیں

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں انہیں ڈھیل دیے جا رہا ہوں کیونکہ میری تدبیر بہت ہی محکم ہے

وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ وَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۔ خدا کی ڈھیل ہلاکت کا پھندا ہے۔ اوپر آیت 180 میں آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والوں کو جو دھمکی دی گئی ہے یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلانے کے باوجود دندنا رہے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ خدا کی پکڑ سے باہر ہیں۔ ہم ان کو وہاں سے اپنے ہدف پر لا رہے ہیں جہاں سے ان کو کسی خطرے کا سان گمان بھی نہیں ہے۔ ہم نے ان کو جو ڈھیل دی ہے اس کو یہ اپنی جیت سمجھے ہیں حالانکہ یہ ڈھیل ان کی ہلاکت کا پھندا ہے۔ ہم نے یہ ڈھیل اس لیے دی ہے کہ وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھرلیں کہ ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔ جب شکاری کو اپنی ڈور پر پورا اعتماد ہوتا ہے تو وہ مچھلی کو آخری حد تک ڈھیل دیتا ہے، مچھلی سمجھتی ہے کہ اب اس نے بازی مارلی حالانکہ شکاری اس لیے اس کو ڈھیل پر ڈھیل دیتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ وہ کتنا ہی زور لگائے لیکن وہ اس کے قابو سے باہر نہیں جاسکتی۔ اس کی بھاگ دوڑ اس کے لیے نجات کی راہ نہیں کھولے گی بلکہ اس کو تھکا کر اتنا چور کردے گی کہ بالآخر وہ بےجان ہو کر خود بخود گھسٹتی ہوئی کنارے پر آ لگے گی۔ یہی حال خدا کی تدبیر کا ہے۔ اس کی تدبیر نہایت محکم اور اس کی گرفت نہایت شدید ہوتی ہے۔ کوئی اس کے احاطہ سے باہر نہیں نکل سکتا اس وجہ سے وہ لوگوں کو انکی سرکشی کے باوجود ڈھیل پر ڈھیل دیتا ہے۔ اس ڈھیل کو سرکش اپنی کامیابی سمجھتے ہیں حالانکہ وہ جتنی ہی زور آزمائی کرتے ہیں اتنے ہی اپنی ہلاکت کے گھڑے سے قریب ہوتے جاتے ہیں۔ جلد بازی وہ کرتا ہے جس کو اپنی تدبیر کے ناکام ہوجانے کا اندیشہ ہو۔ جس کا تیر بےخطا اور جس کا وار بےپناہ ہو اس کو جلد بازی کی کیا ضرورت ہے۔ استدرجہ کے معنی ہیں وقاہ من درجۃ الی درجۃ، خدعہ، اس کو آہستہ آہستی، درجہ بدرجہ چڑھا لایا، اس کو چکمہ دے دیا، یہ اللہ تعالیٰ کے فتنوں میں سب سے زیادہ خطرناک فتنہ ہے جس میں اس کے باغی مبتلا کیے جاتے ہیں۔
Ayah 7:184

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو کوئی جنون نہیں ہے وہ تو بس ایک کھلا ہوا ہوشیار کرنے والا ہے۔

اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا ۫مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ ۭاِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۔ صاحبہم سے مراد نبی ﷺ ہیں۔ اس لفظ کے استعمال سے قریش کو اس امر واقعہ کی طرف توجہ دلانا ہے کہ یہ پیغمبر ان کے لیے کوئی اجنبی شخص نہیں ہیں بلکہ ان کے دن رات کے ساتھی ہیں۔ ان کا بچپن ان کی جوانی سب انہی کے اندر اور انہی کے ساتھ گزری ہے۔ ہر دور اور ہر مرحلہ میں انہوں نے ان کو دیکھا اور آزمایا اور ہر طرح کے حالات میں ان کو جانچا اور پرکھا ہے۔ پھر آخر یہ اس امر پر کیوں نہیں غور کرتے کہ جو شخص ہمیشہ اپنی سلامت روی، اپنی صداقت شعاری، اپنی بےغرضی، اپنی پاکبازی، اپنی فکر و رائے کی اصابت اور اپنی دانش و بینش کی پختگی کے اعتبار سے ساری قوم میں گل سرسبد رہا دفعۃ وہ اب خطبی اور دیوانہ کیسے بن گیا ؟ آخر ان میں دیوانوں اور خبطیوں کی سی کون سی بات ان کو نظر آئی ؟ یہ دیوانے اور خطبی نہیں ہیں بلکہ جس طرح ایک نذیر عریاں، خطرے کے دید بان سے اپنی قوم کو دشمن کے حملہ سے ہوشیار کرتا ہے اوسی طرح یہ خدا کے نذیر مبین ہیں جو آنے والے وقت اور تم پر نازل ہونے والے عذاب سے تم کو ڈرا رہے ہیں۔ ان کے اندر تمہیں ہوشیار و بیدار کرنے کے لیے جو بےقراری و بےچینی ہے اور انہوں نے تمہارے پیچھے اپن رات دن جو ایک کر رکھے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کے دماغ میں کوئی خلل ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس عطیم خطرے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں جو تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے اور جو تمہیں بےبصیرتی کے سبب سے نظر نہیں آرہا ہے۔ یہ جنون نہیں بلکہ حقیقت کا سچا احساس اور اپنی قوم کی محبت کا بےپایاں جذبہ ہے جو انہیں ہلکان کیے ہوئے ہے۔ یہ تمہاری انتہائی بلادت، ناسپاسی اور سنگ دلی ہے کہ تم اس کو خبط اور جنون قرار دیتے ہو یہ واضح رہے کہ قریش آنحضرت ﷺ کو جو مجنون کہتے تھے تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ فی الواقع آپ کو کوئی مجنون سمجھتے تھے۔ آخر قریش کے ذہین لوگ اتنے کو دن کیسے ہوسکتے تھے کہ وہ آنحضرت ﷺ جیسے پیکر متانت اور رزانت کو مجنون کہیں ؟ پھر وہ کہتے تو ان کی بات کو لائق اعتنا کون مانتا ؟ اصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو رات دن جو اس بات کی لگن تھی کہ اپنی قوم کو اس آنے والے عذاب سے ڈرائیں جو سنت الٰہی کے بموجب، رسول کی تکذیب کی صورت میں، لازماً ان پر آ دھمکتا، یہ چیز قریش کے لیڈروں کو بہت عجیب معلوم ہوتی، ان کی سمجھ میں یہ بات کسی طرح نہیں آتی تھی کہ آخر ان پر عذاب کدھر سے آجائے گا اور کیوں آجائے گا۔ لیکن آنحضرت ﷺ جیسے صاحب کردار شخص کا اس طرح ٹوٹ ٹوٹ کر، رات دن ان کو اس عذاب سے ڈرانا اور اس جزم و یقین کے ساتھ ڈرانا کہ گویا آنے والے طوفان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں، ایسی صورت حال نہیں تھی جس کو قریش کے لیڈر نظر انداز کرسکین۔ ان کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس کی کوئی توجیہہ تلاش کریں۔ اس کی کوئی توجیہہ تلاش کرنا یا گھڑنا ان کی سیاسی مصلحت کا بھی تقاضا تھا اس لیے کہ ان کے اندر جو لوگ خالی الذہن تھے، کسی پندار یا کسی خود غرضی میں مبتلا نہ تھے، وہ آنحضرت ﷺ کی بےلوثی اور دردمندی سے متاثر ہوتے تھے۔ ان کو اس اثر سے بچانے اور اپنی سیادت کی دھاک قائم رکھنے کے لیے انہوں نے یہ اشغلا چھوڑا کہ جس طرح بھلے چنگے آدمی کو بھی بسا اوقات کسی چیز کا خبط اور سودا ہوجایا کرتا ہے رات دن اس پر وہی دھن سوار رہتی اور اٹھتے بیٹھتے ہر جگہ اسے وہی چیز نظر آتی ہے اسی طرح محمد ﷺ کو بھی نعوذ باللہ عذاب اور قیامت کا سودا لاحق ہوگیا ہے، ان کی یہ چیز پروا کرنے کی نہیں ہے، قرآن نے یہاں قریش کی اسی طفل تسلی کی تردید کی ہے کہ جس شخص تم مدت العمر کے تجربہ سے جانتے ہو کہ توازن فکر و عمل اور اعتدال ذہن و مزاج کے اعتبار سے تمہاری پوری قوم میں کوئی اس کا ثانی نہ ہوا آج تم اس کو خطبی اور دیوانہ قرار دیتے ہو جب وہ سن و سال اور رشد و کمال دونوں کی پختگی کا ایک پیکر ہے۔ نادانو، یہ دیوانہ نہیں بلکہ ایک کھلا ہوا ہوشیار کرنے والا اور ڈرانے والا ہے جو آنے والے طوفان کو اپنی دونوں آنکھوں دیکھ رہا ہے تو، ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا،۔
Ayah 7:185

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کے نظام اور ان چیزوں پر نگاہ نہیں کی جو خدا نے پیدا کی ہیں اور اس بات پر کہ کیا عجب کہ ان کی مدت قریب آ لگی ہو تو اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ ۙ وَّاَنْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ ۚ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ۔ اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ آسمان و زمین کے نظام اور اللہ تعالیی کی مخلوقات پر غور کرتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی کہ انہیں جو عذاب اور قیامت سے ڈرا رہا ہے وہ دیوانہ اور خبطی نہیں ہے بلکہ یہ خود اندھے اور بہرے ہیں۔ محمد ﷺ تو جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کی صدا اس کائنات کے گوشے گوشے سے اٹھ رہی ہے۔ جو شخص بھی اس کائنات کے نظام پر غور کرے گا وہ پکار اٹھے گا کہ یہ کائنات عبث اور بےغایت و بےمقصد نہیں ہے بلکہ یہ لازماً ایک روز جزا و سزا پر منتہی ہونے والی ہے جس میں فلاح صرف وہی لوگ پائیں گے جو راستی و پاکبازی کی زندگی بسر کریں گے، جو لوگ اس راہ سے ہٹ کر چلیں گے وہ جہنم کے ایندھن بنیں گے۔ یہ اس مجموعی نظام کائنات کی ایک ایسی شہادت ہے جس کو صرف وہی لوگ جھٹلا سکتے ہیں جو عقل و شعور کے کان اور آنکھ بند کیے بیٹھے ہوں۔ پھر اس مجموعی کائنات کا ایک ایک جزو بھی اسی حقیقت نفس الامری کی شہادت پکار پکار کر دے رہا ہے۔ خدا نے جو چیز بھی بنائی ہے وہ اس کی قدرت، حکمت، رحمت اور ربوبیت کا مظہر ہے اور اس نے اس کے لیے ایک مدت بھی ٹھہرائی ہے۔ پھر کس طرح ممکن ہے کہ جس حکیم و قدیر ذات کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں ہے وہ اس دنیا کو یوں ہی چھوڑے رکھے، اس کے خیر و شرک میں کوئی امتیاز نہ کرے اور جس نے ہر چیز کے لیے ایک اجل معین کی وہ اس مجموعی دنیا اور اس کی قوموں کے لیے کوئی اجل معین نہ کرے۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے، کہ آسمان و زمین کے نظام میں غور جس نتیجہ تک آدمی کو پہنچاتا ہے اس کے ایک حصہ کو، جو واضح ہے، یہاں حذف کردیا ہے۔ اگر اس حذف کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہوگی کہ ‘ کیا انہوں نے آسمان و زمین کے نظام اور اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں غور نہیں کیا کہ ان پر یہ حقیقت واضح ہوجاتی کہ اللہ نے یہ کا خانہ عبث نہیں پیدا کیا ’ بعض جگہ اس محوف کو واضح کردیا ہے مثلا ‘ ویتفکرون فی خلق السموات والارض ربنا ماخلقت ھا باطلا، سبحانک فقنا عذاب النار : اور وہ آسمانوں اور زمین کی خلقت میں غور کرتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں کہ اے رب تو نے یہ کارخانہ عبث نہیں بنایا، تو پاک ہے کہ کوئی عبث کام کرے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو ’ (ال عمران : 191)۔ وَّاَنْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ۔ یہ اسی محذوف پر عطف ہے جس کی طرف ہم نے ا پر اشارہ کیا۔ یعنی اگر یہ آسمان و زمین کے نظام اور مخلوقاتِ الٰہی کی حکمتوں پر غور کرتے تو ان پر اس کائنات کا بامقصد اور ایک اجل معین کے لیے ہونا بھی واضح ہوجاتا اور ان پر یہ بات بھی کھل جاتی کہ کیا عجب کہ اب ان کی وہ اجل بھی قریب آ لگی ہو، جس سے پیغمبر ان کو ہوشیار کر رہے ہیں اس لیے کہ جب اس دنیا کو خدا نے کھیل تماشہ نہیں بنایا ہے تو آخر وہ ان کو شتر بےمہار کی طرح کیوں چھوڑے رکھے گا، جس طرح دوسری قوموں کو، جن کی تاریخ اوپر بیان ہوئی، اللہ نے پکڑا اب انہیں بھی پکڑے تو کیا بعید ہے ! یہ گویا پیغمبر ﷺ کی تائید میں آفاقی شہادت کی طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر جو کچ کہہ رہے ہیں اس کو خبط پر محمول نہ کرو بلکہ اپنی بلادت اور سرگشتگی پر ماتم کرو۔ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ۔ بعدہ کی ضمیر کے مرجع کے بارے میں دو قول ہوسکتے ہیں ایک اجل، جس کا ذکر اوپر گزرا، اور دوسرے قرآن جس کی آیات کی تکذیب کا یہ سارا نتیجہ ظاہر ہورہا ہے۔ استاذ ؒ کا رجحان دوسرے قول کی طرف معلوم ہوتا ہے لیکن میرا رجحان غالب پہلے قول کی طرف ہے کہ جب وہ اجل آدھمکے گی تو پھر کس بات پر ایمان لائیں گے۔ ایمان لانے کا وقت تو اب ہے لیکن یہ منتظر ہیں کہ پیغمبر جس انجام کی دھمکی سنا رہے ہیں اس کو دیکھ لیں گے تب ایمان لائیں گے لیکن ان بدبختوں سے کوئی پوچھے کہ پھر ایمان لانے کے لیے کون سی بات باقی رہ جائے گی جس پر وہ ایمان لائیں گے ؟ پھر تو سارا قصہ ہی ختم ہوجائے گا، جھگڑا جس چیز کے ماننے نہ ماننے کا ہے وہ تو اسی وقت تک ہے جب تک اس کا ظہور نہیں ہوتا، جب وہ ظاہر ہوگئی تو مانا تو کیا، انکار کیا تو کیا، پھر تو نتیجہ بھگتنا ہے نہ کہ کوئی چیز ماننے کے لیے باقی رہ جائے گی جس پر ان سے ایمان لانے کے لیے کہا جائے گا۔
Ayah 7:186

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جن کو خدا گمراہ کردے ان کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں بن سکتا۔ ان کو وہ ان کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے

مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ ۭ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ۔ اوپر والا ٹکڑا جیسا کہ واضح ہے، حسرت کے انداز میں ہے۔ اسی مضمون کی مزید تاکید ہے کہ جن لوگوں کی سمجھ میں اتنی واضح بات نہیں آرہی ہے درحقیقت وہ سنت الیہی کی زد میں آئے ہوئے ہیں اور جو لوگ سنت الٰہی کی زد میں آ چکے ہوں ان کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ایسے لوگ اپنی سرکشی میں بھٹکتے ہی رہتے ہیں۔
Ayah 7:187

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

وہ تم سے قیامت کے باب میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا ؟ کہہ دو کہ اس کا علم تو بس میرے رب ہی کے پاس ہے۔ وہی اس کے وقت پر اس کو ظاہر کرے گا۔ آسمان و زمین اس سے بوجھل ہیں۔ وہ تم پر بس اچانک ہی آدھمکے گی۔ وہ تم سے پوچھتے ہیں گویا تم اس کی تحقیق کیے بی تھے ہو کہہ دو ، اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے

يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا ۭقُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ ۚ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ۂ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً ۭ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ سوال بطور استہزاء : يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا، سوال، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، مذاق اور استہزاء کی نوعیت کا بھی ہوتا ہے۔ یہاں موقع کلام دلیل ہے کہ سی نوعیت کا سوال مراد ہے۔ ساعۃ کے معنی وقت اور گھڑی کے ہیں۔ یہاں مراد اس عذاب اور قیامت کی گھڑی ہے جس کے دفعۃً آدھمکے کا ڈراوا ان کو پیغمبر ﷺ سنا رہے تھے۔ ہم پیچھے ذکر کر آئے ہیں کہ ہر پیغمبر اپنی قوم کو اس دو عذابوں سے ڈراتا ہے۔ ایک اس عذاب سے جو اس دنیا میں ظاہر ہوتا ہے، اگر اس کی قو اس کی تکذیب کردیتی ہے، دوسرے اس عذاب سے جس سے کفار قیامت میں دو چار ہوں گے۔ الساعۃ کا لفظ دونوں ہی پر حاوی ہے اس لیے کہ پیغمبروں کو جھٹلانے والے ان دونوں ہی کا مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ ‘ ایان ’ وقت سے متعلق سوال کے لیے آتا ہے۔ جس طرح متی آتا ہے۔ لیکن یہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب کسی چیز سے متعلق استغراب و استنکار کے لب و لہجہ میں سوال کیا جائے۔ ‘ مُرسیٰ ’ جہاز وغیرہ کے لنگر انداز ہونے کو کہتے ہیں۔ مثلا بسم اللہ مجریہا و مرسھا، مطلب یہ ہوا کہ وہ تم سے استہزاء اور طنز کے انداز میں سوال کرتے ہیں کہ اس عذاب یا قیامت کی گھڑی کب نمودار ہوگی جس کے اتنے دنوں سے ڈراوے سنا رہے ہو، آخری یہ جہاز چلا تو کہاں اٹک کے رہ گیا، یہ ساحل پر کب لنگر انداز ہوگا۔ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ ۚ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ۔ فرمایا کہ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے، وہی کے اس کے وقت پر اس کو ظاہر کرے گا، نہ مجھے اس کے وقت کا پتہ ہے اور نہ میں اس کے لا سکنے پر قادر ہوں۔ ایک اعلی تلمیح : ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً۔ اس کا مطلب عام طور پر لوگوں نے یہ لیا ہے کہ یہ آسمان و زمین میں ایک بھاری حادثہ ہوگا۔ اگرچہ یہ بات بجائے خود صحیح ہے لیکن اسلوب بیان ایک اور معنی کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے۔ وہ یہ کہ وہ گھڑی آسمان و زمین میں ایک بوجھ بنی ہوئی ہے۔ اس میں اس حقیقت کی طرف ایک تلمیح ہے کہ جس طرح ایک حاملہ عورت، ولات کے قریب بار حمل سے گرنبار ہوتی ہے، اگرچہ یہ کوئی نہیں جانتا کہ ولادت کا صحیح وقت کیا ہے، لیکن ہر آنکھیں رکھنے والا دیکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ یہ عورت جنے گی اور بہت جلد جنے گی وہی حال قیامت اور عذاب کے معاملے میں آسمان و زمین میں غور کرنے والے ارباب بصیرت کا ہے۔ وہ آسمانوں اور زمین کو اس بوجھ سے گرانبار دیکھتے ہیں اور اگرچہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس بوجھ سے کب سبکدوش ہوں گے لیکن جس طرح ایک حاملہ اپنے آخری مرحلہ میں اپنے بوجھ سے سبکدوش ہونے کے لیے منتظر اور بےقرار ہوتی ہے، وہی بےقراری آسمان و زمین کے اندر نمایاں ہے۔ اس میں اس بات کی طرف ایک لطیف اشارہ بھی ہے کہ جن لوگوں کو آسمان و زمین کے اندر قیامت اور عذاب کی نشانیاں نظر نہیں آرہی ہیں ان کو گویا آخری مرحلہ میں پہنچی ہوئی حاملہ کا حمل نظر نہیں آ رہا ہے۔ لا تاتیکم الا بغتۃ یعنی اس کے علامات و آثار کو دیکھو اور انہی کو دیکھ کر اس کے آنے کا یقین کرو اور اس کے لیے تیار کرو، اس کا ظہور جب بھی ہوگا، اچانک ہوگا، اس کے صحیح وقت کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا لیکن اس کے وقت کے نہ جاننے سے اس کے واقع ہونے کی نفی نہیں ہوجاتی۔ ایک حاملہ کے متعلق ہر خص یقین رکھتا ہے کہ وہ جئے گی اگرچہ یہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس وقت جنے گی۔ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا۔ حفی کا مفہوم : حفی اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی شخص یا کسی چیز کی کھوج کرید، دریافت، جستجو اور اہتمام کے درپے رہے۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ تم سے اس گھڑے کے وقت کے ظہور کے متعلق اس طرح سوال کر رہے ہیں گویا تم رات دن اس کے وقت ہی کی دریافت کے درپے رہتے ہو اور تم نے منٹ اور سیکنڈ کی پابندی کے ساتھ ساری معلومات اس کے متعلق جمع کر رکھی ہیں حالانکہ کوئی عاقل نہ کسی ایسی جستجو کے درپے ہوتا نہ اس کو ہونا چاہیے جو اس کے حدود علم و تحقیق سے ماورا ہو۔ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ لیکن اکثر لوگ اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ کیا چیز ان کے جاننے کی ہے جس کے انہیں درپے ہونا چاہیے اور کیا چیز ان کے ھدود علم سے ماورا ہے جس کے پیچھے پڑنا محض اوقات کی اضاعت اور اپنے آپ کو فتنوں میں مبتلا کرنا ہے۔ انسان کی یہ عجیب بدبختی ہے کہ وہ زیادہ تر ان چیزوں کے پیچھے پڑتا ہے جن کو نہ تو وہ جان سکتا ہے نہ وہ اس کے جاننے کی ہیں اور پھر ان کو بہانہ بنا کر ان حقائق سے منہ موڑ لیتا ہے جن کو جاننا اس کی دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کے لیے ضروری ہے۔ جو لوگ متشابہات کے پیچھے پڑ کر محکمات کا انکار کرتے ہیں ان کی بھی اصلی بیماری یہی ہے۔ اس پر ہم نے آل عمران کی تفسیر میں مفصل بحث کی ہے۔
Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

کہہ دو میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان پر کوئی اختیار نہیں رکھتا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو خیر کا بڑا خزانہ جمع کرلیتا اور مجھے کوئی گزند نہ پہنچ پاتا۔ میں تو بس ان لوگوں کے لیے ایک ہوشیار کرنے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں جو ایمان لائیں

قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭوَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْر ِ ٻ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوْۗءُ ڔ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔ یعنی ان کو بتا دو کہ میں جو اللہ کا رسول ہوں تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ میں سارے غیب کا عالم ہوگیا ہوں اور مجھے اس بات کا اختیار مل گیا ہے کہ میں اپنے آپ کو جس نفع سے چاہوں بہرہ ور کرلوں اور جس نقصان سے بچانا چاہوں بچا لوں۔ غیب کا علم اور حقیق نافع و ضار صرف اللہ ہی ہے۔ دوسروں کی طرح میرے معاملات میں بھی اسلی کار فرما خدا کی مشیت ہی ہے۔ میں نے نبوت کا دعوی کیا ہے نہ کہ خدائی کا تو مجھ سے ان چیزوں کا مطالبہ نہ کرو جن کا تعلق صرف خدا کے ارادے اور اختیار میں ہے۔ مجھے وحی عطا ہوئی ہے، علم غیب کی کنجیاں مجھے نہیں ملی ہیں۔ اگر مجھے غیب کا علم مل گیا ہوتا تو میں خیر کا بڑا خزانہ جمع کرلیتا اور مجھے کوئی گزند بھی نہ پہنچ پاتا لیکن تم دیکھتے ہو کہ مجھے مختلف قسم کے گزند بھی پنچتے ہیں اور خیر کی راہوں میں بھی میری سبقت اسی حد تک ہے جس حد تک مجھے رب کی مرضیات کا عل ہے۔ لاستکثرت من الخیر کے ٹکڑے میں جس خیر کی زیادہ سے زیادہ مقدار جمع کرلینے کی تمنا کا اظہار ہے وہ پیغمبر کے ظرف اور اس کی طلب کے اعتبار سے ہے۔ پیغمبر اپنے حوصلہ اور اپنے ارمان کے اعتبار سے اس مقام بلند پر ہوتا ہے کہ وہ خیر کی کسی وادی کو ناطے کردہ نہیں چھوڑنا چاہتا لیکن وہ خیر سے واقف اسی حد تک ہوتا ہے جس حد تک اس کو وحی الٰہی کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ اگر اس کو پورا غیب معلوم ہوجائے تو ظاہر ہے کہ اس کے اپنے امکان کے حد تک تو اس کی کوشش یہی ہوگی کہ خیر کی راہ کے کسی پتھر کو بھی الٹے بغیر نہ چھوڑے۔ لیکن دائرہ وحی سے باہر اسے بھی دوسروں کی طرح اپنی صواب دید ہی پر کام کرنا اور اپنی عقل ہی پر اعتماد کرنا پڑتا ہے جس میں کامیابی اور ناکامی دونوں کے امکانات مضمر ہوتے ہیں۔ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔ یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید وضاحت ہے کہ میں نہ عالم الغیب ہوں نہ صاحب اختیار مطلق۔ میں تو صرف ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں۔ میرے اختیار میں یہ بھی نہیں ہے کہ کسی کے دل میں ایمان اتار دوں، یہ چیز بھی لوگوں کے اپنے ارادے اور اللہ کی توفیق بخشی ہی پر منحصر ہے۔
Ayah 7:189

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک ہی جان سے اور اسی سے پیدا کیا اس کا جوڑا کہ وہ اس سے تسکین پائے تو جب وہ اس کو چھا لتا ہے تو وہ اٹھا لیتی ہے ایک ہلکا سا حمل، پھر وہ اس کو لیے کچھ وقت گزارتی ہے تو جب بوجھل ہوتی ہے دونوں، اللہ اپنے رب سے دعا کرتے ہیں، اگر تو نے ہمیں تندرست اولاد بخشی ہم تیرے شکر گزاروں میں سے ہوں گے۔

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا۔ اس ٹکڑے کے مضمرات پر ہم سورة نساء آیت 1 کے تحت بحث کر آئے ہیں یہاں جعل منہا زوجہا لیسکن الیھا سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ مرد اور عورت کا باہمی تعلق کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے۔ کہ دونوں کے درمیان کوئی فطری مناسبت تو نہ ہو، محض اتفاق سے وہ ایک دوسرے کے لیے سازگار، ہم جنس، سرمایہ تسکین، راحت جان و دل اور ذریعہ اولاد و احفاد بن گئے ہوں بلکہ سورج کی طرح یہ چیز روشن نظر آتی ہے کہ خالق کائنات نے مرد کے اندر عورت کے لیے اضطراب اور تڑپ پیدا کی ہے اور اپھر اس کے اس اضطراب اور اس کی اس ٹرپ کی تسکین ہی کے لیے اسی کی جنس سے عورت کو وجود بخشا ہے۔ ان دونوں میں ان کے فطری داعیات اور ان کی داخلی اور خارجی ساخت کے اعتبار سے ایسی گہری ساز گاری ہے کہ ایک ہٹ دھرم کے سوا کوئی نہیں یہ کہہ سکتا کہ یہ سازگاری کسی اندھے بہرے مادے کی پیدا کردہ ہے یا یہ کہ ان کا ارتقا آپ سے آپ خود رو درختوں کی طرح ہوا پھر دونوں اپنے اپنے طور پر بھٹکتے ہوئے کہیں راستے میں مل گئے تو اچانک تڑپ کر ایک دوسرے سے بغلگیر ہوگئے اور پھر اس طرح باہم دگر جان و تن بن گئے۔ (تا کس نہ گوید بعد ازین من سیگرم تو دیگری)۔ پھر یہ ساز گاری، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، اس حقیقت کا بھی پتہ دیتی ہے کہ اس کائنات کے اندر ایک ہی حکیم وعلیم کا ارادہ کارفرما ہے۔ اگر اس میں مختلف ارادے کارفرا ہوتے تو اس کے اضداد کے اندر وہ سازگاری کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتی تھی جو اس کائنات کے ہر گوشہ میں ہم دیکھتے ہیں۔ عورت اور مرد دونوں متضاد خصوصیات سے متصف ہیں لیکن مدبرکائنات نے ان دونوں کے درمیان اس طرح جوڑ ملایا ہے کہ ایک نے درد اور دوسری نے دوا کی شکل اختیار کرلی ہے۔ سائنس کا ایک انکشاف : ّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا پر غور کرتے ہوئے جدید سائنس کے اس انکشاف کو بھی ذہن میں رکھیے کہ زندگی کے آغاز میں جسد انسان کی اولین صورت ایک جونک کی طرح ایک ہی خلیہ پر مشتمل تھی اور ایک خلیہ کے جاندار کے توالد کا طریق یہ ہے کہ وہ بڑھ کر خود بخود دو حصوں میں منقسم ہوجاتا ہے جن میں سے ہر ایک حصہ ایک مکمل جاندار ہوتا ہے۔ پھر بدنی ارتقا کے اگلے مراحل پر ایک حصہ مادہ کے فرائض کے لیے اور دوسرا حصہ نر کے فرائض کے لیے موزوں بن جاتا ہے۔ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ۔ آیات 124۔ 135 کے تحت ہم بیان کر آئے ہیں کہ تصویر حال کے مواقع میں لما، کلما اور اذا کی جگہ پر بھی استعمال ہوتا ہے اس وجہ سے یہاں کسی خاص شخص کا حال یا واقعہ بیان نہیں ہورہا ہے بلکہ عام انسانوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ باوجودیکہ مرد اور عورت دونوں کو خدا ہی نے بنیا اور ان کی باہمی سازگاری دلیل ہے کہ ایک خدا کے سوا ان کے بنانے میں کسی اور کا اہتھ نہیں ہے لیکن انسان کی یہ عجیب خرد باختگی ہے کہ جب اولاد پیدا ہونے والی ہوتی ہے تب تو میاں بیوی دونوں خدا سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں بھلی چنگی اولاد عطا فرما لیکن جب اللہ ان کو بھلی چنگی اولاد دے دیتا ہے تو اس کو منسوب کسی درگاہ وخانقاہ اور کسی بزرگ یا کسی بت کی طرف کرنا شروع کردیتے ہیں کہ یہ فلاں کی توجہ اور فلاں کی برکت و عنایت کا کرشمہ ہے۔ بعض لوگوں نے ‘ لما ’ کی وجہ سے اس کو ایک معین واقعہ سمجھا اور جب معین واقعہ سمجھا تو ضروری ہوا کہ اس کو کسی خاص شخص کی طرف منسوب کریں چناچہ انہوں نے اس کو حضرت آدم اور حوا کی طرف نسبت دے دی اور اس کے لیے ایک بےبنیاد واقعہ بھی گھڑ کر تفسیروں میں شامل کردیا حالانکہ قطع نظر اس سے کہ حضرت آدم پیغمبر ہیں، اس مہمل روایت کی تردید کے لیے یہی بات کافی ہے کہ یہ بات یہاں اس عہد فطرت کی خلاف ورزی کی مثال کے طور پر بیان ہو رہی ہے جس کا ذکر اوپر آیت 172 میں گزرا۔ ظاہر ہے کہ اس عہد میں تمام نسل انسانی کے باپ کی حیثیت سے حضرت حضرت آدم سب سے پہلے شریک ہیں تو نعوذ بالہ اگر وہی اس عہد میں بودے ثابت ہوجاتے تو پھر دوسروں سے کیا توقع کیا جاسکتی تھی۔ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ۔ صالح کا لفظ عربی میں بھلے چنگے، تندرس، ذی صلاحیت کے معنوں میں بھی آتا ہے، مطلب یہ ہے کہ جب عورت پوری طرح بوجھل ہوجاتی ہے اور وضع حمل کا وقت قریب آتا ہے تو بیوی اور میاں دونوں پر ایک اندیشے کی حالت طاری ہوجاتی ہے۔ اور اس اندیشہ میں وہ خدا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور چونکہ اصل فطرت کے اندر صرف خدا ہی کا نقش ہے، کسی اور کا نقش نہیں ہے اس وجہ سے یہ توجیہ خدا کی طرف بلا شرکت غیرے ہوتی ہے۔ وہ اسی سے دعا کرتے ہیں کہ خدا بھلی چنگی، تندرست و خب صورت اور ذی صلاحیت اولاد بخشے لیکن جب خدا ولاد دے دیتا ہے تو نہ جانے کن کن کو وہ اس میں شریک بنا بیٹھتے ہیں۔
Ayah 7:190

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

تو جب اللہ ان کو تندرست اولاد دے دیتا ہے تو اس کی بخشی ہوئی چیز میں وہ اس کے لیے دوسرے شریک ٹھہراتے ہیں۔ اللہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں

قرآن میں انسانی فطرت کا یہ خاص پہلو جگہ جگہ بیان ہوا ہے کہ انسان انی اصل ضرورت اور اصل احیتاج کے وقت تو اپنے رب ہی کی طرف متوجہ ہوتا ہے لیکن جب وہ احتیاج پوری ہوجاتی ہے تو اس کو دوسرے اسباب و وسائل کا کرشمہ قرار دینے لگتا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کا تجربہ ہر شخص خود اپنے اندر کرسکتا ہے۔ انسان کی عام حالت یہی ہے اور یہاں عام حالت ہی بیان ہوئی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ ایسے بلید بھی پائے جاتے ہوں جو کسی حال میں بھی خدا کی طرف متوجہ نہ ہوتے ہوں لیکن فرعون تک کا حال قرآن میں بیان ہوا ہے کہ ڈوبتے وقت اسے بھی خدا یاد آیا۔ بہرحال مستثنیات سے یہ کلیہ ٹوٹ نہیں جاتا۔ آدی پر جب حقیق افتقار کی حالت طاری ہوتی ہے تو وہ دل دل میں یا زبان اور دل دونوں ہی سے خدا کو پکارتا ہے اور یہ عہد بھی کرتا ہے کہ اگر اس مرحلہ یا اس بھنور سے وہ گزر گیا تو آئندہ وہ اپنے رب کا شکر گزار بندہ بن کر زندگی گزارے گا لیکن جونہی اس مرحلہ سے گزر جاتا ہے، وہ یہ سارا عہد و پیمان بھلا کر انہی خود فراموشیوں میں پھر گم ہوجاتا ہے جن میں پہلے کھویا ہوا تھا۔ اس مسئلہ پر ہم نے اپنی کتابوں میں سے حقیقت شرک، اور حقیقت توحید میں بھی بحث کی ہے۔ تفصیل کے طالب ان کو پڑھیں۔ نظم کے پہلو سے یہ آیات اس مضمون سے تعلق رکھتی ہیں جو اوپر 172، 174 میں عہد فطرت کا بیان ہوا ہے۔ بیچ میں کچھ آیتیں تنبیہ و تذکریر اور انذار کی نوعیت کی آگئی ہیں۔ اب یہ پھر اس مضمون کو لے لیا ہے اور یہ دکھا ہے کہ انسان کی فطرت کی اصل صدا کیا ہے اور انسان (یہاں خاص اشارہ قریش کی طرف سے) اپنی فطرت کی اس صدا سے کان بند کر کے کس طرح مختلف وادیوں میں ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ میں ہم اوپر واضح کرچکے ہیں کہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ خدا کی صفات کے ساتھ ایسی صفات کا جوڑ ملانا جو اس کی بنیادی صفات کو باطل کردیں بالکل خلاف عقل ہے۔ شرک، جس نوعیت کا بھی ہو، تمام صفات کمال کی نفی کردیتا ہے اس وجہ سے خدا ایسی تمام نسبتوں اور شرکتوں سے منزہ اور ارفع ہے۔
Ayahs 7:191–192

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا وہ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور نہ وہ ان کی کسی قسم کی مدد کرسکتی ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتی ہیں۔

اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ۔ یہ تعالیٰ اللہ عما یشرکون کے مضمون کی وضاحت ہے کہ خدا ہی سب کا خالق اور سب کا ناصر ہے تو ان چیزوں کو خدا کی خدائی میں شرک بنانے کا کیا تک ہے جو کسی چیز کو بھی خلق نہیں کرتی ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں اور جو نہ تو ان کی کوئی مدد کرسکنے پر قادر ہیں اور نہ اپنی ہی کوئی مدد کرسکتی ہیں۔
Ayah 7:193

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اور اگر تم ان کو رہنمائی کے لیے پکارو وہ تمہارے ساتھ نہ لگیں گے، یکساں ہے، خواہ تم ان کو پکارا یا تم خاموش رہو ،

وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ۔ مطلب یہ ہے کہ معبود سے عابد کی سب سے بڑی احتیاج تو یہ ہوتی ہے کہ وہ زندگی کے ہر مرحلہ میں رہنمائی فرماتا ہے لیکن تم جن معبودوں کو پوجتے ہو اگر تم ان کو زندگی کے کسی موڑ پر پکارو کہ وہ تمہاری رہنمائی کریں تو نہ وہ سنیں گے اور نہ تمہاری رہنمائی کے لیے تمہارے ساتھ لگیں گے۔ لفظ اتباع، یہاں اپنے ابتدائی لغوی مفہوم میں ہوگا۔ اتبع، مشی خلفہ، مضی معہ، لحقہ، اس کے پیچھے چلا اس کے ساتھ ہو لیا، اس کو جا پہنچا۔ آگے اس مضمون کی وضاحت یوں ہوئی ہے۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ (اور اگر تم ان کو رہنمائی کے لیے پکارو تو وہ تمہاری پکار نہیں سنیں گے۔ تم خیال کرتے ہو کہ وہ تمہیں دیکھ رہے ہیں حالانکہ انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے۔) اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ، یعنی روو، چیخو، فریاد کرو، یا خاموش رہو، ان کے لیے دونوں یکساں ہے۔
Ayah 7:194

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

جن کو تم اللہ کے ماسوا پکارتے ہو یہ تو تمہارے ہی جیسے بندے ہیں پس ان کو پکار دیکھو، وہ تمہیں جواب دیں، اگر تم سچے ہو

اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔ یعنی یہ خود تمہاری ہی طرح خدا کی مخلوق ہیں تو یہ تمہاری مدد یا رہنمائی کیا کرسکتے ہیں اور اگر تمہارا دعوی یہ ہے کہ یہ تمہاری مدد اور رہنمائی کرسکتے ہیں تو ان کو پکارو، یہ تمہاری مدد کرٰں۔ یہ مشرکین کو اسی طرح چیلنج ہے جس طرح کا چیلنج وادعو شہداء کم من دون اللہ ان کنتم صدقین (اور بلا لو اپنے شریکوں کو بھی جن کو تم اللہ کے سوا مانتے ہو، اگر تم سچے ہو) میں ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اب تک تو تم نے اپنے ان خیالی معبودوں کو جو چاہا مانا اور جو چاہا منوایا لیکن اب پیغمبر اور قرآن نے ان سب کی خدائی کو چیلنج کردیا ہے۔ اب وقت ہے کہ وہ تمہاری مدد اور رہنمائی کے لیے پہنچیں اور تم کو بھی اور خود اپنے آپ کو بھی سنبھالیں۔ اگر انہوں نے اپنی خدائی بچالی تو بیشک معلوم ہوگا کہ تم سچے ہو۔ یہ بات واضح رہے کہ اہل عرب جن بتوں کو پوجتے تھے وہ ان کے گمان کے مطابق فرشتوں، جنات اور کواکب کے بت تھے اس وجہ سے ان کو عبادت امثالکم فرمایا ہے۔ تفصیل اس کی ہماری کتاب حقیقت شرک میں ملاحظہ فرمائیے۔