7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 7:77

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

تو انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور بولے کہ اے صالح، اگر تم خدا کے فرستادہ ہو تو وہ عذاب ہم پر لاؤ جس کی دھمکی دے رہے ہو

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوْا يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۔ عقر، کے معنی اونٹ یا اونٹنی کی کونچیں کاٹ دینے کے ہیں۔ ’ عتو ‘ کا صلہ جب عن کے ساتھ آئے تو یہ سرکشی اور نافرمانی دونوں کے مفہوم پر متضمن ہوتا ہے۔ یہ قوم کے متمردین کی طرف سے تمرد کا آخری قدم تھا۔ انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور حضرت صالح کو چیلنج کیا کہ لو، ہم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں، تم نے دھمکی دی تھی کہ ہم نے اس کو گزند پہنچایا تو ہم پر عذاب آجائے گا تو اگر تم خدا کے فرستادہ ہو تو عذاب لاؤ۔ یہاں وہ بات یاد رکھیے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے کہ یہ قوم کی طرف سے حضرت صالح کی تکذیب کا گویا آخری اور حتمی اعلان تھا۔ اس کے بعد اگر ان کو مزید مہلت ملتی تو اب ان کا حملہ حضرت صالح ہی پر ہوتا اس وجہ سے تیسرے دن ان پر عذاب آگیا۔ اونٹنی کو ہلاک کرنے کا جرم اگرچہ، جیسا کہ سورة شمس میں تصریح ہے، ثمود کے سرکش لیڈر نے کیا تھا لیکن تمام متمردین اس کے اس فعل پر راضی رہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوب سب ہی کی طرف کیا۔
Ayah 7:78

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

پس ان کو کپکپی نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ۔ رجفۃ، کے معنی شدت کے حرکت، کپکپی، اور تھرتھراہٹ کے ہیں۔ یہ اس عذاب کی تعبیر ہے جو قوم ثمود پر آیا۔ قرآن نے اس عذاب کو دوسری جگہ ‘ صیحۃ ’ سے بھی تعبیر کیا ہے جس کے معنی ڈانٹ کے ہیں، بعض جگہ صاعقہ سے بھی تعبیر کیا (مثل صاعقہ عاد وثمود) جس کے معنی کڑ کے کے ہیں، سورة حاقہ میں طاغیہ سے تعبیر کیا ہے۔ فاما ثمود فاھلکو بالطاغیۃ، جس کے معنی حد سے بڑھ جانے والی کے ہیں۔ مولانا فراہی ؒ نے سورة ذاریات کی تفسیر میں عاد وثمود دونوں قوموں کے عذاب کی نوعیت پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ وہ آخر میں خلاصہ بحث ان لفظوں میں پیش کرتے ہیں۔“ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ان کے اوپر اللہ تعالیٰ نے سرمائی بادلوں، تند ہوا اور ہولناک کڑک کا عذاب بھیجا۔ چونکہ اصل تباہی زیادہ تر ہوا کے تصرفات سے واقع ہوئی اس وجہ سے اگر اثر سے موثر پر استدلال کرنے کا طریقہ اختیار کیا جائے تو یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ثمود پر اللہ تعالیٰ نے سرما کے دھاریوں والے بادل بھیجے جن کے اندر ہولناک کڑک اور بہری کردینے والی چیخ بھی چھپی ہوئی تھی جس طرح کہ قوم عاد پر رعد و برق والے بادل بھیجے ” بہرحال ‘ رجفہ ’ کے لفظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ زلزلہ کا عذاب تھا۔ ‘ رجفہ ’ مجرد عذاب کی تعبیر ہے۔ معلوم ہوتا ہے شمال کی باد تند، جس کو صرصر کہتے ہیں، چلی اور وہ اتنی سخت و شدید ہوگئی کہ اس نے ہر چیز کو ہلا کر رکھ دیا۔ کڑکے کی شدت ایسی بےپناہ ہوئی کہ لوگ اوندھے نہ زمین پر پڑ رہے اور اسی حال میں ہلاک ہوگئے۔ ‘ دار ’ کا لفظ یہاں ‘ دیار ’ کے معنی میں ہے۔ چناچہ سورة ہود آیت 65 میں لفط ‘ دار ’ استعمال ہوا، پھر انہی ثمود کے ذکر میں آیت 67 میں ‘ دیار ’ استعمال ہوا۔ یہ قرآن نے گویا خود لفظ کی تفسیر کردی۔
Ayah 7:79

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

تو وہ ان کو چھور کر یہ کہہ کر چل دیا کہ اے میری قوم کے لوگو ؟ میں نے تمہیں اپنے رب کا پیام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کردی لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّيْ وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِيْنَ۔ یہ قوم سے حضرت صالح کا آخری خطاب ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ انہوں نے عذاب آنے سے پہلے اس وقت فرمایا ہے جب قوم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ کر عذاب کے بند کو گویا توڑ دیا ہے۔ یہی وداعی فقرہ کہہ کر انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہجرت فرمائی ہوگی۔ اس لیے کہ رسولوں کے باب میں سنت الٰہی یہ ہے کہ عذاب آنے سے پہلے، اللہ کے حکم سے، وہ علاقہ عذاب سے ہجرت کرجاتے ہیں۔ قرآن میں دوسری جگہ تصریح کہ اونٹنی کے قتل کے بعد صرف تین دن کی قوم کو مہلت ملی۔ اس تین دن کی مہلت میں جہاں بعض دوسری مصلحتیں تھیں وہاں یہ مصلحت بھی ہوگی کہ اس اثنا میں حضرت صالح اور ان کے ساتھی علاقہ سے اتنے دور نکل جائیں کہ عذاب کا کوئی جھونکا ان کو نہ چھو سکے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ترتیب بیان میں اس بات کو عذاب کے ذکر کے بعد کیوں کردیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ترتیب میں یہ تقدیم و تاخیر تقاضائے بلاغت سے ہوئی ہے۔ ارتکاب جرم اور اس کے نتیجہ کے فوری ظہور کو نمایاں کرنے کے لیے یہاں عذاب کو قتل ناقہ کے ساتھ متصل کردیا اور حضرت صالح کی ہجرت کے ذکر کو پیچھے کردیا۔ گویا جوں ہی انہوں نے ناقہ کو گزند پہنچا کر خدا کو چیلنج کیا عذاب آ دھمکا۔ عذاب کی یہ سبقت و مبادرت اچھی طرح ظاہر نہ ہوسکتی اگر اسبیچ میں کوئی اور بات ذکر میں آجاتی۔ قرآن میں اس اسلوب مبادرت کی مثالیں بہت ہیں۔ آگے قوم شعیب کی سرگزشت میں بھی اس کی مثال ہے۔ سورة ہود میں، حضرت نوح کی سرگزشت کے سلسلہ میں آیات 43۔ 45 ملاحظہ ہوں، نہایت واضح اور بلیغ مثال اس اسلوب کی موجود ہے۔ يٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ الایۃ سے ایک حقیقت یہ بھی واضح ہوتی ہے کہ ان انبیاء کے خطاب میں یا قوم، یا قوم کا لفظ جو بار بار آتا ہے یہ محض دلداری اور استماملت کی نوع کی کوئی چیز نہی ہے بلکہ جس طرح ہر شخص پر اس کے اپنے وجود، اپنے اہل و عیال اور اپنے خاندان کا ایک حق ہوتا ہے اسی طرح اپنی قوم اور اپنے وطن کا بھی اس پر ایک حق ہوتا ہے جس کتقاضا یہ ہے کہ وہ پورے اخلاص، پوری دل سوزی اور پوری جاں بازی کے ساتھ اس کی خیر خواہی کرے۔ اس کے بغیر کوئی شخص اپنی قوم کے حق سے سبکدوش نہیں ہوتا۔ جو شخص یہ حق ادا کرچکتا ہے وہ اللہ کے نزدیک سرخ رو ہے، اس سے اس باب میں کوئی پرسش نہیں ہوگی کہ قوم تباہی کی راہ پر کیوں گئی، ہدایت کی راہ پر کیوں نہ چلی ؟ لیکن جنہوں نے یہ حق ادا نہیں کیا ہے وہ اس حق کے باب میں عنداللہ لازما مسئول ہوں گے۔ وَلٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِيْنَ محض اظہار حسرت کا کلمہ نہیں بلکہ حقیقت نفس الامری کا بیان ہے۔ قوم کے قومی مزاج کے بگاڑ کا ایک درجہ و مرحلہ وہ بھی ہوتا ہے جب تمام پیمانے اس طرح تلپٹ اور تمام اقدار اس درجہ متغیر ہوجاتے ہیں کہ خیر خواہی کا کلمہ کہنا جان جوکھوں کا کام بن جاتا ہے۔ جو لوگ عذاب الٰہی کے بند کو توڑتے ہیں وہ قوم کے لیڈر اور ہیرو بن جاتے ہیں۔ قومی فساد مزاج کی یہی وہ حد ہے جہاں پہنچ کر لازما قوم تباہی سے دوچار ہوتی ہے۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ جب کسی مریض کا یہ حال ہوجائے کہ اسے معالجوں اور طبیبوں سے دشمنی ہوجائے اور صرف انہی کے مشورے اسے پسند آئیں جو اس کے مرض میں اضافہ کے خواہشمند ہوں تو موت کے سوا اب اس کے لیے کیا چیز باقی رہ گئی ہے۔
Ayah 7:80

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو بھیجا۔ جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا۔ کیا تم کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو ! تم سے پہلے دنیا کے کسی نے بھی اس کا ارتکاب نہیں کیا۔

وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ۔۔ قومِ لوط اور حضرت لوط ؑ کی سرگزشت : حضرت لوط حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے ہیں۔ یہ جس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے وہ زشام کے جنوبی علاقہ میں دریائے اردن کے ارد گرد آباد تھی۔ ان کے ذکر میں اسلوب بیان اس سے ذرا مختلف ہے جو حضرت ہود اور حضرت صالح کے ذکر میں ہے۔ ان دونوں حضرات کو تو اخاھم ھودا اور اخاھم صالحا کے الفاظ سے ان کی قوموں کی طرف منسوب فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کے اعتبار سے تو یہ لوگ ان کی قوم تھے لیکن باعتبار نسبت اور قبیلہ حضرت لوط ان سے الگ تھے۔ قرا ان نے اس معمولی فرق کو بھی اپنے اسلوب بیان سے واضح فرما دیا۔ رسولوں کے باب میں عام سنت الٰہی یہی ہے کہ وہ اسی قوم کے اندر سے ہوتے ہیں جس کی طرف بھیجے جاتے ہیں۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ قوم ان کے ماضی و حاضر، ان کے اخلاق و کردار اور ان کی زبان سے اچھی طرح آشنا ہو تاکہ اجنبیت و غیرت موجب و حشت نہ بنے۔ یہ چیز جس طرح نسبی تعلق سے حاصل ہوسکتی ہے اسی طرح کسی قوم کے اندر طویل قیام سے بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ حضرت لوط چونکہ اسی قوم کے اندر رہ بس گئے تھے بلکہ قرینہ شاہد ہے کہ انہوں نے انہی کے اندر شادی بھی کرلی تھی اس وجہ سے وہ قوم کے لیے بمنزلہ ایک فرد قوم کے تھے۔ ان کی تربیت، جیسا کہ تورات سے معلوم ہوتا ہے، حضرت ابراہیم نے فرمائی تھی۔ ان کی ان خوبیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا یہ بعینہ وہی صورت حال ہے جو حضرت موسیٰ کے معاملے میں ہم دیکھتے ہیں۔ باوجودیکہ حضرت موسیٰ قوم فرعون کے اندر سے نہیں تھے لیکن ایک طویل مدت تک ان کے اندر رہے تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو قوم فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ۔ الفاحشۃ، کھلی ہوئی بدکاری و بےحیائی کو کہتے ہیں اور استفہام یہاں اظہار نفرت و کراہت کے مفہوم میں ہے۔ اس فاحشہ کا یہاں نام نہیں لیا ہے جو اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ بےحیائی وقت کی سوسائٹی میں اس درجہ عام تھی کہ نام لیے بغیر بھی ہر شخص سجھتا تھا کہ اس سے مراد کیا ہے۔ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا، فاحشۃ کی صفت نہیں ہے۔ اگر یہ صفت ہوتا تو معروف قاعدہ زبان کے مطابق فاحشہ کو نکرہ ہونا تھا۔ میرے نزدیک یہ الگ جملہ ہے۔ حضرت لوط نے یہاں درحقیقت دو مختلف پہلوؤں سے اس برائی پر اظہار نفرت فرمایا ہے۔ پہلے تو فرمایا کہ ایسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو، جس کا بےحیائی ہونا ہر عقل سلیم پر واضح ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ حرکت شنیع تو تم سے پہلے کسی قوم نے نہیں کی۔ مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ سے یہ بات لازم نہیں آتی ہے کہ قوم لوط سے پہلے یہ حرکت شنیع کسی ایک فرد سے بھی صادر نہ ہوئی ہو۔ ہم دوسری جگہ واضح کرچکے ہیں کہ لفظ احد جمع کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ مثلاً لا نفرق بین احد من رسلہ، یا، لستن کا احد من النساء، اس وجہ سے اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم سے پہلے کوئی شامت زدہ سوسائٹی ایسی نہیں گزری جس نے اس غلاظت کو تہاری طرح اوڑھنا بچھونا بنایا ہو۔ عملِ قوم لوط کی سنگینی : یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اوپر جن رسولوں کی دعوت کا ذکر ہوا ہے ان میں سے ہر ایک کی دعوت کا آغاز توحید سے ہوا ہے لیکن حضرت لوط نے توحید کی دعوت سے آغاز کرنے کی بجائے سب سے پہلے قوم کی اس بےحیائی کو موضوع بحث بنایا۔ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت لوط ؑ کی قوم کے اندر شرک کی برائی موجود نہیں تھی ؟ اگر موجود تھی تو حضرت لوط ؑ نے اس کو کیوں نظر انداز فرمایا ؟ ہمارے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ برائی اور برائی میں فرق ہوت ہے۔ ایک برائی تو وہ ہوتی ہے، جو خواہ کتنی ہی سنگین ہو، لیکن وہ انسانی عوارض میں سے ہے اور انسانوں کے اندر پائی جاتی ہے یا پائی جاسکتی ہے، دوسری برائی وہ ہے جس کا گھننا پن اس قدر واضح ہے کہ کسی انسان کے اندر عادت کی حیثیت سے اور کسی سوسائٹی کے اندر فیشن کی حیثیت سے اس کا پایا جانا بغیر اس کے ممکن نہیں کہ اس انسان یا اس سوسائٹی کی فطرت بلکل مسخ ہوگئی ہو۔ جہاں اس طرح کے لوگوں سے سابقہ ہو وہاں اصل قابل توجہ چیز وہی برائی ہوتی ہے، دوسری باتیں خواہ کتینی ہی اہمیت رکھنے والی ہوں، سب ثانوی درجے میں آجاتی ہیں۔ آپ ایک شخص کے پاس اس کی اصلاح کی غرض سے جائیں اور دیکھیں کہ وہ کھڑا ہوا غلیظ کھا رہا ہے تو آپ اس کو ایمان و اسلام کی تلقین کریں گے یا سب سے پہلے اس کی یہ عبرت انگیز حالت آپ کو متوجہ کرے گی ؟ حضرت لوط ؑ کو اسی صورت حال سے سابقہ پیش آیا۔ ان کی قوم کے اندر شرک و کفر کی برائی بھی موجود تھی، ور دوسری تمام برائیاں بھی، جو شرک و کفر کے لوازم میں سے ہیں، موجود تھیں لیکن جن کی فطرت اتنی اوندھی ہوگئی ہو کہ مرد مردوں ہی کو شہوت رانی کا محل بنائے ہوئے ہوں ان کو تو سب سے پہلے اس غلاظت کی دلدل سے نکالنے کی ضرورت تھی، ان سے کوئی دوسری بات کرنے مرحلہ تو بہرحال اس کے بعد ہی آسکتا تھا۔ اس سے اندازہ کیجیے کہ قرآن کی نگاہ میں عمل قوم لوط کی سنگینی کا کیا حال ہے اور پھر ذرا یاد کیجیے اس واقعہ کو کہ برطانوی پارلیمنٹ نے پچھلے دنوں اپنے ایک قانون کے ذریعہ سے اپنی قوم کے لیے اس معلون فعل کو بالکل مباح کردیا ہے۔ اللہ کے حلم کی کوئی حد نہیں ہے۔ وہ مہلت دیتا ہے تو بڑی طویل مہلت دتا ہے لیکن برطانوی پارلیمنٹ نے یہ قانون پاس کر کے خدا کے عذاب کے لیے اپنے دروازے چوپت کھول دیے ہیں اب دیکھیے یہ مدت مہلت کتنی دراز ہوتی ہے۔
Ayah 7:81

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔ بڑی ہی اوندھی عقل کے بلکہ حد سے گزر جانے والے لوگ ہو

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَاۗءِ ۭ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ۔ یہ اظہار نفرت کا تیسرا پہلو ہے یعنی تم نے تو فطرت کو بالکل ہی الٹ کر رکھ دیا ہے۔ جملہ میں جو تاکید ہے وہ نفرت اور تعجب کی شدت کو ظاہر کر رہی ہے۔ ‘ رجال ‘ کا لفظ بھی یہاں معنی خیر زہے اس لیے کہ رجال پختہ سن و سال کے مردوں کو کہتے ہیں۔ اس لفظ کے استعمال سے ایک تو اس فعل کے گھنونے پن کا اظہار ہو رہا ہے۔ دوسرے اس سے دیوثیت کا اظہار ہورہا ہے جو کسی قوم میں اس مرض خبیث کے عام ہوجانے کی صورت میں لازماً پید اہوجاتی ہے۔ اس کے عام ہوجانے کی صورت میں سن و سال کی تمییز بالکل اٹھ جاتی ہے۔ پھر ہر عمر کے دیوث قوم میں پھیل جاتے ہیں اور ان کے لیے یہ لعنت عادت اور پیشہ بن جاتی ہے۔ من دون النساء کے الفاظ اس ققلب ماہیت کے ظاہر کر رہے ہیں جو اس فساد طبیعت کا لازمی نتیجہ ہے کہ ساری تخلیقی قوت بالکل غلط ہدف پر برباد ہوتی ہے۔ بنجر سیراب ہوتے ہیں، کھیتیاں خشک ہوجاتی ہیں جس کا انجام حرث و نسل کی تباہی اور آخرت کی روسیاہی ہے۔ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ، فطرت سے بغاوت کی تعبیر ہے اور فطرت سے بغاوت کا انجام ظاہر ہے۔
Ayah 7:82

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

اس پر اس کی قوم والوں نے جواب دیا تو یہ دیا کہ ان کو اپنی بستی سے نکالو، یہ بڑے پارسا بنتے ہیں

وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْيَتِكُمْ ۚاِنَّهُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَ۔ اسلوب بیان سے واضح ہے کہ حضرت لوط ؑ کا ایک ایک فقرہ آنکھیں کھول دینے والا اور فطرت کو جھنجھوڑ دینے والا تھا لیکن جن کی مت ماری گئی ہو اور جن کی فطرت مسخ ہوچکی ہو ان پر یہ وعظ کیا کارگر ہوسکتا تھا ؟ وہ یہ سب سن کر بولے تو یہ بولے کہ ان کو بستی سے نکالو، یہ بڑے پارسا بنتے ہیں ! یہ کسی معاشرے کے بگاڑ کی آخری حد ہے۔ معاشرہ بگڑتے بگڑتے اس حد تک بگڑ جاتا ہے کہ ایک وقت آتا ہے جب سب اپنی ناک کٹوا بیٹھتے ہیں اور نکٹا ہونا ہی تہذیب اور فیش کا تقاضا بن جاتا ہے۔ اس وقت چہرے پر ناک کا نہ ہونا عیب نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کا ہونا ایک اعجوبہ گنا جاتا ہے اور ایسے لوگوں کو، اگر ظالموں کا بس چلتا ہے تو نکو بنا کر برادری سے باہر کردینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ يَّتَطَهَّرُوْنَ کے لفظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو گندگی میں آلودہ اور حضرت لوط ؑ اور ان کے ساتھیوں کو پاکیزہ سمجھتے تھے لیکن ان کی یہ پکیزگی پسندیدہ ہونے کے بجائے ان کے دل پر شاق تھی کہ آخر یہ کیوں بچے پھرتے ہیں۔ ہم جس چہ بچہ میں ڈبکیاں لگا رہے ہیں، یہ کیوں نہیں اس میں اترتے ؟
Ayah 7:83

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

تو ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو، اس کی بیوی کے سوا جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے بنی نجات دی

فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَهْلَهٗٓ اِلَّا امْرَاَتَهٗ ڮ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِيْنَ۔ اوپر اِنَّهُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَ سے یہ تو مترشح ہوتا ہے کہ کچھ لوگ تھے جو حضرت لوط ؑ پر ایمان لائے تھے لیکن اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اہل و عیال کے سوا کوئی اور ان پر ایمان لانے والا نہ بنا۔ اگر کچھ لوگ ایمان لائے ہوتے تو نجات پانے والوں میں ان کا ذکر بھی ہوتا۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ ایک قلیل گروہ، جیسا کہ لفظ اناس سے ظاہر ہوتا ہے، ان پر ایمان تو لایا لیکن یہ لوگ سب ان کے متعلقین ہی میں سے تھے اس وجہ سے قرآن نے ان کو لفظ ‘ اھل ’ ہی سے تعبیر فرمایا۔ اس ‘ اھل ’ میں سے بھی حضرت لوط ؑ کی بیوی خارج ہوگئی۔ اس کا سبب ظاہر ہے کہ اس کی طبیعت کا فساد ہوا۔ اس فساد طبیعت کو اس بات سے بھی تقویت ملی ہوگی کہ اس کا تعلق، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اسی ناہنجار قوم سے تھا۔ خاندان اور قوم کی عصبیت اکثر حق کی راہ میں رکاوٹ بنی ہے۔ اس زنجیر کو توڑنے میں صرف وہی لوگ کامیاب ہوئے ہیں جن کے اندر خدا کی لگن اتنی شدید ہوئی کہ وہ ہر مخالف جذبہ پر غالب آگئی۔ قرآن نے اس صورت کا ذکر خاص طور پر اس حقیقت کو نمایاں کرنے کے لیے فرمایا کہ نجات کی راہ صرف ان کے لیے کھلتی ہے جو خود اس کے طالب ہوں اور دوسری چاہتوں کو جو اس میں روک نہیں قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اگر یہ عشق حق اور اس کے لیے قربانی کا یہ جذبہ کسی میں نہ ہو تو ایک پیغمبر کی بیوی، ایک پیغمبر کا بیٹا، ایک پیغمبر کا باپ یا چچا ہونا بھی آدی کے لیے ذرا نافع نہیں ہوتا۔ حضرت لوط ؑ کی بیوی، حضرت نوح کے بیٹے، حضرت ابراہیم کے باپ اور سیدنا سول اللہ ﷺ کے چچا کا انجام اس حقیقت کی ناقابل تردید شہادت ہے۔
Ayah 7:84

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ان پر اچھی طرح پتھراؤ کردیا تو دیکھو، مجرموں کا کیا انجام ہوا

وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا ۭفَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِيْنَ۔ قوم لوط کا عذاب : یہاں بارش سے مراد پانی کی بارش نہیں ہے بلکہ کنکروں اور پتروں کی بارش ہے جو صحراؤں سے اٹھتی ہے اور قافلے کے قافلے اور بستیوں کی بستیاں جس کی اٹھائی ہوئی ریت اور جس کے برسائے ہوئے کنکروں اور پتھروں کے نیچے دب کر تباہ ہوجاتی ہیں۔ عربی میں اس کو حاصب یعنی کنکر پتھر برسانے والی آندھی کہتے ہیں۔ مولانا فراہی نے سورة ذاریات کی تفسیر میں اس عذاب کی نوعیت یہ بیان فرمائی ہے۔“ قوم لوط پر اللہ تعالیٰ نے ایک آندھی بھیجی جو سخت ہو کر بالآخر حاصب (کنکر پتھر برسانے والی آنکھی بن گئی اس سے اول اول تو ان کے اوپر کنکروں اور پتھروں کی بارش ہوئی، پھر اس نے اس قدر شدت اختیار کرلی کہ اس کے زوران کے مکانات بھی الٹ گئے۔ چناچہ انہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا “ فمنہم من ارسلنا علیہ حاصبا : ان میں سے بعض قوموں پر ہم نے کنکر پتھر برسانے والی آندھی بھیجی ”(عنکبوت :40)۔ نیز فرمایا ہے“ فجعلنا عالیہا سافلہا وامطرنا علیہم حجارۃ من سجیل منضود : پس ہم نے اس بستی کو تلپٹ کردیا اور ان کے اوپر تہ بہ تہ سنگ گل کے پتھروں کی بارش کی ”(حجر :74)۔ یعنی ایسی تند آندھی چلی کہ ان کے مکانات زمین کے برابر ہوگئے اور اوپر سے کنکر اور ریت نے ان کو ڈھانک لیا۔ جیسا کہ فرمایا ہے“ والمؤتفکۃ اھوا فغشاھا ما غشی : اور الٹی ہوئی بستیاں جن کو الٹ دیا اور پھر ان کو ڈھانک دیا جس چیز سے ڈھانک دیا ”(نجم :54) ” آگے مولانا نے تورات کے ترجموں پر تنقید کر کے یہ واضح فرمایا ہے کہ ترجمہ میں غلطی کر کے کس طرح انہوں نے صورت واقعہ کچھ سے کچھ بنا دی پھر خلاصہ بحث ان لفظوں میں پیش فرماتے ہیں۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ قوم لوط پر اللہ تعالیٰ نے سنگ ریزے برسانے والی آندھی کا عذاب بھیجا جس نے ان کو اور ان کے مکانوں کو ڈھانک لیا اور اگر اس کے ساتھ تورات کا بیان بھی ملا لیا جائے تو اس پر اتنا اضافہ ہوجائے گا کہ ان پر بجلی اور کڑکے کا عذاب بھی آیا ”
Ayah 7:85

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، اس نے دعوت دی، اے میرے ہم قومو، اللہ ہی کی بندگی کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح حجت آچکی ہے تو ناپ تول پوری کرو، لوگوں کی چیزوں میں کوئی کمی نہ کرو اور زمین میں، اس کی اصلاح کے بعد، فساد نہ برپا کرو، یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو

وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا۔ اہل معین اور حضرت شعیب ؑ کی سرگزشت : قومِ مدین کا مسکن بحر احمر کے ساحل پر کوہ طور کے جنوب و مشرق میں تھا۔ ان کے پیغمبر حضرت شعیب ہوئے۔ یہ وہی حضرت شعیب ہیں جنہوں نے اپنی ایک صاحب زادی کا نکاح حضرت موسیٰ کے ساتھ کیا تھا۔ اور حضرت موسیٰ نے ایک طویل عرصہ تک ان کے پاس قیام کیا اور ان کی بکریاں چرائیں۔ یہ پوری سرگزشت سورة قصص میں بیان ہوئی ہے اور اللہ کے پاکیزہ خصائل بندوں کی نہایت پاکیزہ اور موثر سرگزشت ہے۔ مدین کے لوگ چونکہ ایک اہم تجارتی گزر گار پر تھے اس وجہ سے انہوں نے تجارت میں بہت ترقی کی اور پھر ان کے اندر عقائدی خرابیوں کے ساتھ ساتھ وہ برائیاں بھی پیدا ہوگئیں جو تجارت پیشہ قوموں میں پیدا ہوجایا کرتی ہیں۔ آگے حضرت شعیب ؑ کی دعوت میں ان لوگوں کی ان برائیوں کا ذکر ہے۔ rnۭقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ قَدْ جَاۗء تْكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ۔ یہاں جس بینہ کا ذکر ہے اس کی کوئی تفصیل قرآن یا تورات میں مذکور نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد کوئی حسی معجزہ ہو جو عام سنت الٰہی کے مطابق، دوسرے رسولوں کی طرح ان کو بھی عطا ہوا لیکن قرآن نے اس کی طرف صرف اشارہ کردیا، اس کی نوعیت واضح کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد خود ان کی اپنی ذات اور اپنی دعوت ہو اس لیے کہ رسول خود اپنی ذات میں ایک کامل بینہ اور کامل حجت ہوتا ہے۔ وہ ہر پہلو سے حق کو اس طرح واضح اور مبرہن کردیتا ہے کہ ہٹ دھرم اور ضدی لوگوں کے سوا کسی کے لیے بھی اس سے اعراض کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ معجزہ نبوت کے شرائط میں سے نہیں بلکہ ضروریات اور توابع میں سے ہے۔ کوئی قوم اگر مطالبہ کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اگر چاہتا ہے، اتمام حجت کے طور پر، نبی کے ذریعہ سے معجزہ بھی صادر کرا دیتا ہے، نبی کی اصل دعوت ان بینات پر مبنی ہوتی ہے جو عقل و فطرت کے اندر ودیعت ہیں اور اس کی زندگی ان بینات کا مظہر کامل ہوتی ہے۔ وہ اپنی قوم کے اندر خدا کا ایک چلتا پھرتا نور ہوتا ہے۔ اس کی زبان سے نکلا ہوا ہر کلمہ، اس کا ہر اشارہ اور اس کا ہر عمل اس کی صداقت، اس کی حکمت اور اس کے سفیر الٰہی ہونے کی ایسی گواہی ہوتا ہے کہ اس کی تکذیب صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اپنے دل کی گواہی کے خلاف اس کی تکذیب کرنا چاہتے ہیں۔ فَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْـيَاۗءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا۔ معاملات میں دیانت اور راست بازی : تجارتی کاروبار اور لین دین میں چونکہ اشیا عام طور پر ناپی یا تولی جاتی ہیں اس غالب پہلو کے سبب سے ناپ تول ہی کا ذکر ہوا۔ اصل مقصود معاملات میں دیانت اور راست بازی کی تعلیم ہے۔ ناپ تول میں کمی کرنا کوئی منفرد برائی نہیں ہے بلکہ یہ کسی قوم کے اندر بہت سی برائیوں کے جمع ہوجانے کے علامت ہے۔ یہ درحقیقت عدل و قسط کے تصور کے مختل ہوجانے اور خدا کے قائم بالقسط ہونے کے عقیدے کے مردہ ہوجانے کی نشانی ہے جس کا فساد لازما زندگی کے ہر پہلو میں سرایت کرتا ہے لیکن سرطانی پھوڑے کی طرح اس کا ظہور کسی کے اندر کسی پہلو سے ہوتا ہے، دوسرے کے اندر کسی اور پہلو سے۔ مدین کے لوگ چونکہ تجارت پیشہ تھے اس وجہ سے ان کے اندر یہ ناپ تول کی خانت کی شکل میں ظاہر ہوا لیکن تھا یہ ان کے پورے نظام تمدن و معاشرت میں سرایت کیے ہوئے۔ اس وجہ سے قرآن نے ایفائے کیل و میزان کی تاکید کے ساتھ منفی پہلو سے بھی واضح فرما دیا کہ ملک میں فساد نہ مچاؤ یعنی یہ ناپ تول کی کمی ملک کے پورے نظام معاشرت و معیشت کے درہم برہم کردینے کے ہم معنی ہے۔ اگر تمہاری یہ روش نہ بدلی تو بالآخر تمدن کی عمارت کی کوئی اینٹ بھی اپنے مقام پر قائم نہ رہ سکے گی اس لیے کہ خدا نے آسمان و زمین کو ایک میزان پر قائم کیا ہے۔ اگر یہ میزان ایک پل کے لیے بھی مختل ہوجائے تو آسمان و زمین درہم برہم ہوجائیں۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ بندے اپنے دائرہ اختیار میں بھی ملک کے نظام کو اسی وقت تک قائم رکھ سکیں گے جب تک وزن و قسط کو قائم رکھیں گے، اگر وزن و قسط کو انہوں نے درہم برہم کیا تو پھر پورے نظام کی ایک ایک چول ہل جائے گی۔ سورة رحمان میں اس حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے۔“ ’ والسماء رفعہا ووضع المیزان الا تطغوا فی المیزان واقیموا الوزن بالقسط ولا تخسروا المیزان : اور آسمان کو بلند کیا اور اس میں ایک میزان رکھی، کہ تم بھی میزان میں حدود سے نہ ہٹو اور وزن بالکل ٹھیک ٹھیک قائم کو اور میزان میں کمی نہ کرو ’ (رحمان :7۔ 9) تمدن کے فساد کا ایک سبب : بعد اصلاحہا، کی قید کے اندر جو زور ہے اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ یہاں اوپر کی کی ساری تقریر کے بعد اس کا مفہوم مزید واضح ہوگیا ہے۔ اوپر آپ نے دیکھا کہ قوموں نے اپنی سرکشی کے سبب سے بار بار نظام حق و عدل کو درہم برہم کیا ہے اور قدرت کے ہاتھوں نے ہر بار اس کو درست کیا ہے۔ حضرت نوح ؑ کی سرگزشت سے لے کر حضرت شعیب ؑ کی سرگزشت تک ہر قوم اور ہر رسول کیت اریخ اس حقیقت کی شاہد ہے۔ اہل مدین کو بھی جو اقتدار حاصل ہوا تھا ایک فاسد اقتدار کو مٹا کر حاصل ہوا تھا۔ یہ لود دین و شریعت سے نا آشنا لوگ نہ تھے بلکہ حضرت ابراہیم ؑ کے خاندان سے نسبت رکھنے والے اور پچھلے نبیوں کی تعلیم کے حامل ہونے کے مدعی تھے لیکن دوسری قوموں کی طرح انہوں نے بھی اس تعلیم کو اپنی خواہشات نفس کے سانچے میں ڈھال لیا تھا۔ چناچہ اسی بنیاد پر حضرت شعیب نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔ اگر تمہیں ایمان کا دعوی ہے تو دعوے کی صداقت کے لیے ضروری ہے کہ اس فساد کی روش کو چھوڑ کر اصلاح کی وہ روش اختیار کرو جس کی دعوت میں دے رہا ہوں۔ یہی روش اس ایمان کا متقضی ہے جس کے تم مدعی ہو۔
Ayah 7:86

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور ہر راہ میں دھمکیاں دیتے، اہل ایمان کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس راہ کو کج کرتے نہ بیٹھو۔ یاد کرو جب کہ تم تھورے تھے تو تم کو خدا نے زیادہ کیا اور دیکھو فساد برپا کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا !

وَلَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَتَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَتَبْغُوْنَهَا عِوَجًا۔ یہ قوم کے سرکشوں کی ان سرگرمیوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ حضرت شعیب کے ساتھیوں کو ہراساں اور خوف زدہ کرنے اور ایمان کی راہ سے ہٹانے کے لیے اختیار کیے ہوئے تھے۔ معلوم ہوتا ہے جگہ جگہ ہر نکڑ پر گنڈے سرِ راہ بیٹھ جاتے اور جہاں کوئی مسلمان مل جاتا اس کے در پئے آزار ہوجاتے۔ اس کو ڈراتے دھمکاتے کہ وہ حضرت شعیب کا ساتھ اور ایمان کی راہ چھوڑ کر پھر ان کے طریقہ پر آجائے۔ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا کی وضاحت ہم دوسری جگہ کرچکے ہیں۔ خدا تک پہنچنے کی راہ توحید ہے۔ اس راہ میں کجی کرنے کے معنی اس کو شرک کی پگڈنڈیوں کی طرف موڑنے اور لوگوں و توحید سے ہٹٓ کر گمراہی کے راستوں پر ڈالنے کے ہیں۔ وَاذْكُرُوْٓا اِذْ كُنْتُمْ قَلِيْلًا فَكَثَّرَكُمْ ۠ وَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ۔ پہلے جملے میں شکر کی دعوت اور دوسرے جملے میں کفرانِ نعمت کے انجام کی طرف اشارہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم چھوٹے سے خاندان کی شکل میں اس علاقے میں آکر بسے تھے۔ پھر خدا نے تم کو ایک طاقتور قوم بنا دیا۔ تمہاری تعداد کی کثرت کے ساتھ تمہارے اسباب معیشت و تمدن میں بھی اضافہ ہوا یہاں تک کہ اسباب و وسائل کے اعتبار سے تم اس درجے کو پہنے جو آج تمہیں حاصل ہے۔ یہ سب اللہ کی دین ہے اور اس کا فطری تقاضا یہ ہے کہ خدا کے شکر گزار بنو اور زندگی کی وہ روش اختیار کرو جو خدا کو پسند ہے۔ لیکن تم نے اس کے برخلاف کفرانِ نعمت اور سرکشی کی راہ اختیار کی اور خدا کی زمین اس کی اصلاح کے بعد فساد مچا رہے ہو تو مفسدین کے انجام کو نہ بھولو۔ تمہارے دائیں بائیں ثمود اور قوم لوط کے آثار تباہی موجود ہیں۔ ان کے انجام سے سبق حاصل کرو۔
Ayah 7:87

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور جب کہ تم میں سے ایک گروہ اس چیز پر ایمان لایا ہے جو میں دے کر بھیجا گیا ہوں اور ایک گروہ ایمان نہیں لایا ہے تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے

وَاِنْ كَانَ طَاۗىِٕفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِيْٓ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَطَاۗىِٕفَةٌ لَّمْ يُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰي يَحْكُمَ اللّٰهُ بَيْنَنَا ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ۔ اوپر مفسدین کے جس انجام سے ڈرایا ہے یہ اسی سے متعلق ایک شبہ کا ازالہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مفسدین کا یہ انجام تو قطعی اور یقینی ہے، تمہیں جو مہلت مل رہی ہے اس سے یہ نہ سمجھو کہ میری بات جھوٹی ہے۔ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے۔ خدا نے اب تک جو تمہیں مہلت دے رکھی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تم میں سے ایک گروہ میری بات پر ایمان لایا ہے۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم میں اور بھی جن کے اندر کچھ صلاحیت ہے وہ چھٹ کر علیحدہ ہوجائیں۔ پس ان کی خاطر تمہیں یہ مہلت مل رہی ہے۔ اس مہلت تک انتظار کرو اس کے بعد خدا ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرما دے گا اور وہ بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے۔ مفسدین کی مہلت کا قانون : یہ حضرت شعیب نے ایک سنت الٰہی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک شکل تو یہ ہوتی ہے کہ قوم کی غالب اکثریت رسول کی دعوت کا انکار کردیتی ہے اور اس انکار پر اڑجاتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ بات جلد واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ یہ قوم ایمان کی صلاحیت سے بالکل خالی ہے۔ پھر اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر اس پر عذاب بھی جلد آجاتا ہے دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ قو کے اندر سے ایک گروہ ایمان لاتا ہے، دوسرا گروہ اس کی مخالفت کرتا ہے۔ یہ صورت اس بات کا رینہ ہوتی ہے کہ اس قوم کے اندر کچھ صلاحیت موجود ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کو مزید بلویا جائے تو اس کے اندر سے کچھ مزید مکھن نکلے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ اپنے بندوں پر غایت درجہ مہربان اور قہر کرنے میں بہت دھیما ہے اس وجہ سے وہ ایسی صورت میں قوم کو مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ نبی اور صالحین اپنی پوری قوم کو اپنے چھاج میں اچھی طرح پھٹک لیتے ہیں۔ اس عمل کے پورے ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ اس قوم کا فیصلہ فرما دیتا ہے۔ اس آیت سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ قوم کو یہ مہلت ان صالحین کی برکت سے ملتی ہے جو اس کے اندر سے رسول کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں۔ فاصبروا یہاں انتظار کے معنی میں ہے اور خیر الحاکمین میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بہرحال اس کا فیصلہ بالکل حق و عدل پر مبنی ہوگا اور ٹھیک اس وقت ہوگا جب کہ اس کو ہونا چاہیے۔
Ayah 7:88

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

اور اس کی قوم کے بڑوں نے، جنہوں نے تکبر کیا، کہا کہ اے شعیب، ہم تم کو اور جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال کے رہیں گے یا تم ہماری ملت میں پھر آجاؤ۔ اس نے کہا کیا جب کہ ہم اس سے نفرت کرتے ہوں تب بھی !

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ الایہ۔ یہ قوم کے مستکبرین کی طرف سے حضرت شعیب اور ان کے ساتھیوں کو آخری دھمکی ہے کہ یا تو تم ہماری ملت میں واپس آجاؤ ورنہ ہم تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو اپنی بستی سے نکال چھوریں گے۔ اس پر حضرت شعیب ؑ نے فرایا اَوَلَوْ كُنَّا كٰرِهِيْنَ ، یعنی کیا تم اپنی ملت میں لوٹنے پر ہماری خواہش اور ارادہ کے علی الرغم ہمیں مجبور کرو گے ؟ حضرت شعیب ؑ کے اس ارشاد سے یہ بات صاف نمایاں ہے کہ انہوں نے وطن سے نکالے جانے کی دھمکی کو تو یک قلم نظر انداز کردیا لیکن ان کی دوسری دھمکی کا نوٹس لیا اور اس کا جواب بڑے واضح اور قطعی لفظوں میں دیا جس کی تفصیل آگے والی آیت میں ہے۔
Ayah 7:89

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

ہم اللہ پر جھوٹ تہمت باندھنے والے ٹھہریں گے اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دی۔ یہ ہم سے تو ہونے کا نہیں کہ ہم اس ملت میں لوٹ آئیں مگر یہ کہ اللہ ہمارے رب ہی کی مشیت ہو تو اور بات ہے۔ ہمارے رب کا علم ہر شے کو محیط ہے۔ ہم نے اپنے رب پر بھروسہ کیا۔ اے ہمارے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردے۔ تو بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے

قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِيْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا۔ یہ بڑا ہی فیصلہ کن جواب ہے۔ اس میں ایمان پر غیر متزلزل عزم کا اظہار بھی ہے اور ملت کفر سے انتہائی بیزاری کا اعلان بھی۔ حضرت شعیب نے اول تو اس ملت کو افتراء علی اللہ قرار دیا گویا سراسر جھوٹ کا مجموعہ جس کو بالکل بےسند خدا کی طرف نسبت دی گئی ہے۔ دوسرے فرمایا کہ جب اللہ نے اپنے فضل و رحمت سے اس لعنت سے ہمیں نجات دی تو ہمارے لیے اس میں دوبارہ مبتلا ہونے کا کیا سوال ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہ جواب حضرت شعیب اپنے ان ستھیوں کی طرف سے بھی دے رہے ہیں جو حضرت شعیب پر ایمان لانے سے پہلے قو کی عام گمراہی میں مبتلا رہ چکے تھے اس وجہ سے انہوں نے“ بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دی ”کے الفاظ فرمائے ورنہ جہاں تک حضرات انبیاء کا تعلق ہے وہ بعثت سے پہلے بھی ہدایت فطرت پر ہوتے ہیں۔ ان کا دامن شرک سے کبھی آلودہ نہیں ہوتا۔ ۭوَمَا يَكُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِيْهَآ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ رَبُّنَا۔ اس فقرے کے پہلے ٹکڑے میں اپنے عزم کا اظہار اور دوسرے تفویض الی ہے اور یہی عزم اور تفویض توحید کی حقیقت ہے۔ ارشاد کا مدعا یہ ہے کہ جہاں تک ہمارا تعلق ہے یہ صاف سن لو کہ اب تمہاری ملت میں واپس آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ لیکن اللہ کی مشیت ہر چیز پر غالب ہے۔ اس کی آزمائشوں میں کامیاب اترنا اسی کی بخشی ہوئی توفیق پر منحصر ہے یہ صرف اسی کو علم ہے کہ کس کے لیے کیا مقدر ہے اور کس کا انجام کیا ہونا ہے وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا، بس ہمارا بھروسہ صرف اللہ ہی پر ہے۔ اسی نے ہماری اس راہ کی طرف رہنمائی فرمائی ہے اور اسی سے یہ امید ہے کہ وہ ہمیں ٹھکانے لگائے گا۔ عَلَي اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا پس ہماری اسی سے یہ دعا ہے کہ اے ہمارے رب، ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور تو بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے۔ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفٰتِحِيْنَ۔ بعینہ یہی بات سیدنا ابراہیم ؑ نے فرمائی تھی جو سورة انعام میں گزر چکی ہے۔ قال اتحاجونی فی اللہ وقد ھدان ولا اخاف ما تشرکون بہ الا ان یشاء ربی شیئا، وسع ربی کل شیء علما : کیا تم اللہ کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو اور حال یہ ہے کہ اس نے مجھے ہدایت بخشی اور میں ان چیزوں سے نہیں ڈرتا جن کو تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو مگر یہ کہ میرا رب ہی کوئی بات چاہے، میرے رب کا علم ہر چی کو محیط ہے۔
Ayah 7:90

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اور ان بڑوں نے جنہوں نے اس کی قوم میں سے کفر کیا، کہا کہ اگر تم شعیب کی پیروی کروگے تو بڑے خسارے میں پڑوگے

وَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَىِٕنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّـخٰسِرُوْنَ۔ حضرت شعیب کے مذکورہ بالا فیصلہ کن جواب کے بعد اب سے تو ان متمردین کے لیے کچھ کہنے سننے کی گنجائش باقی نہیں رہی لیکن چلتے چلاتے انہوں نے ایک آخری دھمکی ان غریب مسلمانوں کو اور سنا دی جو حضرت شعیب پر ایمان لائے تھے کہ اگر تم لوگوں نے اس شخص کا ساتھ نہ چھوڑا تو یاد رکھو کہ بڑے ہی خسارے میں رہو گے۔ اس خسارے کی انہوں نے کوئی وضاحت نہیں کی اس لیے کہ اس کے ابہام میں ہی سب کچھ چھپا ہوا ہے اور اس لفظ کے استعمال میں ہمدردی کی نمائش بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تو نیک و بد تمہیں سمجھا دیا ہے لیکن اپنی بہبود کی یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی ہے تو اس کے نتائج خود بھگتوگے۔
Ayah 7:91

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

تو ان کو کپکپی نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے

قوم شعیب کا عذاب : فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ۔ بعینہ یہی آیت اوپر قوم صالح کی سرگزش میں گزر چکی ہے وہاں ہم نے ذکر کیا ہے کہ یہ مجرد عذاب کی تعبیر ہے۔ رہا یہ سوال کہ اس عذاب کی نوعیت کیا تھی تو اس سوال کی وضاحت اس لفظ سے نہیں ہوتی۔ اس عذاب کی تعبیر سورة ہود آیت 94 میں لفظ صیحہ سے کی گئی ہے جس کے معنی ڈانٹ اور کڑک کے ہیں۔ پھر اسی کی تعبیر سورة شعراء آیت 189 میں عذاب یوم الظلۃ سے کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عذاب دور سے دیکھنے میں غبار یا دھوئیں کے ایک ستون یا پہاڑ کی شکل میں نظر آیا۔ یہ قرینہ، جیسا کہ ہم قوم لوط کی سرگزشت میں بیان کرچکے ہیں، حاصب کے عذاب کا ہے۔ حاصب کے عذاب میں رجفہ، صیحہ اور ظلہ، سب جمع ہوجاتے ہیں۔ اس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ قرا ان کے ایک اور مقام سے بھی یہ اشارہ نکلتا ہے کہ ان پر قوم لوط ہی والا عذاب نازل ہوا تھا۔ سورة ہود میں حضرت شعیب کی زبان سے قوم کو مخاطب کر کے یہ دھمکی نقل ہوئی ہے۔ یقوم لایجرمنکم شقاقی ان یصیبکم مثل ما اصاب قوم نوح او قوم ھود او قوم صالح وما قوم لط منکم ببعید : اے میرے ہم قومو، میری مخالفت تمہارے لیے کہیں اس بات کا باعث نہ بن جائے کہ تم پر بھی اسی طرح کا عذاب آدھمکے جس طرح کا عذاب قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح پر آیا اور قوم لوط تم سے کچھ دور بھی نہیں، اس آیت کے آخری فقرے پر غور کیجیے تو اس سے اشارہ نکلتا ہے کہ یہ بھی اسی حاصب کی زد میں آئے جس کی زد میں ان کی پیشرو پڑوسی قوم لوط کے لوگ آئے تھے۔
Ayah 7:92

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی گویا کبھی اس بستی میں بسے ہی نہیں، جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہی نامراد ہوئے

الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا شُعَيْبًا كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا ڔ اَلَّذِيْنَ كَذَّبُوْا شُعَيْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِيْنَ۔ یہ اس عذاب کا نتیجہ بیان ہوا ہے اور اس کے دونوں فقروں ان دونوں دھمکیوں کی طرف تلمیح ہے جو قوم شعیب کے کفار نے حضرت شعیب اور ان کے ساتھیوں کو دی تھیں۔ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ ہم تم کو اپنی بستی سے نکال کر چھوڑیں گے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خود اس دیار سے اس طرح مٹے (گویا کہ ان تلوں میں کبھی تیل ہی نہ تھا)۔ انہوں نے حضرت شعیب ؑ کے ساتھیوں کو دھمکی دی تھی کہ اگر تم اس شخص کی پیروی سے دست کش نہ ہوئے تو بڑے خسارے میں پڑو گے۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہی خسارے میں پڑے۔
Ayah 7:93

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

تو وہ ان کو یہ کہہ کر چھوڑ کر چل دیا کہ اے میرے ہم قومو، میں نے تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے، تمہاری خیر خواہی کردی تو اب میں کفر کرنے والوں کا غم کیوں کروں ! !

فَتَوَلّٰي عَنْهُمْ وَقَالَ يٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ۔ یہی آیت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ اوپر قوم صالح کی سرگزشت میں گزر چکی ہے۔ ملاحظ ہو آیت 79۔ وہاں ہم نے اس کے موقع و محل کی تفصیل سے وضاحت کی ہے۔ حضرت شعیب ؑ نے یہ بات درحقیقت اس وقت فرمائی ہے جب انہوں نے خدا کی طرف سے حکم ہجرت مل جانے کے بعد اعلان برات کر کے ہجرت فرمائی ہے لیکن عذاب کی مبادرت دکھانے کے لیے اس کا ذکر عذاب کے ذکر کے بعد ہوا۔ اس اسلوب کی مثالیں قرآن میں ایک سے ایک بڑھ کر لطیف موجود ہیں جو پیچھے بھی گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی۔ فَكَيْفَ اٰسٰي عَلٰي قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ میں مرجد افسوس کی نفی نہیں بلکہ ہمدردانہ افسوس کی نفی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں نے تمہیں خدا کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی میں اپنے دن رات ایک کردیے۔ اس سب کے باوجود بھی اگر تم اپنا بیڑا غرق کرنے پر تلے بیٹھے ہو تو اب میرے لیے تمہارے اس انجام پر ترس کھانے کا کیا موقع باقی رہا ! !
Ayahs 7:94–95

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور ہم نے جس بستی میں کوئی رسول بھیجا، اس کے باشندوں کو مالی اور جسمانی مصائب سے آزمایا کہ وہ رجوع کریں۔

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے دکھ کو سکھ سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ دکھ اور سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچے ہیں۔ پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑلیا اور وہ اس کا کوئی گمان نہیں رکھتے تھے۔

آیت 94 تا 102 کا مضمون : اوپر کی تمام سرگزشتیں سنانے سے مقصود قریش کو آگاہ کرنا تھا کہ جس کسوٹی پر یہ قومیں پرکھی گئیں وہی کسوٹی اب تمہارے سامنے ہے اور تم بھی، اگر تم نے اپنے رسول کی تکزیب کردی، وہی انجام دیکھو گے جو انہوں نے دیکھا اس وجہ سے آگے کی آیات میں وہ اصول و ضوابط بھی نگاہوں کے سامنے کردیے ہیں جو مذکورہ بالا تاریخ سے سامنے آتے ہیں تاکہ قریش جو قدم بھی اٹھائیں نتائج سے اچھی طرح آگاہ ہو کر اٹھائیں۔ تفسیر آیت 94۔ 95۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّبِيٍّ اِلَّآ اَخَذْنَآ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُوْنَ۔ ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰي عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَاۗءَنَا الضَّرَّاۗءُ وَالسَّرَّاۗءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۔ باساء اور ضراء کا مفہوم : باساء اور ضراء کی تحقیق انعام :42 کے تحت بیان ہوچکی ہے۔ یہ دونوں لفظ جب ایک دوسرے کے بالمقابل استعمال ہوتے ہیں تو پہلے سے مالی آفتیں مراد ہوتی ہیں۔ مثلا قحط، گرانی، کساد بازاری وغیرہ اور دوسرے سے جسمانی آفتیں مثلاً بیماریاں اور وبائیں وغیرہ۔ لیکن جب ضراء کا لفظ سراء کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو یہ دونوں الفاظ ہر قسم کی بد حالی و خوش حالی کو اپنے اندر سمیٹ لیتے ہیں۔ عنا الشیء کثر و طال، فلاں چیز خوب بڑھی، خوب اپجی، عنت الارض، غطاھا النبات، زمین سبزہ اور نباتات سے ڈھک گئی۔ نبی کی منادی توبہ کی بازگشت آفاق میں : یہ اس سنت الٰہی کا بیان ہے جو انبیاء کی بعثت کے ساتھ لازماً ظاہر ہوتی ہے اور ان تمام انبیاء کے زمانوں میں ظاہر ہوئی جن کی سرگزشتیں اوپر بیان ہوئیں۔ وہ سنت یہ ہے کہ جب نبی توبہ و استغفار اور جزا و سزا کی منادی شروع کرتا ہے تو اس کے محرکات و مویدات اس کائنات میں بھی ظاہر ہونا شروع ہوتے ہیں۔ ایک طرف پیغمبر لوگوں کو غفلت و خدا فراموشی کے انجام، فساد فی الارض کے نتائج اور دنیا اور آخر میں خدا کی پکر سے ڈراتا ہے، دوسری طرف اللہ تعالیٰ لوگوں کو سیلاب، قحط، وبا، طوفان کی آزمائشوں میں بھی مبتلا کرتا ہے تاکہ لوگ آنکھوں سے بھی، اگر ان کے پاس دیدہ عبرت نگاہ ہو، دیکھیں کہ اس طرح اللہ جب چاہے اور جہاں سے چاہے ان کو پکڑ سکتا ہے اور پھر خدا کے سوا کوئی ان کو بچانے والا نہیں بن سکتا۔ اس طرح گویا دعوت کے ساتھ واقعات کی تائید اور عقل و فطرت کی شہادت کے ساتھ مشہادہ کی اثر انگیزی بھی جمع ہوجاتی ہے۔ نبی جو کچھ کہتا ہے، آسمان و زمین دونوں مل کر اپنے اسٹیج پر گویا اس کے مناظر دکھا بھی دیتے ہیں تاکہ جن کے اندر اثر پذیری کی کچھ رمق ہو وہ خدا کے آگے جھکیں اور توبہ و اصلاح کریں۔ آزمائش کی ایک اور کروٹ : جن کے پاس دیکھنے والی آنکھیں اور اثر قبول کرنے والے دل ہوتے ہیں وہ ان آزمائشوں سے فائدہ اٹھاتے اور خدا کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ ان کو گویا نبی کی دعوت کی باز گشت تمام عناصر کائنات سے سنائی دیتی ہے اور وہ صرف کانوں سے سنتے ہی نہیں بلکہ آنکھوں سے دیکھتے بھی ہیں لیکن جن کے دل پتھر اور کان بہرے ہوچکتے ہیں ان کے لیے یہ سنت الٰہی ایک دوسری شکل اختیار کرلیتی ہے۔ وہ یہ کہ پھر اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے دیتا ہے۔ بدحالی کی جگہ خوش حالی آجاتی ہے، دنیوی اسباب و وسائل کے کے ہر گوشے میں ترقی و فراخی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں، آزمائشوں اور تکلیفوں کے دن ذہنوں سے نکل جاتے ہیں۔ پھر سرکش لوگ چہکنا اور نبی اور اس کے ساتھیوں کا مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) یہ عقل کے کوتاہ لوگ، پچھلے قحط یا گزشتہ سیلاب یا فلاں آفت کو ہمارے اعمال و عقائد کی خرابی پر خدا کی تنبیہ سمجھتے تھے اور اپنے وعظوں میں طرح طرح سے ہم کو ڈراتے اور پست ہمت کرتے رہے۔ حالانکہ ان باتوں کو ایمان و اخلاق سے کیا تعلق ؟ اس قسم کی گردشیں قوموں کی زندگی میں آیا ہی کرتی ہیں۔ ایسے دن کچھ ہمارے ہی اوپر تو نہیں گزرے ہیں۔ ہمارے باپ دادوں پر بھی گزرے ہیں جو بڑے اچھے اور نیک نہاد لوگ تھے۔ یہ تو زمانے کے اتفاقات ہیں۔ کبھی تنگی ہے کبھی فراخی، کبھی فصل اچھی ہوئی، کبھی ماری گئی، کبھی سیلاب آگیا، کبھی قحط پڑگیا، ان چیزوں کو اعمال و اخلاق سے باندھ دینا محض خرد باختگی اور وہمی پن ہے۔ جس طرح آفات و مصائب کے ظہور کا مقصد لوگوں کو جھنجھوڑنا اور بیدار کرنا بتایا گیا ہے لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُوْنَ ، اسی طرح اس امہال اور ڈھیل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ ان تنبیہات سے نہیں جاگے ہیں وہ بد مست ہو کر گہری نیند سو جائیں تاکہ خدا کا عذاب ان کو ایسی حالت میں دبوچے کہ ان کو خبر نہ ہو کہ کب آیا اور کہاں سے آیا۔ فاخذناہم بغتۃ وہم لا یشعرون۔ نیک وبد کے لیے مشترک تنبیہی آفتیں : یہ بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ جو آزمائشیں اور آفتین لوگوں کے اندر توجہ الی اللہ یا قرآن کے الفاط میں تضرع پیدا کرنے کے لیے آتی ہیں وہ عام اور مشترک ہوتی ہیں ان میں نیک و بد دونوں ہی تپائے جاتے ہیں۔ یہ صورت حال نادانوں اور سرکشوں کے لیے ایک وجہ فتنہ و مغالطہ بن جاتی ہے۔ وہ سمجھ بیتھتے ہیں کہ جب اس قحط یا وبا نے عقیدہ اور عیقدہ، کردار اور کردار میں کوئی فرق نہیں کیا، اس کا نشانہ جس طرح ہم بنے اسی طرح ہمارے ملامت گر اور ناصح بھی بنے تو یہ کس طرح تسلیم کیا جائے کہ اس کا کوئی رشتہ کفر و ایمان اور عقائد اعمال سے ہے، یہ بات تو اس صورت میں صحیح ہوتی جب نبی اس کے ساتھی اس قحط یا آفت سے اس طرح بچا لیے گئے ہوتے کہ ان کے لیے تو آسان سے من وسلوی اترتا ہوتا اور ہم سوکھے چمڑے چابتے ہوتے۔ جب یوں نہیں ہوا بلکہ ہم اور وہ دونوں اپنی اپنی جگہ گرفتار ومصائب رہے توئی جس طرح مانا جائے کہ ان مصائب کا کوئی علاقہ لوگوں کی نیکی وبدی سے ہے۔ درحقیقت یہی مغالطہ ہے جو انبیاء کے مخالفین کی طرح آج کے بد مستوں کو بھی اندھا بنائے ہوئے ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ سائیکلون اٹھا وہ بلا امتیاز نیک و بد سب کو بہا لے گیا۔ زلزلہ آیا اس نے مندر، مسجد، کلیسا سب ڈھا دیے، قحط آیا اور اس کی زند میں نمازی اور غیر نمازی، فاسق اور مومن سب آئے۔ یہ چیز ان کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ اول تو وہ ان چیزوں سے کوئی صحیح اثر لیتے ہی نہیں اور اگر وقتی طور پر دلوں میں کچھ گداز پیدا ہوتا بھی ہے تو اس کا اثر دیرپا نہیں ہوتا۔ بہت جلد خواہشیں ان کو اسی غفلت و سرمستی میں مبتلا کردیتی ہیں جس میں وہ اب تک مبتلا رہے تھے اور ان کا مرشد شیطان ان کو وہی جاہلی فلسفہ از سر نو پڑھا دیتا ہے جس کا ذکر اوپر گزرا کہ قد مس اباءنا الضراء والسراء اس قسم کے سرد و گرم دن تو قوموں پر آتے ہی رہتے ہیں۔ اس ابلیسی مغالطہ سے محفوظ رہنے کے لیے اس حقیقت کو ہمیشہ مستحضر رکھنا چاہیے کہ تنبیہی مصائب میں اگرچہ ظاہر کے اعتبار سے نیک وہ بد میں کوئی امتیاز نہیں ہوتا اس لیے کہ ان کا مقصود سزا دینا نہیں۔ بلکہ لوگوں میں تضرع پیدا کرنا ہوتا ہے لیکن نتائج کے اعتبار سے بڑا فرق ہوتا ہے۔ اہل ایمان اگر ان مصائب میں کوئی حصہ پاتے ہیں تو اس سے ان کے تضرع میں مزید اضافہ ہوتا ہے جس سے ان کو کوتاہیوں کی تلافی اور ان کے مراتب و مدارج میں ترقی ہوتی ہے۔ برعکس اس کے جن لوگوں کے اندر ان سے تضرع پیدا نہیں ہوتا ان پر اللہ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور اس کے بعد جب ان پر فیصلہ کن عذاب آتا ہے تو وہ ان کا استیصال کردیتا ہے۔ پھر اس کی زد سے ان کے اندر کے وہی لوگ بچتے ہیں جو اصلاح منکر کا فرض ادا کرنے والے ہوتے ہیں۔ دو
Ayah 7:96

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا

وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۔ اھل القری سے مراد وہی قومیں ہیں جن کی تکذیب کی داستان اوپر بیان ہوئی ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ ایمان لاتے اور تقوی کی راہ اختیار کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ معاملہ نہ کرتا کہ ایک مہلت دینے کے بعد ان کو عذاب میں پکڑ لیتا بلکہ ان کے لیے آسمان و زمین دونوں طرف سے اپنی بےپایاں برکتوں کے دروازے کھول دیتا۔ دو اہم حقیقتیں : یہاں دو حقیقتیں واضح ہوئیں۔ ایک تو یہ کہ کسی قوم کو ڈھیل کے طور پر اسباب و مال کی جو فراخی حاصل ہوتی ہے وہ خدا کی رحمت و برکت نہیں ہوتی بلکہ اس کی نوعیت مریض کے آخری سنبھالے کی ہوتی ہے جس کے بعد ایک آخری ہچکی کی کسر باقی رہ جاتی ہے جو مریض کا خاتمہ کردیتی ہے۔ جس طرح شمع بجھنے سے پہلے ایک مرتبہ بھڑکتی ہے پھر بجھ جاتی ہے اسی طرح یہ قوم آخری بار بھڑک کر بجھ جاتی ہے۔ دوسری یہ کہ ایمان وتقوی کی زندگی جس طرح آخرت میں خدا کی رحمتوں کی ضامن ہے اسی طرح دنیا میں بھی اگر کوئی قوم اس کو اختیار کرے تو یہ آسمان و زمین کی تمام برکتوں اور فیروز مندیوں کی کلید ہے۔ نادان ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی کامیابیوں کی راہ میں خدا پرستی اور خدا ترسی کی کوئی رکاوٹ ہے۔
Ayahs 7:97–99

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

تو کیا بستیوں والے نچنت رہ سکے اس بات سے کہ آدھمکے ان پر ہمارا عذاب راتوں رات اور وہ سوئے پڑے ہوں۔

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

اور کیا بستیوں والے نچنت رہ سکے اس بات کہ ان پر آدھمکے ہمارا عذاب دن دہاڑے اور وہ کھیل کود میں ہوں

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

تو کیا وہ اللہ کی تدبیر سے بچ سکے۔ تو یاد رکھو کہ خدا کی تدبیر سے وہی لوگ نچنت ہوتے ہیں جو نامراد ہونے والے ہوں

تفسیر آیت 97۔ 99۔ اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰٓي اَنْ يَّاْتِيَهُمْ بَاْسـُنَا بَيَاتًا وَّهُمْ نَاۗىِٕمُوْنَ۔ اَوَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰٓي اَنْ يَّاْتِيَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّهُمْ يَلْعَبُوْنَ۔ اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ ۚ فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۔ خدائی پکڑ بےامان ہوتی ہے : اھل القری سے اشارہ انہی قوموں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر گزرا۔ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قریش کو توجہ دلائی کہ بتاؤ وہ خدا کے عذاب کے مقابل میں اپنے بچاؤ کے لیے کوئی بند باندھ سکے ؟ ہمارا عذاب ان پر رات کی تاریکیوں میں دبے پاؤں بھی آیا جب کہ وہ سو رہے تھے اور دن دہارے ڈنکے کی چوٹ بھی آیا جب کہ وہ اپنی دلچسپیوں اور سرگرمیوں میں مصروف تھے لیکن نہ رات میں وہ اس سے اپنے آپ کو بچا سکے نہ دن میں خدا کی تدبیر بےامان ہے۔ کسی کی طاقت نہیں کہ اس سے اپنے کو بچا سکے۔ اس وجہ سے کسی کے لیے جائز نہیں کہ اس سے نچنت اور بےخوف رہے۔ اس سے نچنت اور بےخوف صرف وہی رہتے ہیں جن کی شامت آئی ہوئی ہو اور وہ نامراد ہونے والے ہوں۔ ‘ مکر ’ جیسا کہ دوسرے مقام میں ہم واضح کرچکے ہیں، خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں۔ خفیہ تدبیر کا مطلب یہ ہے کہ خدا وہاں سے پکڑتا ہے جہاں سے کسی کو پکڑے جانے کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ اوپر تنبیہ کے بعد ڈھیل کی جو سنت بیا ہوئی وہ اس خفیہ تدبیر الٰہی کی ایک مثال ہے۔ قوم تو سمجھتی ہے کہ اب اس نے پالا مار لیا لیکن درحقیقت وہیں اس کی ہلاکت کا کھڈ ہوتا ہے۔
Ayah 7:100

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

کیا سبق نہیں ملا ان کو جو ملک کے وارث بنے ہیں اس کے اگلے باشندوں کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ابھی آ پکڑیں اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیں تو وہ سننے سمجھنے سے رہ جائیں

اَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَآ اَنْ لَّوْ نَشَاۗءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ۔ الذین یرثون الارض، سے مراد یہاں قریش ہیں۔ فرمایا کہ جو لوگ انہیں قوموں کے بعد جن کا ذکر اوپر گزرا اس ملک میں حکومت و اقتدار کے وارث ہوئے ہیں آخر وہ اپنے مورثوں کی تاریخ سے سبق کیوں نہیں لیتے، خدا نے جس ترازو اور جس باٹ سے ان کو تولا وہ اسی باٹ اور ترازو سے ان کو کیوں نہیں تولے گا ؟ فرمایا کہ آخر وہ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ جس طرح ہم نے ان کو ان کے جرموں کی پاداش میں ہلاک کردیا اسی طرح، جب چاہیں، ان کو بھی ہلاک کردیں۔ rnَنَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ بالکل اسی محل میں ہے جس محل میں سورة انعام میں فرمایا ہے قل ارءیتم ان اخذ اللہ سمعکم وابصارکم وختم علی قلوبکم من الہ غیر اللہ یاتیکم بہ۔ ان سے پوچھو اگر اللہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں سلب کرلے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے تو اللہ کے سوا کون ہے جو تمہیں یہ چیزیں واپس دے سکے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ دلوں پر مہر عذاب الٰہی کا مقدمہ ہے۔ کسی قوم پر عذاب الٰہی نازل ہونے سے پہلے اس کے لوں پر مہر لگتی ہے۔ اس باب میں خدا کا جو قانون ہے اس کی وضاحت ہم متعدد مقامات میں کرچکے ہیں۔ اسی کی دھمکی یہاں قریش کو دی ہے کہ ابھی تو ہم نے ان کے دلوں پر ہر نہیں کی ہے لیکن یہ ضد اور ہٹ دھرمی کی جس روش پر بڑھتے چلے جا رہے ہیں وہ وقت دور نہیں کہ ہم ان کے دلوں پر مہر کردیں اور یہ سننے سمجھنے سے بالکل ہی رہ جائیں۔ یہ ہمارے عذاب کا مقدمہ ہوگا جس کے بعد لازماً ہمارا فیصلہ کن عذاب نازل ہوجائے گا۔
Ayah 7:101

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ بستیاں ہیں جن کی سرگزشتوں کا کچھ حصہ ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان کے پاس ہمارے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ایمان لانے والے نہ بنے بوجہ اس کے کہ وہ پہلے سے جھٹلاتے رہے تھے۔ اسی طرح اللہ ٹھپہ لگا دیا کرتا ہے کافروں کے دلوں پر۔

تِلْكَ الْقُرٰي نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗىِٕهَا ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ ۚ فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ ۭكَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ۔ دلوں پر مہر کب لگتی ہے ؟ دلوں پر مہر کب لگتی ہے ؟ کس طرح کے لوگوں پر لگتی ہے اور بالآخر اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ اس آیت میں ان سوالوں کا جواب ہے۔ فرمایا کہ ہم نے قوموں کی جو سرگزشت تمہیں سنائی ہے لوگوں کو چاہیے کہ اس سے سبق لیں۔ فرمایا کہ ان کے پاس خدا کے رسول نہایت واضح نشانیاں لے کر آئے لیکن وہ ان پر ایمان لانے والے نہ بنے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پہلے سے خدا کی آیتوں اور نشانیوں کو جھٹلاتے رہے تھے۔ آدمی کا قاعدہ ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی عام آیات سے روگردانی کا عادی ہوجاتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کا دل ایسا پتھر ہوجاتا ہے کہ رسولوں کے ذریعہ سے خاص نشانیاں بھی ظاہر ہوتی ہیں تو وہ بھی اس پر کارگر نہیں ہوتیں۔ فرمایا کہ یہ طریقہ ہے ہمارے ہاں دلوں پر مہر لگانے کا۔ دل کا کام عبرت پذیری، تفکر، تفکر اور تعقل ہے۔ اگر کوئی گروہ اس طرح اپنی خواہشوں کا اندھا بہرا مرید بن جاتا ہے کہ تزکیر و تنبیہ کے بعد بھی وہ دل کی آنکھیں نہیں کھولتا تو ایسے لوگوں کے دل بالآخر بالکل جپاٹ ہو کے رہ جاتے ہیں۔ یہ ملحوظ رہے کہ بما کذبوا، یہاں یومنوا، کا مفعول نہیں ہے بلکہ ‘ ب ’ بیان سبب کے لیے ہے۔