7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 7:195

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں، کیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں، کیا ان کے آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں، کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہوں ؟ کہہ دو ، تم اپنے شریکوں کو بلاؤ، میرے خلاف چالیں چل دیکھو اور مجھے مہلت نہ دو

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ۔ بت پرستی کی تردید اس کے ظاہری اور باطنی، دونوں پہلوؤوں سے : بت پرستی دو جزوں سے مرکب ہوتی ہے۔ ایک تو وہ ذوات ہیں جن کو بت پرست اپنے زعم کے مطابق، خدائی میں شریک مانتے اور ان کو الہ قرار دیتے ہیں۔ دوسرے وہ پتھر اور سونے یا چاندی کی مورتیں ہیں جن کو وہ ان ذوات کے پیکر اور قالب کی حیثیت سے ڈھالتے یا تراشتے ہیں اور یہ گمان رکھتے ہیں ان مظاہر کے اندر ان کے مزعوم دیوتا حلول کر جاتے ہیں اور ان مظاہر کی پرستش ان آلہہ کی پرستش کا واسطہ اور ذریعہ ہے۔ نظریہ کے اعتبار سے تو بت پرستی کے حامی اس کی حمایت میں یہی بات کہتے ہیں لیکن عملاً ہوتا ہے یہ کہ عوام کالانعام سب کچھ ان مورتوں ہی کو سمجھتے ہیں جن کے آگے وہ ڈنڈوت کرتے اور نذر و قربانی پیش کرتے ہیں۔ قرآن نے یہاں بت پرستی کی اس کے دونوں ہی پہلو سامنے رکھ کر تردید کی ہے۔ اوپر کی آیات میں ذوات کو پیش نظر رکھ کر تردید فرمائی اب یہ ان کے مظاہر کو پیش نظر رکھ کر اس کی تردید ہو رہی ہے کہ دیکھ لو ان کے جو ہاتھ پاؤں، کان، آنکھ تم نے بنائے ہیں سب نمائشی اور دکھاوے کے ہیں، یہ اپنے چہرے سے مکھی بھی نہیں ہٹا سکتے اور اپنے سامنے رکھے ہوئے دودھ اور حلوے کی بھی کتوں اور بلیوں سے حفاظت نہیں کرسکتے تو یہ بھلا تمہاری کیا مدد کرسکیں گے جو تم نے ان کو اپنا ملجا و ماوی اور ولی و کارساز بنایا ہے۔ بعینہ یہی حقیقت زبور میں بدیں الفاط واضح فرمائی گئی ہے “ ان کے بت چاندی اور سونا ہیں یعنی آدمی کی دست کاری ان کے منہ ہیں، پر وہ بولتے نہیں آنکھیں ہیں، پر وہ دیکھتے نہیں ان کے کان ہیں، پر وہ سنتے نہیں۔ ناک ہیں، پر وہ سونگھتے نہیں۔ ان کے ہاتھ ہیں پر وہ چھوتے نہیں۔ پاؤں ہیں، پر وہ چلتے نہیں اور ان کے گلے سے آواز نہیں نکلتی۔ ان کے بنانے والے انہیں کے مانند ہوجائیں گے بلکہ وہ سب جو ان پر بھروسہ رکھتے ہیں ”(زبور باب 115: 3۔ 8)rnۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ۔ یہ مشرکین کی دھمکیوں کا جواب ہے کہ تم ان بےجان اور بےحرکت موتوں سے مجھے ڈراتے ہو کہ ان کی مذمت و مخالفت کے نتیجہ میں ان کا غضب مجھ پر بھڑکے گا۔ اگر تم یہ گمان رکھتے ہو تو تم اپنے ان سب دیویوں دیوتاؤں کو اپنی مدد کے لیے پکارو اور میر؁ خلاف جو تدبیر کرسکتے ہو کر گزرو، ذرا بھی رعایت نہ برتو اور ایک دن کے لیے بھی مجھے مہلت نہ دو۔
Ayah 7:196

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

میرا کارساز اللہ ہے جس نے کتاب اتاری ہے اور وہ نیکو کاروں کی کارسازی فرماتا ہے

اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ۔ ولی کے معنی ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہی، حامی و ناصر اور مرجع و کارساز کے آتے ہیں۔ اوپر آیات 192۔ 193 میں گزر چکا ہے کہ یہ بت جن کو یہ مشرکین پوجتے ہیں ان کی تو کیا مدد کریں گے خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے اور اگر یہ ان کو مدد و نصرت اور حمایت و ہدایت کے لیے پکاریں تو ان کا پکارنا اور نہ پکارنا دونوں یکساں ہے، وہ ان کی مدد ور ہنمائی کے لیے کبھی نہیں پہنچیں گے۔ اب یہ پیغمبر ﷺ کی زبان سے اللہ تعالیٰ جل شانہ کی شان بیان ہو رہی ہے کہ میرا حامی و ناصر وہ اللہ ہے جس نے میری اور خلق کی ہدایت کے لیے نہایت اہتمام کے ساتھ کتاب اتاری ہے اور جو اپنے نیکو کار اور صالح بندوں کو دوست رکھتا اور ہر مرحلہ میں ان کی مدد اور رہنمائی فرماتا ہے۔ دوسرے مقام میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ نزل میں اہتمام کا مضمون پایا جاتا ہے۔ یعنی اس نے نہایت اہتمام کے ساتھ اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے کتاب اتری ہے۔ یو تو بندہ ہر چیز کے لیے اپنے رب ہی کا محتاج ہے لیکن اس کی سب سے بڑی احتیاج ہدایت کے لیے ہے جس کا اہتمام خدا ہی نے فرمایا ہے تو آخر یہ اصنام و آلہہ کس طرض کی دوا ہیں اور کس احتیاج کے یے ان کی پوجا ہو رہی ہے۔
Ayah 7:197

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور جن کو تم اللہ کے ماسوا پکارتے ہو نہ وہ تمہاری ہی مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں

وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْن۔ یہ اوپر آیت 192 کا مضمون کسی قدر اسلوب کی تبدیلی کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔
Ayah 7:198

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اگر تم ان کو رہنمائی کے لیے پکارو وہ تمہارے بات نہ سنیں گے اور تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ تمہاری طرف تاک رہے ہیں لیکن انہیں سوجھتا کچھ بھی نہیں

وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ۔ اوپر آیت 193 کے مضمون کی وضاحت ہے یہاں لایسمعوا کا لفظ لا یتبعوکم کے صحیح مفہوم پر روشنی ڈال رہا ہے۔ اعجاز بیان کی ایک مثال : وَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ، اس ٹکڑے میں رویت، نظر، اور ابصار کے الفاظ اس خوبی سے استعمال ہوئے ہیں کہ بس قرآن کا اعجاز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بےبصرو، تم تو یہ خیال کر رہے ہو کہ یہ تمہیں ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہے ہیں لیکن انہیں سوجھتا سجھاتا کچھ بھی نہیں۔ تراھم میں واحد کا خطاب، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، جمع کے مفہوم میں ہے اور مخاطب مشرکین ہیں۔
Ayah 7:199

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

درگزر کرو، نیکی کا حکم دو اور جاہلوں سے اعراض کرو

خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ۔ پیغمبر اور مسلمانوں کو بعض ہدایات : اب یہ سورة کے آخر میں پیگمبر ﷺ کو اور آپ کے واسطہ سے مسلمانوں کو بعض مناسب وقت ہدایات دی گئی ہیں۔ لفظ عفو جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے، اس طرح کے سیاق وسباق میں جب آتا ہے تو دل سے معاف کردینے کے معنی میں نہیں بلکہ جرد درگزر کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ عوف ایسی بات کو کہتے ہیں جو عقل اور فطرت اور معقول لوگوں کے نزدیک جانی پہچانی ہوئی ہو۔ یہاں اس سے مراد توحید و معاد اور نیکی و عدل کی وہی باتیں ہیں جن کی اس دور میں اہل عرب کو دعوت دی جا رہی تھی اور جو یکسر عقل و فطرت کی شہادت پر مبنی اور سلیم الفطرت طبائع کے لیے ان کے دل کی آواز تھیں۔ فرمایا کہ تم توحید اور معاد، نیکی اور عدل کی جو دعوت دے رہے ہو، اس پر جمے رہو اور ان جاہلوں کی ژاژ خائیوں سے ابھی درگزر کرو۔ جلد وہ وقت آنے والا ہے جب یہ اپنی ان بوالفضولیوں کا نتیجہ خود دیکھ لیں گے۔
Ayah 7:200

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 7:200 in the Quran reader

اگر تمہیں کوئی وسوسہ شیطانی لاحق ہونے لگے تو اللہ کی پناہ چاہو، بیشک وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۭاِنَّهٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ نزغ کے معنی چرکا لگانا، کچوکا لگانا، زخم پہنچانا۔ یہ تدبیر بیان ہوئی ہے۔ روش عفو پر قائم رہنے اور جاہلوں کی روش سے اعراض اور ان کے کچوکوں اور طعنوں کے صدمات سے اپنے دل کو محفوظ رکھنے کی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان شیاطین جن و انس کی ہرزہ سرائیوں اور خاکبازیوں سے دل کو کوئی صدمہ پہنچے تو اپنے رب کی پناہ ڈھونڈو، تمہار رب سمیع وعلیم ہے، تم جب بھی اس کی طرف رجوع کرتے ہو وہ تمہاری دعائیں اور فریادیں سنتا، تمہارے حالات اور پریشانیوں کو جانتا ہے اور شیاطین کی فتنہ انگیزیوں اور چیرہ دستیوں سے بھی وہ اچھی طرح باخبر ہے، وہ تمہارے ہر غم کو دور فرمائے گا۔
Ayah 7:201

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ Open ayah 7:201 in the Quran reader

جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی شیطانی چھوت لاھق ہونے لگتی ہے وہ خدا کا دھیان کرتے ہیں اور دفعۃ ان کے دل روشن ہوجاتے ہیں

اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا۔ اوپر خذ العفوا میں خطاب اگرچہ واحد سے ہے لیکن یہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، آنحضرت ﷺ واسطے سے تمام مسلمانوں سے چناچہ اس آیت میں جمع کے اسلوب نے اس مخفی حقیقت کو واضح کردیا۔ فرمایا کہ جو لوگ جہالت کے بجائے تقوی کی روش اختیار کرتے ہیں جب کبھی ان کو جاہلوں کی جہالت اور شیاطین کی شیطنت کا کوئی جھٹکا لگتا ہے تو وہ اپنے رب کو یاد کرتے ہیں جس سے فوراً ان کا باطن روشن ہوجاتا ہے اور اشرار و معاندین کی ساری خاکبازی کے باوجود ان کی راہ ان کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے پاتی۔ یہ گویا اس استعاذہ کا طریقہ اور فائدہ بتا دیا گیا جس کی اوپر والی آیت میں ہدایت ہوئی ہے کہ خدا کی پناہ میں داخل ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے رب کو یاد کرے یہ چیز دل کے اندر ایسی بصیرت اور ایسی قوت و ہمت پیدا کر دے گی کہ دفعۃً آنکھوں کے آگے سارا غبار چھٹ جائے گا۔
Ayah 7:202

وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ Open ayah 7:202 in the Quran reader

اور جو ان نا خدا ترسوں کے بھائی ہیں وہ ان کو گمراہی میں بڑھاتے ہیں پھر کوئی کسر نہیں چھوڑتے

وَاِخْوَانُهُمْ يَمُدُّوْنَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُوْنَ۔ ھُم کا مرجع وہ جاہلین ہیں۔ جن کا ذکر اوپر آیت 199 میں گزرا، اخوان سے ان کے وہ ساتھی مراد ہیں جن کے ہاتھوں میں ان کی باگ ہے، عام اس سکے وہ شیاطین انس میں سے ہوں یا شیاطین جن میں سے۔ فرمایا کہ اہل ایمان کو تو خدا کی یاد سنبھال لیتی ہے لیکن جاہلین کو ان کے شیاطین گمراہی کی وادیوں میں بھٹکاتے بھٹکاتے آخری منزل پر پہنچا دیتے ہیں، ذرا بھی کسر نہیں اٹھا رکھتے کہ باز گشت کا کوئی امکان باقی رہے۔
Ayah 7:203

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:203 in the Quran reader

اور جب تم ان کے پاس کوئی نشانی نہیں لاتے کہتے ہیں کہ اسے کیوں نہ گھڑ لائے ! کہہ دو ، میں تو بس اسی چیز کی پیروی کرتا ہون جو میرے رب کی طرف سے مجھ پر وحی کی جاتی ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھولنے والی آیات اور ہدایت و رحمت ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں

وَاِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰيَةٍ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا ۭقُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ ۚ هٰذَا بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔ شیطانی طعنے اور ان کا مقابلہ : یہ ان شیطانی طعنوں اور نزغات کی ایک مثال بیان ہوئی ہے جن سے کفار کے ہاتھوں آنحضرت ﷺ کو ہر وقت سابقہ تھا۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم ان کے مطالبہ پر ان کے انتخاب کے مطابق معجزہ نہیں دکھاتے تو یہ تمہیں طعنہ دیتے ہیں کہ یہ کہیں سے کیوں نہیں چھانٹ لائے ؟ اس قول سے ظالموں کا مطلب یہ ہوتا کہ جہاں تک قرآن کا تعلق ہے اس کا معاملہ تو بہت آسان ہے۔ ادھر ادھر سے جو باتیں اگلوں کے واقعات اور کاہنوں اور اہل کتاب کی روایات پر مشتمل کانوں میں پڑیں ان میں سے جو باتیں دل کو بھا گئیں ان کو جوڑ جاڑ کر کچھ کلام بنایا اور اس کو لا کر ہمیں اس دعوے کے ساتھ سنا دیا کہ یہ اللہ نے اپنے خاص فرشتے کے ذریعے سے وحی بھیجی ہے لیکن اب ہم نے مطالبہ جو معجزے کا رکھ دیا ہے تو تمہاری کچھ پیش نہیں جاتی اس لیے کہ ادھر ادھر سے چھانٹ لینا اور چیز ہے، معجزہ دکھانا اور چیز ہے۔ یہ چھانٹ لینے کی چیز نہیں تھی کہ کہیں سے چھانٹ کر لاتے اور ہمیں دکھا دیتے کہ یہ لو، تمہارا مطالبہ پورا کردیا۔ گویا اس طعنہ میں صرف معجزہ نہ دکھا سکنے ہی کا طعنہ نہیں بلکہ اس سے زیادہ زہر آلود طعنہ اس کے اندر یہ مضمر ہے کہ نعوذ باللہ قرآن ایک من گھڑت چیز ہے جو ادھر ادھر سے اپنے ذوق کے مطابق چھانٹی ہوئی چیزوں کا مجموعہ ہے۔ اجتباء کا اصل لغوی مفہوم تو مجموعہ میں سے کسی چیز کو انتخاب کرلینا اور چھانٹ لینا ہے لیکن جب طنز کے سیاق وسباق میں یہ لفظ استعمال ہو، جیسا کہ یہاں ہے تو اس کے معنی گھڑنے اور بنالینے کے ہوجائیں گے اسی وجہ سے فرا نے اس کی تفسیر افتلیتہا افتری تھا سے کی ہے اور یہ تفسیر ہمارے نزدیک صحیح ہے۔ طنزیہ اسلوب میں الفاظ کے مفہوم بدل جایا کرتے ہیں۔ قُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ ، یہ پیغمبر کی طرف سے کفار کے مذکورہ بالا طنز کا جواب ہے اور دیکھیے کیسا باوقار اور بھر پور جواب ہے۔ فرمایا کہ کہہ دو تم جو چاہو سمجھو اور جو چاہو کہو، میں تو بس اسی وحی کی ییروی کر رہا ہوں جو میرے اوپر میرے رب کی جانب سے آتی ہے۔ اوپر جاہلوں کی جہالت سے اعراض کی جو ہدایت ہوئی تھی، یہ جواب اس ہدایت کی تعمیل کی بہترین مثال ہے۔ ان کی جاہلانہ بات کا سرے سے نوٹس ہی نہیں لیا، صرف اصل حقیقت نہایت سادہ مگر نہایت با عظمت اسلوب میں ظاہر فرما دی۔ ھذا بصائر من ربکم یعنی تم اس چیز کو میری گھڑی ہوئی چیز کہتے ہو لیکن یہ تمہارے رب کی جانب سے آنکھوں اور دلوں کے پردے اٹھا دینے والی آیتیں اور تمہارے لیے ہدایت و رحمت ہیں۔ ہدایت اپنے آغاز کے اعتبار سے اور رحمت اپنے انجام کے لحاظ سے۔ لیکن یہ ان کے نافع ہیں جو ایمان لائیں۔ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ میں یہ لطیف تلمیح بھی ضمر ہے کہ میں جو کچھ پیش کر رہا ہوں اس میں کوئی نقص نہیں ہے۔ اصل خرابی تمہارے اپنے دلوں کے اندر ہے کہ تم حقیقت کو قبول کرنا نہیں چاہتے۔
Ayah 7:204

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:204 in the Quran reader

اور جب قرآن سنایا جائے تو اس کو توجہ سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۔ قرآن سے مستفید ہونے کا طریقہ : اب یہ بتایا ہے کہ قرآن کی ہدایت و بصیرت سے مستفید ہونے کا طریقہ کیا ہے، فرمایا کہ جب قرآن سنایا جائے تو اس کو توجہ سے سنو اور خاموشی سے اس پر کان لگاؤ۔ اگر ایسا کرو گے تو رحمت الٰہی تمہاری طرف متوجہ ہوگی اور اس پر ایمان لانے کے لیے تمہارے دل کھلیں گے، انصات کے معنی خاموشی سے کسی کی بات سننے کے لیے کان لگانا ہے۔ اس میں کفار کے اس غط رویہ کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے قرآن کے معاملہ میں اختیار کر رکھا تھا۔ سورة فصلت میں ہے۔ وقال الذین کفروا لا تسمعوا لہذا القرآن والغوا فیہ (اور کافر کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو اور جب سنایا جائے تو اس میں گھپلا ڈالو۔ (فصلت : 26)۔ فرمایا کہ یہ روش جہالت کی روش ہے جس کا نتیجہ رحمت سے محرومی ہے۔ صحیح روش اس کے بالکل برعکس ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کو سنو اور شور و شغب کے بجائے خاموشی سے کان لگا کر سنو۔ یہ طریقہ اس رحمت سے مستفید ہونے کا ہے۔ اس آیت کو ہمارے فقہا کے ایک گروہ نے امام کے پیچھے فاتحہ نہ پڑھنے کی ایک دلیل کا بھی ماخذ بنایا ہے ہے لیکن یہ آیت جیسا کہ واضح ہے اس سیاق وسباق کی آیت نہیں ہے اور اگر سیاق و ساق سے قطع نظر کر کے کوئی اس طرح کا استنباط آیت سے کرنا ہی چاہے تو بات ان لوگوں کے حق میں نہیں جاتی جو امام کے پیچھے یک قلم فاتحہ پڑھنے کے مخالف ہیں بلکہ ان لوگوں کے حق میں جاتی ہے جو جہری نمازوں میں تو فاتحہ پڑھنے سے روکتے ہیں لیکن سری میں نہیں روکتے۔
Ayah 7:205

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 7:205 in the Quran reader

اور اپنے رب کو صبح و شام یاد کرو اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ اور پست آواز سے اور غافلوں میں سے نہ بنو

وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَةً وَّدُوْنَ الْجَــهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ۔ خدا کو یاد کرنے کا طریقہ : اوپر خدا کی پناہ میں آنے کا طریقہ خدا کو یاد کرنا بتایا ہے۔ اب خدا کو یاد کرنے کا طریقہ بتایا جا رہا ہے۔ اس کے لیے تین باتیں ارشاد ہوئیں۔ ایک یہ کہ فروتنی، مسکنت، لجاجت اور خوف کے ساتھ دل دل میں ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ناز، تذلل اور اسحساس استحقاق و استکبار اس کے منافی ہے۔ دوسری یہ کہ اگر قول سے ذکر ہو تو دون الجہر ہو یعنی بہت زیادہ بلند آواز سے نہ ہو۔ اس بات کی وضاحت سورة بنی اسرائیل میں یوں ہوئی ہے۔ ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بہا وابتغ بین ذلک سبیلا۔ (بنی اسرائیل :11) (اپنی دعا نہ بہت بلند آواز سے کرو، نہ بہت پست آواز سے، ان کے درمیان کی راہ اختیار کرو) یہ ہدایت مشرکین کے طریقہ سے بچانے کے لیے بھی ہوئی اور اس لیے بھی کہ ہمارا پروردگار سمیع وعلیم ہے، نعوذ باللہ بہرا نہیں ہے۔ یاد ہوگا کہ ایک موقع پر نبی ﷺ نے بھی زیادہ بلند آواز سے ذکر کرنے سے صحابہ ؓ کو روک دیا تھا۔ علاوہ ازیں اس میں ریا، شہرت اور نمائش کا بھی زیادہ امکان ہے جو اخلاص کے بالکل منافی چیزیں ہیں۔ تیسری یہ کہ اللہ کی یاد ہر وقت رہنی چاہیے۔ بالغدو والاصال کے الفاظ، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، احاطہ کے مفہوم پر دلیل ہوتے ہیں۔ جس طرح ہم صبح و شام کے الفاظ بولتے ہیں اسی عربی میں یہ الفاظ ہیں۔ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ اسی مفہوم کی تاکید کے لیے ہے۔ یعنی خدا کی یاد سے کسی وقت بھی غفلت نہ ہو۔ جس طرح جسم کی زندگی کے لیے سانس کی آمد و شد ضروری ہے۔ اسی طرح روح کی زندگی کے لیے ذکر الٰہی ضروری ہے۔ شیطان ہر وقت حملہ کی گھات میں رہتا ہے، کسی وقت بھی اس کام سے غافل نہیں ہوتا اس وجہ سے اس سے پناہ حاصل کرنے کے لیے جو حرز ہے آدمی کو اس سے بھی کسی وقت غفلت نہیں ہونی چاہیے۔ اس ذکر کی شکلیں اور صورتیں حالات، ضروریات مقضیات اور اوقات کی تبیل سے بدل بدل جاتی ہیں لیکن اس سے غفلت کسی وقت بھی جائز نہیں۔ انسان جہاں غافل ہوا شیطان کسی نہ کسی راہ سے حملہ آور ہوجائے گا۔ اس امر کی یاد دہانی کی یہاں ضرورت نہیں ہے کہ خطاب اگرچہ بصیغہ واحد ہے لیکن اس کی نوعیت وہی ہے جو اوپر آیت 199 کے تحت بیان ہوچکی ہے۔
Ayah 7:206

اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩ Open ayah 7:206 in the Quran reader

بیشک جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ اس کی بندگی کرنے سے نہیں اکڑتے۔ وہ اس کی تسبیح کرتے اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں

اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَيُسَبِّحُوْنَهٗ وَلَهٗ يَسْجُدُوْنَ۔ “ جو لوگ تیرے رب کے پاس ہیں ”سے اشارہ فرشتوں کی طرف ہے۔ ان کے بابت فرمایا کہ وہ خدا کی بندگی سے کسی وقت سرتابی نہیں کرتے، برابر اس کی تسبیح میں لگے رہتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔ یہ آیت ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی یاد میں برابر سرگرم رہنے والوں کے زمرہ کو بتاتی ہے کہ جو لوگ خدا کو ہر وقت یاد رکھتے ہیں گو وہ رہتے بستے زمین میں ہیں لیکن ان کا تعلق فرشتوں کی بزم قدس سے ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ جس طرح وہ ہر وقت زمزمہ سنج تسبیح و تہلیل رہتے ہیں، یہ بھی اسی طرح مصروفِ یاد الٰہی رہتے ہیں۔ دوسری طرف اس میں مشرکین پر تعریض بھی ہے کہ یہ تو فرشتوں ہی کی سفارش کے بل پر اکڑتے پھرتے ہیں، نہ خدا کو خاطر میں لاتے ہیں نہ رسول کو لیکن خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہر وقت خدا کے آگے تسبیح و سجود میں لگے ہوئے ہیں۔ سورة اعراف کی تفسیر میں یہ آخری سطریں ہیں جو قلم بند ہوئیں، جو باتیں صحیح قلم سے نکلی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے نکلی ہیں۔ جو غلط نکلی ہیں وہ میری کم علمی کا نتیجہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ضرر سے مجھ کو اور اس کتاب کے پڑھنے والوں کو محفوط رکھے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔