Ayah 8:1يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۠ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔
انفال، نفل کی جمع ہے، اس کے معنی اضافہ اور زیادتی کے ہیں۔ جو چیز کسی کو اس کے حق سے زیادہ دی جائے تو جتنی حق سے زیادہ دی گئی وہ نفل ہے۔ اسی طرح اگر کسی نے حق واجب سے زیادہ ادا کیا تو اس حصہ مزید کو نفل کہیں گے۔ یہاں انفال سے اس مال غنیمت کو تعبیر کیا گیا ہے جو راہ خدا میں جہاد کرنے والوں کو مفتوح دشمن سے میدان جنگ میں حاصل ہوتا ہے۔ اس تعبیر میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے دشمن سے جو مال غنیمت حاصل کرتے ہیں اس کی حیثیت ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نفل مزید اور انعام مزید کی ہے اس لیے کہ جہاد کا جو اجر ہے وہ اس سے بالکل الگ مستقلاً اللہ کے ہاں دائمی اور بےپایاں اجر کی شکل میں محفوظ ہوجاتا ہے۔
غنیمت سے متعلق سوال کی نوعیت : سوال، جیسا کہ ہم بقرہ کی تفسیر میں واضح کرچکے ہیں، بعض اوقات اعتراض کی نوعیت کا بھی ہوتا ہے، خواہ وہ الفاظ سے ظاہر ہو یا اس کے اندر مضمر ہو۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اسی نوعیت کے سوال کا حوالہ ہے۔ یہ سوال، جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا۔ غزوہ بدر میں حاصل شدہ مال غنیمت سے متعلق ہے۔ اس سے پہلے مسلمانوں کو کفار سے نہ تو کوئی منظم جنگ پیش آئی تھی نہ مال غنیمت اور اس کی تقسیم کا سوال پیدا ہوا تھا۔ سن 2 ھجری میں یہ جنگ پیش آئی جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح بھی شاندار عطا فرمائی اور مال غنیمت بھی ان کو کافی مقدار میں حاصل ہوا، جاہلیت میں تو دستور یہ تھا کہ جو جتنا مال جنگ میں لوٹے وہ اس کا حقدار ہے۔ اسی دستور کی بنا پر بعض لوگوں نے، خاص طور پر کمزور قسم کے مسلمانوں نے ایسے سوالات اٹھائے جن سے یہ بات نمایاں ہوئی کہ تقوی، باہمی خیر خواہی، اطاعت اللہ و رسول کی وہ روح جو سچے ایمان کا تقاضا ہے ابھی ایک گروہ کے اندر اچھی طرح پختہ نہیں ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ سوال، جیسا کہ قرائن سے واضح ہے، کچھ خاص افراد ہی کی طرف سے اٹھایا گیا لیکن اسلامی معاشرہ کے اندر اس سے ایک بڑی خامی کی نشان دہی ہوئی تھی اس وجہ سے قرآن نے مسلمانوں کی تطہیر و تنظیم کی اس سورة کا آغاز اسی واقعہ سے کیا کہ (سرچشمہ شاید گرفتن بہ میل، چوپرشد نشانید گزشتن بہ پیل)۔ اور اس کا ذکر بھی عام صیغہ سے کیا تاکہ کسی خاص گروہ کی پردہ دری نہ ہو بلکہ تمام مسلمان بحیثیت مجموعی اس تعلیم کو قبول کریں اور اپنے اندر کسی ایسے رجحان کو نشوونما نہ پانے دیں جو تقوی و توکل، باہمی ہمدردی اور اطاعت اللہ و رسول کے خلاف ہو۔
جس قسم کے سوال کی طرف قرآن نے یہاں اشارہ کیا ہے اس کی تفصیل تاریخ و سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ ابن ہشام میں ہے کہ نبی ﷺ نے جنگ سے فارغ ہونے کے بعد حکم دیا کہ فوج کے لوگوں نے جتنا مال غنیمت جمع کیا ہے سب اکٹھا کیا جائے چناچہ وہ سب اکٹھا کیا گیا۔ اب لوگوں میں اختلاف ہوا کہ یہ کس کا حق ہے ؟ جن لوگوں نے جمع کیا تھا وہ مدعی ہوئے کہ یہ ہمارا حق ہے، اگر ہم نہ ہوتے تو یہ مال حاصل نہ ہوتا، ہم نے دشمن کو مار بھگایا اس وجہ سے یہ ہاتھ لگا۔ اسی طرح جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت پر تھے انہوں نے کہا کہ ہم بھی سب کچھ کرسکتے تھے، لڑ بھی سکتے تھے، غنیمت بھی جمع کرسکتے تھے لیکن ہم نے رسول اللہ کی حفاظت کے کام کو دوسرے تمام کاموں پر مقدم رکھا اس وجہ سے مال غنیمت میں دوسرے لوگ ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو سکتے۔ غرض مختلف سوالات اٹھ کھڑے ہوئے جن سے لوگوں کے اندر دبی ہوئی بعض کمزوریاں سامنے آگئیں اور حکمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ ان کمزوریوں کا برسر موقع علاج ہوجائے تاکہ یہ مزید بڑھنے نہ پائیں۔
سوالات کا اصولی جواب : قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ۔ یہ ان تمام سوالات کا جامع اور اصولی جواب ہے کہ ان کو بتا دو کہ اموال غنیمت اللہ اور رسول کی ملک ہیں۔ اللہ و رسول کی ملک، قرآن میں اجتماعی ملکیت کی تعبیر ہے۔ اس اصولی جواب نے اموال غنیمت کے باب میں اس جاہلی دستور کا خاتمہ کردیا جو اب تک رہا تھا اور جس کی بنا پر ہی وہ سوالات پیدا ہوئے تھے جو اوپر مذکور ہوئے۔ گویا اموال غنیمت میں استحقاق کی بنیاد یہ نہیں ہوگی کہ کس نے جمع کیا، کس نے بالفعل جنگ کی، کس نے پہرہ دیا بلکہ اس میں سب مجاہدین، بلا لحاظ اس کے کہ کس کی خدمت کی نوعیت کیا رہی ہے، شریک ہوں گے اور دوسرے مسلمانوں کا بھی اس میں حصہ ہوگا۔ یہاں یہی اصولی جواب دے کر کلام کا رخ ان خامیوں کی اصلاح کی طرف مڑ گیا ہے جو اس واقعہ سے نمایاں ہوئی تھیں۔ پھر آگے چل کر آیت 41 میں اس اجمال کی تفصیل بھی فرما دی کہ اس کا کتنا حصہ مجاہدین پر تقسیم ہوگا اور کتنا حصہ دوسرے مسلمانوں کے حق کی حیثیت سے بیت المال میں جمع ہوگا۔
مسلمانوں کی اجتماعی شیرازہ بندی کی بنیاد : فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ۔ جس طرح تقوی اور پاس رحم کو سورة نساء میں تمام خاندانی و معاشرتی صلاح و فلاح کی اساس ٹھہرایا ہے۔ اسی طرح یہاں تقوی اور اصلاح ذات البین کو مسلمانوں کی اجتماعی شیرازہ بندی کی بنیاد قرار دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اموال غنیمت اصلا اللہ اور رسول کی ملکیت ہیں تو اللہ و رسول جس طرح ان کو تقسیم کریں پوری خوش دلی اور رضامندی سے اس تقسیم کو قبول کرو۔ نہ اللہ کے حکم سے متعلق دل میں کوئی بدگمانی یا رنجش پیدا ہوا اور نہ اپنے دینی بھائیوں کے خلاف کوئی رشک و حسد کا جذبہ ابھرے کہ فلاں اور فلاں کو اس مال میں کیوں شریک بنا دیا گیا ؟ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ان کے باہمی تعلقات کی بنیاد اخوت، رحم اور محبت پر ہے۔ یہ رحماء بینہم کا گروہ ہے، ان کے اندر حسد، رقابت، خود غرضی اور نفسا نفسی کی حالت اس ایمان اور تقوی کے منافی ہے جس کو انہوں نے اختیار کیا ہے، جن کے اندر ابھی کوئی کانٹا اپنی دینی بھائیوں کے خلاف موجود ہے وہ اس کو نکال ڈالیں اور اپنے د امنِ دل کو ہر قسم کے غبار سے پاک و صاف کرلیں۔
وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْن۔ یہ ایمان باللہ کا اصل تقاضا بیان ہوا کہ جو لوگ اللہ و رسول پر ایمان کے مدعی ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ اللہ و رسول کے ہر حکم کی اطاعت کریں۔ یہ بات ایمان کے منافی ہے کہ اللہ و رسول کا کوئی حکم اپنی خواہشات نفس کے خلاف ہو تو اس کے خلاف بغاوت کا جذبہ ابھرے یا اس سے متعلق دل میں کوئی رنجش یا بدگمانی جگہ پائے۔ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ ایمان کا دعوی رکھتے ہیں وہ ایمان کی اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ جنہوں نے ایمان کی یہ حقیقت نہیں سمجھی ہے ان کا دعوائے ایمان بالکل بےحقیقت ہے۔
Ayah 8:2اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ۔
سچے اہل ایمان کے اوصاف : اب یہ حقیقی ایمان اور سچے اہل ایمان کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں۔ گویا ان کنتم مومنین کے الفاظ میں جن کمزور قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ تھا ان کے سامنے سچے اہل ایمان کی تصویر رکھ دی گئی کہ اگر ایمان کا دعوی ہے تو اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرو۔ ان صفات کے بدوں یہ دعوی کسی کو زیب نہیں دیتا۔
اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا۔ ان کی پہلی علامت یہ بتائی کہ ان کے اندر خدا کی عظمت وکبریائی اور اس کی جلالت کا شعور ہوتا ہ۔ اس وجہ سے وہ خدا سے برابر ڈرتے رہتے ہیں۔ جب ان کے سامنے خدا کا نام آجائے، جب ان کو اس کی یاد دہانی کی جائے جب ان کے سامنے کوئی بات خدا کی بات کی حیثیت سے پیش کی جائے، وہ اس کو خوف و خشیت کے گہرے احساس کے ساتھ سنتے ہیں۔ گویا ایمان کا پہلا تقاضا خدا کا خوف ہے جو اس کی عظمت و جلالت اور اس کی صفات عدل و حکمت و ربوبیت اور رحمت کے صحیح تصور سے پیدا ہوتا ہے اور اسی سے وہ تقوی وجود میں آتا ہے جس کی اوپر واتقوا اللہ کے الفاظ سے ہدایت فرمائی گئی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خدا کی رحمت و ربوبیت بھی، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، خدا کے عدل اور اس کے روز جزا کو مستلزم ہیں، اس وجہ سے ان صفات کا صحیح تصور بھی بندے کو خدا سے بےخوف نہیں بناتا بلکہ اس کے خوف کو بڑھاتا ہے اور اس خوف کی بنیاد خدا کی محبت پر ہوتی ہے۔
ایمان کی دوسری علامت : دوسری علامت یہ بتائی کہ جب اللہ کی آیات ان کو سنائی جاتی ہیں یہ ان کے ایمان کو بڑھاتی ہیں۔ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں آیات سے مراد خدا کے احکام اور اس کے قوانین ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا پر ایمان کے بعد ان کو سب سے زیادہ مرغوب و مطلوب خدا کی پسند و ناپسند اور اس کی مرضیات و احکا کا علم ہوتا ہے اور یہ علم ان کی دولت ایمان میں اضافہ کرتا ہے۔ ایمان کی مثال جڑ کی ہے اور آداب و احکام اور قوانین و شرائع کی حیثیت اس جڑ سے پھوٹی ہوئی شاخوں اور ان سے ظہور میں آئے ہوئے برگ و بار کی۔ گویا پوری شریعت، ایمان ہی کا مظہر اور اس کے مضمرات کی تفصیل ہوئی۔
زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا، کے اسلوب بیان ہے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جن کے اندر ایمان موجود ہوتا ہے جب ان کے سامنے ایمان کے مقتضیات و مطالبات آتے ہیں تو وہ پوری بشاشت سے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ وہ ان مقتضیات و مطالبات کو اپنے ہی لگائے ہوئے درخت کا پھل اور اپنی ہی بوئی ہوئی کھیتی کا حاصل سمجھتے ہیں اور جس طرح ہر کسان اپنی کھیتی کے حاصل اور اپنے درخت کے پھلوں میں افزونی دیکھ کر باغ باغ ہوتا ہے اسی طرح یہ اہل ایمان بھی اپنے ایمان کی یہ افزائش دیکھ کر شادمان ہوتے ہیں۔ یہ گویا ان مدعیانِ ایمان پر ایک لطیف تعریض ہوئی جو ایمان کا دعوی کرنے کو تو کربیٹھے لیکن جب اس کے مطالبے سامنے آئے تو ان سے خوش ہونے کی بجائے ان کی پیشانیوں پر بل پڑگئے کہ یہ کیا بلا نازل ہوگئی۔
ایک نکتہ : یہ نکتہ بھی یہاں ملحوظ رہے کہ ایمان کے اقرار کے بعد اس کے مطالبات میں سے بڑا یا چھوٹا جو مطالبہ بھی اہل ایمان کے سامنے آتا ہے وہ ان کے لیے آزمائش و امتحان کا ایک میدان کھولتا ہے اور جو سچے اہل ایمان ہوتے ہیں وہ اس امتحان سے گھبرانے کی بجائے اس میں بازی جیتنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ کوشش ان کی مومنانہ فتوت کا ایک فطری تقاضا ہوتی ہے۔ جس کے بروئے کار آنے سے ان کے لیے ہر امتحان فتح مندی کا ایک نیا دروازہ کھولتا ہے جس سے ان کا ایمان قوی سے قوی تر ہوتا جاتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف سورة احزاب میں یوں اشارہ فرمایا گیا ہے“ ولما رالمومنون الاحزاب قالوا ھذا ما وعدنا اللہ ورسولہ وصدق اللہ ورسولہ وما زادھم الا ایمانا و تسلیما : اور جب مومنوں نے پارٹیوں کے ہجوم کو دیکھا تو بولے یہ تو وہی صورت حال سامنے آئی ہے جس سے اللہ اور رسول نے پہلے ہی ہمیں خبردار کردیا تھا اور اس چیز نے ان کے ایمان و اطاعت میں اضافہ ہی کیا۔ ”(احزاب :22)
ایمان کی تیسری علامت : وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ۔ یہ ان کی تیسری علامت بیان ہوئی ہے کہ وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے یعنی ایمان کے مطالبے، خواہ سخت ہوں یا نرم، ان سے دنیوی مفادات کو نقصان پہنچے یا نفع، ان کی خاطر تعلقات ٹوٹیں یا جڑیں وہ بہرحال دین و دنیا کی فلاح اپنے رب کے احکام کی تعمیل ہی میں مجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایمان کی راہ میں انہیں اپنے سر بھی کٹوانے پڑجاتے ہیں تو وہ یہی یقین رکھتے ہیں کہ حیات جاوداں کے حصول کی راہ یہی ہے۔ ان کو اپنے رب پر پورا بھروسہ ہوتا ہے کہ اس نے جو حکم بھی ان کو دیا ہے اور جس آزمائش میں بھی ان کو ڈالا ہے اس میں سر تا سر انہی کی فلاح ہے۔ اپنے بندوں کے ساتھ خدا کا کوئی معاملہ بھی حکمت و مصلحت و رحمت و برکت سے خالی نہیں۔ اس ٹکڑے میں بھی ان خام کاروں پر تعریض ہے جو دین کے مطالبات کو اپنے مفادات کی میزان میں تولنے کے خواہش مند تھے اور وہ ابتیں ان کو بالکل بےمصلحت نطر آتی تھیں جن کو وہ اپنی خواہشات کے خلاف پاتے تھے۔
Ayah 8:3ایمان چوتھی علامت : الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ۔ یہ چوتھی علامت بیان ہوئی اور اس کی حیثیت، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں۔ راس الصفات کی ہے اس لیے کہ انہی دو چیزوں۔ اہتمام نماز اور انفاق۔ سے ان تمام اوصفا کی شیرازہ بندی ہوتی ہے جن سے ایمان اہل ایمان کو سنوارتا ہے۔ گویا اوپر ان چند خاص اوصاف کو بیان کرنے کے بعد جن کا بیان کرنا پیش نظر گروہ کی خامیوں کی اصلاح کے لیے ضوری ہوا آخر میں ان دوچیزوں کا ذکر فرمایا جو سب کی جامع بھی ہیں اور سب کی محافظ بھی۔
Ayah 8:4اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا۔ یعنی جن کے اندر یہ اوصاف ہیں سچے مومن وہی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اہل ایمان کی صفوں میں آ تو گھسے ہیں لیکن ان اوصاف سے عاری ہیں، وہ محض مدعی ایمان ہیں، سچے مومن نہیں ہیں۔ گویا اوپر ان کنتم مومنین کے الفاظ میں جو بات اشارۃ فرمائی گئی تھی اب وہ پوری طرح واضح ہو کر سامنے آگئی۔ rnۭلَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۔ مطلب یہ ہے کہ خدا ہاں جو درجے اور مرتبے ہیں وہ مدعی ایمان کے لیے نہیں ہیں بلکہ انہی لوگوں کے لیے ہیں جو اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سیاق میں مغفرۃ کا لفظ بڑا بلیغ اور بشارت انگیز ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ ہرچند مطلوب و مطبوع تو یہی اوصاف ہیں اور مراتب انہی کے اعتبار سے قائم ہوں گے لیکن اللہ رحیم و کریم ہے، وہ اپنے بندوں کی کمزوریوں سے بھی واقف ہے اس وجہ سے ان غلطیوں اور کوتاہیوں کے لیے اس کی مغفرت کا دامن بھی ہے جو انسان کی بشریت کے لوازم میں سے ہیں۔
رزق کا لفظ جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں ایک جامع لفظ ہے اور کریم کی صفت اس کے ساتھ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اگرچہ بندوں کو سارا رزق و فضل رب کی عنایت ہی سے ملے گا لیکن اس کے ساتھ بندوں کے لیے عزت کی یہ سرفرازی بھی ہوگی کہ یہ سب کچھ ان کے حق کی حیثیت سے ان کو عطا ہوگا۔
ایمان کے گھٹنے اور بڑھنے کی نوعیت : اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ایمان کوئی ٹھونٹھ درخت نہیں ہے بلکہ یہ جڑ بھی رکھتا ہے اور شاخیں اور برگ و بار بھی۔ قرآن میں اس کی تمثیل یوں بیان ہوئی ہے کہ اصلھا ثابت و فرعہا فی السماء، اس کی مثال ایک ایسے درخت کی ہے جس کی جڑیں پاتال میں اتری ہوئی ہوں اور جس کی شاخیں فضا میں پھیلی ہوئی ہوں۔ یہ جس طرح عقائد پر مبنی ہے اسی طرح احکام و شرائع پر بھی مشتمل ہے اور جس طرح ایک شاداب درخت اپنی جڑوں سے بھی غذا حاصل کرتا ہے اور اپنی شاخوں اور پتوں سے بھی، اسی طرح یہ عقائد کی معرفت اور اعمال کی بجا آوری دونوں سے غذا اور قوت حاصل کرتا ہے۔ اگر عقائد میں کھوکھلا پن پیدا ہوجائے جب بھی یہ سوکھ جاتا ہے اور اگر اس کی شاخوں کو کوئی روگ لگ جائے جب بھی یہ مضمحل ہوجاتا ہے۔ اس کے صحیح نشو و نما کے لیے ضروری ہے کہ اس کی جڑ اور اس کی شاخوں دونوں کی دیکھ بھال ہوتی رہے۔ اس دیکھ بھال سے یہ بڑھتا، پھیلتا اور پھلتا پھولتا ہے اور اس کے مفقود ہوجانے سے وہ گھٹتا، سکڑتا اور مردہ ہوجاتا ہے۔ ہمارے نزدیک قرآن و حدیث دونوں سے یہی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ ہمارے فقہاء اور متکلمین میں سے جن لوگوں نے ایمان کے گھٹنے بڑھنے سے انکار کیا ہے ان کی بات کا کوئی صحیح محمل اگر ہوسکتا ہے تو یہ ہوسکتا ہے کہ اس کو قانونی ایمان سے متعلق مانا جائے۔ قانون چونکہ صرف ظاہری حالات سے تعلق رکھتا ہے، باطن اس کی دسترس سے باہر ہے اس وجہ سے اس کی نظر میں ایک مخلص اور ایک منافق کے ایمان میں کوئی فرق نہیں ہوتا لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ حقیقت کی نگاہ میں بھی دونوں کا ایما یکساں ہے۔ یہاں اس اجمالی اشارے پر قناعت کیجیے۔ اس پر تفصیلی بحث اپنے محل میں آئے گی۔
Ayah 8:5كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ ۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ۔
کَمَا کے مواقع استعمال : کَما عربی زبان میں کذالک، کدابک، اور کما، بسا اوقات واقعہ کی مماثلت واقعہ سے ظاہر کرنے کے لیے بھی آتے ہیں۔ ایسی صورت میں متعین الفاظ کے اندر ان کا مشبہ اور مشبہ بہ نہیں ہوتا بلکہ بحیثیت مجموعی واقعہ کے اندر ہوتا ہے۔ کذلک بقرہ کی آیت 143 میں اسی نوعیت سے آیا ہے۔
امرؤالقیس اپنے مشہور قصیدہ میں پہلے اپنی ایک سرگزشت عشق بیان کی اس کے بعد کدابک من ام الحویرث قبلھا، کہہ کر اپنی اسی طرح کی دوسری سرگزشتوں کا ذکر شروع کردیا کہ اسی طرح کا ماجرا اس کو فلاں اور فلاں کے ساتھ بھی پیش آچکا ہے۔ بقرہ آیت 151 سے اوپر تحویل قبلہ کا ذکر ہوا پھر بدوں کسی تقریب و تمہید کے ارشاد کما ارسلنا فیکم رسولا منکم، یہ بھی اسی طرح کا اسلوب بیان ہے یعنی تمہارے قبلہ کو اہل کتاب سے الگ کر کے خدا نے تم کو ایک علیحدہ امت کی حیثیت سے ممتاز کردیا۔ اسی طرح کا کَمَا یہ زیر بحث آیت میں بھی ہے۔ اوپر جیسا کہ مذکورہ ہوا، ان کمزور قسم کے مسلمانوں کے رویہ پر یہ گرفت فرمائی ہے جو بدر میں حاصل شدہ مال غنیمت کی تقسیم پر معترض ہوئے تھے۔ جب ان کی یہ کمزور زیر بحث آگئی تو تعلیم و تربیت کا تقاضا یہ ہوا کہ ان لوگوں کی ایک اور کمزوری کی طرف بھی توجہ دلا دی جائے جو اس سے پہلے ان سے اس وقت ظاہر ہوئی جب آنحضرت ﷺ نے مدینہ سے بدر کے لیے نکلنے کا ارادہ فرمایا ہے۔ گویا اس وقت تو ان کی غلطی نظر انداز فرما دی گئی کہ حکمت کا تقاضا یہی تھا لیکن جب اسی طرح کی غلطی ان سے پھر صادر ہوئی تو اس پر گرفت فرمائی گئی اور ساتھ ہی سابق غلطی کی طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا کہ لوگ متنبہ ہوجائیں کہ یہ بیماری کہاں سے چلی ہے اور اگر اس کی اصلاح نہ ہوئی تو کہاں تک پہنچ سکتی ہے۔
بدر کے لیے مسلمانوں کا نکلنا ایمائے الٰہی سے ہوا۔ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ۔ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ کے الفاظ اس امر پر نہایت واضح دلیل ہیں کہ بدر کے لیے آنحضرت ﷺ کا نکلنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا تھا۔ آگے آیت 42۔ 43 میں یہ اشارہ موجود ہے کہ آپ ﷺ کو رویا میں شام کی طرف سے قافلہ قریش کی واپسی اور مکہ کی طرف سے فوج قریش کی آمد کا مشاہدہ کرا دیا گیا تھا اور حملہ آور فوج کی حقیقت بھی واضح کردی گئی تھی کہ معنوی اعتبار سے وہ کچھ زیادہ وزنی نہیں ہوگی بلکہ مسلمانوں سے مغلوب ہوجائے گی۔ بلکہ روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسی رویا میں حضور کو قریش کے خاص خاص لیڈروں کے قتل ہونے کی جگہیں بھی دکھا دی گئیں اور اسی روای کی ہدایت کے بموجب نبی ﷺ نکلے اس وجہ سے اس کو اخرجک ربک من بیتک کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آگے آیت 42 سے یہ بات بھی واضح ہوگی کہ اسی خدائی رہنمائی کی برکت تھی کہ مسلمان بالکل ٹھیک اس وقت قریش کی فوج کے مقابلہ کے لیے بدر کے مقام پر پہنچ گئے جب کہ وادی کے ایک سرے پر ان کی فوج تھی اور نیچے سے قافلہ گزر رہا تھا۔
بدر کے لیے نکلنے کا اصل مقصد : بالحق یعنی اللہ تعالیٰ نے نکلنے کا یہ حکم ایک مقصد حق کے لیے دیا تھا۔ اس مقصد حق کی وضاحت آگے یوں فرما دی ہے۔ يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ (اللہ تعالیٰ اپنے حکموں سے یہ چاہتا ہے کہ حق کا بول بالا کرے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے) لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ (تاکہ حق کا بول بالا کرے اور باطل کو نابود کرے مجرموں کے علی الرغم) اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کا نکلنا ابتدا ہی سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ایک مقصد حق کے لیے تھا اور وہ مقصد حق یہ تھا کہ دین کا بول بالا ہو اور کفر کی جڑ کٹے۔ ظاہر ہے کہ کفر کی جڑ کٹ سکتی تھی تو قریش کی ہزیمت سے کٹ سکتی تھی نہ کہ ان کے کسی تجارتی قافل کو لوٹ لینے سے اس وجہ سے سیرت و مغازی کی کتابوں کی وہ روایت قرآن کے الفاظ کے صریحاً خلاف ہے جس میں یہ بیات ہوا ہے کہ نعوذباللہ آنحضرت ﷺ قریش کے اس تجارتی قافلے پر حملہ کرنا چاہتے تھے جو ابو سفیان کی سر کردگی میں شام سے واپس آ رہا تھا۔
مسلمانوں کے اندر کے ایک کمزور گرہ کی طرف اشارہ : وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ۔ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ سے کمزور قسم کے مسلمانوں کی وہ ٹولی مراد ہے جس کا کردار ابتدائے سورة ہی سے زیر بحث ہے اور جس نے مال غنیمت سے متعلق بعد میں وہ سو الا بھی اٹھائے جن پر اوپر کی آیات میں تبصرہ ہوا ہے۔ فریقا کے لفظ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ان لوگوں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں تھی، بس ایک مختصر سی جماعت تھی۔ ان لوگوں نے جب یہ سنا ہوگا کہ کفار کی دو جماعتیں آرہی ہیں جن میں سے ایک سے مقابلہ درپیش ہے تو یہ بات تو وہ فوراً تاڑ گئے ہوں گے کہ یہ مقابلہ بہرحال فوج سے ہونا ہے نہ کہ تجارتی قافلہ سے اس وجہ سے ان لوگوں پر دہشت طاری ہوئی اور یہ دہشت ان کے اس ضعف اعتماد کا نتیجہ تھی جس کی طرف اوپر آیت 2 میں اشارہ ہوا ہے۔
Ayah 8:6يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ۔ کمزوروں کی کمزوری پر گرفت : لفظ مجادلۃ کے معنی یہاں، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں اس کی تحقیق بیان کرچکے ہیں، باصرار و بلطائف الحیل مخاطب سے اپنی بات منوانے کی کوشش کرنے کے ہیں۔ اب یہ وضاحت ہو رہی ہے اس بات کی کہ جب ان کو خطرہ لاحق ہوگا کہ مقابلہ فوج سے درپیش ہے تو اس سے فرار کی انہوں نے کیا راہ نکالنی چاہی۔ انہوں نے آنحضرت ﷺ کو باصرار اور بلطائف الحیل اپنی چرب زبانی سے اس رخ پر لانا چاہا کہ آپ تجارتی قافلے کا قصد کریں۔ بظاہر تو انہوں نے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہوگی کہ یہ مشورہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خیر خواہی میں دے رہے ہیں کہ قافلہ کو لوٹ لینے سے قریش کی کمر اقتصادی اعتبار سے ٹوٹ جائے گی اس لیے کہ ان کے سرمایہ کا بڑا حصہ اس قافلے کے ساتھ ہے جس سے مسلمانوں کی موجودہ کمزور مالی حالت کو درست کرنے میں بڑی مدد ملے گی لیکن اس مشورہ کی تہ میں ان کا وہی خوف بیٹھا ہوا تھا جس کو قرآن نے بےنقاب کردیا ہے کہ گویا وہ موت کی طرف ہنکائے جا رہے ہوں اور وہ موت کو سامنے دیکھ رہے ہو۔ اس مشورے کا سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہ تھا کہ ان پر آنحضرت ﷺ کا منشا، جیسا کہ قرآن کے کے الفاط بعد ماتبین سے ثابت ہے، اچھی طرح واضح تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی بات منوانے کے لیے تمام حربے استعمال کیے۔ ہرچند آنحضرت ﷺ نے اس مرحلے تک، جیسا کہ آگے والی آیت میں اشارہ آ رہا ہے، بعض خاص اسباب سے، جن کی تفصیل آگے آئے گی، اپنا منشا واضح الفاظ میں ظاہر نہیں فرمایا تھا لیکن یہ لوگ اتنے غبی نہیں تھے کہ یہ نہ سمجھ سکیں کہ جب ایک طرف تجارتی قافلہ ہے اور دوسری طرف سے فوج آرہی ہے تو آنحضرت کا یہ نکلنا کس سے نمٹنے کے لیے ہوسکتا ہے۔ یہ لوگ دل کے بودے ضرور تھے لیکن عقل کے اتنے غریب نہیں تھے کہ آنحضرت ﷺ کے مزاج، اسلام کے مقصد احقاق حق کے تقاضوں سے اتنے نابلد ہوں کہ یہ موٹی سی بات بھی نہ سمجھ سکیں کہ کسی تجارتی قافلہ کو تاخت و تاراج کرنا ایسا کیا کام ہوسکتا ہے جس کے لیے خدا کا رسول اپنے جاں نثاروں کے ساتھ یوں سربکف ہو کر نکلے ! چناچہ آگے تفصیل آئے گی کہ نہ مہاجرین کے لیڈروں کو آنحضرت کا منشا سمجھنے میں کوئی اشتباہ پیش آیا نہ انصار کے جان نثاروں کو۔ سب نے پہلے ہی مرحلے میں تاڑ لیا کہ حضور کا منشا کیا ہے اور اس منشا کی تکمیل کے لیے وہ سربکف ہوگئے۔ صرف ایک گروہ موت کے ڈر سے آخر وقت تک سخن سازی کرتا رہا اس وجہ سے اس کا رویہ قرآن میں زیر بحث آیا تاکہ آئندہ کے مراحل میں مسلمان ان داخل فتنوں سے ہوشیار رہیں۔
Ayah 8:7جماعت کے حوصلہ کا اندازہ کرنے کے لیے ایک حکیمانہ طریقہ : وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ۔ کے اسلوب بیان میں جو ابہام ہے وہ اس حیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نکلتے وقت انصار و مہاجرین سے جب اس مہم کے باب میں استمزاج فرمایا تو بات کھل کر یوں نہیں فرمائی کہ تجارتی قافلہ کی حفاظت کا بہانہ بنا کر قریش نے ہم پر حملہ کرنے کے لیے اپنی فوج بھیج دی ہے بلکہ مبہم انداز میں یوں فرمایا کہ کفار کی دو جماعتیں آرہی ہیں جن میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ ہمارے قابو میں کردے گا۔ یہ مبہم انداز بیان حضور نے کیوں ارشاد فرمایا ؟ ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک اہم مہم پر روانہ ہونے سے پہلے حجور نے چاہا کہ ہر گروہ کا جائزہ لے لیا جائے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ ظاہر ہے کہ حضور اگر مسئلہ کو بالکل دو ٹوک انداز میں لوگوں کے سامنے رکھ دیتے تو مخلص و منافق سب کو آمنا و صدقنا کہتے ہی بن پڑتی۔ پھر نہ تو کسی کو اس سے اختلاف کی جرات ہوتی اور نہ کسی کی کمزور ظاہر ہوسکتی۔ یاد ہوگا، یہی طریقہ آپ نے جنگ احد کے موقع پر بھی اختیار فرمایا۔ اس وقت آپ نے لوگوں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ جنگ شہر سے باہر نکل کر کی جائے یا شہر میں محصور ہو کر اور خود اپنی رائے ظاہر نہیں فرمائی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جاں نثاروں نے شہر سے باہر نکل کر جنگ کرنے کی رائے دی اور کمزور قسم کے لوگوں نے شہر میں محصور ہوکر۔ اس طرح آپ کو جماعت کے قوی ضعیف اور مخلص و منافق سب کا جائزہ لینے کا موقع مل گیا۔ اسی حکمت و مصلحت سے حضور نے اس موقع پر بھی بات مبہم انداز میں فرمائی کہ لوگوں کے جواب سے اندازہ ہوجائے کہ کون کس طرز پر سوچ رہا ہے چناچہ پہلے آپ نے مہاجرین کا عندیہ معلوم کرنا چاہا۔ وہ صاف سمجھ گئے کہ حضور کا منشا کیا ہے۔ چناچہ ان میں سے مقداد بن عمر نے اٹھ کر ایک ایسی تقریر کی جس کی گونج اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ باقی رہے گی۔ انہوں نے فرمایا۔“ اے اللہ کے رسول ! اللہ نے آپ کو جس بات کا حکم دیا ہے آپ اس کے لیے اقدام کیجیے۔ آپ جہاں کے لیے نکلیں گے ہم آپ کے ہم رکاب ہیں۔ ہم آپ سے وہ بات کہنے والے نہیں ہیں جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہی تھی کہ تم اور تمہارا رب دونوں جا کر لڑو ہم تو یہاں بیٹھتے ہیں بلکہ ہمارا قول یہ ہے کہ آپ اور آپ کا رب دونوں جنگ کے لیے نکلیں، جب تک کہ ایک آنکھ بھی ہم میں گردش کرتی ہے ہم سرکٹانے کے لیے حاضر ہیں ”
کیا یہ تصور بھی کیا جاسکتا ہے کہ ان الفاظ میں جن لوگوں کی ترجمانی کی گئی ہے ان کے کسی فرد میں بھی کسی تجارتی قافلے پر حملے کا کوئی موہوم وسوسہ بھی ہوسکتا ہے۔
نبی ﷺ نے مہاجرین کی طرف سے اطمینان کرلینے کے بعد اپنے وہی الفاظ جو اوپر مذکور ہوئے پھر دہرائے۔ انصار سمجھ گئے کہ اب حضور ہمارا عندیہ معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ چناچہ انصار کے لیڈر سعد بن معاذ اٹھے اور انہوں نے عرض کیا کہ حضور کا روئے سخن ہماری طرف ہے ؟ پھر انہوں نے وہ تقریر کی جس کا ایک ایک لفظ میدان جہاد کا رجز ہے اور جس کی حرارت ایمانی 14 سو سال گزرنے پر بھی ٹھنڈی نہیں پڑی ہے۔ انہوں نے فرمایا“ ہم آپ پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے آپ کی تصدیق کی ہے۔ ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ جو دین آپ لے کر آئے ہیں وہی حق ہے۔ ہم نے آپ سے سمع وطاعت کا عہد و میثاق کیا ہے۔ پس اے اللہ کے رسول، آپ نے جو ارادہ فرمایا ہے وہ پورا کیجیے۔ اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر آپ ہمیں اس سمندر کے کنارے لے جا کر اس میں کود پڑیں گے تو آپ کے ساتھ ہم بھی اس میں کود پڑیں گے اور ایک شخص بھی ہم میں سے پیچھے رہنے والا نہیں ہوگا۔ ہم اس بات سے نہیں گھبراتے کہ کل آپ ہمیں ہمارے دشمنوں کے مقابلہ کے لیے لے جا کھڑا کریں۔ ہم جنگ میں ثابت قدم رہیں گے۔ مقابلہ کے وقت ہم راست باز ثابت ہوں گے اور کیا عجب کہ اللہ ہمارے ہاتھوں وہ کچھ دکھائے جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں تو اللہ کا نام لے کر آپ ہمیں ہم رکابی کا شرف بخشیے ”
غور کیجیے کہ کیا یہ تقریریں ان لوگوں کی ہوسکتی ہیں جو ایک غیر مسلح قافلہ پر جس کی جمعیت شاید کل چالیس آدمیوں پر منحصر تھی۔ حملہ کی سکیمیں سوچ رہے ہوں اور پھر اس امر پر غور کیجیے کہ کیا لفظ لفظ سے یہ بات واضح نہیں ہو رہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے سوال کے اس ابہام کے باوجود، جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا، انصار و مہاجرین دونوں گروہوں پر یہ بات سورج کی طرح روشن تھی کہ آپ کا منشا کیا ہے اور آپ کا رخ کدھر کو ہے، البتہ ایک گروہ، جیسا کہ قرآن کے الفاظ سے واضح ہے، ضعیف الایمانوں کا ایسا تھا جو حقیقت کی وضاحت کے باوجود محض اپنی بزدلی کے سبب سے یہ چاہتا تھا کہ حملہ قافلہ پر کیا جائے جو غیر مسلح ہے تاکہ خطرہ کوئی نہ پیش آئے اور لقمہ تر ہاتھ آئے۔ انہی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ (تم چاہتے تھے کہ غیر مسلح گروہ تمہارا لقمہ نے) شوک، اور شوکۃ عربی میں کانٹے کو کہتے ہیں یہیں سے لفظ شوکۃ ہتھیار اور پھر قوت اور دبدب کے معنی میں استعمال ہوا۔ چونکہ تجارتی قافلہ غیر مسلح تھا اس وجہ سے اس کے لیے غیر ذات الشوکۃ کا لفظ استعمال ہوا۔
خدائی احکام کا منشا سمجھنے کے لیے ایک عقلی کسوٹی : وَيُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ۔ اب یہ اللہ کے ارادے اور منشا کو سمجھنے اور جانچنے کے لیے ایک عقلی اور فطری معیار بتایا گیا ہے کہ اللہ کا ہر حکم و ارادہ احقاق حق اور ابطال باطل کے مقصد کے لیے ہوتا ہے اس وجہ سے اس کی باتوں کا منشا، اگرچہ وہ مجمل ہوں، معین کرنے میں اس اصول کو نظر انداز کرنا جائز نہیں ہے۔ جن لوگوں نے قافلہ پر حملہ کرنے کا ارمان کیا، انہوں نے اس بات کا خیال نہ کیا کہ خدا ایک ایسی بات کیسے چاہ سکتا ہے جس سے نہ حق کا بول بالا ہو نہ کفر اور اہل کفر کی جڑ کٹے۔ کلمات کا لفظ جیسا کہ ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں تصریح کرچکے ہیں، ایک قسم کے ابہام کا حامل ہے۔ چونکہ اس موقع پر بات، جیسا کہ ہم اوپر وضاحت کرچکے ہیں، لوگوں کے سامنے مبہم طور پر رکھی گئی تھی اس وجہ سے قرآن نے اس کو کلمات کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ جن باتوں کے اندر کوئی اجمال و ابہام ہوتا ہے۔ درحقیقت وہی باتیں ہوتی ہیں جن کے منشا کے تعین کا کام دشوار ہوتا ہے ایسے مواقع میں اہل ایمان کی روش یہ ہونی چاہیے کہ بات کا وہ پہلو اختیار کریں جو اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی شان سے موافقت رکھنے والا ہو نہ کہ ان کے منافی۔ يَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ کے الفاظ سے قرآن نے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کردیا کہ سارے کفر کی جڑ تو قریش کی جمعیت تھی، کاٹنے کی چیز تھی تو وہ تھی اور اللہ چاہ سکتا تھا تو اس کو کاٹنا چاہ سکتا تھا لیکن ایک گروہ نے تجارتی قافلہ ہی پر وار کر کے تیس مار خاں بننے کی کوشش کی۔
Ayah 8:8لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۔ یہ ٹکڑا يَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ کی غایت واضح کر رہا ہے کہ اللہ نے ان کافروں کی جڑ کاٹنے کا جو ارادہ فرمایا ہے تو اس کا مقصد حق کا بول بالا کرنا اور باطل کو مٹانا ہے۔ خدا کو کسی سے پرخاش نہیں البتہ احقاق حق اور ابطال باطل اس کی صفات کا مقتضی ہے اور اس کا فیصلہ اب خدا نے فرما لیا ہے اور یہ کام ہو کر رہے گا اور ان مجرموں کے علی الرغم ہو کر رہے گا۔
قرآنی اشارات کی روشنی میں غزوہ بدر کی اصل تصویر : اوپر قرآن نے جو اشارات کیے ہیں ان کی روشنی میں غزوہ بدر کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے جو سیرت و مغازی کی کتابوں میں پیش کی گئی ہے اور جس میں رنگ آمیزی کر کے مستشرقین نے اس کو اور زیادہ بھیانک شکل دے دی ہے۔
قرآن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ یا مسلمانوں کے ذہن میں قریش کے قافلہ تجارت سے تعرض کرنے کا کوئی خیال موجود نہیں تھا۔ مدینہ پر حملہ کی ساری اسکیم قریش نے بنائی اور اس کے لیے قافلہ تجارت کی حفاظت کا بہانہ تراشا۔ قریش مدینہ میں مسلمانوں کے جڑ پکڑنے سے بہت خائف تھے۔ مذہبی عناد کے علاوہ انہیں یہ بھی اندیشہ تھا کہ اب مکہ اور شام کی تجارتی شاہراہ ان کے لیے محفوظ نہیں رہ گئی ہے۔ اس وجہ اسے آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے بعد ہی وہ اس فکر میں تھے کہ کوئی عذر تلاش کر کے مسلمانوں کو ایک قوت بننے سے پہلے ہی ختم کردیں۔ اب یا تو قافلہ تجارت کے سالار ابو سفیان نے واپسی کے مواقع پر کوئی وہمی خطرہ مسلمانوں کے حملہ کا محسوس کیا ہو کہ آدمی بھیج کر قریش کو حملہ کی خبر بھیج دی یا اس کے لیے بھی پہلے سے قریش کے لیڈروں میں کوئی سازش رہی ہو۔ بہرحال ابوسفیان کی اطلاع پر مکہ سے ایک بھاری بھرکم لشکر مدینہ کے لیے روانہ ہوگیا۔ یہ مرحلہ ہے جس میں آنحضرت ﷺ کو رویا کے ذریعے سے یہ اطلاع ہوتی ہے کہ قریش کی دو جماعتیں آرہی ہیں جن میں سے ایک سے مسلمانوں کا مقابلہ ہوتا ہے۔
آنحضرت ﷺ نے اس کے بعد مدینہ سے بدر کے لیے نکلنے کا ارادہ فرمایا اور مسلمانوں کے حوصلہ کا اندازہ کرنے کے لیے صورت حال مبہم انداز میں ان کے سامنے رکھی کہ کفار کی دو جماعتیں آرہی ہیں جن میں سے ایک سے ہمارا مقابلہ ہوگا اور وہ ہم سے شکست کھائے گی۔ مسئلہ کے سامنے آتے ہی مہاجرین و انصار سب سمجھ گئے کہ قریش کی فوج آرہی ہے اور اس سے معاملہ درپیش ہے۔ چناچہ ان کے لیڈروں نے پورے جوش و خروش کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو اپنی وفاداری اور اسلام کے لیے اپنی جاں نثاری کا یقین دلایا۔ البتہ ایک مختصر سی ٹولی ان میں ایسی بھی تھی جس نے اپنا زور اس بات کے لیے لگایا کہ قریش کی فوج کے بجائے قافلہ تجارت کا رخ کیا جائے تاکہ بغیر ایک قطرہ خون بہائے بھاری غنیمت ہاتھ آئے۔ اسی گروہ کو بےنقاب کرنے کے لیے حضور نے اپنی بات مبہم انداز میں پیش کی تھی تاکہ جن لوگوں کے اندر کوئی کمزوری چھپی ہوئی ہے وہ اپنی کمزوری ظاہر کردیں اور مخلص و منافق میں مرحلہ جنگ پیش آنے سے پہلے ہی امتیاز ہوجائے۔ آگے اسی سورة کی بعض آیات کی روشنی میں ہم انشاء اللہ یہ بھی دکھائیں گے کہ اس جنگ کے لیے یہود نے بھی قریش کی پیٹھ ٹھونکی تھی لیکن میدان جنگ کا نقشہ دیکھ کر وہ اپنی عادت کے مطابق دبک گئے۔
Ayah 8:9آیات 9 تا 19 کا مضمون : آگے اللہ تعالیٰ نے اپنی ان غیبی تائیدات کا حوالہ دیا ہے جو اس موقع پر مسلمانوں کی مدد اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ظاہر ہوئیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور اسلام کے مستقبل پر ان کا ایمان و اعتماد مضبوط ہو۔ اوپر کے ٹکڑے میں جن کمزور لوگوں کا ذکر آیا تھا ظاہر ہے کہ وہ مسلمانوں کی جماعتی اصلاح ہی کے نقطہ نطر سے آیا تھا، اب گویا اسی مقصد کے تحت ان باتوں کی یاد دہانی کی جا رہی ہے جن کی یاد داشت آگے کے مراحل میں کام آنے والی تھی۔ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ کفار قریش کو بھی مخاطب کر کے تنبیہ کردی گئی کہ یہ چپت جو تمہیں لگی ہے یہ تو تمہید ہے، تمہاری روش اگر یہی رہی تو آگے اس سے سخت دنوں کا انتظار کرو، تم نے اس جنگ کے نتیجے کو حق و باطل کو معیار ٹھہرایا تھا تو اس کا نتیجہ تمہارے سامنے آگیا، اب بھی تمہاری آنکھیں نہ کھلیں، تم نے پھر شرارت کی تو یاد رکھو ہم کہیں چلے نہیں گئے ہیں۔ کثرت تعداد و وسائل کا سارا گھمنڈ دھرا رہ جائے گا اور تم پھر منہ کی کھاؤ گے، اہل ایمان کے پہلو پر ہم ہیں۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ۔
اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ ، فَاسْتَجَابَ لَكُمْ کی تفصیل ہے اور فاعل کا صیغہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کی قطعیت کے اظہار کے لیے ہے۔ ارداف کے معنی توالی، یعنی یکے بعد دیگرے ظاہر ہونے کے ہیں۔ یہ اس سب سے پہلی تائید الٰہی کا بیان ہے جو اس موقع پر ظاہر ہوئی۔ مسلمانوں کی تعداد اس جنگ میں بہت تھوڑی تھی یعنی کل 313 اور وہ بےسروسامان بھی تھے۔ ادھر کفار ایک ہزار کے قریب تھے اور ہر قسم کے اسلحہ سے لیس اور سروسامان سے بھپور۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کو واحد سہارا خدا ہی کی تائید ہو کا ہوسکتا تھا چناچہ ایک ایک شخص سراپا عجز و نیاز اور یکسر دعا و فریاد بنا ہوا تھا۔ ان دعاؤں کی نوعیت کا اندازہ کرنے کے لیے خود سرور عالم کی اس دعا کو پڑھ لینا کافی ہے جس کے الفاظ احادیث میں وارد ہوئے ہیں ظاہر ہے کہ جب نہتے مسلمانوں نے اپنے دل نکال کر اپنے رب کے سامنے رکھ دیے ہوں گے تو یہ دعائیں قبولیت سے کیسے محروم رہ سکتی تھیں۔ چناچہ یہ قبول ہوئیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت نازل ہوئی کہ تم ہراساں نہ ہو، میں تمہاری کمک کے لیے ہزار فرشتے نازل کرنے والا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ تم ہزار کافروں کی کیا پروا کرتے ہو، تمہارے جلو میں تو ہزار فرشتے ہوں گے۔ ان فرشتوں کے ظہور کی شکل یہ بتائی کہ ان کے دستے کے بعد دستے اور پرے کے بعد پرے نمایاں ہوں گے۔ میدانِ جنگ میں لڑنے والوں کی یہ سائیکالوجی ملحوظ رہے کہ جن کی حمایت میں کمک کے بعد کمک آرہی ہو ان کا حوصلہ ہر کمک پر دونا ہوتا ہے اور اسی اعتبار سے حریف کے اعصاب ڈھیلے پڑتے جاتے ہیں۔ یہ مضمون آل عمران کی آیات 125۔ 126 میں بھی گزر چکا ہے۔ ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔
Ayah 8:10وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰي وَلِتَطْمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ۔ ضمیر مفعول کا مرجع وہی وعدہ نصرت ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اس موقع پر تمہارے رب نے یہ صریح الفاظ میں تمہاری مدد کا پہلے سے جو وعدہ فرمایا تو محض اس لیے کہ تم ہراساں تھے، تمہاری ڈھارس بندھ جائے اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں۔ اس سے یہ نہ سمجھنا کہ خدا کی یہ مدد اسی موقع کے ساتھ مخصوص ہے بلکہ جب بھی اللہ کے مومن بندے اس کی راہ میں جہاد کے لیے نکلیں گے اور ایمان و اخلاص کے ساتھ اس سے طالب مدد ہوں گے، وہ ان کی مدد فرمائے گا خواہ اس مدد کے لیے پہلے سے ان کو بشارت ملی ہو یا نہ ملی ہو۔ اس وضاحت کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ صریح الفاظ میں برسر موقع وعدہ نصرت تو نبی کے ذریعہ ہی سے اور اس کی موجودگی ہی میں ہوسکتا ہے تو نبی کی غیر موجودگی میں یا اس کے زمانہ کے بعد کے لوگ کس طرح اطمینان قلب حاصل کرسکتے تھے۔ اس شبہ کے ازالے کے لیے یہ فرما دیا کہ یہ وعدہ اسی موقع کے لیے نہیں تھا بلکہ اہل ایمان کے لیے ایدی ہے۔ rnۭوَمَا النَّصْرُ اِلَّامِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔ اس لیے کہ مدد تو جب بھی آتی ہے یا آئے گی اللہ ہی کے پاس سے۔ پس خدا پر بھروسہ کرنے والے ہمیشہ خدا پر بھروسہ کریں وہ ہمیشہ ان کی مدد فرمائے گا۔ خدا عزیزی اور غالب ہے، کسی کی مجال نہیں کہ اس کے ہاتھ پکڑ سکے لیکن ساتھ ہی وہ حکیم بھی ہے اس وجہ سے اگر کبھی اہل ایمان کو کوئی افتاد پیش آجائے تو اس میں بھی کوئی حکمت کار فرما اور اس کی تہ میں بھی بندوں ہی کی کوئی مصلحت مضمر ہوتی ہے۔ یہ مضمون سورة آل عمران میں احد کی شکست کے اسباب کے ذیل میں تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔
اس زمانے کے بعض کم سوادوں نے اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا کہ فرشتوں کی فوج اتارنے کا وعدہ محض مسلمانوں کو ذرا بڑھاوا دینے کے لیے تھا تاکہ وہ ہمت کر کے کفار سے بھڑ جائیں۔ ان کے خیال میں قرآن نے جنگ کے بعد خود یہ راز کھول دیا کہ یہ بات محض تمہاری تسلی کے لیے کہہ دی گئی تھی، اس کی حقیقت کچھ نہیں تھی۔ گویا نعوذ باللہ پہلے تو اللہ میاں نے مسلمانوں کو چکمہ دیا اور پھر خود ہی اپنا بھانڈا پھوڑ دیا کہ اب کے تو میں نے تم کو چکمہ دے کر لڑا دیا، آئندہ میرے بھرّے میں نہ آنا، فرشتوں ورشتوں کی بات محض ایک بڑ ہی تھیں۔ شاید یہ حضرات اللہ میاں کو اپنے برابر بھی عقلمند نہیں سمجھتے تھے۔
Ayah 8:11اِذْ يُغَشِّيْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً لِّيُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطٰنِ وَلِيَرْبِطَ عَلٰي قُلُوْبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَ۔
یہ اس جنگ کے سلسلہ کی دوسری تائید الٰہی کا بیان ہے اور ذکر اس شب کا ہے جس کی صبح کو جنگ واقع ہوئی۔ تصویر حال کے مقصد سے صیغہ مضارع کا استعمال ہوا ہے جس کا استعمال تصویر حال کے لیے معروف ہے۔ فرمایا کہ یہ بات بھی خاص اللہ کی طرف سے ہوئی کہ شب میں اس نے تم پر نیند طاری کردی کہ تمہارے اعصاب و دماغ کو سکون مل گیا اور تم کو صبح کو جنگ کے لیے چاق و چوبد ہوگئے۔ اس نیند کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے اس لیے کہ عین میدان جنگ میں ان لوگوں کا جن کی مٹھی بھر جماعت کو صبح ایک دل با دل فوج سے لڑنا ہے تھوڑا سا سولینا بھی فی الواقع خدا کی تائید ہی کا مظہر ہے۔ نیند تو تھوڑی سی پریشانی سے بھی اچاٹ ہوجاتی ہے چہ جائیکہ ایک ایسی پریشانی میں جیسی کہ اس موقع پر مسلمانوں کو لاحق رہی ہوگی لیکن جس کو خدا کی طمانیت بخشیوں کی تھپکیاں حاصل ہوں وہ تختہ دار پر بھی سو سکتے ہیں۔ چناچہ شب میں مسلمان سو لیے اور اس سے ان کے اعصاب اور دل و دماغ کو اتنا سکون حاصل ہوگیا کہ وہ جنگ کے لیے تازہ دم ہوگئے۔ سورة آل عمران کی آیت 154 کے تحت ہم لکھ آئے ہیں کہ میدانِ جنگ میں فوج کے لیے سو لینے کا موقع مل جانا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کا اصل ؛ ی انحصار دل و دماغ کی حالت پر ہے اور یہ چیز ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتی، انہی ہی کو حاصل ہوتی ہے جن پر خدائے مقلب القلوب اپنے فضل خاص سے یہ سکینت طاری کردے۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ : عام طور پر لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ اونگھ کی یہ حالت مسلمانوں پر عین اس وقت طاری ہوئی جب زور و شور کا معرکہ گرم تھا اور حالت یہ ہوئی کہ لوگوں کے ہاتھوں سے تلواریں چھوٹ کر گری پڑتی تھیں۔ لیکن یہ بات کسی طرح سمجھ میں نہیں آتی۔ اول تو یہی بات بڑی عجیب سی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسی حالت کو اپنے انعام کے طور پر گنائے جس کا فائدہ سر تا سر کفار کے حق میں جاتا ہے۔ ان کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا تائید ہوسکتی تھی کہ مسلما عین لڑائی کے وقت اونگھنے لگ جائیں خواہ وہ کتنے ہی قلیل وقت کے لیے ہو۔ دوسرے یہ بات قرآن کے صریح الفاظ کے بھی بالکل خلاف ہے۔ اس طرح کی نیند کا ذکر قرآن میں دو جگہ آیا ہے۔ ایک آلِ عمران آیت 154 میں، دوسرے یہاں، آل عمران کے الفاظ یہ ہیں، ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاسا یغشی طائفۃ منکم وطائفۃ قد اھمتہم انفسہم، (پھر اللہ نے تم پر غم کے بعد سکون اتارا یعنی نیند جس نے تم میں سے ایک گروہ کو ڈھانک لیا اور ایک گروہ کو اپنی جانوں کی پڑی رہی) اس آیت میں ظاہر ہے کہ غم سے وہی غم مراد ہے جو مسلمانوں کو احد کی شکست سے پیش آیا تو جب نیند کے اتارے جانے کا واقعہ اس غم کے پیش آنے کے بعد پیش آیا تو اس کا تعلق وقت جنگ سے کیسے ہوسکتا ہے، یہ تو لازما جنگ کے ختم ہوجانے کے بعد ہی کا واقعہ ہوسکتا ہے۔ اس نیند کے موقع اور اس کی اہمیت کی تفصیل ہم آل عمران کی تفسیر میں کرچکے ہیں۔
انفال کی زیر بحث آیت میں اس نیند کا ذکر ان تائیدات کے بیان کے ذیل میں ہوا ہے جو بالفعل جنگ شروع ہونے سے پہلے ظہور میں آئی ہیں۔ اس کے اوپر آپ نے دیکھا کہ فرشتوں کی فوج اتارے جانے کی بشارت کا حوالہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بشارت جنگ سے پہلے دی گئی ہے۔ بعد کی آیت میں بارش کے نزول کا ذکر ہے، ہر شخص جانتا ہے کہ یہ واقعہ بھی جنگ سے پہلے ہوا ہے، پھر ان دونوں کے بیچ میں ایک ایسی بات کیسے آسکتی ہے جس کا تعلق معرکہ کارزار سے ہو ؟ قرآن نے اپنی ترتیب بیان ہی سے واقعہ کا موقع و محل نہایت خوبی سے واضح کردیا ہے لیکن آفت یہ ہے کہ لوگ قرآن پر غور ہی نہیں کرتے۔ ممکن ہے یہاں کسی کو یہ شبہ پیدا ہو کہ قرآن نے یہاں نعاس کا لفظ استعمال کیا ہے جو عربی میں ابتدائی نیند یعنی اونگھ اور جھپکی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگر مقصود اطمینان کی نیند کا بیان کرنا ہوتا تو نوم یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ استعمال ہوتا۔ ہمارے نزدیک یہ شبہ کچھ وزن نہیں رکھتا۔ اول تو یہ خیال کیجیے کہ شدید پریشانی میں آدمی جس چیز سے محروم ہوجاتا ہے وہ ابتدائی نیند ہی ہے، وہ اگر کسی طرح آجائے اور ذرا آنکھ لگ جائے تو آدمی کچھ سو ہی لیتا ہے۔ خدا نے اپنے فضل خاص سے یہہ چیز مسلمانوں پر اڑھا دی۔ جیسا کہ یغشیکم کے لفط سے عیاں ہے اسی وجہ سے مسلمان سو لیے۔ دوسری بات یہ کہ سفر یا میدان جنگ میں گھوڑے بیچ کر اور مردوں سے شرط باندھ کر تو کوئی ذی ہوش بھی نہیں سوتا۔ جو بھی سوتا ہے وہ جھپکی والی نیند ہی سوتا ہے۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک قرآن نے یہ لفظ نہایت برمحل اور بلیغ استعمال کیا ہے۔
وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً لِّيُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطٰنِ۔ یہ تیسری تائید الٰہی کا حوالہ ہے کہ عین موقع پر اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسمان سے پانی برسا دیتا ہے۔ یہاں من السماء کے الفاظ بڑے بامعنی ہیں۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار نے پہلے پہنچ کر پانی کے چشمہ پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس وجہ سے پانی کے باب میں مسلمانوں کو بڑی تشویش تھی۔ اللہ تعالیٰ نے من السماء کے الفاظ سے گویا اپنے اس التفات خاص کی طرف مسلمانوں کی توجہ دلائی کہ کفار نے جب تمہیں زمین کے پانی سے محروم کرنے کی تدبیر کی تو وہ تمہاری کچھ نہ بگاڑ سکے۔ تمہارے رب نے تمہارے لیے آسمان سے پانی بھیج دیا۔ لِّيُطَهِّرَكُمْ میں پانی کا جو فائدہ بتایا ہے اس سے صحابہ کے ذوق و رجحان پر روشنی پڑتی ہے کہ ایمان و اسلام نے ان کے اقدار اور پیمانے کس قدر بدل دیے تھے۔ پانی کا یہ فائدہ کہ پیا جاتا ہے۔ ہر آدمی کو معلوم ہے بلکہ بیل اور گدھے بھی اس سے واقف ہیں۔ مومن کی نگاہ میں پانی کا اصلی فائدہ اور اس کی حقیقی قدر و قیمت اس بات میں ہے کہ وہ پاکیزگی اور طہارت کا ذریعہ اور شیطانی وسوسوں کے دور کرنے کا واسطہ ہے اور یہ چیز اللہ کو بہت محبوب ہے۔ صحابہ نے اس موقع پر پانی کے مسئلہ پر غور کیا ہوگا تو ان کے سامنے پینے کی ضرورت سے زیادہ اہمیت کے ساتھ یہ بات آئی ہوگی کہ وضو کیسے ہوگا، طہارت کے لیے کیا بنے گا، غسل کی ضرورت پیش آئی تو کیا صورت ہوگی ؟ ان کی اس مخصوص پریشانی کی وجہ سے، جو ان کی جوش ایمان کا مظہر تھی، اللہ تعالیٰ نے پانی کی ان روحانی برکات کا خاص طور پر ذکر فرمایا اور اس کے عام حیوانی فوائد سے صرف نظر فرمایا کہ وہ تو سبھی کے علم میں ہیں۔ رِجْزَ الشَّيْطٰنِ سے مراد شیطانی وساوس ہیں۔ اس کے ذکر کا بھی ایک خاص محل ہے۔ آدمی جب ناپاکی کی حالت میں ہو تو جس طرح گندی چیزوں پر مکھیوں کا زیادہ ہجوم ہوتا ہے، اسی طرح گندگی کی حالت میں شیطانی وساوس کا بھی آدمی پر زیادہ غلبہ ہوتا ہے۔ یہ حقیقت بعض احادیث میں بھی بیان ہوئی ہے۔ علاوہ بریں یہ بات بھی ہے کہ اگر پانی جیسی ناگزیر شے کی نایابی کا سوال پیدا ہوجائے اور وہ بھی عین جنگ کی حالت میں تو شیطان اس کی آڑ میں ایسی بد دلی اور مایوسی پھیلا سکتا ہے کہ بہتوں کا ایمان متزلزل ہوجائے۔
وَلِيَرْبِطَ عَلٰي قُلُوْبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَ۔ ربط اللہ علی قلبہ، قواہ و صبرہ، خدا نے اس کے دل کو مضبوط کردیا، اس کو اثبات قلب بخشا، اس کو تھام لیا۔ عام طور پر لوگوں نے اس اثباتِ قلب اور ثبات قدم کو بھی مذکورہ بارش ہی کے تحت شمار کیا اور اس پہلو سے اس ٹکڑے کی تاویل کی ہے لیکن میرا رجحان یہ ہے کہ یہ اس نیند کے فوائد کی تفصیل ہے جس کا اوپر ذکر ہے۔ میرے رجحان کے وجوہ حسب ذیل ہیں۔
اول یہ کہ لیربط میں ل کا اعادہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ بعینہ لیطہرکم بہ و یذھب عنکم رجز الشیطان کے تحت نہیں ہے۔ ایسا ہوتا تو بغیر اعادہ ل کے آتا جس طرح ویذھب ہے۔ فصیح عربی میں اسلوب بیان یہی ہے۔ کلام عرب اور قرآن نظائر سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ اس کتاب میں اس کی ایک سے زیادہ مثالیں گزر چکی ہیں۔ بقرہ میں ہے۔“ یرید اللہ بک الیسر ولا یرید بکم العسر ولتکملوا العدۃ ولتکبروا اللہ علی ما ھداکم ولعلکم تشکرون : اور اللہ تہارے لیے سہولت چاہتا ہے، تنگی نہیں چاہتا اور تاکہ تم تعداد پوی کرو اور تاکہ تم اس ہدایت پر جو اس نے تم کو بخشی ہے اس کی بڑائی کرو اور تاکہ تم شکر گزار رہو ”(بقرہ : 185)۔ ہم نے اس آیت کے تحت وضاحت کی ہے کہ یہ اوپر کے بیان کردہ احکام کی الگ الگ علتیں واضح کی گئی ہیں اس وجہ سے ہر ایک کے ساتھ ل کا اعادہ کیا گیا اور ترتیب بیان نزولی نہیں بلکہ صعودی ہے یعنی نیچے سے اوپر کو چڑھتے ہوئے ایک ایک حکم کی غایت واجح کی گئی ہے۔ بالکل اسی اصول پر یہاں بھی ترتیب صعودی ہے۔ پانی کا ذکر سب سے آخر میں ہے۔ پہلے اس کا فائدہ بیان کیا گیا ہے، پھر نیند کا فائدہ بیان ہوا جس کا ذکر اوپر تھا اور ‘ ل ’ کا اعادہ کر کے یہ اشارہ فرما دیا کہ اس کا تعلق قریبی شے سے نہیں ہے بلکہ دوسری چیز سے ہے۔
دوم یہ کہ ثبات قلب، سکون دماغ اور ثابت قدم کا واضح تعلق نیند ہی سے ہے اسی وجہ سے قرآن نے اس کو امنۃ سے تعبیر فرمایا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اگر رات بےخوابی اور پریشانی میں گزری ہو تو دماغ اڑا اڑا پھرتا ہے، دل پراگندہ اور پریشان رہتا ہے۔ آدمی قدم رکھتا کہیں ہے، پڑتے کہیں ہیں۔ ایسی ذہنی اور قلبی پریشانی میں آدمی کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام بھی سلیقہ سے نہیں کرپاتا چہ جائیکہ دشمن سے مقابلہ اور وہ بھی اس دور کی جنگ میں جس میں کامیابی کا انحصار مشینوں کی قوت پر نہیں بکہ لڑنے والوں کے اپنے اعصاب کی چشتی اور قوت پر تھا۔ یہ بات بھی یہاں ملحوظ رہے کہ متعد عرب شعرا نے اپنے جنگ کارناموں کی تفصیل کرتے ہوئے۔ یہ بات بیان کی ہے کہ ہم نے رات میں اپنے دشمن کو سونے نہیں دیا جس کے سبب سے صبح کو ان کے دل ایسے اڑے ہوئے تھے کہ ہمارے سامنے ان کے قدم نہ جم سکے۔
Ayah 8:12اِذْ يُوْحِيْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰۗىِٕكَةِ۔ یہاں ملائکہ سے مراد ملائکہ کی وہی فوج ہے جس کی اوپر بشارت دی گئی۔ یہ فوج براہ راست راب الافواج کی کمان میں تھی اس وجہ سے اس کو احکام بھی براہ راست اسی کی طرف سے ملتے تھے اور ان احکام کا ذریعہ وحی الٰہی تھی اس لیے کہ فرشتے بھی بایں علو مرتبت خدا تک براہ راست رسائی نہیں رکھتے۔
اَنِّىْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔ یہ پہلا حکم ہے جو اس فوج کو ملا۔ ارشاد ہوا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تو تم مسلمانوں کو ثابت قدم رکھو۔ اس سے ایک بات تو یہ نکلی کہ خدا کی معیت کے بغیر فرشتے بھی کچھ نہیں کرسکتے۔ دوسری یہ کہ فرشتوں کا کام بھی بہرحال یہ نہیں تھا کہ وہ مسلمانوں سے یہ کہہ دیں کہ تم الگ ہو کر بیٹھو۔ ہم لڑ کر تمہارے لیے میدان جیتے دیتے ہیں بلکہ ان کا فریضہ منصبی مسلمانوں کو ثابت قدم رکھنا تھا۔ گویا اصلی چیز مسلمانوں کی خود اپنی شجاعت اور ثابت قدمی تھی۔ مسلمان اپنی یہ جوہر دکھائیں تو خدا کی مدد ان کے ساتھ ہے۔ سنت الٰہی یہی ہے کہ خدا کے ہاتھ ہمیشہ اسباب کے اوٹ سے کام کرتے ہیں۔
سَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ۔ مطلب یہ کہ اہل ایمان اپنی ثابت قدمی کا ثبوت دے دیں پھر زیادہ دیر نہیں گزرے گی کہ میں کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دوں گا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ فوج کی اصلی قوت اس کے حوصلہ میں ہوتی ہے۔ اگر حوصلہ بحارل رہے تو سپاہی بےتیغ و تفنگ بھی لڑتا ہے اور اگر حوصلہ ٹوٹ جائے تو اسلحہ کے بڑے بڑے ذخیرے غنیم کے لیے چھوڑ کر فوج بھاگ کھڑی ہوتی ہے تو یہ جو فرمایا کہ میں ان کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہوئی بلکہ یہ تعبیر ہوئی ان کی کمر توڑ دینے کی۔
فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ۔ یہ ان کی مرعوبیت کے نتیجہ کی نہایت حقیقت افروز تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جب ان کا حوصلہ ٹوٹ جائے گا تو ان کو بھیڑوں بکریوں بلکہ گاجر مولی کی طرح کاٹ کر ڈال دو۔ ان کی گردنوں کے اوپر مارو، ان کے ایک ایک پور پر مارو، یہ تصویر ہے مرعوبیت کے باعث ان کی بےبسی کی۔ حریف میں جب تک دم خم ہوتا ہے ظاہر ہے کہ اس بات کا موقع وہ مشکل ہی سے دیتا ہے کہ آپ جہاں چاہیں اس کے مار دیں لیکن جب اعصاب ڈھیلے پڑگئے تو پکڑ کو اس کی چندیا پر جوتے لگا دیجیے۔ وہ چوں بھی نہ کرسکے گا۔ تعیین محل کے ساتھ جب کسی کو مارنے کے لیے کہا جائے تو اس میں اس کی تحقیر و تذلیل بھی مد نظر ہوتی ہے اور اس سے اس کی بےبسی کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے۔
Ayah 8:13ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاۗقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۚ وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔ یہ وجہ بیان ہوئی اس بات کی کہ کیوں خدا ان کے دلوں میں رعب ڈال دے گا اور کیوں یہ مسلمانوں کے ہاتھوں گاجر مولی کی طرح کاٹے جائیں گے ؟ فرمایا کہ اس لیے کہ یہ اللہ و رسول کے مقابلہ کے لیے اٹھے ہیں اور جو لوگ اللہ و رسول سے مقابلہ کے لیے اٹھتے ہیں اللہ ان کو شدید پاداش سے دوچار کرتا ہے۔ انسانی فطرت کے اندر خدا اور خدا کے رسول سے لڑنے کے لیے کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ لڑائی کا جواز وہاں ہوتا ہے کہ خدا کے مقابل میں کسی حق کا سوال پیدا نہیں ہوتا اس وجہ سے اس قسم کی جہالت کے لیے جو لوگ اٹھتے ہیں وہ اٹھیں چاہے طوفان کی طرح لیکن مقابلہ پیش آجائے تو بیٹھ جاتے ہیں بلبلے کی طرح، اس لیے کہ ان کے حوصلہ کی بنیاد کسی حق پر نہیں ہوتی۔