8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 8:35

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور بیت اللہ کے سامنے ان کی نماز سیٹی بجانے اور تالی پیٹنے کے سوا کچھ نہیں۔ تو چکھو عذاب اپنے کفر کی پاداش میں

وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ اِلَّا مُكَاۗءً وَّتَصْدِيَةً ۭ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۔ یہ ایک مثال بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ نہ یہ خانہ کعبہ کی تولیت کے اہل ہیں نہ انہیں اس گھر کے مقصد تعمیر کا کچھ پتا ہے۔ خانہ کعبہ کی تعمیر حضرت ابراہیم نے جس مقصد کے لیے کی تھی اس کا ذکر سورة بقرہ میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں سورة ابراہیم کی مندرجہ ذیل آیات پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ . رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ ۚ فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّهٗ مِنِّىْ ۚ وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ. رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ ۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ : اور یاد کرو جب ابراہیم نے دعا کی، اے میرے رب، اس سرزمین کو پرامن سرزمین بنا دے اور مجھ کو اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے محفوظ رکھ۔ اے میرے رب، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہ کر رکھا ہے سو جو میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو غفور رحیم ہے۔ اے ہمارے رب، میں نے اپنی اولاد میں سے کچھ کو تیرے محترم گھر کے پاس ایک بن کھیتی کی سرزمین بسایا ہے، اے ہمارے رب تاکہ وہ نماز کا اہتمام کریں۔ پس تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر اور ان کو پھلوں کی روزی عطا فرما تاکہ وہ تیرے شکر گزار رہیں۔ اس دعا کے الفاظ پر غور کیجیے تو اس سے واضح ہوجائے گا کہ حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو مکہ میں کیوں بسایا تھا، اپنی ذریت کے لیے انہوں نے کیا دعا فرمائی، بیت اللہ کی تعمیر کا مقصد کیا تھا اور ذریت اسماعیل کو، اس گھر کے جوار میں بسانے سے ان کے پیش نظر کیا مدعا تھا ؟ خاص طور پر ربنا لیقیموا الصلوۃ کے الفاظ شاہد ہیں کہ جس طرح بیت اللہ، اللہ کی عبادت کا مرکز بنایا گیا تھا۔ اسی طرح ذریت اسماعیل کو اس گھر کے جوار میں بسانے سے اصل مدعا نماز کا اہتمام و قیام تھا۔ لیکن قریش نے جس طرح بیت اللہ کو شرک و بت پرستی کا ایک گڑھ بنا کے رکھ دیا اسی طرح نماز کی بھی، جس کی خاطر ہی انہیں یہاں بسایا گیا تھا، بالکل آبر و مٹا کر رکھ دی۔ فرمایا کہ ان کی نماز کی ابھی، جس کی خاطر ہی انہیں یہاں بسایا گیا تھا۔ بالکل آبرو مٹا کر رکھ دی۔ فرمایا کہ ان کی نماز کیا ہے۔ سیٹی بجانا اور تالی پیٹنا۔ مکا، یمکو، مکاء کے معنی ششکارنے اور منہ سے سیٹی بجانے کے ہیں تصدیہ کے معنی تالی پیٹنے کے ہیں، قرآن نے نہایت بلاغت ہے ان کی عبادت کی ظاہری ہیئت ہی سے نمایاں کردیا کہ بھلا اس مسخرا پن کو نماز سے کیا تعلق ہوسکتا ہے۔ صورت ببین حالت مپرس۔ ہم کسی دوسرے مقام میں اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ جانچنے کے لیے کہ کیا بات دین کی ہے، کیا نہیں ہے جہاں باطنی کسوٹیاں ہیں وہیں ظاہری کسوٹیاں بھی ہیں۔ اگر کوئی شخص دین کا ذوق رکھتا ہو تو بہت سی بدعتوں کو ان کی ظاہری ہیئت ہی سے پہچان جاتا ہے کہ ان خرافات کو دین سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔ تعزیہ داری کے رسوم مزاروں پر ہونے والی خرافات اور متصوفین کی مجالس کی حرکتیں ایسی چیزیں نہیں ہیں جن کی لغویت کا فیصلہ کرنے کے لیے کسی علمی کاوش کی ضرورت ہو۔ ہر صاحب ذوق بیک نظر دیکھ کر فیصلہ کرلیتا ہے کہ ان چیزوں کو دین سے کوئی دور کا بھی علاقہ نہیں ہوسکتا۔ دین کی ہر بان میں وقار، متانت، فروتنی، خشیت اور پاکیزگی کی جھلک اور معرفت، حکمت، دانش اور روحانیت کی مہک ہوتی ہے۔ جس کی آنکھوں میں کچھ بصیرت اور جس کی روانی قوت شامہ میں ذرا بھی زندگی ہو تو وہ صرف دیکھ اور سونگھ ہی کر جان جاتا ہے کہ فلاں چیز دین کی نہیں ہے۔ علمی تحقیق و کاوش کا مرحلہ اس کے بعد آتا ہے اور اس کے وسائل و ذرائع الگ ہیں۔ یہاں قرآن نے یہی دکھایا ہے کہ یہ ان مدعیان تولیت کعبہ کی نماز ہے جس کی صورت ہی گواہی دیتی ہے کہ یہ شیطان کی ایجاد ہے۔ اس میں اس نماز کی ادنی جھلک بھی نہیں ہے۔ جس کے اہتمام و قیامت کے لیے یہ یہاں بسائے گئے تھے اور جس کی خاطر خدا کا یہ گھر ان کی تحویل میں دیا گیا تھا۔ مشرکانہ عبادت کے اجزاء : یہ ششکارنا، سیٹی بجانا، سنکھ بجانا، ناقوس بجانا سب ایک ہی نوع کی چیزیں ہیں۔ یہ چیزیں شروع سے مشرکانہ عبادت کے اجزا میں سے ہیں۔ یہ تحقیق مشکل ہے کہ ان کے پیچھے کیا تصور کار فرما رہا ہے، ممکن ہے یہ حرکتیں بھوت بھگانے کے لیے اختیار کی گئی ہوں۔ ہم دوسرے مقام میں ذکر کرچکے ہیں کہ قریش نے سارے عرب پر اپنی مذہبی سیادت جمانے کے لیے یہ چالاکی کی تھی کہ تمام قبیلوں کے بت خانہ کعبہ اور اس کے جوار میں جمع کردیے تھے۔ ظاہر ہے کہ جب یہ بت آئے تو ان کے ساتھ ان کی پرستش کے آداب و رسوم بھی آئے۔ بالآخر بات یہاں تک پہنچی کہ ابراہیمی نماز تو حرم سے بالکل حرم سے بالکل خارج کردی گئی۔ یہاں تک کہ اس کے جاننے والے بھی باقی نہیں رہ گئے، البتہ سیٹی اور تالی بجانے کی حماقتیں باقی رہ گئیں۔ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۔ اوپر مالہم الا یعذبہم اللہ سے جو بات بصیغہ غائب شروع ہوئی تھی، قریش کے مذکورہ جرائم گنانے کے بعد وہی بات قریش کو مخاطب کر کے کہہ دی گئی اور اس خطاب میں تہدید کے پہلو سے جو بلاغت ہے وہ واضح ہے مطلب یہ ہے کہ یہ خبط ذہن سے نکالو کہ تم خانہ کعبہ کے متولی اور اس کے پاسبان ہو۔ اپنے منہ میاں مٹھو نہ بنو۔ تمہارے کفر اور تمہاری خیانت و بدعہدی کی ایک پوری تاریخ بن چکی ہے تو اب اس کی پاداش میں خدا کا عذاب چکھو۔ اس میں اشارہ اس چپت کی طرف بھی ہے جو بدر میں ان کو لگی اور آئندہ جو طمانچے لگنے والے ہیں ان کی دھمکی بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب خدا کی مار پڑنی شروع ہوگئی ہے یکے بعد دیگر چکھتے جاؤ اور گنتے جاؤ۔
Ayah 8:36

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے وہ اپنے مال اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے خرچ کر رہے ہیں۔ وہ اس کو خرچ کریں گے، پھر یہ ان کے لیے سرمایہ حسرت بنے گا۔ پھر یہ مغلوب ہوں گے اور یہ کافر جمع کر کے جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنْفِقُوْنَ الایہ، اب یہ بات واضح کی جا رہی ہے کہ اس وقت قریش کے لیڈروں میں اسلام کے مٹانے کے لیے جو جوش و خروش ہے اور اس جوش میں وہ بڑی فیاضی سے جو اپنی دولت لٹا رہے ہیں، یہ چیز بھی اس فرقانِ حق کے نمایاں ہونے میں مانع نہ ہوسکے گی جس کا اہل ایمان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ اس وضاحت کی ضرورت اس لیے تھی کہ فی الواقع قریش کے لیڈروں نے بدر کے موقع پر بڑی دریا دلی دکھائی تھی، جنگ کا سامان اور فوج کی رسد فراہم کرنے میں ہر سردار نے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی، کمزور قسم کے مسلمانوں پر یہ چیز بھی اثر انداز ہوئی کہ قریش کے پاس تعداد اور سامانِ جنگ کی کثرت بھی ہے، مال کی بہتات بھی ہے اور خرچ کرنے کے لیے جوش و خروش بھی ہے، بھلا ایسے لوگوں سے تھوڑے سے بےسروسامان مسلمان کیا مقابلہ کرسکیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ راہ حق سے روکنے کے لیے یہ زرپاشیاں جو ہو رہی ہیں ان سے مرعوب نہ ہو۔ ان خزف ریزوں اور تنکوں سے اس سیلاب کے مقابل میں بند نہیں باندھا جاسکے گا جو آرہا ہے۔ بیشک انہوں نے بڑی فیاضی سے جو خرچ کیا ہے اور ابھی اور بھی یہ خرچ کریں گے لیکن ان تمام زر پاشیوں کا حاصل کف افسوس ملنے کے سوا اور کچھ نہ نکلے گا یہ بہت جلد منہ کی کھائیں گے۔ دنیا میں ان کے لیے شکست مقدر ہوچکی ہے اور آخرت میں یہ جہنم کی طرف ہانک کے لیے جائے جائیں گے۔ یحشرون کے ساتھ الی کے صلہ نے اس کے اندر ہانک کرلے جائے جانے کا مفہوم پیدا کردیا ہے۔ ترجمہ میں ہم نے اس کا لحاظ رکھا ہے۔
Ayah 8:37

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ اللہ خبیث کو طیب سے چھانٹ کر الگ کرے اور خبیث کو ایک دوسرے پر ڈھیر کرے، پھر اس کو جہنم میں جھونک دے یہی لوگ نامراد ہونے والے ہیں

لِيَمِيْزَ اللّٰهُ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ الایہ، یہ اس فرقان کا بیان ہے جو آخرت میں ظاہر ہوگا۔ وہاں اللہ تعالیٰ سارے خبیث کو طیب سے بالکل الگ کردے گا۔ پھر خبیث کو ایک دوسرے پر تہ بہ تہ ڈھیر کردے گا۔ پھر اس پورے ڈھیر کو جہنم میں جھونک دے گا ، ‘ رکم ’ کے معنی کسی شے کو ایک دوسرے پر تہ بہ تہ ڈھیر کرنے کے ہیں۔ کوڑے کرکٹ کو جلانا ہو تو اسکے لیے طریقہ یہی اختیار کیا جاتا ہے۔ سب کو جمع کر کے تہ بہ تہ ڈھیر کیا جاتا ہے پھر اس کو آگ دکھا دی جاتی ہے۔ تہ بہ تہ جمع کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آگ زیادہ مقدار میں ایندھن پا کر پورے زور سے بھرکتی ہے اور جمع شدہ انبار کا ہر حصہ دوسرے حصہ کو جلانے میں مددگار بن جاتا ہے۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل کفر جس طرح اس دنیا میں تائید کفر میں ایک دوسرے کے پشت پناہ ہیں، اسی طرح جہنم میں ایک دوسرے کو جلانے کے لیے باہمدگر ایندھن کا کام دیں گے۔ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۔ فرمایا کہ اصلی نامراد یہی ہیں۔ اس لیے کہ دنیا میں ان کا انجام یہ ہوگا کہ یہ اپنے مال برباد کریں گے، کف افسوس ملیں گے۔ ذلت کے ساتھ شکست کھائیں گے اور آخرت میں یہ ہوگا کہ کوڑے کرکٹ کے انبار کی طرح اکٹھا کر کے جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔ خسر الدنیا والآخرۃ۔
Ayah 8:38

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

ان کفر کرنے والوں سے کہہ دو کہ اگر یہ باز آجائیں تو جو کچھ ہوچکا ہے وہ معاف کردیا جائے گا اور اگر وہ پھر یہی کریں گے تو اگلوں کے باب میں سنت الٰہی گزر چکی ہے

قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ يَّنْتَهُوْا يُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ قریش کو دعوت استغفار ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اس عذاب سے بچنا چاہتے ہیں جس کی انہیں خبر دی جا رہی ہے تو وہ اس روش سے باز آئیں۔ توبہ اور اصلاح کریں، رسول کی دعوت پر لبیک کہیں۔ اگر انہوں نے اپنی روش بدل لی تو جو شرارتیں اور جو ظلم وہ اب تک کرچکے ہیں اللہ ان کو معاف کردے گا، ان کی بنا پر وہ کسی عذاب میں نہیں پکڑے جائیں گے۔ وَاِنْ يَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ۔ یہ ترغیب کے بعد ترہیب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ باز نہ آئے، اسی طرح شرارتیں کرتے رہے تو یاد رکھیں کہ وہ بھی اسی سنت الٰہی سے دو چار ہوں گے جس سے رسولوں کی تکذیب کرنے والی پچھلی قومیں دو چار ہوچکی ہیں۔ یہ اشارہ ہے عاد وثمود، مدین اور قوم لوط وغیرہ کی طرف جن کی تاریخ تفصیل سے اعراف میں قریش کو سنائی جا چکی ہے۔ یہ بات ہم اس کتاب میں جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ جس قوم میں رسول کی بعثت ہوتی ہے اس پر اللہ کی حجت تمام ہوجاتی ہے۔ اس وجہ سے و قوم اگر اپنے کفر پر اڑی رہتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو لازماً ہلاک کردیتا ہے۔ خواہ وہ قہر الٰہی سے ہلاک ہو یا اہل ایمان کی تلوار سے۔ سوال اتمام حجت کا سب سے بڑا بلکہ آخری ذریعہ ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے بعد اس کی قوم کو مہلت نہیں ملتی۔
Ayah 8:39

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور ان سے جنگ کرو تاآنکہ فتنہ کا قلع قمع ہوجائے اور سارا دین اللہ کا ہوجائے۔ پس اگر وہ باز آجائیں تو اللہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس کو دیکھ رہا ہے

مسلمانوں کو جہاد کا حکم : وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ۔ یہ مسلمانوں کو قریش سے جنگ کرنے کا حکم ہے اور اس جنگ کے پیش نظر مقصد دو بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ فتنہ کا خاتمہ ہوجائے اور دوسرا یہ کہ دین تمام تر اللہ کا ہوجائے۔ فنتۃ کا لفظ جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، Persecution کے مفہوم میں ہے۔ یعنی مسلمانوں کو بجبر و ظلم دین حق سے روکنے کا وہ سلسلہ جو قریش اور ان کے اعوان نے جار کر رکھا تھا۔ فرمایا کہ ان سے جنگ کرو اور یہ جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ اس سرزمین سے اس فتنہ کا استیصال ہوجائے۔ کسی کے لیے اس کا کوئی امکان باقی نہ رہ جائے کہ وہ کسی مسلمانو کو اسلام لانے کی بنا پر ستا سکے، عام اس سے کہ وہ امیر ہو یا غریب، آزاد ہو یا غلام۔ حرمین میں دین الٰہی کا قیام : دین تمام تر اللہ کا ہوجائے، یعنی حرم کی سرزمین پر اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین باقی نہ رہے۔ اوپر ہم وضاحت کے ساتھ بیان کرچکے ہیں کہ بیت اللہ کی تعمیر ملت ابراہیم کے مرکز اور اس کے قبلہ کی حیثیت سے ہوئی تھی۔ یہ گھر اللہ واحد کی عبادت کے لیے تعمیر ہوا اور اس کی تولیت کے حق دار وہ لوگ ٹھہرائے گئے جو ملت ابراہیم کے حامل اور نماز کے قائم کرنے والے ہوں۔ قریش نے، جیسا کہ اوپر واضح ہوا، اس گھر کے تمام مقاصد برباد کر کے اس کو ایک بت خانہ بنا ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی دعا کے مطابق جب اپنا آخر نبی اس قوم میں بھیجا اور اس نے لوگوں کو اصل ملت ابراہیم کی دعوت دی تو قریش کے مفاد پرست لیڈر نبی اور اس کے ساتھیوں کے دشمن ہوگئے اور ان کو اس گھر سے روک دیا حالانکہ اس گھر کی تولیت کے اصلی حق دار وہی تھے نہ کہ قریش جنہوں نے ملت ابراہیم چھوڑ کر دین شرک اختیار کرلیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان غاصبوں اور خائنوں سے جنگ کرو اور یہ جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ سرزمین حرم پر اللہ کے دین یعنی اسلام کے سوا جو ابراہیم کا دین تھا کوئی اور دین باقی نہ رہ جائے۔ اسی بات کو نبی ﷺ نے یوں مؤکد فرمایا کہ اس سرزمین پر دو دین جمع نہیں ہوسکتے۔ اصلاً تو یہ حکم سرزمین حرم کے لیے ہے۔ لیکن کفر و شرک کے اثرات سے اس کی حفاظت بغیر اس کے ممکن نہیں کہ وہ پورا علاقہ کفر و شرک کی مداخلت سے پاک رہے جس میں حرم واقع ہے۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ جس طرح مکہ حضرت ابراہیم کے زمانہ سے محترم ہے اسی طرح نبی ﷺ نے مدینہ منورہ کو محترم قرار دیا جس سے اس حکم کا دائرہ بہت وسیع ہوگیا۔ یہ چیز مقتضی ہوئی کہ اس تمام علاقے سے غیر مسلم عناصر بےدخل کردیے جائیں جس میں حرمین واقع ہیں۔ چناچہ اس پورے علاقے سے کفار قریش کا تسلط بھی ختم کردیا گیا اور پھر بالتدریج یہود اور نصاریٰ بھی یہاں سے نکال دیے گئے۔ قریش کے ساتھ مسلمانوں کے نزاع کی نوعیت : اس سے معلوم ہوا کہ قریش کے ساتھ مسلمانوں کی نزاع کسی جزوی معاملے کے لیے نہیں تھی کہ وہ طے ہوجائے تو نزاع ختم ہوجائے بلکہ اصلاً اس بات کے لیے تھی کہ خانہ کعبہ روز اول سے ملت ابراہیم کا مرکز ہے۔ اس ملت کے سوا کسی اور ملت کے لیے اس سرزمین پر گنجائش نہیں ہے۔ اس ملت کی تجدید اور بیت اللہ کی تطہیر کے لیے اللہ تعالیٰ نے قریش ہی کے اندر اپنے آخری رسول کو مبعوث فرمایا تاکہ اس کے ہاتھوں اللہ کا دین کامل ہو، اور یہ گھر، جیسا کہ حضرت ابراہیم نے دعا فرمائی تھی، تمام عالم کے لیے ہدایت و برکت کا سرچشمہ بنے۔ یہاں ان اشارات پر اکتفا فرمائیے۔ انشاء اللہ اس کی تفصیل سورة براءت اور سورة حج کی تفسیر میں آئے گی۔ فَاِنِ انْتَهَـوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ اس انتھوہ کا مفہوم بھی وہی ہے جو اوپر والی آیت کے تحت بیان ہوچکا ہے۔ یعنی اگر انہوں نے اپنی روش کی اصلاح کرلی تو اللہ تعالیٰ کی ماضی کی غلطیوں کو نہیں دیکھے گا بلکہ ان کے مستقبل کے اعمال کو دیکھے گا، اگر انہوں نے اخلاص کا ثبوت دیا تو اس کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کرے گا۔
Ayah 8:40

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر انہوں نے اعراض کیا تو جان رکھو کہ اللہ تمہارا مولی و مرجع ہے۔ کیا ہی خو مولی اور کیا ہی اچھا مددگار۔

مسلمانوں سے نصرت کا وعدہ : وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ ۭنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ۔ اور اگر انہوں نے اعراض کیا، اپنی اسی ضد اور ہٹ پر جمے رہے تو تمہارا مولا و مرجع اللہ ہے۔ تم ان کی کثرت تعداد اور ان کے سر و سامان کی بہتات سے ہراساں نہ ہو۔ خدا نے اپنی شانیں جس طرح اب تک دکھائی ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی شانیں آئندہ بھی دکھائے گا۔ وہ بہترین مولی ہے، اپنی مشکلات میں جو اس سے رجوع کرتے ہیں وہ ان کو کبھی مایوس نہیں کرتا، وہ بہترین مددگار ہے، جن کی مدد کے لیے وہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے، وہ کبھی شکست نہیں کھاتے۔
Ayah 8:41

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ جو کچھ تم غنیمت حاصل کرو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے، اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری فیصلہ کے دن، جس دن دونوں جماعتوں میں مڈبھیڑ ہوئی اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

آیات 41۔ 49 کا مضمون : یاد ہوگا اس سورة کا آغاز اموال غنیمت سے متعلق لوگوں کے سوال سے ہوا تھا۔ وہاں سوال کا ایک اصولی جواب دے کر کلام کا رخ مسلمانوں کے ایک گروہ کی ان کمزوریوں کی اصلاح کی طرف مڑ گیا تھا جو اس سوال اور اسی نوعیت کے بعض دوسرے معاملات کی وجہ سے سامنے آئی تھیں۔ اب سوال کے تعلق سے اموالِ غنیمت کی تقسیم کا ضابطہ بیان فرمایا اور مسلمانوں کو تاکید کی کہ اللہ کی اس تقسیم کو راضی خوشی قبول کرو اس لیے کہ جو کچھ تمہیں حاصل ہوا خدا کی تدبیر اور کارسازی سے حاصل ہوا اور آئندہ جو کچھ حاصل ہوگا اسی کی تدبیر و کارسازی سے حاصل ہوگا۔ یہ نہ خیال کرو کہ یہ سب کچھ تمہاری کار فرمائی ہوتی ہے بلکہ اصل چیز خدا کی تدبیر ہے جس کو وہ تمہارے واسطہ سے بروئے کار لاتا ہے۔ اس کے بعد آئندہ پیش آنے والی جنگوں سے متعلق کچھ ہدایات دی ہیں جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بھی ناگزیر ہیں اور جو اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد کرنے والوں کو دوسرے جنگ آزماؤں سے ممتاز بھی کرتی ہیں۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے اور اس امر کو برابر ملحوظ رکھیے کہ اس پوری سورة میں خطاب اگرچہ بظاہر الفاظ عام ہے لیکن روئے سخن مسلمانوں کے اس گروہ کی طرف خاص طور سے ہے جو ابھی اچھی طرح پختہ نہیں ہوا تھا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ۔ اِعلموا کا محل : اعلموا کا لفظ یہاں جس سیاق میں ہے اس سے اس حکم کی قطعیت اور عظمت واضح ہو رہی ہے جو یہاں بیان ہوا ہے۔ چونکہ اموالِ غنیمت سے متعلق، جیسا کہ سورة کے شروع میں معلوم ہوچکا ہے، کچھ لوگوں نے ناروا قسم کے سوال اٹھا دیے تھے اس وجہ سے پہلے تو ان کی کمزوریوں پر تفصیل سے تبصرہ کیا، پھر جب ان کے سوال کا جواب دیا تو اس کا آغاز ایک تنبیہی کلمہ سے فرمایا کہ لوگ گوش ہوش سے سنیں اور بادشاہ کائنات کے فرمان کی حیثیت سے بےچون و چرا اور بلا اختلاف و نزاع اس کی تعمیل کریں۔ اموال غنیمت کی حیثیت : غنم الشیء کے معنی ہیں فاز بہ و نالہ بلا بدل، فلاں چیز بلا کسی عوض کے حاصل کرلی۔ اسی سے غنیمت ہے جس سے مراد وہ مال و اسباب ہوتا ہے جو میدان جنگ میں کفار سے مسلمان مجاہدین کو حاصل ہوتا ہے۔ میدان جنگ میں حاصل شدہ مال و اسباب ککو نفل یا غنیمت کے الفاظ سے تعبیر کر کے قرآن نے یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ یہ جہاد و قتال کا کوئی معاوضہ نہیں ہے بلکہ ایک ضمنی اور زائد فائدہ ہے جو ایک مجاہد کو حاصل ہوتا ہے۔ مجاہد، اللہ کی راہ میں جو جہاد کرتا ہے وہ ایک فرض ادا کرتا ہے اور اس کا اجر اس کو اللہ کے ہاں ملتا ہے جو اس کی ابدی زندگی کے لیے محفوظ ہوگیا۔ رہی یہ چیزیں جو اسے سر را ہے حاصل ہوجاتی ہے تو یہ زوائد ہیں۔ حاصل ہوجائیں تو غنیمت، نہ حاصل ہوں تو نہ ان کی طمع کرے نہ غم۔ قرآن نے یہ تصور دے کر اس جاہلی تصور کی اصلاح کی ہے جس میں اہل عرب اب تک مبتلا رہے تھے کہ وہ جنگ کا اصلی حاصل لوٹ کے مال کو سمجھتے تھے اور اسی چیز سے وہ اس کے نفع و نقصان کا اندازہ لگاتے تھے۔ اس تصور کا کچھ اثر مسلمانوں کے ایک گروہ کے اندر بھی باقی تھا جو بدر کے موقع پر ظاہر ہوا اور قرآن نے اس کی اصلاح فرمائی۔ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۔ یہ اس مجمل جواب کی تفصیل ہے جو آیت 1 میں قل الانفال للہ والرسول کے الفاظ سے دیا گیا ہے۔ وہاں ہم اشارہ کر آئے ہیں کہ یہ اجمالی جواب دے کر کہ اموال غنیمت کی حیثیت انفرادی ملکیت کی نہیں ہے، جیسا کہ جاہلیت میں دستور رہا ہے بلکہ اجتماعی ملکیت کی ہے، کلام کا رخ اس ذہنیت کی اصلاح کی طرف مڑ گیا تھا۔ جس کا اظہار مسلمانوں کے ایک مخصوص گروہ کی طرف سے ہوا تھا۔ اب یہ اس اجتماعی ملکیت کی تقسیم کا طریقہ بیان فرما دیا۔ اموال غنیمت کی تقسیم : فرمایا کہ اس کا پانچوں حصہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ یعنی جاہلیت کا یہ دستور کہ جو شخص جو مال و اسباب لوٹے وہ اس کا ہے، ختم ہوا۔ اب سارا مال غنیمت اکٹھا کیا جائے گا اور اس میں سے پانچواں حصہ اللہ و رسول کا حق نکال کر بقیہ مال مجاہدین میں تقسیم ہوگا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں سرداران قبائل لوٹے ہوئے مال میں سے چوتھا لیتے تھے جس کو مرباع کہتے تھے، اور یہ مال ان کے ذاتی تصرف میں آتا تھا۔ اسلام نے مال غنیمت میں سے اللہ و رسول کا حق صرف پانچواں حصہ رکھا اور یہ بھی، جیسا کہ آگے آرہا ہے، تمام تر معاشرہ کی اجتماعی بہبود کے کاموں کے یے معاشرہ کو لوٹا دیا۔ اللہ کا حق اور اس کا مصرف : اس پانچویں حصہ کے مصارف کی تفصیل میں سب سے پہلے اللہ کا حق بیان ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ظاہر ہے کہ ہر چیز سے بےنیاز اور غنی ہے۔ اس کے حق کا اصلی مصرف وہ کام ہوں جو اعلائے کلمۃ اللہ، اقامت دین اور حفاظت و مدافعت ملت کی نوعیت کے ہوں گے۔ زمانہ اور حالات کی تبدیلی سے ان کی شکلیں مختلف ہوسکتی ہیں لیکن ہر شکل میں اعلائے کلمۃ اللہ کے نصب العین کو مد نظر رکھنا لازمی ہوگا۔۔ رسول کا حق اور اس کی نوعیت : دوسرا حق رسول کا بتایا گیا ہے۔ میرے ذہن میں یہ بات بار بار آتی ہے کہ رسول کا یہ حق بحیثیت رسول کے نہیں بلکہ اسلامی ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے جب کہ آپ کے مبارک اوقات کا لمحہ لمحہ اس کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں صرف ہو رہا تھا یہ ضروری ہوا کہ اس مال میں آپ کا حق بھی رکھا جائے۔ یہ حق درحقیقت ریاست کے سربراہ کا حق تھا جو حضور کے وصال کے بعد آپ سے آپ حضور کے خلیفہ اور جانشین کی طرف منتقل ہوگیا۔ ذوی القربی کا حق اور اس کی نوعیت : تیسرا حق ذوی القربی کا بیان ہوا ہے۔ ذوی القربی سے ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے قرابت دار مراد ہیں اور قرابت دار بھی ظاہر ہے کہ وہ قرابت دار ہوں گے جن کی کفالت کی رسول اللہ ﷺ پر ذمہ داری عائد ہوتی تھی۔ عام اس سے کہ یہ ذمہ داری عرفی و شرعی نوعیت کی ہو یا اخلاقی نوعیت کی جو ہر کریم النفس سربراہ خاندان پر خاندان کے غریبوں، محتاجوں اور معذوروں کے متعلق اخلاقاً عائد ہوتی ہے۔ یہ بات اس وسعت و عمومیت سے نکلتی ہے جو ذوی القربی کے لفظ میں ہے اور یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ذوی القربی کا یہ حق رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی قائم رہنے والا تھا۔ اگر یہ آپ کی حیات مبارک ہی تک محدود ہوتا تو اس کے مستقل ذکر کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ یتیموں اور مسکینوں کا حق اور اس کی نوعیت : چوتھا حق یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا ہے۔ ان کا حق بیان کرتے ہوئے اس ‘ ل ’ کا اعادہ نہیں فرمایا جو واوپر اللہ، رسول اور ذوی القربی تینوں کے ساتھ الگ الگ لگا ہوا ہے بلکہ ان کا ذکر ذوی القربی کے تحت ہی کردیا ہے۔ اس سے مقصود اس طبقہ کی تشریف اور عزت افزائی ہے کہ گویا یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے ذوی القربی ہی کے تحت ہیں۔ جو لوگ اسلامی نظام کے مزاج سے آشنا ہیں وہ جانتے ہیں کہ یتیموں اور مسکینوں کی حیثیت ایک صحیح اسلامی نظام میں سربراہ ریاست کے کنبے کی ہے۔ سربراہ حکومت کو جس طرح اپنے کنبہ کی فکر کرنی پڑتی ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ اس کو یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کی خدمت کرنی پڑتی ہے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کا طرز عمل اس کی ناقابل تردید اور زندہ جاوید شہادت ہے۔ حضرت عمر ؓ نے تو کہیں فرمایا بھی ہے کہ ریاست کے مال میں سے میرا حق بس اتنا ہی ہے۔ جتنا ایک یتیم کے متولی کا حق یتیم کے مال میں سے ہے۔ اس حقیقت کا بھی انہوں نے بار بار اظہار فرمایا کہ مملکت کے ہر یتیم و مسکین اور مسافر کی ذمہ داری براہ راست مجھ پر ہے۔ جس مملکت میں یتیم دھکے کھائیں، مسکین بھوکے سوئیں، مسافر کا کوئی پرسانِ حال نہ ہو اس مملکت کو اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے خواہ وہ اسلام کے کتنے ہی بلندو بانگ دعاوی کرے۔ غربا و فقراء کے اموال کا اجتماعی مقصد : یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ جو لوگ ‘ ل ’ کو لام تملیک کے معنی میں لے کر غرباء و فقراء، یتامی اور مساکین کی اجتماعی بہبود کے کاموں پر ان کے حصہ کے مال کو خرچ کرنے سے روکتے ہیں، ان کی بات عربیت کے پہلو سے کچھ زیادہ وزن دار نہیں ہے۔ حرف ‘ ل ’ عربی میں تملیک ہی کے لیے نہیں آتا بلکہ متعدد معانی کے لیے آتا ہے جن میں ایک معروف مفہوم نفع رسانی اور بہبود کا بھی ہے۔ ہم نے اس پر مفصل بحث اپنے ایک مستقل مقالے میں کی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ بالکل جائز ہے کہ اسلامی حکومت جن کاموں کو غرباء اور فقراء کی اجتماعی بہبود کے نقطہ نظر سے مفید پائے ان پر بھی ان کے حصہ کی رقوم جو اس کی تاویل میں آئیںِ خرچ کرے، انفرادی تملیک ہر حال میں لازمی نہیں ہے۔ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ۔ یوم الفرقان سے مراد غزوہ بدر کا دن ہے۔ یوم التقی الجمعن کے الفاظ سے اس کی وضاحت بھی فرما دی ہے۔ اس لیے کہ وہی پہلا دن تھا جب مسلمانوں اور کفار کے درمیان جماعتی حیثیت سے تصادم ہوا ہے۔ غزوہ بدر کو یوم الفرقان سے تعبیر کرنے کی وجہ کی طرف ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں۔ قریش کے لیڈروں نے خود اس جنگ کو ایک کسوٹی کی حیثیت دے دی تھی کہ جو اس جنگ میں ہارا وہ باطل پر سمجھا جائے گا، جو جیتا وہ حق پر مانا جائے گا۔ اس طرح خود انہی کی انتخاب کردہ کسوٹی نے حق و باطل کا فیصلہ کردیا۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی ہے کہ اس جنگ میں تائید الٰہی گوناگوں شکلوں میں اس طرح بےنقاب ہوئی کہ گویا ہر شخص نے سر کی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ حق کسی کے ساتھ ہے اور خدا کس کے پہلو پر ہے وما انزلنا علی عبدنا سے اسی نصرت الٰہی کی طرف اشارہ ہے۔ یہ ٹکڑا اوپر والے مضمون ہی کو مؤکد کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تقسیم غنیمت کے باب میں یہ حکم جو تمہیں دیا ہے بےچون و چرا اس کی تعمیل کرو، اگر اللہ پر اور اس نصرت الٰہی پر تمہارا ایمان ہے جو ہم نے حق و باطل کے درمیان فیصلہ کردینے والی جنگ میں اپنے بندوں پر اتاری۔ چونکہ روئے سخن ان نکتہ چینوں کی طرف خاص طور سے ہے۔ جنہوں نے اموال غنیمت سے متعلق سوال اٹھائے تھے، اس وجہ سے فرمایا کہ اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس قسم کے سوالات غمازی کرتے ہیں کہ ابھی تمہارے اندر ایمان راسخ نہیں ہوا ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ یوں نہیں فرمایا کہ اگر تم اس نصرت الٰہی پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے تم پر اتاری بلکہ یوں فرمایا کہ ‘ اپنے بندے پر اتاری ’ جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ کسی گروہ کو یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ یہ کامیابی جو حاصل ہوئی ہے یہ اس کا کارنامہ ہے۔ یہ جو کچھ ہوا ہے اللہ کی کارسازی اور اس رسول کی برکت سے ہوا ہے کہ جس کی مدد کے لیے اللہ نے اپنی غیبی فوج بھیجی۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ نہ اللہ کسی کا محتاج ہے اور نہ اس کا رسول کسی کا دست نگر ہے۔ اللہ جب چاہے گا اپنے رسول کی مدد کے لیے اپنی افواج قاہرہ بھیج دے گا۔
Ayah 8:42

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

خیال کرو جب تم وادی کے قریبی کنارے پر تھے اور وہ دور کے کنارے پر، اور قافلہ تم سے نیچے تھا اور تم باہم میعاد ٹھہرا کر نکلتے تو میعاد پر پہنچنے میں ضرور تم مختلف ہوجاتے لیکن اللہ نے فرق نہ ہونے دیا تاکہ اللہ اس امر کا فیصلہ فرما دے جس کا ہونا طے ہوچکا تھا۔ تاکہ جسے ہلاک ہونا حجت دیکھ کر ہلاک ہو اور جسے زندگی حاصل کرنی ہے وہ حجت دیکھ کر زندگی حاصل کرے۔ بیشک اللہ سمیع وعلیم ہے

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰي وَالرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ ۭوَلَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيْعٰدِ ۙ وَلٰكِنْ لِّيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ڏ لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَيِّنَةٍ وَّيَحْيٰي مَنْ حَيَّ عَنْۢ بَيِّنَةٍ ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ غزوہ بدر میں خدا کی کارسازی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اس تدبیر و کارسازی کی ایک مثال بیان ہوئی ہے جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہوا ہے کہ کس طرح اللہ نے تم کو ٹھیک وقت پر دشمن کے مقابلہ کے لیے محاذ جنگ پر پہنچا دیا کہ وادی کے ایک سرے پر تم پنچے، دوسرے سرے پر قریش تھے اور تجارتی قافلہ نیچے ساحل سمندر کی طرف سے گزر رہا تھا۔ ہم پیچھے ذکر کر آئے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو قریش کی فوج اور قافلہ کی آمد کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے رویا میں دکھا دیا تھا۔ اسی رویا کی رہنمائی کے مطابق آپ مدینہ سے نکلے۔ اور ٹھیک اس وقت آپ وادی بدر میں پہنچ گئے۔ جب قریش کی فوج قافلہ کی حفاظت کے بہانے وادی کے دوسرے کنارے پر پہنچی۔ فوج کا دشمن کے مقابلہ کے لیے ٹھیک وقت پر اپنے موقع و محل پر پہنچ جانا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔ جنگ کا بہت کچھ انحصار اسی پر ہوتا ہے۔ معمولی تاخیر بھی بسا اوقات شکست کے مترادف بن جاتی ہے۔ پھر وقت سے بہت پہلے پہنچنا بھی خطرات اور نقصانات سے خالی نہیں۔ اور کچھ نہیں تو مسلمانوں کے لیے رسد کا مسئلہ ہی بڑا مشکل تھا بالخصوص اس زمانے میں جب کہ مسلمان نہتے بھی تھے اور نہایت غریب بھی۔ فریقین اس معاملے میں چالیں بھی بہت سی چلتے ہیں جس سے ان کا مقصود ایک دوسرے کو دھوکہ دینا ہوتا ہے۔ منصوبے کچھ ہوتے ہیں، اعلانِ جنگ اور الٹی میٹم میں ظاہر کچھ کیے جاتے ہیں۔ نشانہ کوئی ہوتا ہے، اشارہ کسی طرف کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس قسم کی تمام چالوں سے محفوظ رکا اور خاص اپنی رہنمائی میں، ٹھیک وقت پر دشمن کے مقابلہ کے لیے اس مقام تک پہنچا دیا جہاں ان کا پہنچنا ضروری تھا۔ فرمایا کہ یہ حسن اتفاق خدا ساز تھا۔ اگر تم ایک دوسرے کو اعلان اور الٹی میٹم دے کر نکلتے تو یہ اجتماع اس شکل میں آسان نہ ہوتا۔ وَلٰكِنْ لِّيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا۔ لیقضی سے پہلے فعل محذوف ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے خاص اپنی تدبیر و کارسازی سے تم کو اور تمہارے دشمنوں کو اس طرح ایک دوسرے کے آمنے سامنے اس لیے لا کھڑا کیا کہ وہ بات واقع ہوجائے جس کا واقع ہونا اس کی اسکیم میں طے پا چکا تھا۔ خدا کی سکیم کے فوائد و مصالح : لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَيِّنَةٍ وَّيَحْيٰي مَنْ حَيَّ عَنْۢ بَيِّنَةٍ۔ یہ وضاحت ہو رہی ہے خدا کی اسکیم اور اس کے فوائد و مصالح کی۔ مطلب یہ ہے کہ خدا نے چاہا کہ قریش اور مسلمانوں میں ایک ٹکر ہو اور وہ فرقان نمایاں ہوجائے جو حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا واضح کردے تاکہ اس کے بعد جو ہلاکت کی راہ اختیار کریں وہ بھی اتمام حجت کے ساتھ یہ راہ اختیار کریں، جو زندگی کی راہ اختیار کریں وہ بھی ایک روشن دلیل دیکھ کر اختیار کریں۔ ہلاکت اور زندگی سے مراد، ظاہر ہے کہ یہاں روحانی و معنوی ہلاکت اور زندگی ہے۔ حرف، عن، عربی میں کسی چیز کے منبع ومصدر اور مولد و منشا کا بھی سراغ دیتا ہے۔ بدر کے معرکہ نے اہل کفر اور اہل ایمان دونوں گروہوں کے سامنے ایک ایسی واضح برہان رکھ دی کہ نہ اہل کفر کے لیے کوئی عذر باقی رہ گیا نہ اہل ایمان کے لیے کوئی ابہام۔ ان کے لیے ان کا کفر بالکل عریاں ہو کر سامنے آگیا اور اہل ایمان کے لیے ان کا ایمان سورج کی طرح چمک اٹھا۔ وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ ان صفات کا حوالہ اس پوری اسکیم کے تعلق سے یہاں آیا ہے جو اوپر بیان ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ کہاں تم، کہاں قریش اور کہاں قافلہ لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کے بھید معلوم کرلیے، مطلب یہ ہے کہ کہاں تم، کہاں قریش اور کہاں قافلہ لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کے بھید معلوم کرلیے، سب کی سرگوشیاں سن لیں اور سب کے ارادے تاڑ لیے، اور پھر سب کو اس طرح جمع کر کے وہ بات پوری کر کے دکھا دی جو اس نے طے کرلی تھی اس لیے کہ وہ سمعی وعلیم ہے۔
Ayah 8:43

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

یاد کرو جب اللہ تیری رویا میں ان کو کم دکھاتا ہے اور اگر زیادہ دکھا دیتا تو تم پست ہمت ہوجاتے اور معاملے میں اختلاف کرتے لیکن اللہ نے بچا لیا، بیشک وہ دلوں کے حال سے باخبر ہے

پیغمبر کو رویا میں صورت حال کا مشاہدہ : اِذْ يُرِيْكَهُمُ اللّٰهُ فِيْ مَنَامِكَ قَلِيْلًا ۭوَلَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِيْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِي الْاَمْرِ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ ۭ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۔ یہ دوسری مثال بیان ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ کی کارسازی کی کہ اس نے پیغمبر کو رویا میں کفار کی فوج کی تعداد تھوڑی دکھائی اور پیغمبر نے ایک قلیل التعداد جماعت ہی کی حیثیت سے مسلمانوں کے سامنے اس کا ذکر بھی کیا، بلکہ جیسا کہ آیت 7 میں گزر چکا ہے یہ بھی خوش خبری دے دی کہ یہ قلیل التعداد گروہ مسلمانوں سے مغلوب ہوجائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے کیا کہ اگر ان کو کثیر تعداد میں دکھایا جاتا، جتنے کہ وہ فی الواقع تھے تو پیغمبر لازماً اسی شکل میں مسلمانوں سے ان کا ذکر بھی کرتے جس کا اثر کمزور مسلمانوں پر یہ پڑتا کہ وہ ہمت ہار بیٹھتے اور جنگ کرنے اور نہ کرنے کے بارے میں مختلف الرائے ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ دلوں کی کمزوریوں سے اچھی طرح باخبر ہے اس وجہ سے اس نے یہ تدبیر اختیار فرمائی تاکہ مسلمانوں کا حوصلہ قائم رہے اور وہ کسی کمزوری کے اظہار سے محفوط رہیں۔ ایک غلط خیال کی تردید : بعض لوگوں نے یہاں سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کبھی کبھی حضرات انبیاء کو بھی رویا میں کوئی چیز خلاف واقعہ دکھا دی جاتی ہے۔ چناچہ قریش کی فوج تعداد میں بہت زیادہ تھی لیکن نبی ﷺ کو وہ تھوڑی دکھائی گئی۔ ہمارے نزدیک یہ بات صحیح نہیں ہے۔ رویا وحی کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے اس وجہ سے پیغمبر کی رویا خلاف واقعہ نہیں ہوسکتی۔ البتہ یہ ہوتا ہے کہ رویا میں کبھی کوئی حقیقت مجاز کے لباس میں ظاہر ہوتی ہے اور کبھی کسی شے کے ظاہر کے بجائے اس کی معنوی حقیقت کسی پیرایہ میں دکھائی جاتی ہے۔ یہاں یہی صورت حال ہے۔ کفار کی فوج تعداد میں ہرچند بہت زیادہ تھی لیکن معنوی اور اخلاقی اعتبار سے اس کی حیثیت بہت کم تھی۔ ان کی یہی معنوی قلت رویا میں قلت تعداد کی شکل میں ظاہر ہوئی۔ رویا کا یہی پہلو ہے جس کے سبب سے اس میں تاویل کی ضرورت پیش آتی ہے اور اس کی تاویل میں کبھی کبھی خود نبی کو بھی وقتی طور پر، کوئی تردد پیش آجاتا ہے۔ لیکن یہ بات بالکل غلط ہے کہ نبی کی رویا کبھی کبھی خلاف واقعہ ہوتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی نگاہ میں رکھنے کی ہے کہ قرآن نے قلیل کا لفظ بہت جچا تلا استعمال کیا ہے۔ عربی میں لفظ قلیل صرف عددی اور مقداری اعتبار ہی سے قلیل کے لیے نہیں آتا بلکہ معنوی اعتبار سے بےوزن و بےحقیقت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ کسی حماسی کو یہ شعر بہت معروف ہے۔ فان اک فی شرارکم قلیلا۔ فانی فی خیارکم کثیر۔ (اگر میں تمہارے اشرار کی نگاہوں میں کم رتبہ ہوں تو کچھ غم نہیں۔ تمہارے اخیار کی نگاہوں میں میرا بڑا رتبہ ہے) یہاں ہم اس اشارے پر کفایت کرتے ہیں۔ کسی مناسب مقام پر ہم رویا پر انشاء اللہ مفصل بحث کریں گے۔ خطاب کی ایک خاص نوعیت : فَشِلْتُمْ اور تَنَازَعْتُمْ میں خطاب اگرچہ عام ہے لیکن اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ یہ مسلمانوں کے پورے گروہ سے متعلق ہے بلکہ یہ قرآن کے معروف اسلوب بیان کے مطابق عام الفاظ میں مسلمانوں کے اس مخصوص گروہ کے کردار کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورة کے آغاز سے چلا آ رہا ہے۔ آیت 7 کے تحت جس گروہ کا یہ حال بیان ہوا ہے کہ یہ جانتے بوجھتے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ نکلنا قریش کی فوج سے مقابلہ کے لیے ہے، وہ کوشش کرتا رہا کہ آپ قافلہ کا رخ کریں اور آنحضرت ﷺ کی طرف سے اس بشارت کے باوجود کہ جس سے مقابلہ ہونا ہے وہ ہم سے شکست کھائے گا، وہ اس طرح لرزہ براندام رہا کہ گویا اسے موت کے منہ میں لے جایا جا رہا ہے۔ اسی گروہ کی طرف کلام کا رخ یہاں بھی ہے۔ جن کے حوصلہ کا یہ حال ہو، ظاہر ہے کہ اگر وہ پہلے سے کہیں یہ سن پاتے کہ مقابلہ لشکر سے ہے اور وہ بھی ایک کثیر التعداد لشکر سے تو ان کے تول ہی بیٹھ جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں کی رعایت سے دشمن کی فوج کی عددی حیثیت کی بجائے اس کی معنوی حیثیت ان کے سامنے رکھی۔ اس امر پر بھی یہاں نگاہ رہے کہ ریک، مناک، اراک، سب میں خطاب آنحضرت ﷺ سے اس لیے ہے کہ رویا میں جو کچھ دکھایا گیا وہ آنحضرت ﷺ کو ہی دکھایا گیا۔ نبی اہل ایمان کے لیے بمنزلہ دل اور آنکھ کے ہوتا ہے اس وجہ سے دیکھتا تو ہی ہے لیکن وہ جو کچھ دیکھتا ہے اس کا تعلق سب سے ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جہاں تک دیکھنے کا تعلق ہے اس کو تو نبی ﷺ ہی تک محدود رکھا ہے لیکن اس کے رد عمل کے ذکر میں تمام مسلمانوں کو شامل کرلیا ہے۔
Ayah 8:44

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور خیال کرو جب کہ تمہاری مڈ بھیڑ کے وقت ان کو تمہاری نظروں میں کم دکھاتا ہے اور تم کو ان کی نظروں میں کم دکھاتا ہے تاکہ اس امر کا فیصلہ فرما دے جس کا ہونا طے شدہ تھا اور سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں

اللہ تعالیٰ کی ایک اور کارسازی : وَاِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِيْٓ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَّ يُقَلِّلُكُمْ فِيْٓ اَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ۭوَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۔ یہ اللہ تعالیٰ اسی سلسلہ کی اپنی ایک اور کارسازی بیان فرما رہا ہے کہ جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل میں ہوئیں تو ابتدائی مرحلہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی نظروں میں کفار کے لشکر کو کم کر کے دکھایا اور کفار کی نظروں میں مسلمانوں کو کم کر کے دکھایا تاکہ دونوں میں سے کوئی فریق بھی ٹکر لینے میں خوف نہ کھائے۔ اور وہ معرکہ ہو کے رہے جو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کردے اور جس کا واقع ہونا اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں طے ہوچکا ہے۔ کفار کی نگاہوں میں مسلمانوں کا کم نظر آنا تو اس لیے تھا کہ ان کی ظاہر بین آنکھوں کو مسلمانوں کی صرف عددی حیثیت نظر آئی، اس کی معنوی و اخلاقی قوت و حیثیت ان کی نگاہوں سے اوجھل رہی۔ حالانکہ یہی قلیل التعداد فوج بعد کے مرحلہ میں، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، معرکہ کارزار گرم ہوجانے کے بعد، ان کو ایک طوفان کی شکل میں نظر آئی اس لیے کہ اس وقت مسلمانوں کی معنوی و روحانی حیثیت پوری طرح نمایاں ہو کر سامنے آگئی۔ جنگ کے دروان کی ایک نفسیاتی حقیقت : مسلمانوں کی نگاہوں میں کفار کے ان کی عددی اکثریت کے باوجود کم نظر آنے کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر ان کی معنوی و اخلاقی حیثیت بےنقاب کردی۔ نگاہ بہت بڑی حد تک دل کے تابع ہوتی ہے۔ اگر دل میں حوصلہ اور امنگ ہو، ایمان و اعتماد ہو، جزم و یقین ہو، مقصد کی صداقت اور اس کے لیے مرمٹنے کا جذبہ صادق ہو تو سامنے پہاڑ بھی ہو تو ایک تودہ ریگ کی شکل میں نظر آتا ہے اور اگر دل ان چیزوں سے خالی ہو تو آدمی گلہری کو پہاڑ اور بکری کو شیر سمجھنے لگتا ہے ہ۔ آدمی سے زیادہ طاقت ور اور آدمی سے زیادہ ناتوان، کوئی بھی نہیں ہے اور اس طاقت اور ناتوانی دونوں کا سرچشمہ خارج میں نہیں بلکہ اس کے باطن ہی میں ہے۔ مادیت کے اس دور میں لوگوں کو یہ باور کرانا آسان نہیں کہ سو مسلمان اپنے آپ کو کسی زمانہ میں ہزار کفار پر بھاری سمجھتے تھے لیکن ہے یہ واقعہ اور تاریخ اس پر شاہد ہے اور آج بھی ہر شخص اس کا تجربہ کرسکتا ہے اگر وہ ایمان کی حلاوت سے آشنا ہوجائے۔ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ سر رشتہ سارے معاملات کا اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ کم دکھانا اور زیادہ دکھانا، جتانا اور ہرانا، بڑھانا یا گھٹانا جو کچھ بھی ہوتا ہے اصلاً خدا ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ آدمی کا کام یہ ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کرے، باقی سب خدا پر چھوڑے۔ اس غلط فہمی میں کبھی مبتلا نہ ہو کہ وہ خدا سے بےنیاز ہو کر بھی کچھ بنایا بگاڑ سکتا ہے۔
Ayah 8:45

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

اے وہ جو ایمان لائے، جب تمہارا کسی جماعت سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو زیادہ یاد کرو تاکہ تم کامیابی حاصل کرو

جنگ کے باب میں مومنین کو ہدایات : يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ یہ آگے کے مراحل کے لیے ہدایت دی جارہی ہے کہ جب تمہارا کفار کے کسی گروہ سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو تاکہ فلاح پاؤ۔ ثابت قدمی اس لیے ضروری ہے کہ اللہ کی نصرت ہمیشہ اسباب کے پردے سے ظاہر ہوتی ہے۔ یہ دنیا بندوں کے لیے امتحان گاہ ہے۔ جب بندے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیتے ہیں تو اس کے پردے میں اللہ کی نصرت ظاہر ہوتی ہے۔ بندوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ بنی سرائیل کی طرح خدا کا امتحان کریں کہ خود تو گھروں میں بیٹھ رہیں اور خدا سے یہ امید کریں کہ وہ فتح کر کے کنجیاں ان کے حوالے کردے۔ تب وہ شہر میں داخل ہوں گے۔ ثابت قدمی کا ذریعہ اللہ کی یاد ہے۔ اللہ کا ذکر ثابت قدمی کا ذریعہ ہے۔ اوپر ہم ذکر کرچکے ہیں کہ اصلی قوت دل کی قوت ہے اور دل کو قوت ایمان سے حاصل ہوتی ہے۔ یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایمان سرسبز و شداب، ذکر الٰہی کی جھڑی سے رہتا ہے۔ یہ ذکر الٰہی یوں تو سانس کی طرح ہر وقت ایمانی زندگی کے لیے ضروری ہے اس لیے کہ انسان ہر وقت شیطان سے نبرد آزما ہے لیکن حالات زیادہ صبر آزما ہوں تو یہ ذکر بھی زیادہ مقدار میں مطلوب ہوگا۔ اسی وجہ سے یہاں کثیر کی قید لگی ہوئی ہے۔ حصول فلاح کا ذریعہ : لفظ ‘ فلاح ’ ایک جامع لفظ ہے۔ یہ دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی پر مشتمل ہے۔ مجرد غلبہ تو ہوسکتا ہے کہ بغیر ذکر الٰہی کے بھی حاصل ہوجائے لیکن وہ فلاح کا ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ فلاح اسی غلبہ سے حاصل ہوگی جس کا دروازہ ذکر الٰہی کی مدد سے کھلے اور جس میں غلبہ حاصل کرنے والوں کو خدا کی معیت حاصل ہو۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ کسی فوج کی ثابت قدمی میں اصلی عامل کی حیثیت ہمیشہ اس کے حوصلہ ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ اس چیز کی اہمیت جس طرح پہلے تسلیم کی گئی ہے اسی طرح آج بھی تسلیم کی جاتی ہے۔ اسلام نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے حوصلہ برقرار رکھنے کا ذریعہ ذکر الٰہی کو بتایا ہے اور حق یہ ہے کہ مومن کے اندر عزم اور حوصلہ کا سرچشمہ یہی چیز ہے۔
Ayah 8:46

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف نہ کرو کہ تم پست ہمت ہوجاؤ اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے اور ثابت قدم رہو بے اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے

اطاعت اللہ و رسول کا ایک خاص مفہو : وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ۔ یہاں اللہ اور رسول کی اطاعت کے عام مفہوم کے سوا اس کا ایک خاص مفہوم بھی پیش نظر ہے۔ یعنی دشمن کے مقابل میں کامل نظم اور کامل ڈسپلن کا ثبوت دو۔ جو حکم اللہ نے دیے ہیں ان کی بھی پوری اطاعت کرو اور جو حکم رسول دے اس کی بھی بےچون و چرا تعمیل کرو۔ جس طرح دل ذکر الٰہی سے محروم ہو تو اس میں انتشار برپا ہوجاتا ہے اسی طرح جماعت اگر اطاعت میں ڈھیلی ہو تو جماعت کا نظم درہم برہم ہوجاتا ہے اور پھر اس کی ہوا اکھڑ جاتی ہے۔ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ۔ اسی بات کو منفی پہلو سے واضح فرمایا کہ اللہ و رسول کے دیے ہوئے احکام سے اختلاف نہ کرنا ورنہ جماعت میں انتشار برپا ہوگا جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے حوصلے پست ہوجائیں گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ یہی وہ ہدایت ہے جس کی غزوہ احد کے موقع پر ایک جماعت نے خلاف ورزی کی اور اس کا تلخ نتیجہ پوری جماعت کو بھگتنا پڑا۔ قرآن نے آل عمران میں اسی کا حوالہ دیا ہے۔ حتی اذا فشلتم وتنازعتم فی الامر و عصیتم من بعد ما اراکم ما تحبون : یہاں تک کہ جب تم حوصلہ ہار بیٹھے اور تم نے نبی کے حکم میں اختلاف کیا اور تم نے نافرمانی کی بعد اس کے کہ اللہ نے تمہیں وہ چیز دکھا دی تھی جس کو تم عزیز رکھتے تھے۔ (ال عمران : 152)۔ وَاصْبِرُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۔ وہی بات جو اوپر فاثبتوا کے لفظ سے فرمائی ہے یہاں واصبروا کے لفظ سے فرمائی ہے۔ البتہ اوپر والی بات افراد کو پیش نظر رکھ کر فرمائی گئی ہے اور یہ جماعت کو پیش نظر رکھ کر ارشاد ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کی مدد و نصرت اور اس کی معیت کے طالب ہو تو اپنے جماعتی کردار سے اس کا استحقاق پیدا کرو۔ خدا منتشر بھیڑ کا ساتھ نہیں دیتا بلکہ ان لوگوں کا ساتھ دیتا ہے جو اس کی راہ میں جہاد کے لیے بنیان مرصوص بن کر کھڑے ہوں۔
Ayah 8:47

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی مانند نہ بننا جو اپنے گھروں سے اکڑتے اور لوگوں کے آگے اپنی نمائش کرتے نکلے اور جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ سب کا احاطہ کیے ہوئے ہے

وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَّرِئَاۗءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ۔ بطر کا مفہوم : بطر کے معنی حق سے اکڑنے اور اس سے متکبرانہ منہ موڑنے کے ہیں۔ قرآن نے اس سے اس بدمستی اور سرکشی کو تعبیر فرمایا ہے جو الہ کی نعمتیں پا کر کسی شخص یا گروہ پر طاری ہوجاتی ہے اور ہو شکر اور تواضع کے بجائے غرور اور طغیان میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ سورة قصص میں ہے و کم اھلکنا من قریۃ بطرت معیشتہا : اور کتنی بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا جو اپنے وسائل معیشت کی فراوانی پر اکڑنے لگی تھیں۔ یہ قرآن نے اس روش کے منافی روش سے سلمانوں کو روکا ہے جس کی تعلیم اوپر والی آیت میں ‘ واذکروا اللہ کثیرا ’ کے الفظ سے دی ہے۔ کالذین سے اشارہ قریش کی طرف ہے جو جنگ بدر کے لیے، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں، اپنی کثرت تعداد اور اسباب و وسائل کی بہتات کے گھمنڈ میں بڑے طنطنہ اور بڑے طمطراق سے نکلے تھے۔ فرمایا کہ کسی مرحلے میں بھی ان لوگوں کی روش تم نہ اختیار کرنا۔ تم خدا کی بندگی و اطاعت کی رسم دنیا میں قائم کرنے اٹھے ہو تو بندگی کی تواضع اور عبیت کی فروتنی ہر جگہ تم پر نمایاں رہے۔ خواہ بزم میں ہو یا رزم میں۔ اگرچہ مقصود یہاں مسلمانوں کو یہ بتانا ہے کہ تمہاری جنگ جنگ نہیں بلکہ خدا کی عبادت ہے، اس کی شان عبادت ہر جگہ قائم رہے لیکن اس سے یہ بات بھی سامنے آگئی کہ آئندہ مسلمانوں کے سامنے ایسے حالات آنے والے ہیں کہ اگر وہ چوکنے نہ رہے تو وہ بھی اس قسم کے فتنوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ گویا یہ ایک بشارت بھی ہے اور ساتھ ہی تنبیہ بھی کہ ہمیشہ خدا ہی سے وابستہ رہنا، تعداد اور سامان کی فراوانی جب حاصل ہوجائے تو اس کے غرّے میں اترانے نہ لگنا۔ اصل چیز سروسامان نہیں بلکہ خدا کی کارسازی اور اس کی معیت ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جس طرح ولا تنازعوا، کی ہدایت کی ایک گروہ نے خلاف ورزی کر کے جیسا کہ ہم نے اوپر اشقارہ کیا، جنگ احد میں پوری جماعت کے لیے ایک سخت آزمائش پیدا کردی۔ اسی طرح جنگ حنین کے موقع پر کثرت تعداد کے اعتماد نے مسلمانوں کو ایک سخت آزمائش سے دوچار کردیا جس کی طرف قرآن نے یوں اشارہ فرمایا ہے۔ ویوم حنین اذ اعجبتکم کثرتکم فلم تغن عنکم شیئا و ضاقت علیکم الارض بما رحبت ثم ولیتم مدبرین۔ اور حنین کے دن جب کہ تمہاری کثرت نے تمہیں غرور میں مبتلا کیا تو وہ کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم پیٹھ پیچھے بھاگے۔ رئاء الناس سے قریش کے اس جذبہ نمائش کی طرف اشارہ ہے جس سے ایک ایک سردار بدر کے موقع پر سرشار تھا۔ اس کا ضد اللہ کے لیے اخلاص ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم جو کچھ کرنا ہمیشہ اللہ کے لیے کرنا اس لیے کہ تمہیں اپنے کسی عمل کی دد دنیا سے نہیں لینی ہے بلکہ آخرت میں اپنے رب سے لینی ہے۔ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ۔ یعنی ان کا یہ سارا طمطراق اور سارا جوش و خروش اس لیے تھا کہ وہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی راہ سے روکیں۔ ان نادانوں کو پتہ نہیں کہ انسان خواہ کتنی وسعت اور پھیلاؤ کے ساتھ اپنے جال پھیلائے اور اپنی ترکتازیوں کے کتنے ہی مظاہرے دکھائے، اس کی ہر چیز ہر وقت خدا کی مٹھی میں ہے۔ اس کی ساری جولانیوں کے ارد گرد خدا نے باڑ لگا رکھی ہے۔