8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 8:68

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر اللہ کا نوشتہ پہلے سے موجود نہ ہوتا تو جو روش تم نے اختیار کی اس کے باعث تم پر ایک عذاب عظیم آ دھمکتا

آگے کے لیے ایک تنبیہ : لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِــيْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔ یعنی تم نے اتنے ہی پر یہ واویلا برپا کر رکھا ہے۔ حالانکہ یہ تو صرف ایک چرکا ہے جو تمہیں لگا ہے۔ تم نے جو شرارت اس موقع پر کی تھی اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس پر تمہیں ایک عذاب عظیم آ پکڑتا لیکن اللہ نے چونکہ ہر امت کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے، جس سے پہلے کسی قوم کا فیصلہ نہیں ہوتا اس وجہ سے اس نے تمہیں مہلت دے دی۔ مطلب یہ ہے کہ اس شور و غوغا کے بجائے بہتر یہ ہے کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھاؤ اور اس فیصلہ کن گھڑی کے آنے سے پہلے پہلے اپنی روش کی اصلاح کرلو۔ فِــيْمَآ اَخَذْتُمْ ، میں ما کے ابہام کی یہاں کوئی وضاحت موجود نہیں ہے اور اخذ کا لفظ لینے، پکڑنے، اختیار کرنے، کسی ڈھب کو اپنانے، کسی کام کو شروع کرنے سب کے لیے آتا ہے۔ سورة توبہ میں ہے وان تصبک مصیبۃ یقولوا قد اخذنا امرنا من قبل (اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ منافق کہتے ہیں خوب ہوا ہم نے اپنا بچاؤ پہلے ہی کرلیا تھا) یہاں یہ مطلب ہوگا کہ جو طریقہ تم نے اختیار کیا اس کی بنا پر تم سزوار تو تھے ایک عذاب عظیم کے لیکن اللہ کے قانون کے تحت تمہیں کچھ مہلت مل گئی۔ مفسرین کی ایک الجھن کا ازالہ : ہمارے مفسرین کو ان آیات کی تاویل میں بڑی الجھن پیش آئی ہے۔ ان کے نزدیک یہ نبی ﷺ ، حضرت ابوبکر صدیق اور دوسرے صحابہ ؓ اجمعین پر عتاب ہے کہ وہ زمین میں خوں ریزی کیے بغیر بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے پر کیوں راضی ہوگئے۔ صحیح تاویل واضح ہوجانے کے بعد اب اس بات کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی تاہم چند باتیں ذہن میں رکھیے۔ ایک یہ کہ فدیہ قبول کرنے کے معاملے میں نبی ﷺ اور صحابہ سے بالفرض غلطی ہوئی بی تو یہ کسی سابق ممانعت کی خلاف ورزی کی نوعیت کی غلطی نہیں تھی بلکہ صرف اجتہاد کی غلطی تھی۔ اجتہاد کی غلطی ایسی چیز نہیں ہے جس پر ایسی سخت وعید وارد ہو۔ بالخصوص ایک ایسا اجتہاد جس کی تصدیق فوراً ہی خود اللہ تعالیٰ نے کردی ہو۔ دوسری بات یہ کہ یہ اجتہاد کی غلطی بھی نہیں تھی۔ جنگ کے قیدیوں سے متعلق یہ قانون سورة محمد میں پہلے بیان ہوچکا تھا کہ وہ قتل بھی کیے جاسکتے ہیں، فدیہ لے کر بھی چھوڑے جاسکتے ہیں اور بغیر فدیہ لیے محض احساناً بھی چھوڑے جاسکتے ہیں۔ تیسری یہ کہ جہاں تک خوں ریزی کا تعلق ہے اس کے اعتبار سے بھی بدر میں کوئی کسر نہیں رہ گئی تھی۔ قریش کے ستر آدمی، جن میں بڑے بڑے سردار بھی تھے، مارے گئے، کم و بیش اتنے ہی آدمی قید ہوئے۔ باقی فوج بھاگ کھڑی ہوئی تو آخرلڑائی کس سے جاری رکھی جاتی ؟ چوتھی یہ کہ یہاں عتاب کے جو الفاظ ہیں وہ قرآن کے مخصوص الفاظ ہیں۔ جو شخص قرآن کے اندازِ بیان سے آشنا ہے وہ جانتا ہے کہ ان لفظوں میں قرآن نے کٹر کفار و منافقین کے سوا اور کسی پر عتاب نہیں کیا ہے۔ نقل کرنے میں طوالت ہوگی، جس کو تردد ہو وہ قرآن میں ان تمام مواقع پر ایک نظر ڈال لے جہاں لولا کتاب من اللہ الایہ، کے الفاظ سے کسی پر عتاب ہوا ہے۔
Ayah 8:69

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

پس جو مال غنیمت تم نے حاصل کیا اس کو حلال و طیب سمجھ کر کھاؤ برتو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا ڮ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ مال غنیمت کے حلال ہونے کی یقین دہانی : اب یہ مسلمانوں کی طرف رخ کر کے انہیں اطمینان دلایا کہ تم ان لوگوں کی ان ہفوات کی مطلق پروا نہ کرو، جو مال غنیمت یا فدیہ تمہیں حاصل ہوا ہے اسے کھاؤ برتو، وہ تمہارے لیے حلال طیب ہے، چونکہ یہ بات بعینہ اسی بات کا ایک حصہ ہے جو اوپر والی آیات میں مسلمانوں کے دفاع میں کہی گئی ہے اس وجہ سے ‘’ کے واسطہ سے اسی پر عطف کردی گئی ہے۔ بس اتنا فرق ہوا ہے کہ اوپر کی بات قریش کو مخاطب کر کے کہی گئی ہے اس لیے کہ وہ انہی سے کہنے کی تھی اور اس دوسری بات کا رخ مسلمانوں کی طرف ہوگیا ہے اس لیے کہ یہ انہی کو جتانے کی تھی۔ خطاب میں اس طرح کی جو لطیف تبدیلیاں ہوتی ہیں اس کی متعدد مثالیں خود اس سورة میں بھی گزر چکی ہیں۔ ایک نہایت عمدہ مثال سورة یوسف میں موجود ہے۔“ یوسف اعرض عن ھذا واستغفری لذنبک انک کنت من الخاطئین : یوسف، تم اس سے اعراض کرو، اور تو اپنے گناہ کی مغفرت چاہ بیشک تو ہی خطا کاروں میں سے ہے ”(یوسف :29)۔ دیکھیے، ایک ہی سانس میں عزیز مصر نے حضرت یوسف کو بھی خطاب کیا ہے اور اپنی بیوی کو بھی اور رخ کی تبدیلی اور بات کی نوعیت سے خطاب کا فرق بغیر کسی التباس کے نمایاں ہوگیا۔۔ یہاں مسلمانوں کو مال غنیمت کے حلال و طیب ہونے سے متعلق جو اطمینان دلایا گیا وہ درحقیقت قریش کے جواب میں ہے۔ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ واقعہ بدر کے بعد قریش نے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ مسلمان مدعی بن کر تو اٹھے ہیں دینداری کے لیکن ان کے کام بالکل دنیا داروں کے ہیں۔ بھلا دین داروں کے یہی کام ہوتے ہیں کہ ملک میں خونریزی کریں، مال غنیمت لوٹیں، فدیہ وصول کریں اور اس کو مزے سے کھائیں ؟ یہ تو وہی شیوہ ہے جو ہمیشہ سے دنیاداروں کا شیوہ ہے۔ قرآن نے یہ بتایا کہ تم ان مفتیوں کے فتوے کی ذرا پروا نہ کرو۔ ان کے نزدیک تو تم بہر شکل گنہگار ہو۔ اگر تم اس جنگ میں ہار جاتے تو تمہارا ہار جانا ان کے نزدیک تمہارے باطل ہونے کی دلیل بنتا اب جب کہ جیت گئے ہو تو تمہارا قیدی پکڑنا، مال غنیمت پانا اور فدیہ وصول کرنا اور اس کو کھانا ان کے نزدیک تمہارے باطل پر ہونے کی دلیل ہے۔ ان لوگوں سے عہدہ برآ ہونے کی شکل بس یہ ہے کہ ان کی پروا نہ کرو اور اللہ نے جو فتوح تمہیں بخشی ہیں ان سے فائدہ اٹھاؤ، یہ تمہارے لیے حلال طیب ہیں۔ یہ امر یہاں ذہن میں رکھیے کہ اس زمانے میں عام طور پر مذہب کے رہبانی تصور کا غلب ہ تھا اس وجہ سے اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ بہت سے نیک دل لوگ قریش کے اس پروپیگنڈے سے متاثر ہوجائیں جس کا اثر مسلمانوں کے اس ولولہ جہاد پر پڑے جس کی اس سورة میں دعوت دی جا رہی ہے۔ قرآن نے ان کی تردید کر کے اس امکان کا سدباب کردیا۔ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیز جائز اور طیب ہے اس کو تو کھاؤ برتو البتہ اللہ سے ڈرتے رہو کہ کسی ایسی چیز میں آلودہ نہ ہوجاؤ جس سے خدا نے منع فرمایا ہے۔ اگر حدود الٰہی کے تجاوز سے بچتے رہے تو وہ تمہاری چھوٹی موٹی غلطیوں اور کوتاہیوں پر گرفت نہیں فرمائے گا، وہ غفور رحیم ہے۔
Ayah 8:70

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے نبی تمہارے قبضہ میں جو قیدی ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر اللہ تمہارے دلوں میں کوئی بھلائی پائے گا تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تم کو وہ عطا فرمائے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے

جنگ بدر کے قیدیوں سے خطاب : يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ قُلْ لِّمَنْ فِيْٓ اَيْدِيْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰٓي ۙ اِنْ يَّعْلَمِ اللّٰهُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ خَيْرًا يُّؤْتِكُمْ خَيْرًا مِّمَّآ اُخِذَ مِنْكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ اب یہ بدر کے قیدیوں کے لیے ایک پیغام بھی ہے اور ساتھ ہی ایک دھمکی بھی۔ پیغام تو یہ ہے کہ تم سے جو فدیہ لیا گیا ہے اس سے دل گرفتہ ہونے کے بجائے تمہیں اللہ اور رسول کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ قتل کرنے کے بجائے تمہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا۔ یہ تمہارے اوپر اللہ اور رسول کا بہت بڑا احسان ہے اور اس احسان کا حق یہ ہے کہ تم ٹھنڈے دل سے اپنے رویہ کا ازسر نو جائزہ لو اور سارے معاملہ پر جذبات کے بجائے عقل و انصاف کی روشنی میں غور کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم احسان کی قدر کرنے والے بنو گے اور تمہاری یہ سعادت اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی توفیق کو تمہاری طرف متوجہ کرے گی اور اس فدیہ سے جو تم سے لیا گیا ہے، کہیں بڑھ کر وہ تمہیں اسلام کی نعمت سے بخش دے گا اور تمہاری مغفرت فرمائے گا۔
Ayah 8:71

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر یہ تم سے بدعہدی کریں گے تو اس سے پہلے انہوں نے خدا سے بدعہدی کی تو خدا نے تم کو ان پر قابو دے دیا اور اللہ علیم و حکیم ہے

وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی اور بدر کے قیدیوں کو دھمکی ہے۔ پیغمبر کو خطاب کر کے فرمایا کہ اگر انہوں نے بےوفائی کی اور تم نے ان پر جو احسان کیا ہے اس کی قدر نہ پہچانی، پھر لڑنے کے لیے آئے تو یہ تمہارا کچھ نہیں بگاریں گے، اپنی ہی شامت بلائیں گے اس سے پہلے انہوں نے خدا سے بےوفائی و بدعہدی کی تو اس کا مزا انہوں نے چکھا کہ خدا نے ان کو تمہارے ہاتھ میں دے دیا۔ اگر یہی حرکت انہوں نے پھر کی تو خدا پھر انہیں قابو میں دے دے گا اور یہ اپنی اس بدعہدی کی سزا بھگتیں گے۔ یہاں جس بدعہدی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے کہ اللہ نے ان کو اپنے حرم کا پاسبان بنایا اور ان کو ملت ابراہیم کی وراثت سپرد کی تو انہوں نے حرم کی حرمت برباد کی اور ملت ابراہیم کو مسخ کیا جس کے نتائج ان کے آگے آ رہے ہیں۔ اگر اپنے اس جرم پر یہ کچھ اور اضافے کرنا چاہتے ہیں تو یہ شوق بھی کرلیں، اس کے پھل بھی یہ چکھیں گے۔ ان دونوں آیتوں (آیت 70-71) پر غور کیجیے تو یہ بات واضح ہوگی کہ آنحضرت ﷺ نے بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر جو چھوڑ دیا تو نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ اس نے اس کو پسند فرمایا اور ان قیدیوں کو یہ پیغام بھجوایا کہ یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے اس احسان کی قدر کی تو اس سے ان کے لیے قبول اسلام اور مغفرت کی راہیں کھلیں گی۔ غور کیجیے کہ کہاں یہ بات اور کہاں وہ جو محض بعض تفسیری روایات کی بنا پر مفسرین نے اختیار فرمائی کہ آنحضرت ﷺ پر اس بات کے لیے عتاب ہوا کہ اچھی طرح خون بہائے بغیر تم نے قیدی کیوں کڑے اور فدیہ کیوں قبول کیا۔
Ayah 8:72

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی یہی لوگ باہم دگر ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لائے لیکن انہوں نے ہجرت نہیں کی تمہارا ان سے کوئی رشتہ ولایت نہیں تاآنکہ وہ ہجرت کریں۔ اور اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے طالب مدد ہوں تو تم پر مدد واجب ہے الا آنکہ یہ مدد کسی ایسی قوم کے مقابلے میں ہو جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو۔ اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کو دیکھ رہا ہے

آیات 72 تا 75 کا مضمون : اب آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ مسلمانوں کو ایمان و ہجرت کی اساس پر منظم ہوجانے اور ایمان و ہجرت ہی کر باہمی تعاضد و تناصر کی بنیاد قرار دینے کا حکم ہوا۔ جاہلیت کے خاندانی تعلقات اور ان کی ذمہ داریاں یک قلم ختم کردی گئیں۔ حکم ہوا کہ جو لوگ ایمان لائیں، ہجرت کر کے مدینہ میں آ بسیں، اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر اہل کفر سے جہاد کریں وہ ایک ملت اور باہم دگر ایک دوسرے کے بھائی اور اولیاء ہیں۔ گویا اسلامی معاشرہ کو اس کی مخصوص اساسات پر منظم اور مستحکم کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ ملت کفر کے مقابلہ کے لیے انصار و مہاجرین ایک بنیان مرصوص کی طرح کھڑے ہوسکیں۔ اور مسلمانوں کو جہاد پر جو ابھارا گیا ہے یہ اس جہاد کی تیاری بھی ہے اور آگے والی سورة میں کفار سے جو اعلان براءت ہونے والا ہے اس کی تمہید بھی۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُهَاجِرُوْا ۚ وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰي قَوْمٍۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۔ اسلام میں حمایت و نصرت کی بنیاد ایمان پر ہے : اسلام سے پہلے باہمی حمایت و نصرت کی بنیاد خاندانی و قبائلی عصبیت پر تھی۔ کوئی شخص یا خاندان کسی خطرے یا کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا تو اس کا خاندان یا قبیلہ اس کی حمایت و مدافعت میں سربکف ہوتا۔ اسلام نے مدینہ میں جو نیا معاشرہ قائم کیا اس میں حمایت و نصرت کی بنیاد ایمان اور ہجرت پر رکھی۔ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے، جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے مال و جان سے خدا کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے ان مہاجرین کو پناہ دی اور ان کی مدد کی، یہ باہم دگر ایک دوسرے کے یاور، ناصر اور حامی و مددگار ہیں۔ اٰمنوا وھاجروا سے ظاہر ہے کہ مہاجرین مراد ہیں اور او و و نصروا سے انصار۔ ان دونوں گروہوں کا ذکر ان کے اسماء و اعلام کے بجائے ان کی صفات اور ان کی دینی خدمات سے کیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس نئی سوسائٹی میں خاندان و نسب کی عصبیت کے بجائے اعتبار صرف ایمان و اسلام اور ہجرت و جہاد کا ہوگا۔ یہ ایک دوسرے کے ولی یعنی حامی و ناصر ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ حمایت و نصرت اہل کفر کے مقابل میں ہے۔ یہ بات اگرچہ بیان واقعہ کے اسلوب میں ہوئی ہے۔ لیکن اس کے اندر امر کا مضمون بھی مضمر ہے یعنی یہ حکم ہے کہ اہل کفر کے مقابل میں اہل ایمان ایک دوسرے کے حامی و مددگار بن کر کھڑے ہوں اور جب ضرورت پیش آئے ایک دوسرے کی حمایت و مدافعت کریں۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُهَاجِرُوْا۔ بعض وقتی مصالح : ان لوگوں کو جو اسلام تو لا چکے تھے لیکن ابھی انہوں دار الکفر سے دار الاسلام مدینہ کو ہجرت نہیں کی تھی اس رشتہ ولایت سے الگ رکھا یعنی دار الاسلام والوں پر ان کی حمایت و نصرت اور حفاظت و مدافعت کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس ذمہ داری کے نہ اٹھانے کی وجہ ظاہر ہے کہ یہی ہے کہ عملاً یہ ناممکن بھی تھی اور اس سے بہت سی بین الاقوامی پیچیدگاں بھی پیدا ہوسکتی تھیں۔ علاوہ ازیں اس وقت مصلحت بھی تھی اور حکم بھی یہی تھا کہ تمام وہ لوگ جو اسلام لاچکے ہیں دارالکفر کے علاقوں سے نکل کر مدینہ میں مجتمع ہوں تاکہ اہل کفر سے نمٹنے اور بیت اللہ کی آزادی کے لیے منظم جد و جہد عمل میں آسکے۔ وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰي قَوْمٍۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ۔ معاہدہ کا احترام : یعنی ہرچند دار الاسلام والوں پر ان مسلمانوں کی حمایت و مدافعت کی ذمہ داری نہیں ہے جنہوں نے دار الکفر سے ہجرت نہیں کی ہے تاہم اگر وہ دین کے معاملے میں طالب مدد ہوں تو ان کو ممکن مدد بہم پہنچائی جائے بشرطیکہ یہ مدد کسی ایسی قوم کے مقابل میں نہ ہو جس سے مسلمانوں کا معاہدہ ہو۔ معاہدہ کا احترام مقدم ہے۔ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ، یہ معاہدہ کے احترام کو موکد کرنے کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ معاہدہ کے احترام کے منافی خفیہ یا علانیہ جو قدم بھی تم اٹھاؤگے خدا اس سے بیخبر نہیں رہے گا۔ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
Ayah 8:73

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا وہ آپس میں ایک دوسرے کے حامی و مددگار ہیں تو اگر تم یہ نہ کروگے تو ملک میں ظلم اور بڑا فساد ہوگا

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭاِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْاَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيْرٌ۔ دین میں دارالکفر کے مسلمانوں کی امداد کی وجہ : یہ وجہ بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ خاص دین کے باب میں دارالکفر کے مسلمانوں کی مدد کرنا کیوں ضروری ہے ؟ فرمایا کہ جہاں تک اسلام اور مسلمانوں کی عداوت کا تعلق ہے اس معاملے میں تمام کفار ایک دوسرے کے دست و بااو بن گئے ہیں۔ جو اللہ کا بندہ اسلام قبول کرلیتا ہے اس کی تعذیب و ایذا رسانی سب کے نزدیک کار ثواب ہے۔ یہاں تک کہ ظالموں کے ظلم سے اس کو بچانے کے لیے اس کے اپنے بھائی بندوں کی حمیت بھی مردہ ہوچکی ہے۔ اس کا مال اور اس کی جان سب مباح ہیں۔ ایسی حالت میں اگر تم بھی ان مظلوموں کی مدد نہ کروگے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دین سے پھرنے کے لیے سارے ملک میں ظلم و فساد عام ہوجائے گا۔ فتنہ کا لفظ یہاں Persecution کے مفہوم میں ہے اور الا تفعلوہ میں ضمیر مفعول کا مرجع وہی نصرت ہے جس کا ذکر فعلیکم النصر میں آیا ہے۔
Ayah 8:74

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی، یہی لوگ پکے مومن ہیں۔ ان کے لیے مغفرت اور باعزت روزی ہے

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۔ دار الکفر کے مسلمانوں کے لیے ہجرت صداقت کی کسوٹی ہے : اس آیت میں ہجرت کو دار الکفر کے مسلمانوں کے لیے صداقت کی کسوٹی قرار دیا ہے۔ جب یہ فرمایا کہ سچے اور پکے مسلمان وہی ہیں جنہوں نے ہجرت اور جہاد کیا اور جنہوں نے مہاجرین کو پناہ دی اور ان کی مدد کی تو اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلتی ہے کہ اسلام کی اصل دولت مہاجرین و انصار ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لا چکے ہیں لیکن ابھی انہوں نے دارالکفر سے ہجرت نہیں کی ہے، انہیں اپنے ایمان کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ دار الکفر سے نکل کر دار الاسلام میں آئیں اور مہاجرین و انصار کے دوش بدوش جہاد میں شریک ہوں۔ اس سے ہجرت کی وہ غایت بھی واضح ہوئی جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ اس کا اہم مقصد مسلمانوں کو جہاد کے لیے منظم کرنا تھا، دوسرے یہ اشارہ بھی نکلا کہ یہ ایمان و نفاق کے جانچنے کی کسوٹی بھی ہے۔ چناچہ بعد والی سورة ، سورة توبہ میں یہ بات واضح ہوجائے گی کہ جن لوگوں نے ایمان کے دعوے کے باوجود، آخر تک بلا کسی عذر معقول کے ہجرت سے گریز اختیار کیا، ان کا شمار منافقین کے زمرے میں ہوا۔
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو ایمان لائیں اس کے بعد اور ہجرت کریں اور تمہارے ساتھ جہاد میں شریک ہوں، یہ بھی تمہی میں سے ہیں اور رحمی رشتے والے کے قانون میں ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں بیشک اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۔ دارالکفر کے مسلمانوں کو ترغیب، دار الاسلام کے مسلمانوں کے تنبیہ : یہ دارالکفر کے مسلمانوں کو ہجرت کی ترغیب و تشویق بھی ہے کہ تمہارے لیے بھی اسلامی معزارہ کا یہ دروازہ کھلا ہوا ہے اس کی طرف سبقت کرو اور اس میں اپنا مقام حاصل کرو اور دار الاسلام کے مسلمانوں کو تاکید بھی کہ بعد میں ایمان لانے والوں اور ہجرت کرنے والوں کے لیے بھی اپنے دلوں کے دروازے کھلے رکھو وہ بھی تمہارے ہی بھائی بند اور تمہارے ہی وجود ملی کے اجزا ہیں۔ نہ ان کے مقابل میں تمہارے اندر کوئی احساس برتری پیدا ہو، نہ دلوں میں کوئی تنگی۔ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ۔ اولوالارحام کے شرعی حقوق مقدم ہیں : یہ اخوت و نصرت کے اس عام ضابطہ کے ساتھ جو اوپر مذکور ہوا، حقوق اور وراثت کے اس خاص قانون کی یاد دہانی کردی گئی ہے جو قرآن میں بیان ہوا ہے، مطلب یہ ہے کہ رحمی رشتوں کی بنا پر جو حقوق اللہ تعالیٰ نے قائم فرمائے ہیں وہ بدستور قائم رہیں گے۔ یہ اخوت اس میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گی۔ رحمی رشتوں کے حقوق کے ساتھ فی کتاب اللہ کی قید یہ بات واضح کرتی ہے کہ یہاں حقوق سے مراد رحم اور قرابت کے وہ حقوق ہیں جو اللہ کے قانون میں بیان ہوئے ہیں، وہ رسوم اس سے خارج ہیں جو جاہلیت میں رائج رہے ہیں۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی جہاں مسلمانوں کو اپنے دینی واسلامی بھائیوں اور اولیاء کے ساتھ حسن سلوک اور نصرت و اعانت کی تاکید کی گئی ہے وہاں یہ تنبیہ کردی گئی ہے کہ اولوالارحام کے شرعی حقوق مقدم رہیں گے۔ سورة احزاب میں واولوالارحام بعضہم اولی ببعض فی کتاب اللہ من المومنین والمہاجرین الا انتفعلوا الی اولیاء کم معروفا، کان ذلک فی الکتاب مسطورا۔ (اور مومنین و مہاجرین میں رحمی رشتے والے ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں، اللہ کے قانون میں، مگر یہ کہ تم اپنے اولیاء کے ساتھ کوئی حسنِ سلوک کرو، یہ چیز کتاب میں لکھ ہوئی ہے) (احزاب : 6)۔ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی ہر بات اس کے لیے خطا علم پر مبنی ہے اور ہر چیز کا اس نے اپنے ایک محل و مقام مخصوص کیا ہے۔ دینی اخوت و ولایت کا اپنا دائرہ ہے اور رحمی قربت و قرابت کا اپنا مقام ہے۔ اپنے اپنے محل میں دونوں کا احترام کرو اور خدا نے ان کے جو حقوق ٹھہرائے ہیں ان کو ادا کرو۔ اسلامی سیاست کے چند اصول : اس مجموعہ آیات (آیات 72 تا 75) پر تدبر کی نظر ڈالیے تو ان سے اسلامی سیاست کے چند اصول سامنے آئیں گے جو بین الملی بھی ہیں اور بین الاقوامی بھی۔ ہم اختصار کے ساتھ ان کی طرف اشارہ کریں گے۔ 1۔ ایک یہ کہ انصار و مہاجرین ایک دوسرے کے اولیاء ہیں ان کے درمیان ایمان اور ہجرت کا رابطہ اور اسی کی اساس پر اخوت اور حمایت و نصرت کے حقوق و فرائض ہیں۔ پچھلی خاندانی و قبائلی عصبیتیں ختم ہوئیں اور باہمی تعاضد و تناصر اور حمیت و حمایت کی اساس اسلامی اخوت پر استوار ہوئی۔ 2۔ جو لوگ ایمان لائے لیکن انہوں نے دالکفر سے دار الاسلام کی کی طرف ہجرت نہیں کی وہ اس نئے اسلامی معاشرہ کے حقوق حمایت و نصرت میں شریک نہیں ہیں تاآنکہ وہ ہجرت کریں۔ 3۔ یہ دار الکفر میں پڑے ہوئے مسلمان اگر اسلام لانے کے جرم میں کہیں ستائے جا رہے ہوں تو ان کو ظلم سے بچانے کے لیے ان کی مدد کی جائے بشرطیکہ اس کے لیے کسی معاہد قوم سے جنگ نہ کرنی پڑے۔ 4۔ ہجرت ہر مسلمان پر واجب قرار دی گئی تاکہ مسلمان کفر کی طاقتوں سے مقابلہ کے لیے ایک مرکز میں مجتمع اور منظم ہوسکیں۔ 5۔ رحمی رشتوں کی بنا پر قرآن نے جو حقوق قائم کیے ہیں اسلامی اخوت کے حقوق ان پر اثر انداز نہ ہوں گے۔ وہ بہرحال مقدم رہیں گے۔ ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوتی ہے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔