Ayah 8:14ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَاَنَّ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابَ النَّارِ۔ اوپر خطاب مسلمانوں سے تھا۔ یہ اثنائے کلام میں ایک بات قریش کو مخاطب کر کے فرما دی کہ یہ جو کچھ بدر میں تمہارے سامنے پیش آیا ہے۔ یہ نقد عاجل ہے اس کو چکھ لو اور دوزخ کے عذاب کا انتظار کرو۔ یہ گویا ان اللہ شدید العقاب کی وضاحت ہوئی کہ خدا کی طرف سے جو پاداش تمہارے لیے مقرر ہے اس کو اسی پر ختم نہ سمجھو، اصل پاداش کی جگہ دوزخ ہے۔ اس کا انتظار کرو۔
Ayah 8:15يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ۔
زحف کا مفہوم : زحف کے اصل معنی گھسل گھسل کر یا گھٹنوں پر چلنے کے ہیں۔ یہیں سے یہ کسی بھاری بھرکم۔ ساز و سامان سے لدے پھندے لشکر کے جنگ کے لیے نکلنے کے معنی میں استعمال ہوا اس لیے کہ وہ بھی آہستہ آہستہ ہی مارچ کرتا ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ لفظ کا یہ استعمال اس مشینی دور کا نہیں بلکہ اس دور کا ہے جب فوج کی نقل و حرکت گھوڑوں، گدھوں اور اونٹ وغیرہ کے ذریعہ سے ہوتی تھی۔
عرب میں جنگ کے دو معروف طریقے۔ عرب میں جنگ کے دو طریقے معروف تھے۔ ایک منظم فوج کشی کا، دوسرا وہ جس کو اس زمانے میں گوریلا وار فیر کہتے تھے۔ گوریلا وار فیر کا اصول یہ تھا کہ حملہ کرو، لوٹو اور بھاگ جاؤ۔ اس کو کہتے بھی کرّوفر کی جنگ تھے۔ اس کے لیے چھوٹے چھوٹے نکلتے اور چھاپہ مار کر اپنی جاپناہوں میں چھپ جاتے تھے۔ اس کا کوئی مخصوص ضابطہ نہیں تھا پس جس طرح کامیاب چھاپہ مارا جاسکے اور اپنے کو بچایا جاسکے وہی اس کا اصلی ہنر تھا۔
منظم فوج کشی کا معاملہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ اس کے لیے ایک ضابطہ تھا جس کی پابندی اہل لشکر کو بھی کرنی پڑتی تھی اور فریقین جنگ بھی، جو آپس میں لڑتے تھے، اس کا احترام ملحوظ رکھتے تھے۔ یہاں آیت میں زیر بحث وہی منظر فوج کشی والی صورت ہے چناچہ اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے زحفا کا لفظ استعمال ہوا ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ اس حکم کا تعلق گوریلا وار فیر کی صورت سے نہیں ہے۔
آئندہ کی جنگوں سے متعلق ضروری ہدایت : اب یہ مسلمانوں کو آئندہ پیش آنے والی جنگوں سے متعلق ہدایت دی جا رہی ہے کہ جب منظم فوج کشی کی شکل میں دشمن سے تمہارا مقابلہ ہو تو پیٹھ نہ دکھانا۔ یہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی انہی تائیدات پر مبنی ہے جو اوپر مذکور ہوئی ہیں کہ جن کی پشت پر خدا اور اس کے فرشتے یوں مدد و نصرت کے لیے کھڑے ہوں ان کے لیے حرام ہے کہ وہ اپنی پیٹھ دشمن کو دکھائیں۔
Ayah 8:16جنگ میں پیٹھ دکھانے کے جرم کی شدت : وَمَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَهٗٓ، ایسی صورت میں جو لوگ دشمن کو پیٹھ دکھائیں گے فرمایا کہ وہ خدا کا غضب لے کر لوٹیں گے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہی جرم کفر و ارتداد کے برابر ہے۔ اس جرم کی یہ شدت ظاہر ہے کہ اسی بنیاد پر ہے کہ جو شخص میدانِ جنگ سے بھاگتا ہے وہ اپنی اس بزدلی سے بسا اوقات پوری فوج بلکہ پوری ملت کے لیے ایک شدید خطرہ پیدا کردیتا ہے۔
اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ ، یعنی اس سے مستثنی وہ شکلیں ہیں جو کوئی سپاہی کسی جنگی تدبیر کے لیے اختیار کرتا ہے یا کوئی ایسی صورت اس کے سامنے آگئی ہے کہ وہ اپنے ایک مورچہ سے ہٹ کر اپنے ہی کسی دوسرے مورچے کی طرف سمٹنا چاہتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حرام جو چیز ہے وہ فرار کی نوعیت کا پیٹھ دکھانا ہے، وہ پیچھے ہٹنا اس سے مستثنی ہے جو تدبیر جنگ کی نوعیت کا ہو۔
Ayah 8:17فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ ۠ وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ۚ وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِيْنَ مِنْهُ بَلَاۗءً حَسَـنًا ۭاِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔
فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ میں خطاب عام مسلمانوں سے ہے اور وَمَا رَمَيْتَ میں آنحضرت ﷺ سے اس وجہ سے دونوں میں جمع اور واحد کا فرق ہے۔ رمی، تیر مارنے، کنکر پتھر پھینکنے، خاک اور راکھ جھونکنے، سبھی کے لیے آتا ہے۔ روایات میں ہے کہ جب کفار کی فوجیں سامنے ہوئیں تو آنحضرت ﷺ نے مٹھی بھر خاک زمین سے اٹھائی اور شاھت الوجوہ کہہ کر کفار کی طرف پھینکی، شاہت الوجوہ عربی میں لعنت کا فقرہ ہے اور کسی کے اوپر خاک جھونکنا نہایت قدیم زمانہ سے لعنت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ تورات میں بھی اس کا ذکر آتا ہے اور عرب کی روایات سے بھی اس کا پتہ چلتا ہے۔ سورة فیل کی تفسیر میں مولانا فراہی ؒ نے اس کے حوالے دیے ہیں۔
یہاں زبان کا یہ اسلوب بھی نگاہ میں رہے کہ بعض مرتبہ فعل کی نفی سے مقصود نفس فعل کی نفی نہیں ہوتی بلکہ اس فعل کے ساتھ ان شاندار نتائج کی نسبت کی نفی ہوتی ہے جو اس فعل کے پردے میں ظاہر ہوئے۔ مٹھی بھر نہتے مسلمانوں کا قریش کی دل با دل غرق آہن فوج کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر ڈال دینا یا آنحضرت کے دست مبارک سے پھینکی ہوئی چٹکی بھر خاک کا ایک ایسا طوفان بن جانا کہ تمام کفار کو اپنی اپنی آنکھوں کی پڑجائے، یہ مسلمانوں کی چیتھڑوں میں لپٹی ہوئی تلواروں یا پیغمبر کی رمی کے کا رمانے نہیں تھے۔ بلکہ اس دست غیب کے کارنامے تھے جو مسلمانوں کی میانوں اور پیغمبر عالم کی آستینوں میں چھپا ہوا تھا۔ ‘ ابلی فلان فی الحرب بلاء حسنا ’ کے معنی ہوں گے اس نے میدان جنگ میں خوب خوب اپنی بہادری کے جوہر دکھائے یہاں تک کہ سب نے اس کو لوہا مان لیا۔ ‘ ابلی اللہ عبادہ بلاء حسنا ’ کے معنی ہوں گے کہ اللہ نے اپنے بندوں کے اچھے جوہر نمایاں کیے۔ ولیبلی المومنین کا معطوف علیہ یہاں عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق محذوف ہے۔ اس لیے کہ اوپر کے الفاظ سے وہ خود بخود واضح ہے۔ اس محذوف کو کھول دیجیے تو گویا پوری یوں ہوگی تاکہ اللہ اپنی نصرت کی شانیں دکھائے اور مسلمانوں کے جوہر اچھی طرح نمایاں کردے۔
اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ اللہ تعالیٰ کی صفات سمع و علم کے حوالے سے یہاں مقصود مسلمانوں کو یہ اطمینان دلانا ہے کہ خدا کسی بات سے بھی بیخبر نہیں۔ وہ اپنے بندوں کی دعائیں اور فریادیں ہر وقت سنتا اور ان کی ضرورتیں اور حاجتیں ہر لمحہ جانتا ہے۔ بدر میں اس تائیدات کا بروقت ظہور اس کی تازہ شہادت ہے۔
Ayah 8:18ذٰلِكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَيْدِ الْكٰفِرِيْنَ۔ ذالکم جب اس طرح آتا ہے تو یہ پورے جملے کا قائم مقام ہوتا ہے اور اس کے بعد جو حرف ربط آتا ہے اس کا تعلق اس مخفی مضمون سے ہوتا ہے جو اس کے اندر مضمر ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ خدا کی تائید و نصرت کی یہ شانیں جو ظاہر ہوئیں یہ تمہارے لیے نقد ہیں اور مزید براں یہ ہے کہ خدا کفار کی ساری چالیں جو وہ تمہارے خلاف چلیں گے بودی ثابت کرتا رہے گا۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ جملہ ٹھیک ٹھیک اوپر کے جملے ذالکم فذوقوہ وان للکفرین عذاب النار کا مد مقابل جملہ ہے یعنی کفار کے لیے یہ چپت نقد ہے جو ان کو بدر میں لگی اور تمہارے لیے یہ فتح عظیم نقد ہے تو تہیں حاصل ہوئی اب آگے ان کے لیے دوزخ ہے اور تمہارے لیے یہ بشارت کہ کفار کی سازشوں کے تمام تار و پود بکھر جائیں گے اور دین حق کا بول بالا ہوگا۔
جنگ بدر کفار کی ایک سازش تھی : کید الکفرین کے الفاظ سے وہ بات صاف نکلتی ہے جس کی طرف ہم نے پیچھے اشارہ کیا ہے کہ یہ جنگ قریش کے لیڈروں کی سازش کا نتیجہ تھی۔ انہوں قافہ تجارت کی حفاظت کا بہانہ تراش کر مسلمانوں پر حملہ کردیا لیکن اللہ تعالیٰ نے، جیسا کہ آگے آیت 42 کے تحت واضح ہوگا، بروقت پیغمبر ﷺ کو اس سازش سے باخبر کردیا اور مسلمان مدافعت کے لیے تیار ہوگئے۔ اس وجہ سے قرآن نے اس کو کید کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے جس کے معنی چال اور سازش کے ہیں۔ آگے آیت 48 سے انشاء اللہ یہ بات بھی ثابت ہوجائے گی کہ اس سازش میں یہود بھی شریک تھے۔
اجزا کی وضاحت کے بعد آیت کے سیاق وسباق پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اوپر کی آیات میں مسلمانوں کو جس جان بازی و سرفروشی کی دعوت دی گئی ہے یہ اسی کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ تم کیوں جان چراؤ اور کیوں پیٹھ دکھاؤ جب کہ تم نہیں لڑتے بلکہ تمہاری طرف سے خدا لڑتا ہے۔ لڑتا در اصل خدا ہے البتہ وہ تمہارے لیے میدان فراہم کرتا ہے کہ تمہارے جوہر نمایاں ہوں اور تم دین و دنیا دونوں کی سرفرازی حاصل کرو۔
Ayah 8:19اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ ۚ وَاِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَاِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ ۚ وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَـيْــــًٔـا وَّلَوْ كَثُرَتْ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ۔
اس آیت میں براہ راست قریش کو مخاطب کرلیا گیا ہے کہ بولو، اب کیا کہتے ہو ؟ تم یہی تو کہتے تھے کہ اس جنگ میں جو جیتا وہ حق پر سمجھا جائے گا تو فتح تو تمہارے سامنے آگئی۔ یہ بات بھی یہاں ملحوظ رہے کہ قریش کے لیڈروں نے اپنی کثرت تعداد کے نشہ میں اس موقع پر خوب بڑھ بڑھ کے تقریریں کیں۔ چونکہ ان کو اپنی فتح کا سو فی صدی یقین تھا اس وجہ سے انہوں نے اس جنگ کو فیصلہ کی میزان ٹھہرا لیا کہ یہ میزان جو فیصلہ کردے گی وہ اس کو بےچون و چرا تسلیم کرلیں گے۔ ابوجہل اس جنگ کے برپا کرنے میں سب سے زیادہ سرگرم تھا۔ اس کی یہ دعا کتابوں میں مذکور ہے کہ اللہم اقطعنا للرحم فاحنہ الغداۃ (اے اللہ فریقین میں سے جو سب سے زیادہ قطع رحم کا مجرم ہوا ہے تو کل اس کو کچل دیجیو) قرآن نے قریش کی انہیں لن ترانیوں کو سامنے رکھ کر کہا کہ اگر اس جنگ کی فتح پر فیصلہ کا انحصار تھا تو اس قاضی کا فیصلہ تو صادر ہوگیا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ غزوہ بدر کی اسی خاص نوعیت کی بنا پر قرآن نے اس کو یوم الفرقان سے تعبیر فرمایا ہے یعنی حق و باطل کے درمیان فیصلہ کردینے والی جنگ۔ آگے آیت 32 کے تحت یہ بات بھی واضح ہوجائے گی کہ قریش علانیہ بڑی ڈھٹائی سے یہ کہتے تھے کہ اگر محمد (ﷺ) کی دعوت حق ہے تو خدا ہم پر پتھر برسا دے یا کوئی اور عذاب ہم پر آجائے تب ہم مان لیں گے۔
وَاِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ میں نصیحت بھی ہے، فضیحت بھی۔ مطلب یہ ہے کہ بہتر ہے کہ اس سے سبق لو اگر سبق نہ لیا تو یاد رکھو کہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑو گے اپنی ہی شامت بلاؤ گے۔ وان تعودوا نعد میں کھلی ہوئی دھمکی ہے کہ اگر تم نے اس قسم کی شرارت پھر کی تو یاد رکھو کہ ہم کہیں چلے نہیں جائیں گے۔ تمہارا سر کچلنے کے لیے اسی طرح ہم پھر آموجود ہوں گے۔ وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَـيْــــًٔـا وَّلَوْ كَثُرَت۔ اور تمہاری جمعیت تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی، تنخواہ کتنی ہی زیادہ ہو، مطلب یہ ہوا کہ واحد چیز جو تم سوچ سکتے ہو، یہی ہے کہ آیندہ مزید قت و شوکت کے ساتھ حملہ کرو، سو یہ چیز بھی تمہارے کچھ کام آنے والی نہیں۔ بس یہ ہوگا کہ ہماری بھٹی کے لیے کچھ اور ایندھن فراہم کر کے لاؤ گے۔
وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ۔ یہ ٹکڑا ساری آیت کی جان ہے اور اس کے دو لفظوں میں کفار کے لیے دھمکیوں کا اور اہل ایمان کے لیے بشارتوں کا ایک جہان ہے۔ فرمایا کہ اب آئے جس کو آنا ہو اور لڑے جس کو لڑنا ہو اور جمع کرے وہ جتنی جمعیت جمع کرسکتا ہو، اہل ایمان کے ساتھ ہم ہیں ہم ! سبحان اللہ ! !
کیا غم ہے جو ہو ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے
Ayah 8:20آیات 20 تا 28 کا مضمون : مسلمانوں کی تربیت و اصلاح اور تطہیر و تنظیم کا وہی مضمون جو اوپر سے چلا آ رہا ہے اپنے تدریجی انکشافات کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور جن لوگوں کی کمزوریاں اس تقریر کی محرک ہوئی ہیں ان کو کچھ کھلی ہوئی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں اور مجموعی طور پر مسلم معاشرہ کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ اپنے پیش و عقب سے آگاہ رہو، معاشرے کی برائیاں اور بھلائیاں دونوں مشترک ہوتی ہیں۔ اگر کچھ لوگوں نے کوئی فتنہ برپا کرنے کی کوشش کی اور دوسروں نے ان کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش نہ کی تو بالآخر وہ فتنہ نیک و بد سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اللہ و رسول کی اطاعت پر جم جاؤ، ان یہود کی روش سے بچو جو اپنے رسول کے سامنے تو دعوے کرتے کہ ہم نے مانا لیکن وہ مانتے نہیں تھے۔ پیغمبر کی دعوت حقیقی زندگی کی دعوت ہے اس پر دل و جان سے لبیک کہو۔ جو لوگ پیغمبر کی دعوت سن اور سمجھ کر بھی اس کے لیے اپنے دلوں کے دروازے نہیں کھولتے، ان کے اور ان کے دلوں کے درمیان خدا کا قانون حائل ہوجاتا ہے اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجاتا ہے
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ۔
خطاب عام، لیکن روئے سخن خاص لوگوں کی طرف : يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا کا خطاب اگرچہ لفظاً عام ہے لیکن روئے سخن انہی کمزور منافق لوگوں کی طرف ہے جن کا ذکر شروع سے چلا آ رہا ہے۔ قرآن کا عام انذار یہی ہے کہ کمزوروں اور منافقوں کی غلطیوں پر گرفت بھی فرماتا ہے تو ان کا ذکر بصیغہ عام ہی کرتا ہے کہ ان کا فضیحتا نہ ہو اور اگر وہ اصلاح قبول کرنا چاہیں تو قبول کرلیں۔ رہے اچھے لوگ تو وہ بہرحال اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ گویا دوسروں کی غلطیاں ان کے اپنے علم و عمل کو پختہ کرنے کے لیے مزید اسباب فراہم کردیتی ہیں۔
رسول سے اعراض اللہ سے اعراض کے ہم معنی ہے۔ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ میں فعل اپنے کامل معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی اللہ و رسول کی اطاعت اس طرح کرو جس طرح ایمان کا تقاضا ہے۔ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ ، یعنی رسول کی عین مجودگی میں، جن کہ دونوں کانوں سے اس کی دعوت سن رہے ہو، اس سے اعراض نہ کرو، وانتم تسمعون کے الفاظ ان کے رویہ کی شناعت کو ظاہر کر رہے ہیں کہ جب تم رسول کی موجودگی میں ٹھوکر کھاؤ گے تو کل کو تمہارا کیا حال ہوگا ؟ جو لوگ پورے دن کی روشنی میں گرتے ہیں ان کے پاس ان کے گرنے کے لیے کوئی عذر نہیں ہوسکتا۔ عنہ کی ضمیر رسول کی طرف لوٹتی ہے حالانکہ اوپر ذکر اللہ و رسول دنوں کا ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے رسول سے اعراض اللہ سے اعراض کے ہم معنی ہے۔ جس نے رسول سے منہ موڑ لیا اس نے خدا سے منہ موڑ لیا۔ خدا سے تعلق اور اس کی اطاعت کا واحد ذریعہ اس کا رسول ہی ہے۔
Ayah 8:21ایک اشارہ یہود کی طرف : وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ۔ یعنی ان لوگوں کے مانند نہ بنو جو دعوی تو سمعنا واطعنا کا کرتے لیکن عمل ان کا سمعنا وعصینا پر ہوتا۔ بات اگرچہ اشاروں میں کہی گئی ہے لیکن قرآن کا ہر ذوق رکھنے والا سمجھ سکتا ہے کہ یہ اشارہ یہود کی طرف ہے۔ قرآن نے بڑی وضاحت کے ساتھ بتایا ہے سورة بقرہ میں کہ یہود کہتے تو سمعنا واطعنا ہیں لیکن عمل ان کا سمعنا وعصینا پر ہوتا ہے اور بات کی بھی قرآن نے تصریح کی ہے کہ ان کا یہ رویہ اس کے رسول کی عین موجودگی میں رہا ہے۔ گویا در پردہ ان منافق قسم کے مسلمانوں کو یہ بتا دیا گیا کہ تمہارا یہ طرز عل اتباع رسول نہیں بلکہ اتباع یہود ہے۔ ایمان کا دعوی ہے تو اس مغضوب قو کے نقش قدم پر نہ چلو۔
Ayah 8:22اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ۔ اگرچہ لہجہ کی درشتی اوپر والے ٹکڑے میں جھلک رہی تھی لیکن اس ٹکڑے میں بالکل نمایاں ہوگئی ہے۔
خدا کے نزدیک بدترین جانور : فرمایا کہ خدا کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ مطلب یہ کہ اگر تم سب کچھ سن کر اسی طرح بہرے گونگے بنے اور رسول کی سنی ان سنی کرتے رہے۔ عقل و فہم سے تم نے کام نہ لیا تو تم خدا کے نزدیک بدترین جانور ہو۔ قرآن نے جگہ جگہ یہود اور مشرکین کو بدترین جانور کہا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ انہوں نے سننے سمجھنے سے انکار کردیا۔ ظاہر ہے کہ جو گروہ بھی ان کی روش اختیار کرے گا وہ انہی میں سے ہے۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ انسان کا اصلی وصف امتیازی اس کا سننا سمجھنا ہی ہے۔ اس وصف سے یہ اپنے کو محروم کرے تو بس یہ دو ٹانگوں پر چلنے والا ایک جانور ہی ہے اور جانور بھی بدرترین جانور۔ بدترین جانور اس لیے کہ جانور خواہ کتنا ہی برا ہو وہ اپنی جبلت پر قائم رہتا ہے اور اپنے محل میں اس کی ایک قیمت اور اس کی ایک افادیت ہے لیکن انسان اپنی خصوصیت نوعی سے محروم ہوجائے تو اس کے آگے شیطان بھی اپنے کانوں پر ہاتھ رکھتا ہے، یہ عقل و بصیرت سے کام لے تو جس طرح اس کے عروج کی کوئی حد نہیں اسی طرح عقل و بصیرت سے محروم ہوجانے کی صورت میں اس کی پستی کی بھی کوئی انتہا نہیں۔
Ayah 8:23وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ۭوَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ۔
ایک شبہ کا ازالہ : یہ ایک دفع دخل مقدر یعنی ایک پیدا ہونے والے شب ہے کا برسر موقع جواب ہے۔ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سننے سمجھنے ہی پر انسان کی انسانیت کا انحصار ہے اور اس سے محرومی خدا کو اس درجہ ناپسند ہے کہ اس سے محروم ہو کر انسان اس کے نزدیک بد ترین جانور بن جاتا ہے تو وہ اپنی قدرت سے ان کے کان کھول کیوں نہیں دیتا اور ان کی عقل پر پڑے ہوئے پردے ہٹا کیوں نہیں دیتا ؟ اس سوال کے جواب میں فرمایا کہ اللہ اگر ایسے لوگوں کے اندر کوئی صلاحیت پاتا تو ان کو سننے سمجھنے کی توفیق دیتا۔ یہ صلاحیت ان کے اندر اس نے نہیں پائی اس وجہ سے ان کو توفیق نہیں بخشی۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کی وضاحت ہم بار بار کرچکے ہیں کہ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں خدا کا قانون یہ ہے کہ اس نے ہر انسان کے اندر خیر و شر کے امتیاز کی صلاحیت بخشی ہے جو لوگ اس کو زندہ رکھتے اور اس سے کام لیتے ہیں ان کو مزید ہدایت ملتی ہے اور وہ درجہ بدرجہ علم و عمل میں ترقی کرتے جاتے ہیں ان کو مزید ہدایت ملنا تو الگ رہا، قانونِ الٰہی یہ ہے کہ ان کو جو ہدایت فطرت سے ملی ہوئی ہوتی ہے وہ بھی سلب ہوجاتی ہے۔ سیدنا مسیح نے اس حقیقت کو نہایت بلیغ پیرایہ میں سمجھایا ہے کہ جو غلام ایک پیسہ میں چور ثابت ہوا اس کو اس کا مالک ایک لاکھ کی امانت کیسے سونپے گا ؟
وَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ ، یعنی اگر بدون اس صلاحیت کے خدا ان کے اندر ہدایت ڈالتا تو ڈالنے کو تو وہ ڈال دیتا لین وہ ان کے اندر جڑ نہ پکڑتی۔ ان کی طیعتیں اس سے ابا کرتیں۔ بالآخر وہ اس کو اگل دیتے۔ غذا کتنی ہی صالح ہو لیکن معدہ فاسد ہوچکا ہو تو وہ اس کو قبول نہیں کرتا۔ آدمی لقمہ حلق سے اتار تو لیتا ہے لیکن بڑی جلدی قے کردیتا ہے۔ ایک پودے کی صحیح نشوونما کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہوتا کہ وہ اپنی ذات سے تندرست ہو بلکہ اس کے لیے زمین کی زرخیزی بھی مطلوب ہوتی ہے۔ ایک مالی اگر ایک بنجر زمین میں عدمہ سے عمدہ پودا لگا دے تو لگانے کو تو وہ لگا دے گا اور چند روز وہ پودا اپنی ذاتی صلاحیتوں کے بل پر زندہ بھی رہے گا لیکن جب زمین کے اندر سے اس کے مزاج کے مطابق اس کو مطلوب غذا نہیں ملے گی تو بالآخر وہ سوکھ جائے گا۔ ٹھیک یہی حال نیکی اور ہدایت کے بیج کا بھی ہے۔ یہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق نشوونما صالح فطرت کی زمین کے اندر پاتا ہے۔ اگر کسی شخص کی فطرت کی زمین شور ہوچکی ہو تو یہ بیج ڈالنے کو تو قدرت اس کے اندر بھی ڈال سکتی ہے لیکن قدرت ہی کا قانون یہ ہے کہ وہ اس کے اندر نشوونما نہ پا سکے۔
Ayah 8:24يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ ۚ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ۔
رسول کی دعوت حقیقی زندگی کی دعوت ہے : اوپر گزر چکا ہے کہ انسان کی انسانیت کا انحصار اس کی عقل و بصیرت پر ہے اور اس کی زندگی عبارت ہے اس کی روح اور اس کے دل کی زندگی سے۔ اگر وہ صحیح بات سوچنے سمجھنے عاری اور کلمہ حق سننے اور ماننے سے محروم ہوجائے تو درحقیقت وہ اپنے منشائے تخلیق کے اعتبار سے مردہ ہے۔ چناچہ قرآن نے کفار کو جگہ جگہ مردہ کہا ہے۔ اللہ و رسول کی دعوت حقیقی زندگی کی دعوت ہوتی ہے اسی کو قبول کرنے سے بصارت کو بصیرت نصیب ہوتی ہے۔ اسی سے عقل کو وہ نور حاصل ہوتا ہے جو آفاق وانفس کے اسرار و حقائق سے اس کے لیے پردے اٹھاتا ہے۔ اس سے دل کو وہ زندگی نصیب ہوتی ہے جو اس کو ایک مضغہ گوشت سے تجلیات و انوار الٰہی کا ایک آئینہ بنا دیتی ہے۔ فرمایا کہ اللہ و رسول کی دعوت پر لبیک کہو اس لیے کہ اسی سے تم کو حقیقی اور جاوداں زندگی حاصل ہوگ۔ سیدنا مسیح نے اس حقیقت کو یوں واضح فرمایا کہ انسان روٹی سے نہیں جیتا بلکہ اس کلمہ سے جیتا ہے جو خدا کی طرف سے آتا ہے۔ اس مضمون کی وضاحت انعام کی آیت 122 اومن کان میتا فاحییناہ الایہ کے تحت ہوچکی ہے۔
ایک نہایت ہی سخت تنبیہ : وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ ، یہ تنبیہ ہے اور بڑی ہی سخت تنبیہ ہے ان لوگوں کے لیے جو کسی دعوت خیر بالخصوص پیغمبر کی حیات بخش دعوت کی قدر نہیں کرتے بلکہ گونگے بہرے بن جاتے ہیں۔ فرمایا کہ یادرکھو، جو لوگ یہ روش اختیار کرتے ہیں ان کے اور ان کے دلوں کے درمیان خدا حائل ہوجایا کرتا ہے۔ خدا کے حائل ہونے سے مراد یہاں خدا کے قانون کا حائل ہوجانا ہے۔ اس کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات میں ہم اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ جو باتیں خدا کے قانون اور اس کی مقررہ سنت کے تحت ظہور میں آتی ہیں، بسا اوقات اللہ تعالیٰ ان کو براہ راست اپنے فعل کی حیثیت سے تعبیر فرماتا ہے۔ ختم اللہ علی قلوبہم کے تحت یہ بحث تفصیل سے گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے دل پھر ایسے عنان گسیختہ اور بےقابو ہوجاتے ہیں کہ وہ ان کو کسی طرح بھی قابو میں نہیں لا سکتے۔ انسان کا دل جب برائیوں کے پیچھے لگتا ہے تو ایک خاص حد تک تو اس کا حال یہ رہتا ہے کہ انسان اگر متنبہ ہوجائے اور اس کو روکنا چاہے تو روک سکتا ہے اور اس کو اصلاح کی راہ پر لگا سکتا ہے لیکن جب اس حد سے دل آگے بڑھ گیا اور انسان کو توفیق نہ ہوئی کہ وہ اس کو لگام دے تو پھر نہ آدمی کا ہاتھ باگ پر رہ جاتا ہے نہ پاؤں رکاب میں بلکہ وہ دل کے ہاتھوں بےبس ہوجاتا ہے، نبی کی دعوت، جیسا کہ اوپر گزرا، آنکھوں، کانوں اور دلوں کو کھولنے کے لیے سب سے زیادہ مؤثر دعوت ہوتی ہے اس وجہ سے جو لوگ اس دعوت سے اپنے کان بند کرلیں وہ خدا کے اس قانون کی زد میں آجاتے ہیں۔ جس کو قرآن نے ختم قلوب یا رین کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہاں قرآن نے کمزور اور منافق قس کے لوگوں کو اسی چیز سے ڈرایا ہے کہ ابھی فرصت باقی ہے۔ سنبھلنا چاہو تو سنبھل سکتے ہو، نہ سنبھلے، اسی طرح اپنی بیماریوں کی پرورش کرتے رہے تو پھر تمہارے دل اسی طرح مسخ اور مختوم ہوجائیں گے کہ کوئی صیقل بھی ان پر کارگر نہ ہوسکے گا۔ مزید برآن یہ بات بھی یاد رکھو کہ معاملہ یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ آگے خدا کے حضور میں بھی حاضر ہونا ہے۔ اس دن کے احوال و نتائج کو بھی سوچ لو۔
Ayah 8:25وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاۗصَّةً ۚوَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔ یہ خطاب پورے معاشرے سے عموما ان لوگوں سے خصوصاً ہے جن پر انفرادی اصلاح کا رجحان غالب تھا اور اس رجحان کے سبب سے انہیں اس امر سے کچھ زیادہ تعلق خاطر نہ تھا کہ دوسرے لوگ کیا کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو جھجنھوڑنے کے لیے فرمایا کہ اپنے معاشرے کے اندر ابھرنے والی خرابیوں سے بےتعلق نہ رہو بلکہ اپنے امکان اور اپنی صلاحیت کے حد تک اس کی اصلاح کی کوشش کرو اس لیے کہ معاشرے میں اگر کوئی خرابی جڑ پکڑ لے تو وہ بالتدریج ایک وبائے عا کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور جب وبائے عام کی صورت اختیار کرلیتی ہے تو اس کے برے اثرات و نتائج انہی لوگوں کی حد تک محدود نہیں رہتے جو بالفعل ان برائیوں میں ملوث ہوتے ہیں بلکہ ان خرابیوں پر راضی یا خاموش رہنے والے بھی ان کی زد میں آجاتے ہیں اگرچہ وہ عملاً ان میں مبتلا نہ ہوں۔
اس حقیقت کو نبی ﷺ نے ایک کشتی کے مسافروں کی تمثیل سے سمجھایا ہے کہ اگر کچھ لوگ ایک کشتی میں سفر کریں، کچھ اس کے اوپر کے حصے میں، کچھ نیچے والے حصے میں، نیچے والے یہ محسو کر کے کہ انہیں پانی کے لیے اوپر جانے کی زحمت اٹھانی پڑتی ہے، یہ فیصلہ کریں کہ ہم کیوں نہ کشتی کے نیچے کے حصے میں سوراخ کرلیں اور اوپر والے یہ خیال کر کے کہ وہ اپنے حصے میں سوراخ کر رہے ہیں، ہمیں اس سے کیا سروکار، اس پر خاموش رہیں تو نیچے والوں کے اس فعل کے نتیجہ میں جشتی ڈوبے گی تو اوپر والوں اور نیچے والوں دونوں کو لے کر ڈوبے گی۔
اس بنیاد پر اسلام نے ہر شخص پر دوسروں کو برائی سے روکتے رہنے کی ذمہ داری ڈالی ہے۔ پیغمبر ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم میں سے جو شخص بھی کوئی برائی دیکھے، اگر ہاتھ سے اس کو روک سکتا ہو تو ہاتھ سے روکے، اگر ہاتھ سے نہ روک سکتا ہو تو زبان سے روکنے کی کوشش کرے، اگر اس کی بھی استعطاعت نہ رکھتا ہو تو دل سے اس کو برا سمجھے۔ اس سے نیچے ایمان کا کوئی وجہ نہیں ہے۔ یہ آیت جس سیاق میں آئی ہے اگر اس سیاق پر نظر دالیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک گروہ تو ان لوگوں کا ہے جو حق کو ماننے کا زبان سے تو مدعی ہے لیکن اس کے مطالبات پورے کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ اس کو قرآن نے اس بات سے ڈرایا ہے کہ ایسے لوگ اگر اپنے رویے کی اصلاح نہیں کرتے تو خدا کا قانون ان کے اور ان کے دلوں کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو حق کو مانتے ہیں لیکن اس حق سے انہیں اتنا لگاؤ نہیں ہوگا کہ وہ اس کی خاطر دوسروں کی ناراضگی مول لینے کے لیے تیار ہوں، ان لوگوں کو اس بات سے ڈرایا کہ اگر معاشرے میں کوئی برائی پھیل گئی تو اس کے نتائج بد سے یہ لوگ بھی حفوظ نہ رہ سکیں گے۔ محفوط صرف وہ لوگ رہیں گے جو اپنی صلاحیت کی حد تک اپنا حق نصیحت ادا کرتے رہیں گے۔ قطع نظر اس سے کہ کوئی ان کی بات سنتا ہے یا نہیں اور خوش ہوتا ہے یا نا خوش rnۚوَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔ یہ پاداش عمل کے قانون کے بےلچک اور بےرو رعایت ہونے کی تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کے قوانین جس طرح جسمانیات و مادیات میں بےلچک ہیں اسی طرح اخلاقیات میں بھی بےلچک ہیں۔ فاسد آب و ہوا میں سانس لینے والا جس طرح آب و ہوا کے فساد سے لازماً متاثر ہوتا ہے اگر وہ ضروری احتیاطیں نہ کری۔ اسی طرح برے ماحول میں زندگی گزارنے والا اس کے برے عواقب کی زد میں آجاتا ہے۔ اگر وہ شرطیں وہ ملحوط نہ رکھے جو اوپر مذکور ہوئیں۔ اس معاملے میں قانون الٰہی کسی کی رعایت اور کسی کی جانبدار نہیں کرتا۔
Ayah 8:26وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔
ابتدائے اسلام میں مسلمانوں پر اللہ کے انعامات : اطاعت اللہ اور اطاعت رسول کے جس مطالبہ سے یہ کلام چلا ہے اس کو مؤکد کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ اپنے انعامات گنائے ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ اللہ و رسول نے جس راہ کی تمہیں دعوت دی ہے اب تک تم نے دیکھا کہ اس راہ میں ہر قدم پر اس نے تمہیں سہارا دیا ہے۔ تم تھوڑے تھے۔ کمزور اور دبے ہوئے تھے۔ ڈرتے تھے کہ قریش تمہیں اچک نہ لیں تو خدا نے تمہیں مدینہ میں پناہ دی، بدر میں اپنی خاص نصرت تمہیں نوازا، تمہارے لیے پاکیزہ معاش و معیشت کی راہیں کھولیں، یہ سب باتیں مقتضی ہیں کہ تم خدا کے شکر گزار اور اس کے دین کے کارگزار بندے بنو۔ اس اندیشے میں مبتلا نہ ہو کہ اس راہ پر چل کر تم کسی خطرے میں پھنس جاؤ گے۔ جس نے اب تکت مہارے ساتھ اتنا اچھا معاملہ کیا ہے، یہ گمان نہ کرو کہ وہ آئندہ تمہارے ساتھ کوئی برا معاملہ کرے گا۔
Ayah 8:27يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِكُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔
یہ آیت ٹھیک ٹھیک آیت 24 کے مقابل میں ہے۔ اس میں جس بات کا مطالبہ کیا گیا ہے اس کے ضد سے اس میں روکا گیا ہے اور لعلکم تشکرون میں جس شکر گزاری کا حق یاد دلایا گیا ہے۔ اس کے منافی رویہ سے اس میں باز رہنے کی تاکید ہے۔ ہم دوسرے مقام میں یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ شکر کی اصلی حقیقت خدا کا حق پہچاننا، اس کا اعتراف کرنا اور خلوص کے ساتھ اس کو ادا کرنا ہے۔ اس کا بدیہی تقاضا یہ ہے کہ آدمی اللہ ور سول سے سمعنا واطعنا کا اقرار کر کے بےوفائی اور غداری نہ کرے بلکہ ہر حال میں اس عہد کو ورا کرے۔ ہر عہد ایک امانت ہوتا ہے اس وجہ سے اس کی خلاف ورزی خفیہ ہو یا علانیہ، خیانت ہے۔
وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِكُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔ یہ اسی طرح کا اسلوب بیان ہے جو بقرہ 42 ولا تلبسوا الحق بالباطل وتکتموا الحق وانتم تعلمون، میں گزر چکا ہے، وہاں ہم بیان کرچکے ہیں کہ لائے نفی کا اعادہ نہ کرنا اس بات کا قرینہ ہے کہ حق اور باطل کو گڈ مڈ کرنا اخفائے حق کو مستلزم ہے، اسی طرح یہاں ہرچند یہ جملہ لا تخونوا اللہ والرسول کے تحت ہی ہے لیکن صرف نہی کا اعادہ نہیں فرمایا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ و رسول سے خیانت ہی ہے جو لوگوں کے لیے اپنی امانتوں اور ذمہ داریوں میں خیانت کے لیے راہ کھولتی ہے۔ لفظ امانت، پر ہم نساء آیت 58 کے تحت تفصیل سے بحث کر آئے ہیں کہ قرآن میں یہ لفظ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ تمام حقوق اور ذمہ داریاں خواہ وہ کسی عہد و اقرار کے تحت عائد ہوئی ہوں یا حق اور ذمہ داری کے معروف فطری قانون کے تحت سمجھی اور مانی جاتی ہوں یا وہ صلاحیتیں اور نعمتیں ہوں جو انسان کو ودیعت ہوئی سب اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہیں فرمایا کہ جانتے بوجھتے ان امانتوں میں کوئی خیانت نہ کرو۔ وانتم تعلمون کا ٹکڑا یہاں جس سیاق میں ہے اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ لوگ، جن کی طرف اشارہ ہے جانتے بوجھتے یہ حرکت کر رہے تھے اور مقصود اس ٹکڑے کے لانے سے ان کی مذمت ہے لیکن بجائے خود یہ امر بھی ایک حقیقت ہے کہ شریعت میں کوئی فعلی جرم اسی وقت بنتا ہے جب اس کا ارتکاب علم و ارادے کے ساتھ کیا جائے
Ayah 8:28وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ۔ یہ اصل بیماری کا پتہ دیا ہے کہ جو لوگ خد اور رسول کی محبت و اطاعت میں کمزور ہیں وہ درحقیقت مال و اولاد کی محبت میں گرفتار ہیں۔ مال و اولاد کی محبت جب اس درجہ غالب آجائے کہ آدمی ان کے پیچھے خود اس کے حقوق و فرائض سے جی چرانے لگے جس کے فضل سے مال و اولاد ملے ہیں تو پھر مال و اولاد فتنہ بن جاتے ہیں۔ خدا اور رسول سے بےوفائی ہو یا دوسروں کے حقوق میں خیانت، اگر اس کے اسباب کا سراغ لگایا جائے تو اس کی تہ میں انہی دو چیزوں کی حد سے بڑھی ہوئی محبت نکلے گی۔ اس اعتبار سے یہ نفاق کا سب سے بڑا دروازہ ہیں اور اسی پہلو سے ان کو فتنہ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس فتنہ سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اس اجر عظیم کو یاد رکھے جو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے محفوط کیا ہے جو مال یا اولاد کی محبت میں خدا اور رسول سے بےوفائی نہیں کرتے بلکہ جب ان کے سامنے کوئی ایسی آزمائش آتی ہے جس میں ایک طرف خد اور رسول کی خوشنودی ہو، دوسری طرف مال و اولاد کی محبت تو وہ ہمیشہ خدا اور رسول کی طرف جھکتے ہیں۔ فرمایا کہ وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ ایسے باوفاؤں کے لیے اللہ کے ہاں بڑا اجر ہے۔
Ayah 8:29آیات 29 تا 40 کا مضمون : آگے پہلے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی فرمائی کہ اگر تم اللہ کے عہد و پیمان پر مضبوطی سے قائم رہے۔ مال و اولاد کی محبت میں پھنس کر تم نے کمزوری نہ دکھائی تو جلد وہ وقت آجائے گا کہ وہ تمہارے لیے فرقان نمایاں کرے گا اور وہ سارے حجابات چاک ہوجائیں گے جو آج حق کے پوری طرح نمایاں ہونے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد اپنی اس بہترین تدبیر کی طرف اشارہ فرمایا جو اس نے اپنے رسول کو کفار کی متفقہ سازش سے بچانے اور اس کے لیے ہجرت کی راہ کھولنے کے لیے اختیار فرمائی۔ یہ ہجرت غلبہ اسلام کا دیباچہ اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کی تمہید ہوئی۔ اب تک کفار قرآن کے انذار کا مذاق اڑا رہے تھے، وہ کہتے تھے اگر یہ دعوت حق ہے تو اللہ ہم پر کوئی عذاب کیوں نہیں بھیج دیتا ؟ لیکن اللہ نے ان پر عذاب نہیں بھیجا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی قوم پر فیصلہ کن عذاب نہیں بھیجتا جب تک پیغمبر ان کے اندر موجود رہتا ہے لیکن اب جب کہ پیغمبر اور مومنین ہجرت کرچکے ہیں عذاب کے آنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی ہے۔
پھر کفار کے مستحق عذاب ہونے کے وجوہ بیان ہوئے ہیں۔ بیت اللہ کی تولیت اور دینداری کے بعض رسوم کے غرّے میں وہ جو یہ گمان کیے بیٹھے تھے کہ وہ خدا کے دین کو تھامے ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ ان کا یہ غرّہ اب ختم ہوجانے کا وقت آگیا ہے۔ اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین سے روکنے اور اس دین کو شکست دینے کے لیے وہ جو زر پاشیاں کر رہے ہیں یہ ان کے لیے عنقریب سرمایہ حسرت بنیں گی وہ دنیا میں شکست کھائیں گے اور آخرت میں اللہ ان سب کو اکٹھا کر کے جہنم میں جھونک دے گا۔
آخر میں قریش کو دھمکی ہے کہ بہتر ہے کہ وہ اپنی روش بدلیں اور اس دعوت کو قبول کرلیں۔ ورنہ یاد رکھیں کہ ان کے سامنے بھی وہی انجام آنے والا ہے جو رسولوں کی تکذیب کرنے والی پچھلی قوموں کے سامنے آچکا ہے۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو یہ ہدایت ہے کہ ان سے جنگ جاری رکھو تاآنکہ فتنہ کا قلع قمع ہوجائے اور اس سرزمین پر اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین باقی نہ رہے۔ اللہ تمہارا یاور و ناصر ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۔
فرقان کا مفہوم : فرقان ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو حق و باطل کے درمیان امتیاز کردے۔ یہ امتیاز پیدا کرنے والی شے داخلی بھی ہوسکتی ہے، خارجی بھی، علمی اور عقلی بھی ہوسکتی ہے، عملی اور واقعاتی بھی۔ قرآن نے دلائل وبراہین کو فرقان کہا ہے جیسا کہ بقرہ آیت 185 میں ہے، اس لیے کہ ان سے حق و باطل میں امتیاز ہوتا ہے۔ خود قرآن نبل کہ اصل تورات کے لیے بھی ایک سے زیادہ مقامات میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اس لیے کہ اللہ نے یہ کتابیں حق و باطل کے درمیان امتیاز کے لیے اتاریں۔ اسی طرح اس سورة کی آیت 410 میں غزوہ بدر کو فرقان سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس لیے کہ اس جنگ نے واقعات کی دنیا میں یہ دکھا دیا کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر۔
مسلمانوں سے غلبہ کا وعدہ : اس آیت میں مسلمانوں سے یہ وعدہ کیا جا رہا ہے کہ اگر تم تقوی پر مضبوطی سے جمے رہے، یعنی اللہ و رسول کے ساتھ بدعہدی و بےوفائی کے مرتکب نہ ہوئے تو اللہ جلد وہ وقت لائے گا کہ مطلع پر جو غبار نظر آ رہا ہے یہ سب چھٹ جائے گا اور حق اس طرح غالب ہو کر چمکے گا کہ دشمنوں کی نگاہیں خیر ہو کر رہ جائیں گی۔ قرینہ بتا رہا ہے کہ یہاں یہ لفظ اسلام اور مسلمانوں کے کامل غلبہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اگرچہ ایک فرقان کا ظہور معرکہ بدر میں بھی ہوچکا تھا جس کو مسلمان دیکھ چکے تھے تاہم ابھی باطل دہنے بائیں ہر طرف سے مسلمانوں کو گھیرے ہوئے تھا اس وجہ سے ایک گروہ تذبذب کی حالت میں مبتلا تھا اور یہی تذبذب اس کو ان کمزوریوں میں مبتلا کردیتا تھا جو اوپر زیر بحث آئی ہیں۔ اس طرح کے مذبذب لوگوں کو حق پر جمانے کے لیے فرمایا کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب باطل کی یہ ساری گھٹائیں چھٹ جائیں گی اور آفتاب حق اپنی پوری تابانی سے تمہارے سامنے آجائے گا۔ بس یہ شرط ہے کہ تم اللہ و رسول کی اطاعت اور تقوی پر جمے رہو۔
وَّيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ۔ یہاں سیات سے مراد وہ چھوٹی موٹی غلطیاں اور کو تاہیاں ہیں جو بشر کی بشریت کا لازمہ ہیں۔ فرمایا کہ اگر بڑے جرموں سے تم بچتے رہے تو اللہ تعالیٰ فروگزاشتوں اور کوتاہیوں پر تمہیں نہیں پکڑے گا، وہ بڑے فضل والا ہے۔ کبائر سے بچنے والوں کے صغائر معاف ہوجاتے ہیں۔
Ayah 8:30وَاِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ ۭوَيَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللّٰهُ ۭوَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ۔
اثبات کا اصل لغوی مفہوم پابند کردینا، روک دینا ہے، جس میں قید کردینا بھی شامل ہے۔
قریش کی سازشوں کی طرف اشارہ : یہ دار الندوہ کی اس سازش کی طرف اشارہ ہے جو قریش کے لیڈروں نے آپ کی دعوت حق کو یک قلم ختم کردینے کے لیے کی۔ اس کے لیے مختلف لیڈروں کی طرف سے مختلف تجویزیں پیش ہوئی۔ تاریخ و سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ غور و بحث کے بعد قتل کی تجویز پر اتفاق ہوا اور قتل کی یہ تدبیر سوچی گئی کہ قریش کے تمام بڑے خاندان اس میں شریک ہوں تاکہ آنحضرت ﷺ کے خاندان کے لوگ قصاص کا مطالبہ کرنے کی ہمت نہ کرسکیں۔
خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ کا مفہوم : ۭوَيَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللّٰهُ ۭوَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ ، لفظ مکر پر آل عمران آیت 54 کے تحت بحث گزر چکی ہے۔ وہاں ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اللہ جل شانہ کی طرف جب اس کی نسبت ہوتی ہے تو اس کا مفہوم کیا ہوتا ہے۔ خیر المکرین میں ایک پہلو تو یہ ہے کہ خدا کی تدبیر دوسروں کی سازشوں پر ہمیشہ غالب رہتی ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ ظاہراً اس تدبیر کو دشمن اپنی ہی فتح مندی کیوں نہ تصور کرلے لیکن بالآخر وہ حق کی فتح مندی کے نہایت وسیع دروازے کھول دیتی ہے۔ اس کی بہترین مثال خود یہ واقعہ ہجرت ہے۔ قریش نے آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے بعد اطمینان کا سانس لیا کہ چلو پہلو کا کانٹا نکل گیا لیکن جلد ہی حالات نے ثابت کردیا کہ کانٹا نہیں نکلا بلکہ ان کے جسد قومی کی روح نکل گئی۔ اس کے بعد اسلام کو نشوونما کے لیے آزاد فضا مل گئی اور قریش مکہ میں، جیسا کہ تفصیل آگے آرہی ہے، اپنی قضائے مبرم کے انتظار کے لیے رہ گئے۔
وعدہ فرقان کی تاکید مزید : یہاں اس واقعہ کو یاد دلانے سے مقصود اسی وعدہ فرقان کو مؤکد کرنا ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ دیکھنا چاہو کہ خدا انی تدبیر و کارسازی سے کس طرح ناموافق حالات کو موافق اور مخالف ہواؤں کو ساز گار بنا دیتا ہے تو اس کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہارے پیغمبر کی زندگی خود اس کی سب سے بڑی شہادت ہے۔ ایک وقت تھا جب اسلام کی قسمت صرف پیغمبر کے وجود اقدس اور چند بےیارو مددگار نفوس کے ساتھ وابستہ تھی۔ قریش نے فیصلہ کیا کہ پیغمبر کو قتل کردیں کہ سارا قصہ ہی تمام ہوجائے۔ اس کے لیے سب نے متفق ہو کر سازش کی لیکن اللہ نے ایسی تدبیر فرمائی کہ پیغمبر اپنے خونی دشمنوں کی آنکھوں میں خاک جھونک کر نکل آئے اور کوئی ان کا بال بیکا نہ کرسکا۔ پھر صرف یہی نہیں ہوا کہ پیغمبر نکل آئے بلکہ واقعات نے ثابت کردیا کہ سورج گہن سے نکل آیا۔ قریش سمجھے کہ جب پیغمبر اپنی قوم سے جلا وطن ہو کر کسی غیر قوم میں چلے جائیں گے تو ان کی دعوت ایک اجنبی ماحول میں خود بخود مر جائے گی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی کارسازی سے دکھا دیا کہ اسلام کے پودے کی نشوونما کے لیے سب سے زیادہ زرخیز اور مہر پرور سرزمین یثرب ہی کی سرزمین تھی جس کی طرف کفار نے خود اسلام کو دھکیل کر بھیجا۔ خدا اپنی اسکیمیں اسی طرح بروئے کار لاتا ہے۔ دشمن سمجھتا ہے کہ بازی اس نے جیتی، لیکن حقیقت میں داؤں خدا کا کامیاب ہوتا ہے۔ وہ حق کے دشمنوں ہی کے ہاتھوں جب چاہتا ہے وہ کام کرا دیتا ہے جس میں حق کی فتح مندی اور خود دشمن کی موت مضمر ہوتی ہے تو موجودہ نامساعد حالات سے ہراساں نہ ہو۔ خیر الماکرین خدا پر بھروسہ رکھو۔ انہی تاریکیوں کے پردے سے بہت نیز و فرقان برآمد ہونے والا ہے۔
خطاب کی ایک بلاغت : اس آیت کا خطاب، جیسا کہ واذ یمکر بک سے واضح ہے اگرچہ آنحضرت ﷺ ہے لیکن اپنے موقع و محل اور اپنے مدعا کے اعتبار سے دو پہلو رکھتی ہے۔ ایک پہلو سے یہ اوپر کے مضمون سے جڑتی ہے، دوسرے پہلو سے آگے آنے والے مضمون کی تمہید ہے جس میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ اب تک قریش جو عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے اور ہم طرح دیے جا رہے تھے تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ہم بےبس تھے بلکہ یہ تھی کہ تم ان کے اندر موجود تھے لیکن اب جب کہ تم ان کے اندر سے نکل گئے تو اب کون سی چیز ہے جو ان کو ہمارے تازیانہ عذاب سے بچا سکتی ہے ؟ اب تو امان کی سپر سے انہوں نے خود اپنے کو محروم کرلیا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ پسند فرمایا کہ اس نازک موقع پر وہ اپنے پیغمبر پر یہ واضح فرما دے کہ اس کا مرتبہ و مقام اللہ کی نظروں میں کیا ہے، اس وجہ سے تقاضائے بلاغت یہ ہوا کہ یہاں اس کو براہ راست مخاطب کر کے یہ بات کہہ دی جائے کہ غم نہ کرو کہ انہوں نے تم کو نکال دیا ہے، یہ تو تمہارے ہی صدقے میں جی رہے تھے۔ اب یہ دیکھ لیں گے کہ ہم ان کی کیسی مرت کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اس سے اس فرقان کے ظہور کی بشارت بھی امت کو دے دی گئی جس کی طرف اوپر اشارہ ہوا۔
Ayahs 8:31–32وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ ۙ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ۔ وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ،
یہ مضمون انعام آیت 92 میں بھی گزر چکا ہے، یہاں یہ آیتیں یہ واضح کرنے کے لیے آئی ہیں کہ قریش کی طرف سے برابر خدا کو کس طرح کے چیلنج پر چیلنج دیے جا رہے تھے اور پیغمبر کو زچ کرنے کے لیے کیا کیا شیخیاں بگھاری جا رہی تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے چیلنج کے جواب میں ان پر عذاب نہیں بھیجا جس سے ان کی جسارت بڑھتی گئی اور وہ اپنے باطل کو حق باور کرانے کے لیے اور بھی زیادہ دلیر ہوگئے۔ وہ اپنی رعونت کے باعث یہ نہ سمجھ سکے کہ ان اس پیہم مطالبہ کے باوجود کہ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ ، ہم نے اب تک ان کو کیوں ڈھیل دی، آج وہ سوال کا واضح جواب سن لیں
Ayah 8:33وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ۭ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ۔ یہ جواب ہے اس سوال کا جو اوپر مذکور ہوا اور چونکہ مقصود اس موقع پر خاص طور پر پیغمبر کی دل نوازی ہے اس وجہ سے خطاب پیغمبر سے ہوا۔ فرمایا کہ اللہ اس بات کا روادار نہیں ہوسکتا تھا کہ ان پر عذاب نازل فرمائے در آنحالیکہ تم ان کے اندر موجود ہو۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ نے کسی نبی کی قوم پر عذاب بھیجنے کے معاملے میں مقرر فرمائی ہے۔ وہ سنت یہ ہے کہ نبی جب تک اپنی قوم کے اندر موجود رہتا ہے وہ قوم کے اندر بمنزلہ دل کے ہوتا ہے۔ وہ قوم کے لیے اپنے رب سے مغفرت بھی مانگتا رہتا ہے اور قوم کو استغفار کی دعوت بھی دیتا رہتا ہے۔ قوم کے اندر اس کا وجود اس بات کا شاہد ہے کہ ابھی قوم میں زندگی کی رمق باقی ہے۔ اس کی دعوت سے ان لوگوں کو زندگی ملتی ہے جن کے اندر حیات ایمانی قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے اور ان کا استغفار بھی قوم کے لیے سپر بن جاتا ہے۔ قوم کے اشرار، خواہ کتنی ہی شرارتیں اور خدا اور رسول کو کتنا ہی چیلنج کریں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان سے درگزر فرماتا ہے اور اگر ان کو کسی آفت میں مبتلا کرتا ہے تو اس کی نوعیت ایک تنبیہ کی ہوتی ہے نہ کہ فیصلہ کن عذاب کی۔ لیکن جب قو اپنی سرکشی میں اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ نبی کے قتل کے منصوبے بنانے لگتی ہے اور اپنے اندر کے صالحین پر زندگی دشوار کردیتی ہے تو اللہ تعالیٰ نبی اور اس کے ساتھیوں کو ہجرت کا حکم دے دیتا ہے جس کے بعد قوم اس امان سے محروم ہوجاتی ہے جو نبی اور صالحین کی برکت سے اسے حاصل رہی ہوتی ہے۔ پھر دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت لازماً پیش آ کے رہتی ہے۔ اگر نبی کے اوپر ایمان لانے والے صرف گنتی کے چند نفوس ہی ہوتے ہیں تو اس کی اور اس کے ساتھیوں کی ہجرت کے بعد قوم پر عذاب الٰہی آجاتا ہے جو خدا کی زین کو اس کے ناپاک وجود سے پاک کردیتا ہے اس لیے کہ باطل محض کی پرورش اس کائنات کی فطرت اور فاطر کائنات کی حکمت کے خلاف ہے اور اگر نبی پر ایمان لانے والوں کی تعداد بھی معتد بہ ہوتی ہے، جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے معاملے میں ہوا تو اہل حق اور اہل باطل میں کشمکش شروع ہوتی ہے اور باطل حق سے ٹکرا ٹکرا کر بالآخر ایک دن پاش پاش ہو کر نابود ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرقان حق کو پوری طرح نمایاں کردیتا ہے۔ جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا۔ وماکان اللہ معذبھم وھم یستغفرون، یعنی ہرچند نبی کی ہجرت کے بعد اب ان سے امان اٹھ چکی ہے، اب کوئی چیز ان کو عذاب سے بچانے والی نہیں رہ گئی ہے لیکن وہ استغفار کرنے والے بنیں تو خدا انہیں عذاب سے بچائے رکھے گا۔ گویا اوپر والے ٹکڑے میں جو شدید قسم کی تہدید ہے اس ٹکڑے نے اس کو ذرا نرم کردیا ہے کہ اب بھی ان کے لیے موقع ہے کہ چاہیں تو اپنی روش بدلیں، خدا سے معافی مانگیں اور اپنے آپ اس کی پکڑ سے بچا لیں۔ یوں سمجھیے کہ تہدید کے بعد یہ قریش کو دعوت استغفار ہے۔ آگے یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے۔ قل للذین کفروا ان ینتھو یغفر لہم ما قد سلف، (ان کفر کرنے والوں سے کہہ دو کہ اگر وہ بار آگئے تو جو کچھ ہوچکا ہے اس کو معاف کردیا جائے گا)۔
Ayah 8:34وَمَا لَهُمْ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ۔ اردو میں اس اسلوب کا مدعا یہ ہوگا کہ آخر ان کو ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ خدا ان کو عذاب نہیں دے گا، یہ قریش کے اس غرور باطل پر ضرب لگائی گئی ہے جو خانہ کعبہ کی تولیت اور اس سے متعلق بعض رسوم و خدمات کی ادائیگی کی بنا پر ان کو تھا۔ قوموں کی یہ عجیب مشترک بد قسمتی رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے دین کو تو ہمیشہ اپنی خواہشات و بدعات کے سانچہ میں ڈھال کر مسخ کیا لیکن انہی مسخ شدہ رسوم کی پرستش کو اتنی اہمیت دی کہ اپنے آپ کو دین کی محسن، خدا کی چہیتی اور محبوب بنا بیٹھیں اور یہ گمان کیا کہ جب ان کے ہاتھوں خدمت دین کے یہ کارنامے انجام پا رہے ہیں تو خدا ان پر کس طرح ہاتھ ڈال سکتا ہے۔ اسی فتنہ میں یہود مبتلا ہوئے، اسی میں نصاری ہلاک ہوئے، یہی گمراہی قریش کو پیش آئی اور بڑے غم سے کہنا پڑتا ہے کہ اسی فتنہ میں شیطان نے اس امت کو بھی ڈال دیا۔ قریش کو یہ زعم تھا کہ وہ خانہ کعبہ کے متولی، رفادہ اور سقایا کی خدمتیں انجام دینے والے اور حضرت ابراہیم کی اولاد ہیں۔ اتنے سارے نسبی و حسبی امتیازات کے بعد خدا کے ہاں مقرب و محترم ہونے کے اور کیا چاہیے۔ اس غرور کے سبب سے پیغمبر کی طرف سے عذاب کے ڈراوے ان پر بڑے شاق گزرتے۔ وہ اپنے آپ کو خانہ کعبہ کا پاسبان سمجھے بیٹھے تھے اور ساتھ ہی یہ زعم بھی ان کو تھا کہ خانہ کعبہ بھی ان کا پاسبان ہے۔
وَهُمْ يَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، فرمایا کہ مسجد حرام کی تولیت کا یہ زعم باطل ان کو کس طرح عذاب سے بچا سکتا ہے۔ جب کہ ان کا کارنامہ یہ ہے کہ یہ اللہ کے ان بندوں کو اس گھر سے روکتے ہیں جو اس کے سب سے زیادہ حق دار ہیں، جو اصل دین ابراہیمی کے حامل ہیں اور جو اس گھر کو توحید کی اذان اور خدائے واحد کی عبادت سے از سرِ نو معمور کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اشارہ مسلمانوں کی طرف ہے جو صرف اس گھر ہی سے نہیں بلکہ اس شہر سے بھی نکالے جا رہے تھے جس میں یہ گھر واقع تھا۔
وَمَا كَانُوْٓا اَوْلِيَاۗءَهٗ ۭاِنْ اَوْلِيَاۗؤُهٗٓ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ یہ ان کے دعوائے تولیت کی نفی کردی کہ یہ اس گھر کے متولی کہاں سے ہوئے ؟ اس کے متولی تو صرف اللہ کے متقوی بندے ہی ہوسکتے ہیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ یہ خائن، غدار اور اس گھر کے مقصد تعمیر اور اس کی حرمت کے برباد کرنے والے ہیں اس وجہ سے نہ انہیں اس پر مسلط رہنے کا کوئی حق ہے، نہ ان کے نام پر انہیں خدا سے کسی رعایت کی امید کرنی چاہیے۔ یہ اس گھر کی تولیت کے اصلی حقدار ہمارے وہ متقی بندے ہیں جو ان ظالموں کے ہاتھوں اس سے روک دیے گئے ہیں۔
اس مقام پر وہ بات یاد رکھنی چاہیے جو بقرہ 124 میں گزر چکی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو ایک عظیم امت کی امامت کے منصب پر سرفراز کرنے کا وعدہ فرمایا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ کیا یہ منصب میری ذریت کو بھی حاصل رہے گا جواب میں ارشاد ہوا کہ لا ینال عہدی الظالمین۔ میرا یہ عہد تمہاری ذریت کے صالحین کے لیے ہے، ظالمین، اس میں شامل نہیں ہے۔ حجرت ابراہیم کی اس امامت کا مرکز (مثابہ) بیت اللہ قرار پایا اس وجہ سے آپ کی اس دعا اور اللہ تعالیٰ کی تصریح کے بموجب اس گھر کی تعمیر ہی کے وقت یہ فیصلہ ہوگیا تھا کہ اس کی تولیت اور ذریت ابراہیم کی قیادت و امامت کے اصلی وارث صرف وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی توحید پر قائم رہنے والے، اس کے حدود وقیود کی پابندی کرنے والے اور اس کے عہد و میثاق کا احترام کرنے والے ہوں گے نہ کہ وہ جنہوں نے ملت ابراہیم اور بیت اللہ الحرام سب کی آبرو مٹا کر رکھ دی ہے۔ یہاں سیدنا مسیح کے وہ الفاظ بھی یاد رکھیے جو اسی طرح کے موقع پر آنجناب نے بیت المقدس کی تولیت کے مدعی فقیہوں اور پروہتوں کو مخاطب کر کے فرمائے تھے کہ تم نے میرے باپ کے گھر کو چوروں کا بھٹ بنا ڈالا ہے۔
وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ میں اس عام جہالت و بیخبر ی کی طرف اشارہ ہے جس میں اہل عرب اس وقت مبتلا تھے۔ ایک طویل مدت تک جاہلیت کی تاریکی میں زندگی گزارنے کی وجہ سے وہ اپنی اصل تاریخ بالکل بھلا بیٹھے تھے۔ انہیں قومی تفاخر کے طور پر اتنی بات تو یاد رہی کہ وہ حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل کی اولاد ہیں لیکن اس سے آگے انہیں کچھ خبر نہیں تھی کہ حضرت ابراہیم اس سرزمین پر کیوں تشریف لائے، ان کی دعوت کیا تھی، وہ جس ملت کے داعی ہوئے اس کی امتیازی خصوصیات کیا ہیں۔ حضرت اسماعیل کو انہوں نے یہاں کیوں بسایا، خانہ کعبہ کی تعمیر کس مقصد کے لیے ہوئی اور اس گھر کے تعلق سے ذریت اسماعیل کو اللہ کے دین کی کیا کیا امانتیں اور کیا ذمہ داریاں سپرد ہوئیں۔ چند معاشرتی رسوم اور حج کے کچھ مناسک جو حضرت ابراہیم کے وقت سے چلے آ رہے تھے ان میں بھی اتنی تبدیلیاں ہوگئی تھیں کہ اصلی اور ملاوٹ میں امتیاز مشکل ہوگیا تھا۔ خانہ کعبہ کو انہوں نے اپنا قومی معبد بنا لیا تھا جس کی کلید برداری اور اس کے مختل شعبوں کی سربراہی وراثت کے طور پر مختلف خاندانوں میں منتقل ہوتی رہتی۔ جن پر آبائی جاگیر کی طرح ان کو فخر بھی ہوتا اور اسی حیثیت سے وہ ان پر متصرف بھی ہوتے۔ قرآن نے ان کی اسی جہالت کی طرف یہاں اشارہ کیا ہے کہ یہ خانہ کعبہ کی تولیت کے مدعی تو ہیں لیکن انہیں کچھ خبر نہیں کہ یہ خانہ کعبہ ہے کیا چیز اور اس کی تولیت کے شرائط کیا ہیں ؟