Ayah 8:48وَاِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّىْ جَارٌ لَّكُمْ ۚ فَلَمَّا تَرَاۗءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰي عَقِبَيْهِ وَقَالَ اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّنْكُمْ اِنِّىْٓ اَرٰي مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّىْٓ اَخَافُ اللّٰهَ ۭوَاللّٰهُ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔
یعنی قریش کے اس بطر و ریا کے مظاہرے میں تعداد اور وسائل کی کثرت کو تو دخل تھا ہی، شیطان نے بھی جس کو اللہ کی راہ مانرے کے کام ہی کے لیے مہلت ملی ہوئی ہے، ان کو پٹی پڑھائی کہ شاباش، آگے بڑھو، بھلا آج کس میں دم ہے کہ تمہارا مقابلہ کرسکے، میں تمہارا ساتھی اور مددگار ہوں لیکن وہ اس وقت تک تو ان کی پیٹھ ٹھونکتا رہا جب تک دونوں فوجیں آمنے سامنے نہیں ہوئیں لیکن جب فوجیں آمنے سامنے ہوئیں تو وہ دم دبا کر پیچھے کھسک گیا کہ میں تم سے بری، میں کچھ اور دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ہو مجھے اللہ سے ڈر لگتا ہے۔
جنگ بدر میں یہود کی ریشہ دوانیاں۔ شیطان کے متعلق ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ یہ جنوں میں سے بھی ہوتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی یہاں ہمارا ذہن بار بار اس طرف جاتا ہے کہ اس سے اشارہ یہود کی طرف ہے۔ سیرت و مغازی کی کتابوں سے بھی اور قرآن کے اشارات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہود شروع ہی سے آنحضرت ﷺ کی دعوت سے خائف تھے۔ ابھی آپ مکہ ہی میں تھے کہ انہوں نے طرح طرح سے آپ کے خلاف قریش کو اکسانا شروع کردیا۔ مدینہ ہجرت فرمانے اور آپ کو انصار کی حمایت حاصل ہوجانے کے بعد تو خاص طور پر انہوں نے یہ محسوس کرنا شروع کردیا کہ ان کے سینہ پر پتھر کی ایک بھاری سل رکھ دی گئی ہے۔ مستقبل کے سیاسی اندیشوں کے علاوہ وہ خود اپنے صحیفوں کی پیشین گوئیوں کی بنا پر بھی ڈرتے تھے کہ مبادا یہ وہی پیغمبر ہوں جس کا ذکر ان کے ہاں پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ وہ اپنی قوم سے باہر کسی نبوت و رسالت کو تسلیم کرنے کے لیے کسی قیمت پر بھی تیار نہیں تھے۔ لیکن اپنی بزدلی کے سبب سے وہ آپ کے خلاف براہ راست کوئی اقدام کرنے کی جرات بھی نہیں کرسکتے تھے۔ البتہ در پردہ وہ قریش کے لیڈروں کو بھی برابر اکساتے رہے اور مدینہ میں اوس و خزرج کے اندر بھی ساز باز کرتے رہے۔ ایسے حالات میں یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ قریش نے قافلہ کی حفاظت کے بہانے جب مدینہ پر حملہ کی اسکیم بنائی تو اس میں یہود کا مشورہ بھی شامل رہا ہو اور انہوں نے قریش کو ورغلایا ہو کہ اول تو تمہاری بھاری جمعیت خود ہی مٹھی بھر مسلمانوں کو کچھ دینے کے لیے کافی ہے لیکن ضرورت ہوئی تو ہم بھی تمہاری مدد کو حاضر ہیں۔ اگرچہ یہود آنحضرت ﷺ کے ساتھ ایک معاہدے میں بھی شریک تھے لیکن آگے اسی سورة کی آیات 56۔ 57 کے تحت یہ بات واضح ہوجائے گی کہ انہوں نے اس کا کبھی پاس ولحاظ نہیں رکھا بلکہ برابر ریشہ دوانیوں میں مصروف رہے۔ البتہ اپنی روایتی بزدلی کے سبب سے انہوں نے سامنے آنے کی جرات کبھی نہیں کی۔ اس موقع پر بھی انہوں قریش کو بڑھاوے تو بہت دیے لیکن جب دونوں فریق ایک دوسرے کے مقابل میں آگئے اور انہوں نے مسلمانوں کے حوصلہ کو دیکھا تو دم سادھ کر بیٹھ رہے۔ اس موقع پر ان کے اندر سمایا ہوا وہ خوف بھی نمایاں ہوا ہوگا جو آنحضرت ﷺ کی رسالت سے متعلق وہ اپنے دلوں میں رکھتے تھے اور جن کی نسبت ان کے صحیفوں کے ذریعے سے ان کے کانوں میں یہ بات پڑی ہوئی تھی۔ کہ ان کے جلو میں ملائکہ اور کروبیوں کی فوجیں ہوں گی۔ وہ بات بھی یہاں یاد رکھیے جس کا ذکر ہم سورة بقرہ میں آئے ہیں کہ بدر کی لڑائی، اپنے نقشہ جنگ، اپنی تعداد اور مقصد کے اعتبار سے بنی اسرائیل کی اس جنگ سے مشابہ تھے جو سموئیل نبی کے عہد میں، طالوت کی زیر قیادت جالوت سے لڑی گئی تھی۔
منافقین کی فریب کاریاں : قرآن نے یہاں جو تمثیل یہود کی دی ہے بعینہ یہ تمثیل ان منافقین کے لیے بھی استعمال کی ہے جو یہود ہے کے اندر کے تھے بھی اور مسلمانوں کے اندر گھس کر یہود سے ساز باز بھی رکھتے تھے۔ یہ ان کو اطمینان دلاتے تھے کہ اگر مسلمانوں نے ان کے خلاف کوئی اقدام کیا تو وہ مسلمانوں کے بجائے ان کا ساتھ دیں گے لیکن قرآن نے واضح کیا کہ یہ ویسا ہی فری ہے جیسا شیطان ان لوگوں کو دیا کرتا ہے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ چونکہ ان دونوں تمثیلات میں بڑی مشابہت ہے اس وجہ سے ہم اس کو یہاں نقل کرتے ہیں تاکہ اس کی روشنی میں زیر بحث تمثیل اچھی طرح واضح ہوجائے۔ سورة حشر میں منافقین کے ایک گروہ کا، جو یہود میں سے تھا، یہ کردار بیان ہوا ہے۔ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نَافَقُوْا يَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَىِٕنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلَا نُطِيْعُ فِيْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا ۙ وَّاِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ لَىِٕنْ اُخْرِجُوْا لَا يَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ ۚ وَلَىِٕنْ قُوْتِلُوْا لَا يَنْصُرُوْنَهُمْ ۚ وَلَىِٕنْ نَّصَرُوْهُمْ لَيُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ ۣ ثُمَّ لَا يُنْصَرُوْنَ : کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو منافق ہیں، وہ اپنے ان بھائیوں سے جنہوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیا، کہتے ہیں کہ اگر تم نکالے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکلیں گے اور تمہارے بارے میں ہم کسی کی بھی کوئی بات نہیں مانیں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔ اللہ شاہد ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے جنگ ہوئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔ اور اگر مدد کریں گے تو منہ کی کھائیں گے۔ پھر ان کی مدد کہیں سے نہیں ہوگی۔
پھر ان منافقین کی تمثیل ان الفاظ میں دی ہے۔ كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّنْكَ اِنِّىْٓ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ۔ فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَآ اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيْنِ فِيْهَا ۭ وَذٰلِكَ جَزٰۗؤُا الظّٰلِمِيْنَ۔ ان منافقین کی مثال شیطان کی ہے جو انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر، پھر جب وہ کفر کر بیٹھتا ہے تو کہتا ہے کہ میں تجھے سے بری ہوں۔ میں اللہ، عالم کے خداوند سے ڈرتا ہوں۔ تو ان دونوں کا انجام یہ ہے کہ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی ظالموں کی سزا ہے۔
جس طرح یہاں یہودی منافقین کی تمثیل شیطان سے دی ہے اسی طرح زیر بحث آیت میں اگرچہ ذکر شیطان کا ہے لیکن اشارہ یہود کی طرف ہے۔ تمثیل کے بجائے اشارہ و کنایہ کی صورت اس لیے اختیار فرمائی کہ یہود کی یہ ساری کارستانیاں ابھی پردے میں تھیں اس وجہ سے قرآن نے یہ بھی چاہا کہ ابھی بات پردے ہی میں رہے لیکن اشاروں کنایوں میں نقاب کے بعض گوشے اٹھا بھی دیے کہ یہود بھی جان لیں کہ اللہ ان کے کارناموں سے بیخبر نہیں ہے اور مسلمان بھی متنبہ ہوجائیں کہ اس پردے میں کون چھپا ہوا ہے۔ یہاں خاص طور پر لا غالب لکم الیوم من الناس وانی جار لکم وانی ارا مالا ترون۔ اور بعض دوسرے فقروں پر غور فرمائیے تو اصل حققیت واضح ہوجائے گی۔
یہود کے باطن کی تعبیر۔ شیطان کے متعلق یہ بات جو بیان ہوئی ہے کہ وہ انسان کو کفر پر اکسا کر خود یہ کہہ کر کنارہ کش ہوجاتا ہے کہ میں تم سے بری ہوں، میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں، یہ اس کے رویہ اور اس کے باطن کی تعبیر ہے، یہ بات شیطان زبان سے کسی کفر کرنے والے سے نہیں کہتا۔ اسی طرح یہاں یہود کے متعلق جو یہ بات بیان ہوئی ہے کہ وقال انی بریء منکم انی اری مالا ترون انی اخاف اللہ، یہ ان کے رویے اور ان کے ذہن کی تعبیر ہے، یہ نہیں ہے کہ انہوں نے یہ بات قریش سے الفاظ میں کہی ہو۔ قرآن نے جگہ جگہ قال کا لفظ اس بات کے لیے بھی استعمال کیا ہے جو آدمی اپنے دل میں کہتا ہے۔ یہود اپنے جوش حسد سے اندھے ہو کر یہ تو دل سے چاہتے تھے کہ قریش محمد ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو ختم کردیں لیکن دل میں چونکہ یہ چور بھی تھا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں، ان سے ٹکرانا پہاڑ سے ٹکرانا اور اپنے آپ کو تباہ کرنا ہے اس وجہ سے خود سامنے آنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ چاہتے تھے کہ یہ خطرہ کوئی اور مول لے۔
یہاں یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ دوسروں کو کسی جرم پر آمادہ کردینا اور خود مجرموں کے ساتھ اس جرم کے لیے اس اندیشہ سے نہ نکلنا کہ کسی لپیٹ میں نہ آجائیں یہ شیطانی تقوی ہے۔ قرآن نے اوپر واضح فرما دیا کہ جو جرم کے لیے دوسروں کی پیٹھ ٹھونکتے ہیں لیکن خود اس میں اس خوف سے شریک نہیں ہوتے کہ خدا کی پکڑ میں نہ آجائیں ان کا یہ خوف ان کو خدا کے عذاب سے نہیں بچائے گا بلکہ جس طرح جرم کے اکھارے میں اترنے والے جہنم میں جھونک دیے جائیں گے اسی طرح اکھاڑے کے کنارے بیٹھ کر داؤں پیچ بتانے والے بھی جہنم میں جھونک دیے جائیں گے اگرچہ بزعم خود وہ خدا کے ڈر ہی سے اکھاڑے میں نہیں اترے۔ ان لوگوں کی مثال اس شخص کی ہے جو دوسروں کو تو چوری اور بدمعاشی کی تربیت دیتا ہے لیکن خود اپنے تربیت دیے ہوئے چوروں اور بدمعاشوں کے ساتھ چوری اور بدمعاشی کے لیے اس ڈر سے نہیں نکلتا کہ کہیں پولیس کی گرفت میں نہ آجائے۔ ظاہر ہے کہ قانون کے ایسے احترام کرنے والوں کو کوئی قانون نہیں بخشتا بلکہ جب یہ زد میں آجاتے ہیں تو یہ بھی اپنے مریدوں ہی کے انجام سے دوچار ہوتے ہیں بلکہ ان پر کچھ زیادہ مار پڑتی ہے۔ یہی بات قرآن نے فکان عاقبتہما انہما فی النار خالدین فیہا والی آیت میں فرمائی ہے جو سورة حشر کے حوالے سے ہم نے اوپر نقل کی ہے اس سے معلوم ہوا کہ یہود بھی مسلمانوں کے معاملے میں اسی شیطانی تقوی میں مبتلا تھے۔ وہ یہ تو دل سے چاہتے تھے کہ مسلمان تباہ کردیے جائیں، اس مقصد کے لیے وہ قریش کو چڑھا بھی لائے لیکن خود قریش کے ساتھ میدان جنگ میں اترنے کے لیے تیار نہ ہوئے اس لیے کہ اس خدائی فوج اور پولیس کا بھی ان کو ڈر لگا ہوا تھا جس کا اشارہ انی اری مالا ترون سے نکلتا ہے۔
Ayah 8:49اِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ ھٰٓؤُلَاۗءِ دِيْنُهُمْ سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ لفظ مرض جب نفاق کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد حسد ہوتا ہے۔ یہود کی ریشہ دوانیوں کے بعد اب یہ منافقین اور حاسدین کی حوصلہ شکنیوں کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے بھی اس موقع پر مسلمانوں کا حوصل پست کرنے کے لیے یہ کہنا شروع کیا کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے خبط میں مبتلا کردیا ہے۔ ہیں تو مٹھی بھر، مقابلہ کرنے اٹھے ہیں قریش کی دل با دل فوج سے یہ ہاتھی سے گنا کھانے چلے ہیں۔ مذہب کے خبط نے ان کو ہوش و خرد سے عاری کردیا ہے۔ اس قسم کے فقرے اور طعنے بالخصوص جب کہ اپنے اندر ہی کے لوگوں کی زبان سے نکلیں اور حالات بھی بےسرو سامانی اور قلت تعداد کے اعتبار سے وہ ہوں جو بدر کے موقع پر تھے تو ان کے اثرات بہت خطرناک ہوسکتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے زہر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھا۔ rnۭوَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔ مطلب یہ ہے کہ ان منافقین و حاسدین کے علی الرغم جو لوگ اللہ پر بھروسہ کر کے اٹھ کھڑے ہوئے انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ خدا غالب اور حکیم ہے۔ وہ اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں کا خود ساتھی بنتا ہے، اس کی قوت کو کوئی شکست نہیں دے سکتا، وہ ان کے لیے خود تدبیر فرماتا ہے اور اس کی تدبیر کے مقابل میں کسی کی تدبیر کار گر نہیں ہوتی۔
Ayah 8:50آیات 50 تا 58 کا مضمون : آگے یہ واضح فرمایا کہ یہ مار جو ان پر پڑی اسی پر بس نہیں ہے۔ اصل سزا جو انہیں ملنی ہے اس کا مرحلہ تو آگے آنے والا ہے۔ جب یہ موت سے دوچار ہوں گے۔ یہ مار تو محض بطور تنبیہ ہے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنی بخشی ہوئی نعمتوں سے محروم نہیں کرتا۔ جب تک وہ خود اپنی روش بگار نہ لے۔ جب کوئی قوم اپنی روش بگار لیتی ہے تو پہلے اللہ اس کو تنبیہ فرماتا ہے۔ جب وہ تنبیہ سے کوئی سبق نہیں لیتی بلکہ اپنی سرکشی میں بڑھتی جاتی ہے تو پھر اس پر خدا فیصلہ کن عذاب آجاتا ہے۔ قوم فرعون کے ساتھ اللہ نے جو معاملہ کیا وہ ان کے لیے مثال ہے، پہلے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختلف آزمائشوں میں پکڑا کہ وہ آنکھیں کھولیں لیکن جب انہوں نے آنکھیں نہیں کھولیں تو خدا نے ان کا بیڑا غرق کردیا۔
اس کے بعد یہ واضح فرمایا کہ خدا کے نزدیک سب سے زیادہ ناپاک وجود ان لوگوں کا ہے جو کفر پر اڑ گئے ہیں اور ایمان لانے والے نہیں ہیں جو تم سے معاہدہ کر کے بار بار اپنے معاہدہ کو توڑتے ہیں۔ اگر یہ کسی جنگ میں تمہارے مقابل میں آئیں تو ان کو ایسی مار مارو کہ جو ان کی پشت ناہی کر رہے ہیں ان کو بھی سبق مل جائے اور ان میں سے جس کی طرف سے بھی اب معاہدہ کی خلاف ورزی کا اندیشہ ہو اس کا معاہدہ اس کے منہ پر پھینک مارو۔ خدا ایسے بد عہدوں کو پسند نہیں کرتا۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا ۙ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ ۚ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ. ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ۔
جواب شرط کے حذف کا ایک خاص محل : ولو تری جواب شرط یہاں محذوف ہے اور اس طرح کے مواقع میں، جیسا کہ دوسرے مقام میں ذکر کرچکے ہیں، جواب شرط کا محذوف ہونا ہی تقاضائے بلاغت ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلتی ہے کہ جس منظر کے دیکھنے کا ذکر کیا جا رہا ہے اس کی ہولناکی ناقابل بیان ہے۔
مبالغہ فی النفی کا اسلوب : لیس بظلام للعبید۔ میں بھی عربی زبان کا ایک خاص اسلوب ہے۔ عربی میں مبالغہ پر جب نفی آتی ہے تو اس سے مبالغہ فی النفی کا مضمون پیدا ہوتا ہے۔ یعنی خدا بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں۔ امرؤالقیس نے لیس بفعال، اور لیس بقتال کے قسم کی ترکیبیں استعمال کی ہیں یعنی فلاں میں کچھ بھی کرنے کی صلاحیت نہیں۔ فلاں میں لڑنے کا ذرا دم خم نہیں، بس باتوں کا غازی ہے، کردار کا غازی نہیں۔
مطلب یہ ہے کہ کفار کو بدر میں جو مار پڑی یہ کیا ہے، اصل مار تو وہ ہے جو فرشتوں کے ہاتھوں ان کی موت کے وقت پر ان پر پڑتی ہے۔ اگر کہیں اس کو دیکھ پاتے تو کچھ اندازہ ہوتا کہ ان کی کیا درگت بننے والی ہے۔ پھر اس کے بعد عذاب دوزخ کا مرحلہ ہے جس کا آج کوئی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 8:51ہر ایک کے آگے اس کے اپنے اعمال پیش ہوں گے : ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ۔ یعنی ان کے سامنے یہ انہی کے ہاتھوں کی کرتوت رکھی جائے گی۔ جو بِس بھری فصل انہوں نے دنیا میں بوئی، سینچی اور پروان چڑھائی اسی کا حاصل ان کے سامنے آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کوئی ظلم و ناانصافی نہیں کرے گا۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ رتی بھر ظلم کا بھی روادار نہیں۔ اس کا قانون اور عدل بےلاگ ہے۔ ہر شخص جو کرے گا وہی بھرے گا۔
Ayah 8:52كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭكَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔
‘ اٰل کا مفہوم ’ اٰل پر دوسری جگہ ہم تفصیل سے بحث کر کے بتا چکے ہیں کہ یہ صرف اولاد کے معنی میں نہیں آتا بلکہ اس کا اطلاق قوم اور اتباع سب پر ہوتا ہے۔
اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ قریش کو یہ افتا جو پیش آئی ہے یہ اسی طرح کا معاملہ ہے جیسا کہ قوم فرعون اور اس سے پہلے کی قوموں کو پیش آیا کہ انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری، اس کی نشانیوں کی ناقدری اور اس کی آیات کا انکار کیا تو اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں پکڑا اس لیے کہ خدا قوی اور اپنے قانون پاداش عم کے اجراء نفاذ میں بےلاگ ہے۔
عذاب بطور تنبیہ : قرینہ دلیل ہے کہ یہاں اخذھم اللہ بذنوبھم سے اس نوعیت کی پکڑ کی طرف اشارہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ قوموں کو بطور تنبیہ مبتلا کرتا ہے۔ نبی کی بعثت کے دور میں اس طرح کی تنبیہات کا خاص طور پر ظہور ہوتا ہے۔ اس سنت الٰہی کی تفصیل کے لیے اعراف 94، انعام 42 بقرہ 155 ملاحظہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ یہ افتاد جو قریش کو پیش آئی ہے اس سے مقصود ان کو جھنجھوڑنا اور جگانا ہے۔ یہ بات سنت الٰہی کے مطابق ظہور میں آئی ہے اور اس کی مثالیں پچھلی قوموں کی تاریخ میں بھی گزر چکی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قریش اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا اپنی پیشرو قوموں کی تقلید میں اللہ کی آیات اور نبی کی دعوت کی تکذیب پر اڑاجاتے ہیں۔ اگر یہ تکذیب پر اڑ گئے تو پھر اللہ ان کو بھی اسی طرح ہلاک کردے گا جس طرح آل فرعون اور دوسری قوموں کو اس نے ہلاک کیا۔ یہاں کداب ال فرعون دو مرتبہ آیا ہے یہ تکرار نہیں ہے بلکہ دونوں جگہ دو باتیں بتائی گئی ہیں۔ پہلے یہ بتایا کہ یہ اسی نوع کی تنبیہ ہے جس نوع کی تنبیہ فرعون اور دوسری قوموں کو کہی گئی۔ پھر یہ بتایا کہ اگر اس تنبیہ سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا تو بالآخر ان پر بھی اسی طرح فیصلہ کن عذاب آجائے گا جس طرح ان قوموں پر آیا۔
Ayah 8:53ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰي قَوْمٍ حَتّٰي يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ۔ یہ حکمت بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام کیوں فرمایا کہ قوموں کو تذکیر و تنبیہ ہوتی رہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قو پر انعم فرماتا ہے تو یوں ہی نہیں فرماتا بلکہ وہ انعام کچھ صفات و کردار پر مبنی ہوتا ہے، اسی طرح جب وہ کسی قوم کو اپنے اس انعام سے محروم کرتا ہے تو یوں ہی محروم نہیں کردیتا بلکہ وہ یہ دیکھ کر کرتا ہے کہ قوم نے اپنے آپ کو ان صفات و اخلاق سے محروم کرلیا کجن کی بنا پر وہ مستحق انعام ٹھہری تھی۔ یہ چیز مقتضی ہوئی کہ جب کوئی انعام یافتہ قو خرابیوں میں مبتلا ہو تو خدا تذکیر و تنبیہ کے ذریعہ سے اس پر حجت تمام کردے۔ اس تذکیر و تنبیہ سے اگر قوم بیدار ہوگئی تو اس کا استحقاق باقی رہتا ہے۔ اگر یہ بیدار ہوئی تو وہ اللہ کی نعمت سے اتمام حجت کے بعد محروم ہوجاتی ہے اور ساری ذمہ داری خود اسی پر ہوتی ہے، خدا اس سے کوئی ناانصافی نہیں کرتا۔ یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ ابھی موقع باقی ہے اس سے فائدہ اٹھا لو، خدا نے تم جو انعام فرمایا تھا وہ تم سے زبردستی نہیں چھیننا چاہتا بلکہ تمہارے عقائد و اعمال کے بگاڑنے اس کے اسباب پیدا کیے ہیں۔ تم اپنے آپ کو بدل کر اور اصلاح کر کے پھر اپنے استحقاق کو بحال کرسکتے ہو۔ rnۙ وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ یعنی قوموں کے عزل و نصب میں اللہ تعالیٰ کا معاملہ اندھے کی لاٹھی کی طرح نہیں ہے بلکہ تمام تر سمع و علم پر مبنی ہے۔ وہ قوموں کو اختیار و اقتدار اور اسباب و وسائل دے کر برابر ہر چیز کو دیکھتا، سنتا اور جانتا رہتا ہے کہ وہ کیا بنا رہی ہیں اور کس راہ پر جا رہی ہیں اور اس کا معاملہ ان کے ساتھ اسی بےخطا سمع و علم پر مبنی ہوتا ہے۔
Ayah 8:54كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ۔ یہ وہ انجام بیان ہو رہا ہے جو آگے قریش کا ہوگا۔ اگر انہوں نے ان تنبیہات سے سبق حاصل نہ کیا جو ان کو کی جا رہی ہیں۔ یعنی پھر وہ تنبیہات کے بجائے خدا کے فیصلہ کن عذاب کی زد میں آجائیں گے۔ ان دونوں آیتوں میں الفاظ اور لہجہ کا جو فرق ہے اس کو نگاہ میں رکھیے۔ اوپر والی آیت میں فرمایا ہے کفروا بایات اللہ اس میں ہے کذبوا بایات ربہم اوپر ہے۔ فاخذھم اللہ بذنوبہم، یہاں ہے، فاھلکناہم بذنوبہم واغرقنا ال فرعون۔ اس فرق کو ملحوظ رکھے بغیر دونوں آیتوں کا موقع و محل واضح نہیں ہوگا۔
Ayah 8:55اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔
یہود کی وعدہ خلافیاں۔ اب یہ یہود اور ان قبائل کے باب میں ہدایت دی جا رہی ہے جن سے مدینہ ہجرت فرمانے کے بعد نبی ﷺ نے ناطرفداری کے معاہدے کرلیے تھے مثلاً جہینہ، بنی ضمر، بنی مدلج وغیرہ، نبی ﷺ نے اپنے کیے ہوئے معاہدے کا برابر احترام باقی رکھا لیکن یہود نے ایک دن بھی اس کا احترام نہیں کیا اور یہ قبائل بھی یہود کی انگیخت یا قریش کے دباؤ سے برابر معاہدے کی خفیہ یا علانیہ خلاف ورزیاں کرتے رہے۔
شَرَّ الدَّوَاۗبِّ کا مفہوم : ان شر الدواب کے اسلوب میں جو زور شدت ہے اس کی وضاحت آیت 22 کے تحت گزر چکی ہے۔ یہ اسلوب ان لوگوں کے وجود اور بقا کے جواز کی نفی کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے کسی گروہ کی قدر و قیمت اسی وقت تک ہے جب تک ان میں کوئی رمق سوچنے سمجھنے کی باقی ہے۔ جن کے اندر یہ رمق ختم ہوگئی، نہ وہ پہلے ایمان لائے، نہ آیندہ ایمان لانے والے ہیں، اب وہ صرف گندگی کے ایک ڈھیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اب خدا کی زمین پر ان کے باقی رہنے میں کوئی خیر و برکت نہیں ہے۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ رسول اتمام حجت کا آخری ذریعہ ہوتا ہے۔ جن کی آنکھوں کے پردے رسول کے بعد بھی نہیں اٹھتے ان کا اندھا پن لا علاج ہوتا ہے اور زمین پر ان کا باقی رہنا بالکل بےمقصد ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کو جینے کی جو مہلت دیتا ہے صرف جینے کے لیے نہیں دیتا بلکہ سوچنے سمجھنے اور زندگی سنوارنے سدھارنے کے لیے دیتا ہے۔
Ayah 8:56مذکورہ گروہ کی اخلاقی پستی : اَلَّذِيْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِيْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّهُمْ لَا يَتَّقُوْنَ۔ یہ انہی لوگوں کا حال بیان ہورہا ہے۔ منہم، یعنی من الذین کفروا، اوپر ہم اشارہ کر آئے ہیں کہ ان لوگوں نے معاہدہ تو کرلیا لیکن اس کو وفاداری کے ساتھ نبھایا ایک دن بھی نہیں۔ جب کوئی موقع امتحاں کا آتا وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے سے باز نہ آتے۔ ان کی ہمدردریاں برابر قریش کے ساتھ رہیں۔ معاہدہ کرلینے کے بعد بار بار نقض عہد کا ارتکاب یہ ان کے دل کی سختی، کردار کی پستی اور ان کے احساس غیرت و حمیت سے خالی ہونے کی دلیل تھی۔ فی کل مرۃ سے مطلب یہ ہے کہ جس طرح کے حالات کے لیے معاہدہ وجود میں آیا تھا اس طرح کی کوئی آزمائش جب کبھی پیش آتی تو یہ معاہدہ کا حترام نہ کرتے بلکہ اس کی خلاف ورزی کر گزرتے۔ لا یتقون سے یہاں مطلب یہ ہے کہ نقض عہد اور اس کے نتائج سے نہیں بچتے حالانکہ عہد کی پاسداری اور حرمت دنیا کے معروف میں بھی مسلم ہے اور اللہ کے ہاں بھی اس کی پرسش ہونی ہے۔
Ayah 8:57فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ۔ ثقف کے معنی پا لینے کے ہیں اور تشرید کے معنی پراگندہ کردینے، تتر بتر کردینے کے مطلب یہ ہے کہ ابھی تو یہ جو کچھ کر رہے ہیں پردے میں کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی سامنے آنے کی جرات نہیں کر رہا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی گروہ سامنے آنے کی جرات کرے اور جنگ کے میدان میں تمہیں مل جائے تو انہیں ایسی مار ماریو کہ ان کے بھی پرخچے اڑجائیں اور جو ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے پر تول رہے ہیں ان کے پر وبال بھی جھڑ جائیں۔
لعلہم یذکرون، یعنی ان کا انجام دیکھ کر ان کو بھی سبق حاصل ہو کہ اگر انہوں نے بھی یہی حرکت کی تو ان کا بھی یہی انجام ہونا ہے۔
Ayah 8:58وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ۔ یہ مذکورہ قسم کے تمام معاہدوں سے متعلق عام ہدایت دے دی کہ ان کی ذمہ داری تم پر یک طرفہ نہیں ہے صرف اسی صورت میں ہے جب دوسرا فریق بھی ان کا احترام کرے۔ اگر وہ احترام نہیں کرتا تو تم بھی اس معاہدہ کو ان کے منہ پر پھینک مارو۔ علی سواء کا مفہوم یہ ہے کہ انہی کے برابر کا اقدام تم بھی کرنے کے مجاز ہو۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دینا چاہیے بلکہ جواب ہم وزن ہونا چاہیے۔ بعض لوگوں نے اس سے یہ لازم قرار دیا ہے کہ ختم معاہدہ کی اطلاع فریق ثانی کو دے دینی چاہیے۔ ان کی اس بات کو کوئی دلیل ان الفاظ میں مجھے نظر نہیں آتی۔ البتہ یہ بات مستنبط ہوتی ہے کہ محض فرضی اندیشہ کسی معاہدے کو کالعدم قرار دینے کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ عملاً اس کی خلاف ورزی کا اظہار ہوا ہو۔ اول تو یہاں تخافن کا جو فعل استعمال ہوا ہے اس میں خود تاکید ہے۔ دوسرے علی سواء کی قید بھی ان کو نمایا کر رہی ہے۔ rnۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاۗىِٕنِيْنَ۔ یہ اظہار براءت کا کلمہ ہے۔ یعنی اللہ کا ایسے بد عہدوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور جب اللہ کا ان سے کوئی تعلق نہیں تو اہل ایمان کوئی تعلق ایسے لوگوں سے کیسے رکھ سکتے ہیں۔ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ اہل ایمان ان سے نبا ہیں تو گویا وہ ان سے نبا ہیں گے جن سے خدا کو نفرت ہے۔
Ayah 8:59آیات 59۔ 66 کا مضمون : آگے مسلمانوں کو جہاد کے لیے برابر تیار رہنے اور اس کے لیے اسلحہ اور قوت فراہم کرنے پر ابھارا ہے۔ اس لیے کہ بدر میں قریش کو جو شکست ہوئی اس نے قریش میں بھی آگ لگا دی اور یہود بھی جو اب تک یہ توقع لیے بیٹھے تھے کہ وہ قریش کے ہاتھوں مسلمانوں کو ختم کرا دیں گے۔ اپنی اس توقع میں ناکام ہو کر نئے منصوبے بنانے میں پوری طرح سرگرم ہوگئے۔ ان حالات سے نمٹنے کے لیے مسلمانوں کو بھی ہدایت ہوئی کہ اب پوری سرگرمی سے جہاد کے لیے تیاری کرو۔
اس ضمن میں پیغمبر ﷺ کو یہ اطمینان بھی دلایا گیا کہ اگر یہ معاندین کوئی مصالحانہ رویہ اختیار کرنے کا رجحان ظاہر کریں تو تم بھی مصالحت سے گریز نہ کرنا۔ اگر اس مصالحت کے پردے میں انہوں نے کوئی چال چلنے کی کوشش کی تو جس خدا نے اپنی نصرت اور انہی تھوڑے سے مسلمانوں کے ذریعہ سے بدر میں تمہیں فتح دلائی ہے وہ اب بھی تمہارے ساتھ ہے۔
پھر پیغمبر ﷺ کو یہ تسلی دی گئی کہ تم مسلمانوں کی تعداد کی کمی سے مطلق ہراساں نہ ہو۔ تمہارے لیے اللہ اور انہی تھوڑے سے مسلمانوں کی رفاقت کافی ہے۔ یہی قطرے سیلاب بنیں گے۔ مسلمانوں کو اطمینان دلاؤ کہ ان کے دس آدمی کفار کے سو آدمیوں پر بھاری ہوں گے۔ اصلی طاقت دلوں کی طاقت ہوتی ہے نہ کہ محض گنتی کی۔ جو لوگ تمہارے مقابل میں ہے وہ محض کھوکھلے دل والے ہیں۔
اس مجموعہ کی آخری آیت 66 قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں، مسلمانوں کی کثرت کے دور میں نازل ہوئی ہے، اس نے مسلمانوں پر سے وہ ذمہ داری کچھ ہلکی کردی جو اوپر والی آیت میں ان پر عائد ہوئی تھی۔ چونکہ اس کا تعلق اسی مضمون سے تھا اس وجہ سے اس کو یہاں جگہ دی گئی۔ آگے اس کی وضاحت آئے گی۔
وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا ۭ اِنَّهُمْ لَا يُعْجِزُوْنَ۔ اوپر کی آیات میں کفار کو جو دھ کی دی ہے اور خاص طور پر یہ بات جو فرمائی ہے کہ ان کی ساری دوا دوش اور ان کی تمام جولانیوں کا خدا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یہ اسی مضمون کی تاکید مزید ہے۔ فرمایا کہ اب ہم نے ان کا تعاقب شروع کردیا ہے۔ اب یہ اس غلط فہمی کو ذہن سے نکال دیں کہ یہ ہم سے بچ کے نکل جائیں گے۔ یہ ہمارے قابو سے باہر نہیں جاسکتے۔ اعجزہ الصید کے معنی ہوں فانہ ولم یقدر علیہ شکار قابو سے باہر نکل گیا۔ پکڑا نہ جاسکا۔
Ayah 8:60وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ۔ لفظ قوۃ قرآن میں جیسا کہ 69: توبہ، ہود :65۔ کہف :15، فصلت اور اور دوسری آیات سے واضح ہے، عددی قوت اور Man Power کے لیے بھی آتا ہے۔
رباط الخیل سے مراد وہ گھوڑے ہیں جو خاص جنگ کے لیے تربیت دیے جائیں اور اسی غرض کے لیے محفوظ اور تیار رکھے جائیں۔ جنگ میں ہر قسم کے گھوڑے کام نہیں آتے۔ اس زمانے کی جنگ میں گھوڑوں ہی کی اصل اہمیت بھی تھی اور عرب کی مخصوص آب و ہوا کے لحاظ سے ان کے ہاں گھوڑوں کی تربیت کا خاص اہتمام بھی تھا۔ اسی چیز کی ہدایت یہاں مسلمانوں کو کی گئی ہے کہ جہاد کے لیے قابل جہاد لوگوں کو بھی منظم کرو اور تربیت دیے ہوئے گھوڑے بھی تیار رکھو۔ اب تک تو جب کسی جنگ مہم کی صورت پیش آتی عرب کے عام دستور کے مطابق یہ ہوتا کہ ہر سپاہی، جو سامان اس کو میسر ہوتا اس کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوتا لیکن اس آیت میں مسلمانوں کو یہ ہدایت کی جا رہی ہے کہ اپنی فوجی قوت نفری کے اعتبار سے بھی اور اسلحہ و اسباب جنگ کے اعتبار سے بھی زیادہ سے زیادہ بڑھائیں۔ اس زمانے کی جنگ میں گھوڑوں کو وہی اہمیت حاصل تھی جو اس زمانے میں ٹینک اور ہوائی جہاد کو حاصل ہے جنگ بدر میں مسلمانوں کے ساتھ گھوڑ بہت کم تھے۔ آگے کے مراحل کے لیے ان کی تعداد زیادہ کرنے کی تاکید ہوئی۔
تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ۔ یہ اس تیار کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ کے اور تمہارے دشمنوں پر تمہاری دھاک اور ہیبت قائم رہے کہ تمہیں نرم چارہ سمجھ کر وہ تم پر حملہ کرنے کی جرات نہ کریں۔ یہاں مسلمانوں کے تمام دشمنوں کو اللہ کا دشمن ٹھہرایا ہے اس لیے کہ مسلمانوں کی جنگ جس سے بھی تھی، اللہ کے دین کے لیے تھی، اس میں کسی اور چیز کا کوئی دخل نہیں تھا۔
وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ ۚ اَللّٰهُ يَعْلَمُهُمْ۔ اللہ اور مسلمانوں کے یہ دشمن دو قسم کے تھے۔ ایک تو وہ جو سامنے آ چکے تھے۔ مثلاً قریش جو روز اول سے دشمن تھے۔ دوسرے وہ جو ابھی پردے میں تھے۔ مثلاً یہود، جن کی خفیہ سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ نیز وہ قبائل جن سے آنحضرت ﷺ کا معاہدہ غیر جانبداری تھا لیکن، یہود اور قریش کی تحریک سے وہ بھی پر تولنے لگ گئے تھے۔ علاوہ ازیں وہ منافقین جو منافقت میں بڑے مشاق تھے اور برابر دشمنوں کی مقصد برآری کے لیے مصرو سازش رہتے تھے۔ قرآن نے سورة توبہ میں ان کی طرف اشارہ کیا ہے۔ وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ړ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ ۣ لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ : اور تمہارے ارد گرد جو اعراب ہیں ان میں بہتیرے منافق ہیں اور اہل مدینہ میں بھی منافق ہیں۔ یہ اپنے نفاق میں بڑے مشاق ہیں۔ تم ان کو نہیں جانتے۔ ہم ان کو جانتے ہیں۔ ہم ان کو دو مرتبہ عذاب دیں گے پھر یہ ایک عظیم عذاب کی طرف دھکیلے جائیں گے (توبہ : 101)
علاوہ ازیں بیرونی طاقتیں مثلاً رومی، غسانی، ایرانی وغیرہ بھی تھیں جو بعد میں اس وقت سامنے آئیں جب اسلام نے پورے عرب کو زیر نگیں کرلیا۔ قرآن نے یہاں مسلمانوں کو حاضر سے متعلق ہدایت دیتے ہوئے ان دشمنوں کی طرف بھی ایک اشارہ کردیا جو مستقبل قریب یا مستقبل بعید کے پردوں میں چھپے ہوئے ہیں تاکہ مسلمان دور تک نگاہ رکھ کر منصوبہ بندی کریں۔ یہ نہ خیال کریں کہ محض ایک وقتی جھونکا تھا، جو آیا اور اب گزر گیا ہے۔ rnۭوَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ يُوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ۔ یہ جنگی تیاریوں کے سلسلہ میں انفاق کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے کہ اس مقصد کے لیے جو کچھ بھی خرچ کروگے تمہارا کوئی دھیلا پیسہ بھی ضائع جانے والا نہیں ہے۔ اللہ کے ہاں تمہارا پائی پائی کا حساب موجود رہے گا اور وہ سب تمہیں پورا کردیا جائے گا، اس میں ذرا کمی نہیں ہوگی۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ ‘ یہ پورا کیا جانا ’ اسی اصول کے مطابق ہوگا جو نیکیوں کے اجر کے لیے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے اور جو قرآن میں دوسرے مقام میں مذکور ہے۔
Ayah 8:61وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭاِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔
سلم یسلم صلح اور مصالحت کے معنی میں آت ہے اور یہ مؤنث بھی استعمال ہوتا ہے۔
اجتماعی اصول عدل کا احترام : اوپر جنگ کا جو حکم دیا ہے وہ حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ کی تصریح کے ساتھ ہے، جس کے معنی یہ ہوئے کہ قریش کے ساتھ یہ جنگ اس وقت تک ختم ہونے والی نہیں ہے جب تک فتنہ کا اور سرزمین حرم سے ہر شائبہ شرک و کفر کا استیصال نہ ہوجائے۔ یہاں یہ واضح فرمایا کہ یہ حکم اس بات کے منافی نہیں ہے کہ کسی مرحلے میں قریش اگر صلح کے خواہاں ہوں تو ان سے صلح کرلی جائے۔ ان کی صلح کی پیشکش کو قبول کرنے کی آنحضرت ﷺ کو اجازت دے دی گئی۔ اس وقت تک قریش کے لیڈروں نے جس عناد کا اظہار کیا تھا اس کو سامنے رکھتے ہوئے ان سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ کوئی مصالحت نیک نیتی سے کریں گے بلکہ اندیشہ تھا کہ شرارت کرنے اور دھوکہ دینے ہی کے لیے کریں گے اس وجہ سے ان پر اعتماد کرنے کا مسئلہ بڑا مشکل تھا۔ تاہم چونکہ اجتماعی اصول عدل اسی بات کا مقتضی تھا کہ حریف کی صلح کی پیشکش ٹھکرائی نہ جائے اس وجہ سے آنحضرت ﷺ کو ہدایت ہوئی کہ اس اندیشے کے باوجود مصالحت قبول کرلینا اور اللہ پر بھروسا رکھنا۔ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ اگر اس کے اعتماد پر تم ایک مقصد خیر کی خاطر خطرہ مول لو گے تو اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور حریف اس سے کوئی غلط فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہ ہوگا۔
Ayah 8:62وَاِنْ يُّرِيْدُوْٓا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ یعنی زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا۔ یہی تو کہ وہ تمہیں دھوکہ دینے کی کوشش کریں گے تو اس کی پروا نہ کرنا، اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔ ‘ اللہ تمہارے لیے کافی ہے ’، کے اجمال میں جو کچھ مضمر ہے قلم اس کی تعبیر سے اگرچہ قاصر ہے لیکن وہ بغیر کسی اظہار کے بھی ظاہر ہے۔ یہاں خاص طور پر غور کرنے کی چیز یہ ہے کہ اسلام حق و انصا کے جس اصول کی تلقین انسان کو اس کی انفرادی زندگی کے لیے کرتا ہے اسی کی تلقین اس کی اجتماعی زندگی کے لیے کرتا ہے اور اسی تلقین اس کی بین الاقوامی زندگی کے لیے بھی کرتا ہے اور اس تصریح کے ساتھ کرتا ہے کہ اگر اس میں کچھ خطرہ اور اندیشہ بھی ہو جب بھی کسی خیر پیشکش ٹھکرائی نہ جائے۔ بلکہ اللہ پر بھروسہ کر کے وہ قبول کرلی جائے۔ یہ توکل علی اللہ، یہاں خاص طور پر نگاہ میں رہے۔ معلوم ہوا کہ توکل صرف مسجد کی چار دیواری تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ میدان جنگ میں بھی اہل ایمان کی قوت اور بین الاقوامی معاملات میں بھی اہل ایمان کی پشت پناہ ہے۔
هُوَ الَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ۔ یہ اس حسبک اللہ کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ جس خدا نے بدر میں اپنے فرشتوں کی فوج سے تمہاری مدد کی اور مٹھی بھر مسلمانوں سے کفار کی دل با دل فوج کچلوا دی وہ خدا تمہاری اس وقت بھی مدد فرمائے گا جب تمہارے یہ حریف صلح کے پردے میں تمہارے خلاف جنگ کی اسکیمیں بنائیں گے اور تمہاری نیکی سے کوئی غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
Ayah 8:63خدا ساز بات : وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ ۭ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ۔ اوپر جو یہ اشارہ ہوا ہے کہ اللہ نے مومنین کے ذریعہ سے تمہاری مدد فرمائی، یہ اس کی وضاحت ہے کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ خاص تائید غیبی ہی کا یہ کرشمہ ہے۔ کسی شیطانی مقصد کے لیے کسی بھیڑ کا اکٹھا کرلینا تو مشکل نہیں ہوتا۔ ہر نعرہ باز یہ کام کرسکتا ہے لیکن خاص اللہ کے کام کے لیے جس میں خدا کی خوشنودی اور آخرت کی طلب کے سوا کسی بھی دوسری چیز کا کوئی ادنی شائبہ نہ ہو، کلمہ حق کے جاں نثاروں کی ایک جمعیت کا فراہم ہوجانا بغیر اس کے ممکن نہیں ہوا کہ اللہ نے تائئید کی اور اس کی توفیق بخشی نے رہنمائی فرمائی۔ جو لوگ نبی ﷺ کے ساتھ جمع ہوئے تھے، اپنی یہ نئی زندگی اختیار کرنے سے پہلے، دور جاہلیت کی تمام برائیوں میں آلودہ تھے، ان کے قبیلے جدا جدا تھے اور ان میں سدید قسم کے تعصبات تھے، ان کے دویتا الگ الگ تھے اور یہ آنکھیں بند کر کے ان کی پرستش کرتے تھے۔ ان کے مفادات باہم متصادم تھے اور یہ ان کے حاصل کرنے کے لیے جائز و ناجائز اور عدل و ظلم کے تمام حدود وقیود سے آزاد تھے۔ اس طرح کے لوگوں کو ان کے تمام تعصبات و مفادات اور تمام رسوم و عادات سے چھڑا کر بالکل ایک نئے سانچہ میں ڈھال دینا اور اس سانچے کو ان کی نگاہوں میں اتنا محبوب بنا دینا کہ اس کی خاطر وہ قوم، وطن، خاندان، جائداد اور بیوی بچے سب کو چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوں، یہ خدا ہی کے لیے ممکن ہے۔ کوئی انسان یہ کام نہیں انجام دے سکتا، اگرچہ وہ دنیا جہان کے سارے وسائل اس پر صرف کر ڈالے۔ اِنَّهٗ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔ اللہ عزیز و حکیم ہے وہ جو کام کرنا چاہتا ہے کر ڈالتا ہے اور اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ اشارہ ہے ہدایت و ضلالت کے اس قانون کی طرف جس کی وضاحت ایک سے زیادہ مقامات میں ہوچکی ہے۔
Ayah 8:64يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۔
مسلمانوں کو جہاد پر ابھارنے کی ہدایت : یہ آیت تمہید ہے اس حکم کی جو بعد والی آیت میں مسلمانوں کو جہاد پر ابھارنے کے لیے نبی ﷺ کو دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے اللہ کی مدد اور ان تھوڑے سے مسلمانوں ہی کی رفاقت کافی ہے، تو تم کفار کی کثرت اور اپنے ساتھیوں کی قلت کی فکر نہ کرو۔ گویا وہی بات جو اوپر فان حسبک اللہ ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمومنین۔ کے الفاظ میں ارشاد ہوئی ہے، یہاں دوسرے اسلوب سے کہی گئی ہے۔ بعض لوگوں نے یہ خیال کیا ہے کہ ومن اتبعک کا عطف، اللہ پر ماننے سے شرک کا پہلو پیدا ہوتا لیکن یہ خیال کلام کے سیاق وسباق پر غور نہ کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ ہم نے جو تاویل کی ہے وہ بالکل واضح، قرآن کے نظائر کے مطابق اور شرک کے ہر شائبہ سے پاک ہے۔
Ayah 8:65يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلَي الْقِتَالِ ۭاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ۔
مسلمانوں اور کافروں کی قوت کا تناسب : یہ اسی اوپر والے مضمون کی وضاحت ہے کہ ہرچند تمہارے ساتھیوں کی تعداد باعتبار کمیت تھوڑی ہے لیکن باعتبار کیفیت بہت ہے۔ تمہارے بیس ثابت قدم مسلمان، کفار کے دو سو آدمیوں پر اور تمہارے سو آدمی ان کے ہزار آدمیوں پر بھاری ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے ساتھیوں کو اللہ نے بصیرت ایمانی سے نوازا ہے اور تمہارے حریف اس بصیرت سے محروم ہیں۔
مسلمان کی اصل قوت : لایفقہون میں فقہ سے مراد بصیرت ایمانی ہے۔ یہی بصیرت انسان کا اصل جوہر ہے۔ اس بصیرت کے ساتھ جب مومن میدان جنگ میں نکلتا ہے تو وہ اپنے تنہا وجود کے اندر ایک لشکر کی قوت محسوس کرتا ہے، اس کو اپنے دہنے بائیں خدا کی نصرت نظر آتی ہے، موت اس کو زندگی سے زیادہ عزیز و محبوب ہوجاتی ہے اس لیے کہ اس کی بصیرت اس کے سامنے اس منزل کو روشن کر کے دکھا دیت ہے جو اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے لیے مخصوص ہے۔ یہی بصیرت اس کے اندر وہ صبر و ثبات پیدا کرتی ہے جو اس کو تنہا اس بصیرت سے محروم دس آدمیوں پر بھاری کردیتی ہے۔
Ayah 8:66اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِيْكُمْ ضَعْفًا ۭفَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَّغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفَيْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۔
مسلمانوں کی ذمہ داری میں تخفیف : اَلْئٰنَ کا لفظ یہاں اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ آیت اوپر کی آیات کے بہت بعد اس دور میں نازل ہوئی ہے جب مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے۔ چناچہ دونوں میں تقابل کی نسبت بھی مختلف ہے۔ اوپر والی آیت میں بیس اور دو سو، سو اور ہزار کا تقابل ہے اور اس میں سو اور دو سو، ہزار اور دو ہزار کا تقابل ہے۔ یہ بھی قرینہ ہے کہ یہ مسلمانوں کی کثرت کے دور کی آیت ہے۔ اس کا تعلق چونکہ اسی مضمون سے تھا اس وجہ سے ترتیب میں اس کو یہیں جگہ ملی۔ قرآن میں نظم کے اعتبار کی ایک دلیل یہ بھی ہے۔
یہ بات کہ دس مسلمان سو پر بھاری رہیں گے وارد تو ہوئی ہے بشارت کے سیاق میں لیکن اس بشارت کے ساتھ اس نے مسلمانوں پر ایک بھاری ذمہ داری بھی ڈال دی تھی کہ بیس مسلمان دو سو کافروں کا اور سو مسلمان ہزار کافروں کا اپنے آپ کو مد مقابل سمجھیں اور اگر کہیں اسی نسبت کے ساتھ ان سے مقابلہ نوبت آن پڑے تو قلت تعداد کے عذر پر ان کو پیٹھ نہ دکھائیں۔ چونکہ پیٹھ دکھانے کا گناہ، جیسا کہ آیت 16 میں بیان ہوا، بہت سخت ہے اس وجہ سے قدرتی طور پر مسلمانوں نے اس ذمہ داری کو ایک بھاری ذمہ داری محسوس کیا ہوگا اور اسی احساس کے ساتھ اس کو ادا کرنے کی کوشش کی ہوگی۔ بعد میں جب مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوگئی تو یہ بوجھ اللہ تعالیٰ نے ہلکا کردیا اور سابق نسبت بدل کر سو اور دو سو، ہزار اور دو ہزار کی نسبت قائم کردی گئی۔ آیت کے الفاط سے اس نسبت کی تبدیلی کی دو وجہیں سامنے آتی ہیں۔
تخفیف کے دو سبب : ایک یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوگئی تو اس نے یہ پسند فرمایا کہ سابقون الاولون کے کندھوں پر جو زیادہ بوجھ ہے وہ ہلکا کر کے دوسرے بعد میں آنے والے مسلمانوں پر ڈال دیا جائے۔ دسری یہ ہے کہ بعد میں جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے وہ بصیرت و عزیمت کے اعتبار سے سابقون الاولون کے ہم پایہ نہیں تھے۔ بحیثیت مجموعی ان کا درجہ کم ہی تھا اس وجہ سے ان کی کمزوری کا لحاظ کر کے ان کی ذمہ داری بھی کم رکھی۔ اس کا اشارہ علم ان فیکم ضعفا سے نکلتا ہے۔ ضعف کا لفظ جسمانی اور مادی کمزوری کے لیے نہیں آتا بلکہ عزم و ارادہ اور معرفت و بصیرت کے ضعف کے لیے بھی آتا ہے۔
ان آیات پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو ایک تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اللہ کی نصرت کا استحقاق اپنے اندر صفت صبر پیدا کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ بغیر اس صفت کے پیدا کیے کسی گروہ کو اللہ کی مدد حاصل نہیں ہوتی۔ دوسری بات یہ نکلتی ہے کہ اسباب و وسائل جس رفتار سے بڑھتے جاتے ہیں خدا کی براہ راست مدد اسی نسبت سے کم ہوتی جاتی ہے۔ تیسری حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ اصل قوت ایمان کی قوت ہے دوسری چیزیں سب اس کے توابع میں سے ہیں۔ چوتھی بات یہ نکلتی ہے کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے خدا کے حکم سے ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اصل اعتماد اللہ پر ہونا چاہیے نہ کہ اسباب پر۔
Ayah 8:67آیات 67 تا 71 کا مضمون : آگے قریش کے اس پر اپیگنڈے کا جواب دیا ہے جو انہوں نے بدر میں شکست کھانے کے بعد اسلام مسلمانوں اور نبی ﷺ کے خلاف شروع کیا۔ جنگ بدر سے پہلے تک تو، جیسا کہ پیچھے تفصیل سے ذکر ہوچکا ہے، وہ اسلام اور مسلمانوں کی کمزوری کو اسلام کے خلاف بطور ایک دلیل کے پیش کرتے تھے کہتے کہ یہ دین اگر حق ہوتا تو کیا اس کو ایسے ہی کمزور وناتوان حامل ملتے، اگر محمد ﷺ خدا کے پیغمبر ہوتے تو کیا وہ ایسے ہی بےوسیلہ و ذریعہ اور بےحامی و مددگار ہوتے، اگر اسلام حق ہوتا تو کیا ہم پر کوئی عذاب نہ آجاتا ؟ مختصر یہ کہ وہ اپنے غلبہ اور اسلام کی مغلوبیت کو اسلام کے باطل ہونے اور اپنے برحق ہونے کی دلیل ٹھہراتے۔ یہاں تک کہ غزوہ بدر کو انہوں نے خود فیصلہ کی ایک کسوٹی کا درجہ دے دیا اور ان کے لیڈروں نے علانیہ یہ کہا کہ اس جنگ میں جو جیتے گا وہ حق پر سمجھا جائے گا، جو ہارے گا وہ باطل پر سمجھا جائے گا۔ بالآخر جب جنگ کا نتیجہ ان کے خلاف نکلا اور وہ خود اپنی ہی انتخاب کردہ کسوٹی پر کھوٹے ثابت ہوگئے تو انہیں اپنی قوم کو سنھالنے اور بدر کی شکست کے اثرات سے اس کو بچانے کے لیے اپنے پروپیگنڈے کے رخ کو بدلنا پڑا۔ اب انہوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ کہیں کسی پیغمبر کے بھی یہ کام ہوتے ہیں کہ وہ اپنی ہی قوم کو یوں باہم لڑا دے، ملک میں خونریزی کرائے، اپنے ہی بھائی بندوں کو قیدی بنائے، ان سے فدیہ وصول کرے، ان کا مال لوٹے اور اس کو اپنے ساتھیوں کو بانٹ کر کھائے کھلائے ؟ ان کا مطلب یہ تھا کہ یہ سارے کام تو اقتدار و سلطنت کے طالبوں اور دنیا داروں کے ہیں تو یہ پیغمبر کہاں سے ہوئے اور ان کو خدا سے کیا واسطہ ؟
قریش نے اپنے پروپیگنڈے سے ایک طرف تو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اپنی قوم کو بدر کی شکست کے اثرات سے بچانا چاہا کہ مبادا مسلمانوں کی اس فتح مبین سے وہ اسلام اور محمد ﷺ کی حقانیت کا کوئی تصور قبول کرے، دوسری طرف نہایت ہوشیاری سے مسلمانوں کے اس جوش جہاد پر ضرب لگانی چاہی جو بدر کے بعد قدرتی طور پر بہت نمایاں ہوگیا تھا اور جس پر، اوپر کی آیات میں مسلمانوں کو ابھارا گیا ہے۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ اس سلسلہ میں ان کے اس پروپیگنڈے کا جواب دے دیا جائے کہ کم از کم مسلمانوں پر اس کا کوئی برا اثر نہ پڑنے پائے۔ چناچہ یہاں تمام متعلق گروہوں کو مخاطب کر کے اس کا جواب دیا گیا۔
پہلے قریش کے لیڈروں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ جو کچھ پیش آیا اس کی ذمہ داری نبی پر نہیں بلکہ خود تم پر ہے۔ کوئی نبی اس بات کا روادار نہیں ہوتا کہ وہ قیدی پکڑے، فدیہ وصول کرے اور مال غنیمت لوٹنے کے لیے زمین میں خونریزی تک نوبت پہنچا دے۔ ان چیزوں کے طالب تم ہو، خدا ان چیزوں کا طالب نہیں ہے۔ شکر کرو کہ ابھی بات یہیں تک رہ گئی۔ ورنہ تم نے جو شرارت کی تھی اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ تم پر خدا کا کوئی سخت عذاب آجاتا لیکن اللہ نے ہر چیز کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے اس وجہ سے تمہیں کچھ مہلت دے دی گئی۔ اس کے بعد مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم ان شریر لوگوں کے پروپیگنڈے سے ذرا بھی متاثر نہ ہو۔ جو مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے وہ تمہارے لیے بالکل حلال طیب ہے۔ اسی سلسلہ میں جنگ بدر کے ان قیدیوں کو جنہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا تھا، یہ پیغام دلوایا کہ وہ یہ فدیہ لیے جانے سے دل گرفتہ نہ ہوں۔ یہ ان کے اوپر ایک احسان کیا گیا ہے اور اگر انہوں نے اس احسان کی قدر کی تو بہت ممکن ہے کہ اللہ ان کو اپنے مزید احسان سے نوازے اور اگر انہوں نے اس کی قدر نہ کی بلکہ پھر اسلام کے مقابل میں جنگ کے لیے آئے تو یاد رکھیں کہ اس سے بھی سخت دن دیکھیں گے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۭتُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا ڰ وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔ لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِــيْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔
‘ ما کان ’ کا اسلوب بیان رفعِ الزام کے لیے : ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض۔ ما کان کا اسلوب بیان الزام اور رفع الزام دونوں کے لیے آسکتا ہے، اور قرآن میں دونوں ہی قسم کے مواقع میں یہ اسلوب استعمال ہوا ہے۔ اس امر کا تعین کہ یہ الزام کے لیے ہے یا رفع الزام کے لیے، موقع و محل، سیاق وسباق، قرینہ اور مخاطب کو پیش نظر رکھ کیا جاتا ہے۔ بعینہ یہی اسلوب بیان آل عمران 161 میں ہے۔ وما کان لنبی ان یغل، ومن یغلل یات بما غل یوم القیامۃ (اور کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ خیانت کرے اور جو خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اپنی خیانت کے ساتھ حاضر ہوگا) ظاہر ہے کہ یہ آیت الزام کے لیے نہیں بلکہ رفع الزام اور نبی کی تنزیہ شان کے لیے ہے۔ اس آیت کے بارے میں تمام اہل تاویل کا اتفاق ہے کہ منافقین کو مخاطب کر کے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ تم نبی پر خیانت کی جو تہمت دھرتے ہو یہ سورج پر تھوکنے کی کوشش کے مترادف ہے، کوئی نبی بھی اس بات کا روادار نہیں ہوتا کہ وہ خیانت اور بےوفائی کا مرتکب ہو، ٹھیک اسی اسلوب پر آیت زیر بحث میں قریش کی تردید کی گئی ہے کہ تم نبی پر یہ الزام جو لگاتے ہو کہ یہ ہوس اقتدار میں مبتلا ہیں، اپنی قوم میں انہوں نے خونریزی کرائی، اپنے بھائیوں کو قید کیا، ان کا مال لوٹا، ان سے فدیہ وصول کیا، یہ ساری باتیں تمہاری اپنی کھسیاہٹ مٹانے کے لیے ہیں۔ کوئی نبی اس بات کا روادار نہیں ہوتا کہ وہ قیدی پکڑنے، فدیہ وصول کرنے اور مال غنیمت لوٹنے کے شوق میں ملک میں خوں ریزی برپا کردے۔ یہ باتیں تم اس لیے کہتے ہو کہ تم نبی کو اپنے اوپر قیاس کرتے ہو۔ تمہاری چاہتیں چونکہ یہی کچھ ہیں، تم سمجھتے ہو کہ نبی بھی یہی کچھ چاہتا ہے۔
تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا ڰ وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ۔ یہ خطاب قریش سے ہے۔ قرآن میں خطاب کا انداز، جیسا کہ ہم بار بار واضح بھی کر کچے ہیں، بالکل اسی طرح کا ہوتا ہے جو ایک اعلیٰ خطیب تقریر میں اختیار کرتا ہے۔ جتنی پارٹیاں سامنے ہوتی ہیں، بیک وقت، سب کی طرف رخ بدل بدل کر ان کے ذہن کے لحاظ سے بات کہتا چلا جاتا ہے۔ خود بات ہی واضح کردیتی ہے کہ مخاطب کون ہے اور اس کے کس شبہ یا اعتراض کا کیا جواب دیا گیا ہے۔ یہاں بھی صورت ہے۔ اس آیت کا مخاطب مسلمانوں کو اور وہ بھی سید عالم ﷺ اور صدیق اکبر ؓ کو ماننے کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں ہے اور بالفرض اس آیت کا مخاطب دل پر جبر کر کے نبی اور صدیق کو تھوڑی دیر کے لیے کوئی مان بھی لے تو اس کے بعد جو آیت آرہی ہے اس کا مخاطب نبی اور صدیق کو ماننے کے لیے کوئی دل و جگر کہاں سے لائے۔
اسلوب بیان کی بلاغت : بہرحال ہمارے نزدیک یہ خطاب قریش سے ہے اور یہ ان کے اس پروپیگنڈے کا جواب دیا جا رہا ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔ فرمایا کہ اس قسم کی دنیا طلبی تمہارا ہی شیوہ ہے۔ اللہ تو آخرت کو چاہتا ہے۔ یہاں اسلوبِ بیان کی یہ بلاغت ملحوظ رہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ نبی اور اہل ایمان آخرت کے طلب گار ہیں بلکہ یہ فرمایا کہ اللہ آخرت کو چاہتا ہے۔ اس سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ نبی اور اہل ایمان کے ہاتھوں جو کچھ یہ ہورہا ہے یہ ان کی اپنی مرضی سے نہیں ہورہا ہے بلکہ اللہ کی مرضی اور اللہ کے حکم سے ہورہا ہے، نبی اور اہل ایمان کی حیثیت اس سارے کام میں محض آلہ اور واسطہ کی ہے۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں یہی عین اللہ کا ارادہ اور اس کی مرضی ہے۔ اللہ کی مرضی اپنے بندوں کے لیے یہ ہے کہ وہ ہر کام آخرت کو اپنا نصب العین بنا کر کریں تو نبی اور اس کے ساتھیوں کا کوئی اقدام اللہ کی مرضی کے خلاف کس طرح ہوسکتا ہے۔ گویا بدر اور اس سلسلہ کے تمام اقدامات کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لے لی۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ عزیز و حکیم ہے۔ وہ جو ارادہ فرماتا ہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا اور اس کا ہر ارادہ عدل و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اب تم جو ژاژخائی کرنا چاہتے ہو کرتے رہو۔