9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف و مضامینِ سورة براء ۃ (الف) ۔ سورة کا عمود اور اس پر بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ : یہ سورة ، جیسا کہ گروپ کی تمہید میں ہم عرض کرچکے ہیں، سورتوں کے دوسرے گروپ کی آخری سورة ہے۔ اس میں اور انفال میں بالکل اسی نوع کا تعلق ہے جس نوع کا تعلق متن اور شرح یا تمہید اور اصل مقصد میں ہوتا ہے۔ سورة انفال میں مسلمانوں کو جس جہاد کے لیے ظاہراً و باطناً منظم کیا گیا ہے اس سورة میں اس کا اعلان فرما دیا۔ مصحف کی ترتیب میں اس سورة پر بسم اللہ نہیں لکھی ہوئی ہے اور روایات سے ثابت ہے کہ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے ہی سے چلی آرہی ہے جس سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ اس پر بسم اللہ کا نہ لکھا جانا ایمائے الٰہی سے ہوا ہے۔ علمائے تفسیر نے اس کی مختلف توجیہیں کی ہیں۔ سب سے زیادہ قابل قبول توجیہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ ان دونوں سورتوں میں عمود و مضمون کے لحاظ سے نہایت گہرا اتصال بھی ہے اور مقصد وغایت کے اعتبار سے فی الجملہ انفصال بھی۔ ایک کا رخ بالکلیہ مسلمانوں کی طرف ہے اور دوسری کا رخ اصلاً مشرکین، اہل کتاب اور منافقین کی طرف۔ ایک کی نوعیت تیار کی ہے اور دوسری کی، جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں، الٹی میٹم اور اعلانِ جنگ کی۔ اشتراک و انفصال کے ان دونوں پہلوؤں کو ممیز کرنے کے لیے حکمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ یہ سورة سابق سوہ سے بالکل الگ بھی نہ لیکن فی الجملہ نمایاں اور ممتاز بھی رہے۔ بسم اللہ نہ لکھے جانے سے یہ دونوں پہلو بیک وقت نمایاں ہوگئے۔ بسم اللہ، جیسا کہ ہم واضح کرچکے ہیں، دو سورتوں کے درمیان علامت فصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس علامت فصل کے نہ ہونے سے دونوں کا معنوی اتصال نمایاں ہوگیا اور ساتھ ہی اس کے علیحدہ وجود نے اس کو علیحدہ نام دے دیا جس سے اس کی امتیازی خصوسیت بھی سامنے آگئی۔ (ب) سورة کے مطالب کا تجزیہ : اس سورة میں مطالب کی ترتیب اس طرح ہے کہ پہلے ان تمام مشرکین سے اعلان براءت کیا ہے جنہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے امن و صلح کے معاہدے کیے لیکن ان کی خلاف ورزیاں کر کے وہ ان کو کالعدم کرچکے تھے۔ جنہوں نے اپنے معاہدے قائم رکھے تھے ان کے متعلق یہ اعلان فرمایا کہ مدت پوری ہوجانے کے بعد یہ معاہدے بھی ختم کردیے جائیں اور ان سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جائے جب یہ اسلام نہ قبول کریں۔ اس کے بعد اہل کتاب کے متعلق یہ اعلان فرمایا کہ ان سے بھی جنگ کرو تاآنکہ یہ تمہاری ماتحتی قبول کرنے اور تمہیں جزیہ ادا کرنے پر مجبور ہوں۔ اس کے بعد آخر سورة تک بڑی تفصیل کے ساتھ منافقین کا تعاقب کیا ہے اور ان کے باب میں بھی یہ ہدایت دی ہے کہ اب ان کا سختی سے محاسبہ کیا جائے، ان کے ساتھ کوئی نرمی نہ برتی جائے تاآنکہ یہ یا تو سچے اور اچھے مسلمان بن جائیں یا پھر مشرکین اور اہل کتاب میں سے، جن کے ساتھ بھی ان کی وابستگی ہے، ان کے انجام میں یہ بھی شریک ہوجائیں۔ یہی تین گروہ اس وقت مسلمانوں کے کھلے یا چھپے دشمن تھے۔ ان تینوں کا ذکر پچھلی سورة میں بھی آیا تھا لیکن ان کے باب میں قطعی پالیسی واضح نہیں ہوئی تھی۔ اس سورة میں بالکل واضح ہو کر سامنے آگئی۔ اگرچہ سورة کے نظام کو سمجھنے کے لیے یہ اجمالی نظر بھی کافی ہے تاہم سورة کے مطالب کا تفصیلی تجزیہ بھی ہم لیے دیتے ہیں۔ (1 ۔ 4) ۔ جن مشرکین نے معاہدہ کرکے درپردہ یا علانیہ اپنے معاہدے توڑدیے تھے ان سے براءت ذمہ کا اعلان۔ ان کو چار مہینے کی مہلت اور مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ حج کے موقع پر یہ منادی کردی جائے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اب ان کے معاہدوں کی ذمہ داری سے بری ہیں۔ اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہے۔ اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو یاد رکھیں کہ وہ خدا کے قابو سے باہر نہیں جاسکتے۔ صرف وہ مشرکین اس حکم سے مستثنی ہیں جنہوں نے نہ تو اپنے معاہدے کی کوئی خلاف ورزی کی ہے نہ مسلمانوں کے خلاف ان کے دشمنوں کی کوئی مدد کی ہے۔ یہ معاہدے قراردادہ مدت تک باقی رکھے جائیں۔ (5 ۔ 6) ۔ مسلمانوں کو یہ حکم محترم مہینوں کے گزرنے کے بعد ان کے خلاف جنگی کاروائی کرو۔ ان کو پکڑو، گھیروا اور ماروا اور اس وقت تک ان کا یچھا نہ چھوڑو جب تک یہ توبہ کر کے نماز نہ قائم کریں اور زکوۃ نہ ادا کریں۔ البتہ ان میں اگر کوئی شخص پناہ کا طالب ہو تو اس کو اتنی مہلت دو کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام سن لے اور پھر اس کے مامن میں پہنچا دو ۔ یہ رعایت ان کو اس لیے دی جائے کہ یہ امی لوگ رہے ہیں، ممکن ہے ان کو خدا کلام نہ پہنچا ہو۔ (7 ۔ 16) ۔ مشرکین کے ساتھ آئندہ کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے وجوہ کی تفصیل۔ مسجد حرام کے پاس قریش سے جو معاہدہ ہوا ہے وہ بھی اسی وقت تک باقی رکھا جائے جب تک وہ اس کو نباہتے ہیں۔ اگر وہ اس کو توڑدیتے ہیں تو تم ان ائمہ کفر سے بھی جنگ کرو۔ قریش کے بعض سنگین جرائم کی طرف اشارہ۔ مسلمانوں کو بشارت کہ تم ان سے ڈرو نہیں، لڑو، تمہارے ہاتھوں اللہ ان مظلوم مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا جو ان ظالموں کی قساوت کا ہدف بنے۔ (17 ۔ 22) مشرکین قریش کو بیت اللہ اور مساجد الٰہی پر قابض رہنے کا کوئی حق نہیں مساجد الٰہی کے متولی اور منتظم وہ لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے، نماز قائم کرتے اور زکوۃ دیتے ہیں۔ حاجیوں کو پانی پلا دینا اور حرم کی کچھ دیکھ بھال کردینا نیکی کے کام سہی لیکن یہ نیکیاں اللہ اور آخرت پر ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کا بدل نہیں ہوسکتیں۔ (23 ۔ 28) مسلمانوں کو تنبیہ کہ ان لوگوں سے جنگ کرنے میں رشتہ و قرابت کا پاس ولحاظ مانع نہ ہو جو لوگ ایمان کے تقاضوں پر ان چیزوں کو ترجیح دیں گے ان کا شمار انہی لوگوں کے ساتھ ہوگا۔ اللہ اور رسول کی محبت ہر چیز پر مقدم ہے۔ جنگ حنین اور پچھلے غزوات سے مسلمانوں کو سبق کہ اصل شے خدا کی مدد و نصرت ہے، پس اصلی بھروسہ خدا ہی پر ہونا چاہیے۔ یہ اعلان کہ مشرکین نجس ہیں۔ اس وجہ سے ان کو اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس پھٹکنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مسلمانوں کو یہ اطمینان دہانی کہ اس کا جو اثر تجارت اور معاشی حالات پر پڑے گا اللہ اپنے خزانہ جود سے اس کی تلافی فرمائے گا۔ (29 ۔ 35) اہل کتاب سے جہاد اور ان کو ذمی بنا کر جزیہ وصول کرنے کا حکم۔ ان کے فساد عقائد اور فساد اخلاق کی طرف بعض اشارات۔ ان کے علماء اور صوفیا کے فاسد کردار اور ان کی اسلام دشمنی کا حوالہ۔ (36 ۔ 37) مسلمانوں کو یہ تاکید کہ یہ جنگ و جہاد اگرچہ تمام مشرکین سے من حیث القوم ہو، کسی گروہ کے ساتھ رعایت نہ کی جائے تاہم محترم مہینوں کا احترام ہر حال میں ملحوظ رہے۔ محترم مہینے بحساب سال قمری ملت ابراہیم کی یادگار ہیں۔ اگر تم نے ان کی حرمت کو بٹہ لگایا تو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنوگے۔ نسی کی بدعت کی طرف اشارہ کہ اس بدعت نے ان مہینوں کو ان کے اصل مقام سے ہٹا کر موسموں کے ساتھ باندھ دیا اور یہ کفر میں ایک اضافہ ہے۔ تمہیں مری مہینوں کے حساب پر، جو روز اول سے خدا کے مقرر کیے ہوئے مہینے ہیں، ان چار محترم مہینوں کی حرمت کو برقرار رکھنا ہے۔ (38 ۔ 42) منافقین کو تنبیہ کہ تم جہاد سے جی چراتے ہو، یاد رکھو کہ اگر تم اسی طرح جی چراتے رہے تو تم خدا کا کچھ نہیں بگاڑوگے، اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھانے والے نہ بنوگے۔ خدا تمہاری جگہ اپنے دین کی نصرت کے لیے دوسروں کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ یاد کرو کہ ایک دن وہ بھی گزرا ہے جب ہمارا رسول ایک غار میں پناہ گیر تھا اور اس کے ایک ساتھی کے سوا اور کوئی بھی اس کے ساتھ نہ تھا لیکن پھر وہ دن بھی آیا کہ خدا نے اپنی طرف سے اس پر سکینت نازل فرمائی۔ غیبی فوجوں سے اس کی مدد فرمائی، کفر کا سر نیچا اور اللہ کا کلمہ بلند ہوا۔ پس یہ خدا کی ضرورت نہیں بلکہ تمہاری اپنی سعادت ہے کہ جو سروسامان بھی میسر ہو اس کے ساتھ جہاد کے لیے اٹھو۔ مناقین کے جہاد سے جی چرانے اور جھوٹی قسموں کے بل پر بہانہ سازی کی ایک مثال۔ (43 ۔ 46) ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو محبت آمیز عتاب کہ جہاد سے جی چرانے والوں کے جھوٹے عذرات تم قبول کرلیتے ہو حالانکہ یہ منافق لوگ ہیں۔ اگر یہ چاہیں تو جہاد کے لیے نکلنے کا سامان مہیا کرسکتے ہیں لیکن یہ جھوٹے بہانے بنا کر تمہاری نرمی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ (47 ۔ 52) ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو تسلی کہ جہاد کے لیے تمہارے ساتھ ان منافقین کے نہ نکلنے میں ہی خیر ہے۔ اگر یہ نکلتے تو کوئی نہ کوئی فساد ہی برپا کرتے۔ ان کے دلوں میں خیر خواہی کا کوئی جذبہ نہیں ہے۔ یہ تو ہر پہلو سے تمہارے لیے کسی مصیبت کے متمنی ہیں۔ (53 ۔ 57) ۔ منافقین بادل ناخواستہ دین کے نام پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اللہ کے ہاں اس کی کوئی قیمت نہیں۔ یہ اللہ اور رسول کے منکر ہیں اور ان کا انفاق اور ان کی نماز سب محض نمائش ہے۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت کہ ان کے مال کو کوئی وقعت نہ دو اور ان کی رفاقت کی ذرا پروا نہ کرو۔ یہ بزدل اور ڈرپودک تمہارے ساتھی نہیں بن سکتے۔ (58 ۔ 60) منافقین کے اس گروہ کی طرف اشارہ جو محض صدقات کے مال میں حصہ بٹٓنے کی حد تک پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھی تھا۔ اگر خواہش کے مطابق پا جاتے تو راضی ورنہ پیغمبر کے خلاف طرح طرح کی باتیں بناتے۔ صدقات کے اصل حق داروں کی تفصیل۔ (61 ۔ 66) ۔ ان شریر منافقین کی طرف اشارہ جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف پروپیگنڈا کرتے کہ آپ کان کے کچے ہیں، لوگوں میں آپ کی رائے اور معاملہ فہمی کا مذاق اڑاتے، جب کسی بات پر گرفت ہوتی تو جھوٹی قسمیں کھاتے اور لا یعنی صفائی پیش کرتے۔ (67 ۔ 70) ۔ منافق مردوں اور منافق عورتوں کا کردار اور ان کا نجام دنیا اور آخرت میں۔ (71 ۔ 72) ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ کفار کی طرح ان منافقین کے معاملے میں بھی اب سخت رویہ اختیار کرو کہ تمہاری نرمی سے فائدہ اٹھا کر یہ اسلام کے ساتھ چمٹے نہ رہیں۔ یہ جھوٹی قسموں کے پردے میں اپنے کفر کو چھپائے ہوئے ہیں۔ اللہ کے فضل اور رسول کی کریم النفسی نے ان کو اسلام دشمنی میں اور زیادہ دلیر بنا دیا ہے۔ انہوں نے وعدے کچھ کیے اور ان کا عمل اس کے بالکل خلاف ہوا اور اس چیز نے ان کے نفاق کو پختہ سے پختہ تر کردیا۔ (79 ۔ 84) منافقین کی اس شرارت کا بیان کہ خود تو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے اور اگر اللہ کے مخلص اور غریب بندے اپنی گاڑھی کمائی میں سے خرچ کرتے ہیں تو انکا مذاق اڑاتے اور ان کی دل شکنی کرتے ہیں۔ اسی طرح خود تو جہاد میں نکلنے کے بجائے گھروں میں بیٹھ رہتے ہیں اور جو اللہ کے بندے نکلتے ہیں ان کو گرمی اور سردی کے ڈراوے سنا سنا کر بٹھا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اشرار کے بارے میں وعید الٰہی کا بیان اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے لیے دعا و استغفار کرنے کی شدید ممانعت۔ (85 ۔ 96) ۔ دین کے مطالبات سے جی چرانے والوں کے جھوٹے عذرات کی طرف اشارہ۔ سچے اہل ایمان کے کردار کا بیان۔ ان معذورین کی تفصیل جن کا عذر قابل قبول ہے۔ عذر تراشوں اور بہانہ بازوں کو یہ دھمکی کہ اگر تم پیغمبر اور مومنین کو اپنے خانہ ساز عذرات سے دھوکا دینے میں کامیاب بھی ہوجاؤ جب بھی یہ چیز تمہارے لیے کچھ سود مند نہیں۔ خدائے علام الغیوب کو تم بہرحال ان بہانہ سازیوں سے فریب نہیں دے سکتے۔ (97 ۔ 101) ۔ اعراب یعنی اہل بدو میں جو منافقین تھے ان کی طرف اشارہ اور ان کے اندر جو مخلصین تھے ان کی حوصلہ افزائی۔ سابقون الاولون اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کی تحسین، منافقین اعراب اور منافقین مدینہ دونوں کو دھمکی۔ (102 ۔ 106) ۔ ان لوگوں کو قبولیت توبہ کی بشارت جنہوں نے ان تنبیہا سے متاثر ہو کر اپنے رویہ میں تبدیلی کرلی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی مزید تربیت اور ان کے لیے دعا کی ہدایت۔ اس گروہ کے بعض افراد کی قبولیتِ توبہ کے معاملہ کا التوا۔ (107 ۔ 110) ۔ مسجد ضرار کے بانیوں کو نہایت تند الفاظ میں وعید۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس مسجد میں نماز پڑھنے کی ممانعت۔ (111 ۔ 113) اہل ایمان اور اللہ کے درمیان جو عہد و میثاق ہے اس کی نوعیت کی وضاحت اور اس کے حقیق مقتضیات کا بیان۔ (114 ۔ 116) ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کو شرک پر مرنے والوں کے لیے دعائے استغفار کرنے کی ممانعت اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ رہے ہوں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اپنے باپ کے لیے دعا کی اس کی نوعیت۔ (117 ۔ 118) ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام مخلص مہاجرین و انصار کے لیے عام قبولی توبہ کی بشارت۔ جن لوگوں کی توبہ کی قبولیت کا معاملہ آیت 106 میں ملتوی کیا گیا تھا، رجوع کامل کے بعد ان کی توبہ کی قبولیت کا اعلان۔ (119 ۔ 122) ۔ اہل مدینہ اور اعراب کو راست بازی اور کامل وفاداری کے ساتھ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جاں نثاری کی تلقین۔ اس جاں نثاری کی راہ میں چھوٹی یا بڑی جو تکلیف بھی اہل ایمان اٹھائیں گے اس کے اجر عظیم کا بیان۔ اہل بدو کو یہ ہدایت کہ ان میں سے ہر گروہ کے لوگ اپنے منتخب آدمی حصول تربیت کے لیے مجلسِ نبوی میں بھیجتے رہیں تاکہ یہ لوگ وہاں سے کسب فیض کر کے انی قوت کی تربیت کرسکیں۔ (123 ۔ 129) ۔ مسلمانوں کو یہ عام ہدایت کہ ہر جگہ کے مسلمان اپنے اپنے علاقہ کے کفار سے مصروف جہاد ہوں۔ ان لوگوں کی طرف اشارہ جو قرآن اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مواجہہ سے گریز کرتے تھے۔ پیغمبر کے وجود قدسی کی صورت میں دنیا پر اللہ کی جو عظیم رحمت نازل ہوئی تھی اس کی قدر کرنے کی تلقین۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ناقدروں سے بےپروا ہو کر صرف اللہ پر بھروسہ کرنے کی ہدایت۔ اس فہرست مطالب پر ایک سرسری نظر ڈال کر بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سورة کا ہر جزو نہایت مربوط و نظم ہے اور آغاز سے لے کر انتہا تک باہم دگر ایک فطرت تسلسل کے ساتھ وابستہ و پیوستہ۔ اب ہم توفیق الٰہی کے اعتماد پر سورة کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔ بَرَاۗءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ اِلَى الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ۔ فَسِيْحُوْا فِي الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ مُخْزِي الْكٰفِرِيْنَ ۔ لفظ براءۃ کا مفہوم : براءۃ من اللہ الایہ : براءۃ کے معنی کسی ذمہ داری سے دستبردار اور بری الذمہ ہونے کے ہیں۔ یہاں یہ ان معاہدات کی ذمہ داری سے دستکش ہونے کے معنی میں ہے جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ ہجرت فرمانے کے بعد مشرکین عرب کے مختلف قبائل سے موقت اور غیر موقت نوعیت کے کرلیے تھے۔ ‘ مشرکین ’ سے یہاں بھی اور قرآن میں جہاں جہاں بھی یہ لفظ بشکل علم استعمال ہوا ہے۔ مشرکین بنی اسماعیل یا بالفاظ دیگر مشرکین عرب مراد ہیں۔ ان کے معاہدات کی ذمہ داری سے اس اعلان براءت کی وجہ آگے آیت 3 سے واضح ہوتی ہے کہ بہت سے قبائل نے معاہدات کرنے کو تو کرلیے تھے لیکن ان کو وفاداری اور راستبازی کے ساتھ نباہ نہیں رہے تھے اس وجہ سے اس قسم کے معاہدوں کے کالعدم ہونے کا اعلان کردیا گیا، صرف ان قبائل کے معاہدے باقی رکھے گئے جنہوں نے کوئی عداری یا عہد شکنی نہیں کی تھی اور وہ بھی صرف ان کی قرار دادہ مدت تک کے لیے لفظ براءۃ کے بعد حرف الی جو آیا ہے یہ دلیل ہے اس بات پر کہ یہاں ابلاگ کا مفہوم بھی مضمر ہے۔ یعنی اس دستبرداری کی اطلاع تمام ناقض عہد مشرکین کو پہنچا دی جائے چناچہ بعد والی آیت میں اس کی تصریح بھی آرہی ہے۔ ایک قابل توجہ نکتہ : یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ جہاں تک معاہدہ کرنے کا تعلق ہے اس کی ذمہ داری تو اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ عاھدتم کے لفظ سے واضح ہے تمام سلمانوں پر ڈالی ہے اس لیے کہ پیغمبر کی اٹھاتی ہوئی ذمہ داری تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے لیکن براءت ذمہ کے معاملے میں مسلمانوں کی ذمہ داری معین نہیں فرمائی ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ اس سے اس اعلان براءت کی شدت ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ و رسول تو ان بودے معاہدوں سے بری ہوئے۔ اب اہل ایمان خود فیصلہ کریں کہ انہیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے، اللہ و رسول کا ساتھ دے کر اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہے یا عزیز داری، برادری اور خاندان و قبیلہ کی پاسداری میں نفاق کی روش اختیار کرنی ہے۔ بات کے اس انداز سے کہنے میں مصلحت یہ تھی کہ پس منظر میں، جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے، منافقین بھی تھے جو ابھی اپنے خاندانی و قبائلی بندھنوں سے پوری طرح آزاد نہیں ہوئے تھے۔ ان لوگوں پر اس اسلوب سے یہ حقیقت واضح کردی گئی کہ اللہ اور رسول کی طرف سے یہ فیصلہ قطعی ہے، اس میں کسی لچک کا امکان نہیں ہے، جس کو اس کا ساتھ دینا ہو، ساتھ دے ورنہ اپنی راہ اور اپنی منزل کا خود فیصلہ کرے۔

Ayah 9:1

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

ان مشرکین سے اللہ اور رسول کی طرف سے اعلان براءت ہے جن سے تم نے معاہدے کیے تھے

بَرَاۗءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ اِلَى الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔ فَسِيْحُوْا فِي الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ مُخْزِي الْكٰفِرِيْنَ۔ لفظ براءۃ کا مفہوم : براءۃ من اللہ الایہ : براءۃ کے معنی کسی ذمہ داری سے دستبردار اور بری الذمہ ہونے کے ہیں۔ یہاں یہ ان معاہدات کی ذمہ داری سے دستکش ہونے کے معنی میں ہے جو آنحضرت ﷺ نے مدینہ ہجرت فرمانے کے بعد مشرکین عرب کے مختلف قبائل سے موقت اور غیر موقت نوعیت کے کرلیے تھے۔ ‘ مشرکین ’ سے یہاں بھی اور قرآن میں جہاں جہاں بھی یہ لفظ بشکل علم استعمال ہوا ہے۔ مشرکین بنی اسماعیل یا بالفاظ دیگر مشرکین عرب مراد ہیں۔ ان کے معاہدات کی ذمہ داری سے اس اعلان براءت کی وجہ آگے آیت 3 سے واضح ہوتی ہے کہ بہت سے قبائل نے معاہدات کرنے کو تو کرلیے تھے لیکن ان کو وفاداری اور راستبازی کے ساتھ نباہ نہیں رہے تھے اس وجہ سے اس قسم کے معاہدوں کے کالعدم ہونے کا اعلان کردیا گیا، صرف ان قبائل کے معاہدے باقی رکھے گئے جنہوں نے کوئی عداری یا عہد شکنی نہیں کی تھی اور وہ بھی صرف ان کی قرار دادہ مدت تک کے لیے لفظ براءۃ کے بعد حرف الی جو آیا ہے یہ دلیل ہے اس بات پر کہ یہاں ابلاگ کا مفہوم بھی مضمر ہے۔ یعنی اس دستبرداری کی اطلاع تمام ناقض عہد مشرکین کو پہنچا دی جائے چناچہ بعد والی آیت میں اس کی تصریح بھی آرہی ہے۔ ایک قابل توجہ نکتہ : یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ جہاں تک معاہدہ کرنے کا تعلق ہے اس کی ذمہ داری تو اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ عاھدتم کے لفظ سے واضح ہے تمام سلمانوں پر ڈالی ہے اس لیے کہ پیغمبر کی اٹھاتی ہوئی ذمہ داری تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے لیکن براءت ذمہ کے معاملے میں مسلمانوں کی ذمہ داری معین نہیں فرمائی ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ اس سے اس اعلان براءت کی شدت ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ و رسول تو ان بودے معاہدوں سے بری ہوئے۔ اب اہل ایمان خود فیصلہ کریں کہ انہیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے، اللہ و رسول کا ساتھ دے کر اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہے یا عزیز داری، برادری اور خاندان و قبیلہ کی پاسداری میں نفاق کی روش اختیار کرنی ہے۔ بات کے اس انداز سے کہنے میں مصلحت یہ تھی کہ پس منظر میں، جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے، منافقین بھی تھے جو ابھی اپنے خاندانی و قبائلی بندھنوں سے پوری طرح آزاد نہیں ہوئے تھے۔ ان لوگوں پر اس اسلوب سے یہ حقیقت واضح کردی گئی کہ اللہ اور رسول کی طرف سے یہ فیصلہ قطعی ہے، اس میں کسی لچک کا امکان نہیں ہے، جس کو اس کا ساتھ دینا ہو، ساتھ دے ورنہ اپنی راہ اور اپنی منزل کا خود فیصلہ کرے۔
Ayah 9:2

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

سو اب ملک میں چار ماہ چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم اللہ کے قابو سے باہر نہیں جاسکتے اور اللہ کافروں کو رسوا کر رکے رہے گا

فَسِيْحُوْا فِي الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ الایہ۔ براہ راست مشرکین سے خطاب : اوپر والی آیت کا خطاب مسلمانوں سے تھا، اس آیت میں خطاب کا رخ براہ راست مشرکین کی طرف ہوگیا ہے۔ خطاب کی یہ تبدیلی اس دھمکی کی شدت اور اس کے فیصلہ کن ہونے کی دلیل ہے۔ مسلمانوں کو خطاب کر کے یوں نہیں فرمایا کہ دھمکی مشرکین کو سنا دو بلکہ جس طرح اعلان براءت خود فرما دیا اسی طرح براہ راست مشرکین کو خطاب کر کے فرمایا کہ بس اب چار ماہ کی مہلت تمہیں اور حاصل ہے، اس کے بعد ان لوگوں کے معاہدات کی اللہ و رسول پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے جو اپنے معاہدوں کی خلاف ورزیاں کرچکے ہیں بلکہ ہر قدم پر ان کی داروگیر شروع ہوجائے گی۔ معاہدات میں براءت میں چار ماہ کی مہلت کی مصلحتیں : چار ماہ کی مہلت میں کئی مصلحتیں مد نظر ہوسکتی ہیں۔ یہ مصلحت بھی ہوسکتی ہے کہ معاہدے کے باوجود جو لوگ شرارتیں کر رہے تھے وہ اپنے رویے پر نظر ثانی کرنا چاہیں تو نظر ثانی کرلیں، یہ مصلحت بھی ہوسکتی ہے کہ اس دوران میں مسلمان اپنے اس اہم اقدام سے پوری طرح یک سو، منظم اور تیار ہوجائیں، علاوہ ازیں آیت 5 سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ آگے اشہر حرم آ رہے تھے جن کا احترام کسی جنگی اقدام سے مانع تھا۔ وَّاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ کی وضاحت انفال آیت 59 کے تحت گزر چکی ہے۔
Ayah 9:3

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور اللہ و رسول کی طرف سے بڑے حج کے دن لوگوں میں منادی کردی جائے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الذمہ ہیں تو اگر تم توبہ کرو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر روگردانی کروگے تو جان رکھو کہ تم اللہ سے بھاگ نہیں سکتے اور کافروں کو ایک دردناک عذاب کی خوش خبری پہنچا دو۔

حج کے موقع پر اعلان براءت کی عام منادی۔ وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ اِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِيْۗءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ڏ وَرَسُوْلُهٗ ۭ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ ۭ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِــيْمٍ۔ ‘ اذان ’ یہاں اپنے لغوی مفہوم یعنی اعلان و منادی کے معنی میں ہے۔ ہدایت ہوئی کہ حج اکبر کے دن یہ منادی کرادی جائے کہ اللہ و رسول اس قسم کے معاہدوں سے بری الذمہ ہیں، اب جو توبہ کرلے گا اس کی خیر ہے اور جو روگردانی کریں گے وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں گے۔ حج کے موقع پر منادی کی ہدایت اس وجہ سے ہوئی کہ عرب میں حج ہی کا اجتماع ایک ایسا اجتماع ہوتا تھا جس میں ملک کے کونے کونے سے لوگ جم عہوتے جس کے سبب سے ہر وہ بات جو وہاں پھیل جائے پورے ملک میں پھیل جاتی تھی۔ خاص طور پر سن 9 ہجری کے حج تک چونکہ صورت یہ تھی کہ مشرکین بھی حج کو جاتے تھے اس وجہ سے وہاں کا ہر اعلان سب کے کانوں تک پہنچ جاتا تھا، خواہ مسلمان ہوں یا کفار۔ اسی وجہ سے آیت میں لفظ بھی الی الناس استعمال ہوا ہے جو عام ہے۔ حج اکبر سے کیا مراد ہے ؟۔ حج اکبر سے کیا مراد ہے اور یہ کس سن کے حج کی طرف اشارہ ہے ؟ اس سوال کا جواب مفسرین نے یہ دیا ہے کہ اس سے مراد سن 9 ہجری کا حج ہے جو حضرت ابوبکر صدیق کی امارت میں ہوا۔ ہمارے نزدیک یہ بات ٹھیک ہے۔ اس لیے کہ یہی پہلا موقع ہے جب مسلمانوں کو باقاعدہ حج کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ اس سے پہلے انہیں دو تین مواقع جو ملے ان میں وہ صرف عمرہ کرسکے تھے۔ عمرہ کو حج اصغر (چھوٹا حج) بھی کہتے ہیں۔ اس نسبت سے پورے حج کے لیے حج اکبر (بڑا حج) کا لفظ استعمال ہوا جس میں گویا مسلمانوں کو پہلے سے یہ بشارت بھی دے دی گئی کہ اب تک وہ صرف چھوٹی حج ہی کی سعادت حاصل کرسکے ہیں، آگے ان کو بڑے حج سے بھی سعادت اندوز ہونے کا موقع ملنے والا ہے۔ سورة توبہ کا زمانہ نزول : یہیں سے عام طور پر لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اس سورة کا نزول سن 9 ہجری میں ہوا ہے لیکن اس نتیجہ کے قبول کرنے میں مجھے تردد ہے اس لیے کہ آگے جو آیات آرہی ہیں ان سے، جیسا کہ آپ دیکھیں گے، صاف واضح ہے کہ کم از کم یہ اور آگے کی آیات معاہدہ حدیبیہ کے خاتمہ اور فتح مکہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی ہیں لیکن اعلان براءت کی منادی عام چونکہ آنحضرت ﷺ نے سن 9 ہجری کے حج کے موقعہ پر ہی کرائی اس لیے بعض لوگوں کو یہ گمان گزرا کہ ان آیات کا نزول بھی اسی موقع پر ہوا۔ حالانکہ یہ ایک پیشگی ہدایت تھی اس بات کی کہ جب حج اکبر کی سعادت حاصل کرنے کا موقع آئے تو اس موقع پر اس فیصلہ کی منادی عام بھی کرا دی جائے۔ اس سے ضمناً مسلمانوں کو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، حج سے مشرف ہونے کی بشارت بھی حاص ہوگئی۔ میرے لیے ان آیات کا زمانہ نزول ٹھیک ٹھیک متعین کرنا مشکل ہے۔ اس لیے کہ عرب میں حجۃ الوداع سے پہلے تک دو جنتریاں رائج رہی ہیں، ایک سادہ قمری حساب پر مبنی تھی دوسری نسی کے اس قاعدے پر مبنی تھی جس کی طرف آگے اسی سورة میں اشارہ آئے گا۔ اگر کوئی شخص اس فرق کو معلوم کرسکے جو نسی کے کے قاعدے نے اصل قمری مہینوں میں پیدا کردیا تھا تو وہ ان چار مہینوں کو بھی معین کرسکے گا جو آیت نمبر 2 میں مذکور ہیں اور ان محترم مہینوں کو بھی ٹھیک ٹھیک بتا سکے گا جن کا حوالہ آیت 5 میں ہے۔ اس تحقیق میں اس مسلم حقیقت سے بڑی رہنمائی مل سکتی ہے کہ نبی ﷺ نے سن 10 ہجری میں جو حج کیا وہ قمری حساب سے بھی ٹھیک نویں ذی الحجۃ کو پڑا تھا اور نسی کے حساب سے بھی اس کی تاریخ یہی تھی، گویا دونوں جنتریوں کا قران ہوگیا تھا۔ استدار الزمان کھیئتہ یوم خلوق السموات والارض میں حضور ﷺ نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا تھا۔ میں حساب کتاب کے میدان کا مرد نہیں ہوں اس وجہ سے اس باب میں عزم و جزم سے کچھ کہنا میرے لیے مشکل ہے لیکن قرآن کے الفاط اور اس کے نظم کی روشنی میں اس بات پر میں مطمئن ہوں کہ یہ آیات معاہدہ حدیبیہ کے خاتمہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی ہیں۔ دلائل و قرائن کی تفصیل آئے گی۔
Ayah 9:4

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

وہ مشرکین اس سے مستثنی ہیں جن سے تم نے معاہدہ کیا اور انہوں نے اس میں نہ تم سے کوئی خیانت کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی سو ان کے معاہدے ان کی قرار داد وہ مدت تک پورے کرو، اللہ نقض عہد سے بچنے والوں کو دوست رکھتا ہے

اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّلَمْ يُظَاهِرُوْا عَلَيْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّــوْٓا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ۔ اعلان براءت سے مستثنی مشرکین : یہ ان مشرکین کا بیان ہے جو مذکورہ اعلان سے مستثنی تھے۔ یہ وہ قبائل ہیں جو اپنے عہد پر قائم رہے، نہ خود معاہدے کے خلاف کوئی چھوٹا یا بڑا اقدام کیا۔ نہ مسلمانوں کے خلاف بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی مدد ک۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مذکورہ بالا اعلان ناقضین عہد ہی سے متعلق تھا لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اس سے واجح ہوتی ہے کہ یہ معاہدے بھی صرف ان کی قرار دادہ مدت ہی تک باقی رکھنے کی اجازت ہوئی۔ مدت گزر جانے کے بعد یہ بھی کالعدم۔ آگے کے لیے ان سے کسی نئے معاہدے کی اجازت نہیں دی گئی۔ چناچہ اس اعلان براءت کے بعد نبی ﷺ نے مشرکین کے کسی گروہ سے کوئی معاہدہ نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مشرکین سے جو معاہدے کیے گئے تھے وہ صرف دعوت و تبلیغ اور اتمام حجت کی مصلحت سے کیے گئے تھے۔ مقصود ان کے ساتھ ہمیشہ کے لیے نباہ کرنا نہ تھا۔ یہ سنت الٰہی ہم ایک سے زیادہ مقامات میں واضح کرچکے ہیں کہ جس قوم کی طرف براہ راست رسول کی بعثت ہوتی ہے اگر وہ تبلیغ و دعوت اور اتمام حجت کے بعد بھی رسول کی تکذیب پر اڑی رہتی ہے تو وہ لازماً ختم کردی جاتی ہے۔ خواہ اس کا خاتمہ خدا کے کسی براہ راست عذاب سے ہو یا اہل ایمان کی تلوار سے۔ مشرکین عرب کا معاملہ اسی نوعیت کا تھا۔ اب تبلیغ و دعوت اور اتمام حجت کا دور ان کے لیے ختم ہو رہا تھا اس وجہ سے اب ان کے کسی گروہ کے ساتھ کسی معاہدے کا سوال خارج از بحث تھا۔ اجتماعی تقوی کی وضاحت : اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ میں جس تقوی کا ذکر ہے، یہ انفرادی تقوی نہیں بلکہ اجتماعی و سیاسی تقوی ہے۔ اسلام جس طرح ہر شخص سے انفرادی تقوی کا مطالبہ بھی کرتا ہے اسی طرح مسلمانوں سے من حیث الجماعت اجتماعی اور سیاسی تقوی کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ یعنی مسلمان دوسری قوموں سے جو معاملات اور معاہدات کریں ان میں راست باز، صداقت شعار اور وفادار رہیں، کسی عہد اور قول وقرار کی کوئی ادنی خلاف ورزی بھی نہ کریں۔ خدا ایسے ہی متقیوں کو دوست رکھتا ہے اور خدا جن کو دوست رکھتا ہے۔ وہی دنیا اور آخرت میں برومند اور فائز المرام ہوتے ہیں۔
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

سو جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو ان مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ قتل کرو، ان کو پکڑو، ان کو گھیرو، اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک لگاؤ۔ پس اگر یہ توبہ کرلیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کرنے لگیں تب ان کی جان چھوڑو، بیشک اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ ‘ اشہر حرم ’ اشہر حرم سے مراد ذی قعدہ ذی الحجہ، محرم اور رجب کے مہینے ہیں۔ اشہر حرم، ان مہینوں کے لیے بطور اسم و علم استعمال ہوتا ہے۔ ان کے سوا کوئی اور مہینہ اس لفظ سے مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ مہینے زمانہ جاہلیت بلکہ سیدنا ابراہیم ؑ کے زمانے سے محترم چلے آ رہے تھے۔ ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں کہ یہ حج وعمرہ کے مہینے بھی تھے اور اہل عرب کی بیشتر تجارتی کاروباری نقل و حرکت انہی مہینوں میں ہوتی تھی۔ ان میں لڑنا بھڑنا شرعاً ممنوع تھا اور اہل عرب اپنی جنگ جویانہ طبیعت کے باوجود ان کا احترام برابر ملحوظ رکھتے تھے۔ اوپر آیت 2 میں جو چار ماہ کی مہلت مذکور ہوئی ہے ان میں تین مہینے حرمت والے تھے۔ تین مہینے اس وجہ سے کہ حرمت کے چاروں مہینے یک جا نہیں ہیں۔ تین ایک سلسلہ میں ہیں۔ رجب الگ ہے۔ اگرچہ نسی کے قاعدے کے تحت یہ اپنے اصل مقام سے ہٹے ہوئے تھے تاہم اگر ان تین حرمت والے مہینوں سے پہلے وقت کے مہینوں میں سے شوال کو ملا دیا جائے تو یہ چار مہینے بنجاتے ہیں۔ فرمایا کہ جب محترم مہینے گزر جائیں تو ان ناقض عہد مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کرو، جہاں پاؤ سے مراد، جیسا کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں وضاحت گزر چکی ہے، یہ ہے کہ حدود حرم میں بھی ان سے جنگ و قتال مباح ہے۔ مشرکین عرب کی داروگیر۔ و خذوھم واحصروھم واقعدوا لھم کل مرصد۔ یعنی ان کے خلاف ہر قسم کی جنگ کارروائی کی جائے اور ہر پہلو سے ان کا ناطقہ بند کیا جائے۔ اس شدت کے ساتھ ان کی داروگیر کے اس حکم کی وجہ یہ ہے کہ اس کی نوعیت محض ایک دشمن کے خلاف اقدام کی نہیں تھی بلکہ یہ مشرکین عرب کے لیے اس سنت الٰہی کا ظہور تھا جو رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کے لیے ہمیشہ ظاہر ہوئی ہے اور جس کی تفصیلات سورة اعراف میں بیان ہوئی ہیں۔ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ۔ مشرکین عرب کے لیے دو راہیں : اسلام یا تلوار۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی یہ داروگیر اس وقت تک بند نہ کی جائے جب تک یہ اپنے کفر و شرک سے تائب ہو کر نماز نہ قائم کریں اور زکوۃ نہ ادا کرنے لگ جائیں۔ نماز اور زکوۃ ایک جامع تعبیر ہے۔ اسلام کے نظام عبادت و اطاعت میں داخل ہونے کی۔ جس کے معنی یہ ہوئے کہ اسلام کے بغیر نہ ان کے لیے ذمی یا معاہد بن کر اسلامی نظام میں باقی رہنے کی گنجائش رہی نہ لونڈی غلام بن کر۔ ان کے لیے صرف دو راہیں باقی رہیں۔ یا تو اسلام قبول کریں یا تلوار۔ مشرکین عرب کے ساتھ خاص معاملہ کی وجہ : مشرکین عرب کے ساتھ یہ خاص معاملہ کرنے کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر انہی میں سے ایک رسول بھیجا، انہی کی زبان میں ان پر اپنی کتاب اتاری، اسی ملت کی ان کو دعوت دی گئی جس کے وہ مدعی تھے۔ رسول نے سلسل 23 سال تک ان کو جھنجھوڑا اور جگایا، ان کی ہر مجلس اور ہر بزم میں وہ پہنچا، ان کے ایک ایک دروازے پر اس نے دستک دی۔ ان کے ایک ایک شبہ اور ایک ایک اعتراض کا جواب دیا۔ ان کی تمام الزام تراشیوں، تہمتوں اور عداوتوں کا مقابلہ کیا۔ ان کے مطالبہ پر معجزے بھی دکھائے اور ان کی منتخب کی ہوئی کسوٹیوں پر بھی اپنے کو کھرا اور سچا ثابت کردیا۔ یہاں تک کہ ان کے اندر جو اچھے لوگ تھے وہ اس کے ساتھی بن گئے تو اس سارے اہتمام کے بعد بھی جو لوگ قبول حق پر آمادہ نہیں ہوئے آخر وہ کس لیے باقی رکھے جاتے۔ رسول اتمام حجت کا کام اور آخری ذریعہ ہوتا ہے، جو لوگ اس کے جگانے سے بھی نہیں جاگتے وہ مردہ ہیں اور مردوں کے یہی بہتر ہے کہ وہ دفن کردیے جائیں۔
Ayah 9:6

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر ان مشرین میں سے کوئی تم سے امان کا طالب ہو تو اس کو امان دے دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سن لے، پھر اس کو اس کے امان کی جگہ پہنچا دو۔ یہ اس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں اللہ کی باتوں کا علم نہیں

اتمام حجت کی خاطر آخری رعایت : اوپر والی آیت میں مشرکین کی داروگیر کا جو حکم ہوا ہے، اتمام حجت کی خاطر اس آخری رعایت ہے۔ فرمایا کہ وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰي يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ۔ اس دارو گیر کے دوران میں اگر کوئی شخص امان کا طالب ہو تو اس کو امان کی جگہ پر پہنچا دو تاکہ وہ ٹھنڈے دل سے اپنے معاملہ پر غور کر کے فیصلہ کرسکے کہ وہ اسلام قبول کرتا ہے یا تلوار۔ یہ امان بخشی۔ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے، محض اتمام حجت کے نقطہ نظر سے تھی۔ اس کے معنی یہ نہیں تھے کہ وہ اس داروگیر کے حکم سے امان پا گیا۔ اگر وہ ایمان نہ قبول کرے گا تو اس کے لیے وہی حکم باقی رہے گا جو اوپر بیان ہوا ہے اور جب وہ دوبارہ زد میں آئے گا تو یہ امان اس کے لیے نافع ہوگی، نہ از سرِ نو طلب امان کی اس کے لیے کوئی گنجائش ہی باقی رہے گی۔ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُوْنَ۔ یہ اس رعایت کی وجہ بیان ہوئی ہے کہ چونکہ یہ امی لگ رہے ہیں۔ دین و شریعت سے بیخبر اور نبوت و رسالت سے نا آشنا، اس وجہ سے اس کا امکان ہے کہ اتنے طویل سلسلہ تبلیغ و دعوت کے بعد بھی، کسی کے معاملہ میں اتمام حجت کے پہلو سے کوئی کسر رہ گئی ہو اور چونکہ اس داروگیر کا حکم، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اتمامِ حجت ہی کی بنیاد پر تھا اس وجہ سے ہدایت ہوئی کہ اگر کوئی شخص طالب رعایت ہو تو اس کو رعایت دے دی جائے۔ ہرچند اس میں یہ خطرہ بھی تھا کہ کوئی شخص اس رعایت سے فائدہ اٹھا کر جاسوسی کرے یا دوبارہ حریف بن کر سامنے آئے۔
Ayah 9:7

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

مشرکین کے کسی عہد کی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول پر کس طرح باقی رہ سکتی ہے ؟ ہاں جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس عہد کیا ہے تو جب تک وہ قائم رہیں تم بھی ان کے لیے معاہدے پر قائم رہو، اللہ نقض عہد سے بچنے والوں کو دوست رکھتا ہے

اعلان براءت کے وجوہ : یہ اعلان براءت کے وجوہ اور دلائل بیان ہو رہے ہیں۔ خطاب اگرچہ بظاہر عام ہے لیکن روئے سخن ان مسلمانوں کی طرف خاص طور سے ہے جو مشرکین کے اندر تعلقات اور عزیز داریوں کے باعث اس اعلان سے تشویش میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اس اعلان سے اتنی بات تو ہر شخص کے سامنے آگئی کہ اب حدیبیہ کے اس معاہدے کے دن بھی قریب آ لگے ہیں جس نے مسلمانوں اور قریش کے درمیان ایک دوسرے سے ملنے جلنے کی راہ کھول دی۔ جو لوگ ضعیف الایمان تھے قدرتی طور پر ان کا ایمان ایک سخت آزمائش میں پڑگیا۔ قریش میں گھر گھر ان کی عزیز داریاں تھیں اور وہ توقع لیے بیٹھے تھے کہ ملنے جلنے کا یہ دروازہ کھلا رہے گا اور وہ کفر اور اسلام دونوں کے ساتھ نباہ کرتے رہیں گے۔ اس اعلان نے نہ صرف اس توقع کا ہمیشہ کے لیے یک قلم خاتمہ کردیا بلکہ انہوں نے دیکھا کہ اب وہ وقت سر پر آ رہا ہے کہ انہیں اپنے ان تمام عزیزوں اور رشتہ داروں کے خلاف تلوار سونتنی پڑے گی۔ اس ذہن کے لوگوں کو سامنے رکھ کر فرمایا جا رہا ہے کہ بھلان ان مشرکین کے کسی عہد و پیمان کی کوئی ذمہ داری اللہ و رسول پر کیسے ہوسکتی ہے جن کا حال یہ ہے کہ اگر تم پر کہیں ان کا زور چل جائے تو نہ قرابت کا پاس کریں نہ کسی عہد کا۔ باتوں سے وہ تمہیں خوش کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے دل تمہارے اوپر غم و غصہ سے کھول رہے ہیں ان کی اکثریت بدعہدوں پر مشتمل ہے۔ آایت 7۔ 8 کا دروبست : اس آیت کا دروبست ذرا قابل غور ہے اس کو سمجھ لیجیے۔ کلام کا آغاز تو فرمایا كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖٓ سے لیکن بات پوری کرنے سے پہلے ایک استثنا کا ذکر بطو جملہ معترضہ کردیا کہ اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ ، پھر اس بات کو جو اس جملہ معترضہ کے سبب سے ادھوری رہ گئی تھی از سر نو لیا اور اس کو بعینہ اسی تمہید سے شروع کر کے اس کی تکمیل کی۔ معاہدہ حدیبیہ کی طرف اشارہ : كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖٓ اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ۔ ہمارے نزدیک یہ اشارہ اس معاہدہ کی طرف ہے جو قریش کے ساتھ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہوا تھا۔ اس رائے کے دلائل تو آگے واضح ہوں گے لیکن ایک قرینہ یہاں قابل توجہ ہے۔ وہ یہ کہ اس کا تعارف الذین عاھدتم عند المسجد الحرام سے کیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے جتنے بھی معاہدے ہجرت کے بعد مشرکین کے ساتھ کیے ان میں سے اگر کوئی معاہدہ مسجد حرام کی نسبت کے ساتھ تعارف کا سزوار ہوسکتا ہے تو وہ صرف حدیبیہ کا معاہدہ ہی ہوسکتا ہے۔ اس لیے کہ یہی معاہدہ مسجد حرام کے قرب و جوار میں طے پایا تھا۔ اس نسبت کے اظہار سے ایک طرف تو معاہدے کا تعارف ہوگیا۔ دوسری طرف اس سے اس کی غیر معمولی حرمت بھی واضح ہوئی کہ کوئی ایسا ویسا معاہدہ نہیں ہے بلکہ اس کی تکمیل جوار حرم میں ہوئی ہے جس سے زیادہ کوئی دوسری جگہ مقدس و محترم نہیں ہوسکتی۔ ہم کسی دوسرے مقام میں اس بات کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ اہل عرب بالعموم اپنے معاہدات اپنے معبدوں اور استھانوں کے سامنے کرتے تھے تاکہ فریقین کے اندر معاہدات کے احترام کا جذبہ پیدا ہو۔ معاہدہ حدیبیہ کی پابندی کی ہدایت : فرمایا کہ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ یعنی جب تقریش اس معاہدے پر قائم رہیں تم بھی اس پر قائم رہو۔ اگر وہ اس کو توڑدیں تم بھی اس کو توڑ دو۔ کوئی معاہدہ یک طرفہ قائم نہیں رہتا۔ دونوں پارٹیاں مل کر اس کو قائم رکھتی ہیں۔ یہی تقاضائے عدل ہے اور اسلام اسی کا تمہیں حکم دیتا ہے۔ ان اللہ یحب المتقین۔ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے ہی عدل پسندوں کو دوست رکھتا ہے۔ معاہدات سے متعلق تین باتیں : اوپر کی آیت سے اس وقت تک کے ان تمام معاہدات کے بارے میں جو آنحضرت ﷺ اور مشرکین کی مختلف پارٹیوں کے درمیان طے پائے تھے تین باتیں واضح ہوئیں۔ 1۔ جن مشرکین نے معاہدات کی خلاف ورزیاں کی تھیں ان سے اعلان برات اور چار ماہ کی مہلت کے بعد ان سے جنگ۔ 2۔ جنہوں نے اپنے معاہدات پوری وفاداری سے نبا ہے تھے اور ان کے معاہدات موقت تھے، اختتام مدت کے بعد یہ معاہدات بھی ختم۔ معاہدہ حبدیبیہ کی خاص نوعیت : 3۔ معاہدہ حدیبیہ کو اس وقت تک قائم رکھنے کی ہدایت جب تک قریش اس کو قائم رکھیں۔ یہ یاد رہے کہ معاہدہ حدیبیہ غیر موقت تھا اور ان آیات کے نزول کے وقت تک معلوم ہوتا ہے قریش لشتم پشتم اس کو نباہ رہے تھے اس وجہ سے قدرتی طور پر اس کے متعق بہت سے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا ہوگا کہ چار ماہ کی مذکورہ مدت گزرنے کے بعد اس کا کیا انجام ہوگا ؟ یہ اسی سوال کا جواب ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی دوران میں قریش نے آنحضرت ﷺ کے حلیف بنی خزاعہ کے خلاف اپنے حلیف بنی بکر کی مدد کر کے اس معاہدہ کی بھی خلاف ورزی کی جس کے نتیجہ میں آنحضرت ﷺ نے مکہ پر فوج کشی کی اور اس کو فتح کرلیا۔
Ayah 9:8

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

کس طرح باقی رہ سکتی ہے جب کہ حال یہ ہے کہ اگر وہ کہیں تمہیں دبا پائیں تو نہ تمہارے بارے میں کسی قرابت کا پاس کریں نہ عہد کا۔ وہ تمہیں باتوں سے مطمئن کرنا چاہتے ہیں، پر ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور ان کی اکثریت بد عہد ہے

فرمایا كَيْفَ وَاِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً الایہ۔ معاشرتی و سیاسی تعلقات کی بنیادیں : تعلقات کی بنیاد دو ہی چیزیں پر ہوتی ہے۔ معاشرتی تعلقات کی بنیاد رشتہ رحم و قرابت کے پاس ولحاظ پر اور سیاسی روابط کی بنیاد باہمی معاہدات کی عائد کردہ ذمہ داریوں کے احترام پر۔ پہلی کو ’ ال ‘ سے تعبیر فرمایا ہے جو ان حقوق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ایک اصلی و نسلی، ایک جوہر و معدن سے ہونے یا قرابت اور پڑوس کی بنا پر ایک دوسرے پر آپ سے آپ قائم ہوجاتے ہیں۔ دوسری کو ذمہ سے تعبیر فرایا ہے جو ان ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کسی معاہدہ میں شریک ہونے والی پارٹیوں پر ازروئے معاہدہ عائد ہوتی ہیں۔ فرمایا کہ اس اعلان براءت سے تم سے تم میں سے کوئی اس تشویش میں مبتلا نہ ہو کہ اب ان لوگوں کے ساتھ تمام معاشرتی اور اجتماع تعلقات ختم ہو رہے ہیں۔ یہ ختم ہو رہے ہیں تو اب ان کو ختم ہی ہونا تھا۔ تعلقات کبھی بھی یک طرفہ قائم نہیں رہتے۔ تم میں سے جو لوگ ان تعلقات کو عزیز رکھتے ہیں انہیں یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہیے کہ وہ اگر تم پر کبھی قابو پاجائیں گے تو نہ قرابت مندی کا لحاظ رکھیں گے نہ کسی معاہدے کا۔ ملاقاتوں میں یہ جو چکنی چپڑی باتیں کرتے ہیں وہ محض زبانی ہمدردی کی نمائش اور تمہیں بیوقوف بنانے کی ایک کوشش ہے ورنہ حقیقت میں ان کے دل ان کی زبان سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ ان کے دلوں کے اندر تمہارے اور تمہارے دین کے خلاف عناد بھرا ہوا ہے۔ وَاَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ : فسق کا مفہوم : یعنی جس طرح ان کی قرابت داری محض زبانی اور نمائشی ہے اسی طرح اپنے عہد و پیمان کے معاملے میں بھی یہ بالکل جھوٹے اور غدار ہیں۔ ان کی اکثریت عہد شکن ہے۔ فسق کا لفظ یہاں غداری اور عہد شکنی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور قرآن میں اس لفظ کا استعمال اس معنی میں معروف ہے۔ جس طرح اوپر تقوی کا لفظ پاس عہد کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے اسی طرح یہاں ‘ فسق ’ کا لفظ نقض عہد کے لیے استعمال ہوا ہے۔
Ayahs 9:9–11

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

انہوں نے اللہ کی آیات کے عوض میں ایک نہایت حقیر قیمت اختیار کرلی ہے۔ اور اس طرح وہ اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، بیشک بہت ہی برا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

اور اس طرح وہ اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، بیشک بہت ہی برا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں کسی صاحب ایان کے معاملے میں نہ ان کو کسی قرابت کا پاس ہے اور نہ کسی عہد کا اور یہی لوگ ہیں جو حدود کو توڑنے والے ہیں

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

پس اگر وہ توبہ کریں، نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم آیات کی تفصیل کیے دے رہے ہیں ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں

تفسیر آیات 9 تا 11:۔ اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭاِنَّهُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ۔ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ ۭوَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۔ اعلان براءت کے وجوہ کی مزید وضاحت : یہ اعلان براءت کے وجوہ کی مزید وضاحت ہے کہ ان مشرکین کا معاملہ خالق اور خلق کسی کے ساتھ بھی درست نہیں۔ ان کے لیے اللہ کی ہدایت اتری تو انہوں نے اس کے مقابل میں اس دنیا کی متاع حقیر کو ترجیح دی، خود بھی اس سے منہ موڑا اور دوسروں کو بھی، جن پر ان کا بس چلا، اس سے روکا۔ خلق کے ساتھ ان کے معاملے کی نوعیت یہ ہے کہ کسی مسمان کے معاملے میں ان کو نہ رحم اور قرابت کا پاس ہے نہ عہد و ذمہ کا۔ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ ، یعنی حقوق تلف کرنے اور حدود توڑنے میں انہی نے سبقت کی ہے تو ایسے بدعہدوں اور ایسے ظالموں کے ساتھ اللہ و رسول کا کوئی عہد کیسے رہ سکتا ہے۔ اب ان کے لیے بس یہی راہ ہے کہ توبہ کریں، نماز قائم کریں، زکوۃ ادا کریں تو تمہارے دینی بھائی بن جائیں گے۔ ۭوَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ میں فی الجملہ تنبیہ کا مضمون ہے مسلمانوں اور کفار دونوں کے لیے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ جاننا اور سمجھنا چاہیں ان کے لیے اس باب میں اللہ کے احکام کی پوری وضاحت کردی گئی ہے۔ کوئی ابہام باقی نہیں رہا ہے۔ اب اگر مسلمانوں میں سے کسی نے ان مشرکین کے ساتھ اس سے الگ ہو کر کوئی معاملہ کرنا چاہا تو اس کی ذمہ داری کود اسی پر ہے، اسی طرح مشرکین میں سے اگر کسی نے اس سے کچھ الگ امید باندھی تو اس کی ذمہ داری بھی خود اسی پر ہے۔
Ayahs 9:12–15

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر عہد کرچکنے کے بعد یہ اپنے قول وقرار توڑ دیں اور تمہارے دین پر نیش زنی کریں تو تم کفر کے ان سرخیلوں سے بھی لڑو۔ ان کے کسی قول وقرار کا کوئی وزن نہیں تاکہ یہ اپنی حرکتوں سے باز آئیں

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

بھلا تم ایسے لوگوں سے نہ لڑوگے جنہوں نے اپنے قول وقرار توڑ دیے، اور رسول کو نکالنے کی جسارت کی، اور وہی ہیں جنہوں نے اپنے قول وقرار توڑ دیے، اور رسول کو نکالنے کی جسارت کی، اور وہی ہیں جنہوں نے تم سے جنگ چھیڑنے میں پہل کی ! کیا تم ان سے ڈرو گے ؟ اصلی حق دار تو اللہ ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم واقعی مومن ہو

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

تم ان سے لڑو، اللہ تمہارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا، ان کو رسوا کرے گا، تم کو ان پر غلبہ دے گا، اہل ایمان کے ایک گروہ کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور ان کے دلوں کا غم و غصہ دور فرمائے گا اور جن کو چاہے گا اللہ توبہ کی توفیق دے گا اللہ علم و حکمت والا ہے

تفسیر آیات 12 تا 15: وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ۔ اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔ قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ۔ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۭ وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ قریش کے باب میں ہدایات : وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ۔ یہ اوپر آیت 7 سے متعلق ہے۔ وہاں فرمایا تھا کہ جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا ہے جب تک یہ لوگ اس پر قائم رہیں تم بھی اس پر قائم رہو۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر قریش بھی اپنا معاہدہ تور دیں تو تم ان ائمہ کفر سے بھی لڑو۔ ائمہ کفر کا اطلاق عرب میں ظاہر ہے کہ قریش کے سوا کسی اوپر نہیں ہوسکتا تھا۔ دین کے معاملہ میں سارا عرب انہی کے تابع تھا۔ پیشوائی اور سرداری کا مقام انہی کو حاصل تھا۔ قریش کے لیے اس لقب کے استعمال میں ان کے خلاف جہاد کی ایک مضبوط دلیل بھی ہے کہ سارے کفر کے امام و سرغنہ جب یہ ہیں تو ان سے نہ لڑوگے تو کس سے لڑوگے۔ اسلام کے خلاف طعن و طنز اور استخفاف کے جتنے تیر و نشتر اور جتنے پروپیگنڈے اور اشغلے ایجاد ہوتے تھے سب انہی کے کارخانے میں ڈھلتے تھے، پھر انہی سے دوسروں میں پھیلتے تھے۔ اسی چیز کی طرف وطعنوا فی دینکم میں اشارہ ہے۔ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ بطور جملہ معترضہ ہے اور لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ اصل سلسلہ کلام سے مربوط ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے عہد و پیمان کا کوئی وزن نہیں۔ یہ زیادہ دیر اس کو نباہ نہ سکیں گے۔ آج نہیں تو کل یہ اس کو توڑ دیں گے تو جب بھی اس کو توڑ دیں تم ان سے جنگ کرو تاکہ یہ اپنی شرارتوں سے باز آئیں۔ ان کے باز آنے کا مفہوم وہی ہے جو اوپر کی آیات سے واضح ہوچکا ہے کہ توبہ کریں اور اسلام لائیں۔ نقض عہد کے بعد قریش سے قتال کی ہدایت : اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ۔ یہ قریش کے خلاف مسلمانوں کو جنگ پر ابھارا ہے اور قرینہ دلیل ہے کہ آیت کچھ فصل سے نازل ہوئی ہے اوپر والی آیت میں تو وان نکثوا کے الفاظ تھے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی معاہدہ کم از کم رسمی طور پر باقی تھا۔ لیکن اس آیت میں نکثوا ایمانہم کے الفاظ آئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ انہوں نے معاہدہ توڑ دیا۔ اس معاہدہ کے تورنے کی شکل، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ ہوئی کہ قریش نے نبی ﷺ کے حلیفوں کے خلاف اپنے حلیفوں کی مدد کی۔ قریش کے جرائم : وھمو باخراج الرسول : نقض عہد کے جرم کے ساتھ ان کے بعض پچھلے جرائم کی طرف بھی اشارہ کردیا۔ خاص طور پر ان جرام کی طرف جو انہوں نے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف کیے۔ ان میں سب سے زیادہ سنگین جرم اللہ کے رسول کو جلا وطن کرنے کا جرم تھا۔ یہ جرم ایک ایسا جرم ہے کہ اس کے ارتکاب پر، جیسا کہ پچھلی سورتوں میں وضاحت ہوچکی ہے، فیصلہ کن عذاب آجایا کرتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ سنت الٰہی کے مطابق عذاب کے مستحق ہیں، کیا تم ان سے جنگ کرنے سے جی چراؤ گے ؟ اس جرم کا ذکر ھموا باخراج الرسول، کے الفاظ سے فرمایا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ ان کا اصل جرم یہ ہے کہ انہوں نے رسول کے جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ جسارت ہی بجائے خود ایک جرم عظیم ہے۔ رہا رسول کا نکلنا تو وہ تمام تر اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی حکمت و مشیت کے تحت ہوتا ہے۔ وھم بدء وکم اول مرۃ۔ یعنی صرف رسول کے جلا وطن کرنے کی جسارت ہی پر بس نہیں کیا بلکہ اس کے بعد جنگ چھیڑنے میں بھی پہل انہی نے کی۔ ظاہر ہے کہ یہ اشارہ جنگ بدر کی طرف ہے جس پر تفصیلی بحث انفال میں گزر چکی ہے۔ ان الفاظ سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے جو ہم پیچھے واضح کرچکے ہیں کہ جنگ بدر کے لیے پیش قدمی تمام تر قریش کی طرف سے ہوئی۔ قافلہ تجارت کی حفاظت کا انہوں نے محض ایک بہانہ پیدا کیا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ مذکورہ جرائم اصلاً قریش ہی کے جرائم تھے اس وجہ سے ان آیات کا تعلق قریش ہی سے ہوسکتا ہے۔ اس سے ہمارے اس خیال کی تائید ہوتی ہے جو یچھے ہم نے اس سورة کے زمانہ نزول سے متعلق ظاہر کیا ہے۔ کمزور قسم کے مسلمانوں کو تنبیہ : اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔ خطاب اگرچہ عام ہے لیکن روئے سخن خاص طور پر کمزوروں اور منافق قسم کے لوگوں کی طرف ہے۔ یہ لوگ، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کرچکے ہیں اور آگے تفصیل آرہی ہے، قریش کے ساتھ جنگ کے معاملے میں بہت ہراساں تھے اور اس کی وجہ جنگ سے زیادہ یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے پچھلے تعلقات و روابط کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ان کے دل کسی طرح اس بات پر راضی نہیں ہوتے تھے کہ یہ تعلقات یک قلم ختم ہو کے رہ جائیں۔ فرمایا کہ تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ ڈرنے کا زیادہ حق دار اللہ ہے۔ اگر ایمان کے مدعی ہو تو تمہیں دوسروں کے تعلقات سے زیادہ اپنے اس تعلق کا اہتمام ہونا چاہیے جو تم اللہ سے رکھنے کا دعوی کرتے ہو۔ مقابلے میں دشمن کی رسوائی کی بشارت : قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ۔ یہ مسلمانوں کی عموماً اور کمزور مسلمانوں کی خصوصاً حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ تم ان ائمہ کفر سے جنگ کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ہاتھوں ان کو عذاب دینے اور ان کو رسوا کرنے کا فیصلہ فرما لیا۔ ہم پیچھے اس سنت الٰہی کا ذکر کرچکے ہیں کہ جو قوم اپنے رسول کی تکذیب پر اڑجاتی ہے، رسول کی ہجرت کے بعد اس پر لازماً عذاب آجاتا ہے۔ اگر رسول پر ایمان لانے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہوتی ہے تو یہ عذاب براہ راست خدا کی طرف سے آتا ہے۔ اور اگر ایمان لانے والوں کی تعداد معتد بہ ہوتی ہے تو پھر انہی اہل ایمان کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ اس قوم کو عذاب دیتا ہے اور ان کو رسوا کرتا ہے۔ یہ رسوائی بھی اس عذاب کا خاص حصہ ہوتی ہے، اس لیے کہ تکذیب رسول کا اصل محرک، جیسا کہ اپنے مقام میں واضح ہوچکا ہے، استکابر ہے اور استکبار کی سزا رسوائی ہے۔ مظلوم مسلمانوں کی دلداری : وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ میں ان مسلمانوں کی دلداری ہے جو بےبس و بےکس ہونے کے سبب سے قریش کے شریروں اور سنگ دلوں کے ہاتھوں مکہ میں سنگ دلانہ مظالم کے ہدف بنے تھے۔ فرمایا کہ اللہ ت عالیٰ تمہارے ہاتھوں ان سنگ دلوں کو اس طرح ذلیل و خوار کرے گا کہ ان کے اس عبرت انگیز انجام کو دیکھ کر ان لوگوں کے کلیجے ٹھنڈے ہوجائیں گے جو اسلام لانے کے جرم میں ان اشقیاء کے ہاتھوں ستائے گئے تھے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اعدائے حق کے خلاف دل میں غم و غصہ کا پایا جانا اور ان کی بربادی پر خوش ہونا ان لوگوں کے لیے بالکل روا ہے جو ان پر حق کی حجت تمام کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہوچکے ہو۔ اپنے اعزہ و اقارب کے ایمان کے آرزومند مسلمانوں کے لیے بشارت : وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۭ وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ میں ایک لطیف اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ان لوگوں کے اندر سے ابھی کچھ لوگوں کو توبہ کی توفیق نصیب ہوگی اور وہ ایمان سے مشرف ہوں گے۔ یہ ایک قسم کی خوش خبری ہے ان مسلمانوں کے لیے جو اپنے عزیزوں اور قریبوں کے ایمان کے آرزو مند تھے۔ فرمایا کہ مطمئن رہو۔ اگر اس گھورے میں رلے ملے کچھ اور جواہر ریزے بھی ہوئے تو اللہ ان کو بھی چن لے گا۔ علی من یشاء اور واللہ علیم حکیم سے اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ فرما دیا ہے جو توفیق توبہ کے معاملے میں اللہ تعالیٰ پسند فرمائی ہے اور جس کی وضاحت اس کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات میں ہوچکی ہے۔
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو چھانٹا ہی نہیں جنہوں نے ہاد کیے اور اللہ و رسول اور مومنین کے سوا کسی کو جنہوں نے دوست نہیں بنایا اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔ ولیجہ، بطانۃ الاسنان و خاصۃ او من یتخذہ معتمدا علیہ من غیر اھلہ۔ یعنی محرم راز، دوست اور معتمد۔ اوپر ہم اشارہ کر آئے ہیں کہ ہرچند یہاں خطاب باعتبار الفاظ ام ہے لیکن روئے سخن ان مسلمانوں ہی کی طرف ہے جو ابھی اپنے سابق روابط و تعلقات کے بندھنوں سے پوری طرح آزاد نہیں ہوئے تھے اس وجہ سے ان کے لیے یہ اعلان براءت ایک سخت آزمائش بن گیا۔ ان کو خطاب کر کے فرمایا کہ یہ اعلان ایک کسوٹی ہے جو تمہارے کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کردے گی کہ کون لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے والے اور ایسے بےلاگ ہیں کہ انہیں اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے سوا کسی کی دوستی اور قرابت کی کوئی پروا نہیں ہے اور کون لوگ دوسروں کی خاطر اللہ و رسول اور اہل ایمان کو نظر انداز کردینے والے ہیں۔ یہ امتحان ایک سنت الٰہی ہے جس سے ایمان کا دعوی کرنے والوں کو لازماً گزرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے اعمال سے اچھی طرح باخبر ہے لیکن اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ امتحان کی کسوتی پر پرکھ کے غث و سمین کو نمایاں اور اہل ایمان کی تطہیر کرتا رہتا ہے۔ اگر تمہارا گمان یہ تھا کہ تم ایمان کا دعوی کر کے یوں ہی چھوڑ دیے جاؤ گے تو یہ خیال غلط تھا۔ اب تمہاری جانچ کا مرحلہ آگیا کہ تم میں کون اللہ و رسول اور اہل ایمان کا وادار ہے اور کون محض جھوٹا مدعی ہے۔ اہل ایمان کا دشمن اللہ و رسول کا دشمن ہے : یہاں یہ بات خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کی ہے کہ اللہ اور رسول اور اہل ایمان کا ذکر ایک ہی ساتھ ہوا ہے جس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اس میں تقسیم کی گنجائش نہیں ہے۔ جو شخص اللہ کا وفادار ہونے کا مدعی ہے اس پر واجب ہے کہ وہ اس کے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کا بھی اپنے آپ کو وفادار ثابت کرے۔ اگر کوئی شخص اہل ایمان کے مقابل میں کسی اور کو اپنا دوست اور معتمد بناتا ہے تو وہ خدا اور رسول کا بھی ساتھی نہیں ہے اگرچہ وہ کتنی ہی بلند آہنگی سے اس کا دعوی کرے۔ یہ مضمون نہایت وضاحت سے آگے آیات 23۔ 24 میں بھی آرہا ہے۔ لفظ علم یعلم کے مفہوم پر دوسرے مقام میں بحث ہوچکی ہے۔
Ayahs 9:17–22

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مساجد الٰہی کا انتظام کریں در آنحالیکہ وہ خود اپنے کفر کے گواہ ہیں۔ ان لوگوں کے سارے اعمال ڈھے گئے اور دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے تو یہی ہیں

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

مساجدِ الٰہی کے انتظام کرنے والے تو بس وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں، نماز قائم کرتے ہوں، زکوۃ دیتے ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، یہ لوگ توقع ہے کہ راہ یاب ہونے والے بنیں۔

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے انتظام کو ان لوگوں کے عمل کے ہم رتبہ کردیا ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیے اللہ کے نزدیک یہ دونوں برابر نہیں ہوں گے۔ خدا ظالموں کو راہ یاب نہیں کرے گا

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو ایمان لائے، جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جنہوں نے اپنے جان و مال سے جہاد کیا، ان کا درجہ اللہ کے ہاں بڑا ہے اور وہی لوگ فائز المرام ہونے والے ہیں

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا رب ان کو خوش خبری دیتا ہے، اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسے باغوں کی جن میں ان کے لیے ابدی نعمت ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

ان کا رب ان کو خوش خبری دیتا ہے، اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسے باغوں کی جن میں ان کے لیے ابدی نعمت ہے

تفسیر آیات 17۔ 22:۔ آیت 17: مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ ۭاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ۔ جزوی نیکی اصل مقصود کی قائم مقام نہیں ہوسکتی : اوپر کے پیرے میں مشرکین قریش کے ان جرائم کی طرف اشارے کیے گئے ہیں جو ان کو اعلان براءت اور جنگ کا سزاوار قرار دیتے ہیں۔ اب یہ تولیت بیت اللہ کے سلسلہ میں ان کی بعض خدمات کا حوالہ دے کر یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ ان کی یہ خدمات بالکل بےحقیقت اور بےوزن ہیں۔ انکی بنیاد پر یہ ہرگز اس کے بات کے سزاوار نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی رعایت کی جائے۔ کوئی خدمت اور نیک یا سوقت معتبر ہوتی ہے جب وہ اصل مقصود کے تحفط کے ساتھ ہو۔ اگر اصل مقصد برباد ہوجائے تو کوئی جزوی نیکی اصل کی مقصود کی قائم مقام نہیں ہوسکتی۔ ایک مسجد کا متولی اگر مسجد کو بت خانہ بنا دے تو مجرد اس بنا پر وہ کسی کریڈت کا سزاوار نہیں قرار دیا جاسکتا کہ اس نے مسجد میں پانی اور لوٹے کا انتظام کر رکھا ہے۔ مسجد میں پانی اور لوٹے کا انتظام بجائے خود ایک اچھا کام ہے لیکن ایسا کام نہیں ہے کہ اس کی خاطر کسی کے اس حق کو تسلیم کرلیا جائے کہ وہ مسجد کو بت خانہ بنائے رکھے اور متولی بنا رہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قریش بھی اپنی ان خدمات پر نازاں تھے اور ان کے دوسرے ہمدرد بھی ان کے ان کاموں کو قابل لحاظ سمجھتے تھے۔ خاص طور پر جب ان کے خلاف اعلان جنگ ہوا تو وہ مسلمان بھی، جو ابھی اچھی طرح یکسو نہیں ہوئے تھے، یہ سوچنے لگ گئے کہ یہ لوگ خانہ کعبہ کے متولی ہیں اس کی خدمت کرتے ہیں، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اس وجہ سے یہ رعایت کے حق دار ہیں، ان کے ساتھ اتنا سخت معاملہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے آگے یہ دو ٹوک فیصلہ رکھ دیا جائے کہ اسلام قبول کریں یا تلوار۔ یہ ذہنیت ایک فاسد ذہنیت تھی جو ایک طرف تو مکذبین رسول کے لیے ایک عذر فراہم کرتی تھی، دوسری طرف اس سے ایک نہایت مکروہ قسم کے نفاق کے پرورش پانے کا امکان تھا اس وجہ سے قرآن نے اس فساد کی اصلاح کی تاکہ ایک غلط تصور دین مسلمانوں کے اندر جڑ نہ پکڑنے پائے۔ مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ۔ ’ عمر یعمر ‘ مکان بنانے، کسی زمین کو آباد کرنے، کسی گھر کو بسانے اور اس کا انتظام کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ ”مشرکین“ کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں اس عام سے مراد قریش ہیں جو بیت اللہ کی تولیت کے مدعی تھے۔ نام کی بجائے وصف سے ان کے ذکر کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ یہ حکم عام ہوجائے اور اس کی علت بھی واضح ہوجائے۔ ‘ مساجدا للہ ’ سے مراد اگرچہ مسجد حرام ہی ہے، چناچہ آیت 19 میں اس کی وضاحت بھی ہوگئی ہے لیکن اس کو جمع کے لفظ سے تعبیر فرما اس لیے کہ مسجد حرام کا معاملہ تنہا مسجد حرام ہی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ تمام مساجد الٰہی کا معاملہ ہے۔ یہی تمام مساجد کی اصل، سب کا مرکز و محور اور سب کا قبلہ ہے۔ اس کے انتظام و انصرام، اس کے مقصد اور اس کی دعوت میں کوئی فساد پیدا ہوجائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ تمام ہدایت وسعادت اور ساری خیر و برکت کا مرکز ہی درہم برہم ہوگیا۔ فرمایا کہ مشرکین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مسجد حرام کے، جو تمام مساجد الٰہی کا مرکز اور قبلہ ہے منتظم بنے رہیں جب کہ وہ خود اپنے کفر کے گواہ ہیں۔ کفر سے مراد یہاں ان کا شرک ہی ہے۔ شرک کو کفر سے تعبیر کر کے دین کی یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ شرک کے ساتھ خدا کو ماننا بالکل اس کے نہ ماننے کے ہم معنی ہے۔ خدا کا ماننا صرف وہ معتبر ہے جو توحید کے ساتھ ہو بالخصوص اس شرک کے ساتھ تو ایمان باللہ کے جمع ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے جس کا کھلم کھلا اقرار و اظہار ہو۔ مشرکین عرب کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے ہاں شرک کی نوعیت یہ نہیں تھی کہ ان کے کسی قول یا عمل سے شرک ایک لازمی نتیجہ کے طور پر پیدا ہوتا ہو بلکہ شرک کو بطور دین اور عقیدہ کے انہوں نے اختیار کیا تھا۔ یہ ان کے تصور الوہیت کا ایک غیر منفک حصہ تھا۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ اس کفر کے علم بردار ہوں ان کو یہ حق کسی طرح نہیں پہنچتا کہ وہ اس گھر کی تولیت پر، جو دنیا میں توحید اور خالص خدا پرستی کا سب سے پہلا گھر اور تمام مساجد الٰہی کا قبلہ ہے، قابض رہیں۔ ان کا اس گھر کا منتظم بنے رہنا کوئی نیکی نہیں ہے جو ان کے حق میں سفارش بنے بلکہ ایک بہت بڑی بدی ہے جس سے اس گھر کو پاک کرنا اہل ایمان کا اولین فریضہ ہے۔ شرک کے ساتھ ہر نیکی برباد : ۭاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ۔۔ اعمال سے یہاں ان کے وہی اعمال مراد ہیں جن کو لوگ نیکی اور خدمت دین کے کام شمار کرتے تھے۔ فرمایا کہ ان کے یہ سارے اعمال ڈھے جائیں گے اور یہ لوگ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی بھی نیکی نہیں رہ جاتی۔ خدا کے ہاں صرف وہی نیکی باقی رہتی ہے جو توحید کے ساتھ ہو۔ مذہبی صحیفوں میں مشرک کو زانیہ عورت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جس طرح ایک عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ سارا چاؤ پیار بیکار ہے اگر وہ بدکار ہے اسی طرح بندے کا سارا کیا دھرا برباد ہے اگر وہ اپنے رب کا کسی کو شریک ٹھہراتا ہے۔ مساجد الٰہی کی تولیت کے اصلی حق دار۔ اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ : اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ بیت اللہ اور مساجد الٰہی کی تولیت کے اصل حق دار کون لوگ ہیں۔ فرمایا کہ صرف وہ لوگ اس کے حق دار ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں، جو نماز قائم کریں اور جو زکوۃ ادا کریں۔ ظاہر ہے ان تمام صفات کے حامل اگر تھے تو مسلمان تھے نہ کہ مشرکین۔ لیکن مسلمانوں کا نام لینے کے بجائے صرف ان صفات کا ذکر فرمایا جو منصب تولیت کے لیے بنیادی شرائط کی حیثیت رکھتی تھیں تاکہ یہ حقیقت اچھی طرح سے واضح ہوجائے کہ یہ منصب کسی گروہ یا خاندان کا اجارہ نہیں ہے بلکہ یہ تمام تر چند صفات اور فرائض کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر یہ صفات مفقود ہوں تو کوئی گروہ اس منصب کا دعوے دار نہیں ہوسکتا۔ ولم یخش الا اللہ، شرک کی نفی کے لیے ہے یعنی ان کے اندر کسی غیر اللہ کا خوف نہ پایا جاتا ہو۔ ظاہر ہے یہاں خوف سے مراد وہ خوف ہے جو کسی غیر اللہ کو بذات خود نافع و ضار ماننے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ خوف شرک ہے۔ یہاں شرک کی نفی اس کے اصل محرک کی نفی سے کی ہے۔ ہم اپنی کتاب“ حقیقت شرک ”میں یہ بات وضاحت سے لکھ چکے ہیں کہ شرک کا اصل سبب یہ خوف ہی ہوتا ہے۔ فائز المرام گروہ : فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ۔ اھتداء کا لفظ یہاں ہدایت منزل کے مفہوم میں ہے۔ یعنی جو مذکورہ صفات کے حامل ہوں گے انہی کے باب میں یہ توقع ہے کہ وہ منزل پر پہنچیں اور بامراد وہ فائز المرام ہوں۔ لفظ کے اس مفہوم کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کرچکے ہیں۔ اس بات کو ‘ عسی ’ کے لفظ سے تعبیر کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ یہ راہ کوئی آسان راہ نہیں ہے۔ اس میں قدم قدم پر مشکلات اور آزمائشیں ہیں۔ صرف وہی لوگ جادہ مستقیم پر استوار رہ سکتے ہیں جن کے پاس توفیق الٰہی کا زاد راہ ہو اور جن کو خدام سے استعانت کا سہارا حاصل ہو۔ اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاۗجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰهَدَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰه ِ ۭ لَا يَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ۔ مشرکین کی خدمت بیت اللہ بےثمر : اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاۗجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰهَدَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰه۔ کمن امن باللہ میں مضاف محذوف ہے جس طرح ولکن البر من امن باللہ میں محذوف ہے۔ مخاطب وہی لوگ ہیں جو حرم کی تولیت اور اس سے متعلق بعض خدمات، مثلاً حجاج کے لیے پانی کے انتظام کی خدمت، کی بنا پر مشرکین قریش کو دوسروں کے مقابل میں ایک امتیاز کا درجہ دے کر ان کو مستحق رعایت خیال کرتے تھے۔ فرمایا کیا حاجیوں کو پانی پلا دینا اور مسجد حرام کا الٹا سیدھا کچھ انتظام کردینا ایمان باللہ والاخرۃ اور جہاد فی سبیل اللہ کا قائم مقام ہوسکتا ہے۔ لَا يَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ ، اگر تم ان کاموں کو یکساں سمجھتے ہو تو سمجھو لیکن خدا کے ہاں یہ دونوں قسم کے لوگ یکساں نہیں ہوں گے۔ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ، خدا ان مشرکوں کو بامراد نہیں کرے گا۔ ظلم سے مراد یہاں شرک ہے اور ہدایت سے مراد مطلوب و مقصود کی ہدایت ہے۔ اوپر ہم واضح کرچکے ہیں کہ شرک کے ساتھ جو کام نیکی کیے جاتے ہیں وہ نقش برآب ہوتے ہیں۔ خدا کے ہاں وہ بالکل لاحاصل ہو کر رہ جائیں گے اور ان کی بنا پر جو امیدیں باندھی جائیں گی ان سب کا نتیجہ نامرادی کی شکل میں نکلے گا۔ آیت 20۔َالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْن۔ فائزہ المرام صرف اہل ایمان ہوں گے : َالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً۔ اَعْظَمُ دَرَجَةً یہاں تقابل کے لیے نہیں بلکہ تفخیم شان کے لیے ہے۔ یعنی ایمان، ہجرت اور جہاد والوں کا مرتبہ اللہ کے ہاں بہت اونچا ہے۔ جس طرح سورة بقرہ میں ارشاد ہوا ہے۔ والذین اتقوا فوقہم یوم القیامۃ (212) (جو لوگ تقوی اختیار کریں گے قیامت کے دن ان پر بالا ہوں گے)۔ اس اسلوب میں یہاں اہل ایمان کے درجے کی عظمت کفار کے درجے سے قطع نظر کر کے بتائی گئی ہے۔ کفار کا جو حال ہوگا وہ اولئک حبطت اعمالہم وفی النار ھم خالدون، سے واضح ہو ہی چکا ہے۔ واولئک ہم الفائزون بالکل، واللہ لا یہدی القوم الظلمین کے مقابل میں ہے یعنی کفار و مشرکین تو آخرت میں بالکل نامراد رہیں گے۔ البتہ اہل ایمان فائز المرام اور بامراد ہوں گے۔ آیت 21۔ 22 يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمْ فِيْهَا نَعِيْمٌ مُّقِيْمٌ۔ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭاِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۔ یہ اوپر والے ٹکڑے واولئک ھم الفائزون کی تفسیر ہے کہ ان کو ان کے ایمان اور ہجرت و جہاد کے صلہ میں ان کے رب کی طرف سے رحمت، رضوان اور ابدی نعمت کے باغوں کی بشارت ہے جن میں وہ ہمیش رہیں گے۔ دنیا کی نعمتوں کی طرح ان نعمتوں کے لیے زوال نہیں ہے۔