9. Surah At-Tawba
التوبةThe Repentance · 129 ayahsتدبرِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف و مضامینِ سورة براء ۃ (الف) ۔ سورة کا عمود اور اس پر بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ : یہ سورة ، جیسا کہ گروپ کی تمہید میں ہم عرض کرچکے ہیں، سورتوں کے دوسرے گروپ کی آخری سورة ہے۔ اس میں اور انفال میں بالکل اسی نوع کا تعلق ہے جس نوع کا تعلق متن اور شرح یا تمہید اور اصل مقصد میں ہوتا ہے۔ سورة انفال میں مسلمانوں کو جس جہاد کے لیے ظاہراً و باطناً منظم کیا گیا ہے اس سورة میں اس کا اعلان فرما دیا۔ مصحف کی ترتیب میں اس سورة پر بسم اللہ نہیں لکھی ہوئی ہے اور روایات سے ثابت ہے کہ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے ہی سے چلی آرہی ہے جس سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ اس پر بسم اللہ کا نہ لکھا جانا ایمائے الٰہی سے ہوا ہے۔ علمائے تفسیر نے اس کی مختلف توجیہیں کی ہیں۔ سب سے زیادہ قابل قبول توجیہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ ان دونوں سورتوں میں عمود و مضمون کے لحاظ سے نہایت گہرا اتصال بھی ہے اور مقصد وغایت کے اعتبار سے فی الجملہ انفصال بھی۔ ایک کا رخ بالکلیہ مسلمانوں کی طرف ہے اور دوسری کا رخ اصلاً مشرکین، اہل کتاب اور منافقین کی طرف۔ ایک کی نوعیت تیار کی ہے اور دوسری کی، جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں، الٹی میٹم اور اعلانِ جنگ کی۔ اشتراک و انفصال کے ان دونوں پہلوؤں کو ممیز کرنے کے لیے حکمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ یہ سورة سابق سوہ سے بالکل الگ بھی نہ لیکن فی الجملہ نمایاں اور ممتاز بھی رہے۔ بسم اللہ نہ لکھے جانے سے یہ دونوں پہلو بیک وقت نمایاں ہوگئے۔ بسم اللہ، جیسا کہ ہم واضح کرچکے ہیں، دو سورتوں کے درمیان علامت فصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس علامت فصل کے نہ ہونے سے دونوں کا معنوی اتصال نمایاں ہوگیا اور ساتھ ہی اس کے علیحدہ وجود نے اس کو علیحدہ نام دے دیا جس سے اس کی امتیازی خصوسیت بھی سامنے آگئی۔ (ب) سورة کے مطالب کا تجزیہ : اس سورة میں مطالب کی ترتیب اس طرح ہے کہ پہلے ان تمام مشرکین سے اعلان براءت کیا ہے جنہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے امن و صلح کے معاہدے کیے لیکن ان کی خلاف ورزیاں کر کے وہ ان کو کالعدم کرچکے تھے۔ جنہوں نے اپنے معاہدے قائم رکھے تھے ان کے متعلق یہ اعلان فرمایا کہ مدت پوری ہوجانے کے بعد یہ معاہدے بھی ختم کردیے جائیں اور ان سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جائے جب یہ اسلام نہ قبول کریں۔ اس کے بعد اہل کتاب کے متعلق یہ اعلان فرمایا کہ ان سے بھی جنگ کرو تاآنکہ یہ تمہاری ماتحتی قبول کرنے اور تمہیں جزیہ ادا کرنے پر مجبور ہوں۔ اس کے بعد آخر سورة تک بڑی تفصیل کے ساتھ منافقین کا تعاقب کیا ہے اور ان کے باب میں بھی یہ ہدایت دی ہے کہ اب ان کا سختی سے محاسبہ کیا جائے، ان کے ساتھ کوئی نرمی نہ برتی جائے تاآنکہ یہ یا تو سچے اور اچھے مسلمان بن جائیں یا پھر مشرکین اور اہل کتاب میں سے، جن کے ساتھ بھی ان کی وابستگی ہے، ان کے انجام میں یہ بھی شریک ہوجائیں۔ یہی تین گروہ اس وقت مسلمانوں کے کھلے یا چھپے دشمن تھے۔ ان تینوں کا ذکر پچھلی سورة میں بھی آیا تھا لیکن ان کے باب میں قطعی پالیسی واضح نہیں ہوئی تھی۔ اس سورة میں بالکل واضح ہو کر سامنے آگئی۔ اگرچہ سورة کے نظام کو سمجھنے کے لیے یہ اجمالی نظر بھی کافی ہے تاہم سورة کے مطالب کا تفصیلی تجزیہ بھی ہم لیے دیتے ہیں۔ (1 ۔ 4) ۔ جن مشرکین نے معاہدہ کرکے درپردہ یا علانیہ اپنے معاہدے توڑدیے تھے ان سے براءت ذمہ کا اعلان۔ ان کو چار مہینے کی مہلت اور مسلمانوں کو یہ ہدایت کہ حج کے موقع پر یہ منادی کردی جائے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اب ان کے معاہدوں کی ذمہ داری سے بری ہیں۔ اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہے۔ اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو یاد رکھیں کہ وہ خدا کے قابو سے باہر نہیں جاسکتے۔ صرف وہ مشرکین اس حکم سے مستثنی ہیں جنہوں نے نہ تو اپنے معاہدے کی کوئی خلاف ورزی کی ہے نہ مسلمانوں کے خلاف ان کے دشمنوں کی کوئی مدد کی ہے۔ یہ معاہدے قراردادہ مدت تک باقی رکھے جائیں۔ (5 ۔ 6) ۔ مسلمانوں کو یہ حکم محترم مہینوں کے گزرنے کے بعد ان کے خلاف جنگی کاروائی کرو۔ ان کو پکڑو، گھیروا اور ماروا اور اس وقت تک ان کا یچھا نہ چھوڑو جب تک یہ توبہ کر کے نماز نہ قائم کریں اور زکوۃ نہ ادا کریں۔ البتہ ان میں اگر کوئی شخص پناہ کا طالب ہو تو اس کو اتنی مہلت دو کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام سن لے اور پھر اس کے مامن میں پہنچا دو ۔ یہ رعایت ان کو اس لیے دی جائے کہ یہ امی لوگ رہے ہیں، ممکن ہے ان کو خدا کلام نہ پہنچا ہو۔ (7 ۔ 16) ۔ مشرکین کے ساتھ آئندہ کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے وجوہ کی تفصیل۔ مسجد حرام کے پاس قریش سے جو معاہدہ ہوا ہے وہ بھی اسی وقت تک باقی رکھا جائے جب تک وہ اس کو نباہتے ہیں۔ اگر وہ اس کو توڑدیتے ہیں تو تم ان ائمہ کفر سے بھی جنگ کرو۔ قریش کے بعض سنگین جرائم کی طرف اشارہ۔ مسلمانوں کو بشارت کہ تم ان سے ڈرو نہیں، لڑو، تمہارے ہاتھوں اللہ ان مظلوم مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا جو ان ظالموں کی قساوت کا ہدف بنے۔ (17 ۔ 22) مشرکین قریش کو بیت اللہ اور مساجد الٰہی پر قابض رہنے کا کوئی حق نہیں مساجد الٰہی کے متولی اور منتظم وہ لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے، نماز قائم کرتے اور زکوۃ دیتے ہیں۔ حاجیوں کو پانی پلا دینا اور حرم کی کچھ دیکھ بھال کردینا نیکی کے کام سہی لیکن یہ نیکیاں اللہ اور آخرت پر ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کا بدل نہیں ہوسکتیں۔ (23 ۔ 28) مسلمانوں کو تنبیہ کہ ان لوگوں سے جنگ کرنے میں رشتہ و قرابت کا پاس ولحاظ مانع نہ ہو جو لوگ ایمان کے تقاضوں پر ان چیزوں کو ترجیح دیں گے ان کا شمار انہی لوگوں کے ساتھ ہوگا۔ اللہ اور رسول کی محبت ہر چیز پر مقدم ہے۔ جنگ حنین اور پچھلے غزوات سے مسلمانوں کو سبق کہ اصل شے خدا کی مدد و نصرت ہے، پس اصلی بھروسہ خدا ہی پر ہونا چاہیے۔ یہ اعلان کہ مشرکین نجس ہیں۔ اس وجہ سے ان کو اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس پھٹکنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مسلمانوں کو یہ اطمینان دہانی کہ اس کا جو اثر تجارت اور معاشی حالات پر پڑے گا اللہ اپنے خزانہ جود سے اس کی تلافی فرمائے گا۔ (29 ۔ 35) اہل کتاب سے جہاد اور ان کو ذمی بنا کر جزیہ وصول کرنے کا حکم۔ ان کے فساد عقائد اور فساد اخلاق کی طرف بعض اشارات۔ ان کے علماء اور صوفیا کے فاسد کردار اور ان کی اسلام دشمنی کا حوالہ۔ (36 ۔ 37) مسلمانوں کو یہ تاکید کہ یہ جنگ و جہاد اگرچہ تمام مشرکین سے من حیث القوم ہو، کسی گروہ کے ساتھ رعایت نہ کی جائے تاہم محترم مہینوں کا احترام ہر حال میں ملحوظ رہے۔ محترم مہینے بحساب سال قمری ملت ابراہیم کی یادگار ہیں۔ اگر تم نے ان کی حرمت کو بٹہ لگایا تو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنوگے۔ نسی کی بدعت کی طرف اشارہ کہ اس بدعت نے ان مہینوں کو ان کے اصل مقام سے ہٹا کر موسموں کے ساتھ باندھ دیا اور یہ کفر میں ایک اضافہ ہے۔ تمہیں مری مہینوں کے حساب پر، جو روز اول سے خدا کے مقرر کیے ہوئے مہینے ہیں، ان چار محترم مہینوں کی حرمت کو برقرار رکھنا ہے۔ (38 ۔ 42) منافقین کو تنبیہ کہ تم جہاد سے جی چراتے ہو، یاد رکھو کہ اگر تم اسی طرح جی چراتے رہے تو تم خدا کا کچھ نہیں بگاڑوگے، اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھانے والے نہ بنوگے۔ خدا تمہاری جگہ اپنے دین کی نصرت کے لیے دوسروں کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ یاد کرو کہ ایک دن وہ بھی گزرا ہے جب ہمارا رسول ایک غار میں پناہ گیر تھا اور اس کے ایک ساتھی کے سوا اور کوئی بھی اس کے ساتھ نہ تھا لیکن پھر وہ دن بھی آیا کہ خدا نے اپنی طرف سے اس پر سکینت نازل فرمائی۔ غیبی فوجوں سے اس کی مدد فرمائی، کفر کا سر نیچا اور اللہ کا کلمہ بلند ہوا۔ پس یہ خدا کی ضرورت نہیں بلکہ تمہاری اپنی سعادت ہے کہ جو سروسامان بھی میسر ہو اس کے ساتھ جہاد کے لیے اٹھو۔ مناقین کے جہاد سے جی چرانے اور جھوٹی قسموں کے بل پر بہانہ سازی کی ایک مثال۔ (43 ۔ 46) ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو محبت آمیز عتاب کہ جہاد سے جی چرانے والوں کے جھوٹے عذرات تم قبول کرلیتے ہو حالانکہ یہ منافق لوگ ہیں۔ اگر یہ چاہیں تو جہاد کے لیے نکلنے کا سامان مہیا کرسکتے ہیں لیکن یہ جھوٹے بہانے بنا کر تمہاری نرمی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ (47 ۔ 52) ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو تسلی کہ جہاد کے لیے تمہارے ساتھ ان منافقین کے نہ نکلنے میں ہی خیر ہے۔ اگر یہ نکلتے تو کوئی نہ کوئی فساد ہی برپا کرتے۔ ان کے دلوں میں خیر خواہی کا کوئی جذبہ نہیں ہے۔ یہ تو ہر پہلو سے تمہارے لیے کسی مصیبت کے متمنی ہیں۔ (53 ۔ 57) ۔ منافقین بادل ناخواستہ دین کے نام پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اللہ کے ہاں اس کی کوئی قیمت نہیں۔ یہ اللہ اور رسول کے منکر ہیں اور ان کا انفاق اور ان کی نماز سب محض نمائش ہے۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت کہ ان کے مال کو کوئی وقعت نہ دو اور ان کی رفاقت کی ذرا پروا نہ کرو۔ یہ بزدل اور ڈرپودک تمہارے ساتھی نہیں بن سکتے۔ (58 ۔ 60) منافقین کے اس گروہ کی طرف اشارہ جو محض صدقات کے مال میں حصہ بٹٓنے کی حد تک پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھی تھا۔ اگر خواہش کے مطابق پا جاتے تو راضی ورنہ پیغمبر کے خلاف طرح طرح کی باتیں بناتے۔ صدقات کے اصل حق داروں کی تفصیل۔ (61 ۔ 66) ۔ ان شریر منافقین کی طرف اشارہ جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف پروپیگنڈا کرتے کہ آپ کان کے کچے ہیں، لوگوں میں آپ کی رائے اور معاملہ فہمی کا مذاق اڑاتے، جب کسی بات پر گرفت ہوتی تو جھوٹی قسمیں کھاتے اور لا یعنی صفائی پیش کرتے۔ (67 ۔ 70) ۔ منافق مردوں اور منافق عورتوں کا کردار اور ان کا نجام دنیا اور آخرت میں۔ (71 ۔ 72) ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ کفار کی طرح ان منافقین کے معاملے میں بھی اب سخت رویہ اختیار کرو کہ تمہاری نرمی سے فائدہ اٹھا کر یہ اسلام کے ساتھ چمٹے نہ رہیں۔ یہ جھوٹی قسموں کے پردے میں اپنے کفر کو چھپائے ہوئے ہیں۔ اللہ کے فضل اور رسول کی کریم النفسی نے ان کو اسلام دشمنی میں اور زیادہ دلیر بنا دیا ہے۔ انہوں نے وعدے کچھ کیے اور ان کا عمل اس کے بالکل خلاف ہوا اور اس چیز نے ان کے نفاق کو پختہ سے پختہ تر کردیا۔ (79 ۔ 84) منافقین کی اس شرارت کا بیان کہ خود تو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے اور اگر اللہ کے مخلص اور غریب بندے اپنی گاڑھی کمائی میں سے خرچ کرتے ہیں تو انکا مذاق اڑاتے اور ان کی دل شکنی کرتے ہیں۔ اسی طرح خود تو جہاد میں نکلنے کے بجائے گھروں میں بیٹھ رہتے ہیں اور جو اللہ کے بندے نکلتے ہیں ان کو گرمی اور سردی کے ڈراوے سنا سنا کر بٹھا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اشرار کے بارے میں وعید الٰہی کا بیان اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے لیے دعا و استغفار کرنے کی شدید ممانعت۔ (85 ۔ 96) ۔ دین کے مطالبات سے جی چرانے والوں کے جھوٹے عذرات کی طرف اشارہ۔ سچے اہل ایمان کے کردار کا بیان۔ ان معذورین کی تفصیل جن کا عذر قابل قبول ہے۔ عذر تراشوں اور بہانہ بازوں کو یہ دھمکی کہ اگر تم پیغمبر اور مومنین کو اپنے خانہ ساز عذرات سے دھوکا دینے میں کامیاب بھی ہوجاؤ جب بھی یہ چیز تمہارے لیے کچھ سود مند نہیں۔ خدائے علام الغیوب کو تم بہرحال ان بہانہ سازیوں سے فریب نہیں دے سکتے۔ (97 ۔ 101) ۔ اعراب یعنی اہل بدو میں جو منافقین تھے ان کی طرف اشارہ اور ان کے اندر جو مخلصین تھے ان کی حوصلہ افزائی۔ سابقون الاولون اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کی تحسین، منافقین اعراب اور منافقین مدینہ دونوں کو دھمکی۔ (102 ۔ 106) ۔ ان لوگوں کو قبولیت توبہ کی بشارت جنہوں نے ان تنبیہا سے متاثر ہو کر اپنے رویہ میں تبدیلی کرلی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی مزید تربیت اور ان کے لیے دعا کی ہدایت۔ اس گروہ کے بعض افراد کی قبولیتِ توبہ کے معاملہ کا التوا۔ (107 ۔ 110) ۔ مسجد ضرار کے بانیوں کو نہایت تند الفاظ میں وعید۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس مسجد میں نماز پڑھنے کی ممانعت۔ (111 ۔ 113) اہل ایمان اور اللہ کے درمیان جو عہد و میثاق ہے اس کی نوعیت کی وضاحت اور اس کے حقیق مقتضیات کا بیان۔ (114 ۔ 116) ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کو شرک پر مرنے والوں کے لیے دعائے استغفار کرنے کی ممانعت اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ رہے ہوں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اپنے باپ کے لیے دعا کی اس کی نوعیت۔ (117 ۔ 118) ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام مخلص مہاجرین و انصار کے لیے عام قبولی توبہ کی بشارت۔ جن لوگوں کی توبہ کی قبولیت کا معاملہ آیت 106 میں ملتوی کیا گیا تھا، رجوع کامل کے بعد ان کی توبہ کی قبولیت کا اعلان۔ (119 ۔ 122) ۔ اہل مدینہ اور اعراب کو راست بازی اور کامل وفاداری کے ساتھ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جاں نثاری کی تلقین۔ اس جاں نثاری کی راہ میں چھوٹی یا بڑی جو تکلیف بھی اہل ایمان اٹھائیں گے اس کے اجر عظیم کا بیان۔ اہل بدو کو یہ ہدایت کہ ان میں سے ہر گروہ کے لوگ اپنے منتخب آدمی حصول تربیت کے لیے مجلسِ نبوی میں بھیجتے رہیں تاکہ یہ لوگ وہاں سے کسب فیض کر کے انی قوت کی تربیت کرسکیں۔ (123 ۔ 129) ۔ مسلمانوں کو یہ عام ہدایت کہ ہر جگہ کے مسلمان اپنے اپنے علاقہ کے کفار سے مصروف جہاد ہوں۔ ان لوگوں کی طرف اشارہ جو قرآن اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مواجہہ سے گریز کرتے تھے۔ پیغمبر کے وجود قدسی کی صورت میں دنیا پر اللہ کی جو عظیم رحمت نازل ہوئی تھی اس کی قدر کرنے کی تلقین۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ناقدروں سے بےپروا ہو کر صرف اللہ پر بھروسہ کرنے کی ہدایت۔ اس فہرست مطالب پر ایک سرسری نظر ڈال کر بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سورة کا ہر جزو نہایت مربوط و نظم ہے اور آغاز سے لے کر انتہا تک باہم دگر ایک فطرت تسلسل کے ساتھ وابستہ و پیوستہ۔ اب ہم توفیق الٰہی کے اعتماد پر سورة کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔ بَرَاۗءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ اِلَى الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ۔ فَسِيْحُوْا فِي الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ مُخْزِي الْكٰفِرِيْنَ ۔ لفظ براءۃ کا مفہوم : براءۃ من اللہ الایہ : براءۃ کے معنی کسی ذمہ داری سے دستبردار اور بری الذمہ ہونے کے ہیں۔ یہاں یہ ان معاہدات کی ذمہ داری سے دستکش ہونے کے معنی میں ہے جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ ہجرت فرمانے کے بعد مشرکین عرب کے مختلف قبائل سے موقت اور غیر موقت نوعیت کے کرلیے تھے۔ ‘ مشرکین ’ سے یہاں بھی اور قرآن میں جہاں جہاں بھی یہ لفظ بشکل علم استعمال ہوا ہے۔ مشرکین بنی اسماعیل یا بالفاظ دیگر مشرکین عرب مراد ہیں۔ ان کے معاہدات کی ذمہ داری سے اس اعلان براءت کی وجہ آگے آیت 3 سے واضح ہوتی ہے کہ بہت سے قبائل نے معاہدات کرنے کو تو کرلیے تھے لیکن ان کو وفاداری اور راستبازی کے ساتھ نباہ نہیں رہے تھے اس وجہ سے اس قسم کے معاہدوں کے کالعدم ہونے کا اعلان کردیا گیا، صرف ان قبائل کے معاہدے باقی رکھے گئے جنہوں نے کوئی عداری یا عہد شکنی نہیں کی تھی اور وہ بھی صرف ان کی قرار دادہ مدت تک کے لیے لفظ براءۃ کے بعد حرف الی جو آیا ہے یہ دلیل ہے اس بات پر کہ یہاں ابلاگ کا مفہوم بھی مضمر ہے۔ یعنی اس دستبرداری کی اطلاع تمام ناقض عہد مشرکین کو پہنچا دی جائے چناچہ بعد والی آیت میں اس کی تصریح بھی آرہی ہے۔ ایک قابل توجہ نکتہ : یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ جہاں تک معاہدہ کرنے کا تعلق ہے اس کی ذمہ داری تو اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ عاھدتم کے لفظ سے واضح ہے تمام سلمانوں پر ڈالی ہے اس لیے کہ پیغمبر کی اٹھاتی ہوئی ذمہ داری تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے لیکن براءت ذمہ کے معاملے میں مسلمانوں کی ذمہ داری معین نہیں فرمائی ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ اس سے اس اعلان براءت کی شدت ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ و رسول تو ان بودے معاہدوں سے بری ہوئے۔ اب اہل ایمان خود فیصلہ کریں کہ انہیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے، اللہ و رسول کا ساتھ دے کر اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہے یا عزیز داری، برادری اور خاندان و قبیلہ کی پاسداری میں نفاق کی روش اختیار کرنی ہے۔ بات کے اس انداز سے کہنے میں مصلحت یہ تھی کہ پس منظر میں، جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے، منافقین بھی تھے جو ابھی اپنے خاندانی و قبائلی بندھنوں سے پوری طرح آزاد نہیں ہوئے تھے۔ ان لوگوں پر اس اسلوب سے یہ حقیقت واضح کردی گئی کہ اللہ اور رسول کی طرف سے یہ فیصلہ قطعی ہے، اس میں کسی لچک کا امکان نہیں ہے، جس کو اس کا ساتھ دینا ہو، ساتھ دے ورنہ اپنی راہ اور اپنی منزل کا خود فیصلہ کرے۔
بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader
ان مشرکین سے اللہ اور رسول کی طرف سے اعلان براءت ہے جن سے تم نے معاہدے کیے تھے
فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader
سو اب ملک میں چار ماہ چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم اللہ کے قابو سے باہر نہیں جاسکتے اور اللہ کافروں کو رسوا کر رکے رہے گا
وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader
اور اللہ و رسول کی طرف سے بڑے حج کے دن لوگوں میں منادی کردی جائے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الذمہ ہیں تو اگر تم توبہ کرو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر روگردانی کروگے تو جان رکھو کہ تم اللہ سے بھاگ نہیں سکتے اور کافروں کو ایک دردناک عذاب کی خوش خبری پہنچا دو۔
اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader
وہ مشرکین اس سے مستثنی ہیں جن سے تم نے معاہدہ کیا اور انہوں نے اس میں نہ تم سے کوئی خیانت کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی سو ان کے معاہدے ان کی قرار داد وہ مدت تک پورے کرو، اللہ نقض عہد سے بچنے والوں کو دوست رکھتا ہے
فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader
سو جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو ان مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ قتل کرو، ان کو پکڑو، ان کو گھیرو، اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک لگاؤ۔ پس اگر یہ توبہ کرلیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کرنے لگیں تب ان کی جان چھوڑو، بیشک اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے
وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader
اور اگر ان مشرین میں سے کوئی تم سے امان کا طالب ہو تو اس کو امان دے دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سن لے، پھر اس کو اس کے امان کی جگہ پہنچا دو۔ یہ اس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں اللہ کی باتوں کا علم نہیں
كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader
مشرکین کے کسی عہد کی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول پر کس طرح باقی رہ سکتی ہے ؟ ہاں جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس عہد کیا ہے تو جب تک وہ قائم رہیں تم بھی ان کے لیے معاہدے پر قائم رہو، اللہ نقض عہد سے بچنے والوں کو دوست رکھتا ہے
كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader
کس طرح باقی رہ سکتی ہے جب کہ حال یہ ہے کہ اگر وہ کہیں تمہیں دبا پائیں تو نہ تمہارے بارے میں کسی قرابت کا پاس کریں نہ عہد کا۔ وہ تمہیں باتوں سے مطمئن کرنا چاہتے ہیں، پر ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور ان کی اکثریت بد عہد ہے
اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader
انہوں نے اللہ کی آیات کے عوض میں ایک نہایت حقیر قیمت اختیار کرلی ہے۔ اور اس طرح وہ اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، بیشک بہت ہی برا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں
لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader
اور اس طرح وہ اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، بیشک بہت ہی برا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں کسی صاحب ایان کے معاملے میں نہ ان کو کسی قرابت کا پاس ہے اور نہ کسی عہد کا اور یہی لوگ ہیں جو حدود کو توڑنے والے ہیں
فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader
پس اگر وہ توبہ کریں، نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم آیات کی تفصیل کیے دے رہے ہیں ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں
وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader
اور اگر عہد کرچکنے کے بعد یہ اپنے قول وقرار توڑ دیں اور تمہارے دین پر نیش زنی کریں تو تم کفر کے ان سرخیلوں سے بھی لڑو۔ ان کے کسی قول وقرار کا کوئی وزن نہیں تاکہ یہ اپنی حرکتوں سے باز آئیں
اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader
بھلا تم ایسے لوگوں سے نہ لڑوگے جنہوں نے اپنے قول وقرار توڑ دیے، اور رسول کو نکالنے کی جسارت کی، اور وہی ہیں جنہوں نے اپنے قول وقرار توڑ دیے، اور رسول کو نکالنے کی جسارت کی، اور وہی ہیں جنہوں نے تم سے جنگ چھیڑنے میں پہل کی ! کیا تم ان سے ڈرو گے ؟ اصلی حق دار تو اللہ ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم واقعی مومن ہو
قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader
تم ان سے لڑو، اللہ تمہارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا، ان کو رسوا کرے گا، تم کو ان پر غلبہ دے گا، اہل ایمان کے ایک گروہ کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا
وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader
اور ان کے دلوں کا غم و غصہ دور فرمائے گا اور جن کو چاہے گا اللہ توبہ کی توفیق دے گا اللہ علم و حکمت والا ہے
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader
کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو چھانٹا ہی نہیں جنہوں نے ہاد کیے اور اللہ و رسول اور مومنین کے سوا کسی کو جنہوں نے دوست نہیں بنایا اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے
مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader
مشرکین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مساجد الٰہی کا انتظام کریں در آنحالیکہ وہ خود اپنے کفر کے گواہ ہیں۔ ان لوگوں کے سارے اعمال ڈھے گئے اور دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے تو یہی ہیں
اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader
مساجدِ الٰہی کے انتظام کرنے والے تو بس وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں، نماز قائم کرتے ہوں، زکوۃ دیتے ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، یہ لوگ توقع ہے کہ راہ یاب ہونے والے بنیں۔
اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader
کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے انتظام کو ان لوگوں کے عمل کے ہم رتبہ کردیا ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیے اللہ کے نزدیک یہ دونوں برابر نہیں ہوں گے۔ خدا ظالموں کو راہ یاب نہیں کرے گا
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader
جو ایمان لائے، جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جنہوں نے اپنے جان و مال سے جہاد کیا، ان کا درجہ اللہ کے ہاں بڑا ہے اور وہی لوگ فائز المرام ہونے والے ہیں
یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader
ان کا رب ان کو خوش خبری دیتا ہے، اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسے باغوں کی جن میں ان کے لیے ابدی نعمت ہے
خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader
ان کا رب ان کو خوش خبری دیتا ہے، اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسے باغوں کی جن میں ان کے لیے ابدی نعمت ہے