Ayah 9:122نفاق کی بیماری کا علاج : وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّةً ۭ فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــةٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَيْهِمْ لَعَلَّھُمْ يَحْذَرُوْنَ۔
یہ بات بھی صادقین کی معیت اور رفاقت ہی کے پہلو سے ارشاد ہوئی ہے۔ اوپر آیت 97 میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ اعراب نے نبی اور صالحین کی صحبت بہت کم اٹھائی ہے۔ وہ حلال و حرام کی حدود سے بیخبر ہیں، اس وجہ سے کفر و نفاق کی بیماری کا حملہ ان پر آسانی سے ہوجاتا ہے۔ اب یہ ان کو اس کمزوری کے علاج کی طرف توجہ دلائی کہ ان لوگوں کو زیادہ سے زیادہ پیغمبر اور صحابہ کی صحبت سے مستفید ہونے کی سبیل نکالنے کی کوشش کرنی تھی۔ اگر سب لوگ اپنی اپنی جگہوں سے اٹھ کر مجلس نبوی میں نہیں پہنچ سکتے تھے تو ایسا کیوں نہیں کیا گیا کہ ہر گروہ میں سے ایک جماعت علم دین میں فہم و بصیرت حاصل کرنے کے لیے مجلس نبوی میں حاضر ہوتی تاکہ وہاں سے مستفید ہو کر اپنی قوم کو بھی اس سے مستفید کرتی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اب تک اس میں کوتاہی ہوئی ہے تو اب اس کا اہتمام کیا جائے اور ہر بستی سے لوگ باری باری مدینہ آئیں، دین سیکھیں اور سمجھیں اور پھر اپنی قوم میں واپس جا کر لوگوں کو بتائیں اور سکھائیں۔ اس طرح دیہات کے لوگ اپنے گھر در اور مال مویشی کی دیکھ بھال بھی کرسکیں گے اور نبی اور صحابہ کے فیض صحبت سے بھی مستفید ہوسکیں گے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ نے مجلس نبوی میں حاضر کے لیے باریاں مقرر کر رکھی تھیں۔ اس طرح وہ اپنے باہمی تعاون سے اپنے کام کاج بھی جاری رکھتے اور مجلس نبوی کے فیوض و برکات سے بھی فائدہ اٹھاتے۔
اسلام میں تعلیم کا اصلی مقصد : آیت میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے تفقہ فی الدین، کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں دین میں فہم و بصیرت حاصل کرنا اور تعلیم دینے کے لیے انذار کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ڈرانے، ہوشیار کرنے اور خاص طور پر آخرت کی زندگی کی تیاریوں کے لیے بیدار کرنے کے ہیں۔ یہ دونوں لفظ اسلام میں تعلیم کو جو اصل مقصد ہے، اس کے لحاظ سے استعمال ہوئے ہیں۔ اسلام میں تعلیم و تعلم کا اصل مقصد دین میں بصیرت حاصل کرنا اور آخرت کی فلاح کے لیے اپنی اور دوسروں کی تربیت کرنا ہے۔ باقی چیزیں سب ثانوی حیثیت رکھتی ہیں اور اسی نصب العین کے تابع ہیں۔
Ayah 9:123يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَةً ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ۔ یہ آیت پوری سورة کے اصل مضمون کا خلاصہ ہے۔ اس سورة میں، جیسا کہ آپ نے دیکھا، کفار و مشرکین پر اتمام حجت ہوچکنے کے بعد ان سے اعلانِ براءت اور ان کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ آیات 23۔ 24 کے تحت یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ منافقین اپنے پاس پڑوس کے کفار و مشرکین سے عزیزانہ و دوستانہ روابط اور دوسرے کاروباری مفادات وابستہ رکھنے کے سبب سے، اس بات کے لیے تیار نہیں تھے کہ ان سے جنگ کریں یا اپنے تعلقات ان سے یک قلم ختم کرلیں۔ ان کی اس منافقت کی اچھی طرح قلعی کھولنے اور ایمان، تقوی اور صداقت کے حقیقی مقتضیات تفصیل سے واضح کردینے کے بعد اب یہ دین کا اصل مطالبہ ان کے سامنے پھر رکھ دیا گیا ہے۔ خطاب اگرچہ عام ہے لیکن قرینہ پتہ دے رہا ہے کہ روئے سخن ان ہی کی طرف ہے۔ فرمایا کہ قاتلوا الذین یلونکم من الکفار یعنی جو کفار تمہارے پاس پڑوس اور گردوپیش میں ہیں ان سے جنگ کرو۔ گرد و پیش کے کفار جس طرح تمہاری دعوت ایمان و ہدایت کے سب سے زیادہ حق دار تھے اسی طرح اب، اللہ اور رسول کی طرف سے اتمام حجت اور اعلانِ جنگ کے بعد، تمہاری تلواروں کے بھی سب سے زیادہ سزاوار یہی ہیں، جو لوگ قرابت داری، دوستی اور اپنے دنیوی مفاد کی خاطر ان کے معاملے میں مداہنت برتیں گے، وہ جیسا کہ آیت 23 میں فرمایا ہے، اپنی جانوں پر سب سے زیادہ ظلم ڈھانے والے ٹھہریں گے اور انہی کے لیے آیت 24 میں یہ وعید ہے کہ تم انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے باب میں اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔ یہ حقیقت ایک سے زیادہ مقامات میں واضح کی جا چکی ہے کہ ایمان و اخلاص کی اصل روح اس وقت بیدار ہوتی ہے جب اس کی خاطر اپنوں سے جنگ کرنی پڑے۔ یلونکم، کی قید اسی پہلو کو نمایاں کر رہی ہے۔ وَلْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَةً ، یعنی اب وہ تمہارے طرز عمل سے یہ محسوس کرلیں کہ تمہارے اندر ان کے لیے موالات، دوستی اور محبت کی کوئی جگہ باقی نہیں رہ گئی ہے بلکہ جس طرح وہ من حیث القوم تمہارے اور تمہارے دین کے دشمن ہیں اسی طرح تم بھی من حیث الجماعت ان کے اور ان کے دین کے دشمن بنو۔ اب تک وہ تمہارے دل میں اپنے لیے بڑا نرم گوشہ پاتے تھے، اس وجہ سے ان کو توقع تھی کہ وہ اپنے مقاصد کے لیے تم کو برابر استعمال کرتے رہیں گے۔ اب یہ حالت یک قلم ختم ہوجانی چاہیے۔
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ ، کے یہاں دو پہلو ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اہل ایمان کی حوصلہ افزائی ہو۔ یعنی تم ان سے جنگ کرنے میں کوئی کمزوری و پست ہمتی نہ دکھاؤ۔ اللہ کی معیت و نصرت اس کے متقی بندوں ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ اگر تم تقوی پر قائم رہے تو فتح و نصرت تمہاری ہی ہے، یہ لوگ ذلیل و خوار ہوں گے۔ یہ بات ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ خدا کی معیت اس کی نصرت کو بھی مستلزم ہے۔ اس وجہ سے خدا کے ساتھ ہونے کے معنی اس کی مدد و نصرت کے ساتھ ہونے کے ہیں۔ دوسرا یہ کہ مسلمانوں کو تنبیہ ہو کہ تمہیں ان سے جنگ اور ان کے معاملے میں شدت اختیار کرنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے تو اس میں بھی تم خدا کے مقرر کردہ حدود وقیود کی پوری پابندی کرنا، کسی مرحلے میں بھی حدود الٰہی سے تجاوز نہ کرنا، اللہ صرف اپنے متقی بندوں ہی کا ساتھی ہے۔ پیچھے یہ ہدایات گزر چکی ہیں کہ جو کفار و مشرکین اپنے معاہدات پر قائم ہیں ان کے معاہدات کی مدت پوری کی جائے نیز محترم مہینوں کا احترام ملحوظ رکھا جائے۔ یہ انہی باتوں کی تاکید مزید ہے۔
Ayahs 9:124–127124 تا 127: کٹر منافقین کا طرز عمل : وَاِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْھُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ اَيُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖٓ اِيْمَانًا ۚ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْھُمْ اِيْمَانًا وَّھُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ۔ یہ ان منافقین کی طرف اشارہ ہے جو اس سورة کی تمام تنبیہات و تحذیرات کے بعد بھی بدستور نہ صرف اپنے نفاق میں مبتلا رہے بلکہ درجہ بدرجہ ان کا نفاق سخت سے سخت تر ہی ہوتا چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ کی کوئی تنبیہ بھی ان کو توبہ کے لیے بیدار نہ کرسکی یہاں تک کہ اسی حالت میں ان کو موت آئی۔ وَاِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْھُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ اَيُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖٓ اِيْمَانًا، سورة سے قرآن کی کوئی سورة بھی مراد ہوسکتی ہے اور قرآن کا کوئی خاص حکم اور اس کا کوئی خاص ٹکڑا بھی۔
یہ منافقین مجلس نبوی میں مجبوراً محض دکھاوے اور مسلمانوں کو مطمئن رکھنے کے لیے جاتے تھے وہاں ان کو ہر روز قرآن کے نئے نئے مطالبات سے سابقہ پیش آتا، کبھی کوئی حکم سنایا جاتا، کبھی کوئی یہ روز روز کے نئے نئے احکام ان پر بڑے شاق گزرتے۔ ان کے خلاف کھل کر کچھ کہنے کی جراءت تو ہوتی نہیں تھی البتہ کچھ طنزیہ فقرے چست کر کے وہ دل کی بھڑاس نکالنے کی کوشش کرتے۔ مثلاً کہتے کہ ّہاں، بھئی، بتاؤ، اس نئے حکم سے کن کن لوگوں کا ایمان تازہ ہوا ہے، اس قسم کے طنز و تعریض سے ان کا مقصود اللہ اور رسول کے احکام کی تحقیر اور مخلص مسلمانوں کی حوصلہ شکنی ہوتا۔ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْھُمْ اِيْمَانًا وَّھُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ ، وَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْھُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَمَاتُوْا وَھُمْ كٰفِرُوْنَ۔ یہ ان کے اسی قسم کے زہر آلود طنزیہ فقروں کا جواب ہے کہ جو سچے اہل ایمان ہیں ان کے لیے تو قرآن کی ہر سورة اور اس کا ہر حکم ان کے ایمان و اسلام میں ایک نئے باب کا اضافہ کرتا ہے اور جب وہ سنتے ہیں کہ قرآن کا کوئی ٹکڑا نازل ہوا ہے تو بجائے اس کے کہ اس سے ان کے دل بھینچیں وہ خوش ہوتے ہیں کہ رحمت الٰہی کی ایک اور گھٹا برسی، البتہ جن کے دلوں میں نفاق کا روگ ہوتا ہے ان کی اس نجاست پر مزید نجاست کے ردّے پر ردّے چڑھے چلے جاتے ہیں۔ ان کو زندگی کے کسی مرحلے میں بھی توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوتی یہاں تک کہ اسی حالت کفر میں ان کو ایک دن فرشتہ اجل آ دبوچتا ہے۔
اہل نفاق پر قرآن کا اثر : قرآن کی آیات سے اہل ایمان کے ایمان میں درجہ بدرجہ زیادتی ہونا اور اہل نفاق کے نفاق کا غلیظ سے غلیظ تر ہونا محض استعارہ نہیں بلکہ ایک حقیت ہے۔ قرآن کا ہر حکم اہل ایمان کے لیے ایک میدان مسابقت کھولتا ہے اور جب وہ اس میدان کی بازی جیت لیتے ہیں تو ان کی قوت ایمانی میں مزید دوسرے میدان جیتنے کے لیے عزم و حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے یہاں تک کہ درجہ بدرجہ وہ سعادت کی آخری منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ برعکس اس کے اہل نفاق ایک محرومی کے بعد دوسری محرومی اور ایک پسپائی کے بعد دوسری پسپائی کی ذلتیں سہتے سہتے عزم و ایمان کی آخری رمق سے بھی بالکل خالی ہوجاتے ہیں اور ان کے دلوں پر نفاق پر نفاق کی اتنی موٹی تہیں جم جاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے انسان کے دل کے اندر جتنی صلاحیتیں ودیعت فرمائی ہیں، سب ان کے نیچے دب دبا کر مردہ ہوجاتی ہیں۔
اَوَلَا يَرَوْنَ اَنَّھُمْ يُفْتَنُوْنَ فِيْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوْبُوْنَ وَلَا ھُمْ يَذَّكَّرُوْنَ۔ اوپر والی آیت میں ان لوگوں کے توفیق توبہ سے محروم ہوجانے کی طرف جو اشارہ ہے یہ اسی کی دلیل ہے کہ یہ لوگ غور کرتے تو انہیں خود اندازہ ہوجاتا کہ ان کی بیماری اب اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ ان کے لیے توبہ کے دروازے بند ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ چونکہ اپنے ہر بندے پر رحمت کرنا چاہتا ہے اس وجہ سے اس نے اس دنیا کا نظام اس طرح رکھا ہے کہ ہر شخص، خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، سال میں ایک دو بار ضرور کسی نہ کسی ایسی آزمائش میں ڈالا جاتا ہے جو اس کو توبہ اور اصلاح پر ابھارے۔ جو صاحب توفیق ہوتے ہیں وہ ان آزمائشوں سے سبق حاصل کرتے اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن جو لوگ اپنے اعمال کی پاداش میں توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں وہ ان آزمائشوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ چناچہ یہ لوگ اب اسی حالت کو پہنچ چکے ہیں۔ اب کوئی ٹھوکر بھی ان کی آنکھیں کھولنے والی نہیں بنتی۔ ثم لایتوبون، میں ان کے دلوں کی قساوت کی طرف اشارہ ہے۔ اور ولاھم یذکرون، میں ان کی عقلوں کے کند ہونے کی طرف، اس لیے کہ توبہ دل کا فعل ہے اور تزکر عقل کا۔ گویا ان کے اعمال کی سیاہی نے ان کی ان دونوں ہی چیزوں کو تاریک کردیا ہے۔
وَاِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُھُمْ اِلٰى بَعْضٍ ۭ هَلْ يَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا ۭ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَھُمْ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ۔
یہ تصویر ہے ان منافقین کے مجلس نبوی سے چپکے سے کھسک جانے کی۔ اہم اجتماعی مواقع پر آنحضرت ﷺ جب مسلمانوں کو کسی نئی مہم کی تیار اور اس سے متعلق قرآن کی تازہ ہدایات سے آگاہ کرنے کے لیے بلاتے تو آنے کو تو منافقین بھی شرما شرمی میں، محض دکھاوے کے لیے آجاتے لیکن جب دیکھتے کہ کوئی مشکل مہم درپیش ہے، مجلس میں موجود رہے تو اس کی ذمہ داریوں میں حصہ لینا پڑے گا، تو آپس میں کن انکھیوں سے اشارے شروع کردیتے۔ مطلب یہ کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی دیکھ نہ رہا ہو تو یہاں سے کھسک چلو۔ پھر مسلمانوں کی نظریں بچا کر، ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے یکے بعد دیگرے وہاں سے سٹک جاتے۔ منافقین کی اس روش کی طرف اس سے زیادہ تفصیل سے سورة نور میں اشارہ ہے۔ "إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّى يَسْتَأْذِنُوهُ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُولَئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَنْ لِمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (62) لا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِوَاذًا فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (63): سچے مومن تو بس وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب وہ کسی اجتماعی معاملے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں تو اس وقت تک وہاں سے نہیں ٹلتے جب تک وہ پیغمبر سے اجازت نہ حاصل کرلیں۔ جو لوگ تم سے اجازت لیتے ہیں وہی دراصل اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والے ہیں تو ایسے لوگ جب تم سے اجازت مانگیں اپنی کسی ضرورت کے لیے تو تم ان میں سے جس کو چاہو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت چاہو۔ اللہ غغور رحیم ہے۔ لوگو ! جب رسول تم کو بلائے تو اس کے بلانے کو اس طرح کا بلانا نہ سمجھو جیسا کہ تمہارا ایک دوسرے کو بلانا ہوتا ہے۔ اللہ تم میں سے ان لوگوں کو جانتا رہا ہے جو ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے چپکے سے کھسک جایا کرتے رہے ہیں تو جو لوگ نبی کے حکم سے اعراض کرتے رہے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے کہ مبادا انہیں کوئی آزمائش پیش آجائے یا وہ ایک دردناک عذاب میں گرفتار ہوجائیں " (نور :62۔ 63)۔ صرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَھُمْ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ ، یعنی جب انہوں نے اللہ اور رسول سے روگردانی اختیار کی تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو پھیر دیا۔ یہ لعنت کی تعبیر ہے اور دوسرے الفاظ میں اس کا مدعا وہی ہے جو فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبہم کا ہے۔ اس حالت کو پہنچ جانے کے بعد آدمی کے دل پر مہر ہوجایا کرتی ہے اور آیت سے واضح ہے کہ یہ مہر آدمی کے خود اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ ، یعنی جو لوگ اپنے دل و دماغ کی صلاحیتوں سے خدا کی تنبیہات کے بعد بھی کام نہیں لیتے ان کی ان صلاحیتوں کو اللہ تعالیٰ اس سمت میں موڑ دیتا ہے جس سمت کو وہ جانا چاہتے ہیں۔
Ayahs 9:128–129128۔ 129: لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللّٰهُ ڶ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ۔
یہ دونوں آیتیں آخری تنبیہ کے طور پر نازل ہوئی ہیں۔ پہلے اس عظیم احسان کی طرف توجہ دلائی ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی بعثت کے ذریعہ سے تمام خلق پر عموماً اور اہل عرب پر خصوصاً فرمایا ہے۔ خطاب اگرچہ عام ہے لیکن سیاق کلام دلیل ہے کہ روئے سخن انہیں لوگوں کی طرف ہے جو اس عظیم نعمت کی قدر کرنے کے بجائے اس کو اپنے لیے ایک مصیبت سمجھ رہے ہیں۔ فرمایا کہ تمہارے پاس ایک رسول تمہی میں سے آچکا ہے۔ من انفسکم کے الفاظ میں اتمام حجت اور احسان کے جو پہلو مضمر ہیں ان کی طرف سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم اشارہ کرچکے ہیں۔ عزیز علیہ ما عنتم، یعنی تم میں سے شامت زدہ لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ رسول ان کے لیے ایک مصیبت اور مصیبتوں کے دروازے کھولنے والا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو تم کو مصیبت اور ہلاکت میں مبتلا کرنے والی ہو اس کے دل پر نہایت شاق ہے۔ وہ تمہیں دنیا اور آخرت دونوں کی کلفتوں اور ہلاکتوں سے محفوظ اور دونوں کی سعادتوں سے بہرہ مند دیکھنا چہاتا ہے اور اس کی ساری بھاگ دوڑ اور ہلاکتوں سے محفوظ اور دونوں کی سعادتوں سے بہرہ مند دیکھنا چاہتا ہے اور اس کی ساری بھاگ دوڑ اور تمام تعلیم و تبلیغ اسی مقصد کے لیے ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو تم کو مصیبت اور ہلاکت میں مبتلا کرنے والی ہو اس کے دل پر نہایت شاق ہے۔ وہ تمہیں دنیا اور آخرت دونوں کی کلفتوں اور ہلاکتوں سے محفوظ اور دونوں کی سعادتوں سے بہرہ مند دیکھنا چاہتا ہے اور اس کی ساری بھاگ دوڑ اور تمام تعلیم و تبلیغ اسی مقصد کے لیے ہے۔ لیکن جو لوگ اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھے بیٹھے ہیں ان کو اس کی وہ باتیں بہت گراں گزر رہی ہیں جو ان کو اپنے دنیوی مفادات کے خلاف نظر آتی ہیں حالانکہ اگر وہ اس دنیا کے بعد کی زندگی کی اہمیت کو جانتے ہوتے تو ان کو اندازہ ہوتا کہ پیغمبر کی یہ ساری بےقراریاں اور بےچینیاں اپنے لیے نہیں بلکہ خود ان کو ہر کرب اور ہر دکھ سے محفوظ رکھنے کے لیے ہیں۔ حریص علیکم یعنی وہ جو اس درجہ تمہارے درپے ہے تو اس میں اس کی اپنی کوئی غرض شامل نہیں بلکہ یہ صرف اس سبب سے ہے کہ وہ تمہارے ایمان و اسلام اور تمہاری صلاح و فلاح کا نہایت حریص ہے جس طرح ایک شفیق باپ اپنی اولاد کے لیے ہر خیر کا متمنی اور حریص ہوتا ہے، اس چیز سے کبھی اس کا دل نہیں بھرتا، اسی طرح اللہ کا رسول تمہارے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں ہر خیر کا حریص اور متمنی ہے۔ پس حیف ہے ان لوگوں پر جو ایسی شفیق اور مہربان ہستی کی قدر نہ کریں۔ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ، رءوف اور رحیم کے فرق پر ہم دوسری جگہ روشنی ڈال چکے ہیں۔ ایک کے اندر دفع شر کا پہلو نمایاں ہے دوسرے کے اندر عطائے خیر اور پائداری رحمت کا۔ یہ دونوں صفتیں اللہ تعالیٰ کی صفات حسنی میں سے ہیں جو بعینہ یہاں پیغمبر ﷺ کے لیے استعمال ہوئی ہیں جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ خلق کے ساتھ رافت و رحمت کے معاملے میں رحمت عالم ﷺ بالکل صفاتِ الٰہی کے مظہر تھے۔ یہ ٹکڑا چونکہ بعینہ حریص علیکم کی تفسیر و توضیح ہے اس وجہ سے حرف ربط یہاں نہیں ہے تاکہ کامل اتصال کا اظہار ہو۔
فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللّٰهُ ڶ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ۔ اس آیت میں پیغمبر ﷺ سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تمہاری بعثت کی شکل میں جو خیر عظیم ان کے لیے نازل فرمایا ہے اگر یہ ناقدرے اور ناشکرے لوگ اس کی قدر نہیں کرتے تو اس میں انہی کی تباہی ہے، تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے۔ تم ان کے ایمان و ہدایت کے حریص اور ان کی دنیا اور آخرت کی صلاح و فلاح کے لیے بےچین ہو اور اس میں تمہارا نہیں بلکہ سر تا سر انہی کا نفع ہے۔ اگر یہ تمہاری قدر کرتے تو اپنی ہی دنیا اور آخرت سنوارتے لیکن یہ حقیقت ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے تو تم ان کی پروا نہ کرو بلکہ ان کو صاف صاف سنا دو کہ میرے اللہ کافی ہے۔ یعنی میں تمہارا جو حریص ہوں تو اپنے لیے نہیں بلکہ تمہارے ہی لیے ہوں۔ تم نہیں آتے تو یہ نہ سمجھو کہ میں تنہا اور بےیارو مددگار رہ جآں گا۔ میری پانہ، میرا سہارا اور میری قوت و جمعیت میرا اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی اس عرش عظیم کا مالک اور خداوند ہے تو جس کا بھروسہ اس عرش عظیم کے رب پر ہے اس کو دوسروں کی ناقدری اور بیزاری کی کیا پروا ہوسکتی ہے !
اس سورة کی تفسیر میں یہ آخری سطریں ہیں جو آج بروز جمعہ 9 بجے صبح حوالہ قرطاس ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ لغزشوں کو معاف فرمائے اور صحیح باتوں کے لیے دلوں میں جگہ پیدا کرے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔