10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة یونس کا تعارف اور خلاصہ مضامین : (الف) ۔ سورتوں کے تیسرے گروپ پر ایک اجمالی نظر : سورة توبہ پر سورتوں کا دوسرا گروپ، جیسا کہ ہم نے مقدمے میں واضح کیا ہے، تمام ہوا، اب سورة یونس سے تیسرا گروپ شروع ہورہا ہے جو سورة نور پر ختم ہوا ہے، اس میں 14 سورتیں، یونس، ہود، یوسف، رعد، ابراہیم، حجر، نحل، بنی اسرائیل، کہف، مریم، طہ، انبیاء، حج اور مومنون مکی ہیں، آخر میں صرف سورة نور مدنی ہے۔ سورتوں کے جوڑے جوڑے ہونے کا اصول، جس طرح پچھلے دونوں گروپوں میں آپ نے ملاحظہ فرمایا اسی طرح اس گروپ میں بھی ملحوظ ہے۔ سورة نور کی حیثیت : گروپ کی پندرھویں سورة ، سورة نور، بظاہر الگ نظر آتی ہے لیکن اس کی حیثیت، جیسا کہ ہم سورة کی تفسیر میں واضح کریں گے، سورة مومنون کے تکملہ اور تممہ کی ہے۔ سورة مومنون میں اہل عیمان کو دنیا اور آخر دونوں کی فلاح کی جو بشارت دی گئی ہے وہ اس خاص اخلاق و کردار کے ساتھ مشروط ہے جو ایمان کا لازمی مقتضی ہے۔ سورة نور میں اخلاق کردار کو مزید واضح فرمایا گیا ہے جس سے " خبیثون " اور " خبیثات " کے کافرانہ معاشرے کے مقابل میں " طیبون " اور " طیبات " کا مومنانہ معاشرہ پوری آب و تاب کے ساتھ نگاہوں کے سامنے آگیا ہے اور اس معاشرہ کے لیے اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ ہے وہ بھی اس میں نہایت واضح اور قطعی الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ چناچہ فرمایا ہے " وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الأرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (٥٥ ): تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیا ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلافت بخشے گا جس طرح اس نے ان لوگوں کو خلافت بخشی جو ان سے پہلے گزرے اور ان کے اس دین کو ان کے لیے مستحکم کرے گا جس کو اس نے پسند فرمایا اور ان کی اس خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا " (نور) سورة حج مکی ہے : اس گروپ کی سورتوں میں سے سورة حج کو بعض لوگوں نے مدنی قرار دیا ہے لیکن یہ رائے صحیح نہیں ہے۔ گروپ کی آخری سورتیں چونکہ ہجرت کے بالکل قریب زمانے کی ہیں اس وجہ سے ان میں کہیں کہیں مدنی دور کی جھلک آگئی ہے۔ لیکن یہ سورتیں اپنے مزاج اور مطالب کے اعتبار سے سب مکی ہیں۔ سورة حج کی بعض آیتیں مدنی دور سے تعلق رکھنے والی ضرور ہیں لیکن سورة بحیثیت مجموعی، جیسا کہ ہم اس کی تفسیر میں واضح کریں گے، مکی ہے۔ کسی مکی سورة میں مدنی دور کی بعض آیتیں بطور توضیح یا تکمیل آجانے سے پوری سورة پر مدنی ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ ایسی سورتیں قرآن میں بہت ہیں جن میں مدنی دور کی آیات شامل ہیں لیکن یہ سورتیں اپنے بنیادی مطالب اور اپنے مزاج کے اعتبار سے مکی ہی قرار دی گئی ہیں۔ ان تمام سورتوں میں قدر مشترک : اس پورے گروپ کی تلاوت بار بار تدبر کے ساتھ کیجیے تو آپ نہایت واضح طور پر محسوس کریں گے کہ گروپ کی تمام سورتوں میں مشترک حقیقت، جو مختلف اسلوبوں اور پہلوؤں سے واضح فرمائی گئی ہے، یہ ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت سے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش برپا ہوچکی ہے وہ بالآخر پیغمبر اور اہل ایمان کی کامیابی و فتحمندی اور قریش کی ذلت و ہزیمت پر منتہی ہوگی۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیے کہ اس میں قریش کے لیے انذار اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کے لیے بشارت ہے۔ قریش پر عقل و فطرت اور آفاق وانفس کے دلائل اور تاریخ و نظام کائنات کے شواہد سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ جو حق تمہارے پاس آچکا ہے۔ اگر اس کی مخالفت میں تمہاری یہی روش قائم رہی تو بہت جلد وہ وقت آ رہا ہے جب تم اس کا انجام بد اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے۔ دنیا میں تم سے پہلے جن قوموں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی ہے جو حشر ان کا ہوا ہے اور جن کے عبرت انگیز آثار تمہارے اپنے ملک میں موجود ہیں، وہی حشر تمہارا بھی ہونا ہے۔ اسی طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کو صبر و استقامت اور تقوی کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ جس حق کو لے کر تم اٹھے ہو انجام کار کی کامیابی اور فیروزمندی اسی کا حصہ ہے۔ آفاق وانفس اور تاریخ اقوام و ملل کے دلائل و شواہد سب تمہارے ہی حق میں ہیں۔ البتہ سنت الٰہی یہ ہے کہ حق کو غلبہ اور کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے آزمائش کے مختلف مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان مرحلوں سے لازماً تمہیں بھی گزرنا ہے۔ اگر یہ مرحلے تم نے عزیمت و استقامت کے ساتھ طے کرلیے تو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تمہارا ہی حصہ ہے۔ " يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ "۔ یہ پورے گروپ پر ایک اجمالی نظر ہوئی۔ اب ہم گروپ کی ایک ایک سورة کو الگ الگ لے کر اس کی تفسیر کریں گے۔ گروپ کی پہلی سورة ، سورة یونس ہے۔ ہم اپنے طریقہ کے مطابق پہلے اس کا عمود متعین کر کے اس کے مطالب کا تجزیہ کریں گے، اس کے بعد ایک ایک آیت کی تفسیر کریں گے۔ وما توفیقی الا باللہ۔ (ب) ۔ سورة کا عمود : اس سورة کی عمود نہایت جامع الفاظ میں اس کی دوسری ہی آیت سے واضح ہورہا ہے۔ فرمایا ہے " اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ: کہ لوگوں کو آگاہ کردو اور اہل ایمان کو بشارت پہنچا دو کہ ان کے رب کے پاس ان کے لیے بڑی پایگاہ ہے کافروں نے کہا یہ تو کھلا ہوا جادوگر ہے " (یونس :2) ۔ " فاصبر ان العاقبۃ للمتقین : پس ثابت قدم رہو، انجام کار کی کامیابی متقین ہی کے لیے ہے " (ھود :49) ۔ سورة یوسف میں ارشاد ہے : " انہ من یتق و یصبر فان اللہ لا یضیع اجر المحسنین : بیشک جو تقوی اختیار کریں گے اور ثابت قدم رہیں گے تو اللہ ایسے خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا " سورة رعد میں اس صبر وتقوی کی کسی قدر تفصیل بھی آگئی ہے : " والذین صبروا ابتغاء وجہ ربھم و اقاموا الصلوۃ وانفقوا مما رزقناھم سرا وعلانیۃ و یدرءون بالحسنۃ السیئۃ اولئک لھم عقبی الدار : اور جو لوگ اپنے رب کی رضا جوئی میں جمے رہے اور نماز کا اہتمام کیا اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق بخشا اس میں چھے اور کھلے خرچ کیا اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے رہے وہی لوگ ہیں جن کے لیے دار آخرت کی کامیابی ہے " (رعد :22) ۔ سورة ابراہیم میں اس کلمہ توحید کی طرف بھی اشارہ ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں اہل ایمان کے ثبات قدم کا ضامن ہے : " یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا وفی الآخرۃ۔ ویضل اللہ الظالمین : اللہ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت میں قول محکم کی بدولت ثبات قدم بخشے گا اور ظالموں کو نامراد کردے گا " (ابراہیم :27) ۔ سورة نحل میں ہے : " للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ۔ ولدار الآخرۃ خیر۔ ولنعم دار المتقین : جن لوگوں نے خوب کاری اختیار کی ان کے لیے اس دنیا میں بھی اچھا صلہ ہے اور آخرت کا گھر اس سے کہیں بہتر ہے اور کیا ہے اچھا ہے متقین کا گھر " (نحل :20) ۔ سورة بنی اسرائیل میں ہے کہ سیدھی راہ قرآن کی بتائی ہوئی راہ ہے اور جن لوگوں نے یہ راہ اختیار کرلی ہے دنیا اور آخرت کی فلاح کی بشارت انہی کے لیے ہے۔ "إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا (٩) وَأَنَّ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا (١٠): بیشک یہ قرآن اس رستہ کی طرف رہنمائی کر رہا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ان مومنین کو جو نیک عمل کر رہے ہیں ایک اجر عظیم کی بشارت دے رہا ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لیے ہم نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے "۔ سورة انبیاء میں ہے : " ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحون : اور ہم نے زبور میں یاد دہانی کے بعد یہ لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے "۔ گروپ کی آخری سورة ۔ سورة نور۔ میں یہ بشارت واضح سے واضح تر ہوگئی ہے۔ " وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الأرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (٥٥ ): تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلافت عطا فرمائے گا جس طرح ان لوگوں کو خلافت عطا فرمائی جو ان سے پہلے گزرے اور ان کے اس دین کو مستحکم کرے گا جس کو ان کے لیے پسند فرمایا اور ان کی اس خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا " (نور :55) ۔ ان آیات کو نقل کرنے سے مقصود سورة یونس اور اس گروپ کی دوسری سورتوں کے عام مزاج سے فی الجملہ قارئین کو آشنا کردینا ہے۔ ہر سورة کا عمود اور بحث و استدلال میں اس کا صحیح رخ مطالب کے تجزیہ سے سامنے آئے گا۔ اب ہم سورة یونس کے مطالب کا تجزیہ پیش کرتے ہیں تاکہ پوری سورة بیک نظر سامنے آجائے۔ (ج) ۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ : (1 ۔ 2) ۔ قریش کے حال پر اظہار افسوس کہ یہ پر حکمت کتاب کی آیات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک شخص پر اتاری ہیں، حق تھا کہ وہ اس کتاب کی قدر کرتے، یہ منکرین کو ان کے انجام بد سے آگاہ کرنے والی اور مومنین کو اللہ کے ہاں مرتبہ بلند کی بشارت دینے والی ہے لیکن ان متکبرین پر یہ بات شاق گزر رہی ہے کہ انہی میں کا ایک آدمی ان کے پاس بشیر و نذیر بن کر آئے چناچہ وہ اس کو جادوگر قرار دیتے ہیں۔ (4 ۔ 3) اللہ ہی سب کا رب ہے۔ اسی نے آسمان و زمین بنائے۔ وہی تمام آسمان و زمین کا انتظام فرما رہا ہے۔ اس کے ہاں اس کے اذن کے بغیر کسی کے لیے سفارش کی گنجائش نہیں۔ سب اسی کی طرف لوٹیں گے اور وہ ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو عدل کے ساتھ بھرپور صلہ دے گا اور کفار کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔ (5 ۔ 10) ۔ آفاق کی شہادت کہ یہ کائنات کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشہ نہیں ہے جو غور کرنے والے ہیں وہ اس حقیقت پر ایمان رکھتے ہیں کہ اس کے بعد ایک روز عدل ظہور میں آنے والا ہے۔ صرف وہی لوگ اس حقیقت سے غافل ہیں جو اللہ کی نشانیوں پر غور نہیں کرتے اور اسی دنیا کی دلچسپیوں میں مگن ہیں۔ ایسے لوگوں کو ٹھکانا جہنم ہے۔ اللہ ایمان اور عمل صالح والوں کو ان کے ایمان کی بدولت نعمت کے باغوں میں داخل کرے گا جہاں وہ اپنی کامیابیوں پر شاداں ایک دوسرے کو مبارک سلامت کا پیغام دیں گے اور اللہ نعمتوں کی تکمیل پر ان کی زبانوں پر حمد و شکر کے ترانے ہوں گے۔ (11 ۔ 12) ۔ اللہ تعالیٰ سرکش لوگوں کو اس دنیا میں جو ڈھیل دیتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ رحمت کرنے میں تو جلدی کرتا ہے لیکن قہر کرنے میں جلدی نہیں کرتا۔ اگر وہ رحمت کی طرح قہر کرنے میں بھی جلدی کرنے والا ہوتا تو ان سرکشوں کا قصہ کب کا تمام ہوچکا ہوگا۔ لیکن ایسا نہیں ہے اس وجہ سے وہ ایسے لوگوں کو موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں اچھی طرح بھٹک لیں اور اپنے اوپر اللہ کی حجت تمام کرالیں۔ ان لوگوں کی یہ سرکشی اور ان کی یہ اکڑ ان کے تھڑدلے پن کا ثبوت ہے۔ انسان کا حال یہ ہے کہ ذرا ہم پکڑیں تو لیٹے، بیٹھے، کھڑے ہمارا وظیفہ پڑھنا شروع کردیتا ہے لیکن ذرا ڈھیل دے دیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نہ یہ کبھی ہماری پکڑ میں آیا تھا اور نہ کبھی اس نے ہمارے آگے کوئی فریاد کی تھی۔ (13 ۔ 14) ۔ پچھلے رسولوں اور ان کی امتوں کا حوالہ کہ آخر یہ لوگ ان کے حالات سے سبق کیوں نہیں لیتے ؟ اللہ تعالیٰ نے انہی کی جگہ ان کو دی اور اس لیے دی کہ دیکھے یہ کیسا عمل کرتے ہیں تو آخر ان کے ساتھ اس سے مختلف معاملہ کیوں ہوگا جو ان کے ساتھ ہوا۔ (15 ۔ 19) ۔ توحید بیزاری کے سبب سے قریش کا یہ مطالبہ کہ اگر ہم کو سنانا ہے تو اس قرآن کے سوا کوئی اور قرآن لآ یا کم ازکم اس میں کوئی ایسی ترمی کرو کہ یہ ہمارے لیے گوارا ہوسکے۔ پیغمبر کی طرف سے اس کا جواب کہ میں تو تمہارے سامنے اللہ کی وحی پیش کرتا ہوں۔ مجھے اس میں کسی تبدیلی یا ترمیم کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے اندر اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ گزار چکا ہو اور اس دوران میں کوئی دعوی یا دعوت لے کر نہیں اٹھا۔ اب جو میں تمہارے سامنے آیا ہو تو اپنی خواہش سے نہیں آیا ہوں بلکہ خدا کے حکم کی تعمیل میں آیا ہوں۔ اگر خدا کا حکم نہ ہوتا تو میں ہرگز تمہارے سامنے یہ چیزیں پیش نہ کرتا۔ ساتھی ہی ان کو توحید بیزاری پر یہ تنبیہ کہ یہ جن چیزوں کی پرستش کر رہے ہیں اور سمجھ بیٹھے ہیں کہ یہ خدا سے ان کے لیے سفارش کرتی ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ سب ان کے ذہن کے مفروضات ہیں، خدا کے علم میں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس قسم کی شرکتوں سے پاک اور ارفع ہے۔ اس نے ان لوگوں کو اپنی طرف سے ایک ہی دین توحید دیا لیکن لوگوں نے اس میں اختلاف پیدا کیا اور اگر اللہ نے اپنے فیصلہ کا ایک دن نہ مقرر کیا ہوتا تو آج ہی اس جھگڑے کا فیصلہ ہوجاتا (20 ۔ 23) ۔ کفار قیش کی طرف سے نشانی عذاب کا مطالبہ اور اس کا جواب کہ نشانی عذاب دکھانا پیغمبر کا کام نہیں ہے۔ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے۔ صرف وہی جانتا ہے کہ کوئی نشانی ظاہر ہوگی یا نہیں اور ظاہر ہوگی تو کب ہوگی۔ یہ محض انسان کی رعونت ہے کہ وہ کسی عذاب کا مطالبہ کرتا ہے حالانکہ تھڑ دلے پن کا حال یہ ہے کہ جب ذرا خدا کی گرفت میں آجاتا ہے تو اللہ اللہ پکارنے لگتا ہے اور عہد کرتا ہے کہ اس آفت سے جان چھوٹ جائے تو زندگی اپنے رب کا شکر گزار بن کر گزاروں گا لیکن جب اللہ تعالیٰ اس کو نجات دے دیتا ہے تو پھر وہ بغاوت اور نافرمانی کی وہی زندگی اختیار کرلیتا ہے۔ (24 ۔ 27) ۔ اس دنیا کی زندگی کی بےثباتی کی تمثیل کہ کفار کو اس جو زور اور اقتدار حاصل ہے سمجھتے ہیں کہ اس میں کوئی رخنہ کہاں سے پیدا ہوجائے گا۔ حالانکہ آئے دن اس دنیا میں یہ مشاہدہ ہوتا رہتا ہے کہ بارش ہوتی ہے، زمین لہلہا اٹھتی ہے۔ باغ اور کھیت سب مالا مال ہوجاتے ہیں، زمینوں اور باغوں کے مالک یہ سمجھتے ہیں کہ بھلا اب ہمیں ان سے کون محروم کرسکتا ہے کہ دفعۃً رات میں یا دن میں کسی وقت عذاب الٰہی کا کوئی جھونکا آتا ہے اور وہ سب کو آناً فاناً بےنشان کر کے رکھ دیتا ہے۔ سلامتی کا گھر صرف اللہ کے پاس ہے اور وہ لوگوں کو اسی کی طرف دعوت دیتا ہے لیکن اس کی راہ صرف صاحب توفیق ہی اختیار کرتے ہیں اور وہ لوگوں کو اسی کی طرف دعوت دیتا ہے لیکن اس کی راہ صرف صاحب توفیق ہی اختیار کرتے ہیں اور یہی لوگ ہیں جن کے چہرے آخرت میں روشن ہوں گے۔ رہے یہ لوگ جو اسی دنیا کی زندگی میں مگن ہیں خدا سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور ان کے چہروں کا یہ حال ہوگا کہ گویا ان پر شب دیجور کا کوئی ٹکڑا اڑھا دیا گیا ہے۔ (28 ۔ 36) ۔ کفار اپنے جن معبودوں پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں آخرت میں ان کے اور ان کے معبودوں کے درمیان جدائی ہوجائے گی۔ ان کے معبود ان سے اظہار بیزاری کریں گے کہ ہمیں کچھ خبر نہیں کہ تم ہماری عبادت کر رہے تھے۔ اس دن ہر شخص کو صرف اپنے اعمال سے سابقہ پیش آئے گا اور ہر ایک کی پیشی معبود حقیقی کے سامنے ہوگی۔ کفار سے یہ مطالبہ کہ جب تم خالق، رازق، مالک اور زندگی اور موت پر اختیار رکھنے والا خدا ہی کو مانتے ہو تو اسی کو رب بھی مانو۔ اس واضح حق کے بعد اگر تم خدا کے سوا کسی اور کو بھی رب مانتے ہو تو یہ صریح ضلالت ہوئی آخر اس دنیا کی خلق و تدبیر اور تمہاری ہدایت و رہنمائی میں تمہارے ان فرضی معبودوں کا کیا حصہ ہے جس کی بنا پر تم ان کو خدا کے حقوق میں شریک بنا بیٹھے ہو، یہ تو محض تمہاری اٹکل پچو باتیں ہیں جو حق کے مقابل میں تمہارے کچھ کام آنے والی نہیں ہیں۔ (37 ۔ 44) ۔ یہ قرآن کوئی من گھرت چیز نہیں ہے۔ اس کی پیشین گوئیاں پچھلے صحیفوں میں موجود ہیں اور یہ انہی پیشین گوئیوں کا مصداق اور انہی اشارات کی تفصیل ہے۔ اس کے خدائی کتاب ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر کفار کہتے ہیں کہ یہ تمہاری گھڑی ہوئی چیز ہے جس کو تم جھوٹ موٹ خدا کی طرف منسوب کر رہے ہو تو ان سے کہو کہ یہ اس کی مانند کوئی ایک ہی سورة لا کر دکھائیں اور اس کام میں اپنے معبودوں کی مدد بھی اگر حاصل کرسکیں تو وہ بھی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اصل یہ ہے کہ یہ ایک ایسی چیز کا انکار کر رہے ہیں جس کی حقیقت ان کے سامنے ابھی نہیں آئی ہے۔ اور اس معاملے میں یہ پچھلے مکذبین کی روش کی تقلید کر رہے ہیں تو صبر کرو اور دیکھو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ پیغمبر کو تسلی کہ جن کے اندر صلاحیت ہے وہ اس کتاب پر ایمان لا رہے ہیں، رہے وہ لوگ جو اندھے بہرے بن چکے ہیں تو نہ وہ تمہاری بات سنیں گے نہ تمہارے اوپر کی ان کی کوئی ذمہ داری ہے، تم ان سے اپنی براءت کا اعلان کردو۔ یہ خود اپنے اعمال کی بدولت اس حالت کو پہنچے ہیں۔ خد نے ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی ہے۔ (45 ۔ 58) ۔ جس عذاب اور روز آخرت کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے اس کے لیے یہ جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ جب وہ آئے گا تو یہ محسوس کریں گے کہ زندگی کی مہلت ایک ساعت سے زیادہ نہیں تھی۔ یہ اللہ ہی کے علم میں ہے کہ یہ عذاب کب آئے گا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ تمہاری موجودگی ہی میں ان کو دکھا دیا جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمہاری وفات کے بعد یہ اس کا مزا چکھیں۔ لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جب کسی قوم کے پاس اس کا رسول آجاتا ہے تو اس قوم کا فیصلہ لازماً ہوجایا کرتا ہے۔ اگر یہ تم سے اس دھمکی کے ظہور کا وقت پوچھتے ہیں تو تم کہہ دو کہ میرے پاس نہ غیب کا علم ہے اور نہ میں کسی نفع و ضرر پر اختیار رکھتا ہوں۔ بس یہ حقیقت جانتا ہے کہ ہر امت کے لیے ایک پیمانہ مقرر ہے، جب وہ پیمانہ بھر جائے گا تو پھر اس کو ایک منٹ کی بھی مہلت نہیں ملے گی۔ یہ اگر اتنی جلدی مچائے ہوئے ہیں تو ان سے پوچھو کہ خدا کے عذاب کا مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے کیا سامان کر رکھا ہے ؟ اس وقت تو ان کا ایمان لانا بھی بالکل بےسود ہوگا ؟ اس وقت تو حال یہ ہوگا کہ ہر جان اس سے چھوٹنے کے لیے ساری دنیا بھی اس کے ہاتھ آجائے تو اس کو فدیہ میں دینے کے لیے تیار ہوجائے گی تو آخر یہ اپنی شامت بلانے کے درپے کیوں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت و رحمت کو اختیار کیوں نہیں کرتے جو ان پر قرآن کی شکل میں نازل ہوئی ہے اور جس کے آگے اس دنیا کے تمام زخارف بالکل ہیچ ہیں (59 ۔ 70) ۔ جن لوگوں نے بےدلیل خدا کے شریک اور سفارشی بنا رکھے ہیں کیا ان کو خدا سے ناانصافی کا اندیشہ ہے ؟ خدا تو اپنے بندوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔ البتہ لوگ ناشکری کرتے اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کو دوسری نسبت سے حلال و حرام ٹھہارتے ہیں۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کو تسلی کہ خدا ہر قد پر تمہارے ساتھ ہے۔ جو اللہ کے اولیاء ہیں ان کے لیے کوئی خوف اور غم نہیں ہے۔ دنیا کی زندگی میں بھی ان کے لیے بشارت ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے بشارت ہے اور خدا کے وعدے اٹل ہیں۔ عزت صرف اللہ کے لیے ہے، جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی پوجا کرتے ہیں وہ صرف گمان کی پوجا کر رہے ہیں۔ شب و روز سب اللہ ہی کے بنائے ہوئے ہیں اور زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ اللہ سب سے مستغنی ہے۔ اس کا کوئی ساجھی اور شریک نہیں۔ جو لوگ اپنے جی سے خدا کے شریک ٹھہراتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ اور وہ آخرت میں عذاب شدید سے دو چار ہوں گے۔ (71 ۔ 93) ۔ اوپر کے بیان کردہ حقائق کی تائید میں تاریخ کی شہادت۔ حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک کے انبیاء اور ان کی قوموں کی سرگزشت کا اجمالی حوالہ، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کو یہ تلقین کہ جس طرح کے حالات تم سے پہلے انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو پیش آچکے ہیں اسی طرح کے حالات تمہاری قوم کی طرف سے تم کو پیش آرہے ہیں۔ پس اگر تم نے صبر اور توکل کی وہی روش اختیار کی جو تمہارے پیش رو انبیاء اور ان کے صحابہ نے اختیار کی اور اس پر جمے رہے تو تمہیں اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں جہان میں سرخرو کرے گا اور تمہارے مخالفوں کا وہی حشر ہوگا جو نوح اور موسیٰ کے خالفوں کا ہوچکا ہے۔ (94 ۔ 103) ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے مسلمانوں کو یہ تلقین کہ مخالفوں کو غوغا تمہیں اس کتاب کے باب میں کسی شک میں نہ ڈالے جو تم پر اللہ نے اتاری ہے۔ یہ بالکل حق ہے اور جو اچھے اہل کتاب ہیں وہ بھی اس کے حق ہونے کے گواہ ہیں۔ جو لوگ اس کو جھٹلا رہے ہیں وہ اپنے اعمال کے سبب سے خدا کے قانون کی زد میں آچکے ہیں، ان کو خواہ کتنی ہی نشانیاں دکھا دی جائیں وہ اس وقت تک ایمان لانے والے نہیں ہیں جب تک فیصلہ کن عذاب نہ دیکھ لیں۔ کوئی قوم جب قانونِ الٰہی کی زد میں آجاتی ہے تو اس کو ایمان نصیب نہیں ہوا کرتا۔ صرف قوم یونس ایک ایسی قوم ہے جو عذاب الٰہی کی زد میں آتے آتے بچ گئی۔ عذاب بس آنے ہی کو تھا کہ وہ ایمان لائی اور اللہ نے اس کو بچا لیا۔ اہل ایمان کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ لوگ عقل اور سمجھ سے کام لے کر ایمان کی راہ اختیار کریں نہ کہ عذاب کی نشانیوں سے مجبور ہو کر۔ اگر اللہ کو مجبورانہ ایمان مطلوب ہوتا تو اس کے لیے کیا مشکل تھا کہ وہ سب کو ایمان کی ڈگر پر ہانک دیتا ؟ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ ایمان کی توفیق صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو عقل و بصیرت سے کام لیتے ہیں۔ جو لوگ اپنے دلوں پر نجاست کے انبار جمع کرلیتے ہیں ان کے لیے ایمان کی راہ نہیں کھلتی۔ ایسے لوگوں کو بڑی سے بڑی نشانی بھی کچھ نفع نہیں پہنچاتی۔ یہ لوگ تو بس اس طرح کے فیصلہ کن دن کے انتظار میں ہیں جس طرح کے فیصلہ کن دن پچھلی قوموں کو پیش آچکے ہیں۔ ان سے کہو کہ اگر تم اسی کے انتطار میں ہو تو انتظار کرو میں بھی اب تمہارے لیے اسی کے انتظار میں ہوں۔ (104 ۔ 109) ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے مخالفین کے سامنے ایک فیصلہ کن اعلان کہ اگر کسی کو میرے دین کے بارے میں شک ہو تو وہ اچھی طرح کان کھول کر سن لے کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان کو نہیں پوجتا، میں صرف اللہ واحد کی عبادت کرتا ہوں۔ اسی توحید پر آپ کو جمے رہنے کی تاکید، اس لیے کہ نفع و ضرر صرف اللہ ہی کے اختیار میں ہے، دوسرا نہ کچھ بنا سکتا، نہ بگاڑ سکتا۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے اعلان کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق آچکا ہے اور وہ میں نے لوگوں کو پہنچا دیا ہے۔ اب جو ہدایت اختیار کرے گا تو اس کا نفع اس کو پہنچے گا۔ اور جو گمراہی کی راہ اختیار کرے گا تو اس کا انجام خود بھگتے گا۔ میں کسی کے ایمان کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ آخر میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت کہ وحی الٰہی کی پیروی کرو، اسی پر جمے رہو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ صادر فرما دے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

Ayahs 10:1–2

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

یہ الف، لام، را ہے۔ یہ پر حکمت کتاب کی آیات ہیں

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو اس بات پر حیرانی ہے کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص پر وحی کی کہ لوگوں کو ہوشیار کردو اور اہل ایمان کو بشارت پہنچا دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑا مرتبہ ہے۔ کافروں نے کہا، بیشک یہ ایک کھلا ہوا جادوگر ہے

تفسیر آیت 1۔ 2: الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ۔ أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ۔ الر۔ اس سورة کا قرآنی نام الر، ہے اور تلک، کا اشارہ اسی کی طرف ہے۔ یہ حروف مقطعات ہیں جن پر ایک جامع بحث ہم بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں کتاب کی صفت، حکیم، اس بات کی طرف اژارہ کر رہی ہے کہ یہ کتاب اپنے ہر دعوے پر دلیل و حجت سے اس طرح آراستہ ہے کہ اپنی صداقت کی کسوٹی خود اپنے ہی اندر رکھتی ہے، کسی خارجی شہادت کی محتاج نہیں ہے۔ جو لوگ اس کی صداقت کے ثبوت کے لیے کسی شہادت کے طلب گار ہیں وہ خارج کی بجائے خود اس کے اندر اتریں، اگر ان کی عقل سلیم اور فطرت مستقیم ہوگی تو اس کی حکمت خود ان کے ہر شب ہے کو صاف کردے گی۔ أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا۔۔۔ الآیۃ۔ الناس سے مراد قرینہ دلیل ہے کہ یہاں قریش ہیں۔ یعنی جب یہ کتاب بجائے خود حجت وبرہان ہے تو مجرد یہ بات اس کے انکار کی کیا دلیل ہوئی کہ اس کی وحی انہی میں سے ایک شخص پر آئی ؟ اپنے اندر کے کسی شخص پر اس وحی کا آنا کوئی انکار واستعجاب کی چیز نہیں بلکہ یہ سوچیں تو یہ اللہ کا ان پر احسان عظیم ہے کہ اس نے ان پر انہی کے اندر کے ایک ایسے شخص کے ذریعہ سے یہ کتاب اتاری جس کے ماضی و حاضر اور جس کے کردار و اخلاق سے وہ اچھی طرح آگاہ بھی ہیں اور جس کے امین و راستباز ہونے کے وہ معترف بھی رہے ہیں ؟ کیا یہ بات بہتر ہوتی کہ کوئی غیر ان پر اس حق کی گواہی دیتا یا یہ بہتر ہے کہ اللہ نے انہی کے ایک بہترین فرد کو اس حق کا گواہ بنایا اور اس طرح گویا انہی کی زبان اور انہی کے ضمیر نے ان پر حق کی حجت تمام کی۔ یہ بات بھی کسی پہلو سے معقول نہ ہوتی کہ اس کام کے لیے کوئی فرشتہ یا جن منتخب کیا جاتا۔ انسانوں کے لیے معلم و مرشد اور نمونہ و مثال انسان ہوسکتا ہے نہ کہ فرشتے اور جن۔ کتاب اور حامل کتاب کا اصل پیغام۔ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا۔ یہ اس کتاب یا حامل کتاب کا اصل پیغام نقل ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ پیغام بھی کوئی استعجاب یا انکار کی چیز نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے۔ یہ دنیا کی زندگی یوں ہی ختم ہوجانے والی نہیں ہے بلکہ اس کے بعد ایک ایسا دن آنے والا ہے جس میں سب کو خدا کی طرف لوٹنا ہے اور اس دن وہ لوگ خدا کے ہاں عزت و سرفرازی کا مقام پائیں گے جو اس کتاب پر ایمان لائیں گے اور جو لوگ اس کو جھٹلائیں گے وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں پڑیں گے۔ اس حقیقت کے اظہار سے اگر قریش کے مستکبرین کے دل کو چوٹ لگتی ہے تو لگے اور وہ حیران ہوتے ہیں تو حیران ہوں لیکن جو حقیقت ہے وہ اس وجہ سے غلط نہیں ہوجائے گی کہ اس سے کسی گروہ کے پندار پر ضرب پڑتی ہے۔ " قَدَمَ صِدْقٍ " میں صدق کا لفظ، جیسا کہ دوسرے مقام میں ہم واضح کرچکے ہیں، رسوخ، استحکام اور تمکن پر دلیل ہے اس وجہ سے قدم صدق، کا مفہوم عزت کا مقام، مرتبہ بلند، اونچی پائگاہ اور لازوال سرفرازی ہوگا۔ اس آیت میں ایمان لانے والوں کے لیے جو بشارت ہے وہ تو واضح الفاظ میں مذکور ہے لیکن انذار کا پہلو مبہم چھوڑ دیا گیا ہے اس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ اس گروپ کی تمام سورتوں میں نمایاں پہلو اہل ایمان کے لیے بشارت ہی کا ہے۔ کفار کے انجام کا پہلو ان میں اصلاً نہیں بلکہ ضمناً اور تبعاً بیان ہوا ہے۔ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ۔ یہ کفار کے استعجاب و انکار کی تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس پر حکمت کتاب کی آیتیں ان کو سنائی جاتی ہیں تو بجائے اس کے کہ اس کی قدر کریں اور اس پر ایمان لائیں اس کے لانے والے کو یہ کھلا ہوا جادوگر قرار دیتے ہیں۔ یعنی اس کتاب کے زور، اس کے اثر اور اس کی فصاحت و بلاغت کی شعبدہ بازی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور اپنے عوا کو یہ باور کراتے ہیں کہ اس کتاب اور اس کے لانے والے کے کلام میں جو تاثیر اور کشش محسوس کرتے ہو یہ نہ سمجھو کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ خدا کی طرف سے آئی ہے اور اس میں حکمت کا خزانہ ہے بلکہ جس طرح ایک شعبدہ باز اپنی شعبدہ بازی سے ایک شے کو کچھ سے کچھ بنا کر دکھاتا ہے اسی طرح یہ شخص (محمد ﷺ الفاظ کی شعبدہ گری کا ماہر ہے اور اپنی بات اس طرح پیش کرتا ہے کہ سادہ لوگ اس کے کلام سے مسحور ہوجاتے ہیں۔ انبیاء کو ساحر و کاہن کہنے کا ایک خاص پہلو : یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو کفار جو ساحر قرار دیتے رہے تو صرف ان کے معجزات کی اہمیت گھٹانے کے لیے نہیں بلکہ یہی حربہ وہ ان کے کلام کو بےوقعت ٹھہرانے کے لیے بھی استعمال کرتے۔ جب دیکھتے کہ ان کے اندر کے سلیم الفطرت لوگ نبی کے پیش کیے ہوئے کلام سے متاثر ہو رہے ہیں تو یہ اشغلہ چھوڑتے کہ یہ تو محض الفاظ کی شعبدہ بازی اور زبان کی جادوگری ہے، اپنے آپ کو اس فریب سے بچاؤ۔ خود قرآن کو سحر کہنے میں بھی یہی مقصد ان کے پیش نظر ہوتا۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کو کفار کاہن بھی کہتے تھے۔ اس سے بھی ان کا مقصد یہی ہوتا کہ اپنے عوام کی توجہ قرآن اور پیغمبر سے ہٹائیں کہ یہ کلام کوئی مافوق چیز اور اس کا پیش کرنے والا کوئی مافوق ہستی نہیں ہے۔ جس طرح ہمارے کاہن سجع اور قافیہ کے ساتھ مرصع اسلوب میں اپنا کلام پیش کرتے ہیں اور جس طرح کاہنوں کے کلام میں مستقبل سے متعلق کچھ پیشین گوئیوں کی جھلک ہوتی ہے اسی طرح کی جھلک ان کے کلام میں بھی ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ یہ ہماری جانی پہچانی ہوئیں چیزیں ہیں۔ ان کو آسمانی اور خدائی مرتبہ دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
Ayahs 10:3–4

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

بیشک تمہارا رب وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ ادوار میں پیدا کیا، پھر وہ معاملات کا انتظام سنبھالے عرش پر متمکن ہوا۔ اس کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارشی نہیں۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے تو اسی کی بندگی کرو، کیا تم سوچتے نہیں !

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

اسی کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے۔ یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔ بیشک وہی خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ان کو عدل کے ساتھ بدلہ دے اور جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے ان کے کفر کی پاداش میں کھولتا پانی اور دردناک عذاب ہے

تفسیر آیات 3۔ 4: اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭمَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ ۭ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۔ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا ۭوَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا ۭ اِنَّهٗ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ ۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِيْمٌۢ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ۔ مذکورہ بالا انذار و بشارت کی دلیل : اوپر والے ٹکڑے میں جو انذار و بشارت ہے یہ اسی کی دلیل بیان ہو رہی ہے اور مقدمات کی ترتیب اس طرح ہے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور جس کا خالق ہونا تمہیں خود بھی تسلیم ہے، وہی تمہارا رب اور آقا و مولی ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ خالق تو کوئی اور ہو، آقا و مولی کوئی اور بن جائے ؟ اگر نے کچھ اور رب بنا کر ان سے کچھ امیدیں باندھ رکھی ہیں تو یہ محض تمہاری حماقت ہے جو عقل و فطرت اور خود تمہارے اپنے مسلمہ کے خلاف ہے۔ پھر یہ کائنات کسی اتفاقی حادثے کے طور پر ظہور میں نہیں آگئی ہے بلکہ یہ خدائی دنوں کے حساب سے چھ دنوں یا بالفاظ دیگر چھ ادوار میں درجہ بدرجہ ارتقا پذیر ہوئی ہے۔ یہ تدریج و ترتیب اور یہ ارتقا خود شاہد ہے کہ نہ اس کا ظہور کوئی اتفاق حادثہ ہے نہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشہ ہے بلکہ یہ نہایت اہتمام سے پیدا کیا ہوا ایک باغایت و بامقصد کارخانہ ہے اور اس کی مقصدیت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان جو اس کائنات میں خلیفہ کی حیثیت رکھتا ہے یوں ہی شتر بےمہار نہ چھوڑ دیا جائے بلکہ اس کے سامنے ایک ایسا دن آئے جس میں وہ لوگ پورے انصاف کے ساتھ اپنے اعمال کا صلہ پائیں جنہوں نے خالق کائنات کی پسند کے مطابق زندگی بسر کی اور وہ لوگ اپنے جرائم کی سزا بھگتیں جنہوں نے اس دنیا کو کھیل تماشہ سمجھا اور ساری زندگی بطالت میں گزاری۔ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ۔ یعنی یہ نہ سمجھو کہ خدا دنیا کو پیدا کر کے کسی گوشے میں ایک خاموش علۃ العلل بن کر بیٹھ رہا ہے اور اس دنیا کا سارا انتظام و انصرام اس نے دوسروں کے حوالے کردیا ہے بلکہ وہ خود عرش حکومت پر متمکن اور صرف متمکن ہی نہیں بلکہ بالفعل تمام معاملات کا انتظام فرما رہا ہے۔ زبور میں یہی حقیقت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے " تونے تخت پر بیٹھ کر صداقت سے انصاف کیا " 9۔ 4)۔ مَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ۔ یعنی کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ خدا کے اس انصاف سے کسی ک کی سعی و سفارش کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو بچا لے جائے گا۔ خدا کے ہاں کوئی بھی نہ اس کے اذن کے بغیر سفارش کے لیے زبان کھول سکے گا اور نہ کوئی سفارش باطل کو حق یا حق کو باطل بنا سکے گی۔ اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ، یعنی یہی اللہ جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے، جو عرش حکومت پر متمکن ہو کر عدل و انصاف کے ساتھ فرمانروائی کر رہا ہے، جس کے ہاں کوئی بڑے سے بڑا سفارشی بھی، اس کے اذن کے بغیر، کسی کی سفارش کی جرات نہ کس کے گا، وہی اللہ تمہارا رب ہے تو اپنے اسی رب کی بندگی کرو۔ اس کے سوا تم نے اور رب کہاں سے گھڑ لیے، تم اپنے مانے ہوئے مقدمات و مسلمات کو کس طرح نظر انداز کرجاتے ہو۔ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا ۭوَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا، اسی کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور مولیٰ و مرجع نہیں ہے۔ یہ اللہ کا شدنی وعدہ ہے۔ " جمیعاً " کی تاکید اس امر کے اظہار کے لیے ہے کہ تمہاری اور جن کو تم نے اپنے گمان کے مطابق خدا کا شریک و شفیع بنا رکھا ہے سب کی پیشی خدا ہی کے آگے ہونی ہے اس سے کوئی بھی نہ بچ سکے گا۔ اِنَّهٗ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ ، یہ اس وعدے کے حق ہونے کی دلیل ہے کہ خدا خلق کا آغاز فرماتا ہے۔ وہی دوبارہ اس کا اعادہ فرمائے گا جس نے پہلی مرتبہ اس کا آغاز کیا، آخر دوبارہ اس کا اعادہ کرنے میں اس کو کیوں دشواری پیش آئے گی ؟ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ جن کا نہ اس کائنات کے آغاز میں کوئی حصہ نہ اس کے اعادہ میں کوئی دخل آخر ان کو کس بنیاد پر تم نے مرجع و مولی بنا رکھا ہے ؟ قیامت کا اصلی مقصد : لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ۔ یہی اصل مقصد ہے قیامت کے آنے کا۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کا اصل مقصود درحقیقت اہل ایمان کو جزا دینا ہے، اہل کفر کو سزا اس کے لوازم اور توابع میں سے ہے۔ یہی وہ بشارت ہے جس کا آغاز میں ذکر ہوا ہے۔ اس کی دلیل بیان کرنے کے بعد پھر اس کی طرف اشارہ فرما دیا۔ کفار کے لیے اولین سامان ضیافت : وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِيْمٌۢ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ۔ کفار کو جو عذاب ہوگا یہ اس کا بیان ہے۔ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيْمٍ ، کا ذکر جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں اشارہ کرچکے ہیں، اولین سامان ضیافت کی حیثیت سے ہے یعنی ان کی اول تواضع تو ان کے اترتے ہی کھولتے پانی سے ہوگی۔ پھر ان کے لیے دردناک عذاب کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔
Ayahs 10:5–10

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی ہے جس نے سورج کو تاباں اور چاند نور بنایا اور اس کے لیے منزلیں ٹھہرا دیں تاکہ تم سالوں کو شمار اور حساب معلوم کرسکو اللہ نے یہ کارخانہ بےمقصد نہیں بنایا ہے۔ وہ اپنی نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

بیشک رات اور دن کی آمد و شد اور آسمانوں اور زمین کی مخلوقات میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ڈریں

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

بیشک لوگ ہماری ملاقات کے متوقع نہیں ہیں اور اسی دنیا کی زندگی پر قانع اور مطمئن ہیں اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

انہی لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے ان کے اعمال کی پاداش میں

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اللہ ان کے ایمان کی بدولت ان کو ان کی منزل پر پہنچائے گا، ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، نعمت کے باغوں میں

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

اس میں ان کا ترانہ ہوگا اے اللہ تو پاک ہے اور اس میں ان کی آپس کی تحیت سلام ہوگی اور ان کا آخری کلمہ الحمد للہ رب العالمین (شکر ہے اللہ رب العالمین کے لیے) ہوگا

تفسیر آیات 5 تا 10: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (5)إِنَّ فِي اخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَّقُونَ (6)إِنَّ الَّذِينَ لا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَنُّوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَ (7) أُولَئِكَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (8)إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُمْ بِإِيمَانِهِمْ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الأنْهَارُ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ (9) دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلامٌ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (10)۔ جزا اور سزا کے قطعی ہونے کی دلیل : توحید کے بعد اب یہ جزا اور سزا کے قطعی ہونے کی دلیل بیان ہو رہی ہے کہ اس کارخانہ کائنات پر جو شخص بھی غور کرے گا اس کو یہ حقیقت نہایت نمایاں طور پر نظر آئے گی کہ یہ کسی کباریے کا مال گودام نہیں بلکہ اس کے ہر گوشے میں اس کے خالق کی عظیم قدرت اور اس کی بےپایاں رحمت و ربوبیت نمایاں ہے۔ اس کے اندر نہایت اعلی اہتمام ہے۔ بےنظیر ترتیب و انتظام ہے، بےمثال اقلیدس و ریاضی ہے۔ سورج معین نظام اوقات کے ساتھ نکلتا اور اپنی تابانیوں سے سارے جہان کو روشن کرتا ہے۔ اس کے فیض سے گرمی، سردی، خزاں اور بہار کے مختلف موسم پیدا ہوجاتے ہیں جن میں سے ہر ایک ہماری دنیا کی زندگی اور اس کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ چاند اس سے کسب نور کر کے اپنی معین منزلیں طے کرتا اور ہماری تاریک راتوں میں مختلف زاویوں سے ہمارے لیے شمع برداری بھی کرتا ہے اور ہمارے مہینوں اور سالوں کی تقویم بھی بناتا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ دنیا خیر و شر اور نیکی وبدی کے درمیان امتیاز کے بغیر یوں ہی چلتی رہے گی یا یوں ہی ختم ہوجائے گی ؟ اگر یہ مان لیا جائے تو یہ ساری قدرت و حکمت بےمقصد و بےغایت ہوجاتی ہے جو اس کائنات کے ہر گوشہ میں جلوہ گر ہے۔ پھر تو یہ دنیا بالکل باطل اور ایک کھیل تماشا بن کے رہ جاتی ہے اور یہ ایک ایسی خلاف عقل، ایسی خلاف عدل اور ایسی خلاف فطرت بات ہے کہ کوئی سلیم العقل اور کوئی مستقیم الفطرت انسان ایک لمحہ کے لیے بھی اس کو باور نہیں کرسکتا۔ کچھ اینٹیں ایک جگہ بکھری ہوئی پڑی ہوں تو ان کو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ یونہی پڑی ہوئی ہیں لیکن کیا یہی گمان تاج محل، لال قلعہ اور لاہور و دلی کی جامع مسجدوں کے متعلق بھی کرسکتے ہیں ؟ اس آیت میں سورج کے لیے ضیا (چمک اور تابانی) اور چاند کے لیے نور (خنک روشنی) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس فرق کی یہ توجیہہ کی ہے کہ سورج کی روشنی اپنی ذاتی ہے اور چاند کی روشنی سورج سے حاصل کی ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ بات بجائے خود صحیح ہے لیکن میرے نزدیک " ضیا : میں روشنی کے ساتھ تپش کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اور " نور " خنک روشنی کو کہتے ہیں۔ اور یہ ایک امر واقعہ ہے کہ سورج کی روشنی میں تپش ہوتی ہے اور چاند کی روشنی ٹھنڈی ہوتی ہے۔ صحیح انسانی فطرت کا اعتراف : مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلا بِالْحَقِّ ، یہ صحیح انسانی فطرت کا اعتراف بیان ہوا ہے کہ جو عاقل اس نظام کائنات پر غور کرتا ہے وہ پکار اٹھتا ہے کہ یہ کارخانہ باطل اور بےمقصد نہیں بلکہ ایک عظیم غایت کے ساتھ وجود میں آیا ہے اور یہ غایت مقتضی ہے کہ یہ ایک ایسے انجام پر منتہی ہو جو حق اور باطل کے درمیان پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے۔ يُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ۔ فرمایا کہ اس جزا وسزا کی دلیلیں اور نشانیاں اس نظام کائنات کے اندر پھیلی ہوئی ہیں جو دیکھنے والی آنکھوں سے مخفی نہیں ہوسکتیں لیکن اگر کسی کے لیے یہ مخفی تھیں تو اب ہم نے ان لوگوں کے لیے جو جاننا اور سمجھنا چاہیں ان کی تفصیل بھی کردی ہے۔ بعینہ یہی مضمون آل عمران کی آیت 191 ویتفکرون فی خلق السموت والارض ربنا ما خلقت ھذا باطلا، سبحنک فقنا عذاب النار۔ میں بیان ہوا ہے۔ مزید تفصیل کے طالب اس آیت کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈالیں۔ گردش لیل و نہار کا درس :إِنَّ فِي اخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ الایہ : اختلاف لیل و نہار سے اس تعاقب کی طرف بھی اشارہ ہورہا ہے جو وہ ایک دوسرے کا پوری سرگرمی سے کر رہے ہیں جس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ یہ گردش بےغایت و بےمقصد نہیں ہے بلکہ ایک عظیم نتیجہ پر منتہی ہونے والی ہے، دوسرے اس عظیم نظام ربوبیت کی طرف بھی اس میں اشارہ ہے جو رات اور دن کے اختلاف مزاج کے اندر مضمر ہے کہ دن انسان کے لیے معاش و معیشت کی سرگرمیوں کا میدان گرم کرتا ہے اور رات اس کے لیے راحت و سکون کا بستر بچھاتی ہے۔ اس نظام پر جو شخص بھی غور کرتا ہے وہ لازماً اس نتیجہ تک پہنچتا ہے کہ اضداد کے اندر ایک مشترک مقصد کے لیے یہ حیرت انگیز توافق اسی شکل میں وجود میں آسکتا ہے جب یہ مانا جائے کہ یہ سارا کارخانہ صرف ایک قادر وقیوم کے ارادے کے تحت کام کر رہا ہے اور پھر اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس نے ربوبیت و پرورش کا یہ سارا نظام کھڑا کیا ہے اور اس کو اس اہتمام سے چلا رہا ہے وہ انسان کو مطلق العنان اور غیر مسوئل نہیں چھوڑے گا بلکہ اس کے بعد ایک ایسا دن لازماً آنا ہے جس میں وہ اس ربوبیت کا حق پچاننے والوں کو ان کی حق شناسی کا انعام دے گا اور اس سے بےپروا رہنے والوں کو جہنم میں جھونک دے گا۔ یہی نتیجہ اس کائنات کے تام اجزا اور اس کے تمام اضداد پر غور کرنے سے حاصل ہوتا ہے اور یہی حاصل ہے جو انسان کی رہنمائی آخرت اور اس جزا و سزا کی طرف کرتا ہے جس سے انسان کے اندر وہ حقیقی تقوی پیدا ہوتا ہے جس کی طرف آل عمران کی ذکورہ بالا آیت میں سبحانک فقنا عذاب النار، کے الفاظ سے اشارہ ہوا ہے۔ ان لوگوں کا انجام جو نشانیوں سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں : إِنَّ الَّذِينَ لا يَرْجُونَ۔۔ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ۔ یہ ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جو اس کائنات کی ان تمام نشانیوں کے باوجود اندھے بہرے بنے ہوئے ہیں اور اسی دنیا کی زندگی پر مطمئن ہیں نہ انہیں خدا کی ملاقات کا اندیشہ ہے، نہ آخرت کا ڈر ہے۔ فرمایا کہ ان سب کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ لفظ " رجا " یہاں توقع اور اندیشہ کے معنی میں ہے اور یہی اس کا اصل لغوی مفہوم ہے۔ اہل ایمان کا انجام : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُمْ۔۔۔ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ ھدایت، یہاں منزل مقصود کی ہدایت کے مفہوم میں ہے جو تمام کائنات کی تخلیق کی غایت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی بدولت جنت میں ان کے حسب مرابت منازل و مقامات کی طرف ان کی رہنمائی فرمائے گا۔ دعواہم فیہا سبحانک، یعنی جب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ حق، حق ہو کے رہا اور باطل، باطل تو بےتحاشا ان کی زبان سے، سبحانک اللہم، کے الفاظ نکلیں گے کہ آیات الٰہی کے مشاہدے سے ہمارا جو یہ گمان تھا کہ یہ کارخانہ کائنات کھلنڈرے کا کھیل نہیں ہوسکتا، اس عظیم خالق کی شان سے بعید ہے کہ وہ کوئی کارِ عبث کرے، تو ہمارا یہ گمان سچا ثابت ہوا۔ تحیتہم فیہا سلام، یعنی ایک کامیاب اور فتح مند ٹیم کی طرح ان کے آپس میں مبارک سلامت کے تبادلے ہوں گے اور دوسری طرف کفار کے اندر جوتیوں میں دال بٹ رہی ہوگی اور ہر ایک دوسرے پر لعنت کر رہا ہوگا۔ واخر دعواہم ان الحمد للہ رب العالمین، یہ تکمیلِ نعمت پر اظہارِ شکر ہے کہ اہل جنت جب دیکھیں گے کہ ہر طرف نعمت ہی نعمت ہے تو بےتحاشا ان کی زبان سے یہ شکر کا کلمہ نکلے گا۔
Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اگر اللہ لوگوں کے لیے عذاب کے معاملے میں ویسی ہی سبقت کرنے والا ہوتا جس طرح وہ ان کے ساتھ رحمت میں سبقت کرتا ہے تو ان کی مدت تمام کردی گئی ہوتی۔ تو ہم ان لوگوں کو جو ہماری ملاقات کے متوقع نہیں ہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتے رہنے کے لیے ڈھیل دے دیتے ہیں

آگے کا مضمون آیات 11 تا 19: آگے پہلے منکرین و مکذبین کے اس مطالبہ کا جواب دیا ہے جو وہ عذاب کے لیے کر رہے تھے کہ اگر جزا اور سزا ایسی ہی اٹل چیز ہے اور ہم اپنے اعمال کے باعث اس کے مستحق ہو ہی چکے ہیں تو اس عذاب کو کوئی نمونہ دکھا کیوں نہیں دیتے جس کی دھمکی سنا رہے ہو۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کا حوالہ دیا کہ خدا رحمت میں سبقت کرتا ہے، قہر کرنے میں وہ بڑا دھیما ہے۔ اگر قہر کرنے میں بھی وہ ایسی ہی جلدی کرنے والا ہوتا، جیسا کہ فضل و رحمت کے معاملے میں ہے تو کب کا فیصلہ ہوچکا ہوتا پھر انسان کی اس جلد بازی کی حقیقت واضح کی ہے کہ وہ مطالبہ تو عذاب کا بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کرتا ہے لیکن جب ذرا خدا کی پکڑ میں آجاتا ہے تو واویلا شروع کردیتا ہے، پھر جوں ہی ذرا ڈھیل ملتی ہے اسی طرح اکڑنے لگتا ہے۔ ایسے لوگ ہدایت کسی صورت میں بھی قبول نہیں کرتے۔ پھر ان کو تاریخ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ پچھلی قوموں کی سرگزشت میں، جن کے تما جانشین ہوئے ہو، کافی سامان عبرت موجود ہے، آخر ان کے حالات سے کیوں سبق نہیں لیتے، یہ کیوں ضروری سمجھتے ہو کہ وہی انجام تمہارا بھی ہو جو ان قوموں کا ہوا۔ اس کے بعد ان کے اس مطالبہ کا جواب دیا ہے جو وہ قرآن کو یکسر بدل دینے یا کم ازم کم اس میں ایسی ترمیم کے لیے کر رہے تھے جس کے بعد وہ ان کے لیے گوارا ہوسکے۔ وہ توحید کی تعلیم اور جزا وسزا و سزا اور قہر و عذاب کی دھمکی سننے کے لیے تیار نہیں تھے اس وجہ سے کہتے تھے کہ اگر ہم سے منوانا ہے تو اس کتاب کی جگہ دوسری کتاب لاؤ یا اس میں تبدیلی کرو، بغیر اس کے ہم اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے جواب میں پیغمبر ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ یہ میری بات نہیں ہے کہ میں اس میں کوئی ترمیم کروں۔ یہ تو خدا کی طرف سے ڈالی ہوئی ایک ذمہ داری ہے جو مجھے اٹھانی پڑی ہے۔ اگر اس کا کوئی امکان ہوتا کہ میں اس ذمہ داری سے بچ سکوں تو میں کسی کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہونے دیتا۔ میں تمہارے اندر ایک طویل زندگی گزاری ہے اور تم جانتے ہو کہ میں سیادت و امارت کا طالب کبھی نہیں رہا تو اس عمر میں آکر خدا پر ایک افترا کی ذہ داری میں کس طرح لے سکتا ہوں۔ آخر میں عقیدہ شرک کی لغویت واضح کی ہے اور مقصد یہ ہے کہ جس چیز کی حمیت و حمایت میں قرآن سے یہ بیزاری ہے وہ محض ایک خیال باطل ہے جس کا وجود نہ کہیں آسمان میں ہے، نہ زمین میں۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ وَلَوْ يُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَھُمْ بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ اِلَيْهِمْ اَجَلُھُمْ ۭ فَنَذَرُ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ۔ عذاب کے لیے جلد بازی کا جواب : یہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، جواب ہے عذاب کے لیے کفار کی جلد بازی کا۔ جب ان کو آیات تکذیب کے انجام سے ڈرایا جاتا تو وہ آنحضرت ﷺ کو زچ کرنے کے لیے فوراً یہ مطالبہ کرتے اگر تم سچے رسول ہو اور تمہارے خیال کے مطابق تمہاری تکذیب مستوجب عذاب ہے تو اس عذاب کے میں تاخیر نہ کرو۔ ہم اس کے دیکھنے کے لیے بیقرار ہیں۔ جواب میں ارشاد ہوا کہ سنت الٰہی یوں ہے کہ اللہ رحمت کرنے میں تو جلدی کرتا ہے لیکن عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کرتا۔ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَيْرِ ، میں استعمال ہمارے نزدیک اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا چونکہ اصلاً اپنی رحمت ہی کے لیے خلق فرمائی ہے اس لیے وہ لوگوں پر رحمت نازل بھی فرماتا ہے اور لوگوں سے یہ چاہتا بھی ہے کہ وہ فرصت ختم ہونے سے پہلے پہلے اس کی رحمت کے قدردان نہیں اور نیکی اور سعادت کی وہ راہ اختیار کریں جو دنیا اور آخرت دونوں میں ان کو خدا کے فضل و رحمت کا مستحق بنائے۔ اس سنت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان لوگوں پر عذاب بھیجنے میں جلدی نہ کرے جو اس کے آگے اکڑتے اور اس کے رسول کی تکذیب کرتے ہیں۔ فَنَذَرُ الَّذِينَ لا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا۔ الایہ۔ یہ مذکورہ سنت الٰہی کا تقاضا بیان ہوا ہے کہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ نافرمانی اور طغیان کے باوجود لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مہلت اور ڈھیل دی جائے تاکہ کسی درجے میں بھی اصلاح حال کا کوئی امکان ہو تو لوگ اپنی اصلاح کرلیں اور اگر اصلاح نہ کریں تو ان پر اللہ کی حجت اس طرح تمام ہوجئے کہ روز آخرت کی پیشی کے وقت، جس سے وہ بالکل نچنت ہیں ان کے پاس پیش کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔
Ayah 10:12

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تب تو لیٹے، بیٹھے یا کھڑے ہم کو پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل دیتا ہے گویا کسی تکلیف کے لیے، جو اس کو پہنچی، اس نے ہم کو پکارا ہی نہیں تھا۔ اسی طرح حدود سے تجاوز کرنے والوں کی نگاہوں میں ان کے اعمال کھبا دیے گئے ہیں

وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَاۗىِٕمًا ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَآ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ سرکشوں کی فطرت : " انسان " کا لفظ ہرچند عام ہے لیکن اس سے مراد وہی متمردین قریش ہیں جو عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے ان کو لائق خطاب نہیں سمجھا اس وجہ سے بات عام الفاظ میں فرما دی۔ یہ ان کی اس اکڑ پر ایک ضرب بھی ہے اور اس میں اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس قسم کے لوگوں کا مطالبہ عذاب پورا کردیا جائے تو وہ ایمان لائیں گے۔ اس قسم کے لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب یہ کسی پکڑ میں آتے ہیں تب تو یہ خدا خدا پکارتے ہیں اور سو سو طرح سے توبہ کا عہد و پیمان باندھتے ہیں یکن ذرا ڈھیل مل جاتی ہے تو وہی سرمستی ان پر پھر عود کر آتی ہے اور انہیں یاد بھی نہیں رہتا کہ کبھی پکڑ میں آئے تھے اور انہوں نے اس سے چھوٹنے کے لیے خدا کو پکارا بھی تھا۔ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، یعنی یہ جو کلمہ بیان ہوا ہے یہی ٹھیک ٹھیک ان سرکشوں اور حدود الٰہی سے ان تجاوز کرنے والوں پر منطبق ہوتا ہے۔ یہ جو بداعمالیاں کرتے رہے ہیں۔ سنت الٰہی کے تحت وہ ان کی نگاہوں میں اس طرح کھبا دی گئی ہیں کہ اگر ان کی طلب کے مطابق کوئی نشانی عذاب ان کو دکھا بھی دی جائے تو اس کی گرفت سے چھوٹتے ہی پھر یہ اسی کیچر میں لوٹیں گے جس میں لوٹ رہے ہیں۔
Ayahs 10:13–14

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے قوموں کو ہلاک کیا جب کہ وہ ظلم کی مرتکب ہوئیں۔ اور ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے اور وہ ایمان لانے والے نہ بنے۔ ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں مجرم قوم کو

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد تم کو ملک میں ان کا جانشین بنایا کہ دیکھیں تم کیسا عمل کرتے ہو

تفسیر آیت 13۔ 14: وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا ۙ وَجَاۗءَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَيِّنٰتِ وَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِيْنَ۔ ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰۗىِٕفَ فِي الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ۔ تاریخ کی شہادت : یہ جواب قریش کو مخاطب کر کے، تاریخ کی روشنی میں دیا گیا ہے کہ آخر دوسروں کو جو کچھ اسی ملک کی تاریخ کے مختلف ادوار میں پیش آچکا ہے اس سے سبق کیوں نہیں لیتے۔ یہ کیا ضروری ہے کہ وہی کچھ تم پر گزر جائے تب تمہاری سمجھ میں بات آئے کہ جو کچھ تم سے کہا گیا وہ ٹھیک ہے۔ یہاں حوالہ اجمالی ہے۔ اسی سورة میں آگے بعض اہم تاریخی واقعات کی تفصیل بھی آرہی ہے۔ لما ظلموا، سے مراد یہاں ان قوموں کا وہ ظلم ہے جو انہوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کر کے خود اپنے اوپر ڈھا دیا۔ وجاءتہم رسلہم بالبینات وما کانوا لیومنوا، اسی ظلم کی تفصیل ہے۔ کذلک نجز المجرمین، یعنی جو قومیں اپنے رسولوں کی تکذیب کرتی ہیں ہم ان کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہی جرم تم کرو گے تو آخر اس کی سزا سے کیسے بچ جاؤ گے۔ ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰۗىِٕفَ۔۔ الایہ، یعنی جب تم انہی کے جانشین ہوئے ہو تو آخرتمہارے ساتھ اس سے مختلف معاملہ کیوں ہوگا جو ان کے ساتھ ہوا، ان کو ہٹا کر خدا نے تم کو ان کی جگہ تو اس لیے دی تھی کہ دیکھے تم کیا بناتے ہو ؟
Ayah 10:15

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جب ہماری کھلی ہوئی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہماری ملاقات کے متوقع نہیں ہیں، کہتے ہیں اس قرآن کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں ترمیم کرو۔ کہہ دو مجھے کیا حق ہے کہ میں اس میں اپنے جی سے ترمیم کردوں۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر آتی ہے۔ اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِّلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلا مَا يُوحَى إِلَيَّ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ۔ یعنی توحید اور آخرت کی یہ باتیں، جو مذکور ہوئیں، نہایت واضح دلائل کے ساتھ ان کو سنائی جاتی ہیں تو یہ ان سے چڑتے ہیں اور کہتے ہی کہ یا تو اس قرآن کی جگہ کوئی اور قرآن لاؤ یا کم از کم اس میں ایسی ترمیم کرو کہ ہمارے لیے گوارا ہوسکے۔ گویا قرآن ان کے نزدیک خود آنحضرت ﷺ کی تصنیف ہے کہ آپ اس میں ان کے مطالبے کے مطابق ترمیم و تنسیخ کرسکتے ہیں۔ یہ مطالبہ مخالفین کی شکست خوردگی کی دلیل تھا۔ وہ یہ تو مان چکے تھے کہ قرآن سے اب پیچھا چھڑانا ممکن نہیں رہا۔ اب اگر کوئی شکل باقی ہے تو یہ ہے تو یہ ہے کہ اس کا مقام تسلیم کرتے ہوئے اس میں ایسی ترمیم کرانے کی کوشش کی جائے جس کے بعد ان کے لیے بھی وہ قابل قبول ہوسکے۔ جواب میں نبی ﷺ کی زبان سے یہ کہلایا گیا کہ یہ میری کوئی اپنی تصنیف تھوڑے ہی ہے کہ میں اس میں اپنی جانب سے کوئی ترمیم و تنسیخ کردوں۔ یہ کلام تو مجھ پر خدا کی طرف سے وحی ہوتا ہے اور میں بےچون و چرا اسی وحی کی پیروی کرتا ہوں۔ اگر میں اس میں اپنی طرف سے کوئی ردوبدل کردوں تو کل کو خدا کے آگے کیا جواب دوں گا۔
Ayahs 10:16–17

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

کہہ دو اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو نہ میں اس کو تمہیں سناتا اور نہ وہ اس سے تمہیں باخبر کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر بسر کرچکا ہوں تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ بیشک مجرم فلاح پانے والے نہیں بنیں گے

16۔ 17۔ قُلْ لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلا أَدْرَاكُمْ بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلا تَعْقِلُونَ (16) فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ ادراکم، دری یدری، سے باب افعال اور غائب کا صیغہ ہے۔ فاعل اس کا اللہ ہے۔ بعض لوگوں نے اس کو " ماتلوتہ " سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اس کا ترجمہ متکلم کا کیا ہے لیکن یہ عربیت کے بالکل خلاف ہے۔ مسکت جواب : اب یہ پیغمبر ﷺ کی زبان سے کفار کے مطالبے کے پہلے ٹکڑے کا جواب دلوایا ہے۔ یعنی اس بات کا کہ اس قرآن کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ۔ فرمایا کہ تم گمان کرتے ہو کہ میں نے یہ قرآن تمہارے سامنے اپنے شوق سے پیش کیا ہے اور اس رنگ میں میں نے تم پر اپنی سیادت اور نبوت جمانی چاہی ہے۔ تمہارا یہ خیال بالکل غلط ہے۔ میں نے اس بارگراں کا نہ کبھی ارمان کیا اور نہ اپنے شوق سے اس کو اٹھایا ہے۔ میں اس ذمہ داری کی گراں باریوں سے سب سے زیادہ بھاگنے والا رہا ہوں۔ لیکن مشیت الٰہی یہی ہوئی کہ میں یہ بوجھ اٹھاؤں۔ اگر خدا کی مشیت نہ ہوتی تو نہ میں اس چیز کو تمہارے سامنے پیش کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے تم کو اعلام و انذار کرتا۔ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلا تَعْقِلُونَ۔ پیغمبر کی تاریخ سے استدلال : یہ اوپر والی بات کی ایسی سادہ اور مسکت دلیل ہے کہ کوئی ایماندار آدمی اس کو جھٹلا نہیں سکتا۔ ارشاد ہوا کہ میں تم میں کوئی نو وارد آدمی نہیں ہوں جس کے ماضی و حاضر سے تم بیخبر ہو۔ میں تمہارے اندر زندگی کے چالیس سال گزار چکا ہوں۔ اس طویل مدت میں کب تم نے میری طرف سے کسی جھوٹ یا فریب کا تجربہ کیا ہے۔ کب تم نے میرے اندر سیادت و امارت کی بو محسوس کی ہے، کب تم نے پایا ہے کہ میں اونچے اونچے خواب دیکھتا ہوں اور اپنی بڑائی کی دھونس جمانے کا شوق رکھتا ہوں ؟ آدمی کا مزاج راتوں رات نہیں بنتا اور نہ کردار ایسی چیز ہے جو اتنی طویل باہمی معاشرت کے باوجود نگاہوں سے مخفی رہے جس شخص نے خلق میں سے کسی سے جھوٹ نہ بولا ہو آخر وہ خالق پر اتنا بڑا جھوٹ باندھنے کی جسارت کیسے کرسکتا ہے ؟ آج تک تم مجھے صادق اور امین سمجھتے رہے تو اب میں راتوں رات برخود غلط، خودنما، لپاٹیا اور مفتری کیسے بن گیا ؟ خدا کے بندو عقل سے کام لو۔ انصاف سے غور کرو اور ضد وعناد میں اندھے نہ بن جاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء کی زندگی شرف رسالت سے ممتاز ہونے سے پہلے بھی ایسی بےداگ ہوتی ہے کہ ان کے مخالفین اس پر انگلی رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں پاتے اور یہ چیز ان کے دعوے کی صداقت کی ایک بہت بڑی دلیل ہوتی ہے۔ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي۔۔ الایہ۔ یعنی اگر میں خدا پر افترا کر رہا ہوں اور جھوٹا دعوائے نبوت لے کر اٹھا ہوں تو مجھ سے بڑا کوئی ظالم نہیں اور اگر میں سچا ہوں اور تم اللہ کی آیات کو جھٹلا رہے ہو تو تم سے بڑا کوئی ظالم نہیں۔ اب مستقبل فیصلہ کرے گا کہ ظالم تم ہو یا میں۔ یہ یاد رکھو کہ جو مجرم ہوں گے وہ فلاح نہیں پائیں گے۔ یہاں وہ بات یاد رکھنے کی ہے جس کی طرف ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کہ اللہ کے رسولوں اور ان کے مخالفین کے مابین حق و باطل کی جو کشمکش برپا ہوتی ہے وہ لازماً حق کے غلبہ پر منتہی ہوتی ہے اس لیے کہ رسول خدا کی عدالت ہوتا ہے اور اس کے لیے بفحوائے، لاغلبن انا و رسلی، آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی غلبہ لازمی ہے۔
Ayahs 10:18–19

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور وہ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو ان کو نقصان پہنچا سکیں نہ نفع اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں، کہہ دو ، کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جس کا اس کو خود پتہ نہیں، نہ آسمانوں میں نہ زمین میں۔ وہ پاک اور ارفع ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور لوگ تو ایک ہی امت تھی پھر انہوں نے اختلاف کیا اور اگر تمہارے رب کی جانب سے ایک بات پہلے سے طے نہ پاچکی ہوتی تو ان کے درمیان اس امر میں فیصلہ کردیا جاتا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں

18۔ 19:۔ وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ ۭ قُلْ اَتُنَبِّـــــُٔوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ وَمَا كَانَ النَّاسُ اِلَّآ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَھُمْ فِيْمَا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ۔ مشرکین مکہ کی اصلی چڑ : وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔ الایہ۔ یہ اس خاص چیز کا حوالہ بھی ہے جس کے سبب سے مشرکین مکہ قرآن سے چڑتے اور اس میں ترمیم کا مطالبہ کرتے تھے اور اللہ پر افترا کی ایک مثال بھی ہے جو دلیل ہے اس بات کی کہ عنداللہ سب سے بڑے ظالم یہی ہیں اس لیے کہ یہ ایسی چیزوں کی بندگی کرتے ہیں جو ان کو ضرر پہنچا سکیں نہ نفع اور ان کی نسبت یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارشی ہیں، دنیا میں ہمیں آل و اولاد اور رزق و مال جو کچھ ملتا ہے انہی کی سفارش سے ملتا ہے اور اگر آخر ہوئی تو وہاں بھی یہ ہمیں بخشوائیں گی۔ یہ بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ اہل عرب اپنے معبودوں کو نہ خدا کی ذات میں شریک مانتے تھے نہ کسی کو خالق ومالک کا درجہ دیتے تھے بلکہ صرف ان کو خدا کے چہیتوں کا درجہ دیتے اور ان کی سفارش کی امید پر ان کی پرستش کرتے تھے۔ عربیت کا ایک خاص اسلوب : قُلْ اَتُنَبِّـــــُٔوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ۔ یہ نفی الشیء بنفی لازمہ کے اسلوب پر ان فرضی سفارشیوں کی تردید ہے۔ یعنی ان کے ان فرضی سفارشیوں کا اسمان و زمین میں کوئی وجود ہوتا تو سب سے زیادہ ان سے باخبر تو خود اللہ تعالیٰ ہوتا جس کے وہ مقرب اور چہیتے ٹھہرائے جاتے ہیں۔ لیکن خدا کو تو ان کا کوئی پتا نہیں ہے، بس یہی لوگ ان کا سراغ بھی دے رہے ہیں اور یہی ان کو آسمان پر بھی چڑھا رہے ہیں۔ بعینہ یہی مضمون رعد آتی 33 میں بھی ہے۔ وجعلوا للہ شرکاء۔ قل سموھم ام تنبئونہ بما لایعلم فی الارض ام بظاہر من القول (اور انہوں نے اللہ کے شریک ٹھہرائے ہیں، ان سے ہو کہ ذرا ان کے نام تو لو، کیا تم اس کو اسایسی چیز کا پتہ دے رہے ہو جس کے زمین میں وجود کا اس کو خود علم نہیں یا یوں ہو ہوائی بات کر رہے ہو)۔ عربیت کے اس اسلوب کی مثالیں کلام عرب میں موجود ہیں۔ امرء القیس نے ایک صحرائی راستہ کی تعریف کی ہے کہ لایہتدا بمنارہ، اس کی برجیوں سے رہنمائی نہیں حاصل کی جاتی۔ جس کا صریح مفہوم یہ ہے کہ اس میں برجیاں اور مینارے سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اگر ہوتے تو لازماً ان سے رہنمائی حاصل کی جاتی۔ رد شرک کی ایک دلیل : سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ یہ صرف تنزیہہ کا کلمہ نہیں ہے بلکہ رد شرک کی ایک بہت بڑی دلیل بھی ہے۔ وہ یوں کہ کسی شے کی بنیادی صفات کے ساتھ کسی ایسی صفت کا جوڑ ملانا خلاف عقل ہے جس سے بنیادی صفات میں سے کسی صفت کی نفی ہوتی ہو یا اس سے کوئی تضاد لازم آتا ہو۔ شرک ہر شکل میں یا تو خدا کی بنیادی مسلم صفات میں سے کسی صفت کی نفی کرتا ہے یا اس سے تضاد لازم آتا ہے۔ توحید کے حق میں تاریخ کی شہادت : وَمَا كَانَ النَّاسُ اِلَّآ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا۔ یہ توحید کے حق میں تاریخی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے لوگوں کو ایک ہی دین توحید کی تعلیم دی اور ایک ہی امت بنایا۔ لیکن لوگوں نے بعد میں اس میں اختلاف پیدا کر کے کج پیچ کی بہت سی راہیں نکال لیں اور مختلف امتوں اور گروہوں میں بٹ گئے۔ مطلب یہ ہے کہ آج شرک و ضلالت کے مختلف طریقوں کی موجودگی سے کوئی یہ دلیل نہ پکڑے کہ یہ راستے بھی خدا اور رسول کے بتائے ہوئے ہیں۔ ان کو خدا سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ گمراہوں کی اپنی ایجاد سے ظہور میں آئے ہیں۔ ضمناً اس سے جدید فلسفیوں کے اس نظریہ کی بھی تردید ہوگئی کہ انسان نے دین کا آغاز شرک سے کیا پھر درجہ بدرجہ ارتقاء کرتے ہوئے توحید تک پنچا۔ قرآن اس کے بالکل برعکس یہ کہتا ہے کہ خدا نے شروع ہی سے انسان کو توحید کی تعلیم دی لیکن گمراہوں نے اس میں اختلاف پیدا کر کے فتنے کھڑے کردیے۔ ہم نے فلسفۂ جدید کے اس باطل نظریہ کی تردید اپنی کتاب " حقیقت توحید " میں تفصیل سے کی ہے۔ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ۔۔ الایہ۔ یعنی اس اختلاف کے فیصلہ کے لیے آخرت کا دن خدا کی طرف سے مقرر ہوچکا ہے۔ اگر یہ دن مقرر نہ ہوچکا ہوتا تو آج ہی ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا۔
Ayah 10:20

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں ان پر ان کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری جاتی ؟ تو تم جواب دے دو کہ غیب کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے تو تم لوگ انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں

آگے کا مضمون۔ آیات 20 تا 27: آگے کفار کے مطالبۂ عذاب کا حوالہ دے کر اس کا جواب دیا ہے کہ یہ لوگ عذاب کی کوئی نشانی مانگتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اس طرح کی کوئی نشانی ان کو دکھا دی گئی تو وہ ضرور ہی ایمان لائیں گے لیکن حالت یہ ہے کہ اس طرح کی کوئی نشانی ظاہر ہوتی ہے تو جب تک اس کی گرفت میں ہوتے ہیں اس وقت تک تو انہیں خدا یاد آتا ہے۔ لیکن جوں ہی ذرا ڈھیل ملی تو پھر اپنی سرمستیوں میں اس طرح کھوجاتے ہیں گویا کوئی بات سرے سے پیش ہی نہیں آئی۔ ایسے لوگوں کو کوئی مزید نشانی دکھانے سے کیا حاصل ؟۔ پھر کفار کا یہ مغالطہ دور فرمایا ہے کہ آج تمہارے حالات سازگار ہیں اور ہر طرف فراغت و رفاہیت کے سروسامان کی فراوانی ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اب تم خدا کی گرفت سے باہر ہو اور تمہیں کوئی گزند پہنچ ہی نہیں سکتا۔ خدا کے قہر کی بجلی تو اس وقت گرتی ہے جب مستحق عذاب قوم اپنے حالات میں اتنی مگن ہوتی ہے کہ وہ یہ سمجھنے لگتی ہے کہ اب آسمان یا زمین سے کوئی خطرہ اسے پیش آ ہی نہیں سکتا۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ وَيَقُوْلُوْنَ لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا ۚ اِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ۔ مطالبہ عذاب کا جواب : " آیت " سے یہاں قرینہ دلیل ہے کہ نشانی عذاب مراد ہے۔ قرآن ان کو دو عذابوں کی خبر دے رہا تھا۔ ایک رسول کی تکذیب کی صورت میں اس دنیا میں۔ دوسرا عدم ایمان کی صورت میں آخرت میں۔ سادات قریش کے پندار پر اس سے بڑی چوٹ پڑتی تھی اور یہ چیز بھی منجملہ ان چیزوں کے تھی جن کی وجہ سے وہ قرآن کے بدلنے یا اس میں ترمیم کا مطالبہ کرتے تھے۔ اس باب میں وہ آنحضرت ﷺ کو زچ کرنے کے لیے یہ کہتے کہ اگر یہ اپنی اس دھمکی سچے ہیں تو آخر یہ اس عذاب کا نمونہ دکھاتے کیوں نہیں جس کی اس شد و مد سے منادی کرتے پھر رہے ہیں ؟ جواب میں نبی ﷺ کی زبان سے کہلوایا گیا کہ عذاب لانا میرا کام نہیں ہے۔ عذاب کی خبر خدا نے دی ہے۔ میں تم کو اس سے خبردار کر رہا ہوں۔ رہی یہ بات کہ عذاب کب اور کس شکل میں آئے گا تو یہ امور غیب ہیں، ان کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ فانتظروا انی معکم من المنتظرین۔ اگر تم اس کے طلبگار ہو تو انتظار کرو۔ میں بھی خدا کی دی ہوئی خبر کی بنا پر اس کے انتظار میں ہوں۔ " انتظار میں ہو " سے یہ مقصد نہیں ہے کہ آپ کو اپنی قوم کو مبتلائے عذاب الٰہی دیکھنے کا ارمان تھا۔ حضرات انبیاء اپنی قوم کو عذاب سے بچانے کے لیے اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کردیتے ہیں لیکن جب قوم اپنی ضد کے سبب سے اپنے اندر وہ تمام اسباب و علامات جمع کرلیتی ہیں جن کے بعد عذاب آیا کرتا تو قدرتی طور پر نبی کے دل کو بھی ہر وقت کھٹکا لگا رہتا ہے کہ اب مریض کا دم واپسیں ہے اور خدا کا حکم آیا ہی چاہتا ہے۔ اس انتظار میں تمنا کا کوئی دخل نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ حسرت واندوہ کے ساتھ ایک امر شدنی کا انتظار ہوتا ہے۔
Ayah 10:21

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور انسان کا حال یہ ہے کہ جب کسی تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی ہو ہم اسے اپنے فضل سے نوازتے ہیں تو وہ ہماری نشانیوں کے باب میں چالیں چلنے لگتا ہے۔ کہہ دو ، خدا اپنی تدبیروں میں کہیں زیادہ تیز ہے۔ جو چالیں تم چل رہے ہو ہمارے فرستادے ان کو نوٹ کر رہے ہیں

وَاِذَآ اَذَقْــنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّاۗءَ مَسَّتْھُمْ اِذَا لَھُمْ مَّكْرٌ فِيْٓ اٰيَاتِنَا ۭ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا ۭ اِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ۔ یہ حال تو قریش ہی کا بیان ہورہا ہے لیکن بات عام خطاب کے اسلوب میں کہہ دی گئی ہے تاکہ ان سے بےالتفاتی کا اظہار بھی ہوجائے اور یہ حقیقت بھی سامنے آجائے کہ اس باب خاص میں جو حال ان کا ہے وہی حال سب کا ہے۔ صرف صاحب توفیق ہی ہوتے ہیں جو اس سے الگ روش اختیار کرتے ہیں۔ فرمایا کہ اس قسم کی تنبیہی نشانیاں جو لوگوں کو دکھائی جاتی ہیں ان کا کچھ اثر بس اسی وقت تک رہتا ہے جب تک لوگ اس کی زد میں رہتے ہیں۔ جو ہی حالات بدلے، محسوس ہوا کہ کشتی گرداب سے باہر نکل آئی۔ فوراً لیڈر اپنے عوام کے دلوں پر سے اس ابتلا کے تمام اثرات مٹآنے کے لیے طرح طرح کے فلسفے بیان کرنا شروع کردیتے ہیں اور مختلف قسم کی چالوں سے خود بھی اپنی پچھلی سرمستیوں میں کھو جاتے ہیں اور اپنی قوم کو بھی اپنے ساتھ ہانک لے جاتے ہیں۔ اِذَا لَھُمْ مَّكْرٌ فِيْٓ اٰيَاتِنَا۔ لفظ مکر کی تحقیق آل عمران کی آیت مکرو و مکر اللہ کے تحت بیان ہوچکی ہے۔ مکر کے معنی خفیہ تدبیر اور چال بازی کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں کے باب میں کفار نے جو چال بازی کی اس کی ایک مثال تو یہیں آگے والی آیت میں بیان ہوگئی ہے۔ لَىِٕنْ اَنْجَيْـتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ فَلَمَّآ اَنْجٰىھُمْ اِذَا ھُمْ يَبْغُوْنَ فِي الْاَرْضِ (اگر تو نے ہم کو اس ہلاکت سے نجات دے دی تو ہم تیرے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے لیکن جب ان کو نجات دے دی تو پھر وہ زمین میں سرکشی کرنے لگے)۔ دوسری مثال اس کی، قد مس اباءنا السراء والضراء، والی آیت میں بیان ہوئی ہے یعنی ان کے لیے لیڈر اپنے کو تسلی دیتے اور اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے اپنے ضیر کے بالکل خلاف تاریخ کا یہ فلسفہ بیان کرنا شروع کردیتے ہیں کہ اس قسم کے نرم گرم حالات تو قوموں کی زندگی میں پیش آیا ہی کرتے ہیں، ہمارے بزرگوں کو بھی پیش آئے۔ ہمیں بھی پیش آرہے ہیں۔ ان کو خواہ مخواہ یہ اہمیت کیوں دی جائے کہ یہ خدا کی طرف سے بطور تنبیہ پیش آئے ہیں یا ان کا کوئی تعلق ہمارے اعمال و عقائد سے ہے۔ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا۔ مکر کی نسبت جب اللہ کی طرف ہوتی ہے تو اس کا مفہوم خفیہ تدبیر ہوجاتا ہے۔ ہم آل عمران کی مذکورہ بالا آیت کے تحت اس کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کر آئے ہیں۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تم چالیں چلنی چاہتے ہو تو خوب چل لو، خدا نے تم کو جو یہ ڈھیل دے رکھی ہے تو اس وجہ سے دے رکھی ہے کہ اس کو اپنی تدبیر کے بروئے کار لانے میں کوئی دقت صرف نہیں کرنا پڑتا ہے۔ اس کی تدبیر ہی بروئے کار آتی ہے اور اتنی محکم ہوتی ہے کہ کوئی اس سے بچ کے نکل نہیں سکتا۔ اِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ ، سے یہاں مراد دو فرشتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری ایک ایک چال ہمارے فرشتے نوٹ کر رہے ہیں۔
Ayahs 10:22–23

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہی ہے جو تمہیں خشکی اور تری میں سفر کراتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور کشتیاں ہوائے موافق سے چل رہی ہوتی ہیں اور وہ اس میں مگن ہوتے ہیں کہ دفعۃً ایک باد تند آتی ہے اور ان پر ہر جانب سے موجیں اٹھنے لگتی ہیں اور وہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ ہم ہلاک ہوئے تو وہ اللہ کو پکارتے ہیں خالص اسی کی اطاعت کا عہد کرتے ہوئے کہ اگر تو نے ہمیں اس آفت سے نجات دی تو ہم تیرے شکر گزار بندوں میں سے ہو کر رہیں گے

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

تو جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے وہ نجات پاتے ہی زمین میں، بلا کسی حق کے، سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ لوگو، تمہاری سرکشی کا وبال تمہارے ہی اوپر آنے والا ہے۔ چند دن دنیا کی زندگی کا نفع اٹھا لو، پھر تمہاری واپسی ہماری ہی طرف ہے، پھر ہم تمہیں تمہاری کرتوتوں سے آگاہ کریں گے

22۔ 23۔ ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۭ حَتّٰى اِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ ۚ وَجَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ وَّفَرِحُوْا بِهَا جَاۗءَتْهَا رِيْحٌ عَاصِفٌ وَّجَاۗءَھُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ اُحِيْطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ڬ لَىِٕنْ اَنْجَيْـتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ۔ فَلَمَّآ اَنْجٰىھُمْ اِذَا ھُمْ يَبْغُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۭ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ ۙ مَّتَاعَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۡ ثُمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ یسیرکم، تسییر کے معنی چلانے کے ہیں، یہاں یہ سفر کرانے کے معنی میں آیا ہے۔ چونکہ تمام وسائل و ذرائع خدا ہی کے پیدا کردہ ہیں اور وہ تدبیر و حکمت بھی خدا ہی کی عطا کردہ ہے جس سے کام لے کر انسان خشکی و تری کے سفر کے وسائل ایجاد کرتا اور ان سے فائدہ اٹھاتا ہے اس وجہ سے فرمایا کہ وہی تمہیں خشکی و تری میں سفر کراتا ہے تاکہ انسان کی نگاہ اسباب و وسائل ہی میں اٹک کر نہ رہ جائے بلکہ اسباب ووسائل پیدا کرنے والے تک پہنچے۔ فِي الْفُلْكِ۔ فلک کے معنی کشتی کے ہیں۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ یہ مذکر، مونث، واحد، جمع، سب کے لیے آتا ہے۔ چناچہ یہاں اس کے لیے فعل جرین جمع استعمال ہوا ہے۔ وَجَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ ، ریح طیبۃ سے ساز گار ہوا مراد ہے۔ اس کا مقابل لفظ ریح عاصف استعمال ہوا ہے جو طوفانی ہوا کے لیے آتا ہے۔ اوپر سے بات صیغہ خطاب میں آرہی ہے۔ یہاں سے اسلوب غائب کا ہوگیا۔ اس لیے کہ یہ تمثیل ہے اور تمثیل کے لیے اسلوب بیان عمومی ہی موزوں اور مؤثر ہوتا ہے۔ يَبْغُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ۔ " بغی " استکبار کا نتیجہ ہوتی ہے اور استکبار صرف اس کے لیے روا ہے جس کا خلق و تدبیر میں کوئی حصہ ہو۔ جو خود مخلوق اور ہر چیز میں خالق کے رحم و کرم کا محتاج ہو۔ اس کے اکڑنے اور وہ بھی اپنے خالق کے سامنے، کے کیا معنی ؟ اس وجہ سے یہی بغی بغیر حق ہے۔ ۭ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ ، میں خطاب پھر قریش سے ہوگیا اور متاع الحیوۃ میں لفظ متاع، فعل محذوف سے منصوب ہے۔ ایک حقیقت افروز تمثیل : اجزا کی تشریح کے بعد اب نفس آیت کے مفہوم پر غور فرمائیے۔ یہ اوپر والی آیت میں بیان کردہ حقیقت کی تمثیل ہے۔ اوپر فرمایا تھا کہ انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس کو کسی دکھ کے بعد سکھ پہنچاتے ہیں تو وہ ہماری نشانیوں سے صحیح فائدہ اٹھانے کے بجائے ہم سے چال بازیاں کرتا ہے۔ اسی حقیقت کو انسانی زندگی کے ایک عامۃ الورود واقعہ سے مثال دے کر سمجھایا ہے کہ جس طرح ایک کشتی کے مسافر سفر پر روانہ ہوتے ہیں تو جب ہوا موافق ہوتی ہے اور کشتی نہایت سکون سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوتی ہے تو سب مگن ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب ان کی اس خوشی میں کوئی خلل انداز ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن زیادہ وقت نہیں گزرتا کہ کسی گوشے سے طوفانی ہوا اٹھتی ہے اور موجوں کے تھپیڑوں سے کشتی اس طرح ہچکولے کھانے لگتی ہے کہ ہر شخص یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ اب ڈوبی کہ تب۔ اس نازک وقت میں سب خدا سے دعا و فریاد اور یہ عہد کرتے ہیں کہ اب اگر اس ورطہ ہلاکت سے خدا نے نجات دے دی تو وہ آیندہ اس کے شکر گزار اور فرمانبردار بندے بن کر زندگی بسر کریں گے۔ لیکن جب خدا ان کو اس گردش سے نجات دے دیتا ہے تو اپنا یہ عہد بھول کر پھر اپنی پچھلی سرمستیوں اور شرارتوں میں کھوجاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہی حال اس وقت ان لوگوں کا ہے جو عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس وقت زندگی کا سفینہ نہایت سکون سے رواں ہے۔ حالات سازگار ہیں۔ اس وجہ سے اپنی شرارتوں میں مگن ہیں۔ پیغمبر ان کو خدا کی پکڑ سے ڈراتا ہے تو ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ عذاب کیوں آجائے گا اور کدھر سے آجائے گا۔ چناچہ بڑی ڈھٹائی سے پیغمبر کو چیلنج کر رہے ہیں لیکن جب کسی گرفت میں آجائیں گے تو توبہ توبہ پکاریں گے لیکن وہ اپنی اس توبہ پر صرف اس وقت تک قائم رہیں گے جب تک گرفت میں رہیں گے۔ گرفت سے باہر ہوتے ہیں پھر اسی طرح اکڑنے لگیں گے گویا خدا کی خدائی سے باہر ہوگئے۔ مدعا یہ کہ کوئی یہ نہ خیال کرے کہ اس طرح کے لوگوں کو کسی تنبیہ سے کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ان کے دلوں کا زنگ کسی رگڑ سے بھی دور نہیں ہوتا۔ اس طرح کے اشقیاء صرف خدا کے فیصلہ کن عذاب ہی کے حوالہ ہوتے ہیں۔ قریش کو تہدید : " یا ایہا الناس " تمثیل کے بعد یہ قریش کو پھر خطاب کیا ہے اور یہ خطاب اپنے اندر نہایت سخت تہدید و وعید رکھتا ہے۔ انما بغیکم علی انفسکم، یعنی تمہاری اس شرارت و سرکشی سے نہ خدا کا کچھ بگڑے گا نہ رسول کا۔ بگڑے گا تمہارا ہی۔ تمہاری ہر سرکشی رم پر خدا کی حجت پوری کرے گی اور تم جتنے قدم اس راہ میں بڑھوگے اتنے ہی خدا کے فیصلہ کن عذاب سے قریب سے قریب تر ہوگے۔ متاع الحیوۃ الدنیا، یعنی اس دنیا کے جس سروسامان پر ریجھے ہوئے ہو اس سے کچھ دن فائدہ اٹھا لو لیکن یاد رکھو کہ واپسی ہماری ہی طرف ہے، کسی اور کی طرف نہیں ہے۔ اس وقت ہم تمہارا سارا کچا چٹھا تمہارے سامنے رکھ دیں گے اور تمہارا کوئی سفارشی تمہارے کچھ کام نہ آئے گا۔