Ayah 10:93وَلَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّرَزَقْنٰھُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَاۗءَھُمُ الْعِلْمُ ۭ اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَھُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ۔ " تبویہ " کے معنی متمکن کرنے کے ہیں اور " صدق کی طرف اس کی اضافت اس کے اندر مزید قوت وا استحکام کے اظہار کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے دشمن کو پامال کیا اور بنی اسرائیل کو اپنے منتخب کردہ علاقے میں اقتدار و استحکام بخشا۔ یہ منتخب علاقہ، جیسا کہ سورة بقرہ میں وضاحت ہوچکی ہے، اردن اور شام کا علاقہ ہے۔ ورزقناہم من الطیبات، سے علاقے کی زرخیزی و شادابی کی طرف اشارہ ہے جس کی تفصیلات تورات میں موجود ہیں اور قرآن نے بھی جگہ جگہ اس کا حوالہ دیا ہے۔ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَاۗءَھُمُ الْعِلْمُ ، اب یہ اس ناشکری اور ناسپاسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے اتنے عطیم احسانات کے مورد ہونے کے بعد اللہ کے دین اور اس کی کتاب و شریعت کے معاملے میں یہود نے کی۔ انہوں نے اس کے اندر طرح طرح کے اختلافات پیدا کر کے پائی ہوئی حقیقت گم کردی اور اسی سرگشتگی اور حیرانی میں پھر مبتلا ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس اہتمام سے ان کو نکالا تھا۔ حتی جاء ہم العلم سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ وہ بدقسمت قوم ہے جس نے رات کی تاریکی میں نہیں بلکہ پورے دن کی روشنی میں ٹھوکر کھائی اس وجہ سے سارا بار الزام اس کے اپنے ہی کندھوں پر ہے۔ اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَھُمْ۔۔۔ الایۃ، یہ دھمکی ہے یہود کو کہ آج انہوں نے اللہ کے دین کے معاملے میں جو دھاندلی مچائی ہے اور کتاب الٰہی کی جن حقیقتوں پر پردہ ڈالا ہے سب کے فیصلے کے لیے اللہ نے ایک دن مقرر کر رکھا ہے۔ اس دن ان کا سارا کچا چٹھا ان کے سامنے آجائے گا اور ہر شخص اپنے جرم کی نوعیت کے لحاظ سے اپنے کیفر کردار کو پہنچے گا۔
Ayahs 10:94–95آگے کا مضمون۔ آیات 94۔ 109۔ آگے کا مضمون خاتمہ سورة کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلے نبی ﷺ کو خطاب کر کے مکذبین پر عتاب ہے کہ ان کی روش تمہیں کسی تردد میں نہ ڈالے۔ جو چیز تم پر اتاری گئی ہے اگر یہ لاخیرے قسم کے لوگ اس کی تکذیب کر رہے ہیں تو اس کا غم نہ کرو، ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو پہلے سے کتاب کے حامل رہے ہیں، ان سے پوچھو تو وہ اس حق کی تائید کریں گے۔ اس کے بعد نبی ﷺ کو تسلی دی کہ یہ نہ خیال کرو کہ جو لوگ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں اگر ان کو ان کے حسب منشا کوئی نشانی دکھا دی جائے تو یہ مومن بن جائیں گے۔ جو لوگ خدا کے قانون کی زد میں آئے ہوئے ہوں ان کو دنیا جہان کی نشانیاں دکھا دو پھر بھی وہ ماننے والے نہیں ہیں۔ تاریخ میں صرف ایک مثال قوم یونس کی موجود ہے وہ عذاب کے کنارے پہنچتے پہنچتے سنبھل گئی اور اس کے ایمان سے اس کو نفع پہنچا۔ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کا ایمان لانا بہت محبوب ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنے ضمیر اور ارادے کی آزادی اور آفاق وانفس کی نشانیاں دیکھ کر ایمان لائیں۔ اس معاملے میں نہ وہ جبر کو پسند کرتا ہے اور نہ لوگوں کے مطالبہ معجزات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ جن کو نشانیاں مطلوب ہوں وہ آسمان و زمین کی نشانیوں پر غور کریں اور جن کو اس طرح کا کوئی عذاب مطلب ہو جس طرح کے عذاب پچھلی قوموں پر آئے ان سے کہہ دو کہ اس کے لیے انتظار کرو میں بھی اس کا انتظار کر رہا ہوں۔ آخر میں پیغمبر ﷺ کی زبان سے دو ٹوک الفاظ میں جو عقیدہ توحید کا اعلان کرایا ہے اور یہ اعلان گویا دین کفر و شرک سے آخری براءت و بیزاری کا اعلان ہے تاکہ مشرکین آخری درجے میں سمجھوتے کی توقع سے مایوس ہوجائیں اور جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کر گزریں۔ اس روشنی میں آیت کی تلاوت فرمائیے۔
94۔ 95:۔ فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَاۗءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ۔ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۔
فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ۔۔۔ الایۃ، ہم دوسرے مقام میں ذکر کرچکے ہیں کہ بعض مرتبہ خطاب بظاہر الفاظ پیغمبر ﷺ سے ہوتا ہے لیکن اس میں جو عتاب مضمر ہوتا ہے اس کا رخ منکرین و مکذبین کی طرف ہوتا ہے۔ وہ اپنی ضد کے سبب سے چونکہ لائق خطاب نہیں رہ جاتے اس وجہ سے بات پیغمبر کو خطاب کر کے کہہ دی جاتی ہے۔ ایک سورج کی طرح واضح حق کی مخالفت پر بھی اگر یمین ویسار کے سارے ہی لوگ ایکا کرلیں تو اس بات کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے کہ ایک نیک نیت اور راستباز آدمی کے دل میں بھی وہ کچھ تردد پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ نبی ﷺ کو اس قسم کے تردد سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ تنبیہ فرمادی گئی کہ ان مکذبین کا رویہ اس حق کے باب میں تمہیں کسی تردد میں نہ ڈالے جو اللہ نے تم پر اتارا ہے۔ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ ، اگر یہ قرآن و کتاب سے نا آشنا لوگ اس نعمت کی ناقدری کر رہے ہیں تو اس کی پروا نہ کرو، جو لوگ پہلے سے کتاب کے حامل ہیں اور اس کو پڑھتے پڑھاتے ہیں ان سے پوچھو تو وہ اس کی تائید کریں گے۔ یقرءون، فعل یہاں اپنے حقیقی مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور اس سے اشارہ یہاں صالحین اہل کتاب کی طرف ہے جن کی تائید و تصدیق کا حوالہ قرآن نے جگہ جگہ دیا ہے۔ اس میں ان صالحین کی حوصلہ افزائی بھی ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اس حق کا لوگوں سے تعارف کرائیں، جس سے وہ پہلے سے تعارف کی سعادت رکھتے ہیں۔
وَلَا تَكُوْنَنَّ۔۔۔ الایۃ، اس میں بھی خطاب پیغمبر سے ہے لیکن عتاب کا رخ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والوں کی طرف ہے۔ یہاں جس انداز میں نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اسی انداز میں سورة ہود میں بھی تسلی دی گئی ہے۔ فرمایا ہے " افمن کان علی بینۃ من ربہ ویتلوہ شاھد منہ و من قبلہ کتاب موسیٰ امام ورحمۃ۔ ولئک یومنون بہ، ومن یکفر بہ امن الاحزاب فالنار موعدہ، فلا تک فی مریۃ منہ۔ انہ الحق من ربک ولکن اکثر الناس لا یومنون : کیا وہ جو اپنے رب کی بخشی ہوئی ایک واضح دلیل پر ہے، اس کے بعد مزید برآں اس کی طرف سے ایک شاہد آتا ہے اور اس کے پہلے سے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت کی حیثیت سے موجود ہے۔ یہی لوگ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور جماعتوں میں سے جو بھی اس کا انکار کریں گے ان کا ٹھکانا جہنم ہے تو تم اس کی طرف سے شک میں نہ پڑو۔ یہ تمہارے رب کی جانب سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے " (ھود :17)
Ayahs 10:96–9796۔ 97:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔ وَلَوْ جَاۗءَتْھُمْ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ۔
ایک سنت الٰہی : اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ۔۔۔ الایۃ، یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کا اشارہ پیچھے آیت 33 میں گزر چکا ہے کذلک حقت کلمۃ ربک علی الذین فسقوا انہم لایومنون (اسی طرح تیرے رب کی بات ان لوگوں پر پوری ہوچکی ہے جن لوگوں نے نافرمانی کی ہے، وہ ایمان نہیں لانے کے) یعنی جو لوگ حق واضح ہونے کے باوجود اندھے بہرے بنے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر کردیا کرتا ہے جس کے بعد ان کو ایمان کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔
وَلَوْ جَاۗءَتْھُمْ كُلُّ اٰيَةٍ۔۔۔ الایۃ۔ یعنی ایسے لوگوں کی آنکھیں کسی معجزے سے بھی نہیں کھلتیں خواہ انہیں کتنے ہی معجزے دکھا دیے جائیں۔ ایسے لوگ صرف اس عذاب کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں جو ان کا فیصلہ کردینے کے لیے اللہ تعالیٰ ان پر نازل فرماتا ہے۔ لیکن عذاب کو دیکھ کر جو ایمان لایا جاتا ہے وہ اللہ تعالیی کے ہاں معتبر نہیں۔
Ayah 10:98فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ ۭ لَمَّآ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنٰھُمْ اِلٰى حِيْنٍ۔
تاریخ کی روشنی میں پیغمبر ﷺ کو تسلی : یہ تاریخ کی روشنی میں پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ان میں سے کسی رسول کی قوم کے لوگ بھی رسول پر اس وقت ایمان نہیں لائے جس وقت ایمان لانا نافع ہوا کرتا ہے بلکہ اللہ کا عذاب دیکھ کر ایمان لائے جب ایمان لانا بےسود ہوجاتا ہے۔ صرف ایک مثال قوم یونس کی اس سے مستثنی ہے۔ اس قوم کے لوگ بیشک عذاب کی گھڑی کے ظہور سے پہلے پہلے چوکنے ہوگئے۔ اللہ نے ان کو ایمان لانے کی توفیق بخشی، یہ ایمان لائے اور ان کے ایمان سے ان کو نفع پہنچا کہ اس عذاب سے یہ محفوظ رہے جس کے ظہور میں اب زیادہ دیر نہیں باقی رہ گئی تھی۔
قریش کو ترہیب و ترغیب : پیغمبر ﷺ کے لیے تسلی کے ساتھ اس میں قریش کے لیے بھی ترہیب و ترغیب ہے کہ اب تمہارا پیمانہ بھی لبریز ہوا چاہتا ہے۔ اگر جلد متنبہ نہ ہوئے تو وہی انجام دیکھو گے جو دنیا کی بہت سی قومیں دیکھ چکی ہیں۔ اب بھی موقع باقی ہے کہ تم ہلاکت کی اس عام راہ پر جانے کے بجائے قوم یونس کی روش اختیار کرو کہ تمہارا ایمان تمہارے لیے نافع ہو اور تم اس عذاب سے بچا لیے جاؤ جو تم پر منڈلا رہا ہے۔ یہ بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ نبی ﷺ کی قوم پر کوئی اس طرح کا فیصلہ کن عذاب نہیں آیا جس قسم کا عذاب عاد وثمود وغیرہ قوموں پر آیا بلکہ آپ کی قوم کے وہ سارے لوگ آہستہ آہستہ داخل ایمان ہوگئے جن کے اندر کچھ صلاحیت تھی۔ صرف شریر قسم کے لوگ اس سے محروم رہے اور وہ مختلف قسم کے غزوات میں اہل حق کی تلواروں سے ختم ہوگئے۔
Ayahs 10:99–10099۔ 100:۔ وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ۔ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ۔
پیغمبر ﷺ کو تسلی۔ ولوشاء ربک۔۔۔ الایۃ۔ یہ بھی پیغمبر ﷺ کو تسلی ہے کہ لوگوں کے ایمان نہ لانے سے تم پریشان نہ ہو، اللہ تعالیٰ کو لوگوں کا ایمان لانا بہت پسند ہے بشرطیکہ لوگ اپنی عقل اور اپنے ضمیر کی رہنمائی میں ایمان لائیں۔ اس معاملے میں اس نے جبر کو پسند نہیں فرمایا ہے۔ اگر وہ جبر کو پسند فرماتا تو سارے ہی لوگوں کو مومن بنا دیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ تمہارا فرض صرف حق تبلیغ ادا کردینا ہے۔ یہ کام تم نے کردیا۔ اس کے بعد لوگ ایمان نہیں لاتے تو ذمہ داری تمہاری نہیں ہے، لوگوں کی اپنی ہے۔ اب خدا کے ہاں پرسش ان سے ہونی ہے نہ کہ تم سے۔ تمہارا کام یہ نہیں ہے کہ تم لوگوں کو لازماً ایمان کے راستہ پر چلا ہی دو۔
ایمان کے باب میں ایک سنت الٰہی۔ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ۔۔۔ الایۃ : ایمان لانے اور نہ لانے کے باب میں جو سنت الٰہی ہے یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ جو بھی ایمان لاتا ہے وہ اللہ کے حکم اور اس کی توفیق سے ایمان لاتا ہے اور یہ توفیق ان کو حاصل ہوتی ہے جو اللہ کی بخشی ہوئی عقل اور سمجھ سے کام لیتے ہیں۔ جو لوگ عقل اور سمجھ سے کام نہیں لیتے ان کی بصیرت پر اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی نجاست مسلط کردیتا ہے جو ان کو بالکل اندھا بنا کر چھوڑ دیتی ہے اور وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے ہی بھٹکتے پھرتے ہیں۔
Ayahs 10:101–103101 تا 103:۔ قُلِ انْظُرُوْا مَاذَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَمَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ۔ فَهَلْ يَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَيَّامِ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ قُلْ فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ۔ ثُمَّ نُنَجِّيْ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ ۚ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِيْنَ۔
مطالبہ معجزات کا جواب : قُلِ انْظُرُوْا۔۔ الایۃ۔ یہ کفار کے مطالبہ معجزات کا جواب دلوایا ہے کہ آسمان و زمین معجزات اور نشانیوں سے بھرے پڑے ہیں ان سے کہو کہ معجزات کی طلب ہے تو ان نشانیوں اور معجزات کو دیکھو، یہ آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔ اس کے بعد وضاحت فرما دی کہ نشانیاں اور ڈراوے انہی لوگوں کو نفع دیتے ہیں جن کے اندر ان سے نفع اٹھانے کا ارادہ پایا جاتا ہے۔ جو لوگ ایمان نہیں لانا چاہتے ان کو کوئی نشانی اور کوئی ڈراوا بھی نفع نہیں پہنچاتا۔ یومنون، فعل یہاں ارادہ فعل کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور نذر سے مراد خاص طور پر وہ نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ لوگوں کے اندر اپنا خوف پیدا کرنے کے لیے ظاہر فرماتا ہے۔
فَهَلْ يَنْتَظِرُوْنَ۔۔۔ الایۃ، یعنی آفاق وانفس کے اندر پھیلی ہوئی نشانیوں کے اندر انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ تو اس قسم کے کسی فیصلہ کن عذاب کے منتظر ہیں جس قسم کے فیصلہ کن عذاب عاد وثمود وغیرہ قوموں پر آ چکے ہیں۔ فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ اگر اس قسم کے کسی عذب کا انتظار ہے تو انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔ یعنی اس قسم کے کسی عذاب کا لانا میرے اختیار کی بات نہیں ہے۔ یہ اللہ ہی کے اختیار کی بات ہے۔ البتہ اس کے قرائن و آثار تمہارے اندر جمع ہوتے دیکھ رہا ہوں اس وجہ سے تم بھی اس کا انتظار کرو، میں بھی اس کا انتظار کرتا ہوں۔
قریش کو تنبیہ : ثُمَّ نُنَجِّيْ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔۔۔ الایۃ، اب یہ اس عذاب کا نتیجہ بتادیا کہ کوئی اس کو بچوں کا کھیل نہ سمجھے۔ جب ہم اس قسم کا فیصلہ کن عذاب بھیجتے ہیں تو پھر اس سے نجات ہمارے رسول اور ان پر ایمان لانے والے ہی پاتے ہیں باقی سب اس کی لپیٹ میں آکر فنا ہوجاتے ہیں۔ كَذٰلِكَ ۚ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِيْنَ ، یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ یہ جو سنت الٰہی بیان ہوئی ہے اب اس کی زد میں تم بھی ہو۔ اسی طرح ہم پر حق ہے کہ ہم تمہارے معاملے میں بھی کریں اور ان لوگوں کو نجات دیں جو ایمان لائے ہیں۔
ہم دوسرے مقام میں یہ ذکر کرچکے ہیں کہ رسولوں کے مکذبین پر جب آخری فیصلہ کن عذاب آتا ہے تو اللہ کے رسول اور ان پر ایمان لانے والے لازماً اس سے بچا لیے جاتے ہیں، صرف وہ لوگ اس کی زد میں آتے ہیں جو رسول کی تکذیب کرنے والے ہوتے ہیں۔ البتہ یہ یاد رہے کہ یہ ضابطہ صرف فیصلہ کن عذاب سے متعلق ہے۔ عام آزمائشیں جو محض تذکیر کے لیے ظاہر ہوتی ہیں وہ مومن و کافر سب کے لیے یکساں ہوتی ہیں البتہ مومن اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور کافر ان سے اپنے اوپر صرف اللہ کی حجت تمام کراتے ہیں۔
Ayahs 10:104–107104 تا 107:۔ قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ دِيْنِيْ فَلَآ اَعْبُدُ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ ښ وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۔ وَاَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ۚ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔ وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِيْنَ۔ وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗٓ اِلَّا ھُوَ ۚ وَاِنْ يُّرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَاۗدَّ لِفَضْلِهٖ ۭ يُصِيْبُ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭ وَھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۔
آخری فیصلہ کن اعلان : قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ۔۔۔ الایۃ۔ یہ نبی ﷺ کی طرف سے آخری فیصلہ کن اعلان کرایا جا رہا ہے تاکہ کفار کے ذہن کے کسی گوشے میں اگر کوئی طمعِ خام اس قسم کا ہو کہ دباؤ ڈال کر آپ کو کچھ نرم کیا جاسکتا ہے تو وہ اس کو اپنے ذہن سے نکال دیں اور جو کچھ وہ کرنا چاہتے ہیں وہ کر گزریں اس قسم کا اعلان آخری مرحلے میں تمام انبیاء سے ماثور ہے اور یہ درحقیقت قوم سے رسول کا اعلان براءت ہوتا ہے جس کے بعد ہجرت کا مرحلہ آجاتا ہے۔ الذی یتوفاکم کی صفت کا حوالہ یہاں بطور تنبیہ وتذکیر ہے یعنی وہی خدا جو تمہیں وفات دیتا ہے اور جس کے آگے جواب دہی کے لازماً تمہیں حاضر ہونا ہے۔ وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ، یعنی مجھے جو حکم ملا ہے وہ یہی ہے کہ میں مومن و موحد بنوں اس سے قطع نظر کہ کیا تم کیا روش اختیار کرتے ہو۔
وَاَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ۔۔ الایۃ۔ یہ اوپر والی بات ہی کی مزید وضاحت ہے۔ ایمان کی اصل خصوصیت اللہ واحد کی طرف یکسوئی اور شرک کے تام شوائب سے پورا پورا اجتناب ہے۔
وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ الایۃ، یہ شرک کے باطل ہونے کی دلیل ہے کہ جب اذن الٰہی کے بغیر نہ کوئی چیز نفع پہنچا سکتی ہے نہ ضرر تو اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو پکارنا اپنے نفس پر بھی بہت بڑا ظلم ہے اور یہ خدا کے بھی سب سے بڑے حق کو تلف کرنا ہے۔
وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ۔۔۔ الایۃ، اوپر والی بات ہی کی وضاحت ایک دوسرے اسلوب سے جس سے ان تمام تصورات کی نفی ہوجاتی ہے جن کی بنا پر مشرکین شرکاء و شفعاء کو پوجتے تھے۔ آخر میں غفور رحیم کی صفات کے حوالہ سے مقصود اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جب خدا خود مغفرت فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے تو بندے اسی کے دامن رحمت میں پناہ لیں۔ دوسروں کا سہارا کیوں ڈھونڈیں !
Ayah 10:108قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهٖ ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۭ وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ۔
آخری تنبیہ : خطاب ہرچند باعتبار الفاظ عام ہے لیکن روئے سخن قریش ہی کی طرف ہے جن سے اوپر سے خطاب چلا آرہا ہے۔ یہ گویا اس سلسلہ کی آخری تنبیہ ہے کہ یہ جو کچھ تمہارے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے ہے اور بالکل حق ہے۔ جو تعلیم تمہیں دی جا رہی ہے یہ بھی حق ہے اور دنیا اور آخرت میں اس کی تکذیب کی صورت میں جس عذاب کی خبر دی جارہی ہے وہ بھی شدنی ہے تو اچھی طرح کان کھول کے سن لو کہ جو اس حق کو قبول کرلے گا وہ اپنا ہی بھلا کرے گا، اور جو اس کے بعد بھی بھٹکتا رہے گا تو اس بھٹکنے کا وبال اسی کے سر پر آئے گا۔ کسی دوسرے کے سر پر نہیں جائے گا۔ اور یہ بھی سن لو کہ میرے اوپر جو ذمہ داری ہے وہ بس اس حق کو پہنچا دینے کی ہے۔ اس کو تم سے منوالینے کی ذہ داری مجھ پر نہیں ہے۔
Ayah 10:109پیغمبر کو آخری ہدایت : وَاتَّبِعْ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتّٰى يَحْكُمَ اللّٰهُ ښ وَھُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ۔ یہ پیغمبر ﷺ کو اس سلسلہ کی آخری ہدایت ہے کہ مخالفین کے رویہ سے قطع نظر کر کے اس وحی کی تم پیروی کرو جو تم پر کی جا رہی ہے اور یہ مخالفین خواہ کتنا ہی زور لگائیں لیکن تم اپنے موقف حق پر ڈٹے رہو یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ظاہر ہوجائے۔ اس فیصلہ کی طرف اشارہ اوپر آیت 103 میں گزر چکا ہے کہ بالآخر اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور اہل ایمان کو کامیابی عطا فرماتا ہے اور ان کے مخالفین رسوا و نامراد ہوتے ہیں۔
اس سورة کی تفسیر میں یہ آخری سطریں ہیں جو اس بےبضاعت کے قلم سے سپرد قرطاس ہوئیں۔ جو باتیں قلم سے صحیح نکلی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے نکلی ہیں اور جو باتیں کمزور یا غلط ہیں وہ میری کم علمی کا نتیجہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ لغزشوں کو معاف فرمائے اور صحیح باتوں کے لیے دلوں میں جگہ پیدا کرے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔