10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتدبرِ قرآن

Ayahs 10:59–60

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

ان سے کہو، بتاؤ اللہ نے تمہارے لیے جو رزق اتارا تو تم نے اس میں سے کچھ کو حرام ٹھہرایا اور کچھ کو حلال۔ پوچھو، کیا اللہ نے تم کو اس کا حکم دیا یا تم اللہ پر جھوٹ لگا رہے ہو ؟

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

جو لوگ اللہ پر جھوٹ لگا رہے ہیں ان کا قیامت کے دن کیا گمان ہے ؟ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزار نہیں ہوتے

59۔ 60۔ قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَــعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا ۭ قُلْ اٰۗللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَي اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ۔ وَمَا ظَنُّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَي النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَھُمْ لَا يَشْكُرُوْنَ۔ قُلْ اَرَءَيْتُمْ۔۔۔ الایۃ : اپنے جی کے تحریم وتحلیل، اللہ پر افتراء ہے : اوپر والی آیات میں قرآن کا ذکر، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، بطور التفات آگیا تھا۔ اس کے بعد توحید اور قیامت کا وہی سلسلہ بیان پھر لوٹ آیا جو قرآن اور پیغمبر کی صداقت ثابت کرنے کے لیے شروع سے چلا آرہا ہے۔ فرمایا کہ ذرا تم اپنی اس عجیب و غریب حرکت پر غور کرو کہ رزق اتارا تو اللہ نے لیکن اس میں سے حرام اور حلال تم نے پنے جی سے ٹھہرا لیے۔ شرک اور تحریم و تحلیل کے تعلق پر ایک سے زیادہ مقامات میں تفصیل سے بحث گزر چکی ہے۔ اول تو تحریم و تحلیل خدا کے حقوق میں مداخلت ہے جو بجائے خود شرک ہے۔ دوسرے مشرکین نے یہ تحریم و تحلیل، جیسا کہ سورة انعام میں تفصیل سے بحث گزر چکی ہے، اپنے مشرکانہ عقائد و تصورات کے تحت کی تھی۔ لیکن دعویٰ یہ کرتے تھے کہ یہی خدا کا حکم ہے۔ ظاہر ہے کہ اپنی من گھڑت شریعت کو بےدلیل خدا کی طرف منسوب کرنا خدا پر افترا ہے جو شدید ترین جرائم میں سے ہے۔ وَمَا ظَنُّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ۔ یہ افتراء علی اللہ علیہ کے جرم کی انتہائی شناعت کا اظہار ہے۔ سوال کیا ہے کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ لگا رہے ہیں قیامت کے دن ان کا کیا گمان ہے ؟ سوال کر کے جواب دیے بغیر بات ختم کردی ہے جو متکلم کے انتہائی غضب کی دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا یہ شامت زدہ لوگ اس جرم عظیم کو کوئی معمولی بات سمجھے بیٹھے ہیں۔ قیامت آئے گی تو انہیں پتہ چلے گا کہ اس جسارت کی ان کو کیا سزا ملتی ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ۔۔ الایۃ، مطلب یہ ہے کہ ان کا یہ جرم تو ایسا گھنونا ہے کہ ابھی ان کا قصہ پاک کردیا جاتا لیکن اللہ لوگوں پر بڑے فضل والا ہے کہ لوگوں کے بڑے بڑے جرائم کے باوجود ان کو مہلت بھی دیتا ہے۔ اور ان کو اپنے رزق و فضل سے بھی محروم نہیں کرتا کہ اگر وہ اپنے جرم کی تلافی اور توبہ و اصلاح کرنا چاہیں تو کرلیں لیکن لوگوں کی اکثریت کا حال یہی ہے کہ وہ شکر گزار نہیں ہوتے بلکہ اس ڈھیل اور درگزر سے ان کی حماقت اور شرارت میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔
Ayahs 10:61–65

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور تم جس حال میں بھی ہوتے ہو اور کتاب میں سے جو حصہ بھی سنا رہے ہوتے ہو اور تم لوگ جو کام بھی کرتے ہو تو ہم جس وقت تم اس میں مشغول ہوتے ہو، تمہارے پاس موجود ہوتے ہیں اور تیرے رب سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں، نہ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی، مگر وہ ایک واضح کتاب میں درج ہے

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

سن لو کہ اللہ کے دوستوں کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لیے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ یہی بڑی کامیابی ہے

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور تم کو ان کی بات غم میں نہ ڈالے۔ عزت تمام اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہ سمیع وعلیم ہے

61۔ 65:۔ وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ ۭ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ وَلَآ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرَ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ۔ پیغمبر ﷺ اور صحابہ کو تسلی : یہ پیغمبر ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے لیے بطور التفات تسلی اور بشارت ہے کہ مخالفوں کی ان غوغا آرائیوں کی ذرا پروا نہ کرو۔ تم جہاں کہیں اور جس حال میں بھی ہو عبادت و طات اور تزکیر و دعوت کی جس مہم میں بھی مصروف ہو، پورے انہماک اور پوری یکسوئی و دل جمعی کے ساتھ اس میں لگے رہو۔ ہم ہر جگہ تمہارے ساتھ ہیں، تمہارے ایک ایک عمل کو دیکھ رہے ہیں اور تمہاری حفاظت و نگرانی کر رہے ہیں۔ آسمان اور زمین کی کوئی چیز، چھوٹی ہو یا بڑی، خدا سے اوجھل نہیں ہے۔ ہر چیز ایک کھلی کتاب میں درج اور ہر وقت خدا کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ ، میں ضمری مجرور کا مرجع کتاب الٰہی ہے جس کا ذکر اوپر آیت 57۔ 58 میں گزار چکا ہے اور قرآن سے یہاں مراد کتاب الٰہی کا کوئی جزو اور حصہ ہے۔ اس معنی کے لیے نظائر قرآن میں میں موجود ہیں۔ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ ، میں خطاب جمع آپ کے جان نثار ساتھیوں سے ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ یہ پیام تسلی و بشارت پیغمبر ہی کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ آپ کے ساتھیوں کے لیے بھی ہے جو اس وقت اللہ کے دین کی راہ میں جان کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ۔ افاض کا صلہ جب " فی " کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی کسی شے میں غایت درجہ انہماک کے ہوتے ہیں۔ یہاں اس قید سے ایک تو اس غیر مرمعمولی انہماک پر بھی روشنی پڑی جو اقامت زمین کی اس جدوجہد میں صحابہ کو تھا۔ دوسرے اس سے تسلی کے مضمون کی بلاغت بھی دو چند ہوگئی ہے اس لیے کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تم اپنے تن، من، دھن ہر چیز سے بےپروا ہو کر خدا کے کلمہ کی سربلندی کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہوتے ہو تو اس وقت ہم تمہارے پیچھے تمہاری حفاظت و نگرانی میں مصروف ہوتے ہیں۔ کیا غم ہے جو ہو ساری خدائی بھی مخالف کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَاۗءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۔۔۔ اسلوب کلام سے بن کہے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ یہی گروہ اللہ کے دوستوں کا گروہ ہے اور ان کے لیے آخرت میں ایک ایسی زندگی کی بشارت ہے جس میں نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا ہوگا نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ۔ اس صفت کے یہاں لانے سے مقصود اس حقیقت کو ظاہر کرنا کہ اللہ کی دوستی اور محبت کا یہ مقام اور اس کا مذکورہ ثمرہ ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان کے ساتھ تقوی اور حدود الٰہی کی حفاظت پر قائم و دائم رہیں گے۔ یعنی یہ کسی گروہ کا اجارہ نہیں بلکہ صفات کے ساتھ مشروط ہے۔ لَھُمُ الْبُشْرٰي فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۔ ان کے لیے دنیا کی زندگی میں غلبہ و تمکن اور آخرت میں جنت نعیم کی بشارت ہے۔ یہاں وہ بات ذہن میں رہے جو ہم رسولوں کے متعلق ایک سے زیادہ مقامات میں واضح کرچکے ہیں کہ ان کو اور ان کے ساتھیوں کو اس دنیا میں بھی لازماً غلبہ حاصل ہوتا ہے۔ اس غلبہ کے باب میں جو سنت الٰہی ہے اس کی وضاحت بھی اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ ان انبیاء کا معاملہ جو صرف نبی تھے، رسول نہیں تھے، اس سے الگ ہے۔ لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ، یہاں کلمات اللہ، سے مراد خدا کے وعدے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے وعدے اٹل ہیں۔ یہ پورے ہو کے رہیں گے اور اصلی اور بڑی کامیابی یہی ہے جس کا وعدہ اہل ایمان کے لیے کیا جا رہا ہے۔ وَلَا يَحْزُنْكَ قَوْلُھُمْ ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا ۭ ھُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔ یہاں قولہم، سے مراد کفار کے اس طرح کے طعن آمیز اقوال ہیں جن کی ایک مثال سورة ہود آیت 12 میں یوں نقل ہوئی ہے۔ فلعلک تارک بعض مایوحی الیک وضائق بہ صدرک ان یقولو لولا انزل علیہ کنز اوجاء معہ ملک انما انت نذیر واللہ علی کل شیء قدیر۔ (تو شاید تم اس وحی کا جو تم پر کی جا رہی ہے، کچھ حصہ چھوڑ دینے والے ہو اور اس سے تمہارا سینہ بھنچ رہا ہے کہ وہ طعنہ دیں گے کہ اس کے اوپر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا جاتا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا، تم تو بس ایک ہوشیار کردینے والے ہو، اللہ ہر چیز پر وکیل ہے)۔ ان آیات کے نزول کے دور میں مسلمانوں کا جو حال تھا اس کے لحاظ سے تمکن اور غلبہ کی وہ بشارت جو اوپر والی آیت میں مذکور ہوئی کفار کے لیے طنز و استہزا کا موضوع بن سکتی تھی۔ وہ کہہ سکتے تھے اور انہوں نے کہا بھی ہوگا کہ ذرا اس نئے دین کے سرپھروں کا حوصلہ دیکھو کہ کسی کو دو وقت کی قرینہ کی روٹی اور تن ڈھانکنے کو سلیقہ کا لباس نصیب نہیں لیکن حکومت و سلطنت کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اسی کو پیش نظر رکھ کر فرمایا کہ تمہیں مخالفین کی اس طرح کی باتیں غم میں نہ ڈالیں۔ تمہارے لیے جو بشارت ہے وہ حتمی اور قطعی ہے۔ عزت کا مالک اللہ ہے۔ یہ چیز جس کو بھی ملتی ہے اللہ ہی کے دیے ملتی ہے۔ اب اللہ نے اگر یہ عزت تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو دینے کا فیصلہ فرمالیا ہے تو اس کا ہاتھ کون پکڑ سکتا ہے۔ ھوالسمیع العلیم، کی صفات کے حوالہ سے مقصود یہاں پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کو صبر اور توکل کی تعلیم دینا ہے کہ خدا ساری باتیں سنتا اور جانتا ہے۔ ان کی ہر بات کا جواب اپنے وقت پر ظاہر ہوگا۔ تم صبر کے ساتھ اپنے کام کیے جاؤ۔
Ayahs 10:66–70

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

سن رکھو کہ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین ہیں سب اللہ ہی کے ہیں اور جو لوگ اللہ کے ماسوا کو پکارتے ہیں یہ شریکوں کی پیروی نہیں کر رہے ہیں بلکہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور اٹکل کے تیر تکے چلاتے ہیں

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پرسکون بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو۔ اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس میں معاش کے لیے جد و جہد کرو بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو بات کو سنتے ہیں

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

یہ کہتے ہیں کہ خدا کے اولاد ہے۔ وہ ایسی باتوں سے پاک ہے۔ وہ بےنیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ تمہارے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

کیا تم اللہ پر وہ بات لگاتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے، کہہ دو ، جو لوگ اللہ پر جھوٹ لگاتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

ان کے لیے بس دنیا میں چند روزہ فائدہ اٹھا لینا ہے۔ پھر ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہوگی، پھر ہم ان کے کفر کی پاداش میں ان کو سخت عذاب چکھائیں گے

66۔ 70:۔ اَلَآ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ ۭ وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَاۗءَ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ۔ اوپر والی آیات جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا۔ بطور التفات تھی۔ اب توحید کے مضمون کو پھر لے لیا جو پیچھے سے چلا آرہا تھا۔ فرمایا کہ اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے، خواہ فرشتے یا جنات یا انسان، سب خدا ہی کی مخلوق اور اسی کے مملوک ہیں، ان میں سے کسی کا یہ درجہ نہیں کہ وہ خدا کی خدائی میں شریک وسہیم ہو تو جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ فی الحقیقت خدا کے شریکوں کی پیروی نہیں کر رہے ہیں اس لیے کہ خدا کا تو کوئی شریک ہے ہی نہیں۔ بلکہ یہ لوگ محض اپنے گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور اٹکل کے تیر تکے چلا رہے ہیں۔ ظن کے لفظ پر ہم دوسرے مقام میں بحث کرچکے ہیں۔ یہاں اس سے مراد وہ بات ہے جس کی بنیاد نہ علم صحیح پر ہے نہ عقل و فطرت پر بلکہ مجرد و ہم خیال اور اٹکل پچو اندازوں پر ہے۔ ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ۔ اس آیت میں عربی زبان کا وہ اسلوب استعمال ہوا ہے جس میں مقابل الفاظ حذف کردیے جاتے ہیں اور جس کی متعدد مثالیں پچھلی سورتوں میں گزرچکی ہیں۔ اس حذف کو کھول دیا جائے تو پوری بات گویا یوں ہوگی۔ جعل لکم الیل (مظلما) لتسکنوا فیہ والنہار مبصرا (لتعلموا فیہ)۔ فرمایا وہی خدا ہے جس نے تمہارے لیے شب کو تاریک اور خنک بنایا کہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس میں کام کرو۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ ، یعنی رات اور دن اس نوعیت کے سننے اور سمجھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ یہاں نشانیوں کی وضاحت نہیں کی ہے لیکن قرآن کے دوسرے مقامات میں ان کی وضاحت موجود ہے۔ ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے۔ سب سے پہلے تو اس پر نگاہ کیجیے جو رات اور دن کے اندر باوجودیکہ وہ دونوں ضدین کی نسبت رکھتے ہیں، پایا جاتا ہے کہ دونوں مل کر انسان کی خدمت کر رہے ہیں۔ رات اس کے لیے راحت کا بستر بچھاتی ہے اور دن اس کے لیے سرگرمیوں کا میدان کھولتا ہے۔ یہی حال اس کائنات کے تمام اضداد کا ہے کہ وہ پوری وفاداری اور سازگاری کے ساتھ اپنے سے بالاتر مقصد کی خدمت میں سرگرم ہیں اور اس سے ذرا انحراف اختیار نہیں کرتے۔ ظاہر ہے کہ یہ اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ ایک بالاتر اور حکیم ارادہ اس کائنات کے پورے نظام پر حاوی اور قاہر ہو اور وہ اس کے اجزائے مختلفہ میں ربط وتعلق پیدا کر کے اس کو اپنی حکمت کے تحت چلا رہا ہو۔ یہ اس توحید کی دلیل ہوئی جن کا ذکر اوپر والی آیت میں ہے۔ دوسری چیز جو ظاہر ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کارخانۂ کائنات نہ کوئی اتفاقی حادثہ کے طور پر ظہور میں آجانے والی شے ہے اور نہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشہ ہے بلکہ اس کے ہر گوشے میں عظیم قدرت، حیرت انگیز حکمت اور نہایت گہری غایت و مصلحت پائی جاتی ہے۔ یہ چیز مقتضی ہے کہ یہ دنیا نہ یوں ہی چلتی رہے، نہ یوں ہی تمام ہوجائے بلکہ ضروری ہے کہ یہ کسی عظیم غایت پر منتہی ہو اور یہ غایت بغیر اس کے پوری نہیں ہوسکتی کہ اس کے بعد آخرت کو تسلیم کیا جائے۔ تیسری چیز وہ ربوبیت کا نظام ہے جو اس کے ہر گوشے میں جلوہ گر ہے۔ ربوبیت مسئولیت کو مقتضی ہے۔ جس نے ہمارے لیے زندگی اور پرورش کا یہ سارا نظام قائم کیا ہے اس کا ہم پر فطری طور پر حق قائم ہوتا ہے اور لازم ہے کہ ایک دن اس حق کی بابت ہم سے پرسش ہو۔ نہوں نے اس حق کو پہچانا ہو وہ اس کا انعام پائیں اور جنہوں نے اس کی ناقدری کی ہو وہ اس کی سزا بھگتیں۔ اس اعتبار سے یہ جزا اور سزا کی دلیل ہوئی۔ یہاں جس طرح قرآن نے اشارے پر اکتفا کیا ہے اسی طرح ہم بھی اشارات پر اکتفا کرتے ہیں۔ دوسرے مقامات میں یہ سارے پہلو نہایت تفصیل سے زیر بحث آئے ہیں۔ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ ۭ ھُوَ الْغَنِيُّ ۭ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۢ بِهٰذَا ۭ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ لفظ " ولد " مذکر، مونث، جمع، مثنی سب کے لیے آتا ہے۔ جن لوگوں نے اس کو بیٹے کے معنی میں لیا ہے۔ ان کی بات زبان اور عرب کے عقائد دونوں کے خلاف ہے۔ یہاں عقائد مشرکین عرب کے زیر بحث ہیں اور مشرکین عرب کسی کو خدا کا بیٹا نہیں، مانتے تھے، وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ " سبحانہ "، یعنی یہ بات خدا کی صفات الوہیت کے منافی ہے کہ اس کے لیے اولاد مانی جائے اس لیے کہ جو اولاد ہوگی وہ خدا کی ذات کا ایک جزو اور اس کی مثیل ونظیر ہوگی اور یہ شرک فی الذات اور اس کی بےہمگی اور بےہمتائی کی نفی ہے۔ " ھو الغنی " یعنی خدا اس بات سے مستغنی ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ آدمی کو اولاد کی ضرورت اس لیے ہوتی ہے کہ وہ اس کی نسل کی بقا کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس کے کاروبار میں اس کی مددگار ہوتی ہے جب وہ بوڑھا ہوتا ہے تو اس کو سہارا دیتی ہے۔ خدا ان تمام ضروریات و حالات سے بالا برتر، مستغنی اور بےنیاز ہے۔ " لہ ما فی السموات وما فی الارض " آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے تو اس کو اولاد کی کیا ضرورت ہے ؟ ان عندکم من سلطن بہذا، سلطان کے معنی دلیل کے ہیں۔ یعنی تمہارے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے بس یونہی خدا پر ایک تہمت جڑ رہے ہو۔ قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ۔ " فلاح " کا لفظ قرآن میں عاقبت کار کی کامیابی و سرخروئی کے لیے آتا ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ پر شرک کی تہمت جوڑ رہے ہیں وہ عاقبت کار کی کامیابی سے محروم ہیں۔ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ نُذِيْقُھُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيْدَ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ۔ یعنی ان کے لیے بس اس دنیا کی زندگی میں چند روزہ نفع اٹھا لینے کی مہلت ہے۔ پھر سب کی واپسی ہماری طرف ہوگی اور ہم ان کے کفر کی پاداش میں ان کو اپنے عذاب سخت کا مزہ چکھائیں گے۔
Ayah 10:71

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور ان کو نوح کی سرگزشت پڑھ کر سناؤ جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو، اگر تم پر تمہارے اندر میرا ٹکنا اور اللہ کی آیات کی یاد دہانی کرنا گراں ہوگیا ہے تو میں نے بس اللہ پر بھروسہ کیا۔ تم اپنی رائے مجتمع کرلو اور اپنے شرکاء کو بھی ملا لو پھر تمہارے فیصلہ میں کوئی تذبذب باقی نہ رہے اور میرے ساتھ جو کرنا چاہتے ہو کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو

آگے کا مضمون۔ آیات 71۔ 93:۔ آگے حضرت نوح اور حضرت موسیٰ کی سرگزشت کسی قدر تفصیل کے ساتھ اور درمیان کے رسولوں کی اجمالاً مذکور ہوئی ہے مقصود ان سرگزشتوں کے حوالہ سے انہی حقائق کو تاریخ کی روشنی میں واضح کرنا ہے جو اوپر عقل و فطرت کے دلائل سے مبرہن کیے گئے ہیں۔ ان میں پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کے لیے سرمایہ تسکین اور آپ کے معاندین و مخالفین کے لیے پورا پورا درس عبرت موجود ہے۔ فرق اگر ہے تو نام ومقام اور زمانے کا ہے۔ اصل داستان اس قدر باہمدگر مشابہ ہے کہ نام و مقام کے فرق کو نظر انداز کردیجیے تو سرے سے کوئی فرق ہی نہیں رہ جاتا۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَّقَامِيْ وَتَذْكِيْرِيْ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَعَلَي اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْٓا اَمْرَكُمْ وَشُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْٓا اِلَيَّ وَلَا تُنْظِرُوْنِ۔ حضرت نوح کی سرگزشت سب سے عدیم سرگزشت سب سے قدیم سرگزشت ہے : پچھلی قوموں میں سے سب سے قدیم قوم، جس کی بربادی کی روایات عربوں میں مشہور تھیں، وہ نوح کی قوم تھی، اس وجہ سے قرآن میں جب تاریخی ترتیب سے قوموں کی سرگزشت بیان ہوتی ہے تو سب سے پہلے اسی قوم کا ذکر آتا ہے۔ اعراف آیات 60۔ 64 میں بھی اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ وہاں ہم اس کے محل وقوع اور اس کے تخمینی زمانہ کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔ نبا کے لفظ پر ہم دوسرے مقام میں بحث کر کے بتا چکے ہیں کہ اس سے مراد کوئی اہم واقعہ ہوتا ہے۔ اس لفظ کے استعمال سے یہاں پتہ چلتا ہے کہ مقصود نوح اور قوم نوح کی زندگی کے کسی اہم وڑ اور کسی فیصلہ کن واقعہ کی سرگزشت سنانا ہے، مورخوں کی طرز کی مجرد داستان سرائی پیش نظر نہیں ہے۔ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَّقَامِيْ وَتَذْكِيْرِيْ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ۔ مقام سے مراد اپنی قوم کے اندر وہ طویل قیام ہے جو حضرت نوح کو حاصل ہوا۔ عنکبوت آیت 14 سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے اندر ایک مدت دراز تک تبلیغ و دعوت میں سرگرم رہے یہاں تک کہ ان کے معاندین و مخالفین ان کی دعوت سے، جیسا کہ ہود آیت 32 سے واضح ہورہا ہے، بالکل تنگ آگئے۔ اسی مرحلہ میں حضرت نوح نے یہ بات فرمائی ہے اور یہ درحقیقت تمہید ہے اس چیلنج کی جو آگے آ رہا ہے۔ حضرت نوح کا چیلنج : فَاَجْمِعُوْٓا اَمْرَكُمْ وَشُرَكَاۗءَكُمْ۔ امر سے مراد رائے اور فیصلہ ہے۔ یعنی تم میرے باب میں اجتماعی طور پر ایک قطعی فیصلہ کرلو اور اپنے ان معبودوں کو بھی اس فیصلہ میں شریک کرلو جن کو تم خدا کی خدائی میں شریک گردانتے ہو۔ ثُمَّ لَا يَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً۔ غمہ، کسی ڈھانک لینے والی چیز کو کہتے ہیں۔ لیکن محاورہ کلام میں جب کہیں گے۔ ھوفی غمۃ، تو اس کے معنی ہوں گے، وہ حیرانی اور تردد میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسا قطعی فیصلہ کرلو کہ اس میں کوئی تردد و تذبذب باقی نہ رہے۔ ثُمَّ اقْضُوْٓا اِلَيَّ وَلَا تُنْظِرُوْنِ۔ اقضوا، کے بعد، الی، اقدام پر دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قطعی فیصلہ کر کے مجھ پر اقدام کرو اور پھر مجھے ذرا مہلت نہ دو۔ میرا بھروسہ اللہ پر ہے وہ میری حفاظت فرمائے گا۔
Ayah 10:72

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

پس اگر تم اعراض کرو گے تو میں نے تم سے کوئی اجر نہیں مانگا ہے۔ میرا اجر تو بس اللہ ہی پر ہے اور مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے بنوں

فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ ۭ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ ۙ وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۔ یعنی اگر تم غور و فکر کے بعد اسی نتیجہ پر پہنچے کہ اس روش اعراض پر جمے رہنا ہے تو مجھے اب تمہاری کوئی پروا نہیں ہے۔ میں تمہیں جو تبلیغ و تذکیر کر رہا ہے تھا اس کا میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں لے رہا تھا کہ اس سے محروم ہوجانے کا غم ہو۔ میری محنت کا اجر تو اللہ کے ذمے ہے۔ وہ مجھے محروم نہیں فرمائے گا۔ مجھ پر یہ ذمہ داری بھی نہیں ڈالی گئی تھی کہ لازماً تم کو مومن و مسلم ہی بنالوں۔ مجھے حکم ملا تھا کہ میں اپنے رب کے فرماں برداروں میں بنوں۔ سو میں اسی کا فرمانبردار ہوں۔
Ayah 10:73

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا تو ہم نے اس کو اور جو لوگ اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی اور ان کو جانشین بنایا اور ان لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی تو دیکھو کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جن کو ہوشیار کیا جاچکا تھا

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّيْنٰهُ وَمَنْ مَّعَهٗ فِي الْفُلْكِ وَجَعَلْنٰھُمْ خَلٰۗىِٕفَ وَاَغْرَقْنَا الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِيْنَ۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ پہلے مکذبین کے غرق کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ حضرت نوح اور ان کے باایمان ساتھیوں کی نجات کا ذکر فرمایا۔ اس لیے کہ سنت الٰہی یہی ہے کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں پر جب عذاب آیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے اہل ایمان کی حفاظت کا اہتمام فرمایا ہے۔ وَجَعَلْنٰھُمْ خَلٰۗىِٕفَ ، یعنی مکذبین کو غرق کر کے ان کی جگہ زمین کی وراثت حضرت نوح اور ان کے ساتھیوں کو بخشی۔ ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِيْنَ ، یہ آنحضرت ﷺ کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس سرگزشت کے سنانے سے پیش نظر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اتمام حجت ہوچکنے کے بعد جس طرح قوم نوح کا بیڑا غرق ہوگیا اسی طرح قریش کا بھی قصہ پاک ہوجائے گا اگر انہوں نے تمہارے انذار سے آنکھیں نہ کھولیں۔
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کے بعد رسول بھیجے ان کی اپنی قوموں کی طرف تو وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے لیکن وہ اس چیز پر ایمان لانے والے نہ بنے جس کو پہلے جھٹلا چکے تھے اسی طرح ہم حدود سے تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر مہر کردیا کرتے ہیں

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِ رُسُلا إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ كَذَلِكَ نَطْبَعُ عَلَى قُلُوبِ الْمُعْتَدِينَ۔ بعد کے رسولوں کی طرف ایک اجمالی اشارہ : یہ ان رسولوں کی طرف ایک اجمالی اشارہ ہے جو حضرت نوح کے بعد آئے۔ یہاں ان کی تفصیل نہیں کی ہے بلکہ سرسری اشارہ کرکے بعد والی آیت میں حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت لے لی ہے۔ اس اجمال کی تفصیل بعد والی سورة۔ سورة ہود۔ میں آئی ہے جو اس سورة کے مثنی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ہود، صالح، لوط اور شعیب (علیہم السلام) کا ذکر بھی مفصل ہوا ہے اور قوم نوح اور قوم موسیٰ کے حالات کے بھی بعض وہ گوشے روشنی میں آئے ہیں جو یہاں مخفی رہ گئے تھے۔ اجمال کے بعد تفصیل کا یہ اسلوب قرآن مجید میں بہت استعمال ہوا ہے۔ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا۔۔ الایۃ، میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو توفیق ایمان کے باب میں بار بار بیان ہوئی ہے اور جس کی وضاحت ہم ایک سے زیادہ مقامات میں کرچکے ہیں کہ جو لوگ عقل و فطرت کے بدیہیات اور یقینیات کو جھٹلا دیتے ہیں ان کو رسول کے انذار سے بھی کوئی نفع نہیں پہنچتا ہے۔ ایسے لوگوں پر رسول کے ذریعہ سے اتمام حجت ہوتا ہے اور اس اتمام حجت کے نتیجہ میں ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے۔ " اعتداء " کے معنی حدود الٰہی سے تجاوز کے ہیں۔ جو لوگ خدا کے مقرر کیے ہوئے تمام حدود توڑ تاڑ کے رکھ دیتے ہیں ان کے اندر حدود کے احترام کا احساس ہی مردہ ہوجاتا ہے اور اس احساس کے مردہ ہوجانے کے بعد ان سے کسی خیر کی امید عبث ہے۔ ایسے مردے کسی کے جھنجھوڑنے سے بھی نہیں جاگتے۔
Ayah 10:75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تو انہوں نے گھمنڈ کیا اور وہ مجرم لوگ تھے

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ مُوسَى وَهَارُونَ إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِينَ۔ حضرت موسیٰ کا اتمام حجت : لفظ " ملاء " پر ہم دوسرے مقام میں بحث کرچکے ہیں، آیات، سے مراد وہ آیات الٰہی بھی ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون اور اس کے درباریوں کو سنائیں اور وہ نشانیاں بھی ہیں جو انہوں نے ان کو دکھائیں۔ وَكَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِينَ۔ سے اسی فساد قلب و عقل کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے کہ چونکہ پہلے سے یہ اپنے دل اور عقل کی آنکھیں پھوڑ چکے تھے اس وجہ سے کسی چیز سے بھی انہوں نے فائدہ نہیں اٹھایا۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون فرعون اور اس کے اعیان کے پاس رسول کی حیثیت سے گئے تھے اس وجہ سے انہوں نے لازماً ان کے اوپر اللہ کی حجت تمام کی۔ اس کے بغیر رسول کا مشن پورا نہیں ہوتا اس وجہ سے ان لوگوں کا خیال صحیح نہیں ہے جو سمجھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے ایک قوم پرست لیڈر کی طرح فرعون سے صرف بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا، اس کے آگے ایمان و اسلام کی کوئی دعوت نہیں پیش کی۔
Ayahs 10:76–77

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا ہوا جادو ہے

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ کیا تم حق کو سحر کہتے ہو جب کہ وہ تمہارے پاس آچکا ہے، بھلا، یہ سحر ہے اور ساحر کبھی فلاح نہیں پاتے

76۔ 77:۔ فَلَمَّا جَاۗءَھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْٓا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِيْنٌ۔ قَالَ مُوْسٰٓى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَكُمْ ۭ اَسِحْرٌ هٰذَا ۭ وَلَا يُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ۔ " حق " کے معنی ہیں ایک واضح، مبرہن اور مدلل حقیقت۔ یہاں اس سے مراد حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی کا فرعون اور اس کے اعیان کے سامنے نہایت کھلے ہوئے معجزات کے ساتھ یہ دعوی ہے کہ ہم تیرے رب کے رسول ہیں۔ اس دعوے کی تردید میں انہوں نے کہا کہ تمہارا یہ دعوی باطل ہے۔ جو نشانی تم دکھا رہے ہو یہ کوئی خدائی نشانی نہیں بلکہ یہ صریح جادو ہے اور یہ چیز تم سے کہیں زیادہ ہمارے اپنے جادوگروں کے پاس ہے۔ اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَكُمْ میں تقولون کا مفعول بتقاضائے بلاغت حذف ہے اور للحق میں " ل " فی کے معنی میں ہے یعنی تم ایک واضح حق کے باب میں کہتے ہو کہ یہ سحر ہے۔ لفظ سحر کو یہاں حذف کردینے سے یہ بات نکلتی ہے کہ متکلم کو حق کے باب میں یہ نقل کفر بھی اس درجہ ناگوار ہے کہ وہ اپنی زبان کو اس سے آلودہ کرنا پسند نہیں کرتا۔ لماجاء کم، کی بلاغت بھی یہاں قابل لحاظ ہے، حق، جب تک نگاہوں سے اوجھل ہو اس وقت تک تو اس کی نسبت کوئی شخص اگر کوئی نظریاتی بحث اٹھائے تو اس کو کسی حد تک معذور قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن حق سامنے موجود ہو تو اس کے باب میں کٹ حجتی کرنا ویسا ہی ہے جس طرح کوئی نصف النہار کے سورج کے بارے میں تردد کا اظہار کرے۔ ہم سورة اعراف میں واضح کرچکے ہیں کہ سحر اور معجزہ کے درمیان جو فرق ہے وہ اصلاً منطق سے نمایاں نہیں ہوتا بلکہ دونوں کے ظہور کی نوعیت، اذہان و قلوب پر دونوں کے اثرات اور دونوں کے پیش کرنے والوں کے کردار سے نمایاں ہوتا ہے۔ وَلَا يُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ ، یعنی ساحر کبھی کسی پائدار کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتے۔ ان کے کرشموں اور شعبدوں کی چمک دمک عارضی ہوتی ہے۔ بالخصوص جب وہ حق کے مقابل میں آتے ہیں تب تو وہ ایک لمحے کے لیے بھی ٹک نہیں سکتے۔ معجزے کے آفتاب تاباں کے آگے ان کے دیے بالکل ماند پڑجاتے ہیں۔ یہ جملہ حضرت موسیٰ کی طرف سے فرعونیوں کو ایک چیلنج بھی ہے کہ اگر اس کو سحر کہتے ہو تو جب تم اس کے مقابلے کے لیے اپنے ساحروں کو لاؤگے تو ساری حقیقت تم پر کھل جائے گی کہ رسول کے معجزے اور ساحر کے سحر میں کیا فرق ہوتا ہے۔
Ayah 10:78

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اس طریقہ سے ہٹا دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا اور ملک میں سیادت تم دونوں کو حاصل ہوجائے ؟ اور ہم تو تم دونوں کی بات کبھی ماننے والے نہیں

حضرت موسیٰ پر ایک سیاسی الزام : قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَاۗءَنَا وَتَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاۗءُ فِي الْاَرْضِ ۭ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِيْنَ۔ فرعونیوں کا یہ فقرہ نہایت زہر آلود ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے خلاف بھڑکانے کے لیے ان پر آبائی دین اور ملک کی حکوت، دونوں کے خلاف بغاوت برپا کرنے کا الزام تھوپ دیا کہ تم ہمارے آبائی دین سے بھی ہم کو برگشتہ کرنا چاہتے ہو اور تمہاری یہ آرزو بھی ہے کہ اس ملک کا اقتدار تم دونوں کے ہاتھ آجائے۔ ہم سورة اعراف کی تفسیر میں تورات کے حوالوں کی روشنی میں واضح کرچکے ہیں کہ مصرف میں اس وقت جو ارسٹوکریسی برسراقتدار تھی وہ اسرائیلیوں کی روز افزوں ترقی پذیر تعداد سے بہت خائف تھی کہ مبادا ان کی تعداد اتنی زیادہ ہوجائے کہ یہ قبطیوں کو ہٹا کر خود اقتدار پر قابض ہوجائیں چناچہ اسرائیلی بچوں کو قتل کردینے کی جو سنگدلانہ اسکیم چلائی گئی تھی اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اس طرح بنی اسرائیل کی تعداد کو کنٹرول میں رکھا جاسکے۔ چونکہ یہ خطرہ ذہنوں میں موجود تھا اس وجہ سے جب حضرت موسیٰ کی دعوت بلند ہوئی تو اس کے خلاف یہ اشغلہ بھی چھوڑ دیا گیا کہ یہ ملک میں اقتدار حاصل کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ قبطی عصبیت پوری طرح ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار ہوجائے۔
Ayahs 10:79–82

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے حکم دیا کہ میرے پاس سارے ماہر جادوگروں کو حاضر کرو

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

تو جب جادوگر آئے موسیٰ نے ان سے کہا جو کچھ تمہیں پیش کرنا ہے اس کو پیش کرو

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

تو جب انہوں نے پیش کیا موسیٰ نے کہا یہ جو کچھ تم لائے ہو، یہ جادو ہے، بیشک اللہ اس کو نیست کردے گا، اللہ فساد برپا کرنے والوں کے عمل کو نتیجہ خیز نہیں ہونے دیتا

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور اللہ مجرموں کے علی الرغم اپنے کلمات سے حق کا بول بالا کرتا ہے

79 تا 82: وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِيْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيْمٍ۔ فَلَمَّا جَاۗءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَھُمْ مُّوْسٰٓى اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ۔. فَلَمَّآ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ ۙ السِّحْرُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبْطِلُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِيْنَ۔ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۔ حضرت موسیٰ اور جادوگروں کا مقابلہ : وَقَالَ فِرْعَوْنُ۔۔ الایۃ۔ فرعون اور اس کے درباریوں سے یہ حقیقت تو مخفی نہیں ہوسکتی تھی کہ نہ حضرت موسیٰ ساحر ہیں اور نہ جو کچھ وہ پیش کر رہے ہیں، وہ سحر ہے لیکن چونکہ ان کی بات مان لینے کی صورت میں اس کو اپنی اور اپنی مزعومہ خدائی کی موت نظر آتی تھی۔ اس وجہ سے اس کو مفر کی شکل یہی نظر آئی کہ ملک کے تمام ماہر جادوگروں کو بلا کر ان سے حضرت موسیٰ کا مقابلہ کرایا جائے کہ شاید اس طرح بات بن جائے۔ اگرچہ یہ ایک صریح حماقت تھی لیکن کسی حقیقت کو نہ ماننے کی خواہش ایک ایسی خواہش ہے جس کی خاطر انسان بہت سی حماقتیں کر گزرتا ہے۔ فَلَمَّا جَاۗءَ السَّحَرَةُ۔۔ الایۃ، ساحروں سے حضرت موسیٰ کا یہ فرمانا کہ " جو کچھ تم پیش کرنا چاہتے ہو وہ پیش کرو " اپنے مشن پر غایت درجہ اعتماد کی دلیل ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے وعدہ نصرت پر پورا بھروسہ تھا کہ خواہ جادوگر جتنا بڑا جادو بھی دکھائیں ان کے پاس اس کا توڑ موجود ہے۔ اس وجہ سے انہوں نے کسی پیش بندی سے بےنیاز ہو کر انہی کو پہل کرنے کا موقع دیا اور یہ گویا میدان مقابلہ میں ان کی پہلی جیت تھی۔ اس لیے کہ اس کے بعد حریف کو جو شکست ہوئی وہ خود اس کے منتخب کیے ہوئے میدان میں ہوئی۔ فَلَمَّآ اَلْقَوْا۔۔ الایۃ، جب حضرت موسیٰ نے ان کا جادو دیکھا تو فرمایا، مَا جِئْتُمْ بِهِ ۙ السِّحْرُ ، کہ یہ جو کچھ تم نے دکھایا ہے، یہ جادو ہے۔ یہ فرعونیوں کے اس قول کا جواب ہے جو اوپر آیت 76 میں گزرا، قالوا ان ھذا لسحر مبین، کہ انہوں نے حضرت موسیٰ کے معجزے کو دیکھ کہا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ حضرت موسیٰ نے ان کے اسی قول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میرے معجزے کو جادو کہتے تھے۔ جادو وہ نہیں تھا۔ جادو یہ ہے کہ جو تم نے پیش کیا ہے اور تم اب حق کے مقابلہ میں اس کی بےحقیقتی اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے۔ ان اللہ سیبطلہ (اللہ اس کو نابود کردے گا)۔ اس لیے کہ باطل اپنی چمک دمک اسی وقت دکھاتا ہے جب تک حق سے اس کا مقابلہ نہیں ہوتا، جب حق ظاہر ہوجاتا ہے تو باطل جھاگ کی طرح بیٹھ جایا کرتا ہے۔ یہی حقیقت دوسرے مقام میں یوں واضح فرمائی گئی ہے۔ جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا (حق ظاہر ہوگیا اور باطل نابود ہوا، اس لیے کہ باطل نابود ہی ہونے والی چیز ہے)۔ ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین۔ لفظ " اصلاح " یہاں بار آور اور نتیجہ خیز کرنے کے معنی میں ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ سورة محمد آیات 2۔ 5 میں بھی استعمال ہوا ہے یعنی مصلحین جو حق لے کر اٹھتے ہیں ان کے مقابل میں مفسدین کی مفسدانہ کوششیں کبھی بار آور نہیں ہوتیں۔ امتحان و آزمائش کا مرحلہ گزرنے کے بعد غلبہ بالآخر حق ہی کو حاصل ہوتا ہے۔ وَيُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ۔۔۔ الایۃ، یعنی مجرمین و مفسدین خواہ حق کو دبانے کی کتنی ہی کوششیں کریں لیکن جو لوگ اللہ کا کلمہ لے کر اٹھتے ہیں، اللہ اپنے کلمات کے ذریعہ سے حق کا بول بالا کرتا ہے۔ (یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں حق و باطل کی وہ کشمکش زیر بحث ہے جو ایک رسول کی بعثت سے ظہور میں ٓتی ہے۔ رسول کے لیے، جیسا کہ ہم ایک سے زیادہ مقامات میں واضح کرچکے ہیں، بالآخر غلبہ لازمی ہے۔
Ayah 10:83

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

تو موسیٰ کی بات نہ مانی مگر اس کی قوم کے تھوڑے سے نوجوانوں نے ڈرتے ہوئے فرعون اور اپنے بڑوں سے کہ مبادا وہ ان کو کسی فتنہ میں ڈال دے۔ بیشک فرعون ملک میں نہایت سرکش اور حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا

فَمَآ اٰمَنَ لِمُوْسٰٓى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰي خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهِمْ اَنْ يَّفْتِنَھُمْ ۭ وَاِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الْاَرْضِ ۚ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِيْنَ۔ حضرت موسیٰ کے ابتدائی ساتھی : " ذریۃ " کا لفظ صرف قلت تعداد کو ظاہر نہیں کرتا، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حضرت موسیٰ پر ابتدائی ایمان لانے والے ان کی قوم کے اندر سے صرف تھوڑے سے نوجوان تھے۔ حضرات انبیاء کے معاملے میں سنت الٰہی یہی رہی ہے کہ شروع شروع میں ان کا ساتھ بالعموم نوجوانوں نے ہی دیا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ بھی اسی حقیقت کی شہادت دیتی ہے اور دوسرے انبیاء کی تاریخ بھی اگر تفصیل سے معلوم ہوسکے تو اس سے بھی یہی بات ثابت ہوگی۔ اس کی واضح نفسیاتی وجہ یہ ہے کہ حضرات انبیاء جس ہمہ گیر دعوت اسلام کو لے کر اٹھتے ہیں اس کو ابتدائی مراحل میں آگے بڑھ کر قبول کرنا بڑی بلندی حوصلگی بلکہ بڑے جان جوکھم کا کام ہوتا ہے۔ اس کی ہمت وہ لوگ آسانی سے نہیں کرسکتے جو روایات و رسوم سے مرعوب اور حالات و مصالح کی رعایت کے خوگر ہوں۔ ایسے لوگوں کا حجاب آہستہ آہستہ ہی ٹوٹتا ہے۔ نوجوانوں میں اس قسم کی مرعوبیت و مغلوبیت کم ہوتی ہے اس وجہ سے ان کو جب دعوت حق اپیل کرلیتی ہے تو وہ اس کے لیے دنیوی عواقب سے بےپروا ہو کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، نہ وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کی سرزنش کی کچھ زیادہ پروا کرتے نہ وقت کے اربابِ اقتدار کی برہمی کو خاطر میں لاتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کے معاملے میں حالات کا یہ خاص پہلو بھی قابل لحاظ ہے کہ ملک میں جو ارسٹوکریسی برسر اقتدار تھی وہ نسلاً بھی حضرت موسیٰ کی قوم سے بالکل الگ تھی اور اس دور میں جو شخص تخت حکومت پر تھا، وہ بھی، جیسا کہ آیت کے الفاظ سے واضح ہے، طبعاً نہایت جبار اور سرکش تھا۔ ایسے حالت میں ظاہر ہے کہ وہی لوگ ان کا ساتھ دینے کے لیے آگے بڑھ سکتے تھے جو اپنی حمیت حق کے جوش و جذبہ کو دبا سکنے پر قادر نہ ہوں۔ " امن لہ " اور " امن " کا فرق : ان نوجوانوں کے ایمان کو قرآن نے " اٰمن لہ " سے تعبیر کیا ہے۔ عربی زبان کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ اٰمن لہ اور اٰمن بہ میں بڑا فرق ہے۔ اٰمن لہ تو یہ ہے کہ آپ کسی شخص کے دعوے یا اس کی خبر کو سچ مان لیں۔ اس کے لیے حوالگی، تفویض، تسلیم اور انقیاد و اطاعت شرط نہیں ہے۔ لیکن اٰمن بہ، کا تقاضا پورا کرنے کے لیے یہ ساری چیزیں شرط ہیں۔ نبی اور رسول کے معاملے میں صرف اٰمن لہ، کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے اٰمن بہ، کے تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں۔ اس مرحلے تک کچھ اسرائیلی نوجوانوں نے حضرت موسیٰ کے دعوے کی صداقت تو تسلیم کرلی تھی لیکن ابھی اٰمن بہ کے مقام تک وہ نہیں پہنچے تھے اس وجہ سے ان کے اعتراف و قبولیت کو قرآن نے اٰمن لہ سے تعبیر کیا ہے۔ یہ حقیقت چونکہ حضرت موسیٰ پر واضح تھی اس وجہ سے انہوں نے ان نوجوانوں کو ایمان کی اصل حقیقت سمجھائی جس کا ذکر آگے والی آیت میں آرہا ہے۔ ملائہم، میں ضمیر کا مرجع ذریت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان نوجوانوں کو فرعون کی طرف سے بھی خطرہ تھا کہ وہ حمایت موسیٰ کے جرم میں ان کو کسی مصیبت میں نہ پھنسا دے اور انی قوم اور ملک کے اعیان و اکابر سے بھی اندیشہ تھا کہ اگر ان کو پتہ چل گیا کہ ہم حضرت موسیٰ کے ساتھ ہیں تو جھاڑ کے کانٹوں کی طرح پیچھے پڑجائیں گے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ اس مرحلہ تک خود بنی اسرائیل کے بڑے بوڑھوں کا رویہ بھی، حضرت موسیٰ کے ساتھ ہمدردی کے باوجود یہی تھا کہ وہ اپنے یا اپنی اولاد کے لیے کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تھے۔ وَاِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الْاَرْضِ ۚ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِيْنَ ، یعنی اول تو فرعون نہایت متکبر اور جبار تھا کہ اپنے آگے کسی کو سر اٹھاتے دیکھ ہی نہیں سکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ جب ظلم کرنے پر آتا تو اس کے ظلم کی کوئی حد نہ رہتی، بلکہ تمام حدود لانگ جاتا۔
Ayahs 10:84–86

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم اپنے آپ کو اس کے حوالہ کرچکے ہو

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ اے ہمارے رب ہمیں ظالموں کے ظلم کا آماجگاہ نہ بنا

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور ہمیں اپنے فضل سے کافروں کے پنجہ ستم سے چھڑا

84۔ 86:۔ وَقَالَ مُوْسٰى يٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِيْنَ۔ فَقَالُوْا عَلَي اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ۔ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۔ وَقَالَ مُوْسٰى۔۔۔ الایۃ۔ یہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کے لوگوں کو ایمان باللہ کی حقیقت سمجھائی ہے کہ اگر ایمان کا اظہار کیا ہے تو اس ایمان کے تقاضے پورے کرنے کی راہ میں کسی کا ڈر اور کسی کا لحاظ حائل نہیں ہونا چاہیے بلکہ سب سے بےنیاز و بےپروا ہو کر اللہ کی راہ میں بڑھنا چاہیے اور اللہ پر پورا بھروسہ رکھنا چاہیے کہ جس نے یہ راہ کھولی ہے وہی اس میں پیش آنے والی مشکلات میں یاور و ناصر ہوگا۔ گویا ایمان کا لازمی تقاضا خدا پر توکل ہے اور اس توکل کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو بالکلیہ اپنے رب کے حوالے کردے۔ یہی حوالگی اصل اسلام ہے۔ فَقَالُوْا عَلَي اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا۔ الایۃ۔ حضرت موسیٰ کے ساتھیوں نے ان کی یہ تعلیم قبول کی اور چونکہ وہ اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ اس توکل کے معنی گوشہ نشینی کے نہیں بلکہ اللہ کی راہ میں سرفروشی اور جان بازی کے ہیں اس وجہ سے عزم بالجزم کے اظہار کے ساتھ ہی انہوں نے دعا کی کہ اے رب ہمیں ظالموں کے لیے فتنہ نہ بنانا۔ " فتنہ " کے معنی یہاں ہدف اور نشانہ کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو اتنی ڈھیل نہ دینا کہ وہ ہمیں ہمارے دین سے پھیرنے کے لیے ہم کو بالکل ہی مظالم کا آماجگاہ بنا لیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ پر توکل کے تقاضے پورے کرنے کے لیے جس طرح بندے کا عزم راسخ ضروری ہے اسی طرح ہر قدم پر خدا سے دعا واستعانت بھی ضروری ہے کہ وہ راہ کے فتنوں سے امان میں رکھے اور جو فتنے پیش آئیں ان سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق دے۔ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ۔۔۔ الایۃ۔ چونکہ یہ بات ابتدائی مرحلے ہی میں واضح ہوچکی تھی کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو فرعونیوں کی غلامی سے چھڑانا چاہتے ہیں۔ اس وجہ سے اس مقصد عزیز کے لیے بھی انہوں نے دعا کی۔ یہ دعا گویا ہجرت کی کامیابی کے لیے تھی۔
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں کچھ گھر ٹھہرا لو اور اپنے گھروں کو قبلہ بناؤ اور نماز کا اہتمام کرو اور ایمان لانے والوں کو خوش خبری دے دو

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰى وَاَخِيْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوْتًا وَّاجْعَلُوْا بُيُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ۔ یہ تدبیر ارشاد ہوئی اس صبر اور توکل کے حصول کی جس کی تعلیم اوپر کی آیات میں دی گئی ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو حکم ہوا کہ مصر کے مختلف حصوں میں کچھ مقام نماز باجماعت کے لیے مخصوص کرلو جن میں بنی اسرائیل معین اوقات پر نماز کے لیے جمع ہوا کریں اور تم اپنے گھروں کو قبلہ قرار دے کر نماز باجماعت کا اہتمام کرو۔ یہ بعینہ اسی طرح کی ہدایت ہے جس طرح کی ہدایت نبی ﷺ کو مکہ کی پر مصائب زندگی میں دی گئی تھی۔ صبر و توکل اور نماز کے باہمی تعلق پر ہم ایک سے زیادہ مقامات میں بحث کرچکے ہیں۔ دینی تنظیم کا ابتدائی نقطہ : مصر کی غلامانہ زندگی میں بنی اسرائیل اپنی ذہبی تنظیم کی خصوصیات سے محروم ہوگئے تھے۔ ازاں جملہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاں اجتماعی نماز و دعا کی بھی کوئی شکل باقی نہیں رہ گئی تھی۔ اب جب کہ حضرت موسیٰ نے ان کے اندر تجدید کا کام شروع کیا تو ظاہر ہے کہ اس کا آغاز اسی نقطہ سے ہونا تھا جو دینی تنظیم کا ابتدائی نقطہ ہے۔ چناچہ ان کو نماز کے قیام و اہتمام کا حکم ہوا اور اس کے لیے یہ ہدایت ہوئی کہ مصر کے مختلف حصوں میں کچھ مکانات مسجد کی حیثیت سے مخصوص کرلیے جائیں جن میں بنی اسرائیل اوقات نماز میں مجتمع ہوجایا کریں۔ یہ طریقہ اختیار کرنے کی ہدایت اس وجہ سے ہوئی کہ تمام بنی اسرائیل کا مصر کے مختلف حصوں سے ایک جگہ جمع ہونا ناممکن ہوتا۔ جب متعدد مسجدیں ہوئی تو ان میں وحدت پیدا کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہوا کہ کوئی مسجد سب کے قبلہ کی حیثیت سے معین ہو۔ اس لیے حکم ہوا۔ واجعلوا بیوتکم قبلۃ، اپنے گھروں کو قبلہ بناؤ۔ میرا ذہن ان الفاظ سے اس طرف جاتا ہے کہ اس سے مراد وہ گھر ہیں جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے اپنے اور اپنے متعلقین اور اپنے آس پاس کے بنی اسرائیل کی نماز کے لیے مخصوص فرمائے ہوں گے۔ چونکہ دعوت و ہدایت کے مرکز کی حیثیت انہی گھروں کو حاصل تھی اس وجہ سے اس عبوری دور میں انہی گھروں کو عارضی طور پر قبلہ کی حیثیت دے دی گئی۔ بعد میں جب بنی اسرائیل نے ہجرت کی تو اس کے بعد سے بیت المقدس کی تعمیر تک ان کے ہاں قبلہ کی حیثیت اس تابوت کو حاصل رہی جس کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ وبشر المومنین، یہ اہل ایمان کو بشارت ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں ثابت قدم رہیں گے، نماز کا اہتمام رکھیں گے، اللہ ان کو تمام آزمائشوں میں ثابت قدم رکھے گا اور ان کو دنیا اور آخرت دونوں میں فوز و فلاح عطا فرمائے گا۔ اس بشارت کا ذکر آیت 2 میں گزر چکا ہے۔ وبشر الذین امنوا ان لہم قدم صدق عند ربہم (اور ایمان لانے والوں کو بشارت دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس عزت کی پائگاہ ہے) اور خاص بنی اسرائیل کے لیے یہ بشارت جس شکل میں ظاہر ہوئی اس کا ذکر آگے آیت 93 میں ہوا ہے۔
Ayah 10:88

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ نے دعا کی، اے ہمارے رب ! تو نے فرعون اور اس کے اعیان کو دنیا کی زندگی میں شان و شوکت اور مال و اسباب سے بہر مند کیا، اے ہمارے رب کہ وہ تیری راہ سے لوگوں کو بےراہ کریں، اے ہمارے رب ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں کو بند کردے کہ وہ ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ دیکھ لیں دردناک عذاب کو

وَقَالَ مُوْسٰى رَبَّنَآ اِنَّكَ اٰتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَاَهٗ زِينَةً وَّاَمْوَالًا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۙرَبَّنَا لِيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْــلِكَ ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓي اَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْا حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ۔ یہ دعا حضرت موسیٰ نے اس وقت فرمائی ہے جب سارے جتن کرچکنے کے بعد وہ فرعون اور اس کی قوم کے ایمان سے مایوس ہوچکے ہیں۔ یہی مرحلہ ہے جس میں حضرت نوح نے اپنی قوم کے معاندین کے لیے ان الفاظ میں دعا کی۔ " قال نوح رب انہم عصونی واتبعوا من لم یزدہ مالہ وولدہ الا خسارا، ومکروا مکرا کبارا۔۔۔ وقد اضلو کثیرا ولا تزد الظالمین الا ضلالا۔۔۔ وقال نوح رب لا تذر علی الرض من الکافرین دیارا، انک ان تذرھم یضلوا عبادک ولا یلدوا الا فاجرا کفارا : نوح نے دعا کی، اے میرے رب انہوں نے میری بات رد کردی اور اس کی پیروی کی جس کے مال اور اولاد نے اس کے خسارے ہی میں اضافہ کیا اور انہوں نے بڑی بڑی چال چلی۔۔۔ اور انہوں نے بہتوں کو گمراہ کر ڈالا اور تو ان ظالموں کی ضلالت ہی میں اضافہ کر۔۔۔۔ اور نوح نے دعا کی اے میرے رب، تو زمین پر کافروں میں سے کسی کو چلتا پھرتا نہ چھوڑ، اگر تو ان کو چھوڑے گا یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور صرف نابکاروں اور ناشکروں کو جنم دیں گے " یہ بات ہم ایک سے زیادہ مقامات میں واضح کرچکے ہیں کہ رسول اتمام حجت کا آخری ذریعہ ہوتا ہے۔ اس کے اتمامِ حجت کے بعد اگر کوئی قوم ایمان نہیں لاتی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے اندر قبول حق کی ادنیٰ صلاحیت بھی باقی نہیں رہی ہے۔ اب اگر وہ خدا کی زمین پر باقی رہے تو دوسروں کی گمراہی کا ذریعہ تو ہوسکتی ہے لیکن اس کے اندر سے کسی خیر کے پیدا ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس وجہ سے سنت الٰہی یہ رہی ہے کہ جن قوموں پر کسی رسول کے ذریعہ سے حجت تمام ہوئی اس کے مکذبین ایک خاص حد تک مہلت دیے جانے کے بعد لازماً تباہ کردیے گئے ہیں۔ اس دنیا کے اندر زندگی کی جو مہلت قوموں کو ملتی ہے وہ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ملتی ہے، شر محض کی پرورش اس کائنات کے مزاج کے خلاف ہے۔ چناچہ حضرت موسیٰ نے یہ دعا اس وقت کی ہے جب ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ ان سرکشوں کی آنکھوں کی پٹی عذاب الٰہی کے سوا اب کوئی دوسری چیز نہیں کھول سکتی۔ رَبَّنَا لِيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْــلِكَ۔ عربی میں " ل " بسا اوقات کسی چیز کے اس انجام اور نتیجہ کو ظاہر کرتا ہے جو اس سے ظہور میں آتا ہے۔ یعنی تو نے ان کو جو مال و اسباب عطا فرمائے وہ ان کے لیے شکر گزاری کے بجائے طغیان و فساد کا سبب بنے اس وجہ سے، اے ہمارے رب، اب تو ان کو مزید مہلت نہ دے کہ یہ تیری مخلوق کو گمراہ کریں۔ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓي اَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ ، اور ان کے دلوں پر وہ پٹی باندھ جس کو تیرا عذاب ہی کھولے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والوں نے رسول کے تمام دلائل اور تمام نشانیوں سے آنکھیں بند کر کے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ جب تک ان کو وہ عذاب نہ دکھا دیا جائے جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے اس وقت تک وہ ایمان نہیں لانے کے۔ یہی مطالبہ فرعون اور اس کی قوم کا بھی تھا۔ ان کی اسی ذہنیت کو سامنے رکھ کر، ان کے ایمان سے کلیۃً مایوس ہوجانے کے بعد، حضرت موسیٰ نے ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے اسی چیز کی درخواست کی جس کے لیے وہ بضد تھے۔
Ayah 10:89

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

فرمایا تمہاری دعا قبول ہوئی تو تم دونوں جمے رہو اور ان لوگوں کی راہ کی پیروی نہ کیجیو جو علم نہیں رکھتے

قَالَ قَدْ اُجِيْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَــقِيْمَا وَلَا تَتَّبِعٰۗنِّ سَبِيْلَ الَّذِيْنَ لَايَعْلَمُوْنَ۔ مکذبین پر ہلاکت کی تیر بہدف دعا : جو دعا صحیح طریقہ اور ٹھیک وقت پر کی جاتی ہے اس کی قبولیت میں دیر نہیں ہوتی۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون پر دعوت و اصلاح اور انذار و تبلیغ کی ذمہ داری عائد ہوتی تھی چونکہ وہ کما حقہ ادا ہوچکی تھی اس وجہ سے ان کی دعا قبول ہوگئی اور ان کو یہ ہدایت ہوئی کہ اب آگے کے مرحلہ میں ان سرکشوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ جو معاملہ کرنے والا ہے اس کو جی کڑا کر کے دیکھنا۔ ان کی درگت دیکھ کر ان کے لیے دل میں نہ کوئی نرمی ورافت پیدا ہو، نہ ان کے حق میں کوئی کلمہ سفارش کہنا اور نہ کسی پہلو سے اب ان کی چھوت تم کو یا تمہارے ساتھیوں کو لگنے پائے۔ یہ بعینہ اسی طرح کی ہدایت ہے جس طرح کی ہدایت حضرت نوح کو، ان کی قوم کے باب میں فیصلہ عذاب ہوجانے کے بعد کی گئی تھی جس کا ذکر سورة ہود میں یوں ہوا ہے۔ " واصنع الفلک باعیننا ووحینا ولاتخاطبنی فی الذین ظلموا۔ انہم مغرقون : اور کشتی بناؤ ہماری نگرانی میں اور ہماری ہدایت کے مطابق اور ان ظالموں کے باب میں اب ہم سے کچھ نہ کہیو۔ یہ لازماً غرق کیے جائیں گے " (ھود :37)۔ بعینہ اسی قسم کے سیاق وسباق میں نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو یہ ہدایت کی گئی۔ " فاستقم کما امرت و من تاب معک ولا تطغو۔ انہ بما تعملون بصیر۔ ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار وما لکم من دون اللہ من اولیاء ثم لا تنصرون : پس جس طرح تمہیں حکم ملا ہے تم اور جن لوگوں نے تمہارے ساتھ توبہ کی ہے۔ جمے رہو اور سرکشی نہ کیجیو، بےوہ جو کچھ تم کر رہے ہو، اس کو دیکھ رہا ہے اور ان لوگوں کی طرف مائل نہ ہوجیو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا کہ تم کو بھی دوزخ کا عذاب پکڑے اور تمہارے لیے اللہ کے مقابل میں کوئی مددگار نہ ہوگا، پھر تمہاری کوئی مدد نہ کی جائے گی " (112۔ 113۔ ھود)۔ اس قسم کی تنبیہ کا مقصد درحقیقت اپنے گلے کے راعیوں کو ہوشیار و آگاہ کرنا ہوتا ہے کہ چوکنے رہو کہ تمہارے گلے کی کوئی بھیڑ اس گلے سے نہ جا ملے جس کی ہلاکت اب مقدر ہوچکی ہے اور جس پر اللہ کا عذاب بس آنے ہی والا ہے۔ اس قسم کے مواقع میں خطاب بظاہر پیغمبر سے ہوتا ہے لیکن کلام کا رخ، جیسا کہ دوسرے مواقع میں ہم واضح کرچکے ہیں، دوسروں کی طرف ہوتا ہے چناچہ ہود کی محولہ بالا آیات میں اس کی وضاحت بھی ہوگئی ہے کہ خطاب پہلے واحد سے ہوا، پھر صیغہ جمع کا آگیا۔
Ayahs 10:90–92

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پار کرادیا تو ان کا پیچھا کیا فرعون اور اس کے فوجیوں نے سرکشی اور زیادتی سے۔ یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے کے لپیٹ میں آگیا بولا کہ میں ایمان لایا کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں اس کے فرمانبرداروں میں بنتا ہوں

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

کیا اب ! حالانکہ تم نے اس سے پہلے نافرمانی کی اور تم فساد برپا کرنے والوں میں سے تھے

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

پس آج ہم تیرے جسم کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے اور بیشک بہت سارے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہی رہتے ہیں

90۔ 92:۔ وَجٰوَزْنَا بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَھُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُوْدُهٗ بَغْيًا وَّعَدْوًا ۭﱑ اِذَآ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ ۙقَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْٓ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۔ اٰۗلْئٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ۔ فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً ۭ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۔ بنی اسرائیل کی نجات کا خدائی اہتمام : وَجٰوَزْنَا بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْبَحْرَ۔۔۔ الایۃ۔ یہ خاص خدائی اہتمام میں بنی اسرائیل کو سمندر پار کرادینے کی تعبیر ہے گویا کوئی کسی کو اپنے کندھے پر سوار کر کے دریا پار کرادے۔ اس کی شکل کیا ہوئی، یہ سوال بحث طلب ہے۔ ہم اس سوال پر اس مقام میں بحث کریں گے جہاں قرآن نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ قدرت کے عجائب تصرفات میں سے ہے کہ جس مقام سے سمندر نے بنی اسرائیل کو خشک راستہ دیا اسی مقام سے گزرتے ہوئے فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ غرق ہوگیا۔ فرعون کے اس تعاقب کو قرآن نے بغی اور عدو، یعنی سرکشی اور تعدی سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا یہ فعل یوں تو ہر پہلو سے سرکشی اور تعدی تھا لیکن اس کا یہ پہلو خاص طور پر یہاں قابل لحاظ ہے کہ ایک مدت کی کشمکش کے بعد فرعون نے خود بنی اسرائیل کو جانے کی اجازت دی تھی۔ اس اجازت کے بعد پیچھے سے ان پر فوجیں لے کر چڑھ دوڑنا ایک ایسی زیادتی تھی جو اس کی تمام زیادتیوں پر بازی لے گئی۔ ڈوبتے وقت فرعون کا اقرار توحید اس تصریح کے ساتھ کہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوا اسرائیل اس کی بےبسی کی کامل تصویر ہے جو فراعنہ اور متمردین پر اس وقت طاری ہوا کرتی ہے جب وہ خدا کی پکڑ میں آجاتے ہیں۔ اس وقت وہ ناک رگڑ رگڑ کے اس حقیقت کا اظہار و اعلان کرتے ہیں جس کا نا سننا بھی ان کو اس سے پہلے گوارا نہیں ہوتا۔ الئٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ۔۔ الایۃ۔ یعنی اب مانے جب ماننے کا وقت گزر گیا۔ اب مسلم بننے کا اقرار کرتے ہو در آنحالیکہ ساری زندگی فساد میں گزری ! یہ ضروری نہیں کہ بات قولاً کہی گئی ہو بلکہ غالب یہ ہے کہ یہ صورت حال کی تصویر ہو۔ فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ۔۔۔ الایۃ۔ قدرت کے انتقام کی اس عظیم نشانی کے اندر ایک دوسری عظیم نشانی یہ ظاہر ہوئی کہ فرعون کی لاش کو سمندر نے قبول نہیں کیا بلکہ اس کو ایک نشان عبرت بنانے کے لیے باہر پھینک دیا اور یہ لاش بعد میں لوگوں کو ملی بھی اور لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جو خدائی کا مدعی تھا اس کا انجام کیا ہوا۔ مصر میں لاشوں کو ممی کر کے محفوظ کرنے کا رواج تھا اور ایک فرعون کی ممی کی ہوئی لاش قاہرہ کے عجائب خانے میں محفوظ ہے۔ اس لاش کے بارے میں ماہرین چاہے اختلاف کریں کہ یہ اسی فرعون کی لاش ہے یا کسی اور کی۔ لیکن ان کے اٹکل پچو اندازوں کے مقابل میں قرآن کا یہ چودہ سو سال پہلے کا بیان زیادہ قابل اعتماد ہے۔ اس طرح قدرت نے اس کی لاش کو عبرت کی ایک ایسی نشانی بنا دیا جو آج کے فرعونوں کے لیے بھی محفوظ ہے لیکن دیکھنے کے لیے آنکھوں کی ضرورت ہے اور اس دنیا میں عبرت پذیر آنکھوں سے زیادہ کم یاب کوئی شے بھی نہیں۔ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔