Ayah 10:24اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَاۗءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَاۗءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا يَاْكُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ ۭﱑ اِذَآ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ اَهْلُهَآ اَنَّھُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَيْهَآ ۙ اَتٰىھَآ اَمْرُنَا لَيْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰھَا حَصِيْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ ۭ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۔
حیات کی تمثیل۔ انما مثل الحیوۃ الدنیا، یہ اس حیات دنیا کی تمثیل ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں متاع الحیوۃ الدنیا کے الفاظ سے ہوا ہے جس پر کفار ریجھے ہوئے ہیں اور اس کو اس قدر مامون سمجھے ہوئے تھے کہ اس میں کسی رخنے کا ان کو امکان ہی نظر نہیں آتا تھا۔ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا يَاْكُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ ، اختلاط، کے معنی کسی شے کے باہمدگر مل جانے اور گتھم گتھا ہوجانے کے ہیں۔ یہ فصلوں اور نباتات کے خوب اپجنے کی تعبیر ہے۔ اس لیے کہ سازگار بارش سے جب فصل نشوونما پاتی ہے تو وہ باہمدگر مل کر خوب گھنی ہوجاتی ہے۔ مما یا کل الناس والانعام۔ یعنی ہر نوع کی نباتات خوب اپجیں، وہ بھی جو انسانوں کے کام آتی ہیں اور وہ بھی جو مویشیوں کے مصرف کی ہوتی ہیں۔ اِذَآ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ ، زخرف، حسن، زینت اور ملمع کو کہتے ہیں۔ یہیں سے یہ لفظ زمین کی گوناگوں و بوقلموں نباتات کے لیے بھی آتا ہے۔ ازین، اور تزین، ایک ہی مفہوم کے لیے آتے ہیں۔ وَظَنَّ اَهْلُهَآ اَنَّھُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَيْهَا، یعنی جب فصل اپنے جوبن پر ہوتی ہے، ان کے مالکوں کے دل حوصلہ اور امنگ سے لبریز ہوجاتے ہیں کہ اب کیا اندیشہ ہے، اب تو بازی ہماری ہے۔ ۙ اَتٰىھَآ اَمْرُنَا لَيْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰھَا حَصِيْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ۔ " امر " یہاں عذاب کے مفہوم میں ہے۔ لیلا او نہارا، یعنی رات یا دن میں جس وقت بھی ہم نے چاہا اپنے عذاب بھیج دیا، کوئی ہمارا ہاتھ پکڑنے والا نہیں تھا۔ " حصدی " کاٹی ہوئی فصل کو کہتے ہیں۔ کان لم تغن بالامس۔ یعنی اس طرح ستھراؤ کردیا کہ، ع، گویا کہ ان تلوں میں کبھی تیل ہی نہ تھا۔
خدا کی پکڑ دور عروج میں ہوتی ہے : آیت کا مفہوم یہ ہے کہ دنیا کی زندگی جس کو تم بہت کامیاب اور مامون سمجھ رہے ہو، اس کے غرّے میں خدا کو چیلنج نہ کرو۔ جس طرح دیکھتے ہو کہ بارش ہوتی ہے۔ فصل اپجتی ہے۔ باغ پھلتے ہیں۔ ان کے مالک ان کو دیکھ کر پھولے نہیں سماتے کہ دفعۃً قہر الٰہی کا کوئی جھونکا آتا ہے اور سب کو خس و خاشاک کی طرح اڑا دیتا ہے اسی طرح جب ہمارا فیصلہ صادر ہوجائے گا ہم تمہیں، عین اسی حالت میں جس کو تم اپنی ترقی اور عروج کا دور خیال کیے بیٹھے ہو، دھر لیں گے اور تم ہمارے مقابلے میں کچھ نہ کرسکو گے، تم عذاب کی نشانی دیکھنا چاہتے ہو تو اس دنیا میں جو نشانیاں ہماری آئے دن ظاہر ہوتی رہتی ہیں ہم ان کی تفصیل تمہیں سنا رہے ہیں۔ جن کے اندر غور کرنے کی صلاحیت ہے وہ ان پر غور کریں۔ عاقل وہ ہے جو دوسروں کے حالات سے سبق لے، نہ کہ اس وقت آنکھ کھولے جب خود اپنے سر پر گز جائے۔ سورة قلم کی آیات 17۔ 26 میں باغ والوں کی جو تمثیل بیان ہوئی ہے اس میں بھی یہی حقیقت واضح کی گئی ہے۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ جن قوموں پر اللہ کی حجت تمام ہوجاتی ہے ان کو وہ عین دور عروج میں پکڑ لیتا ہے۔ اسلیے کہ خدا کہ ہاں اصلی اہمیت عقائد و عامل کی ہے نہ کہ مادی اسباب و وسائل کی۔ اگر ایک قوم اخلاقی اعتبار سے گر چکی ہے تو اسباب ووسائل کی فراوانی اس کو سہارا دینے کے بجائے اس کے زوال کی رفتار کو اور تیز کردیتی ہے۔
Ayahs 10:25–2725۔ 27: وَاللّٰهُ يَدْعُوْٓا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ ۭ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ۔ لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ ۭ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۔ وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا ۙ وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ ۭ مَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ ۚ كَاَنَّمَآ اُغْشِيَتْ وُجُوْهُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّيْلِ مُظْلِمًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْن۔
وَاللّٰهُ يَدْعُوْٓا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ۔ سلام کے معنی سکھ اور چین کے ہیں۔ اس سے مراد جنت ہے اس لیے کہ اس لیے کہ وہی ایسی جگہ ہے جہاں پہنچ جانے کے بعد آدمی کے لیے نہ ماضی کا غم ہوگا، نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ بلکہ دائمی سکھ اور ابدی چین کی زندگی ہوگی۔ اس لفظ کے استعمال میں یہاں ایک تلمیح ہے اس دنیا کی طرف سے جس پر کفار ریجھ ہوئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ تم تو جس زندگی پر فریفتہ وہ وہ ہر وقت خدا کی برق غضب کی زد میں ہے، البتہ خدا تمہیں جس گھر کی دعوت دے رہا ہے وہ ابدی امن و سلامتی کا گھر ہے۔ ۭ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ۔ لیکن اس گھر کی راہ اختیار کرنا ہر ایک کا نصیبہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس گھر کو جانے والی سیدھی راہ کی توفیق انہی کو دیتا ہے جن کو چاہتا ہے۔ " جن کو چاہتا ہے " یعنی جو سنت الٰہی کے مطابق اس کے اہل ٹھہرتے ہیں۔ یہ سنت تمام تر عدل و حکمت پر مبنی ہے۔ اس کی وضاحت ایک سے زیادہ مقامات میں گزر چکی ہے۔ لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ۔ یہ اس سکھ کے گھر میں لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے معاملے کی تفصیل ہے کہ جن لوگوں نے دنیا میں نیکی کمائی اور احسان کی روش اختیار کی ہوگی ان کے لیے ان کی نیکی کا بدلہ اچھا بھی ہوگا اور ان پر مزید فضل بھی ہوگا۔ یہاں اس مزید فضل کی وضاحت نہیں ہوئی ہے۔ دوسرے مقام میں اس کی تفصیل یوں آئی ہے۔ من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالہا (جو بھلائی لے کر حاضر ہوگا تو اس کے لیے اس کا دس گنا اجر ہے)۔ ۭ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ۔ " رھق " کے معنی چھا جانے اور غالب آجانے کے ہیں اور " قتر " غبار، کدورت اور سیاہی کو کہتے ہیں۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ وہ سیاہی مراد ہے جو شدت یاس کے نتیجہ میں چہرے پر چھا جاتی ہے۔ یہاں جن چیزوں کی نفی کی ہے، ان کی نفی سے مقصود ان کے ضد پہلو کا اثبات ہے یعنی ان کے چہرے اپنی کامیابیوں پر ہشاش بشاش ہوں گے۔ اور ہر قدم پر ان کے ساتھ اعزازو تکریم کا معاملہ ہو رہا ہوگا۔ جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا ۙ وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ ۭ مَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ۔ یہ بروں کا انجام بیان ہوا ہے کہ برائی کا بدلہ پورے انصاف کے ساتھ بالکل ہموزن ہوگا۔ ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ وترھقہم ذلۃ میں ذلت کے ساتھ قتر کا ذکر نہیں کیا۔ اس کی تفصیل كَاَنَّمَآ اُغْشِيَتْ وُجُوْهُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّيْلِ مُظْلِمًا، کی تشبیہ میں آگئی اور اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ " قتر " سے مراد مایوسی کی سیاہی ہے اور چونکہ یہ ابدی مایوسی کی سیاہی ہوگی اس وجہ سے ایسا معلوم ہوگا کہ گویا ان کے چہروں پر شب تاریک کے ٹکڑے کاٹ کاٹ کر ڈال دیے گئے ہیں۔ مالہم من اللہ من عاصم، سلسلہ کلام کے بیچ میں جملہ معترضہ کے محل میں ہے۔ یعنی اس ابدی مایوسی اور ذلت سے ان کو وہاں چھڑانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ دنیا میں جن معبودوں سے سفارش اور مدد کی امیدیں باندھ کر ان کی پرستش کی ہوگی وہ سب ہوا ہوجائیں گے۔ ان میں سے کوئی کام آنے والا نہ بنے گا۔
Ayahs 10:28–29آگے کا مضمون۔ آیات 28۔ 36: اوپر، وما لہم من اللہ من عاصم، میں یہ اشارہ جو فرمایا تھا کہ ابدی مایوسی اور ذلت سے چھڑانے میں ان کے مزعومہ شرکاء اور شفعاء کچھ کام آنے والے نہیں، آگے اس اشارے کی تفصیل فرما دی کہ آخرت میں ان کا کیا حال ہوگا اور ساتھ ہی اس بات کی بھی وضاحت فرمادی کہ مجرد ظن کی بنیاد پر آرزؤوں کے جو ہوائی قلعے تعمیر کیے جاتے ہیں وہ اسی طرح مسمار ہوتے ہیں۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَيَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَشُرَكَاۗؤُكُمْ ۚفَزَيَّلْنَا بَيْنَھُمْ وَقَالَ شُرَكَاۗؤُھُمْ مَّا كُنْتُمْ اِيَّانَا تَعْبُدُوْنَ۔ فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِيْنَ۔
مشرکین اور ان کے شرکاء آخرت میں : وَيَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِيْعًا، میں جمیعاً کی تاکید اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ مشرکین کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کے ان شریکوں اور شفیعوں کو بھی جمع کرے گا جن کو انہوں نے خدا کی خدائی میں شریک ٹھہرا کر ان کی عبادت کی اور ان کو اپنا سفارشی سمجھا۔ ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَشُرَكَاۗؤُكُمْ ۚفَزَيَّلْنَا بَيْنَھُمْ ، مکانکم، سے پہلے امکثوا، یا قفوا، یا ان کے ہم معنی کوئی فعل محذوف ہے۔ یعنی پس اپنی جگہ پر ٹھہر جاؤ۔ عربی میں جب کسی فوری اور واجب التعمیل حکم کا موقع ہو تو ظرف یا مفعول سے پہلے اس طرح فعل کو حذف کردیتے ہیں تاکہ مخاطب کی ساری توجہ اصل بات پر مرتکز ہوجائے۔ فزیلنا، یہ اس روکنے کے مقصد کی تفصیل ہے۔ تزییل کے معنی تفریق اور جدائی ڈال دینے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ایک سے زیادہ مقامات میں اس بات کی تصریح ہے کہ قیامت کے دن مشرکین اور ان کے معبودوں میں جدائی ڈال دی جائے گی اور معبود اپنے عابدوں سے اس دن اظہار براءت بھی کریں گے اور خدا کی قسم کھا کر یہ بھی ان کو بتائیں گے کہ ہمیں اصلاً خبر نہیں کہ دنیا میں تم ہماری عبادت کرتے رہے۔ بقرہ آیت 166 اور 167 اور انعام آیت 94 میں یہ مضمون گزر چکا ہے۔
شرکاء کا اعلان براءت : وَقَالَ شُرَكَاۗؤُھُمْ۔۔ الایہ۔ یہ مزعومہ شریکوں کا اعلان براءت ہے جو ساری خدائی کے آگے ان کے پرستاروں کو رسوا کرے گا۔ انہیں تو یہ امید ہوگی کہ ساری زندگی جن کی عبادت کی ہے اور جن کو نذریں اور قربانیاں پیش کی ہیں آج وہ ان کے کام آئیں گے اور خدا نے ان پر ہاتھ ڈالا تو یہ ان کو چھڑائیں گے لیکن قبل اس کے کہ یہ زبانیں کھولیں وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں گے کہ ہمیں خبر بھی نہیں کہ کچھ احمق لوگ ہماری عبادت کرتے رہے ہیں۔ فکفی باللہ شھیدا، قسم کے معنی میں ہے اور ان کنا، میں ان، مخفف ہے جو ان، کے معنی میں ہوتا ہے اور اس کے بعد الغافلین، پر جو لام ہے وہ اس کا قرینہ ہے۔
Ayah 10:30هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّآ اَسْلَفَتْ وَرُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىھُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۔
ہر شخص کی پیشی خدا کے آگے ہوگی۔ بلا یبلو، کے معنی تجربہ کرنے، جانچنے، آزمانے اور چکھنے کے ہیں۔ یعنی مشرکین تو اس امید میں ہیں کہ اگر قیامت ہوئی تو، خواہ ان کے اعمال کچھ ہی ہوں، ان کے دیوی دیوتا انکو چھڑا ہی لیں گے لیکن وہاں سابقہ ہر شخص کو اپنے ان اعمال سے پیش آئے گا جو اس نے کیے ہوں گے اور وہ انہیں کو بھگتے گا۔ وَرُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىھُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ ، یعنی یہ توقع لیے بیٹھے ہیں کہ قیامت ہوئی تو ان کے دیوی دیوتا وہاں ان کا خیر مقدم کریں گے لیکن وہاں ہوگا یہ کہ ان کے یہ سارے دیوی دیوتا جو انہوں نے خدا پر افترا کر کے گھڑے ہیں، سب غائب ہوجائیں گے اور سب کی روبکار اللہ واحد کے حضور میں ہوگی جو ان کا اور سب کا مولائے حقیقی ہے۔ مولی، کا صحیح مفہوم مرجع ہے اور مولائے حق کا لفظ یہاں ان کے فرضی معبودوں کے مقابل میں استعمال ہوا ہے جو اللہ پر افترا کر کے گھڑے گئے تھے یعنی ان کے متعلق بالکل جھوٹ دعوی کیا گیا کہ خدا نے ان کو اپنا شریک بنایا ہے اور یہ ان کے سفارشی ہوں گے۔
Ayahs 10:31–32قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۔ فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۚ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ښ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ۔
مشرکین کا تضاد فکر : اس آیت کے تمام الفاظ اور فقروں کی تشریح دوسرے مقامات میں ہوچکی ہے۔ اس کے مختلف ٹکڑوں میں جو ترتیب و تدریج ہے وہ بھی واضح ہے۔ اہل عرب کے متعلق یہ بات بھی ہم تفصیل سے بیان کرچکے ہیں کہ وہ کائنات کا خالق ومالک اور مدبر اصلاً اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے لیکن ساتھ ہی شرک میں بھی مبتلا تھے۔ وہ جن دیویوں دیوتاؤں کو پوجتے تھے ان کے متعلق ان کا عقیدہ یہ نہیں تھا کہ یہ آسمان و زمین کے خالق ہیں یا ابرو ہوا اور سورج اور چاند کے موجود ہیں یا زندگی اور موت پر متصرف ہیں یا نظام کائنات کا سر رشتہ ان کے ہاتھ میں ہے بلکہ صرف یہ مانتے تھے کہ یہ خدا کے محبوب اور چہیتے ہیں۔ خدا ان کی سنتا ہے، جو کام خدا سے کرانا چاہیں کر اسکتے ہیں۔ ان کو اگر راضی رکھا جائے تو یہ خدا سے سفارش کر کے دنیا کی نعمتیں بھی دلواتے ہیں اور اگر بالفرض مرنے کے بعد اٹھنا ہی ہوا اور حساب و کتاب کی نوبت آئی تو اس وقت بھی یہ دستگیری کریں گے اور اپنی بندگی کرنے والوں کو نہ صرف بخشوا لیں گے بلکہ اونچے اونچے درجے دلوائیں گے۔ قرآن نے یہاں خدا سے متعلق ان کے انہی اصولی مسلمات کو بنیاد قرار دے کر ان کو متنبہ کیا ہے کہ جب تم ان ساری باتوں کو مانتے ہو تو نہ تمہارے لیے آخرت کے انکار کی گنجائش ہے اور نہ خدا کے شریک ٹھہرانے کا کوئی جواز ہے۔ جب خدا ہی مردہ سے زندہ کو اور زندہ سے مردہ کو برآمد کرتا ہے اور تمام خلق و تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہے تو وہ کسی کا محتاج کب ہے کہ اپنی خدائی میں کسی کو شریک بنائے اور اس کے لیے اس امر میں دشواری کیا ہے کہ وہ سب کو مرنے کے بعد دوبارہ اٹھا کھڑا کرے ؟ مطلب یہ کہ تمہاری یہ باتیں تمہارے اپنے مسلمات کے خلاف ہیں۔ اس طرح تم اپنے ہی منہ سے اپنے کو جھٹلاتے ہو۔ افلا تتقون، یعنی جب تم یہ ساری باتیں مانتے ہو تو اس خدا کے قہر و جلال سے ڈرتے نہیں کہ اس کی طرف بےجوڑ باتیں منسوب کر کے اس کی تمام اعلی صفات کی نفی کردیتے ہو۔ فذلکم اللہ ربکم الحق۔ ذلکم کا اشارہ اللہ تعالیٰ کی مذکورہ بالا صفات کی طرف ہے جن کا اہل عرب کو اعتراف بھی تھا اور جو صحیح بھی تھیں۔ ان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ وہی اللہ جس کے لیے یہ صفتیں مانتے ہو وہی تمہارا رب حقیقی بھی ہے، پھر اس کے علاوہ تم نے دوسرے ارباب کس دلیل سے بنا لی، فما ذا بعد الحق الا الضلال، یعنی تمہارے مذکورہ بالا اعتراف کا منطقی نتیجہ تو یہ نکلتا ہے کہ جس اللہ کے لیے یہ صفتیں مانتے ہو اسی کو تنہا اپنے رب بھی تسلیم کرو، لیکن تم نے کیا یہ ہے کہ ان سب باتوں کو ماننے کے باوجود رب اور بھی بنا لیے ہیں تو حق کے معین ہوچکنے کے بعد اس کے خلاف کوئی بات ماننا صریح ضلالت ہوئی تو تم صحیح قدم اٹھا کر پھر غلط پگڈنڈیوں پر کس طرح مڑ جاتے ہو۔ تصرفون، مجہول کا صیغہ ہے جو اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جہاں تک عقل اور منطق کا تعلق ہے وہ تو تمہارا ساتھ نہیں دے رہی ہے۔ اب تم خود سوچو کہ تم نے اپنی نکیل کس کے ہاتھ میں دے رکھی ہے جو تم سے یہ ہرزہ گردی کرا رہا ہے۔
اہل عرب کے شرک کی نوعیت : اگرچہ آیات کی یہ تاویل واضح ہے لیکن چونکہ اہل عرب کے عقائد اور ان کے اصنام سے متعلق عام طور پر لوگوں کی معلومات بہت سرسری ہیں اس وجہ سے ممکن ہے بعض لوگوں کو ایک بات کھٹکے۔ ہم یہاں بالاختصار اس کی طرف اشارہ کر کے اس کی وضاحت کیے دیتے ہیں۔
اوپر اہل عرب کے جو اعترافات نقل ہوئے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو نہ صرف خالق و رازق، سمع و بصر کا مالک، زندگی اور موت کا منبع مانتے تھے بلکہ کائنات کا مدبر و منتظم بھی اسی کو تسلیم کرتے تھے۔ ہمارے نزدیک اہل عرب کے عقائد سے متعلق یہی اصل حقیقت ہے۔ اہل عرب اپنے معبودوں کو کائنات کے نظم و انصرام کا اصل سرچشمہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ یہ سمجھتے تھے کہ جس طرح ایک بادشاہ اپنے مقربین کو کچھ اختیارات و فرائض سونپ دیتا ہے جو ہوتے تو ہیں تفویض کردہ لیکن غایت تقرب و اعتماد کے سبب سے وہ عملاً مقربین ہی کے حقوق و اختیارات بن جاتے ہیں۔ اسی طرح کے کچھ اختیارات خاص طور پر، رزق اور اولاد وغیرہ سے متعلق، ان کے مزعومہ شرکاء کو بھی حاصل ہیں۔ قرآن نے جگہ جگہ ان کے اس تصور کی غلطیوں پر تنقید کی ہے جن کی تفصیل ہم نے اپنی کتابوں، حقیقت شرک اور حقیقتِ توحید میں کی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے زمانے کے مشرکین اور اہل عرب کے مشرکین میں کچھ زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔ ہم لوگوں نے محض اپنے شرک کو توحید ثابت کرنے کے لیے اہل عرب کے شرک کو ہوّا بنا رکھا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ، ع، ایں گناہیست کہ در شہر شما نیز کنند۔
Ayah 10:33كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَي الَّذِيْنَ فَسَقُوْٓا اَنَّھُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔
ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی : " کذلک " کا اشارہ مشرکین کی اس متضاد و متناقض روش کی طرف ہے ہے جو اوپر مذکور ہوئی اور کلمہ رب سے مراد وہ سنت الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہدایت و ضلالت کے باب میں مقرر فرمائی ہے اور جس کی وضاحت ایک سے زیادہ مقامات میں ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان وہدایت کی راہ انہی لوگوں پر کھولتا ہے جو اپنے عقل و دل کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جو لوگ عقل و فطرت کو ٹھکرا کر اپنی خواہشوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے فاسقوں کے اوپر ان کی اختیار کردہ ضلالت ہی کو مسلط کردیتا ہے۔ چناچہ ان لوگوں پر بھی ان کی پسندیدہ ضلالت مسلط ہوچکی ہے اور اب یہ ایمان کی طرف آنے والے نہیں ہیں۔ دوسرے مقام میں وما یضل بہ الا الفاسقین کے الفاظ میں بھی یہ سنت الٰہی بیان ہوئی ہے۔ یہ آیت آنحضرت ﷺ کی طرف بطور التفات کے ہے۔ آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان لوگوں کی روش سے پریشان نہ ہوں۔ یہ سنت الٰہی کی زد میں آئے ہوئے لوگ ہیں۔ ایسے لوگوں سے متعلق اتمام حجت کے د تمہاری ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔
Ayah 10:34قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ ۭ قُلِ اللّٰهُ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ۔
مشرکین کے عقیدہ شفاعت کی تردید : یہ مشرکین کے اس خیال کی تردید ہے کہ اگر قیامت ہوئی تو ان کے شرکاء شفعاء ان کو اللہ کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ ہم مشرکین عرب سے متعلق دوسرے مقامات میں یہ واضح کرچکے ہیں کہ آخرت کے معاملے میں ان کا موقف صریح اور حتمی انکار کا نہیں تھا بکہ تذبذب اور تردد کا تھا۔ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے معاملے کو بہت مستبعد سمجھتے تھے۔ اس وجہ سے ان کا گمان یہ تھا کہ اول تو قیامت اور حشر نشر ہے ہی نہیں اور اگر ہے تو ہمارا لوٹنا تو ہمارے شرکاء اور شفعاء کی طرف ہوگا، وہ ہمارے مددگار اور ہمارے سفارشی ہوں گے اللہ تعالیٰ نے ان کی اسی واہمی کی بنا پر ان سے سوال کرایا ہے کہ کیا تمہارے مزعومہ شریکوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جس کی نسبت تمہارا دعوی ہو کہ اس نے خلق کا آغاز کیا ہے اور وہ اس کا اعادہ بھی فرمائے گا تو جب خلق کا اعادہ وہ فرمائے گا تو تمہارا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہوگا یا تمہارے ان فرضی معبودوں کی طرف جن کی نسبت تم خود بھی مانتے ہو کہ ان کا کوئی حصہ نہ ابدائے خلق میں ہے اور نہ اس کے اعادے میں۔ فانی توفکون، یعنی تم اپنے مسلمہ کے بموجب کہ جب تم خلق کا ابداء اور اعادہ صرف خدا ہی کی شان سمجھتے تو لازم تھا کہ یہ بھی مانتے کہ جو اٹھائے گا وہی جزا اور سزا بھی دے گا لیکن تم ایک بات صحیح مان کر دوسری بات اس سے بالکل متناقض مان لیتے ہو۔ آخر تمہاری عقل کس طرح اوندھی ہوجاتی ہے ! !
Ayah 10:35قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّهْدِيْٓ اِلَى الْحَقِّ ۭ قُلِ اللّٰهُ يَهْدِيْ لِلْحَقِّ ۭ اَفَمَنْ يَّهْدِيْٓ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ يُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا يَهِدِّيْٓ اِلَّآ اَنْ يُّهْدٰى ۚ فَمَا لَكُمْ ۣ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ۔
شرکاء کا وجود رہنمائی کے پہلو سے : یعنی آخرت کے معاملے میں تو تمہارے ان مزعومہ شرکاء کو وجود یوں بےکار ثابت ہوا کہ نہ ان کا کوئی دخل خلق کے ابداء میں ہے نہ اعادے میں۔ اب سوچو کہ اس دنیا میں تمہیں ان سے کیا فیض پہنچتا ہے ؟ مخلوق کی ایک بہت بڑی ضرورت خالق سے یہ وابستہ ہوتی ہے کہ وہ زندگی کے معاملات میں رہنمائی فرماتا ہے کہ کیا حق ہے اور کیا باطل کیا تم کہہ سکتے ہو کہ تمہارے ان معبودوں سے تمہیں اس طرح کی کوئی رہنمائی حاص ہوتی ہے ؟ کیا عقل جو تمہارے اندر رہنمائی کا چراغ ہے، یہ ان کی بخشی ہوئی تمہیں ملی ہی ہے ؟ کیا یہ تمہاری ہدایت کے لیے کوئی وحی بھیجتے ہیں۔ کیا انہوں نے تمہاری تربیت و تزکیہ کے لیے کوئی کتاب اتاری، کوئی رسول بھیجا، کوئی شریعت نازل کی، کوئی قانون اتارا ؟ اگر ان کاموں میں کوئی کام بھی انہوں نے نہیں کیا، نہ کرتے ہیں، نہ کریں گے تو آخر کس غرض کے لیے ان کے پیچھے لگے ہو ؟ پیروی کا سزاوار وہ ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور اس کی توفیق بخشتا ہے یا وہ جو خود رہنمائی اور دستگیری کے محتاج ہیں ؟ تمہاری عقل کو کیا ہوگیا ہے، تم کیسے الٹے فیصلے کرتے ہو۔
ہدایت کا صلہ آیت میں انی کے ساتھ بھی آیا ہے اور " ل " کے ساتھ بھی۔ ہمارے نزدیک دونوں میں تھوڑا سا فرق ہے۔ جب الی آتا ہے تو اس سے مقصود صرف کسی چیز کی طرف رہنمائی کردینا ہوتا ہے لیکن جب " ل " آتا ہے تو اس کے اندر رہنمائی کے ساتھ توفیق ہدایت کا مفہوم بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ یَہِدِّی درصل یہتدی ہے جو بقاعدہ ادغام یھدی ہوگیا ہے۔
Ayah 10:36وَمَا يَتَّبِعُ اَكْثَرُھُمْ اِلَّا ظَنًّا ۭ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔـا ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ۔
محض گمان کی پیوری : لفظ " ظن " علم، یقین اور حق تینوں کے ضد کی حیثیت سے استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ علم ثابت و صحیح اور حق و اضح و معروف کے بجائے محض اپنے گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور ظاہر ہے محض اٹکل کے تیر تکے حقیقت سے بےنیاز نہیں کرسکتے۔ حقیقت جب سامنے آئے گی تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے اپنی عمارت بالکل ریت پر بنائی۔ ان اللہ علیم بما یفعلون، میں ان کے لیے دھمکی اور آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ حقیقت سے آنکھیں میچ کر یہ جو کر رہے ہیں کریں۔ وقت آرہا ہے جب اللہ تعالیٰ سب کچھ ان کے سامنے رکھ دے گا۔ یہ ملحوظ رہے کہ قرآن نے یہ حال ان کی اکثریت کا بیان کیا ہے، سب کا حال یہی نہیں تھا بلکہ ان میں کچھ سوچنے سمجھنے والے بھی تھے جن کا ذکر آگے آیات 42۔ 43 میں آرہا ہے۔
Ayahs 10:37–39آگے کا مضمون۔ آیات 37 تا 70: یاد ہوگا، بات کفار کے اس مطالبہ سے چلی تھی کہ یا تو اس قرآن کی جگہ کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں ایسی ترمیم کردو کہ ہمارے لیے وہ قابل قبول ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ مطالبہ تسلیم کرنے کے بجائے قرآن کی ان باتوں کو مزید واضح اور مدلل کردیا جن سے وہ چڑتے تھے۔ اب آگے اسی مضمون کو ایک نئے پہلو سے لیا اور قرآن کا کتاب الٰہی ہونا بھی ثابت کیا، آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی بھی دی اور قرآن کے دعاوی کو مزید مبرہن کردیا۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَمَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ يُّفْتَرٰي مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيْلَ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔ اَمْ يَــقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَادْعُوْا مَنِ اسْتَــطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔ بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ يُحِيْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَلَمَّا يَاْتِهِمْ تَاْوِيْلُهٗ ۭ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ۔
وَمَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ۔۔۔ الایۃ۔ قرآن سابق پیشین گوئیوں کی تصدیق ہے : آیت 15 میں قرآن کی صداقت کی دلیل حامل قرآن کے کردار کے پہلو سے پیش کی گئی تھی، اس کے بعد کلام کا رخ قرآن کے ان دعاوی کے اثبات کی طرف مڑ گیا تھا جو خاص طور پر مخالفین کی وحشت کا باعث تھے اور جن کی ترمیم یا تنسیخ کا وہ مطالبہ کر رہے تھے۔ اب پھر وہی بات ایک نئے پہلو سے سامنے آگئی۔ فرمایا کہ قرآن کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو خدا سے پرے ہی پرے گھڑ کر خدا کی طرف منسوب کردی گئی ہو بلکہ یہ ان پیشین گوئیوں کی تصدیق ہے جو اس کے باب میں پہلے سے آسمانی صحیفوں میں موجود ہیں۔ ان پیشین گوئیوں کا حوالہ ہم بقرہ اور آل عمران کی تفسیر میں نقل کرچکے ہیں۔ وَتَفْصِيْلَ الْكِتٰبِ میں کتاب سے مراد ہمارے نزدیک تورات ہے۔ قٓن نے تورات کی ان پیشین گوئیوں کی بھی جو مجمل و مبہم صورت میں اپنے محمل و مصداق کی منتظر تھیں اور اس دین کی بھی توضیح و تکمیل کی جس کی توضیح و تکمیل کا کام آخری بعثت پر اٹھا رکھا گیا تھا۔ یہ بات بھی ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ الکتاب کا لفظ تمام صحائف تورات کے لیے قرآن میں استعمال ہوا ہے یہاں تک کہ انجیل بھی اس میں شامل ہے۔ بعض مرتبہ اجزا کے اعتبار سے لفظ " کتب " استعمال ہوتا ہے بعض مرتبہ مجموعہ کو پیش نظر رکھ کر الکتاب۔ نزول قرآن اسے پہلے الکتب کی حیثیت تورات ہی کو حاصل رہی ہے بقیہ تمام صحائف کی حیثیت اس کے اجزا اور ابواب و فصول کی تھی۔ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ کا مفہوم، جیسا کہ ہم بقرہ کی دوسری ہی آیت کی تفسیر میں واضح کرچکے ہیں یہ ہے کہ اس کے خداوند عالم کی طرف سے ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔
اَمْ يَــقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ۔۔۔ الایۃ۔ قرآن کی عام تحدی : یعنی اگر منکرین یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے یہ کتاب خود تصنیف کر کے جھوٹ موٹ اس کو خدا کی طرف نسبت دے دی ہے تو ان سے کہو کہ پھر تو تمہارے لیے اس کا تور بہت آسان ہے، تم اس کی مانند ایک ہی سورة بنا کر پیش کردو اور اس کام میں ان سب کا تعاون بھی حاصل کرلو جن کا تعاون تم اپنے شاعروں، ادیبوں، ساحروں، کاہنوں، جنہوں، شیطانوں اور اپنے ان معبودوں میں سے حاصل کرسکتے ہو جن کو تم خدا کا شریک سمجھتے ہو۔ اگر تم اپنے اس گمان میں سچے ہو تو ان سب کو اس کام کے لیے بلاؤ۔ آخر اس سے زیادہ نازک موقع ان کی مدد حاصل کرنے اور ان کی مدد کے لیے اٹھنے کا اب کب آئے گا جب کہ تمہارے دین آبائی کے ساتھ ساتھ ان کی خدائی بھی معرض خطہ میں ہے۔
بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ يُحِيْطُوْا بِعِلْمِهٖ۔۔۔ الایۃ۔ یہ اصل وجہ تکذیب کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کی مخالفت میں یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ سب تو اوپر کی باتیں ہیں۔ اصل وجہ تکذیب یہ ہے کہ قرآن ان کو رسول کی تکذیب کی صورت میں جس عذاب کی اس دنیا میں اور پھر اس کے بعد آخرت میں خبر دے رہا ہے وہ ان کے علم کی گرفت میں نہیں آرہی ہے اس لیے کہ اس کی حقیقت ان کے سامنے ابھی ظاہر نہیں ہوئی۔ یہ اس کو ماننے سے پہلے سر کی آنکھوں سے اس کی حقیقت دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس عذاب کا کوئی نمونہ یا اصل عذاب ہی آجائے تب وہ مان جائیں گے کہ قرآن سچی خبر دے رہا ہے اور یہ خدائی کتاب ہے۔ فرمایا کہ یہ بعینہ وہی روش ہے جو ان سے پہلے رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں نے اختیار کی تو جو انجام ان کا ہوا وہی انجام ان کا بھی ہونے والا ہے۔ لفظ تاویل پر آل عمران کی تفسیر میں ہم بحث کرچکے ہیں۔ یہاں یہ کسی خبر کے واقعاتی مصداق کے مفہوم میں ہے۔
Ayahs 10:40–4440۔۔ 44: وَمِنْھُمْ مَّنْ يُّؤْمِنُ بِهٖ وَمِنْھُمْ مَّنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهٖ ۭ وَرَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِيْنَ۔ وَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّيْ عَمَلِيْ وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۚ اَنْتُمْ بَرِيْۗـــــُٔوْنَ مِمَّآ اَعْمَلُ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ۔ وَمِنْھُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ ۭاَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُوْا لَا يَعْقِلُوْنَ۔ وَمِنْھُمْ مَّنْ يَّنْظُرُ اِلَيْكَ ۭ اَفَاَنْتَ تَهْدِي الْعُمْيَ وَلَوْ كَانُوْا لَا يُبْصِرُوْنَ۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْـــًٔـا وَّلٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ۔
وَمِنْھُمْ مَّنْ يُّؤْمِنُ بِهٖ۔۔۔ الایۃ، مکذبین کو مہلت دینے کی وجہ : یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے اور مکذبین قرآن کے لیے دھمکی بھی۔ مطلب یہ ہے کہ جب ان کے اندر سے ایسے لوگ نکل رہے ہیں جو قرآن پر ایمان لا رہے ہیں تو معلوم ہوا کہ ان کے اندر کچھ ذی صلاحیت بھی ہیں۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو اس حد تک بلو لیا جائے کہ ان کے اندر جتنا مکھن ہے وہ نکل آئے، صرف چھاچھ بچ رہے۔ اسی حکمت کے تحت ان کے مطالبہ عذاب کے باوجود ان کو مہلت دی جا رہی ہے کہ جو مفسدین ہیں وہ چھٹ کر بالکل سامنے آجائیں۔ تیرا رب ان سے خوب واقف ہے، ان کو وہ ان کی شرارتوں کا مزہ چکھائے گا۔
وَاِنْ كَذَّبُوْكَ۔۔۔ الایہ : مکذبین سے اعلان براءت : یہ ان مکذبین سے آنحضرت ﷺ کو اعلان براءت کی ہدایت ہے کہ جو کسی طرح کوئی بات سننے سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے تھے۔ فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ میں اپنے عمل کا ذمہ دار ہوں، تم اپنے عمل کے ذمہ دار ہو، تم میرے عمل کی ذمہ داری سے بری ہو اور میں تمہاری اعمال کی ذمہ داریوں سے بری ہوں، رسول کی طرف سے یہ اعلان براءت، ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ اس کے جھٹلانے والوں کے لیے عذاب کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ رسول جب تک اپنی قوم کے اندر رہتا ہے وہ اس کے لیے امان اور سپر ہوتا ہے، جب وہ ان سے اعلان براءت کردیتا ہے تو یہ امان جو اس کی بدولت قوم کو حاصل ہوتی ہے اٹھ جاتی ہے اور جب امان اٹھ گئی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے بعد عذاب ہر وقت متوقع ہے۔ اسی وجہ سے رسول کی زبان سے براءت کا کلمہ کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ اس کی قوم کی زندگی میں یہی وقت سب سے زیادہ نازک وقت ہوتا ہے۔
وَمِنْھُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُوْنَ۔۔۔ الایۃ۔ آنحضرت ﷺ کے لیے تسکین و تسلی : یہ بھی آیت 40 کی طرح آنحضرت ﷺ کے لیے تسکین و تسلی ہے کہ تمہارے اطمینان کے لیے یہ چیز کا فی ہونی چاہیے کہ ان کے اندر جو سننے سمجھنے اور فہم و بصیرت رکھنے والے لوگ ہیں وہ تمہاری بات پر کان دھرتے اور تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اپنی شامت اعمال سے گونگے بہرے اور اندھے بن چکے ہیں وہ تو سننے سمجھنے سے رہے۔ اگر تمہارے دل کے اندر یہ ارمان ہے کہ یہ بھی تمہاری باتیں سنیں اور مانیں تو یہ ہونے سے رہا۔ ایمان وہدایت کے باب میں اللہ کی جو سنت ہے وہ تبدیل نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ ہدایت انہی کو بخشتا ہے جو اس کی عطا کی ہوئی صلاحیتوں کو زندہ رکھتے اور ان سے کام لیتے ہیں۔
وَمِنْھُمْ مَّنْ يَّنْظُرُ اِلَيْكَ۔۔ الایۃ۔ یہ بعینہ اوپر والی آیت کا مضمون ذرا مختلف اسلوب میں بیان ہوا ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ۔۔۔ الایۃ۔ ایک استدارک : اوپر والی بات پر ایک قسم کا استدراک ہے۔ بادی النظر میں یہ بات کھٹکتی ہے کہ آخر بہت سے لوگوں کا حال یہ کیوں ہوجاتا ہے کہ وہ ایسے اندھے بہرے ہوجاتے ہیں کہ بالآخر وہ خدا کے ابدی عذاب کے مستحق ٹھہرتے ہیں فرمایا کہ یہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ اللہ نے ان پر کوئی ظلم کیا ہے، اللہ ذرا بھی اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ اللہ نے انسان کو بہترین صلاحیتوں سے مسلح کیا ہے۔ اگر وہ ان سے کام لے تو نبیوں اور رسولوں کی بات اس کو اپنے دل کی آواز معلوم ہوگی لیکن لوگ اپنی خواہشات کی پیروی میں اندھے بہرے بن جاتے ہیں جس کے سبب سے ان کو ہر صدائے حق اجنبی معلوم ہونے لگتی ہے اور وہ اس کو قبول کرنے کی بجائے اس سے بدکنے لگتے ہیں۔
Ayahs 10:45–4645۔ 46۔ وَيَوْمَ يَحْشُرُھُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْ ۭ قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاۗءِ اللّٰهِ وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ۔ وَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُھُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِلَيْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِيْدٌ عَلٰي مَا يَفْعَلُوْنَ۔
مکذبین کی جلد بازی کا جواب : یہ آخرت اور عذاب کے جھٹلانے والوں کی جلد بازی کا جواب ہے۔ فرمایا کہ آج تو ان کو آخرت بہت بعید معلوم ہوتی ہے لیکن جس دن وہ اکٹھا کیے جائیں گے اس دن ان کا احساس اس دنیا کی زندگی کے متعلق یہ ہوگا کہ گویا وہ اس میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْ ، وہ ایک دوسرے کو اس طرح پہچانتے ہوں گے گویا ان کی ملاقات صبح و شام کا قصہ ہے۔ ہر بات ذہن میں اس طرح تازہ ہوگی گویا اس پر کوئی زمانہ گزرا ہی نہیں۔ مطلب یہ کہ اصل شے تو وہ احساس ہے جو اس دنیا کی زندگی سے متعلق روز آخرت میں طاری ہوگا تو انسان کی محرومی و نامرادی ہی ہے کہ وہ اس دنیا کی زندگی کو بہت طویل سمجھ کر آخرت سے بےپروا ہو بیٹھے اور جب اس سے اس سے ڈرایا جائے تو یہ مطالبہ شروع کردے کہ اگر وہ آنی ہے تو آ کیوں نہیں جاتی۔
وَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُھُمْ۔۔ الایۃ۔ خطاب پیغمبر ﷺ سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس عذاب سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے اور یہ اس کے مؤخر ہونے کے سبب سے اس کو خالی خولی دھمکی سمجھ رہے ہیں اور تمہیں زچ کرنے کے لیے اس کی جلدی مچائے ہوئے ہیں، اگر حکمت الٰہی مقتضی ہوئی تو تمہاری زندگی ہی میں ان کو اس کا کچھ حصہ دکھا دیا جائے گا، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہیں وفات دے گا اور ان کی واپسی ہماری طرف ہوگی پھر اللہ ان کا سارا کچا چٹھا ان کے سامنے رکھ دے گا۔
قریش پر فیصلہ کن عذاب نہ آنے کی وجہ : یہاں اللہ تعالیٰ کی وہ سنت پیش نظر رہے جس کا حوالہ ہم دوسرے مقام میں دے چکے ہیں کہ اگر کسی رسول کی قوم نے بحیثیت مجموعی اس کی تکذیب کر کے اس کے قتل کا ارادہ کرلیا ہے تب تو اللہ تعالیٰ نے رسول اور اس کے ساتھیوں کو الگ کر کے قوم کو اپنے کسی عذاب کے ذیعہ سے تباہ کردیا ہے اور اگر قوم کے اندر معتد بہ تعداد ایمان والوں کی بھی نکلی ہے تو اس قوم پر اس دنیا میں کوئی فیصلہ کن عذاب بھیجنے کے بجائے اللہ تعالیٰ نے اس کے مکذبین کا معاملہ آخرت کے عذاب پر اٹھا رکھا۔ آنحضرت ﷺ کی قوم کا بڑا حصہ چونکہ ایمان لایا اس وجہ سے اس پر اس طرح کا کوئی فیصلہ کن عذاب نہیں آیا جیسا کہ عاد وثمود وغیرہ قوموں پر آیا بلکہ آپ کے مکذبین اہل ایمان کے ساتھ تصادم میں ختم ہوگئے اور آخرت میں ان کو اپنی جواب دہی خدا کی عدالت میں کرنی ہے۔ آیت میں اسی سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 10:47وَلِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ رَسُوْلُھُمْ قُضِيَ بَيْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۔ رسول کی تکذیب کے باب میں سنت الٰہی : یہ قریش کو انذار ہے اس سنت الٰہی کی روشنی میں جس کی وضاحت ایک سے زیادہ مقامات میں ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت تمام کرنے کے لیے ہر قوم میں اپنے رسول بھیجے، یہ رسول خدا کی عدالت بن کر آئے اور ان کے ذریعے سے اس قوم کے درمیان حق و باطل کا فیصلہ کردیا گیا، جو لوگ رسول پر ایمان لائے ان کو نجات و فلاح حاصل ہوئی اور جو لوگ اس کی تکذیب پر اڑے رہ گئے ان کی جڑ کاٹ دی گئی۔ مطلب یہ ہے کہ اب یہی مرحلہ قریش کے لیے بھی درپیش ہے۔ ان کے لیے بھی خدا کی میزانِ عدل نصب ہوچکی ہے اور اتمام حجت کے لیے خدا کا رسول آچکا ہے۔ اگر انہوں نے تکذیب کردی تو وہ بھی لازماً اسی انجام سے دوچار ہوں گے جس سے رسولوں کی تکذیب کرنے والی ان کی پیشرو قومیں دوچار ہوچکی ہیں۔ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس معاملے میں خدا کی طرف سے کوئی بات عدل و انصاف کے خلاف نہیں ہوتی۔ خدا کا رسول ہر پہلو سے لوگوں پر اتمام حجت کردیتا ہے اور لوگوں کو سوچنے سمجھنے، جانچنے اور دیکھنے کے لیے جتنا موقع ملنا چاہیے اتنا موقع بھی دیا جاتا ہے۔ یہ سارے جتن کرنے کے بعد بھی جو لوگ اپنی ضد پر اڑے ہی رہ جاتے ہیں بالآخر ان کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ یہاں وہ فرق ملحوظ رہے جو نبی اور رسول کے درمیان ہم متعدد مقامات میں واضح کرچکے ہیں۔ یہ سنت الٰہی رسولوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ انبیاء کے لیے اس کا ظہور ضروری نہیں ہے۔
Ayahs 10:48–4948۔ 49: وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔ قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ۭاِذَا جَاۗءَ اَجَلُھُمْ فَلَا يَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ۔ جلد بازوں کو جواب : یعنی جب ان کو اس حقیقت نفس الامری سے آگاہ کیا جاتا ہے تو بجائے اس کے کہ متنبہ ہوں اور خطرے سے بچنے کی راہ اختیار کریں اس کا مذاق اڑاتے ہیں، پیغمبر اور اس کے ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو تو آخر تمہاری یہ دھمکی واقعہ کی صورت میں کیوں نہیں ظاہر ہوتی ؟ تم کب سے یہی رٹ لگائے ہوئے ہو، آخر یہ چیز کب واقع ہوگی ؟ فرمایا کہ ان کو جواب دے دو کہ یہ خدا کی بات تھی جو میں تمہیں سنا دی۔ رہا یہ امر کہ یہ بات کب واقع ہوگی تو نہ میں غیب جانتا اور نہ خود اپنے معاملے میں کسی نقصان یا نفع پر اختیار رکھتا ہوں۔ یہ چیز تمام تر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ جب اس کی حکمت کا تقاضا ہوگا یہ ظاہر ہوگی اور جب ظاہر ہوگی تو کوئی اس کو دفع نہ کرسکے گا۔
لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ۔۔۔ الایۃ۔ ہر امت کے لیے وقت مقرر ہے : یہ اسی سوال کا اصولی جواب ہے کہ ہر امت کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب وہ وقت آجائے گا تو نہ ایک گھڑی پیچھے ہوں گے نہ آگے۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ قوموں کی ہلاکت کی " اجل " اخلاقی پیمانہ سے ناپ کر اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر قوم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کا طغیان اس حد کو پہنچ جاتا ہے جو ہلاکت کے لیے مقرر ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کا بیڑا غرق کردیتا ہے اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہوتی کہ کب سوئی اپنے آخری نشان پر پہنچی۔
Ayahs 10:50–5250۔ 52:۔ قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَيَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ۔ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ ۭ اٰۗلْــٰٔنَ وَقَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ۔ ثُمَّ قِيْلَ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۔
جلد بازوں سے ایک سوال : ان کے سوال " متی ھذا الوعد " کا جواب تو اوپر کی آیات میں پیغمبر ﷺ کی زبان سے دلوا دیا لیکن ساتھ ہی ان کے سوال کے مقابل میں ایک سوال ان سے بھی کردیا کہ ان سے پوچھو کہ اس طنطنہ سے جو خدا کے عذاب سے متعلق سوال کر رہے ہو تو آخر کس بل بوتے پر کر رہے ہو ؟ اس کا عذاب چاہے رات کی تاریکی میں چپ چپاتے آجائے یا پورے دن کی روشنی میں ڈنکے کی چوٹ آدھمکے۔ آخر ان ممرین نے اس کے مقابلے کے لیے کیا سامان دفاع تیار کر رکھا ہے ؟ یہاں مجرموں، کے لفظ میں ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ جو لوگ جرم سے بری ہیں اگر وہ اس طرح کا سوال کرتے تو اس کے لیے تو ایک جواز ہوسکتا تھا لیکن جو مجرم ہیں اور جن کے جرم ہی کی پاداش میں یہ برق خاطف گرنے والی ہے ان کی یہ ڈھٹائی ان کی بدبختی اور شامت کے سوا اور کس چیز کی دلیل ہے ! اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ ، یعنی کیا اس لیے جلدی مچائے ہوئے ہو کہ جب وہ آجائے گا تب اس پر ایمان لاؤ گے کہ پیغمبر نے سچی خبر دی تھی اور وہ سچے تھے ؟ لیکن اس وقت کا ایمان کیا نفع دے گا ؟ اس وقت ایمان لائے تو تم سے کہا جائے گا۔ الان وقد کنتم بہ تستعجلون، کہ اب مانے حالانکہ یہی چیز ہے جس کے لیے تم اپنی رعونت کے سبب سے جلدی مچائے ہوئے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ محض بھبکی ہے۔ ثُمَّ قِيْلَ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا، یعنی مذکورہ عذاب عاجل کے بعد جب عذاب آخرت کا مرحلہ آئے گا تو ان ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب دائمی عذاب چکھو، یہ تمہاری اپنی ہی کرتوتوں کا ثمرہ ہے۔ یہاں ان لوگوں کو " ظالم " اس وجہ سے کہا گیا کہ انہوں نے اپنے لیے یہ بِس بھری فصل خود کاشت کی۔ خدا ان کے اوپر، جیسا کہ اوپر آیت 47 میں ہے، کوئی ظلم نہیں کرے گا۔
ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۔
Ayahs 10:53–5453۔ 54:۔ وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ڼ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ې وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ۔ وَلَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِي الْاَرْضِ لَافْـــتَدَتْ بِهٖ ۭ وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ ۚ وَقُضِيَ بَيْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۔
وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ۔ عذاب کا مذاق اڑانے والوں کو جواب : اوپر آیات 48 میں کفار کا سوال " متی ھذا لوعد " نقل ہوا ہے۔ یہ سوال بھی اسی نوعیت کا ہے۔ بس یہ فرق ہے کہ اس میں انکار و استہزا کا پہلو ذرا مخفی ہے۔ اس میں وہ کھل کر سامنے آگیا ہے۔ سوال کرنے والوں کے مزاج مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔ بعض ذرا رکھ رکھاؤ کے انداز میں اپنے دل کی بات کہتے ہیں۔ بعض منہ پھٹ ہوتے ہیں جو اپنی بات پھینک مارتے ہیں۔ اسی قسم کے لا ابالیوں کی زبان سے یہ سوال نقل ہوا ہے کہ یہ پیغمبر سے پوچھتے ہیں کہ یہ جو عذاب اور جز و سزا کی باتیں سنا رہے ہو یہ حقیقت ہے یا یوں ہی محض دھونس جمانے کے لیے ڈینگیں مار رہے ہو ؟ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ې وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ۔ " ای " حرف جواب ہے۔ نعم کے معنی میں اور یہ صرف قسم سے پہلے آتا ہے۔ سوال کرنے والوں کی ذہنیت کو پیش نظر رکھ کر صرف سادہ جواب ہی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ قس کے ساتھ جواب دیا کہ یہ چیز شدنی ہے اور ساتھ ہی وما انتم بمعجزین کے الفاظ سے ان کی رعونت پر بھی ضرب کاری لگا دی کہ جب یہ چیز ظاہر ہوگی تو تم میرے رب کی گرفت سے بچ کے نکل نہ سکو گے۔
وَلَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ۔۔۔ الایۃ۔ یعنی آج تو بڑی رعونت سے تم اس کا مذاق اڑا رہے ہو۔ لیکن جب یہ چیز سامنے آئے گی تو ہر جان، جس نے اس دن سے غفلت برت کر اپنے اوپر ظلم ڈھایا ہوگا۔ اس کا حال یہ ہوگا کہ اگر زمین کی ساری دولت بھی اس کو ہاتھ آجائے اور اس کو فدیہ میں دے کر اس دن کی ہولناکیوں سے نجات پانا ممکن ہو تو وہ اس کو فدیہ میں دے کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرے گی۔ وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ ، میں وہی حقیقت ظاہر کی گئی ہے جو سورة انعام آیت 31 میں بیان ہوئی ہے، حتی اذا جاءتہم الساعۃ بغتۃ قالوا یاحسرتنا علی افرطنا فیہا (یہاں تک کہ جب وہ گھڑی ان پر آدھمکے گی وہ کہیں گے ہائے افسوس اس کوتاہی پر جو اس معاملے میں ہم نے کی)۔ چونکہ ندامت اور افسوس کا منبع انسان کا باطن ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے لیے لفظ " اسر " استعمال ہوا ہے جس طرح ابطن العداوۃ کا محاورہ عربی میں معروف ہے۔ مقصود یہی بتانا ہے کہ آج تو یہ مذاق اڑا رہے ہیں لیکن کل وہ اپنی اس نالائق پر نادم اور پشیمان ہوں گے۔ وقضی بینہم بالقسط وھم لا یظلمون۔ یعنی ان کے درمیان پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا، جو کچھ انہوں نے کا یا ہوگا وہی ان کے سامنے آئے گا۔ ان کے اوپر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ اس میں ایک اشارہ اس بات کی طرف بھی ہوگیا کہ انہوں نے اپنے مزعوم شرکاء اور شفعاء سے جو امیدیں باندھ رکھی ہیں وہ سب بےحقیقت ثابت ہوں گی۔ کوئی چیز خدا کے انصاف پر اثر انداز نہ ہوسکے گی۔
Ayahs 10:55–5655۔ 56۔ اَلَآ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ اَلَآ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَھُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ ھُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۔ یہ توحید کے مضمون سے اوپر کے مضمون کو مزید مؤکد کیا ہے اور " الا " کے لفظ سے پوری طرح متنبہ بھی فرما دیا ہے کہ کان کھول کر اچھی طرح سن لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ سب خدا ہی کا ہے، کسی کی بھی اس میں شرکت اور حصہ داری نہیں ہے۔ اس کا ہر وعدہ اور اس کی ہر وعید ایک امر واقعی اور شدنی ہے۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ اگر کسی نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اس کا معاملہ اس کے مزعومہ شرکاء اور شفعاء سے متعلق ہوگا تو وہ اس خیال خام کی اصلاح کرلے۔ جن کو زندہ کرنے میں کوئی دخل نہیں، جن کو موت کے معاملے میں کوئی اختیار نہیں آخر وہ آخرت میں مولیٰ و مرجع کس طرح بن جائیں گے۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔ مجرد خبر کا جملہ نہیں ہے بلکہ اس کے اندر افسوس اور حسرت کا مضمون مضمر ہے یعنی اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ کا ہر وعدہ اور اس کی ہر وعید شدنی ہے اور اس وقت خدا کے آگے کسی کی بھی کچھ پیش نہیں جائے گی لیکن افسوس ہے کہ اکثر لوگ اس عظیم حقیقت سے اپنے کان بند کیے ہوئے ہیں۔
Ayahs 10:57–5857۔ 58:۔ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۔ قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا ۭ ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ۔
يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ۔۔ الایۃ۔ قرآن کی چار صفتیں : اوپر ایک نظر ڈال کر دیکھ لیجیے۔ یہ سلسلہ کلام آیت 37 میں کفار کے اس خیال کی تردید سے چلا تھا کہ یہ قرآن کوئی من گھڑت چیز ہے۔ اس کے بعد کلام کا رخ ان باتوں کو ثابت کرنے کی طرف مڑ گیا تھا جو مخالفین کے ذہنوں میں الجھن پیدا کیے ہوئ تھیں۔ اور جن کو نہ ماننے کی خواہش کے تحت وہ قرآن اور پیغمبر کی تکذیب کر رہے تھے۔ اب پھر بطور التفاق قرآن کی قدر و قیمت واضح کردی گئی کہ کتنی بڑی نعمت ہے جو لوگوں کو محض اللہ کے فضل سے حاصل ہوئی ہے۔ لیکن بد قسمت لوگ اس کی قدر نہیں کر رہے ہی۔ یہاں قرآن کی چار صفتیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ تمہارے رب کی جانب سے موعظت ہے۔ یعنی جن خطرات و مہالک سے لوگوں کو بچنا چاہیے ان سے آگاہی اور جو لوگ آنکھ بند کیے ان کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہیں ان کو زجر و تنبیہ۔ دوسری یہ کہ شفاء لما فی الصدور ہے۔ یعنی دلوں کو جو روگ لگتے ہیں اور جن کے سبب سے انسان تمام انسانی اوصاف کھو کر مختوم القلب اور حیوانات سے بدترین بن جاتا ہے، ان سب کا اس میں علاج ہے۔ یہ بات یہاں یاد رکھنی چاہیے کہ قرآن میں دل ہی کو تمام حکمت و بصیرت اور تمام عزائم و اعمال کا مرکز اور حقیقی زندگی کا منبع قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کے نزدیک زندہ صرف وہی لوگ ہیں جن کے دل زندہ ہیں، جن کے دل زندہ نہیں ہیں وہ مردہ ہیں۔ تیسری اور چوتھی یہ کہ یہ ہدایت و رحمت ہے۔ ہم دوسرے مقام میں یہ واضح کرچکے ہیں کہ یہ دونوں صفتیں آغاز و انجام دونوں پہلووں پر حاوی ہیں۔ اس دنیا میں قرآن ہدات ہے اور جو لوگ اس ہدایت کو قبول کرلیں گے ان کے لیے آخرت میں ابدی رحمت کی ضمانت ہے۔
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ۔۔۔ الایۃ۔ میرے نزدیک آیت میں فعل محذوف ہے یعنی قل بفضل اللہ و برحمتہ جاء۔ یہ قرآن اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کو لے کر نازل ہوا ہے۔ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا، تو جن کو خوش ہونا ہے وہ اس فضل و رحمت کو اختیار کریں اور اس پر خوش ہوں۔ ۭ ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ۔ یہ ان خزف ریزوں سے کہیں بڑھ کر ہے جن کو دنیا کے پرستار جمع کر رہے ہیں اور جن کے عشق میں ایسے اندھے وئے ہیں کہ ابدی قدر و قیمت کے یہ جواہرات ان کو نظر نہیں آ رہے ہیں۔