Ayahs 11:1–41۔ 4۔ الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ۔ الرا اس سورة کا قرآنی نام ہے۔ یہی نام پچھلی سورة کا بھی ہے اور یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ عمود و مضمون کے اعتبار سے دونوں سورتیں باہم ملتی جلتی ہیں چنانہ آگے آپ دیکھیں گے کہ ان دونوں میں فرق صرف اجمال و تفصیل کا ہے۔ پچھلی سورة میں جو پہلو مجمل رہ گئے تھے وہ اس میں وضاحت سے سامنے آگئے ہیں۔ یہ فرق یوں تو ہر پہلو میں نمایاں ہے لیکن خاص طور پر واقعات کے بیان میں یہ فرق بہت زیادہ نظر آئے گا۔ اجمال کے بعد تفصیل کا یہ طریقہ، جو قرآن نے اختیار کیا ہے، یہ صرف تنوع کی خاطر نہیں اختیار کیا ہے بلکہ تعلیم و تربیت اور تبلیغ وو دعوت کے نقطہ نظر سے یہی طریقہ مفید اور بابرکت ہے۔
" اِحکام " کا مفہوم : " اِحکام " کے معنی کسی چیز کو اچھی طرح گانٹھنے اور مضبوط کرنے کے ہیں۔ کپڑا خوب ٹھونک کر گف بنا جائے تو یہ لفظ اس کے لیے بھی آئے گا۔ قرآنی آیات کے لیے اس لفظ کے استعمال سے مقصود اس حقیقت کو ظاہر کرنا ہے کہ قرآن کی تعلیمات پہلے گٹھے ہوئے، مختصر اور جامع جملوں کی شکل میں نازل ہوئیں، پھر بالتدریج وہ واضح اور مفصل ہوتی گئیں۔ چناچہ مکہ کے ابتدائی دور میں جو سورتیں نازل ہوئیں وہ اختصار، جامعیت اور اعجاز بیان کا کامل نمونہ ہیں۔ دین کی بنیادی باتیں مختصر گٹھے ہوئے جملوں میں دریا بکوزہ کی مثال ہیں۔ بعد میں آہستہ آہستہ ان پر تفصیل کا رنگ آیا یہاں تک کہ مدنی دور میں آکر دین کی وہی بنیادی باتیں ایک جامع اور ہمہ گیر نظام زندگی کی شکل میں نمایاں ہوگئیں۔ اس چیز کا حوالہ دینے سے مقصود اس اہتمام خاص کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا ہے جو ان کی تعلیم و تربیت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں ملحوظ رکھا ہے۔ یہ بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ تورات کے معاملے ترتیب و تدریج اور احکام و تفصیل کا یہ اہتمام نہیں ہوا بلکہ اس کا بیشتر حصہ بیک دفعہ نازل ہوگیا۔ آخر میں " حکیم وخبیر " کی صفات کا حوالہ ہے اس لیے کہ خدائے حکیم ہی جان سکتا تھا کہ وہ حکمت کے خزانوں کو کس طرح مختصر لفظوں میں بند کرے اور پھر خدائے خبیر ہی کی یہ شان تھی کہ وہ کھول کر دکھائے کہ ایک کو زے میں کتنے دریا اور کتنے سمندر بند ہیں۔
قرآن کا بنیادی پیغام : اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ ۭ اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ۔ یہ اس کتاب کا بنیادی پیغام ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔ یہی پیغام تمام دین و شریعت کی اصل ہے۔ اللہ کے رسول ہمیشہ اسی پیغام کے ساتھ بشیر و نذیر بن کر آئے۔ انہوں نے اس پیغام کے قبول کرلینے والوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کی بشارت دی اور جو لوگ اس سے اعراض کریں ان کو ایک ہولناک عذاب سے ڈرایا۔ چناچہ انذار و بشارت کا یہی فریضہ اب نبی ﷺ کے سپرد ہوا تھا۔
بشارت : وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ ، یہ بشارت کا پہلو مذکور ہوا ہے کہ اپنے رب سے مغفرت مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو تو اللہ تعالیٰ ایک مدت معینہ تک اس دنیا میں تم کو اپنی نعمتوں سے بہرہ مند کرے گا اور ہر مستحق فضل کو خاص اپنے فضل سے نوازے گا۔
انذار : وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ۔ یہ انذار کا پہلو بیان ہوا ہے کہ اگر اس دعوت سے منہ موڑو گے تو ایک ہولناک دن کے عاب سے دوچار ہونے کے لیے تیار رہو۔ اس عذاب سے وہ عذاب مراد ہے جو رسول کی تکذیب کرنے والوں پر لازماً ٓتا ہے۔ رسول کے مان لینے والوں کو زندگی کی مہلت ملتی ہے اور کامیابی نصیب ہوتی ہے جو اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک لوگ صحیح راستہ پر استوار رہتے ہیں لیکن رسول کے مکذبین اتمام حجت کی مہلت گزر جانے پر کسی ہولناک عذاب کے ذریعے سے یک قلم ختم کردیے جاتے ہیں۔
توبہ کے دو رکن : اس آیت سے توبہ کے متعلق بھی یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس کے دو اہم رکن ہیں۔ ایک استغفار دوسرا توبہ۔ استغفار تو یہ ہے کہ آدمی اپنے جرم کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور اس سے آئندہ باز رہنے کا عہد کرے اور توبہ یہ ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کرے اور اس صحیح راہ کو اختیار کرے جس کی طرف اللہ نے رہنمائی فرمائی ہے۔ اگر آدمی جرم سے باز نہ آئے اور صحیح روش اختیار نہ کرے تو زبان سے لاکھ توبہ توبہ کرے اس کی توبہ محض مذاق ہے۔
اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ ۚ وَھُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ اوپر مکذبین رسول کے لیے جس عذاب کا ذکر ہے اس کا تعلق اس دنیا سے ہے۔ اب یہ آخرت کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے کہ اس کے بعد تمہاری واپسی خدا کی طرف ہونی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ " وہ ہر چیز پر قادر ہے " کے ابہام کے اندر جو تخویف ہے وہ کسی تصریح کے اندر نہیں سما سکتی۔
Ayah 11:5اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ ۭ اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
متکبرین کے تکبر کی تصویر : " ثنی " کے معنی پھیرنے، موڑنے اور لپیٹنے کے ہیں۔ قاعدہ ہے کہ آدمی جب کسی بات کو غرور اور نفرت کے سبب سے سننا نہیں چاہتا تو مونڈھے جھٹک کر اور سینہ موڑ کر وہاں سے چل دیتا ہے۔ اسی حالت کو سورة حج آیت 9 میں " ثانی عطفہ " سے تعبیر فرمایا ہے اور یہاں يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ سے۔ اسی چیز کی ایک شکل یہ بھی ہوتی ہے کہ آدمی اپنی چادر سنبھالتا اور اپنے اوپر لپیٹتا اور چل دیتا ہے اس کو " استغشائے ثیاب " سے تعبیر فرمایا ہے مثلا سورة نوح آیات 7 میں ہے۔ وانی کلما دعوتہ لتغفر لہم جعلوا اصابعہم فی اٰذانہم واستغشوا ثیابہم واصروا استکبروا استکبارا (اور میں نے جب جب ان کو دعوت دی کہ تو ان کی مغفرت فرمائے انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنی چادریں لپیٹ لیں اور ضد کی اور نہایت گھمنڈ کیا)۔
اب اس آیت میں تصویر ہے اس رویے کی جو پیغمبر کے انذار کے جواب میں متکبرین قریش اختیار کرتے تھے کہ غرور سے سینہ موڑ کے وہاں سے چل دیتے اور اس طرح اپنے زعم میں گویا خدا اور اس کے انذار سے اپنے آپ کو محفوظ کرلیتے۔ انسان کی حماقتوں میں سے ایک حماقت یہ بھی ہے کہ وہ ایک حقیقت کا مواجہہ کرنے سے گریز کرتا ہے اور سمجھ بیٹھتا ہے کہ اب وہ حقیقت حقیقت نہیں رہی۔ حالانکہ کسی کے گریز کرنے سے حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ شتر مرغ طوفان کا احساس کر اپنا سر ریت میں چھپا لیا کرتا ہے تو اس سے طوفان کا رخ تبدیل نہیں ہوجاتا۔ اسی طرح اگر خدا انذار فرما رہا ہے تو اس سے چھپنے کی یہ تدبیر بالکل ہی احمقانہ ہے کہ اس کو سننے سے گریز کیا جائے۔ آخر خدا سے آدمی کہاں چھپ سکتا ہے، وہ تو اس وقت بھی لوگوں کو دیکھتا ہے جب لوگ اپنے اوپر اپنی چادریں لپیٹتے ہیں۔ وہ تو ظاہر سے بھی واقف ہوتا ہے اور پوشیدہ سے بھی اور سینوں کے تمام اسرار سے بھی۔
Ayah 11:6وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ۔ مستقر، اور مستودع پر انعام آیت 98 کے تحت بحث گزر چکی ہے۔ مستقر، سے مراد وہ ٹھکانا ہے جہاں انسان زندگی کے دن گزارتا ہے۔ اور مستودع سے مراد وہ جگہ ہے جہاں وہ مرنے کے بعد زمین کے سپرد کیا جاتا ہے۔ اس آیت میں اسی مضمون کی مزید وضاحت ہے جو اوپر والی آیت میں گزرا کہ خدا کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کوئی اس سے بھاگ یا چھپ نہیں سکتا۔ فرمایا کہ وہ خدا ہی ہے جس کے ہاتھوں ہر جاندار کو روزی مل رہی ہے۔ مطلب یہ کہ جو ہر جاندار کو، وہ جہاں بھی ہو، پہاڑوں کی چوٹیوں پر یا سمندروں کی تہوں میں، گھنے جنگلوں میں یا آباد شہروں میں، اس کا مقدر رزق پہنچا رہا ہے کیا اس سے کوئی چیز مخفی ہوسکتی ہے ؟ پھر اس میں خدا سے چھپنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے ایک مخفی ملامت بھی ہے کہ حیف ہے ان لوگوں پر جو اس کی بات سننے سے گریز کر رہے ہیں جس کے بخشے ہوئے رزق پر پل رہے ہیں۔ یعلم مستقرھا و مستودعہا، وہ ہر ایک کے مستقر کو بھی جانتا ہے اور اس کے مدفن کو بھی جانتا ہے جہاں وہ مرنے کے بعد زمین کی امانت میں دیا جاتا ہے۔ مدفن کے لیے " مستودع " کا لفظ استعمال کرنے میں یہ بلیغ تذکیر ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ جب وہ مرگیا تو بس فنا ہوگیا۔ وہ فنا نہیں ہوجاتا بلکہ وہ زمین کی امانت میں دے دیا جاتا ہے اور ایک دن آئے گا جب زمین یہ امانت اپنے رب کے حوالے کرے گی۔ کل فی کتب مبین، ہر چیز ایک واضح رجسٹر میں درج ہے، نہ کوئی چیز درج ہونے سے رہ گئی اور نہ کسی چیز کی تلاش کے لیے کوئی زحمت اٹھانی ہے۔
Ayah 11:7وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭ وَلَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْــرٌ مُّبِيْنٌ۔
جزا اور سزا کی دلیل : یہ اس جزا و سزا کا بیان ہے جس سے ان کو ڈرایا جاتا تھا لیکن وہ اس کو تسلیم کر کے اس کے لیے تیار کرنے کی بجائے اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ فرمایا کہ وہی خدا جس کے رزق پر سب پل رہے ہیں وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس سے پہلے اس کی حکومت پانی پر تھی۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ چھ دنوں سے یہ ہمارے دن مراد نہیں ہیں بلکہ خدائی دن مراد ہیں جن میں سے ہر دن ہمارے ہزاروں سال کے برابر ہوتا ہے۔ ہم ان کو ادوار سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ یہ دنیا کا چھ ادوار میں درجہ بدرجہ ظہور میں آنا اور اپنے نقطہ کمال کو پہنچنا اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ اس کا ظہور کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ اس کے خالق نے ارادہ، اسکیم، ترتیب اور حکمت کے ساتھ اس کو وجود بخشا ہے۔ یہ ارادہ، اسکیم اور ترتیب و حکمت اس بات کی شہادت ہے کہ یہ کوئی بےغایت و مقصد کارخانہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک عظیم غایت ہے جس کا ظہور میں آنا لازمی ہے۔ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاء، عرش خدا کی حکومت کی تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کرہ ارض کی خشکی نمودار ہونے سے پہلے پہلے یہ سارا کرہّ مائی تھا اور اللہ کی حکومت اس پر تھی۔ پھر پانی سے خشکی نمودار ہوئی اور زندگی کی مختلف النوع انواع ظہور میں آئیں اور درجہ بدرجہ یہ پورا عالم ہستی آباد ہوا۔ یہی بات تورات میں بھی بیان ہوئی ہے اگرچہ اس کے مترجموں نے مطلب خبط کردیا ہے۔ کتاب پیدائش کی پہلی آیت میں یہ الفاظ ہیں " اور گہراؤ کے اوپر اندھیرا اور خدا کی روح پانی کی سطح پر جنبش کرتی تھی " لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا۔ یعنی یہ سارا اہتمام و انتظام صاف اس بات کی شہادت رہا ہے کہ یہ دنیا کوئی بازیچہ اطفال یا کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشا نہیں ہے کہ یوں ہی پیدا ہوئی، یوں ہی تمام ہوجائے۔ انسان جو اس میں گل سرسبد کی حیثیت رکھتا ہے اور جس کے لیے ہی معلوم ہوتا ہے کہ ساری چیزیں پیدا کی گئی ہیں کوئی شتر بےمہار نہیں چھوڑا گیا کہ کھائے پیے، عیش کرے اور ایک دن ختم ہوجائے اگر ایسا ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس دنیا کے خالق نے ایک عبث کام کیا در آنحالیکہ اس دنیا کے ایک ذرہ سے اس کی قدرت، حکمت اور رحمت کی ایسی شہادتیں مل رہی ہیں کہ ان کی موجودگی میں اس کی طرف کسی کلمہ عبث کی نسبت بالکل خلاف عقل ہے۔ اگر اس کی طرف اس طرح کی کوئی نسبت خلاف عقل ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ انسان کو ارادے کی آزادی اور خیر و شرکا امتیاز دے کر یہ امتحان کر رہا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے خیر کی راہ اختیار کرتا ہے یا شر کی اور لازماً وہ اس کے لیے ایک دن اپنے رب کے آگے مسئول اور جواب دہ ہوگا اور اپنے عمل کے مطابق جزا یا سزا بھگتے گا۔ یاد ہوگا، عالم کے چھ دن میں پیدا کیے جانے کا ذکر سورة یونس میں بھی ہوا ہے۔ یہاں اس پر، لیبلوکم ایکم احسن عملا، کا اضافہ ہے جس سے وہ حقیقت وضح ہوتی ہے جو اس اہتمام سے اس عالم کے پیدا کیے جانے میں مضمر ہے۔ وَلَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْــرٌ مُّبِيْنٌ، یعنی یہ بات تو بالکل بدیہی اور نہایت واضح معلوم ہوتی ہے لیکن اگر یہی بات تم ان لوگوں کو سجھاتے ہو کہ مرنے کے بعد تم حساب کتاب اور جزا وسزا کے لیے اٹھائے جاؤ گے تو یہ تمہاری تقریر کے زور اور تمہارے حسن بیان کو صداقت کی دل نشینی قرار دینے کے بجائے الفاظ وبیان کی جادوگری قرار دیتے ہیں تاکہ یہ اپنے عوام کو دھوکا دے سکیں کہ وہ قرآن اور پیغمبر کی باتوں سے متاثر نہ ہوں۔
Ayahs 11:8–118۔ 11:۔ وَلَىِٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰٓى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّيَقُوْلُنَّ مَا يَحْبِسُهٗ ۭ اَلَا يَوْمَ يَاْتِيْهِمْ لَيْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۔
لفظ امت یہاں ٹھیک اپنے لغوی مفہوم یعنی مدت کے معنی میں ہے جس طرح سورة یوسف میں ہے " وقال الذی نجا منہا واد کر بعد امۃ : اور کہا اس نے جس نے ان دونوں میں سے رہائی پا لی تھی اور ایک مدت کے بعد اس نے یاد کیا " (یوسف :45)۔
کفار کے استہزاء کا جواب : اوپر کی آیت میں ان کے اس مذاق کا ذکر ہے جو مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی خبر کا وہ اڑا رہے تھے۔ اس آیت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہی مذاق کی روش ان کی اس عذاب کے بارے میں بھی ہے جس سے اس دنیا میں ان کو لازماً دو چار ہونا ہے اگر انہوں نے رسول کی تکذیب کردی۔ فرمایا کہ جس عذاب کی ان کو خبر دی جا رہی ہے اگر کچھ مدت کے لیے ہم اس کو ٹال رہے ہیں تو یہ ہماری عنایت ہے کہ ہم ان کو توبہ و اصلاح کی مہلت دے رہے ہیں لیکن یہ اپنی بدبختی سے اس مہلت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ محض ایک دھونس ہے اور پیغمبر کا مذاق اڑاتے ہیں کہ عذاب آنے والا ہے تو آ کیوں نہیں جاتا، کس چیز نے اس کو باندھ رکھا ہے۔ فرمایا کہ ان کی اس جسارت اور بدبختی پر افسوس ہے۔ جس دن وہ عذاب ظاہر ہوگا، کسی کی یہ طاقت نہ ہوگی کہ وہ اس کو ان سے ہٹا سکے، نہ یہ خود کے رخ کو موڑ سکیں گے اور نہ ان کے شرکاء اور شفعاء اس وقت ان کی کچھ مدد کرسکیں گے، وہ عذاب ان کو اپنے گرداب میں لے لے گا جس کو یہ دل لگی سمجھتے اور جس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔
وَلَىِٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ ۚ اِنَّهٗ لَيَـــُٔــوْسٌ كَفُوْرٌ۔ وَلَىِٕنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَاۗءَ بَعْدَ ضَرَّاۗءَ مَسَّتْهُ لَيَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّـيِّاٰتُ عَنِّيْ ۭ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُــوْرٌ۔
ایک خاص اسلوب کلام : یہاں لفظ انسان اگرچہ عام ہے لیکن اس سے مراد وہی لوگ ہیں جن کا ذکر اوپر سے آ رہا ہے۔ ضدی اور جھگڑالو مخاطب سے جب منہ پھیرلینا مقصود ہوتا ہے تو بسا اوقات یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ اس کو خطاب کر کے یا اس کی طرف اشارہ کر کے بات کہنے کے بجائے ایک کلیہ کے اسلوب میں بات کہہ دی جاتی ہے جس سے اعراض کا مقصد بھی پورا ہوجاتا ہے اور بات بھی ایک کلیہ کا جامہ اختیار کرلینے کی وجہ سے زیادہ مؤثر اور جاندار ہوجاتی ہے۔ یہی اسلوب تقریر یہاں اختیار کیا گیا ہے اور اس کیا گیا ہے اور اس کی نہایت بلیغ مثالیں اگے آئیں گی۔ اس اسلوب کے فوائد پر انشاء اللہ ہم کسی موزوں مقا پر بحث کریں گے۔
مطلب یہ ہے کہ اس وقت اللہ نے ان کو جو اپنے رزق و فضل سے نواز رکھا ہے تو یہ اس کے شکر گزار ہونے کے بجائے بدمستی میں اس کی تذکیر وتنبیہ کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ان کو عذاب سے ڈرایا جاتا ہے تو ڈرنے کے بجائے ڈیٹ ہو کر عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کی اس حالت پر صبر کرو اور ان کو نظر انداز کرو۔ عام طور پر لوگوں کا حال یہی ہوتا ہے کہ جب اللہ ان کو اپنے فضل سے نوازتا ہے تو وہ اس کے شکر گزار ہونے کے بجائے اکڑتے اور دندناتے ہیں اور جب ذرا خدا کی گرفت میں آجاتے ہیں تو فوراً دل شکستہ اور مایوس ہوجاتے ہیں۔ آج ان کے طنطنہ اور غرہ کا یہ حال ہے کہ اپنے آگے کسی کو خاطر ہی میں نہیں لا رہے ہیں لیکن اس طنطنہ کی کوئی بنیاد نہیں ہے، قدر ذرا سا جھنجھوڑ دے تو دیکھو کیسے بلبلا اٹھتے ہیں۔
خدا کے پسندیدہ بندوں کی روش : اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ۔ یہ ان لوگوں کا بیان ہے جو ذکورہ عام کلیہ سے مستثنی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کسی آزمائش اور مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو اللہ سے مایوس و دل شکستہ ہونے کے بجائے اس کی رحمت کی امید پر صابر و مطمئن رہتے ہیں اور جب اس کے فضل و نعمت سے نوازے جاتے ہیں تو اکڑنے اور مغرور ہونے کے بجائے اس کے شکر گزار ہوتے اور نیک عمل کرتے ہیں۔ مصیبت ان کی صبر کی صفت کو مستحکم کرتی ہے اور نعمت ان کے لیے شکر اور اعمال صالحہ کی راہیں کھولتی ہے۔ یہی لوگ انسانیت کے گل سرسبد ہیں اور ان کے لیے اللہ کے ہاں مغفرت اور جر عظیم ہے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے مصائب سے مایوسی کا اور نعمتوں سے غرور وتکبر کا اندوختہ فراہم کیا ہے تو یہ اپنے اس اندوختہ سمیت جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
Ayah 11:12پیغمبر ﷺ کو تسلی : فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ وَضَاۗىِٕقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ يَّقُوْلُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ جَاۗءَ مَعَهٗ مَلَكٌ ۭ اِنَّمَآ اَنْتَ نَذِيْرٌ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ۔
یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ تم ان لوگوں کے رویے سے برداشتہ خاطر ہو کر اپنے فرض کی ادائیگی میں ذرا ڈھیلے نہ پڑنا۔ اگر یہ تمہیں خدا کا رسول ماننے کے لیے یہ شرط ٹھہراتے ہیں کہ تمہارے پاس بہت بڑا خزانہ ہو یا تمہارے ساتھ کوئی فرشتہ تمہاری رسالت کی گواہی دیتا پھرے تو اس قسم کے احمقانہ طالبات تمہارے لیے وجہ پریشانی نہ ہوں۔ تم صرف ان کے لیے نذیر بنا کر بھیجے گئے ہو، ان پر داروغہ مقرر کر کے نہیں بھیجے گئے ہو کہ لازماً ان کو تم ہدایت کے راستہ پر کر ہی دو۔ انذار کا فرض ادا کردینے کے بعد تمہاری ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔ اگر لاطائل مطالبات کو بہانہ بنا کر یہ لوگ حقیقت سے گریز کرنا چاہتے ہیں تو معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔ وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ تمہاری جانفشانیاں بھی اس کے سامنے ہیں اور ان کی شرارتیں بھی۔ وہ ان کو جس چیز کا مستحق پائے گا وہی ان کے ساتھ کرے گا اور جب کرے گا تو کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہ بن سکے گا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس قسم کی ہدایات آنحجرت ﷺ کو دینے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ آپ وحی الٰہی کے کسی حصہ کی تبلیغ سے ہچکچا رہے تھے یا اس کو چھوڑ دینا چاہتے تھے بلکہ یہ حالات کی شدت اور ان کے سبب سے آپ کی پریشانی کے پیش نظر آپ کو اپنے موقف پر استقامت کی تلقین اور اپنی ذمہ داری کو اس کے حدود ہی ہی تک محدود رکھنے کی ہدایت ہے۔ اس قسم کے مواقع میں خطاب میں جو ذرا تیزی ہوتی ہے اس کا رخ، جیسا کہ ہم بار بار ظاہر کرچکے ہیں، اصلاً پیغمبر کی طرف نہیں ہوتا بلکہ ان معاندین کی طرف ہوتا ہے جن کا عناد اس ہدایت کا موجب ہوتا ہے۔
Ayah 11:13مخالفین قرآن کو متبادل کلام پیش کرنے کا چیلنج : اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔
یہ استفہام اظہار تعجب کی نوعیت کا ہے۔ اوپر کے اعتراضات تو سادہ اسلوب میں نقل کردیے ہیں، لیکن قرآن کو پیغمبر کی گھڑی ہوئی کتاب قرار دینا ایک نہایت عجیب بات تھی۔ بالخصوص ان لوگوں کی زبان سے جو کلام کے حسن و قبح کے نقاد اور اس کے ایجاز و اعجاز کے قدر دان بھی تھے اور موازنہ اور مقابلہ کے لیے ان کے پاس اپنے چوٹی کے شاعروں اور خطیبوں کے کلام کا ایک دفتر بھی موجود تھا۔ اس وجہ سے اس کا ذکر تعجب کے اسلوب میں فرمایا کہ اگر یہ بےشرم ہو کر یہ بات کہتے ہیں تو اس کا فیصلہ نہایت آسانی سے یوں ہوسکتا ہے کہ وہ بھی ایسی ہی دس سورتیں گھڑی ہوئی پیش کردیں اور اگر یہ کام تنہا ان کے بس کا نہ ہو تو اپنے ان شرکاء اور شفعاء کو بھی اپنی مدد کے لیے بلا لیں جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں۔ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ، میں ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ جن کو تم پوجتے ہو یہ خدا کے شریک ہیں۔ اگر یہ خدا کے شریک ہیں تو یہ سب سے زیادہ اہم موقع ہے کہ وہ قرآن کی نظیر پیش کرنے میں تمہاری مدد کریں۔ اس لیے کہ اس قرآن کی بدولت سب سے زیادہ خطرے میں خود ان کی خدائی ہے۔ دوسرا مفہوم اس کے اندر یہ ہے کہ اگر تم اپنے اس گمان میں سچے ہو کہ یہ قرآن محمد ﷺ کی اپنی تصنیف ہے جس کو وہ لوگوں کو مرعوب کرنے کے لیے جھوٹ موٹ خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ سورة طور میں ہے : " ام یقولون تقولہ بل لایوممون۔ فلیاتوا بحدیث مثلہ ان کانوا صدقین : کیا وہ کہتے ہیں کہ اس کو گھڑ لیا ہے بلکہ وہ ایمان نہیں لانا چاہتے اگر وہ اپنے اس گمان میں سچے ہیں تو اس کے مانند کوئی کلام خود پیش کردیں۔ (طور :33۔ 34)۔
تحدی کی نوعیت : اس سورة میں ان سے دس سورتوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سورة یونس آیت 38 میں ایک ہی سورة کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بقرہ آیت 23 میں بھی ایک ہی سورة کا مطالبہ ہے۔ بنی اسرائیل آیت 88 میں " مثل قرآن " کا مطالبہ ہے اور سورة طور کی مذکورہ بالا آیت میں " بحدثیث مثلہ " کے الفاظ ہیں جس کا واضح مفہوم یہی معلوم ہوتا ہے کہ مراد قرآن کی مانند کلام ہے۔ عام اس سے کہ وہ ایک سورة کی شکل میں ہو یا دس سورتوں کی شکل میں، یا قرآن وہ کتاب کی شکل میں۔ عام طور پر لوگوں نے ان مختلف آیتوں کو سامنے رکھ کر اس تحدی کی ایک تدریج و ترتیب قائم کی ہے کہ پہلے ان سے مانند قرآن کتاب پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا، ج وہ اس سے عاجز رہے تو دس سورتوں کا مطالبہ کیا گیا، جب وہ اس سے بھی قاصر رہے تو ادنی درجہ میں ان سے ایک ہی سورة پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا، لیکن وہ اس کا بھی حوصلہ نہ کرسکے۔ اگرچہ یہ بات بظاہر اچھی معلوم ہوتی ہے لیکن اس کی صحت کا انحصار اس امر پر ہے کہ جن سورتوں میں یہ تحدی مذکور ہوئی ہے ان کا زمانہ نزول تعین کے ساتھ معلوم ہو۔ چونکہ یہ معاملہ مشکل ہے اس وجہ سے ہمارے نزدیک صائب رائے یہ ہے کہ قرآن نے شروع ہی میں، جیسا کہ سورة طور کی مذکورہ بالا آیت سے واضح ہوتا ہے، قرآن کے مانند کلام پیش کرنے کا مطالبہ کیا، خواہ وہ دس سورتوں کی شکل میں ہو یا ایک ہی سورة کی شکل میں، بعد میں اسی اجمال کو حسب موقع مختلف الفاظ میں واضح فرمایا گیا۔ ہمارے نزدیک اس کو عام معنی میں تحدی سمجھنا بھی کچھ صحیح نہیں ہے۔ تحدی اور چیلنج کا سوال وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں گمان ہو کہ حریف میدان مقابلہ میں اترنے اور قسمت آزمائی کا حوصلہ رکھتا ہے۔ جب یہ واضح ہو کہ حریف کی ساری مشیخت محض حقیقت سے گریز و فرار کے لیے ایک بہانہ ہے تو اس کو ایک خاص اہتمام کے ساتھ چیلنج کرنے کے بجائے یہ بہتر ہوتا ہے کہ پہلا ہی وار اس کے لیے بھرپور ہو۔
Ayah 11:14مخالفین قرآن پر اتمام حجت : فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَاَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔ اوپر والی آیت میں بات بالواسطہ کہی گئی تھی اس میں ان کو براہ راست خطاب کر کے فرمایا کہ اگر تمہارے یہ شفعاء و شرکاء قرآن کا جواب پیش کرنے کی مہم میں تمہاری حاجت روائی کے لیے نہ اٹھیں تو پھر یہ مانو کہ یہ کتاب علم الٰہی کا فیضان ہے جیسا کہ پیغمبر کہتے ہیں، نہ کہ ان کی گھڑی ہوئی، جیسا کہ تم الزام لگاتے ہو۔ انما انزل بعلم اللہ، سے یہ بات واضح ہوئی کہ قرآن کے اعجاز کا اصل پہلو یہ ہے کہ وہ جس علم و معرفت کا خزانہ ہے وہ خزانہ خدا کے سوا کوئی اور بخش ہی نہیں سکتا۔ وان لا الہ الا ھو، یہ دوسرا بدیہی نتیجہ ہے جو اس کا جواب پیش کرنے سے قاصر رہنے کی صورت میں نکلتا ہے، وہ یہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور تم جن کو معبود بنائے بیٹھے ہو۔ یہ محض خیالی چیزیں ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اگر ان کی کوئی حقیقت ہے تو یہ وقت ہے کہ وہ تمہاری اور خود اپنی عزت بچانے کے لیے کچھ جوہر دکھائیں۔ اگر اس نازک موقع پر بھی ان کی غیرت جوش میں نہیں آتی تو پھر آخر وہ کس مرض کی دوا ہیں۔ فھل انتم مسلمون کے اسلوب بیان میں تشویق و ترغیب کا پہلو بھی ہے اور زجر و ملامت کا بھی۔ مطلب یہ ہے کہ تمہیں اپنی بات ثابت کرنے کے لیے پورا موقع حاصل ہے، تم اس کے لیے اپنے معبودوں کو بھی مدد کے لیے بلا سکتے ہو لیکن اس سب کے بعد بھی اگر تم کچھ نہ کرسکے تو بتاؤ اسلام لانے والے بنتے ہو ؟
Ayahs 11:15–1615۔ 16:۔ مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ۔ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ڮ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِيْهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔
وسعت رزق کے مطالبہ کی تردید : اوپر آیت 12 میں کفار کے اس طعنہ کا حوالہ گزر چکا ہے کہ وہ نبی ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی بےسروسامانی کو آپ کی رسالت کے خلاف بطور دلیل پیش کرتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ جب ہم دنیوی اسباب ووسائل کے اعتبار سے ان سے نہایت بہتر حالت میں ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کی نگاہوں میں بھی ہم ان سے بہتر ہیں، پھر ہم کو خدا کے غضب اور اس کے عذاب سے ڈرانے کے کیا معنی ؟ اگر ہم خدا کے مبغوض و معتوب ہوتے تو کیا اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ یہ جوتیاں چٹخاتے پھرتے اور ہم عیش کرتے ؟ پھر تو یہ ہونا تھا کہ یہ خزانے لٹاتے اور ہم ان کی جوتیاں سیدھی کرتے۔ ان دنوں آیتوں میں ان کے اسی مغالطے کا جواب دیا ہے۔ فمایا کہ یہ دنیا اور اس کی زینتیں نیک اعمال کے سلہ کے طور پر نہیں ملتیں کہ جو نیک اعمال نہ کریں وہ ان سے محروم رہیں۔ یہ دنیا تو نیک اور بد دونوں کو ملتی ہے البتہ جو دنیا ہی کے طالب ہوتے ہیں، آخرت کی جن کو کوئی پروا نہیں ہوتی ان کا سارا کھاتا یہیں بےباق کردیا جاتا ہے، آخرت میں ان کے لیے دوزخ کے سوا کچھ نہیں بچ رہتا۔ چونکہ وہ کوئی کام آخرت کو مقصود بنا کر نہیں کرتے اس وجہ سے آخرت میں ان کے سارے اعمال حبط ہوجائیں گے۔ دنیا آخرت کے بغیر مجرد باطل رہ جاتی ہے اور اس باطل کو مقصود قرار دے کر جو کچھ بھی کیا جاتا ہے سب باطل ہوتا ہے اگرچہ وہ بظاہر نیکی ہی کے کام کیوں نہ ہوں۔ یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے۔ " مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا (18) وَمَنْ أَرَادَ الآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا (19) كُلا نُمِدُّ هَؤُلاءِ وَهَؤُلاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا (20): جو دنیا ہی کے طالب ہوتے ہیں ہم ان کو یہیں دے دیتے ہیں جو دنیا چاہتے ہیں، پھر ہم نے ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں وہ ذلیل اور راندہ ہو کر پڑیں گے اور جو آخرت کے طالب بنتے ہیں اور ایمان و اخلاص کے ساتھ اس کے لیے اس کے شایان شان کوشش بھی کرتے ہیں، وہی لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہوگی، ہم تیرے رب کی بخشش سے دونوں کو فیض یاب کرتے ہیں، ان کو بھی اور ان کو بھی اور تیرے رب کی بخشش کسی پر بھی بند نہیں ہے " (اسراء :18۔ 20)۔ ان آیات میں، ما نشاء لمن نرید ، کے الفاظ سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ دنیا کے طالبوں کو بھی اتنا ہی ملتا ہے جتنا خدا چاہتا ہے اور انہی کو ملتا ہے جن کو خدا دینا چاہتا ہے۔ یہ نہیں کہ جو دنیا کا طالب بن جائے وہ جتنا چاہے سمیٹ لے۔ ان کے معاملے میں بھی جو کچھ ہوتا ہے خدا ہی کے اختیار اور اسی کی حکمت کے تحت ہوتا ہے۔ اسی طرح وسعی لہا سعیہا و ھو مومن، کے الفاظ یہ حقیقت واضح کرتے ہیں کہ طلب آخرت بھی اللہ کے ہاں وہ معتبر ہے جو ایمان و اخلاص کے اتھ ہو اور جس کے ساتھ آخرت کے شایان شان عملی جدوجہد بھی پائی جاتی ہو۔ اگر اس میں ریا اور شرک کی کوئی آلودگی شامل ہو، یا محض زبان کے بھاگ کے بل پر جنت کو جیتنے کے خواب دیکھے جا رہے ہو تو ان لذیذ خوابوں کی خدا کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔
Ayah 11:17اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَةً ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ ۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔
اب یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ جو لوگ قرآن سے گریز و فرار کے لیے یہ بہانے تراش رہے ہیں ان کی اصل بیماری یہ ہے کہ ان کی فطرت کا نور بجھ چکا ہے اور جن کی فطرت کا نور بجھ چکا ہے اور جن کی فطرت کا نور بجھ چکا ہو وہ قرآن پر ایمان لانے والے نہیں بن سکتے۔ اس پر ایمان لانے والے وہی بنیں گے جن کی فطرت مسخ ہونے سے محفوط ہو۔ وہ بیشک پہلے سے بنیادی حقائق کے باب میں اپنے اندر ایک دلیل وبرہان رکھتے ہیں، پھر جب اس کے بعد اوپر سے بھی قرآن کی شکل میں ان کے سامنے ایک شہادت آجاتی ہے تو وہ انہیں بعینہ اپنے دل کی آواز معلوم ہوتی ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ جو کچھ وہ اپنے دل میں پا رہے ہیں اس کی تائید و تصدیق اس آسمانی شاہد کی زبان سے بھی ہو رہی ہے۔ اس طرح کے استفہامیہ پر جملوں میں بعض اوقات مقابل جملہ حذف کردیا جاتا ہے جو قرینہ سے سمجھا جاتا ہے۔ گویا پوری بات یوں ہوگی کہ کیا وہ لوگ جن کے سامنے یہ یہ روشنیا ہیں اور وہ لوگ جو ان تمام روشنیوں سے محروم ہیں، قرآن پر ایمان لانے کے معاملے میں یکساں ہوں گے ؟ یہ نہیں ہوسکتا۔ اس پر ایمان وہی لوگ لائیں گے جو نور فطرت سے بہرہ مند ہیں اور اس امر سے بھی آشنا ہیں کہ اس سے پہلے اسی طرح کی کتاب ہدایت و رحمت بن کر موسیٰ پر بھی اتر چکی ہے۔ اس طرح کے لوگوں کے لیے قرآن بیشک ایک مانوس چیز ہے۔ وہ جب اس کو سنتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں کہ جو کچھ وہ اپنے صحیفہ فطرت میں پا رہے تھے اسی کی تصدیق و تائید خدا کی طرف سے ایک شاہد کے ذریعہ سے بھی سامنے آگئی۔ چناچہ ایسے ہی لوگ ہیں جو اس پر ایمان لائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس کی مخالفت میں طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں ان کی محرومی کے اسباب خود ان کے اندر موجوں ہیں۔ ان کی دل کی آنکھیں اندھی ہوچکی ہیں۔ ان سے کسی خیر کی امید نہ رکھو۔
" بینہ " سے مراد نور فطرت ہے : بینۃ کے معنی روشن دلیل اور واضح حجت کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، وہ نور فطرت ہے جو حق و باطل اور خیر و شر کے مبادی کے امتیاز کے لیے خدا نے خود ہمارے اندر ودیعت فرمایا ہے۔ جن کی فطرت خارج کے برے اثرات سے جتنی ہی محفوظ ہوتی ہے ان کے اندر یہ نور اتنا ہی قوی ہوتا ہے۔ چناچہ حضرات انبیاء اس سے کامل طور پر بہرہ مند ہوتے ہیں۔ ان کا باطن وحی کے نور سے منور ہونے سے پہلے بھی اس نور سے نورانی ہوتا ہے۔ ان کے لیے وحی کی حیثیت تاریکی پر روشنی کی نہیں بلکہ جیسا کہ سورة نور میں ارشاد ہوا ہے، نور علی نور، یعنی روشنی پر روشنی کی ہوتی ہے۔ آگے اسی سورة کی آیات 28، 63، 88 میں بھی یہ لفظ اسی مفہوم میں آیا ہے۔ عام لوگوں میں سے جو لوگ انبیاء کی دعوت قبول کرنے میں سبقت کرتے ہیں وہ بھی علی فرق مراتب اس نور سے بہرہ مند ہوتے ہیں اور جس کے اندر یہ نور جتنا ہی قوی ہوتا ہے وہ اسی اعتبار سے ان کی طرف سبقت بھی کرتا ہے اور اسی نسبت سے ان کا دست وبازو بھی بنتا ہے۔ اس کے بالکل برعکس حال ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنی شامت اعمال سے اس نور کو بجھا کر ظلمات بعضہا فوق بعض، کے گرداب میں پھنس جاتے ہیں۔
ضمیروں کے باب میں ایک خاص اسلوب : یہاں یہ بات بھی یاد رکھیے کہ اس طرح کے الفاظ کے معاملہ میں جن کی تانیث غیر حقیقی ہوتی ہے، یہ ضروری نہیں ہوا کرتا کہ ان کے لیے ضمیر لانے میں لفظ کے ظاہر کا لحاظ کیا جائے بلکہ ضمیر مذکر بھی لا سکتے ہیں اگر لفظ کا اصلی مصداق مذکر ہو۔ چناچہ یہاں " یتلوہ " میں اس کے لیے ضمیر مذکر ہی آئی ہے اس لیے کہ اس سے مراد درحقیقت وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن کے دوسرے مقامت میں نور، برھان، اور سلطان وغیرہ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ َيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ۔ تلا یتلو کے معنی یہاں کسی چیز کے بعد اور پیچھے ٓنے کے ہیں اور منہ میں ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے۔ اس نے اپنے فضل سے پہلے تو ہماری فطرت کے اندر وہ سب کچھ ودیعت فرما دیا جس کی قرآن دعوت دیتا ہے پھر اپنے مزید فضل سے اس نے لسان غیب کے ذریعے سے اس سارے ریکارڈ کو ہمیں سنا بھی دیا تاکہ کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ شاھد، سے مراد یہاں وہ وحی الٰہی ہے جس کا مظہر قرآن ہے، جس کے لانے والے جبرائیل امین اور جس کے حامل پیغمبر ﷺ ہیں۔ حضرت ابن عباس نے، شاہد، سے جبرائیل امین کو مراد لیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ بات صحیح ہے۔ وحی قرآن، جبرائیل اور پیغمبر میں فرق صرف تعبیر کا ہے۔ خدا کے شاہد ہونے کے اعتبار سے ان میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ چناچہ قرآن میں یہ لفظ ان سب کے لیے استعمال ہوا ہے۔
قرآن کے حق میں پہلے کی شہادت : وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَةً ، یعنی پہلے کی شہادتوں میں سے یہ شہادت بھی قرآن کی تصدیق و تائید کے لیے ان کے سامنے موجود ہے کہ اسی طرح کی ایک کتاب، اسی طرح کی تعلیمات و ہدایات بلکہ اس کی اور اس کے حامل کی پیشین گوئیوں کے ساتھ اس سے پہلے امام اور رحمت بن بن کر موسیٰ پر بھی اتر چکی ہے۔ " امام " اور " رحمت " کے الفاظ یہاں اسی طرح آئے ہیں جس طرح بعض دوسرے مقامات میں " ھدی " اور " رحمت " کے الفاظ آئے ہیں۔ یہاں ھدی کے مفہوم کو امام کے لفظ سے تعبیر فرایا ہے اس لیے کہ رہنمائی کا مضمون دونوں لفظوں کے اندر یکساں موجود ہے۔ ہم نے دوسرے مقام میں ان دونوں لفظوں کی تشریح کی ہے کہ یہ آغاز و انجام کے اعتبار سے استعمال ہوئے ہیں۔ یعنی یہ کتاب اس دنیا میں صراط مستقیم کی ہدایت و رہنمائی ہے اور جو لوگ اس ہدایت و رہنمائی کو قبول کرلیں ان کے لیے آخرت میں ابدی فضل و رحمت کا پیش خیمہ ہے۔
یہود کی بدبختی کی طرف اشارہ : یہاں ایک لطیف اشارہ بھی قابل توجہ ہے۔ اس سورة میں مخاطب چونکہ اصلاً قریش ہیں اس وجہ سے یہ گمان ہوتا ہے کہ ان کے لیے کتاب موسیٰ کی نظیر کچھ زیادہ مؤثر نہیں ہوسکتی تھی۔ لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ قریش اول تو مذہبی علم و فضل کے اعتبار سے اہل کتاب کے معترف تھے ثانیاً یہاں قرآن ایک ہلکا سا اشارہ ان یہود کی طرف بھی کر دنیا چاہتا ہے جن کو ایک " امام و رحمت " کتاب کے حامل ہونے کے سبب سے قرآن کی طرف سب سے پہلے سبقت کرنے والا بنتا تھا لیکن وہ سبقت کرنے کے بجائے اندر اندر اس کی مخالفت کے لیے سازشوں کی تیاریاں کر رہے تھے۔ قرآن نے ایک نہایت لطیف اشارے کی شکل میں ان کو توجہ دلا دی کہ ان کے مرتبہ و مقام کا تقاضا کیا ہے اور اگر انہوں نے اس کے خلاف کیا تو وہ اپنے آپ کو کس گڑھے میں گرائیں گے۔ اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ میں حصر کا مضمون پایا جاتا ہے۔ یعنی یہی لوگ جن کی خصوصیات اوپر بیان ہوئیں قرآن پر ایمان لائیں گے۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ جو لوگ قرآن کی مخالفت کر رہے ہیں ان خصوصیات سے مھروم ہیں۔ چونکہ یہ بات کلام کے سیاق سے واضح تھی اس وجہ سے حذف کردی گئی۔ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ، احزاب کے لفظ میں ذرا وسعت ہے۔ قرآن نے اپنے سامنے کے مخالفین کے ساتھ ساتھ ان مخالفین کی طرف بھی ہلکا سا اشارہ کردیا ہے جو ابھی اس مرحلے تک تو اگرچہ پردے کے پیچھے تھے لیکن بعد کے مراحل میں نہایت خطرناک دشمن بن کر سامنے آئے۔ یعنی اہل کتاب۔ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ ۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔ یہ خطاب اگرچہ عام بھی ہوسکتا ہے لیکن ہمارے نزدیک خطاب پیغمبر ﷺ ہی سے ہے۔ البتہ اس طرح کے جملوں میں جو خطاب ہوتا ہے اس کا رخ، جیسا کہ ہم دوسرے مقامات میں واضح کرچکے ہیں، مخالفین کی طرف ہوتا ہے لیکن وہ لائق التفات نہیں رہ جاتے اس وجہ سے ان کو خطاب کر کے بات براہ راست کہنے کی بجائے پیغمبر کو خطاب کر کے کہہ دی جاتی ہے۔ زجر و ملامت کا یہ اسلوب بسا اوقات براہ راست زجر و تنبیہ سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ قرآن میں اس کی نہایت دلآویز مثالیں موجود ہیں مطلب یہ ہے کہ اگر یہ شامت زدہ لوگ اس واضح حقیقت کو جھٹلا رہے ہیں تو جھٹلائیں، ان کی اس روش سے تم کسی الجھن میں نہ پڑو۔ یہی حقیقت ہے اور یہ تمہارے رب کی طرف سے ہے لیکن اکثر لوگ اپنی بدبختی کے سبب سے ایمان نہیں لائیں گے۔
یہ مضمون سورة رعد کی آیت 19 میں بیان ہوا ہے۔ وہاں انشاء اللہ ہم اس کی مزید وضاحت کریں گے۔ سورة یونس کی آیت 94۔ 95 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔
Ayahs 11:18–1918۔ 19:۔ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُعْرَضُوْنَ عَلٰي رَبِّهِمْ وَيَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰي رَبِّهِمْ ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ۔ الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَهَا عِوَجًا ۭ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ۔
مشرکین کی بدبختی پر اظہار افسوس : یہی مضمون بعینہ اسی سیاق وسباق کے ساتھ سورة یونس کی آیات 17۔ 18 میں گزر چکا ہے، وہاں تصریح ہے کہ قریش کو قرآن سے سب زیادہ چڑ اس کی دعوت توحید سے ہے۔ وہ اپنے دیوتاؤں کی مذمت سن کر آگ بگولا ہوجاتے اور پھر اس کے خلاف جو کچھ من میں آجاتا وہ بک ڈالتے۔ قرآن نے یہاں ان کے اسی اصل محرک مخالفت کو سامنے رکھ کر ان کی بدبختی اور محرومی پر افسوس کیا ہے کہ ان سے بڑھ کر بدقسمت اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والا کون ہوسکتا ہے جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا، یعنی اللہ کے سوا دوسری چیزوں کی پرستش کی اور ان کے متعلق بالکل جھوٹ موٹ، بلا کسی سند اور دلیل کے۔ یہ دعوی کیا ہے کہ خدا نے ان کو اپنا شریک بنایا ہے اور ان کی عبادت کا حکم دیا ہے۔ یہ سب سے بڑی بدقسمی اس وجہ سے ہے کہ یہی چیز ان کی ابدی محرومی کا باعث ہوگی جب کہ قیامت کے دن ان کے سامنے یہ راز کھلے گا کہ جن کی انہوں نے زندگی بھر عبادت کی اور جن کی حمیت و حمایت میں اللہ کی کتاب جھٹلایا وہ سب ہوا ہوگئے اور معاملہ تنہا خدائے واحد وقہار سے پڑا۔ وَيَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰي رَبِّهِمْ۔ یہ شہادت انبیاء کی بھی ہوسکتی ہے، اس لیے کہ قرآن میں تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر نبی سے اس کی امت پر قیامت کے دن گواہی دلوائے گا کہ اس نے ان کو کیا تعلیم دی تھی اور انہوں نے اس میں کیا بگاڑ پیدا کیا، ان ہستیوں کی بھی ہوسکتی ہے جن کو معبود بنا کر پوجا گیا حالانکہ نہ انہوں نے اس کا حکم دیا اور نہ انہیں اس کی خبر ہوئی اور ان فرشتوں کی بھی ہوسکتی ہے جو ہر شخص کے سارے اعمال کا ریکارڈ رکھتے ہیں اور قیامت کے دن یہ سارا ریکارڈ سامنے آئے گا۔ ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ۔ یہ وہ منادی ہے جو گواہوں کی گواہی کے بعد ان مشرکین پر لعنت کے لیے کی جائے گی۔ اور یہ لعنت ان کے لیے تمام مصیبتوں کا فتح باب ہوگی۔
مشرکین کے جرائم : الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَهَا عِوَجًا ۭ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ۔ یہ ان " ظالمین " کی مزید صفات بیان کردی گئیں تاکہ کلام مطابق حال بھی ہوجائے اور ان کے وہ جرائم بھی سامنے آجائیں جو اس لعنت کے موجب ہوں گے۔ ان کا ایک جرم تو یہ ہے کہ انہوں نے دیدہ و دانستہ، حقیقت کے واضح ہونے کے باوجود، لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا اور دوسرا جرم یہ ہے کہ اس راستہ کو کج کرنے کی کوشش کی۔ بندوں کے لیے خدا تک پہنچنے کی راہ بالکل ہموار و مستقیم ہے، اس میں کج پیچ اور پگڈنڈیاں نہیں ہیں۔ بندہ اس راہ پر چلے تو براہ راست اپنے رب سے تعلق پیدا کرلیتا ہے لیکن ان ظالموں نے اس راہ میں بہت سے اڑنگے ڈال دیے۔ قدم قدم پر انہوں نے اس کا رخ مختلف تھانوں، استھانوں، دیویوں اور دیوتاؤں کی طرف موڑ دیا اور اس طرح لوگوں کو اصل شاہراہ توحید سے ہٹا کر گلیوں اور کوچوں میں ڈال دیا۔ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ ، میں مبتدا کے اعادے سے مقصود اس پر زور دینا ہے۔ یعنی آخرت کے اصلی منکر یہی ہیں۔ اول تو انہوں نے خلق کو اللہ کے راستہ سے روکنے کی کوشش کی اور یہ جسارت آخرت سے بالکل بےپروا ہوئے بغیر ممکن نہیں۔ دوسرے شرک بجائے خود آخرت کی نفی ہے اس لیے کہ شرکاء وشفعاء جب اپنے پجاریوں کو بہرحال بخشوا ہی لیں گے خواہ ان کے عقائد و اعمال کچھ ہی ہوں تو آخرت کا ہونا، نہ ہونا دونوں یکساں ہوا۔ آخرت کو صرف مان لینا مطلوب نہیں ہے بلکہ یہ ماننا ضروری ہے کہ وہ ہر ایک کے لیے بےلاگ انصاف کا دن ہوگا اور خدا کے آگے اس دن کسی کا زور نہیں چلے گا۔
Ayah 11:20اُولٰۗىِٕكَ لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ ۘ يُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ ۭ مَا كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ۔
یعنی دنیا میں اللہ نے ان کو جو مہلت دی تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ خدا کے قابو سے باہر تھے بلکہ یہ اس کی ڈھیل تھی کہ وہ توبہ اور اصلاح کرنا چاہیں تو توبہ اور اصلاح کرلیں ورنہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھرلیں۔ ان کا یہ زعم بھی بالکل بےحقیقت تھا کہ ان کے کچھ اولیاء اور مددگار ہیں جو خدا کی پکڑ سے ان کو بچا سکتے ہیں۔ اب سارے حقائق ان کے سامنے آگئے۔ اب یہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے اور چونکہ یہ خدا کی راہ سے صرف خود ہی نہیں رکے بلکہ دوسروں کو بھی روکنے والے بنے اس وجہ سے یہ دوہرے عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔ مَا كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ ، یعنی نفر اور بیزاری کی شدت کے سبب سے نہ تو یہ اللہ اور رسول کی باتیں سننے ہی کے لیے تیار ہوتے تھے اور نہ محبت دنیا کا پردہ اللہ کی نشانیاں دیکھنے کے لیے ان کی آنکھیں ہی کھلنے دیتا تھا۔
Ayahs 11:21–22اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۔ لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ۔ ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے اس طرح اپنی صلاحیتیں برباد کیں انہوں نے اپنے آپ کو خود اپنے ہی ہاتھوں برباد کیا اور جن کی مدد اور شفاعت کے اعتماد پر یہ خطرناک کھیل کھیلے ان میں سے کوئی ان کے کام آنے والا نہ بنے گا اس لیے کہ خدا پر افترا کر کے محض اپنے ذہن سے جو خیالی معبود انہوں نے گھڑے وہ سب بےحقیقت، ثابت ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ آخرت کی نامرادی ایسے ہی عقل و بصیرت سے محروم لوگوں کے حصے میں آئے گی۔
Ayah 11:23اہل ایمان کے فضائل : اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْٓا اِلٰي رَبِّهِمْ ۙاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَــنَّةِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۔ اب یہ کفار و مشرکین کے مقابل گروہ یعنی اہل ایمان کے انجام کا ذکر ہے۔ وَاَخْبَتُوْٓا اِلٰي رَبِّهِم، کے معنی اطمانوا الی اللہ و تخشعوا امامہ کے ہیں۔ یعنی ہر ایک سے کٹ کر اپنے رب کی طرف پوری دل جمعی اور کامل یک سوئی کے ساتھ وہ جھک پڑے۔ اوپر مشرکین کا حال تو یہ بیان ہوا ہے کہ وہ اپنے کبر و غرور کے سبب سے نہ اپنے کان ہی کھولنے کے لیے تیار ہوئے نہ اپنی آنکھیں ہی لیکن ان لوگوں نے ایمان و عم صالح کی روشن اختیار کی اور خلق خدا کو اللہ کی صراط مستقیم سے ہٹانے اور اس کو مختلف وادیوں میں ہرزہ گردی کرانے کے بجائے پوری یکسوئی فروتنی کے ساتھ اپنے آپ کو اپنے خالق و پروردگار کے آگے ڈال دیا۔ فرمایا کہ یہی لوگ جنت کے وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ایک مرتبہ اس میں داخل ہوجانے کے بعد پھر اس سے کبھی محروم نہیں ہوں گے۔
Ayah 11:24مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِيْرِ وَالسَّمِيْعِ ۭ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۔ اوپر کفار کی حالت بیان ہوچکی ہے کہ كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ۔ ، کہ ان کے ہوش کے کان اور ان کی بصیرت کی آنکھیں بند ہوچکی تھیں اس وجہ سے وہ قرآن کو سننے اور اللہ کی نشانیوں کے مشاہدہ سے محروم رہے۔ اس کے برعکس اہل ایمان نے اپنی آنکھیں بھی کھلی رکھیں اور اپنے کان بھی۔ فرمایا کہ ان دونوں گروہوں کی تمثیل یہ ہے کہ ایک اندھا اور بہرا ہو اور دوسرا بینا اور شنوا تو دونوں کا رویہ قرآن کے باب میں ایک سا کس طرح ہوسکتا ہے ؟ قرآن کی دعوت سرتاسر عقل و بصیرت پر مبنی ہے، اس پر ایمان وہی لوگ لائیں گے جن کے کان اور دل کھلے ہوں اور جنہوں نے بخشی ہوئی فطری صلاحیتیں اپنی محفوظ رکھی ہوں۔
Ayah 11:25آگے کا مضمون۔ آیات 25 تا 99:۔ آگے آیات 99 تک ایک تاریخی ترتیب کے ساتھ پچھلے رسولوں اور ان کی قوموں کی سرگزشتیں سنائی گئی ہیں۔ ان کے سنانے سے مقصود ایک طرف تو نبی ﷺ کو یہ دکھانا ہے کہ آج جو کچھ تمہیں پیش آرہا ہے بعینہ وہی کچھ تم سے پہلے آنے والے رسولوں کو بھی پیش آچکا ہے، تو تم ان کی زندگیوں سے رہنمائی حاصل کرو اور جس طرح انہوں نے صبر و عزیمت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا اسی طرح تم بھی حالات کا مقابلہ کرو۔ دوسری طرف قریش کو یہ دکھانا ہے کہ تم نے جو روش اپنے رسول کے ساتھ اختیار کی ہے وہی روش تمہاری پیش رو قوموں نے بھی اختیار کی تھی جس کے نتیجہ میں ایک خاص حد تک مہلت دیے جانے کے بعد وہ ہلاک کردی گئیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ جس طرح کا معاملہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا اسی طرح کا معاملہ وہ تمہارے ساتھ نہ کرے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖٓ ۡ اِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۔ حضرت نوح ؑ کی سرگزشت کی طرف اجمالی اشارہ پچھلی سورة میں بھی، آیات 71۔ 73۔ گزر چکا ہے۔ اس سورة میں اس اجمال کی تفصیل آرہی ہے۔
نذیر مبین کا مفہوم : نذبر مبین (کھلا ڈرانے والا) میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ رسول جس قہر و عذاب سے ڈراتا ہے اس کی نوعیت قیاسات اور انذاروں پر مبنی ارات و کنایات کی نہیں ہوتی بلکہ ایک واضح اور قطعی خبر اور اعلان کی ہوتی ہے اس لیے کہ اس کی بنیاد اول تو وحی الٰہی پر ہوتی ہے۔ ثانیاً یہ اس سنت الٰہی کا تقاضا بھی ہے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازماً ظاہر ہوتی ہے۔ اس قطعیت کا اثر قدرتی طور پر اس کے الفاظ اور لب و لہجہ میں بھی نمایاں ہوتا ہے۔ وہ آنے والے خطرے کا اس طرح اعلان کرتا ہے گویا اپنی دونوں آنکھوں سے اس کو دیکھ رہا ہے۔ یہاں لفظ مبین میں ایک لطیف تلمیح بھی ہے اس کو بھی نگاہ میں رکھیے۔ عرب میں دستور رہا ہے کہ ہر قوم کے لوگ کسی بلند ٹیلہ یا پہاڑی پر دیدبان بناتے جہاں ہر وقت ایک نگران مقرر رہتا جس کا کام یہ ہوتا کہ جب وہ دیکھتا کہ کسی طرف سے حملہ آوروں کی کوئی جماعت اس کی قوم پر حملہ کیا چاہتی ہے تو وہ اپنے کپڑے پھاڑ کر ننگا ہوجاتا اور واصباحا کا نعرہ لگاتا۔ یہ پوری قوم کے لیے الارم ہوتا اور سب تلواریں سونت سونت کر مدافعت کے لیے باہر نکل آتے۔ اس کو " نذیر عریاں " کہتے تھے۔ خدا کے رسول بھی اپنی قوم کو آنے والے عذاب سے آگاہ کرنے کے لیے آئے اور انہوں نے بالکل اس طرح لوگوں کو اس سے آگاہ کیا گویا وہ عقب سے نمودار ہی ہونے والا ہے اس وجہ سے قرآن میں ان کے لیے نذیر مبین کے الفاظ استعمال ہوئے۔
Ayah 11:26حضرت نوح کی دعوت : اَنْ لَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ ۭ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ اَلِيْمٍ۔ یہ حضرت نوح ؑ کی دعوت کا نقطہ آغاز ہے۔ پیچھے مڑ کر اس سورة کی آیت 3 پر نظر ڈالی تو معلوم ہوگا کہ بعینہ اسی نقطہ سے نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی دعوت کا آغاز فرمایا پھر مزید آگے بڑھیے تو معلوم ہوگا کہ جس قسم کا معاوضہ قوم نوح نے حضرت نوح ؑ کے ساتھ کیا اسی قسم کا معارضہ نبی ﷺ کی قوم نے آپ کے ساتھ کیا۔ حالات واقعات کی یہ مطابقت ہی ہے جس کو دکھانے کے لیے یہ سرگزشتیں سنائی جا رہی ہیں کہ نبی اور اس کی قوم دونوں کے سامنے ماضی کے آئینے میں ان حاضر اور مستقبل کا پورا نقشہ آجائے۔ تاریخ کی جو قدروقیمت ہے وہ اسی پہلو سے ہے۔ اگر یہ پہلو نگاہوں سے اوجھل ہوجائے تو تاریخ کی حیثیت مجرد داستان سرائی کی رہ جاتی ہے۔