11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 11:27

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

اس کی قوم کے ان سربراہوں نے جنہوں نے کفر کیا، جواب دیا کہ ہم تو تم کو بس اپنا ہی جیسا کہ ایک آدمی دیکھتے ہیں اور ہم تمہاری پیروی کرنے والوں میں انہی کو پاتے ہیں اور ہم تمہاری پیروی کرنے والوں میں انہی کو پاتے ہیں جو ہمارے اندر کے ذلیل لوگ ہیں، بےسمجھے بوجھے تمہارے پیچھے لگ گئے ہیں اور ہم تم لوگوں کے لیے اپنے مقابل میں کوئی خاص امتیاز بھی نہیں دیکھ رہے ہیں بلکہ ہم تو تم کو بالکل جھوٹا خیال کر رہے ہیں

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ ۚ وَمَا نَرٰي لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍۢ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ۔ لفظ " ملا " کی تحقیق ہم دوسرے مقام میں بیان کرچکے ہیں کہ اس سے مراد کسی قوم کے لیڈر، سرپنچ، زعماء اور اکابر ہوتے ہیں۔ چونکہ بگڑی ہوئی قوم کے سارے فساد کی جڑ یہی ہوتے ہیں اس وجہ سے انبیاء کی دعوت اصلاح سے سب سے زیادہ پرخاش انہی کو رہی ہے۔ قومِ نوح کے ان لیڈروں نے حضرت نوح کی دعوت کے جواب میں بیک وقت تین معارضے پیش کیے۔ ایک یہ کہ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا، یعنی تم تو ہمارے ہی جیسے انسان ہو۔ اگر خدا کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو وہ کسی فرشتے کو یا کسی اور برتر مخلوق کو رسول بنا کر بھیجتا، یا کم از کم یہ کہ کسی فرشتے کو تمہارے ساتھ گواہ بنا کر بھیجتا۔ ہمارے ہی جیسے ایک انسان کو ہماری طرف رسول بنا کر بھیجنے کے کیا معنی ؟ پیچھے مڑ کر آیت 12 پر ایک نظر ڈال کر دیکھ لیجیے۔ بعینہ یہی بات قریش کے لیڈروں نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کے جواب میں کہی۔ دوسرا یہ کہ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ ، یعنی تمہارے پیرو ہمارے اندر کے صرف وہ لوگ بنے ہیں جو رذالے اور ادنی درجہ کے لوگ ہیں، جن کی سوسائٹی میں کوئی عزت و وقعت نہیں، جو معاملات پر غور کرنے اور ان کے نتائج و عواقب کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ بس تمہاری بات انہوں نے سنی اور بےسوچے سمجھے تمہارے پیچھے لگ گئے۔ بادی الرای، کو کشاف نے ظرف کے مفہوم میں لیا ہے اور اس کی وضاحت یوں کی ہے۔ وقت حدوث اول رایہم، یعنی جو بات دل میں باول وہلہ آگئی وہ کر گزرے، اس پر غور کرنے کی زحمت انہوں نے نہیں اٹھائی۔ تیسرا یہ کہ وَمَا نَرٰي لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ ، یعنی اگر تم خدا کے ایسے ہی چہیتے ہو کہ اس نے تم کو رسول بنا کر بھیجا تو چاہیے تو یہ تھا کہ تم پر اور تمہارے ساتھیوں پر ہُن برستا، تم خزانوں کے مالک ہوتے اور خدم و حشم تمہارے ہم رکاب چلتے لیکن ہم تو اپنے مقابل میں تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کو کسی پہلو سے مرجح نہیں دیکھتے بلکہ اس کے برعکس یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارا حال تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے مقابل میں بدرجہا بہتر ہے اس وجہ سے ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ تم جھوٹ موٹ کی ہم پر دھونس جما رہے ہو۔
Ayah 11:28

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

اس نے کہا، اے میرے ہم قومو ! اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور پھر اس نے خاص اپنی رحمت سے بھی مجھے نوازا اور وہ تم سے پوشیدہ رہی تو کیا ہم اس کو تم پر چپکا دیں جب کہ تم اس سے بیزار بھی ہو

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَاٰتٰىنِيْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ ۭ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَاَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ۔ معارضات کا جواب : اب اس آیت میں اور آگے کی آیت میں مذکورہ بالا معارضات میں سے ایک ایک کا جواب آرہا ہے۔ حضرت نوح نے پہلی بات تو یہ فرمائی کہ میں جو کچھ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں اس کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ ایک تو اس نور فطرت (بینہ) پر جو میرے اندر پہلے سے موجود تھا اور دوسرے اس وحی الٰہی (رحمت) پر جس سے میرے رب نے مجھے نوازا۔ اگر تمہارے اندر بھی فطرت کی وہ روشنی موجود ہوتی جو میرے اندر ہے تب تو میری یہ دعوت تمہیں خود اپنے دل کی آواز معلوم ہوتی اور تم اس کو اللہ کی رحمت سمجھ کر قبول کرتے لیکن مشکل یہ ہے کہ تم نے اپنی ناشکریوں اور بد اعمالیوں سے اپنی فطرت کے نور کو گل کردیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ قدرت کے قانون کے تحت تمہارے دل تاریک کردیے گئے ہیں اور ان کے اندر کسی ہدایت کو قبول کرنے کی صلاحیت سرے سے باقی ہی نہیں رہ گئی ہے۔ اب یہ کس طرح ممکن ہے کہ میں تمہارے اوپر ایک ایسی چیز چپکا دوں جس کے چپکنے کے لیے تمہارے اندر سرے سے کوئی لوث باقی ہی نہیں رہ گیا ہے اور وہ بھی اس حال میں کہ تم اس کے نام سے بھی بیزار ہو۔ پیچھے آیت 17 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔
Ayah 11:29

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے میرے ہم قومو، میں اس خدمت پر تم سے کسی مال کا طالب نہیں۔ میرا اجر تو بس اللہ ہی کے ذمہ ہے اور میں ان لوگوں کو ہرگز دھتکار نے والا نہیں جو ایمان لائے ہیں۔ یہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں بلکہ میں تو تم کو دیکھ رہا ہوں کہ تم جہالت میں مبتلا ہو

وَيٰقَوْمِ لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا ۭ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۭ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَلٰكِنِّيْٓ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْـهَلُوْنَ۔ یہ حضرت نوح کی طرف سے اپنی قوم کے سرداروں کی رعونت کا جواب ہے کہ اگر تم میری بات سننے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہو تو اچھی طرح سمجھ لو کہ اس میں میرا نقصان کوئی نہیں ہے۔ سرسر تمہارا اپنا ہی نقصان ہے۔ میں جو کچھ تمہارے آگے پیش کر رہا ہوں اگر میں اس کے عوض میں تم سے کسی اجرت کا طالب ہوتا تب تو تمہاری اس بیزاری کی مجھے پروا ہوتی کہ تم نے میرے مال کی قدر نہیں کی اور میری دکان بیٹھ جائے گی۔ لیکن جب میں کوئی تجارت نہیں کر رہا ہوں بلکہ جس طرح مفت پایا ہے اسی طرح مفت بانٹ رہا ہوں تو تم اگر اس کو قبول نہ کرو گے تو خود ہی خسارہ میں رہو گے۔ مجھے تو اس کا جو اجر ملنا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور وہ مجھے مل کے رہے گا۔ تمہارے رد و قبول سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ میری دعوت جن لوگوں نے قبول کی ہے وہ تمہاری نگاہوں میں حقیر و رذیل لوگ ہیں اس وجہ سے تمہیں میرے قرب سے عار ہے تو میں تمہاری دلداری کے لیے ان کو اپنے پاس سے دھتکارنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ وہ اپنے رب پر ایمان لائے ہیں اور کل کو اپنے اسی ایمان کے ساتھ اپنے رب کے ساتھ ملنے والے ہیں۔ اگر میں آج انہیں تمہاری خاطر داری میں اپنے پاس سے دھتکاروں تو کل کو میں خدا کو کیا منہ دکھاؤں گا ؟ شرافت اور رذالت کا اصلی فیصلہ تو خدا کے ہاں ہونا ہے۔ وہی بتائے گا کہ اس کی نگاہوں میں کون شریف ہے اور کون رذیل۔ میری نگاہوں میں تو تمہی لوگ جہالت میں مبتلا ہو۔
Ayah 11:30

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور اے میرے ہم قومو، اگر میں ان کو ددھتکار دوں تو خدا کے مقابل میں کون میری مدد کرے گا ؟ کیا تم لوگ اس پہلو پر دھیان نہیں کرتے ؟

وَيٰقَوْمِ مَنْ يَّنْصُرُنِيْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۔ یہ اوپر والی آیت کی مزید وضاحت ہے کہ اگر میں تمہاری ناز برداری میں اللہ پر ایمان لانے والے ان غریبوں کو دھتکاروں تو کل کو خدا کی پکڑ سے مجھے کون بچانے والا بنے گا۔ افلا تذکرون، یعنی مال و جاہ کے غرور میں تم ایسے پاگل ہوگئے ہو کہ میں تم میں سے کسی کو معاملے کے اس پہلو پر غور کرنے کی توفیق ہی نہیں ہوتی۔
Ayah 11:31

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

اور میں تمہارے سامنے یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا اور نہ یہ دعویٰ کرتا کہ میں کوئی فرشتہ ہوں اور نہ میں ان لوگوں کے بارے میں، جن کو تمہاری نگاہیں حقیر دیکھتی ہیں، یہ کہہ سکتا کہ خدا ان کو کوئی خیر دے ہی نہیں سکتا۔ جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کروں تو میں ہی ظالم ٹھہروں گا

وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَآ اَقُوْلُ اِنِّىْ مَلَكٌ وَّلَآ اَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِيْٓ اَعْيُنُكُمْ لَنْ يُّؤْتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيْرًا ۭ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ښ اِنِّىْٓ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ۔ یہ مخالفین کے سارے معارضات کا اکٹھا جواب ہے کہ اگر تم مجھ میں کوئی بات مافوق بشریت نہیں پاتے تو میں نے بشریت سے بالا تر ہونے کا دعوی کب کیا ہے ؟ میں نے کب کہا ہے کہ میرے پاس خدا کے خزانوں کی کنجیاں ہیں، یا میں غیب دان ہوں یا کوئی فرشتہ ہوں ؟ میں ان باتوں میں سے کسی بات کا بھی مدعی نہیں ہوں۔ میں تو صرف خدا کا رسول ہوں اور جس پیغام کے ساتھ اس نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے وہ میں تمہیں سنا رہا ہوں۔ میرے ساتھی غریب و نادار لوگ ہیں اس وجہ سے تم ان کو حقیر سمجھتے ہو اور چونکہ تمہاری نگاہوں میں ساری قدروقیمت دنیا اور اسباب دنیا ہی کی ہے جو تمہیں حاصل ہے، اس وجہ سے تم یہ سمجھتے ہو کہ اگر اس دعوت میں، جو میں دے رہا ہوں، کوئی پہلو خیر کا ہوتا تو بھلا یہ کس طرح ممکن تھا کہ یہ سدا کے بھوکے ننگے لوگ تو اس سے فیض یاب ہوجاتے اور تم جو اپنے زعم میں سارے خیر و فضل کے وارثو مورث ہو اس سے محروم رہ جاتے ! اگر تمہارا گھمنڈ یہ ہے کہ جب انہیں دنیا نہیں ملی تو خدا ان کو کوئی اور خیر و فضل کس طرح دے سکتا ہے تو میں تمہارے اس گھمنڈ کی تائید کرنے کے لیے تیار نہیں۔ دنیا تو ہر اہل و ناہل کو مل جاتی ہے لیکن دین کی نعمت ہمیشہ انہی کو نصیب ہوتی ہے جن کے دلوں میں اس کے لیے صلاحیت ہوتی ہے اور جن کی فطرت مسخ ہونے سے محفوظ ہوتی ہے۔ یہ دل اور فطرت کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اس وجہ سے اگر میں ان کے باب میں تمہارے گمان کی تائید کروں تو میں بھی اپنے آپ کو ظالموں کا ساتھی بنا لوں۔
Ayahs 11:32–33

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

وہ بولے کہ اے نوح تم نے ہم سے بحث کرلی اور بہت بحث کرلی، اگر تم سچے ہو تو وہ چیز ہم پر لاؤ جس کی تم ہم کو برابر دھمکی سنا رہے ہو

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

اس نے جواب دیا کہ اس کو تو تم پر اللہ ہی لائے گا اگر وہ چاہے گا اور تم اس کے قابو سے باہر نہ نکل سکو گے

32۔ 33:۔ قَالُوْا يٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔ قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀ قوم نوح کا مطالبۂ عذاب : جب قوم نوح کے اعیان بحث و مناظرہ کے میدان میں بالکل پسپا ہوگئے، حضرت نوح نے ہر پہلو سے ان پر حجت تمام کردی اور ان کے لیے کوئی راہِ فرار باقی نہیں چھوڑی تو آخری امن انہوں نے اپنے لیے یہ خیال کیا کہ ان سے اس عذاب کے لانے کا مطالبہ کریں جس کی وہ خبر دے رہے تھے۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ بحث و مناظرہ تو اے نوح ! بہت ہوچکا، اب تو بس اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لاؤ جس کی دھمکی پر دھمکی سنا رہے ہو۔ حضرت نوح نے جواب میں فرمایا کہ عذاب کا لانا تو اللہ کے اختیار میں ہے، وہی جب چاہے گا لائے گا لیکن یہ یاد رکھو کہ اس طنطنہ کے ساتھ جو عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو تو جب عذاب آد ھمکے گا اس وق کوئی خدا کے قابو سے باہر نہ نکل سکے گا۔
Ayah 11:34

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور میری خیر خواہی تم پر کچھ کارگر نہیں ہوسکتی اگر میں تمہاری خیر خواہی کرنا چاہوں اگر اللہ تم کو گمراہ کرنا چاہتا ہو۔ وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹنا ہے

وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يُّغْوِيَكُمْ ۭ هُوَ رَبُّكُمْ ۣ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۔ دعوت و نصیحت اور تذکیر و موعظت کا آخری مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ رسول اپنا فرض ادا کر کے اپنی سبکدوشی کا اعلان کرتا ہے اور اپنے جھٹلانے والوں کو ان کے اس انجام کے حوالے کرتا ہے جو ان کے لیے خدا کی طرف سے مقدر ہوچکا ہوتا ہے۔ یہ بات حضرت نوح ؑ نے اسی مرحلہ میں فرمائی ہے کہ اب تم خدا کے قانون کی زد میں آ چکے ہو اور اپنے اعمال کے سبب سے سزاوار ہو لہذا تمہیں گمراہی کی راہ پر جانے کے لیے چھوڑ دے تو میں لاکھ تمہیں نصیحت و موعظت سناؤں میری نصیحت و موعظت کچھ کارگر نہیں ہوسکتی۔ اب تمہارا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے، وہی تمہارا رب ہے اور اسی کے آگے تمہاری پیش ہونی ہے۔
Ayah 11:35

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے، کہہ دو ، کہ اگر میں نے اس کو گھڑا ہے تو میرے جرم کا وبال میرے ہی اوپر ہے اور جو جرم تم کر رہے ہو میں اس سے بری ہوں

اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۭ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۔ اس آیت میں بعض لوگوں نے مخاطب آنحضرت ﷺ کو سمجھا ہے اور اس کو حضرت نوح کی سرگزشت کے دریان ایک التفات کی حیثیت دی ہے۔ اگرچہ اس کے التفات ہونے کا بھی ایک محل ہے لیکن ہمارے نزدیک، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ دعوت و موعظت کے آخری مرحلہ میں اعلان براءت کی آیت ہے۔ اس آیت میں حضرت نوح کو ہدایت ہوئی کہ اگر تمہاری قوم کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جو کچھ تم انہیں بتا رہے ہو یہ سب تمہاری اپنی ہی گھڑی ہوئی باتیں ہیں جن کو تم جھوٹ موٹ خدا کی طرف منسوب کر رہے ہو تو اب یہ بحث بند کردو اور ان سے کہہ دو کہ اگر یہ سب کچھ میرا افترا ہے تو اس جرم کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور اگر یہ حق ہے اور تم جان بوجھ کر اس سے بغاوت کر رہے ہو تو میں تمہارے اس جرم کی ذمہ داری سے اپنی براءت کا اعلان کرتا ہوں۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ پیغمبر کے اعلان براءت کے بعد قوم کے لیے فیصلہ کن گھڑی آجاتی ہے۔
Ayahs 11:36–37

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح کو وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو ایمان لاچکے ان کے سوا اب کوئی اور ایمان لانے والا نہیں تو جو کچھ یہ کرتے رہے ہیں اس سے آزردہ خاطر نہ ہو

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور تم کشتی بناؤ ہماری نگرانی میں اور ہماری ہدایت کے مطابق اور ان ظالموں کے باب میں اب ہم سے کچھ نہ کہیو، یہ تو غرق ہو کر رہیں گے

36۔ 37۔ وَاُوْحِيَ اِلٰي نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ يُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ۔ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ۔ مذکورہ بالا اعلانِ براءت کے بعد حضرت نوح کو وحی کے ذریعہ سے اطلاع دے دی گئی کہ تمہاری قوم میں جن لوگوں کے اندر تمہاری دعوت ایمان قبول کرنے کی صلاحیت تھی وہ ایمان لا چکے، اب کوئی اور ایمان لانے والا باقی نہیں رہا ہے۔ دودھ میں جتنا مکھن تھا وہ سب نکالا جا چکا ہے، اب جو بچ رہا ہے، وہ صرف چھاچھ ہے، تو تم خاطر جمع رکھو، یہ جو کچھ اب تک کرتے رہے ہیں اس سے دل شکست اور ملول نہ ہو، اب سنت الٰہی کے مطابق ان کے لیے خدا کی عدالت کے ظہور کا وقت آگیا ہے اور فیصلہ الٰہی یہ ہے کہ یہ سب غرق کردیے جائیں گے تو تم اپنے اور اپنے اہل ایمان ساتھیوں کے بچاؤ کے لیے ہماری نگرانی میں اور ہماری ہدایات کے تحت ایک کشتی بناؤ اور خبردار ان ظالموں کے باب میں اب ہم سے کچھ نہ کہیو، اب یہ لازماً غرق ہو کے رہیں گے۔
Ayah 11:38

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

اور وہ کشتی بنانے لگا، اور جب جب اس کی قوم کے بڑوں کی کوئی جماعت اس کے پاس سے گزرتی تو اس کا مذاق اڑاتی۔ وہ ان کو جواب دیتا کہ اگر تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو تو جس طرح تم مذاق اڑا رہے ہو اسی طرح ہم بھی تمہارا مذاق اڑائیں گے

وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ ۣ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ ۭقَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَ۔ و یصنع الفلک، جعل یصنع الفلک، عربی زبان کے معروف اسلوب کے مطابق مضارع سے پہلے فعل ناقص حذف ہوگیا ہے۔ قوم نوح کی پھبتیاں : حضرت نوح ؑ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق کشتیاں بنانی شروع کردی۔ ان کی قوم کے متکبرین جو عذاب کی دھمکی ہی کو سرے سے نعوذ باللہ لاف زنی سمجھتے تھے، انہوں نے جب دیکھا کہ عذاب سے بچاؤ کے لیے کشتی بھی بننی شروع ہوگئی ہے تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس کو خلل دماغ ہی پر محمول کیا ہوگا اور جب جب پاس سے گزرتے ہوں گے خوب خوب پھبتیاں چست کرتے رہے ہوں گے اور کون اندازہ کرسکتا ہے کہ ان پھبتیوں کا حضرت نوح اور ان کے ساتھیوں کے دلوں پر کیا اثر پڑتا رہا ہوگا۔ لیکن انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو اس طرح کے امتحانات سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ اسی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس غیب سے وہ لوگوں کو ڈراتے ہیں اس پر ان کو کس درجے کا یقین ہوتا ہے۔ گویا وہ اس کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں، اگرچہ اپنے مخالفوں کو اس کو دکھا نہیں سکتے۔ ایک خاص اسلوب بیان : فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَ سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہم بھی اسی طرح کی مبتذل پھبتیاں تم پر چست کریں گے جس طرح کی پھبتیاں تم چست کر رہے ہو۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ آج جس طرح ہمارا یہ فعل تمہاری نگاہوں میں سامان مضحکہ ہے اسی طرح کل تمہارا انجام ہمارے لیے موجب ازدیاد ایمان و اطمینان ہوگا۔ آج تم ہنس رہے ہو کل کو تم رو وگے اور ہم نصرت الٰہی کے ظہور پر مسرور و مبتہج اور اپنے رب کے شکر گزار ہوں گے۔ بعض مرتبہ جملہ میں صوتی ہم آہنگی کے اقتضا سے لفظ ایک ہی استعمال ہوتا ہے لیکن اس کا مفہوم الگ الگ ہوتا ہے۔ جیسے کہ دنا ہم کما دانوا، میں ہے کسی کی مصیبت پر خوش ہونا عام حالات میں تو اچھی بات نہیں ہے لیکن جن لوگوں پر اس طرح حجت تمام ہوچکی ہو جس طرح حضرت نوح اور ان کے ساتھیوں نے اپنی قوم پر تمام کی ان پر عذاب الٰہی کا نزول حق کی فتح مندی اور باطل کی ہزیمت کا ایک یادگار واقعہ ہوتا ہے جس پر اہل ایمان کا خوش ہونا عین مقتضائے ایمان ہوتا ہے۔
Ayah 11:39

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

تم جلد جان لو گے کہ وہ کون ہیں جن پر وہ وہ عذاب آتا ہے جو ان کو رسوا کر کے رکھ دیتا ہے اور وہ قہر نازل ہوتا ہے جو ٹک کے رہ جاتا ہے

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ۔ یعنی ابھی تو تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو اور ہماری اس تیاری کو خلل دماغ پر محمول کر رہے ہو لیکن عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب تم دیکھ لوگے کہ رسوا کردینے والا اور ٹک جانے والا عذاب کن پر نازل ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عذاب دو قسموں کا ہوتا ہے۔ ایک تو وہ عذاب ہوتا ہے جس کا مقصد غافلین و منکرین کو جگانا اور جھنجھوڑنا ہوتا ہے تاکہ وہ داعی کی بات پر کان دھریں اور جس خطرے سے وہ ان کو آگاہ کر رہا ہے اس کے آثار دیکھ کر اگر متنبہ ہونا چاہیں تو متنبہ ہوجائیں۔ دوسرا وہ عذاب ہوتا ہے جو کامل اتمام حجت کے بعد رسول کے جھٹلانے والوں کی جڑ کاٹ دینے کے لیے نازل ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ کن عذاب ہوتا ہے جو ان لوگوں کو ہمیشہ کے لیے رسوا کردیتا ہے جو رسول کے انذار کا مذاق اڑاتے اور اس کی تنبیہات کو خلل دماغ پر محمول کرتے ہیں۔ یہ محض ایک جھونکا نہیں ہوتا جو آیا اور گزر گیا بلکہ جس قوم اور جس پستی پر نازل ہوتا ہے وہیں ڈیرے ڈال دیتا ہے اور اس کی عبرت انگیز سرگزشت آثار اور کھنڈروں کی شکل میں بھی اور تاریخ کے صفحات میں بھی محفوظ ہوجاتی ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی ان کے انجام سے سبق حاصل کریں۔ نیز یہی عذاب دیباچہ بن جاتا ہے اس ابدی عذاب کا جس سے ان کو آخرت میں سابقہ پیش آئے گا۔
Ayah 11:40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور طوفان ابل پڑا، ہم نے اس کو کہا کہ ہر چیز میں سے نر و مادہ دونوں کو اور اپنے اہل و عیال کو، بجز ان کے جن پر حکم نافذ ہوچکا ہے، اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، اس کشتی میں سوار کرالو، اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کی تعداد تو بس تھوڑی ہی تھی

ﱑ اِذَا جَاۗءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّوْرُ ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ ۭ وَمَآ اٰمَنَ مَعَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلٌ۔ فار یفور کے معنی جوش مارنے کے ہیں۔ یہ لفظ پکتی ہوئی ہانڈی کے جوش مارنے کے ہیں۔ یہ لفظ پکتی ہوئی ہانڈی کے جوش مارنے اور ابلنے کے لیے بھی آتا ہے اور بھڑکتے ہوئے تنور کے جوش مارنے کے لیے بھی۔ یہاں فار التنور کا محاورہ بطریق استعارہ اس سائیکلونی طوفانی کی تعبیر کے لیے استعمال ہوا ہے جو قوم نوح پر آیا، جس سے سخت بارش بھی ہوئی اور آس پاس کے سمندروں کا پانی بھی ابل پڑا۔ حضرت استاز ؒ، سورة ذاریات کی تفسیر میں، قوم نوح کے عذاب کی نوعیت واضح کرتے ہوئے آخر میں خلاصہ بحث یوں ہوئی، تحریر فرماتے ہیں۔ " اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ قوم نوح پر تند اور چکر دار ہوا کا طوفان آیا جس سے سخت بارش ہوئی، پاس کے سمندر کا پانی ابل پڑا اور ہر طرف سے موجیں اچھلنے لگیں۔ اس طوفان کے اندر نوح ؑ کا سفینہ کوہ جودی پر جاٹکا۔ تفسیر سورة ذاریات از فراہی۔ امر سے مراد اس آیت میں میں بھی اور آگے آیت 43 میں بھی وہ عذاب ہے جو حکم الٰہی سے ظہور میں آیا۔ فرمایا کہ جب عذاب آیا اور طوفان ابل پڑا۔ ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر چیز میں سے نر و مادہ دو دو کو اپنے اہل و عیال کو اور جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کو اس کشتی میں سوار کرالو۔ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ۔ یعنی تمہارے اہل میں سے وہ لوگ اس میں شامل نہیں ہیں جن کے باب میں خدا کا فیصلہ پہلے ہی صادر ہوچکا ہے۔ اس فیصلہ سے مراد وہ فیصلہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے شیطان کو روز اول ہی اس کے الٹی میٹم کے جواب میں سنا دیا تھا کہ جنوں اور انسانوں میں سے جو تیری پیروی کریں گے میں ان سب کو جہنم میں بھردوں گا۔ مطلب یہ ہے کہ جو اس حکم ازلی کی زد میں آچ کے ہیں وہ تو اس میں سوار ہونے سے محروم رہیں گے۔ باقی کو اس میں سوار کرالو۔ ایمان سے محروم اکثریت گندگی کا ڈھیر ہے : وَمَآ اٰمَنَ مَعَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلٌ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ ہولناک طوفان تمام موجود انسانوں کی عظیم اکثریت کو بہا لے گیا صرف تھوڑے سے لوگ، جو حضرت نوح پر ایمان لائے تھے، اس سے محفوظ رہے۔ اس سے اللہ جل شانہ کی بےنیازی کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ اس کی نگاہوں میں وہ اکثرتیت گندگی کا ایک ڈھیر ہے جو ایمان سے محروم ہے، وہ اس گندگی سے اپنی زمین کو پاک ہی دیکھنا پسند کرتا ہے اور مجرد اس بنیاد پر کہ مقدار زیادہ ہے اپنی زمین پشت پر اس کو لادے رکھنا پسند نہیں کرتا۔ ساتھ ہی اہل ایمان کے لیے اس کی بےپایاں رحمت کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ ہرچند ان کی تعداد کتنی ہی کم ہو، لیکن خدائے رءوف و رحیم ان جواہر ریزوں کی ہر حال میں اپنے دامن رحمت میں حفاظت فرماتا ہے یہاں تک کہ طوفان نوح بھی ان کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ اس پہلو سے اس تکڑے میں قریش کی مغرور اکثریت کے لیے وعید بھی ہے اور ان کے اندر کے ان قلیل التعداد اور مظلوم مسلمانوں کے لیے عظیم پیغام تسلی بھی جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے تھے اور اس دور میں قریش کے ظلم و ستم کے ہدف بنے ہوئے تھے۔
Ayah 11:41

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور اس نے کہا کہ اس میں سوار ہوجاؤ، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا اور اس کا لنگر انداز ہونا۔ میرا رب بڑا ہی بخشنے والا اور مہربان ہے

وَقَالَ ارْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖ۩ىهَا وَمُرْسٰىهَا ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ مومن کا مرکز نگاہ : اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت نوح نے اپنے ساتھیوں کو کشتی میں سوار ہوجانے کی دعوت دی اور پہلا کلمہ جو موقع پر ان کی زبان سے نکلا وہ بسم اللہ مجریھا ومرساھا۔۔۔ الایۃ۔ ہے۔ یہ کلمہ اس حقیقت کی تعبیر ہے کہ اسباب و وسائل بجائے خود کتنی ہی اہمیت کیوں نہ رکھتے ہو لیکن مومن کا اصلی اعتماد اسباب و وسائل پر نہیں بلکہ خدائے رحمان و رحیم کی رحمت و عنایت پر ہوتا ہے۔ اس کی عنایت شامل حال ہو تو مّواج و متلاطم سمندر کے اندر لکڑی کا ایک ٹوٹا ہوا تختہ بھی آدمی کے لیے سہارا بن جاتا ہے اور اگر یہ عنایت شامل حال نہ تو عظیم الشان ٹائی ٹینک بھی چشم زدن میں موجوں کا لقمہ بن جاتا ہے اور سائنس کی ساری کارفرمائیاں بےحقیقت ثابت ہوتی ہیں۔ ہمارے پیغمبر ﷺ نے ہر کام کا آغاز بسم اللہ سے جو کرنے کی ہدایت فرمائی ہے اس میں اصل رمز یہی ہے کہ ہماری نگاہ صرف اسباب پر ٹک کے نہ رہ جائے بلکہ اسباب کے پس پردہ جو مسبب الاسباب ہے وہ بھی نگاہ میں رہے اس لیے کہ اسباب اسی کے اذن سے کام کرتے ہیں۔ آخر میں غفور رحیم کی صفات کا حوالہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ جس طرح مجرد اسباب پر بھروسہ جائز نہیں ہے اسی طرح اپنے اعمال پر بھی، خواہ وہ کتنے ہی نیک کیوں نہ ہوں۔ غرہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اصل بھروسہ خدا کی مغفرت و رحمت ہی پر ہونا چاہیے کون جانتا ہے کہ خدا کی میزان میں کس کے عمل کا کیا وزن ٹھہرتا ہے۔
Ayah 11:42

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ کشتی پہاڑوں کی طرح اٹھتی موجوں کے درمیان ان کو لے کر چلنے لگی اور نوح نے اپنے بیٹے کو، جو اس سے الگ تھا، آواز دی کہ اے میرے بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور ان کافروں کا ساتھ نہ دے

وَهِىَ تَجْرِيْ بِهِمْ فِيْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ ۣ وَنَادٰي نُوْحُۨ ابْنَهٗ وَكَانَ فِيْ مَعْزِلٍ يّٰبُنَيَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ۔ حضرت نوح ؑ کی وفاداری کا آخری امتحان : کشتی متلاطم موجوں کے اندر چل رہی تھی۔ موجیں اس طرح اٹھ رہیں تھیں گویا کالے پہاڑ اٹھ رہے ہوں (یہ صحیح تصویر ہے طوفانی سمندر کے اندر موجوں کے اٹھنے کی) اتنے میں حضرت نوح ؑ نے دیکھا کہ کچھ فاسلے پر ان کا بیٹا (تورات میں اس بیٹے کا نام کنعان آیا ہے) کھڑا ہے۔ اس کو دیکھ کر شفقت پدری جوش میں آگئی۔ اس کو آواز دے کر پکارا۔ یبنی ارکب معنا ولا تکن مع الکافرین " اس پکار میں بیک وقت شفقت اور دعوت دونوں کی روح سموئی ہوئی۔ یبنی باپ کی طرف سے بیٹے کے لیے نہایت پیار کا خطاب ہے اور ولا تکن مع الکافرین، میں گویا آخری دعوت ہے کہ لخت جگر اب بھی موقع ہے کہ ان کافروں کا ساتھ چھوڑ کر ہم میں شامل ہوجا۔ وَهِىَ تَجْرِيْ کا صیغہتصویر حال کے لیے ہے۔ اسی طرح وکان فی معزل کے الفاظ بھی اسی لیے وارد ہوئے کہ سارا منظر قاری کی نگاہوں کے سامنے آجائے۔ طوفانی ہوائیں چل رہی ہیں۔ موسلا دھار بارش ہورہی ہے، پہاڑوں کی طرح موجیں اٹھ رہی ہیں۔ ان موجوں کے تھپیڑوں سے حضرت نوح کی کشتی نبر آزما ہے کہ اتنے میں نگاہ جو اٹھتی ہے تو دیکھتے ہیں کہ کچھ فاسلے پر جوان سال بیٹآ حالت سے ششدر و سراسیمہ کھڑا ہے۔ آخر یہ بھی تو ممکن تھا کہ یہ منظر ان کو نہ دکھایا جاتا، جس طرح دوسرے بہت سارے کفار ان کی نگاہوں سے اوجھل رہ کر ڈوبے اسی طرح یہ بھی نگاہوں سے دور کہیں کسی موج کا لقمہ بن جاتا۔ لیکن نہیں، اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ حضرت نوح بیٹے کے ڈوبنے کا عبرت انگیز تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ یہ حضرت نوح ؑ کی وفاداری کا آخری امتحان تھا۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرات انبیاء کیسے کیسے امتحانوں سے گزارے جاتے ہیں لیکن اللہ کی توفیق سے وہ ہر امتحان میں ثابت قدم رہتے ہیں۔ نیز اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ خدا کا قانون جب اتنا بےلاگ ہے نوح کا بیٹا بھی نافرمان ہو تو وہ اس کی گردن بھی عین باپ کے سامنے دبا دیتا ہے تو تابہ دیگراں چہ رسد۔
Ayah 11:43

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

وہ بولا کہ میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا، آج اللہ کے قہر سے کوئی بچانے والا نہیں ہے مگر وہی جس پر رحم فرمائے۔ اور ان دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی اور وہ بھی غرق ہونے والوں میں سے ہو کے رہا

قَالَ سَاٰوِيْٓ اِلٰي جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَاۗءِ ۭ قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ۔ ہولناک ٹریجڈی کا آخری منظر : بیٹآ بھی بڑا ہی ہٹی تھا۔ یہ ہولناک منظر دیکھ کر بھی اس کی ہیکڑی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ باپ کی اس شفقت بھری دعوت کے جواب میں بولا کہ کچھ پروا نہیں، میں کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا، وہ مجھے اس پانی سے بچا لے گا۔ حضرت نوح نے فرمایا کہ یہ پانی، بلکہ قہر الٰہی ہے جس سے آج کوئی بچانے والا نہیں بن سکتا۔ صرف وہی اس سے بچ سکے گا جس پر اللہ ہی رحم فرمائے۔ اتنے ایک موج بات اور بیٹے کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی غرق ہو کے رہا۔ یہ اس ہولناک ٹریجڈی کا آخری منظر تھا۔ اس کے سامنے آجانے کے بعد فوراً آسمان و زمین سب کو احکام صادر ہوگئے کہ بس اب کام پورا ہوچکا۔
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم ہوا کہ اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا اور پانی اتار دیا گیا اور معاملے کا فیصلہ ہوگیا اور کشتی کوہ جودی پر جا لگی اور اعلان کردیا گیا کہ ظالموں پر خدا کی پھٹکار ہے

وَقِيْلَ يٰٓاَرْضُ ابْلَعِيْ مَاۗءَكِ وَيٰسَمَاۗءُ اَقْلِعِيْ وَغِيْضَ الْمَاۗءُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ وَاسْـتَوَتْ عَلَي الْجُوْدِيِّ وَقِيْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ۔ زمین کو حکم ہوا کہ اپنا پانی نگل لے۔ آسمان کو حکم ہوا کہ بس اب تھم جا۔ " اقلاع " کے معنی کسی کام سے رک جانے کے بھی ہیں۔ یا سماء اقلعی، ای امس کی من المطر " وغیض الماء " یعنی چڑھا ہوا پانی اتر گیا۔ غاض یغیض، لازم اور متعدی دونوں آتا ہے۔ غاض الماء پانی اتر گیا۔ غاض الماء پانی کو اتار دیا۔ یہاں متعدی استعمال ہوا ہے۔ " جودی " سے مراد الجودی کوہستان اراط کی ایک چوٹی کا نام ہے۔ تورات میں صرف اراراط کا ذکر ہے۔ قران نے خاص اس چوٹی کا ذکر کیا ہے جہاں کشتی جا کر ٹکی۔ اس سے طوفاتن کی ہولناکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ چند دنوں میں پانی کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا۔ اگر کسی محدود علاقہ میں بارش اتنی زیادہ ہو کہ نک اس کے تمام راستے اس کے پانی کو باہر نکالنے سے قاصر رہ جائیں تو وہاں پانی کا چڑھ جانا امر لازمی ہے۔ معذبین پر لعنت : بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ اظہار نفرت لعنت کا جملہ ہے۔ یعنی خس کم جہاں پاک ! ان ظالموں پر لعنت ہو ! " ظلم " سے یہاں اپنی جان پر ظلم مراد ہے یعنی اللہ نے تو ان کو نہایت اعلی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا لیکن انہوں نے اپنی بداعمالیوں سے اپنے آپ کو خدا کی زمین پر غلاظت کا ایک ڈھیر بنا لیا جس کو صاف کرنے کے لیے خدا کو ایک طوفان بھیجنا پڑا۔
Ayah 11:45

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا کہ اے میرے خداوند میرا بیٹا تو میرے اہل میں سے ہے اور تیرا وعدہ پکا ہے اور تو تمام فیصلہ کرنے والوں سے بڑھ کر فیصلہ کرنے والا ہے

وَنَادٰي نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِيْ مِنْ اَهْلِيْ وَاِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَاَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِيْنَ۔ بلاغت کلام کا ایک خاص پہلو : یہ دعا حضرت نوح نے اس وقت فرمائی ہے جب بیٹے کو ڈوبتے دیکھا اس وجہ سے بظاہر اس کا حوالہ آیت 43 کے ساتھ آنا تھا لیکن بلاغت کلام کے اقتضا سے اس کا ذکر مؤخر ہوگیا۔ گویا خدا کی نگاہوں میں یہ شخص، حضرت نوح کا بیٹا ہونے کے باوجود ایسا نابکار تھا کہ جب تک خدا نے اس کو غرق نہیں کرلیا۔ اس کے باب میں حضرت نوح کی دعا کو زیر بحث لانا بھی پسند نہیں فرمایا۔ اس غضب کی وجہ ظاہر کہ اس دنیا میں اگر کسی انسان کو سب سے بڑی سعدات اور خوش بختی حاصل ہوسکتی ہے تو وہ یہی ہوسکتی ہے کہ اگر وہ اس کی قدر نہ کرے اور دلی کے گھر میں شیطان بن کر اٹھے۔ چناچہ کلام کی ترتیب ہی سے یہ بات صاف عیاں ہے کہ اس شخص کو خدا نے سب سے زیادہ مبغوض قرار دیا۔ گویا سارے طوفان کا اصلی ہدف تھا ہی یہی کہ جب یہ ڈوب گیا تو معاً طوفان کے خاتمہ کا اعلان ہوگیا۔ حضرت نوح کی شفقت پدری : حضرت نوح نے یہ دعا شفقت پدری سے مغلوب ہو کر محض اہل کے اس لفظ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرمائی جو اوپر آیت 40 میں گزرا ہے کہ حضرت نوح کو حکم ہوا کہ " اس کشتی میں ہر چیز کے نر و مادہ اور اپنے اہل و عیال کو بجز ان کے جن کے باب میں خدا کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے، سوار کرالو " چونکہ اہل کے لفظ میں ان کا بیٹا کنعان بھی بظاہر لفظ میں شامل تھا اور یہ بات یقین کے ساتھ ان کے علم میں نہیں تھی کہ یہ خدا کے اس فیصلہ کی زد میں آچکا ہے جس کا حوالہ ہم نے اوپر الا من سبق علیہ القول کی وضاحت کرتے ہوئے دیا ہے۔ اس وجہ سے انہوں نے فریاد کی کہ اے رب، میرا یہ بیٹا بھی میرے اہل میں شامل ہے اور تیرا یہ وعدہ کہ تو میرے اہل کو اس کشتی کے ذریعہ سے نجات دے گا۔ سچا وعدہ ہے اور تو سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔ مطلب یہ کہ جب یہ تیرا سچا وعدہ موجود ہے تو میرا یہ بیٹا غرق کیوں وا ؟
Ayah 11:46

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

فرمایا، اے نوح وہ تمہارے اہل میں سے نہیں ہے، وہ نہایت نابکار ہے، مجھ سے اس چیز کے لیے درخواست نہ کرو جس کے باب میں تمہیں کچھ علم نہیں اور میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم جاہلوں میں سے نہ بنو

قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ڶ فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۭ اِنِّىْٓ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ۔ نبی کا گھرانہ ایمان و عمل صالح سے بنتا ہے :۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ یہ بیٹا تمہارے اس اہل میں شامل نہیں جن کے لیے نجات کا وعدہ تھا۔ نجات کا وعدہ صرف اہل ایمان کے لیے تھا اور تمہارے اہل میں سے اس میں وہی شامل تھے جو ایمان کے رشتہ سے تمہارے ساتھ وابستہ تھے۔ انہ عمل غیر صالح، یہ اسی طرح کا اسلوب بیان ہے جیسے کہیں زید عدل (زید سراپا عدل ہے) یعنی یہ شخص تمہارے اہل میں کیسے شمار ہوسکتا ہے۔ یہ تو بالکل نابکار و ناہنجار تھا۔ نبی کا گھرانا صرف نسب سے نہیں بنتا۔ بلکہ و عمل صالح سے بنتا ہے۔ یہ تو ان لوگوں میں شامل تھا جن کے باب میں ہمارا فیصلہ صادر ہوچکا ہے کہ ہم ایسے تمام لوگوں کو جہنم میں بھر دیں گے تو تم ہم سے کسی ایسی بات کے لیے درخواست نہ کرو جس کے باب میں تمہیں کوئی علم نہیں۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم جذبات سے مغلوب ہوجانے والوں میں سے نہ بنو۔ ہم دوسرے مقام میں لفظ " جہد " کی تحقیق بیان کرچکے ہیں کہ عربی میں اس کا اصلی مفہوم جذبات سے مغلوب ہوجانا ہے۔
Ayah 11:47

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

اس نے کہا کہ اے میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے کسی ایسی چیز کی درخواست کروں جس کے باب میں مجھے کوئی علم نہیں اور اگر تو میری مغفرت نہ کرے گا اور مجھ پر رحم نہ فرمائے گا تو میں نامرادوں میں سے ہوجاؤں گا

قَالَ رَبِّ اِنِّىْٓ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْـــَٔـلَكَ مَا لَيْسَ لِيْ بِهٖ عِلْمٌ ۭ وَاِلَّا تَغْفِرْ لِيْ وَتَرْحَمْنِيْٓ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ۔ حضرت نوح ؑ نے اس تنبیہ کے بعد فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

ارشاد ہوا اے نوح اترو، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ اپنے اوپر بھی اور ان امتوں پر بھی جو ان سے ظہور میں آئیں جو تمہارے ساتھ میں ہیں اور ایسی امتیں بھی اٹھیں گی جن کو ہم بہرہ مند کریں گے پھر ان کو ہماری طرف سے ایک عذاب دردناک پکڑے گا

قِيْلَ يٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَبَرَكٰتٍ عَلَيْكَ وَعَلٰٓي اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ ۭ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ حضرت نوح ؑ کو برکات کی بشارت : طوفان گزر جانے کے بعد یہ حضرت نوح کو ہدایت ہوئی کہ اب خدا کی طرف سے سلامتی اور برکتوں کے سایہ میں زمین پر اترو۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ کسی معذب قوم کے اندر سے جو لوگ اپنے ایمان اور اپنی عزیمت کی بدولت نجات پاتے ہیں چونکہ وہ آزمائش کی بھٹیوں سے گزر کر ہر قسم کے غل و غش سے بالکل پاک ہوجاتے ہیں اس وجہ سے رحمت الٰہی ان کی طرف خاص طور سے متوجہ ہوتی ہے اور ان کو اپنی خصوص برکات و افصال کے سایہ میں پروان چڑھاتی ہے۔ ان کی مثال نہایت صالح بیجوں کی ہوتی ہے جو صالح زمین اور ساز گار آب و ہوا میں پروان چڑھتے ہیں۔ اس وجہ سے ہرچند ان کی تعداد تھوڑی ہو لیکن وہ بہت جلد تمام اکناف کو گھیر لیتے ہیں۔ وعلی امم ممن معک، یعنی آج اگ بظاہر تمہارے ساتھ صرف چند نفوس ہیں لیکن چونکہ ان پر خدا کی رحمت و برکت ہے اس وجہ سے ان کے اندر بڑی بری قومیں اور ملتیں مضمر ہیں جو بالآخر ظہور میں آئیں گی اور تمام روئے زمین پر چھا جائیں گی۔ چناچہ تاریخ شاہد ہے کہ طوفان نوح کے بعد یہی نفوس از سر نو آبادی کا ذریعہ بنے۔ ایک تنبیہ : ومم سنمتعہم ثم یمسہم منا عذاب الیم : ساتھ ہی اس امر واقعہ سے آگاہ فرمایا کہ آئندہ ان کی نسل سے جو قومیں اٹھیں گی ان میں سب مبارک ہی نہیں ہوگی بلکہ ان میں ایسی قومیں بھی ہوں گی جو عروج پکڑیں گی اور ہم ان کو ایک خاص حد تک مہلت بھی دیں گے بالآخر ان کے اعمال کی پاداش میں ہم ان کو ایک دردناک عذاب میں پکڑیں گے۔
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ ماجرا غیب کی باتوں میں سے ہے جو ہم تم کو وحی کے ذریعہ سے سنا رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ہی اس کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم کے لوگ ہی، تو ثابت قدم رہو، انجام کار کی کامیابی خدا سے ڈرنے والوں ہی کا حصہ ہے

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا ړ فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ۔ آنحضرت ﷺ کی طرف التفات : یہ خاتمہ سرگزشت پر آنحضرت ﷺ کی طرف التفات ہے کہ یہ سرگزشت نہ تمہارے علم میں تھی اور نہ تمہاری قوم ہی کے۔ یہ محض اللہ کا فضل ہے کہ اس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے اس سے تم کو بھی آگاہ کیا اور تمہارے واسطہ سے تمہاری قوم کو بھی اس سے آگاہ ہونے کا سامان بہم پہنچایا۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ یہ سرگزشت اس واضح صورت میں، اپنے فوائد و نتائج کے ساتھ، پہلی مرتبہ قرآن ہی میں بیان ہوئی ہے۔ اس سے پہلے تورات میں اس کے بعض حصے بیان تو ضرور ہوئے تھے لیکن نہایت ہی پراگندہ اور مسخ شدہ شکل میں۔ پھر پچھلے صحیفوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ بھی ناواقف تھے اور آپ کی قوم کے لوگ بھی۔ یہ تو قرآن کا فیض ہے کہ اس نے تاریخ کے ان حقائق سے آگاہ کیا اور یہ حقائق جس طرح آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے لیے سبق آموز تھے اسی طرح آپ کی قوم اور آپ کے لیے بھی۔ فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ۔ یہ خلاصہ ہے اس سرگزشت کا۔ مطلب یہ ہے کہ اپنی دعوت پر جمے رہو۔ انجام کار کامیابی خدا سے ڈرنے والوں ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ تمہارے مخالف ناکام و مراد ہوں گے۔
Ayah 11:50

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو رسول بنا کر بھیجا اس نے ان کو دعوت دی کہ اے میری قوم کے لوگو، اللہ ہی کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ یہ تم محض افترا کر رہے ہو

وَاِلٰي عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ۭ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ۔ قوم عاد اور حضرت ہود : رسولوں کے باب میں یہ سنت الٰہی رہی ہے کہ ہر قوم کی طرف اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے رسول بھیجا تاکہ انہی کے اندر کا ایک بہترین آدمی، انہی کی زبان میں ان پر حجت تمام کرے اور قومی و لسانی اجنبیت بیچ میں حائل نہ ہونے پائے۔ اس طرح گویا اپنی ہی زبان اور اپنا ہی دل اپنے اوپر گواہی دیتا ہے اور خود اپنی ہی بھائی حق نصیحت ادا کرتا ہے جس کی ہر اس شخص کو قدر کرنی چاہیے جس کے اندر حق کی عزت ہے، اخاھم، کے لفظ سے اسی حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ ہم نے عاد کی طرف کسی غیر کو نہیں بلکہ انہی کے ایک بھائی کو رسول بنا کر بھیجا لیکن حق دشمنی کے جوش میں اس چیز کو بھی، جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی، انہوں نے اس کی مخالفت کا بہانہ بنا لیا۔ اعبدو اللہ ما لکم من الہ غیر۔ یہی توحید کی دعوت شروع سے تمام انبیاء کی مشترک دعوت رہی ہے اور اسی کی دعوت آنحضرت ﷺ نے بھی بلند کی تھی۔ ان انتم الا مفترون، یعنی اگر تم یہ دعوے کرتے ہو کہ کچھ اور معبود بھی ہیں جن کو خدا نے اپنا شریک ٹھہرایا ہے تو تم یہ خدا پر تہمت اور بہتان لگا رہے ہو۔ خدا نے کہیں بھی یہ نہیں کہا ہے کہ اس نے کسی کو شریک بنایا ہے۔
Ayah 11:51

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے میری قوم کے لوگو، میں اس پر تم سے کسی معاوضے کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تو بس اسی کے ذے ہے جس نے مجھے پیدا کیا تو کیا تم سمجھتے ہیں ؟

يٰقَوْمِ لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا ۭ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي الَّذِيْ فَطَرَنِيْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔ حضرت ہود کی بےقرار : یعنی میں اس طرح ٹوٹ ٹوٹ کر جو تمہیں سمجھا رہا ہوں تو اس لیے نہیں کہ اس کے عوض میں تم سے اپنا کوئی مفاد وابستہ رکھتا ہوں۔ یہ میں کوئی مال تجارت لے کر تمہارے پیچھے پیچھے نہیں پھر رہا ہوں۔ اگر تم نے نہ خریدا تو میرا کاروبار بیٹھ جائے گا۔ یہ تو محض تمہاری صلاح و فلاح کی آرزو ہے جو تمہاری تمام ناقدریوں کے باوجود مجھے چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تو خدارا میری بات توجہ سے سنو تو سہی۔ آخر میں اس کا کوئی معاوضہ تو نہیں مانگ رہا ہوں کہ تم میری بات سننے کے بھی روادار نہیں جہاں تک میرے اجر کا تعلق ہے وہ میرے اس رب کے ذمہ ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا ہے۔ میں تو تم کو کچھ دینا چاہتا ہوں، کچھ لینے کا خواہشمند نہیں ہوں۔ کیا اتنی واضح بات تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔
Ayah 11:52

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو، اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع کرو وہ تم پر خوب خوب اپنا ابر کرم برسائے گا اور تمہاری قوت میں اضافہ پر اضافہ فرمائے گا اور مجرمانہ روگردانی کی روش اختیار نہ کرو

وَيٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاۗءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا وَّيَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰي قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِيْنَ توبہ کی دعوت اور اس کی برکات : یہ قوم کو توبہ کی دعوت ہے کہ شرک اور نافرمانی سے تائب ہو کر خالص اپنے رب سے اپنے تعلق کو استوار کرو ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ توبہ کے دو رکن ہیں۔ ایک منفی دوسرا مثبت۔ منفی تو یہ ہے کہ آدمی نے جو گلط عقائد و اعمال اختیار کر رکھے ہیں ان سے دست بردار ہو، مثبت یہ ہے کہ ان کی جگہ صحیح عقائد و اعمال اختیار کرے۔ پہلے کے لیے استغفار کا لفظ ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اپنے رب سے ملتجی ہو کہ وہ اس کے گناہوں سے درگزر فرمائے اور ان پر اپنے عفو و کرم کا پردہ ڈالے۔ دوسرے کے لیے توبہ کا لفظ ہے جس کے معنی رجوع کرنے کے ہیں۔ یعنی بندہ زندگی کی اس صراط مستقیم کی طرف رجوع کرے جو خدا نے اس کو بتائی ہے اور جو اس کو خدا تک پہنچانے والی ہے۔ ان میں سے پہلے کی بنیاد خشیت پر ہے اور دوسرے کی محبت پر، پھر شعور اور احساس ان کا لازمی جزو ہے۔ جب تک یہ تمام عناصر جمع نہ ہوں۔ مجرد، توبہ توبہ، یا استغفر اللہ، کے ورد سے وہ توبہ وجود میں نہیں آتی جو خدا کے ہاں قبولیت کا درجہ پائے۔ یرسل السماء علیکم مدرارا یزدکم قوۃ الی قوتکم۔ خوب خوب بارش برسانا رزق و فضل میں زیادتی کی تعبیر ہے۔ ور یزدکم قوۃ الی قوتکم سے سیاسی قوت و شوکت میں اضافہ کی طرف اشارہ ہے۔ یہ اجتماعی توبہ کی برکتیں بیان ہوئی ہیں۔ مطلب یہ کہ یہ خیال نہ کرو کہ آسمان سے بارش تمہارے دیوتا برساتے ہیں اور میدان جنگ میں فتح تمہیں وہ دلاتے ہیں اس وجہ سے اگر تم نے ان کو چھوڑ دیا تو رزق سے بھی محروم ہوجاؤ گے اور تمہاری سیاسی جمعتی بھی پارہ پارہ ہوجائے گی۔ تمہارے یہ خیالات بالکل وہم پر مبنی ہیں۔ آسمان و زمین سب پر صرف خدا ہی کی بادشاہی ہے۔ اس وجہ سے اگر کوئی قوم اللہ کی طرف رجوع کرتی اور اس کی رسی مضبوطی سے پکڑ لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسمان و زمین سب کی برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے اور چہار دانگ عالم پر اس کی حکومت قائم ہوجاتی ہے۔ استغفار و توبہ کی جو دعوت تمہیں ہمارا رسول دے رہا ہے اس کو فرمانبردارانہ قبول کرو، اس سے مجرمانہ منہ نہ موڑو۔ اگرچہ یہاں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اجتماعی توبہ کی برکتیں بیان ہوئی ہیں لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ انفرادی توبہ ان برکتوں سے خالی ہوتی ہے۔ جو بندہ گناہ کی زندگی سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اللہ تعالیٰ رزق طیب سے اس کی کفالت فرماتا اور اس کو سکینت و طمانیت کی لازوال بادشاہت بخشتا ہے۔
Ayah 11:53

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

وہ بولے کہ اے ہود تم ہمارے پاس کوئی کھلی نشانی لے کر تو آئے نہیں اور ہم مجرد تمہارے کہنے سے تو اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور ہمہ ہرگز تمہیں ماننے والے نہیں

قَالُوْا يٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَّمَا نَحْنُ بِتَارِكِيْٓ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ۔ قوم کی طرف معجزہ کا مطالبہ۔ بینۃ سے مراد یہاں کوئی کھلا ہوا حسی معجزہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارا اتنا بڑا دعوی کہ تم خدا کے رسول ہو کر ہمارے پاس آئے ہو اور اتنا بڑا مطالبہ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں، مجرد تمہارے کہہ دینے سے کس طرح قبول کرلیں ؟ ہم یہ دعوی اور مطالبہ تو صرف اس صورت میں مان سکتے تھے جب تم کوئی کھلا ہوا معجزہ دکھاتے۔ لیکن جب تم اس طرح کا کوئی معجزہ لے کر نہیں آئے تو ہم مجرد تمہارے کہے پر نہ اپنے معبودوں ہی کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں اور نہ تمہارے اس دعوے ہی کی تصدیق کے لیے تیار ہیں کہ تم خدا کے رسول ہو۔
Ayahs 11:54–55

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہی ن کہیں گے کہ تم پر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑی ہے۔ اس نے کہا میں اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو میں ان سے بالکل بری ہوں

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

اس کے سوا۔ تو تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل دیکھو، پھر مجھے ذرا مہلت نہ دو

54۔ 55:۔ اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْۗءٍ ۭ قَالَ اِنِّىْٓ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَاشْهَدُوْٓا اَنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ۔ مِنْ دُوْنِهٖ فَكِيْدُوْنِيْ جَمِيْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ۔ حضرت ہود کی غیرت حق : اعتراء کے معنی پہنچنے اور لاحق ہونے کے ہیں، یعنی تمہارا یہ دعوی اور یہ مطالبہ تسلیم کرنا تو الگ رہا۔ ہمارا کہنا تو یہ ہے کہ تم پر ہمارے معبودوں ہی میں سے کسی کی مار پڑی ہے جس کے اثر سے تم باؤلے ہو کر اس قسم کی بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہو۔ ان کی یہ بات سنتے ہی حضرت ہود کی غیرت توحید بھڑک اٹھی۔ انداز کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ انہوں نے ان کی بات کاٹ کر فوراً پورے جوش کے ساتھ جواب دیا کہ میں اللہ کو گواہ کرکے کہتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ اللہ کے سوا تم جن چیزوں کو شریک مانتے ہو، میں ان سے بری ہوں۔ فکیدونی جمیعا ثم لاتنظرون۔ اعلان براءت کے ساتھ یہ چیلنج ہے کہ اگر تمہارا گمان یہ ہے کہ تمہارے یہ معبود مجھے کوئی ضرر پہنچا سکتے ہیں تو تم اور تمہارے یہ سارے معبود مل میرے ساتھ جو داؤ گھات کرنا چاہتے ہو کر ڈالو اور پھر مجھے ذرا مہلت نہ دو۔ یعنی اپنے ترکش کے آخری تیر بھی آزما دیکھو کہ دل میں کوئی ارمان باقی نہ رہ جائے۔
Ayah 11:56

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں نے اللہ، اپنے اور تمہارے رب پر بھروسہ کیا، جتنے بھی جاندار ہیں ان کی پیشانی اسی کی گرفت میں ہے۔ بیشک میرا رب نہایت سیدھی راہ پر ہے

اِنِّىْ تَوَكَّلْتُ عَلَي اللّٰهِ رَبِّيْ وَرَبِّكُمْ ۭ مَا مِنْ دَاۗبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۔ مومن کی ڈھال توکل : یہ ہے مون و موحد کی وہ ڈھال جس کے بل پر حضرت ہود نے مذکورہ بالا چیلنج دیا۔ فرمایا کہ میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا رب بھی ہے اور تمہاری بھی۔ مجال نہیں ہے کہ اس کے اذن کے بغیر کسی کو کوئی گزند پہنچا سکے۔ مامن دابۃ الا ھو اخذ بنا صیتھا۔ کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جو اس کے قبضہ قدرت سے باہر ہو۔ سب کی پیشانی اس کی مٹھی میں ہے۔ وہ جس کو جدھر چاہے اس کی چوٹی پکڑ کر موڑ دے اور جہاں چاہے روک لے۔ ان ربی علی صراط مستقیم، اور یہ نہ سمجھو کہ مجھے اپنے رب تک پہنچنے کے لیے بہت سی کج پیچ کی راہوں سے گزرنے اور تمہارے عقیدے کے مطابق بہت سے واسطوں اور وسیلوں کی ضرورت ہو۔ بلکہ میری عقل اور میری فطرت کو اس سے براہ راست رطب ہے۔ اس تک پہنچنے کے لیے یہ کافی ہے کہ میں صدق دل سے اس کی طرف متوجہ ہوجاؤں، اگر میں متوجہ ہوں جاؤں تو وہ بالکل سیدھی راہ پر میرے سامنے ہے، یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مشرکین کا عقیدہ یہ تھا کہ خدا تک پہنچنے کا واسطہ ان کے اصنام ہی ہیں اس وجہ سے بغیر ان کی عبادت کے کوئی خدا کو نہیں پاسکتا۔ اپنے اسی عقیدے کو وہ یوں پیش کرتے تھے۔ کہ ما نعبدہم الا لیقربونا الی اللہ زلفی (ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو خدا سے قریب کردیں) ان کے اسی عقیدے کی بنا پر قرآن نے ان کا جرم یہ بتایا ہے کہ وہ خدا تک پہنچنے کی سیدھی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں اور اس سیدھی راہ کو کج کرنا چاہتے ہیں (الذین یصدون عن سبیل اللہ ویبغونہا عوجا : حضرت ہود نے اسی عقیدہ باطل کی تردید فرمائی ہے اور غور کیجیے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ جب تک آدمی کے اندر خدا کے قرب واتصال کا وہ تصور موجود نہ ہو جو ایک سچے موحد کے اندر ہوتا ہے اس وقت تک اس کو خدا پر وہ توکل نہیں ہوسکتا کہ حضرت ہود کی طرح ساری خدائی کو چیلنج کرسکے۔
Ayah 11:57

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

پس اگر تم اعراض کر رہے ہو تو میں نے تمہیں وہ پیغام پہنچا دیا جو دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے۔ اور میرا رب تمہاری جگہ اب تمہارے سوا کسی اور قوم کو لائے گا اور تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکو گے۔ میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِهٖٓ اِلَيْكُمْ ۭ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّيْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۚ وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ۔ حضرت ہود کی آخری تنبیہ : یہ حضرت ہود کی طرف سے آخری تنبیہ ہے کہ اگر تم اسی اعراض کی روش پر اڑے رہنے کا فیصلہ کرچکے ہو تو اب نتائج کی تمام ذم داری تمہارے ہی سر ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا وہ میں تمہیں واضح طور پر پہنچا چکا ہوں۔ اب آگے کا مرحلہ یہ ہے کہ میرا رب تمہاری جڑ کاٹ دے گا۔ یستخلف ربی قوما غیرکم اور تمہاری جگہ تہارے سوا کسی اور قوم کو متمکن کردے گا۔ ولا تضرونہ شیئا۔ اور یہ نہ سمجھو کہ تمہارے اجڑ جانے سے خدا کی دنیا اجڑ جائے گی۔ تمہارا فنا ہوجانا اس کے یا اس کی دنیا کے لیے ضرا بھی ضرر رساں نہیں وہ ہر چیز کا نگران اور محافظ ہے۔ جو چیز بگڑ جاتی ہے اس کو ہٹا کر اس جگہ دوسری نئی چیز لا دیتا ہے۔ یہ نہیں ہے کہ وہ ایک مرتبہ اس دنیا کو بنا کر پھر اس سے بےتعلق ہو کر بیٹھ رہا ہو بلکہ وہ برابر اس کی نگرانی بھی کر رہا ہے۔ اگر کوئی قوم اپنے حدود سے گزر جاتی ہے تو ایک خاص حد تک ملت دینے کے بعد اس کو درست بھی کردیتا ہے۔
Ayah 11:58

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا عذاب آ دھمکا ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے، اپنے فضل خاص سے نجات بخشی۔ اور ہم نے ان کو ایک نہایت ہی سخت عذاب سے بچایا

وَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُوْدًا وَّالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا ۚ وَنَجَّيْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِيْظٍ۔ قوم عاد کے عذاب کی نوعیت : " امر " سے مراد یہاں وہ عذاب ہے جو امر الٰہی کے تحت ظہور میں آیا۔ اس عذاب کی نوعیت کیا تھی ؟ اس کی کوئی تفصیل یہاں نہیں ہے۔ ہمارے استاذ مولانا فراہی نے سورة ذاریات کی تفسیر میں اس کی نوعیت پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ اس بحث کی تمہید مولانا نے یوں اٹھائی ہے۔ " قرآن مجید میں قوم عاد کی ہلاکت کی جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں ان پر جو شخص غور کرے گا اس سے حقیقت مخفی نہیں رہ سکتی کہ وہ تند ہوا کے ذریعے سے ہلاک کیے گئے جس کے ساتھ سرما کے وہ بادل بھی تھے جو ہمیشہ رعد و برق کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں۔ قرآن میں جہاں ان کی تباہی کا ذکر ہوا ہے ہوا کے ساتھ پانی سے خالی بادلوں اور صاعقہ کا بھی ذکر ہوا ہے۔ سورة احقاف میں ہے۔ فلما راوہ عارضا مستقبل اودیتہم قالوا ھذا عارض ممطرنا بل ھو اماستعجلہتم بہ ریح فیہا عذاب الیم تدمر کل شیء بامر ربہا۔ پس جب انہوں نے اس (عذاب کو) دیکھا ابر کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے، بولے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسنے والا ہے بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے تھے۔ باد تند، جس کے ادنر ایک دردناک عذاب ہے۔ یہ اکھاڑ پھینکے گی ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے)۔ ظاہر یہ تمام خصوصیات موسم کی باد تند کی ہیں۔ اس زمانے میں، عرب بادشامل صر صر کی شکل میں نمودار ہوتی ہے اور قحط و خشکی کی ایک عام نحوست اور تباہی ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ سورة قمر میں اسی چیز کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ انا ارسلنا علیہم ریحا صرصرا فی یوم نحس مستمر (اور ہم نے ان پر باد صرصر چلا دی قائم رہنے والی نحوست کے زمانے میں) اسی طرح سورة۔۔ میں ہے فارسلنا علیہم ریحا صرصرا فی ایام نحسان (پس ہم نے ان پر باد صر صر چلا دی نحوست کے زمانے) باد صر صر کے یہ طوفان، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، عرب میں جاڑوں میں ظاہر ہوتے ہیں اور یہی زمانہ ان کے ہاں نحوست اور فاقہ کا سمجھا جاتا ہے " (تفسیر سورة ذاریات فراہی۔ فصل 17) اہل ایمان پر اللہ کا فضل : جب یہ عذاب نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق اپنے رسول حضرت ہود اور ان کے باایمان ساتھیوں کو اپنے فضل ؒ خاص سے اس عذاب سے بچا لیا اور باقی سب کو فنا کردیا۔ برحمۃ منا سے اس رحمت کی عظمت و شان ظاہر ہورہی ہے اس لیے کہ جو عذاب پورے علاقہ پر آیا، اس سے تھوڑے سے مخصوص لوگوں کو اس طرح اپنی رحمت کے پروں کے نیچے چھپا کر بچا لینا عنایت الٰہی کا ایک عظیم کرشمہ ہے، ونجایناہم من عذاب غلیظ۔ یعنی یہ نہ سمجھو کہ ہم نے انہیں کسی معمولی آفت سے چھڑایا بلکہ نہایت ہی سخت و شدید عذاب سے چھڑایا۔ اس سے عذاب کی ہولناکی کا بھی اظہار ہو رہا ہے اور اس عظیم رحمت کا بھی جو حضرت ہود اور ان کے ساتھیوں کے لیے ظاہر ہوئی۔ مفسرین نے عام طور پر اس سے عذاب آخرت مراد لیا ہے لیکن ہم نے جو اس کا خاص پہلو واضح کیا ہے وہ موقع و محل سے نہایت واضح مناسبت رکھتا ہے۔