Ayah 11:99وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ۔ " رد " کے معنی عطیہ اور انعام کے ہیں۔ یعنی اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی ہے اور آخرت میں بھی یہ لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی اور کیا ہی برا ہے یہ انعام جو ان کو عطا ہوا ! !
Ayah 11:100آگے کا مضمون۔ آیات 100۔ 123:۔ اب آگے خاتمۂ سورة کی آیت ہیں۔ اس میں ان حقائق کی طرف توجہ دلائی ہے جو ماضی کی سرگزشتوں کے اندر مضمر ہیں اور جن کو مخاطب کے سامنے لانے ہی کے لیے یہ سنائی گئی ہیں۔ ان کے اندر قریش کے لیے جو سبق ہیں ان کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اور نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو ان سے جو تعلیم ملتی ہے اس کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰي نَقُصُّهٗ عَلَيْكَ مِنْهَا قَاۗىِٕمٌ وَّحَصِيْدٌ۔
پچھلی سرگزشتوں کی طرف اشارہ : پیچھے جن قوموں کی سرگزشتیں سنائی گئی ہیں ان کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے نبی ﷺ کو اور آپ کے واسطہ سے آپ کی قوم کو توجہ دلائی کہ یہ سرگزشتیں ہم سنا رہے ہیں کہ ان سے تمہیں بھی قوت و حوصلہ حاصل ہو اور تمہاری قوم کے لوگ بھی ان سے سبق حاصل کریں۔ اس مضمون کو آگے آیت 120 میں اچھی طرح واضح فرما دیا ہے۔ مِنْهَا قَاۗىِٕمٌ وَّحَصِيْدٌ یعنی ان بستیوں میں سے بعض قائم ہیں جن کو دیکھ سکتے ہو اور بعض ان میں سے بالکل ملیا میٹ ہوگئیں۔ حصید، کٹی ہوئی فصل کو کہتے ہیں۔ یہاں یہ ان بستیون کے لیے استعمال ہوا ہے جو عذاب الٰہی سے یک قلم نیست و نابود ہوگئیں۔ قائم کی ایک مثال مصر ہے جس کے اندر سے فرعون اور اس کی قوم کو خدا نے نکالا اور لے جا کر سمندر میں غرق کردیا۔ مکان قائم رہ گئے۔ مکین ناپید ہوگئے۔ حصید سے مراد قوم ہود اور قوم لوط وغیرہ کی بستیاں ہیں جن کے مکان و مکین سب ناپید ہوگئے۔ صرف کسی کسی کے کچھ آثار اپنے مکینوں کی بدبختی کی داستانِ عبرت سنانے کے لیے رہ گئے۔ یہ بات قریش کو سنا کر اس لیے کہی گئی ہے کہ اگر وہ اپنی اس ضدم ضدا کی روش پر قائم ہیں تو لازماً انہیں ان دو فہرستوں میں سے کسی ایک میں اپنا نام لکھانا پڑے گا۔ ان کے اندر رسول کی بعثت کے بعد اب ان کا فیصلہ بھی لازماً ہونا ہے۔
Ayah 11:101وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ فَمَآ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيْ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ لَّمَّا جَاۗءَ اَمْرُ رَبِّكَ ۭ وَمَا زَادُوْهُمْ غَيْرَ تَتْبِيْبٍ۔ یعنی یہ نہ سمجھو کہ ہم نے ان کو تباہ جو کردیا تو یہ ان کے اوپر ہم نے کوئی ظلم کیا۔ ہم نے ان کے اوپر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ اللہ نے ان کو جن اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا تھا وہ سب انہوں نے برباد کیں اور خدا اپنے رسول کے احکام کی نافرمانی کر کے خود اپنی تباہی کے اسباب فراہم کیے۔ فَمَآ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيْ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ لَّمَّا جَاۗءَ اَمْرُ رَبِّكَ ، اور جب خدا کا حکم عذاب آیا تو ان کے وہ سارے دیوی دیوتا جن کو وہ خدا کے سوا پوجتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے۔ اس لیے کہ وہ سب ان کے وہم کی ایجاد تھے اور وہم حقیقت کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔ ومازادوہم غیر تتبیب۔ یعنی انہوں نے اضافہ کیا تو ان کی تباہی و بربادی ہی میں اضافہ کیا اس لیے کہ جھوٹے سہارے ضرورت کے وقت مصیبت اور محرومی ہی میں اضافہ کرتے ہیں۔ اگر پیاسا سراب کو پانی سمجھ کر اس کی طرف بھاگے تو جس وقت اس کے سامنے اصل حقیقت واضح ہوگی اس وقت موت اس کے سامنے ہر طرف سے منہ کھولے ہوئے کھڑی ہوگی اور زندگی کی تمام راہیں مسدود ہوچکی ہوں گی حالانکہ اگر وہ اس مغالطے میں نہ مبتلا ہوا ہوتا تو ممکن تھا کہ زندگی بچالینے کی کوئی نہ کوئی راہ اس کے لیے کھل ہی جاتی۔
Ayah 11:102وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ۔
قریش کو تنبیہ : یعنی جب خدا قوموں اور بستیوں کو ان کے ظلم، ان کی سرکشی اور ان کے طغیان کی سزا دیتا ہے تو اسی طرح دیتا ہے جس طرح ان قوموں کو دی جن کی سرگزشتیں اوپر بیان ہوئیں۔ اس وقت خدا کی پکڑ بڑی دردناک اور سخت ہوتی ہے۔ یہ بات نبی ﷺ کو مخاطب کر کے قریش کو سنائی گئی ہے کہ وہ متنبہ ہوں کہ اب ان کی قوم بھی اسی میزان میں ہے جس میں دوسری قومیں تولی جا چکی ہیں۔ خدا نے جو معاملہ ان قوموں کے ساتھ کیا ہے کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان کے ساتھ اس سے کوئی مختلف معاملہ کرے۔
Ayah 11:103اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ ۭ ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ۔
اس دنیا کی شہادت آخرت کے حق میں : یعنی قوموں کی یہ سرگزشتیں جس طرح نبیوں اور رسولوں کی تکذیب کا نجام ظاہر کرتی ہیں اسی طرح ان کے اندر عذاب آخرت سے ڈرنے والوں کے لیے بھی بہت بڑی نشانی ہے۔ ان واقعات سے اس دنیا کے خالق ومالک کی صفات سامنے آتی ہیں اور اس کی پسند و ناپسند کا معیار معین ہوتا ہے کہ جب وہ اس دنیا میں سرکشوں اور باغیوں کو عبرتناک سزائیں دیتا ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس نے اس مجموعی دنیا کے لیے کوئی روز جزا و سزا نہ رکھا ہو۔ پس ضرور ہے کہ ایک روز جزا و سزا آئے جس میں نیکو کار اپنی نیکیوں کا صلہ پائیں اور بدکار اپنی بدیوں کی سزا بھگتیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ تاریخ کے یہ واقعات شہادت دے رہے ہیں کہ یہ دنیا کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک عادل و حکیم خدا کی بنائی ہوئی دنیا ہے اس وجہ سے ضرور ہے کہ اس کے بعد ایک ایسا دن آئے جس میں اس کا عدل کامل ظاہر ہو اور ہر نیک و بد انپی نیکی و بدی کو اپنی آنکھوں دیکھ لے۔ ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ لَّهُ النَّاسُ ، یعنی یہ ایسا دن ہوگا کہ جس میں سب اکٹھے کیے جائیں گے۔ آگے جو گزرے وہ بھی اور پیچھے جو آئے وہ بھی، انبیاء بھی اور ان کی امتیں بھی، نیکی کی دعوت دینے والے بھی اور برائی کی راہیں دکھانے والے بھی، حاکم بھی اور محکوم بھی، شاہد بھی اور مشہود بھی تاکہ ہر متنفس اپنی نیکی کا صلہ پائے اگر اس نے نیکی کمائی ہے اور اپنی بدی کی سزا بھگتے اگر اس نے بدی کمائی ہے۔ ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ۔ یعنی یہ دن سب کی حاضری اور پیشی کا ہوگا تاکہ ہر معاملے کے سارے فریق سامنے موجود ہوں اور پورے انصاف کے ساتھ ان کا فیصلہ ہوسکے۔ یہ حقیقت قرآن میں دوسرے مقامات میں بھی ظاہر کی گئی ہے۔ ہم بعض آیات کا حوالہ دیتے ہیں تاکہ ذہن میں اس کا صحیح تصور قائم ہوسکے۔ " والسماء ات البروج والیوم الموعود و شاھد ومشہود : برجوں والے آسمان کی قسم، وعدہ کیے ہوئے دن کی قسم اور شاہد و مشہود کی قسم " (البروج :1۔ 3)۔ " انا لننصر رسلنا والذین امنوا فی فی الحیوۃ الدنیا ویوم یقوم الاشہاد : اور ہم اپنے رسولوں کی اور جو لوگ ان پر ایمان لائے ان کی، دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی مدد کریں گے جس دن گواہ کھڑے ہوں گے " (غافر :51)۔ ویوم نبعث فی کل امۃ شہیدا علیہم من انفسہم : اور جس دن ہم ہر امت میں ایک گواہ اٹھائیں گے انہیں میں سے " (نحل :89)۔ یوم تشہد علیہم السنتہم وایدیہم وارجلہم بما کانوا یعملون : اور جس دن کہ ان پر گواہی دیں گی ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان چیزوں کے باب میں جو وہ کرتے رہے ہوں " (نور : 24)۔
Ayah 11:104وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ۔ یعنی یہ نہ سمجھو کہ اس دن کے آنے میں اتنی غیر محدود مدت باقی ہے کہ اس کے اندیشہ میں ابھی اسے اپنا عیش مکدر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ مدت غیر محدود نہیں، بلکہ شمار کی ہوئی مدت ہے۔ شمار کی ہوئی مدت۔ نہ کوئی مبالغہ کا اسلوب بیان ہے اور نہ یہ بات علم الٰہی کے اعتبار سے ارشاد ہوئی ہے بلکہ یہ ایک حقیقت نفس الامری کا اظہار ہے اس لیے کہ جو شخص مرا تو، جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہے، من مات فقد قامت قیامت ہ، اس کی قیامت آگئی۔ برزخ میں جو مدت گزرے گی نفخ صورت کے وقت اس کا کوئی احساس باقی نہیں رہے گا۔ ہر شخص یہ محسوس کرے گا کہ ابھی سوئے تھے ابھی اٹھ بیٹھے ہیں۔ جب اصل حقیقت یہ ہے تو اس میں کیا شبہ ہے کہ قیامت کے آنے میں بس اتنے ہی دن باقی ہیں جتنے دن زندگی کے باقی ہیں۔ زندگی ختم ہوئی، قیامت آن کھڑی ہوئی۔ رہی زندگی کی مدت تو اس کا اجل معدود ہونا ایک امر بدیہی ہے۔
Ayah 11:105يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ۔ جھوٹی شفاعت کی تردید : جب وہ گھڑی آئے گی تو کسی کی مجال نہ ہوگی کہ خدا کے اذن کے بغیر کوئی اس سے بات کرنے کے لیے زبان ہلاسکے۔ یہ مشرکین کے اس گمان کی تردید ہے کہ ان کے معبودوں کو خدا کے ہاں عزت و اعتماد کا وہ مقام حاصل ہے کہ خواہ ان کے اعمال کچھ ہی کیوں نہ ہوں لیکن وہ اپنے پجاریوں کو بہرحال چھڑا ہی لیں گے اور خدا ان کی دلداری میں مجبور ہوگا کہ ان کی سفارش سنے اور ان کی بات مانے۔ فرشتوں کی نسبت ان کا گمان تھا کہ یہ خدا کی چہیتی بیٹیاں ہیں اور جس طرح چہیتی بیٹیاں ناز اور تدلل سے اپنی ہر بات اپنے باپ سے منوا لیتی ہیں اسی طرح یہ اپنے باپ یعنی خدا سے ان سارے لوگوں کو بخشوا لیں گی جو دنیا میں ان کی عبادت کرتے رہے۔ اس آیت نے ان تمام بےبنیاد اور خیالی توقعات کا خاتمہ کردیا۔ خدا کا کسی کی ناز برداری کرنا تو درکنار اس کے آگے کوئی زبان ہی نہیں کھولے گا جب تک وہ اس کو اجازت نہ دے۔ دوسرے مقام میں اس بات کی بھی تصریح ہے کہ جو خدا کی اجازت کے بعد زبان کھولے گا بھی، وہ وہی بات کہے گا جو حق ہوگی۔ سرمو حق سے تجاوز نہ کرسکے گا۔ فمنہم شقی و سعید۔ یعنی جو لوگ محشر میں جمع ہوں گے ان میں سے کچھ بدبخت اور محروم القسمت ہوں گے اور کچھ خوش بخت اور فائز المرام۔ پہلا گروہ دوزخ میں جائے اور دوسرا گروہ جنت سے نوازا جائے گا اور ان میں سے ہر ایک کی بدبختی یا خوش بختی اس کے اعمال پر مبنی ہوگی۔
Ayahs 11:106–107106۔ 107:۔ فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ۔ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ۔
دوزخیوں کے چیخنے چلانے کی تعبیر : جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں پڑیں گے اور اس میں ان کا حال یہ ہوگا کہ لہم فیہا زفیر و شہیق، زفیر اور شہیق دونوں لفظ گدھے کی چیخ کے لیے آتے ہیں جب وہ چیختا ہے تو جو سانس وہ باہر کی طرف نکالتا ہے اس کو زفیر کہتے ہیں اور جو سانس اندر کی طرف لے جاتا ہے اس کو شہیق کہتے ہیں۔ یہ دوزخیوں کے چیخنے چلانے اور رونے گھگھیانے کی تعبیر ہے اور ان لفظوں میں جو حقارت کا پہلو ہے وہ بالکل واضح ہے۔
نیا آسمان نئی زمین : خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ۔ وہ اسی دوزخ میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے۔ ظاہر ہے کہ اس آسمان و زمین سے یہ موجودہ آسمان و زمین مراد نہیں ہیں، یہ آسمان و زمین تو ہور قیامت کے وقت ختم ہوچکے ہوں گے۔ بلکہ وہ آسمان و زمین مراد ہیں جو نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ قیام قیامت کے وقت ظہور میں آئیں گے اور جن کی طرف آیت یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات میں اشارہ ہے۔
سب اختیار خدا کا ہے : الا ماشاء ربک، مگر جو تیرا رب چاہے۔ یعنی اس دائمی عذاب سے کوئی اور تو چھڑانے والا بن نہیں سکتا ہاں اگر تیرا رب ہی چاہے تو کسی کے عذاب میں تخفیف کرسکتا ہے یا کسی کو خاک اور راکھ بنا دے سکتا ہے۔ ان ربک فعال لما یرید۔ تیرا رب جو چاہے کرسکتا ہے، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔
Ayah 11:108وَاَمَّا الَّذِيْنَ سُعِدُوْا فَفِي الْجَنَّةِ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ ۭ عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ۔
خوب سے خوب تر کی طرف ترقی : جو نیک بخت ہوں گے جنت میں داخل ہوں گے اور اسی میں رہیں گے جب آسمان و زمین قائم ہیں مگر جو تیرا رب چاہے " مگر تیرا رب جو چاہے " کے استثناء سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ ان کے احوال و مراتب میں بھی تبدیلیاں ہوں گی لیکن یہ تبدیلیاں خیر سے شر کی طرف کی نوعیت کی نہیں، بلکہ خوب سے خوب تر کی طرف کی نوعیت کی ہوں گی اس لیے کہ ان کے واسطے خدا کی بخشش میں کبھی انقطاع نہیں ہوگا۔ عطاء غیر مجذوذ۔ ان کو جنگ کبھی نہ منقطع ہونے والے عطیہ کی حیثیت سے ملے گی۔
Ayah 11:109فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هٰٓؤُلَاۗءِ ۭ مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ وَاِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِيْبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوْص۔
خطاب نبی سے عتاب مخالفین پر : ہم یہ اسلوب متعدد مقامات میں واضح کرچکے ہیں کہ بعض مرتبہ خطاب بظاہر الفاظ تو آنحضرت ﷺ سے ہوتا ہے لیکن اس کے اندر جو عتاب مضمر ہوتا ہے اس کا رخ مخالفین کی طرف ہوتا ہے۔ وہ چونکہ اپنی ضد کے سبب سے لائق خطاب نہیں رہ جاتے اس وجہ سے بات ان کو خطاب کر کے کہنے کے بجائے پیغمبر کو خطاب کر کے کہہ دی جاتی ہے۔ سورة یونس کی آیات 94۔ 95 میں اس کی مثال گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے شرک پر جماؤ سے تمہیں کہیں یہ غلط فہمی نہ لاحق ہو کہ ان کے پاس اس کے لیے کوئی دلیل موجود ہے بس جس طرح ان کے باپ دادا بےسمجھے بوھے ان پتھروں اور خیالی دیویوں اور دیوتاؤں کو پوجتے آئے اسی طرح اپنی عقلوں پر پٹی باندھ کر یہ ان کو پوج رہے ہیں۔ عقل اور دلیل سے کام لینے کی زحمت نہ انہوں نے اٹھائی نہ یہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ وان الموفوہم، یعنی یہ جس جنت الحمقاء میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں گزاریں ہم تو ان کا حصہ پورا کر کے رہیں گے۔ اس میں ذرا کمی نہیں کریں گے۔
Ayah 11:110وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ۔
یہ آیت جس سیاق وسباق میں یہاں ہے۔ بعینہ اسی سیاق وسباق میں سورة حم السجدہ میں بھی ہے۔ ملاحظہ ہو آیت 43۔ 45۔ مَا يُقَالُ لَكَ إِلا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ (43) وَلَوْ جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا أَعْجَمِيًّا لَقَالُوا لَوْلا فُصِّلَتْ آيَاتُهُ أَأَعْجَمِيٌّ وَعَرَبِيٌّ قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَئِكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ (44) وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ وَلَوْلا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ (45): تم کو نہیں کہی جا رہی ہیں مگر وہی باتیں جو تم سے پہلے رسولوں کو کہی گئیں۔ بیشک تمہارا رب مغفرت فرمانے والا ہے بھی ہے اور سخت پاداش دینے والا بھی۔ اور اگر ہم اس قرآن کو عجمی قرآن بناتے تو یہ کہتے کہ اس کی آیات کھولی کیوں نہیں گئیں ؟ کتاب عجمی اور مخاطب عربی ! کہہ دو یہ ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے اور جو لوگ ایمان نہیں لارہے ہیں ان کے کانوں میں بہراپن اور یہ ان کی آنکھوں پر پٹی ہے۔ یہ لوگ اب بہت دور کی جگہ سے پکارے جائیں گے اور ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب دی تو اس کے باب میں اختلاف کیا گیا۔
یہاں آیت زیر بحث تسلی کے مقام میں ہے آنحضرت ﷺ کو اطمینان دلا یا گیا ہے کہ جس طرح تمہاری قوم کے لوگ تمہارے اس کتاب کے پیش کرنے پر تمہارے پیچھے پڑگئے ہیں اسی طرح موسیٰ کی قوم کے لوگوں نے بھی تورات کے معاملے میں ان سے قدم قدم پر جھگڑا اور اختلاف کیا۔ مطلب یہ ہے کہ جس صورت حال سے تمہیں سابقہ درپیش ہے اسی صورت حال سے تمہارے پیش رو نبیوں کو بھی سابقہ رہا ہے تو جس طرح انہوں صبر و استقامت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا یہاں تک کہ اللہ نے ان کو کامیابی بخشی اسی طرح تم بھی صبر و استقامت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرو۔ اللہ تمہیں بھی تمہارے مخالفوں پر فتحمند کرے گا۔ ولولا کلمۃ صبقت من ربک لقضی بینہم۔ یعنی اللہ نے ہر چیز کے لیے پہہلے سے ایک وقت مقرر فرما لیا ہے۔ اس وجہ سے ہر بات اس کے مقررہ پروگرام کے مطابق ہوگی۔ تمہاری قوم کے لیے بھی مہلت کی ایک مدت مقرر ہے۔ جب وہ مدت پوری ہوجائے گی ان کا پیمانہ بھی لبریز ہوجائے گا اور ان کے درمیان بھی فیصلہ کردیا جائے جائے گا۔ وانہم لفی شک من مریب۔ یعنی یہلوگ اس چیز کے باب میں جو تم پیش کر رہے ہو ایک الجھن میں ڈال دینے والے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ مریب کے معنی الجھن میں ڈال دینے والے کے ہیں۔ اس صفت کے لانے سے مقصود یہ دکھانا ہے کہ انکار کی یہ روش جو انہوں نے اختیار کر رکھی ہے۔ یہ صرف نہ ماننے کی خواہش پر مبنی ہے اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ جو کچھ تم پیش کر رہے ہو اس کی حجت واضح ہے لیکن وہ اس کو ماننا نہیں چاہتے۔ اس وجہ سے وہ ایک سخت الجھن میں گرفتار ہو کر رہ گئے ہیں۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔
Ayah 11:111وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ ۭ اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۔
" لما " میں " ل " تاکید اور قسسم کا ہے اور ما زائد کبھی کبھی مھض جملہ کے آہند اور صوت کو ٹھیک رکھنے کے لیے آتا ہے۔ مثلا ان کل ذلک لما متاع الحیواۃ الدنیا : بیشک یہ ساری چیزیں دنیوی زندگی کی متاع ہیں۔ اسی طرح سورة طارق میں ہے ان کل نفس لما علیہا حافظ : بیشک ہر جان پر ایک نگران مقرر ہے۔
لفظ " کل " اگرچہ عام ہے لیکن یہاں اس سے مراد وہی گروہ ہیں جو اوپر مذکور ہوئے یعنی مشرکین قریش اور یہود فرمایا کہ یہ لوگ دعوت حق کی مخالفت میں جو ایڑی چوٹی کا زور لوگانا چاہتے ہیں لگا لیں۔ وہ وقت بھی آئے گا جب تیرا رب ان کے سارے اعمال کا بھپور بدلہ ان کو دے گا۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اس سے وہ پوری طرح باخبر ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ دعوت کا جو مرحلہ یہاں زیر بحث ہے اس میں یہود نے بھی قریش کی پیٹھ ٹھونکنی شروع کردی تھی۔
Ayah 11:112فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۭ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۔ یہ پیغمبر سلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر ایمان لانے والوں کو جادہ حق پر استوار رہنے کی تلقین ہے کہ مخالفتوں کے اس طوفان کے اندر اسی راہ پر پوری مضبوطی سے قائم رہ وجو تمہارے رب نے تمہارے لیے کھولی ہے۔ ولا تطغو۔ یعنی حالات سے مرعوب ہو کر یا ترغیبات سے متاثر ہو کر ذرا اس راہ سے کج نہ ہونا۔ انہ بما تعملون بصیر۔ جو کچھ تم کر رہے ہو یا کروگے وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ وہ مشکلات میں تمہاری رہنمائی فرمائے گا اور جب تم اس کی مدد کے محتاج ہوگے وہ تم کو سہارا دے گا۔
Ayah 11:113وَلَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ۙ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ۔
ایمان لانے والوں کو جادہ حق پو استقامت کی تلقین : یہ آپ پر ایمان لانے والوں کو تنبیہ ہے کہ خوف یا طمع کسی چیز سے متاثر ہو کر ان لوگوں کی طرف مائل نہ ہونا جنہوں نے ظلم یعنی شرک و کفر کا ارتکاب کیا ہے ورنہ وہی دوزخ کی آگ تمہیں بھی اپنی گرفت میں لے لے گی جو ان کے لیے مقدر ہے اور اس وقت خدا کے مقابل میں تمہار کوئی مددگار نہ ہوگا۔ ثم لاتنصرون۔ یعنی اگر تم ان کفار و مشرکین کی طرف ذرا بھی مائل ہوئے تو جس نصرت کا اس دنیا میں تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے اس سے محروم ہی رہوگے۔ یہ وعدہ استقامت کی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ اس کے بغیر تم خدا کی نصرت کے سزاوار نہیں ہوسکتے۔
Ayahs 11:114–115114۔ 115:۔ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ ۭ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّاٰتِ ۭ ذٰلِكَ ذِكْرٰي لِلذّٰكِرِيْن۔ وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ۔
نماز ذریعہ استقامت ہے : یہ اس صبر و استقامت کے حصول کی تدبیر بیان ہوئی ہے جس کی اوپر والی آیات میں ہدایت فرمائی گئی ہے۔ قرآن میں یہ بات جگہ جگہ واضح کی گئی ہے کہ خدا کی راہ میں شیطان اور ان کے اعوان کی طرف سے جو مزاحمتیں پیش آتی ہیں ان کے مقابلہ کے لیے روحانی طاقت نماز ہی سے ہوتی ہے۔ یہی چیز بندے کو خدا سے جوڑتی ہے اور جب بندہ اپنے رب سے جڑ جاتا ہے تو اس پر انوار و برکات رحمانی کا فیضان ہوتا ہے، دل وسوسوں اور کمزوریوں سے پاک اور وہ پورے عزم و حوصلہ سے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ سورة طہ میں صبر اور نماز کا یہ باہمی تعلق اس طرح واضح فرمایا گیا ہے۔ فاصبر علی ما یقولون و سبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبہا ومن انائ الیل فسبح و اطراف النہار لعلک ترضی : پس صبرو کرو ان باتوں پر جو وہ کہتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو سورج کے طلوع اور اس کے غروب سے پہلے اور رات کے وقتوں میں بھی اس کی تسبیح کرو اور دن کے اطراف میں بھی تاکہ تم نہال ہوجاؤ (طہ :130)۔
آیت زیر بحث میں اوقات نماز کی تفصیل نہیں ہے لیکن طہ کی مذکورہ بالا آیت پر غور کیجیے تو اس میں نہ صرف پانچ فرض نمازوں کے اوقات کی طرف اشارہ ہے بلکہ چاشت اور تہجد کے اوقات بھی اس میں مضمر ہیں لیکن یہاں ہم صرف صبر اور نماز کے باہمی تعلق کو واضح کرنا چاہتے ہیں۔ اوقات نماز کے مسئلہ پر انشاء اللہ اس کے محل میں بحث کریں گے۔
ایک جامع تنبیہ : ان الحسنا یذھبن السیات۔ ایک جامع کلیہ ہے۔ لفظ حسنات، نے نماز اور اس کے خاندان کی دوسری تمام نیکیوں کو اپنے اندر سمیٹ لیا۔ مطلب یہ ہے کہ ان بھلائیوں ہی میں زیادہ سے زیادہ سرگرم رہو اس لیے کہ یہی ان برائیوں کو مٹائیں گی جو اندر سے یا باہر سے سر اٹھا سکتی ہیں۔ ذالک ذکری للذکرین۔ یہ اس ہدایت کی قدروقیمت کی طرف توجہ دلا دی گئی ہے کہ اس کو معمولی بات نہ سمجھنا۔ یہ سننے اور سمجھنے والوں کے لیے بڑی گراں مایہ موعظت ہے۔ یہ تنبیہ اس لیے ضروری تھی کہ ہر شخص کے لیے یہ سمجھنا آسان نہیں تھا کہ نماز راہ حق میں جہاد کا سب سے بڑا ہتھیار بھی ہے۔
خوب کاروں کا صبر : واصبر فان اللہ لا یضیع اجر المحسنین : اسی صبر کو مستحکم اور غیر متزلزل بنانے کے لیے اوپر والی آیت میں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، نماز کا حکم ہے۔ نماز سے پہلے استقامت اور نماز کے بعد صبر کے ذکر میں ایک اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی ہے کہ پامردی اور استقلال محمود اسی صورت میں ہے جب آدمی کا رخ صحیح سمت میں ہو۔ علاوہ ازیں ایک اور نکتہ بھی اس آیت میں ہے۔ وہ یہ کہ یوں نہیں فرمایا کہ صبر کرو اس لیے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔ بلکہ یوں فرمایا کہ صبرو اس لیے کہ اللہ خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔ اس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ صبر بھی خدا کے ہاں عزیز و محبوب اور سزوار اجر انہی لوگوں کا ہے جو اس طرح صبر کریں جس طرح صبر کرنے کا حق ہے۔ رو دھو کر اور گلے شکوے کر کے تو سب ہی صبر کرلیتے ہیں۔ خوب کاروں کا صبر یہ ہے کہ سروں پر آرے چل جائیں لیکن نہ دل گلہ مند ہو نہ پیشانی پر بل آنے پائے۔ جو لوگ اس شان و وقار سے صبر کرتے ہیں ان کا اجر کبھی ضائع نہیں جاتا۔ لفظ " احسان " پر دوسرے مقام میں بحث کر کے ہم یہ بتا چکے ہی کہ اس کے معنی کسی کام کو نہایت خوبی کے ساتھ کرنے کے بھی آتے ہیں۔
Ayah 11:116فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِيَّةٍ يَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْاَرْضِ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّنْ اَنْجَيْنَا مِنْهُمْ ۚ وَاتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مَآ اُتْرِفُوْا فِيْهِ وَكَانُوْا مُجْرِمِيْنَ۔
اولوا بقیۃ کا مفہوم : یعنی اخیار و صالحین اور حاملینِ حق عربی میں جب کہیں کہ فلان بقیۃ قومہ، تو اس کے معنی ہوں گے کہ وہ اپنی قوم کے اخیار و صالحین میں سے ہے۔
ما اترفوا فیہ۔ اترفہ المال، کے معنی ہوں گے کہ مال و اسباب نے اس کو طغیان و فساد میں مبتلا کردیا۔ یعنی اسباب عیش و تنعم کی فراوانی نے ان کو جس سرمستی میں مبتلا کردیا تھا اسی میں پڑے رہے۔
قریش کو تنبیہ : اب یہ ان معذب قوموں کی طرف جن کا ذکر اوپر گزرا ہے اشارہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کیا چیز ان کی تباہی کا باعث ہوئی اور مقصود اس سے قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ اگر وہی روش تم نے اختیار کرلی تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ تمہارا انجام سے مختلف ہو۔ فرمایا کہ ان میں ایسے لوگ باقی نہیں رہ گئے تھے جو لوگوں کو خدا کی زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے۔ ان کی اکثریت ایسے ہی لوگوں پر مشتمل تھی جو اسی سرمستی میں مگن پڑے رہے جس میں مبتلا تھے۔ بس تھورے ہی لوگ ان میں ایسے نکلے جو خدا سے ڈرنے والے تھے۔ سو ان کو ہم نے نجات دی۔ باقی جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے وہ اپنی مرغوبات کے پیچھے پڑے رہے اور ہلاک ہوئے اس لیے کہ وہ مجرم تھے۔
Ayah 11:117وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُهْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ۔
قوموں کی ہلاکت کے باب میں سنت الٰہی : اب یہ قوموں کی ہلاکت کے باب میں سنت الٰہی واضح فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ کسی قریہ کو ان کے کسی ظلم کی پاداش میں ہلاک کردے جب کہ اس کے باشندے بحیثیت مجموعی اصلاح کرنے والے ہوں۔ مطلب یہ کہ خدا کا عذاب کسی قوم پر اس وقت آتا ہے جب قوم کا مزاج بحیثیت مجموعی بگر جاتا ہے۔ اصلاح کرنے والے یا تو اس میں باقی رہ ہی نہیں جاتے یا رہتے ہیں تو خال خال نہایت قلیل تعداد میں۔ لفظ " قری " یہاں قوموں کے مفہوم میں ہے اور بظلم کی تنکیر سے مقصود اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ انفرادی خرابیاں عذاب الٰہی کا باعث نہیں ہوتیں۔ عذاب الٰہی اسی وقت نازل ہوتا ہے جب مجموعہ کا مزاج فاسد ہوجاتا ہے۔
Ayahs 11:118–119118۔ 119:۔ وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ . اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ ۭ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ ۭ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ۔
ہدایت و ضلالت کے معاملہ میں قانونِ الٰہی : یعنی اللہ اگر سب کو ایک ہی امت بنادینا چاہتا تو وہ ایسا کر تو سکتا تھا، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں تھا لیکن اس نے ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اس جبر کو پسند نہیں فرمایا بلکہ اس نے نیکی اور بدی دونوں کو ان کے انجام کی تفصیل کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور انہیں اختیار دیا ہے کہ وہ ان میں سے جس کو چاہیں اختیار کرلیں۔ اگر وہ نیکی کی راہ اختیار کریں گے تو اس کا صلہ آخرت کی ابدی زندگی کی کامرانیاں ہیں اور اگر بدی کی راہ اختیار کریں گے تو آخرت میں اس کی سزا بھگتیں گے۔ ولایزالون مختلفین۔ یعنی جب اللہ نے اس معاملے میں جبر کو پسند نہیں فرمایا، بلکہ لوگوں کو اختیار دیا ہے تو یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ ہر شخص نیکی ہی کی راہ اختیار کرے گا بلکہ بہتیرے ان میں سے ایسے بھی نکلتے رہیں گے جو تمام تعلیم و تذکیر کے بوجود، اپنے نفس اور شیطان کی پیروی میں بدی ہی کی راہ اختیار کریں گے اور اسی پر جئیں گے، اسی پر مریں گے۔ الا من رحم ربک۔ یعنی بدی کی راہ اختیار کرنے سے وہی لوگ محفوظ رہیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہو۔ یہ بات یہاں سیاق کلام کے اندر مضمر ہے کہ رحمت خداوندی کے سزاوار وہی ہوسکتے ہیں جو اپنے سمع و بصر اور عقل و دل کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں اور آنکھیں رکھتے ہوئے ٹھوکریں کھائیں۔ ولذلک خلقہم یعنی اللہ نے تو لوگوں کو اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ اپنے انتخاب و اختیار سے اپنے آپ کو اپنے رب کے فضل و رحمت کا سزوار بنائیں۔ یہ امتحان انسان کی خلقت کا ایک لازمی جزو ہے۔ اس سے گزرے بغیر کوئی شخص رحمت خداوندی کا حقدار نہیں ہوسکتا۔ و تمت کلمۃ ربک لاملئن جہنم من الجنۃ والناس اجمعین۔ یعنی جو لوگ اس امتحان میں فیل ہوجائیں گے۔ ان کے حق میں تیرے رب کی یہ بات پوری ہو کے رہے گی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھردوں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا حوالہ ہے جو ابلیس کے جواب میں ارشاد ہوا تھا اور جس کی تفصیل دوسرے مقام میں ہے کہ ابلیس نے آدم کو سجدہ سے انکار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ میں ذریت آدم پر ایسے گھیرے ڈالوں گا کہ تو ان میں سے اکثر کو اپنا شکر گزار نہیں پائے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کی اس دھمکی کے جواب میں فرمایا کہ ایسے تمام جنوں اور تمام انسانوں سے جہنم کو بھردوں گا۔
Ayah 11:120وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ ۚ وَجَاۗءَكَ فِيْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَّذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ۔
سرگزشتیں سنانے سے مقصود : اوپر حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کی جو سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سرگزشتیں ہم اس لیے سناتے ہیں کہ ان کے وہ پہلو تمہارے سامنے لائیں جو تمہارے دل کو مضبوط کریں تاکہ تم ان حالات کا پامردی اور استقلال کے ساتھ مقابلہ کرسکو جو تمہیں پیش آرہے ہیں یا آئند پیش آسکتے ہیں۔ اور یہ اطمینان رکھو کہ ان واقعات سے حق کے غلبہ اور باطل کی شکست کی جو تاریخ تمہارے سامنے آئی یہ تمام تر حقائق پر مبنی ہے۔ ایسا ہی ہوا ہے اور ایسا ہی ہوگا۔ یہ سنت الٰہی پر مبنی اور سنت الٰہی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ وموعظۃ وذکر للمومنین اور ان سرگزشتوں میں ان لوگوں کے لیے بھی موعظت اور یاد دہانی ہے جو تم پر ایمان لائے ہیں۔ مخالفتوں کے اس طوفان میں جن چیزوں سے انہیں بچنا ہے وہ بھی ان سے واضح ہوتی ہیں اور جو روش انہیں اختیار کرنی چاہیے وہ بھی سامنے آتی ہے۔
Ayahs 11:121–122121۔ 122:۔ وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ ۭ اِنَّا عٰمِلُوْنَ۔ وَانْتَظِرُوْا ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ۔
مخالفین کو فیصلہ کن جواب : اب یہ آخر میں ایک فیصلہ کن جواب ہے مخالفین کو کہ تم جو کچھ ہماری مخالفت میں کر رہے ہو یا کرنا چاہتے ہو کرو اور ہم بھی دعوت حق کے جس کام کو کر رہے ہیں تمہاری تمام مخالفتوں اور تمام ژاژخائیوں کے علی الرغم کرتے رہیں گے۔ اگر تم عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو تو اس کا انتظار کرو، ہم بھی اس کے منتظر ہی ہیں۔ اس لیے کہ وہ تمام علامتیں جو کسی قوم کو مستحق عذاب بناتی ہیں وہ تم میں ایک ایک کرکے نمایاں ہورہی ہیں لیکن عذاب بھیجنا خدائے علام الغیوب کا کام ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کب تمہارا فیصلہ ہونا چاہیے۔
Ayah 11:123وَلِلّٰهِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاِلَيْهِ يُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۭ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۔
اللہ پر بھروسہ کرنے کی ہدایت : یہ آخر میں سارا معاملہ اللہ کے حوالہ کرنے، ہمہ تن اس کی عبادت میں سرگرم رہنے اور اس پر پورا پورا بھروسہ کرنے کی ہدایت فرمائی گئی کہ آسمانوں اور زمین کا سارا بھید اللہ ہی کے علم و اختیار میں ہے اور سارے معاملات فیصلہ کے لیے اسی کے حضور میں پیش ہوتے ہیں تو تم اسی کی بندگی کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ تمہارا رب جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے بیخبر نہیں ہے۔ وہ ہر منزل اور ہر گام پر تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہاری رہنمائی فرمائے گا اور ہر مشکل میں تمہاری مدد کرے گا۔
یہ آخری سطریں ہیں جو اس سورة کی تفسیر میں اس ہیچمیرز کو حوالہ قرطاس کرنے کی توفیق حاصل ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔