Ayahs 12:1–2تفسیر آیات 1۔ 2:۔ الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ۔ اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۔
سورة کا قرآنی نام : " الرا " یہ اس سورة کا قرانی نام ہے۔ یہی نام سورة یونس اور سورة ہود کا بھی ہے۔ نام میں اصل مقصود تسمیہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ان کے معانی کی کھود کرید کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اتنی بات یاد رکھنی چاہیے کہ ناموں کا شتراک معانی و مطالب کے اشتراک کی دلیل ہوتا ہے۔ سو یہ چیز، جیسا کہ ہم پچھلی دونوں سورتوں کی تفسیر میں اشارہ کر آئے ہیں، ان سب سورتوں میں موجود ہے۔ ان میں اصل موضوع بحث ایک ہی ہے البتہ انداز بحث اور انداز استدلال ہر ایک میں الگ الگ ہے۔
" کتاب مبین " کا مفہوم : " تلک ایت الکتاب المبین " کتاب مبین، وہ کتاب جو اپنے بیان و استدلال میں بالکل واضح ہو، جس کی ہر بات ناقابل انکار دلائل سے مبرہن ہو، جس کا انداز بحث و نظر دل نشین، طمانیت بخش اور تمام الجھنوں کو دور کردینے والا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کی صداقت کی گواہی کے لیے کسی خارجی معجزی یا نشانی کی ضرورت نہیں ہے، جیسا کہ منکرین مطالبہ کر رہے ہیں، بلکہ اس کی حقانیت و صداقت کے سورج کی طرح روشن دلائل خود اس کے اندر ہی موجود ہیں بشرطیکہ لوگ کان کھول کر اس کو سنیں اور اس کے دلائل پر غور کریں۔
اہل عرب پر عظیم احسان : اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۔ خطاب اہل عرب سے عموماً اور قریش سے خاص طور پر ہے کہ اللہ کا تم پر عظیم احسان ہوا ہے کہ اللہ کی یہ سب سے بڑی نعمت تمہاری عربی زبان میں نازل ہوئی ہے تاکہ تم اس کو سمجھو، اس کی قدر کرو اور اس کو دوسروں تک پہنچاؤ اور ان کو سمجھاؤ۔ یہ اس کتاب کے کتاب مبین ہونے کا ایک پہلو ہے اور اس میں قریش کے لیے ایک دھمکی بھی ہے کہ اگر تم نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو تم سے بڑا بدقسمت بھی کوئی اور نہ ہوگا۔ یہ جتنی بڑی نعمت ہے اتنی ہی بڑی نعمت کے سزوار ٹھہروگے اگر تم نے اس کی قدر نہ کی۔
Ayah 12:3" احسن القصص " کا مفہوم : " احسن القصص " میں " قصص " قصہ اور سرگزشت کے معنی میں ہے۔ مصدر یعنی قصہ بیان کرنے کے معنی میں نہیں ہے۔ اگر مصدر کے معنی میں ہوتا تو زبان کے معروف اسعمال کے مطابق اس پر الف لام نہ آتا بلکہ " احسن قصص " ہوتا۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم تمہیں بہترین قصہ سناتے ہیں۔ یہ معنی اس کے صحیح نہیں ہیں کہ ہم تمہیں بہترین پیرایہ میں سناتے ہیں۔ قرآن کے نظائر سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ مثلاً سورة اعراف میں ہے۔ فاقصص القصص لعلہم یتفکرون (پس ان کو سرگزشت سناؤ تاکہ وہ غور کریں)۔ سورة قصص میں ہے فلما جاء ہو قص علیہ القصص (پس جب وہ اس کے پاس آیا اور اس کی سرگزشت سنائی)۔ ہمارے نزدیک " احسن القصص " اسی طرح کی تالیف کلام ہے جس کی نظیر قرآن میں اللہ نزل احسن الحدیث : اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے۔ یہ امر بھی یہاں قابل توجہ ہے کہ " احسن القصص " کو مصدر کے معنی میں لینے کی صورت میں مفعول غائب ہوجاتا ہے درآنحالیکہ فعل اپنے مفعول کا مقتضی ہے اور قرآن میں ہر جگہ یہ اپنے مفعول کے ساتھ ہی آیا ہے۔
یہ چند اشارات تالیف کلام سے متعلق ہیں۔ رہا یہ سوال کہ حضرت یوسف کی اس سرگزشت کو " احسن القصص " سے کیوں تعبیر فرمایا گیا ہے تو اس کے بعض پہلو ہم اپنے تمہیدی مباحث میں واضح کچ کے ہیں اور بعض کی طرف ہم آگے ان کے محل میں انشاء اللہ اشارہ کریں گے۔
ایک سرگزشت آنحضرت ﷺ کے لیے بمنزلہ آئینہ : اوپر کی آیات میں خطاب عام ہے اور اس کی نوعیت، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، قریش کو تنبیہ کی تھی۔ اب اس آیت سے روئے سخن نبی ﷺ کی طرف براہ راست ہوگیا ہے۔ آپ کو خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے۔ کہ ہم تمہیں ایک بہترین سرگزشت سنا رہے ہیں اور یہ سرگزشت اس قرآن کی بیشمار برکتوں میں سے ایک برکت ہے جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں، اس سے پہلے تم اس سے بالکل نا آشنا تھے۔
یہاں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس سرگزشت کے دو نہایت اہم پہلو آپ کے سامنے واضح کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ احسن القصص ہے، دوسرا یہ کہ آپ کی رسالت کی ایک نہایت واضح دلیل ہے۔ جہاں تک اس کے احسن القصص ہونے کا تعلق ہے اس کی وضاحت ہم پیچھے کرچکے ہیں۔ ایک سرگزشت اگر بجائے خود سچی بھی ہو اور جس کو سنائی جا رہی ہو اس کے لیے وہ بمنزلہ ایک آئینہ کے بھی بن جائے جس میں وہ اپنی زندگی کے تمام نشیب و فراز کامیابی کی آخری منزلوں تک، دیکھ لے تو اس سرگزشت سے زیادہ سبق آموز، بابرکت اور قیمتی سرگزشت کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ آنحضرت ﷺ کے لیے حضرت یوسف کی سرگزشت کی نوعیت یہی تھی۔ اس میں آپ کو آپ کے حاضر اور مستقبل کا پورا نقشہ دکھا دیا گیا جس میں چند مقامات بہت سخت بھی تھے لیکن آخری منزل نہایت شان دار تھی۔ اس راہ میں اگرچہ غار ثور بھی آتا تھا لیکن غار ثور کی ظلمتوں سے مدینہ کی حکومت بھی نظر آرہی تھی اور مکہ کی پر محسن زندگی کے اندر اس دن کی جھلک بھی نمایاں تھی جب کہ مکہ کے متمردین گھٹنے ٹیک کر آپ سے عفو وکرم کی التجائیں کریں گے۔
سرگزشت کے دلیل رسالت ہونے کی نوعیت : رسالت کی دلیل یہ یوں ہے کہ نبی ﷺ امی تھے۔ آپ نہ تو اس سرگزشت سے واقف ہی تھے نہ آپ کے پاس اس سے واقف ہونے کا ذریعہ ہی تھا۔ یہ قرآن کا فیض تھا کہ آپ اس سے واقف ہوئے اور اس صحت و صداقت اور ایسی وسعت و تفصیل کے ساتھ واقف ہوئے کہ اہل کتاب بھی اس سے واقف نہ تھے۔ اس پہلو سے یہ آپ کی قوم کے لیے بھی آپ کی رسالت کی ایک دلیل تھی اور اہل کتاب کے لیے بھی، کہ اگر آپ وحی الٰہی سے مشرف نہیں ہیں تو یہ بائیں اس استقصا اور صحت و صداقت کے ساتھ آپ کو کیسے معلوم ہوئیں ! من قبلہ کے لفظ سے اس امر واقعی کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ اگر اس قرآن سے پہلے تمہیں اس سرگزشت کی کچھ بھی واقفیت ہوتی تو چالیس سال کی سیع مدت میں کبھی تو بات زبان پر آتی۔ پھر تمہارے مخالفین کیوں نہیں سوچتے کہ اگر یہ وحی الٰہی کا فیضان نہیں ہے تو یہ چشمہ یکایک کہاں سے پھوٹ پڑا۔ یہ امر بھی یہاں ملحوظ رہے کہ تورات اور تالمود میں یہ سرگزشت ہے ضرور لیکن اول تو، جیسا کہ ہم نے عرض کیا آپ کے پاس ان سے واقف ہونے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، پھر ان کے بیان اور قرآن کے بیان میں قدم قدم پر اختلاف ہے اور اس اختلاف ہے اور اس اختلاف پر جو شخص بھی انصاف سے غور کرے گا وہ اسی نتیجہ وہ اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ قرآن کا بیان بالکل نیچرل ہے اور تورات کا بیان بالکل خلافِ عقل و فطرت اور شان نبوت کے منافی ہے۔
Ayah 12:4اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ۔
حضرت یوسف کا خواب : اب یہ اصل سرگزشت کی تمہید شروع ہوتی ہے۔ حضرت یوسف نے ایک اپنے والد حضرت یعقوب سے اپنا ایک خواب بیان کیا کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند میرے آگے سربسجود ہیں۔ حضرت یوسف کا اس خواب کو سب سے پہلے اپنے والد کے علم میں لانا ان کی غیر معمولی سلیم الطبعی، نیک نیت اور سعادت مندی کی دلیل ہے۔ اس طرح کا خواب اگر کوئی اوچھی طبیعت کا آدمی دیکھتا تو سب سے پہلے اپنی بڑائی کا ڈھول دوسروں میں پیٹتا لیکن حضرت یوسف بچپن ہی سے نہایت رزین، متین اور سنجیدہ تھے۔ انہوں نے یہ خوب دیکھا تو انہیں یہ محسوس ہوا کہ یہ خواب خراب پریشاں کی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ اہمیت رکھنے والا خواب ہے اس وجہ سے انہوں نے اس کو سب سے پہلے اپنے والد ماجد کے سامنے پیش کیا جن پر ہر پہلو سے ان کو سب سے زیادہ اعتماد تھا۔ آیت کے الفاظ پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان کی طبیعت کے اندر جو تواضع تھی وہ خواب کو پیش کرنے کے انداز میں بھی نمایاں ہے۔ حضرت یعقوب کے سامنے جاتے ہی بےدھڑک یوں نہیں کہہ دیا کہ میں نے گیارہ ستاروں اور سورج چاند کو اپنے آگے سربسجود دیکھا بلکہ خواب کا ابتدائی حصہ کہ میں نے گیارہ ستاروں اور سورج چاند کو دیکھا، کہہ کر ٹھٹک گئے اس لیے کہ آگے کی بات میں ان کی بڑائی نمایاں تھی جس کے اظہار سے ان کی متواضع طبیعت جھجکتی تھی لیکن چونکہ اظہار ضوری تھا اس وجہ سے ذرا توقف کے بعد فرمایا رایتہم لی ساجدین میں نے ان کو دیکھا کہ وہ میرے لیے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں۔ عربیت کا ذوق رکھنے والے اندازہ کرسکتے ہیں کہ فعل رایت کے اعادہ میں یہ بلاغت ہے کہ اس میں رویا کے بیان کرتے وقت خاص کر واقعہ سجدہ بیان کرتے وقت حضرت یوسف پر جو جھجھک طاری رہی ہے وہ واضح ہے۔
Ayah 12:5قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰٓي اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۔
حضرت یعقوب کی تعبیر اور حضرت یوسف کو ہدایت : حضرت یعقوب نے خواب سنتے ہی یہ اندازہ فرما لیا کہ یہ منصب نبوت پر سرفرازی کا اشارہ ہے لیکن اس بشارت سے پہلے انہوں نے حضرت یوسف کو تاکید کے ساتھ منع فرمایا کہ یہ خواب اپنے بھائیوں کے آگے نہ بیان کردینا کہ کہیں وہ حسد سے جل بھن کر تمہارے خلاف کسی سازش میں سرگرم ہوجائیں۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ حضرت یوسف کے کل گیارہ بھائی تھے جن میں سے دس ان کی سوتیلی ماؤں سے تھے۔ صرف سب سے چھوٹے بھائی بن یامین ان کی اپنی ماں سے تھے۔ یہاں اشارہ انہیں دس سوتیلے بھائیوں کی طرف ہے۔ چونکہ ان بھائیوں کی پرخاش حضرت یوسف کے ساتھ واضح تھی اس وجہ سے حضرت یعقوب کو اندیشہ ہوا کہ اگر کہیں انہوں نے یوسف کا خواب سن لیا تو ان کی حسد کی آگ اور بھڑک اٹھے گی اور عجب نہیں کہ وہ حسد سے اندھرے ہو کر ان کو نقصان پہنچانے کی کوئی خطرناک سازش کر ڈالیں۔ ان الشیطان للانسان عدومبین یعنی کھلا ہوا دشمن شیطان تو موجود ہی ہے، وہ کہیں ان کو کسی فتنہ کی راہ پر نہ ڈال دے۔
Ayah 12:6وَكَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ وَيُـــتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَعَلٰٓي اٰلِ يَعْقُوْبَ كَمَآ اَتَمَّــهَا عَلٰٓي اَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔
حضرت یعقوب نے جب خواب سنا تو چونکہ یہ بات ان کے علم میں تھی کہ نبوت کا آغاز رویائے صادقہ ہی سے ہوتا ہے اور اس خواب کا ظاہر ہی بتا رہا تھا کہ یہ سچا خواب ہے اور خواب دیکھنے والے کے لیے ایک شان دار مستقبل کی پیشین گوئی کررہا ہے اس وجہ سے انہوں نے فرمایا کہ یہ جو کچھ تم نے دیکھا ہے ٹھیک ہے۔ جلد وہ وقت آنے والا ہے جب تمہارا رب تمہیں منصب نبوت کے لیے منتخب فرمائے گا۔ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ ، میں دو باتوں کی طرف اشارہ ہے ایک تو اس بات کی طرف کہ اس رویا کی حقیقت اللہ تعالیٰ خود تم پر واضح فرمادے گا۔ چناچہ جب اس کی حقیقت حضرت یوسف نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی تو فرمایا " يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا ۭ وَقَدْ اَحْسَنَ بِيْٓ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۔ رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِيْ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ : اے میرے باپ یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے دیکھا تھا میرے رب نے اس کو حقیقت کر دکھایا اور اس نے مجھ پر بڑا ہی کرم فرمایا جب کہ مجھے قید خانہ سے باہر نکالا اور آپ لوگوں کو بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا، دیہات سے یہاں لایا، میرا رب جو کچھ چاہتا ہے اس کو نہایت خوبی سے کر دکھاتا ہے، وہ بڑا ہی علیم و حکیم ہے۔ اے میرے رب تو نے مجھے حکومت بھی عطا فرمائی اور رویا کی تعبیر بھی بتائی "
تعبیر رویا کا علم : دوسری یہ کہ رویا چونکہ علوم نبوت کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے اور رویا میں حقائق مجاز کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں جن کو سمجھنا ایک خاص ذہنی مناسبت کا مقتضی ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو تعبیر رویا کا ایک خاص ذوق اور ایک خاص علم بھی عطا فرماتا ہے۔ حضرت یعقوب نے جب محسوس فرما لیا کہ اس رویا میں حضرت یوسف کے لیے نبوت کی بشارت ہے تو ساتھ ہی ان پر یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اب حضرت یوسف کو تعبیر رویا کا علم بھی عطا ہوگا تاکہ رویا کی شکل میں جو حقائق ان پر وارد ہوں ان کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر وہ منشائے خداوندی کی تعمیل کرسکیں۔ چناچہ آگے اسی سورة میں آئے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس علم میں ان کا درجہ اتنا بلند کیا کہ بالآخر یہی علم ان کے لیے مصر کی بادشاہی کے حصول کا ذریعہ بن گیا۔
صل نعمت دین و شریعت ہے : وَيُـــتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ۔۔ الایۃ۔ نعمت سے مراد دین و شریعت کی نعمت ہے۔ دنیا کی دوسری چیز کا نعمت ہونا ایک امر اضافی ہے۔ جب بندے کو دین و شریعت کی نعمت ملتی ہے تب ہی نعمت کامل ہوتی ہے۔ حضرت یعقوب نے فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہارے اجداد ابراہیم اور اسحاق کا اپنی نعمت سے نوازا اسی طرح وہ تم کو اور آل یعقوب کو بھی اس نعمت سے نوازے گا اور تم نے جو رویا دیکھی ہے وہ اسی اتمام نعمت کی بشارت ہے۔ اللہ بڑا ہی علیم و حکیم ہے۔ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ کرتا ہے وہ حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔
Ayah 12:7آگے کا مضمون۔ آیات نمبر 7 تا 22:
حضرت یوسف ؑ کی سرگزشت : اوپر کی تمہید کے بعد اب آگے حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کی اصل سرگزشت شروع ہوتی ہے چونکہ اس سگرگزشت کے سنانے سے اصل مقصود داستان سرائی نہیں بلکہ ان بہت سے سوالوں کا جواب دینا تھا جو اس دور میں اپنوں اور بیگانوں دونوں ہی کے ذہنوں کے اندر نبی ﷺ اور آپ کی دعوت سے متعلق پیدا ہو رہے تھے اس وجہ سے ابتداء ہی میں متنبہ کردیا کہ لقد کان فی یوسف واخوتہ ایات للسائلین (یوسف اور اس کے بھائیوں کی سرگزشت میں سوال کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں)۔ یعنی جو لوگ اس الجھن میں ہیں کہ آگے کیا ہوگا اور کس طرح ہوگا وہ اپنے اس طرح کے سوالوں کے جواب اس سرگزشت میں پا لیں گے۔ پھر پیرے کے آخر میں فرمایا کہ واللہ غالب علی امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون۔ اللہ اپنی اسکیم کو بروئے کار لانے پر پوری طرح حاوی ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
لَقَدْ كَانَ فِيْ يُوْسُفَ وَاِخْوَتِهٖٓ اٰيٰتٌ لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ۔
سرگزشت سے پہلے ایک تنبیہ : یہ آیت، جیسا کہ ہم نے تمہید میں اشارہ کیا، اصل سرگزشت کے شروع کرنے سے پہلے ایک تنبیہ ہے کہ مخاطب اس کو محض ایک کہانی کی طرف نہ سنیں بلکہ اس میں ان بہت سے سوالوں کے جواب مضمر ہیں جو دعوت اسلامی کے اس دور میں مخالفین و موافقین دونوں ہی کے ذہنوں میں ابھر رہے ہیں۔ اس گروپ کی پچھلی دونوں سورتوں میں حق کے غلبہ اور باطل کی ہزیمت کا مضمون مختلف اسلوبوں سے بیان ہوا ہے لیکن جس وقت یہ مضمون بیان ہوا ہے پورے ملک پر اس طرح کفر کی تاریکی چھائی ہوئی تھی کہ یہ تصور کرنا کچھ آسان نہ تھا کہ یہ تاریکی ایک دن بالکل کافور ہوجائے گی اور جو شخص آج اپنے چند نہایت مظلوم ساتھیوں کے ساتھ وقت کے متمردین کے ہاتھوں ہر قسم کے مصائب و مظالم کا ہدف ہے ایک دن آئے گا کہ یہ تمام متمردین اس کے آگے گھٹنے ٹیک کر اس سے رحم و کرم کی التجائیں کریں گے۔ قرآن نے اس تصور کو زہنوں کے قریب لانے کے لیے یہ سرگزشت سنائی تاکہ اس امر سے متعلق ذہنوں میں جتنے بھی سوالات و شبہات موجود ہوں یا آئندہ پیدا ہوسکتے ہوں وہ دور ہوجائیں اور لوگوں کو اندازہ ہوجائے کہ خدا کی شانیں یوں ظاہر ہوتی ہیں اور اس کے ارادے اور منصوبے یوں روئے کار آتے ہیں۔
Ayah 12:8اِذْ قَالُوْا لَيُوْسُفُ وَاَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰٓي اَبِيْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ ۭ اِنَّ اَبَانَا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِ۔
برادران یوسف کا غصہ : عصبۃ کے معنی گروہ، جتھہ اور جماع کے ہیں، خاص طور پر وہ گروہ جس کے اندر خون کی عصبیت بھی موجود ہو۔ بدویانہ دور زندگی میں، جب منظم حکومتوں کا وجود نہیں تھا، حمایت و مدافعت کا تمام تر انحصار خاندان اور قبیلہ کی عصبیت ہی پر ہوتا تھا۔ سب سے زیادہ باعزت اور باثر وہ خاندان سمجھا جات جس کے اندر حمایت اور مدافعت کے لیے اٹھنے والے نوجوان سب سے زیادہ ہوں۔ اسی خاندان کو قوم و قبیلہ کی سربراہی حاصل ہوتی اور وہی حکومت کرتا۔ حضرت یوسف کے بھائیوں نے اسی امر کو مد نظر رکھ کر نعوذ باللہ اپنے باپ کی بےخردی اور ناعاقبت اندیشی پر آپس میں غصہ کا اظہار کیا کہ جتھہ اور گروہ کی حیثیت تو ہماری ہے، حمایت و مدافعت کا ذریعہ تو ہم بنیں گے، دوسروں پر دھاک تو ہمارے بل بوتے پر بیٹھے گی لیکن ہمارے باپ کا حال یہ ہے کہ اس کو محبت یوسف اور اس کے بھائی بنیامین سے ہے، اس سے بڑی غلطی اور گمراہی کیا ہوسکتی ہے۔
Ayah 12:9اقْــتُلُوْا يُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا يَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ۔
لفظ " صالح " کا لغوی مفہوم : لفظ " صالح " یہاں ٹھیک اپنے لغوی مفہوم میں ہے۔ عربی میں اگر کہیں " صلحت حال فلان " تو اس کے معنی ہوں گے۔ اس کا حال بالکل ٹھیک ہوگیا، اس کی پریشانی دور ہوگئی، جو کانٹا اسے چبھ رہا تھا اس سے وہ نجات پا گیا۔
برادران یوسف کی مشورت : یہ وہ علاج ہے جو حضرت یوسف کے بھائیوں نے اپنی پریشانی دور کرنے کے لیے سوچا۔ انہوں نے اسکیم یہ بنائی کہ یوسف کو یا تو قتل کردیں یا کہیں دور دراز مقام میں لے جا کر پھینک دیں تاکہ ان کے باپ کی ساری توجہ انہی کی طرف ہوجائے اور یہ کانٹا جو انہیں چبھ رہا ہے نکل جائے۔
بعض لوگوں نے " وتکونوا من بعدہ قوما صالحین " کا یہ مطلب لیا ہے کہ اس جرم کے کرلینے کے بعد پھر نیک بن جانا لیکن یہ پھر نیک بن جانا لیکن یہ معنی اس جملہ کے کسی طرح نہیں ہوسکتے۔ دوسرے پہلوؤں سے قطع نظر جملہ کی نحوی ترکیب ہی اس سے ابا کر رہی ہے ظاہر ہے کہ اس کا عطف سابق جواب امر پر ہے اس وجہ سے جو حکم اس کا ہوگا وہی حکم حضرت یوسف کے بھائیوں کی اس مشورت سے یہ بات بالکل صاف وجاتی ہے کہ ان کو اصلی کد حضرت یوسف ہی سے تھی اور اس کد میں اصل دخل صرف ان کے سوتیلے ہونے کو نہیں تھا بلکہ ان کی اعلی صلاحیتوں کو تھا جو اسی عمر سے ان میں ابھرنے لگی تھیں اور جن کو دیکھ کر حضرت یعقوب ان سے غیر معمولی طور پر محبت کرنے لگے تھے۔ اگر مجرد سوتیلے ہونے کے سبب سے کد ہوتی تو سوتیلے تو بنیامین بھی تھے آخر ان کو ٹھکانے لگانے کی انہوں نے کوئی اسکیم کیوں نہیں بنائی !
Ayah 12:10قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَـقْتُلُوْا يُوْسُفَ وَاَلْقُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّـيَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَ۔
غیابۃ، کنوئیں کی تہ کو اور جب کچے کنویں کو کہتے ہیں۔ صحرائی راستوں میں جن پر سے قافلے گزرتے ہیں اس طرح کے کنویں ہوتے تھے جو عام حالات میں تو یوں ہی پڑے رہتے لیکن کوئی قافلہ گزرتا تو ان پر رونق ہوجاتی۔
دس بھائیوں میں سے ایک کے دل میں معلوم ہوتا ہے حضرت یوسف کے لیے کوئی نرم گوشہ تھا۔ اس نے مشورہ دیا کہ قتل تو نہ کرو، اگر کچھ کرنا ہی ہے تو یہ کرو کہ قافلوں کے راستے کے کسی کنوئیں میں اس کو ڈال دو۔ کوئی قافلہ گزرے گا اس کو نکال لے گا۔ چونکہ اس زمانہ میں بردہ فروشی کا عام رواج تھا اس وجہ سے ممکن ہے یہ خیال بھی ہوا ہو کہ قافلے والے یا تو اس کا غلام بنا لیں گے یا کسی شہر میں لے جا کر اس کو بیچ دیں گے۔ اس طرح اس کی جان بھی بچ جائے گی اور تمہارے پہلو کا کانٹا بھی نکل جائے گا۔ بالآخر اسی مشورے پر سب کا اتفاق رائے ہوگیا۔
Ayahs 12:11–1211۔ 12:۔ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مَالَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰي يُوْسُفَ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ۔ اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَّرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ۔
حضرت یعقوب کو فریب : " یرتع و یلعب " کا لغوی مفہوم تو یہ ہے کہ ذر چرے چگے اور کھیلے کودے لیکن یہ نہایت خوب صورت تعبیر ہے پکنک منانے کی۔ بدویانہ دور زندگی میں جی بلانے کے جو طریقے بہت مقبول و محبوب رہے ہیں ان میں پکنک کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ شعرائے جاہلیت اپنے قصائد میں بڑی دلچسپی سے اس کا ذکر کرتے ہیں۔ حضرت یوسف کے بھائیوں نے بھی مذکورہ بالا رائے پر اتفاق کرلینے کے بعد حضرت یعقوب کو شیشہ میں اتارنے کے لیے ان کو یہی سبز باغ دکھانے کی کوشش کی۔ سب مل کر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پہلے تو اپنا اعتماد جمانے کے لیے یہ کہا کہ کیا بات ہے کہ یوسف کے معاملے میں آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے حالانکہ ہم تو اس کے بڑے ہی خیر خواہ اور محبت کرنے والے ہیں۔ پھر ان کے سامنے اپنا پکنک کا پروگرام پیش کیا کہ کل ہم نے تفریح کا پروگرام بنایا ہے اور ہماری دلی آرزو ہے کہ یوسف بھی اس پروگرام میں شریک ہو، ذرا پھل پھلداری کھائے گا، ہمارے ساتھ کھیلے کودے گا اور آپ پوری طرح مطمئن رہیں کہ کسی بات کا اندیشہ نہیں ہے، اگر کوئی خطرہ ہوا تو ہم سب اس کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔
Ayahs 12:13–1413۔ 14:۔ قَالَ اِنِّىْ لَيَحْزُنُنِيْٓ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَاَخَافُ اَنْ يَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ۔ قَالُوْا لَىِٕنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّآ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ۔
حضرت یعقوب نے فرمایا کہ مجھے غم اور اندیشہ اگر ہے تو اس بات کا ہے کہ تم اس کو لے جاؤ اور تم تو اپنے کھل کود، اپنی دلچسپیوں میں مصروف ہوجاؤ اور تمہاری غفلت میں اس کو کوئی بھیڑیا کھاجائے معلوم ہوتا ہے اس علاقے میں بھیڑیوں کی کثرت تھی اور آدمیوں پر ان کے حملوں کی وارداتیں ہوتی رہتی تھی۔ حضرت یعقوب ؑ کے اس اندیشے کو سن کر بڑے تاؤ سے انہوں نے جواب دیا کہ ہماری پوری پارٹی کی موجودگی میں اگر اس کو بھیڑیا کھا گیا تو ہم سے بڑھ کر بدقسمت اور نامراد کون ہوگا۔ معلوم ہوتا ہے حضرت یعقوب نے ان کی اس یقین دہانی کے بعد بادل نخواستہ ہی سہی، حضرت یوسف کو ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی اور ان کی سازش کا پہلا مرحلہ کامیابی سے طے ہوگیا۔
Ayahs 12:15–1715۔ 17:۔ فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ يَّجْعَلُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ ۚ وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۔ وَجَاۗءُوْٓا اَبَاهُمْ عِشَاۗءً يَّبْكُوْنَ۔ قَالُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ۔
ان آیات میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ " لما " کا جواب۔ قالوا یابانا۔۔۔ الایۃ ہے۔ بات کو سمیٹنے کے لیے بیچ کی کئی باتوں کو " لما " ہی کے تحت کردیا ہے۔ یعنی جب انہوں نے اس کو کنوئیں میں ڈالنے کا فیصلہ کرلیا اور یوسف کو یہ خوش خبری بھی الہام کردی گئی کہ تم اس آفت سے نجات پاؤ گے اور ایک دن آئے گا کہ تم ان کو ان کی اس کارستانی سے آگاہ کروگے۔ اور وہ روتے ہوئے اپنے باپ کے پاس رات میں آئے گا کہ تم ان کو ان کی اس کارستانی سے آگاہ کروگے، اور وہ روتے ہوئے اپنے باپ کے پاس رات میں آئے، تب انہوں نے یہ کہا کہ ہم تو یوسف کو سامان کے پاس چھوڑ کر دوڑ لگاتے ہوئے دور نکل گئے اور یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ اس ایجاز کا فائدہ یہ ہوا کہ سرگزشت کے تمام اجزا کی طرف اشارہ بھی ہوگیا اور اصل نقطہ سے مخاطب کی توجہ ہٹنے بھی نہ پائی۔
اب اس کے اجزا پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ يَّجْعَلُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ۔ یعنی حضرت یعقوب کو کسی نہ کسی طرح راضی کر ہی لیا اور یوسف کو ساتھ لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو کنوئیں میں ڈال دیں۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس امر میں اختلاف اگرچہ آخر تک موجود رہا کہ یوسف کو قتل کریں یا کنوئیں میں ڈالیں لیکن بالآخر کنوئیں والی تجویز ہی پر سب کا اتفاق اور اسی پر عمل ہوا۔
حضرت یوسف کو بشارت :َاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۔ یہاں " وحی " سے مراد اصطلاحی وحی نہیں ہے بلکہ مراد دل میں بات ڈال دینا ہے۔ صالحین کو ظالموں اور شریروں کے ہاتھوں جب کوئی آزمائش پیش آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جس وقت ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے اسی وقت مظلوم کے دل پر بھی غیب سے سکینت و طمانیت تسلی اور بشارت نازل فرماتا ہے۔ اس کا تجربہ کم و بیش ہر اس شخص کو ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوئی تکلیف اٹھانے کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔ یہ چیز آپ سے آپ دل پر نازل ہوتی ہے اور پھر دل کو اس طرح اپنے رنگ میں رنگ لیتی ہے کہ بڑی سے بڑی مصیبت کی اہمیت بھی پرکاہ کے برابر نہیں رہ جاتی۔ حضرت یوسف ؑ کے لیے دل پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات ڈال دی گئی کہ یہ آزمائش وقتی اور عارضی ہے۔ وہ وقت آئے گا کہ تم ان لوگوں کو ان کی کارستانی سے آگاہ کروگے اور تم اس وقت ایسے منصب بلند پر ہوگے کہ یہ گمان بھی نہ کرسکیں گے کہ یہ ان کا وہی بھائی ان سے بات کررہا ہے جس کو انہوں نے اندھے کنوئیں میں پھینکا تھا۔ اس کی تفصیل آیت 90 کے تحت آئے گی۔
بھائیوں کی سخن سازی : وَجَاۗءُوْٓا اَبَاهُمْ عِشَاۗءً يَّبْكُوْنَ۔ یعنی یہ کارستانی انجام دے کر کچھ رات گئے منہ بسورتے اور ٹسوے بہاتے باپ کے پاس آئے۔ کچھ رات گئے آنے میں ممکن ہے یہ مصلحت مدِنظر رہی ہو کہ اگر باپ کے دل میں تلاش و تحقیق کا کوئی خیال پیدا ہو تو اس کا بھی کوئی امکان باقی نہ رہے۔
قَالُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ۔ یہ وہ اصل بات ہے جو انہوں نے اپنی صفائی میں پیش کی۔ استباق کے معنی دورنے، جھپٹنے اور ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کے ہیں۔ اسی سورة میں آگے استبقا الباب آیا ہے یعنی وہ دونوں دروازے کی طرف جھپٹے۔ ان لوگوں نے اپنے لیے عذر تلاش کرنے میں کچھ زیادہ ذہانت کا ثبوت نہیں دیا۔ حضرت یعقوب نے ان کے سامنے بھیڑیے کا جو اندیشہ ظاہر کیا تھا اسی سے انہوں نے بات بنا لی کہ باپ کے ذہن میں بھیڑیے کا اندیشہ تو موجود ہی ہے تو کیوں نہ اس کی آڑ میں پناہ لی جائے۔ چناچہ انہوں نے حضرت یعقوب ہی کی بات دہرا دی کہ ہم تو یوسف کو سامان کے پاس چھوڑ کر دوڑ لگاتے ہوئے دور نکل گئے اور پھر بھیڑیا آیا اور یوسف کو کھا گیا۔ یہ بات کہنے کو تو انہوں نے کہہ دی لیکن وہ خود بھی مطمئن نہیں تھے کہ حضرت یعقوب ان کی بات باور کرلیں گے۔ چناچہ ان کے دل کا چور ان کی زبان پر بھی آگیا اور ساتھ ہی وہ یہ بھی کہہ کر گزرے کہ وما انت بمومن لنا ولو کنا صدقین۔ آپ ہماری بات ماننے والے تو ہیں نہیں اگرچہ ہم سچے ہی کیوں نہ ہوں۔
Ayah 12:18وَجَاۗءُوْ عَلٰي قَمِيْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ ۭ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا ۭ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ۭ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ۔
سولت لہ نفسہ کذا، زینتہ لہ وسھلتہ لہ وھونتہ۔ شیطان نے اس کی نگاہ میں فلاں بات کھبادی اور آسان کردی۔
صبر جیل کا مفہوم : فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ مبتدا بھی ہوسکتا ہے اس لیے کہ نکرہ موصوف میں مبتدا ہونے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے اور مبتدائے محذوف کی خبر بھی ہوسکتا ہے۔ ہم نے مبتدا مان کر ترجمہ کیا ہے اور خبر محذوف کو ترجمہ میں کھول دیا ہے۔ ایسے مواقع میں خبر کے محذوف ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ بالکل واضح ہوتی ہے اور اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ساری توجہ اصل نقطہ پر مرکوز ہوجاتی ہے۔ صَبْرٌ جَمِيْلٌ سے مراد وہ صبر ہے جو ہر قسم کے جزع فزع، گلے شکوے اور نوحہ و ماتم سے پاک ہو۔ اگر قرآن اور تورات کا فرق دیکھنا ہو تو صرف یہی ایک مقام تورات میں دیکھ لیجیے۔ قرآن تو ان کے صبر جمیل کی تعریف کرتا ہے اور تورات میں ہے کہ " تب یعقوب نے اپنے کپڑے پھاڑے اور ٹاٹ اپنے کو ل ہے پر ڈالا اور بہت دن تک اپنے بیٹے کا غم کیا " (پیدائش۔ 37:، 34)
حضرت یعقوب کو اپنی بات باور کرانے کے لیے ان لوگوں نے تدبیر یہ کی کہ حضرت یوسف کے قمیض پر کسی چیز کے خون کے دھبے بھی ڈال لائے لیکن حضرت یعقوب نے ایک لمحہ کے لیے بھی ان کی بات باور نہیں کی۔ سنتے ہی فرمایا کہ یہ سب تمہارا من گھڑت قصہ ہے تو صبر جمیل کی توفیق ملے اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اللہ ہی مدد فرمائے تو اس کا عقدہ کھلے۔
Ayah 12:19وَجَاۗءَتْ سَيَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ ۭ قَالَ يٰبُشْرٰي ھٰذَا غُلٰمٌ ۭ وَاَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ۔
" وارد " کا مفہوم : " وارد " کے اصل معنی تو کسی گھاٹ یا چشمہ پر اترنے والے کے ہیں۔ عرب میں قافلے والے یوں کرتے کہ جس کنوئیں میں اترنا ہوتا ذرا پہلے اپنا ایک آدمی اس پر بھیج دیتے کہ وہ پانی وغیرہ کا انتظام کر رکھے۔ یہاں وارد سے وہی مراد ہے۔
خدائے کارساز کی کارسازی : برادران یوسف تو ان کو کنوئیں میں ڈال کر گھر کو سدھارے۔ ادھر رب کریم و کارساز نے یہ انتظام فرمایا کہ ایک قافلہ آ نکلا اور اس نے اپنے پانی کے منتظم کو کنوئیں پر بھیجا۔ اس نے ڈول ڈالا تو دیکھتا ہے کہ کنوئیں میں ایک لڑکا ہے۔ وہ خوشی سے چلایا کہ خوش خبری ہو، اس میں تو ایک لڑکا ہے ! اس دور میں بردہ فروشی کا رواج عام تھا۔ انہوں نے سوچا کہ چلو ایک نفع کی چیز مل گئی۔ کہیں بیچ لیں گے اور اس خیال سے کہ کہیں داہنے بائیں کوئی مدعی نہ اٹھ کھڑا ہو اس واقعہ کو انہوں نے راز میں رکھنے کی کوشش کی، اس کی تشہیر نہیں ہونے دی۔ واللہ علیم بما یعملون اور اللہ کو خوب پتہ تھا کہ وہ کیا کررہے تھے۔ وہ تو اپنی اسکیم پوری کر رہے تھے اور اللہ اپنی اسکیم پوری کر رہا تھا۔ انہیں تو ایک غلام ملا تھا۔ خوش تھے کہ اس کو بیچ کر کچھ پیسے حاصل کرلیں گے اور اللہ نے یہ چاہا کہ یوسف کی یہ غلامی مصر کی بادشاہی کی تمہید ثابت ہو۔
Ayah 12:20وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ ۚ وَكَانُوْا فِيْهِ مِنَ الزَّاهِدِيْنَ۔
بخس اور زہد کا مفہوم۔ شری یشری خریدنے اور بیچنے دونوں معنی میں آتا ہے۔ یہاں اپنے دوسرے معنی میں آیا ہے۔ بخس کے معنی ناقص اور حقیر کے ہیں۔ زہد فی الشیء، رغب عنہ و ترکہ۔ یعنی وہ فلاں چیز سے بےرغبت ہوگیا۔ اس کو چھوڑ بیٹھا۔ تارک دنیا کو زاہد اس لیے کہتے ہیں کہ وہ دنیا اور اسباب دنیا سے بےرغبت و بےنیاز ہوجاتا ہے۔
حضرت یوسف ؑ کی فروخت۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے مصر پہنچتے ہی اس کو نہایت حقیر قیمت، گنتی کے چند درم کے عوض بیچ چیا، انہوں نے حضرت یوسف کے حاصل کرنے پر کچھ دام تو خرچ نہیں کیے تھے کہ اپنے د ام وصول کرنے اور اس پر کچھ مزید نفع حاصل کرنے کی فکر ہوتی۔ ایک چیز مفت ہاتھ آئئی تھی وہ جس قیمت پر بھی بک گئی ان کے لیے نفع ہی نفی تھی۔ چناچہ انہوں نے غالبا خریدار اول ہی کے ہاتھ، جو قیمت بھی اس کی زبان سے نکل گئی، اسی قیمت پر ان کو فروخت کردیا۔ انہیں کیا پتہ تھا کہ وہ جس لڑکے کو بیچ رہے ہیں وہ خانوادہ یعقوبی کا چشم و چراغ اور خدا کا پیغمبر ہے اور بہت جلد مصر کی پوری مملکت اس کے انگوٹھے کے نیچے آنے والی ہے، جب وہ ان باتوں میں سے کسی بات سے واقف ہی نہیں تھے تو ان کو بےپر وہ تو ہونا ہی تھا۔
Ayah 12:21وَقَالَ الَّذِي اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖٓ اَكْرِمِيْ مَثْوٰىهُ عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا ۭ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۡ وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ ۭ وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ
ایک نحوی اشکال کی وضاحت : اس آیت میں ایک نحوی اشکال ہے وہ یہ کہ ولنعلمہ کا معطوف علیہ موجود نہیں ہے۔ اس اسلوب کی مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں اور ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں کہ کبھی معطوف علیہ کو غایت و ضاحت کی وجہ سے حذف کردیتے ہیں، اس کو قرینہ سے سمجھ لیتے ہیں اور موقع مقتضی ہو تو وہ پاوری بات وہاں محذوف مانی جاسکتی ہے جس سے موجود خلا بھرسکے۔ یہاں ہمارے نزدیک ولنعلمہ سے پہلے لنجتبیہ محذوف ہے اور حرف عطف " و " اس کی طرف اشارہ کر رہا ہے یعنی پوری بات یوں کہ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے ملک میں زمین ہموار کی تاکہ ہم اس کو اپنے کام کے لیے برگزیدہ کریں اور تاکہ ہم اس کو باتوں کی تاویل تعبیر سکھائیں۔
حضرت یوسف ؑ کی زندگی کا ایک نیا موڑ : اب یہاں سے حضرت یوسف ؑ کی زندگی ایک نیا موڑ مڑتی ہے۔ اہل مصر میں سے جس نے ان کو خریدا تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حکومت کا ایک معزز عہدہ دار غالباً شاہی باڈی گارڈ کا اعلی افسر اور طبیعت کا نہایت شریف آدمی تھا۔ تورات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے حضرت یوسف ؑ کو دیکھتے ہی تاڑ لیا تھا کہ یہ کس نہایت اعلی خاندان کا چشم و چراغ ہے جس کو یہ بیچنے والے کہیں سے پکڑ لائے ہیں۔ چناچہ اس نے اپنی بیوی کو ہدایت کی کہ اس کو غلام کی طرح نہیں بلکہ خاطر و مدارات سے رکھنا۔ بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔ معلوم ہوتا ہے اس وقت تک اس کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی اس وجہ سے اس نے سوچا ہو کہ اگر ہمارے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی تو ہم اس کو متنبی کرلیں گے۔ اس طرح اس نے حضرت یوسف کو اپنے پورے گھر کا، جیسا کہ تورات سے واضح ہوتا ہے، مالک و مختار بنا دیا۔
حضرت یوسف ؑ کا نبوت کے لیے انتخاب : وکذلک مکنا لیوسف یعنی اس طرح ہم نے یوسف کے لیے مصر میں زمین ہمواری کی تاکہ جس کار نبوت کے لیے ہم اس کو منتخب کرنا چاہتے تھے اس کو منتخب کریں اور اس کو باتوں اور خوابوں کی وہ تاویل وتعبیر سکھائیں جو اس کے لیے بالآخر جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی، عملاً مصر کی بادشاہی کے لیے زمین ہموار کردے۔
قریش کو تنبیہ : وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ اوپر جتنی سرگزشت بیان ہوئی ہے۔ یہ اس کا خلاصہ ہے کہ خدا کے ارادے اور اس کی اسکیمیں اسی طرح بروئے کار آتی ہیں لیکن جن لوگوں کی نظر صرف ظاہر پر ہوتی ہے وہ اس کو نہیں جانتے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ ساری سرگزشت قریش کو سنائی جا رہی ہے اور اس آخری فقرے میں انہی کی آنکھوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ وہ چاہیں تو اس سرگزشت میں اپنا مستقبل بھی دیکھ لیں اور اس پیغمبر کا مستقبل بھی دیکھ لیں جس کے خلاف وہ رات دن طرح طرح کی سازشوں میں مصروف ہیں۔
Ayah 12:22وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗٓ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا ۭ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ۔
حضرت یوسف پر انعامِ الٰہی : یہ وہ انعام ہے جو اللہ تعالیٰ نے بعد میں حضرت یوسف پر فرمایا اور جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہے۔ فرمایا کہ جب وہ عمر کی پختگی کو پہنچا ہم نے اس کو حکم اور علم سے نوازا اور ہم خوب کاروں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ لفظ اشد جوانی کے لیے بھی آتا ہے اور پختہ سن و سال کے لیے بھی آتا ہے مثلا حتی اذا بلغ اشدہ و بلغ اربعین سنۃ (یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوا) حکم اور علم یہاں نبوت کی تعبیر ہے۔ حکم سے مراد قوت فیصلہ بھی ہے اور حکومت بھی اور یہ دونوں ہی چیزیں حضرت یوسف کو عطا ہوئیں۔ " علم " سے مراد وہ علم ہے جو حضرات انبیاء کو وحی کے ذریعہ سے عطا ہوتا ہے۔ آخر میں یہ واضح فرمادیا کہ یہ انعام جو یوسف پر ہوا تو اس لیے ہوا کہ وہ خوب کار تھے۔ انہوں نے خدا کے حقوق و فرائض کو پہچانا اور ہر امتحان میں پورے اترے تو خدا نے ان کو اپنی نبوت کے لیے انتخاب فرمایا۔
Ayah 12:23آگے کا مضمون۔ آیات 23 تا 34: حضرت یوسف ؑ کی آزمائش کا دوسرا مرحلہ : آزمائش کا پہلا مرحلہ ختم ہوا تو ساتھ ہی دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا۔ پہلا مرحلہ بھائیوں کے حسد اور ان کی نفرت اور عداوت کا تھا جس کے نتیجہ میں انہیں ایک اندھے کنوئیں میں پھینکا گیا۔ یہ دوسرا مرحلہ عزیز مصر کی بیوی کی طرف سے عشق و محبت کی شکل میں نمودار ہوا جس کے نتیجہ میں حضرت یوسف کو بےقصود جیل میں ڈالا گیا۔ لیکن جس طرح وہ پہلے امتحان میں کامیاب رہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس دوسرے امتحان میں بھی ان کو نہایت شاندار کامیابی بخشی۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَرَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ ۭ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّيْٓ اَحْسَنَ مَثْوَايَ ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ۔
" مراودۃ " کا مفہوم : رَاوَدَتْهُ عَنْ نَّفْسِهٖ کے معنی ہیں چھل فریب کے ذریعہ سے اس نے اس کو بدکاری کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی۔
" ھیت لک " کا مفہوم : ھیت لک کے معنی ہیں ھَلُمّ لک و تعال، یعنی آجاؤ۔
لفظ " رب " کا مفہوم : " انہ ربی " لفظ " رب " یہاں اپنے عام لغوی مفہوم یعنی آقا اور مالک کے معنی میں ہے۔ آگے آیات 41۔ 42 میں بھی اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ مثلا اما احدکما فیسقی ربہ خمرا۔ (رہا تم میں سے ایک تو وہ اپنے آقا کو شراب پلائے گا) اذکرنی عند ربک (اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کیجیو)
حضرت یوسف کے لیے دام ہوس : ہم نے اوپر ذکر کیا ہے کہ یہاں سے حضرت یوسف کی زندگی کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔ اب تک وہ نفرت اور حسد کے شکار تھے، اس سے جان چھوتی تو عشق و ہوس نے ان پر اپنے دام پھینکنے کی کوشش شروع کی اور یہ یہ امتحان پہلے امتحان سے بھی کہیں زیادہ سخت ثابت ہوا۔ مصریوں میں سے جس نے ان کو خریدا تھا اس کی بیوی ان پر مرنے لگی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک دن اس نے اپنے د روازے بند کرلیے اور بولی کہ بس آجاؤ۔ حضرت یوسف نے ان کے شوہر کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ میرا آقا ہے اور اس نے مجھے نہایت اچھی طرح رکھا ہے۔ یہ بڑی بےوفائی اور نمک حرام ہوگی اگر میں اس کی بیوی کے ساتھ اس طرح کی کوئی حرکت کروں۔ اس صورت میں میں ظالم ٹھہروں گا اور ظالم کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔ حضرت یوسف کے اس فقرے پر غور فرمائیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں بڑی نفسیاتی بلاغت ہے۔ جذبات سے اندھی اور خدا اور آخرت سے ایک بیخبر عورت کے سامنے خدا اور آخرت کا وعظ، ظاہر ہے کہ بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف تھا۔ اس کے ہیجان کو اگر کچھ ٹھنڈا کیا جاسکتا تھا تو اسی فقرے سے کیا جاسکتا تھا جو حضرت یوسف نے فرمایا۔ اس میں اگر شرافت کی رمق بھی ہوتی تو وہ ضرور سوچتی کہ ایک یہ نوجوان ہے جو اپنے آقا کی معمولی سی مہربانی سے اتنا متاثر اور اس کی آقائی کا اس کو اتنا اہتمام ولحاظ ہے کہ میری بےمحابا دعوت کے باوجود اس کے ساتھ کوئی بےوفائی کرنا اپنی دنیا اور عاقبت دونوں کی بربادی تصور کرتا ہے اور ایک میں ہوں کہ اس کی بیوں ہوں، میں نے اپنے آپ کو اس کی زوجیت میں دیا ہے۔ اپنی عصمت کا اس کو مالک بنایا ہے، اس کے گھر کی ملکہ بنی بیٹھی ہوں، اس کے مال پر مالکانہ متصرف ہوں لیکن اس کے ساتھ وفاداری کا یہ حال ہے کہ اس کے زرخرید غلام کو اس طرح ہوس سے اندھی ہو کر دعوت عشق دے رہی ہوں۔
" انہ ربی " میں ضمیر منصوب کا مرجع۔ بعض لوگوں نے " انہ ربی " میں ضمیر منصوب کا مرجع خدا کو مانا ہے لیکن یہ محض تکلف ہے۔ سیاق وسباق اس سے ابا کر رہا ہے۔ عربی میں رب المال، رب البیت اور رب الدار وغیرہ کی ترکیبیں موجود ہیں اور اوپر آپ نے دیکھا کہ خود حضرت یوسف نے آقا کے لیے لفظ " رب " کا استعمال فرمایا ہے۔ کتنے الفاظ زبان میں ایسے ہیں جو خدا کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں اور بندوں کے لیے بھی لیکن دونوں شکلوں میں ان کے مفہوم بالکل الگ الگ ہوتے ہیں۔
Ayah 12:24وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ ۭ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْۗءَ وَالْفَحْشَاۗءَ ۭ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ۔
" برہان رب " کا مفہوم : " برہان رب " سے مراد وہ نور یزدانی ہے جو اللہ تعالیٰ ہر انسان کی فطرت کے اندر ودیعت فرماتا ہے۔ جو خیر و شر میں امتیاز کا ذریعہ بھی ہے اور جو خیر پر ابھارتا بھی ہے اور برائی سے روکتا بھی ہے۔ یہ نور اللہ تعالیٰ بخشتا تو ہر ایک کو ہے لیکن سنت الٰہی یہ ہے کہ جو اس کی قدر کرتے اور اس کی رہنمائی قبول کرتے ہیں ان کے اندر تو یہ برابر قوی سے قوی تر ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ اتنا قوی ہوجاتا ہے کہ نہایت سخت آزمائش کے مواقع پر بھی وہ انسان کو نفس اور شیطان کے فتنوں میں مبتلا ہونے سے بچالیتا ہے۔ برعکس اس کے جو لوگ اس کی قدر نہیں کرتے بلکہ برابر اس کی رہنمائی کو ٹھکراتے ہی رہتے ہیں ان کے اندر یہ آہستہ آہستہ، ضعیف ہوتے ہوتے بالکل بجھ جاتا ہے اور ان پر وہ سیاہی چھا جاتی ہے جو ان کو بصیرت سے بالکل ہی محروم اور اخلاقی اعتبار سے بالکل ہی اندھا بہرا بنا کر چھوڑ دیتی ہے۔ قرآن میں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے۔ کلا بل ران علی قلوبہم ماکانوا یکسبون (ہر گز نہیں ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی سیاہی چھا گئی ہے)
باطن کا نور یزدانی : حضرت یوسف ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اس نور کی قدر کی۔ اس کا صلہ ان کو یہ ملا کہ اس نازک موقع پر، جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے، اس نور نے ان کو نفس اور شیطان کی تاریکی میں گھر جانے سے بچالیا۔ آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ جہاں تک عورت کا تعلق ہے وہ تو بالکل اندھی بہری ہو کر پیچھے پڑگئی تھی۔ حضرت یوسف بھی اس وقت آخر جوان تھے۔ غالباً 18، 20 سال کی عمر ہوگی، کیا عجب تھا کہ ان کے قدم بھی لڑکھڑا جاتے۔ لیکن نہیں ان کے اندر وہ نور یزدانی موجود تھا جس کی رہنمائی کو انہوں نے کبھی ٹھکرایا نہیں تھا۔ وہ اس موقع پر ان کے باطن میں چمکا اور دفعۃً آنکھوں کے سامنے سے ساری ظلمت کافور ہوگئی۔ فرمایا کذلک لنصرف عنہ السوء والفحشاء انہ من عبادنا المخلصین۔ یعنی چونکہ وہ ہمارے منتخب اور برگزیدہ بندوں میں سے تھا جس کو ہم نے اپنے کار خاص کے لیے منتخب کیا تھا اس وجہ سے ہم نے اس نازک موقع پر اپنی برہان سے اس کی رہنمائی فرمائ تاکہ اس کو برائی اور بےحیائی سے محفوظ رکھیں۔ " برہان " واضح دلیل اور مسکت حجت کو کہتے ہیں۔ اس دلیل سے زیادہ واضح اور مسکت دلیل اور کون ہوسکتی ہے جو خود اپنے باطن سے اذان دے !۔
عصمتِ انبیاء کے بعض پہلو۔ اس آیت سے عصمت انبیاء کے بعض پہلو بھی روشن ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو بعثت سے قبل بھی گناہوں کی آلودگی سے محفوظ رکھتا ہے۔ دوسرا یہ کہ نبی کے معصوم ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس سے گناہ کرنے کی قوت و صلاحیت سلب کرلی جاتی ہو بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ برابر اپنے نور فطرت کی نگرانی کرتے ہیں اس وجہ سے بالتدریج وہ اتنا قوی ہوجاتا ہے کہ سخت سے سخت آزمائش کے مواقع میں بھی وہ ان کو راہ سے بےراہ نہیں ہونے دیتا۔
Ayah 12:25وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّاَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا الْبَابِ ۭ قَالَتْ مَا جَزَاۗءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْۗءًا اِلَّآ اَنْ يُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔
اسباقت کے معنی ہیں دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرنا۔
عورت کا فریب : حضرت یوسف نے جب دیکھا کہ اس فتنہ سے جان بچانے کی کوئی شکل باقی نہیں رہی ہے تو وہ دروازے کی طرف جھپٹے کہ کھول کر باہر نکل جائیں۔ پیچھے سے عورت نے تعاقب۔ ان کو تو پکڑ نہ سکی البتہ ان کا کرتہ اس کے ہاتھ میں آگیا۔ اس کو جو زور سے اس نے کھینچا تو وہ پھٹ گیا اور ساتھ ہی یہ سانحہ پیش آیا کہ دروازہ جو کھلا تو دیکھا کہ شوہر دروازے سے لگا کھڑا ہے۔ اس کو دیکھتے ہی سارانشہ عشق ہرن ہوگیا۔ جھٹ بولی کہ تمہاری بیوی کے ساتھ جو برائی کا ارادہ کرے یا تو وہ جیل بھیجے جانے کا مستحق ہے یا یہ کہ اس کو کوئی دردناک سزا دی جائے۔ اس طرح اس نے شوہر کی نظروں میں اپنے کو بری اور حضرت یوسف کو مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی۔
Ayahs 12:26–2826۔ 28:۔ قَالَ هِىَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا ۚ اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ۔ وَاِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔ فَلَمَّا رَاٰ قَمِيْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَيْدِكُنَّ ۭ اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ۔
قرآن کی شہادت : جب اس نے حضرت یوسف کو متہم کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے مختصر الفاظ میں اصل حقیقت ظاہر کردی کہ اس میں میرا قصور نہیں ہے بلکہ یہی میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی خبر خاندان میں بھی پھیل گئی اور یہ بھی لوگوں کو علم ہوگیا کہ اس کشمکش میں یوسف کا کرتا پھٹ گیا ہے۔ گویا ایک مقدمہ بن گیا۔ عورت کا بیان کچھ، یوسف کا بیان کچھ۔ اب جھوٹا کون ہے اور سچا کون ؟ اس کا فیصلہ کرنے میں اگر حالات و قرائن میں سے کوئی چیز مددگار ہوسکتی تھی تو کرتا پھٹنے کا واقعہ تھا۔ عورت کے خاندان کے لوگوں میں سے ایک شخص نے، جو غالباً خاندان کے بڑوں بوڑھوں میں سے رہا ہوگا، یہ رائے دی کہ اگر کرتا آگے سے پھٹا ہو تب تو عورت سچی ہے یوسف کہتے ہیں اور اگر تا پیچھے سے پھٹا ہو تو یوسف سچے ہیں، عورت جھوٹ بولتی ہے۔ یہ بات نہایت معقول تھی اس سے شوہر کو اس پر اطمینان ہوگیا۔ جب اس نے دیکھا کہ یوسف کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو اس نے عورت کو ڈانٹا کہ یہ سب تمہارا فریب ہے اور تمہارا فریب بڑا ہی خطرناک ہوتا ہے۔ " من کیدکن " میں جمع کی ضمیر مرد کے غصہ کی تیزی اور شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ گویا اس کے فعل نے تنہا اس کو نہیں بلکہ اس کی پوری جنس کو اس کی نگاہوں میں کیّاد اور مبغوض بنادیا۔
Ayah 12:29يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا ۫وَاسْتَغْفِرِيْ لِذَنْۢبِكِ ښ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِــِٕيْنَ۔
بیوی کو شوہر کی ڈانٹ : صحیح صورت حالس امنے آجانے کے بعد اس نے حضرت یوسف کو مخاطب کر کے تو اطمینان دلایا کہ تم اس کی بکواس کی کوئی پرواہ نہ کرو۔ اس سے اعراض کرو۔ اور خوبیوں کو کطاب کرکے ڈانٹا کہ تو ہی خطاوار ہے اس وجہ سے اپنے گناہ کی معافی چاہ۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ توبہ اور استغفار کے مشرکانہ ادیان میں بھی ہمیشہ بڑی اہمیت حاصل رہی ہے یہ الگ بات ہے کہ ان کا استغفار اپنے دیوتاؤں کے سامنے ہوتا ہے جن کی کوئی حقیقت نہیں۔
Ayah 12:30وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِيْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۭ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۔
" عزیز " کا مفہوم : عزیز کے معنی غالب اور مقتدر کے ہیں۔ یہ لفظ بادشاہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اونچے درجہ کے بااختیار و باقتدار افسروں اور عہدہ داروں کے لیے بھی۔ چونکہ یہ شخص شاہی باڈی گارڈ کا افسر اعلیٰ تھا اس وجہ سے عورتوں نے اس لیے " عزیز " کا لفظ استعمال کیا۔
شہر کی عورتوں میں چچا۔ حضرت یوسف کے ساتھ عزیز کی بیوی کے اس عشق کا چرچا آہستہ آہستہ افسانہ بزم و انجممن بن گیا۔ شہر کی کچھ عورتوں نے، جو ہوسکتا ہے اسی طبقہ کی رہی ہوں جس طبقہ کی عزیز کی بیوی تھی، یہ کہنا شروع کیا کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کے عشق میں دیوانی ہورہی ہے، اس پر ڈورے ڈال رہی ہے لیکن کچھ نہیں کر پا رہی ہے۔ ہم تو اس کو ایک صریح غلطی میں مبتلا دیکھ رہے ہیں۔ ان کے اس آخری فقرے میں ملامت، شماتت اور ادعا کے بہت سے پہلو مضمر ہیں۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ اول تو یہی بات بڑی عجیب ہے کہ ایک اعلی عہدہ کدار کی بیگم ہو کر اپنے غلام کے پیچھے اپنے کو خوار کرے پھر اس سے بھی عجیب تر ماجرا یہ کہ اس کو بھی رام نہ کرسکے۔ یہیں سے اس ملامت کے اندر یہ مضمون بھی پیدا ہوجاتا ہے کہ یہ عورت احمق ہے کہ بدنام بھی ہوئی اور نامراد بھی رہی، اگر کہیں ہم ہوتے تو ایک ہی عمزے میں یوسف کو ایسی پٹخنی دیتے کہ ان کی پارسائی کی ساری دھوم ختم ہوجاتی۔