Ayahs 12:56–5756۔ 57:۔ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۚ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاۗءُ ۭ نُصِيْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَاۗءُ وَلَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِـنِيْنَ۔ وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ۔
حضرت یوسف ؑ کا کلی اقتدار : اس طرح حضرت یوسف ؑ کو پورے ملک مصر میں عملاً وہ تمام اختیار و اقتدار حاصل ہوگیا جو بادشاہ کو حاصل تھا۔ نام تو بادشاہ کا ضرور باقی رہا۔ لیکن اپنے اختیارات اس نے سارے حضرت یوسف کو تفویض کردیے۔ یتبوء منہا حیث یشاء۔ یعنی وہ جہاں چاہیں فروکش ہوں، جس حصہ ملک کا چاہیں دورہ کریں، جہاں جو نظم و نسق ضرور سمجھیں اس کے لیے احکام صادر فرمائیں۔ حکومت کے عمال کا فرض تھا کہ بےچون و چرا ان کے احکام کی تعمیل کریں۔
اللہ کا معاملہ خوب کاروں کا ساتھ : نُصِيْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَاۗءُ وَلَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِـنِيْنَ میں دو حقیقتیں واضح فرمائی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ تمام اختیار و اقتدار خدا ہی کو حاصل ہے۔ وہ اگر کسی کو اپنے فضل و رحمت سے نوازنا چاہے تو کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔ وہ جب چاہے ایک قیدی کو زنداں سے نکالے اور اس کو ملک کے تخت حکومت پر لا بٹھائے۔ یہ اس کی قدرت و مشیت کا ایک ادنی کرشمہ ہے۔ دوسری یہ کہ وہ محسنین یعنی خو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ ان کو آزمائشیں ضروری پیش آتی ہیں، اگر وہ ان آزمائشوں میں خدا کی راہ پر استوار اور ثابت قدم رہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو اس دنیا میں بھی ان کا صلہ دیتا ہے اور آخرت میں بھی وہ اس کا صلہ پائیں گے۔ وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ ، یعنی آخرت کا اجر اس دنیا کے اجر سے کہیں ڑھ کر ہے جو اللہ نے ان لوگوں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے جو ایمان پر ثابت قدم اور خدا کے حدود وقیود کی خلاف ورزی سے بچتے رہیں۔
Ayah 12:58وَجَاۗءَ اِخْوَةُ يُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۔
برادرانِ یوسف کی حاضری : حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کا یہ آنا، جیسا کہ آگے کی آیت میں وضاحت ہے، غلہ لینے کی غرض سے تھا۔ یعنی یہ ساتھ سال بعد اس زمانے کی بات ہے جب مصر اور اس سے ملحقہ ممالک فلسطین و شامل وغیرہ سب قحط کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ یہ قحط تو مصر میں بھی تھا لیکن حضرت یوسف کی پیش بندی اور ان کے حسن انتطام کی بدولت مصر نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرنے میں کامیاب رہا بلکہ وہاں پاس پڑوس کے ملکوں سے آنے والے ضرورت مندوں کو بھی ایک معین مقدار میں سرکاری ڈپو سے غلہ خریدنے کی اجازت تھی۔ چناچہ غلہ ہی حاصل کرنے کی غرض سے حضرت یوسف کے بھائی مصر آئے اور معلوم ہوتا ہے کہ بیرونی ہونے کی وجہ سے انہیں خاص اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے حضرت یوسف کے سامنے بھی حاضر ہونا پڑا۔ اس حاضری کے وقت حضرت یوسف نے تو ان کو ہپچان لیا لیکن یہ لوگ ان کو نہ پہچان سکے۔ نہ پہچان سکنے کی وجہ ظاہر ہے کہ اول تو انہوں نے جس وقت انہیں کنوئیں میں پھینکا تھا اس پر کم و بیش بیس اکیس سال کا زمانہ گزر چکا تھا، اتنے طویل عرصے میں آدمی کی شکل و صورت بہت کچھ تدبیل ہوجاتی ہے۔ پھر بالفرض چہرے بشرے میں انہوں کچھ جھلک محسوس بھی کی ہو، جیسا کہ آگے آیت 90 سے اشارہ نکلتا ہے تو آخر وہ یہ گمان کس طرح کرسکتے تھے کہ جس بھائی کو انہوں نے اندھے کنوئیں میں ڈالا تھا وہ آج مصر کے تخت حکومت پر متمکن ہے۔
Ayahs 12:59–6059۔ 60:۔ وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِيْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِيْكُمْ ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّىْٓ اُوْفِي الْكَيْلَ وَاَنَا خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ. فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِيْ بِهٖ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِنْدِيْ وَلَا تَقْرَبُوْن۔
بھائیوں کو حضرت یوسف کی ہدایت : ان کا سامان ٹھیک ٹھاک کرادینے کے بعد حضرت یوس نے ان کو ہدایت فرمائی اب کے غلہ لینے آئیوں تو اپنے سوتیلے بھائی کو بھی ساتھ لائیو۔ معلوم ہوتا ہے کہ راشننگ سسٹم نافذ ہونے کے سبب سے ہر ضرور مند کو بحساب افراد خاندان ملتا تھا اس وجہ سے انہیں یہ بتانا پڑا ہوگا کہ ہمارا ایک سوتیلا بھائی بھی گھر پر ہے۔ حضرت یوسف نے فرمایا کہ اب کے آتا تو اس کو بھی ساتھ لانا۔ اس کے لیے انہیں ترغیب بھی دی اور ساتھ ہی دھمکی بھی۔ ترغیب یہ کہ دیکھو میں ہر فرد کے حصہ کا غلہ پورا پورا دیتا ہوں۔ " کیل " کے معنی تو پیمانہ کے ہیں لیکن جس طرح ظرف بول کر کبھی مظروف مراد لیتے ہیں اسی طرح اس سے یہاں مراد غلہ ہے ل۔ مطلب یہ کہ اپنے بھائی کو لاؤ گے تو اس کے حصہ کا غلہ بھی پورا پورا پاؤ گے اور یہ تجربہ تو تم کر ہی چکے ہو کہ میں آنے والوں کی نہایت بہتر طریقہ پر میزبانی کرتا ہوں۔ دھمکی یہ دی کہ اگر تم اپنے بھائی کو نہ لائے تو نہ تمہارے لیے میرے پاس غلہ ہے اور نہ تم میرے پاس پھٹکنا۔
Ayah 12:61قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَاِنَّا لَفٰعِلُوْنَ۔
بھائیوں کا جواب : " مراودت " کے معنی بہلانے پھسلانے کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں ہم اس کے باپ کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے اور جہاں تک اپنی کوشش کا تعلق ہے اس میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے۔ ان کے اس جملہ کے اندر یہ بات مضمر ہے کہ اگر ہم اس کا لانے میں کامیاب نہ ہوسکے تو اس میں ہمارا قصور نہ ہوگا، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے باپ نے اس کو اجازت نہ دی اور یہ چیز ایسی ہے جس میں ہماری مجبوری واضح ہے۔ حضرت یوسف کے ساتھ جو کچھ وہ کرچکے تھے اس کے سبب سے ان کے دل میں ایک چور تھا جو ان کے اس فقرے میں نمایاں ہے۔
Ayah 12:62وَقَالَ لِفِتْيٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِيْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُوْنَهَآ اِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْن۔
مزید احسا : حضرت یوسف ؑ نے اس خیال سے کہ مالی مشکلات ان کے دوبارہ آنے میں مانع نہ ہوں یہ کیا کہ اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ جو نقدی انہوں نے غلہ کی قیمت کے طور پر ادا کی ہے وہ ان کے سامان میں ڈال دی جائے تاکہ جب وہ گھر پر جا کر اپنا سامان کھولیں تو وہ یہ محسوس کریں کہ یہ ان پر احسان کیا گیا ہے اور خوشی، خوشی، حوصلہ کے ساتھ دوبارہ غلہ لینے آئیں۔
Ayahs 12:63–6463۔ 64:۔ فَلَمَّا رَجَعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْهِمْ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَآ اَخَانَا نَكْتَلْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ۔ قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَيْهِ اِلَّا كَمَآ اَمِنْتُكُمْ عَلٰٓي اَخِيْهِ مِنْ قَبْلُ ۭ فَاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا ۠ وَّهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ۔
بیٹوں کی گزارش باپ سے اور باپ کا جواب : جب یہ لوگ گھر پہنچے تو باپ کو ساری روداد سنائی کہ آگے کو ہم غلہ سے محروم کردیے گئے ہیں۔ اب غلہ حاصل کرنے کی ایک ہی راہ ہے کہ اہم اپنے ساتھ اپنے بھائی بن یامین کو بھی لے جائیں اور اپنے آپ کو سچا ثابت کریں کہ ہمارا ایک گیارہواں بھائی بھی ہے تو آپ اس مرتبہ بن یامین کو ہمارے ساتھ جانے دیجیے تاکہ ہم سب کے حصہ کا غلہ لے سکیں اور ہم آپ کو یہ اطمینان دلاتے ہیں کہ ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے۔ حضرت یعقوب نے فرمایا کہ بن یامین کے معاملے میں اگر میں تم پر اعتماد کروں تو یہ اعتماد ویسا ہی ہوگا جیسا کہ میں اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم پر کرچکا ہوں۔ تو اللہ ہی بہترین محافظ اور ارحم الراحمین ہے۔ حضرت یعقوب کے آخری الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جہاں تک تمہارے اعتماد کا تعلق ہے اس کا تجربہ تو مجھے ہوچکا ہے البتہ اگر بن یامین کو تمہارے ساتھ بھیجنا ہی پڑا تو میں یہ کام اللہ کی حفاظت و رحمت کے بھروسہ پر کروں گا، تمہارے اعتماد پر نہیں کروں گا۔
Ayah 12:65وَلَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَيْهِمْ ۭ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مَا نَبْغِيْ ۭهٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَيْنَا ۚ وَنَمِيْرُ اَهْلَنَا وَنَحْفَظُ اَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيْرٍ ۭ ذٰلِكَ كَيْلٌ يَّسِيْرٌ.
بیٹوں کی مسرت : جب ان لوگوں نے اپنا سامان کھولا اور یہ دیکھا کہ جو رقم انہوں نے غلہ کی قیمت کے طور پر ادا کی تھی وہ پوری کی پوری ان کی غلہ کی بوریوں میں موجود ہے تو وہ خوشی سے اچھل پڑے۔ بولے کہ اباجان ! اب کی ا چاہیے، یہ دیکھیے کہ ہماری رقم بھی ہم کو لوٹا دی گئی ہے۔ اب ہم جائیں گے، اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ لائیں گے، اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے، ایکِ بار شتر غلہ ہم مزید حاصل کریں گے، یہ غلہ جو ہم لائے یہ تو تھوڑا ہے۔
قرآن کی بلاغت کے قربان جائیے کہ اس نے ان کی بات اس طرح نقل کیا ہے کہ ان کی خوشی ان کے فقرے فقرے سے ابلی پڑتی ہے۔
" ونمیر اھلنا " کا معطوف علیہ یہاں قرینہ کی وضاحت کے سبب سے محذوف ہے ہم نے ترجمہ میں اس کو کھول دیا ہے۔ مار، یمیر، میرا کے معنی اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ اور ضرورت کی چیزیں فراہم کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب رقم واپس مل جانے کے بعد ہماری راہ میں کیا رکاوٹ باقی رہی، اب تو ہم ضرور ہی جائیں گے اور اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ لائیں گے۔ " کیل بعیر " سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت یوسف ؑ نے جو راشننگ سسٹم جاری کیا تھا اس میں بیرونی ضرورت مندوں کو ایک بارشتہ غلہ حاصل کرنے کی اجازت تھی
Ayah 12:66قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِيْ بِهٖٓ اِلَّآ اَنْ يُّحَاطَ بِكُمْ ۚ فَلَمَّآ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰي مَا نَقُوْلُ وَكِيْل۔
حضرت یعقوب ؑ کی مشروط اجازت : حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ میں بن یامین کو صرف اس صورت میں تمہارے ساتھ جانے کی اجازت دوں گا جب تم اللہ کے نام پر مجھ سے یہ مضبوط عہد کرو کہ اس کو تم ضرور واپس لاؤگے الا آنکہ تم خود ہی کسی آفت میں گھر جاؤ۔ تو جب انہوں نے قسم کھا کے ان سے عہد کیا تو حضرت یعقوب نے فرمایا کہ جو قول وقرار کر رہے ہیں اس پر اللہ ضامن اور گواہ ہے۔
Ayah 12:67وَقَالَ يٰبَنِيَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ ۭ وَمَآ اُغْنِيْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۚ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۔ " ما اغنی عنکم " یعنی میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا، تمہیں کچھ نفع نہیں پہنچا سکتا۔
ایک مصلحت آمیز ہدایت : چونکہ قحط کا زمانہ تھا جس میں چوری، ڈکیتی اور اس نوع کے دوسرے جرائم کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں اس وجہ سے حضرت یعقوب نے ان کو رخصت کرتے وقت یہ ہدایت فرمائی کہ شہر میں جب داخل ہونا تو ایک ہی دروازے سے نہ داخل ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قدیم زمانے میں بیرونی حملوں سے حفاظت کے لیے ہر قابل ذکر شہر کے گرداگرد فصیل اور ہر سمت سے داخل ہونے کے لیے معین دروازے ہوتے تھے۔ حضرت یعقوب نے یہ ہدایت ممکن ہے اس اندیشہ سے فرمائی ہو کہ کہیں یہ لوگ شہر کے شریروں اور گنڈوں کی توفہ کا ہدف نہ بن جائیں۔ ایک ہی وقت میں ایک ہی دروازے سے گیارہ ذی وجاہت، خوش شکل اور باوقات بھائیوں کا اپنے قافلہ سمیت شہر میں داخل ہونا ایک جالب توجہ چیز ہوسکتی تھی اور اس کا بھی امکان تھا کہ کچھ شریر لوگ ان کے پیچھے لگ جائیں کہ ان کے پاس مال زیادہ ہوگا اور اس طمع میں وہ ان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوجائیں۔
اس ہدایت کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ تنبیہ فرمادی کہ یہ ایک تدبیر ہے جس کو اپنی دانست میں بہتر سمجھ کر میں تمہیں اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اس تدبیر کو ہرگز ہرگز اس معنی میں نہ لینا کہ یہ تمہیں اس تقدیر سے بچاسکے گی جو خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھی ہے۔ وہ اپنی جگہ پر اٹل ہے۔ اصلی اختیار خدا ہی کا ہے۔ میں نے اس پر بھروسہ کیا ہے اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
Ayah 12:68وَلَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَيْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ ۭ مَا كَانَ يُغْنِيْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِيْ نَفْسِ يَعْقُوْبَ قَضٰىهَا ۭ وَاِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔
تقدیر اور تدبیر کا باہمی تعلق : اب یہ تدبیر اور تقدیر کے باہمی تعلق کو واضح فرما دیا گیا کہ بیٹوں نے شہر میں داخل ہونے کے باب میں باپ کے مشورے پر جو عمل کیا تو یہ محض حالات وقت کے پیش نظر ایک تدبیر تھی جس کی ضرورت کا احساس باپ کے دل میں پیدا ہوا اور اس نے انہیں اس کے اختیار کرنے کی ہدایت کردی جو ان کے لیے مفید و بابرکت ثابت ہوئی۔ اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ اگر ان کی تقدیر میں کوئی آفت آنی لکھی ہوئی ہوتی تو اس تدبیر سے وہ اس سے بھی بچ جاتے۔ تقدیر بہرحال اٹل ہے جس کو کسی کی تدبیر نہیں بدل سکتی۔ لیکن اس کے باوجود انسان کا فرض ہے کہ وہ حالات و مصالح کے مطابق تدابیر اختیار کرے۔ اس میں اس کے ارادے اور سعی و عمل کا امتحان ہے اور اسی پر آخرت میں اس کے درجے اور مرتبے کا انحصار۔ اس وجہ سے کسی کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تقدیر کے نام پر اپنے ہاتھ پاؤں توڑ کے بیٹھ رہے۔ بلکہ ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے حدود کے اندر تدابیر اختیار کرے، ان کو بروئے کار لانے کے لیے اپنے امکان بھر جدوجہد کرے اور ساتھ ہی یہ یقین رکھے کہ ہوگا وہی جو اللہ کی مشیت میں ہے۔ اللہ کے فیصلہ کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ وَاِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ۔۔۔ الایۃ، یہ حضرت یعقوب کی تعریف و تحسین ہے کہ وہ تدبیر و تقدیر کے معاملے میں اس علم سے بہرہ مند تھے جو اللہ نے ان کو سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ ان کی حقیقت سے بیخبر ہوتے ہیں۔ وہ یا تو تدبیر ہی کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں، تقدیر ان کے ہاں ایک واہمہ ہے، یا پھر تقدیر و توکل کے نام پر وہ بالکل اپاہج بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔
Ayah 12:69وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّىْٓ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔
بھائی پر افشائے راز : جب یہ لوگ حضرت یوسف ؑ کے پاس پنچے انہوں نے اپنے بھائی بنیامین کو تنہائی میں اپنے پاس بلا کر ان کو آگاہ کردیا کہ میں تمہارا بھائی یوسف ہوں۔ تو اب تک انہوں نے جو کچھ کیا ہے اس سے دل شکست اور آزردہ خاطر نہ ہونا۔ اب یہ دور گزر چکا۔ قرینہ دلیل ہے کہ اس موقع پر حضرت یوسف ؑ نے بھائی کو اپنی اس تدبیر سے بھی آگاہ فرمادیا ہوگا جو وہ ان کو اپنے پاس روکنے کے لیے اختیار فرمانے والے ہیں تاکہ آگے جو حالات پیش آنے والے ہیں ان میں وہ مطمئن رہیں۔
Ayahs 12:70–76تفیسر آیات 70۔ تا 76:۔ فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَقَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَيْهِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ۔ قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ۔ قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ۔ قَالُوْا فَمَا جَزَاۗؤُهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِيْنَ۔ قَالُوْا جَزَاۗؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۗؤُهٗ ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ۔ فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاۗءِ اَخِيْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَاۗءِ اَخِيْهِ ۭ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ ۭ مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ ۭ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ ۭ وَفَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ۔
بھائی کو روکنے کے لیے حضرت کی تدبیر : جب ان کا سارا سامان ٹھیک ٹھاک کرا دیا تو پانی پینے کا کٹورا، جو غلہ ناپنے کے لیے شاہی پیمانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا، وہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھوا دیا، پھر ایک منادی نے پکارا کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ وہ جھپٹ کے ان کی طرف مڑے اور پوچھا کہ آپ لوگوں کی کیا چیز کھوئی گئی ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ شاہی پیمانہ کھویا گیا ہے تو جو اس کو لائے گا اس کو ایک بار شتر غلہ انعام ملے گا اور میں اس کا ضامن ہوں۔ انہوں نے قسم کھا کر جواب دیا کہ آپ لوگوں کو اچھی طرح علم ہے کہ ہم اس ملک میں فساد برپا کرنے نہیں آئے اور ہم چوری کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر تم لوگ جھوٹے ثابت ہوئے تو اس کی کیا سزا ہے ؟ انہوں نے کہ جس کے سامان میں کٹورا ملے وہی اس کے بدلہ میں روک لیا جائے۔۔ ہم ایسے ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت یوسف نے ان کے سامان کی تلاشی لی اور تلاشی کا آغاز اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے ان کے تھیلوں سے کیا اور آخر میں اپنے بھائی کے تھیلے سے پیمانہ کو برآمد کرلیا۔ حضرت یوسف کی اس تدبیر کی بابت اللہ کا ارشاد یہ ہے کہ یہ تدبیر یوسف کے لیے ہم نے کی۔ بادشاہ کے قانون کی رو سے وہ اپنے بھائی کو روکنے کے مجاز نہ تھے الا آنکہ اللہ چاہے۔ فرمایا کہ ہم جس کے چاہیں درجے پر درجے بلند کرتے ہیں اور ہر صاحب علم سے بڑھ کر ایک علم والا ہے۔
حضرت یوسف ؑ کے طرز عمل پر شبہات کا ازالہ : مذکورہ بالا آیات کا یہ خلاصہ مطلب ہے جو ہم نے اپنے الفاظ میں بیان کردیا ہے۔ اب ہم ایک ترتیب کے ساتھ چند اصولی باتیں عرض کریں گے تاکہ حضرت یوسف کے اس طرز عمل سے متعلق جو شبہات ذہن میں پیدا ہوتے ہیں وہ صاف ہوجائیں۔
1۔ پہلی بات یہ ہے کہ حضرت یوسف ابھی اس مرحلے میں اپنے آپ کو اپنے بھائیوں پر ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ ان کو اچھی طرح ٹٹول کر یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ اتنا بڑا ظلم کر گزرنے کے بعد، جو انہوں نے ان کے ساتھ کیا، ان کے باطن میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے یا ابھی ان کے سوچنے کا انداز وہی ہے جو پہلے تھے۔ 2۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ اپنے بھائی بنیامین کو پاجانے کے بعد اب کسی قیمت پر یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہ تھے کہ اس کو ان ظالم لوگوں کے حوالہ کریں۔ انہوں نے خیال فرمایا ہوگا کہ لانے کو تو وہ اس طمع میں اس کو لائے کہ ان کو معلوم تھا کہ اس کے بغیر ان کو غلہ ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے لیکن اب واپسی میں ایسے لوگوں سے کیا بعید ہے کہ اس طرح کا کوئی اقدام اس کے ساتھ بھی کر گزریں جس کا اقدام وہ خود ان کے ساتھ کرچکے ہیں۔ آخر حسد کا وہ جذبہ جو ان کے پہلے اقدام کا محرک ہوا وہ تو اس بھائی کے معاملے میں بھی موجود ہے۔ 3۔ تیسری بات یہ ہے کہ ان کو بہرحال ملک کے قانون کا رکھ رکھاؤ بھی مدنظر تھا۔ اس میں شبہ نہیں کہ بادشاہ کی غیر معمولی عقیدت کی وجہ سے حضرت یوسف ؑ کو جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے، ہر قسم کے اختیارات حاصل تھے، لیکن ان کے شایان شان بات یہی تھی کہ وہ جو قدم بھی اٹھائیں وہ قانون ملک کے مطابق ہو۔ بالخصوص جب کہ وہ قانون مبنی بر عدل بھی ہو۔ 4۔ چوتھی بات یہ کہ ان گوناگون حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اگر کوئی طریقہ کارگر ہوسکتا تھا تو توریہ کا طریقہ ہی ہوسکتا تھا۔ توریہ اگر کسی باطل مقصد کے لیے ہو اور اس میں جھوٹ کی بھی ملاوٹ ہو تو وہ توریہ بلاشبہ حرام ہے لیکن اگر یہ کسی مقصد حق کے لیے ہو اور اس میں جھوٹ اور فریب کی آمیزش نہ ہو تو اس توریہ میں نہ صرف یہ کہ کوئی خرابی نہیں ہے بلکہ بسا اوقات اس کا اختیار کرنا، بالخصوص دشمن کے مقابل میں، مصلحت حق کی خاطر ضروری ہوجاتا ہے۔ اس کی بعض نہایت لطیف اور پاکیزہ مثالیں ہمارے نبی کریم ﷺ کی زندگی میں بھی ملتی ہیں۔ اس قسم کے توریہ میں جو بات کہی یا کی جاتی ہے وہ بجائے خود سچی اور صحیح ہوتی ہے لیکن اس کے کہنے یا کرنے کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ مخاطب اس سے مغالطہ میں پڑجاتا ہے۔ 5۔ حضرت یوسف نے بھائی کے تھیلے میں پیمانہ رکھ کر یاد رکھو اگر ایک منادی سے یہ اعلان جو کرایا کہ اے قافلہ والو تم چور ہو، تو منادی نے یہ اعلان حضرت یوسف کے حکم کی تعمیل میں کیا اور حضرت یوسف نے یہ اعلان کراتے ہوئے بات پیش نظر رکھی وہ یہ نہیں تھی کہ اہل قافلہ نے شاہی پیمانہ چرایا ہے بلکہ انہوں نے خود اپنے واقعہ کو مدنظر رکھا کہ ان کو سیر و تفریح کے بہانے گھر سے لائے اور ایک کنوئیں میں پھینک کر شام کو جب گھر واپس ہوئے تو بوڑے باپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یوسف کو بھیڑیاں کھا گیا۔ چناچہ دیکھ لیجیے کہ منادی کے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ " اے قافلہ والو تم نے شاہی پیمانہ چرایا ہے، بلکہ اس کے الفاظ یہ ہیں کہ " اے قافلہ والو تم چور ہو، ظاہر ہے کہ یہ بات بجائے خود بالکل صحیح تھی البتہ اس سے اس موقع پر یہ مغالطہ ضرور پیدا ہوسکتا تھا کہ کسی خاص چیز کی چوری کو اس اعلان کی وجہ قرار دے لیں۔ 6۔ اس اعلان کے ساتھ ہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف کے سارے عملہ میں یہ بات پھیل گئی کہ شاہی پیمانہ گم ہے۔ یہ شاہی پیمانہ چونکہ پہلے پانی پینے کا شاہی کٹورا تھا اس وجہ سے لازماً قیمتی رہا ہوگا اس وجہ سے اس کا چرایا جانا بعید از قیاس نہیں سمجھا جاسکتا تھا۔ ہوسکتا ہے کسی پہلو سے خود حضرت یوسف نے اس موقع پر شاہی پیمانے کا ذکر چھیڑا ہو اور ان کے عملہ نے از خود رائے قائم کرلی ہو کہ قافلہ والوں پر جس چوری کا الزام ہے وہ شاہی پیمانہ ہی کی چوری ہے۔ 7۔ جب اہل قافلہ نے مڑ کر حضرت یوسف کے آدمیوں سے پوچھا کہ آپ لوگوں کی کیا چیز کھوئی گئی ہے تو انہوں نے اپنے علم کے مطابق یہ جواب دیا کہ ہمارا شاہی پیمانہ کھویا گیا ہے اور ساتھ ہی ان میں سے ایک نے یہ بھی کہا کہ جو شخص پیمانہ لائے گا اس کو ایک بار شتر غلہ انعام ملے گا اور میں اس کا ضامن بنتا ہوں۔ یہ آخری بات ظاہر ہے کہ حضرت یوسف کے ایما پر کہی گئی ہوگی اور اغلب ہے یہ بات اسی آدمی نے کہی ہو جس نے یہ منادی کی تھی کہ اے قافلہ والو تم چور ہو۔ 8۔ قافلہ والون نے پہلے تو قسم کھا کے اپنی صفائی پیش کی کہ ہم اس ملک میں فساد برپا کرنے نہیں آئے تھے اور نہ ہم چور کرنے والے لوگ ہیں، پھر جب ان سے یہ سوال ہوا کہ اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو چور کی کیا سزا ؟ انہوں نے تھوڑے سے تردد کے ساتھ یہ جواب دیا کہ جس کے کجاوے سے چیز نکلے وہی اس کے بدلہ میں پکڑا جائے۔ ہم ایسے ظالموں کے یہی معاملہ کرتے ہیں۔ 9۔ اس کے بعد حضرت یوسف نے خود تلاشی لی اور تلاشی کا آغاز بن یامین کے بجائے دوسروں سے کیا تاکہ ان کو کوئی شبہ نہ ہو اور آخر میں بنیامین کے تھیلے سے شاہی پیمانہ برآمد کرلیا۔ اس طرح گویا پنے بھائی کو روک لینے کے وہ ملک کے قانون کی رو سے بھی مجاز ہوگئے اور اپنے بھائیوں کے اقرار کی رو سے بھی۔ 10۔ اس تدبیر کو اللہ تعالیٰ " کید " سے تعبیر اور اس " کید " کو خود اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ " کید " مخفی تدبیر کو کہتے ہیں۔ یہ مخفی تدبیر اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو سجھائی جس کی بدولت وہ اس قابل ہوئے کہ اپنے بھائی کو بھی خطرے سے بچا سکیں اور ملک کے قانون کا احترام بھی باقی رہے۔
اس پوری تفصیل پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس ساری کارروائی میں نہ حضرت یوسف ؑ کسی جھوٹ میں ملوث ہوئے ہیں نہ ان کے آدمی۔ البتہ وقتی طور پر بن یامین پر ایک الزام کا دھبہ لگا لیکن اول تو وہ اس سے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے، پہلے سے آگاہ کردیے گئے تھے ثانیاً یہ جو کچھ کیا گیا انہی کو سوتیلے بھائیوں کے ظلم و ستم سے بچانے کے لیے کیا گیا۔
آخر میں نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ ۭ وَفَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ میں حضرت یوسف کے مراتب بلند کی طرف اشارہ بھی ہے اور ان لوگوں پر ایک تعریض بھی جو اپنے علم کو آخری چیز سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ان کو دنیا جتنی نظر آتی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ بس یہ کائنات کل اتنی ہی ہے اور اپنے اس نشہ میں ان بہت سی حقیقتوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو ان کے محدود علم سے باہر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں بتایا کہ کسی کو بھی اپنے اندازوں اور قیاسوں پر مغرور نہیں ہونا چاہیے۔ سب علم والوں سے بڑھ کر بھی ایک علم والا ہے اور اسی کا علم حقیقی ہے۔ اس میں قریش کو، جن کو یہ سرگزشت سنائی گئی ہے، ایک لطیف تنبیہ ہے کہ آج وہ خدا کے رسول کو جن حالات میں دیکھ رہے ہیں ان سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔ حالات کا حقیقی علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ وہ جانتا ہے کہ مستقبل کے پردوں میں کیا چھپا ہوا ہے۔ موجودہ تاریکیوں کے اندر سے کس طرح روشنی برآمد ہوگی اور اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے کس طرح راہیں ہموار ہوں گی۔
Ayah 12:77قَالُوْٓا اِنْ يَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ ۚ فَاَسَرَّهَا يُوْسُفُ فِيْ نَفْسِهٖ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۚ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ۔
بھائیوں کی ایک اور شرارت : جب برادران نے یوسف نے دیکھا کہ وہ پکڑے گئے تو جھٹ اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے حضرت یوسف پر ایک تہمت جڑ دی۔ بولے کہ اگر اس نے چوری کی تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہوئی۔ اس سے پہلے اس کا ایک بھائی بھی چوری کرچکا ہے۔ اس طرح انہوں نے گویا یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ ہمارا حقیقی بھائی نہیں بلکہ سوتیلا بھائی ہے اور چوری کی یہ خصلت یہ اپنی ماں کی طرف سے لایا ہے۔ حضرت یوسف نے جب ان کی یہ بات سنی تو ان پر اس کا جو قدرتی اثر پڑنا تھا وہ تو پڑا لیکن وہ اس کو پی گئے اس لیے کہ اس مرحلہ میں ابھی وہ اس کا اظہار نہیں کرنا چاہتے تھے۔ بس دل میں یہ کہہ کے رہ گئے کہ تم بہت ہی برے لوگ ہو اور جو کچھ تم بیان کر رہے اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 12:78قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ اِنَّ لَهٗٓ اَبًا شَيْخًا كَبِيْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ۔
حضرت یوسف ؑ کی خوشامد : جب انہوں نے دیکھا کہ بازی ہاری گئی تو فوراً خوشامد پر اتر آئے اور حضرت یوسف کو خاص سرکاری خطاب " عزیز " سے جو مصر کے اعلی سرکاری عہدہ داروں کے لیے مخصوص تھا۔ مخاطب کر کے نہایت لجاجت سے عرض کہ حضور ! اس کا باپ بہت بوڑھا ہوچکا ہے تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو روک لیجیے اور اس کو رہا کردیجیے ہم آپ کو ایک نہایت محسن آدمی سمجھتے ہیں امید ہے کہ آپ ہمیں اپنے احسان سے محروم نہ فرمائیں گے۔
Ayah 12:79قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗٓ ۙ اِنَّآ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۔
حضرت یوسف کا جواب : حضرت یوسف ؑ نے جواب دیا کہ اس بات سے اللہ کی پناہ کہ ہم اس کے سوا کسی کو پکڑیں جس کے پاس اپنی چیز پائی ہے۔ اگر ہم ایسا کریں تو ہم نہایت ظالم ٹھہریں گے۔ یہاں حضرت یوسف ؑ کی یہ احتیاط ملحوظ رہے کہ وہ یہ نہیں فرماتے کہ ہم اس کے سوا کسی کو پکڑیں جس نے ہماری چیز چرائی ہے، بلکہ محتاط الفاظ میں یوں فرماتے ہیں کہ اس کے سوا کسی کو پکڑیں جس کے پاس اپنی چیز پائی ہے۔
Ayah 12:80فَلَمَّا اسْتَيْـــَٔـسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِيًّا ۭ قَالَ كَبِيْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَيْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِيْ يُوْسُفَ ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى يَاْذَنَ لِيْٓ اَبِيْٓ اَوْ يَحْكُمَ اللّٰهُ لِيْ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ۔
بھائیوں کی مشورت : حضرت یوسف کے مذکورہ بالا جواب کے بعد وہ ان کی طرف سے تو مایوس ہوگئے کہ وہ چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ اب کیا کیا جائے ؟ اس سوال پر غور کرنے کے لیے سب بھائی لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر مشورہ کے لیے بیٹھے۔ بڑے نے کہا کہ یاد رکھو کہ تمہارے باپ نے اللہ کا واسطہ دلا کر تم سے عہد لیا ہے اور اس سے پہلے یوسف کے معاملے میں جو تقصیر تم سے ہوچکی ہے وہ معلوم ہی ہے تو میں تو یہاں سے ٹلنے کا نہیں جب تک میرے والد مجھے اجازت نہ دیں یا اللہ میرے لیے کوئی فیصلہ نہ فرمائے۔ اور وہی بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے۔
اس امر میں اختلاف ہوا ہے کہ " کبیر " سے کون بھائی مراد ہے۔ عمر میں بڑا روبیل یا عقل و رائے میں بڑا یہوذا۔ ہمارے نزدیک لفظ " کبیر " جس طرح " بل فعلہ کبیرہم ھذا " میں درجہ اور مرتبہ کی بڑائی کے لیے ہے اسی طرح یہاں بھی درجہ اور مرتبہ کی بڑائی ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ اگر مجرد عمر کی بڑائی کا اظہار مقصود ہوتا تو اس کے لیے " اکبرہم " کا لفظ موزوں ہوتا۔ اس وجہ سے اگر اس سے " یہوذا " کو مراد لیا جائے تو یہ زیادہ اقرب ہے۔ تورات میں اسی کا نام آیا بھی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دل میں حضرت یوسف ؑ کے لیے کوئی نرم گوشہ تھا۔ غالباً اسی نے اس وقت جب حضرت یوسف کے قتل کے مشورے ہو رہے تھے ان کو قتل کرنے کے بجائے کسی سر راہ کنوئیں میں ڈال دینے کا مشورہ دیا کہ کوئی راہ چلتا قافلہ اس کو نکال لے جائے گا، اس طرح ہم اس کے قتل کے گناہ سے بچ جائیں گے اور اس کو ٹھکانے لگانے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے۔
Ayahs 12:81–8281۔ 82:۔ اِرْجِعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْكُمْ فَقُوْلُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ ۚ وَمَا شَهِدْنَآ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حٰفِظِيْنَ۔ وَسْـــَٔـلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَالْعِيْرَ الَّتِيْٓ اَقْبَلْنَا فِيْهَا ۭ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ۔
" وسئل القریۃ " میں مضاف محذوف ہے۔ یعنی وسئل اھل القریۃ۔
یہوذا نے بھائیوں کو یہ مشورہ دیا کہ میں تو یہاں سے کھسکتا نہیں البتہ تم لوگ اپنے باپ کے پاس جاؤ اور ان ان سے عرض کرو کہ آپ کے صاحبزادے نے چوری کی۔ جو کچھ ہمارے علم میں آیا ہے، ہم وہی کہہ رہے ہیں۔ ہم غیب کے عالم نہیں ہیں۔ ہم جس بستی میں ٹھہرے تھے اس کے لوگوں سے بھی پوچھ لیجیے اور جس قافلہ کے ساتھ ہم آئے ہیں اس سے بھی دریافت کرلیجیے، ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں۔ بھائیوں نے اسی مشورے پر عمل کیا اور آخر باپ کو واقعہ کی رپورٹ دے دی۔ اب آگے حضرت یعقوب ؑ کے تاثرات کا ذکر ہے۔
Ayah 12:83قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا ۭ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ۭ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَنِيْ بِهِمْ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۔
" تسویل " کے معنی تزیین اور تسہیل کے ہیں۔ سول لہ الشیطان، شیطان نے اس کو گمراہ کیا اور اس کی نگاہوں میں کھبایا کہ فلاں کام کر گزرے۔ سولت لہ نفسہ کذا، اس کے نفس نے فلاں کام کو اس کے لیے آسان بنا دیا۔ اور اس کی نگاہوں میں کھبا دیا۔ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ، نکرہ موصوف یہاں مبتدا کے محل میں ہے اور خبر اس کی محذوف ہے۔ یعنی صبر جمیل ہی اس حالت میں اولی اور اختیار کے لائق ہے۔ صَبْرٌ جَمِيْلٌ اس صبر کو کہتے ہیں جو اظہار غم کے اوچھے طریقوں سے پاک ہو۔ واویلا اور ماتم و سرکوبی کے بعد تو سب ہی صبر کرلیتے ہیں، صبر جمیل ان لوگوں کے صبر کو کہتے ہیں جو غم کو اس طرح برداشت کرتے ہیں کہ نہ ان کی زبان کسی حرف شکایت سے آلودہ ہوتی نہ ان کے ہاتھ پاؤں سے کسی خلاف وقار حرکت کا صدور ہوتا۔
دو بیٹوں سے محرومی پر حضرت یعقوب ؑ کے تاثرات : " قال " کا ظاہر مفہوم تو اگرچہ یہی ہے کہ حضرت یعقوب نے یہ بات بیٹوں کو خطاب کرکے فرمائی ہو لیکن یہ لفظ چونکہ دل میں کہنے کے لیے بھی آتا ہے اس وجہ سے میرا ذہن بار بار اس طرف جاتا ہے کہ حضرت یعقوب نے بیٹوں کی زبانی یہ غم انگیز خبر سن کر یہ بات ان کو خطاب کر کے نہیں بلکہ اپنے دل میں کہی کہ سب تمہارے اپنے نفس کا گھڑا ہوا افسانہ ہے تو صبر جمیل ہی اولی اور احق ہے کہ اس کو اختیار کیا جائے۔ ساتھ ہی ان کے قلب روشن میں یہ امید بڑے زروں سے ابھری کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو میرے پاس جمع کردے گا، علیم و حکیم تو وہی ہے۔ جس طرح اس کی شدت بارش کی امید کو بڑھاتی ہے اسی طرح آزمائش کی شدت اللہ کی رحمت کی امید کو غذا اور قوت بخشتی ہے۔ خاصان خدا اس رمز سے آگاہ ہوتے ہیں کہ اللہ اپنے بندوں کو ان کی طاقت سے زیادہ نہیں آزماتا اس وجہ سے جب وہ دیکھتے ہیں کہ اب معاملہ ان کی طاقت سے باہر ہورہا ہے تو وہ منتظر ہوجاتے ہیں کہ اب فتح باب میں یادہ دیر نہیں ہے۔ حضرت یعقوب نے جب دیکھا کہ یوسف کے بعد وہ بن یامین اور یہوذا سے بھی محروم ہوگئے تو انہیں دفعۃً یہ روشنی نظر آئی کہ اب انشاء اللہ سب کے جمع ہوجانے کا وقت قریب آگیا ہے۔ رہی یہ بات کہ یہ کیسے ہوگی تو اس کیسے کا جواب صرف اسی کے پاس جو تمام علم و حکمت کا مالک ہے۔ بندے کو چاہیے کہ وہ اسی علیم و حکیم پر بھروسہ رکھے۔
Ayah 12:84وَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰٓاَسَفٰى عَلٰي يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ۔
وَتَوَلّٰى عَنْهُمْ ، یعنی اس حادثہ کے بعد بیٹوں سے آزردہ اور الگ ہو کر وہ گوشہ میں بیٹھ گئے۔ اس تازہ حادثہ نے حضرت یوسف ؑ کے غم کو مزید شدت سے تازہ کردیا اور اس شدت غم میں ان کی زبان سے ہائے یوسف ! کے الفاظ بےساختہ نکل گئے۔ شدتِ غم اور کثرت گریہ سے ان کی آنکھیں سفید پڑگئیں اور ہر وقت سینہ میں غم دبائے رکھنے کے سبب سے وہ گھٹے گھٹے سے رہنے لگے۔ یہ واضح رہے کہ یہ ساری حالتیں ان کے تنہائی کے غم و الم کی بیان ہو رہی ہیں جس میں معاملہ تمام تر ان کے اور ان کے رب کے درمیان تھا۔ اس حقیقت کا انہوں نے اظہار بھی فرمایا ہے اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ اِلَى اللّٰهِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (میں اپنی پریشانی اور غم کا شکوہ اپنے اللہ ہی کے آگے کر رہا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے ان باتوں کو جانتا ہوں جن کو تم نہیں جانتے)۔ اپنے غم و الم کا اظہار اپنے رب کے آگے کرنا نہ صرف یہ کہ کوئی بری بات نہیں ہے بلکہ نہایت اچھی بات ہے۔ اس غم و الم کا باعث یاس نہیں بلکہ امید ہوتی ہے۔ بندی یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ جتنا ہی اپنے رب کے آگے روئے گا اتنا ہی اس کا رونا اس کی رحمت کو جوش میں لائے گا۔ رونا دھونا وہ ممنوع ہے جو دوسروں کے آگے ہو، جو امید کے بجائے یاس کا مظہر ہو اور جس میں انسان اپنی بےصبری کا اظہار اس طرح کرے جس سے ایمان اور توکل کا وقار مجروح ہو۔
یہ بات کچھ عجیب نہیں کہ اس تازہ حادثہ نے بھی حجرت یعقوب کے دل میں حضرت یوسف ہی کے غم کو ہرا کیا۔ اول تو بن یامین کے حادثہ کی نوعیت وہ نہیں تھی جو حضرت یوسف کے حادثہ کی تھی، ثانیاً حضرت یعقوب کو حضرت یوسف سے جو دل بستگی تھی وہ صرف بیٹے ہونے کے سبب سے نہیں تھی بلکہ اس میں اصلی دخل ان کی ان اعلی صلاحیتوں کو تھا جن کی بنا پر حضرت یعقوب ان سے اس درجہ محبت کرتے تھے کہ وہ اپنے تمام بھائیوں کے محسود بن گئے اور بالآخر اسی کے نتیجہ میں بھائیوں کے ہاتھوں انہیں نہایت زہر گداز آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔
غم و الم کی شدت اور رونے دھونے سے آنکھوں کا سفید ہوجانا کوئی مبالغہ کا اسلوب بیان نہیں ہے بلکہ بیان حقیقت ہے۔ غم اور گریہ سے پلکوں اور پتلیوں کی سیاہی بھی متاثر ہوتی ہے اور آنکھوں کے سرخ ڈورے بھی آہستہ آہستہ غائب ہوجاتے ہیں۔ لفظ " کظیم " حضرت یعقوب کے صبر کی تعریف کے لیے ہے کہ ہر وقت غم کو سینہ میں دبائے رکھنے کے سبب سے وہ گھٹے گھٹے سے رہتے۔ یا اسفی میں آخر کا الف یائے اضافت کا قائم مقام ہے۔
Ayah 12:85قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ يُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِيْنَ۔ " تاللہ " عربی میں " و " کی طرح " ت " بھی قسم کے لیے آتی ہے۔ تفتؤا، لاتزال کے معنی میں ہے۔ حرض اس شخص کو کہتے ہیں جو ہلاکت کے قریب پہنچ جائے اور ازکار رفتہ ہو کے رہ جائے۔
باپ کو بیٹوں کی ملامت : سعادت مند بیٹوں نے یہ سب کچھ کر گزرنے کے بعد باپ کو نصیحت کرنی شروع کی کہ خدا کی قسم ! آپ اسی طرح یوسف کی یاد میں لگے رہیں گے یہاں تک کہ ازکار رفتہ ہو کر رہ جائیں گے یا ہلاک ہی ہوجائیں گے۔ یہ ملحوظ رہے کہ اس نصیحت کا انداز اگرچہ بظاہر ہمدردانہ ہے لیکن درپردہ اس کے اندر بھی ان کا وہی جذبہ حسد کارفرما ہے جو ان کے ان تمام اقدامات کا باعث ہوا جو اوپر مذکور ہوئے۔ انہوں نے تو حضرت یوسف کو اس توقع پر ٹھکانے لگایا تھا کہ اس کے بعد باپ کی ساری توجہ ان پر مذکور ہو کے رہے گی لیکن اب ان کو نظر آیا کہ ان کی اس سعی نامراد کا نتیجہ بالکل الٹا نکلا۔ اب تک باپ کی توجہ اور نظر التفات کا کوئی گوشہ ان کو حاصل تھا تو اب وہ اس سے بھی محروم ہوگئے۔ انہوں نے دیکھا کہ باپ کا اس کے سوا کوئی کام ہی نہیں رہ گیا ہے کہ گوشہ تنہائی میں یوسف کو یاد کر کے روئیں اور اپنے رب سے استغاثہ اور فریاد کریں۔
Ayah 12:86قَالَ اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ اِلَى اللّٰهِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ " بث " کا بالکل ٹھیک ترجمہ پریشانی ہے۔
باپ کا جواب : حضرت یعقوب نے جواب میں فرمایا کہ میرے اس غم و الم پر مجھے ملامت نہ کرو، میں اپنی پریشانی اور غم کا شکوہ اپنے اللہ ہی سے کر رہا ہوں۔ کسی اور سے نہیں کر رہا ہوں۔ رونا دھونا وہ برا ہے جو خدا کے سوا کسی اور کے آگے ہو، اگر بندہ اپنے رب ہی کے آگے روتا ہے تو یہ کوئی برائی نہیں بلکہ یہ بھی عبادت ہے۔ اور یہ نہ سمجھو کہ میں یہ کوئی بےسود کام کر رہا ہوں۔ خدا کے معاملے میں تمہارا تجربہ اور ہے، میرا تجربہ کچھ اور ہے۔ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جن سے تم آشنا نہیں تو مجھے میرے حال پر چھوڑو، میں اب رب کی رحمت سے مایوس نہیں ہوں۔
Ayah 12:87يٰبَنِيَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَاَخِيْهِ وَلَا تَايْـــــَٔـسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ ۭ اِنَّهٗ لَا يَايْـــــَٔـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ
جب بات یہاں تک پہنچ گئی کہ حضرت یعقوب نے بیٹوں کے سامنے اپنے دل کا یہ راز کھول دیا کہ وہ یوسف کے باب میں اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہیں ہیں تو صاف لفظوں میں ان سے نہایت پیار کے انداز میں یہ بھی کہہ دیا کہ اے میرے بیٹو جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کی ٹوہ لگاؤ اور خدا کی مشکل کشائی اور اس کی تائید و رحمت سے مایوس نہ ہو، اللہ کی تائید و رحمت سے صرف کافر ہی مایوس ہوتے ہیں۔ مطلب یہ کہ جی جان کی بازی لگا کر یہ کام کروگے تو رحمت الٰہی کا ایک ہی جھونکا تمام مشکلیں آسان کردے گا
Ayah 12:88فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَيْهِ قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ مَسَّنَا وَاَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِيْنَ۔ " ضر " اس تکلیف کو کہتے ہیں جو بھوک اور قحط وغیرہ کے سبب سے پنچتی ہے۔ " بضاعۃ مزجاۃ " ایسی پونجی جس کو کوئی قبول نہ کرے۔ حقیر، غیر مطلوب۔ اس لفظ کے استعمال سے ذہن اس طرف جاتا ہے کہ قیمت ادا کرنے کے لیے نقد کے بجائے کوئی ایسی جنس لے کر گئے تھے جس کی کوئی خاص مانگ نہیں تھی۔
حضرت یوسف کی خدمت میں دوبارہ حاضری : یہ اندازہ تو یہاں سے نہیں ہوتا کہ باپ کی اپیل کا ان پر کیا اثر پڑا لیکن غلّہ کی ضرورت نے انہیں پھر مصر جانے پر مجبور کیا۔ وہاں جب حضرت یوسف کے سامنے ان کی پیشی ہوئی تو انہوں نے بڑے رقت انگیز انداز میں اپنی خستہ حالی اور پریشانی کا ذکر کیا۔ حضرت یوسف کو ان کے سرکاری خطاب " عزیز " سے مخاطب کیا اور بولے کہ حجور ہم اور ہمارے اہل و عیال قحط کے سبب سے سخت تکلیف میں ہیں، ہم اب کے پونجی بھی نہایت حقیر ہی لے کر آئے ہیں لیکن ہماری درخواست یہ ہے کہ غلہ بھی ہمیں پورا پورا دیجیے اور مزید برآں ہمیں صدقہ بھی عنایت فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ صدقہ دینے والوں کو جزا عطا فرمات ہے۔
Ayah 12:89قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِيُوْسُفَ وَاَخِيْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ۔
افشائے راز : حضرت یوسف ؑ بھائی اور شریف بھائی تھے۔ بھائیوں کی اس بدحالی اور پریشانی اور ان کی اس لجاجت آمیز درخواست بالخصوص درخواست صدقہ نے ان کے دل کو ہلا دیا۔ یہ بڑے طنطنہ کے لوگ تھے لیکن اب حالا نے اس طرح ان کے اعصاب ڈھیلے کردیے تھے کہ صدقہ کے لیے درخواست کرنے میں بھی انہیں عار نہ تھا۔ حضرت یوسف اس صورت حال سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ بیگانگی کا جو پردہ ان کے اور ان کے بھائیوں کے درمیان اب تک حائل تھا اس کو مزید برقرار رکھنا انہوں نے مناسب نہیں خیال فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ اپنی جہالت کے زمانے میں جو کچھ کرچکے ہو وہ کچھ تمہیں یاد ہے ؟ لفظ " جھل " یہاں برے جذبات سے مغلوبیت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس کی تشریح ایک سے زائد مقامات میں ہم کرچکے ہیں۔
Ayah 12:90قَالُوْٓا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ يُوْسُفُ ۭ قَالَ اَنَا يُوْسُفُ وَهٰذَآ اَخِيْ ۡ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا ۭ اِنَّهٗ مَنْ يَّتَّقِ وَيَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ۔
حضرت یوسف کی زبان سے لفظ یوسف نکلنا تھا کہ یہ لوگ بول پڑے کہ اچھا ! آپ یوسف ہی ہیں ؟ ان کے اس فقرے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ اس سے پہلے کی ملاقاتوں میں بھی چہرے، بشرے، انداز، اطوار سے انہیں یہ کھٹکتی رہی تھی کہ کہیں یہ یوسف تو نہیں ہیں ؟ لیکن کنعان کے اس کنوئیں میں، جس میں انہوں نے حضرت یوسف کو ڈالا تھا، اور اس تخت حکومت میں، جس پر حضرت یوسف اب فروکش تھے، اتنا بعد تھا کہ وہ یہ گمان نہیں کرسکتے تھے کہ یوسف وہاں سے یہاں تک پہنچ سکتے ہیں۔ جن لوگوں نگاہ صرط ظواہر تک محدود رہتی ہے وہ قدرت الٰہی اور رحمت ربانی کے ان عجائب کا تصور نہیں کرسکتے۔ چناچہ جب جب ان کا ذہن اس طرف گیا کہ ان میں بہت سی جھلکیاں یوسف کی ہیں تو اس کو وہ محض واہمہ کی کرشمہ سازی سمجھ کر دل سے نکالتے رہے لیکن اب جب کہ حضرت یوسف کا مذکورہ بالا فقرہ کانوں میں پڑا تو وہ پکار اٹھے کہ اچھا آپ یوسف ہی ہیں ؟ حضرت یوسف نے فرمایا کہ جی ہاں ! میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر اپنا فضل فرمایا۔ جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں اور اس پر خوبی کے ساتھ ثابت قدم رہتے ہیں تو اللہ ایسے خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ بلکہ دنیا میں بھی ان کو اپنے فضل سے نوازتا ہے اور آخرت میں بھی اس کا بھرپور صلہ عطا فرمائے گا۔
یہی حقیقت اس ساری سرگزشت کی روح ہے اور ہم شروع میں عرض کرچکے ہیں کہ اسی کو اس سورة کے عمود کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ " احسان " کا لفظ یہاں تقوی اور صبر کی بنیادی شرط کی حیثیت سے مذکور ہوا ہے یعنی عنداللہ مقبول تقوی اور صبر وہ ہے جس کے اندر " احسان " کی روح ہو یعنی بندہ اس طرح تقوی صبر کا حق ادا کرے گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہے اور یہ یقین رکھے کہ اگر وہ خدا کو نہیں دیکھا رہا ہے تو خدا تو بہرحال اس کو دیکھ رہا ہے۔
Ayah 12:91قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَاِنْ كُنَّا لَخٰطِــــِٕيْنَ۔ " ایثار " کے معنی ترجیح اور فضیلت دینے کے ہیں۔
اعترافِ حق : اس مرحلہ میں آخر انہوں نے خدا کی قسم کھا کر اقرار کیا کہ بیشک خدا نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور ہم غلطی پر تھے۔ یعنی ہم نے اس غم و غصہ میں یہ سارے پاپڑ بیلے کہ ہمارے باپ ہمارے مقابل میں کیوں آپ کو خاص مہر و محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اب خود اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم پر کھلی ہوئی فضیلت دے کر ہم پر ہماری غلطی واضح فرما دی۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کو جو فضیلت حاصل ہوئی آپ اس کے سزاوار تھے اور ہم نے جو کچھ کیا ہم اس میں غلطی پر تھے۔
Ayah 12:92قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۭ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ ۡ وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ۔ " تثریب " کے معنی کسی کو اس کے کسی قابل ملامت فعل پر ملامت کرنے کے ہیں۔
حضرت یوسف ؑ کا عفو و کرم : اگر سچے احساس ندامت کے ساتھ کوئی شخص اپنی غلطی کا اعتراف کرلیتا ہے تو ایک کریم بن کریم اس کو معاف ہی کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اس کی معافی کی امید ہوتی ہے اس لیے کہ وہ تمام مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔ حضرت یوسف نے جب یہ محسوس فرمالیا کہ یہ لوگ سچے دل سے اپنی غلطی کے معترف ہیں تو انہوں نے نہایت فیاضی سے ان کو معاف فرما دیا کہ اب آپ لوگوں پر کوئی الزام نہیں اور خدا کے ہاں بھی ان کو معافی کی امید دلائی۔
یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ یہی الفاظ حضور نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے دن قریش کے ان سرغنوں کو خطاب کر کے فرمائے جو برابر آپ کی دشمنی میں سرگرم رہے تھے۔ جب یہ لوگ حضور ﷺ کے سامنے حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے سوال کیا کہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہوں۔ وہ بولے کہ آپ شریف بھائی اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں تم سے وہی بات کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی، اب تم پر کوئی الزام نہیں، جاؤ تم آزاد ہو۔
Ayah 12:93اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰي وَجْهِ اَبِيْ يَاْتِ بَصِيْرًا ۚ وَاْتُوْنِيْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ۔
پیراہن یوسف کی کرامات : جس ضعفِ بصارت کا سبب غم و الم اور گریہ وزاری ہو، جیسا کہ آیت 84 میں گزر چکا ہے، اس کا واحد علاج یہ ہے کہ کوئی ایسی چیز سامنے آئے جو نہ صرف اس سارے غم و الم کو دھو کر صاف کردے بلکہ اس کی لائی ہوئی خوشی رگ رگ میں ایک حیات تازہ دوڑا دے۔ حضرت یوسف کو بنیامین کے ذریعہ سے باپ کا سارا حال معلوم ہوچکا تھا کہ روتے روتے ان کی آنکھیں سفید پڑچکی ہیں۔ چناچہ انہوں نے اپنا کرتا بھائیوں کو دیا کہ اس کو لے جاؤ، میرے باپ کے منہ پر اس کو ڈال دینا۔ اس سے ان کی آنکھیں روشن ہوجائیں گی۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ حضرت یعقوب کے سامنے زندگی کا سب سے بڑا غم بھی پیراہن یوسف ہی کی شکل میں آیا تھا جب کہ بھائیوں نے اس پر خون لگا کر بوڑھے باپ کے سامنے پیش کیا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور اب زندگی کی سب سے بڑی خوشی بھی پیراہن یوسف ہی کی شکل میں نمودار ہونے والی تھی۔
حضرت یوسف نے اپنے جسم سے لمس کیا ہوا کرتا ہی اپنی نشانی کے طور پر کیوں بھیجا ؟ اور کرتے میں یہ اثر کہاں سے آیا کہ اس سے بصارت عود کر آئے ؟ یہ سوالات نہ ہر شخص کے حل کرنے کے ہیں اور نہ اس کا حل ہر شخص کی سمجھ میں آسکتا ہے۔ ان چیزوں کا تعلق جذبات سے ہے اور جذبات بھی ایسے عالی مقام لوگوں کے کہ ایک طرف حضرت یعقوب ہیں، دوسری طرف حضرت یوسف۔ ہم عامی اس طرح کے معاملات میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ سچے جذبات کی تاثیر و تاثر کے کرشمے ایسی حیرت انگیز صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں کہ عقل ان کی توجیہ سے بالکل قاصر رہ جاتی ہے۔ وَاْتُوْنِيْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ ، بھائیوں کو تو حضرت یوسف نے یہ ہدایت بھی فرمائی کہ اپنے اہل و عیال سمیت سب یہاں آجاؤ۔ والدین کا ذکر غایت وضاحت کی وجہ سے حذف ہے۔ ظاہر ہے کہ اصل مقصود تو انہی کو بلانا تھا۔ بقیہ سارے تو ان کے توابع کی حیثیت رکھتے تھے۔
Ayah 12:94وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّىْ لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ لَوْلَآ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ۔ " فصل فَصولاً " کے معنی کسی جگہ سے چلنے اور نکلنے کے ہیں اور " تفنید " کے معنی ہیں کسی کو خرف اور بیوقوف سمجھ کر اس کی رائے اور بات کو بےوزن اور غلط قرار دینا۔
پیراہن یوسف کی خوشبو : ادھر قافلہ مصر سے روانہ ہوا ادھر حضرت یعقوب نے اپنے گردوپیش والوں سے فرمایا کہ اگر تم لوگ مجھے خبطی نہ قرار دو تو میں یہ کہوں کہ میں یوسف کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں۔ شدت توجہ عام حالات میں بھی آدمی کے حواس کی قوت میں بہت اضافہ کردیتی ہے۔ یہاں تو معاملہ بھی خاص نوعیت کا ہے اور قوت حاسہ بھی حضرت یعقوب جیسے پیغمبر کی ہے۔ اس وجہ سے اس بات پر ذرا تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ حضرت یعقوب نے اتنی دور سے پیراہن یوسف کی خوشبو محسوس کرلی۔ انبیاء کے قوی اور حواس کو اپنے قوی اور حواس پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ خاص ہوتا ہے۔
فلسفی گو منکر حنانہ است
از حواس انبیاء بیگانہ است
Ayah 12:95قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيْ ضَلٰلِكَ الْقَدِيْمِ۔
اس پر سننے والوں نے وہی کہا جس کا حضرت یعقوب نے اندیشہ ظاہر کیا تھا۔ وہ بولے کہ آپ اب تک اپنے اسی خبط میں مبتلا ہیں جس میں پہلے مبتلا تھے۔