Ayah 12:31فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَيْهِنَّ وَاَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّاٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّيْنًا وَّقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۚ فَلَمَّا رَاَيْنَهٗٓ اَكْبَرْنَهٗ وَقَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ ۡ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا ھٰذَا بَشَرًا ۭ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا مَلَكٌ كَرِيْمٌ۔
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ۔ یعنی جب عزیز کی بیوی نے سنا کہ ان عورتوں کو اپنی عشوہ طرازیوں، دلربائیوں اور کارفرمائیوں پر یہ ناز اور یہ غرہ ہے تو اس کے دل کو بڑی چوٹ لگی اور اس نے یہ چاہا کہ یہ بھی ذرا یوسف پر اپنے ہنر آزما دیکھیں تاکہ انہیں بھی اپنی قدروقیمت کا اندازہ ہوجائے۔ چناچہ اس نے ان کی دعوت کا انتظام کیا، ان کے لیے مصر کی اس وقت کی تہذیب کے مطابق گاؤ تکیوں سے نشست گاہ آراستہ کی، اور جب وہ آئیں تو پھل وغیرہ کھانے کے لیے ان کے ہاتھوں میں چھریاں بھی پکڑا دیں۔ یہ اہتمام کرنے کے بعد اس نے حضرت یوسف سے کہا کہ ذرا ان کے سامنے آجاؤ۔
عورتوں کا فریب اور ان کی ناکامی : فَلَمَّا رَاَيْنَهٗٓ اَكْبَرْنَهٗ وَقَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ ۡ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا ھٰذَا بَشَرًا ۭ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا مَلَكٌ كَرِيْمٌ۔ " اکبار " کے معنی ہیں کسی کو بہت بڑا سمجھنا اور دل میں اس کی عظمت اور بڑائی کا قائل ہوجانا یعنی جب حضرت یوسف سامنے آئے تو ان کی نورانی صورت، ان کی تابناک پیشانی اور ان کا پاکیزہ چہرہ دیکھ کر عورتیں مبہوت رہ گئیں۔ سیرت و اخلاق کی پاکیزگی بجائے خود بڑی ہی دلربا چیز ہے اور جب یہ ایک جوان رعنا کے اندر ہو جو شکلاً بھی خوب صورت ہو تو اس کی دلربائی دوچند ہوجاتی ہے۔ یہی واردات ان عورتوں پر گزری۔ وہ ایک نوجوان غلام کا تصور لے کر اس پر اپنے چلتر آزمانے آئی تھیں۔ یہاں انہوں نے دیکھا کہ ان کے سامنے پاکیزگی اور تقدس کا ایک پیکر قدسی کھڑا ہے۔ یہ دیکھ کر انہیں یہ اندازہ ہوگیا کہ اس ملائک صفت پر ان کے سارے تیر و نشتر بیکار ہیں لیکن چونکہ وہ بڑے دعوے اور طنطنے کے ساتھ آئی تھیں اس وجہ سے کچھ نہ کچھ کرنا بھی ضرور تھا۔ چناچہ قرینہ بتاتا ہے اور شواہد قرآن سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف کو اپنی باتوں سے کچھ رام کرنے کی کوشش کی لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی باتیں ان پر ذرا کارگر نہیں ہو رہی ہیں تو ان کے دل کے اندر اپنے حق میں ہمدردی پیدا کرنے کے لیے خودکشی کی دھمکی بھی دے دی اور ان میں سے بعض نے اس دھمکی کو سچ ثابت کرنے کے لیے ابتدائی اقدام کے طور پر پھل کھانے کی چھریوں سے اپنے ہاتھ زخمی بھی کرلیے تاکہ حضرت یوسف اس کو نری دھمکی ہی نہ سمجھیں بلکہ ڈرجائیں کہ اگر انہوں نے ان کی بات نہ مانی تو ان میں سے بعض ضرور اپنے آپ کو ہلاک کرکے رہیں گی۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خودکشی کی دھمکی عورت کے نہایت کارگر ہتھیاروں میں سے ہے۔ جب وہ مرد پر اپنے عشوہ و غمزہ کے ہتھیار کار گر ہوتے نہیں دیکھتی تو آخر حربہ وہ یہی آزماتی ہے۔ ان عورتوں نے بھی یہی کیا۔
یہ جو کچھ ہم نے عرض کیا ہے، محج ہمارا قیاس نہیں ہے۔ خود اسی سورة میں آگے اس امر کی تصریح موجود ہے کہ ان عورتوں نے اس موقع پر حضرت یوسف کو بہلانے پھسلانے کی کوشش کی اور اس امر کی بھی تصریح ہے کہ یہ ہاتھوں کو زخمی کرلینے کا معاملہ ان عورتوں کا ایک کید (چال تھا)۔ ملاحظہ ہو۔ " فَلَمَّا جَاۗءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰي رَبِّكَ فَسْـــَٔـلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِيْ قَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ ۭ اِنَّ رَبِّيْ بِكَيْدِهِنَّ عَلِيْمٌ۔ قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ : پس جب اس کے پاس قاصد ٓیا، اس نے اس کو جواب دیا کہ تم اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ زخمی کرلیے تھے۔ بیشک میرا رب ان کی چال سے خوب واقف ہے۔ اس نے ان سے پوچھا کہ تمہارا کیا ماجرا ہوا جب کہ یوسف کو تم نے پھسلانے کی کوشش کی "۔
خود کشی کی دھمکی بطور حربہ : غور کیجیے اگر واقعہ کی نوعیت یہ ہوتی کہ عورتیں حضرت یوسف کے حسن و جمال سے بےخود ہو کر اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں تو اس میں چال کا کیا پہلو تھا کہ حضرت یوسف اس کو کید سے تعبیر فرماتے ؟ اور اگر انہوں نے حجرت یوسف کو اپنے دام میں پھنسانے کی کوئی کوشش نہ کی ہوتی تو ان سے یہ سوال کیوں ہوتا کہ " ما خطبکن اذ راودتن یوسف عن نفسہ : تمہارا کیا ماجرا ہوا جب کہ تم نے یوسف کو پھسلانے کی کوشش کی " ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ اگر عورتوں نے حضرت یوسف کا دل جیتنے کے لیے کچھ باتیں کی تھیں تو قرآن نے ان کا ذکر کیوں نہیں کیا۔ اس سوال کا جواب ہماری طرف سے یہ ہے کہ اس قسم کی خرافات سے تعرض قرآن کے شایان شان نہیں ہے اس وجہ سے اس نے دو لفظوں میں یہ سارا دفتر سمیٹ دیا کہ انہوں نے حضرت یوسف پر اپنے چلتر آزمائے تو انہیں اندازہ ہوگیا کہ باتوں سے ان کو شیشہ میں اتارنا مشکل ہے بالآخر انہوں نے خود کشی کی دھمکی کی نمائش کی لیکن یہ دھمکی بھی بےاثر ہی رہی۔
کمزوروں کا آخری حربہ : خود کشی کی دھمکی کمزوروں کا آخری حربہ ہے۔ ایک مرتبہ میں بمبئی میں ایک کرم فرما کی دکان پر بیٹھا ہوا تھا۔ اسی اثنا میں ایک سائل آیا اور دکان کے سامنے سڑک کی پٹڑی پر بیٹھ گیا۔ صاحب دکان نے اس کے سامنے ایک دونی یا چونی پھینک دی۔ اس نے کہا " سیٹھ پانچ روپے سے کم نہیں لوں گا " سیٹھ صاحب نے اس کی بات کا خیال نہیں کیا۔ وہ بالکل بےپروا مجھ سے باتوں میں مشغول رہے۔ تھوڑی دیر اپنے فضل و کمال کی لاف زنیاں کرنے کے بعد اس نے پھر پانچ روپے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی سنا دی کہ اگر پانچ روپے نہ دیے گئے تو وہ یہیں جل مرے گا۔ سیٹھ اس کی یہ دھمکی سن کر بھی ٹس سے مس نہ ہوئے۔ بدستور مجھ سے باتوں میں لگے رہے۔ بالآخر میں نے دیکھا کہ اس نے دیا سلائی سے اپنے ایک پائنچہ میں آگ لگالی اور وہ جلنے لگا۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے تو پسینہ آنے لگا۔ میں نے چاہا کہ میں اپنے پاس سے اس کا مطالبہ پورا کر کے کسی طرح اس قصہ کو ختم کروں لیکن سیٹھ صاحب اس بات پر بھی راضی نہ ہوئے۔ جب اس کا پائنشہ گھٹنے کے قریب تک جل گیا اور اس نے سیٹھ کو پسیجتے نہیں دیکھا تو جلدی جلدی اپنے ہی ہاتھوں سے آگ بجھائی اور وہاں سے چلتا ہوا۔ سیٹھ صاحب نے کہا ہمیں ایسے مکاروں سے روز سابقہ رہتا ہے۔ میں نے کہا یہ سب زنان مصر کے بھائی معلوم ہوتے ہیں۔
" حاش للہ " کا مفہوم : حَاشَ لِلّٰهِ مَا ھٰذَا بَشَرًا ۭ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا مَلَكٌ كَرِيْمٌ۔ حاش للہ۔ استثنا اور تنزیہہ کا کلمہ ہے۔ یہ اس موقع پر بولا جاتا ہے جب اپنے آپ کو یا کسی اور الزام سے بری ثابت کرنا ہو۔ ما ھذا بشراً میں ما " لیس " کے مفہوم میں ہے اس وجہ سے " بشراً " منصوب ہے۔ قرآن میں اس کی نظیر موجود ہے۔
بیگمات کا اعتراف : ان بیگمات کا یہ اعتراف حضرت یوسف کی کمال درجہ تعریف بھی ہے اور اپنی شکست کے لیے ایک عذر بھی۔ اس کے اندر یہ مضمون بھی مضمر ہے کہ اگر ہم ان کو جیت نہ سکے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے فن یا ہمارے حسن و جمال میں کوئی نقص تھا بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں مقابلہ ایک معزز فرشتہ سے کرنا پڑا جب کہ ہمارے سارے اسلحہ صرف انسانوں ہی پر کارگر ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
Ayah 12:32قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْهِ ۭ وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ ۭ وَلَىِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَآ اٰمُرُهٗ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْن۔
زلیخا کی دھمکی : ان عورتوں کی شکست سے زلیخا کے دل سے اپنی شکست کا غم جاتا رہا۔ اس نے بڑے تیکھے انداز میں ان عورتوں سے کہا کہ یہی ہے وہ جس کے بارے میں تم نے مجھے طعن و طنز کا نشانہ بنا لیا تھا۔ اب تو تمہیں اندازہ ہوا کہ اس کو جیتنا کوئی آسان کام نہیں تھا ! اس میں شبہ نہیں کہ میں نے اس کا دل مٹھی میں لینے کی پوری کوشش کی لیکن یہ اپنے کو بچالے گیا۔ لیکن صاف کہے دیتی ہوں کہ اگر اس نے میرا کہا نہ کیا تو لازماً جیل جائے گا اور ذلیل ہوگا۔ مطلب یہ کہ اگر میں محبت سے اسے رام نہ کرسکی تو یہ نہ سمجھے کہ اس کی جان چھوٹ گئی۔ اب جیل کی ہوا کھائے گا اور ذلیل ہوگا۔ یہاں سے حضرت یوسف کی آزمائ ایک نئی شکل اختیار کرتی ہے۔ ہوس کی محبت اپنی ناکامی کا انتقام لینے پر آمادہ ہوتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ مصر میں غلاموں پر ان کے آقاؤں کو غیر محدود اختیار حاصل تھے۔ وہ ان سے ناراض ہونے کی صورت میں بےتکلف ان کو جیل بھجوا سکتے تھے۔ پھر یہاں تو معاملہ ایک اعلی سرکاری عہدہ دار کی بیگم صاحبہ کا تھا۔ کس کی مجال تھی کہ ان کے ارادے میں مزاحم ہوسکے۔
Ayah 12:33قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِمَّا يَدْعُوْنَنِيْٓ اِلَيْهِ ۚ وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَاَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْن۔
حضرت یوسف کی دعا : یہ دھمکی تو زلیخا نے حضرت یوسف کو مرعوب کرنے کے لیے دی تھی کہ اس سے ڈر کر وہ اس کی خواہش پوری کرنے پر آمادہ ہو ہی جائیں گے لیکن حضرت یوسف نے ہوس کے ان پھندوں کے مقابل میں جیل کی بیڑیوں کو بسا غنیمت جانا۔ انہوں نے فوراً دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے کہ پروردگار ! ان کی دعوت ہوس کے مقابلے میں یہ جیل مجھے کہیں زیادہ عزیز و محبوب ہے اور ساتھ ہی ناز اور اعتماد کا یہ فقرہ بھی فرما گئے کہ اگر تو نے ان کے ان فتنوں سے اب مجھے نہ بچایا تو میں ان کی طرف مائل اور جذبات سے مغلوب ہوجاؤں گا۔
Ayah 12:34فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔
دعا کی قبولیت : حضرت یوسف کی زبان سے یہ دعا اس وقت نکلی ہے جب وہ اپنی پوری طاقت اپنے ایمان و اخلاق کی حفاظت کے لیے نچوڑ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ان بیگمات کی پیدا کی ہوئی پرفتن زندگی کے مقابل میں جیل کی پر محن زندگی کو قبول کرنے پر راضی ہیں۔ جب بندہ اس حد تک اپنی استقامت دکھا دینے کے بعد اپنے آپ کو اپنے رب کے آگے ڈال دیتا ہے اور اس سے مدد مانگتا ہے تو اس کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور فوراً قبول ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت یوسف کی دعا بھی قبول ہوئی اور شیطان کے ان نسوانی پھندوں سے انہوں نے نجات پائی۔ انہ ھو السمیع العلیم۔ خدا سمیع وعلیم ہے۔ وہ بندے کی دعائیں اور فریادیں سنتا اور دلوں کے احوال اور اسرار سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے۔
Ayah 12:35آگے کا مضمون۔ آیات 35 تا 53:۔ حضرت یوسف کی آزمائش کا نیا دور : یہاں سے حضرت یوسف کی آزمائش کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔ اگرچہ عزیز بھی اور زلیخا کے عزیزوں اور رشتہ داروں پر بھی اصل حقیقت پوری طرح واضح تھی لیکن انہوں نے مصلحت اسی میں سمجھی کہ کچھ دنوں کے لیے حضرت یوسف کو جیل بھجوا دیں۔ انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ اس طرح لوگوں کی زبانیں بھی کچھ عرصہ کے بعد بند ہوجائیں گی اور نگاہوں سے دور ہوجانے کے سبب سے زلیخا کا خبط بھی جاتا رہے گا۔ جیل میں حضرت یوسف کے دو ساتھی خواب دیکھتے ہیں۔ وہ خواب کی تعبیر حضرت یوسف سے پوچھتے ہیں۔ حضرت یوسف اس خواب کی تعبیر بتانے کی راہ کھلتی ہے جس کے بعد بادشاہ ان کا ایسا گرویدہ ہوجاتا ہے کہ ملک کے تمام سفید و سیاہ کا ان کو مالک بنا دیتا ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے :
ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰيٰتِ لَيَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰي حِيْن۔
قید و بند کی آزمائش کا دور : " آیات " سے مراد یہاں حضرت یوسف کی براءت و بےگناہی کے دلائل و شواہد ہیں۔ یعنی عزیزی اور اس کے رشتہ داروں پر اگرچہ یہ حقیقت واضح ہوچکی تھی کہ یوسف بالکل بےگناہ ہیں، سارا قصور زلیخا ہی کا ہے، لیکن اپنی ناک بچانے کے لیے انہیں مصلحت اسی میں نظر آئی کہ کچھ عرصہ کے لیے حضرت یوسف کو جیل بھجوا دیں۔ انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ اس طرح کچھ مدت کے بعد زلیخا کے دماغ سے یوسف کا خبط بھی نکل جائے گا اور جو لوگ اس قصہ سے دل چسپی لے رہے ہیں ان کی توجہ بھی ہٹ جائے گی۔ لوگ خیال کریں گے قصور زلیخا نہیں بلکہ یوسف ہی کا تھا چناچہ اسی کو سزا ملی۔ اس زمانے میں مالکوں کو اپنے غلاموں پر جو غیر محدود اختیارات حاصل تھے ان کی موجودگی میں عزیز کے لیے حضرت یوسف کو جیل بھجوا دینے میں اول تو کوئی زحمت رہی نہیں ہوگی اور اگر کچھ رہی بھی ہوگی تو ایک سرکاری عہدہ دار کے لیے، جو شاہی باڈی گارڈ کا افسر تھا، اس قسم کی کسی زحمت کو دور کرلینا کیا مشکل تھا۔ الغرض یہاں سے حضرت یوسف کی آزمائش کا نیا دور شروع ہوگیا۔ یوں عام نگاہ میں تو آزائش کا اصلی دور یہی ہے لیکن حضرت یوسف کی نگاہ میں چونکہ اصلی اہمیت اپنے ایمان و اخلاق کی تھی اس وجہ سے انہوں نے پچھلے دور کے مقابل میں، جیسا کہ آپ نے دیکھا، نہ صرف یہ کہ اس کی تمنا کی بلکہ اس کے لیے دعا بھی کی۔
Ayah 12:36وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيٰنِ ۭ قَالَ اَحَدُهُمَآ اِنِّىْٓ اَرٰىنِيْٓ اَعْصِرُ خَمْرًا ۚ وَقَالَ الْاٰخَرُ اِنِّىْٓ اَرٰىنِيْٓ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِيْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّيْرُ مِنْهُ ۭ نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْـلِهٖ ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ۔
" فتیان " یعنی دو نوجوان، قرآن میں یہ تصریح نہیں ہے کہ دو نوجوان کون تھے۔ تورات کی روایت باور کیجیے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک بادشاہ کا ساقی تھا دوسرا نان پر۔ اِنِّىْٓ اَرٰىنِيْٓ اَعْصِرُ خَمْرًا۔ عربی زبان میں یہ اسلوب موجود ہے کہ بعض اوقات کسی شے کو اس کی غایت کے اعتبار سے تعبیر کرتے ہیں۔ انگور نچوڑنے کا مقصد اگر اس سے شراب بنانا ہے تو اس کو یوں کہہ سکتے ہیں کہ شراب نچوڑ رہا ہوں۔
قیدی نوجوانوں کے خواب : حضرت یوسف کے ساتھ دو اور نوجوان بھی، جو خاص بادشاہ کے خدمت گار تھے، جیل خانے میں داخل ہوئے۔ ان دونوں نے خواب دیکھے۔ ایک یہ دیکھا کہ میں انگور نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے یہ دیکھا کہ میں سر پر روٹیوں کا ٹوکرا لیے ہوئے ہوں اور چڑیاں اس میں سے نوچ نوچ کر کھا رہی ہیں۔ یہ خواب چونکہ عام خوابوں سے بہت مختلف تھے، ان کو ان کی تعبیر معلوم کرنے کی فکر ہوئی۔ اس دوران میں ان کو حضرت یوسف کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع مل چکا تھا اور وہ ان کے علم وتقوی سے متاثر تھے۔ قدرتی طور پر اس کام کے لیے انہوں نے انہیں سے رجوع کیا اور نہایت ادب سے عرض کی کہ آپ چونکہ ہمیں نہایت خوب کار اور نیک آدمی معلوم ہوتے ہیں اس وجہ سے آپ ہی سے گزارش ہے کہ ہمیں خوابوں کی تعبیر بتائیے۔ لفظ " محسن " یہاں خوب کار کے معنی میں ہے یعنی جس کام کو بھی کرتے ہیں اپنے رب کو حاضر ناضر جانتے ہوئے کرتے ہیں۔
Ayah 12:37قَالَ لَا يَاْتِيْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖٓ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِيْـلِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّاْتِيَكُمَا ۭ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ ۭ اِنِّىْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ۔
خواب کی تعبیر اور دین کی دعوت : حضرت یوسف نے فرمایا کہ کھانا تقسیم ہونے سے پہلے پہلے میں تم کو ان خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا۔ جیل بالخصوص اس زمانے کی جیل کی افسردہ اور ایک رنگ زندگی میں کھانے کی تقسیم وغیرہ جیسے ایک آدھ واقعے ہی ایسے ہوسکتے ہیں جو زندگی میں ذرا تغیر کی علامت سمجھے جاتے ہوں گے اس وجہ سے حضرت یوسف نے اسی کا حوالہ دے کر خوابوں کی تعبیر کے معاملے کو کچھ وقت کے لیے ٹال دیا۔ اس کا اثر تعبیر پوچھنے والوں پر تو یہ پڑا ہوگا کہ حضرت یوسف نے ان کے خوابوں کو اہمیت دی ہے۔ وہ سرسری طور پر الٹی سیدھی کوئی بات بتا کر ان کو ٹالنا نہیں چاہتے بلکہ سوچ کر یا اپنے رب سے رجوع کرنے کے بعد ان کی تعبیر بتائیں گے اور ادھر کود حضرت یوسف نے اس التوا سے اس حق کی تبلیغ کے لیے ایک ناہتی اچھا موقع پیدا کرلیا جو ان کی زندگی کا سب سے زیادہ محبوب مقصد بن چکا تھا۔ انہوں نے جب دو دلوں کو اپنی طرف مائل دیکھا تو صرف ان کی اندھی بہری عقیدت ہی پر قانع نہیں ہوگئے بلکہ چاہا کہ ان کو اللہ کی بندگی کی وہ دعوت پہنچا دیں جو اگر وہ قبول کرلیں تو ان کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں۔ چانچنہ انہوں نے پہلی بات تو یہ فرمائی کہ " ذلک مما علمنی ربی " یہ خوابوں کی تعبیر کا علم ان علموں میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائے ہیں۔ مقصد یہ کہ اگر اس علم کو تم قدرو قیمت کی چیز سمجھتے ہو تو یہ یاد رکھو کہ اس کا منبع اور سرچشمہ میں نہیں ہوں بلکہ میرا رب ہے۔ اس نے مجھے جو علم بخشے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ " انی ترکت ملۃ قوم لایومنون باللہ " یعنی مجھ پر میرے رب کا یہ فضل جو ہوا تو اس وجہ سے ہوا کہ میں نے ان لوگوں کے مذہب کو چھوڑا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے۔ تیسری بات یہ فرمائی " ھم بالآخرۃ ھم کفرون " یعنی یہی لوگ ہیں جو آخرت کے منکر ہیں اس لیے کہ جو لوگ سرے سے خدا ہی پر ایمان نہیں رکھتے ان کے آخرت کو ماننے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ جوں ہی حضرت یوسف نے محسوس فرمایا کہ ان نوجوانوں کے دلوں میں کچھ صلاحیت ہے انہوں نے دین کی تمام بنیادی باتوں کی ان کے اندر تخم ریزی کردی اور ساتھ ہی یہ تاثر بھی ان کو دے دیا کہ اگر یہ راہ اختیار کرنے کا حوصلہ ہے تو اس کے لیے ان لوگوں کی ملت چھوڑنی پڑے گی جو خدا اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔
حضرت یوسف کا یہ ارشاد کہ " میں نے ان لوگوں کی ملت کو چھوڑا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، اس حقیقت کا اظہار ہے کہ انہوں نے اپنے باطن میں اچھی طرح تجزیہ اور تنقید کرکے حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا معین کرلیا اور حق کو جو اختیار کیا ہے تو مجرد اس لیے نہیں کہ میراث آباء ہے بلکہ اس لیے کیا ہے کہ وہی اختیار کرنے کی چیز ہے، اسی طرح اگر باطل کو چھوڑا ہے تو اس سوجہ سے چھوڑا ہے کہ اس کا باطل ہونا پوری طرح واضح ہوچکا ہے۔
Ayah 12:38اللہ پر ایمان نہ رکھنے والوں کی ملت کو چھوڑ کر جس ملت کو انہوں نے اختیار فرمایا، یہ اس کا بیان ہے۔ اس پورے سلسلۃ الذہب کی وضاحت اس وجہ سے ضروری تھی کہ مخاطب کہیں اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں کہ حضرت یوسف جس ملت کی ان کو دعوت دے رہے ہیں یہ ان کی کوئی نو ایجاد ملت ہے بلکہ ان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ یہ وہی ملت ہے جس کو حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) جیسے اکابر و مشاہیر نے اختیار فرمایا۔ ان اکابر کے نام تمام اطراف و دیار میں پھیلے ہوئے تھے اور عجب نہیں کہ حضرت یوسف کے یہ زندان کے ساتھ بھی ان ناموں سے آشنا رہے ہوں۔
ملت توحید کی تاریخی و فطری عظمت : مَا كَانَ لَنَآ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ ، ملت توحید کی تاریخی عظمت و اہمیت واضح کرنے کے بعد یہ حضرت یوسف نے اس کی فطری اور عقلی عظمت واضح فرمائی ہے کہ یہ حقیقت تو روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ایک خالق ہے جس نے یہ دنیا بنائی ہے، جس نے ہم کو زندگی بخشی ہے، جو رزق دیتا ہے اور جس کے اختیار میں ہماری زندگی اور موت ہے لیکن اس بات کی ہمارے سامنے کوئی ادنی شہادت بھی موجود نہیں ہے کہ کوئی اور بھی ان کاموں میں اس کا شریک وسہیم ہے۔ تو جب اس چیز کی کوئی ادنی شہادت ہمارے پاس موجود نہیں ہے، نہ ہماری عقل میں، نہ ہماری فطرت میں، نہ آفاتق میں، نہ انفس میں تو ہمیں یہ کس طرح حق پہنچتا ہے کہ ہم خواہ مخواہ کسی چیز کو اس کی خدائی میں شریک اور حصہ دار بنا کے رکھ دیں۔
Ayahs 12:39–4039۔ 40:۔ يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ۔ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اَسْمَاۗءً سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔
دعوت توحید : " یصاحبی السجن " کے خطاب میں جو بلاغت اور دل نوازی ہے وہ بالکل واضح ہے۔ بسا اوقات مصیبت کا اشتراک بھی شرکائے مصیبت کے دلوں میں ہمدردی، محبت، اخلاص اور باہمی خیر خواہی و خیرسگالی کے جذبات نہایت زور و قوت سے ابھار دیتا ہے۔ حضرت یوسف نے اس خطاب سے اپنے ان ستاھیوں کے انہی جذبات کو ابھارا ہے تاکہ وہ ان کی طرف متوجہ ہوں اور ان کی وہ بات جو سرتاسر انہی کے نفع کے لیے ہے، گوش دل سے سنیں۔ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ، لفظ قہار پر ہم دوسرے مقام میں بحث کرکے بتا چکے ہیں کہ اس کا صحیح مفہوم وہ ہے جو لفظ کنٹرولر کا ہے یعنی سب پر حاوی اور غالب جس کے حیطہ اقتدار سے نہ کوئی باہر ہو، نہ باہر نکل سکے۔ مطلب یہ کہ جہاں تک ایک خدا کا تعلق وہ تو ایک بدیہی حقیقت بلکہ ابدہ البدیہیات ہے۔ مشرک اور موحد سب اس کو مانتے ہیں۔ اب رہا یہ سوال کہ اس کے سوا اور بھی کچھ اس کے شریک ہیں تو یہ چیز نہایت مضبوط دلیل کی محتاج ہے۔ اگر اس کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے تو مجرد خواہش کی بنا پر کسی کو اپنے اوپر خدا بنا کر مسلط کرلینا کہاں کی دانشمندی ہے ؟ ایک غلام کے سامنے اگر یہ سوال رکھا جائے کہ اسے بیک وقت ایک آقا کی غلامی پسند ہے یا کئی آقاؤں کی تو وہ متعدد آقاؤں کے مقابل میں ایک ہی آقا کی غلامی کو ترجیح دے گا۔ یہی انسان کی فطرت ہے۔ اسے اپنے اوپر کسی کو خدا بنا کر مسلط کرنے کا شوق نہیں ہے، وہ ایک خدا کو تو اس لیے مانتا ہے کہ اس کے ماننے پر اس کی عقل اور فطرت اس کو مجبور کرتی ہے۔ اس کے سوا دوسروں کو ماننے کے لیے کیا مجبوری ہے کہ وہ خواہ مخواہ ان کی غلامی کا پٹآ بھی اپنی گردن میں ڈال لے۔ انسانی فطرت کی اسی حقیقت کی طرف قرآن نے سورة زمر کی اس تمثیل میں اشارہ فرمایا ہے۔ ضرب اللہ مثلا رجلا فیہ شرکاء متشاکسون و رجلا سلما لرجل۔ ھل یستویان مثلا : اور اللہ تمثیل بیان کرتا ہے ایک ایسے غلام کی جس میں متعدد مختلف الاغراض شرکاء شریک ہیں اور ایک ایسے غلام کی جو پورا کا پورا ایک ہی آقا کی ملکیت ہے۔ کیا دونوں کی حیثیت ایک جیسی ہوگی)۔ یہاں قہار کی صفت سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ جب خدا قہار بھی ہے یعنی سب پر حاوی و غالب اور یہ اس کی صفات کا لازمی تقاضا بھی ہے تو آخر وہ ضرورت کیا ہے جس کے لیے دوسروں کو اس کی خدائی میں شریک کیا جائے۔
مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اَسْمَاۗءً۔۔۔ الایۃ۔ یعنی یہ جن کو تم پوج رہے ہو یہ محض تمہارے وہم کے ایجاد کیے ہوئے نام ہیں، ان ناموں کا کوئی مسمی موجود نہیں ہے۔ تمہارے باپ دادا جس لکیر کو پیٹتے آئے اسی لکیر کو بےسمجھے تم بھی پیٹ رہے ہو۔ خدا نے تمہارے ان فرضی دیویوں اور دیوتاؤں کے حق میں کوئی دلیل نہیں اتاری۔ حکم اور فیصلہ، امر اور قضا سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے اور اس نے صرف اپنی عبادت کا حکم دیا ہے اور یہی سیدھا، مستقیم اور فطری دین ہے۔ اس کے علاوہ جتنے بھی طریقے ہیں سب فطرتِ انسانی سے ہٹے ہوئے اور انسان کو کج پیچ کی راہوں میں گم کرنے والے ہیں لیکن لوگوں کی اکثریت اپنی شامت اعمال سے اس حقیقت سے بیخبر ہے۔
Ayah 12:41يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ اَمَّآ اَحَدُكُمَا فَيَسْقِيْ رَبَّهٗ خَمْرًا ۚ وَاَمَّا الْاٰخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّيْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ ۭ قُضِيَ الْاَمْرُ الَّذِيْ فِيْهِ تَسْتَفْتِيٰنِ۔
خوابوں کی تعبیر : حضرات انبیاء علیہم السلا کے دل و دماغ پر سب سے زیادہ حاوی اور غالب چونکہ اللہ کے دین کی دعوت ہی ہوتی ہے اس وجہ سے جب کبھی اور جہاں کہیں بھی اس کا موقع ان کو ہاتھ آجاتا ہے وہ اس سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ حضرت یوسف نے جب دیکھا کہ ان کے زندان کے ساتھ حسن ظن اور اعتماد کے ساتھ ان کی طرف متوجہ ہوئے ہیں تو پہلے تو انہوں نے ان کو خدا کی توحید کی دعوت پہنچائی اس کے بعد انہیں ان کے خوابوں کی تعبیر بھی بتا دی۔ فرمایا کہ تم میں ایک، جس نے شراب نچوڑنے کا خواب دیکھا ہے، وہ تو قید سے رہائی پائے گا اور اپنے آقا کی ساقی گری کی خدمت انجام دے گا۔ رہا دوسرا، جس نے اپنے سر پر روٹیوں کے ٹوکرے سے چڑیوں کو نوچ نوچ کر کھاتے دیکھا، اس کو پھانسی ہوگی اور چڑیا اس کے سر کو نوچ نوچ کر کھائیں گی۔ فرمایا کہ یہ ہے تمہارے ان خوابوں کی تعبیر جن کے باب میں تم نے مجھ سے سوال کیا تھا۔ میں نے اپنا وعدہ پورا کردیا۔
Ayah 12:42وَقَالَ لِلَّذِيْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِيْ عِنْدَ رَبِّكَ ۡ فَاَنْسٰىهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِيْنَ۔
جائز مقصد کے لیے جائز تدبیر : وَقَالَ لِلَّذِيْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِيْ عِنْدَ رَبِّكَ۔ ان دونوں میں سے ایک سے جس کی نسبت حضرت یوسف کو اس کے خواب کی بنا پر گمان تھا کہ وہ جیل سے چھوٹ جائے گا، حضرت نے یہ خواہش کی کہ اگر کوئی مناسب موقع پیدا ہو تو اپنے آقا سے میرا ذکر کرنا۔ آقا سے مراد یہاں بادشاہ ہے اس لیے کہ وہ، جیسا کہ اوپر گزرا، بادشاہ کا ساقی تھا۔ ذکر سے مراد ظاہر ہے کہ ان ہی باتوں کا ذکر ہے جو جیل کی اس معیت کے دوران میں اس کے اپنے علم و مشاہدہ میں آئی تھیں۔ خاص طور پر خواب کی تعبیر کے معاملے کا ذکر جو ایک اہم واقعہ بھی تھا اور بادشاہوں کے دربار میں اس طرح کے معاملات آئے دن پیش آتے بھی رہتے ہیں۔ حضرت یوسف نے اس خواہش کا اظہار اس توقع کی بنا پر کیا ہوگا کہ جہاں داد فریاد اور عدل و انسآف کے سارے دروازے بند ہیں، شاید اسی راہ سے اس مظلومانہ قید سے چھوٹنے کی کوئی شکل پیدا ہو۔ کسی جائز مقصد کے لیے جائز تدابیر و وسائل کا اختیار کرنا توکل اور اعتماد علی اللہ کے منافی نہیں ہے۔ توکل کے منافی یہ ہے کہ آدمی حالات سے دل شکستہ ہو کر ناجائز تدابیر کے اختیار کرنے پر اتر آئے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول بندہ وہ نہیں ہے جو توکل کے نام پر ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ رہے بلکہ وہ ہے جو کارزارِ حیات میں اترے، وسائل و تدابیر سے کام لے، اسباب و ذرائع کو استعمال کرے لیکن ہر گام پر خدا کے حدود وقیود کا احترام وپرا پورا ملحوظ رکھے۔ یہی وہ اصلی امتحان ہے جس کے لیے خدا نے خلق کو پیدا کیا ہے اور جو اس دنیا کے وجود کی غایت ہے۔
تقدیر الٰہی کا فیصلہ : فَاَنْسٰىهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِيْنَ۔ ذکر ربہ، میں اضافت کی وعیت وہی ہے جو مکر اللیل والنہار، وغیرہ میں ہے۔ یعنی جیل سے چھوٹنے والا غلام اپنے آقا یعنی بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف کا ذکر کرنا بھول گیا۔ اس بھول جانے کو شیطان کی طرف منسوب فرمایا ہے اس لیے کہ کسی نیکی کے کام سے غافل کرن شیطان ہی کا کام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تدابیر وسائل کو اختیار کرنا تو انسان کے فرائض میں سے ہے لیکن ان تدابی وسائل کا بروئے کار آنا اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کی حکمت پر منحصر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کا تقاضا یہ تھا کہ ابھی حضرت یوسف کچھ سال اور جیل ہی میں گزاریں۔ چناچہ یہ بات یوں پوری ہوگئی کہ حضرت یوسف کا جیل سے چھوٹنے والا ساتھی جیل سے باہر آ کر بالکل یاد نہ رکھ سکا کہ زندان کے ساتھ نے اس سے کیا بات کہی۔
Ayah 12:43وَقَالَ الْمَلِكُ اِنِّىْٓ اَرٰي سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ ۭ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِيْ فِيْ رُءْيَايَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُوْنَ۔
بادشاہ کا خواب : جب اللہ تعالیٰ کسی بات کو چاہتا ہے تو خواہ وہ کتنی بعید از قیاس ہو اس کے اسباب خود بخود پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ چناچہ اس دوران میں خود بادشاہ نے ایک خواب دیکھا کہ سات فربہ گائیں ہیں، سات دبلی، اور یہ دبلی گائیں فربہ گایوں کو نگلے جا رہی ہیں۔ اسی طرح سات سبز بالیاں ہیں اور دوسری سات خشک اور یہ سات خشک بالیاں ساتوں سبز بالیوں کو کھا رہی ہیں۔ بادشاہ کو یہ خواب بڑی اہمیت رکھنے والا محسوس ہو، چناچہ اس نے اپنے درباریوں کو یہ خواب سنایا اور ان سے کہا کہ اگر آپ لوگ خوابوں کی تعبیر کرتے ہیں تو ذرا میرے اس خواب کی تعبیر بتائیے۔ بادشاہ کے اس آخر فقرے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ اس کی نظر میں اس خواب کی بڑی اہمیت تھی اور وہ یہ بھی محسوس کر رہا تھا کہ اس کی تعبیر بتانا ان لال بجھکڑوں کے لیے کچھ آسان نہیں ہے۔
آیت میں " واخر یٰبِسٰت " کے بعد " یاکلٰن " کا لفظ محذوف ہے۔ قرینہ کی موجودگی کے سبب سے اس کو حذف کردیا گیا ہے۔ آگے آیت 48 میں اس کی وضاحت ہوگئی ہے۔ ہم نے ترجمہ میں اس کو کھول دیا ہے۔
Ayah 12:44قَالُوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ ۚ وَمَا نَحْنُ بِتَاْوِيْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِيْن۔
درباریوں کا جواب : " ضغث " خس و خاشاک کے گٹھے کو کہتے ہیں۔ اسی کی جمع " اضغاث " ہے جو بےحقیقت باتوں اور خبروں کے مجموعہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ پھر اسی سے " اضغاث احلام " کی ترکیب پیدا ہوگئی جس سے مراد وہ خواب پریشان ہوتے ہیں، جو یوں ہی تبخیر معدی یا کسی اور باعث سے نظر آجاتے ہیں، ان کے اندر کوئی تعبیر نہیں ہوتی۔
دربار کے معبّروں نے یہ فقہ کہہ کر اول تو بادشاہ کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کی کہ جہاں پناہ اس خواب کی زیادہ فکر نہ کریں، یہ خواب پریشان کی نوعیت کی چیز ہے، اس طرح کے خوابوں کے اندر کوئی تعبیر نہیں ہوتی اور ساتھ ہی اپنا بھرم بھی قائم رکھنے کی کوشش کی کہ ہمارا کام بامعنی خوابوں کی تعبیر بتانا ہے نہ کہ خواب ہائے پریشان کی۔
Ayah 12:45وَقَالَ الَّذِيْ نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِيْـلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ۔
" اذکر " ادد کر، اور اذد کر، تینوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور " امۃ " یہاں زمانہ اور مدت کے معنی ہے۔
شاہی ساقی کی پیشکش : اس خواب کی تعبیر سے درباری معبروں کی بےبسی نے شاہی ساقی کو جو جیل سے چھوٹا تھا، ایک مدت کے بعد، اپنے خواب کا قصہ یاد دلادیا جس کی تعبیر حضرت یوسف نے بتائی تھی اور جو بالکل صحیح نکلی تھی۔ اس نے فوراً آگے بڑھ کر عرض کی کہ اس خواب کی تعبیر آپ لوگوں کو میں بتاؤں گا۔ تو مجھے اس سے ملنے کے لیے جانے دیں جس سے اس مقصد کے لیے میں ملنا چاہتا ہوں۔
Ayah 12:46يُوْسُفُ اَيُّهَا الصِّدِّيْقُ اَفْتِنَا فِيْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ ۙ لَّعَلِّيْٓ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُوْنَ۔
حضرت یوسف سے ساقی کی درخواست : یہاں اتنی بات قرینہ کی موجودگی کے سبب سے حذف کردی گئی کہ بالآخر درباریوں نے سقی کو حضرت یوسف کے پاس جانے کی اجازت دے دی اور وہ جیل خانہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ اس نے جاتے ہی حضرت یوسف کو " ایہا الصدیق " سے خطاب کیا جس کے معنی ہیں اے راست باز، اے پیکر صداقت، اے صدق مجسم، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مجرد اپنی خواب کی تعبیر کی بنا پر حضرت یوسف کا معتقد نہیں ہوگیا تھا بلکہ ایک مدت تک جیل میں ان کی زندگی پاکبازی اور صداقت کا اس کو جو تجربہ ہوا تھا اس نے ان کا گرویدہ بنادیا تھا۔ چناچہ اس نے ان کو، اے خوابوں کی تعبیر بتانے والا، سے خطاب کرنے کی بجائے، اے مرد راست باز، سے خطاب کیا جو تمام اوصاف حسنہ سے متصف ہونے کی ایک جامع اور کامل تعبیر ہے۔
اس خطاب کے بعد اس نے خواب کا ذکر کیا کہ سات دبلی گائیں ہیں جو سات فربہ گایوں کو نگل رہی ہیں اور سات خشک بالیاں ہیں جو سات سرسبز بالیوں کو کھا رہی ہیں۔ خواب کی تعبیر پوچھنے کے ساتھ ساتھ اس نے اشارۃً اس بات کا بھی ذکر کردیا کہ باہر لوگ اس خواب کی تعبیر کے باب میں پریشان ہیں اس وجہ سے آپ مجھے جتنی جلدی ممکن ہو اس خواب کی تعبیر بتائیے تاکہ میں باہر جا کر لوگوں کو بتا سکوں اور انہیں اطمینان ہو۔ لعلہم یعلمون، میں ایک نہایت لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ لوگ تو یوں ہی اٹکل کے تیر تکے چلا رہے ہیں البتہ آپ جو بات بتائیں گے وہ صحیح علم پر مبنی ہوگی اور اس سے لوگوں کو رہنمائی حاصل ہوگی۔
Ayahs 12:47–4947۔ 49:۔ قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِيْنَ دَاَبًا ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِيْ سُنْۢبُلِهٖٓ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ۔ ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ۔ ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيْهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيْهِ يَعْصِرُوْنَ۔
" تزرعون " ہے تو خبر اسلوب میں لیکن ہے یہ امر کے مفہوم میں۔ ہم دوسرے مقام میں یہ بتا چکے ہیں کہ جب موقع و محل رہنمائی، مشورہ اور ہدایت دینے کا ہو تو ایسے مواقع میں امر کی بجائے خبر کا اسلوب ہی موزوں رہتا ہے۔ قرآن میں اس کی نظیریں بہت ہیں۔
خواب کی تعبیر : یہ حضرت یوسف نے خواب کی تعبیر بھی بتا دی اور ساتھ ہی اس سات سالہ ہولناک قحط کے مقابلہ تدبیر کی طرف بھی رہنمائی فرما دی جس کی اس خواب نے خبر دی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ سات سال مسلسل کاشت کرتے جاؤ تو جو فصل کاٹو اس میں سے غذائی ضرورت کے بقدر الگ کرکے صاف کردو بقیہ سارا غلہ اس کی بالیوں میں چھوڑتے جاؤ تاکہ وہ محفوظ رہے۔ یہ بات یہاں ذہن میں رکھنے کی ہے کہ دانے جب بھس اور بالیوں کے اندر رہتے ہیں دیمک، سرسری اور کیڑوں مکوڑوں کی آفت سے بچے رہتے ہیں۔
اس کے بعد خواب کے دوسرے حصے کی تعبیر یہ بتائی کہ سات سال متوتر نہایت سخت قحط کے آئیں گے جو اس سارے ذخیرے کو چٹ کرجائیں گے جو تم قحط کے مقابلے کے لیے جمع کروگے۔ اس محفوظ ذخیرے میں سے بہت تھوڑا حصہ تم بچا پاؤگے۔ ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا جس میں لوگوں کی فریاد رسی ہوگی یعنی لوگوں کی چیخ و پکار اور دعا و فریاد کی خدا کے ہاں شنوائی ہوگی، اس کا ابر کرم برسے گا، انگوروں کی فصل خوب بار آور ہوگی اور لوگ خوب انگور نچوڑیں گے۔
" یغاث " کا مطلب بعض لوگوں نے بارش بھی لیا ہے لیکن میرے نزدیک بارش اس کا لغوی مفہوم نہیں ہے البتہ اس کے لازم معنی کی حیثیت سے اس کو اس کے مفہوم میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ لفظ کو اس کے لغوی مفہوم میں لینے کا ایک کھلا ہوا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ہمہ گیر اثر کی پوری تصویر سامنے آجاتی ہے کہ سارے ہی لو اس کے اثر سے چیخ اٹھیں گے اور ہر شخص اپنے رب کے آگے روئے اور گڑگڑائے گا۔ یہ بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ جب حقیقی معنوں میں کوئی سخت وقت آپڑتا تو، جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، کٹر سے کٹر کافر و مشرک بھی اکیلے خدا ہی کو پکارتے ہیں، اپنے دوسرے فرضی دیویوں اور دیوتاؤں کو بھول جاتے ہیں۔ پھر یہ زمانہ قحط تو، جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی۔ پورا کا پورا اہل مصر نے حضرت یوسف کی رہنمائی میں گزارا ہے جس میں بادشاہ سے لے کر عوام تک سب ان کے گرویدہ، تابع فرمان اور معتقد رہے ہیں۔
" یعصرون " کے لفظ سے بھی مقصود اس کے لازم کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ یعنی خوب بارش ہوگی۔ انگور کی بیلیں خوب پھلیں پھولیں گی، لوگ خوب انگور نچوڑیں گے۔ ساتھ ہی اس میں ایک لطیف تلمیح بھی پیدا ہوگئی ہے۔ وہ یہ کہ پوچھنے والا جیسا کہ اوپر گزرا ہے، بادشاہ کا خاص ساقی تھا۔ اس مناسبت سے " یعصرون " کے لفظ نے کلام میں ایک خاص لطف پیدا کردیا ہے جو اہل ذوق سے مخفی نہیں ہے۔
Ayah 12:50وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖ ۚ فَلَمَّا جَاۗءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰي رَبِّكَ فَسْـــَٔـلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِيْ قَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ ۭ اِنَّ رَبِّيْ بِكَيْدِهِنَّ عَلِيْمٌ۔
حضرت یوسف کو بادشاہ کی دعوت اور ان کا جواب : یہاں بھی سرگزشت کا اتنا حصہ محذوف ہے جتنا سیاق کلام سے خود واضح تھا یعنی بادشاہ کے قاصد نے حضرت یوسف کی بیان کردہ تعبیر بادشاہ کو جا کر سنائی۔ بادشاہ اپنے خواب کی تعبیر سن کر اتنا متاثر ہوا کہ اس نے فوراً حک دیا کہ اس قیدی کو میرے پاس لاؤ۔ قاصد پھر حضرت یوسف کے پاس گیا اور خوش خوش ان کو مثدہ سنایا کہ بادشاہ نے آپ کو یاد فرمایا ہے۔ قاصد کو یہ توقع رہی ہوگی کہ ایک قیدی، جو برسوں سے، جیل کی مشقتیں جھیل رہا ہے۔ اپنی رہائی کا یہ مژدہ سن کر پھولا نہ سمائے گا اور فوراً اس کے ساتھ ہو لے گا لیکن حضرت یوسف نے اس کی توقع کے بالکل خلاف اس کو یہ جواب دیا کہ تم اپنے آقا (بادشاہ) کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ ان عورتوں کا کیا قصہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ زخمی کرلیے تھے ؟ مطلب یہ ہے کہ اس واقعہ کی تحقیق ہونی چاہیے، جس کو بہانہ بنا کر مجھے جیل بھیجا گیا تھا۔ یوں میرا رب تو ان کی ساش سے اچھی طرح واقف ہی ہے اور میرے اعتماد کے لیے اس کا واقف ہونا ہی کافی ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ میری رہائی سے پہلے اس واقعہ کی تحقیق ہوجائے تاکہ بعد میں اس کے سب سے کسی کو میرے خلاف لب کشائی کی جراءت نہ ہوسکے۔ حضرت یوسف کے اس ارشاد کی تہ میں اتر کر غور کیجیے تو یہ حقیقت واضح ہوگی کہ انہوں نے مجرد بادشاہ کے وقت حسن ظن سے فائدہ اٹھا کر اپنی رہائی اور بادشاہ کے تقرب کو پسند نہیں فرمایا بلکہ سب سے زیادہ اہمیت الزام سے براءت کردی اور اپنی سچائی اور اپنے رب پر انہیں اس درجہ اعتماد تھا کہ اس بات کی ذرا پروا نہ ہوئی کہ فریق ثانی انہیں ملزم بنانے کے لیے کیا دروغ بافیاں کرسکتا ہے۔
Ayah 12:51قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ۡ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔
عورتوں کے واقعہ کی تحقیق : یہاں بھی قرینہ کی وضاحت کی بنا پر اتنا حصہ محذوف ہے کہ قاصد نے حضرت یوسف کی بات بادشاہ کو پہنچا دی۔ چناچہ بادشاہ نے ان عورتوں کو بلوایا اور ان سے پوچھا کہ تمہارا کیا ماجرا ہے جب کہ تم نے یوسف کو پھسلانے کی کوشش کی ؟ بادشاہ کے سوال کے الفاظ یہ سب بات بالکل واضح ہے کہ کم از کم اس مرحلے میں اس پر یہ حقیقت بالکل واضح ہوچکی تھی کہ یہ سارا چھل فریب ان عورتوں ہی کا تھا، یوسف اس معاملے میں بالکل بےقصور تھے۔ اگر بادشاہ پر یہ حقیقت واضح نہ ہوتی تو سوال کا انداز اس سے مختلف ہوتا۔ یعنی وہ یوں پوچھتا کہ یہ کیا واقعہ ہے جو یوسف کے ساتھ تمہیں پیش آیا ؟ اصل یہ ہے کہ سچائی اپنے ظہور کے لیے صبر کا مطالبہ کرتی ہے۔ اگر کوئی اللہ کا بندہ اس کو اختیار کرلے اور جو صبر اس کے لیے مطلوب ہے اس کا حق ادا کردے تو وہ وقت لازماً آتا ہے جب اس کی صداقت کی صدائے باز گشت درودیوار سے سنائی دیتی ہے۔ یہاں تک کہ دشمن بھی جیسا کہ آپ دیکھیں گے، اس کی گواہی دیتے ہیں۔
قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْۗءٍ۔ حاشا اور حاش، استثنا اور تنزیہہ کے کلمے ہیں و اس وقت بولے جاتے ہیں جب کسی کو کسی الزام یا تہمت سے بری ثابت کرنا ہو۔
عورتوں کا اعتراف حق : ہم اوپر یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ حضرت یوسف کے عظیم صبر نے حالات کا رخ اس طرح بدل دیا تھا کہ کسی کے لیے بھی یہ ممکن نہیں رہ گیا تھا کہ وہ ان کے خلاف کچھ کہہ سکے۔ چناچہ ان عورتوں نے بھی نہایت کھلے دل سے اعتراف کیا کہ ہم نے اچھی طرح ٹٹول کر دیکھا لیکن ان پر برائی کا کوئی نقش نہیں پایا اور خود عزیز کی بیوی، جس نے یہ سارا فتنہ اٹھایا تھا، اعتراف حق میں ان عورتوں سے بھی آگے نکل گئی۔ اس نے کہا، اب تو حق پوری طرح آشکارا ہو ہی گیا، اب چھپانے سے کیا حاصل، اصل یہ ہے کہ میں نے ہی ان پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی لیکن یہ بالکل محفوظ رہے۔ بلاشبہ یہ راست بازوں میں سے ہیں۔
Ayahs 12:52–5352۔ 53:۔ ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَاَنَّ اللّٰهَ لَايَهْدِيْ كَيْدَ الْخَاۗىِٕنِيْنَ۔ وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔
تحقیقات کے مطالبہ کی وجہ : اپنا دامن بےداغ ثابت ہوجانے کے بعد یہ حضرت یوسف نے اس بات کی وجہ بھی بتا دی کہ انہوں نے اس قضیہ کو ازسر نو چھیڑنا کیوں ضروری سمجھا جب کہ بادشاہ اس معاملے کو زیر بحث ائے بغیر ان کو رہا کر رہا تھا۔ فرمایا کہ ایسا میں نے اس لیے کیا کہ بادشاہ پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ مجھے بالکل بےگناہ جیل میں ڈالا گیا تھا۔ میں عزیز کے ساتھ اس کی پیٹھ پیچھے کوئی بےوفائی نہیں کی تھی اور یہ حقیقت بھی اچھی طرح واضح ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ خائنوں اور بےوفاؤں کی چال کو کامیاب و بامراد نہیں کرتا بلکہ بالآخر وہ نامراد ہوتے ہیں اور جو لوگ سچائی اور وفاداری پر استوار رہتے ہیں وہی سرخرو اور بامراد ہوتے ہیں۔
ہمارے نزدیک " لیعلم " کی ضمیر کا مرجع بادشاہ ہے۔ جس کا ذکر اوپر کی آیات میں نہایت واضح الفاظ میں ہوا ہے اور اخنہ کی ضمیر کا مرجع عزیز ہے جس کے لیے واضح قرینہ موجود ہے۔ اگر قرائن موجود ہوں تو ضمیوں میں اس قسم کا انتشار کوئی عیب نہیں ہے۔
اس کے بعد حضرت یوسف نے یہ حقیقت بھی واضح فرمادی کہ کوئی میرے اس رویہ سے اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ اپنے نفس کو میں گناہوں سے بالاتر سمجھتا ہوں۔ نفس میرے ساتھ بھی ہے اور وہ برائی کے لیے وسوسہ اندازیاں بھی کرتا رہتا ہے۔ اس کے فتنوں سے محفوظ تو آدمی اسی وقت تک رہتا ہے جب تک خدا کی رحمت اور اس کا فضل شامل حال رہے۔ سو میں اگر فتنوں سے محفوظ رہا تو اس وجہ سے نہیں کہ میں اپنے اندر نفس نہیں رکھتا تھا بلکہ صرف اس وجہ سے محفوظ رہا کہ میرے رب کی رحمت و عنایت نے میری دست گیری فرمائی۔ میرا رب بخشنے وال اور مہربان ہے۔ " الا ما رحم ربی " میں " ما " ہمارے نزدیک ظرفیہ ہے۔
ایک سنّت الٰہی : یہاں یہ سنت الٰہی یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیکی اور بدی الہام فرما کر اس کو اختیار دیا ہے کہ وہ بدی کی راہ اختیار کرے یا نیکی کی۔ اگر وہ نیکی کی راہ اختیار کرتا ہے اور اس راہ میں پیش آنے والی آزمائشوں کا پامردی سے مقابلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف رحمت و عنایت سے متوجہ ہوتا ہے اور ان کی راہ کو آسان کردیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ منزل مقصود پر پہنچ جاتا ہے اور اگر کوئی شخص نیکی کی راہ چھوڑ کر بدی کی راہ اختیار کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اسی راہ میں بڑھنے کے لیے ڈھیل دے دیتا ہے۔ حضرت یوسف نے نفس کے اعلی اعیات کو اختیار فرمایا اور اس راہ کی تمام مزاحمتوں کا پوری پامردی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ یہاں تک کہ نفس کے سفلی داعیات ان کے آگے سپر ادناز ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس مرتبۂ بلند کی سرفرازی بخشی جو ان کے لیے مقدر تھا۔
Ayah 12:54آگے کا مضمون۔ آیات 54 تا 101:۔
حضرت یوسف کی زندگی کا نیا دور : اب آگے حضرت یوسف ؑ کی زندگی کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف جیل سے چھوٹتے ہیں بلکہ عملاً پورے مصر کی حکومت ان کے انگوٹھے کے نیچے آجاتی ہے۔ سات سالہ قحط کے مقابلہ کے لیے وہ حالات کو اس خوبی سے سنبھالتے ہیں کہ نہ صرف ملک کی غذائی ضررویات پوری کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں بلکہ پاس پڑوس کے ملکوں کی مشکلات حل کرنے میں بھی ان کی مدد کرتے ہیں۔ اپنے جن بھائیوں کی عنایت سے وہ عزیز مصر کی غلامی اور بالآخر جیل تک پہنچے تھے، اس دور اقتدار میں وہ بھی ان کی خدمت میں غلّہ لینے کے لیے حاضر ہوتے ہیں اگرچہ انہیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ یہ ان کا وہی بھائی ہے جس کو انہوں نے ایک اندھے کنوئیں میں پھینکا تھا۔ ان کی اس بیخبر ی میں حضرت یوسف بعض لطیف طریقوں سے ان کا امتحان بھی کرتے ہیں کہ اندازہ ہوسکے کہ وہ سب کچھ کر گزرنے کے بعد، جو انہوں نے ان کے ساتھ کیا، ان کے باطن میں تبدیلی ہوئی یا نہیں۔ بالآخر وہ وقت آتا ہے کہ ان پر یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جس کے سانے وہ سائلانہ حاضر ہیں یہ ان کا وہی بھائی ہے جس کو انہوں نے کنوئیں میں پھینکا تھا۔ اس کے بعد حضرت یوسف اپنے تمام بھائیوں اور ماں باپ کو اپنے پاس بلواتے ہیں۔ وہ آتے ہیں تو حضرت یوسف کے دربار میں ان کو سرجھکا کر تعظیم بجا لاتے ہیں اور اس طرح حضرت یوسف کا وہ خواب سچا ثابت ہوجاتا ہے جو انہوں نے دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ آیات کی تلاوت فرمائیے :
وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖٓ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِيْ ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ۔
حضرت یوسف کے ساتھ بادشاہ کی گرویدگی : بادشاہ اول تو حجرت یوسف کا اسی بات سے گرویدہ ہوگیا کہ جس خواب کی تعبیر سے اس کے دربار کے تمام عقلاء و فضلاء قاصر رہے اس کی انہوں نے ایسی تعبیر بتا دی جو ہر شخص کے دل میں اتر گئی۔ پھر اس سے بڑھ کر اس کو متاثر کرنے والی بات یہ ہوئی کہ حضرت یوسف نے خواب کی تعبیر کے ساتھ اس ہولناک قحط کے مقابلے کی تدبیر بھی بتادی جس کے ظہور کی خواب نے خبر دی تھی۔
پھر ان دونوں باتوں سے بڑھ کر تیسری بات یہ ہوئی کہ جب بادشاہ نے ان کو جیل سے رہا کرکے اپنے پاس بلانا چاہا تو انہوں نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے اس وقت تک کے لیے انکار کردیا جب تک ان الزامات کی تحقیق نہ ہوجائے جن کو بہانہ بنا کر انہیں جیل میں ڈالا گیا تھا۔ اس تحقیق کا نتیجہ بھی، جیسا کہ اوپر کی آیات سے معلوم ہوچکا، حضرت یوسف کے حق میں نہایت شاندار نکلا۔
ان تینوں میں سے کوئی ایک بات بھی بادشاہ کو حضرت یوسف کا گرویدہ بنادینے کے لیے کافی ہوسکتی تھی لیکن جس شخص کے باب میں یہ تینوں باتیں اکٹھی بادشاہ کے علم میں آئیں آخر وہ اس کا نادیدہ عاشق نہ جاتا تو اور کیا کرتا چناچہ اس نے فوراً حکم دیا کہ ان کو فوراً میرا پاس لایا جائے، میں ان کو اپنا معتمد خاص بناؤں گا۔ شخصی حکومتوں میں سارے اختیارات کا مرکز بادشاہ کی ذات ہوتی ہے اس وجہ سے اگر وہ کسی کو اپنا معتمد خاص بنا لے اور وہ بی اس عقیدت اور گرویدگی کے ساتھ جو بادشاہ کے دل میں حضرت یوسف کے لیے پیدا ہوگئی تھی، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ گویا بادشاہ نے زمام اختیار و اقتدار حضرت یوسف کے حوالے کردینے کے ارادے کا اعلان ان کی رہائی کے اعلان کے ساتھ ہی کردیا۔
حضرت یوسف کے لیے منصب کی پیشکش : فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ۔ اب تک بادشاہ اور حضرت یوسف کے درمیان دوسرے لوگ واسطہ تھے۔ اس کو براہ راست حضرت سے ملنے اور گفتگو بھی کرنے کا کوئی موقع نہیں ملا تھا۔ اب ملاقات ہوئی تو اس نے ان سے گفتگو بھی کی۔ قرآن نے اگرچہ اس گفتگو کا حوالہ اجمالاً ہی دیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ گفتگو تفصیل سے ہوئی ہوگی۔ دینی اور اخلاقی مسائل بھی زیر بحث آئے ہوں گے اور ملک کے انتظامی اور معاشی مسائل پر بھی حجرت یوسف نے اپنی رائے پیش کی ہوگی۔ آدمی کی شخصیت کا صحیح اندازہ ملاقات اور گفتگو ہی سے ہوتا ہے۔ چناچہ معلوم ہوتا ہے کہ اس ملاقات اور گفتگو نے بادشاہ کو حضرت یوسف کا مزید گرویدہ بنا دیا اور اس نے ان سے کہہ دیا کہ اب آپ ہماری حکومت میں ایک بااقتدار معتمد ہیں۔ گویا بادشاہ نے ان کے سامنے اپنی حکومت میں بڑے سے بڑے منصب کی پیشکش کردی اور اس امر کو حضرت یوسف کی صواب دید پر چھوڑا کہ وہ اس پیشکش کو کس صورت میں قبول فرماتے ہیں۔
Ayah 12:55قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ ۚ اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ۔
حضرت یوسف کی تجویز : " الارض " سے مراد یہاں سرزمین مصر اور " خزائن " سے مراد ملک کے ذرائع پیداوار ہیں۔ چونکہ اس وقت سب سے بڑی مہم ملک کو پیش آنے والے قحط میں سنبھالنے کی تھی اس وجہ سے حضرت یوسف نے فرمایا کہ ملک کے تمام ذرائع پیداوار کا اہتمام و انصرام میرے سپرد کردیجیے، میں پوری احتیاط سے ہر چیز کی حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور اس ذمہ داری کو سنبھالنے کے لیے علم بھی رکھتا ہوں۔ یہ واضح رہے کہ حضرت یوسف کی طرف سے کوئی درخواست نہیں تھی بلکہ خود بادشاہ کی پیشکش قبول کرنے اور اس کو بروئے کار لانے کے لیے ان کو جو شکل مناسب معلوم ہوئی وہ انہوں نے اس کے سامنے رکھ دی اور ساتھ ہی یہ بات بھی ظاہر فرمادی کہ اس ذمہ داری کو سنبھالنے کے لیے جس دیانت اور علم کی ضرورت ہے وہ میں اپنے اندر پاتا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اس وجہ سے توقع رکھتا ہوں کہ اس کام کو بحسن و خوبی انجام دے سکوں گا۔ حضرت یوسف کی یہ تجویز عین بادشاہ کی آرزو کے مطابق تھی اس وجہ سے وہ مطمئن ہوگیا اور اس طرح مصر کی سلطنت گویا حضرت یوسف ؑ کے انگوٹھے کے نیچے آگئی۔ تورات میں ہے کہ پھر فرعون نے یوسف سے کہا کہ دیکھ میں نے تجھے ساری زمین مصر پر حکومت بخشی اور فرعون نے اپنی انگشتری اپنے ہاتھ سے نکال کر یوسف کے ہاتھ میں پہنا دی۔ تب اس کے آگے منادی کی گئی، سب ادب سے رہو اور اس نے اسے مصر کی ساری مملکت پر حاکم کیا اور یوسف کو کہا، میں فرعون ہوں اور تیرے حکم کے بغیر مصر کی ساری زمین میں کوئی انسان اپنا ہاتھ یا پاؤں نہ اٹھائے گا۔ (پیدائش۔ 41۔ 44)