Ayah 12:96فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰي وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًا ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ ڌ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔
فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ میں " اَنْ " سے پہلے ایک فعل محذوف ہے۔ یعنی یہ بات واقع ہوئی کہ خوشخبری دینے والا پہنچا تو یوسف کا کرتا اس نے حضرت یعقوب کے چہرے پر ڈال دیا اور ان کی آنکھیں روشن ہوگئیں۔ انہوں نے فرمایا " کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جن کو تم نہیں جانتے۔ یہ اس بات کا حوالہ ہے جو پیچھے آیت 86 میں گزرچکی ہے۔ جو بات انہوں نے فرمائی تھی جب وہ واقعہ کی شکل میں ظہور میں آگئی تو انہوں نے اس پر اظہارِ مسرت بھی فرمایا اور بیٹوں کو یہ تعلیم بھی دی کہ وہ صرف ظاہر کے غلام بن کر زندگی نہ گزاریں بلکہ اس ظاہر کے اندر خدا کے مخفی ہاتھوں کی جو کارفرمائیاں ہیں ان پر بھی ایمان رکھیں۔ اس کے بغیر خدا پر ایمان و توکل کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔
Ayah 12:97قَالُوْا يٰٓاَبَانَا اسْـتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَآ اِنَّا كُنَّا خٰطِـــِٕـيْنَ۔
باپ سے استغفار کی درخواست : یہ سب کچھ دیکھ لینے کے بعد بیٹوں کو اپنی نادانیوں کا احساس ہوا اور انہوں نے جس طرح حضرت یوسف کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کیا، جس کا ذکر آیت 91 میں گزر چکا ہے، اسی طرح باپ کے سامنے بھی غلطی کا اعتراف کیا اور ان سے درخواست کی کہ آپ ہمارے گناہوں کی معافی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔
Ayah 12:98قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۔
حضرت یعقوب نے ان کی یہ استدعا قبول فرمائی اور ان سے وعدہ کیا کہ میں عنقریب تمہارے لیے اپنے رب سے گناہوں کی معافی کے لیے دعا کروں گا۔ " سوف " کا لفظ یہاں اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ حضرت یعقوب نے ان کے لیے خاص اہتمام کے ساتھ، خاص وقت میں، دعا کا وعدہ فرمایا۔ یہ کہہ کر ان کو ٹالنے کی کوشش نہیں کی کہ جاؤ، اللہ تمہیں معاف فرمائے۔ اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ آدمی کا دل اگر خود اپنے گناہوں پر پشیمان ہو تو اس کو صالحین سے دعا کی درخواست بھی کرنی چاہیے اور اس کے حق میں صالحین کی دعا قبول بھی ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ یوں تو بندہ ہر وقت اپنے رب سے دعا کرسکتا ہے لیکن خاص اہتمام خاص وقت اور خاص جگہ بھی اس کی قبولیت کے معاملے میں ایک موثر چیز ہے۔
ہر سخن جائے و ہر نکتہ مکانے دارد۔
Ayah 12:99فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ۔
حضرت یوسف ؑ کی خدمت میں حاضر : یہاں قرینہ کی موجودگی کے سبب سے اتنی بات محذوف ہے کہ یہ لوگ حضرت یوسف کے ارشاد کی تعمیل میں اپنے والدین اور اہل و عیال سمیت مصر پہنچے۔ مصر پہنچ کر جب حضرت یوسف کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنے والدین کو خاص اپنے پاس جگہ دی اور ان سب لوگوں کا خیر مقدم کیا۔ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ۔ ، خیر مقدم کا جملہ ہے یعنی مصر میں داخل ہوجیے، یہ داخلہ انشاء اللہ امن و اطمینان کا موج ہوگا۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف نے شہر سے باہر نکل کر ان لوگوں کا خیر مقدم کیا اور اس شان سے ان لوگوں کو شہر میں لائے کہ ایک جشن کی صورت پیدا ہوگئی۔
" ابویہ " کا لفظ یہاں علی سبیل التغلیب استعمال ہوا ہے اس لیے کہ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف کی والدہ کا انتقام ہوچکا تھا۔ ان کی پرورش سوتیلی ماں نے کی تھی جو ان کی حقیقی خالہ بھی تھیں۔
Ayah 12:100وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا ۚ وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا ۭ وَقَدْ اَحْسَنَ بِيْٓ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۔
" عرش " سے مراد یہاں تخت شاہی نہیں بلکہ وہ تخت ہے جس پر حضرت یوسف ؑ فصل مقدمات وغیرہ کے لیے فروکش ہوا کرتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے اس دور میں وزراء اور اعلی حکام تخت ہی پر بیٹھتے تھے۔ " خَرَّ یَخِرُّ " کے معنی اوپر سے نیچے کی طرف گرنے اور سجود کے معنی فرماں بردارانہ جھکنے کے ہیں۔ پیشانی زمین پر ٹیکنا اس کے لیے لازم نہیں بلکہ یہ اس کی تکمیلی صورت ہے جب اس کے ساتھ " خر " کا لفظ آئے تو اس کے معنی بےاختیارانہ جھک پڑنے کے ہوں گے۔ عام اس سے کہ یہ جھک پڑنا صرف جھک پڑنے کی حد تک ہو یا پیشانی زمین پر ٹیک دینے کی حد تک۔ جس عہد کا یہ واقعہ ہے تورات وغیرہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں بڑوں کی تعظیم کے لیے یہ طریقہ معروف رہا ہے لیکن اس کی صورت زمین پر پیشانی ٹیک دینے کی نہیں بلکہ جھک پڑنے کی تھی۔ اور اگر کوئی شخص اس سجود سے اصطلاح سجدہ ہی مراد لے جب بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ سجدہ بجائے خود شرک نہیں بلکہ شرک کے اشباہ و قوالب میں سے ہے اور یہ اشباہ و قوالب حتمی طور پر آخری اور کامل دین یعنی اسلام میں حرام ہوئے۔
حضرت یوسف ؑ نے اپنے والدین کو تعظیماً تخت پر جگہ دی۔ بقیہ لوگ حسب دستور عام لوگوں کے بیٹھنے جگہ پر بیٹھے ہوں گے۔ اس کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف نمودار ہوئے اور قاعدے کے مطابق ان کے خدم و حشم ان کی تعظیم کے لیے جھکے تو ماحول سے متاثر ہو کر یہ لوگ بھی بےاختیارانہ ان کی تعظیم کے لیے جھک پڑے۔
خواب کی تعبیر : وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا۔ یا ابت میں " ت " " ی " کی قائم مقام ہے۔ حضرت یوسف نے یہ منظر دیکھا تو انہیں اپنا وہ خواب یاد آگیا جو انہوں نے پہلے دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے والد ماجد کو مخاطب کر کے فرمایا کہ والد ماجد ! یہ ہے میرے اس خواب کی تعبیر جو میں نے پہلے دیکھا، میرے رب نے اس کو سچ کر دکھایا۔ اس کے بعد حضرت یوسف نے جیل سے رہائی اور ایک مدت کی جدائی کے بعد ماں باپ اور بھائیوں کی یکجائی پر اپنے رب کا شکر ادا کیا۔ اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ ، یعنی میرا رب جس کام کو کرنا چاہتا ہے اس کے لیے اپنے علم اور اپنی حکمت سے ایسی باریک راہیں نکال لیتا ہے کہ اس کا سان گمان بھی نہیں ہوتا۔ حضرت یوسف ؑ کی یہ پوری سرگزشت اس حقیقت کی ایک عظیم شہادت ہے۔
Ayah 12:101رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِيْ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۣ اَنْتَ وَلِيّٖ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ۔
حضرت یوسف ؑ کا دل یہ منظر دیکھ کر خدا کی حمدوسپاس میں ڈوب جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں کہ حکومت بھی تو ہی نے مجھے عطا فرمائی اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی تو ہی نے بخشا، اے آسمانوں اور زمین کے خالق دنیا اور آخرت دونوں میں میرا کارساز اور مددگار تو ہی ہے۔ مجھے اسلام پر وفات دینا اور مجھے صالحین کے زمرے میں داخل کرنا۔
Ayah 12:102آگے کا مضمون۔ آیات 102 تا 111: خاتمہ سورة : اب یہ خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں نبی ﷺ کو خطاب کر کے آپ کو تسلی دی گئی ہے اور ساتھ ہی قریش کو دھمکی ہے کہ اگر انہوں نے قوموں کی تاریخ سے سبق نہ لیا تو اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے تیار رہیں جس سے پچھلی قومیں دوچار ہوچکی ہیں۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْٓا اَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُوْنَ۔
" ذلک " کا اشارہ اسی سرگزشت کی طرف ہے جو سنائی گئی۔ فرمایا کہ یہ غیب کی خبروں میں سے ہے یعنی یہ تمہارے علم و اطلاع سے بالکل باہر کی چیز ہے، نہ تمہیں اس کا کوئی علم تھا اور نہ اس کے معلوم کرنے کا تمہارے پاس کوئی ذریعہ ہی تھا۔ یہ صرف اللہ کا فضل ہے کہ اس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے تمہیں آگاہ فرمایا، اور نہ تم کہیں اس وقت یوسف کے بھائیوں پاس موجود تو تھے نہیں جب وہ یوسف کے خلاف سازش کر رہے تھے، کسی کی رائے کچھ تھی کسی کی کچھ، بالآخر اس رائے پر سب کا اتفاق ہوگیا کہ ان کو کسی کنوئیں میں ڈال دیا جائے۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ تورات میں حضرت یوسف کا قصہ اگر ہے بھی تو آنحضرت ﷺ کے لیے اس سے واقف ہونے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اس لیے کہ آپ امی تھے۔ پھر تورات کے بیان اور قرآن کے بیان میں قدم قدم پر اختلاف ہے اور ان تمام اختلافات پر جو شخص بھی غور کرے گا وہ یہ تسلیم کیے بغیر نہی رہ سکتا کہ قرآن کا بیان بالکل عقل و فطرت کے مطابق ہے اس لیے کہ یہ براہ راست وحی الٰہی پر مبنی ہے۔
Ayah 12:103وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ۔ منکرین کے اعراض کی اصل علت : یعنی طبیعتوں میں اگر حق کو قبول کرنے کی رغبت اور صلاحیت ہو تو قرآن کے وحی الٰہی ثابت کردینے کے لی یہی ایک چیز کافی ہے۔ یہود و نصاری کے لیے بھی اس میں حجت ہے اور قریش کے لیے بھی، لیکن ان لوگوں کے دلوں میں حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہ گئی ہے۔ اس وجہ سے خواہ ت ان کے ایمان و ہدایت کی طمع میں کچھ ہی کر ڈالو ان کی اکثریت ایمان سے محروم ہی رہے گی۔ ان کے ایمان نہ لانے کا سبب یہ نہیں ہے کہ ان کے سامنے قرآن کا کتاب الٰہی ہونا واضح نہیں ہے بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ ان کے اندر حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی مردہ ہوچکی ہے۔
Ayah 12:104وَمَا تَسْــــَٔـلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ ۭ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی : یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو ان کے پیچھے آخر اپنے آپ کو اتنا پریشان کیوں رکھو۔ تم یہ نعمت مفت بانٹ رہے تھے، اس کا کوئی معاوضہ تو ان سے طلب نہیں کر رہے تھے کہ انہوں نے اس کو قبول نہ کیا تو اس سے تمہارے معاوضے میں کوئی کمی ہوجائے گی۔ محرومی ہے تو ان کی نہ کہ تمہاری۔ یہ قرآن تو بس خلق کے لیے ایک یاد دہانی ہے، جس اس کو بقول کرے گا اس کا فائدہ اسی کے لیے ہے، جو نہ قبول کرے گا اس کا خمیازہ وہ خود بھگتے گا، تمہاری ذمہ داری بس لوگوں تک اس کو پہنچا دینے کی ہے۔ اس کے بعد تم سبکدوش ہو۔
Ayah 12:105وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ۔ نشانیوں کے مطالبہ کا جواب : یعنی ان کے ایمان نہ لانے میں اس چیز کو بھی کوئی دخل نہیں ہے کہ ان کے طلب کے مطابق ان کو کوئی نشانی نہیں دکھائی جای۔ اصل یہ ہے کہ نشانیوں کو دیکھنے اور ان سے عبرت حاصل کرنے والی آنکھیں ہی ان کے پاس موجود نہیں ہیں، ورنہ آسمان و زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ گزرتے ہیں، اگر ان کے پاس آنکھیں ہوتیں تو یہ ان کو دیکھتے اور ان سے عبرت حاصل کرتے۔ مطلب یہ ہے کہ اس پہلو سے بھی نہ قصور تمہارا ہے اور نہ قرآن کا بلکہ اصل بیماری خود ان کے اپنے اندر ہے کہ وہ آنکھیں کھول کر کسی چیز کو دیکھنے ہی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ قرآن جب ان کو یہ خبر دیتا تھا کہ اگر وہ رسول پر ایمان نہ لائے تو ان پر اللہ کا عذاب آجائے گا تو اس کا جواب وہ یہ دیتے تھے کہ آخر اس عذاب کی کوئی نشانی ہمیں دکھا کیوں نہیں دی جاتی۔ یہ اسی کا جواب ہے کہ اگر وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو ان کے گردوپیش میں اس کی بہت سی نشانیاں ہیں لیکن یہ تو اسی کو نشانی سمجھتے ہیں جو ان پر آدھمکے۔
Ayah 12:106وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ۔ ایمان نہ لانے کی ایک اور وجہ : یہ ان کے قرآن پر ایمان نہ لانے کی ایک اور بڑی وجہ واضح کی گئی ہے کہ ان میں جو اللہ کو مانتے بھی ہیں وہ اللہ کے ساتھ بہت سے شکاء اور شفعاء کو بھی مانتے ہیں اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ اگر اللہ ان کی کسی بات پر گرفت کرنا چاہے گا بھی تو یہ شرکاء اور شفعاء ان کو خدا سے بچا لیں گے۔ اس ضلالت کی موجودگی میں قرآن کے ڈراوے ان پر کیا اثر کرسکتے ہیں۔
Ayah 12:107اَفَاَمِنُوْٓا اَنْ تَاْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۔
یہ سوال انذار و تنبیہ کے لیے ہے کہ کیا وہ اپنے شرکاء اور شفعاء پر اعتماد کر کے اس بات سے نچنت ہو بیٹھے ہیں کہ ان پر عذاب الٰہی کی کوئی ایسی آفت آئے جو ان سب کو اپنے لپیٹ میں لے لے یا قیامت ہی اچانک آدھمکے۔ اور ان کو اس کی کوئی خبر بھی نہ ہو ؟ مطلب یہ کہ اگر یہ چیز ہے تو بس ان کی شامت ہی آئی ہوئی ہے۔
Ayah 12:108قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ 7 عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔
شرک سے اعلان براءت : ان کی تمام بیماریوں کی جڑ یہ شرک ہی تھا اس وجہ سے جب اس کا ذکر آگیا تو پیغمبر کی زبان سے پوری وضاحت کے ساتھ اس سے براءت کا اعلان کرادیا گیا۔ فرمایا ان سے کہہ دو کہ میری راہ یہ ہے۔ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت کے ساتھ، میں بھی اور وہ لوگ بھی جنہوں نے میری پیروی کی ہے یعنی جس طرح میں اللہ ہی کی طرف بلاتا ہوں اسی طرح میرے پیرو بھی اللہ ہی کی طرف بلاتے ہیں اور ہم سب اس بات میں حجت و بصیرت اور دلیل وبرہان کی پوری روشنی اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ مطلب یہ کہ اس معاملے میں ہم سے کوئی یہ توقع نہ رکھے کہ ہم کسی قسم کی نرمی برتنے کے لیے تیار ہوں گے۔ یا کوئی تذبذب گوارا کریں گے۔ اللہ شرک کی تمام آلائشوں سے پاک اور منزہ ہے۔ اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ یعنی ان سے اپنی براءت کا اعلان کرتا ہوں۔
Ayah 12:109وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى ۭ اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّـلَّذِيْنَ اتَّقَوْا ۭاَفَلَا تَعْقِلُوْن۔
آدمیوں میں سے رسول بنانے پر اعتراض : یہ ان کے ایک اور اعتراض کو، جو وہ ایمان نہ لانے کے بہانے کے طور پر پیش کیا کرتے تھے، رفع فرمایا ان کا اعتراض یہ تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم اپنے ہی اندر کے ایک آدمی کو، جو ہمارے ہی اندر پیدا ہوا، ہمارے ہی اندر رہا سہا اور جوان ہوا، اللہ کا رسول مان لیں۔ اگر اللہ کو کوئی رسول ہی بھیجنا ہوتا تو کسی برتر مخلوق یعنی کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتا۔ رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے اس کا جواب دیا کہ تم سے پہلے بھی جو رسول بھیجے بلا استثنا وہ سب آدمیوں ہی میں سے بھیجے، فرشتوں یا جنات میں سے نہیں بھیجے۔ اگر ان کو کوئی امتیاز حاصل تھا تو یہ نہیں تھا کہ وہ کوئی برتر یا انوکھی یا اجنبی مخلوق تھے بلکہ یہ تھا کہ وہ خدا کی وحی سے مشرف تھے۔ اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ۔۔ الایۃ۔ یعنی اگر اپنے ہی ملک میں وہ آنکھیں کھول کر چلے پھرے ہوتے تو انہیں مذکورہ بالا حقیقت کا بھی ثبوت مل جاتا اور عاد، ثمود، مدین وغیرہ کے آثار سے یہ بات بھی ان پر واضح ہوجاتی کہ جن لوگوں نے ان رسولوں کی تکذیب کی ان کا انجام کیا ہوا اور جو لوگ ان پر ایمان لائے ان کو اس کی کیا صلہ ملا اور اہل ایمان کے لیے صلہ کی اصلی جگہ تو آخرت ہے جو اس سے کہیں بڑھ کر ہے تو کیا تم لوگ سوچتے نہیں۔
Ayah 12:110ﱑ اِذَا اسْتَيْــــَٔـسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَاۗءَهُمْ نَصْرُنَا ۙ فَنُجِّيَ مَنْ نَّشَاۗءُ ۭ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُـنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِممین۔ عذاب الٰہی کے بارے میں سنت الٰہی : اب یہ کفار کی جلد بازی کے جواب میں کہ اگر پیغمبر ہم کو عذاب سے ڈراتے ہیں تو یہ عذاب آ کیوں نہیں جاتا، اللہ تعالیٰ نے اس باب میں اپنی سنت کی وضاحت فرما دی کہ اللہ عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے رسولوں کے ذریعہ سے لوگوں پر اپنی حجت پوری کرتا ہے۔ عذاب اس وقت آتا ہے جب اللہ کے رسول اپنی قوموں کے ایمان سے مایوس ہوجاتے ہیں اور ان کی قوم کے لوگ عذاب کی تاخیر کے سبب سے یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ ان پر جھوٹ موٹ عذاب کی دھونس جمائی گئی تھی۔ فرمایا کہ اس وقت ہمارے رسولوں کے لیے ہماری مدد ظہور میں آتی ہے تو ہم جس کو چاہتے ہیں اس کو نجات ملتی ہے اور مجرموں سے ہمارے عذاب کا کوئی طاقت ٹال نہیں سکتی۔
Ayah 12:111لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ ۭ مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيْلَ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔
قرآن کی اصلی حقیقت : یعنی پچھلے انبیاء اور ان کی قوموں کی سرگزشتوں میں اہل عقل کے لیے بڑا سامان عبرت موجود ہے بشرطیکہ یہ عقل سے کام لیں اور ان سرگزشتوں کو صرف دوسروں کی حکایت سمجھ کر نہ سنیں بلکہ ان سے خود اپنی زندگی کو درست کرنے کے لیے سبق حاصل کریں، یہ قرآن کوئی من گھڑت کہانی نہیں ہے بلکہ جو پیشینگوئیاں اور جو حقائق آسمانی کتابوں میں پہلے سے موجود ہیں یہ ان کی تصدیق، ہر متعلق چیز کی تفصیل، آغاز کے اعتبار سے رہنمائی اور انجام کے اعتبار سے رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائی۔
یہ آخری سطریں ہیں جو اس بےمایہ کو اس سورة کی تفسیر میں لکھنے کی توفیق حاصل ہوئی۔
واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔