13. Surah Ar-Ra'd
الرعدThe Thunder · 43 ayahsتدبرِ قرآن
تعارف
تعارف
(الف) ۔ سورة کا عمود : یہ سورة سورة یوسف کے قوام اور اس کے جوڑے کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ قرآن کے نزول نے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش برپا کردی تھی، انجام کار کی کامیابی اس میں جس گروہ کو حاصل ہونے والی تھی اس کو اس میں نمایاں فرمایا ہے۔ یہی حقیقت سورة یوسف میں بھی واضح کی گئی ہے، البتہ دونوں سورتوں میں طریق استدلال الگ الگ ہے۔ سورة یوسف میں حضرت یوسف کی زندگی کے حالات و واقعات سے اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے اور اس سورة میں عقل و فطرت کے دلائل سے آیات 17 ۔ 22 سے اس سورة کے عمود پر روشنی پڑتی ہے۔ (ب) ۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ : یہ سورة اپنے مطالب کے اعتبار سے تمام تر مکی ہے۔ بعض مصاحف میں اس پر مدنی لکھا گیا ہے، جس کی وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ ہمارے نزدیک پوری سورة کا مدنی ہونا تو الگ اس کی کوئی ایک آیت بھی مدنی نہیں ہے۔ اب ہم اختصار کے ساتھ سورة کے مطالبہ کا تجزیہ بھی کیے دیتے ہیں تاکہ پوری سورة پر ایک اجمالی نظر پڑجائے۔ (1) ۔ تمہید، جس میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں، ہوائی باتیں نہیں ہیں، ان کی یہ بات ایک حقیقت ہے اور جن باتوں کی یہ خبر دے رہی ہیں وہ سب پوری ہو کر رہیں گی لیکن اکثر لوگ اپنی ضد پر اڑے ہی رہیں گے، اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ (2 ۔ 4) ۔ کائنات کی ان نشانیوں کی طرف اشارہ جن سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہ پورا کارخانہ ایک ہی مدبر کی تدبیر و حکمت سے چل رہا ہے۔ اس میں ربوبیت کا وسیع نظام ہے جو اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ اس کو بنانے والے نے کوئی کھیل تماشا نہیں بنایا ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک عظیم قصد ہے جو ظہور میں آکے رہے گا۔ اس کے ہر گوشہ میں کثرت کے اندر وحدت اور اختلاف کے اندر ساز گاری کی ایسی نشانیاں موجود ہیں جو صاف شہادت دے رہی ہیں کہ اس پورے کارخانہ پر ایک ہی خالق ومالک کا ارادہ اور تصرف کار فرما ہے۔ (5 ۔ 6) ۔ منکرین قیامت کے اس تعجب پر تعجب کہ وہ مرجانے اور سر گل جانے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کو نہایت عجیب بات سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ تعجب درحقیقت خدا کے انکار کے ہم معنی ہے۔ ان لوگوں کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں۔ نہ یہ آسمان کی نشانیاں دیکھنے کے لیے اپنی آنکھیں اٹھا سکتے ہیں اور نہ یہ زمین کی نشانیاں دیکھنے کے لیے ان کو جھکا سکتے ہیں۔ یہ توبہ سے پہلے عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ تاریخ کے اندر ان کے لیے کافی سبق موجود ہے۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی سرکشی کے باوجود مہلت دیتا ہے لیکن وہ سخت پاداش والا بھی ہے، جب وہ پکڑے گا تو کوئی اس کی پکڑ سے نہ بچ سکے گا۔ (7 ۔ 11) ۔ کفار کی طرف سے کسی نشانی عذاب کا مطالبہ اور اس کا جواب۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تسلی کہ تم پر ذمہ داری صف لوگوں کو عذاب سے ہوشیار کردینے کی ہے، عذاب کا لانا یا اس کا وقت مقرر کرنا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کی طرف انذار اور بشارت کے لیے اپنا ایک رسول بھیجتا ہے۔ اگر قوم اس کی تکذیب کردیتی ہے تو وہ لازماً تباہ کردی جاتی ہے۔ رہا یہ سوال کہ عزاب کب اور کس شکل میں آئے گا تو اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ ایک حاملہ یہ تو جانتی ہے کہ اس کے پیٹ میں بچہ ہے اور اس کو جنے گی لیکن اس بات کا علم صرف اللہ ہی کو ہے وہ کب جنے گی اور کیا جنے گی۔ لوگوں کو مخاطب کرکے یہ دھمکی کہ تم میں سے ایک ایک کی ہر بات، خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ اور ہر شخص، خواہ وہ شب کے پردوں میں چھپا ہوا ہو یا روز روشن میں مصروف عمل ہو، اللہ کے علم میں ہے۔ اللہ کے مقرر کیے ہوئے فرشتے اس کی نگرانی کررہے ہیں، وہ ان کو جب چاہے گا اور جہاں سے چاہے گا پکڑ لے گا۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنی نظر عنایت سے محروم نہیں کرتا جب تک وہ قوم خود اپنی روش بگاڑ نہ لے۔ ہاں جب قوم اپنی روش بگاڑ لیتی ہے تو اللہ کی طرف سے اس پر وہ عذاب آتا ہے جس کو کوئی بھی دفع نہیں کرسکتا۔ (12 ۔ 13) ۔ عذاب کی بعض نشانیوں کی طرف اشارہ جو آئے دن لوگوں کے مشاہدے میں آتی رہتی ہیں۔ مثلاً بجلی اور کڑک دمک کی نشانی۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے ایک کڑک سے سب کو فنا کردے۔ اس کی طاقت بےپناہ ہے۔ (14 ۔ 16 ۔ خدا کے سوا کسی دوسرے کو پکارنا سراب کو پانی سمجھ کر اس کے پیچھے بھاگنا ہے۔ یہ خیالی شرکاء و شفعاء کہیں کام آنے والے نہیں ہیں۔ ان کو پکارنا محض صدا بصحرا ہے۔ اس کائنات میں ہر چیز اپنے وجود سے خدا کی توحید کی شہادت دے رہی ہے۔ جن کی گردنیں خدا سے اکڑی ہوئی رہتی ہیں ان کے جسموں کا بھی سایہ خدا ہی کے آگے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ ان کو پکارنے سے کچھ حاصل نہیں جو خود اپنے لیے کسی نفع و ضرر پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ شرک خدا کے عدل و حکمت کی نفی ہے۔ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور ایک یکہ و تنہا سب کو اپنے کنٹرول میں رکھنے والا ہے۔ (17) ۔ اس کائنات کی بعض نشانیوں کی طرف اشارہ جن سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس کا خالق و صانع ہر گوشہ میں نافع کو باقی رکھتا اور غیر نافع کو چھانٹتا رہتا ہے۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ وہ حق و باطل کی اس کشمکش میں بھی جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت اور قرآن کے نزول سے برپا ہوئی ہے باطل کو مٹا دے گا اور حق کا بول بالا کرے گا۔ (18 ۔ 25) ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت قبول کرکے اللہ کے کے راستہ پر چل کھڑے ہونے والوں کے لیے انجام کار کی کامیابی کی بشارت اور اس دعوت کی مخالفت و مزاحمت کرنے والوں پر اللہ کی لعنت۔ (26) ۔ اس شبہ کا جواب کہ اگر اللہ کی تمام عنایتوں کے حق دار صرف اہل ایمان ہی ہیں تو وہ لوگ کیوں رزق و فضل کے مالک بنے بیٹھے ہیں جو رات دن اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت مزاحمت میں سرگرم ہیں۔ (27 ۔ 32) ۔ کفار کی طرف سے کسی معجزہ کا مطالبہ اور اس کا جواب۔ دلوں کو مطئن کرنے والی چیز اللہ اور اس کی صفات کی یاد داشت اور اس میں غور و فکر ہے نہ کہ کوئی معجزہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ تمہیں وہی کچھ پیش آ رہا ہے جو تم سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو پیش آچکا ہے تو تم خدا کی وحی کی ہوئی کتاب ان کو سنا دو اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ مسلمانوں کو یہ تسلی کہ یہ نہ خیال کرو کہ اگر ان کو کوئی معجزہ دکھا دیا گیا تو یہ مان لیں گے اگر کوئی ایسا قرآن بھی ان کے لیے اتار دیا جائے جس سے پہاڑ چلنے لگیں، زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے یا مردے بولنے لگ جائیں جب یہ اپنی ہٹ سے باز آنے والے نہیں ہیں۔ اہل ایمان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ نے ایمان کے معاملے میں جبر کو پسند نہیں فرمایا ہے اگر وہ جبر کو پسند کرتا تو سب کو ہدایت کے راستہ پر چلا دیتا۔ عذاب کی نشانیاں ان پر یا ان کے قرب و جوار میں ظاہر ہوتی رہیں گی یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ کن عذاب آجائے۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ جس طرح یہ لوگ تمہارا مذاق اڑا رہے ہیں اسی طرح تم سے پہلے آنے والے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا، بالآخر خدا کا عزاب نمودار ہوا اور ان مذاق اڑانے والوں کا فیصلہ کردیا گیا۔ (33 ۔ 35) ۔ شرک اور شرکاء کی نفی شرکاء و شفعاء کا کوئی وجود نہیں۔ یہ محض من گھڑت باتیں ہیں۔ اس فریب نفس میں مبتلا ہو کر جنہوں نے اللہ کے راستہ سے منہ موڑا وہ اس دنیا میں بھی خدا کے عذاب سے دوچار ہوں گے اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں سخت ہوگا۔ کوئی شریک و شفیع وہاں ان کو بچانے کے لیے نہیں اٹھے گا۔ جنت کی ابدی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جو خدا سے ڈرنے والے ہیں۔ (36 ۔ 37) ۔ اہل کتاب کے دو گروہوں کا حوالہ جن میں سے ایک حق پر قائم تھا اس وجہ سے اس نے قرآن کا پوری خوش دلی سے خیر مقدم کیا اور دوسرا اپنی ایجاد کردہ بدعات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس کا مخالف بن گیا۔ ان کے سامنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اعلان حق اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ طرف سے یہ تنبیہ کہ حق کے واضح ہوچکنے کے بعد اگر تم نے ان کی بدعات کی پیروی کی تو تمہیں خدا کی پکڑ سے کوئی نہ باسکے گا۔ (38 ۔ 43) ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخالفین کے اعتراضات و مطالبات کے مقابل میں تسلی کہ تم سے پہلے جو رسول آئے وہ بھی کوئی فرشتے یا آسمانی مخلوق نہیں تھے بلکہ تمہاری ہی طرح بشر اور بیویاں رکھنے والے لوگ تھے۔ انہوں نے جو معجزے بھی دکھائے وہ اللہ کے حکم سے دکھائے، اپنے اختیار سے نہیں دکھائے۔ تم ان لوگوں کو جن باتوں سے ڈرا رہے ہو، ہوسکتا ہے کہ ہم تمہاری زندگی ہی میں ان میں سے بعض چیزوں کو دیکھا دیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم تمہیں وفات دیں اور اس کے بعد ان سے مواخذہ کریں یہ لوگ اگر آنکھیں کھول کر دیکھیں تو انہیں یہ چیز نظر آسکتی ہے کہ ہم ان کے اطراف سے بالتدریج ان کی طرف بڑھ رہے ہیں اور عنقریب ان کو اپنے گھیرے میں لیا چاہتے ہیں۔ اس وقت انہیں پتہ چل جائے گا کہ انجام کار کی کامیابی کس کا حصہ ہے۔ اگر یہ لوگ تمہیں رسول نہیں مانتے تو تم ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے اللہ اور اللہ کے وہ بندے کافی ہیں جن کے پاس اللہ کی کتاب کا علم ہے۔
الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader
یہ الف، لام، میم، را ہے۔ یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں اور جو چیز تمہاری طرف تمہارے خداوند کی طرف سے اتاری گئی ہے حق ہے لیکن اکثر لوگ نہیں مان رہے ہیں
اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader
اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں۔ پھر وہ اپنے عرش پر متمکن ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ ان میں سے ہر ایک ایک وقت معین کے لیے گردش کرتا ہے۔ وہی کائنات کا انتطام فرماتا ہے اور اپنی نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو
وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader
اور وہی ہے جس نے زمین کو بچھایا اور اس میں پہاڑ اور دریا بنائے اور ہر قسم کے ھلوں کی دو دو قسمیں اس میں پیدا کیں۔ وہ رات کو دن پر اڑھا دیتا ہے۔ بیشک ان چیزوں کے اندر ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور کریں
وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader
اور زمین میں پاس پاس کے قطعے ہیں، انگوروں کے باغ ہیں، کھیتی ہے اور کھجور ہیں، جڑواں بھی ہیں اور اکہرے بھی۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں لیکن ہم پیداوار میں ایک کو دوسرے پر ترجیح دے دیتے ہیں۔ بیشک اس کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں
وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader
اور اگر تم تعجب کرو تو تعجب کے قابل ان کی یہ بات ہے کہ، کیا جب ہ مٹی ہوجائیں گے تو ہم از سرِ نو وجود میں آئیں گے ! یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا، یہی لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پرے ہوئے ہیں اور یہی لوگ اہل دوزخ ہیں، یہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے
وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader
اور یہ لوگ خیر سے پہلے شر کے لیے تم سے جلدی مچائے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان سے پہلے عقوبت کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ تمہارا رب لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود ان سے درگزر کرنے والا بھی ہے اور تیرا رب سخت سزا دینے والا بھی ہے
وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader
اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی ؟ تم تو بس ایک آگاہ کردینے والے ہو اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہے
اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader
اللہ ہی جانتا ہے ہر مادہ کے حمل کو اور جو کچھ رحموں میں گھٹتا اور بڑھتا ہے اس کو بھی اور ہر چیز اس کے ہاں ایک اندازہ کے مطابق ہے
عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader
وہ غائب و حاضر سب کا جاننے والا، عظیم اور عالی شان ہے
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader
اس کے علم میں یکساں ہیں تم میں سے وہ جو بات کو چپکے سے کہیں اور وہ جو بلند آواز سے کہیں اور جو شب کی تاریکی میں چھپے ہوئے ہوں اور جو دن کی روشنی میں نقل و حرکت کر رہے ہوں
لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader
ان پر ان کے آگے اور پیچھے سے امر الٰہی کے موکل لگے رہتے ہیں جو باری باری سے ان کی نگرانی کرتے ہیں۔ اللہ کسی قوم کے ساتھ اپنا معاملہ اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کرلے اور جب اللہ کسی قوم پر کوئی آفت لانے کا ارادہ کرلیتا ہے تو وہ کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتی اور ان کا اس کے مقابل میں کوئی بھی مددگار نہیں بن سکتا
هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader
وہی دکھاتا ہے تمہیں بجلی جو خوف بھی پیدا کرتی ہے اور امید بھی اور ابھارتا ہے بوجھل بادلوں کو
وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader
اور بجلی کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے ڈر سے اس کی تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے ڈر سے اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ بھیجتا ہے بجلی کے کڑکے اور ان کو نازل کردیتا ہے جن پر چاہتا ہے اور وہ خدا کے باب میں جھگڑتے ہی ہوتے ہیں اور وہ بڑی ہی زبردست قوت والا ہے
لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader
حقیقی پکارنا تو صرف اس کو پکارنا ہے، رہے وہ جن کو یہ اس کے سوا پکارتے ہیں تو وہ ان کی کوئی بھی داد رسی نہیں کرسکتے۔ ان کو پکارنا ایسا ہی ہے کہ کوئی اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف بڑھائے کہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے در آنحالیکہ وہ کسی طرح اس کے منہ تک پہنچنے والا نہ ہو۔ ان کافروں کی فریاد محض صدا صحرا ہوگی
وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader
اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب خدا ہی کو سجدہ کرتے ہیں، خواہ طوعاً خواہ کرہاً۔ اور ان کے سائے بھی صبح اور شام
قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader
ان سے پوچھو آسمانوں اور زمین کا مالک کون ہے ؟ کہہ دو ، اللہ ! ان سے پوچھو تو کیا اس کے بعد تم نے اس کے سوا ایسے کارساز بنا رکھے ہیں جو خود اپنی ذات کے لیے بھی نہ کسی نفع پر کوئی اختیار رکھتے اور نہ کسی ضرر پر۔ ان سے پوچھو، کیا اندھے اور بینا دونوں یکساں ہوجائیں گے ! یا کیا روشنی اور تاریکی دونوں برابر ہوجائے گی ! کیا انہوں نے خدا کے ایسے شریک ٹھہرائے ہیں جنہوں نے اسی کی طرح خلق کیا ہے جس کے سبب سے ان کو خلق میں اشتباہ لاحق ہوگیا ہے ! بتا دو کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ واحد اور سب پر حاوی ہے
اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader
اس نے آسمان سے پانی برسایا تو وادیاں اپنے اپنے ظرف ظرف کے مطابق بہہ نکلیں۔ پھر سیلاب نے ابھرتے جھاگ کو اٹھا لیا اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں کے اندر سے بھی ابھرتا ہے جن کو یہ زبور یا اس قسم کی کوئی اور چیز بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کو ٹکراتا ہے تو جھاگ تو بےمصرف ہو کر اڑ جاتا ہے لیکن جو چیز لوگوں کو نفع پہنچانے والی ہوتی ہے وہ زمین میں ٹک جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تمثیلیں بیان کرتا ہے
لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader
جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت کو لبیک کہا ان کے لیے انجام کار کی فیروز مندی ہے اور جن لوگوں نے اس کی دعوت قبول نہیں کی۔ اگر ان کو وہ سب کچھ حاصل ہوجائے جو زمین میں ہے اور اسی کے برابر اور بھی تو وہ فدیہ میں دے ڈالیں۔ یہی لوگ ہیں جن کا حساب برا اور ان کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے
اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader
تو کیا جو جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے رب کی جانب سے اتار گیا ہے وہ حق ہے وہ اس کے مانند ہوجائے گا جو اندھا ہے۔ یاددہانی تو اہل عقل ہی حاصل کرتے ہیں
الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader
جو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اپنے پیمان کو توڑتے نہیں
وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader
اور جو اس چیز کو جوڑتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے اور وہ اپنے رب سے ڈرتے اور سخت حساب کا اندیشہ رکھتے ہیں
وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader
اور جو اپنے رب کی رضا جوئی میں ثابت قدم رہے اور جنہوں نے نماز کا اہتمام رکھا اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا اس میں سے سراً ! اور علانیۃً خرچ کیا اور جو بدی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں انجام کار کی کامیابی انہی کے لیے ہے
جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader
ابد کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بھی جو اس کے اہل بنیں گے ان کے آباء و اجداد، ان کی ازواج اور ان کی اولاد میں سے۔ اور فرشتے ہر دروازے ان کے پاس جائیں گے
سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader
اور کہیں گے آپ لوگوں پر سلامتی ہو بوجہ اس کے کہ آپ لوگ ثابت قدم رہے۔ پس کیا ہی خوب ہے انجام کار کی کامیابی
وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader
اور جو لوگ اللہ کے عہد کو اس کے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور اس چیز کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں وہی لوگ ہیں جن پر لعنت ہے اور ان کے لیے برا انجام آخرت ہے
اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader
اللہ رزق کو کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور یہ دنیا کی زندگی پر مگن ہیں اور یہ دنیا کی زندگی آخرت کی زندگی کے مقابل میں محض ایک متاع حقیر ہے
وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader
اور جنہوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی ؟ کہہ دو کہ اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اپنی طرف رہنمائی ان لوگوں کی فرماتا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader
جو ایمان لاتے ہیں اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، سن لو کہ اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو طمانیت حاصل ہوتی ہے
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader
جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے عمل کیے ان کے لیے خوش خبری ہے اور اچھا ٹھکانا ہے
كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader
اسی طرح ہم نے تم کو بھیجا ہے ایک ایسی امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ تم انہیں وہ چیز سنا دو جو ہم نے تم پر وحی کی ہے۔ ہرچند وہ خدائے رحمان کا انکار کر رہے ہیں۔ کہہ دو کہ وہی میرا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے