13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

(الف) ۔ سورة کا عمود : یہ سورة سورة یوسف کے قوام اور اس کے جوڑے کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ قرآن کے نزول نے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش برپا کردی تھی، انجام کار کی کامیابی اس میں جس گروہ کو حاصل ہونے والی تھی اس کو اس میں نمایاں فرمایا ہے۔ یہی حقیقت سورة یوسف میں بھی واضح کی گئی ہے، البتہ دونوں سورتوں میں طریق استدلال الگ الگ ہے۔ سورة یوسف میں حضرت یوسف کی زندگی کے حالات و واقعات سے اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے اور اس سورة میں عقل و فطرت کے دلائل سے آیات 17 ۔ 22 سے اس سورة کے عمود پر روشنی پڑتی ہے۔ (ب) ۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ : یہ سورة اپنے مطالب کے اعتبار سے تمام تر مکی ہے۔ بعض مصاحف میں اس پر مدنی لکھا گیا ہے، جس کی وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ ہمارے نزدیک پوری سورة کا مدنی ہونا تو الگ اس کی کوئی ایک آیت بھی مدنی نہیں ہے۔ اب ہم اختصار کے ساتھ سورة کے مطالبہ کا تجزیہ بھی کیے دیتے ہیں تاکہ پوری سورة پر ایک اجمالی نظر پڑجائے۔ (1) ۔ تمہید، جس میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں، ہوائی باتیں نہیں ہیں، ان کی یہ بات ایک حقیقت ہے اور جن باتوں کی یہ خبر دے رہی ہیں وہ سب پوری ہو کر رہیں گی لیکن اکثر لوگ اپنی ضد پر اڑے ہی رہیں گے، اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ (2 ۔ 4) ۔ کائنات کی ان نشانیوں کی طرف اشارہ جن سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہ پورا کارخانہ ایک ہی مدبر کی تدبیر و حکمت سے چل رہا ہے۔ اس میں ربوبیت کا وسیع نظام ہے جو اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ اس کو بنانے والے نے کوئی کھیل تماشا نہیں بنایا ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک عظیم قصد ہے جو ظہور میں آکے رہے گا۔ اس کے ہر گوشہ میں کثرت کے اندر وحدت اور اختلاف کے اندر ساز گاری کی ایسی نشانیاں موجود ہیں جو صاف شہادت دے رہی ہیں کہ اس پورے کارخانہ پر ایک ہی خالق ومالک کا ارادہ اور تصرف کار فرما ہے۔ (5 ۔ 6) ۔ منکرین قیامت کے اس تعجب پر تعجب کہ وہ مرجانے اور سر گل جانے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کو نہایت عجیب بات سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ تعجب درحقیقت خدا کے انکار کے ہم معنی ہے۔ ان لوگوں کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں۔ نہ یہ آسمان کی نشانیاں دیکھنے کے لیے اپنی آنکھیں اٹھا سکتے ہیں اور نہ یہ زمین کی نشانیاں دیکھنے کے لیے ان کو جھکا سکتے ہیں۔ یہ توبہ سے پہلے عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ تاریخ کے اندر ان کے لیے کافی سبق موجود ہے۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی سرکشی کے باوجود مہلت دیتا ہے لیکن وہ سخت پاداش والا بھی ہے، جب وہ پکڑے گا تو کوئی اس کی پکڑ سے نہ بچ سکے گا۔ (7 ۔ 11) ۔ کفار کی طرف سے کسی نشانی عذاب کا مطالبہ اور اس کا جواب۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تسلی کہ تم پر ذمہ داری صف لوگوں کو عذاب سے ہوشیار کردینے کی ہے، عذاب کا لانا یا اس کا وقت مقرر کرنا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کی طرف انذار اور بشارت کے لیے اپنا ایک رسول بھیجتا ہے۔ اگر قوم اس کی تکذیب کردیتی ہے تو وہ لازماً تباہ کردی جاتی ہے۔ رہا یہ سوال کہ عزاب کب اور کس شکل میں آئے گا تو اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ ایک حاملہ یہ تو جانتی ہے کہ اس کے پیٹ میں بچہ ہے اور اس کو جنے گی لیکن اس بات کا علم صرف اللہ ہی کو ہے وہ کب جنے گی اور کیا جنے گی۔ لوگوں کو مخاطب کرکے یہ دھمکی کہ تم میں سے ایک ایک کی ہر بات، خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ اور ہر شخص، خواہ وہ شب کے پردوں میں چھپا ہوا ہو یا روز روشن میں مصروف عمل ہو، اللہ کے علم میں ہے۔ اللہ کے مقرر کیے ہوئے فرشتے اس کی نگرانی کررہے ہیں، وہ ان کو جب چاہے گا اور جہاں سے چاہے گا پکڑ لے گا۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنی نظر عنایت سے محروم نہیں کرتا جب تک وہ قوم خود اپنی روش بگاڑ نہ لے۔ ہاں جب قوم اپنی روش بگاڑ لیتی ہے تو اللہ کی طرف سے اس پر وہ عذاب آتا ہے جس کو کوئی بھی دفع نہیں کرسکتا۔ (12 ۔ 13) ۔ عذاب کی بعض نشانیوں کی طرف اشارہ جو آئے دن لوگوں کے مشاہدے میں آتی رہتی ہیں۔ مثلاً بجلی اور کڑک دمک کی نشانی۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے ایک کڑک سے سب کو فنا کردے۔ اس کی طاقت بےپناہ ہے۔ (14 ۔ 16 ۔ خدا کے سوا کسی دوسرے کو پکارنا سراب کو پانی سمجھ کر اس کے پیچھے بھاگنا ہے۔ یہ خیالی شرکاء و شفعاء کہیں کام آنے والے نہیں ہیں۔ ان کو پکارنا محض صدا بصحرا ہے۔ اس کائنات میں ہر چیز اپنے وجود سے خدا کی توحید کی شہادت دے رہی ہے۔ جن کی گردنیں خدا سے اکڑی ہوئی رہتی ہیں ان کے جسموں کا بھی سایہ خدا ہی کے آگے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ ان کو پکارنے سے کچھ حاصل نہیں جو خود اپنے لیے کسی نفع و ضرر پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ شرک خدا کے عدل و حکمت کی نفی ہے۔ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور ایک یکہ و تنہا سب کو اپنے کنٹرول میں رکھنے والا ہے۔ (17) ۔ اس کائنات کی بعض نشانیوں کی طرف اشارہ جن سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس کا خالق و صانع ہر گوشہ میں نافع کو باقی رکھتا اور غیر نافع کو چھانٹتا رہتا ہے۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ وہ حق و باطل کی اس کشمکش میں بھی جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت اور قرآن کے نزول سے برپا ہوئی ہے باطل کو مٹا دے گا اور حق کا بول بالا کرے گا۔ (18 ۔ 25) ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت قبول کرکے اللہ کے کے راستہ پر چل کھڑے ہونے والوں کے لیے انجام کار کی کامیابی کی بشارت اور اس دعوت کی مخالفت و مزاحمت کرنے والوں پر اللہ کی لعنت۔ (26) ۔ اس شبہ کا جواب کہ اگر اللہ کی تمام عنایتوں کے حق دار صرف اہل ایمان ہی ہیں تو وہ لوگ کیوں رزق و فضل کے مالک بنے بیٹھے ہیں جو رات دن اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت مزاحمت میں سرگرم ہیں۔ (27 ۔ 32) ۔ کفار کی طرف سے کسی معجزہ کا مطالبہ اور اس کا جواب۔ دلوں کو مطئن کرنے والی چیز اللہ اور اس کی صفات کی یاد داشت اور اس میں غور و فکر ہے نہ کہ کوئی معجزہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ تمہیں وہی کچھ پیش آ رہا ہے جو تم سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو پیش آچکا ہے تو تم خدا کی وحی کی ہوئی کتاب ان کو سنا دو اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ مسلمانوں کو یہ تسلی کہ یہ نہ خیال کرو کہ اگر ان کو کوئی معجزہ دکھا دیا گیا تو یہ مان لیں گے اگر کوئی ایسا قرآن بھی ان کے لیے اتار دیا جائے جس سے پہاڑ چلنے لگیں، زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے یا مردے بولنے لگ جائیں جب یہ اپنی ہٹ سے باز آنے والے نہیں ہیں۔ اہل ایمان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ نے ایمان کے معاملے میں جبر کو پسند نہیں فرمایا ہے اگر وہ جبر کو پسند کرتا تو سب کو ہدایت کے راستہ پر چلا دیتا۔ عذاب کی نشانیاں ان پر یا ان کے قرب و جوار میں ظاہر ہوتی رہیں گی یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ کن عذاب آجائے۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ جس طرح یہ لوگ تمہارا مذاق اڑا رہے ہیں اسی طرح تم سے پہلے آنے والے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا، بالآخر خدا کا عزاب نمودار ہوا اور ان مذاق اڑانے والوں کا فیصلہ کردیا گیا۔ (33 ۔ 35) ۔ شرک اور شرکاء کی نفی شرکاء و شفعاء کا کوئی وجود نہیں۔ یہ محض من گھڑت باتیں ہیں۔ اس فریب نفس میں مبتلا ہو کر جنہوں نے اللہ کے راستہ سے منہ موڑا وہ اس دنیا میں بھی خدا کے عذاب سے دوچار ہوں گے اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں سخت ہوگا۔ کوئی شریک و شفیع وہاں ان کو بچانے کے لیے نہیں اٹھے گا۔ جنت کی ابدی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جو خدا سے ڈرنے والے ہیں۔ (36 ۔ 37) ۔ اہل کتاب کے دو گروہوں کا حوالہ جن میں سے ایک حق پر قائم تھا اس وجہ سے اس نے قرآن کا پوری خوش دلی سے خیر مقدم کیا اور دوسرا اپنی ایجاد کردہ بدعات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس کا مخالف بن گیا۔ ان کے سامنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اعلان حق اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ طرف سے یہ تنبیہ کہ حق کے واضح ہوچکنے کے بعد اگر تم نے ان کی بدعات کی پیروی کی تو تمہیں خدا کی پکڑ سے کوئی نہ باسکے گا۔ (38 ۔ 43) ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخالفین کے اعتراضات و مطالبات کے مقابل میں تسلی کہ تم سے پہلے جو رسول آئے وہ بھی کوئی فرشتے یا آسمانی مخلوق نہیں تھے بلکہ تمہاری ہی طرح بشر اور بیویاں رکھنے والے لوگ تھے۔ انہوں نے جو معجزے بھی دکھائے وہ اللہ کے حکم سے دکھائے، اپنے اختیار سے نہیں دکھائے۔ تم ان لوگوں کو جن باتوں سے ڈرا رہے ہو، ہوسکتا ہے کہ ہم تمہاری زندگی ہی میں ان میں سے بعض چیزوں کو دیکھا دیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم تمہیں وفات دیں اور اس کے بعد ان سے مواخذہ کریں یہ لوگ اگر آنکھیں کھول کر دیکھیں تو انہیں یہ چیز نظر آسکتی ہے کہ ہم ان کے اطراف سے بالتدریج ان کی طرف بڑھ رہے ہیں اور عنقریب ان کو اپنے گھیرے میں لیا چاہتے ہیں۔ اس وقت انہیں پتہ چل جائے گا کہ انجام کار کی کامیابی کس کا حصہ ہے۔ اگر یہ لوگ تمہیں رسول نہیں مانتے تو تم ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے اللہ اور اللہ کے وہ بندے کافی ہیں جن کے پاس اللہ کی کتاب کا علم ہے۔

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

یہ الف، لام، میم، را ہے۔ یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں اور جو چیز تمہاری طرف تمہارے خداوند کی طرف سے اتاری گئی ہے حق ہے لیکن اکثر لوگ نہیں مان رہے ہیں

الۗمّۗرٰ ۣتِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ ۭ وَالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔ حروف مقطعات پر تفصیلی بحث بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ سورتوں کے نام ہیں۔ یہاں مبتدا محذوف ہے یعنی ھذہ المرٰ ، یہ المرٰ ہے۔ اظہار احسان اور اندذار بیک وقت دونوں : تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ ، لفظ الکتٰب پر تفسیلی بحث بقرہ کی پہلی آیات کے تحت گزر چکی ہے۔ اس سے مراد وہ موعود و منتطر کتاب الٰہی ہے جس کو آخری صحیفہ ہدایت کی حیثیت سے اتارنے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے وعدہ فرمایا تھا۔ تلک کا اشارہ المرا کی طرف ہے۔ یعنی یہ سورة موعود و منتظر کتاب الٰہی کی آیات پر مشتمل ہے۔ اس فقرے میں بیک وقت اظہار احسان بھی ہے اور دھمکی بھی۔ احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہ عظیم نعمت، جس کا اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے وعدہ فرمایا تھا، اتار دی ہے۔ اب یہ لوگوں کا فرض ہے کہ اس کی صدق دل سے قدر کریں اور اس کی برکتوں سے متتمع ہوں، دھمکی کا پہلو یہ ہے کہ یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں تو جو لوگ ان کی قدر کرنے کی بجائے ان کا مذاق اڑائیں گے اور ان کی مخالفت میں اپنا زور صرف کریں گے وہ خود سوچ لیں کہ وہ اپنے لیے کس شامت کو دعوت دے رہے ہیں۔ پیغمبر ﷺ کو تسلی : َالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔ یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ کتاب جو تم پر تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے اس کی ایک ایک بات حق ہے۔ اس کا ہر دعوی ثابت، مدلل اور مبرہن ہے اور اس کی ہر چیز شدنی ہے۔ اس میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جس سے اختلاف کیا جاسکے، یہ لوگوں کی اپنی محرومی و بدقسمتی ہے کہ ان کی اکثریت اس کو قبول نہیں کر رہی ہے۔
Ayah 13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں۔ پھر وہ اپنے عرش پر متمکن ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ ان میں سے ہر ایک ایک وقت معین کے لیے گردش کرتا ہے۔ وہی کائنات کا انتطام فرماتا ہے اور اپنی نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو

اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۭ كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَاۗءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ۔ خدا کی عظیم قدرت و حکمت کی طرف ایک اشارہ : رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا۔ عمد، عمود کی بھی جمع ہے اور عماد کی بھی اور ترونہا اس کی صفت ہے۔ یعنی خدا نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر کھڑا کیا ہے جو تمہیں نظر آئیں۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس نے یہ عظیم شامیانہ جذب و کش کے ایسے ستونوں پر کھڑا کیا ہے جن کو دیکھنے سے تمہاری نگاہیں قاصر ہیں۔ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ ، یعنی وہ ان کو پیدا کرکے کہیں کسی گوشے میں نہیں جا بیٹھا ہے جیسا کہ مشرکین گمان کرتے ہیں، بلکہ وہ اپنے عرش اقتدار پر متمکن ہے اور اس پوری کائنات پر فرماں روائی کر رہا ہے۔ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۭ كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى۔ یہ دو بڑی نشانیاں، سورج اور چاند، اپنے وجود سے شہادت رہی ہیں کہ ہر چیز ہر وقت، خدا کے قبضہ قدرت میں ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی چیز اپنے معین مدار سے بال برابر ادھر ادھر ہوسکے۔ سورج اور چاند کے طلوع و غروب کے لیے جو اوقات مقرر کردیے گئے ہیں وہ ٹھیک ٹھیک اسی نظام الاوقات کی پابندی کرتے ہیں، اس میں منٹ اور سیکنڈ کا بھی کبھی کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ ۭ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَاۗءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ۔ یعنی ان نشانیوں سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ خدا ہی تام کائنات کا انتظام فرما رہا ہے اور ساتھ ہی وہ ان نشانیوں کے تمام مضمرات بھی واضح فرما رہا ہے تاکہ تم اس بات کا یقین کرو کہ جس طرح ہر چیز کے لیے ایک اجل معین ہے اسی طرح تمہارے لیے بھی ایک اجل معین ہے۔ بالآخر تمہیں ایک دن خدا کی طرف لوٹنا اور اس سے ملنا ہے۔
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے زمین کو بچھایا اور اس میں پہاڑ اور دریا بنائے اور ہر قسم کے ھلوں کی دو دو قسمیں اس میں پیدا کیں۔ وہ رات کو دن پر اڑھا دیتا ہے۔ بیشک ان چیزوں کے اندر ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور کریں

وَهُوَ الَّذِيْ مَدَّ الْاَرْضَ وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ وَاَنْهٰرًا ۭ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيْهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۔ آسمان کے بعد زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ : آسمان کی نشانیوں کے بعد یہ زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ جس طرح آسمان کی نشانیوں سے اس کے خلق و تدبیر، اس کی قدرت و حکمت اور اس کی وحدت ویکتائی کی شانیں ظاہر ہوتی ہیں اسی طرح زمین کے چپہ چپہ سے بھی اس کی ان صفات کی شہادت مل رہی ہے بشرطیکہ سوچنے والے دل اور غور کرنے والی عقلیں ہوں۔ دریا اور پہاڑ بظاہر اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک دوسرے سے کتنے مختلف ہیں لیکن خدا نے اپنی قدرت و حکمت سے ان کے اندر ایسی سازگاری پیدا کر رکھی ہے کہ پتھروں کے اندر سے پانی کے چشمے جاری کردیے ہیں کیا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ آپ سے آپ وجود میں آگئے ہیں اور ان پر الگ الگ دیوتاؤں کی خدائی ہے یا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک ہی قادر و توانا حکیم نے یہ تمام اضداد پیدا کیے اور پھر اپنی بےایاں حکمت سے ان میں حیرت انگیز سازگاری پیدا کردی کہ ان میں زوجین کا سا توافق پیدا ہوگیا ہے۔ آسمان و زمین کی نشانیوں کی شہادت : اس کائنات کے ہر گوشہ میں، ہر چیز، آسمان اور زمین، سورج اور چاند، شب اور روز کے اندر جس طرح کا تضاد اور پھر ساتھ ہی جس طرح کا توافق پایا جاتا ہے۔ وہ صاف صاف شہادت دے رہا ہے کہ یہ کائنات مختلف الاغراض دیوتاؤں کی رزم گاہ نہیں ہے بلکہ اس پر ایک ہی قادر وقیوم کا ارادہ کارفرما ہے۔ تضاد اور توافق کے قانون کی ہمہ گیری : " من کل الثرات " کے الفاط سے تضاد اور توافق کے اس قانون کی ہمہ گیری کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جس طرح شب اور روز کے اندر یہ قانون کار فرما ہے اسی طرح ایک ایک پھل اور ایک ایک دانے کے اندر کار فرما ہے، خواہ انسان کو اس کا علم ہو یا نہ ہو۔ گندم کے ایک دانے کو بھی دیکھیے تو وہ بھی دو حصوں میں تقسیم نظر آتا ہے۔ تاہم دونوں میں پوری وابستگی اور پیوستگی پائی جاتی ہے۔ کائنات کے ہر گوشہ کی یہ شہادت اس امر کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ یہ دنیا بھی تنہا نہیں ہے بلکہ اس کا بھی جوڑا ہے اور وہ ہے آخرت۔ اپنے اسی جوڑے کے ساتھ مل کر ہی یہ اپنی غایت کو پہنچتی ہے ورنہ اس کا وجود بالکل بےمقصد اور بےغایت ہو کے رہ جاتا ہے۔ نشانیاں صرف اہل حق کے لیے کار آمد ہیں : ا ِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۔ یعنی ان چیزوں کے اندر خدا کی خلق و تدبیر، اس کی قدرت و حکمت، اس کی توحید اور آخرت کی بہت سی نشانیاں ہیں لیکن ان نشانیوں تک انہی لوگوں کی عقلیں پہنچتی ہیں جو ان پر غور کرتے ہیں اور ان سے جو رہنمائی حاصل ہوتی ہے اس کو حرز جاں بناتے ہیں۔ بےفکرے اور لابالی لوگ ان چیزوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں پاس پاس کے قطعے ہیں، انگوروں کے باغ ہیں، کھیتی ہے اور کھجور ہیں، جڑواں بھی ہیں اور اکہرے بھی۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں لیکن ہم پیداوار میں ایک کو دوسرے پر ترجیح دے دیتے ہیں۔ بیشک اس کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں

وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاۗءٍ وَّاحِدٍ ۣ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۔ زمین کی نشانیوں کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ : یہ زمین کی نشانیوں کے ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلائی کہ دیکھتے ہو کہ زمین کے بالکل پاس پاس کے قطعے ہیں، بعض میں انگور کے باغ ہیں، بعض میں کھیتیاں ہیں، بعض میں کھجور ہیں، جن میں بعض کے تنے اکہرے ہیں، بعض کے دوہرے، ٹکڑے پاس پاس کے ہیں، سیراب سب ایک ہی پانی سے ہوتے ہیں، لیکن پیداوار کی مقدار میں فرق ہوجاتا ہے، کسی کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے کسی کی کم، مزے میں بھی اختلاف ہوجاتا ہے، کسی کا مزا معیار پر ہوتا ہے کسی کا معیار سے اترا ہوا، درختوں کی نشوونما میں بھی بڑا فرق ہوتا ہے، کہیں ایک ہی جڑ سے کئی کئی تنے پھوٹ نکلے ہیں، کہیں ایک ہی تنہ نکلا ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی شہادت رہی ہے کہ یہ سب کچھ آپ سے آپ ہو رہا ہے اور نیچر کا اندھا بہرہ قانون سب پر مسلط ہے یا اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ ایک ہی خدائے علیم و حکیم اس پورے نظام کائنات کو اپنی نگرانی میں چلا رہا ہے اور سارے عالم اسباب پر تنہا اسی کی حکمرانی ہے اور وہ اپنی حکمت کے تحت اس کے ذرے ذرے پر تصرف فرما رہا ہے۔
Ayah 13:5

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اور اگر تم تعجب کرو تو تعجب کے قابل ان کی یہ بات ہے کہ، کیا جب ہ مٹی ہوجائیں گے تو ہم از سرِ نو وجود میں آئیں گے ! یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا، یہی لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پرے ہوئے ہیں اور یہی لوگ اہل دوزخ ہیں، یہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے

وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ ڛ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ الْاَغْلٰلُ فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۔ تعجب کی اصلی بات : یعنی خدا کی قدرت و حکمت اور اس کے خلق و تدبیر کی ان نشانیوں کی موجودگی میں جن کا ذکر اوپر ہوا، تعجب کرنے کی بات وہ نہیں ہے جس سے تم (خطاب پیغمبر ﷺ سے ہے) لوگوں کو آگاہ کر رہے ہو کہ مرنے کے بعد اٹھنا اور خدا کے حضور حساب کتاب کے لیے حاضر ہونا ہے بلکہ تعجب کے قابل خود ان لوگوں کا یہ تعجب ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ جب ہم سڑ گل کر خاک ہوجائیں گے تو کیا از سرِ نو زندہ کیے جائیں گے۔ خدا کو ماننے کا صحیح مفہوم : اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ ، فرمایا کہ اپنے رب کے اصلی منکر درحقیقت یہ لوگ ہیں۔ خدا کو ماننے کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ کوئی شخص یہ مان لے کہ خدا ہے بلکہ اس کو اس صفات اور اس کے حقوق کے ساتھ ماننا ضروری ہے، اگر کوئی شخص خدا کا اقرار کرتا ہے لیکن اس کی بدیہی اور لازمی صفات یا ان سے عاید شدہ حقوق و لوازم کا منکر ہے تو وہ اپنے اقرار کے باوجود مومن نہیں بلکہ کافر ہے۔ خدا کی میزان میں اس کے اس اقرار کا کوئی وزن نہیں ہے۔ خدا کسی کے ماننے کا محتاج نہیں ہے بلکہ لوگ اس کے ماننے کے محتاج ہیں اور یہ چیز اس کو صحیح طور پر ماننے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ منکرین کے انکار کی اصل علت : اُولٰۗىِٕكَ الْاَغْلٰلُ فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی گردنوں میں کبر و انانیت، خود پرستی، تقلید اعمیٰ اور جمود کے طوق پڑے ہوئے ہیں۔ یہ طوق نہ ان کی گردنیں اوپر کی طرف اٹھنے دیتے ہیں کہ یہ آسمان کی ان نشانیوں پر غور کرسکیں جن کی طرف قرآن نے آیت 2 میں اشارہ فرمایا ہے اور نہ زمین کی ان نشانیوں کی طرف جھکنے دیتے جن کا حوالہ آیات 3۔ 4 میں ہے۔ نتیجہ اس اندھے پن کا یہ ہے کہ یہ دوزخ میں پڑیں گے اور اسی میں ہمیشہ سڑیں گے۔ اس حقیقت کو سورة یسین میں یوں واضح فرمایا ہے۔ انا جعلنا فی اعناقہم اغلالا فھی الی الاذقان فہم مقمحون۔
Ayah 13:6

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور یہ لوگ خیر سے پہلے شر کے لیے تم سے جلدی مچائے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان سے پہلے عقوبت کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ تمہارا رب لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود ان سے درگزر کرنے والا بھی ہے اور تیرا رب سخت سزا دینے والا بھی ہے

وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ ۭ وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ ۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَاب۔ عاقل وہ ہے جو دوسروں سے سبق حاصل کرے : مَثُلٰتُ ، مثلۃ کی جمع ہے۔ اس کے معنی عقوبت اور عبرت انگیز عذاب کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ توبہ اور اصلاح سے پہلے کسی آفت اور عذاب کے منتظر ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب ہم اس عذاب کی کوئی نشانی دیکھ لیں گے جس سے پیغمبر ڈرا رہے ہیں، تب ہم ان کی بات مانیں گے۔ حالانکہ عاقل وہ ہے جو دوسروں سے سبق حاصل کرے۔ ان سے پہلے کتنی قومیں گزر چکی ہیں جنہوں نے انہیں کی طرح اپنے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی اور بالآخر کیفر کردار کو پہنچیں۔ ان کی سرگزشتیں ان کو سنائی بھی جا رہی ہیں۔ کیا ان کے اندر ان کے لیے درس عبرت موجود نہیں ہے ؟ یہ تو اللہ کی عنایت ہے کہ وہ لوگوں کو ان کے کفر و شرک کے باوجود توبہ اور اصلاح کی طویل مہلت دیتا ہے لیکن اس مہلت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اس کے گزر جانے کے بعد جب وہ پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بھی بڑی ہی سخت ہوتی ہے۔
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی ؟ تم تو بس ایک آگاہ کردینے والے ہو اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہے

وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۔ مطالبۂ عذاب کا جواب : " ایات " سے مراد یہاں کوئی نشانی عذاب ہے۔ اوپر والی ایت میں جس عذاب کے لیے عجلت کا ذکر ہے یہ اسی کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر ہمیں جس عذاب کے ڈراوے ہر وقت سنا رہے ہیں آخر اس کی کوئی نشانی یہ کیوں نہیں دکھاتے ؟ فرمایا کہ تمہارا کام صرف لوگوں کو اس عذاب سے خبردار کردینا ہے، اس کی کوئی نشانی دکھانا یا اس عذاب کو لادینا تمہارا کام نہیں ہے۔ یہ ہمارا کام ہے۔ تم اپنا کام کرو اور ہمارا کام ہم پر چھوڑو۔ ان کی بکواسوں کی پروا مت کرو۔ ولکل قوم ھاد، میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو سزا دینے سے پہلے اس کو انذار و تنبیہ فرماتا ہے چناچہ ان کے انذار کے لیے خدا نے تمہیں ہادی بنا کر بھیج دیا ہے جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اگر انہوں نے تمہاری ہدایت قبول نہ کی تو اب اس کے بعد ان کے لیے عذاب ہی کا مرحلہ باقی رہ جاتا ہے۔
Ayah 13:8

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

اللہ ہی جانتا ہے ہر مادہ کے حمل کو اور جو کچھ رحموں میں گھٹتا اور بڑھتا ہے اس کو بھی اور ہر چیز اس کے ہاں ایک اندازہ کے مطابق ہے

اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَمَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۭ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ۔ یعنی ایک بات جو ایک امر واقعی اور شدنی ہے اس میں اس بنیاد پر کوئی شبہ قائم کرنا کہ تم اس کا وقت معین طور پر نہیں بتا سکتے یا ان کے مطالبے پر اس کو دکھا نہیں سکتے، کوئی معقول بات نہیں ہے۔ ایک عورت حاملہ ہوتی ہے، اس کے رحم میں لڑکا ہے یا لڑکی، اس کو صرف اللہ ہی جانتا ہے، اس میں درپردہ جو کمی بیشی واقع ہوتی ہے اس کو بھی اللہ ہی جانتا ہے، اس کے وضع کا ٹھیک ٹھیک وقت بھی اللہ ہی کے علم میں ہوتا ہے۔ ان باتوں کے نہ جاننے سے نہ تو نفس حمل کی نفی ہوتی اور نہ کوئی عاقل اس بنیاد پر ایک حاملہ کے حاملہ ہونے سے انکار کرتا ہے۔ یہی مثال ان ظالموں کے لیے عذاب الٰہی کی ہے۔ انہوں نے اپنے عقاید و اعمال کے ساد کے باعث اس کا حمل قبول کرلیا ہے اور یہ حمل لازماً اپنی مدت کو پہنچ کر ظہور میں آئے گا لیکن کب آئے گا اور کس شکل و صورت میں آئے گا اس کا ٹھیک ٹھیک پتہ صرف اللہ ہی کو ہے، کسی دوسرے کو اس کا علم نہیں ہے۔ " کل شیء عندہ بمقدار " اللہ کے ہاں ہر چیز کے لگے بندھے ضابطے، معین پیمانے اور مقرر اوقات ہیں۔ لوگوں کی جلد بازی سے وہ سنت الٰہی متغیر نہیں ہوتی جو اس نے ہر چیز کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔
Ayah 13:9

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ غائب و حاضر سب کا جاننے والا، عظیم اور عالی شان ہے

عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيْرُ الْمُتَعَالِ۔ یہ اوپر والے مضمون کی مزید توضیح و تاکید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کی باتوں، اس کے علم اور اس کے منصوبوں کو اپنے حدود علم سے ناپنے کی کوشش نہ کرو۔ اس کا علم تمام غائب و حاضر کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ بڑی ہی عظیم ہستی اور اس کی بارگاہ بہت بلند ہے۔ وہ اپنے ارادوں اور اپنی سکیموں کے بھیدوں کو خود ہی جانتا ہے، دوسرے اس میں سے اتنا ہی جانتا ہے، دوسرے اس میں سے اتنا ہی جان سکتے ہیں، جتنا وہ ظاہر کردے۔
Ayah 13:10

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

اس کے علم میں یکساں ہیں تم میں سے وہ جو بات کو چپکے سے کہیں اور وہ جو بلند آواز سے کہیں اور جو شب کی تاریکی میں چھپے ہوئے ہوں اور جو دن کی روشنی میں نقل و حرکت کر رہے ہوں

سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَار۔ مطلب یہ کہ دیر سویر کی فکر تو اس کو ہو جس کو اندیشہ ہو کہ ذرا تاخیر ہوئی تو وقت نکل جائے گا اور پھر حریف قابو میں نہ آسکے گا۔ جس کا علم اور جس کی قدرت ہر چیز اور ہر شخص کا اس طرح احاطہ کیے ہوئے ہو کہ اس کا " سرا وعلانیۃ " سب اس کے علم میں ہو اور اس کی شب اور اس کے روز کی ہر نقل و حرکت پر اس کو پورا اختیار حاصل ہو وہ پکڑنے میں جلد بازی کیوں کرے ؟ وہ جب چاہے گا اور جہاں سے چاہے گا ہر ایک کو پکڑے گا۔ کس کی طاقت ہے کہ اس کے قابو سے باہر نکل سکے یا کہیں اس سے چھپ سکے۔
Ayah 13:11

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

ان پر ان کے آگے اور پیچھے سے امر الٰہی کے موکل لگے رہتے ہیں جو باری باری سے ان کی نگرانی کرتے ہیں۔ اللہ کسی قوم کے ساتھ اپنا معاملہ اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کرلے اور جب اللہ کسی قوم پر کوئی آفت لانے کا ارادہ کرلیتا ہے تو وہ کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتی اور ان کا اس کے مقابل میں کوئی بھی مددگار نہیں بن سکتا

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاِذَآ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْۗءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّال۔ " معقبت " یعنی ارواح معقبات " مراد اس سے وہ فرشتے ہیں جو باری باری ہر انسان پر خدا کی طرف سے نگرانی کے لیے مقرر ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ من امر اللہ بیان کے لیے ہے جس طرح قل الروح من امر ربی۔ اور بعض دوسری آیات میں ہے۔ یعنی یہ فرشتے یا یہ ارواح اللہ اللہ کے امر سے ہیں۔ اوپر کے مضمون کی توضیح مزید : یہ آیات اوپر والی آیت کے مضمون کی توضیح مزید ہے۔ یعنی اللہ ہر شخص کے ظاہر و باطن اور اس کے شب و روز سے پوری طرح آگاہ ہے۔ اس نے ہر شخص پر اپنے فرشتے بطور پہرہ دار مقر کر رکھے ہیں۔ یہ فرشتے اللہ کے امر میں سے ہیں جو ہرو وقت ہور شخص کے ہر قول و فعل کی نگرانی کرتے ہیں۔ عذاب کے معاملے میں سنت الٰہی : اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ۔ اب یہ قوموں کے عذاب کے معاملے میں اصل سنت اللہ کی وضاحت فرما دی کہ اللہ تعالیٰ اپنا معاملہ کسی قو کے ساتھ اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کرلے۔ جب قوم خود اپنی روش بدل لیتی ہے اور تنبیہ و انذار کے باوجود متنبہ نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس پر وہ عذاب بھیجتا ہے جس کو کوئی طاقت بھی دفع نہیں کرسکتی۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب کی نشانیوں کا مطالبہ کرنے کے بجائے اس سنت الٰہی کی روشنی میں اپنے حالات کا جازہ لوگ۔ اگر تم نے خود اپنی روش بدل لی ہے تو بس سمجھ لو کہ خدا کا تمہارے ستھ جو معاملہ اب تک رہا ہے اب اس کے بدلنے میں بھی دیر نہیں ہے اور یہ بات بھی یاد رکھو کہ جب خدا کسی قوم پر عذاب بھیجنے کا یصلہ کرلیتا ہے تو اس قضائے مبرم کو ٹالنے کا بوتا کسی میں نہیں ہوتا۔ تمہارے سارے اصنام خیالی اور سارے قلعے اور دمدمے ہوا ہوجائیں گے۔
Ayahs 13:12–13

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہی دکھاتا ہے تمہیں بجلی جو خوف بھی پیدا کرتی ہے اور امید بھی اور ابھارتا ہے بوجھل بادلوں کو

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور بجلی کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے ڈر سے اس کی تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے ڈر سے اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ بھیجتا ہے بجلی کے کڑکے اور ان کو نازل کردیتا ہے جن پر چاہتا ہے اور وہ خدا کے باب میں جھگڑتے ہی ہوتے ہیں اور وہ بڑی ہی زبردست قوت والا ہے

12۔ 13:۔ هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّيُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ۔ وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ مِنْ خِيْفَتِهٖ ۚ وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيْبُ بِهَا مَنْ يَّشَاۗءُ وَهُمْ يُجَادِلُوْنَ فِي اللّٰهِ ۚ وَهُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِ۔ آفاق کی بعض نشانیوں کی طرف اشارہ : اب یہ اسی مطالبۂ عذاب کے جواب میں جس کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے، آفاق کی بعض نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ نشانیوں کی طلب ہے تو نشانیاں تو روز ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ بجلی چمکتی ہے جو اپنے اندر امید و بیم دونوں کے پہلو رکھتی ہے، وہی بارش کا پیغام بھھی بن کر نمودار ہوتی ہے اور اگر اللہ چاہتا ہے تو اسی کو عذاب کا تازیانہ بھی بنا دیتا ہے۔ بادل اٹھتے ہیں جو رحمت کی گھٹا بن کر بھی برستے ہیں اور اگر اللہ چاہتا ہے تو انہی کے اندر سے طوفانِ نوح بھی ابل پڑتا ہے۔ ان نشانیوں کے بعد اب کن نشانیوں کے منتظر ہو ؟ يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ مِنْ خِيْفَتِهٖ ، میں حذف کا وہ اسلوب مضمر ہے جس کی طرف ہم ایک سے زیادہ مقامات میں اشارہ کرچکے ہیں کہ بعض مرتبہ مقابل الفاظ قرینہ کی وضاحت کی وجہ سے حذف کردیے جاتے ہیں۔ اس اسلوب کو کھول دیجیے تو پوری بات گویا یوں ہوگی۔ ویسبح الرعد من خیفتہ بحمدہ والملئکۃ من خیفتہ بحمدہ۔ یہ بات بھی ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ " تسبیح " میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے اور حمد میں صفات حسنی کے اقرار و اعتراف کا۔ یہ اوپر والے مضمون ہی کی توضیح مزید ہے کہ منکرین اور مکذبین کی جسارت کا تو یہ عالم ہے کہ وہ عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور ادھر رعد و برق اور فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہر وقت خوف الٰہی سے اس کی تسبیح اور حمد میں مصروف رہتے ہیں کہ معلوم نہیں کس وقت کیا حکم صادر ہو۔ پھر خدا جن پر چاہتا ہے اپنا صاعقہ عذاب بھیج دیتا ہے اور لوگ خدا کے بارے میں جھگڑنے ہی میں مصروف ہوتے ہیں خدا شدید المحال یعنی بڑی طاقت والا ہے، کسی میں طاقت نہیں کہ اس کے وار کو روک سکے۔
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

حقیقی پکارنا تو صرف اس کو پکارنا ہے، رہے وہ جن کو یہ اس کے سوا پکارتے ہیں تو وہ ان کی کوئی بھی داد رسی نہیں کرسکتے۔ ان کو پکارنا ایسا ہی ہے کہ کوئی اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف بڑھائے کہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے در آنحالیکہ وہ کسی طرح اس کے منہ تک پہنچنے والا نہ ہو۔ ان کافروں کی فریاد محض صدا صحرا ہوگی

آگے کا مضمون۔ آیات 14 تا 16:۔ آگے چند آیات میں یہ حقیقت واضح فرما دی کہ جو لوگ اپنے خیالی معبودوں کے اعتماد پر خدا کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں وہ محض انپی شامت کو دے رہے ہیں۔ خدا کا کوئی شریک وسہیم نہیں ہے۔ وہ وحدہ لا شریک ہے۔ نتیجہ خیز پکارنا صرف خدا ہی کو پکارنا ہے۔ اس کے سوا دوسروں کو پکارنا محض صدا بصحرا ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے :۔ لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ ۭ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ لَهُمْ بِشَيْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ اِلَى الْمَاۗءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهٖ ۭ وَمَا دُعَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ۔ نتیجہ خیز پکارنا صرف خدا کو پکارنا ہے : لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ ، یعنی نتیجہ خیز، نافع اور موجب خیر و برکت پکانا تو صرف اللہ ہی کو پکارنا ہے اس لیے کہ تمام اختیار و اقتدار اور تمام زور و اثر تنہا اسی کے اختیار میں ہے۔ جو لوگ خدا کے سوا دوسرے معبودوں سے آسرا لگائے بیٹھے ہیں، یہاں تک کہ ان کے بل پر خود خدا کو چیلنج کر رہے ہیں ان کو پکارنا محض صدا بصحرا ہے، اول تو ان کو کوئی وجود ہی نہیں اور اگر وجود ہے بھی تو وہ ان کی مدد کے معاملے میں بالکل بےبس ہیں۔ مشرکوں کی محرومی کی تمثیل : ان کی محرومی و نامرادی کی مثال ایک ایسے پیاسے سے دی ہے جو پیاس کی بےقراری میں اپنے دونوں ہاتھ ایسے پانی کی طرف بڑھائے جو اس کی پہنچ سے باہر ہو۔ جس طرح وہ پیاس سے تڑپتا اور پانی سے محرو رہتا ہے اسی طرح یہ اپنی محرومی پر اپنے پٹکیں گے۔ وما دعاء الکفرین الا فی ضلال، کا ٹھیک مفہوم وہی ہے جس کو ہم اپنے الفاظ میں " صدا بصحرا " کہتے ہیں۔ یہ گویا " لہ دعوۃ الحق " کے مضمون کی تعبیر دوسرے اسلوب سے ہے۔
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب خدا ہی کو سجدہ کرتے ہیں، خواہ طوعاً خواہ کرہاً۔ اور ان کے سائے بھی صبح اور شام

وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ۔ ہرچیز کی تکوینی شہادت : یہ اوپر والے مضمون کی مزید تاکید ہر چیز کی تکوینی شہادت سے فرمائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر چیز اپنے اصل وجود میں خدا ہی کی مطیع و منقاد ہے۔ جن کو کچھ اختیار ملا ہوا ہے اگر وہ اپنے اس اختیار سے غلط فائدہ اٹھا کر اکڑتے بھی ہیں تو وہ بھی اپنے تکوینی وجود میں خدا ہی کے آگے جھکنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ شہادت ہے اس بات کی کہ ہمارا وجود اپنی فطرت سے خدا ہی کا مطیع ہے۔ اگر ہم خدا سے اکڑتے ہیں تو یہ حالت درحقیقت ہماری اپنی اصل جبلت سے بغاوت ہے۔ اس حقیقت کو اس مثال سے واضح فرمایا ہے کہ دیکھ لو، ہر چیز کا سایہ صبح و شام خدا کے آگے بچھا رہتا ہے اور رات بھر وہ اپنے اس تکوینی سجدہ سے سر نہیں اٹھاتا۔ صبح کو وہ آہستہ آہستہ سر اٹھاتا ہے اور پھر سورج کے زوال کے ساتھ اس پر رکوع و سجود کی وہی حالت طاری ہونی شروع ہوجاتی ہے۔ یہ مضمون سورة نحل کی آیات 48۔ 49 میں بھی بیان ہوا ہے۔ انشاء اللہ وہاں ہم اس کی مزید تفصیل کریں گے۔ یہ دلائل کی ایک خاص قسم ہے جس کو ہم اشارات سے تعبیر کرتے ہیں۔ اگرچہ منطق کی میزان ان دلائل کی صحیح قدروقیمت کا اندازہ لگانے سے قاصر ہے لیکن انسانی فطرت کی میزان میں ان دلائل کی صحیح قدروقیمت کا اندازہ لگانے سے قاصر ہے لیکن انسانی فطرت کی میزان میں ان دلائل کا بڑا وزن ہے۔
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

ان سے پوچھو آسمانوں اور زمین کا مالک کون ہے ؟ کہہ دو ، اللہ ! ان سے پوچھو تو کیا اس کے بعد تم نے اس کے سوا ایسے کارساز بنا رکھے ہیں جو خود اپنی ذات کے لیے بھی نہ کسی نفع پر کوئی اختیار رکھتے اور نہ کسی ضرر پر۔ ان سے پوچھو، کیا اندھے اور بینا دونوں یکساں ہوجائیں گے ! یا کیا روشنی اور تاریکی دونوں برابر ہوجائے گی ! کیا انہوں نے خدا کے ایسے شریک ٹھہرائے ہیں جنہوں نے اسی کی طرح خلق کیا ہے جس کے سبب سے ان کو خلق میں اشتباہ لاحق ہوگیا ہے ! بتا دو کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ واحد اور سب پر حاوی ہے

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ قُلِ اللّٰهُ ۭ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ لَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا ۭ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ ڏ اَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمٰتُ وَالنُّوْرُ ڬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۭ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ۔ قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ۭ قُلِ اللّٰهُ۔ لفظ " قل " کہو، پوچھو، سوال کرو، جواب دو ، سب معنوں میں آتا ہے۔ موقع و مح ؒ کی مناسبت پیش نظر رکھ کر اس کا صحیح مفہوم متعین کرنا پڑتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا مالک اور کا ئانت کا رب کون ہے ؟ پھر فرمایا کہ ان کو بتا دو کہ ان سب کا مالک اور رب خدا ہی ہے۔ ہم دوسرے مقام میں یہ واضح کرچکے ہیں کہ اہل عرب آسمانوں اور زمین کا خالق ومالک اصلاً اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے لیکن اولیاء اور شرکاء انہوں نے اور بھی بنا لیے تھے جن کی نسبت ان کا گمان یہ تھا کہ یہ خدا کے بڑے چہیتے ہیں، ان کی عبادت خدا کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ انہی کی عنایت سے تمام دنیوی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں اور اگر آخرت کا کوئی مرحلہ بالفرض پیش آیا تو یہ ان کو بخشوا لیں گے۔ ۭ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ لَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا۔ یعنی جب آسمانوں اور زمین کا مالک وہی ہے تو ان سے پوچھو کہ کس منطق سے انہوں نے خدا کے دوسرے ولی اور کارساز بنالیے جن کا حال یہ ہے کہ یہ بےچارے دوسروں کو کوئی نفع پہنچانا یا ان سے کسی ضرر کو دفع کرنا تو الگ رہا خود اپنے کو کوئی نفع پہنچانے یا اپنے اوپر کسی آئی ہوئی مصیبت کو دور کرنے پر بھی قادر نہیں ہیں۔ اعمی اور بصیر کا مفہوم : قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ ڏ اَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمٰتُ وَالنُّوْرُ۔ اعمی اور بصیر کے الفاظ یہاں عقلی و اخلاقی اندھوں اور بیناؤں کے مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ اسی طرح " ظلمٰت " سے مراد عقلی اور اخلاقی تاریکیاں ہیں اور " نور " سے مراد عقلی و ایمانی روشنی، ظلمٰت کے جمع لانے میں، جب کہ لفظ مقابل نور واحد استعمال ہوا ہے، ایک لطیف نکتہ بھی ہے۔ وہ یہ کہ عقلی و اخلاقی مفاسد کے ظہور میں آنے کے راستے اور دروازے مختلف ہوسکتے ہیں اور ہوتے ہیں لیکن عقلی و اخلاقی روشنی کا دروازے ایک ہی ہے اور وہ ہے اللہ تعالٰی۔ شرک کی جڑ پر کلہاڑا : اب یہ شرک کی جڑ پر کلہاڑا مارا گیا ہے کہ تم خدا کے شریک مانتے ہو جن کی نسبت تمہارا گمان یہ ہے کہ وہ اپنے پجاریوں کو، خواہ ان کے اعمال و افعال اور عقائد و نظریات کچھ ہوں، خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے دوسرے لفظوں میں اس کے معنی یہ ہوئے کہ خدا کی نگاہ میں اندھے اور بصیر، اور تاریکی اور روشنی دونوں یکساں ہوئے۔ اس طرح تم نے اس حق و عدل کی بنیاد ہی ڈھا دی جس پر یہ آسمان و زمین قائم ہیں اور جس کی نفی کے بعد یہ سارا عالم ایک اندھیر نگری یا کسی کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتا ہے۔ شرک کس دلیل کی بنا پر ؟ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ۔ یعنی آخر کس دلیل کی بنا پر انہوں نے خدا کے شریک بنائے ہیں۔ کیا مخلوقات میں کچھ ان کے مزعومہ شکاء کی پیدا کی ہوئی مخلوقات بھی ہیں جن کے سبب سے ان کو یہ گھپلا پیش آگیا ہے کہ یہ متعین نہیں کرپا رہے ہیں کہ کس کو خدا کی مخلوق قرار دیں اور کس کو اپنے شرکاء کی۔ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ۔ مطلب یہ ہے کہ خالق تو ہر شے کا اللہ ہی ہے اور اس حقیقت سے تمہیں بھی انکار نہیں ہے تو پھر خدا کی خلق میں تم نے دوسروں کو کس دلیل سے شریک بنا کے رکھ دیا۔ لفظ " قہار " پر دوسرے مقام میں ہم بحث کرچکے ہیں کہ اس کا صحیح مفہوم ہے سب کو اپنے کنٹرول میں رکھنے والا، مطلب یہ ہے کہ وہ خالق بھی ہے اور سب کو اپنے کنٹرول میں رکھنے پر قادر بھی ہے تو ضرورت کیا ہے جس کی بنا پر دوسرے شریکوں کو اس کی خدائی میں شریک مانا جائے۔
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اس نے آسمان سے پانی برسایا تو وادیاں اپنے اپنے ظرف ظرف کے مطابق بہہ نکلیں۔ پھر سیلاب نے ابھرتے جھاگ کو اٹھا لیا اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں کے اندر سے بھی ابھرتا ہے جن کو یہ زبور یا اس قسم کی کوئی اور چیز بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کو ٹکراتا ہے تو جھاگ تو بےمصرف ہو کر اڑ جاتا ہے لیکن جو چیز لوگوں کو نفع پہنچانے والی ہوتی ہے وہ زمین میں ٹک جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تمثیلیں بیان کرتا ہے

آگے کا مضمون۔ آیات 17۔ 26:۔ آگے اس حقیقت کی مزید وضاحت فرمائی ہے جس کی طرف اوپر اشارہ گزرا کہ شرک سے اس تمام حق عدل کی بنیاد ہی ڈھے جاتی ہے جس پر اس عالم کا نظام قائم ہے اور جس کی شہادت خود اس کائنات کی فطرت دے رہی ہے۔ نیز اس حقیقت کی طرف بھی نہایت لطیف اشارہ فرمایا کہ قرآن کے نول نے اس وقت حق و باطل میں جو کشمکش پیدا کردی ہے وہ بالآخر حق کی فتح پر منتہی ہوگی اور باطل جھاگ کی مانند اڑ جائے گی۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے : اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا ۭ وَمِمَّا يُوْقِدُوْنَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاۗءَ حِلْيَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ ۭ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ڛ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاۗءً ۚ وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ ۭ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ۔ اوپر آیات 16 میں اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا تھا کہ شرک اور شفاعت باطل کا سب سے زیادہ گھنونا پہلو یہ ہے کہ یہ اندھے اور بینا اور نور و ظلمت یا بالفاظ دیگر حق و باطل سب کو ایک ہی درجے میں کردیتا ہے جو بالبداہت عقل و انصاف کے خلاف ہے۔ اب ایک قدم بڑھ کر یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ یہ چیز اس کائنات کی فطرت کے بھی خلاف ہے اور اس سنت الٰہی کے بھی جو اس کائنات میں جاری و نافذ ہے۔ فطرتِ کائنات کی شہادت : اس کائنات کی فطرت کو یوں واضح فرمایا کہ تم دیکھتے ہو کہ آسمان سے بارش ہوتی ہے تو وادیاں اور نالے لبریز ہو کر بہہ نکلتے ہیں، پھر دیکھتے ہو کہ سیلاب جھاگ کو باھار کر اوپر کردیتا ہے، پھر جھاگ تو خس و خاشاک ہو کر ہوا میں اڑ جاتا ہے لیکن پانی جو زمین اور اہل زمین کے لیے نافع ہے زمین میں ٹک جاتا ہے۔ پھر اسی حقیقت کو ایک دوسری مثال سے سمجھایا کہ چانی کو کوئی زیور یا کوئی اور چیز بنانے کے لیے کٹھالی میں پگھلاتے ہو تو اس کا میل کچیل تو اوپر آکر اڑجاتا ہے اور چاندی باقی رہ جاتی ہے۔ حق و باطل کی کشمکش میں بقائے نافع : ان دونوں مثالوں سے خدا کی بنائی ہوئی اس کائنات کا مزاج واضح ہوجاتا ہے کہ یہ درحقیقت نافع کو باقی رکھنا چاہتی ہے اور غیر نافع کو برابر چھانٹتی رہتی ہے۔ پھر اسی پر اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کو مبنی کیا ہے کہ وہ بھی اسی طرح حق اور باطل کو ٹکراتا ہے تو اس ٹکراؤ سے حق کے اوپر باطل کا جو جھاگ ابھرتا ہے وہ یوں ہی خس و خاشاک کی طرح اڑجاتا ہے البتہ حق جو لوگوں کو نفع پہنچانے والی چیز ہے وہ باقی رہ جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اسی طرح اس وقت قرآن کی صورت میں جو بارش زمین پر ہوئی ہے اس نے بھی کچھ جھاگ ابھار کر اوپر کردیے ہیں لیکن یہ سارے جھاگ فنا ہوجائیں گے اور قرآن اور اس کے حاملین باقی رہ جائیں گے۔ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ ، اس سے آگے کا ٹکڑا حذف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ یہ تمثیلیں اس لیے پیش کر رہا ہے کہ ان کے اندر وہ لوگ بھی اپنا مستقبل دیکھ لیں جو باطل کی حمایت میں آستینیں چڑھائے ہوئے ہیں اور اہل ایمان بھی اپنا روشن مستقبل دیکھ لیں۔
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت کو لبیک کہا ان کے لیے انجام کار کی فیروز مندی ہے اور جن لوگوں نے اس کی دعوت قبول نہیں کی۔ اگر ان کو وہ سب کچھ حاصل ہوجائے جو زمین میں ہے اور اسی کے برابر اور بھی تو وہ فدیہ میں دے ڈالیں۔ یہی لوگ ہیں جن کا حساب برا اور ان کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے

لِلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى ڼ وَالَّذِيْنَ لَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا وَّمِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ ۭاُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ سُوْۗءُ الْحِسَابِ ڏ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ وَبِئْسَ الْمِهَادُ۔ اصل حقیقت سادہ لفظوں میں : " الحسنی " کا موصوف یہاں بربنائے وضاحت قرینہ محذوف ہے۔ یعنی " العاقبۃ الحسنی " اوپر تمثیلی رنگ میں جو بات فرمائی گئی تھی وہی بات سادہ لفظوں میں کہہ دی گئی ہے کہ جو لوگ آج اس دعوت پر لبیک کہہ رہے ہیں جو اللہ کا رسول قرآن کی شکل میں پیش کر رہا ہے ان کا انجام تو بخیر ہے، رہے وہ لوگ جو اس سے گریز یا اس کی مخالفت کر رہے ہیں تو وہ یاد رکھیں کہ جب ان کے سامنے ان کا انجام آئے گا تو اس وقت ان کا یہ حال ہوگا کہ اگر ساری دنیا ان کو ہاتھ آجائے اور اسی کے برابر مزید بھی تو وہ سب کچھ اس سے جان چھرنے کے لیے فدیہ میں دے دینا چاہیں گے۔ فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جن کے لیے برا حساب ہے، ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔ سوء الحساب سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ ان کی ایک ایک چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی گرفت ہوگی، اور ان کا ہر قول و فعل اپنی اصلی بھیانک شکل میں سامنے آئے گا۔ اہل ایمان کے ساتھ تو ان کی لغزشوں اور کوتاہیوں کے معاملے میں چشم پوشی برتی جائے گی لیکن ان اکڑنے والوں کی رائی بھی ہوگی تو وہ پہاڑ بن کر سامنے آئے گی۔ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا، سے ان کے اعراض و انکار کے اصل سبب پر روشنی پڑ رہی ہے کہ یہ اس دنیا اور متاع دنیا کی محبت ہے جو قرآن کی دعوت سے انہیں روک رہی ہے لیکن جس دنیا کا عشق آج ان سے یہ حرکت کرا رہا ہے جب اس کا انجام سامنے آئے گا تو یہ سارا عشق ہرن ہوجائے گا۔ اس وقت تو یہ چاہیں گے کہ یہ ساری دنیا اور اس کے برابر ایک اور دنیا بھی انہیں مل جائے تو وہ یہ سب کچھ فدیہ میں دے کر کسی طرح اس سے نجات حاصل کریں۔
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

تو کیا جو جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے رب کی جانب سے اتار گیا ہے وہ حق ہے وہ اس کے مانند ہوجائے گا جو اندھا ہے۔ یاددہانی تو اہل عقل ہی حاصل کرتے ہیں

اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۔ پیغمبر ﷺ کو تسلی، منکرین کو تہدید : " اعمی " کا لفظ، جیسا کہ آیت 16 میں عقل و دل کے اندھوں کے لیے آیا ہے اسی طرح اس آیت میں بھی یہ عقل و دل کے اندھوں کے لیے وارد ہوا ہے۔ یہ آیت بطور التفات، پیغمبر ﷺ کی تسلی کے لیے بھی ہے اور مکذبین و منکرین کی تہدید و وعید کے لیے بھی۔ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی کا پہلو تو یہ ہے کہ تم قرآن کی شکل میں جو دعوت پیش کر رہے ہو اس کے بارے میں ہر ایک کا رویہ یکساں نہیں ہوگا۔ اس سے یاد دہانی وہی حاصل کریں گے جو اولو الالباب یعنی عقل و دل رکھنے والے ہیں۔ جن کے دل مردہ اور جن کی عقلیں اندھی ہوچکی ہیں وہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔ مطلب یہ کہ تم ان کے رویہ سے بلاوجہ بددل اور پریشان نہ ہو۔ اس آیت کا اسلوب خود بول رہا ہے کہ لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جن کے لیے پیغمبر اور قرآن کی ہر بات خود اپنے دل کی آواز ہوتی ہے۔ وہ پیغمبر کی بات اور قرآن کی آیات سن کر یوں محسوس کرتے ہیں کہ دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے ان کے لیے قرآن کی حیثیت ایک یاد دہانی کی ہوتی ہے۔ وہ ان پر کوئی چیز اوپر سے لادتا نہیں بلکہ خود ان کی اپنی فطرت کے مدفون خزانوں کو ابھار کر ان کی نگاہوں کے سامنے کردیتا ہے۔ منکرین و مکذبین کے لیے اس میں وعید یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس طرح کے اندھے لوگ ان لوگوں کے مانند ہوجائیں جن کے دل و دماغ روشن ہیں۔ لازم ہے کہ دونوں کا انجام ان کے اعمال کے اعتبار سے الگ الگ ہو۔
Ayah 13:20

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

جو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اپنے پیمان کو توڑتے نہیں

الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ۔ " میثاق " کا مفہوم : " میثاق " سے مراد یہاں میثاق فطرت ہے جو تمام اولاد آدم سے لیا گیا ہے اور جس کا سب نے اقرار کیا ہے۔ اس پر مفصل بحث سورة اعراف آیت 72 " و اذ اخذ ربک من بنی آدم من ظھورہم ذریتہم واشہدہم علی انفسہم الست بربکم قالوا بلی " کے تحت گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس عہد کو یاد رکھے ہوئے ہیں اور جنہوں نے اس پیمان کو توڑا نہیں ہے وہی لوگ اس قرآن سے یاد دہانی حاصل کریں گے۔ رہے وہ لوگ جو اپنی فطرت کو مسخ اور اس میثاق کو توڑ چکے ہیں ان سے کسی خیر کی امید نہ رکھو۔
Ayah 13:21

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور جو اس چیز کو جوڑتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے اور وہ اپنے رب سے ڈرتے اور سخت حساب کا اندیشہ رکھتے ہیں

وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُوْنَ سُوْۗءَ الْحِسَابِ۔ رشتہ رحم کا احترام : " ما امر اللہ بہ ان یوصل " سے مراد رشتہ رحم کا پاس و احترام ہے۔ یعنی جس طرح وہ اللہ کے حقوق کا دل سے احترام کرتے ہیں اسی طرح بندوں کے جو حقوق ان پر بنائے رشتہ رحم عاید ہوتے ہیں ان کو بھی پوری فیاضی سے ادا کرتے ہیں، وہ رشتہ رحم کو کاٹتے نہیں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق اس کو جوڑتے ہیں۔ اور یہ س کچھ وہ کسی نمود و نمائش یا غرض کے لیے نہیں بلکہ خدا کے ڈر سے اور اس کی رضا جوئی کے لیے کرتے ہیں۔ سورة دہر میں بھی یہی حقیقت یوں واضح فرمائی گئی ہے۔ یطعمون الطعام علی حبہ مسکینا و یتیما واسیرا۔ انما نطعمکم لوجہ اللہ لا نرید منکم جزاء ولا شکورا، انا نخاف من ربنا یوم عبوسا قمطریرا۔
Ayah 13:22

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور جو اپنے رب کی رضا جوئی میں ثابت قدم رہے اور جنہوں نے نماز کا اہتمام رکھا اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا اس میں سے سراً ! اور علانیۃً خرچ کیا اور جو بدی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں انجام کار کی کامیابی انہی کے لیے ہے

وَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً وَّيَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ۔ انہی کی مزید صفات بیان ہورہی ہیں کہ اللہ اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی راہ میں ان کو جو مشکلات و مصائب پیش آتے ہیں وہ ان کو اللہ کی رضا جوئی کی خاطر برداشت کرتے ہیں۔ اقاموا الصلوۃ نماز کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہم دوسرے مقامات میں واضح کرچکے ہیں کہ نماز پڑھنے اور نماز کے اہتمام میں بڑا فرق ہے۔ اس کی تفصیل اس کے محل میں دیکھیے۔ سری نفاق کی اہمیت : وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً کی باقاعدہ شکل زکوۃ ہے لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ زکوۃ کے حکم کے بعد انفاق کا حکم باقی نہیں رہا۔ زکوۃ تو گویا علانیہ انفاق کے تحت آگئی۔ سری انفاق جس پر اصل فیلت کا انحصار ہے، وہ زکوۃ کے بعد بھی باقی رہا ہے اور تزکیہ نفس کے پہلو سے اصلی اہمیت اسی انفاق کی ہے۔ ویدرءون بالحسنۃ السیئۃ، یعنی وہ برائی کو برائی سے نہیں بلکہ اس کو نیکی اور بھلائی سے رفع کرتے ہیں۔ یوں تو یہ ایک جامع کلیہ ہے لیکن اس کا ایک خاص محل بھی ہے۔ وہ یہ کہ مستحقین کے ساتھ سلوک کرنے میں اس چیز کو نہیں دیکھتے کہ کس کا سلوک ان کے ساتھ کیسا ہے بلکہ وہ ان کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتے ہیں جو ان کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں۔ قرآن اور حدیث دونوں سے یہ بات ثابت ہے کہ اس نیکی کا اللہ تعالیٰ کی میزان میں بڑا وزن ہے۔ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ ، دار سے مراد دار آخرت ہے، فرمایا کہ دار آخرت کا اصلہ صلہ اور اجر درحقیقت انہی لوگوں کے لیے ہے مطلب یہ کہ ان لوگوں کا زعم بالکل باطل ہے جنہوں نے شرک اور شفاعت باطل کا عقیدہ ایجاد کر کے حق اور باطل، عدل اور ظلم دونوں کو یکساں کردیا ہے۔
Ayahs 13:23–24

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

ابد کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بھی جو اس کے اہل بنیں گے ان کے آباء و اجداد، ان کی ازواج اور ان کی اولاد میں سے۔ اور فرشتے ہر دروازے ان کے پاس جائیں گے

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

اور کہیں گے آپ لوگوں پر سلامتی ہو بوجہ اس کے کہ آپ لوگ ثابت قدم رہے۔ پس کیا ہی خوب ہے انجام کار کی کامیابی

23۔ 24:۔ جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ۔ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ۔ جنت میں جذبات کی رعایت : یہ اس " عقبی الدار " یعنی انجام خیر کی تفصیل ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں گزرا۔ فرمایا کہ ان کے لیے ابد کے باغ ہوں گے جن میں وہ اتریں گے اور ان کی مسرت کی تکیل کے لیے ان کے ساتھ ان کے باپ دادوں اور ان کی ازواج و اولاد میں سے ان لوگوں کو بھی جمع کردیا جا ائے گا جو اپنے اعمال کی بدولت اس کے اہل قرار پائیں گے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ کسی نعمت سے بہرہ مند ہوتا ہے تو اس کی یہ دلی آرزو ہوتی ہے کہ اس میں وہ لوگ بھی شریک ہوں جو اپنے عزیز رہے ہیں یا جنہوں نے اس کو عزیز رکھا ہے۔ اس کی اس فطرت کے تقاضے کا لحاظ کر کے اللہ تعالیٰ اس کے عزیزوں اور قریبوں کو بھی اس کے ساتھ جمع کردے گا بایں شرط کہ وہ جنت میں جانے کے اہل ہوں یہ شرط ایک بنیادی شرط ہے جو ملحوظ نہ رہے تو وہ نظام حق ہی متزلزل ہوجائے جو ان آیات میں زیر بحث ہے لیکن اس شرط سے اللہ تعالیٰ کے اس فضل کی نفی نہیں ہوتی کہ وہ ان صالحین و ابرار کی مسرت کی تکمیل کے لیے ان کے ان اعزا و اقربا کو بھی ان کے ساتھ جمع کردے جو اگرچہ باعتبار درجہ و مرتبہ ان سے فروتر ہوں لیکن ہوں وہ جنت کے حق داروں میں سے۔ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ۔۔۔ الایۃ اوپر والی بات تکمیل مسرت کی خاطر تھی اب یہ ان کے اعزازو اکرام کا پہلو نمایاں کیا جارہا ہے کہ اس جنت کے بہت سے دروازے ہوں گے اور ہر دروازے سے فرشتے ان کے پاس سلام و تہنیت کے لیے پہنچیں گے اور ان کو ان کی ثابت قدمی پر مبارک باد دیں گے جس کے صلہ میں وہ اللہ کے اس فضل کے حق دار ٹھہرے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحسین : فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ ، کا ٹکڑا ہمارے نزدیک فرشتوں کے قول تہنیت کا جزو نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس مرتبہ بلند کی تحسین ہے۔ اوپر آیت 22 میں فرمایا تھا کہ " اولئک لہم عقبی الدار " اب جب اس " عقبی الدار " کی شان و عظمت واضح فرمائی تو بطور تحسین فرمایا کہ " فنعم عقبی الدار " دیکھو، کیا ہی خوب ہے یہ دار آخرت کی کامیابی۔
Ayah 13:25

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کے عہد کو اس کے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور اس چیز کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں وہی لوگ ہیں جن پر لعنت ہے اور ان کے لیے برا انجام آخرت ہے

وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ ۙ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْۗءُ الدَّارِ۔ مکذبین کی صفات : اب یہ بالکل مقابل گروہ کا بیان ہے۔ ان لوگوں کا جو عہد فطرت کو، اس کا اقرار کرنے اور اس کو باندھنے کے بعد توڑ رہے ہیں اور رشتہ رحم، جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور جس کو توڑنا تمام فساد فی الارض کی اصل ہے، اس کو کاٹ رہے ہیں۔ فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے اور انہی لوگوں کے لیے دار آخرت کی ذلت و رسوائی ہے۔ یہ حقیقت ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ اسلام کا نظام حق و عدل دو بنیادی ستونوں پر قائم ہے۔ ایک وحدت الٰہ، دوسرا وحدت آدم۔ اگر یہ دونوں بنیادیں ڈھا دی جائیں تو پھر صالح معاشرہ اور صالح تمدن کا وجود میں آنا ناممکن ہے۔
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ رزق کو کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور یہ دنیا کی زندگی پر مگن ہیں اور یہ دنیا کی زندگی آخرت کی زندگی کے مقابل میں محض ایک متاع حقیر ہے

اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ ۭ وَفَرِحُوْا بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۔ اصل تقدیر کلام یوں ہے۔ یبسط الرزق لمن یشاء و یقدر لمن یشاء۔ قرینہ کی وضاحت کے سبب سے ایک جگہ لمن یشاء کو حذف کردیا۔ " قدر " کے معنی تو اندازہ کرنے کے ہیں لیکن یہاں یہ تنگ کردینے کے معنی میں ہے۔ لفظ " متاع " کی تنکیر تقلیل کے مفہوم پر دلیل ہے۔ اصل سبب انکار کی وضاحت : اب یہ ان منکرین کے اصل سبب انکار و تکذیب کو واضح فرمایا جا رہا ہے کہ ان کو جو دنیا کی نعمتیں ملی ہیں ان کے سبب سے یہ غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے ہیں اور پیغمبر کی طرف سے آخرت کی یاد داہنی ان پر شاق گزر رہی ہے۔ حالانکہ یہ اللہ ہی ہے جو جس کے لیے چاہتا ہے رزق کے دروازے کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے جس کے لیے وہ کشادہ کرتا ہے اس سے وہ چانہتا ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنے اور جس کے لیے تنگ کرتا ہے اس سے وہ یہ چاہتا ہے کہ وہ صبر کرے۔ اسی صبر و شکر پر تمام دین کی عمارت قائم ہے۔ جو لوگ اس دنیا کے خزف ریزے پا کر اس کے غرور میں آخرت کو بھول بیٹھے ہیں وہ جب روز آخرت میں شاکرین و صابرین کے اجر کو دیکھیں گے۔ تب انہیں اندازہ ہوگا کہ نہایت ہی حقیر چیز کے لیے انہوں نے یہ ابدی بادشاہی کھو دی۔
Ayah 13:27

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی ؟ کہہ دو کہ اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اپنی طرف رہنمائی ان لوگوں کی فرماتا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں

آگے کا مضمون۔ آیات 27 تا 32:۔ اب آگے یہ حقیقت واضھ کی جا رہی ہے کہ آفاق وانفس کی یہ دلیلیں جو ان کو سنائی جا رہی ہیں ان سے ان کا اطمینان نہیں ہورہا ہے۔ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کو کوئی حسی معجزہ دکھایا جائے تب وہ مانیں گے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں وہ حق ہے۔ ان کے اس مطالبے کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ ایمان و ہدایت کا راستہ اللہ کے کلام اور اس کے رسول کی باتوں پر غور کرنے سے کھلتا ہے۔ جو لوگ یہ راستہ نہیں اختیار کرتے وہ دنیا جہان کے معجزے دیکھ کر بھی اندھے ہی بنے رہتے ہیں۔ آیات ملاحظہ ہوں۔ وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ اَنَابَ۔ ایمان کی رہنما آفاق وانفس کی نشانیاں ہیں : " ایۃ " سے مراد یہاں کوئی حسی معجزہ ہے۔ یعنی یہ لوگ آفاق وانفس کی ان نشانیوں سے تو آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں جو ہر طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہیں اور جن کی طرف قرآن ان کو توجہ دلا رہا ہے البتہ یہ مطالبہ کیے جارہے ہیں کہ ان کو پیغمبر کوئی معجزہ دکھائیں تب وہ مانیں گے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی یہ سنت یاد دلائی کہ اللہ تعالیٰ اپنی ہدایت ان لوگوں کو نہیں بخشتا جو معجزوں اور کرشموں کے مطالبے کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں کو یہ نعمت بخشتا ہے جو آفاق وانفس کی نشانیوں کو دیکھ کر حقیقت کے طالب بنتے ہیں اور خدا کی طرف شرح صدر اور طمانیت قلب کے لیے متوجہ ہوتے ہیں۔ جن کے اندر یہ طلب پیدا ہوجاتی ہے ان کے لیے۔ روئے و آواز پیمبر معجزہ است۔ رہے وہ لوگ جو عجائب اور کرشموں کے ردپے رہتے ہیں ان کی زندگی ہمیشہ ٹھوکریں کھانے میں ہی گزرتی ہے اللہ ایسے آنکھیں رکھ کر اندھے بن جانے والوں کے لی یہی چاہتا ہے کہ وہ اپنی اسی ضلالت میں پڑے رہیں۔ خدا اگر جبر و زور اور معجزوں کے بل پر لوگوں کو مومن بنانا چاہتا تو اس کے پاس ایک سے ایک بڑھ کر معجزے موجود ہیں لیکن وہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنی عقل و فکر سے کام لے کر اس کی طرف متوجہ ہوں۔
Ayah 13:28

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

جو ایمان لاتے ہیں اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، سن لو کہ اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو طمانیت حاصل ہوتی ہے

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ ۭ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ۔ یہ " من اناب " کی تفصیل ہے اور ذکر اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات، اور اس کے دلائل و حجج کا وہ بیان ہے جو قرآن میں موجود ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف رہنمائی انہی لوگوں کو فرماتا ہے جن کے دل اللہ کی صفات اور اس کے دلائل وبراہین سے طمانیت پاتے ہیں۔ جو لوگ یہ راہ نہیں اختیار کرتے وہ ہمیشہ ایمان سے محروم ہی اور معجزت کے مطالبے ہی کرتے رہتے ہیںَ ذکر اللہ میں مخالفت : اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ ، اب یہ اسل بات پورا زور دے کر فرمائی کہ کان کھول کر سن لو کہ اگر دلوں کی طمانیت اور ایمان و شرح صدر کی نعمت مطلوب ہے تو وہ معجزوں اور کرشموں سے نہیں حاصل ہوتی بلکہ اللہ اور اس کی صفات جمال و کمال کے تذکر و تفکر سے حاصل ہوتی ہے تو اگر یہ چیز مطلب ہے تو پیغمبر کی دعوت سنو اور اس پر غور کرو ورنہ جس وادی میں چاہو ٹھوکرین کھاتے پھرو۔
Ayah 13:29

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے عمل کیے ان کے لیے خوش خبری ہے اور اچھا ٹھکانا ہے

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَحُسْنُ مَاٰبٍ۔ مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے یہ راہ اختیار کی اور اس کو اختیار کر کے ایمان و عمل صالح کی شاہراہ پر گامزن ہوگئے ان کے لیے تو مبارکی اور خوش خبری ہے، ان کو اچھی منزل اور اچھا ٹھکانا نصیب ہوگا۔ رہے وہ لوگ جو معجزات کے منتظر ہیں تو وہ اسی انتظار میں ایک دن اپنے اس انجام سے دو چار ہوجائیں گے جو ایسے عقل کے اندھوں کے لیے مقدر ہے۔
Ayah 13:30

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے تم کو بھیجا ہے ایک ایسی امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ تم انہیں وہ چیز سنا دو جو ہم نے تم پر وحی کی ہے۔ ہرچند وہ خدائے رحمان کا انکار کر رہے ہیں۔ کہہ دو کہ وہی میرا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِيْٓ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَآ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ ۭ قُلْ هُوَ رَبِّيْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ مَتَابِ۔ مطالبۂ معجزات کا جواب ایک اور پہلو سے : یہ بھی اسی مطالبہ معجزات کا جواب ہے جس کا ذکر آیت 27 میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ تم دنیا میں پہلے نبی ہو اور نہ یہ (اہل عرب) دنیا میں پہلی امت ہیں۔ تم سے پہلے نبی اور رسول بھی گزر چکے ہیں اور ان سے پہلے تو میں اور امتیں بھی گزر چکی ہیں۔ تمہارے لیے اپنے پیشرو نبیوں اور رسولوں کی زندگی میں اسوہ اور نمونہ ہے اور ان کے لیے ان کے پیشرو قوموں کی زندگی نظیر اور مثال ہے۔ تو تم ان کے نت نئے مطالبات سے دل تنگ نہ ہو بلکہ ان کو اللہ کی وہ کتاب سناؤ جو تم پر وحی کی جا رہی ہے، ہر چید وہ کدائے رحمان کا انکار ہی کرتے رہیں۔ اور ان کے مطالبات کے جواب میں ان کو سنا دو کہ اللہ ہی میرا رب ہے، کوئی اس کا شریک نہیں، میرا اسی پر بھروسہ اور وہی میرا مرجع ہے۔ مجھے جو پیام دے کر اس نے بھیجا ہے وہ میں تمہیں سنا رہا ہوں۔ معجزے دکھانا میرا کام نہیں ہے یہ اس کی حکمت و مشیت پر منحصر ہے، وہ چاہے گا، دکھائے گا، نہیں چاہے گا نہیں دکھائے گا۔