13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی ایسا قرآن بھی اترتا جس سے پہاڑ حرکت میں آجاتے یا زمین پاش پاش ہوجاتی یا مردے بولنے لگ جاتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے۔ بلکہ سارا اختیار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ کیا ایمان لانے والون کو اس بات سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر اللہ چاہتا تو سب ہی کو ہدایت پر کردیتا۔ اور ان کافروں کو برابر کوئی نہ کوئی آفت ان کے اعمال کی پاداش میں پہنچتی رہے گی یا ان کی بستی کے قریب نازل ہوتی رہے گی یا ان کی بستی کے قریب نازل ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ اللہ کے وعدے کے ظہور کا وقت آجائے، اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا

وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى ۭ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِيْعًا ۭاَفَلَمْ يَايْــــــَٔـسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ لَّوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيْعًا ۭ وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى يَاْتِيَ وَعْدُ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ۔ وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا۔۔۔ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى۔ میں جواب شرط محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ معجزے کا مطالبہ کرتے تو ہیں اور اس سے ایک نیک نیت آدمی کو یہ گمان بھی ہوتا ہے کہ کیا عجب یہ اپنی طلب کے مطابق معجزہ دیکھ کر ایمان ہی لائیں لیکن یہ گمان محض گمان ہے۔ اگر ان کے لیے کوئی ایسا قرآن بھی اتارا جاتا جس سے پہاڑ حرکت میں آجاتے یا زمین شق ہوجاتی یا مردے بولنے لگتے جب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے بلکہ اس وقت بھی یہ اپنے کفر پر ڑے رہنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا ہی لیتے۔ آخر ان کے پیشرو وں نے کتنے معجزے دیکھے لیکن وہ ان کو سحر اور شبعدہ بازی کہہ کر بدستور اپنے کفر پر اڑے ہی رہ گئے یہاں تک کہ بالآخر عذاب الٰہی نے ان کا فیصلہ کردیا۔ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِيْعًا، مطلب یہ ہے کہ اس معاملے کو تم تمام تر اللہ پر چھوڑو۔ وہی جانتا ہے کہ یہ کس چیز کے مستحق ہیں اور ان کے ساتھ کیا معاملہ ہونا چاہیے۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں اس کی جو سنت ہے وہ اسی کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کرے گا۔ ہدایت کی راہ وہ انہی لوگوں کے لیے کھولے گا جو اس کے قانون کے مطابق اس کے سزوار ٹھہریں گے۔ مسلمانوں کو تسلی : اَفَلَمْ يَايْــــــَٔـسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ لَّوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيْعًا۔ یہ نیک دل مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ تمہارے اندر خواہش پیدا ہوئی ہے کہ ان کو ان کی طلب کے مطابق معجزہ دکھا ہی دیا جائے لیکن کیا تمہارے اطمینان کے لیے یہ چیز بس نہیں کرتی کہ اللہ اگر اپنے جبر و زور ہی کے ذریعے سے لوگوں کو ہدایت کی راہ پر لانا چاہتا تو آن کی آن میں سب کو مسلم و مومن بنا دیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اس لیے کہ وہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنی عقل و بصیرت سے کام لیں، آفاق وانفس کے دلائل پر غور کریں، پیغمبر کی باتوں کو سوچیں اور سمجھیں اور پھر اپنے اختیار و ارادہ کی آزادی کے ساتھ اس راہ حق کو اختیار کریں۔ تنبیہات کی طرف اشارہ : وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ۔ یعنی یہ بات بھی نہیں ہے کہ نشانیاں ظاہر نہ ہو رہی ہوں، وقتاً فوقتاً ان کی کرتوتوں کی پاداش میں خود ان پر یا ان کے قرب و جوار کے لوگوں پر تنبیہات نازل ہوتی رہتی ہیں۔ ان سے مقصود یہی ہوتا ہے کہ یہ لوگ جاگیں، آنکھیں کھولیں اور پیغمبر کی باتوں کو سنیں سمجھیں لیکن ان سے یہ کوئی سبق نہیں لیتے بلکہ منتظر ہیں کہ عذاب الٰہی کا ڈنڈا خود ان کی کمر پر پڑے تب یہ مانیں گے۔ تو اس کا وقت بھی آجائے گا۔ ان کو جس عذاب کی دھمکی دی جا رہی ہے اگر یہ اپنی ضد پر اڑے رہے تو وہ آکے رہے گا۔ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ حَتّٰى يَاْتِيَ وَعْدُ اللّٰهِ سے مراد وہ عذاب الٰہی ہے جس کی خبر ہر رسول نے اپنی قوم کو دی کہ اگر اس نے رسول کی بات نہ مانی تو بالآخر اس پر عذاب الٰہی آئے گا جو اس کو یک قلم فنا کردے گا۔ رسولوں کے دور بعثت سے متعلق ہم یہ بات بھی کہیں لکھ آئے ہیں کہ ان کے زمانے میں ایسی نشانیوں کے ظہور کی خاص طور پر کثرت ہوتی ہے جن سے غافلوں کے اندر بیدار پیدا ہو تاکہ رسول کی باتیں سننے کے لیے ان کے کان کھلیں۔
Ayah 13:32

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا ہے تو میں کفر کرنے والوں کو ڈھیل دی، پھر میں نے ان کو پکڑا تو دیکھو کیسا ہوا میرا عذاب

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَيْتُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ ۣ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ۔ تاخیر عذاب کی حکمت : اب یہ اس بات کی حکمت واضح فرما دی کہ ان کی ضد اور ان کے مطالبۂ عذاب کے باوجود ان پر جو عذاب نہیں آرہا ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ ان کو اتنی مہلت دے رہا ہے کہ ان پر اس کی حجت پوری ہوجائے۔ فرمایا کہ تم سے پہلے بھی رسولوں کا ان کی قوموں کی طرف سے مذاق ارایا گیا لیکن ہم نے اس کے باوجود ان کو مہلت دی، پھر پکڑا تو دیکھو کیسا پکڑا اور ہامرا عذاب کیسا درد انگیز ہوا۔ یہی معاملہ ان کے ساتھ بھی ہوگا۔ " عقاب " اصل میں عقابی ہے۔ قافیہ کی رعایت سے " ی " گر گئی۔ کسرہ اس کی یاد گار ہے۔
Ayah 13:33

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

کیا وہ ذات جو ہر جان سے اس کے عمل پر محاسبہ کرنے والی ہے (اور وہ جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے یکساں ہیں) اور ان لوگوں نے اللہ کے شریک بنا لیے ہیں۔ ان سے کہو ان کے نام تو بتاؤ۔ کیا تم خدا کو ایسی چیزوں کی خبر دے رہے ہو جن کے زمین میں وجود سے وہ بیخبر ہے یا یوں ہی ہوائی بات کرر ہے ہو۔ بلکہ ان کافروں کی نگاہ میں ان کی چال کھبا دی گئی ہے اور یہ راہ حق سے روک دیے گئے ہیں اور جن کو اللہ گمراہ کردے تو ان کو کوئی دوسرا ہدایت دینے والا نہیں بن سکتا

آگے کا مضمون۔ آیات 33 تا 37:۔ آگے یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ اگر ان کی یہ جسارت اپنے ان فرضی معبودوں کے بل پر ہے جن کو انہوں نے بلا کسی دلیل کے خدا کا شریک اور اپنا حامی و ناصر گمان کر رکھا ہے تو ان کو بتا دو کہ ان معبودوں کا کوئی وجو دہی نہیں ہے۔ یہ محض خیالی باتیں ہیں۔ یہ لوگ دنیا میں بھی خدا کے عذاب سے دوچار ہوں گے اور آخرت میں ان کو جس عذاب سے سابقہ پیش آنے والا ہے وہ تو اس سے بھی کہیں سخت ہوگا۔ جنت کے حق دار صرف اس کے مومن اور موحد بندے ہوں گے۔ اگر یہ لوگ اس بدیہی حقیقت کو جھٹلا رہے ہیں تو تم اس کا غم نہ کرو، اہل کتاب میں سے جو لوگ اچھے اور اپنی کتاب پر قائم ہیں وہ اس کتاب سے بہت خوش ہیں جو تم پر اتاری گئی ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ۔ یعنی جو ہر جان کے ہر قول و فعل کی نگرانی بھی کر رہا ہے اور ہر قول و فعل کا محاسبہ بھی کرنے والا ہے۔ حذف بتقاضائے بلاغت : اس جملہ میں سوال کا آدھا حصہ بتقاضائے بلاغت حذف ہے۔ فرمانا یہ ہے کہ کیا وہ ذات جو ہر جان کے اعمال کی نگرانی بھی کر رہی ہے اور جو ہر ایک کے ہر قول و فعل کا محاسبہ بھی کرنے والی ہے اس کا شریک تم ایسی چیزوں کو بنائے دے رہے ہو جن کی نہ کوئی حقیقت نہ جن کا کوئی وجود اور نہ جن کے پاس کوئی علم نہ کوئی اختیار۔ اس حذف سے اس بےتکی بات سے متکلم کی نفرت و کراہت کا اظہار ہو رہا ہے۔ گویا اس بھونڈی بات کا ذکر بھی اسے گوارا نہیں۔ وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ ۭ قُلْ سَمُّوْهُمْ ، یعنی انہوں نے اللہ کے شریک بنائے ہیں ان سے کہو کہ ذرا یہ ان کے نام تو لیں جن کو یہ خدا کا شریک بنائے بیٹھے ہیں، قل سموھم میں جو غصہ اور تحقیر مضمر ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ مشرکین اس کے جواب میں انہی بتوں کے نام لے سکتے تھے جن کو وہ پوجتے تھے۔ ہبل، لات، عزی، نائلہ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ان کے جواب کا انتظار کیے بغیر یک قلم ان کے وجود ہی کی نفی فرما دی گئی کہ اَمْ تُنَبِّــــــُٔـوْنَهٗ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ " یہ تم خدا کو ایسی چیزوں کا پتہ دے رہے ہو جن کے زمین میں وجود سے وہ بیخبر ہے یا یوں ہی ہوائی باتیں کر رہے ہو۔ ام تنبئونہ بما لا علم فی الارض، میں زبان کا وہ واسلب ہے جس کو ہم دوسرے مقام میں نفی الشیء وبنفی لازمہ کے عنوان سے ذکر کرچکے ہیں کہ بعض مرتبہ کسی شے کی نفی اس کے لازم کی نفی سے کردی جاتی ہے ظاہر ہے کہ اگر کوئی شے اس دنیا میں وجود رکھتی ہے تو لازم ہے کہ اس دنیا کے خالق کو اس کا پتہ ہو۔ اگر ایک چیز کا سرے سے خالق ہی کو پتہ نہیں تو اس کے وجود کے کیا معنی ؟ اس اصول پر اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے بانداز طنز سوال فرمایا ہے کہ یہ خدا کی معلومات میں اضافہ کرنے اٹھے ہو یا یوں ہی ہوائی باتیں کر رہے ہو جن کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر۔ حمایت شرک دنیوی مفادات کے لیے : بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ۔۔ الایۃ یہ آیات کے آخر میں اصل حقیقت واضح فرما دی کہ شرک کی حمایت میں جو لوگ آستینیں چڑھائے ہوئے ہیں۔ یہ محض اپنے اقتدار اور اپنی پیشوائی کو بچائے رکھنے کی ایک چال ہے جو اس وقت انہیں بہت عزیز ہے۔ قرآن کے دلائل اور پیغمبر کی دعوت نے دین شکر کا پول اس طرح کھول دیا ہے کہ اب اس کے بڑے سے بڑے حامیوں کی نظر میں بھی اس کا کوئی وزن باقی نہیں رہ گیا ہے۔ سوال صرف مفاد کا ہے۔ پیشوائی کی موروثی گدی چھوڑی نہیں جاتی اس وجہ سے یہ جاننے کے باوجود کہ خدا کا راستہ وہی ہے جس کی طرف قرآن بلا رہا ہے یہ اپنی اس ضلالت پر اڑے ہوئے ہیں۔ اس طرح کے لوگ جو جان بوجھ کر حق کو جھٹلاتے اور باطل کی حمایت کرتے ہیں خدا کے قانون کی زد میں آجاتے ہیں اور جو خدا کے قانون کی زد میں آئے ہوئے ہوں کسی کی طاقت ہے کہ ان کو ہدایت کی راہ پر لاسکے۔
Ayah 13:34

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں بھاری ہوگا اور ان کو اللہ سے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا

لَهُمْ عَذَابٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی عذاب ہے اور دنیا کے عذاب سے کہیں بڑھ چرھ کر آخرت کا عذاب ہے اور یہ لوگ اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء پر جو اعتماد کیے بیٹھے ہیں کہ وہ ان کو خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے تو ان میں سے کوئی ان کو بچانے والا نہ بن سکے گا۔ یہاں اس سنت الٰہی کو یاد رکھیے جس کا حوالہ ہم بار بار دے چکے ہیں کہ جس قوم پر رسول کے ذریعہ سے حجت تمام کردی جاتی ہے اگر وہ ایمان نہیں لاتی تو لازماً وہ ہلاک کردی جاتی ہے۔
Ayah 13:35

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

اس جنت کی تمثیل جس کا متقیوں سے وعدہ ہے یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اس کا پھل بھی دائمی اور اس کا سایہ بھی دائمی۔ یہ انجام ہے ان لوگوں کا جنہوں نے تقوی اختیار کیا اور کافروں کا انجام دوزخ ہے

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۭ اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ۔ متقین کے انجام کا بیان : اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ و ظلہا، میں ظلہا، کی خبر قرینہ کی وضاحت کے سبب سے محذوف ہے عنی ظلہا دائم، یہ مقابلہ کے اصول کے مطابق رسول کے مکذبین کا انجام بیان کرنے کے بعد ان لوگوں کا انجام بھی بیان فرما دیا جو اپنی خدا ترسی سے رسول پر ایمان لائے۔ فرمایا کہ وہ ایسے سدا بہار باغوں میں اتارے جائیں گے جن کی پیداوار بھی دائمی اور جن کا سایہ بھی دائمی۔ یعنی وہ کبھی خزاں سے آشنا نہیں ہوں گے۔
Ayah 13:36

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جن کو ہم نے کتاب عطا کی وہ اس چیز پر خوش ہیں جو تم پر اتاری گئی ہے اور ان جماعتوں میں سے ایسے بھی ہیں جو اس کے بعض حصوں کا انکار کرتے ہیں۔ تم کہہ دو کہ مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی کروں اور اس کا کسی کو ساجھی نہ ٹھہراؤں۔ میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے

وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ يُّنْكِرُ بَعْضَهٗ ۭ قُلْ اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَلَآ اُشْرِكَ بِهٖ ۭ اِلَيْهِ اَدْعُوْا وَاِلَيْهِ مَاٰب۔ صالحین اہل کتاب کا رویہ : وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ سے اچھے اہل کتاب مراد ہیں، اہل کتاب بالخصوص نصری ہیں، جیسا کہ مائدہ کی آیات 83۔ 84 کے تحت تفصیل گزر چکی ہے، ایسے لوگ بھی موجود تھے جو اپنے صحیفوں کی پیشین گوئیوں کی بنا پر رسول خاتم کے منتظر تھے۔ اس وجہ سے آپ کی دعوت اور آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جب انہوں نے ان پیشین گوئیوں کی تصدیق کے آثار دیکھے تو بڑے ذوق و شوق سے انہوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔ اہل کتاب کے اس پاکیزہ گروہ کا ذکر قرآن میں جا بجا ہوا ہے اور بالعموم ان کا ذکر معروف ہی کے صیغہ سے ہوا ہے جس طرح یہاں ہوا ہے۔ ان لوگوں کے ذکر سے یہاں مقصود پیغمبر ﷺ کو تسلی دینا بھی ہے کہ اگر جاہل ہٹ دھرم لوگ تمہارا مذاق اڑا رہے ہیں تم ان کی پروا کیوں کرو جب کہ حاملین کتاب کا ایک گروہ تمہارا خیر مقدم کر رہا ہے اور منکرین کو ترغیب دینا بھی ہے کہ جس کا اچھے اور پاکیزہ ذی علم لوگ خیر مقدم کر رہے ہیں حیف ہے اگر تم اس کی تکذیب کرو اور اس کی لائی ہوئی برکتوں سے محروم رہو۔ مخالفین کی طرف ایک اشارہ : وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ يُّنْكِرُ بَعْضَهٗ ، احزاب سے یہاں مراد مخالف پارٹیاں ہیں یعنی یہود، نصاری اور مشرکین عرب۔ ان کی مخالفت کی نوعیت بھی بالعموم یہ نہیں تھی کہ قرآن کے ہر حصہ سے ان کو اختلاف ہو۔ آخر ہر حصہ سے اس کے اختلاف کر بھی کس طرح سکتے تھے۔ قرآن کی تعلیمات اور تورات و انجیل کی تعلیمات میں اختلاف اصلاً تو انہی مواقع میں ہے جہاں اہل کتاب نے کوئی تحریف کر ڈالی ہے۔ مشرکین عرب کو بھی اصل اختلاف قرآن کی دعوت توحید سے تھا بقیہ چیزوں سے ان کے لیے بھی اختلاف کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ نصاریٰ میں سے پال کے معتقدین کا اختلاف بھی ان کے شرک ہی کی بنا پر تھا۔ قرآن نے ان کے اس اختلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پیغمبر ﷺ کو ہدایت فرمائی کہ جن کے ساتھ بنائے اختلاف توحید ہے ان کو تم صاف لظوں میں سنا دو کہ میں اللہ واحد ہی کی بندگی کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں مانتا، میری دعوت بھی اسی کی طرف اور میرا مرجع بھی اسی کی طرف ہے۔ یعنی میں اس وہم میں مبتلا نہیں ہوں کہ مجھے کسی اور حامی یا شفیع سے کوئی مدد مل سکے گی۔ یہ صاف صاف اعلان اسی لیے کرا دیا گیا کہ اگر ان پارٹیوں میں سے کسی کو یہ توقع ہو کہ وہ اپنا دباؤ ڈال کر نبی ﷺ کو کچھ نرم یا مرعوب کرسکے گی تو وہ اس طمع خام سے باز آجائے۔ " والیہ ماٰب " میں ترکیب کلام بعینہ وہی ہے جو اوپر " کان عقاب " میں گزر چکی ہے۔
Ayah 13:37

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی لیے ہم نے یہ کتاب ایک فرمان کی حیثیت سے عربی میں اتاری ہے اور اگر تم اس علم صحیح کے آجانے کے بعد ان کی بدعتوں کی پیروی کروگے تو نہ خدا کے مقابل میں تمہارا کوئی مددگار ہوگا نہ بچانے والا

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَاۗءَهُمْ بَعْدَمَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا وَاقٍ۔ یہ قرآن فرمان واجب الاذعان ہے : " کذلک " عربی میں ان معنوں میں بھی آتا ہے جن معنوں میں ہم چناچہ یا اسی لیے کے الفاظ بولتے ہیں۔ یہاں یہ اسی لیے کے مفہوم میں ہے۔ اوپر والی آیت میں پیغمبر ﷺ کو یہ حکم ہوا ہے کہ قُلْ اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَلَآ اُشْرِكَ بِهٖ ۭ اِلَيْهِ اَدْعُوْا وَاِلَيْهِ مَاٰب، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی امر و حکم کی دعوت و اشاعت کے لیے ہم نے تم پر یہ کتاب اتاری ہے " حکما عربیا " یہ اس کتاب کی حیثیت واضح فرمائی ہے کہ یہ " حکم " ہے یعنی ایک فیصلہ ناطق اور فرمان واجب الاذعان اور عربی میں ہے اس لیے ان تمام لوگوں پر جن کی زبان عربی ہے یہ احسان بھی ہے اور اتمام حجت بھی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی درخواست اور التجا نہیں ہے بلکہ واجب الاطاعت فرمان ہے تمہارے لیے بھی اور اہل عرب کے لیے بھی۔ اگر اس کی تعمیل نہ کی گئی تو مہلت کی ایک مدت گزر جانے کے بعد ان سب لوگوں کو، جو اس کی اطاعت سے انکار کریں گے، اسی انجام سے دوچار ہونا پڑے گا جس سے رسولوں کے مکذبین و مخالفین کو دو چار ہونا پڑا۔ یہ حقیقت ہم اس کے محل میں واضح کرچکے ہیں کہ رسول جس قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے اس کے لیے وہ بمنزلہ عدالت الٰہی ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کے پاس کوئی درخواست لے کر نہیں بلکہ خدا کا فرمان لے کر آتا ہے جس کی تعمیل واجب اور جس کی نافرمانی مستوجب سزا ہوتی ہے۔ خطاب پیغمبر سے، عتاب مشرکین پر : َلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَاۗءَهُمْ بَعْدَمَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ۔۔۔ الایۃ۔ " اھواء " سے مراد جیسا کہ ہم مختلف مقامات میں واضح کرچکے ہیں۔ " بدعتیں " ہیں اس لیے کہ بدعتوں کی بنیاد علم پر نہیں بلکہ خواہشوں ہی پر ہوتی ہے۔ یہاں خاص طور پر اہل عرب کی مشرکانہ بدعات کی طرف اشارہ ہے۔ " العلم " سے مراد یہاں وہ صحیح علم ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن میں کی شکل میں نازل ہوا۔ پیغمبر ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ اس فرمان عربی اور اس علم صحیح کے نازل ہوجانے کے بعد اگر تم نے ان مشرکوں کی مشرکانہ بدعات کی پیروی کی تو تم کو خدا کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہ بن سکے گا۔ اس آیت میں باعتبار الفاظ اگرچہ خطاب پیغمبر ﷺ سے ہے لیکن اس میں ہی عتاب ہے اس کا رخ تمام مشرکین کی طرف ہے۔ پیغمبر کو مخاطب کر کے یہ بات کہنے میں جو بلاغت ہے وہ یہ ہے کہ سننے والے اچھی طرح متنبہ ہوجائیں کہ اس حکم کی خلاف ورزی کرکے جب پیغمبر بھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔ تو تا بہ دیگراں چہ رسد !
Ayah 13:38

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بھی رسول بھیجے اور ان کو بیویاں اور اولاد بھی عطا فرمائیں۔ اور کسی رسول کے اختیار میں یہ نہیں کہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی لا سکے۔ ہر چیزس کے لیے ایک وقت اور ہر وقت کے لیے ایک نوشتہ ہے

آگے کا مضمون۔ آیات 38 تا 43:۔ خاتمہ سورة : آگے کی آیات خاتمہ سورة کی حیثیت رکھتی ہیں۔ نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان مخالفین کے نت نئے اعتراضات اور مطالبہ معجزات سے تم پریشان نہ ہو۔ تم اپنا کام کیے جاؤ اور مطالبہ معجزات کے معاملے کو ہمارے اوپر چھوڑو۔ ان لوگوں کو نظر نہیں آ رہا ہے لیکن غلبہ حق کے آثار خود اس سرزمین میں بھی نمایاں ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ خدا کی بات شندی ہے اور کوئی اس کے فیصلہ کو روک نہیں سکتا۔ جس طرح کی چالیں یہ چل رہے ہیں اس طرح کی چالیں چلنے وال پہلے بھی گزرے ہیں۔ خدا ان کی چالوں کے سارے تار و پود بکھیر دے گا اور عنقریب ان پر واضح ہوجائے گا کہ انجام کار کی کامیابی کس کو حاصل ہوتی ہے۔ اگر یہ تمہیں رسول نہیں مانتے تو کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ اور حاملین علم کتاب کی گواہی کافی ہے۔ آیات کی تلات فرمائیے : وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّيَّةً ۭ وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ۔ دو اعتراضوں کے جواب : اس آیت میں مخالفین کے دو اعتراضوں کے، بغیر ان کو نقل کیے، جواب دیے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ اللہ کے رسول ہونے کا دعوی کرتے ہیں، اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا تو کیا وہ ہمارے ہی جیسے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجتا، اس کے پاس فرشتوں کی اتنی بڑی فوج ہے آخر ان میں سے کسی کو اس منصب کے لیے اس نے کیوں نہ منتخب کیا ؟ دوسرا یہ کہ یہ ہم کو دھمکی سنا رہے ہیں کہ اگر ہم نے ان کی بات نہ مانی تو ہم پر اللہ کا عذاب آجائے گا۔ اگر یہ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں تو آخر یہ ہم کو کوئی ایسی نشانی عذاب کیوں نہیں دکھاتے جس سے ہم پر بھی یہ واجح ہوجائے کہ فی الواقع اگر ہم نے ان کی بات نہ مانی تو ہم پر قہر الٰہی ٹوٹ پڑے گا۔ ان میں سے پہلے اعتراض کا جواب یہ دیا کہ تم دنیا میں پہلے رسول نہیں ہوں، تم سے پہلے بہت سے رسول آچکے ہیں۔ وہ سب بشر ہی تھے ان میں کوئی بھی مافوق البشر نہیں تھا۔ سب بیوی بچے رکھتے تھے اور اسی طرح کھاتے پیتے تھے جس طرح تم کھاتے پیتے ہو۔ دوسرے اعتراض کا جواب یہ دیا کہ کوئی نشانی اور معجزہ دکھانا رسول کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اس کا انحصار اللہ کے اذن اور اس کی حکمت پر ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لیے اپنی حکمت کے تحت ایک وقت مقرر کر رکھا ہے اور ہر مقررہ ساعت کے لیے ایک نوشتہ ہے۔
Ayah 13:39

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاتا ہے باقی رکھتا ہے اور اصل کتاب اسی کے پاس ہے

يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ ښ وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ۔ " ویثبت " یعنی " یثبت ما یشاء "۔ اس نوشتہ پر تمام تر اختیار اللہ ہی کا ہے۔ اس میں ہر محو و اثبات اور ہر اخراج و اندراج صرف اسی کی حکمت و مشیت کے تحت ہوتا ہے کسی دوسرے کو اس میں کوئی دخل نہیں اور اصلی کتاب اسی کے پاس ہے، کسی دوسرے کی اس تک رسائی نہیں۔
Ayah 13:40

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور جس چیز کی ہم ان کو دھمکی دے رہے ہیں اس کا کچھ حصہ یا تو ہم تم کو دکھا دیں گے یا ہم تم کو وفات دے دیں گے۔ پس تمہارے اوپر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے، حساب کی ذمہ داری ہم پر ہے

وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ۔ عذاب کا وقت خدا کی یمشیت و حکمت کے مطابق : یعنی جس عذاب کی ہم ان کو، تمہاری تکذیب کی صورت میں، دھمکی سنا رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ اس کا کوئی نمونہ تمہاری زندگی ہی میں ہم دکھا دیں۔ یا تم کو تو وفات دے دیں اور تمہاری وفات کے بعد ان کو اس کا مزہ چکھائیں۔ اس امر کا تمام تر انحصار ہماری مشیت و حکمت پر ہے۔ اس معاملے میں نہ تم کو کوئی دخل ہے اور نہ تمہیں اس کے لیے پریشان ہونا اہیے۔ تم پر ذمہ داری صرف ان لوگوں کو ہماری بات پہنچا دینے کی ہے، ان سے مواخذہ و محاسبہ کرنا ہمارا کام ہے۔
Ayah 13:41

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 13:41 in the Quran reader

کیا وہ یہ نہیں دیکھ رہے کہ ہم سرزمین کی طرف اس کو اس کے اطراف سے کم کرتے ہوئے بڑھ رہے ہیں۔ فیصلہ اللہ کرتا ہے اور کوئی اس کے فیصلہ کو ہٹانے والا نہیں۔ اور وہ بہت جلد حساب چکا دینے والا ہے

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا ۭوَاللّٰهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ ۭ وَهُوَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۔ " الارض " سے مراد مکہ ہے : " الارض " سے مراد یہاں سرزمین مکہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان کو اسلام کے غلبہ اور خود ان کی اپنی ہزیمت کی کوئی نشانی ہی مطلوب ہے تو وہ اس امر واقعی کو کیوں نہیں دیکھتے کہ اسلام کی دعوت بالتدریج مکہ کے اطراف کو فتح کرتی ہوئی سرزمین مکہ کی طرف بڑھ رہی ہے اور وہ دن دور نہیں ہے جب وہ اس سرزمین کو بھی زیر نگیں کرلے گی۔ اسلام کے تدریجی عروج اور مکہ کے اطراف کے قبائل اور مدینہ میں اس کی اشاعت کو اللہ تعالیٰ نے مکہ کی طرف اپنے اقدام سے تعبیر فرمایا ہے اور یہ تعبیر ایک حقیقت ہے۔ اسلام کی دعوت کا آغاز تو مکہ سے ہوا لیکن قریش پوری قوت اور ہر نوع کے ظلم و ستم سے اس کو دبا دینے پر تل گئے لیکن حق کی آواز دبتی نہیں۔ آہستہ آہستہ اطراف کے قبائل کے بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہوگئے اور مدینہ میں تو اس کو وہ فروغ ہوا کہ بالآخر اسی شہر کو اللہ تعالیٰ نے دارالہجرت ہونے کا شرف عطا فرمایا۔ دعوت کے اس دور میں، اہل کتاب میں سے بھی، جیسا کہ اوپر گزرا۔ اسلام کے حق میں کلمہ خیر کہنے والے پیدا ہوگئے تھے۔ الغرض اسلام کو دا پنے گھر میں تو اس دور میں مظلوم رہا لیکن باہر اس کو فروغ حاصل ہورہا تھا اور قبیلے کے قبیلے قریش کی سیادت اور ان کے دین شرک سے نکل کر اسلام کی اطاعت میں داخل ہو رہے تھے۔ اسی صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر کفار کو کوئی نشانی ہی مطلوب ہے تو وہ اس نشانی پر کیوں نہیں غور کرتے۔ َا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ ۭ وَهُوَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ ، یعنی اسلام کا یہ غلبہ ایک فیصلہ الٰہی ہے، یہ ہو کے رہے گا اور کسی کی یہ طاقت نہیں کہ وہ اس قضائے مبرم کو ٹال سکے۔ اور مزید آنکہ اس میں اب زیادہ دیر نہیں ہے۔ جلد وہ وقت آ رہا ہے جب یہ سارا حساب چکا دیا جائے گا۔ بعینہ یہی مضمون سورة انبیاء میں بھی بیان ہوا ہے۔ اس آیت کو بھی سامنے رکھ لیجیے۔ قریش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوا۔ " بل متعنا ھؤلاء و آباءہم حتی طال علیہم العمر افلا یرون انا ناتی الارض ننقصہا من اطرافہا۔ افہم الغالبون : بلکہ ہوا یہ کہ ہم نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو بھی اپنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا یہاں تک کہ اسی حال میں ان پر ایک طویل مدت گزر گئی (اس وجہ سے یہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ یہ اسی طرح ہمیشہ غالب و سربلند رہیں گے) کیا وہ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہم ان کی سرزمین کی طرف اس کو اس کے اطراف سے کم کرتے ہوئے بڑھ رہے ہیں (تو کیا یہ علامت اس بات کی ہے کہ) وہی غالب رہنے والے ہیں " (الانبیاء :44) اسلام کی دعوتی فتوحات : غالباً اسی آیت کی بنا پر بعض لوگوں نے اس سورة کو مدنی قرار دیا ہے۔ انکا ذہن اس طرف گیا کہ " ننقصہا من اطرافہا " سے اشارہ مسلمانوں کی جہادی فتوحات کی طرف ہے اور جہادی فتوحات کا تعلق چونکہ مدنی دور ہی سے ہے اس وجہ سے یہ سورة ان کے نزدیک دنی ہوئی۔ لیکن ہمارے نزدیک اس سے اشاہ اسلا کی دعوتی فتوحات کی طرف ہے۔ پھر اوپر آپ نے دیکھا کہ بعینہ یہی آیت، تھوڑے سے تغیر الفاظ کے ساتھ، سورة انبیاء میں بھی ہے جو بالاتفاق مکی ہے۔ البتہ ان الفاظ سے یہ بات ضرور نکلتی ہے کہ یہ سورة مکی زندگی کے اس دور سے تعلق رکھتی ہے کہ جب کہ کے اطراف کے قبائل اور مدینہ میں اسلام کی دعوت زور پکڑ رہی تھی اور قریش کی سیادت کی چولیں ڈھیلی ہو رہی تھیں بالخصوص آنحضرت ﷺ اور کمزور مسلمانوں پر ان کے مظالم نے ان کی اخلاق ساکھ مکہ سے باہر والوں کی نظر میں بالکل ہی گرا دی تھی۔
Ayah 13:42

وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًا١ؕ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ Open ayah 13:42 in the Quran reader

جو ان سے پہلے گزرے انہوں نے بھی چالیں چلیں لیکن چالیں سب اللہ کے اختیار میں ہیں۔ ہر جان جو کچھ کرتی ہے اس کو وہ جانتا ہے اور یہ کافر جلد جان لیں گے کہ دار آخرت کی کامیابی کس کے لیے ہے

وَقَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِيْعًا ۭ يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ ۭ وَسَيَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ۔ اب یہ فرمایا کہ جس قسم چالیں اسلام اور پیغمبر کے خلاف یہ چل رہے ہیں اسی قسم کی چالیں ان سے پہلے کی قومیں اپنے اپنے پیغمبروں کے خلاف چل کے اس کا انجام دیکھ چکی ہیں۔ یہ بھی وہی انجام دیکھنے والے ہیں۔ ساری چالیں خدا کے اختیار میں ہیں، ہر جان جو کچھ کرتی ہے اللہ اس سے پوری طرح باخبر رہتا ہے۔ کوئی چیز بھی اس کے اختیار اور علم سے باہر نہیں۔ وَسَيَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ ، یعنی دنیا میں تو ان کا جو انجام ہونا ہے وہ اوپر کی آیات میں بتا دیا گیا۔ آخرت میں جو انجام سامنے آنے والا ہے وہ بھی جلد جان لیں گے کہ آخرت کی فیروزمندی کس کو حاصل ہوتی ہے۔
Ayah 13:43

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا١ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ۙ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ Open ayah 13:43 in the Quran reader

اور یہ کافر کہتے ہیں کہ تم خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہو۔ کہہ دو میرے اور تمہارے درمیان اللہ اور وہ لوگ گواہی کے لیے کافی ہیں جن کے پاس کتاب کا علم ہے

وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا ۭ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۙ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۔ یعنی یہ سارے دلائل و شواہد سننے اور دیکھنے کے باوجود اگر یہ کفار یہی کہتے ہیں کہ تم فرستادۂ خدا نہیں ہو تو ان سے مزید بحث کی ضرورت نہیں۔ ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا کی گواہی کافی ہے اور ان لوگوں کی جو کتاب الٰہی کے علم کے سچے حامل ہیں۔ یہ اشارہ اہل کتاب میں سے ان علماء کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر آیت 36 میں گزرا۔ اس سورة کی تفسیر میں یہ آخری سطریں ہیں جو اس بےمایہ کے قلم سے حوالۂ قرطاس ہوئیں۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔