Ayah 14:1الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ ڏ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ اِلٰي صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ۔
الرا، حروف مقطعات پر جامع بحث سورة بقرہ کے شروع میں ملاحظہ فرمائیے۔
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ
ظلمت اور نور سے مراد : ظلمات سے مراد عقائد و اعمال کی تاریکیاں اور نور سے مراد ایمان و عمل صالح کی روشنی ہے۔ گمراہی کے ہزاروں راستے ہیں لیکن ہدایت کی راہ ایک ہی ہے اس وجہ سے ظلمات جمع ہے اور نور واحد۔
ہدایت خدا کی توفیق بخشی پر منحصر ہے : " بِاِذْنِ رَبِّھِمْ " یعنی یہ تاریکیوں سے کل کر روشنی کی طرف آتا جن کو بھی میسر ہوگا خدا کی توفیق بخشی ہی سے میسر ہوگا۔ وہی اپنی سنت کے مطابق جن کو ہدایت کا اہل پائے گا ان کو ہدایت بخشے گا اور جن کو اس کا اہل نہیں پائے گا ان کو ان کی گمراہی میں بھٹکتا چھوڑ دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کی ذمہ داری اس معاملے میں صرف تبلیغ و دعوت کی ہے۔ لوگوں ہدایت کی راہ پر لاکھڑے کرنا اس کی ذمہ داری ہی نہیں ہے۔
عزیز اور حمید کا مفہوم : اِلٰي صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ ، یہ نور کی وضاحت فرما دی گئی ہے کہ اس سے مراد وہ راستہ ہے جو خدائے عزیز وحمید کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ عزیز یعنی سب پر غالب و مقتدر، اس وجہ سے وہی سزاوار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ حمید یعنی تمام جودوکرم کا منبع اس وجہ سے ہی حق دار ہے کہ اس کی حمد کی جائے اور اس سے امیدیں باندھی جائیں۔
Ayahs 14:2–3تفسیر آیت 2 تا 3:۔ اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَافِي السَّمٰوٰتِ وَمَافِي الْاَرْضِ ۭ وَوَيْلٌ لِّلْكٰفِرِيْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيْدِۨ۔ الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَي الْاٰخِرَةِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَھَا عِوَجًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ۔
دنیوی مفادات ہدایت کے لیے حجاب : یعنی اس خدا کے استہ کی طرف جو تنہا آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے۔ اس وجہ سے جو لوگ آج اپنے مزعومہ شریکوں کے اعتماد پر اس صحیفہ ہدایت کا انکار کر رہے ہیں وہ اپنے لیے ایک عذاب شدید کی تباہی کو دعوت دے رہے ہیں۔ الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَي الْاٰخِرَةِ یہ ان کے اصل سبب انکار سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ باتیں تو وہ جو چاہیں بنا لیں لیکن اصل چیز جو ان کے اور اس صحیفہ ہدایت کے درمیان حجاب نہی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ آخرت کی خاطر اپنے دنیوی مفادات قربان کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ، چناچہ وہ خود بھی اللہ کی راہ سے روگردان ہیں اور دوسروں کو بھی، جہاں تک ان کا زور چلتا ہے، اس سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وَيَبْغُوْنَھَا عِوَجًا، یعنی خدائے عزیز وحمید کی طرف لے جانے والی سیدھی راہ کو کج کرکے اپنے مزعومہ معبودوں کی طرف موڑ رہے ہیں اور لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ خدا تک اگر پہنچا جاسکتا ہے تو انہی پر پیچ پگ ڈنڈیوں سے ہو کر پہنچایا جاسکتا ہے تو انہی پرپیچ پگ ڈنڈیوں سے ہو کر پہنچا جاسکتا ہے۔ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ ، یعنی اپنی ان حرکتوں کے سبب سے وہ اصل شاہراہ سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔
Ayah 14:4وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۭ فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔
یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان کا اظہار فرمایا ہے جو اس صحیفہ ہدایت کو عربی میں اور رسول کو خود ان کی قوم کے اندر سے مبعوث فرما کر اس نے ان کے اوپر کیا ہے اور مقصود اس سے ان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ انہیں اللہ کی اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے کہ اس نے انہی کے اندر کے ایک فرد کے زریعہ سے انہی کی زبان میں اپنا صحیفہ اتارا تاکہ وہ اللہ کی ہدایت کو لوگوں پر اچھی طرح واضح کردے۔
ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی : فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔ یہ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت واضح فرمادی ہے کہ وہی جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ تمہارا کام اللہ کی باتوں کو اچھی طرح واجح کردینا ہے وہ تم نے کردیا ہے اور کررہے ہو، رہا لوگوں کا ایمان لانا یا نہ لانا تو یہ خدا کی مشیت پر منحصر ہے اور خدا عزیز و حکیم ہے۔ یعنی اس کی ہر مشیت اس کی حکمت کے ساتھ ہے۔ جو لوگ اس کی حکمت کے تحت ہدایت پانے کے مستحق ٹھہریں گے وہ ہدایت پائیں گے اور جو لوگ اس کے مستحق نہیں ٹھہریں گے وہ اس سے محروم رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے اندر جو صلاحیتیں ودیعت فرمائی ہیں اگر ایک شخص ان سے فائدہ اٹھاتا ہے تو وہ مزید توفیق کا سزاوار قرار پاتا ہے اور اگر کوئی شخص ان کی قدر نہیں کرتا تو مزید پانا تو الگ رہا جو اس کی دی گئی ہوتی ہیں وہ بھی اس سے سلب ہوجاتی ہیں۔ اس سنت الٰہی کی وضاحت ہم ایک سے زیادہ مقامات میں کرچکے ہیں۔
Ayah 14:5آگے کا مضمون۔ آیات 5 تا 8:۔ آگے حضرت موسیٰ کی سرگزشت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی مقصد سے مبعوث فرمایا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ چناچہ انہوں نے یہ کام کیا اور اللہ کی تائید و نصرت نے ان کو فرعونیوں کے پنجہ ستم سے نجات دلائی اور ساتھ ہی ان کو خدا کے اس فیصلہ سے بھی آگاہ فرما دیا کہ اگر تم نے اپنے رب کی نعمت کی قدر کی اور اس کے شکر گزار رہے تو تم پر مزید فضل ہوگا اور اگر تم نے ناشکری کی تو خدا کے سخت عذاب سے دوچار ہوگے۔ اس یاد دہانی سے مقصود ان یہود کو متنبہ کرنا تھا جو اسلام کی مخالفت کے جوش میں اپنا سارا وزن قریش کے پلڑے میں ڈال رہے تھے اور جس طرح قریش حضرت ابراہیم کی تعلیمات کو پس پشت ڈال چکے تھے اسی طرح یہود حضرت موسیٰ کی ان تنبیہات سے اپنے کان بند کیے ہوئے تھے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے :
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَآاَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَذَكِّرْهُمْ ڏ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ۔
" بایاتنا " یعنی عصا اور ید بیضا وغیرہ کی نشانیوں کے ساتھ جن کا دوسرے مختلف مقامات میں نہایت تفصیل سے ذکر ہوا ہے۔
ایام اللہ سے مراد : وَذَكِّرْهُمْ ڏ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ ، ایام کا لفظ جب اس طرح آتا ہے جس طرح یہاں آیا ہے تو اس سے خاص بڑے بڑے اہم تاریخی اور یادگار دن مراد ہوتے ہیں۔ مثلاً ایام العرب، کہیں تو اس سے عرب کی جنگیں مراد ہوں گی اسی طرح ایما اللہ سے مراد وہ یادگار تاریخی دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان قوموں پر عذاب نازل فرمائے اور اپنے باایمان بندوں کو ان کے ظلم و ستم سے نجات بخشی۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ ، یعنی موسیٰ کی اس سرگزشت میں ثابت قدم رہنے والوں اور شکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ حضرت موسیٰ نے جب دعوت حق بلند کی تو ان کو اور ان کی قوم کو فرعونیوں کے ہاتھوں بڑے بڑے مظالم سہنے پڑے لیکن بالآخر اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کو غرق کردیا اور بنی اسرائیل کو نجات بخشی۔ مطلب یہ ہے کہ اسی طرح مسلمانوں کے سامنے بھی اس وقت آزمائش کا مرحلہ ہے۔ اس مرحلہ سے اگر وہ ثابت قدمی سے گزر گئے تو کامیابی ان کے قدم چومے گی اور وہ اپنے رب کے افضال و عنایات پر شکر گزار ہوں گے۔
Ayah 14:6وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ ۭ وَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ۔
" اٰل " سے مراد اتباع اور پیرو : " ال فرعون " ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ لفظ " اٰل " سے مراد اتباع اور پیرو بھی ہوتے ہیں۔ یہ حضرت موسیٰ کی اس تقریر کا حوالہ ہے جو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے اس وقت فرمائی ہے جب ان کو اور ان کی قوم کو فرعونیوں کے چنگل سے نجات مل چکی ہے۔ اس تقریر سے حضرت موسیٰ کا مقصود اپنی قوم کو یہ یاد دلانا تھا کہ یہ بہت بڑی آزمائش تھی جس سے خدا نے محض اپنے فضل سے تمہیں نجات بخشی ہے تو اس فضل کو یاد رکھنا، خدا کے برابر شکر گزار رہنا، اس کو بھول کر پھر کہیں انہی سرمستیوں میں نہ کھو جانا جس کی سزا تمہیں فرعونیوں کے عذاب کی شکل میں ملی۔ حضرت موسیٰ کی اس تقریر کی یاد دہانی وقت کے بنی اسرائیل کو اس لیے کرائی گئی ہے کہ وہ متنبہ ہوں کہ وہ حضرت موسیٰ کی اس تلقین کو فراموش کرکے پھر شیطان کے راستہ پر چل پڑے ہیں اور اسلام کی مخالفت کرکے ازسرنو اپنی شامت کو دعوت دینا چاہتے ہیں۔
Ayah 14:7وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ۔
وقت کے بنی اسرائیل کو یاد دہانی : " تاذن " کے معنی باخبر اور آگاہ کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ موسیٰ نے تو وہ بات کہی تھی جو اوپر گزری اور ساتھ ہی تمہارے رب نے بھی تمہیں آگاہ کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ موسیٰ نے تو وہ بات کہی تھی جو اوپر گزری اور ساتھ ہی تمہارے رب نے بھی تمہیں آگاہ کردیا تھا کہ اگر تمیرے احکام و ارشادات کی پیروی کرکے میرے شکر گزار رہے تو میں تمہاری تعداد اور اپنے افضال و عنایات میں برابر اضافہ کروں گا اور اگر تم ناشکری اور نافرمانی کی راہ پر چل پڑے تو یاد رکھو کہ میرا عذاب بھی بڑا ہی سخت ہوگا۔ یہ بات بھی وقت کے بنی اسرائیل کو یاد دہانی کے لیے یہاں لائی گئی ہے اور " ربک " کے خطاب سے واضح ہے کہ یہ ان کو براہ راست مخاطب کرکے فرمائی گئی ہے۔
Ayah 14:8وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ۔
شکر گزاروں پر عنایتوں میں اضافہ : یعنی ساتھ ہی موسیٰ نے یہ تنبیہ بھی کردی تھی کہ خدا کی شکر گزاری کا یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں ہے کہ وہ اس کا محتاج ہے یا اس سے اس کی شان اور عظمت میں کوئی اضافہ ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز سے بےنیاز اور ہر حال میں ستودہ صفات ہے۔ یہ شکر گزاری خود بندوں ہی کے لیے موجب خیر و برکت ہے اس لیے کہ اس سے، جیسا کہ اوپر والی آیت میں مذکور ہے، اللہ تعالیٰ بندوں پر اپنی نعمتوں اور برکتوں میں اضافہ فرماتا ہے۔
Ayah 14:9آگے کا مضمون۔ آیات 9 تا 17:۔ آگے خطاب اگرچہ عام ہے لیکن روئے سخن مسلمانوں ہی کی طرف ہے۔ ان کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ تمام رسولوں اور ان کی قوموں کی سرگزشت اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ ہرچند راہ حق میں آزمائشیں بہت پیش آتی ہیں۔ یہاں تک کہ بسا اوقات اس راہ میں گھر در سب کچ چھوڑنا پڑتا ہے لیکن آخر کار کامیابی اہل ایمان ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ ټ وَالَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ړ لَا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ ۭ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرَدُّوْٓا اَيْدِيَهُمْ فِيْٓ اَفْوَاهِهِمْ وَقَالُوْٓا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَاِنَّا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ۔
قوم نوح اور عاد کے بعد کی بعض قوموں کا حوالہ : وَالَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ړ لَا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ ، یہ حوالہ ہے ان قوموں کا جو قوم نوح اور عاد اور ثمود کے بعد آئیں اور ان کے اندر اللہ نے اپنے رسول بھی بھیجے لیکن قرآن نے ان کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تاریخوں میں بھی ان کا کوئی قابل اعتماد تذکرہ موجود نہیں ہے۔ صحیح علم ان کا صرف اللہ ہی کو ہے۔ دوسرے مقام میں یہی بات یوں ارشاد ہوئی ہے۔ " ولقد ارسلنا رسلا من قبلک منہم من قصصنا علیہ و منہم من لم نقصص علیک : اور ہم نے تم سے پہلے بھی رسول بھیجے، ان میں سے کچھ کی سرگزشتیں ہم نے تم کو سنا دیں اور ان میں کچھ کی نہیں سنائی)۔
رسولوں کے منہ بند کرنے کی کوشش : فَرَدُّوْٓا اَيْدِيَهُمْ فِيْٓ اَفْوَاهِهِمْ ، یعنی انہوں نے اپنے رسولوں کے منہ بند کردینے کی کوشش کی۔ جب کوئی شخص کسی شخص کو بات کرنے سے، غصہ اور نفرت کے ساتھ روکنا چاہتا ہے تو اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیتا ہے کہ زبان بند کرو، مزید ایک حرف بھی زبان سے نہ نکالو، ردوا یہاں جعلوا کے معنی میں ہے اور اس معنی میں یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔
اِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَاِنَّا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ۔ یعنی جس پیغام انذار کے ساتھ تم خدا کی طرف سے بھیجے جانے کے مدعی ہو ہمیں اس سے صاف انکار ہے۔ نہ ہم تمہیں خدا کا رسول مانتے ہیں اور نہ تمہاری یہ دم کی ماننے کے لیے تیار ہیں کہ اگر ہم نے تماہری بات نہ مانی تو ہم تباہ کردیے جائیں گے۔ وانا لفی شک الایۃ اور یہ توحید اور قیامت پر ایمان لانے کی جو دعوت تم ہمیں دے رہے ہو تو اس باب میں بھی ہم سخت شک میں ہیں۔
Ayah 14:10قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ يَدْعُوْكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ قَالُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا ۭ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ۔
سوال استعجاب کی نوعیت کا : رسولوں کی طرف سے یہ سوال استعجاب کی نوعیت کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہیں آسمانوں اور زمین کے وجود میں لانے والے خدا کے باب میں شک ہے، خدا کو تو تم مانتے ہی ہو اور اسی کو آسمانوں اور زمین کا خالق بھی مانتے ہو، اسی کی دعوت ہم تمہیں دے رہے ہیں تو اس کے بارے میں تو کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اب رہے وہ جن کو تم نے خدا کا شریک بنا رکھا ہے تو ان سے ہم تم کو روکتے ہیں اس لیے کہ ان کے حق میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔
دعوت رحمت کے لیے : يَدْعُوْكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى۔ یعنی یہ دعوت، جو وہ ہمارے ذریعہ سے تمہیں دے رہا ہے، کوئی چرنے اور برہم ہونے کی بات نہیں ہے بلکہ یہ تمہارے حق میں ایک عظیم رحمت ہے۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ اگر تم یہ دعوت قبول کرلو تو وہ تمہارے گناہوں کو بخشے، تمہیں زندگی کی مہلت عطا فرمائے اور اس عذاب کو تم سے ہٹا لے جس کو تم نے اپنے شامت اعمال سے دعوت دے رکھی ہے اور جو ہماری تکذیب کی صورت میں لازماً تم پر آدھمکے گا۔
بشریت پر اعتراض : قَالُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا۔۔ الایۃ۔ یعنی اپنے رسولوں کے ان اراشادات کو سن کر اگر وہ بولے تو یہ بولے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو اور اپنی ان تقریروں سے تم ہمیں ہمارے ان معبودوں کی عبادت سے روک دینا چاہتے ہو جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے تو ایسی سنگین بات ہم اپنے ہی جیسے آدمیوں کی کس طرح مان سکتے ہیں۔ اگر تم اپنی بات منوانی چاہتے ہو تو کوئی ایسا معجزہ دکھاؤ جس کو دیکھ کر ہر شخص پکار اٹھے کہ بیشک تم خدا کے فرستادے ہو اور جو کچھ کہہ رہے ہو اسی کی طرف سے کہہ رہے ہو۔
Ayahs 14:11–12تفسیر آیات 11 تا 12:۔ قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭ وَمَا كَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَي اللّٰهِ وَقَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا ۭ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلٰي مَآ اٰذَيْتُمُوْنَا ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۔
رسولوں کا جواب : یہ رسولوں کا جواب نقل ہوا ہے کہ اگر تم کو ہماری بشریت پر اعتراض ہے تو ہم کو یہ اعتراف ہے کہ بلاشبہ ہم تمہاری ہی طرح بشر ہیں۔ ہم کو مافق بشر ہونے کا دعوی نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے انہی بندوں میں سے جو بشر ہوتے ہیں جن پر چاہتا ہے اپنا فضل فرماتا ہے اور ان کو نبوت و رسالت کے منصب پر سرفراز کردیتا ہے۔ ہم پر یہی فضل ہوا ہے۔ اس کے سوا ہم اور کسی چیز کا دعوی نہیں رکھتے۔
ہم دوسرے مقام پر یہ حقیقت واضح کرچکے ہیں کہ خدا کی ہر مشیت اس کی حکمت کے ساتھ ہے اس وجہ سے " علی من یشاء " کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ وہ جس کو چاہے پکڑ کے نبی اور رسول بنا دے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے جن کو اس منصب کے لیے اہل پاتا ہے ان میں سے جس کے لیے اس کی حکمت مقتضی ہوتی ہے اس کو اس کار عظیم کے لیے انتخاب فرماتا ہے۔ وَمَا كَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ، یعنی اگر ہماری بشریت کی بنا پر ہمارے ہاتھوں کو واض معجزہ دیکھے بغیر ہمیں رسول ماننے کے لیے تیار نہیں ہو تو یہ چیز ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ کوئی معجزہ تو ہم خدا ہی کے حکم سے دکھا سکتے ہیں۔ ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ سو تمہارے اس مطالبہ کو ہم اللہ کے حوالے کرتے ہیں، اگر وہ چاہے گا تو کوئی معجزہ دکھا دے گا اور اگر نہ چاہے گا تو نہ دکھائے گا۔ اہل ایمان کے شایان شان بات یہی ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات میں اللہ پر بھروسہ رکھیں۔
توکل کی بنیاد : وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَي اللّٰهِ وَقَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا۔۔ الایۃ، یہ خدا پر بھروسہ کرنے کی دلیل ارشاد ہوئی ہے کہ جن راستوں پر چلنے کی اس نے ہمیں خود ہدایت فرمائی ہے، ہمارا اعتماد ہے اور ہمیں اعتماد کرنا چاہیے کہ ان میں جو مزاحمتیں اور رکاوٹیں پیش آئیں گی ان کے دور کرنے میں وہ ہماری مدد اور رہنمائی فرمائے گا۔ انہی مزاحمتوں اور رکاوٹوں میں سے تمہارا یہ مطالبہ بھی ہے۔ ہم بھروسہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس معاملے میں بھی ہماری مدد فرمائے گا۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اس راستہ میں استقامت دکھائیں سو یہ عزم ہم رکھتے ہیں کہ تم جو ایذا بھی ہمیں پہنچاؤ گے ہم اس پر صبر کریں گے اور اللہ پر بھروسہ کریں گے، اس لیے کہ اللہ ہی کی ات ایسی ہے جس پر بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے۔
Ayahs 14:13–14تفسیر آیات 13 تا 14:۔ وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا ۭ فَاَوْحٰٓى اِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِيْنَ۔ وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ۭ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِيْ وَخَافَ وَعِيْدِ۔
رسولوں کو ان کی قوموں کی دھمکی : ہر رسول کی زندگی میں بالآخر یہ مرحلہ بھی پیش آیا ہے کہ اس کی دعوت سے تنگ آ کر اس کی قوم نے اس کو یہ نوٹس دے دیا کہ یا تو تم ہماری ملت میں واپس آجاؤ ورنہ ہم تمہیں اپنی سرزمین سے جلا وطن کردیں گے جب نوبت یہاں تک پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے رسولوں کو یہ بشارت دے دی ہے کہ ہم ان ظالموں ہی کو ہلاک کردیں گے اور ان کے بعد تمہیں زمین میں بسائیں گے۔ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِيْ وَخَافَ وَعِيْدِ۔ ، یعنی یہ عظیم بشارت ان کے لیے ہے جو میرے حضور پیشی اور میری وعید سے ایسے خائف رہے کہ ان کے مقابل میں انہوں نے کسی مصیبت اور کسی دھمکی کی بھی پروا نہیں کی۔ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا، سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ کوئی رسول اپنی زندگی کے کسی دور میں ملت جاہلیت کا پیرو بھی رہا ہے۔ انبیاء بعثت سے پہلے بھی فطرۃ اللہ پر قائم رہے لیکن چونکہ دعوت سے پہلے کی زندگی میں قوم کے لیے ان کے ساتھ عناد کی کوئی وجہ نہیں تھی اس وجہ سے قوم کے لوگ ان کو اپنی ہی ملت پر گمان کرتے رہے۔ بعد میں جب انہوں نے دعوت شروع کی تب قوم کے اشرار نے ان پر ملت سے انحراف کی بنا پر لعن طعن شروع کردیا۔
رسولوں کے پیرو وں کے لیے تنبیہ : ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِيْ وَخَافَ وَعِيْدِ۔ ، میں رسولوں کے پیرو وں کے لیے تنبیہ اور استقامت کی تلقین ہے۔ آیت زیر بحث میں رسولوں کو جو بشارت دی گئی ہے۔ اس میں چونکہ ان کے پیرو بھی شامل ہیں اس وجہ سے انہیں آگاہ کردیا گیا کہ یہ بشارت ان کے لیے ہے جو ہر قس کے مصائب کا مقابلہ کریں گے اور مخالفوں سے ڈر کر خدا کے خوف کو نظر انداز نہ کریں گے۔
Ayah 14:15وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ۔
رسول کی طرف سے فیصلہ حق و باطل کی دعا : کفار تکذیب کے جوش میں بار بار اپنے رسولوں سے یہ مطالبہ کرتے رہتے تھے کہ جس عذاب کی تم ہمیں بار بار دھمکی سنا رہے ہو وہ لادو تاکہ اس قضیہ کا فیصلہ ہوجائے لیکن اللہ کے رسول اپنی رافت کے سبب سے ان کے لیے یہی دعا کرتے تھے کہ ان کو ایمان لانے کی سعادت نصیب ہو۔ تاہم ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ بالآخر ایک مرحلہ وہ بھی آیا جب رسولوں نے بھی یہ دعا کی ہے کہ " ربنا افتح بیننا وبین قمنا بالحق وانت خیر الفاتحین : اے ہمارے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور تو بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے "
Ayahs 14:16–17تفسیر آیات 16 تا 17: سرکشوں کے لیے آگے کا عذاب : یعنی ایسے سرکشوں اور جباروں کے لیے اسی عذاب دنیا پر بس نہیں ہے بلکہ ان کے لیے آگے جہنم بھی تیار کھڑی ہے جہاں ان کو پیپ لہو پینے کو ملے گا لیکن پیاس کا یہ عالم ہوگا کہ وہ اس کے گھونٹ بھریں گے اور اس کو حلق سے اتارنے کی کوشش کریں گے لیکن اس کو اتار نہ پائیں گے۔ ان پر موت ہر جانب سے پلی پڑ رہی ہوگی لیکن ان کو موت نصیب نہیں ہوگی کہ اس عذاب سے چھٹکارا ملے اور اسی پر بس نہیں، آگے ان کے لیے مزید سخت تر عذاب موجود ہوگا۔
Ayah 14:18آگے کا مضمون۔ آیات 23 تا 18:۔ آگے کے احوال : آگے ان حالات کی تفصیل آرہی ہے جن سے ان کفار و مشرکین کو آخرت میں سابقہ پیش آئے گا۔ پیرو اپنے لیڈروں پر لعنت بھیجیں گے اور لیڈر اپنے پیرو وں پر یہاں تک کہ شیطان بھی اپنے پیچھے چلنے والوں کو صاف سنا دے گا کہ کوئی مجھے ملامت نہ کرے بلکہ جس نے میری پیروی کی ہے وہ آج اپنی بدبختی پر خود اپنا سر پیٹے۔ اس کے برعکس اہل ایمان کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ وہ جنت میں براجمان ہوں گے اور ان کے درمیان مبارک سلامت کے تبادلے ہو رہے ہوں گے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِۨ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ ۭ لَا يَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰي شَيْءٍ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ۔
شرک باعتبار حقیقت کفر ہے۔ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا، سے مراد وہ مشرکین ہی ہیں جو یہاں مخاطب ہیں۔ ہم دوسرے مقام میں یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ شرک اپنی حقیقت کے اعتبار سے کفر ہی ہے۔ دین میں خدا کا صرف وہی ماننا معتبر ہے جو کام توحید کے ساتھ ہو۔ اگر اس کی ذات یا صفات یا اس کے حقوق میں کسی اور کو شریک بنا کر اس کو مانا جائے تو یہ ماننا معتبر نہیں ہے۔ یہ اس کے انکار ہی کے ہم معنی ہے۔
مشرکین کے اعمال کی تمثیل : یہ ان مشرکین کے اعمال کی تمثیل ہے کہ قیامت کے دن اعمال کا یہ حال ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اعمال سے مراد یہاں ان کے وہ اعمال ہیں جو اپنی دانست میں انہوں نے نیکی کے اعمال سمجھ کر انجام دیے۔ فرمایا کہ قیامت کے روز ان کے اعمال راکھ کے ایک ڈھیر کی مانند ہوں گے جس پر کسی آندھی والے دن میں تند ہوا چل جائے اور وہ سب کو اڑا لے جائے۔ لَا يَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰي شَيْءٍ ، یعنی اس اسی کمائی میں سے، جو شرک کے ساتھ انہوں کی ہوگی کچھ بھی ان کے پلے پر نے والی نہیں، وہ ساری کی ساری خاک اور راک ہو کر اڑ جائے گی، صرف اس کا وبال ان کے حصہ میں آئے گا۔ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ۔ یعنی ایک گم شدگی، گمراہی اور محرومی تو وہ ہوتی ہے جس کے بعد لوٹنے اور راستہ پانے کا بھی امکان باقی رہ جاتا ہے لیکن یہ وہ دور کی گم شدگی اور محرومی ہے جس کے بعد لوٹنے اور پانے کا سرے سے کوئی امکان ہی باقی نہیں رہے گا۔ یہاں اسی سورة کی آیت 3 پر ایک نظر پھر ڈال لیجیے۔ اور اسی طرح کے لوگوں کے اعمال کی ایک نہایت اعلی تمثیل سورة نور کی آیت 39 میں بھی ہے۔
Ayahs 14:19–20تفسیر آیات 19 تا 20:۔ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ۭ اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ۔ وَّمَا ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ بِعَزِيْزٍ۔
قریش کو دھمکی : یہ واضح الفاظ میں قریش کو دھمکی ہے کہ تم نے اس امر پر غور نہیں کیا کہ یہ دنیا کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشا نہیں ہے بلکہ اللہ نے اس کو غایت و مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تمہارا وجود اس غایت و مقصد کے بالکل خلاف ہو کر رہ گیا ہے تو آخر وہ تم کو کس کام کے لیے اس زمین کی پشت پر لادے رکھے گا جب کہ اس کی قدرت کا یہ عالم ہے کہ اگر وہ چاہے تو ابھی چشم زدن میں تم سب کو فنا کردے اور ایک نئی مخلوق لا کھڑی کرے۔ وَّمَا ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ بِعَزِيْزٍ ، یعنی یہ نہ سمجھو کہ خدا کے لیے یہ کام کچھ مشکل ہے یا یہ اس پر کچھ گراں گزرے گا۔ اس کی قدرت کی بھی کوئی حد نہیں ہے اور رافت و رحمت کے ساتھ ساتھ وہ عدل و قسط کا قائم کرنے والا بھی ہے تو ان لوگوں کو فنا کردینا اس پر کیوں گراں گزرے گا جنہوں نے ہر شعبہ زندگی میں عدل و قسط کو بالکل مٹا کر رکھ دیا ہے۔
Ayah 14:21وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰۗؤُا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْٓا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ ۭ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَيْنٰكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْنَآ اَجَزِعْنَآ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِيْصٍ
آخرت کی حضوری : وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا۔ بروز کے اصل معنی پردہ کی اوٹ سے باہر آنے کے ہیں۔ یہاں اس لفظ کے استعمال میں یہ بلاغت ہے کہ ایک وقت آئے گا جب وہ سارے لوگ جو اس دنیا میں اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کو اوٹ اور سپر بنائے ہوئے ہیں اور وہ لوگ بھی جو سرپرست اور سپر نے ہوئے ہیں سب صرف خدائے واحد کے حضور حاضر ہوں گے اور وہاں کوئی کسی کا سرپرست، ساتھی اور مددگار نہ ہوگا۔ اس وقت چھوٹے اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم آپ لوگوں کے پیچھے چلنے والے رہے ہیں، جو کچھ آپ لوگوں نے حکم دیا ہم نے اس کی تعمیل کی جس کے نتیجہ میں یہ عذاب ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ ، تو کیا اس عذاب میں سے بھی آپ لوگو کچھ ہمارا بار ہلکا کریں گے ؟ ا گناہ عنہ کے معنی ہیں کفاہ،
لیڈروں کا جواب : قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ۔۔۔ الایۃ، بڑے اور لیڈر لوگ یہ جواب دیں گے کہ ہم جو کچھ خود تھے وہی ہم نے تم کو بھی بنایا۔ اگر ہم خود ہایت پر ہوتے تو تمہیں بھی اس کی راہ دکھاتے۔ اب تو شکوہ شکایت کا وقت گزر چکا، یہ تو نتائج بھگتنے کا وقت ہے اور یہ ایسے اٹل ہیں کہ خواہ ہم چیخیں چلائیں یا صبر کریں نہ یہ ٹلنے والے ہیں اور نہ ہمارے لیے کوئی راہ فرار باقی رہی ہے۔
Ayah 14:22وَقَالَ الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ ۭ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ مَآ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ ۭ اِنِّىْ كَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ ۭ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔
شیطان کا جواب : وَقَالَ الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ۔ یعنی جب ائمہ کفر اور ان کے پیرو وں کا قضیہ ختم ہوچکے گا اور شیطان دیکھ لے گا کہ ان کے ہاں کیا جوتیوں میں دال بٹی ہے تو اسے لازماً اندیشہ ہوگا کہ اب یہ دونوں فریق آپس کی جنگ سے فارغ ہو کر اس پر لعنت ملامت کے لیے پل پڑیں گے۔ چناچہ وہ پیش قدمی کرکے پہلے ہی ان کو چپ کرنے کی کوشش کرے گا۔ پہلی بات وہ یہ کہے گا کہ خدا نے جو وعدہ جزا و سزا کا تم سے کیا تھا وہ سچا وعدہ تھا چناچہ اس نے اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ اس کو پوا کردکھایا البتہ میں نے جو سبز باغ تمہیں دکھائے تھے وہ محض جھوٹ اور فریب تھے چناچہ میں نے ان میں سے کوئی وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔ اس کی دوسری بات یہ ہوگی کہ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ۔ کہ بہرحال مجھے تم کو گمراہی کے راستے پر ڈال دینے کا کوئی اختیار نہیں تھا اگر کوئی اختیار حاصل تھا تو وہ صرف اس قدر تھا کہ میں تمہیں گمراہی کی دعوت اور ترغیب دے سکوں۔ اس گمراہی کو اگر تم نے اختیار کیا تو اپنی پسند اور اپنے اختیار سے کیا تو اس باب میں مجھے کوئی ملامت نہ کرنا بلکہ خود اپنے ہی کو ملامت کرنا۔ تیسری بات وہ یہ کہے گا کہ مَآ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ ۭ اِنِّىْ كَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ۔ اب ایک دوسرے کو لعنت ملامت کرنے سے کچھ حاصل نہیں، اب میں نہ تمہاری کوئی فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری کوئی فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری کوئی فریاد رسی کرسکتے ہو تو قبل اس کے کہ تم مجھے کوئی ملامت شروع کرو تم نے جو مجھے شریک خدا بنایا اور اطاعت میں مجھے اس کا شریک ٹھہرایا میں نے اس سے اپنی براءت کا اعلان کردیا۔
Ayah 14:23وَاُدْخِلَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ۭ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ۔
اہل ایمان کا انجام : اہل کفر و شرک کا انجام واضح کردینے کے بعد یہ اہل ایمان کا انجام بیان ہوا کہ وہ جنت میں ہوں گے اور وہاں وہ ایک دوسرے کو اہلاً و سہلاً ، احسنت و مرحبا اور سلام و رحمت کے ساتھ خیر مقدم کریں گے اس لیے کہ انہوں نے ایک دوسرے کو صحیح مشورے دیے جن کا انجام ان کے سامنے بہتر سے بہتر شکل میں موجود ہوگا۔ اوپر کفار کی باہمی لعن طعن کے مقابل میں رکھ کے اس آیات کو پڑھیے تب اس کا اصل زور سامنے آئے گا۔
Ayahs 14:24–25آگے کا مضمون۔ آیات 24 تا 27:۔ توحید اور شرک کی تمثیل : اوپر کی آیات میں شرکیہ و کفریہ اعمال کی تمثیل بیان ہوئی۔ اب آگے کی آیات میں شرکیہ عقائد و نظریات اور اور توحید اور اس پر مبنی عقائد و نظریات کی تمثیل بیان ہورہی ہے۔ تاکہ واضح ہوسکے کہ شریک کی کوئی بنیاد نہ عقل و فطرت کے اندر ہے اور نہ خدا کے ہاں اس کی کوئی جڑ ہے اس وجہ سے اس پر بنی اعمال سب ہوا میں اڑ جائیں گے۔ اس کے برعکس توحید کی بنیاد عقل و فطرت میں بھی ہے اور عند اللہ بھی اس کی بنیاد ہے، زمین بھی اس کی جڑیں گہری اتری ہوئیں ہیں اور فضا میں بھی اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں، اس وجہ سے جو لوگ توحید پر قائم ہیں اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت دونوں میں رسوخ قدم اور تمکن بخشے گا۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
تفسیر آیات 24 تا 25:۔۔ الم تر۔ کا خطاب : اَلَمْ تَرَ ، اگرچہ لفظ واحد ہے لیکن اس کا خطاب عام ہے۔ گویا مخاطب گروہ کے ایک ایک شخص کو فرداً فرداً خطاب کرکے آگے آنے والے تمثیلات پر غور کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔
" کلمہ طیبہ سے مراد : کلمہ چیبہ سے کلمہ توحید اور اس کے پر مبنی عقائد و نظریات مراد ہیں۔
" شجرہ طیبہ " سے مراد : " شجرۃ طیبہ، وہ درخت جو مثمر، سایہ دار، نفع بخش اور بابرک ہو۔
مقابل الفاظ کا حذف : " اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُهَا فِي السَّمَاۗءِ میں مذکورہ الفاظ کے مقابل الفاط محذوف ہیں۔ مثلاً پہلے جملہ میں " ثابت " کا لفظ ظاہر فرمایا تو دوسرے ٹکڑے میں " فرعہا " کے بعد اس کا مقابل لفظ " عال " یا اس کے ہم معنی کوئی لف طحذف کردیا۔ اسی طرح دوسرے جملے میں " فی السماء " کو ظاہر فرمایا تو پہلے ٹکڑے میں " ثابت " کے بعد فی الارض محذوف کردیا۔ اس قسم کے حذف کی مثالیں قرآن مجید اور عربی ادب میں بہت ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ الفاظ کم استعمال ہوتے ہیں اور معانی ان کے اندر یادہ سما جاتے ہیں۔ ان محذوفات کو کھول کر اس کا ترجمہ کیجیے تو ترجمہ یہ ہوگا۔ اس کی جڑ زمین کی تہوں میں اتری ہوئی اور اس کی شاخیں فضائے آسمانی میں پھیلی ہوئی ہیں۔ لفظ سماء جس طرح آسمان کے لیے آتا ہے اسی طرح فضا کے لیے بھی اس کا استعمال معروف ہے۔ درخت چونکہ زمین اور فضا دونوں سے غذا اور قوت حاصل کرتا ہے اس لیے فرمایا کہ " اصلہ اثابت و فرعہا فی اسلماء " یعنی زمین میں اس کی جڑی اتری ہوئی ہونے کے سبب سے زمین سے بھی اسے پوری غذا مل رہی ہے اور شاخیں فضا میں پھیلی ہوئی ہونے کی وجہ سے فضا بھی اس کی پرورش میں پورا پورا حصہ لے رہی ہے۔
کلمہ توحید سدا بہار ہے۔ تُؤْتِيْٓ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍۢ بِاِذْنِ رَبِّهَا۔ یہ اس درخت کے سدا بہار ہونے کی تعبیر ہے۔ یعنی اس درخت پر کبھی خزاں نہیں آتی بلکہ یہ اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ پھل دتیا ہے۔
کلمہ توحید کی تمثیل : کلمہ توحید کی تمثیل ایک ایسے درخت سے دے کر قرآن نے ایک حقیقت تو یہ واضح فرمائی کہ اس کی جڑیں انسانی عقل و فطرت کے اندر بھی گہری اتری ہوئی ہیں اور عندا للہ بھی یہ سب سے زیادہ قدروقیمت رکھنے والی حیقت ہے۔ گویا زمین و آسمان دونوں میں جو مقام اس کو حاصل ہے وہ کسی اور چیز کو حاصل نہیں۔ دوسر حقیقت یہ واضح فرمائی کہ اس کو انسانی فطرت کے اندر سے بھی برابر غذا اور قوت حاصل ہوتی رہتی ہے اور اوپر سے بھی بھرابر ترشحات اس پر نازل ہوتے رہتے ہیں جو اس کو ہمیشہ سرسبز و شاداب رکھتے ہیں۔ تیسری حقیقت یہ واضح فرمائی کہ اس کی برکات ابدی اور دائمی ہیں۔ اس کا فیض ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ جس کے سینہ میں یہ نور موجود ہے وہ ہیشہ آسودہ اور شاد کام رہتا ہے۔
مخاطبوں کو تنبیہ اور احسان کی یاد دہانی :ۭ وَيَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۔ یہ اللہ تعالیٰ نے مخاطبوں یعنی قریش کو متنبہ بھی فرمایا ہے اور ان کو اپنے احسان کی یاد دہانی بھی فرمائی ہے کہ یہ تمثیلیں ہم ان کو اس لیے سنا رہے ہیں کہ وہ چیتیں اور سوچیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو کس مقام بلند کی سرفرازی بخشنا چاہتا ہے لیکن وہ ہیں کہ اسی جوہر میں پڑ رہنا چاہتے ہیں جس میں شیطان نے ان کو دھکیل رکھا ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ تمثیلوں میں چونکہ حقائق مجاز کا جامہ اختیار کرلیتے ہیں اس وجہ سے تقریب فہم کے پہلو سے ان کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء اور داعیان حق نے اس سے بڑا کام لیا ہے لیکن افسوس ہے کہ نادانوں نے کبھی اس کی قدر نہیں کی۔
Ayah 14:26وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِۨ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ۔
کلمہ خبیثہ سے مراد : کلمہ خبیث سے مراد کلمہ شرک اور مبنی بر شرک و کفر عقائد و نظریات ہیں۔
شجرہ خبیثہ سے مراد : شجرۃ خبیثۃ۔ جھا جھنکاڑ کے قسم کا دخت جس میں نہ پھول نہ پھل نہ سایہ نہ غذا۔ ہاتھ لگائیے تو اس کے کانٹے ہاتھوں کا زخمی کرے، چکھیے تو اس کی تلخی سے زبان اینٹھ جائے، پاس بیٹھیے تو اس کی بو سے قوت شامہ ماؤف ہو کے رہ جائے۔ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ۔ یعنی زمین میں اس کی کوئی جڑ نہیں۔ اکھاریے تو زمین کے اوپر ہی سے اس کو اکھاڑ لیجیے۔ اس میں ذرا ثبات نہیں اور جس کے لیے زمین میں ثبات نہیں اس کے لیے فضا میں پھیلنے کا کوئی امکان ہی نہیں۔
کلمہ شرک کی تمثیل : پھر کلمہ شرک کی تمثیل بیان ہوئی کہ اس کی مثال خود رو، خاردر، بدبودار، بےفیض و بےثمر جھاڑیوں کی ہے۔ نہ ان کی کوئی گہری جڑ ہوتی ہے نہ فضا میں ان کا کوئی پھیلاؤ ہوتا۔ کوئی اکھاڑنا چاہے تو اوپر ہی سے ان کو اکھاڑ کے رکھ دے۔ اس تمثیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ شرک کی کوئی بنیاد نہ عقل و فطرت کے اندر ہے نہ خدا کے اتارے ہوئے دین میں۔ یہ خود رو خبیث جھاڑیوں کی طرح جہاں جگہ پا جاتا ہے وہاں اگر پڑتا ہے۔ اگر اس کو اکھاڑنے والے ہاتھ موجود ہوں تو بڑی آسانی سے اس کو اکھاڑ کے پھینک سکتے ہیں لیکن اکھاڑنے والے ہاتھ موجود نہ ہوں تو پھر یہ بہت سی جگہ گھیر لیتا ہے۔
اہل ایمان کے لیے بشارت : اس میں اہل ایمان کے لیے یہ بشارت بھی ہے کہ ان کے ارد گرد شرک و کفر کے جو جھاڑ جھنکار پھیلے پھیلے ہوئے ہیں ان کی عمر اب زیادہ نہیں ہے۔ خدا نے وہ ہاتھ پیدا کردیے ہیں جو ان ناپائیدار اور خبیث جھاڑیوں سے بہت جلد اس سرزمین کو پاک کردیں گے۔
Ayah 14:27يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ ڐ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ۔
" کلمہ ثابت " سے مراد کلمہ توحید ہے : قول ثابت سے مراد وہی کلمہ توحید ہے جس کی آسمان و زمین اور فطرت و کائنات دونوں میں پائداری و استواری کی تعریف اوپر گزر چکی ہے۔ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ میں اضلال سے مراد کوششوں اور محنتوں کو رائیگاں کردینا ہے جیسا کہ سورة محمد کی آیت 1 میں ہے " الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ اضل اعمالہم (جنہوں نے کفر کیا اور خدا کی راہ سے لوگوں کو روکا خدا نے ان کی کوششیں رایگاں کردیں) "۔ ظالمین سے مراد مشرکین ہیں اس لیے کہ شرک، جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، سب سے بڑا ظلم ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید کے کلمہ ثابت و محکم کی بدولت اہل ایمان کو تو دنیا اور آخرت دونوں میں پائیداری و استواری بخشے گا۔ رہے مشرکین تو اللہ ان کے سارے اعمال کو، جیسا کہ اوپر گزرا، راکھ اور خاک کی طرح برباد کردے گا۔ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ۔ ، یعنی خدا جو چاہتے گا کر ڈالے گا، نہ کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا بن سکے گا اور نہ کسی سعی و سفارش اس کے ہاں کچھ کام آئے گی۔ وہ بات یہاں پیش نظر رہے جس کا ذکر ہم بار بار کرچکے ہیں کہ خدا کی مشیت ہمیشہ اس کے عدل اور اس کی حکمت کے ساتھ ہے۔
Ayahs 14:28–30آگے کا مضمون۔ آیت 28 تا 34:۔ قریش کو وعید اور اہل ایمان کو بشارت : آگے نہایت صاف الفاظ میں پہلے قریش کو تہدید و وعید ہے کہ چونکہ انہی نے اپنی قوم کو اس ہلاکت کے گڑھے میں گرایا ہے اس وجہ سے ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو کامیابی کی بشارت ہے اور ساتھ ہی اس کامیابی کے لیے انہیں جو تیاری کرنی چاہیے اس کی طرف اشارہ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
تفسیر آیات 28 تا 30: اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ۔ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلَوْنَهَا ۭ وَبِئْسَ الْقَرَارُ۔ وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِيْرَكُمْ اِلَى النَّارِ۔
" الم تر " کے استعمال کا ایک خاص محل : " الم تر " کے خطاب میں فی الجملہ اظہار شان اور اظہار تعجب کا پہلو بھی ہوتا ہے۔ یہاں سیاق وسباق دلیل ہے کہ موقع اظہار تعجب اور ملامت کا اور اشارہ قریش اور ان کے لیڈروں کی طرف ہے اس لیے کہ عرب میں انہی کا یہ مقام تھا کہ انہوں نے اپنی قوم کو، جیسا کہ َاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ کے الفاظ سے واجح ہے، شرک اور کفر کے گڑھے میں دھکیلا اور اس طرح اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی جہنم کا سامان کیا۔
قریش کا کفرانِ نعمت : بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا، یعنی ان کو نعمتیں تو تمام اللہ کے فضل و رحمت اور حضرت ابراہیم کی دعا کی برکت سے، جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے، ملیں، خدا نے ان کو حرم کی پاسبانی کی بدولت تمام عرب کی سیادت و قیادت بخشی، ان کو بدویانہ اور گلہ بانی کی غیر مطمئن زندگی کی جگہ شہری زندگی کا سکون بخشا، ایک وادی غیر ذی زرع میں رزق و فضل کے دروازے کھولے لیکن انہوں نے ان سب کی یہ قدر کی کہ کفر و شرک کی زندگی اختیار کرلی اور بہت سے شرکاء و شفعاء ایجاد کر کے خلق کو خدا سے موڑ کر ان کی طرف جھونک دیا۔ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِيْرَكُمْ اِلَى النَّارِ۔ یعنی ان کو سنا دو کہ چند دن عیش کرلو اس لیے کہ بالآخر تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے۔ خدا کے خوان کرم کی نعمتوں سے متمتع ہونا اور سر نیاز و عقیدت دوسروں کے آگے جھکانا زیادہ دیر چلنے والی بات نہیں۔ یہ چند روزہ مہلت ہے جو بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔
Ayah 14:31قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَيُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌ۔
خلٰل کے معنی دوستی اور مواخات کے ہیں اور لفظ " بیع " بعض مواقع میں خریدو فروخت دونوں معنوں میں آتا ہے۔ جب تبادلہ چیز کا چیز سے ہو تو معاملت کے دونوں فریق بائع بھی ہوتے ہیں اور مشتری بھی۔
مسلمانوں کو پیغام : قریش کو کو انذیر کے بعد اب یہ پیغام مسلمانوں کے لیے ہے کہ ان سے کہہ دو کہ وہ نماز کا اہتمام کریں اور خدا کی راہ میں سرا و علانیۃ دونوں طرح خرچ کریں۔ سراً اس لیے کہ انفاق فی سبیل اللہ کی اصل روح اخلاص ہے اور یہ اسی انفاق میں پایا جاتا ہے جو درپردہ ہو اور علانیۃً اس لیے کہ ایک پہلو اس کا بھی باعث خیر و برکت ہے۔ وہ یہ کہ اس سے دوسروں کو انفاق کی ترغیب و تشویق ہوتی ہے۔ سراً کی تقدیم سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس طرح کا انفاق اولی و افضل ہے۔
انفاق کی اصل ضرورت : لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌ، میں اس انفاق کی اصل ضرورت کا اظہار ہے کہ اصلاً یہ دوسروں کے لیے مطلوب نہیں ہے بلکہ خود خرچ کرنے والے کی اپنی نجات و فلاح کے لیے یہ مطلب ہے اس لیے کہ آگے ایک ایسا دور آنے والا ہے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی نہ دوستی اور رشتہ داری کام آئے گی۔ اگر کام آئے گا تو یہی انفاق جو کسی نے اللہ کی راہ میں کیا ہوگا۔
مسلمانوں کو مستقبل کی کامیابی کی بشارت : آیت کے الفاظ، اس کے اسلوب اور موقع و محل پر اچھی طرح غور کیجیے تو اس کے اندر مسلمانوں کے لیے مستقبل کی کامیابی کی بشارت بھی مضمر ہے۔ اس کے اندر یہ بات پوشیدہ ہے کہ قریش نے تو جو امانت حضرت ابراہیم ؑ سے ورثہ میں پائی تھی اس کے تمام مقاصد برباد کرکے رکھ دیے۔ اب اہل ایمان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ان مقاصد کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں اور اس امانت کے امین بنیں۔
Ayahs 14:32–34تفسیر آیات 32 تا 34:۔ اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۚ وَسَخَّــرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَ۔ وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ۔ وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۔
یہ اسی مضمون کی مزید وضاحت ہے جو اوپر گزر چکا ہے کہ نعمتیں تو ساری کی ساری اللہ نے بخشیں لیکن ظالم مشرکوں نے ان میں سے ایک ایک کو اپنے مزعومہ دیوتاؤں کی طرف منسوب کرکے ان کی عبادت شروع کردی۔ بارش، کشتی، دریا، سورج، چاند شب اور روز سب کو انسان کی نفع رسانی میں اللہ نے سرگرم کیا ہے لیکن ان میں سے بعض چیزوں کو نادانوں نے خود دیوتا بنا دیا اور جن کو دیوتا نہیں بنایا ان پر دوسرے دیوتا حاکم و متصرف بنا دیے اور ان کے جے پکارنے لگے۔ سَخَّــرَ لَكُمُ کا مفہوم ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ کسی شے کو کسی کی نفع رسانی میں لگادینے کا ہے۔ آسمان و زمین، سورج اور چاند سب مسخر خدا ہی کے ہاتھ میں ہیں، البتہ خدا نے ان کو انسان کی نفع رسانی میں لگا رکھا ہے اور یہ اس کا فضل و کرم ہے۔ وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ ، " دائب " کے معنی مستمر کے ہیں۔ یعنی ایک ہی اندازہ، ایک ہی راہ اور ایک ہی مدارو مستقر پر سیکنڈ اور منٹ کی پابندی کے ساتھ، اپنی مفوضہ خدمت کی انجام دہی میں مصروف ہیں، مجال نہیں کہ اس میں سرِ مو فرق آنے پائے۔ غور کرو کہ یہ ان کے دیوتا ہونے کی علامت ہے یا اصل حاکم کائنات خدائے عزیز وعلیم کے محکوم و مقہور ہونے کی۔ وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ، یہ خطاب انسان سے بحیثیت انسان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنی فطرت و خلقت کی رو سے جن چیزوں کے محتاج بنائے گئے ان ساری چیزوں میں سے اللہ نے تمہیں اپنی حکمت و مصلحت کے مطابق بخشیں۔ طلب اور اس کے جواب میں یہ کامل مطابقت خود سب سے بڑی شہادت اس بات کی ہے کہ جس نے تم کو پیدا کیا اسی نے تمہاری ساری ضرورتوں کا اہتمام فرمایا ہے۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۔ لفظ انسان اگرچہ عام ہے لیکن روئے سخن انہی مشرکین کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر کی آیت میں گزرا۔ چونکہ وہ اپنی نالائق کے سبب سے لائق التفات نہیں اس وجہ سے بات عام صیغہ سے کہہ دی گئی۔ ظلوم کے معنی حق کو تلف کرنے والا۔ ہم دوسرے مقام میں یہ واضح کرچکے ہیں کہ شرک کا ارتکاب کرکے انسان خدا کے حق کو بھی تلف کرتا ہے اور خود اپنے نفس کے حق کو بھی۔ " کفار " کے معنی ناشکرے کے ہیں، جو نعمت تو کسی اور سے پاتا ہے اور گن کسی اور کے گاتا ہے۔