14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsتدبرِ قرآن

Ayahs 14:35–36

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور یاد کرو جب ابراہیم نے دعا کی کہ اے میرے رب اس سرزمین کو پر امن بنا اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس بات سے محفوظ رکھ کہ ہم بتوں کو پوجیں

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے میرے رب ! ان بتوں نے لوگوں میں سے ایک خلق کثیر کو گراہ کررکھا ہے تو جو میری پیروی کرے وہ تو مجھ سے ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو تو بخشنے والا مہربان ہے

آگے کا مضمون آیات 35 تا 41: ملت ابراہیمی کی وضاحت : قریش اپنے مذہب شرک کی حمایت میں سب سے بڑی دلیل جو پیش کرتے تھے وہ یہ تھی کہ یہ دین ان کو اپنے جد اعلی حضرت ابراہیم سے وراثت میں ملا ہے۔ آگے اسی دعوے کی تردید آرہی ہے اور یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ حضرت ابراہیم نے ایک زرخیز و شاداب علاقہ سے ہجرت کرکے اس وادی غیر ذی زرع میں اپنی ذریت کو اس لیے بسایا تھا کہ وہ اس میں خدائے واحد کی عبادت کا ایک مرکز قائم کرسکیں تاکہ ان کی اولاد شرک کی تمام آلودگیوں سے پاک رہ کر خدائے وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کرسکے۔ اس وادی غیر ذی زرع میں امن و رزق کی تمام برکتیں حضرت ابراہیم ؑ کی دعاؤں کا نتیجہ ہیں لیکن قریش نے ان تمام نعمتوں کو اپنے دیوتاؤں کے کھاتے میں ڈال دیا ہے اور خدائے واحد کو چھوڑ کر اپنے بتوں کی عبادت میں لگ گئے ہیں اور اسی کو حضرت ابراہیم ؑ کا دین بتاتے ہیں۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ تفسیر آیات 35 تا 36: وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ۔ رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ ۚ فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّهٗ مِنِّىْ ۚ وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ حضرت ابراہیم ؑ کی دعا : حضرت ابراہیم ؑ نے جس وقت حضرت اسمعیل اور ان کی والدہ کو سرزمین مکہ میں بسایا ہے یہ دعا اس وقت کی ہے۔ سب سے پہلے تو اس سرزمین کے لیے انہوں نے امن کی دعا کی اس لیے کہ اس وقت تک یہ پورا علاقہ امن سے محروم تھا۔ حضرت ابراہیم کی یہ دعا اللہ تعالیٰ نے اس طرح قبول فرمائی کہ انسان تو انسان اس سرزمین پر کسی جاندار کو ستانا بھی گناہ ٹھہرا۔ پھر خدا نہ کعبہ کی بدولت چار مہینے حج وعمرہ کے لیے محترم قرار دے دیے گئے جن میں قافلے ملک کے ایک حصہ سے دوسرے حصہ تک بےتکلف سفر کرتے، مجال نہیں تھی کہ کسی کا بال بیکا ہو۔ مزید برآں قریش کو خانہ کعبہ کی پاسبانی کی بدولت سارے ملک میں امامت و سیادت کا درجہ حاصل ہوگیا، ان کے قافلے ہر حصہ ملک کا سفر کرتے اور قبائل ان سے تعرض کرنا تو درکنار ان کے لیے بدرقہ فراہم کرتے۔ دوسری دعا یہ فرمائی کہ مجھ کو اور میری اولاد کو بت پرستی کی نجاست سے محفوظ رکھ۔ یہ وہ اصل مقصود تھا جس کے لیے حضرت ابراہیم نے ہجرت فرمائی تھی۔ اس دعا میں انہوں نے خود اپنے آپ کو بھی شامل کیا ہے جس سے شرک کی تعدی اور خطرناکی کا اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم جیسے جہلیل القدر پیغمبر بھی اس کی چھوت سے بچائے جانے کی دعا کرتے اس حقیقت کا اظہار رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ کے الفاظ سے بھی ہوہا ہے کہ ان بتوں کا فتنہ ایسا ہے کہ ایک خلق کثیر اس کا شکار ہو کر رہ گئی۔ بلاغت زبان کا یہ ایک اسلوب ہے کہ کسی چیز کی شدت تاثیر و تسخیر کا اظہار مقصود ہو تو بعض اوقات اس کے لیے ضمیر اور فعل وہ استعمال کردیتے ہیں جو عام طور پر ذوی العقول کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ دعا میں بَنِيَّ کا لفظ ہے جس کے ظاہر معنی یہ ہیں کہ میرے بیٹوں کو شرک کی نجاست سے محفوظ رکھ لیکن یہ لفظ علی سبیل التغلیب استعمال ہوا ہے۔ مقصود یہی ہے کہ میری اولاد کو محفوظ رکھ۔ چناچہ آگے اسی دعا میں " ذریۃ " کا لفظ استعمال ہوا ہے جو عام ہے۔ فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّهٗ مِنِّىْ ۚ وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ یہ اپنی اولاد میں سے ان لوگوں سے اعلان براءت ہے جو ان کے طریقہ سے ہٹ کر شرک و بت پرستی میں مبتلا ہوں۔ فرمایا کہ جو اس معاملہ میں پیروی کریں وہ تو بیشک مجھ سے اور میرے زمرے میں سے ہیں اور جو میری راہ سے ہٹ کر شرک میں مبتلا ہوں ان کا معاملہ تیرے حوالہ ہے، تو ان کے ساتھ وہ معاملہ کرے گا جس کا تو ان کو مستحق پائے گا، تو غفور رحیم ہے، تجھ سے کسی ناانصافی کا اندیشہ نہیں۔ جو رحمت کے سزوار ہوں گے وہ اس سے محروم نہیں رہیں گے۔ یہ امر یہاں ملحوظ ہے کہ یہ شرک کرنے والوں کے لیے حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے مغفرت کی دعا نہیں ہے بلکہ صرف ان کے معاملے کو، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، خدائے غور رحیم کے حوالہ کرنا ہے۔
Ayah 14:37

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! میں نے اپنی اولاد میں سے ایک بن کھیتی کی وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے، اے ہمارے رب، تاکہ وہ نماز کا اہتمام کریں تو تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے، اور ان کو پھلوں کی روزی عطا فرما تاکہ وہ تیرا شکر ادا کریں

رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ ۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ۔ ہجرت کا اصل مقصود : یعنی میں نے اپنی اولاد کو ایک بن کھیتی کی چٹیل زمین میں، تیرے محترم گھر کے پاس، اس لیے لا بسایا ہے تاکہ وہ نماز کا اہتمام کریں۔ تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور ان کو پھلوں کی روزی عطا فرما تاکہ وہ تیرے شکر گزار رہیں۔ اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ خدا کی توحید اور خالص اسی کی بندگی وہ چیز ہے جس کی خاطر انسان سب کچھ چھوڑ سکتا ہے اور اسے سب کچھ چھوڑ دینا چاہیے یہاں تک کہ اگر اسے ایک چٹیل زمین میں تنہا زندگی بسر کرنی پڑے تو اس کو بھی اسے اختیار کرلینا چاہیے لیکن خدا اور اس کی عبادت کو کسی حال میں بھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اقامت صلوۃ تعمیرِ کعبہ کا مقصد : دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ خانہ کعبہ اصل میں نماز کا مرکز ہے اس وجہ سے اس کی تولیت کے اصل حق دار وہ ہیں جو نماز کا اہتمام کریں نہ کہ وہ جو توحید اور نماز سب کچھ ضائع کر بیٹھے لیکن اس کی تولیت کے مدعی ہیں۔ یہاں حضرت ابراہیم نے نماز کا ذکر خانہ کعبہ کے ابتدائی مقصد تعمیر کی حیثیت سے کیا ہے۔ بعد میں جب اس کے لیے ان کو حج کی منادی کا حکم ہوا تو یہ حج کا بھی مرکز بن گیا اور حضرت اسمعیل کی قربانی کی یادگار میں قربانی کا بھی۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ " اقامت صلوۃ " کا مفہوم صرف نماز پڑھنا ہی نہیں ہے بلکہ یہ چیز بھی اس میں شامل ہے کہ لوگوں کو اس کی دعوت دی جائے اور اس امر کا اہتمام و انتام کیا جائے کہ لوگ نماز پڑھیں۔ دعائے ابراہیمی کے اصل اجزاء : یہاں حضرت ابراہیم نے نماز اور اس سرزمین کی خاص نوعیت کے سبب سے اپنی اولاد کے لیے دو چیزوں کی دعا کی۔ ایک اس چیز کی کہ تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے۔ حضرت ابراہیم کی اس دعا کی مقبولیت کا یہ اثر ہوا کہ خانہ کعبہ بہت جلد سارے عرب کا مرجع بن گیا اور آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد تو کہیے کہ سارے عالم کا مرکز بن گیا۔ دوسری دعا ملک کے بےآب وگیاہ ہونے کے سبب سے رزق و فضل کی کشائش کی کی۔ جس کا اثر بہت جلد اس شکل میں ظاہر ہوا کہ مکہ تمام عرب کی تجارت کا مرکز بن گیا۔ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ ، پر تفصیلی بحث ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں کر آئے ہیں۔
Ayah 14:38

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے ہمارے رب تو جاتنا ہے تو جو ہم پوشیدہ رکھتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں اور اللہ سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں، نہ زمین میں اور نہ آسمان میں

رَبَّنَآ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِيْ وَمَا نُعْلِنُ ۭ وَمَا يَخْفٰى عَلَي اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ۔ رَبَّنَآ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِيْ وَمَا نُعْلِنُ ، اس فقرے کی بلاغت احاطہ بیان میں نہیں آسکتی۔ بندہ جب اپنے رب سے کسی اہم معاملے میں دعا کرتا ہے تو اس کی ایک بڑی مشکل یہ پیش آتی ہے کہ بعض باتیں وہ کہنا تو چاہتا ہے لیکن وہ بیان میں نہیں آتیں، اسی طرح بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو دل میں تو ہوتی ہیں لیکن وہ ان کے کہنے میں کسی مبہم سبب سے کچھ حجاب سا محسوس کرتا ہے۔ اس فقرے نے اس طرح کی ساری باتوں کو سمیٹ لیا اس لیے کہ خدا کا علم ظاہر و مخفی سب کو محیط ہے۔
Ayah 14:39

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

شکر ہے اس اللہ کے لیے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمعیل اور اسحاق عطا فرمائے۔ بیشک میرا رب دعا کا سننے والا ہے

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَي الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَسَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ۔ یہ اپنی دعا کے حق میں اللہ تعالیٰ کے پچھلے عظیم احسانات کا حوالہ دے کر گویا سفارش بہم پہنچائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس پروردگار نے مجھے بڑھاپے میں اسمعیل و اسحاق عطا فرمائے، میں اس سے یہی امید رکھتا ہوں کہ جس طرح اس نے ان کے باب میں میری دعا کو قبولیت سے نوازا اسی طرح میری اس دعا کو بھی شرف قبول بخشے گا۔ میں اس سے مانگ کر کبھی محروم نہیں ہوا ہوں۔
Ayahs 14:40–41

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے میرے رب مجھے نماز کا اہتمام کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب اور میری دعا قبول فرما

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ Open ayah 14:41 in the Quran reader

اے ہمارے رب مجھے اور میرے والدین کو اور مومنین کو اس دن بخش جس دن حساب قائم ہوگا

تفسیر آیات 40 تا 41: رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ ڰ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاۗءِ۔ رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَاب۔ یہ آخر میں اپنے اور اپنی اولاد کے لیے اس مقصد میں سرگرم رہنے کی دعا کی جس کے لیے انہوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی اور جس کا ذکر اوپر رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ کے الفاظ میں ہوچکا ہے۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ میں من تبعیض کا ہے اس لیے کہ مکہ میں انہوں نے اپنی ذریعت میں سے صرف حضرت اسمعیل کو بسایا تھا۔ سب سے آخر میں اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے اور تمام اہل ایمان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ حضرت ابراہیم کے والد، آزر، کے متعلق قرآن کے متعدد مقامات میں تصریح ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے چونکہ ہجرت کے وقت ان سے کہہ دیا تھا کہ میں آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا۔ اس وجہ سے ان کے شرک وکفر پر شدید اصرار کے باوجود ان کے لیے استغفار کرتے رہے۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے جب آپ کو اس سے روک دیا تو آپ رک گئے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا جو اوپر مذکور ہوئی ہے اس ممانعت کے وارد ہونے سے قبل کی ہے۔ دعا کی خصوصیات : اس دعا میں دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ سات مرتبہ " رب " یا " ربنا " کا لفظ آیا ہے۔ یوں تو بظاہر تو یہ ایک تکرار سی محسوس ہوتی ہے لیکن درحقیقت یہ چیز دعا کی خصوصیات بلکہ اس کے لوازم میں سے ہے۔ دعا کا اصل مزاج تضرع، استحالت، استغاثہ اور التجا و فریاد ہے۔ یہ چیز مقتضی ہوتی ہے کہ جس سے دعا کی جا رہی ہے اس کو بار بار متوجہ کیا جائے۔ جب بندہ خدا کو " ربی " سے خطاب کرتا ہے تو وہ گویا اس لطف خاص کو اپنی دعا کے حق میں سفارشی بناتا ہے جس کا تجربہ اسے خود ہے اور جب اس کو " ربنا " سے خطاب کرتا ہے تو وہ اس کے اس کرم عام کو اپنی دعا کے حق میں سفارشی بناتا ہے جس کا مشاہدہ تمام خلق میں ہو رہا ہے۔ یہاں وہ بات پھر ذہن میں تازہ کرلیجیے جو اوپر گزر چکی ہے کہ یہ دعا قریش کو اس لیے سنائی گئی کہ وہ سوچیں کہ وہ کس مقصد سے اس وادی میں غیر ذی زرع میں بسائے گئے تھے اور اب کیا بن کے رہ گئے ہیں۔ نیز وہ اس امر پر بھی غور کریں کہ وہ تمام نعمتیں جو اس سرزمین پر ان کو حاصل ہوئیں، وہ حاصل تو ہوئیں حضرت ابراہیم کی دعا کی برکت اور خاص اللہ تعالیٰ کے فضل سے لیکن انہوں نے ان تمام نعمتوں کا منبع اپنے خیالی معبودوں کو قرار دے رکھا ہے۔
Ayahs 14:42–43

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ Open ayah 14:42 in the Quran reader

اور اللہ کو، جو کچھ یہ ظالم کرر ہے ہیں اس سے بیخبر نہ سجھو۔ وہ ان کو بس ایک ایسے دن کے لیے ٹال رہا ہے جس میں نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ Open ayah 14:43 in the Quran reader

وہ سر اٹھائے ہوئے بھاگ رہے ہوں گے، ٹکٹکی بندھی ہوگی اور ان کے دل اڑے ہوئے ہوں گے

آگے کا مضمون۔ آیات 42 تا 52:۔ خاتمہ سورة : آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور کفار کے لیے سخت دھمکی ہے۔ ربط کلام بالکل واضح ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔ تفسیر آیات 42 تا 43: وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ ڛ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيْهِ الْاَبْصَارُ۔ مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۚ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاۗءٌ۔ تَشْخَصُ فِيْهِ الْاَبْصَارُ ، شخص شخوصا کے معنی تو ارتفاع کے ہیں لیکن جب یہ آنکھوں کے لیے آئے تو اس کے معنی آنکھوں کی ٹنگی ہوئی یا پھٹی ہوئی رہ جانے کے ہوں گے۔ مُهْطِعِيْنَ ، اِھَطَاع، کسی طرف تیزی سے بڑھنے اور لپکنے کے معنی میں آتا ہے بالخصوص جب کہ یہ بڑھنا اور لپکنا خوف و دہشت کی بنا پر ہو۔ مُقْنِعِيْ ، اقناع، سر اٹھانے یا آواز بلند کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ یہاں سر اٹھا کر چلنے کے معنی میں آیا ہے۔ خطاب پیغمبر ﷺ سے، عتاب قریش پر : آیت میں خطاب ظاہر الفاظ کے اعتبار سے تو پیغمبر ﷺ سے ہے لیکن اس میں جو شدید عتاب ہے وہ وہ تمام تر قریش پر ہے۔ پیغمبر ﷺ کو اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ تم یہ نہ گمان کرو کہ جو کچھ یہ تمہارے مخالفین کر رہے ہیں ہم اس سے بیخبر ہیں۔ ہم بیخبر نہیں ہیں۔ ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں لیکن ہم ان کے معاملے کو اس دن پر ٹال رہے ہیں جس کے ہول کا یہ حال ہوگا کہ نگاہیں اٹھیں گی تو ٹنگی ہی رہ جائیں گی، پلک جھپکنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ سر اٹھائے ہوئے تیزی سے یہ موقف حشر کی طرف بھاگ رہے ہوں گے اور ان کے دل خوف و دہشت سے اڑے جا رہے ہوں گے۔
Ayah 14:44

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ Open ayah 14:44 in the Quran reader

اور تم لوگوں کو اس دن سے خبردار کردو جس دن ان پر عاب آدھمکے گا تو یہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے، ہم تیری دعوت قبول کرلیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے۔ کیا تم اس سے پہلے قسمیں نہیں کھاتے رہے تھے کہ تم ٹلنے والے نہیں ہو

وَاَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَاْتِيْهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ ۙنُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۭ اَوَلَمْ تَكُوْنُوْٓا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍ۔ یعنی آج یہ تمہاری بات نہیں سنتے تو نہ سنیں انہیں اس دن سے آگاہ کردو جس دن ان پر عذاب آدھمکے گا اور یہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے لوگ اس وقت فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے ہم تیری دعوت بھی قبول کرلیں گے اور تیرے رسولوں کی پیروی بھی کریں گے لیکن اس وقت توبہ اور اصلاح کا وقت گزر چکا ہوگا۔ ان کو جواب دے دیا جائے گا کہ کیوں اب کیا ہوا، کیا تم ہی وہ لوگ نہیں ہو جو قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ تم اپنی ضد سے ٹلنے والے نہیں ہو۔
Ayah 14:45

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ Open ayah 14:45 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں کی بستیوں میں رہے بسے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے اور تم پر واضح تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور تمہارے لیے ہم نے مثالیں بھی بیان کردی تھیں

وَّسَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ۔ تاریخ کی یاد دہانی : یعنی یہ بات نہیں ہے کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا جو حشر ہوا اور خدا نے ان کے ساتھ جو معاملہ کیا اس سے تم بیخبر رہے ہو، انہی اقوام بائدہ و معذبہ کی بستیوں میں تم رہے بسے اور خدا نے تم کو اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان کے سبق آموز اور عبرت انگیز حالات بھی سنا دیے۔ یہ حالات محض قصے کے طور پر تمہیں نہیں سنائے گئے تھے بلکہ ان کے سنانے سے مقصود تم کو یہ بتانا تھا کہ یہی حشر تمہارا بھی ہونا ہے اگر تم نے رسول کی تکذیب کردی۔ جب یہ سب کچھ ہوچکا اور تم نہیں مانے تو اب کس بات کے لیے مزید مہلت مانگ رہے ہو ؟
Ayah 14:46

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ Open ayah 14:46 in the Quran reader

اور انہوں نے اپنی ساری چالیں چلیں اور یہ چالیں ان کی خدا کے پاس ہیں اگرچہ ان کی یہ چالیں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جاتے

وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ ۭ وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ۔ یعنی ان قوموں نے بھی جہاں تک چالیں چلنے کا تعلق ہے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی لیکن آج ان کی ساری چالیں خدا کے پاس دھری ہیں۔ اگرچہ یہ چالیں ان کی ایسی زبردس تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے کھسکائے جاسکتے تھے لیکن خدا نے ان کی یہ ساری چالیں بیکار کردیں۔
Ayah 14:47

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ Open ayah 14:47 in the Quran reader

تو اللہ کو اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرنے والا نہ سجھو، اللہ غالب اور انتقام لینے والا ہے

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذُو انْتِقَامٍ۔ یہ خطاب بھی پیغمبر ﷺ سے ہے اور اس میں بھی جو تسکین اور طمانیت کا پہلو ہے وہ تو آنحضرت ﷺ کے لیے ہے اور جو عتاب اور غضب کا پہلو ہے اس کا رخ کفار و مشرکین کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ نہ گمان کرو کہ خدا نے اپنے رسولوں کے لیے فتح و نصرت کا جو وعدہ فرمایا ہے کسی حال میں اس کی خلاف ورزی کرے گا۔ وہ عزیز و غالب ہے کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا اور انتقام لینے والا ہے اس وجہ سے شریروں اور حق و عدل کے دشمنوں کو ضرور کیفر کردار کو پہنچائے گا۔
Ayah 14:48

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 14:48 in the Quran reader

اس دن کو یاد رکھو جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب اللہ واحد وقہار کے حضور پیش ہوں گے

يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ۔ یوم آخرت کی یاد دہانی : يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ۔ وَالسَّمٰوٰتُ یعنی تُبَدَّلُ السَّمٰوٰتُ غيْرَ السَّمٰوٰتِ۔ مطلب یہ ہے کہ انہیں وہ دن یاد دلاؤ جس دن یہ زمین اور یہ آسمان دونوں دوسری زمین اور دوسرے آسمانوں سے بدل دیے جائیں گے اور یہ سارے لوگ ایک ہی خدائے قہار کے حضور پیش ہوں گے۔ لفظ " بَرَزُوا کے مفہوم کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کرچکے ہیں کہ اس کے اندر یہ مضمون بھی ہے کہ اس دن نہ کسی کے ساتھ اس کا کوئی حامی و مددگار ہوگا اور نہ کوئی شفیع و سفارشی۔ بس ہر ایک کی ات ہوگی اور اس کے اعمال۔ آسمان و زمین بھی دوسرے ہوں گے، وہاں نہ کسی کے قلعے اور گڑھیاں ہوں گی نہ کسی کے ایوان و محل۔ قَهَّارِ کار مفہوم : لفظ قَهَّارِ کا مفہوم ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ اس کا اصل مفہوم ہے تنہا سب پر اپنا کنٹرول رکھنے والا، دوسری کی مدد و اعانت سے بالکل مستغنی، کسی کی مجال نہیں کہ اس کے قابو سے باہر نکل سکے۔
Ayahs 14:49–51

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ Open ayah 14:49 in the Quran reader

اور تم مجرموں کو اس دن زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھو گے

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ Open ayah 14:50 in the Quran reader

ان کے لباس تارکول کے ہوں گے اور ان کے چہروں پر آگ چھائی ہوئی ہوگی

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 14:51 in the Quran reader

تاکہ اللہ ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دے۔ بیشک اللہ بڑی جلدی حساب چکا دینے والا ہے

تفسیر آیات 49 تا 51: وَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ۔ سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّتَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُ۔ لِيَجْزِيَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۔ سَرَابِيْلُ ، سربال کی جمع ہے جس کے معنی قمیض کے بھی آتے ہیں اور لباس کے مفہوم میں بھی یہ آتا ہے۔ یہاں موقع کلام دلیل ہے کہ یہ دوسرے عام مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ قَطِرَانٍ کے اہل لغت نے مختلف معنی لکھے ہیں لیکن تارکول کے لیے یہ لفظ معروف ہے۔ ہمارے نزدیک یہاں اسی معنی میں ہے۔ مستحقین دوزخ کے جسموں اور چہروں کی ساہی کا ذکر قرآن میں دوسرے مقامات میں بھی ہے۔ پھر تارکول پر آگ جس طرح بھڑکتی ہے وہ ایک معلوم و معروف حقیقت ہے۔ یوم آخرت کے ہول کی مزید تفصیل : یہ اس دن کی ہولناکی کی مزید تفصیل ہے کہ اس دن تمام مجرمین زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ ان کے لباس تارکول کے ہوں گے اور ان کے چہروں پر آگ کے شعلوں کی لپٹ ہوگی اور یہ سب کچھ اس لیے ہوگا تاکہ ہر جان اپنے اعمال کا بدلہ پائے اور کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ ساری مخلوق کا حساب کرنے میں کوئی بڑا عرصہ لگ جائے گا۔ خدا پلک جھپکتے سب کا حساب چکا دے گا۔
Ayah 14:52

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 14:52 in the Quran reader

یہ لوگوں کے لیے ایک اعلان ہے اور تاکہ اس کے ذریعہ سے وہ آگاہ کردیے جائیں اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی ایک معبود ہے اور تاکہ اہل عقل یاد دہانی حاصل کرلیں

آخری تنبیہ : هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنْذَرُوْا بِهٖ وَلِيَعْلَمُوْٓا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّلِيَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۔ یہ آخری تنبیہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس لیے لوگوں کو پہنچا دی گئی ہیں کہ لوگوں پر خدا کی حجت پوری ہوجائے، لوگ عذاب اور قیامت سے خبر دار ہوجائیں اور اس بات کو اچھی طرح جان لیں کہ ایک ہی خدا سے سابقہ پڑنے والا ہے، کوئی اور کام آنے والا نہیں ہے اور جو اہل عقل ہیں ان کو یاد دہانی ہوجائے۔ ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔