Ayah 15:1قرآن اپنی صداقت کی خود دلیل ہے : الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ۔ حروف مقطعات پر ایک جامع بحث ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے آغاز میں کرچکے ہیں۔ ہمارے ندیک " الرا، اس سورة کا قرآنی نام ہے اور " تلک " کا اشارہ اسی کی طرف ہے۔ لفظ " الکتاب " پر بھی ہم بقرہ کی تفسیر کے شروع میں بحث کرچکے ہیں۔ اس سے مراد وہ خدائی کتاب ہے جس کے اتارنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا اور جس کی پچھلے نبیوں نے خبر دی تھی۔ قرآن کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کلام جو ان کو سنایا جا رہا ہے یہ کتاب الٰہی اور ایک واضح قرآن کی آیات پر مشتمل ہے۔ یہ اپنی صداقت کی دلیل خود اپنے اندر رکھتا ہے، کسی خارجی دلیل کا محتاج نہیں ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ اس کو نہیں مان رہے ہیں، اس کی صداقت کو جانچنے کے لیے معجزوں کی فرمائش کر رہے ہیں، وہ درحقیقت اپنی شامت کو دعوت دے رہے ہیں۔
Ayah 15:2رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ۔ یعنی آج تو یہ لوگ غرور و رعونت کے ساتھ اس کتاب کا انکار کر رہے ہیں لیکن اگے ایسے وقت آئیں گے اور بار بار آئیں گے جب یہ تمنائیں کریں گے کہ کاش اس کتاب کو قبول کرکے مسلمان بنے ہوتے کہ ان ہولناک نتائج سے محفوظ رہتے۔ یہ مضمون سورة ابراہیم آیت 44 میں بھی گزر چکا ہے۔
Ayah 15:3ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا وَيُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ۔ یعنی اگر یہ اپنی سرمستیوں میں گم ہیں، تم کو اور تمہاری دعوت کو (خطاب پیغمبر ﷺ سے ہے) خاطر میں نہیں لا رہے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو، چند دن یہ کھا پی لیں، مزے کرلیں اور لذیذ آرزوؤں کے خواب دیکھ لیں، عنقریب وہ وقت آیا چاہتا ہے جب یہ اپنی سرمستی کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
Ayahs 15:4–5تفسیر آیت 4۔ 5: عاب الٰہی کے مؤخر ہونے کی وجہ : وَمَآ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ۔ مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسْتَاْخِرُوْنَ۔ یہ وجہ بیان ہوئی ہے عذاب کے مؤخر ہونے کی۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے مطالبہ کے باوجود ان پر عذاب جو نہیں آرہا ہے تو یہ تاخیر اللہ تعالیٰ کی ایک سنت پر مبنی ہے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ وہ کسی قوم پر عذاب بھیجنے سے پہلے اس پر اپنی حجت تمام کرتا ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی اگر وہ قوم اپنی سرکشی سے باز نہیں آتی تو لازماً وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے۔ اتمام حجت اور اخلاقی زوال کی وہ حد جس پر پہنچ کر کوئی قوم مستحق عذاب ہوجاتی ہے ایک خدائی نوشتہ میں مرقوم ہے۔ جب اس نوشتہ کی مدت پوری ہوجاتی ہے، قوم ہلاک کردی جاتی ہے۔ سرمو اس میں فرق واقع نہیں ہوتا۔ نہ اس میں تقدیم ہوتی نہ تاخیر
Ayahs 15:6–7تفسیر آیت 6 تا 7: وَقَالُوْا يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌ۔ لَوْ مَا تَاْتِيْنَا بِالْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔
آنحضرت ﷺ کو طنزیہ انداز میں خطاب کرکے کہتے کہ اے وہ شخص جو مدعی ہے کہ اس پر خدا کی طرف سے ہمارے لیے یاد دہانی اتری ہے تم تو ہمیں ایک خبطی معلوم ہوتے ہو کہ ہمیں تو عذاب کی دھمکی سنا رہے ہو اور اپنے لیے فوزوفلاح کے مدعی ہو درآنحالیکہ ہمارے حالات تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے حالات سے ہزار درجہ بہتر ہیں۔ اگر ہم خدا کے مبغوض و مقہور ہیں اور تم خدا کے محبوب و منظور نظر ہو تو ہم کو یہ نعمتیں کیوں ملی ہوئیں ہیں اور تم ان سے کیوں محروم ہو ؟ یہ صورت حال تو صاف طاہر کرتی ہے کہ تم ایک خبطی آدمی ہو اور خبطیوں کی سی باتیں کر رہے ہو اور یہ بھی تمہاری ایک خبط ہی ہے کہ تم مدعی ہو کہ تمہارے پاس فرشتہ آتا ہے اگر فرشتے آتے ہیں تم اس دعوے میں سچے ہو تو ان فرشتوں کو تم ہمارے پاس کیوں نہیں لاتے کہ ہم بھی ذرا دیکھیں اور سنیں کہ وہ کیسے ہیں اور کیا کہتے ہیں۔ آخر تمہیں ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہیں کہ وہ تمہارے پاس تو آتے ہیں اور ہمارے پاس نہیں آتے۔
لَوْ مَا تَاْتِيْنَا میں لَوْ مَا ابھارنے، اکسانے یا مطالبہ کرنے کے مفہوم میں ہے یعنی " کیوں نہیں ایسا کرتے "۔ کلام عرب اور قرآن مجید میں اس کی نظیریں موجود ہیں۔
Ayah 15:8مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ۔ یہ مذکورہ بالا مطالبہ کا جواب ہے۔ " حق " کے معنی یہاں فیصلہ کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنی عقل اور سمجھ سے کا لیں اور آفاق وانفس میں جو نشانیاں موجود ہیں اور جن کی طرف قرآن توجہ دلا رہا ہے ان پر غور کریں اور ان کی روشنی میں آیمان لائیں۔ ایمان لانے کے لیے فرشتوں کے اتارے جانے کا مطالبہ نہ کریں۔ فرشتے تو ہم لوگوں پر صرف اس وقت بھیجتے ہیں جب لوگ اندھے بہرے بن جاتے اور عذاب کے سوا ان کے لیے کوئی اور چیز باقی رہ ہی نہیں جاتی۔ اس وقت فرشتے خدا کا فیصلہ لے کر آتے ہیں اور وہ قوم نیست و نابود کردی جاتی ہے۔ اس کے بعد کسی کو مہلت نہیں ملتی۔
Ayah 15:9قرآن کی حفاظت کا ذمہ دار خود خدا ہے : اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ۔ یہ پیغمبر ﷺ کو نہایت پرزور الفاظ میں تسکین و تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ (قریش) اس قرآن عظیم کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو تم اس کا غم نہ کرو۔ یہ کتاب، تمہاری طرف سے کسی طلب و تمنا کے بغیر، ہم ہی نے تم پر اتاری ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اگر یہ لوگ اس کر رد کر رہے ہیں تو رد کردیں، خدا اس کے لیے دوسروں کو کھڑا کردے گا جو اس کو قبول کریں گے اور اس کی دعوت و حفاظت کی راہ میں کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ یہی مضمون سورة انعام میں یہاں بیان ہوا ہے " فان یکفر بہا ھؤلا فقد وکلنا بہا قوما لیسو بہا بکفرین : اگر یہ لوگ اس کا انکار کردیں تو تم اس کا غم نہ کرو ہم نے اس پر ایسے لوگوں کو مامور کر رکھا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں ہیں "۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اس کو قبول کرتے ہیں تو اس میں ان کی اپنی ہی دنیا و آخرت کی سعادت ہے، اور اگر یہ اپنی بدقسمتی اور شامت اعمال سے اس کو رد کردیتے ہیں تو دوسرے اس کے قبول کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے۔ چناچہ جب قریش نے اس کو قبول کرنے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے انصار کے سینے اس کے لیے کھول دیے، انہوں نے اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس کی حفاظت کی راہ میں کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا۔ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا میں حصر در حصر کا جو مضمون پایا جاتا ہے اس سے اس حقیقت کا اظہار مقصود ہے کہ یہ کتاب تم نے ہم سے مانگ کے تولی نہیں ہے کہ تم پر لوگوں سے اس کو قبول کروانے کی ذمہ داری ہو۔ تم پر ذمہ داری صرف تبلیغ و دعوت کی ہے، تم اس کو ادا کردو۔ رہا اس کتاب کی حافظت اور اس کے قیام و بقا کا مسئلہ تو یہ ہم سے متعلق ہے اس کی حفاظت اور اس کے قیام و بقا کا انتظام ہم کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کن کن شکلوں میں پورا فرمایا، تاریخ میں اس سوال کا پورا جواب موجود ہے۔ اس تفصیل میں جانے کا یہاں موقع نہیں ہے۔
Ayahs 15:10–13تفسیر آیات 10 تا 13: انبیاء کی سرگزشتوں کا حوالہ : تسکین و تسلی کے مضمون کو مزید مؤکد و مبرہن کرنے کے لیے یہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی سرگزشتوں کا حوالہ ہے کہ آج اپنی قوم کی طرف سے جو تجربہ تمہیں ہو رہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم نے تم سے پہلے بھی جو رسول پچھلی قوموں میں بھیجے انہیں بھی اپنی اپنی قوموں کی طرف سے انہی حالات سے دوچار ہونا پڑا۔ جس طرح آج تمہارا مذاق اڑایا جا رہا ہے اسی طرح تم سے پہلے آنے والے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ اللہ کے رسولوں کی دعوت چیز ہی ایسی ہے کہ نافرمانیوں میں ڈوبے ہوئے مجرمین اس کو ٹھنڈے پیٹوں نہیں برداشت کرتے یہ چیز ان کو تیر و نشتر کی طرح چبھتی ہے اور وہ اس کا گلنے کے لیے زور لگاتے ہیں چناچہ یہ تمہاری قوم کے لوگ بھی اس پر ایمان نہیں لائیں گے بلکہ وہی روش انہوں نے اختیار کی ہے جو ان کے پیشروؤں نے اختیار کی اور لازماً اسی انجام سے بھی دوچار ہوں گے جس سے ان کے پیش رو دو چار ہوئے۔
Ayahs 15:14–15تفسیر آیت 14 تا 15: منکرین کے انکار کا اصلی سبب : وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ۔ لَقَالُوْٓا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۔ یعنی فرشتوں کا اتارا جانا تو الگ رہا اگر ہم ان کے لیے آسمان میں کوئی دروازہ بھی کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے لگ جائیں جب بھی وہ ایمان نہ لانے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ پیدا کر ہی لیں گے۔ کہیں گے ہماری نگاہیں خیرہ کردی گئی ہیں اور ہماری پوری قوم، مردوں اور عوتوں سب پر، جادو کردیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا اصل سبب یہ نہیں ہے کہ ان کی طلب کے مطابق ان کو کوئی معجزہ نہیں دکھایا جا رہا ہے بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات اور اپنے مزعومات میں کوئی تبدیلی قبول کرنے اور استکبار کے سبب سے پیغمبر کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
Ayahs 15:16–18آگے کا مضمون۔ آیات 16 تا 25: آفاق وانفس کی نشانیوں کی طرف اشارہ : آگے ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو آفاق وانفس اور آسمان و زمین کے گوشہ گوشہ میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان باتوں کی تصدیق کرتی ہیں جن پیغمبر دعوت دے رے ہیں۔ مقصد ان نشانیوں کے ذکر سے یہ ہے کہ قدرت کے معجزاتے کے ہوتے کسی نئے معجزے کی ضرورت کہا باقی رہی، دیکھنے والی آنکھیں سوچنے والے دماغ ہوں تو ایک ایک پتہ معرفت کردگار کا دفتر ہے
تفسیر آیات 16 تا 18:۔ وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ (16) وَحَفِظْنَاهَا مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ رَجِيمٍ (17)۔ اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيْنٌ۔
آسمانی نشانیوں کی طرف اشارہ : " برج " کے معنی قلعہ اور محل کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد وہ آسمانی قلعے ہیں جو خدا نے آسمانوں میں بنائے ہیں، جن میں اس کے ملائکہ اور کروبیوں کی فوجیں برابر مامور رہتی اور ان حدود اور دائروں کی نگرانی کرتی ہیں جن سے آگے بڑھنے کی اجازت نہ شیاطین انس کو ہے اور نہ شیاطین جن کو اور اگر کوئی شیطان ملاء اعلی کی باتوں کی کچھ سن گن لینے کی کو ششش کرتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک قلعہ کی برجیوں پر مامور سپاہی دشمن کے آدمیوں پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں، کسی اجنبی کو اپنے حدود کے اندر لانگنے کا موقع نہیں دیتے، اسی طرح خدا کے مامور ملائکہ ان شیاطین جن کو شہاب ثاقب کا نشانہ بناتے ہیں جو ان کے حدود میں ٹوہ لگانے کے لیے در اندازی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے ضمناً اس کہانت کی بالکل بنیاد ہی ڈھے جاتی ہے جس کا عہد جاہلیت میں بڑا رواج تھا اور جس کی آڑ میں کاہن لوگ غیب دانی کے دعوے کرکے سادہ لوح عوام کو بیوقوف بناتے تھے۔ قرآن نے یہ واضح کردیا کہ ملاء اعلی کے دائروں تک شیاطین کو رسائی حاصل نہیں اور اگر وہ چوری چھپے کان لگانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ شہاب کی سنگباری کا ہدف بنتے ہیں۔ اسی پہلو سے یہاں شیطان کی صفت " رجیم " آئی ہے اس لیے کہ رجیم کے معنی سنگسار کردہ کے ہیں اور لفظ " کل " اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ بڑے سے بڑا شیطان بھی بہرحال خدا کے محفوظ کیے ہوئے حدود میں داخل نہیں ہوسکتا۔
جس چیز کو عرف عام میں ستاروں کا ٹوٹنا کہتے ہیں موجودہ سائنس اس کی جو توجیہ بھی کرے اس سے قرآن کی بیان کردہ اس حقیقت کی تردید نہیں ہوتی اس لیے کہ سائنس کی رسائی کسی چیز کے صرف ظاہری اسباب و علل ہی تک ہے۔ قدر الٰہی ان شہابوں سے کیا کیا کام لیتی ہے بتانا سائنس کے بس سے باہر ہے۔ اس کو صرف اللہ تعالیٰ ہی بتا سکتا ہے اور اس کی باتوں کو جاننے کا واحد ذریعہ وحی الٰہی اور قرآن ہے۔
یہ مضمون یہاں ضمناً آگیا ہے آیت کا اصل مقصود، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، آسمان و زمین کی ان نشانیوں کی طرف توجہ دلانا ہے جو اس کائنات کے گوشے گوشے میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان میں سے ہر نشانی ان باتوں کی تصدیق کر رہی ہے جن کی قرآن اور پیغمبر خبر دے رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن کے اندر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت موجود ہے ان کے لیے تو آسمان بھی نشانیوں سے معمور ہے اور زمین بھی لیکن جن کی آنکھیں بند ہیں وہ ان نشانیوں سے رہنمائی حاصل کرنے کے بجائے معجزوں کے مطالبے کرتے ہیں اور اگر کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان کو دکھا دیا جائے جب بھی، جیسا کہ اوپر اشارہ فرمایا، یہ اندھے ہی بنے رہیں گے۔
نظم کلام کے پہلو سے یہاں خاص توجہ وَّزَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيْنَ کے ٹکڑے پر ہونی چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کی آنکھیں کھلی ہوئی ہوں تو اس کے لیے اس دنیا میں معجزات کی کمی نہیں ہے۔ وہ آسمان کو دیکھے۔ قدرت نے اس کو ستاروں، اور سیاروں، چاند اور سورج، شفق اور قوس و قزح اور دوسرے بیشمار گناگوں او بوقلموں عجائب سے کس طرح سنوارا ہے کہ جس طرف بھی نگاہ اٹھتی ہے انسان حیران و ششدر ہو کے رہ جاتا ہے اور پکار اٹھتا ہے کہ " ربنا ما خلقت ھذا باطلا " کہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل اور کسی اتفاق حادثہ کے طور پر ظہور میں آجانے والی چیز نہیں ہے بلکہ یہ ایک حکیم وعلیم اور ایک بےپناہ قدرت و حکمت کے مالک کی بنائی ہوئی دنیا ہے۔ اس کی قدرت و حکمت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ اس کو پیدا کرکے یوں ہی چھوڑ نہ دے بلکہ یہ لازم ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں وہ سب کو اکٹھا کرکے ان کے اعمال نیک و بد کا حساب کرے اور ان کے اعمال کے مطابق ان کو جزا یا سزا دے۔
Ayah 15:19زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ : وَالأرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْزُونٍ۔
آسمان کی نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ جس طرح آسمان خدا کی نشانیوں سے معمور ہے اسی طرح زمین بھی اس کی نشانیاں سے معمور ہے۔ آسمان اوپر شامیانے کی طرح، چکمتے ہوئے اور یہ خدائے قادر وقیوم ہی کی قدرت و حکمت ہے کہ اس کے اندر اس نے پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے ہیں جو اس کے توازن کو برقرار رکھے ہوئے ہیں ورنہ، جیسا کہ دوسرے مقام میں فرمایا ہے، یہ ساری مخلوق سمیت ایک جانب کو لڑک پڑتی۔ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْزُونٍ۔ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ خدا نے اس میں جو چیز بھی پیدا کی ہے ایک خاص توازن و تناسب کے ساتھ پیدا کی ہے اور اسی توازن و تناسب کی برکت سے یہ انسان کی رہائش اور تمدن و معیشت کے لیے ساز گار ہوئی ہے۔ ورنہ جیسا کہ آگے ارشاد ہوا ہے، خدا کے خزانوں میں کسی چیز کی بھی کمی نہیں تھی، وہ اگر کسی چیز کو بھی اس کی حد مطلوب و معین سے متجاوز ہوجانے کے لیے چھوڑ دیتا تو اس زمین کا سارا نظام درہم برہم ہو کے رہ جاتا اور انسان کے بجائے اس میں کوئی اور ہی مخلوق آباد ہوتی یا یہ بالکل غیر آباد ہو کے رہ جاتی۔
Ayah 15:20نظام ربوبیت کی طرف اشارہ : وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ وَمَنْ لَسْتُمْ لَهُ بِرَازِقِينَ۔ اس میں زبان کے معروف قاعدے کے مطابق ایک جگہ حرفِ جر کو محذوف کردیا گیا ہے۔ ومن لستم۔ در اصل ولمن لستم ہے۔
آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نظام ربوبیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اس زمین میں اس نے انسان کے لیے بھی ضرورت کی وہ ساری چیزیں پیدا کی ہیں جن کا وہ اپنی زندگی کے بقا اور اس کی رفاہیت کے لیے محتاج ہے اور ان چیزوں کے لیے بھی زندگی کا سامان کیا ہے جن کے رزق کی کوئی ذمہ داری انسان پر نہیں ہے اگرچہ وہ انسان کے کام آنے والی ہیں اور انسان مختلف پہلوؤں سے ان سے فائدے اٹھاتا ہے۔
Ayah 15:21توازن و تناسب کی طرف اشارہ : وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ۔ یہ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، اس توازن و تناسب کی طرف اشارہ ہے جو خالق کائنات کے تمام کاموں میں موجود ہے اور جس کے اوپر ہی اس دنیا کے قیام و بقا کا انحصار ہے۔ خدا کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ اس کے پاس ہر چیز کے خزانے موجود ہیں لیکن اس دنیا کا بقا مقتضی ہے کہ ہر چیز ایک تناسب کے ساتھ ظہور میں آئے اس وجہ سے وہ ہر چیز اتنی ہی مقدار میں بھیجتا ہے جتنی مقدار میں اس کا بھیجنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر کوئی چیز ذرا اپنی حد مطلوب سے زیادہ ہوجاتی ہے اور یہ زیادتی بھی جب ہوتی ہے خدا ہی کے حکم سے ہوتی ہے تو اس کے نتیجہ میں اس دنیا میں بڑی بڑی آفتیں برپا ہوجاتی ہیں۔ یہ ساری باتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ دنیا نہ تو کسی اتفاق حادثہ کے طور پر ظہور میں آگئی ہیں جیسا کہ ملاحدہ و منکرین سمجھتے ہیں اور نہ یہ مختلف دیویوں اور دیوتاؤں کی بازیگا ہے جیسا کہ مشرکین نے سمجھا ہے۔ چناچہ سورة فرقان کی آیت 2 میں اجزائے کائنات کے اسی تناسب کو تقدیر کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے اور اس تقدیر کو شرک کی نفی اور توحید کی ایک واضح دلیل کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ اس کی تفصیل انشاء اللہ اپنے مقام پر آئے گی۔
Ayah 15:22نظام ربوبیت کی مزید وضاحت : وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ فَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَسْقَيْنَاكُمُوهُ وَمَا أَنْتُمْ لَهُ بِخَازِنِينَ۔ " لقح " کے معنی باردار اور حاملہ کرنے کے ہیں۔ اسی سے لاقحہ اور اور کی جمع لواقح ہے۔ " ریاح " موسیٰ ہواؤں کو کہتے ہیں جو بادلوں کو باردار کرتے اور بارش کا سبب بنتی ہیں۔
اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنی جس ربوبیت کی طرف اشارہ فرمایا۔ یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ پانی جو تمہاری اور تمام جانداروں کی زندگی کا ذریعہ اور تمام اسباب معیشت کو وجود میں لانے کا واسطہ ہے۔ یہ خدا ہی کے حکم اور اس کی مہربانی سے تمہیں حاصل ہوتا ہے۔ وہی ہے جو موسمی ہوائیں چلاتا ہے جو بادلوں کو جمع اور ان کو باردار کرتی ہیں جن سے تم سیراب ہوتے ہو۔ یہ تمہارے بس میں نہ تھا کہ تم اس پانی کے ذخیرے جمع کرکے رکھ چھوڑتے اور جب ضرورت پڑتی پانی برسا لیتے، یہ خدا ہی کا انتظام اور اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے یہ انتظام کر رکھا ہے۔
Ayah 15:23وَإِنَّا لَنَحْنُ نُحْيِي وَنُمِيتُ وَنَحْنُ الْوَارِثُونَ۔ اوپر جو باتیں ارشاد ہوئی ہیں یہ ان کا لازمی تقاضا واضح فرمایا گیا ہے کہ ہم ہی زندگی بھی بخشتے ہیں اور ہم ہی موت بھی دیتے ہیں اور ہم ہی ہر چیز کے وارث بھی ہیں جس طرح زندگی اور موت میں کسی کو دخل نہیں ہے اسی طرح زمین اور اہل زمین کی وراثت میں بھی کسی کا کوئی حصہ نہیں۔ سب کا مرجع و مولی اللہ ہی ہے۔ اگر کسی کسی اور سے کوئی امید باندھ رکھی ہے تو یہ محض وہم ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔
Ayahs 15:24–25تفسیر آیات 24 تا 25: وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ (24) وَإِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ۔ یعنی کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اتنی بیشمار مخلوقات کا حساب کتاب کس کے لیے بس کی بات ہے۔ فرمایا کہ ہم ہی نے سب کو پیدا کیا اور سب کو روزی دی ہے ہم ان کو بھی جانتے ہیں جو گزر چکے اور ان سے بھی واقف ہیں جو بعد میں آئے یا آئیں گے۔ اللہ ان سب کو اکٹھا کرے گا اور سب کا حساب کرے گا۔ وہ حکیم وعلیم ہے۔ اس کے حکیم ہونے کا تقاضا ہے کہ وہ ایک روز جزا و سزا لائے اور اس کے علیم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ نہ کوئی اس سے اوجھل ہوسکتا اور نہ وہ کسی کے کسی عمل سے بیخبر ہے۔
Ayah 15:26آگے کا مضمون۔ آیات 26 تا 48: آدم و ابلیس کے ماجرے کا حوالہ : آگے کی آیات میں آدم اور ابلیس کے ابتدائی ماجرے کا حوالہ دیا ہے۔ مقصود اس حوالہ سے اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ آج جو لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں اور نہایت غرور وتکبر کے ساتھ خدا کے رسول کی تکذیب کررہے ہیں ان کے کفر اور تکبر کا اصل سبب یہ نہیں ہے کہ رسولوں کی باتوں کی صداقت ثابت کرنے کے لیے دلیلیں موجود نہیں ہیں یا ان کی طلب کے مطابق ان کو معجزے نہیں دکھائے جا رہے ہیں بلکہ یہ ذریات ابلیس کے اس فریب میں آئے ہوئے لوگ ہیں جس کی دھمکی ابلیس نے اس وقت دی تھی جب اس کو آدم کے سجدہ کا حکم ہوا تھا۔ اس وقت اس نے سجدہ سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مجھے مہلت دی جائے تو میں آدم کی ساری ذریت کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا، صرف وہی لوگ میرے دام فریب سے بچ سکیں گے جو خدا کے مخلص بندے ہوں گے اللہ تعالیٰ نے شیطان کو اس کی مہلت دی اور فرمایا کہ جا ان میں سے جو تیرے فریب میں آئیں ان کو تو اپنے دام فریب میں پھنسا، لیکن میرے مخلص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمائیے۔
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ۔
صلصال خشک مٹی کو کہتے ہیں جو خشک ہو کر کھنکھانانے لگ جائے۔ حَمَإٍ مَسْنُونٍ سیاہ اور بو دار مٹی کو کہتے ہیں۔
زمین کے تمام جانداروں کی زندگی کا آغاز پانی اور کیچڑ ہی سے ہوا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان میں سے جن کے لیے یہ چاہا کہ وہ خشکی میں رہیں بسیں ان کے لیے خشک زمین مہیا فرمائی اور اس خشک زمین میں ان کے اندر کی وہ قوتیں اور صلاحیتیں ابھریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر ودیعت فرمائی تھیں اور جو اپنے نشوونما کے لیے زمین کے مخصوص ماحول کی محتاج تھیں۔ انسان بھی اس کلیہ سے مستثنی نہیں ہے۔ وہ بھی پانی، کیچڑ اور خشک زمین ہی کی ایک مخلوق ہے۔ البتہ اس کو دوسرے جانداروں کے مقابل میں، جیسا کہ آگے ذکر آ رہا ہے، یہ امتیاز حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا تسویہ فرمایا یعنی ان تمام قوتوں اور صلاحیتوں سے اس کو آراستہ کیا جو اس کے مقصد تخلیق کی تکمیل کے لیے ضروری تھیں۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ صرف یہی نہیں فرمایا کہ انسان کو مٹی سے پیدا کی، جیسا کہ دوسرے مقامات میں ہے، بلکہ اس کے ساتھ حما مسنون کا اضافہ بھی ہے۔ اس سے مقصود زندگی کے نقطہ آغاز کی طرف اشارہ بھی کرنا اور اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا بھی کہ جس کی زندگی کا آغاز ایسے حقیر عنصر سے ہوا ہے اس کے لیے یہ کسی طرح زیبا نہیں کہ وہ اس قادر وقیوم سے اکڑے جس نے اس کو اتنے حقیر عنصر سے پیدا کیا اور پھر اس کو نہایت اعلی صلاحیتوں سے آراستہ کیا۔
Ayah 15:27وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ۔ " سموم " لو کی لپٹ اور ہوائے گرم کو کہتے ہیں۔
انسانوں کی خلقت کے بعد یہ جنوں کی خلقت کا پتہ دیا کہ انسانوں سے پہلے اللہ نے جنوں کو پیدا کیا اور ان کی خلقت آگ کے عنصر لطیف یعنی ہوائے گرم سے ہوئی۔ یہ امری یہاں پیش ظر رہے کہ انسان اور جنات کی خلقت کے بیان کرنے قرآن کا مقصود اصلی یہاں ان کے عناصر خلقت کا سراغ دینا نہیں ہے بلکہ اصل مقصود انسان اور ابلیس کی اس بنائے مخاصمت کو واضح کرنا ہے جس کا ذکر آگے کی آیات میں آرہا ہے۔ ابلیس نے جو جنوں میں سے تھا، اسی خلقت کو اپنی برتری کی دلیل ٹھہرا کر آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا جس کے سبب سے وہ معلوم ہوا اور اس کی یہ معلونیت اس کی اور آدم کی ذریات میں ایک مستقل وجہ عناد و حسد بنی اس وجہ سے قرآن نے اس کا حوالہ دیا ہے۔
Ayahs 15:28–29تفسیر آیات 28 تا 29: وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ (28) فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ (29)
اب وہ اصل مضمون بیان ہو رہا ہے جس کی تمہید کے طور پر اوپر والی بات بیان ہوئی ہے۔ ہم آدم و ابلیس کے اس ماجرے پر بقرہ آیات 33 تا 38 اور اعراف آیات 11 تا 25 کے تحت پوری وضاحت کے ساتھ بحث کرچکے ہیں۔ یہاں اس کے اعادے میں طوالت ہوگی۔ البتہ ان امور کی طرف ہم یہاں بھی اشارہ کریں گے جو سلسلہ کلام کو سمجھنے کے لیے ضروری ہیں۔
انسانی شرف کی بنیاد : ان آیات سے ایک بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم کو سجدہ کرنے کا حکم آدم کی تخلیق سے پہلے ہی دیا تھا۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ سجدہ کے اس حکم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وضاحت بھی تھی کہ یہ سجدہ اس وقت کیا جائے جب میں آدم کا تسویہ یعنی اس کو تمام قوتوں اور صلاحیتوں سے آراستہ کرلوں اور اس کے اندر اپنی روح پھونک لوں۔ اس سے یہ بات از خود واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کو جو کچھ شرف و فضیلت حاصل ہے وہ تمام تر ان قوتوں اور صلاحیتوں اور اس روح یزدانی کی بدولت ہے جو اس کو ودیعت ہوئی ہیں۔ اگر انسان ان کی حفاظت کرے اور ان کو ترقی دے تو وہ مسجود ملائک ہے اور اگر ان کو برباد کردے تو پھر وہ نہ صرف ایک حیوان بلکہ حیوانات سے بھی فرو تر ہے۔ نَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کے اندر ایک نور یزدانی بھی ودیعت ہوا ہے جو اس کے تمام روحانی کمالات کا سرچشمہ ہے اور اسی کے واسطہ سے وہ خدا سے جڑتا ہے بشرطیکہ وہ اس کی پوری پوری حفاظت کرے اگر وہ اس کو ضائع کردے تو وہ ایک بےچراغ گھر ہے جس کے اندر صرف تاریکی ہی تاریکی ہے۔
Ayahs 15:30–31تفسیر آیات 30 تا 31 فَسَجَدَ الْمَلائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ۔إِلا۔ إِبْلِيسَ أَبَى أَنْ يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ۔ تمام فرشتوں اور ان کے حکم میں داخل تمام مخلوقات نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل میں آدم کو سجدہ کیا لیکن ابلیس نے جو جنات میں سے تھا، اس حکم کی تعمیل سے انکار کیا اور اس انکار کی وجہ، جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے، اس نے صرف یہ بتائی کہ وہ آگے سے پیدا ہونے کے سبب سے ایک برتر مخلوق ہے تو ایک بشر کو کس طرح سجدہ کرسکتا ہے جو مٹی سے پیدا ہوا اور اس سے فروتر ہے۔
Ayahs 15:32–35تفسیر آیات 32 تا 35: قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلا تَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ (32) قَالَ لَمْ أَكُنْ لأسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ (33) قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ (34) وَإِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ (35)
یہ حکم ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں اور جنوں کے لیے امتحان تھا جس میں فرشتے کامیاب رہے لیکن ابلیس جو جنوں میں سے تھا، اپنے غرور وتکبر کے سب سے اس میں ناکام رہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اس سرکشی کے جرم میں اس کو ملعون و مردود قرار دے کر وہاں سے نکلنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ تیرے اوپر یہ لعنت جزا کے دن تک مسلط رہے گی اور اس کے بعد تو اپنے اس جرم کی سزا بھگتے گا۔
Ayahs 15:36–38تفسیر آیات 36 تا 38: قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ (36) قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ (37)إِلَى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ (38)۔ ابلیس اس حکم اخراج اور اس لعنت سے متاثر یا مرعوب ہونے کے بجائے اور زیادہ اکڑ گیا۔ اس نے روز قیامت تک کے لیے مہلت مانگی کہ اس کو موقع دیا جائے کہ وہ آدم اور ان کی ذریات کو اپنے فتنوں میں مبتلا کرکے یہ ثابت کرسکے کہ یہ اس شرف کے اہل نہیں ہیں جو ان کو بخشا گیا ہے اور ان کو سجدہ نہ کرنے کے معاملے میں وہ بالکل بجانبِ حق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ درخواست قبول فرما لی اور قیامت کے روز موعود تک کے لیے اس کو یہ مہلت دے دی گئی۔
Ayahs 15:39–40تفسیر آیات 39 تا 40: قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لأزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الأرْضِ وَلأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ (39)إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ (40)۔ " اغوا " کے معنی گمراہ کرنے کے ہیں۔ چونکہ ابلیس آدم کو سجدہ نہ کرنے کے معاملے میں اپنے آپ کو بجانب حق خیال کرتا تھا اس وجہ سے اس نے نہایت گستاخانہ انداز میں فعل " اغوا " کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کیا۔ مطلب یہ کہ اگر میں اس حکم کی عدم تعمیل کے باعث گمراہ ٹھہرا تو اس میں میرا قصور نہیں ہے بلکہ یہ حکم ہی ایسا تھا کہ میں اس کی تعمیل نہیں کرسکتا تھا اس وجہ سے اگر میں اس کے سبب سے گمراہ ہوا تو اس پر تو ہی نے مجھے مجبور کیا۔ لأزَيِّنَنَّ لَهُمْ فی الارض، یعنی میں دنیا اور اس کی مرغوبات کو انسان کی نگاہوں میں کھباؤں گا اور وہ ان کی ملمع اور محبت میں اس طرح پھنس جائے گا کہ نہ اسے یہ یاد رہے گا کہ وہ مسجود ملائک ہے، نہ اس کو کچھ آخرت کا ہوش رہے گا اور نہ وہ تیری توحید پر قائم رہے۔ گا۔ وَلأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ، یعنی ان کو توحید کی سیدھی راہ سے ہٹا کر شرک کی وادیوں میں بھٹکا دوں گا۔ ابلیس کا قول سورة اعراف آیت 16 تا 17 میں یوں نقل ہوا ہے۔ قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لأقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ (16) ثُمَّ لآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ وَلا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ (17): وہ بولا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کردیا اس وجہ سے میں تیری سیدھی راہ پر ان کی گھات میں بیٹھوں گا، ان کے آگے سے، ان کے پیچھے اور ان کے دہنے اور ان کے بائیں سے ان پر حملہ کروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطان کے اغوا کا خاص ہدف توحید ہے۔ اس کی ساری فتنہ آرائیاں اس واحد غرض کے لیے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی شکل میں آدم کی اولاد کو خدا تک پہنچانے والی سیدھی راہ سے بھٹکا کر شرک کی گمراہی میں پھنسا دے۔ إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ، یعنی میری ان فتنہ سامانیوں سے تیرے بندوں میں سے اگر کچھ خوش قسمت سے بچ رہیں گے تو وہی بچ رہیں گے جن کو تو نے اپنی توحید اور یاد آخرت پر قائم رہنے کے لیے خاص کرلیا ہو۔ باقی سب میرے فتراک کے ضلالت کے نخچیر ہو کے رہیں گے۔