15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 15:81

وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 15:81 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں تو وہ ان سے روگردان ہی رہے

وَآتَيْنَاهُمْ آيَاتِنَا فَكَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ۔ " آیات " سے مراد عقلی و فطری دلائل بھی ہیں اور حسی معجزات بھی۔ حسی معجزات میں سے ناقۂ ثمود کا ذکر تو خود قرآن میں آیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی ان کو معجزے دکھائے گئے ہوں لیکن قرآن نے ان کی تفصیل بیان کرنے کے بجائے صرف ان کی طرف اشارہ کردیا ہے، اس لیے کہ یہاں مقصود صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ یہ سارے دلائل و معجزات ان پر بےاثر ہی رہے۔
Ayah 15:82

وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:82 in the Quran reader

اور وہ پہاڑوں کو تراش کر چین سے گھر بناتے تھے

وَكَانُوا يَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا آمِنِينَ۔ یعنی پیغمبر کے انذار سے کان بند کیے ہوئے بےخوف اور چنت ہو کر اپنی تعمیری سرگرمیوں میں منہمک رہے۔ ان کو سنگ تراشی کے فن میں کمال حاصل تھا۔ پہاڑوں کو تراش کر ان کے اندر نہایت مستحکم اور شاندار مکانات بناتے تھے اور اپنے اس فن پر ان کو بڑا ناز اور فخر تھا۔ بھلا ان لوگوں کے دل پر پیغمبر کے اس ڈراوے کا کیا اثر پڑ سکتا تھا کہ یہی مستحکم اور شاندار مکانات اگر عذاب الٰہی آگیا تو ان کے لیے قبروں کی صورت میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔
Ayahs 15:83–84

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 15:83 in the Quran reader

تو ان کو صبح تڑکے ہماری ڈانٹ نے آپکڑا

فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ Open ayah 15:84 in the Quran reader

تو جو کچھ وہ کرتے رہے تھے ان کے کچھ کام نہ آیا

تفسیر آیات 83 تا 84: فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ (83) فَمَا أَغْنَى عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (84)۔ یعنی بالآخر وہی ہوا جس سے پیغمبر نے ان کو ڈرایا تھا یعنی ایک دن عذاب الٰہی ان پر آ دھمکا اور اس نے ان کے سارے اسباب و وسائل میں سے کوئی چیز بھی ان کے کام نہ آسکی۔ ان پر نازل ہونے والے عذاب کو یہاں " صیحۃ " سے تعبیر فرمایا ہے جس کے معنی ڈانٹ اور چیخ کے ہیں۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم اوپر بھی اشارہ کر آئے ہیں، یہ ہے کہ ثمود پر اللہ تعالیٰ نے دھاریوں والے بادل بھیجے جن کے اندر ان کے لیے ہولناک کڑک اور بہرا کردینے والی چیخ بھی تھی۔
Ayah 15:85

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ Open ayah 15:85 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان غایت کے ساتھ ہی پیدا کیا ہے اور بلاشبہ قیامت شدنی ہے تو ان سے خوبصورتی کے ساتھ درگزر کرو

خاتمۂ سورة اور پیغمبر کو تسلی : وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلا بِالْحَقِّ وَإِنَّ السَّاعَةَ لآتِيَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ۔ اب یہاں سے براہ راست پیغمبر ﷺ کی طرف خطاب التفات ہے اور اس کی حیثیت خاتمۂ سورة کی ہے جس نے سورة کے تمام مطالب اپنے اندر سمیٹ لیے ہیں۔ آپ کو مخاطب کرکے صبرواستقامت اور مخالفوں کی مخالفت سے خوب صورتی کے ساتھ درگزر کرنے کی تلقین فرمائی جا رہی ہے۔ تمہید کلام یوں ہے کہ ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو جو پیدا کیا تو یوں ہی بےمقصد، عبث اور بےغایت نہیں پیدا کیا ہے بلکہ غایت و مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ دنیا کوئی بازیچۂ اطفال نہیں ہے کہ لوگ اس میں جو چاہیں کرتے پھریں اور ان سے کوئی باز پرس نہ ہو۔ اس کے باغایت اور بامقصد ہونے کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں لوگوں سے باز پرس ہو۔ جنہوں نے اس میں نیک کام کیے ہوں وہ اپنی نیکیوں کا صلہ پائیں اور جنہوں نے اس کو ایک بازیچۂ اطفال سمجھ کر اس میں صرف اپنے ہوائے نفس کی پیروی کی ہو اس کی سزا بھگتیں۔ چناچہ قیامت شدنی ہے وہ آ کے رہے گی اور اس دن یہ لوگ جو تمہاری مخالفت میں آج ایڑی چوٹی کا زور صرف کررہے ہیں اپنا انجام دیکھ لیں گے تو ان کی مخالفتوں اور شرارتوں سے خوبصورتی کے ساتھ درگزر کرو۔ خوبصورتی کے ساتھ درگرز کا مطلب یہ ہے کہ نہ ان کی شرارتوں سے بددل اور مایوس ہو، نہ ان کی بیہودہ باتوں کا جواب دو اور نہ اپنے فرض دعوت و تبلیغ سے دست کش ہو بلکہ اپنے کام میں لگے رہو اور ان کے معاملے کو اللہ پر چھوڑو۔ اگر یہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو یہ بھی اسی انجام سے دوچار ہوں گے جس سے رسولوں کی تکذیب کرنے والی ان کی پیشرو قومیں ہوچکی ہیں۔
Ayah 15:86

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 15:86 in the Quran reader

تمہارا رب بڑا ہی پیدا کرنے والا اور علم والا ہے

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلاَّقُ الْعَلِيمُ۔ یہ دلیل ہے اس بات کی جو اوپر والی آیت میں ارشاد ہوئی ہے کہ قیامت آ کے رہے گی۔ فرمایا کہ تمہارا خداوند خالق بھی ہے اور علیم بھی۔ جس نے یہ ساری دنیا پیدا کی ہے اور برابر پیدا کررہا ہے اس کے لیے لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد ازسر نو پیدا کرنا کچھ مشکل نہیں۔ اور وہ علیم بھی ہے، ہر ایک کے ایک ایک قول وفعل سے اچھی طرح باخبر، تو اس کے لیے لوگوں کے اقوال و اعمال کا مواخذہ و محاسبہ بھی کچھ دشوار نہیں۔ یہ امر بھی یہاں ملحوظ رہے کہ جو خالق ہے لازم ہے کہ وہ اپنی خلق سے پوری طرح باخبر بھی ہو الا یعلم من خلق۔ یعنی کیا وہ جس نے سب کو پیدا کیا ان سے بیخبر ہوسکتا ہے۔
Ayah 15:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ Open ayah 15:87 in the Quran reader

اور ہم نے تم کو سات مثانی اور قران عظیم عطا کیے

پیغمبر کے لیے سرمایہ تسکین و تسلی : وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ۔ صبر و استقامت اور درگزر کی تلقین کے لیے سرمایہ تسکین و تسلی اور آخر کار اس کی کامیابی و فتحمندی کی ضامن ہے۔ فرمایا کہ ہم نے تمہیں سات مثانی اور قرآن عظیم عطا کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس روحانی و ملکوتی لشکر کے رکھتے ہوئے تم اپنے دشمنوں اور مخالفوں کے مقابلے کے لیے اب کسی اور چیز کے محتاج نہیں رہے جس خدا نے اس قرآن عظیم کی ذمہ داری تم پر ڈالی ہے، اس کی طرف سے یہ عہد ہے کہ وہ تم کو ضرور فتحمند کرے گا۔ ان الذی فرض علیک القران لرادک الی معاد۔ " سبع مثانی " سے کیا مراد ہے : یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سبع مثانی سے کیا مراد ہے ؟ اس سوال کے جواب میں سلف سے مختلف اقوال منقول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے قرآن کی ابتدائی سات بڑی سورتیں مراد ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے جس کے اندر بسم اللہ سمیت ساتھ آیتیں ہیں اور یہ نمازوں میں بار بار دہرائی جاتی ہیں۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے پورا قران مراد ہے۔ اقوال تو بعض اور بھی ہیں لیکن قابل ذکر یہی تین قول ہیں اور ان میں سے بھی زیادہ شہرت دوسرے قول کو حاصل ہوئی۔ پہلے قول کی تائید میں اس کے قائلوں کی طرف سے کوئی دلیل میری نظر سے نہیں گزری۔ دوسرے قول کی تائید میں اس کے قائلوں کی طرف سے واحد دلیل جو دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ سورة نمازوں میں بار بار دہرائی جاتی ہے لیکن دو باتوں کے سبب اس قول پر دل نہیں جچتا۔ اول یہ کہ سورة فاتحہ کی آیتیں سات اسی صورت میں بنتی ہیں جب بسم اللہ کو ابھی اس کا ایک جزو تسلیم کیا جائے۔ بسم اللہ کا جزو فاتحہ ہونا ایک امر نزاعی ہے اور قوی بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ بسم اللہ اس سورة کے آغاز میں بھی اسی طرح ہے جس طرح دوسری سورتوں کے آغاز میں ہے۔ اس کے فاتحہ ہونے کے ایک جزو ہونے کی کوئی خاص وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔ دوسری یہ کہ بار بار دہرائے جانے کی دلیل اسی صورت میں دلیل بنتی ہے جب " مثانی " کے معنی بار بار دہرائی جانے والی چیز کو نہیں کہتے بلکہ اس چیز کو کہتے ہیں جو دو دو کرکے ہو۔ قرآن میں یہ لفظ کئی جگہ استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ اس کے معنی یہی ہیں۔ مثلاً " فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنی و ثلاث رباع : تو نکاح کرو اپنی پسندیدہ عورتوں میں سے دو دو، تین تین اور چار چار کرکے "۔ ان تقوموا للہ مثنی وفرادی ثم تتفکرو : یہ کہ اٹھو اللہ کے لیے دو دو کرکے اور ایک ایک کرکے پھر غور کرو "۔ تیسرے قول کو اگرچہ کچھ زیادہ شہرے حاصل نہیں ہوئی لیکن دلائل کی روشنی میں یہ قول ہم کو زیادہ وزن دار معلوم ہوتا ہے۔ سب سے بڑی دلیل تو اس کے حق میں یہ ہے کہ قرآن میں خود یہ تصریح موجود ہے کہ پورا قرآن مثانی ہے۔ " اللہ نزل احسن الحدیث کتابا متشابہا مثانی : اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے ایک متشابہ مثانی کتاب کی صورت میں "۔ متشابہ سے مراد ظاہر ہے کہ اس کے تمام اجزا کا باہم ہم آہنگ اور ہم رنگ ہونا ہے۔ یعنی اس میں کہیں کوئی تضاد و تناقض نہیں پایا جاتا۔ رہا یہ سوال کہ اس کے " مثانی " ہونے کا کیا مفہوم ہے تو اس کا صحیح جواب ہمارے نزدیک وہی ہے جس کی طرف ہم اس کتاب کے مقدمہ میں اشارہ کر آئے ہیں کہ قرآن کی تمام سورتیں جوڑ جوڑا ہیں۔ ہر سورة اپنے ساتھ اپنا ایک مثنی بھی رکھتی ہے۔ ہم نے بڑی سورتوں میں بقرہ اور آل عمران کو اور چھوٹی سورتوں میں معوذتین کو اس کی مثال میں پیش کیا ہے اور اپنی اس کتاب میں سورتوں کی تفسیر کرتے ہوئے ہم اس حقیقت کو برابر واضح کرتے ا رہے ہیں۔ قرآن میں سورتوں کے ساتھ گروپ۔ ہم نے مقدمہ میں نہایت تفصیل کے ساتھ یہ بھی واضح کیا ہے کہ قرآن میں سورتوں کی ترتیب اس طرح ہے کہ ان کے الگ الگ سات گروپ یا سات مجموعے بن گئے ہیں۔ ہر گروپ ایک یا ایک سے زیادہ مکی سورتوں سے شروع ہوتا ہے اور ایک یا ایک سے زیادہ مدنی سورتوں پر تمام ہوتا ہے۔ اس طرح قرآن گویا سات ابوب پر مشتمل ہے جن کے اندر سورتوں کی حیثیت فصلوں کی ہے۔ ان ابواب اور ان فصلوں میں مضامین مشترک بھی ہیں اور ہر باب اور ہر فصل کا ایک خاص امتیازی پہلو بھی ہے جو ان کو ایک دوسرے سے ممیز کرتا ہے۔ سورة فاتحہ کی حیثیت پورے قرآن کے دیباچہ کی ہے جس میں اجمال کے ساتھ وہ تمام مطالب آگئے ہیں جو پورے قرآن میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ گویا اس نگینہ کے اندر قرآن عظیم کا پورا شہرستانِ معانی بند ہے۔ اس پہلو سے یہ سبع مثانی بھی ہے اور قرآن عظیم بھی۔
Ayah 15:88

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 15:88 in the Quran reader

ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو جن چیزوں سے بہرہ مند کر رکھا ہے ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو اور نہ ان کی حالت پر غم کرو اور اپنی شفقت کے بازو اہل ایمان پر جھکائے رکھو

لا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ وَلا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِينَ لفظ ازاواج طبقات کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مثلاً سورة واقعہ میں ہے " وکنتم ازواجا ثلاثہ " (اور اس وقت تم تین طبقات میں تقسیم ہوگے)۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب خدا نے تمہیں قرآن کی یہ نعمت عظمی دے رکھی ہے جو تمہاری کامیابی وفتحمندی کی ضامن ہے تو تمہیں ان لوگوں کی طرف نگاہ اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے جو اپنے مال و اسباب کے غرور میں مست ہیں اور تمہاری بات سننے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ حقیقت یہاں پیش نظر رہے کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو اپنی قوم کے اغنیاء اور ارباب ثروت و جاہ کی طرف خاص طور پر دعوت کے ابتدائی دور میں، جو توجہ ہوئی ہے تو اس کا سبب نعوذ باللہ یہ نہیں تھا کہ ان نگاہوں میں ان کے مال و متاع کی کوئی طمع یا وقعت تھی بلکہ اس کا سبب محض یہ تھا کہ اگر یہ زور زر رکھنے والے لوگ ایمان لائیں گے تو یہ اپنی دنیا اور عاقبت بھی سنواریں گے اور ان کا مال اور ان کا اثر دین کی تقویت اور ان کے زیردستوں کے لیے دین کی راہ کھولنے کا بھی ذریعہ ہوگا۔ اسی جذبہ خیر سے آنحضرت ﷺ کو بھی دعوت کے ابتدائی دور میں قریش کے اکابر و اعیان کی طرف خاص توجہ رہی لیکن جب انہوں نے آنکھیں نہیں کھولیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت فرمائی کہ آپ ان سے صرف نظر کرکے اپنی ساری توجہ اور شفقت ان لوگوں پر مبذول فرمائیں جو اگرچہ دولت دنیا نہیں رکھتے لیکن قرآن عظیم پر ایمان کی نعمت ان کو حاصل ہے۔ وَلا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ان اغنیاء کی ایمان سے محرومی پر بڑا غم تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بھی روک دیا کہ ان لوگوں کی اس محرومی پر غم نہ کھاؤ۔ یہ شامت زدہ لوگ اسی کے سزاوار تھے کہ یہ قرآن پر ایمان کی نعمت سے محروم ہی رہیں۔ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِينَ ، میں ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ اب ان شامت زدہ لوگوں پر قہر الٰہی نازل ہونے میں دیر نہیں تو جس طرح پرندہ کوئی خطرہ محسوس کرتے ہی اپنے بچوں کو اپنے پروں سے نیچے چھپا لیتا ہے اسی طرح تم ان مومنین کو برابر اپنے دامن شفقت کے نیچے چھپائے رکھو۔
Ayah 15:89

وَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ Open ayah 15:89 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ میں تو بس ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں

وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُل۔ یعنی تم ان مغروروں اور سرمستوں کو سنا دو کہ میں تو بس آنے والے عذاب اور خطرے سے ایک کھلا ہوا آگاہ کرنے والا ہوں سو میں نے اپنا فرض انجام دیا اور دے رہا ہوں۔ رہی یہ بات کہ تم نے میری بات سنی یا نہیں سنی تو اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں بلکہ خود تم پر ہے۔
Ayahs 15:90–91

كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ Open ayah 15:90 in the Quran reader

اسی طرح ہم ان تقسیم کرلینے والوں پر بھی اتارا تھا

الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ Open ayah 15:91 in the Quran reader

جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیے

تفسیر آیات 90 تا 91:۔ كَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَ (90) الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ (91)۔ اس آیت کا تعلق اوپر کی آیت 87 سے ہے یعنی پوری بات یوں ہے کہ ہم نے تمہیں سبع مثانی اور قرآن عظیم اسی طرح عطا کیا ہے جس طرح ان لوگوں پر اپنا کلام اتارا تھا جنہوں نے اس کے حصے بخرے کرکے اپنے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیے۔ یہ اشارہ یہود کی طرف ہے جنہوں نے حق کو چھپانے کے لیے اپنے قرآن یعنی تورات کی ترتیب بھی بدل ڈالی اور اس کو مختلف اجزا میں تقسیم کرکے اس کے بعض کو چھپاتے اور بعض کو ظاہر کرتے تھے۔ سورة انعام آیت 92 میں ان کی اس شرار کا ذکر گزر چکا ہے۔ دوسرے آسمانی صحیفوں کے لیے لفظ قرآن کے استعمال کی نظیر خود قرآن میں موجود ہے ملاحظہ ہو سورة رعد کی آیت 31۔ اس آیت میں ضمناً یہود کے اس اعتراض کا جواب بھی آگیا کہ تورات کے بعد اب کسی نئے قرآن کی ضرورت کیا باقی رہی ؟ جواب یہ ہے کہ اول تو وہ قرآن اپنی اصلی صورت میں باقی کہاں رہا جس پر ان کو ناز ہے، اس کے تو انہوں نے حصے بخرے کرڈالے اور اگر وہ اپنی صحیح صورت میں باقی ہوتا تو خود اسی سے اس نئے قرآن کی ضرورت کا ثبوت بھی مل جاتا۔ عضون، عضۃ کی جمع ہے جس کے معنی فرقے، ٹکڑے اور اجزاء کے ہیں۔
Ayahs 15:92–93

فَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:92 in the Quran reader

تو تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے باز پرس کریں گے

عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 15:93 in the Quran reader

ان کے ان اعمال کی جو یہ کرتے رہے ہیں

تفسیر آیت 92 تا 93: فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ (92) عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (93)۔ یہ دونوں آیتیں یہود ہی سے متعلق ہیں۔ نہایت زور دار الفاظ میں قسم کے ساتھ ارشاد ہوا ہے کہ جنہوں نے کتمان حق اور اپنے اغراض و اہوا کے لیے کتاب الٰہی کے ساتھ یہ ظلم کیے ہیں ہم ان سے ان کی ان کارستانیوں کی بابت ایک دن ضرور باز پرس کریں گے
Ayah 15:94

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 15:94 in the Quran reader

تو جو کچھ تمہیں حکم ملا ہے اس کو آشکارا طور پر سنا دو اور مشرکوں سے اعراض کرو

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ۔ اب کلام پھر اپنے اصل سلسلہ سے مربوط ہوگیا ہے۔ حضور کو تاکید کے ساتھ ہدایت کی جا رہی ہے کہ جو کچھ تمہیں حکم دیا جا رہا ہے بےکم وکاست اور بےخوف و خطر اس کو اس کے مخاطبوں تک پہنچا دو اور تمہارے خلاف مشرکین جو بکواس کر رہے ہیں اس کا نوٹس نہ لو۔
Ayahs 15:95–96

اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ Open ayah 15:95 in the Quran reader

ہم ان مذاق اڑانے والوں سے، تمہارے طرف سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں

الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:96 in the Quran reader

جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبود شریک کرتے ہیں، سو وہ عنقریب جان لیں گے

تفسیر آیات 95 تا 96:إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ (95) الَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ (96)۔ یعنی یہ مشرکین جو تمہارا مذاق اڑا رہے اور تم ان کو جو ڈراوے سناتے ہو ان پر ہنستے ہیں تو ان سے نمٹنے کے لیے تمہاری طرف سے ہم کافی ہیں۔ وہ عنقریب جان لیں گے کہ جو کچھ تم انہیں سنا رہے ہو اس کا ایک ایک حرف سچ ثابت ہوا۔
Ayahs 15:97–99

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 15:97 in the Quran reader

اور ہم کو معلوم ہے کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں اس سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ Open ayah 15:98 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو اور سجدہ کرنے والوں میں سے بنو

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ Open ayah 15:99 in the Quran reader

اور اپنے رب کی عبادت میں لگے رہو یہاں تک کہ امر یقینی تم پر آشکارا ہوجائے

تفسیر آیات 97 تا 99: کفار کے طنز پر صبر و استقامت کی تلقین : وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ (97) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ (98) وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (99)۔ یہ آنحضرت ﷺ کو کفار کے طنز و استہزاء پر صبر کی تلقین اور اس صبر کے حاصل کرنے کی تدبیر بتائی گئی ہے کہ حصول صبر و استقامت کے لیے اپنے رب کی تسبیح کرو، اپنے اہل ایمان ساتھیوں کے ساتھ نماز کا اہتمام کرو اور اپنے رب کی عبادت میں لگے رہو تاآنکہ صبح یقین طلوع ہوجائے یعنی ہر وہ بات واقعہ ثابت ہو کے رہے جس کی تم لوگوں کو خبر دے رہے ہو۔ ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ اللہ لغزشوں کو معاف فرمائے اور اس کی صحیح باتوں سے پڑھنے والوں کو نفع پہنچے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔