16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة نحل۔ تعارف و مضامین (الف) ۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق : اس گروپ کی تمام سورتوں کے عمود پر ایک جامع بحث ہم سورة یوسف کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں رسول کی بعثت سے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش شروع ہوتی ہے وہ لازماً رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کی فتح اور اس کے جھٹلانے والوں کی ہزیمت پر ختم ہوتی ہے۔ یہی حقیقت ایک نئے اسلوب سے اس سورة میں بھی واضح کی گئی ہے۔ اس پہلو سے دیکھیے تو اس کی آیت 30 للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ ولدار الاخرۃ خیر ولنعم دار المتقین، کو عمود کی حیثیت حاصل ہے۔ یعنی جو لوگ نیکی اور تقوی کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے اس دنیا میں بھی فیروز مندی ہے اور آخرت کا گھر تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے ہی اور کیا ہی خوب ہے تقوی اختیار کرنے والوں گا گھر۔ یہی بات اس سورة کی آیات 41 تا 42 میں بھی فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ حق کی راہ میں مخالفین حق کے مظالم سہہ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت اختیار کرتے ہیں ہم ان کو دنیا میں بھی اقتدار و تمکن عطا کرتے ہیں اور آخرت کا صلہ تو اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے ہی۔ سابق سورة ( سورة حجر) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اس تسلی کے مضمون پر ختم ہوئی تھی کہ آج جو لوگ تمہارے انذار اور تمہاری تنبیہ و تذکیر کا مذاق اڑا رہے ہیں اور تمہاری باتوں کو محض ہوائی باتیں خیال کررہے ہیں تم ان کے اس استہزاء سے دل شکستہ نہ ہو، تمہاری طرف سے ان متکبروں اور مغروروں سے نپٹنے کے لیے ہم کافی ہیں۔ اس مضمون کے بعد یہ سورة بغیر کسی تمہید کے ان متکبرین ہی کو خطاب کرکے یوں شروع ہوگئی ہے کہ اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ، یعنی عذاب کے لیے امر الٰہی صادر ہوچکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ، اور یہ لوگ اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ جن کو خدا کا شریک بنائے بیٹھے ہیں وہ ان کو خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ اللہ اس سے پاک اور برتر ہے کہ اس کا کوئی شریک وسہیم ہے۔ (ب) ۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ : (آیات 1 تا 9) ۔ کفار قریش کو تنبیہ کہ عذاب الٰہی کو آیا ہی ہوا سمجھو۔ اس کو مذاق سمجھ کر اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ۔ اس گھمنڈ میں نہ رہو کہ جن کو تم نے خدا کا شریک بنا رکھا ہے تو وہ تم کو اس سے بچا لیں گے۔ خدا کا کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ دنیا کوئی بازیچۂ اطفال نہیں ہے کہ لوگ اس میں دھاندلی مچاتے پھریں اور اس کا خالق ومالک ان سے کوئی باز پرس نہ کرے۔ پانی کی ایک بوند سے پیدا ہوئے انسان کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ وہ خدا سے جھگڑا کرے کہ مرنے کے بعد اس کو کون دوبارہ پیدا کرسکتا ہے۔ اس دنیا میں خدا کی ربوبیت اور اس کی پروردگاری کی جو نشانیاں ہر قدم پر موجود ہیں وہ اس بات کی شاہد ہیں کہ اس کا خالق نہایت ہی مہربان و رحیم ہے۔ وہ ایک دن ایسا ضرور لائے گا جس میں تمام معاملات کا فیصلہ کرے گا اور نیکوں اور بدوں دونوں کو ان کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔ پس لوگوں کے لیے صحیح رویہ یہی ہے کہ وہ اس کی بتائی ہوئی اور اس تک پہنچانے والی سیدھی راہ اختیار کریں اور کج و پیچ کی راہوں میں بھٹکنے سے بچیں۔ اگر خدا چاہتا تو سب کو راہ ہدایت ہی پر کردیتا لیکن اس معاملے میں اس نے جبر کو نہیں پسند فرمایا بلکہ یہ چاہا کہ لوگ اپنے اختیار و انتخاب سے ہدایت کی راہ اختیار کریں۔ (10 تا 23) ۔ توحید کے دلائل اس کائنات کے مختلف اجزاء میں توافق کے پہلو سے۔ یعنی اس کائنات کے مختلف اجزا میں جو باہمی سازگاری ہے وہ اس حقیقت کی نہایت واضح دلیل ہے کہ ایک ہی حکیم و قدیر کا ارادہ اس پوری کائنات میں کارفرما ہے۔ اس میں کسی اور کی شرکت نہیں ہے تو جو لوگ دوسرے معبودوں پر تکیہ کیے بیٹھے اور آخرت سے نچنت ہیں وہ اپنے اس گھمنڈ کی سزا ایک دن ضرور بھگتیں گے۔ (24 تا 32) ۔ قرآن اور اس کی تعلیمات سے متعلق متکبرین کی رائے اور ان کے رویے کی طرف اشارہ اور اس حقیقت کی تصریح کہ آج جو لوگ اپنی لیڈری کے زعم میں قرآن سے لوگوں کو برگشتہ کررہے ہیں، وہ قیامت کے دن اپنی گمراہی کا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان لوگوں کے بوجھ میں سے بھی کچھ حصہ ان کو اٹھانا پڑے گا جن کی گمراہی کا وہ ذریعہ بنیں گے۔ ان کے مقابل میں خدا ترسوں کا جو رویہ ہے اس کا حوالہ اور ان کے اچھے انجام کی طرف اشارہ۔ (33 تا 40) ۔ مشرکین، قرآن کی مخالفت اور اپنے باطل نظریات کی حمایت میں جو باتیں کہتے تھے ان میں سے بعض کا حوالہ اور ان کی تردید۔ (41 تا 47) جو لوگ کلمہ حق کی خاطر مشرکین کے ہاتھوں مصائب جھیل رہے تھے ان کی ہمت افزائی اور شرک کے علم برداروں کو ان کی سرکشی پر تہدید و وعید۔ (48 تا 60) ۔ توحید کے دلائل اور مشرکین کو تنبیہ کہ سب کچھ اللہ واحد ہی کے اختیار میں ہے۔ اگر اس کی پکڑ میں آگئے تو کوئی دوسرا اس کی پکڑ سے نجات دینے والا نہیں بن سکتا اور وہ جب چاہے اور جس حال میں چاہے لوگوں کو پکڑ سکتا ہے۔ (61 تا 64) ۔ مشرکین کو تنبیہ کہ خدا نے اگر تم کو مہلت دے رکھی ہے تو اس لیے دے رکھی ہے کہ اس کے ہاں ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب وہ وقت مقرر آجائے گا تو پھر نہ اس سے پیچھے ہٹ سکو گے نہ آگے بڑھ سکو گے۔ ساتھ ہی پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ جو کچھ تمہیں پیش آ رہا ہے یہی کچھ تم سے پہلے رسولوں کو بھی پیش آچکا ہے۔ تمہارا کام لوگوں کو مومن و موحد بنا دینا نہیں ہے بلکہ صرف لوگوں پر اللہ کی حجت تمام کردینا ہے۔ (65 تا 83) ۔ اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں بخش رکھی ہیں ان میں سے کچھ کو گنا کر مشرکین کو ملامت کہ ان میں سے کس نعمت کو وہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ جو لوگ جان بوجھ کر انجان بن رہے ہیں ان کو راستہ پر لا کھڑا کرنا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ تمہاری ذمہ داری صرف حق کو پہنچا دینے کی ہے۔ (84 تا 90) ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر امت میں حق کی تبلیغ کے لیے اپنے رسول بھیجے ہیں۔ وہ ان سے قیامت کے دن گواہی دلوا دے گا کہ انہوں نے اللہ کا پیغام ان کو پہنچا دیا۔ یہی حیثیت اس امت کے لوگوں کے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہے۔ اسی مقصد کے لیے اللہ نے آپ پر یہ کتاب تاری اور اس کتاب کا جو بنیادی پیغام ہے اس کا اجمالی حوالہ۔ (91 تا 95) ۔ یہود سے خطاب اور ان کو ملامت کہ تم اللہ سے عہد باندھ کر محض بربنائے حسد مخالفین حق کی صف میں جا کھڑے ہوئے اور اس بڑھیا کے مانند جو اپنا کا تا خود اپنے ہی ہاتھوں ادھیڑ کر رکھ دے تم اللہ سے باندھے ہوئے عہد کے بخیے ادھیڑ رہے ہو۔ اللہ کے عہد کو متاع دنیا کے عوض نہ بیچو اور اپنی قسموں کو لوگوں کو حق سے برگشتہ کرنے کا ذریعہ نہ بناؤ (96 تا 105) ۔ جو لوگ مخالفوں کی مخالفت کے علی الرغم حق پر ثابت قدم رہیں گے ان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں بہترین صلہ کا وعدہ۔ قرآن اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لوگوں کو بدظن کرنے کے لیے مخالفین جو سخن سازیاں کرتے تھے ان میں سے بعض کا جواب۔ (106 تا 111) ۔ اعدائے حق کی ستم رانیوں کے ہدف بنے ہوئے مسلمانوں کو صبر و استقامت کی تلقین اور ان لوگوں کو تہدید و وعید جو مخالفین سے مرعوب ہو کر اسلام سے برگشتہ ہوجائیں گے۔ حق کی خاطر ہجرت کی طرف ایک اشارہ اور اس کا اجر وثواب۔ (112 تا 117) قریش کی تنبیہ کے لیے ایک بستی کی تمثیل کہ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو ان کا بھی وہی انجام ہوسکتا ہے جو اس بستی والوں کا ہوا۔ نیز ان کو یہ ہدایت کہ اپنے جی سے حرام و حلال نہ ٹھہراؤ۔ اللہ نے جن چیزوں کو حلال ٹھہرایا ہے ان کو کھاؤ، اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت ان کو حرام نہ ٹھہراؤ۔ (118 ۔ 124) ۔ اس امر کی طرف اشاہ کہ یہود پر بھی وہی چیزیں حرام ٹھہرائی گئی تھیں جو اس ملت میں حرام ہیں لیکن انہوں نے اپنی سرکشی کے سبب سے خود اپنے اوپر بعض چیزیں حرام کرلیں اور اب ان کو ملت ابراہیم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ابراہیم کو نہ یہودیت نہ نصرانیت سے کوئی علاقہ تھا، نہ وہ مشرکین میں سے تھے، ان کی ملت ان سب سے الگ تھی اور وہی ملت ہے جس کی پیروی کی ہدایت تمہیں کی گئی ہے۔ سبت کے احترام کا تعلق بھی یہود سے تھا، ملت ابراہیم سے اس کو کوئی تعلق نہیں۔ (125 تا 128) ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو حکمت و موعظت کے ساتھ دعوت کی ہدایت اور اس راہ میں صبرواستقامت کی تلقین۔ صبر و استقامت کے حصول کا ذریعہ تعلق باللہ ہے۔ مخالفین کی سازشوں سے دل شکستہ نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ اپنے متقی اور خوب کار بندوں کا ساتھی ہے۔ سورة کے مطالب کا اجمالی تجزیہ کرنے کے بعد اب ہم اس کی تفصیلی تفسیر شروع کرتے ہیں۔ وما توفیقی الا باللہ۔

Ayah 16:1

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

امرِ الٰہی صادر ہوچکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ، وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں

اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ جلد بازوں سے خطاب اور ان کی وعید : نبی ﷺ جب اپنی قوم کے لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ فرماتے کہ میں جس امر حق کی دعوت دے رہا ہوں اگر تم نے اس کو اختیار نہ کیا تو مہلت کی مدت گزر جانے کے بعد تم پر اللہ کا عذاب آجائے گا تو سرکش لوگوں کی طرف سے آپ کو یہ جواب ملتا کہ جس عذاب کی دھمکی سنا رہے ہو وہ لاتے کیوں نہیں، ہم تو تمہاری بات جب مانیں گے جب اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کے روز روز ڈرا دے سنا رہے ہو۔ آگے آیت 33 میں اس کی تفصیل آئے گی۔ انہی جلد بازوں کو خطاب کرکے ارشاد ہوا کہ عذاب کے لیے امر الٰہی صادر ہوچکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ۔ اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ (عذاب کے الیے امر الٰہی صادر ہوچکا ہے)۔ محض دھمکی نہیں ہے بلکہ ایک امر واقعی کا بیان ہے۔ ہم اس کتاب میں متعدد آیات کے تحت اس سنت الٰہی کی وضاحت کرچکے ہیں کہ کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت ہی کے اندر یہ بات مضمر ہوتی ہے کہ جو لوگ اس رسول پر ایمان لائیں گے وہ نجات پائیں گے اور جو لوگ اس کی تکذیب کردیں گے وہ ہلاک کردیے جائیں گے۔ رسول، حق و باطل کے امتیاز کے لیے کسوٹی اور اتمام حجت کا آخر ذریعہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے رسول کی بعثت کے بعد اس کی قوم کے لیے دو ہی راہیں باقی رہ جاتی ہیں یا تو لوگ اس پر ایمان لائیں اور نجات حاصل کریں ورنہ خدا کی پکڑ میں آئیں اور اپنی سرکشی کا انجام بد دیکھیں۔ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ یعنی یہ لوگ اس خطب میں مبتلا نہ رہیں کہ جن کو یہ خدا کا شریک و شفیع بنائے بیٹھے ہیں وہ ان کو خدا کے عذاب سے بچا لیں گے۔ خدا ان کے مزعومہ شریکوں سے پاک اور برتر ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہ جن اعلیٰ صفات سے متصف ہے ان صفات کے ساتھ ان مشرکانہ توہمات کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔ وہ اپنی تمام صفات میں یکتا اور وحدہ لاشریک ہے۔ بلاغت کا ایک اسلوب : اس آیت میں اسلوب بیان کا یہ فرق بھی ملحوظ رہے کہ " فلا تستعجلوہ " میں براہ راست ان کو خطاب کیا ہے لیکن " عما یشرکون " میں خطاب کے بجائے غائب کا صیغہ آگیا ہے۔ اسمیں بلاغت یہ ہے کہ پہلے ٹکڑے میں تہدید و وعید ہے جس کے لیے خطاب ہی کا اسلوب زیادہ موزوں ہے اور اس دوسرے ٹکڑے میں کراہت و نفرت کا اظہار ہے جس کے لیے غائب کا صیغہ زیادہ مناسب تھا گویا بات ان سے منہ پھیر کر فرمائی گئی۔
Ayah 16:2

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

وہ فرشتوں کو اپنے امر کی روح کے ساتھ اتارتا ہے اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے کہ لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو

يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ۔ کفار کے بعض مطالبات کا جواب : کفار کا مطالبہ دو چیزوں کے لیے تھا۔ ایک تو اس چیز کے لیے کہ ان پر بھی اسی طرح فرشتے اتریں جس طرح پیغمبر ﷺ کو دعوی ہے کہ ان پر فرشتے اترتے ہیں۔ دوسرا اس عذاب کے لیے جس سے پیغمبر ﷺ ان کو ڈراتے تھے۔ چناچہ اسی سورة میں ان کے ان دونوں مطالبات کا حوالہ ہے۔ ھل ینظرون الا ان تاتیہم الملئکۃ او یاتی امر ربک (وہ نہیں منتظر ہیں مگر اس بات کے کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تمہارے رب کا حکم ہی آجائے)۔ ان میں سے دوسرے مطالبہ کا جواب تو اوپر والی آیت میں دے دیا گیا کہ عذاب کے لیے امر الٰہی صادر ہوچکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ۔ اب یہ ان کے پہلے مطالبہ کا جواب دیا جا رہا ہے کہ ہر شخص اس بات کا اہل نہیں ہوتا کہ اس پر فرشتے اتریں۔ اللہ اپنے فرشتے اپنے بندوں میں سے ان پر اتارتا ہے جن پر چاہتا ہے۔ یعنی جن کو وہ اس کا اہل پاتا ہے اور جن کا وہ اس مقصد کے لیے انتخاب فرماتا ہے۔ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ ، یعنی یہ فرشتے امر الٰہی کی۔ روح۔ کے ساتھ اترتے ہیں۔۔ روح۔ سے مراد وحی الٰہی ہے۔ وحی الٰہی کو روح سے اس لیے تعبیر فرمایا گیا ہے کہ جس طرح جسم کی زندگی روح سے ہے اسی طرح روح کو دل کی زندگی وحی الٰہی سے ہے۔ سیدنا مسیح ؑ کا ارشاد ہے کہ انسان روٹی سے نہیں جیتا بلکہ اس کلمہ سے جیتا ہے جو خداوند کی طرف سے آتا ہے۔ رسولوں کو اللہ کی مشترک ہدایت : اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ۔ یعنی ہر رسول کو اللہ کی طرف سے یہ ہدایت ہوئی کہ لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے تو صرف مجھی سے ڈرو اور میری ہی عبادت کرو۔ کسی اور کو میرا ساجھی اور شریک نہ ٹھہراؤ۔
Ayah 16:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

اس نے آسمانوں اور زمین کو غایت کے ساتھ پیدا کیا، وہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک گردانتے ہیں

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ۭ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ کارخانہ کائنات کے بالحق ہونے کا لازمی تقاضا : لفظ " حق " کی تشریح سورة حجر کی آیت 85 کے تحت گزر چکی ہے۔ اس کے معنی غایت اور مقصد کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا نے یہ دنیا بےغایت و بےمقصد نہیں بنائی ہے۔ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل اور بازیچۂ اطفال نہیں ہے بلکہ اس کی ایک ایک چیز کے اندر جو قدرت و حکمت نمایاں ہے وہ شاہد ہے کہ اس کا خلق حکیم و قدیر ہے۔ ایک حکیم و قدیر خالق کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ وہ کوئی عبث، باطل اور بےمقصد کام کرے۔ اس کے بامقصد اور باغایت ہونے کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن ضرور لائے جس دن سب اس کی طرف لوٹیں اور اپنے اعمال کی جزا یا سزا پائیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ تمام کارخانہ بالکل عبث اور بےغایت ایک کھیل بن کے رہ جاتا ہے۔ اسی حقیقت کو سورة مومنون کی آیت 115 میں یوں واضح فرمایا ہے " افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لاترجعون (کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہم کہ ہم نے تم کو عبث پیدا کی ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤگے)۔ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ یہ اسی اوپر والے مضمون کی ایک دوسرے پہلو سے تاکید ہے۔ کفار و مشرکین اول تو قیامت کے قائل نہ تھے، پھر ان کا اصل تعلق ان کے ان فرضی معبودوں اور شرکاء و شفعاء سے رہ گیا تھا جن کی وہ پوجا کرتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ وہ ان کی طرف سے خدا سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔ ظاہر ہے یہ عقیدہ اس کارخانہ کائنات کے بالحق ہونے کی صریح نفی ہے۔ اس وجہ سے یہ حقیقت بھی واضح کردی گئی کہ یہ لوگ اپنے جن معبودوں سے لو لگائے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی ان کے کام آنے والا نہیں ہے۔ خدا کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں ہے۔ وہ ان تمام شریکوں سے پاک اور منزہ ہے۔ وہ جن اعلی صفات سے متصف ہے ان کے ساتھ ان شریکوں کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔
Ayah 16:4

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

اس نے انسان کو پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا تو وہ ایک کھلا ہوا حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ۔ انسان سے یہاں مراد وہی کفار و مشرکین ہیں جو اوپر کی آیات میں مخاطب ہیں۔ ان سے بیزاری کے لیے بات عام صیغہ سے کہہ دی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پیدا تو ہم نے انسان کو نجس پانی کی ایک بوند سے کیا لیکن اب وہ کھلم کھلا ہمارا ایک حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا ہے اب وہ اپنے دوبارہ اٹھائے جانے کو بھی بعد از امکان سمجھتا ہے اور کہتا ہے ءاذا متنا وکنا ترابا ذلک رجع بعید (کیا جب ہم مر جائیں گے اور گل سڑ کر مٹی ہوجائیں گے تو ہم از سر نو اٹھائے جائیں گے، یہ واپسی تو بہت ہی مستبعد ہے)۔ اور جن کو اپنے زعم کے مطابق اس نے ہمارا شریک بنا رکھا ہے ان کی حمایت میں بھی ہم سے لڑتا ہے۔ آگے آیت 27 میں ان کے اسی لڑنے کا حوالہ ہے۔ ویقول این شرکاءی الذین کنتم تشاقون فیہم (اور وہ فرمائے گا کہ اب میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کی حمایت میں تم لڑتے تھے)۔
Ayah 16:5

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور چوپائے بھی ان ے ت تمہارے لیے پیدا کیے جن کے اندر تمہارے لیے جڑاول بھی ہے اور دوسری منفعتیں بھی اور ان سے تم غذا بھی حاصل کرتے ہو

وَالْاَنْعَامَ خَلَقَهَا ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ وَّمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۔ دفء چوپایوں کے بال اور اون وغیرہ کو کہتے ہیں جن سے بنے ہوئے لباس سردیوں میں گرمی حاصل کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ آایت الٰہی کی طرف اشارہ : اب اس آیت اور آگے کی آیات میں مخاطب گروہ کے گردوپیش کی چیزوں اور ان کے گوناگوں فوائد و منافع کا حوالہ دے کر اس کو توجہ دلائی ہے کہ ان میں سے ایک ایک چیز شہادت دے رہی ہے کہ اس کائنات کا خالق نہایت ہی کریم و حکیم اور نہایت ہی مہربان و رحیم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نعمتیں تو تمہیں ساری خدا سے ملی ہیں لیکن تم عبادت دوسروں کی کرتے ہو اور جس کی پروردگاری کی یہ شانیں دیکھتے ہو اس کے متعلق یہ گمان کیے بیٹھے ہو کہ اس نے بس تمہیں ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے چھوڑو رکھا ہے، نہ ان نعمتوں کے جواب میں اس کا تم پر کوئی حق قائم ہوتا ہے اور نہ تمہیں اس کے آگے کبھی کوئی جواب دہی کرنی ہے۔ نعمتوں کے ذکر میں سب سے پہلے چوپایوں کا حوالہ دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب کی اصل دولت یہ چوپائے ہی تھے۔ وہ بیشتر انہی سے لباس، غذا اور دوسرے گوناگوں فوائد حاصل کرتے تھے۔
Ayah 16:6

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اور ان کے اندر تمہارے لیے ایک شان بھی ہے جب کہ تم ان کو شام کو گھر واپس لاتے ہو اور جس وقت کہ ان کو چرنے کو چھوڑتے ہو

وَلَكُمْ فِيْهَا جَمَالٌ حِيْنَ تُرِيْحُوْنَ وَحِيْنَ تَسْرَحُوْنَ۔ " جمال " سے مراد یہاں شان و شوکت اور دولت و عظمت ہے اہل عرب کی اصلی چونکہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، چوپائے ہی تھے اس وجہ سے وہاں کسی شخص کی ثروت و عظمت کا اندازہ اس کے گلے ہی سے کیا جاتا۔ اگر اس کا گلہ بڑا ہوتا تو وہ بڑا آدمی سمجھا جاتا اور اگر چھوٹا ہوتا تو چھوٹا آدمی خیال کیا جاتا۔ " اراحۃ " کے معنی شام کو گلے کو چراگاہ سے گھر واپس لانے کے ہیں اور " سرح " کے معنی اس کو چرنے چگنے کے لیے صبح کو چھوڑنے کے ہیں۔ یہاں ارحۃ کو سرح پر مقدم کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ موقع کلام اظہار شان کا ہے اور شان کا اظہار گلے کی شام کو واپسی میں زیادہ ہے جب کہ وہ چراگاہ سے چر چگ کے تازگی اور فربہی کی حالت میں گھر کو واپس آتا ہے۔ یہ بات اس درجہ میں اس وقت نہیں ہوتی جب وہ صبح کو چرنے کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔
Ayah 16:7

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور وہ تمہارے بوجھ ایسی جگہوں تک پہنچاتے ہیں جہاں تم شدید مشقت کے بغیر پہنچنے والے نہیں بن سکتے تھے، بیشک تمہارا رب بڑا ہی شفیق و مہربان ہے

وَتَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِيْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ ۭاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۔ یہ اشارہ اونٹوں کی طرف ہے جن پر عرب میں باربرداری اور سفر کا تمام تر انحصار تھا۔ یہ جانور طویل سے طویل اور پر مشقت سے پر مشقت صفر کے لیے، خاص طور پر صحرائی اور گرم ملکوں میں، خدائی سفینہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وصف میں کوئی دوسرا اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۔ یہ وہ اصل سبق ہے جو ان نعمتوں سے متمتع ہونے والے انسان کو حاصل ہونا چہایے کہ وہ یہ مانے کہ ان کا بخشنے ولا نہایت ہی مہربان اور نہایت ہی رحیم و کریم ہے اور پھر اس سے جو بات لازم آتی ہے اس کو اختیار کرے یعنی اس منعم کا حق پہچانے، اس کا شکر گزار بندہ بنے، اس کی بندگی و اطاعت میں سرگرم رہے، اس کے حقوق میں دوسروں کو شریک نہ بنائے اور اس کے مقابل میں حریف بن کر نہ اٹھ کھڑا ہو۔ لیکن انسان کی یہ عجیب شامت ہے کہ وہ خدا کی نعمتیں پا کر اس کا شکر گزار بندہ بننے کی بجائے خود اپنی شان میں مبتلا ہوجاتا ہے اور خدا کا حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ مزید ستم یہ کہ اگر شکر گزار بھی ہوتا ہے تو خدا کا نہیں بلکہ خدا کے سوا دوسروں کا ہوتا ہے
Ayah 16:8

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور اسی نے پیدا کیے گھوڑے اور خچر اور گدھے کہ تم ان پر سوار ہو اور وہ زینت بھی ہیں اور وہ ایسی چیزیں بھی پیدا کرتا ہے جن کو تم نہیں جانتے

وَّالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَزِيْنَةً ۭ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ اونٹ کے بعد یہ دوسرے جانوروں کی طرف اشارہ فرمایا جو سواری کے کام بھی آتے اور سرداری کے لوازم میں سے ہونے کے باعث شان و شوکت کا بھی ذریعہ تھے نیز فرمایا کہ انہی تک محدود نہیں خدا بیشمار ایسی مخلوقات بھی پیدا کرتا رہتا ہے، جن کو تم جانتے بھی نہیں بلکہ بالواسطہ یا بلا واسطہ تم یا تمہارے سوا دوسرے لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مقصود ان چیزوں کے ذکر سے بھی وہی ہے جس کی طرف اوپر اشارہ گزرا کہ نعمتیں بخشی ہوئی تو سب خدا کی ہیں لیکن تم ان کو پا کر خدا تو بھول جاتے ہو اور اپنی شان اور دوسروں کی بندگی میں لگ جاتے ہو۔
Ayah 16:9

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور اللہ تک سیدھی راہ پہنچاتی ہے اور بعض راہیں کج ہیں اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر کردیتا

وَعَلَي اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَمِنْهَا جَاۗىِٕرٌ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ۔ " قصد " کے معنی سیدھے اور مستقیم کے ہیں۔ طریق قصد، سیدھا راستہ، قصد السبیل، میں صفت اپنے موصوف کی طرف مضاف ہوگئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بندے کو خدا تک توحید کی سیدھی راہ پہنچاتی ہے۔ اس میں کج پیچ اور پگ ڈنڈیاں نہیں ہیں۔ خدا نے اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان وسائط کو حائل نہیں کیا ہے۔ اس نے اپنے تک پہنچنے کے لیے سیدھی راہ کھولی ہے، بندہ اس کو اختیار کرلے تو یہ سیدھے خدا تک پہنچا دیتی ہے۔ اسی حقیقت کو سورة حجر کی آیت 41 میں یوں واضح فرمایا گیا ہے۔ ھذا صراط علی مستقیم (یہ سیدھی راہ (توحید) سیدھے مجھ تک پہنچاتی ہے)۔ یہی مضمون سورة ہود آیت 65 میں یوں بیان ہوا ہے۔ ان ربی علی صراط مستقیم (بےشک میرا رب ایک سیدھے راستہ پر ہے)۔ وَمِنْهَا جَاىِٕرٌ۔ یعنی خدا تک تو توحید کی سیدھی راہ پہنچاتی ہے لیکن لوگوں نے اپنی شامت سے اس سیدھی راہ سے شرک کے کج پیچ کے راستے نکال لیے ہیں جن پر پڑ کے وہ اس طرح کھو جاتے ہیں کہ پھر خدا سے وہ دور سے دور تر ہی ہوتے جاتے ہیں ان کے لیے اصل شاہراہ کی طرف لوٹنا نہایت دشوار ہوجاتا ہے۔ وَلَوْ شَاءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ۔ یعنی اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت کے راستہ ہی پر ڈال دیتا لیکن اس معامللے میں اس نے جبر کو پسند نہیں فرمایا ہے بلکہ لوگوں کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی عقل وتمیز سے کام لیں اور جس راہ کو بھی اختیار کریں اپنی ذمہ داری پر اختیار کریں۔ اگر وہ توحید کی راہ اختیار کریں گے تو منزل تک پہنچیں گے اور اگر اس سے انحراف کریں گے تو اس کا انجام خود دیکھیں گے۔ اسی سورة میں آگے ارشاد ہوا ہے۔ ان تحرص علی ھداہم فان اللہ لایہدی من یضل وما لہم من ناصرین۔ یعنی جن پر خدا کا قانون ضلالت نافذ ہوجاتا ہے، پھر ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوا کرتی تو ایسوں کی ہدایت کے درپے ہونے کی ضرورت نہیں۔
Ayah 16:10

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا جس میں سے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے وہ نباتات بھی اگتی ہیں جن میں تم مویشیوں کو چراتے ہو

آگے کا مضمون۔ آیات 10 تا 23:۔ توحید کا مضمون ایک دوسرے پہلو سے : آگے یہی توحید کا مضمون ایک دوسرے پہلو یعنی کائنات میں توافق کے پہلو سے واضح کیا گیا ہے پھر آخر میں متنبہ کیا گیا ہے کہ جو لوگ دوسرے معبودوں پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں وہ یاد رکھیں کہ قیامت کے دن، جب کہ لوگوں سے ان کے اعمال کی بابت پرسش ہونی ہے، ان کے یہ فرضی دیوی دیوتا کچھ کام آنے والے نہیں ہیں۔ سب کو اللہ واحد ہی سابقہ پیش آنا ہے اور وہ ہر ایک کے تمام ظاہر و باطن سے واقف ہے اور ہر ایک کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق ہی معاملہ کرے گا۔ هُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّمِنْهُ شَجَـرٌ فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ۔ اِسامۃ کے معنی مویشیوں کو چراگاہ کی طرف لے جانے کے ہیں۔ توحید کی دلیل توافق کے پہلو سے : آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہی ایک خدا ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے جس کو تم زمین پر بسنے والے پیتے بھی ہو اور اسی سے وہ جنگل جھاڑیاں اور نباتات بھی اگتی ہیں جن میں تم اپنے مال مویشی چراتے ہو۔ یہ صورت واقعہ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ آسمانوں کے خدا اور ہیں، زمین کے خدا اور، یا اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ ایک ہی خدائے قادر وقیوم آسمانوں اور زمین سب پر حکمران ہے ؟ ظاہر ہے کہ اسمانوں اور زمین کا یہ توافق اس حقیقت کی کھلی شہادت ہے کہ ایک ہی حکیم و قدیر کا ارادہ آسمانوں اور زمین سب میں کارفرما ہے اور اس کی ربوبیت و پروردگاری کا خوان کرم اتنا وسیع ہے کہ انسان تو انسان، انسان کے کام آنے والے جانور بھی اس سے متمتع ہورہے ہیں۔
Ayah 16:11

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

وہ اسی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور ہر قسم کے پھل پیدا کرتا ہے۔ بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سوچیں

يُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُوْنَ وَالنَّخِيْلَ وَالْاَعْنَابَ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۭاِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ آخرت کی دلیل ربوبیت کے پہلو : اسی پانی سے وہ کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور گوناگوں قسم کے پھلوں کے باغ پیدا کرتا ہے۔ فرمایا کہ اس میں بہت بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو تفکر و تدبر کریں۔ توحید دلیل، توافق کے پہلو سے، تو اس میں ہے ہے لیکن تفکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت بڑی نشانی آخرت کی بھی ہے اس لیے کہ گوناگوں نعمتوں اور حکمتوں سے بھری ہوئی اس دنیا پر جب ایک حساس انسان غور کرتا ہے تو وہ بےتحاشا پکار اٹھتا ہے کہ ربنا ماخلقت ھذا باطلا (اے تو نے حکمتوں اور رحمتوں سے یہ معمور عالم عبث اور بےغایت نہیں پیدا کیا ہے)۔ اس کے باغایت و بامقصد ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ اس کے بعد ایک ایسا دن لائے جس میں ان لوگوں پر انعام فرمائے جنہوں نے اس میں اپنی ذمہ داریاں پہچانی اور اپنے فرائض ادا کیے ہوں اور ان لوگوں سے باز پرس کرے جنہوں نے ہوش و گوش سے عاری ایک شتر بےمہار کی زندگی گزاری ہو۔
Ayah 16:12

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور اس نے رات اور دن، سورج اور چاند کو تمہاری نفع رسانی میں لگا رکھا ہے اور ستارے بھی اسی کے حکم سے نفع رسانی میں لگے ہوئے ہیں، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھیں

وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۙ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۭ وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۔ سَخَّرَ لَكُمُ کے معنی جیسا کہ ہم دوسرے مقامات میں واضح کرچکے ہیں، یہ ہیں کہ ان چیزوں کو خدا نے تمہاری خدمت اور نفع رسانی میں لگا رکھا ہے۔ لیکن یہ عجیب ماجرا ہے کہ خدا نے تو ان چیزوں کو تمہاری خدمت میں سرگرم کیا کہ تم اس کے شکر گزار بنو اور اس بات کو یاد رکھو کہ جس نے انسان کی نفع رسانی کے لیے اپنی یہ شانیں اور قدرتیں دکھائیں وہ اس کو غیر مسئول اور مطلق العنان نہیں چھوڑے گا لیکن نادانوں یہ صحیح راہ اختیار کرنے کے بجائے انہی سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش شروع کردی اور ان کے پیچھے اس خدا کو بھلا بیٹھے جو ان سب چیزوں کا خالق ومالک ہے۔
Ayah 16:13

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور زمین میں جو چیزیں تمہارے لیے گوناگوں قسموں کی پھیلائیں، بیشک اس میں بھی بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو یاد دہانی حاصل کریں

. وَمَا ذَرَاَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْنَ۔ ہر پتہ معرفت کردگار کا دفتر ہے : یعنی زمین میں جو بیشمار گوناگوں و بوقلموں انواع و اقسام کی چیزیں تمہارے فائدے کے لیے پھیلا رکھی ہیں ان کو بھی دیکھو اور ان پر غور کرو۔ ان کے اندر بھی یاد دہانی حاصل کرنے والوں کے لیے بہت بڑی نشانی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا بالکل سپاٹ، چٹیل، یک رنگ بلکہ بالکل بےرنگ بھی ہوسکتی تھی لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ اس کا گوشہ گوشہ عجائب، قدرت سے معمور ہے۔ ایسا کیوں ہے ؟ یہ اس لیے ہے کہ اس کے خالق نے یہ چاہا کہ انسان اس کے جس گوشہ پر بھی نظر ڈالے وہیں اس کو اس کے خالق کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت کی کوئی نہ کوئی نشانی مل جائے اور وہ مصنوع سے صانع اور اس کی صفات کا درس حاصل کرسکے۔ گویا کہ پتہ پتہ معرفت کردگار کا دفتر ہے۔ ہر قدم پر صحیح نشان منزل کی طرف رہنمائی کرنے والی کوئی نہ کوئی نشانی موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ یاد دہانی کرنے والی چیزوں سے انسان یاد دہانی حاصل کرے، آنکھیں بند کرکے نہ چلے بلکہ ایک ایک چیز کو دیکھے اور اس سے جو سبق حاصل ہوتے ہیں ان کو محفوظ رکھے۔ انسان کو دعوت تفکر و تذکر : یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ انسان کی جو صلاحیتیں اس دنیا میں اس کی صحیح رہنمائی کرتی ہیں ان کو بالترتیب یتفکرون، یعقلون، اور یذکرون سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ اعلی سے ادنی کی طرف نزول ہے۔ انسان کی سب سے اعلی صفت تو یہ ہے کہ وہ اس کائنات میں تفکر کرے، اسی تفکر سے اس کو اس کثرت کے اندر وحدت کی طرف رہنمائی اور اس کائنات کی اصل غایت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ یہ نہ ہو تو کم از کم یہ تو ہو کہ وہ اپنی عقل سے کام لے اور اس کائنات کی ایک ایک چیز جس نشان منزل کی طرف انگلی اٹھا اٹھا کر اشارہ کر رہی ہے اس کی اس یاد دہانی سے فائدہ اٹھائے اور اندھے بھین سے کی طرح نہ چلے۔ انہی صفات کا حوالہ اگے اسی سورة کی آیات 65 67 67 میں بالترتیب یسمعون، یعقلون اور یتفکرون کے الفاظ سے آیا ہے۔ یہ ادنی سے اعلیٰ کی طرف صعود ہے یعنی ایک معقول آدمی کے اندر کم از کم جو بات ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ وہ معقول بات کو سنے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اگر یہ نہ ہو تو وہ سرے سے آدمی ہی نہیں ہے بلکہ نرا دو ٹانگوں پر چلنے والا ایک جانور ہے۔ اور اس کا اعلی وصف یہ ہے کہ وہ اس کائنات میں تفکر کرے اس لیے کہ اسی تفکر سے علم صحیح اور معرفت حقیقی کے دروازے کھلتے ہیں اور قرآن درحقیقت انسان کی اسی صلاحیت کو بیدار کرنا چاہتا ہے۔
Ayah 16:14

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے سمندر کو تمہاری نفع رسانی میں لگا رکھا ہے تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے وہ زیور نکالو جو تم پہنتے ہو اور تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ اس میں چیرتی ہوئی چلتی ہیں (تاکہ تم اس میں سفر کرو) اور اس کے فضل کے طالب بنو اور تاکہ تم اس کے شکر گزار بنو

وَهُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا ۚ وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔ سمندر کی نشانیوں کی طرف اشارہ : تسخیر بحر سے مراد وہی ہے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے یعنی خدا نے سمندر کو تمہاری خدمت اور نفع رسانی میں لگا رکھا ہے کہ تمہیں اس سے تازہ گوشت بھی حاصل ہوتا ہے اور تم اپنی زینت کے لیے اسی سے قیمتی موتی بھی نکالتے ہو۔ وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ ، یہاں قرینہ دلیل ہے کہ ولتبتغوا سے پہلے لترکبوھا یا اس کے ہم معنی کوئی فعل محذوف ہے اور حرف عطف " و " اس کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یعنی تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ ایک گہرے اور موجزن سمندر کے اندر اس کے پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں تاکہ تم ان پر سوار اور تجارتی سفر کرکے خدا کے فضل کے طالب اور اس کے شکرگزار بنو کہ اس نے اپنی قدرت و رحمت سے تمہارے لیے سمندر کے سینے پر سے نہایت مصفا سڑکیں نکال دی ہیں جن پر سے تمہارے بڑے بڑے جہاد گزرتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ خدا کے اس فضل و نعمت پر لوگ اس کے شکر گزار ہوں لیکن نادانوں نے ان دریاؤں اور سمندروں ہی کو دیوی دیوتا بنا کر ان کی پوجا اور عبادت شروع کردی۔
Ayahs 16:15–16

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور اس نے زمین میں پہاڑ ڈال دیے ہیں کہ وہ تمہیں لے کر جھک نہ پڑے اور نہریں جاری کردی ہیں اور راستے نکال دیے ہیں تاکہ تم راہ پاؤ

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور دوسری علامتیں بھی ہیں اور ستاروں سے بھی وہ راہ معلوم کرتے ہیں

تفسیر آیات 15 تا 16:۔ وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ وَاَنْهٰرًا وَّسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۔ وَعَلٰمٰتٍ ۭ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ۔ اس میں اعلی عربیت کے اسلوب کے مطابق کلام کے بعض اجزاء جو بغیر اظہار کے ظاہر تھے، وہ حذف ہیں۔ ہم نے ترجمہ میں ان کو کھول دیا ہے۔ اَنْهٰرًا وَّسُبُلًا یعنی فجر فیہا انھارا و مہد فیہا سبلا، علامات یعنی جعل للسبیل علٰمٰتٍ۔ زمین اور آسمان کی نشانیوں کی طرف اشارہ : خدا نے زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے ہیں جو اس کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اس میں نہریں جاری کردی ہیں جن سے طرح طرح کے فوائد حاصل ہوتے ہیں، راستے نکال دیے ہیں کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکو اور ان راستوں کو پہچاننے کے لیے مختلف قسم کی علامتیں نصب کردی ہیں کہ ان کا تعین کرسکو، پھر اسی پر بس نہیں، آسمان پر ستارے بھی چمک رہے ہیں جن سے صحراؤں کے سفر میں لوگ راستوں، سمتوں اور اوقات کے تعین میں رہنمائی حاصل کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں تو خدا کی بنائی اور بخشی ہوئی ہیں تو عبادت و اطاعت خدا کی ہونی چاہیے یا خدا کے سوا ان چیزوں کی جنہوں نے کوئی چیز بھی نہیں بنائی۔
Ayah 16:17

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے ان کے مانند ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے ؟ تو کیا تم سوچتے نہیں ؟

اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۔ اب یہ توحید اور جزا و سزا کے ان نتائج کی طرف لائی جا رہی ہے جو اوپر کی بیان کردہ تمام نعمتوں سے نکلتے ہیں۔ فرمایا کہ کیا وہ جو تمام چیزیں پیدا کرتا ہے ان کی مانند ہوجائے گا جو نہ صرف یہ کہ کچھ پیدا نہیں ہوتے بلکہ، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، وہ مخلوق ہیں افلا تذکرون، یعنی یہ عقل کی کیسی موت کہ اتنی موٹی سی بات بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی ہے ! یہاں اس حقیقت پر نظر رہے کہ مشرکین عرب ان چیزوں کا، جن کی طرف اوپر توجہ دلائی گئی ہے، خالق خدا ہی کو مانتے تھے لیکن اس کے باوجود انہی مخلوقات میں سے بہت سی چیزوں کو وہ خدا شریک ٹھہراتے اور جو حقوق خاص خالق کے ہیں ان میں وہ ان کو حصہ دار بناتے اور اس طرح خالق کو اس کی مخلوقات کے برابر کردیتے۔
Ayah 16:18

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور گر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو تم ان کا احاطہ نہ کرسکے گو، بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا، مہربان ہے

وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ توبہ اور اصلاح کی دعوت : یعنی یہ نعمتیں جو گنائی گئی ہیں یہ تو خدا کی بیشمار نعمتوں میں سے چند ہیں۔ اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کا احاطہ نہیں کرسکتے لیکن اس کے باوجود تم خدا کی ناشکری اور اس کے حقوق میں دوسروں کو شریک کرتے ہو۔ اپنی اس حرکت کے سبب سے تم سزاوار تو اس بات کے تھے کہ خدا تم کو فوراً ہر نعمت سے محروم کردیتا لیکن اس نے تم کو مہلت دے رکھی ہے اس لیے کہ وہ بڑا ہی بخشنے والا اور مہربان ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر توبہ اور اصلاح کرو اور اس کے غضب کے بجائے اس کی رحمت کے سزاوار بنو۔
Ayah 16:19

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو

وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ۔ یہ تہدید و وعید ہے یعنی خدا نے اپنی رافت و رحمت کے سبب تمہیں ڈھیل تو دے رکھی ہے لیکن یہ یاد رکھو کہ وہ تماہرے ظاہر و باطن اور پوشیدہ و علانیہ سے اچھی طرح باخبر ہے۔ ایک دن آئے گا جب کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں رہ جائے گی۔ وہ رتی رتی کا حساب اور عدل کے ساتھ تمام معاملات کا فیصلہ کرے گا۔ اس میں ایک لطیف اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی ہے کہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ نعمتیں سب اللہ ہی کی بخشی ہوئی ہیں لیکن جان کر انجان بنتے ہو، تمہارے دل جانتے لیکن زبانیں انکار کرتی ہیں۔ آگے اسی سورة کی آیت 83 میں یہ حقیقت یوں بیان ہوئی ہے۔ " یعرفون نعۃ ماللہ ثم ینکرونہا واکثرہم الکافرون (وہ خدا کی نعمت کو پہچانتے ہیں، پھر اس سے نا آشنا بنتے ہیں اور ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں)
Ayahs 16:20–21

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کچھ پیدا نہیں کرتے، وہ تو خود مخلوق ہیں

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

مردہ غیر زندہ، اور ان کو احساس بھی نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے

تفسیر آیات 20 تا 21:۔ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَاَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ۔ ان دونوں آیتوں میں سے پہلی آیت تو تمام معبودانِ باطل سے متعلق عام ہے اور دوسری آیت خاص ان کے ان آباء و اجداد سے متعلق ہے جن کی وہ پرستش کرتے تھے۔ فرمایا کہ اللہ کے سوا جن کو یہ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسوں کو حاجت روائی کے لیے پکارنا محض نادانی ہے۔ پھر ان کے ان آباء و اجداد کی طرف جن کو انہوں نے معبود بنا رکھا تھا، اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ تو مردہ ہیں ان کو پتہ بھی نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ مطلب یہ کہ مردوں کو پکارنے سے حاصل ! اموات کے ساتھ غیر احیاء کی صفت تاکید مزید کے طور پر ہے یعنی مردہ بےحس۔
Ayah 16:22

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ پر جو لوگ آخر پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ گھمنڈ میں ہیں

اِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّهُمْ مُّسْـتَكْبِرُوْنَ۔ منکرین کے انکار کی اصل علت غرور ہے : یعنی یہ امر تو ایک حقیقت ثابتہ ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے لیکن جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل اس کو ناگوار سمجھتے ہیں اور وہ گھمنڈ میں پڑے ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اصل حقیقت ان لوگوں سے مخفی نہیں ہے لیکن چونکہ آخرت پر ان لوگوں کا ایمان نہیں ہے اس وجہ سے یہ بےخوف ہیں اور یہ اس امر میں ہتک محسوس کررہے ہیں کہ جن چیزوں کو وہ آباء و اجداد کے زمانے سے پوجتے آ رہے ہیں ان کو ایک شخص کے کہنے پر چھوڑ دیں۔ گویا سوال ایک شے کے حق یا باطل ہونے کا ں ہیں بلکہ اپنی آن و شان کا ہے۔ ان کے اندر یہ غرور سمایا ہوا ہے کہ ایک چیز کتنی ہی باطل سہی لیکن جب وہ اس کو برابر کرتے آئے ہیں تو اس کو چھوڑ کر خود اپنے قول و عمل سے اپنے باطل پر ہونے کا اقرار کیوں کریں۔
Ayah 16:23

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

لاریب خدا جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں، وہ تکبر کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا

لَاجَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْـتَكْبِرِيْنَ۔ یعنی یقیناً اللہ ان کے اس باطنی محرک انکار اور ان کے اس ظاہری انکار دونوں کو جانتا ہے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کے دلوں میں استکبار کا خناس سمایا ہوا ہے اس وجہ سے وہ ایک حق کو حق مانتے ہوئے جھٹلا رہے ہیں اور ایک باطل سے اس کو باطل جانتے ہوئے چمٹے ہوئے ہیں۔ سو اللہ ایسے مغروروں اور متکبروں کو دوست نہیں رکھتا۔ " دوست نہیں رکھتا " یعنی ان کو مبغوض رکھتا ہے۔
Ayah 16:24

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو کہتے ہیں اگلوں کے فسانے

آگے کا مضمون۔ آیات 24 تا 32:۔ آگے چند آیات میں پہلے انہی متکبرین کی، جن کا ذکر اوپر گزرا، ان سازشوں اور شرارتوں کا ذکر ہے جو وہ اپنے زیر اثر لوگوں کو قرآن کی دعوت سے روکنے کے لیے کر رہے تھے۔ ساتھ ہی ان کے اس انجام کا بھی ذکر ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں ان کی مفسدانہ کوششوں کے نتیجہ میں ان کے اور ان کی پیروی کرنے والوں کے سامنے آنے والا ہے۔ پھر ان کے مقابل میں ان متقیوں اور خدا ترسوں کا ذکر ہے جو قرآن کی دعوت کے علمبردار تھے اور دنیا و آخرت میں جو صلہ ان کی ان مساعی کا ملنے والا ہے اس کی طرف اشارہ ہے۔ وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ۔ اَسَاطِيْرُ ، اُسطُورۃ کی جمع ہے۔ اسطورۃ بےاصل اور بےحقیقت بات کو کہتے ہیں جس کی حیثیت محض افسانے کی ہو۔ قرآن کی دعوت کا رد عمل قریش کے لیڈروں پر : قرآن کی دعوت بالخصوص رسولوں اور ان کے جھٹلانے والوں کی تاریخ، جو اس نے نہایت ہی صحیح پہلو سے نہایت ہی موثر انداز میں پیش کی، ایسی چیز نہیں تھی جو بےاثر رہ جائے۔ اس نے مکہ کے عوام و خواص اور بالتدریج سارے عرب میں ایک ہلچل برپا کردی۔ عوام چونکہ سیادت و قیادت کے پندار سے پاک ہوتے ہیں اس وجہ سے صحیح چیز ان پر اثر انداز ہوتی ہے لیکن وہ اپنے لیڈروں کے تابع ہوتے ہیں اس وجہ سے خود کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے ان کی رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ یہی صورت حال قرآن کی دعوت کے باب میں عرب میں پیش آئی۔ قرآن کی دعوت اور اس کے انذار نے جب لوگوں کو بلا دیا تو عوام اپنے لیڈروں سے جا جا کر سوال کرنے لگے کہ یہ چیز، جو خدا کے نازل کردہ کلام کی حیثیت سے، آپ لوگوں کے سامنے پیش کی جا رہی ہے کیسی ہے، اس کے بارے میں آپ لوگوں کی کیا رائے ہے، اور اس میں اس کی تکذیب کا جو انجام بتایا گیا ہے اور جس کے حق میں تاریخ کے واقعات بھی پیش کیے گئے ہیں اس کی حقیقت آپ لوگوں کی نظر میں کیا ہے ؟ لیڈروں نے یہ محسوس کرکے کہ ان کے پیرو اس سے متاثر ہو رہے ہیں اور یہ چیز ان کی لیڈری کے لیے خطرے کا باعث ہوسکتی ہے، ان کو مطمئن کرنے کے لیے یہ جواب دینا شروع کیا کہ اس میں اگلوں کے فسانوں اور ماضی کے قصوں کے سوا ہے کیا۔ مطلب یہ کہ عاد وثمود اور ماضی قدیم کی قوموں کے بےاصل قصے اس میں اپنے رنگ میں دہرائے جارہے ہیں۔ ان قصوں سے ہراساں ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہماری روش بالکل ٹھیک ہے۔ ہم اپنے آباء و اجداد کے صحیح دین پر ہیں۔ ان بےحقیقت افسانوں سے مرعوب ہو کر کہیں تم لوگ اس شخص کے چکمے میں نہ آجانا جو انی من گھڑت باتیں خدا کے نام سے پیش کررہا ہے۔
Ayah 16:25

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے بوجھ بھی پورے اٹھائیں اور ان لوگوں کے بوجھ میں بھی حصہ بٹائیں جن کو یہ بغیر کسی علم کے گمراہ کررہے ہیں۔ جان رکھو کہ نہایت ہی برا ہوگا وہ بوجھ جو یہ اٹھائیں گے

لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۙ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ اَلَا سَاۗءَ مَا يَزِرُوْنَ۔ یہ ان کی اس سعی نامراد کا انجام بیان ہورہا ہے جو وہ لوگوں کو حق سے روکنے کے لیے کررہے تھے۔ فرمایا کہ یہ جو کچھ کررہے ہیں اس کا انجام یہ ہونا کہ قیامت کے روز یہ اپنی گمراہی کا پورا بوجھ کو اٹھائیں گے ہی اس لیے کہ اس دن ان کے وہ شرکاء و شفعاء ان کے کچھ کام آنے والے نہیں ہیں جن کو یہ شریک خدا بنائے بیٹھے ہیں۔ مزید برآں اپنی سعی افساد کے بقدر ان کو ان لوگوں کے بوجھ میں سے بھی اٹھانا پڑے گا جو ان کی ان مفسدانہ کوششوں سے گمراہ ہوں گے۔ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ۔ میں " من " تبعیض کے لیے جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کوئی شخص قیامت کے دن اس بنیاد پر کہ دوسرے نے اس کو گمراہ کیا ہے اپنی ذمہ داری سے کلیۃً بری نہیں ہوجائے گا بلکہ اسے بھی اپنی گمراہی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص عقل و فہم سے بہرہ مند اور مکلف کے حکم میں داخل ہے اس کے لیے یہ عذر کافی نہیں ہے کہ دوسرے نے اس کو گمراہ کیا اس وجہ سے وہ گمراہ ہوگیا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے خود اس کو جو عقل و بصیرت عطا فرمائی تھی اس نے اس سے کیوں کام نہ لیا۔ اس وجہ سے جس طرح اس کا گمراہ کرنے والا اپنی حد تک اس کی گمراہی کا ذمہ دار ٹھہرے گا اور اس کی سزا بھگتے گا اسی طرح یہ بھی اپنی حد تک اپنی گمراہی کا ذمہ دار قرار پائے گا اور اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ " بغیر علم " کی قید سے ان کے اس جرم کی سنگینی واضح ہوتی ہے کہ ایک طرف تو رسول کی دعوت ہے جو اس علم حقیقی پر مبنی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر اترا ہے، دوسری طرف یہ مفسدین ہیں جو بغیر کسی علم ہی کے لوگوں کی رہنمائی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور ان کو ضلالت کے کھڈ میں گرا رہے ہیں۔
Ayah 16:26

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

ان سے پہلے والوں نے بھی چالیں چلیں تو خدا نے ان کی عمارت بنیاد سے اکھیڑ دی پس ان کے اوپر سے ان پر چھت آ پڑی اور ان پر عذاب وہاں سے آیا جہاں سے ان کو گمان نہ تھا

قَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْيَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَــرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ۔ " مکر " کے معنی سازش اور چال کے ہیں، چونکہ ان مفسدین کی یہ تمام سرگرمیاں محض اپنی لیڈری کے تحفظ کے لیے تھیں۔ وہ دیدہ دانستہ حق کی مخالفت کر رہے تھے اس وجہ سے قرآن نے اس کو " مکر " سے تعبیر فرمایا۔ یہ اشارہ ہے ماضی کی ان قوموں کی طرف جنہوں نے اپنے رسولوں کی اسی طرح کے اغراض کے تحت مخالف ت کی جس طرح کے اغراض کے تحت قریش کے لیڈر آنحضرت ﷺ کی مخالفت کر رہے تھے۔ فرمایا کہ اس کی پاداش میں اللہ کے عذاب نے ان کی عمارتیں بنیاد سے اکھیڑ کر پھینک دیں اور ان پر اللہ کا عذاب وہاں سے آدھمکا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا۔ اللہ کے رسول جب ان کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے تو وہ اپنے اطمینان بخش حالات کے سبب سے حیران ہوتے کہ بھلا ہم پر عذاب کدھر سے آجائے گا۔ بالآخر جب وہ عذاب آگیا تب ان کو پتہ چلا کہ اس کے آنے کا راستہ یہ تھا۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہ محض استعارہ نہیں بلکہ بیان واقعہ ہے۔ معذب قومیں زلزلوں اور باد تند و سیلاب کے ایسے طوفانوں سے ہلاک ہوئیں جن سے ان کے مکانوں کی دیواریں اور چھتیں سب ان کے اوپر آپڑیں۔
Ayah 16:27

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن اللہ ان کو رسوا کرے گا اور پوچھے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کی حمایت میں تم لڑتے تھے۔ جن کو علم عطا ہوا وہ پکار اٹھیں گے کہ آج رسوائی اور بدبختی کافروں پر ہے

ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُخْــزِيْهِمْ وَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تُشَاۗقُّوْنَ فِيْهِمْ ۭ قَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْيَ الْيَوْمَ وَالسُّوْۗءَ عَلٰي الْكٰفِرِيْنَ۔ " خزی " کے معنی رسوائی کے ہیں۔ چونکہ ان مفسدین کے تمام فساد کا اصل شب، جیسا کہ اوپر گزرا، تکبر تھا اس وجہ سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے اس تکبر کی پاداش میں ان کو ذلیل و رسوا کرے گا۔ وَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تُشَاۗقُّوْنَ فِيْهِمْ یہ ان کی ذلت و رسوائی کی ایک شکل بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ اب دکھاؤ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کی حمایت میں تم ہر وقت آستینیں چڑھائے رہتے تھے۔ اس کی تفصیل آگے آیت 86 میں یوں آئی ہے واذا را الذین اشرکو شرکاء ہم قالوا ربنا ھؤلاء شرکاءنا الذین کنا ندعوا من دونک فالقوا الیہم القول انکم لکذبون (اور جب شرک کرنے والے اپنے شریکوں کو دیکھیں گے تو پکاریں گے کہ اے ہمارے رب یہ ہیں ہمارے وہ شریک جن کو تیرے سوا ہم پکارتے تھے تو وہ ان کے منہ پر بات پھینک ماریں گے کہ تم لوگ بالکل جھوٹے ہو)۔ ظاہر ہے کہ یہ ان کی رسوائی کی انتہا ہوگی کہ جن کی حمایت میں زندگی بھر اللہ و رسول کے مقابل میں آستینیں چڑھائے رہے وہ عین وقت پر اس طرح ان کو جھوٹا قرار دیں گے۔ قَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْيَ الْيَوْمَ وَالسُّوْۗءَ عَلٰي الْكٰفِرِيْنَ۔ اوپر ان مفسدین کا ذکر گزر چکا ہے جو بغیر کسی علم ہی کے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ اب یہ ان کے مقابل میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو اللہ کے بخشے ہوئے علم میں سے حصہ ملا اور انہوں نے اس علم کی روشنی میں اپنے کو بھی منور کیا اور دوسروں کی بھی اس سے رہنمائی کی۔ فرمایا کہ یہ لوگ جب شرک کے علم برداروں کی یہ رسوائی دیکھیں گے تو خوشی سے پکار اٹھیں گے کہ آج رسوائی اور عذاب کافروں کا حصہ ہے۔ یعنی دنیا میں تو یہ بہت دندناتے رہے، آج اس غرور بد مستی کا انجام دیکھیں گے۔
Ayahs 16:28–29

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

ان پر جن کو فرشتے اس حال میں وفات دیں گے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھا رہے ہوں گے تو اس وقت وہ سپر ڈال دیں گے کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کر رہے تھے۔ ہاں، بیشک اللہ اچھی طرح باخبر ہے اس سے جو تم کرتے رہے ہو۔

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہو اسی میں ہمیشہ رہنے والے بن کر۔ پس کیا ہی برا ٹھکانا ہے تکبر کرنے والوں کا

تفسیر آیت 28 تا 29:۔ الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ۠فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ فَادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ۔ کلام کا انطباق حال پر : یہ دو آیتیں بطور تضمین ہیں۔ اس تضمین سے اہل علم کی بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ صرف مستقبل کی ایک حکایت نہیں ہے بلکہ ان لوگوں پر بھی ٹھیک ٹھیک منطبق ہو رہی ہے جو آج اپنے غرور میں مست ہیں اور اسی حال میں مرتے ہیں۔ الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ، یعنی انہیں کافروں کے حکم میں وہ سب داخل ہیں جن کی جانیں فرشتے اس حال میں حال میں نکالتے ہیں کہ وہ اپنے کفر و شرک کی وجہ سے خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہوتے ہیں۔ ۠فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْۗءٍ۔ سلم، تسلیم سے اسم ہے جس کے معنی حوالگی اور سپردگی کے ہیں۔ فالقوا لسلم یعنی ڈگ ڈال دیں گے، سپرانداز ہوجائیں گے، صلح کی درخواست کریں گے۔ یعنی ان کا یہ سارا غرور اور گھمنڈ سارا طنطنہ صرف اس وقت تک ہے جب تک ان کو موت کے فرشتوں سے سابقہ پیش نہیں آتا۔ جب ان سے سابقہ پیش آجاتا ہے اور وہ ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے جیسا کہ دوسرے مقام میں ذکر ہے، ان کی جانیں نکالتے ہیں تو پہلے ہی مرحلہ میں سارا نشہ ہرن ہوجاتا ہے اور وہ نہایت لجاجت سے درخواست کرتے اور جھوٹ معذورت پیش کرتے ہیں کہ ہم پر رحم کیا جائے ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے رہے ہیں۔ ۭ بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ فرشتوں کی طرف سے یہ جواب ملتا ہے کہ ہاں تم برائی کرتے رہے ہو۔ بیشک اللہ اس سے خوب باخبر ہے جو تم کرتے رہے ہو۔ فَادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ۔ یعنی اسی وقت ان کو یہ خبر بھی دے دی جاتی ہے کہ اب جہنم کے دروازوں میں اسی میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہو، اب اس سے نکلنا نصیب نہ ہوگا۔ یہی متکبروں کا ٹھکانا ہے اور نہایت برا ٹھکانا ہے۔ لفظ ابواب جمع ہے جس سے جہنم کی وسعت کی طرف بھی اشارہ ہورہا ہے اور اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ مجرمین اپنے اپنے جرائم کی حیثیت و نوعیت کے اعتبار سے اس میں الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں گے۔
Ayah 16:30

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور جو تقوی والے ہیں ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ خوب چیز اتاری ہے۔ جن لوگوں نے بھلائی کی راہ اختیار کی ان کے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور دار آخرت تو اس سے کہیں بہتر ہے اور کیا ہی خوب ہے اہل تقوی کا گھر !

وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ قَالُوْا خَيْرًا ۭ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةٌ ۭ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ ۭ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِيْنَ۔ متکبرین کے بالمقابل متقین کا رویہ : اب یہ متکبرین کے مقابل میں، ان لوگوں کا رویہ بیان ہو رہا ہے جو خدا سے ڈرنے والے تھے۔ فرمایا کہ جب پوچھنے والے ان سے پوچھتے ہیں کہ خدا نے کیسی چیز اتاری ہے تو وہ اس کی نہایت تحسین کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ نہایت خوب چیز اتاری ہے۔ للذین احسنوا الایۃ یہ ان متقیوں اور خوب کاروں کا وہ صلہ بیان ہوا ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں ان کو ملنے والا ہے۔ فرمایا کہ ان کے لیے دنیا میں بھی بھلائی اور کامیابی ہے اور آخرت کا تو پوچنا ہی کیا ہے، وہ تو ہے ہی بہتر ولنعم دار المتقین بالکل فلبئس مثوی المتکبرین کے مقابل میں ہے۔ جس طرح متکبرین کے ٹھکانے کے برے ہونے کی کوئی حد نہیں اسی طرح متقیوں کے گھر کے اچھے ہونے کی کوئی حد نہیں۔ یہاں ان متقیوں کے لیے صریح الفاظ میں اس دنیا میں بھی کامیابی و نصرت کی بشارت ہے۔ اس کی وجہ جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، یہ ہے کہ رسول اور اس کے ساتھیوں کے لیے اس دنیا میں بھی غلبہ اور اقتدار لازمی ہے۔ آگے آیت 41 کے تحت ہم اس کی مزید وضاحت کریں گے
Ayah 16:31

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

ابد کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے، ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان کے لیے ان میں وہ سب کچھ ہوگا جو چاہیں گے۔ اللہ اہل تقوی کو اسی طرح صلہ دے گا

جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَاۗءُوْنَ ۭكَذٰلِكَ يَجْزِي اللّٰهُ الْمُتَّقِيْنَ۔ جَنّٰتُ عَدْنٍ کا مفہوم : " عدن کے معنی توطن اور اقامت کے ہیں۔ یہ متقین کے گھر کی تعریف ہے کہ وہ اقامت اور توطن کے باغ ہوں گے۔ خدا کے متقی بندے ان میں محض وقتی سیر و تفریح کے لیے نہی بلکہ ان میں ہمیشہ رہنے بسنے کے لیے داخل ہوں گے فعل " یدخلون " یہاں اپنے حقیقی اور کامل معنی میں ہے یعنی متقین ان باغوں میں عزت و اکرام کے ساتھ براجمان ہوں گے، ان میں ان کے لیے وہ سب کچھ حاضر ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یہ ان باغوں کی تصویر و تعریف ہے۔ ایک اچھے باغ کا تصور یہ ہے کہ وہ بلندی پر ہوا اور اس کے نیچے نہر جاری ہو۔ بلندی اس کے حسن کو دوبالا کرتی ہے اور نیچے بہنے والی نہر اس کی شادابی و زرخیزی کی ضامن ہوتی ہے۔
Ayah 16:32

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

ان کو جن کو فرشتے پاکیزہ حالت میں وفات دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں آپ لوگوں پر سلامتی ہو جنت میں جا براجیے اپنے اعمال کے صلہ میں

الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ طَيِّبِيْنَ ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ متقین کے ساتھ فرشتوں کا معاملہ : جس طرح اوپر والی آیت 28 بطور تضمین ہے اسی طرح یہ آیت بھی بطور تضمین ہے جس سے کلام بالکل مطابق حال ہوگیا ہے۔ طیبین بالکل ظالمی انفسہم کے مقابل میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو فرشتے اس حال میں وفات دیتے ہیں کہ وہ شرک و کفر کی ہر آزمائش سے بالکل پاک اور منزہ ہوتے ہیں۔ فرشتے ان کو سلام کرتے ہیں اور ان کو ان کے اعمال کے صلہ میں جنت کی بشارت سناتے ہیں۔
Ayahs 16:33–34

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

یہ لوگ تو بس اس بات کے متنظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تیرے رب کا حکم ہی آجائے۔ یہی روش ان سے پہلے والوں نے اختیار کی۔ اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

تو ان کو ان کے کیے کی سزائیں پہنچیں اور جس چیز کا وہ مذاق اڑا رہے تھے اسی چیز نے ان کو گھیر لیا

آگے کا مضمون۔ آیات 33 تا 47:۔ متکبرین کی کج بحثیوں کی تردید اور اہل ایمان کو کامیابی کی بشارت : آگے انہی مستکبرین کی ان کج بحثیوں کا حوالہ اور ان کی تردید ہے جو وہ اپنے رویہ کی حمایت و مدافعت میں کرتے تھے اور ساتھ ہی پیغمبر ﷺ اور آپ کے صحابہ کو استقامت اور اللہ پر بھروسہ قائم رکھنے کی تلقین کی گئی ہے اور یہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ آزمائشوں کے دور سے گزرنے کے بعد بالآخر فتح و کامیابی انہی کا حصہ ہے۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔ تفسیر آیات 33 تا 34:۔ هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ رَبِّكَ ۭ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ۔ فَاَصَابَهُمْ سَـيِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۔ تاریخ سے سبق لینے کی دعوت : یعنی یہ متکبرین تمہاری باتوں کی تصدیق کے لیے اس وقت تک تیار نہیں ہیں جب تک ان کے پاس فرشتے نہ آئیں یا پھر وہ عذاب ہی نہ آجائے جس کی ان کو خبر دی جا رہی ہے۔ کذلک فعل الذین من قبلہم، یعنی یہی روش ان سے پہلے کی قوموں نے اپنے رسولوں کے ساتھ اختیار کی، نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر عذاب الٰہی آ دھمکا اور اس نے ان کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ یہی حشر ان کا بھی ہونا ہے اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی۔ وما ظلمہم اللہ ولکن کانوا انفسہم یظلمون۔ یعنی یہ پچھلی قومیں ہلاک ہوئیں تو اپنے ضد اور سرکشی کے سبب سے ہلاک وئیں۔ خدا نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا اس لیے کہ ان کو پہلے سے تمام نتائج و عواقب سے اس نے آگاہ کردیا تھا بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے کہ تنبیہ و تذکیر سے فائدہ اٹھانے کے بجائے عذاب کا مطالبہ کیا اور اپنے رسولوں کی تنبیہا کا مذاق اڑاتی رہی۔ فَاَصَابَهُمْ سَـيِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۔ یعنی ان پر جو عذاب آئے وہ ان کے اپنے اعمال کے نتیجے تھے۔ خدا نے ان کو وہی چیز دکھا دی جو انہوں نے اپنے لیے مہیا کی تھی۔
Ayah 16:35

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے شرک کیا وہ کہتے ہیں، اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی چیز کو نہ پوجتے، نہ ہم نہ ہمارے آباء و اجداد، اور نہ ہم اس کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ یہی رویہ ان سے پہلے والوں نے اختیار کیا تو رسولوں پر واضح طور پر پہنچا دینے کے سوا اور کوئی ذمہ داری نہیں

وَقَالَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ نَّحْنُ وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ ۭ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ فَهَلْ عَلَي الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ مشرکین کی بعض کج بحثیوں کا جواب : یہ بھی ان لوگوں کی کج بحثی کی ایک مثال ہے۔ یعنی یہ مشرکین تمہیں زچ کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ ہم جن معبودوں کو پوجتے اور ان کے نام پر جن چیزوں کو حرام ٹھہراتے ہیں یہ سب خدا ہی کی مرضی سے کرتے ہیں، ورنہ خدا کے اختیار میں تو سب کچھ ہے، اگر ہمارے یہ کام اس کی مرضی کے خلاف ہوتے تو وہ ہمیں اپنی قدرت سے ان کاموں سے روک دیتا اور ہم ان میں سے ایک کام بھی نہ کر پاتے۔ کذلک فعل الذین من قبلہم، یعنی یہ بھی کوئی نئی بات نہیں بلکہ ان سے پہلے جو قومیں گزری ہیں انہوں نے بھی اسی طرح کی کج بحثیوں سے اپنے رسولوں کو چپ کرنے کی کوشش کی۔ مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے انہی کی روش اختیار کی ہے تو لازماً انہی کے انجام سے بھی دوچار ہوں گے۔ فھل علی الرسل الا البلاغ المبین۔ یعنی اگر وہ تمہاری سچائی کی دلیل اس بات کو سمجھتے ہیں تم اپنے تصرف سے ان کو اس دین کی راہ پر لگا دو جس کی ان کو دعوت دے رہے ہو تو رسولوں کا کام یہ نہیں ہوتا، ان کا کام صرف واضح طور پر لوگوں تک دین حق پہنچا دینا ہوتا ہے، یہ کام تم کررہے ہو اور اسی پر تمہاری ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔ حق کو قبول کرنا یا نہ کرنا ان کی اپنی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے عند اللہ وہی مسئول ہوں گے۔ اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ وہ حق یا باطل میں سے کسی چیز پر لوگوں کو مجبور کردے بلکہ اس نے لوگوں کو اختیار بخشا ہے۔ اگر کوئی شخص حق کی راہ اختیار کرتا ہے تو اس کو اسی راہ کی توفیق ملتی ہے اور اگر کوئی شخص باطل کی راہ پر چل پڑتا ہے تو اللہ اس کو اسی راہ میں ڈھیل دے دیتا ہے۔
Ayah 16:36

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول اس دعوت کے ساتھ بھیجا کہ اللہ ہی کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو تو ان میں سے کچھ کو اللہ نے ہدایت بخشی اور ان میں ایسے بھی ہوئے جن پر ضلالت مسلط ہو کے رہی تو ملک میں چلو پھر اور دیکھو کہ کیا ہوا جھٹلانے والوں کا انجام

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ ۭ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ۔ لفظ طاغوت کی تحقیق بقرہ آیت 256 کے تحت گزر چکی ہے۔ اللہ کے ہر رسول نے اللہ ہی کی بندگی کی دعوت دی : آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کے اس قول کا منشا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اسی کفر و شرک کی تعلیم دی ہے جس پر وہ ہیں تو یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہر رسول نے صرف ہی کی بندگی اور طاغوت سے اجتناب کی تعلیم دی ہے تو جس نے ہدایت کی راہ پسند کی اس کو ہدایت کی توفیق ملی اور جو اپنی لالت ہی پر جما رہ گیا اس پر ضلالت پوری طرح مسلط ہوگئی۔ " فسیروا فی الارض " یعنی جن لوگوں نے ان رسولوں کی تکذیب کی ان کی اس تکذیب کے انجام کے آثار اس سرزمین میں موجود ہیں تو ان آثار کا مشاہدہ کرو اور ان سے سبق لو۔
Ayah 16:37

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

اگر تم ان کی ہدایت کے حریص ہو تو اللہ ایسوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا جن کو گمراہ کردیتا ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں بنتا

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰي هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ يُّضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ۔ پیغمبر ﷺ کو تسلی : یہ پیغمبر ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ آپ کو اپنی قوم کی ہدایت کی شدید تمنا تھی اس وجہ سے آپ ان کے پیچھے انے رات دن ایک کیے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ جو لوگ خدا کے قانون ضلالت کی زد میں آچکے ہیں اب ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔ ایسوں کا کوئی مددگار نہیں بنتا۔ خدا ہدایت انہی لوگوں کو بخشتا ہے جو اپنی فطری صلاحیتیں اس کے لیے اسعمال کرتے اور اس کے طلب گار بنتے ہیں۔
Ayah 16:38

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور یہ پکی پکی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے اللہ اس کو نہیں اٹھائے گا۔ ہاں، یہ اس کے اوپر ایک لازمی وعدہ ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ ۭ بَلٰى وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ. وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ای ابلغوی فی الیمین واجتھدوا۔ یعنی انہوں نے قسم کھانے میں مبالغہ کیا اور اپنا پورا زور لگایا۔ ایمان کے موانع میں سے ایک بڑا قانع قریش کے متکبرین کے لیے یہ بھی تھا کہ وہ مرنے کے بعد کی زندگی کے نہ تو قائل تھے اور نہ اس کے قائل ہونا چاہتے تھے۔ وہ بڑے زور و شور سے قسمیں کھا کھا کے اپنے زیر اثر لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا ناممکن ہے، اللہ کسی کو نہیں اٹھائے گا۔ یہ محض محمد ﷺ کی دھونس ہے۔ بَلٰى وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ. یہ ان کی تردید ہے اور اس تردید میں بھی وہی شدت ہے جو منکرین کے قول میں ہے۔ فرمایا کہ ہاں وہ لوگوں کو ضرور اٹھائے گا۔ یہ اللہ کا حتمی وعدہ ہے جس کا ایفاء اس نے اپنے اوپر ازم کار رکھا ہے لیکن اکثر لوگ اس سے واقف نہیں ہیں اس وجہ سے وہ اس کا انکار کرتے یا مذاق اڑا رہے ہیں۔
Ayah 16:39

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

یہ اس لیے ہے کہ یہ جس چیز میں اختلاف کررہے ہیں اس کو وہ اچھی طرح واضح کردے اور تاکہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے

لِيُـبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيْ يَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ وَلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِيْنَ۔ یہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی ضرورت واضح فرمائی ہے کہ یہ اس لیے ہوگا کہ جن چیزوں کے بارے میں آج وہ اختلاف کر رہے ہیں ان میں امر حق اچھی طرح واضح ہوجائے اور جن لوگوں نے جانتے بوجھتے دھاندلیا مچائی ہیں وہ اپنے کیے کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ وَلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِيْنَ ، اور یہ اس لیے بھی ہوگا کہ جو لوگ آج قسمیں کھا کھا کے لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قیامت نہیں ہے وہ اچھی طرح جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے اور انہوں نے جھوٹی قسمیں کھائیں۔