Ayah 16:1اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔
جلد بازوں سے خطاب اور ان کی وعید : نبی ﷺ جب اپنی قوم کے لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ فرماتے کہ میں جس امر حق کی دعوت دے رہا ہوں اگر تم نے اس کو اختیار نہ کیا تو مہلت کی مدت گزر جانے کے بعد تم پر اللہ کا عذاب آجائے گا تو سرکش لوگوں کی طرف سے آپ کو یہ جواب ملتا کہ جس عذاب کی دھمکی سنا رہے ہو وہ لاتے کیوں نہیں، ہم تو تمہاری بات جب مانیں گے جب اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کے روز روز ڈرا دے سنا رہے ہو۔ آگے آیت 33 میں اس کی تفصیل آئے گی۔ انہی جلد بازوں کو خطاب کرکے ارشاد ہوا کہ عذاب کے لیے امر الٰہی صادر ہوچکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ۔ اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ (عذاب کے الیے امر الٰہی صادر ہوچکا ہے)۔ محض دھمکی نہیں ہے بلکہ ایک امر واقعی کا بیان ہے۔ ہم اس کتاب میں متعدد آیات کے تحت اس سنت الٰہی کی وضاحت کرچکے ہیں کہ کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت ہی کے اندر یہ بات مضمر ہوتی ہے کہ جو لوگ اس رسول پر ایمان لائیں گے وہ نجات پائیں گے اور جو لوگ اس کی تکذیب کردیں گے وہ ہلاک کردیے جائیں گے۔ رسول، حق و باطل کے امتیاز کے لیے کسوٹی اور اتمام حجت کا آخر ذریعہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے رسول کی بعثت کے بعد اس کی قوم کے لیے دو ہی راہیں باقی رہ جاتی ہیں یا تو لوگ اس پر ایمان لائیں اور نجات حاصل کریں ورنہ خدا کی پکڑ میں آئیں اور اپنی سرکشی کا انجام بد دیکھیں۔ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ یعنی یہ لوگ اس خطب میں مبتلا نہ رہیں کہ جن کو یہ خدا کا شریک و شفیع بنائے بیٹھے ہیں وہ ان کو خدا کے عذاب سے بچا لیں گے۔ خدا ان کے مزعومہ شریکوں سے پاک اور برتر ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہ جن اعلیٰ صفات سے متصف ہے ان صفات کے ساتھ ان مشرکانہ توہمات کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔ وہ اپنی تمام صفات میں یکتا اور وحدہ لاشریک ہے۔
بلاغت کا ایک اسلوب : اس آیت میں اسلوب بیان کا یہ فرق بھی ملحوظ رہے کہ " فلا تستعجلوہ " میں براہ راست ان کو خطاب کیا ہے لیکن " عما یشرکون " میں خطاب کے بجائے غائب کا صیغہ آگیا ہے۔ اسمیں بلاغت یہ ہے کہ پہلے ٹکڑے میں تہدید و وعید ہے جس کے لیے خطاب ہی کا اسلوب زیادہ موزوں ہے اور اس دوسرے ٹکڑے میں کراہت و نفرت کا اظہار ہے جس کے لیے غائب کا صیغہ زیادہ مناسب تھا گویا بات ان سے منہ پھیر کر فرمائی گئی۔
Ayah 16:2يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ۔
کفار کے بعض مطالبات کا جواب : کفار کا مطالبہ دو چیزوں کے لیے تھا۔ ایک تو اس چیز کے لیے کہ ان پر بھی اسی طرح فرشتے اتریں جس طرح پیغمبر ﷺ کو دعوی ہے کہ ان پر فرشتے اترتے ہیں۔ دوسرا اس عذاب کے لیے جس سے پیغمبر ﷺ ان کو ڈراتے تھے۔ چناچہ اسی سورة میں ان کے ان دونوں مطالبات کا حوالہ ہے۔ ھل ینظرون الا ان تاتیہم الملئکۃ او یاتی امر ربک (وہ نہیں منتظر ہیں مگر اس بات کے کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تمہارے رب کا حکم ہی آجائے)۔ ان میں سے دوسرے مطالبہ کا جواب تو اوپر والی آیت میں دے دیا گیا کہ عذاب کے لیے امر الٰہی صادر ہوچکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ۔ اب یہ ان کے پہلے مطالبہ کا جواب دیا جا رہا ہے کہ ہر شخص اس بات کا اہل نہیں ہوتا کہ اس پر فرشتے اتریں۔ اللہ اپنے فرشتے اپنے بندوں میں سے ان پر اتارتا ہے جن پر چاہتا ہے۔ یعنی جن کو وہ اس کا اہل پاتا ہے اور جن کا وہ اس مقصد کے لیے انتخاب فرماتا ہے۔ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ ، یعنی یہ فرشتے امر الٰہی کی۔ روح۔ کے ساتھ اترتے ہیں۔۔ روح۔ سے مراد وحی الٰہی ہے۔ وحی الٰہی کو روح سے اس لیے تعبیر فرمایا گیا ہے کہ جس طرح جسم کی زندگی روح سے ہے اسی طرح روح کو دل کی زندگی وحی الٰہی سے ہے۔ سیدنا مسیح ؑ کا ارشاد ہے کہ انسان روٹی سے نہیں جیتا بلکہ اس کلمہ سے جیتا ہے جو خداوند کی طرف سے آتا ہے۔
رسولوں کو اللہ کی مشترک ہدایت : اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ۔ یعنی ہر رسول کو اللہ کی طرف سے یہ ہدایت ہوئی کہ لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے تو صرف مجھی سے ڈرو اور میری ہی عبادت کرو۔ کسی اور کو میرا ساجھی اور شریک نہ ٹھہراؤ۔
Ayah 16:3خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ۭ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔
کارخانہ کائنات کے بالحق ہونے کا لازمی تقاضا : لفظ " حق " کی تشریح سورة حجر کی آیت 85 کے تحت گزر چکی ہے۔ اس کے معنی غایت اور مقصد کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا نے یہ دنیا بےغایت و بےمقصد نہیں بنائی ہے۔ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل اور بازیچۂ اطفال نہیں ہے بلکہ اس کی ایک ایک چیز کے اندر جو قدرت و حکمت نمایاں ہے وہ شاہد ہے کہ اس کا خلق حکیم و قدیر ہے۔ ایک حکیم و قدیر خالق کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ وہ کوئی عبث، باطل اور بےمقصد کام کرے۔ اس کے بامقصد اور باغایت ہونے کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن ضرور لائے جس دن سب اس کی طرف لوٹیں اور اپنے اعمال کی جزا یا سزا پائیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ تمام کارخانہ بالکل عبث اور بےغایت ایک کھیل بن کے رہ جاتا ہے۔ اسی حقیقت کو سورة مومنون کی آیت 115 میں یوں واضح فرمایا ہے " افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لاترجعون (کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہم کہ ہم نے تم کو عبث پیدا کی ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤگے)۔ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ یہ اسی اوپر والے مضمون کی ایک دوسرے پہلو سے تاکید ہے۔ کفار و مشرکین اول تو قیامت کے قائل نہ تھے، پھر ان کا اصل تعلق ان کے ان فرضی معبودوں اور شرکاء و شفعاء سے رہ گیا تھا جن کی وہ پوجا کرتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ وہ ان کی طرف سے خدا سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔ ظاہر ہے یہ عقیدہ اس کارخانہ کائنات کے بالحق ہونے کی صریح نفی ہے۔ اس وجہ سے یہ حقیقت بھی واضح کردی گئی کہ یہ لوگ اپنے جن معبودوں سے لو لگائے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی ان کے کام آنے والا نہیں ہے۔ خدا کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں ہے۔ وہ ان تمام شریکوں سے پاک اور منزہ ہے۔ وہ جن اعلی صفات سے متصف ہے ان کے ساتھ ان شریکوں کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔
Ayah 16:4خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ۔ انسان سے یہاں مراد وہی کفار و مشرکین ہیں جو اوپر کی آیات میں مخاطب ہیں۔ ان سے بیزاری کے لیے بات عام صیغہ سے کہہ دی گئی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ پیدا تو ہم نے انسان کو نجس پانی کی ایک بوند سے کیا لیکن اب وہ کھلم کھلا ہمارا ایک حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا ہے اب وہ اپنے دوبارہ اٹھائے جانے کو بھی بعد از امکان سمجھتا ہے اور کہتا ہے ءاذا متنا وکنا ترابا ذلک رجع بعید (کیا جب ہم مر جائیں گے اور گل سڑ کر مٹی ہوجائیں گے تو ہم از سر نو اٹھائے جائیں گے، یہ واپسی تو بہت ہی مستبعد ہے)۔ اور جن کو اپنے زعم کے مطابق اس نے ہمارا شریک بنا رکھا ہے ان کی حمایت میں بھی ہم سے لڑتا ہے۔ آگے آیت 27 میں ان کے اسی لڑنے کا حوالہ ہے۔ ویقول این شرکاءی الذین کنتم تشاقون فیہم (اور وہ فرمائے گا کہ اب میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کی حمایت میں تم لڑتے تھے)۔
Ayah 16:5وَالْاَنْعَامَ خَلَقَهَا ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ وَّمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۔ دفء چوپایوں کے بال اور اون وغیرہ کو کہتے ہیں جن سے بنے ہوئے لباس سردیوں میں گرمی حاصل کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
آایت الٰہی کی طرف اشارہ : اب اس آیت اور آگے کی آیات میں مخاطب گروہ کے گردوپیش کی چیزوں اور ان کے گوناگوں فوائد و منافع کا حوالہ دے کر اس کو توجہ دلائی ہے کہ ان میں سے ایک ایک چیز شہادت دے رہی ہے کہ اس کائنات کا خالق نہایت ہی کریم و حکیم اور نہایت ہی مہربان و رحیم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نعمتیں تو تمہیں ساری خدا سے ملی ہیں لیکن تم عبادت دوسروں کی کرتے ہو اور جس کی پروردگاری کی یہ شانیں دیکھتے ہو اس کے متعلق یہ گمان کیے بیٹھے ہو کہ اس نے بس تمہیں ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے چھوڑو رکھا ہے، نہ ان نعمتوں کے جواب میں اس کا تم پر کوئی حق قائم ہوتا ہے اور نہ تمہیں اس کے آگے کبھی کوئی جواب دہی کرنی ہے۔ نعمتوں کے ذکر میں سب سے پہلے چوپایوں کا حوالہ دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب کی اصل دولت یہ چوپائے ہی تھے۔ وہ بیشتر انہی سے لباس، غذا اور دوسرے گوناگوں فوائد حاصل کرتے تھے۔
Ayah 16:6وَلَكُمْ فِيْهَا جَمَالٌ حِيْنَ تُرِيْحُوْنَ وَحِيْنَ تَسْرَحُوْنَ۔ " جمال " سے مراد یہاں شان و شوکت اور دولت و عظمت ہے اہل عرب کی اصلی چونکہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، چوپائے ہی تھے اس وجہ سے وہاں کسی شخص کی ثروت و عظمت کا اندازہ اس کے گلے ہی سے کیا جاتا۔ اگر اس کا گلہ بڑا ہوتا تو وہ بڑا آدمی سمجھا جاتا اور اگر چھوٹا ہوتا تو چھوٹا آدمی خیال کیا جاتا۔ " اراحۃ " کے معنی شام کو گلے کو چراگاہ سے گھر واپس لانے کے ہیں اور " سرح " کے معنی اس کو چرنے چگنے کے لیے صبح کو چھوڑنے کے ہیں۔ یہاں ارحۃ کو سرح پر مقدم کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ موقع کلام اظہار شان کا ہے اور شان کا اظہار گلے کی شام کو واپسی میں زیادہ ہے جب کہ وہ چراگاہ سے چر چگ کے تازگی اور فربہی کی حالت میں گھر کو واپس آتا ہے۔ یہ بات اس درجہ میں اس وقت نہیں ہوتی جب وہ صبح کو چرنے کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔
Ayah 16:7وَتَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِيْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ ۭاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۔ یہ اشارہ اونٹوں کی طرف ہے جن پر عرب میں باربرداری اور سفر کا تمام تر انحصار تھا۔ یہ جانور طویل سے طویل اور پر مشقت سے پر مشقت صفر کے لیے، خاص طور پر صحرائی اور گرم ملکوں میں، خدائی سفینہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وصف میں کوئی دوسرا اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۔ یہ وہ اصل سبق ہے جو ان نعمتوں سے متمتع ہونے والے انسان کو حاصل ہونا چہایے کہ وہ یہ مانے کہ ان کا بخشنے ولا نہایت ہی مہربان اور نہایت ہی رحیم و کریم ہے اور پھر اس سے جو بات لازم آتی ہے اس کو اختیار کرے یعنی اس منعم کا حق پہچانے، اس کا شکر گزار بندہ بنے، اس کی بندگی و اطاعت میں سرگرم رہے، اس کے حقوق میں دوسروں کو شریک نہ بنائے اور اس کے مقابل میں حریف بن کر نہ اٹھ کھڑا ہو۔ لیکن انسان کی یہ عجیب شامت ہے کہ وہ خدا کی نعمتیں پا کر اس کا شکر گزار بندہ بننے کی بجائے خود اپنی شان میں مبتلا ہوجاتا ہے اور خدا کا حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ مزید ستم یہ کہ اگر شکر گزار بھی ہوتا ہے تو خدا کا نہیں بلکہ خدا کے سوا دوسروں کا ہوتا ہے
Ayah 16:8وَّالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَزِيْنَةً ۭ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ اونٹ کے بعد یہ دوسرے جانوروں کی طرف اشارہ فرمایا جو سواری کے کام بھی آتے اور سرداری کے لوازم میں سے ہونے کے باعث شان و شوکت کا بھی ذریعہ تھے نیز فرمایا کہ انہی تک محدود نہیں خدا بیشمار ایسی مخلوقات بھی پیدا کرتا رہتا ہے، جن کو تم جانتے بھی نہیں بلکہ بالواسطہ یا بلا واسطہ تم یا تمہارے سوا دوسرے لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مقصود ان چیزوں کے ذکر سے بھی وہی ہے جس کی طرف اوپر اشارہ گزرا کہ نعمتیں بخشی ہوئی تو سب خدا کی ہیں لیکن تم ان کو پا کر خدا تو بھول جاتے ہو اور اپنی شان اور دوسروں کی بندگی میں لگ جاتے ہو۔
Ayah 16:9وَعَلَي اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَمِنْهَا جَاۗىِٕرٌ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ۔
" قصد " کے معنی سیدھے اور مستقیم کے ہیں۔ طریق قصد، سیدھا راستہ، قصد السبیل، میں صفت اپنے موصوف کی طرف مضاف ہوگئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بندے کو خدا تک توحید کی سیدھی راہ پہنچاتی ہے۔ اس میں کج پیچ اور پگ ڈنڈیاں نہیں ہیں۔ خدا نے اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان وسائط کو حائل نہیں کیا ہے۔ اس نے اپنے تک پہنچنے کے لیے سیدھی راہ کھولی ہے، بندہ اس کو اختیار کرلے تو یہ سیدھے خدا تک پہنچا دیتی ہے۔ اسی حقیقت کو سورة حجر کی آیت 41 میں یوں واضح فرمایا گیا ہے۔ ھذا صراط علی مستقیم (یہ سیدھی راہ (توحید) سیدھے مجھ تک پہنچاتی ہے)۔ یہی مضمون سورة ہود آیت 65 میں یوں بیان ہوا ہے۔ ان ربی علی صراط مستقیم (بےشک میرا رب ایک سیدھے راستہ پر ہے)۔ وَمِنْهَا جَاىِٕرٌ۔ یعنی خدا تک تو توحید کی سیدھی راہ پہنچاتی ہے لیکن لوگوں نے اپنی شامت سے اس سیدھی راہ سے شرک کے کج پیچ کے راستے نکال لیے ہیں جن پر پڑ کے وہ اس طرح کھو جاتے ہیں کہ پھر خدا سے وہ دور سے دور تر ہی ہوتے جاتے ہیں ان کے لیے اصل شاہراہ کی طرف لوٹنا نہایت دشوار ہوجاتا ہے۔ وَلَوْ شَاءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ۔ یعنی اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت کے راستہ ہی پر ڈال دیتا لیکن اس معامللے میں اس نے جبر کو پسند نہیں فرمایا ہے بلکہ لوگوں کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی عقل وتمیز سے کام لیں اور جس راہ کو بھی اختیار کریں اپنی ذمہ داری پر اختیار کریں۔ اگر وہ توحید کی راہ اختیار کریں گے تو منزل تک پہنچیں گے اور اگر اس سے انحراف کریں گے تو اس کا انجام خود دیکھیں گے۔ اسی سورة میں آگے ارشاد ہوا ہے۔ ان تحرص علی ھداہم فان اللہ لایہدی من یضل وما لہم من ناصرین۔ یعنی جن پر خدا کا قانون ضلالت نافذ ہوجاتا ہے، پھر ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوا کرتی تو ایسوں کی ہدایت کے درپے ہونے کی ضرورت نہیں۔
Ayah 16:10آگے کا مضمون۔ آیات 10 تا 23:۔ توحید کا مضمون ایک دوسرے پہلو سے : آگے یہی توحید کا مضمون ایک دوسرے پہلو یعنی کائنات میں توافق کے پہلو سے واضح کیا گیا ہے پھر آخر میں متنبہ کیا گیا ہے کہ جو لوگ دوسرے معبودوں پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں وہ یاد رکھیں کہ قیامت کے دن، جب کہ لوگوں سے ان کے اعمال کی بابت پرسش ہونی ہے، ان کے یہ فرضی دیوی دیوتا کچھ کام آنے والے نہیں ہیں۔ سب کو اللہ واحد ہی سابقہ پیش آنا ہے اور وہ ہر ایک کے تمام ظاہر و باطن سے واقف ہے اور ہر ایک کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق ہی معاملہ کرے گا۔
هُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّمِنْهُ شَجَـرٌ فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ۔
اِسامۃ کے معنی مویشیوں کو چراگاہ کی طرف لے جانے کے ہیں۔
توحید کی دلیل توافق کے پہلو سے : آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہی ایک خدا ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے جس کو تم زمین پر بسنے والے پیتے بھی ہو اور اسی سے وہ جنگل جھاڑیاں اور نباتات بھی اگتی ہیں جن میں تم اپنے مال مویشی چراتے ہو۔ یہ صورت واقعہ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ آسمانوں کے خدا اور ہیں، زمین کے خدا اور، یا اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ ایک ہی خدائے قادر وقیوم آسمانوں اور زمین سب پر حکمران ہے ؟ ظاہر ہے کہ اسمانوں اور زمین کا یہ توافق اس حقیقت کی کھلی شہادت ہے کہ ایک ہی حکیم و قدیر کا ارادہ آسمانوں اور زمین سب میں کارفرما ہے اور اس کی ربوبیت و پروردگاری کا خوان کرم اتنا وسیع ہے کہ انسان تو انسان، انسان کے کام آنے والے جانور بھی اس سے متمتع ہورہے ہیں۔
Ayah 16:11يُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُوْنَ وَالنَّخِيْلَ وَالْاَعْنَابَ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۭاِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ
آخرت کی دلیل ربوبیت کے پہلو : اسی پانی سے وہ کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور گوناگوں قسم کے پھلوں کے باغ پیدا کرتا ہے۔ فرمایا کہ اس میں بہت بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو تفکر و تدبر کریں۔ توحید دلیل، توافق کے پہلو سے، تو اس میں ہے ہے لیکن تفکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت بڑی نشانی آخرت کی بھی ہے اس لیے کہ گوناگوں نعمتوں اور حکمتوں سے بھری ہوئی اس دنیا پر جب ایک حساس انسان غور کرتا ہے تو وہ بےتحاشا پکار اٹھتا ہے کہ ربنا ماخلقت ھذا باطلا (اے تو نے حکمتوں اور رحمتوں سے یہ معمور عالم عبث اور بےغایت نہیں پیدا کیا ہے)۔ اس کے باغایت و بامقصد ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ اس کے بعد ایک ایسا دن لائے جس میں ان لوگوں پر انعام فرمائے جنہوں نے اس میں اپنی ذمہ داریاں پہچانی اور اپنے فرائض ادا کیے ہوں اور ان لوگوں سے باز پرس کرے جنہوں نے ہوش و گوش سے عاری ایک شتر بےمہار کی زندگی گزاری ہو۔
Ayah 16:12وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۙ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۭ وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۔
سَخَّرَ لَكُمُ کے معنی جیسا کہ ہم دوسرے مقامات میں واضح کرچکے ہیں، یہ ہیں کہ ان چیزوں کو خدا نے تمہاری خدمت اور نفع رسانی میں لگا رکھا ہے۔ لیکن یہ عجیب ماجرا ہے کہ خدا نے تو ان چیزوں کو تمہاری خدمت میں سرگرم کیا کہ تم اس کے شکر گزار بنو اور اس بات کو یاد رکھو کہ جس نے انسان کی نفع رسانی کے لیے اپنی یہ شانیں اور قدرتیں دکھائیں وہ اس کو غیر مسئول اور مطلق العنان نہیں چھوڑے گا لیکن نادانوں یہ صحیح راہ اختیار کرنے کے بجائے انہی سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش شروع کردی اور ان کے پیچھے اس خدا کو بھلا بیٹھے جو ان سب چیزوں کا خالق ومالک ہے۔
Ayah 16:13. وَمَا ذَرَاَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْنَ۔
ہر پتہ معرفت کردگار کا دفتر ہے : یعنی زمین میں جو بیشمار گوناگوں و بوقلموں انواع و اقسام کی چیزیں تمہارے فائدے کے لیے پھیلا رکھی ہیں ان کو بھی دیکھو اور ان پر غور کرو۔ ان کے اندر بھی یاد دہانی حاصل کرنے والوں کے لیے بہت بڑی نشانی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا بالکل سپاٹ، چٹیل، یک رنگ بلکہ بالکل بےرنگ بھی ہوسکتی تھی لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ اس کا گوشہ گوشہ عجائب، قدرت سے معمور ہے۔ ایسا کیوں ہے ؟ یہ اس لیے ہے کہ اس کے خالق نے یہ چاہا کہ انسان اس کے جس گوشہ پر بھی نظر ڈالے وہیں اس کو اس کے خالق کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت کی کوئی نہ کوئی نشانی مل جائے اور وہ مصنوع سے صانع اور اس کی صفات کا درس حاصل کرسکے۔ گویا کہ پتہ پتہ معرفت کردگار کا دفتر ہے۔ ہر قدم پر صحیح نشان منزل کی طرف رہنمائی کرنے والی کوئی نہ کوئی نشانی موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ یاد دہانی کرنے والی چیزوں سے انسان یاد دہانی حاصل کرے، آنکھیں بند کرکے نہ چلے بلکہ ایک ایک چیز کو دیکھے اور اس سے جو سبق حاصل ہوتے ہیں ان کو محفوظ رکھے۔
انسان کو دعوت تفکر و تذکر : یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ انسان کی جو صلاحیتیں اس دنیا میں اس کی صحیح رہنمائی کرتی ہیں ان کو بالترتیب یتفکرون، یعقلون، اور یذکرون سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ اعلی سے ادنی کی طرف نزول ہے۔ انسان کی سب سے اعلی صفت تو یہ ہے کہ وہ اس کائنات میں تفکر کرے، اسی تفکر سے اس کو اس کثرت کے اندر وحدت کی طرف رہنمائی اور اس کائنات کی اصل غایت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ یہ نہ ہو تو کم از کم یہ تو ہو کہ وہ اپنی عقل سے کام لے اور اس کائنات کی ایک ایک چیز جس نشان منزل کی طرف انگلی اٹھا اٹھا کر اشارہ کر رہی ہے اس کی اس یاد دہانی سے فائدہ اٹھائے اور اندھے بھین سے کی طرح نہ چلے۔ انہی صفات کا حوالہ اگے اسی سورة کی آیات 65 67 67 میں بالترتیب یسمعون، یعقلون اور یتفکرون کے الفاظ سے آیا ہے۔ یہ ادنی سے اعلیٰ کی طرف صعود ہے یعنی ایک معقول آدمی کے اندر کم از کم جو بات ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ وہ معقول بات کو سنے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اگر یہ نہ ہو تو وہ سرے سے آدمی ہی نہیں ہے بلکہ نرا دو ٹانگوں پر چلنے والا ایک جانور ہے۔ اور اس کا اعلی وصف یہ ہے کہ وہ اس کائنات میں تفکر کرے اس لیے کہ اسی تفکر سے علم صحیح اور معرفت حقیقی کے دروازے کھلتے ہیں اور قرآن درحقیقت انسان کی اسی صلاحیت کو بیدار کرنا چاہتا ہے۔
Ayah 16:14وَهُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا ۚ وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔
سمندر کی نشانیوں کی طرف اشارہ : تسخیر بحر سے مراد وہی ہے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے یعنی خدا نے سمندر کو تمہاری خدمت اور نفع رسانی میں لگا رکھا ہے کہ تمہیں اس سے تازہ گوشت بھی حاصل ہوتا ہے اور تم اپنی زینت کے لیے اسی سے قیمتی موتی بھی نکالتے ہو۔ وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ ، یہاں قرینہ دلیل ہے کہ ولتبتغوا سے پہلے لترکبوھا یا اس کے ہم معنی کوئی فعل محذوف ہے اور حرف عطف " و " اس کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یعنی تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ ایک گہرے اور موجزن سمندر کے اندر اس کے پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں تاکہ تم ان پر سوار اور تجارتی سفر کرکے خدا کے فضل کے طالب اور اس کے شکرگزار بنو کہ اس نے اپنی قدرت و رحمت سے تمہارے لیے سمندر کے سینے پر سے نہایت مصفا سڑکیں نکال دی ہیں جن پر سے تمہارے بڑے بڑے جہاد گزرتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ خدا کے اس فضل و نعمت پر لوگ اس کے شکر گزار ہوں لیکن نادانوں نے ان دریاؤں اور سمندروں ہی کو دیوی دیوتا بنا کر ان کی پوجا اور عبادت شروع کردی۔
Ayahs 16:15–16تفسیر آیات 15 تا 16:۔ وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ وَاَنْهٰرًا وَّسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۔ وَعَلٰمٰتٍ ۭ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ۔
اس میں اعلی عربیت کے اسلوب کے مطابق کلام کے بعض اجزاء جو بغیر اظہار کے ظاہر تھے، وہ حذف ہیں۔ ہم نے ترجمہ میں ان کو کھول دیا ہے۔ اَنْهٰرًا وَّسُبُلًا یعنی فجر فیہا انھارا و مہد فیہا سبلا، علامات یعنی جعل للسبیل علٰمٰتٍ۔
زمین اور آسمان کی نشانیوں کی طرف اشارہ : خدا نے زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے ہیں جو اس کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اس میں نہریں جاری کردی ہیں جن سے طرح طرح کے فوائد حاصل ہوتے ہیں، راستے نکال دیے ہیں کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکو اور ان راستوں کو پہچاننے کے لیے مختلف قسم کی علامتیں نصب کردی ہیں کہ ان کا تعین کرسکو، پھر اسی پر بس نہیں، آسمان پر ستارے بھی چمک رہے ہیں جن سے صحراؤں کے سفر میں لوگ راستوں، سمتوں اور اوقات کے تعین میں رہنمائی حاصل کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں تو خدا کی بنائی اور بخشی ہوئی ہیں تو عبادت و اطاعت خدا کی ہونی چاہیے یا خدا کے سوا ان چیزوں کی جنہوں نے کوئی چیز بھی نہیں بنائی۔
Ayah 16:17اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۔
اب یہ توحید اور جزا و سزا کے ان نتائج کی طرف لائی جا رہی ہے جو اوپر کی بیان کردہ تمام نعمتوں سے نکلتے ہیں۔ فرمایا کہ کیا وہ جو تمام چیزیں پیدا کرتا ہے ان کی مانند ہوجائے گا جو نہ صرف یہ کہ کچھ پیدا نہیں ہوتے بلکہ، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، وہ مخلوق ہیں افلا تذکرون، یعنی یہ عقل کی کیسی موت کہ اتنی موٹی سی بات بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی ہے ! یہاں اس حقیقت پر نظر رہے کہ مشرکین عرب ان چیزوں کا، جن کی طرف اوپر توجہ دلائی گئی ہے، خالق خدا ہی کو مانتے تھے لیکن اس کے باوجود انہی مخلوقات میں سے بہت سی چیزوں کو وہ خدا شریک ٹھہراتے اور جو حقوق خاص خالق کے ہیں ان میں وہ ان کو حصہ دار بناتے اور اس طرح خالق کو اس کی مخلوقات کے برابر کردیتے۔
Ayah 16:18وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔
توبہ اور اصلاح کی دعوت : یعنی یہ نعمتیں جو گنائی گئی ہیں یہ تو خدا کی بیشمار نعمتوں میں سے چند ہیں۔ اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کا احاطہ نہیں کرسکتے لیکن اس کے باوجود تم خدا کی ناشکری اور اس کے حقوق میں دوسروں کو شریک کرتے ہو۔ اپنی اس حرکت کے سبب سے تم سزاوار تو اس بات کے تھے کہ خدا تم کو فوراً ہر نعمت سے محروم کردیتا لیکن اس نے تم کو مہلت دے رکھی ہے اس لیے کہ وہ بڑا ہی بخشنے والا اور مہربان ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر توبہ اور اصلاح کرو اور اس کے غضب کے بجائے اس کی رحمت کے سزاوار بنو۔
Ayah 16:19وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ۔ یہ تہدید و وعید ہے یعنی خدا نے اپنی رافت و رحمت کے سبب تمہیں ڈھیل تو دے رکھی ہے لیکن یہ یاد رکھو کہ وہ تماہرے ظاہر و باطن اور پوشیدہ و علانیہ سے اچھی طرح باخبر ہے۔ ایک دن آئے گا جب کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں رہ جائے گی۔ وہ رتی رتی کا حساب اور عدل کے ساتھ تمام معاملات کا فیصلہ کرے گا۔ اس میں ایک لطیف اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی ہے کہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ نعمتیں سب اللہ ہی کی بخشی ہوئی ہیں لیکن جان کر انجان بنتے ہو، تمہارے دل جانتے لیکن زبانیں انکار کرتی ہیں۔ آگے اسی سورة کی آیت 83 میں یہ حقیقت یوں بیان ہوئی ہے۔ " یعرفون نعۃ ماللہ ثم ینکرونہا واکثرہم الکافرون (وہ خدا کی نعمت کو پہچانتے ہیں، پھر اس سے نا آشنا بنتے ہیں اور ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں)
Ayahs 16:20–21تفسیر آیات 20 تا 21:۔ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَاَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ۔
ان دونوں آیتوں میں سے پہلی آیت تو تمام معبودانِ باطل سے متعلق عام ہے اور دوسری آیت خاص ان کے ان آباء و اجداد سے متعلق ہے جن کی وہ پرستش کرتے تھے۔ فرمایا کہ اللہ کے سوا جن کو یہ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسوں کو حاجت روائی کے لیے پکارنا محض نادانی ہے۔ پھر ان کے ان آباء و اجداد کی طرف جن کو انہوں نے معبود بنا رکھا تھا، اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ تو مردہ ہیں ان کو پتہ بھی نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ مطلب یہ کہ مردوں کو پکارنے سے حاصل ! اموات کے ساتھ غیر احیاء کی صفت تاکید مزید کے طور پر ہے یعنی مردہ بےحس۔
Ayah 16:22اِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّهُمْ مُّسْـتَكْبِرُوْنَ۔
منکرین کے انکار کی اصل علت غرور ہے : یعنی یہ امر تو ایک حقیقت ثابتہ ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے لیکن جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل اس کو ناگوار سمجھتے ہیں اور وہ گھمنڈ میں پڑے ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اصل حقیقت ان لوگوں سے مخفی نہیں ہے لیکن چونکہ آخرت پر ان لوگوں کا ایمان نہیں ہے اس وجہ سے یہ بےخوف ہیں اور یہ اس امر میں ہتک محسوس کررہے ہیں کہ جن چیزوں کو وہ آباء و اجداد کے زمانے سے پوجتے آ رہے ہیں ان کو ایک شخص کے کہنے پر چھوڑ دیں۔ گویا سوال ایک شے کے حق یا باطل ہونے کا ں ہیں بلکہ اپنی آن و شان کا ہے۔ ان کے اندر یہ غرور سمایا ہوا ہے کہ ایک چیز کتنی ہی باطل سہی لیکن جب وہ اس کو برابر کرتے آئے ہیں تو اس کو چھوڑ کر خود اپنے قول و عمل سے اپنے باطل پر ہونے کا اقرار کیوں کریں۔
Ayah 16:23لَاجَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْـتَكْبِرِيْنَ۔ یعنی یقیناً اللہ ان کے اس باطنی محرک انکار اور ان کے اس ظاہری انکار دونوں کو جانتا ہے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کے دلوں میں استکبار کا خناس سمایا ہوا ہے اس وجہ سے وہ ایک حق کو حق مانتے ہوئے جھٹلا رہے ہیں اور ایک باطل سے اس کو باطل جانتے ہوئے چمٹے ہوئے ہیں۔ سو اللہ ایسے مغروروں اور متکبروں کو دوست نہیں رکھتا۔ " دوست نہیں رکھتا " یعنی ان کو مبغوض رکھتا ہے۔
Ayah 16:24آگے کا مضمون۔ آیات 24 تا 32:۔ آگے چند آیات میں پہلے انہی متکبرین کی، جن کا ذکر اوپر گزرا، ان سازشوں اور شرارتوں کا ذکر ہے جو وہ اپنے زیر اثر لوگوں کو قرآن کی دعوت سے روکنے کے لیے کر رہے تھے۔ ساتھ ہی ان کے اس انجام کا بھی ذکر ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں ان کی مفسدانہ کوششوں کے نتیجہ میں ان کے اور ان کی پیروی کرنے والوں کے سامنے آنے والا ہے۔ پھر ان کے مقابل میں ان متقیوں اور خدا ترسوں کا ذکر ہے جو قرآن کی دعوت کے علمبردار تھے اور دنیا و آخرت میں جو صلہ ان کی ان مساعی کا ملنے والا ہے اس کی طرف اشارہ ہے۔
وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ۔
اَسَاطِيْرُ ، اُسطُورۃ کی جمع ہے۔ اسطورۃ بےاصل اور بےحقیقت بات کو کہتے ہیں جس کی حیثیت محض افسانے کی ہو۔
قرآن کی دعوت کا رد عمل قریش کے لیڈروں پر : قرآن کی دعوت بالخصوص رسولوں اور ان کے جھٹلانے والوں کی تاریخ، جو اس نے نہایت ہی صحیح پہلو سے نہایت ہی موثر انداز میں پیش کی، ایسی چیز نہیں تھی جو بےاثر رہ جائے۔ اس نے مکہ کے عوام و خواص اور بالتدریج سارے عرب میں ایک ہلچل برپا کردی۔ عوام چونکہ سیادت و قیادت کے پندار سے پاک ہوتے ہیں اس وجہ سے صحیح چیز ان پر اثر انداز ہوتی ہے لیکن وہ اپنے لیڈروں کے تابع ہوتے ہیں اس وجہ سے خود کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے ان کی رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ یہی صورت حال قرآن کی دعوت کے باب میں عرب میں پیش آئی۔ قرآن کی دعوت اور اس کے انذار نے جب لوگوں کو بلا دیا تو عوام اپنے لیڈروں سے جا جا کر سوال کرنے لگے کہ یہ چیز، جو خدا کے نازل کردہ کلام کی حیثیت سے، آپ لوگوں کے سامنے پیش کی جا رہی ہے کیسی ہے، اس کے بارے میں آپ لوگوں کی کیا رائے ہے، اور اس میں اس کی تکذیب کا جو انجام بتایا گیا ہے اور جس کے حق میں تاریخ کے واقعات بھی پیش کیے گئے ہیں اس کی حقیقت آپ لوگوں کی نظر میں کیا ہے ؟ لیڈروں نے یہ محسوس کرکے کہ ان کے پیرو اس سے متاثر ہو رہے ہیں اور یہ چیز ان کی لیڈری کے لیے خطرے کا باعث ہوسکتی ہے، ان کو مطمئن کرنے کے لیے یہ جواب دینا شروع کیا کہ اس میں اگلوں کے فسانوں اور ماضی کے قصوں کے سوا ہے کیا۔ مطلب یہ کہ عاد وثمود اور ماضی قدیم کی قوموں کے بےاصل قصے اس میں اپنے رنگ میں دہرائے جارہے ہیں۔ ان قصوں سے ہراساں ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہماری روش بالکل ٹھیک ہے۔ ہم اپنے آباء و اجداد کے صحیح دین پر ہیں۔ ان بےحقیقت افسانوں سے مرعوب ہو کر کہیں تم لوگ اس شخص کے چکمے میں نہ آجانا جو انی من گھڑت باتیں خدا کے نام سے پیش کررہا ہے۔
Ayah 16:25لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۙ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ اَلَا سَاۗءَ مَا يَزِرُوْنَ۔
یہ ان کی اس سعی نامراد کا انجام بیان ہورہا ہے جو وہ لوگوں کو حق سے روکنے کے لیے کررہے تھے۔ فرمایا کہ یہ جو کچھ کررہے ہیں اس کا انجام یہ ہونا کہ قیامت کے روز یہ اپنی گمراہی کا پورا بوجھ کو اٹھائیں گے ہی اس لیے کہ اس دن ان کے وہ شرکاء و شفعاء ان کے کچھ کام آنے والے نہیں ہیں جن کو یہ شریک خدا بنائے بیٹھے ہیں۔ مزید برآں اپنی سعی افساد کے بقدر ان کو ان لوگوں کے بوجھ میں سے بھی اٹھانا پڑے گا جو ان کی ان مفسدانہ کوششوں سے گمراہ ہوں گے۔ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ۔ میں " من " تبعیض کے لیے جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کوئی شخص قیامت کے دن اس بنیاد پر کہ دوسرے نے اس کو گمراہ کیا ہے اپنی ذمہ داری سے کلیۃً بری نہیں ہوجائے گا بلکہ اسے بھی اپنی گمراہی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص عقل و فہم سے بہرہ مند اور مکلف کے حکم میں داخل ہے اس کے لیے یہ عذر کافی نہیں ہے کہ دوسرے نے اس کو گمراہ کیا اس وجہ سے وہ گمراہ ہوگیا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے خود اس کو جو عقل و بصیرت عطا فرمائی تھی اس نے اس سے کیوں کام نہ لیا۔ اس وجہ سے جس طرح اس کا گمراہ کرنے والا اپنی حد تک اس کی گمراہی کا ذمہ دار ٹھہرے گا اور اس کی سزا بھگتے گا اسی طرح یہ بھی اپنی حد تک اپنی گمراہی کا ذمہ دار قرار پائے گا اور اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ " بغیر علم " کی قید سے ان کے اس جرم کی سنگینی واضح ہوتی ہے کہ ایک طرف تو رسول کی دعوت ہے جو اس علم حقیقی پر مبنی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر اترا ہے، دوسری طرف یہ مفسدین ہیں جو بغیر کسی علم ہی کے لوگوں کی رہنمائی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور ان کو ضلالت کے کھڈ میں گرا رہے ہیں۔
Ayah 16:26قَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْيَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَــرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ۔
" مکر " کے معنی سازش اور چال کے ہیں، چونکہ ان مفسدین کی یہ تمام سرگرمیاں محض اپنی لیڈری کے تحفظ کے لیے تھیں۔ وہ دیدہ دانستہ حق کی مخالفت کر رہے تھے اس وجہ سے قرآن نے اس کو " مکر " سے تعبیر فرمایا۔
یہ اشارہ ہے ماضی کی ان قوموں کی طرف جنہوں نے اپنے رسولوں کی اسی طرح کے اغراض کے تحت مخالف ت کی جس طرح کے اغراض کے تحت قریش کے لیڈر آنحضرت ﷺ کی مخالفت کر رہے تھے۔ فرمایا کہ اس کی پاداش میں اللہ کے عذاب نے ان کی عمارتیں بنیاد سے اکھیڑ کر پھینک دیں اور ان پر اللہ کا عذاب وہاں سے آدھمکا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا۔ اللہ کے رسول جب ان کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے تو وہ اپنے اطمینان بخش حالات کے سبب سے حیران ہوتے کہ بھلا ہم پر عذاب کدھر سے آجائے گا۔ بالآخر جب وہ عذاب آگیا تب ان کو پتہ چلا کہ اس کے آنے کا راستہ یہ تھا۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہ محض استعارہ نہیں بلکہ بیان واقعہ ہے۔ معذب قومیں زلزلوں اور باد تند و سیلاب کے ایسے طوفانوں سے ہلاک ہوئیں جن سے ان کے مکانوں کی دیواریں اور چھتیں سب ان کے اوپر آپڑیں۔
Ayah 16:27ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُخْــزِيْهِمْ وَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تُشَاۗقُّوْنَ فِيْهِمْ ۭ قَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْيَ الْيَوْمَ وَالسُّوْۗءَ عَلٰي الْكٰفِرِيْنَ۔
" خزی " کے معنی رسوائی کے ہیں۔ چونکہ ان مفسدین کے تمام فساد کا اصل شب، جیسا کہ اوپر گزرا، تکبر تھا اس وجہ سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے اس تکبر کی پاداش میں ان کو ذلیل و رسوا کرے گا۔ وَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تُشَاۗقُّوْنَ فِيْهِمْ یہ ان کی ذلت و رسوائی کی ایک شکل بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ اب دکھاؤ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کی حمایت میں تم ہر وقت آستینیں چڑھائے رہتے تھے۔ اس کی تفصیل آگے آیت 86 میں یوں آئی ہے واذا را الذین اشرکو شرکاء ہم قالوا ربنا ھؤلاء شرکاءنا الذین کنا ندعوا من دونک فالقوا الیہم القول انکم لکذبون (اور جب شرک کرنے والے اپنے شریکوں کو دیکھیں گے تو پکاریں گے کہ اے ہمارے رب یہ ہیں ہمارے وہ شریک جن کو تیرے سوا ہم پکارتے تھے تو وہ ان کے منہ پر بات پھینک ماریں گے کہ تم لوگ بالکل جھوٹے ہو)۔ ظاہر ہے کہ یہ ان کی رسوائی کی انتہا ہوگی کہ جن کی حمایت میں زندگی بھر اللہ و رسول کے مقابل میں آستینیں چڑھائے رہے وہ عین وقت پر اس طرح ان کو جھوٹا قرار دیں گے۔
قَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْيَ الْيَوْمَ وَالسُّوْۗءَ عَلٰي الْكٰفِرِيْنَ۔ اوپر ان مفسدین کا ذکر گزر چکا ہے جو بغیر کسی علم ہی کے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ اب یہ ان کے مقابل میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو اللہ کے بخشے ہوئے علم میں سے حصہ ملا اور انہوں نے اس علم کی روشنی میں اپنے کو بھی منور کیا اور دوسروں کی بھی اس سے رہنمائی کی۔ فرمایا کہ یہ لوگ جب شرک کے علم برداروں کی یہ رسوائی دیکھیں گے تو خوشی سے پکار اٹھیں گے کہ آج رسوائی اور عذاب کافروں کا حصہ ہے۔ یعنی دنیا میں تو یہ بہت دندناتے رہے، آج اس غرور بد مستی کا انجام دیکھیں گے۔
Ayahs 16:28–29تفسیر آیت 28 تا 29:۔ الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ۠فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ فَادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ۔
کلام کا انطباق حال پر : یہ دو آیتیں بطور تضمین ہیں۔ اس تضمین سے اہل علم کی بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ صرف مستقبل کی ایک حکایت نہیں ہے بلکہ ان لوگوں پر بھی ٹھیک ٹھیک منطبق ہو رہی ہے جو آج اپنے غرور میں مست ہیں اور اسی حال میں مرتے ہیں۔ الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ، یعنی انہیں کافروں کے حکم میں وہ سب داخل ہیں جن کی جانیں فرشتے اس حال میں حال میں نکالتے ہیں کہ وہ اپنے کفر و شرک کی وجہ سے خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہوتے ہیں۔ ۠فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْۗءٍ۔ سلم، تسلیم سے اسم ہے جس کے معنی حوالگی اور سپردگی کے ہیں۔ فالقوا لسلم یعنی ڈگ ڈال دیں گے، سپرانداز ہوجائیں گے، صلح کی درخواست کریں گے۔ یعنی ان کا یہ سارا غرور اور گھمنڈ سارا طنطنہ صرف اس وقت تک ہے جب تک ان کو موت کے فرشتوں سے سابقہ پیش نہیں آتا۔ جب ان سے سابقہ پیش آجاتا ہے اور وہ ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے جیسا کہ دوسرے مقام میں ذکر ہے، ان کی جانیں نکالتے ہیں تو پہلے ہی مرحلہ میں سارا نشہ ہرن ہوجاتا ہے اور وہ نہایت لجاجت سے درخواست کرتے اور جھوٹ معذورت پیش کرتے ہیں کہ ہم پر رحم کیا جائے ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے رہے ہیں۔ ۭ بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ فرشتوں کی طرف سے یہ جواب ملتا ہے کہ ہاں تم برائی کرتے رہے ہو۔ بیشک اللہ اس سے خوب باخبر ہے جو تم کرتے رہے ہو۔ فَادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ۔ یعنی اسی وقت ان کو یہ خبر بھی دے دی جاتی ہے کہ اب جہنم کے دروازوں میں اسی میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہو، اب اس سے نکلنا نصیب نہ ہوگا۔ یہی متکبروں کا ٹھکانا ہے اور نہایت برا ٹھکانا ہے۔ لفظ ابواب جمع ہے جس سے جہنم کی وسعت کی طرف بھی اشارہ ہورہا ہے اور اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ مجرمین اپنے اپنے جرائم کی حیثیت و نوعیت کے اعتبار سے اس میں الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں گے۔
Ayah 16:30وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ قَالُوْا خَيْرًا ۭ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةٌ ۭ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ ۭ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِيْنَ۔
متکبرین کے بالمقابل متقین کا رویہ : اب یہ متکبرین کے مقابل میں، ان لوگوں کا رویہ بیان ہو رہا ہے جو خدا سے ڈرنے والے تھے۔ فرمایا کہ جب پوچھنے والے ان سے پوچھتے ہیں کہ خدا نے کیسی چیز اتاری ہے تو وہ اس کی نہایت تحسین کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ نہایت خوب چیز اتاری ہے۔ للذین احسنوا الایۃ یہ ان متقیوں اور خوب کاروں کا وہ صلہ بیان ہوا ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں ان کو ملنے والا ہے۔ فرمایا کہ ان کے لیے دنیا میں بھی بھلائی اور کامیابی ہے اور آخرت کا تو پوچنا ہی کیا ہے، وہ تو ہے ہی بہتر ولنعم دار المتقین بالکل فلبئس مثوی المتکبرین کے مقابل میں ہے۔ جس طرح متکبرین کے ٹھکانے کے برے ہونے کی کوئی حد نہیں اسی طرح متقیوں کے گھر کے اچھے ہونے کی کوئی حد نہیں۔
یہاں ان متقیوں کے لیے صریح الفاظ میں اس دنیا میں بھی کامیابی و نصرت کی بشارت ہے۔ اس کی وجہ جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، یہ ہے کہ رسول اور اس کے ساتھیوں کے لیے اس دنیا میں بھی غلبہ اور اقتدار لازمی ہے۔ آگے آیت 41 کے تحت ہم اس کی مزید وضاحت کریں گے
Ayah 16:31جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَاۗءُوْنَ ۭكَذٰلِكَ يَجْزِي اللّٰهُ الْمُتَّقِيْنَ۔
جَنّٰتُ عَدْنٍ کا مفہوم : " عدن کے معنی توطن اور اقامت کے ہیں۔ یہ متقین کے گھر کی تعریف ہے کہ وہ اقامت اور توطن کے باغ ہوں گے۔ خدا کے متقی بندے ان میں محض وقتی سیر و تفریح کے لیے نہی بلکہ ان میں ہمیشہ رہنے بسنے کے لیے داخل ہوں گے فعل " یدخلون " یہاں اپنے حقیقی اور کامل معنی میں ہے یعنی متقین ان باغوں میں عزت و اکرام کے ساتھ براجمان ہوں گے، ان میں ان کے لیے وہ سب کچھ حاضر ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یہ ان باغوں کی تصویر و تعریف ہے۔ ایک اچھے باغ کا تصور یہ ہے کہ وہ بلندی پر ہوا اور اس کے نیچے نہر جاری ہو۔ بلندی اس کے حسن کو دوبالا کرتی ہے اور نیچے بہنے والی نہر اس کی شادابی و زرخیزی کی ضامن ہوتی ہے۔
Ayah 16:32الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ طَيِّبِيْنَ ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔
متقین کے ساتھ فرشتوں کا معاملہ : جس طرح اوپر والی آیت 28 بطور تضمین ہے اسی طرح یہ آیت بھی بطور تضمین ہے جس سے کلام بالکل مطابق حال ہوگیا ہے۔ طیبین بالکل ظالمی انفسہم کے مقابل میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو فرشتے اس حال میں وفات دیتے ہیں کہ وہ شرک و کفر کی ہر آزمائش سے بالکل پاک اور منزہ ہوتے ہیں۔ فرشتے ان کو سلام کرتے ہیں اور ان کو ان کے اعمال کے صلہ میں جنت کی بشارت سناتے ہیں۔
Ayahs 16:33–34آگے کا مضمون۔ آیات 33 تا 47:۔ متکبرین کی کج بحثیوں کی تردید اور اہل ایمان کو کامیابی کی بشارت : آگے انہی مستکبرین کی ان کج بحثیوں کا حوالہ اور ان کی تردید ہے جو وہ اپنے رویہ کی حمایت و مدافعت میں کرتے تھے اور ساتھ ہی پیغمبر ﷺ اور آپ کے صحابہ کو استقامت اور اللہ پر بھروسہ قائم رکھنے کی تلقین کی گئی ہے اور یہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ آزمائشوں کے دور سے گزرنے کے بعد بالآخر فتح و کامیابی انہی کا حصہ ہے۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔
تفسیر آیات 33 تا 34:۔ هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ رَبِّكَ ۭ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ۔ فَاَصَابَهُمْ سَـيِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۔
تاریخ سے سبق لینے کی دعوت : یعنی یہ متکبرین تمہاری باتوں کی تصدیق کے لیے اس وقت تک تیار نہیں ہیں جب تک ان کے پاس فرشتے نہ آئیں یا پھر وہ عذاب ہی نہ آجائے جس کی ان کو خبر دی جا رہی ہے۔ کذلک فعل الذین من قبلہم، یعنی یہی روش ان سے پہلے کی قوموں نے اپنے رسولوں کے ساتھ اختیار کی، نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر عذاب الٰہی آ دھمکا اور اس نے ان کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ یہی حشر ان کا بھی ہونا ہے اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی۔ وما ظلمہم اللہ ولکن کانوا انفسہم یظلمون۔ یعنی یہ پچھلی قومیں ہلاک ہوئیں تو اپنے ضد اور سرکشی کے سبب سے ہلاک وئیں۔ خدا نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا اس لیے کہ ان کو پہلے سے تمام نتائج و عواقب سے اس نے آگاہ کردیا تھا بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے کہ تنبیہ و تذکیر سے فائدہ اٹھانے کے بجائے عذاب کا مطالبہ کیا اور اپنے رسولوں کی تنبیہا کا مذاق اڑاتی رہی۔ فَاَصَابَهُمْ سَـيِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۔ یعنی ان پر جو عذاب آئے وہ ان کے اپنے اعمال کے نتیجے تھے۔ خدا نے ان کو وہی چیز دکھا دی جو انہوں نے اپنے لیے مہیا کی تھی۔
Ayah 16:35وَقَالَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ نَّحْنُ وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ ۭ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ فَهَلْ عَلَي الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ
مشرکین کی بعض کج بحثیوں کا جواب : یہ بھی ان لوگوں کی کج بحثی کی ایک مثال ہے۔ یعنی یہ مشرکین تمہیں زچ کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ ہم جن معبودوں کو پوجتے اور ان کے نام پر جن چیزوں کو حرام ٹھہراتے ہیں یہ سب خدا ہی کی مرضی سے کرتے ہیں، ورنہ خدا کے اختیار میں تو سب کچھ ہے، اگر ہمارے یہ کام اس کی مرضی کے خلاف ہوتے تو وہ ہمیں اپنی قدرت سے ان کاموں سے روک دیتا اور ہم ان میں سے ایک کام بھی نہ کر پاتے۔ کذلک فعل الذین من قبلہم، یعنی یہ بھی کوئی نئی بات نہیں بلکہ ان سے پہلے جو قومیں گزری ہیں انہوں نے بھی اسی طرح کی کج بحثیوں سے اپنے رسولوں کو چپ کرنے کی کوشش کی۔ مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے انہی کی روش اختیار کی ہے تو لازماً انہی کے انجام سے بھی دوچار ہوں گے۔ فھل علی الرسل الا البلاغ المبین۔ یعنی اگر وہ تمہاری سچائی کی دلیل اس بات کو سمجھتے ہیں تم اپنے تصرف سے ان کو اس دین کی راہ پر لگا دو جس کی ان کو دعوت دے رہے ہو تو رسولوں کا کام یہ نہیں ہوتا، ان کا کام صرف واضح طور پر لوگوں تک دین حق پہنچا دینا ہوتا ہے، یہ کام تم کررہے ہو اور اسی پر تمہاری ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔ حق کو قبول کرنا یا نہ کرنا ان کی اپنی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے عند اللہ وہی مسئول ہوں گے۔ اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ وہ حق یا باطل میں سے کسی چیز پر لوگوں کو مجبور کردے بلکہ اس نے لوگوں کو اختیار بخشا ہے۔ اگر کوئی شخص حق کی راہ اختیار کرتا ہے تو اس کو اسی راہ کی توفیق ملتی ہے اور اگر کوئی شخص باطل کی راہ پر چل پڑتا ہے تو اللہ اس کو اسی راہ میں ڈھیل دے دیتا ہے۔
Ayah 16:36وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ ۭ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ۔
لفظ طاغوت کی تحقیق بقرہ آیت 256 کے تحت گزر چکی ہے۔
اللہ کے ہر رسول نے اللہ ہی کی بندگی کی دعوت دی : آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کے اس قول کا منشا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اسی کفر و شرک کی تعلیم دی ہے جس پر وہ ہیں تو یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہر رسول نے صرف ہی کی بندگی اور طاغوت سے اجتناب کی تعلیم دی ہے تو جس نے ہدایت کی راہ پسند کی اس کو ہدایت کی توفیق ملی اور جو اپنی لالت ہی پر جما رہ گیا اس پر ضلالت پوری طرح مسلط ہوگئی۔ " فسیروا فی الارض " یعنی جن لوگوں نے ان رسولوں کی تکذیب کی ان کی اس تکذیب کے انجام کے آثار اس سرزمین میں موجود ہیں تو ان آثار کا مشاہدہ کرو اور ان سے سبق لو۔
Ayah 16:37اِنْ تَحْرِصْ عَلٰي هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ يُّضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ۔
پیغمبر ﷺ کو تسلی : یہ پیغمبر ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ آپ کو اپنی قوم کی ہدایت کی شدید تمنا تھی اس وجہ سے آپ ان کے پیچھے انے رات دن ایک کیے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ جو لوگ خدا کے قانون ضلالت کی زد میں آچکے ہیں اب ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔ ایسوں کا کوئی مددگار نہیں بنتا۔ خدا ہدایت انہی لوگوں کو بخشتا ہے جو اپنی فطری صلاحیتیں اس کے لیے اسعمال کرتے اور اس کے طلب گار بنتے ہیں۔
Ayah 16:38وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ ۭ بَلٰى وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ.
وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ای ابلغوی فی الیمین واجتھدوا۔ یعنی انہوں نے قسم کھانے میں مبالغہ کیا اور اپنا پورا زور لگایا۔ ایمان کے موانع میں سے ایک بڑا قانع قریش کے متکبرین کے لیے یہ بھی تھا کہ وہ مرنے کے بعد کی زندگی کے نہ تو قائل تھے اور نہ اس کے قائل ہونا چاہتے تھے۔ وہ بڑے زور و شور سے قسمیں کھا کھا کے اپنے زیر اثر لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا ناممکن ہے، اللہ کسی کو نہیں اٹھائے گا۔ یہ محض محمد ﷺ کی دھونس ہے۔ بَلٰى وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ. یہ ان کی تردید ہے اور اس تردید میں بھی وہی شدت ہے جو منکرین کے قول میں ہے۔ فرمایا کہ ہاں وہ لوگوں کو ضرور اٹھائے گا۔ یہ اللہ کا حتمی وعدہ ہے جس کا ایفاء اس نے اپنے اوپر ازم کار رکھا ہے لیکن اکثر لوگ اس سے واقف نہیں ہیں اس وجہ سے وہ اس کا انکار کرتے یا مذاق اڑا رہے ہیں۔
Ayah 16:39لِيُـبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيْ يَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ وَلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِيْنَ۔
یہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی ضرورت واضح فرمائی ہے کہ یہ اس لیے ہوگا کہ جن چیزوں کے بارے میں آج وہ اختلاف کر رہے ہیں ان میں امر حق اچھی طرح واضح ہوجائے اور جن لوگوں نے جانتے بوجھتے دھاندلیا مچائی ہیں وہ اپنے کیے کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ وَلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِيْنَ ، اور یہ اس لیے بھی ہوگا کہ جو لوگ آج قسمیں کھا کھا کے لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قیامت نہیں ہے وہ اچھی طرح جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے اور انہوں نے جھوٹی قسمیں کھائیں۔